تقدیرِ ازل ( از قلم صدیق )
قسط نمبر ۲۰
جب دعا، دائم، زرتاشا اور پری ہنسی مذاق کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو ان کے شور کی آواز زیدان کے کانوں تک جا پہنچی۔ تین بج رہے تھے اور وہ لوگ ابھی آئے تھے، جس پر زیدان کو سخت غصہ آ رہا تھا۔
وہ کمرے سے نکل آیا۔ سب لوگ نیچے جمع تھے.. ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔
کائنات کہاں ہے؟
وہ ریلنگ پر کھڑے ہو کر چلّایا۔۔
زینب بیگم نے فوراً کہا، کمرے میں ہوگی۔
زیدان کی آواز اور بلند ہو گئی۔ وہ ابھی تک آئی نہیں۔۔۔
دائم نے حیرت سے کہا، نہیں، وہ تو آ گئی تھی، بہت پہلے ہی۔
زیدان نے غصے میں کہا، چماٹ مار دوں گا۔۔۔
زینب بیگم نے دوبارہ یقین دلایا، ہاں، وہ پہلے ہی آ گئی تھی۔
زیدان نے چیختے ہوئے کہا، میں کہہ رہا ہوں کہ وہ نہیں آئی۔ کہاں ہے وہ؟
پھر وہ زور سے چلّایا، کائنات! کائنات۔۔۔
یہ سوچ کر کہ اگر وہ گھر میں کہیں ہوگی تو نکل آئے گی۔
لیکن وہ باہر نہ آئی۔ البتہ اس کی آواز پر گھر کے سب ہی لوگ کمروں سے باہر آ گئے۔ عائشہ بیگم، مریم بیگم، رضیہ بیگم، حریم پھپھو۔۔۔ اسوان، زارا۔۔ سب جاگ چکے تھے۔
گھر میں اچانک ایک بے چینی سی پھیل گئی۔
اسوان گھبرا کر بولا،
کیا ہوا…؟
زیدان کی آنکھوں میں انگارے دہک رہے تھے،
کائنات کہاں ہے؟
رضیہ بیگم نے الجھن سے سب کو دیکھا،
اے… وہ تم لوگوں کے ساتھ نہیں آئی تھی؟
زینب بیگم فوراً بولیں،
نہیں نہیں، وہ تو آپ لوگوں کے ساتھ آ گئی تھی نا؟
عائشہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا،
نہیں، ہمارے ساتھ تو وہ نہیں آئی۔
دائم کا رنگ فق ہو گیا،
وہ نہ آپ کے ساتھ آئی اور نہ ہمارے ساتھ… تو پھر گئی کہاں؟
دعا کے لب کانپے، آواز بمشکل نکلی،
Did she stay there?
( تو کیا وہ وہیں ره گئی ؟)
یہ سن کر زیدان کا ضبط ٹوٹ گیا۔
کائنات کہاں ہے؟!
وہ ایک بار پھر چیخا، اس کی آواز پورے گھر میں گونج گئی۔
اسوان نے حیرت اور غصے سے کہا،
آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ کائنات کو وہیں چھوڑ آئے ہو؟
زینب بیگم نے بے بسی سے کہا،
ہمیں لگا تھا وہ پہلے ہی آ گئی ہے۔
اسوان نے جلدی سے کہا،
کائنات کو فون کرو۔۔۔
اسی لمحے پری کی آواز آئی، جو سب پر بجلی بن کر گری،
لیکن بابا… کائنات کا فون تو میرے پاس ہے۔
یہ سنتے ہی زیدان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ غصے اور تپش کے عالم میں وہ تیزی سے ریلنگ اترتا ہوا نیچے آیا۔ دروازے کی طرف بڑھا، پھر اچانک مڑا اور سب کو قہر بھری نظروں سے گھور لیا۔
اگر کائنات مجھے نہ ملی…
اس کی آواز سرد اور خوفناک تھی،
تو اس گھر کے ساتھ ساتھ تم سب کو بھی آگ لگا دوں گا۔ کسی کو بھی نہیں بخشوں گا۔ سب کو جلا کر راگھ کردونگا۔۔۔
ہال میں سناٹا چھا گیا…
اور ہر دل میں ایک ہی خوف اتر چکا تھا۔۔۔۔
کائنات واقعی کہاں تھی؟
زیدان کے الفاظ ابھی فضا میں معلق ہی تھے کہ وہ پلٹ کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اسوان نے فوراً قدم آگے بڑھایا،
رکو، میں بھی آتا ہوں….
زیدان نے ایک لمحے کو مڑ کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وحشت، غصہ اور بے بسی ایک ساتھ تیر رہے تھے۔
وہ میری بیوی ہے، اس کی آواز میں عجیب سی سختی تھی، میں خود اسے ڈھونڈ لوں گا۔
پھر اس نے سرد لہجے میں کہا،
تم سب گھر والوں کی کفالت کا انتظام کرو۔
یہ کہتے ہی وہ تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز ہال میں گونجی تو جیسے سب کے دل دہل گئے۔
کسی میں بولنے کی ہمت نہ تھی۔
مریم بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،
یا اللہ… کائنات کہاں ہوگی؟
ہال میں زیدان کے جانے کے بعد ایک عجیب سی ویرانی چھا گئی تھی۔ ہر چہرہ خوف، پشیمانی اور بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔
اسوان نے گہرا سانس لے کر سب کو دیکھا اور بولا،
اب آپ سب دعا کریں کہ کائنات زیدان کو مل جائے…
ورنہ وہ جو کہہ کر گیا ہے، وہ کر گزرے گا۔
زینب بیگم کے لہجے میں جھنجھلاہٹ اور دفاع دونوں شامل تھے،
ہاں، پاگل جو ٹھہرا… اب اس میں ہماری غلطی تھوڑی ہے؟
جب ہم نکل رہے تھے تو وہ کہاں تھی؟
دائم نے بے اختیار کہا،
مامی، آپ نے ہی تو کہا تھا کہ وہ پہلے نکل گئی ہے۔
زینب بیگم فوراً بولیں،
ہاں، تو میں نے اسے نکلتے دیکھا تھا۔
تبھی کہا تھا… مجھے کیا پتا تھا کہ وہ یوں غائب ہو جائے گی۔
عائشہ بیگم نے یقین سے کہا،
وہ ہمارے ساتھ تو نکلی ہی نہیں تھی…
مجھے اچھی طرح یاد ہے۔
حریم پھپھو نے بھی اثبات میں سر ہلایا،
ہاں… مجھے بھی یاد ہے۔
یہ سنتے ہی سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
باتیں الجھتی جا رہی تھیں، مگر حقیقت اب بھی ایک ہی تھی…
کائنات لاپتا تھی۔
رضیہ بیگم نے کپکپاتی آواز میں کہا،
یا اللہ خیر… اگر اسے کچھ ہو گیا تو…
دعا خاموشی سے ایک کونے میں کھڑی سب سن رہی تھی۔
اس کے دل میں بار بار ایک ہی خیال ابھر رہا تھا…
اگر واقعی کائنات وہیں رہ گئی تھی تو اس لمحے وہ کس حال میں ہوگی؟
ہال میں دعاؤں کی سرگوشیاں گونجنے لگیں۔
ہر دل لرز رہا تھا، ہر زبان پر ایک ہی دعا تھی…
یا اللہ، کائنات کو اپنی امان میں رکھنا۔
اور کہیں باہر…
اندھیری سڑکوں پر
زیدان پاگلوں کی طرح اپنی تقدیر کو ڈھونڈنے نکل چکا تھا۔
++++++++++++
اندھیری سڑک پر زیدان پاگلوں کی طرح بائیک پر سوار تھا۔ تیز رفتار ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی مگر اس کے دماغ میں صرف ایک ہی نام گونج رہا تھا، کائنات۔
وہ بائیک کو بے قابو رفتار سے چلاتا ہوا سیدھا اسی جگہ پہنچا، جہاں وہ ہوسکتی تھی۔۔۔
ہال کے باہر سناٹا تھا۔ دروازے بند تھے، بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔
ہال بند ہو چکا تھا۔
زیدان نے بائیک ایک جھٹکے سے روکی۔ اس کی نظریں بے یقینی سے بند دروازوں پر جم گئیں۔ دل جیسے سینے میں ڈوبنے لگا۔
کائنات… اس نے آہستہ سے پکارا، مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔
اس نے اردگرد دیکھا، نہ کوئی انسان، نہ کوئی آواز۔
صرف اندھیرا… اور بڑھتا ہوا خوف۔
اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اگر وہ یہاں نہیں تھی تو پھر کہاں گئی؟
اس نے مٹھی بھینچ لی۔
وہ اسے ڈھونڈ کر رہے گا… ہر حال میں۔
زیدان نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں اور گہرا سانس لیا۔ دل کے اندر طوفان برپا تھا مگر دماغ کو زبردستی کام پر لگانا ضروری تھا۔
اس نے بے بسی سے اردگرد نظر دوڑائی۔ سڑک سنسان تھی، دکانیں بند، روشنیوں کی جگہ اندھیرا راج کر رہا تھا۔
یہیں تھی وہ… اس نے خود سے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
یہیں کہیں ہوگی۔
اسے اچانک وہ لمحہ یاد آیا جب کائنات آخری بار اس کی نظروں کے سامنے تھی۔…
وہ دوبارہ بائیک پر سوار ہوا۔
اب ہال نہیں، پورا علاقہ چھاننا تھا۔
ہر گلی، ہر موڑ، ہر سنسان راستہ…
وہ بائیک دوڑاتا جا رہا تھا اور ہر سائے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ کبھی کسی کھمبے کے پاس بریک لگاتا، کبھی کسی بند دکان کے سامنے۔
کائنات….
وہ بار بار پکار رہا تھا، مگر آواز اندھیرے میں گم ہو جاتی۔
وقت گزرتا جا رہا تھا۔ رات اور گہری ہو چکی تھی۔ زیدان کے ماتھے پر پسینہ تھا، آنکھوں میں سرخی اور دل میں ایک انجانا خوف۔
اگر اسے کچھ ہو گیا…
اس نے یہ سوچ جھٹک دی۔
نہیں… کچھ نہیں ہوگا۔
اس نے دانت بھینچ لیے۔
وہ اسے ڈھونڈ کر رہے گا۔
اچانک سڑک کے ایک موڑ پر زیدان کی نظر ایک بھاگتی ہوئی لڑکی پر پڑی۔
سفید رنگ کا سوٹ، کندھوں پر ڈلی ہوئی شال، اور پاؤں میں سینڈل…
اس کے باوجود وہ پوری قوت سے بھاگ رہی تھی، جیسے کسی خوف نے اسے پیچھے سے دھکیل رکھا ہو۔
زیدان کا دل زور سے دھڑکا۔
کائنات…؟
اس نے لمحہ ضائع کیے بغیر بائیک کی رفتار کم کی اور عین اس کے سامنے جا کر بریک لگا دی۔ بائیک کی تیز آواز پر وہ لڑکی ایک جھٹکے سے رک گئی۔
وہ بری طرح ہانپ رہی تھی، سانس بے ترتیب تھی، آنکھوں میں وحشت سمٹی ہوئی اور چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ اور اپنے سامنے یوں اچانک بائیک رکتے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خوف اور بھی گہرا ہو گیا۔۔۔۔
زیدان کی نظر جب اُس لڑکی پر پڑی تو اس کی روکی ہوئی سانس پھر سے بحال ہو گئی۔
وہ کوئی اور نہیں تھی…
کائنات تھی۔
واقعی…
اس کا وہم درست ثابت ہوا تھا۔
وہ لڑکی کائنات ہی تھی۔
کائنات…
اس کی آواز بے اختیار لرز گئی۔
کائنات خوف کے عالم میں پیچھے ہٹنے لگی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ اچانک سامنے رکی بائیک اور اس پر سوار اجنبی شخص نے اس کی وحشت کو اور بڑھا دیا۔
اسی لمحے زیدان نے آہستہ سے ہیلمٹ اتارا۔
ہیلمٹ اترتے ہی اس کا چہرہ روشنی میں آیا۔
کائنات کی نظریں اس پر جمی رہ گئیں۔ ایک لمحے کو اسے یقین نہ آیا۔
آپ۔۔۔۔
اس کے ہونٹ کپکپائے۔
آنکھوں میں اب بھی خوف تھا، مگر اس خوف کے ساتھ ایک مانوس سی پہچان ابھر آئی۔ اور اگلے ہی لمحہ کائنات نے لرزتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھ کر خود کو زیدان کے سینے سے لگا لیا۔ جیسے ساری ہمت، سارا حوصلہ ایک ہی لمحے میں ختم ہو گیا ہو۔ اس کے ہاتھ بے اختیار زیدان کے جیکٹ کو جکڑ گئے۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا…
وہ سسکیاں دباتے ہوئے بولی۔
زیدان ایک لمحے کو ساکت رہ گیا۔ پھر اس کے بازو خود بخود اس کے گرد سمٹ گئے۔ اس نے کائنات کو مضبوطی سے تھام لیا، جیسے اب وہ اسے دوبارہ کھونا ہی نہیں چاہتا ہو۔
وہ… وہ کچھ لوگ میرے پیچھے آ رہے ہیں…
کائنات نے زیدان کے سینے سے لگی ہوئی کپکپاتی آواز میں کہا،
مجھے بچا لیں… پلیز۔
یہ سنتے ہی زیدان کے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔ اس کی گرفت کائنات کے گرد اور مضبوط ہو گئی۔ آنکھوں میں نرمی کی جگہ اب ایک خطرناک سی چمک آ گئی تھی۔
کون لوگ؟
اس نے دھیمی مگر سخت آواز میں پوچھا۔
کائنات نے گھبرا کر پیچھے کی طرف اشارہ کیا،
وہاں سے… میں نے بہت دور تک بھاگ کر خود کو بچایا ہے… وہ میرا پیچھا کر رہے تھے۔۔
اور پھر اندھیرے سے چند سائے ابھرے۔
تقریباً چار لوگ تھے…
وہی، جو کائنات کا پیچھا کر رہے تھے۔ ان کی چال، ان کی نظریں، سب کچھ ناپاک ارادوں کی گواہی دے رہا تھا۔
زیدان نے انہیں ایک نظر دیکھا۔
وہ نظر… جو کسی کو زندہ دفن کرنے کے لیے کافی ہو۔
چاروں کے قدم ٹھٹھک گئے، مگر غرور پھر بھی غالب آ گیا۔
ان میں سے ایک آگے بڑھا، زیدان کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے حقارت سے بولا،
ابے تو جا یہاں سے… یہ ہمارا مال ہے۔
لہجے میں بدتمیزی اور آنکھوں میں ہوس جھلک رہی تھی۔
وہ سب زیدان کو بھی اپنے جیسا ہی کوئی آوارہ سمجھ بیٹھے تھے۔
زیدان اب تک خاموش کھڑا تھا۔
اس کی نظریں ایک ایک کر کے سب کے چہروں پر گئیں۔
کائنات اب بھی اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی، انگلیاں اس کے جیکٹ کو مضبوطی سے جکڑے ہوئے تھیں۔
اگلے ہی لمحے وہ لڑکا ایک قدم اور آگے بڑھا۔۔۔
اور بس یہی اس کی آخری غلطی تھی۔
زیدان نے بجلی کی سی تیزی سے ہاتھ اٹھایا اور ایک زوردار مکا اس کے جبڑے پر رسید کر دیا۔
وہ لڑکا اچھل کر پیچھے جا گرا، چند قدم لڑکھڑایا اور زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
باقی تینوں ہکا بکا رہ گئے۔
زیدان نے اب کائنات کو آہستہ سے خود سے الگ کیا۔
اس کا ایک ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھاما، اور اسے اپنے پہلو میں کر لیا۔۔۔
ان میں سے دوسرے لڑکے نے دانت پیستے ہوئے کہا،
کیوں اتنا بگڑ رہا ہے؟ چل چار نہ سہی… پانچ سہی۔
یہ سنتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھا….
اور دوسرا مکا سیدھا اس لڑکے کے چہرے پر جا لگا۔
وہ لڑکا بھی زمین پر جا گرا۔
اب باقی دو پیچھے ہٹنے لگے تھے۔
انہیں اب احساس ہو چکا تھا کہ وہ کسی عام آدمی سے نہیں ٹکرائے.
زیدان کے وار کے بعد لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی، مگر وہ خاموشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
باقی دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر غصے میں بپھر کر ایک ساتھ زیدان کی طرف لپکے۔
مارو سالے کو۔۔۔۔
ایک نے چیخ کر کہا۔
زیدان نے کائنات کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا۔ اس نے اسے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا،
پیچھے رہنا… اور نظریں نیچی رکھنا۔
اگلے ہی لمحے ایک لڑکے نے زیدان پر ہاتھ اٹھایا، مگر زیدان نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر مروڑا اور اسے زور سے دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا ایک طرف جا گرا۔
دوسرے نے پیچھے سے وار کرنے کی کوشش کی، مگر زیدان نے پلٹ کر اس کے سینے پر لات ماری۔ وہ بھی زمین پر جا گرا اور کراہنے لگا۔
چاروں میں سے ایک دوبارہ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تمہیں نہیں پتا تم کس سے پنگا لے رہے ہو…
وہ ہانپتے ہوئے بولا۔
زیدان نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اس کی آواز پُرسکون مگر خوفناک تھی،
یہی تمہاری آخری خوش فہمی ہے۔
اس نے اس لڑکے کو کالر سے پکڑا اور ایک زوردار جھٹکے سے دیوار کے ساتھ دے مارا۔ وہ لڑکا درد سے کراہتا ہوا نیچے بیٹھ گیا۔
اب چاروں میں ہمت باقی نہیں رہی تھی۔
کوئی کھڑا ہونے کے قابل نہ تھا، کوئی پیچھے ہٹ رہا تھا۔
لیکن زیدان کا غصہ ابھی تھما نہیں تھا۔
آنکھوں میں سرخی، سانس تیز اور ہاتھوں میں وہی درندگی تھی جو لمحوں پہلے نمودار ہوئی تھی۔
وہ ایک بار پھر آگے بڑھا۔
زمین پر گرے ہوئے لڑکوں میں سے ایک کو اس نے دوبارہ گریبان سے پکڑا اور مکا اٹھایا۔
ایک دو تین چار وہ مسلسل اُس پر موکے برسا رہا تھا۔۔۔
پھر ان میں سے ایک نے اُٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی زیدان نے پھر اُسے پکڑ لیا اور اسے پیٹنے لگا
زمین پر گرے ہوئے لڑکوں میں سے ایک کو اس نے دوبارہ گریبان سے پکڑا اور مکا اٹھایا۔
ایک… دو… تین… چار…
وہ مسلسل اس پر مکے برسا رہا تھا، جیسے اس کے اندر جمع سارا غصہ اسی ایک وجود پر نکل آیا ہو۔
وہ لڑکا چیخنے لگا، مگر زیدان کے ہاتھ نہ رکے۔
اسی دوران باقیوں میں سے ایک نے لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی۔
مگر وہ چند قدم ہی دور جا پایا تھا کہ زیدان کی نظر اس پر پڑ گئی۔
اگلے ہی لمحے زیدان نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا۔
زور سے گھما کر زمین پر پٹخا اور پھر اس پر جھک کر اسے بھی مارنے لگا۔
اب بھاگو گے؟!
اس کی آواز میں وحشت تھی۔
وہ لڑکا درد سے کراہ رہا تھا، ہاتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر زیدان کا غصہ اس وقت کسی کی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔
تبھی….
مجھے گھر جانا ہے۔۔۔
یہ آواز ٹوٹتی ہوئی تھی۔
کائنات دوڑتی ہوئی اس کے قریب آئی اور اس کا بازو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
مجھے کچھ نہیں ہوا… میں ٹھیک ہوں۔۔ مُجھے گھر جانا ہے۔۔۔
زیدان کا ہاتھ ایک بار پھر فضا میں رک گیا۔
سانس تیز، جبڑا بھنچا ہوا، آنکھوں میں ابھی بھی وہی آگ تھی۔
کائنات اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ آنسو خاموشی سے اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے۔
روک جائے، انہیں چھوڑ دیں جانے دے۔۔۔۔ پلیز۔۔
یہ سنتے ہی زیدان نے آہستہ سے اس لڑکے کو چھوڑ دیا۔ اور کائنات کی طرف دیکھتے بولا
چھوڑ دوں انہیں۔۔۔؟؟
کائنات نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
زیدان کی نگاہیں لمحہ بھر کے لیے اس کے چہرے پر ٹھہر گئیں، پھر وہ دھیمی مگر بھرپور آواز میں بولا،
تُم کہو تو میں یہ دنیا چھوڑ دوں۔۔۔ یہ لڑکے کیا چیز ہیں۔۔۔۔،
پھر اس نے زمین پر پڑے چاروں لڑکوں کی طرف دیکھا۔
اگر آج کے بعد کسی لڑکی کی طرف میلی نظر بھی ڈالی…
اس کی آواز اب بھی خطرناک تھی،
تو یہ درندہ کسی بھی وقت تمہارے سروں پر پہنچ کر تمہیں مار سکتا ہے۔۔۔
وہ ایک درندہ تھا، وحشی تھا، ایک پاگل انسان تھا،
اور وہ اس بات کو مانتا بھی تھا، خود سے کہتا بھی تھا۔
کیونکہ جب اسے غصہ آ جاتا…
تو پھر وہ یہ نہیں دیکھتا تھا کہ سامنے کون ہے،
نہ یہ سوچتا تھا کہ حد کہاں ختم ہوتی ہے۔
اس وقت وہ ہوتا تھا اور اس پر حاوی اُس کا غصّہ۔۔۔
پھر وہ مڑا، کائنات کا ہاتھ تھاما۔۔۔
اس بار نرم مگر مضبوط گرفت کے ساتھ۔
چلو…
کائنات نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔۔۔
زیدان بائک پر بیٹھا، اور کائنات خاموشی سے اس کے پیچھے آ کر بیٹھ گئی۔
اس نے انجن اسٹارٹ کیا…
مگر آج بائک کی رفتار مختلف تھی۔
وہی زیدان، جس کی بائک کبھی ہوا سے باتیں کرتی تھی،
آج اسے آہستہ آہستہ چلا رہا تھا۔
کیونکہ آج اس کے پیچھے کائنات بیٹھی تھی۔۔۔
وہ پہلے ہی بہت ڈری ہوئی تھی۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ بائک کی رفتار اس کے خوف میں اور اضافہ کرے۔
اس لیے زیدان آج غیر معمولی طور پر آہستہ چلا رہا تھا۔۔۔
++++++++++++
جب زیدان کائنات کو لے کر گھر پہنچا تو گھر پر عجیب سی خاموشی طاری تھی۔
لاؤنج، جو کچھ دیر پہلے لوگوں سے بھرا ہوا تھا، اب سنسان پڑا تھا۔
صرف اسوان پریشانی کے عالم میں ادھر سے اُدھر چکر لگا رہا تھا۔
دروازے پر آتے ہی اسوان کی نظر اُن پر پڑی تو وہ فوراً رک گیا۔
مل گئی تم…؟
اس کی آواز میں سانس اٹکی ہوئی تھی۔
کائنات نے آہستگی سے سر ہلایا۔
جی…
اسوان نے فوراً کہا،
اچھا، اب جلدی سے پھپھو کے پاس جاؤ۔ وہ تمہارے لیے بہت پریشان ہیں۔ طبیعت بھی ٹھیک نہیں… بڑی مشکل سے میں نے انہیں کمرے میں بھیجا ہے۔
کائنات نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا،
ہاں، میں ابھی جاتی ہوں۔
اور وہ مریم بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کائنات کے جاتے ہی اسوان نے زیدان کی طرف رخ کیا۔
کیسے ملی؟ کہاں تھی؟ ہال میں ہی تھی؟
زیدان نے سرد لہجے میں جواب دیا،
ہاں… ہال میں صفائی کر رہی تھی۔
اسوان چونک گیا۔
ہین؟ ہال میں صفائی؟ وہ کیوں کرے گی؟
زیدان نے آنکھیں تنگ کیں۔
دماغ خراب نہ کرو میرا، جاؤ یہاں سے۔
اسوان نے اسے ٹوکا، زیدان؟
ہاں، یہی نام ہے میرا۔ زیدان نے کاٹ دار لہجے میں کہا،
اسوان نے ضبط سے کہا،
میں پوچھ رہا ہوں، ملی کیسے؟
زیدان نے سوال بدل دیا۔
یہ سب گھر والے کہاں ہیں؟
سب اندر ہیں۔ اسوان نے جواب دیا۔
باہر بلاؤ۔
اسوان چونکا۔ کیوں؟
زیدان نے بے رحمی سے کہا، آگ لگاؤں گا۔
اسوان نے فوراً کہا،
کائنات مل تو گئی ہے۔
تو؟
زیدان کی نگاہیں سرد تھیں۔
تو جانے دو نا…
اسوان نے سمجھانے کی کوشش کی۔
نہیں۔
زیدان نے دو ٹوک کہا،
سب کو بلاؤ، ورنہ میں پھر چیخنا شروع کر دوں گا۔
بدتمیزی مت کرو۔
اسوان نے سختی سے کہا۔
مجھے غصہ آ رہا ہے۔ زیدان کے جبڑے بھنچ گئے۔
کائنات مل گئی، پھر کیوں؟ اسوان کی آواز اب نرم تھی۔
زیدان نے غصے سے اسوان کو گھورا۔
دل تو چاہا کہ ایک لگا دے…
مگر وہ بڑا بھائی تھا۔
وہ ہاتھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔
میں سب کو سمجھا چکا ہوں۔ اسوان نے کہا،
آئندہ خیال رکھیں گے۔
زیدان تلخی سے کہا۔
تم ہر بار یہی کرتے ہو۔
مجھے اس گھر سے نفرت ہے…
اس گھر کے لوگوں سے بھی۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ چیختا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
کچھ دیر پہلے کائنات نے اسے درندگی سے روکا تھا…
اور اب اسوان گھر والوں کے معاملے میں اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
اگر اس کا بس چلتا تو وہ واقعی اس گھر کو آگ لگا دیتا۔
مگر اسوان…
وہ ہمیشہ بیچ میں آ جاتا تھا۔
اسی منحوس گھر میں زبردستی روکے رکھتا،
اور پھر انہی لوگوں کو اس سے بچا بھی لیتا۔
اسوان نے زیدان کو کمرے میں جاتے دیکھا تو گہرا سانس لیا۔
شکر ہے کائنات مل گئی…
اور شکر ہے کہ زیدان نے کچھ نہیں کیا۔
+++++++++++
پریشے ابھی سو کر اٹھی ہی تھی۔
واش روم سے نہا دھو کر کپڑے بدلتی، سنگھار میز سے کنگھی اُٹھائے وہ بیڈ پر آ بیٹھی، کیونکہ پاؤں کی چوٹ ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی تھی۔
وہ اب اتنا چل پھر سکتی تھی کہ سہارا لے کر آہستہ آہستہ قدم بڑھا لے، مگر زیادہ دیر تک ایک ہی جگہ کھڑی رہنا اب بھی اس کے لیے ممکن نہ تھا۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھی اپنے بال سوار رہی تھی۔۔۔ کہ اسی لمحے اسوان کی آنکھ کھل گئی۔
اس نے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر آگئی۔
اچھی لگ رہی ہو…
ایسے ہی روز فریش رہا کرو۔
پریشے نے گہرا سانس لیا۔ وہ پلٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ کنگھی کرتا اُس کا ہاتھ روک گیا۔۔۔
مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے،
اسوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
ہاں، کہو۔
پریشے نے گہرا سانس لیا۔
میری یونیورسٹی کی بہت چھٹیاں ہو گئی ہیں۔
اب میں دوبارہ یونی جوائن کرنا چاہتی ہوں۔
اسوان کے چہرے پر سختی آگئی۔ بالکل نہیں۔
پریشے چونکی۔ میں اب بالکل ٹھیک ہوں…
بس تھوڑا سہارا لے کر چلنا پڑتا ہے، وہ میں مینیج کر لوں گی۔اب مزید چھٹی افورڈ نہیں کر سکتی۔
میری پڑھائی متاثر ہو جائے گی۔
اسوان نے لاپرواہی سے کہا، تو ہو جانے دو۔
پریشے کو جیسے یقین نہ آیا۔
کیا مطلب ہے؟
مطلب بالکل سیدھا ہے۔
اسوان نے دو ٹوک کہا،
اب تم یونی نہیں جاؤ گی۔
پڑھائی چھوڑ دو۔
پریشے نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے اس کے سر پر بم گر گیا ہو۔
آنکھوں میں حیرت، صدمہ، بے بسی…
اور کہیں کہیں نفرت بھی۔
اب کیا کرو گی پڑھ لکھ کر؟ اسوان نے سرد لہجے میں کہا،
گھر پر رہو…
پری کا خیال رکھو، بس۔
پریشے کے ہونٹ کھلے، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی،
دروازہ ایک دم زور سے کھلا۔
سامنے زیدان کھڑا تھا۔
بھائی، مجھے تُم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
اسوان نے رخ موڑا۔
ہاں، کہو۔
زیدان کی آواز میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
اتنا پیسہ ہے تُمہارے پاس،
گھر میں ایک ڈرائیور نہیں رکھ سکتے؟
اسوان نے بھنویں چڑھائیں۔
ڈرائیور کی کیا ضرورت ہے؟
زیدان نے بے زاری سے کہا،
یہ گیراج گاڑیوں سے بھرا پڑا ہے صرف دیکھنے کے لیے؟ جب ضرورت پڑتی ہے تو کوئی کہیں جا ہی نہیں سکتا۔ تو کیا فائدہ اِتنی گاڑیوں کا؟ آگ لگا دو۔۔۔آگ۔۔۔
اسوان نے تحمل سے جواب دیا،
میں چلاتا ہوں، ابو چلاتے ہیں،
چاچا چلتے ہیں… اور کبھی کبھار تم بھی گاڑی لے جاتے ہو۔
زیدان نے دانت بھینچ لیے۔
میرا دماغ خراب مت کرو۔
میں گھر کی لیڈیز کی بات کر رہا ہوں۔
اسوان چونکا۔
گھر کی لیڈیز کو ڈرائیور کی ضرورت ہے؟
ہاں۔
زیدان نے فوراً کہا،
خاص طور پر زیدان کی بیوی کو۔
وہ اکیلی پیپر دینے جاتی ہے، اکیلی واپس آتی ہے۔
اچھا…اسوان نے بس اتنا کہا،
اچھا واچھا کچھ نہیں۔ زیدان کا لہجہ سخت ہو گیا۔
یا تو میری بیوی کے لیے وین لگا دو،
یا گھر میں ایک ڈرائیور رکھ دو۔
اسوان نے آہ بھری۔ اچھا، میں دیکھتا ہوں۔
دیکھو ویکھو نہیں۔ زیدان نے تنبیہ کی، کل کائنات کا آخری پیپر ہے۔
اور اگر وہ اکیلی گئی تو اچھا نہیں ہوگا۔
تو تم چھوڑ دیا کرنا۔
نہیں۔۔۔ زیدان نے صاف انکار کیا۔
تم ڈرائیور رکھو۔
ویسے بھی گھر میں ایک ڈرائیور ہونا چاہیے۔
تمہاری بیوی کو بھی ضرورت پڑتی ہے۔
پھر تلخی سے بولا،
ڈرائیور ہوتا تو مجھے اسپتال بھی نہیں جانا پڑتا۔
اسوان نے ہاتھ اٹھا کر کہا،
اچھا اچھا، رکھ دوں گا۔
کل تم چھوڑ دینا،
دو تین دن میں بندوبست ہو جائے گا۔
زیدان فوراً بولا، نہیں، ابھی کرو۔
اسوان جھنجھلا گیا۔ پاگل ہو گئے ہو؟
قابلِ اعتماد بندہ دیکھ کر رکھوں گا۔
وقت تو لگے گا نا۔
ویسے ہی کسی کو رکھ لوں،
پھر آ کر مجھ پر ہی چیخو گے۔
زیدان نے کندھے اچکائے۔
ٹھیک ہے، پھر تم ہی چھوڑ دینا۔
اسوان نے غصے سے کہا،
تمہیں چھوڑنے میں موت آتی ہے؟
زیدان نے بے نیازی سے کہا،
ہاں… مجھے صبح اٹھنے میں ہی موت آتی ہے۔
اسوان نے غصے میں کہا،
ٹھیک ہے، پھر اسے اکیلے ہی جانے دو۔
زیادہ فری مت ہو۔
میں تمہاری بیوی کو اسپتال لے کر گیا تھا نا؟
ہاں تو؟
ہاں تو…
زیدان کی آنکھیں تنگ ہو گئیں،
زیدان کسی پر احسان نہیں کرتا۔
حساب برابر کرو میرا۔
اسوان نے سختی سے کہا،
احسان نہیں تھا، وہ تمہاری بھابھی ہے۔
تو؟ کائنات بھی تُمہاری کُچھ لگتی ہے۔۔۔ زیدان نے بے پرواہی سے کہا، چُپ چاپ سے لے جانا نہیں تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔ اور اب میں سونے جا رہا ہوں۔
اور نو بج چکے ہیں، جلدی آفس نکلو تُم۔۔۔
یہ کہہ کر وہ باہر نکلا اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔
اور پھر اسوان خاموشی سے اٹھا اور واش روم میں چلا گیا۔
اور پریشے…
وہ وہیں بیڈ کے کنارے بیٹھی رہ گئی۔
آنکھوں میں سوال، دل میں ٹوٹتی ہوئی امیدیں،
اور لفظ…
جو کہے بغیر ہی بکھر گئے تھے۔ اُسے اب کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے ؟ چیخے چلایا یا اپنا سر دیوار میں مار لے۔۔۔
++++++++++++
