تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۲
شام کے ٹھیک چار بج رہے تھے۔
کائنات بہت دیر سے انتظار کر رہی تھی۔
اس امید میں کہ زیدان خود اس سے کھانا مانگے گا۔۔۔
مگر وقت گزرتا رہا،
اور زیدان کی جانب سے کوئی لفظ نہ آیا۔
آخرکار کائنات کا صبر جواب دے گیا۔ اس نے ہمت جمع کی۔ اور بولی۔۔۔
کیا میں آپ کے لیے کھانا لے آؤں؟
الفاظ نرم تھے، آواز میں ہلکی سی لرزش تھی،
نہیں…
زیدان نے بنا اُس کی طرف دیکھے فوراََ سرد لہجے میں انکار کردیا۔۔۔
پھر کائنات خاموش ہوگئی۔۔۔ کُچھ نہیں بولی۔۔ شاید زیدان کو بھوک ہی نہ لگی ہو۔۔۔
++++++++++++
ہادی کے مصروف ہونے کی وجہ سے اَرسَم زرتاشہ کو لینے آ گیا تھا۔ وہ آنا تو نہیں چاہتا تھا، مگر صرف ہادی کے لیے صرف اپنے بھائی کے لیے آ گیا تھا۔
اس وقت وہ لاؤنج میں اکیلا بیٹھا تھا، کیونکہ زرتاشہ کمرے میں تیار ہو رہی تھی۔
اَرسَم کے آنے پر کوئی اس کے آگے پیچھے نہیں منڈلا رہا تھا، کیونکہ وہ اس گھر میں کسی اجنبی کی طرح نہیں، بلکہ گھر کے ایک فرد کی طرح تھا۔
بچپن سے اس کا اس گھر میں آنا جانا تھا۔
وہ کبھی بھی، کسی بھی وقت یہاں آ جاتا تھا،
اور گھر کے افراد میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ مہمانوں والا برتاؤ نہیں کرتا تھا۔
وہ اپنی مرضی سے آتا،
اور اپنی مرضی سے چلا بھی جاتا، بغیر کسی تکلف کے۔
آج بھی وہ لنچ پر بےنیازی سے فون چلا رہا تھا کہ دعا سیڑھیاں چڑھتی ہوئی نیچے آئی۔
Hello, how are you?
( ہیلو آپ کیسے ہیں ؟؟ )
دعا اس کے پاس آ کر بولی۔
ارسم نے اسے یوں نظرانداز کیا جیسے وہ اس سے نہیں، دیواروں سے مخاطب ہو۔
دعا کو لگا شاید اس نے سنا ہی نہیں۔
اس نے پھر ارسم کو مخاطب کیا،
Hey, how are you?
( ہائے کیسے ہو ؟؟ )
مگر ارسم نے اس بار بھی اسے مکمل نظرانداز کر دیا۔
اب دعا کو سمجھ آ گئی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اسے نظر انداز کر رہا ہے۔
وہ اس کے سامنے آکر درشتی سے بولی،
you are ignoring me?
( تُم مُجھے نظر انداز کر رہے ہو ؟؟ )
ارسم نے اپنی بھوری نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
Yes, any problem?
( ہاں، کوئی مسئلہ ہے؟ )
دعا بولی،
why are you ignoring me?
( تم مجھے نظرانداز کیوں کر رہے ہو؟ )
ارسم نے لاپرواہی سے کہا،
Just because I don’t like talking to people who don’t know Urdu.
( بس اس لیے کہ مجھے اُن لوگوں سے بات کرنا پسند نہیں جو اردو نہیں جانتے۔)
دعا نے آنکھیں گھمائیں۔
Oh God, you are mad,
( اوہ اللّٰہ! تم پاگل ہو۔۔ )
کہتی ہوئی وہ پلٹ گئی۔
وہ جیسے ہی پلٹی ارسم نے اسے پکارا،
اچھا سنو۔۔۔
دعا مڑی،
Sorry, I am busy.
( معاف کیجیے، میں مصروف ہوں۔ )
اس کے انکار پر ارسم نہ غصہ ہوا، نہ بھڑکا۔
بس پرسکون لہجے میں پوچھا،
کائنات کہاں ہے ؟؟
دعا نے مختصر جواب دیا،
She will be in her room.
( اپنے کمرے میں ہوگی۔ )
اچھا۔۔۔۔ ارسم نے سر ہلایا۔۔۔
Why meet?
( کیوں ملنا ہے؟؟ )
دعا نے پوچھا۔۔۔
ارسم نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
ہاں۔۔۔
دعا نے صرف ہاں میں سر ہلایا اور اوپر کائنات کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
اس نے دروازہ نوک کیا۔
کائنات نے دروازہ کھولا تو دعا بولی،
Arsam is downstairs, he is calling you.
( ارسم نیچے ہے، وہ تمہیں بلا رہا ہے، )
کائنات نے مختصر سا جواب دیا،
اچھا۔۔۔
اور پھر وہ دعا کے ساتھ چل دی۔
مگر دونوں نے پیچھے بیٹھے اس شخص پر غور نہیں کیا… جس کی آنکھوں میں ارسم کا نام سنتے ہی غصہ ابھر آیا تھا۔
++++++++++++
کائنات نیچے آئی۔
السلام علیکم۔۔۔۔
ارسم کی نظر اس پر پڑی تو دل ہی دل میں بےاختیار کہہ اٹھا،
یا اللہ… یہ لڑکی آخر میرے دل سے کیوں نہیں نکلتی؟
وعلیکم السلام،
اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔
خیریت؟ کائنات نے پوچھا۔
سب خیریت ہے۔ تم شکایت کر رہی تھیں نا مجھ سے کہ میں اب گھر نہیں آتا؟ تو سوچا آج آ ہی گیا ہوں تو تمہیں دکھا دوں کہ دیکھو، میں آ گیا ہوں۔ بعد میں تُم مُجھے سے یہ مت کہنے لگو۔۔۔ کہ آئے تھے اور مجھ سے ملے بغیر چلے گئے، اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
کائنات نے مُسکرا کے کہا۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔۔
ارسم نے کندھے اچکائے۔ ویسے تم کیسی ہو؟
دعا بھی کائنات کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ دونوں کی گفتگو سن رہی تھی، مگر خاموش تھی۔
میں تو اچھی ہوں، کائنات نے جواب دیا۔
ارسم مسکرا دیا۔
واقعی؟ ویسے مجھے لگ رہا تھا کہ تم خوش ہو۔
ہاں، آج میرا پیپر ختم ہو گیا ہے۔ آپ دعا کیجیے گا کہ رزلٹ اچھا آ جائے میرا، کائنات نے نرمی سے کہا۔
ان شاء اللہ، ارسم نے یقین کے ساتھ جواب دیا۔
ابھی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ اچانک زیدان کے کمرے سے کسی چیز کے زور سے ٹوٹنے کی آواز آئی۔
سب چونکا گئے۔۔۔ اوپر کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔
پھر۔۔۔۔
کائنات۔۔۔۔کائنات۔۔
زیدان کی آواز گونجی۔ تیز، غصے سے بھری ہوئی، جیسے وہ چیخ رہا ہو۔
کائنات کے قدم فوراً سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔
ارسم چونک کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا اور بنا کچھ سوچے اس کے پیچھے لپکا۔
تب دعا نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ارسم نے غصے سے اسے دیکھا۔
She is his wife
( وہ اس کی بیوی ہے،)
دعا دھیرے سے بولی۔۔۔
جانتا ہوں میں، ارسم کی آواز میں ضبط تھا۔
دعا نے گہری سانس لی اور کہا،
It is their personal matter, please don’t go. He calls her like this all the time.
(یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے، مت جائیں۔ وہ اسے ہمیشہ اسی طرح بلاتا ہے۔)
ارسم کی آنکھوں میں غصہ اور تشویش ایک ساتھ ابھری۔
پھر بھی… تمہیں نہیں پتا وہ کتنا وحشی انسان ہے۔ جس طرح غصے میں چیخ رہا تھا، اگر اس نے کائنات کے ساتھ کچھ کر دیا تو؟ ہٹو میرے راستے سے۔
یہ کہتے ہوئے اس نے دعا کو اپنے سامنے سے ہٹایا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
دعا وہیں کھڑی رہ گئی۔
+++++++++++
کائنات جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی، اس کی نظر سب سے پہلے زیدان کے ہاتھ پر پڑی۔۔۔
جو خون سے لت پت تھا۔ اور وہ فرش پر اپنا ہاتھ پکڑے بیٹھا تھا۔۔۔
سنگھار میز کا شیشہ ٹوٹ کر بکھرا پڑا تھا، کمرے کی ہر شیشے کی چیز تو وہ توڑ چُکا تھا صِرف یہی بچا تھا وہ بھی آج ٹوٹ کے بکھر چُکا تھا۔۔۔
وہ گھبرا کر اس کی طرف بھاگی۔
یہ… یہ کیسے ہوا؟
سوال پورا بھی نہ ہو سکا۔
وہ تیزی سے میڈیکل باکس لے آئی، زیدان کا ہاتھ تھام کر اس کے پاس بیٹھ گئی۔
زیدان، جو کچھ دیر پہلے غصے سے بھڑک رہا تھا،
اب خاموشی سے بیٹھا تھا،
سکون سے پٹی بندھوا رہا تھا۔
دروازے پر کھڑا ارسم یہ سب دیکھ رہا تھا۔
جو اس نے سوچا تھا، ویسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
مگر جو ہو رہا تھا۔۔
وہ بےتحاشہ تکلیف دے رہا تھا۔۔
++++++++++++
وہ خاموشی سے پلٹ گیا۔
دل میں ایک ان دیکھا بوجھ لیے، وہ نیچے آ گیا۔
دعا اب بھی وہیں موجود تھی۔۔۔۔ صوفے پر بیٹھی ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی بولی،
دیکھ لیا؟
اس بار اس نے انگریزی نہیں بولی تھی۔
ارسم نے جواب نہیں دیا۔ خاموش رہا۔
کچھ دیر پہلے دعا نے اس کی آنکھوں میں جو اکڑ، غصہ، دیکھا تھا۔۔۔ اب وہاں وہ سب نہ تھا۔ اب وہاں بےنیازی نہیں تھی۔ صرف بےبسی تھی۔
دعا نے اس کا چہرہ دیکھا اور آہستہ سے کہا،
She is his wife, and he loves his wife.
(وہ اس کی بیوی ہے، اور وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے۔)
ارسم کے اندر جیسے کچھ ٹوٹا۔
دعا نے بات آگے بڑھائی،
واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، ارسم…
مگر آگے بڑھنے کا راستہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔
آگے بڑھ جائیں،
اور اسے اپنے دل سے آزاد کر دیں۔
ارسم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کیا مطلب؟
دعا نے نظریں اس سے ملائیں۔
محبت کرتے ہیں نا آپ اس سے؟
ارسم حیرت سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
آج تک اس نے اپنی محبت کو دل کے سب سے گہرے کونے میں چھپا کر رکھا تھا۔ نہ بابا جان سکے،
نہ ماما، نہ حتیٰ کہ ہادی بھی۔
پھر یہ اجنبی لڑکی کیسے جان گئی تھی۔۔۔
کہ وہ کائنات سے کتنی محبت کرتا ہے؟
سب صحیح سمجھتے تھے، وہ صرف کائنات کو پسند کرتا ہے۔۔۔ صِرف پسند ؟؟ نہیں وہ تو اُس سے محبت کرتا تھا۔۔۔
ارسم نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
اسی لمحے دعا کچھ اور کہنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے زرتاشہ سیڑھیاں اترتی ہوئی آ گئی۔
اس کے ساتھ زارا اور دائم بھی تھے۔
چلو ارسم۔۔۔ زرتاشہ نے کہا۔
ہاں، آ جاؤ،
وہ مختصر سا کہہ کر گھر سے باہر نکل گیا۔
زرتاشہ نے جاتے جاتے سب سے ملاقات کی،
اور پھر وہ بھی گھر سے باہر چلی گئی۔
++++++++++++++
کائنات نے اس کے ہاتھ پر پٹی باندھتے ہوئے بے اختیار پوچھ لیا۔
یہ… یہ سب کیوں کیا آپ نے؟
زیدان کی نظریں اس کے چہرے پر نہیں تھیں۔ وہ سامنے دیوار کو گھور رہا تھا۔ چند لمحوں بعد اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔
تم ارسم سے بات مت کیا کرو۔
کائنات کے ہاتھ ایک لمحے کو رک گئے۔ وہ چونکی۔
کیوں؟
زیدان نے جبڑا بھینچا۔
بس… اس سے دُور رہا کرو۔
کائنات نے اس کی طرف دیکھا، حیرت اور سوال آنکھوں میں تیرنے لگے۔
لیکن کیوں؟
زیدان نے اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں غصہ نہیں تھا، کچھ اور تھا… جو وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
وہ تمہیں کیوں بلا رہا تھا؟
کائنات نے آہستگی سے جواب دیا۔
ایسے ہی…
یہ جواب زیدان کو اور بھڑکا گیا۔
بس اب اس سے دُور رہنا۔
کائنات کے ہونٹوں پر ہلکی سی کپکپاہٹ آئی، مگر آواز مضبوط رہی۔
اور اگر نہیں رہی تو؟
زیدان نے بغیر سوچے، بےرحمی سے کہہ دیا۔
جان سے مار دوں گا۔
کائنات نے جیسے سانس لینا بھول گئی ہو۔ وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
خود کو۔ زیدان نے سرد لہجے میں اپنی بات مکمل کی..۔۔۔
کائنات کے چہرے پر غصہ ابھر آیا۔
دماغ خراب ہے کیا آپ کا؟
زیدان نے پلکیں جھپکائے بغیر کہا۔
ہاں۔
کائنات غصے سے بولی،
مجھے غصہ نہیں دلائیں، یہ بتائیں کہ آپ نے یہ سب کیوں کیا؟
زیدان کوئی جواب دیے بغیر اُٹھ کھڑا ہوا۔
چند قدم چل کر رُکا، پھر فرش پر کچ کے ٹکڑے دیکھے۔ سرد لہجے میں بولا،
یہ کسی اور سے صفائی کروا لینا، خود نہیں کرنا۔
مگر کائنات وہیں بیٹھی رہی۔ غصے سے اُسے گھورتی رہی۔
چند لمحوں بعد زیدان کی آواز بدلی ہوئی تھی،
مدھم… بھری ہوئی…
مجھے غصہ آ گیا تھا…
کائنات نے فوراً پلٹ کر پوچھا،
کس بات پر؟
زیدان خاموش رہا۔
کائنات کے دل میں تلخی اُبھر آئی۔
آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ کا دل کسی سے ملنے کو نہیں کرتا تو کیا آپ کی بیوی بھی کسی سے نہ ملے؟ وہ بھی آپ کی طرح بن جائے؟
وہ زیدان کی بات کو سراسر غلط سمجھ بیٹھی تھی… اور غصّے میں اُس پر چیخ رہی تھی۔
اُدھر وہ، اُس کے منہ سے ‘آپ کی بیوی’ کا لفظ سنتے ہی ٹھٹک گیا…
ایک ان کہے احساس کے زیرِ اثر اُس نے کائنات کو دیکھا…
مگر کائنات ہنوز غصّے میں اُسے گھور رہی تھی۔
پھر زیدان نے رُخ مڑ لیا اور سختی سے کہا،
میں نے کہا ہے، صرف اَرسَم سے دور رہو۔
وہی تو میں پوچھ رہی ہوں، کیوں؟ اُس نے آپ کا کیا بگاڑا ہے؟
زیدان چیخا۔۔ غصے سے آنکھیں سرخ تھیں،
میں نے دیکھا ہے اُسے… بہت دفعہ نوٹس کیا ہے…
شادی سے پہلے بھی… اور شادی کے بعد بھی…
وہ تمہیں ایسے دیکھتا ہے جیسے…
وہ وہیں رُک گیا۔ غصے کو ضبط کرتا ہوا خود کو سنبھالا، پھر بغیر کچھ کہے مڑ گیا اور بستر پر جا بیٹھا۔
جیسے کیسے…؟
وہ پیچھے سے غصے سے بولی۔۔۔
زیدان نے پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا وہ ابھی بھی نیچے فرش پر بیٹھتی تھی۔۔۔ پھر اُس نے اپنی نظریں چرا لیں۔ اور سامنے دیوار کی طرف دیکھتا بولا۔۔۔
جیسے دیکھنے کا حق صرف میرا ہو۔۔۔
الفاظ اُس کے ذہن میں اٹک سے گئے۔
وہ اُن جملوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔
اُسے جیسے ہی اُس کی بات کا مطلب سمجھ آیا، اُس نے رُخ موڑا۔
سوچتے ہوئے آہستہ سے بولی،
مجھے تو کبھی ایسا نہیں لگا کہ ارسم مجھے اس نظر سے دیکھتے ہو…
پھر یکایک اُسے شدید غصّہ آ گیا۔
اُس نے رُخ واپس زیدان کی طرف کیا اور اُسے گھورا۔
ماتھوں پر بال بکھر آئے تھے،
اور وہ اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتی بولی۔۔
ہر کسی کی نظر آپ جیسی گندی نہیں ہوتیں۔۔۔
زیدان نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
کائنات رُکی نہیں۔
فضول ہیں آپ…
اس کی آواز اب بلند ہو چکی تھی۔
فضول بات ہے، فضول منطق ہے…
جو خود کو لگے، وہی دوسروں پر تھوپ دو۔۔۔
وہ کھڑی ہو گئی۔
خود کو سمجھتے کیا ہیں آپ؟
کوئی ساری دنیا کے بادشاہ نہیں ہیں آپ۔۔۔
زیدان خاموش تھا۔ بس سنتا رہا۔
نہ یہ دنیا آپ کی غلام ہے۔۔۔
اپنے فضول خیالات اپنے تک ہی رکھا کریں۔۔۔
ایک لمحے کو رُکی،
پھر سرد لہجے میں بولی،
بہودہ ہے آپ۔۔۔ سب کو اپنے جیسا سمجھتے ہیں۔۔۔
زیدان اُس کی باتیں سن اب یکدم کھڑا ہوگیا۔۔۔
کیا کہا؟
وہ اس کے قریب آیا۔۔۔۔
بہودہ ہوں میں…؟
نہیں، وہ میں۔۔۔۔
کائنات نے گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹایا۔
وہ کیا؟
زیدان اور قریب آ گیا۔
وہ۔۔۔؟
میری نظریں گندی ہیں؟
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،
اور فاصلہ مزید کم ہو گیا۔
نہیں۔۔۔ میں نے کب کہا ایسا؟
وہ بولی اور ایک اور قدم پیچھے ہٹی۔
اور کیا کہا تھا؟۔۔۔ فضول ہوں میں؟
نہیں، وہ۔۔۔۔
وہ پھر پیچھے ہوئی۔
فضول باتیں کرتا ہوں میں؟
وہ اور قریب آ گیا۔
کائنات اب جھنجھلا کر بولی،
کیا ہے؟!
وہ پلٹ کر بھاگنے ہی والی تھی کہ
زیدان نے ایک ہی قدم میں اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
وہ سانس روک کر رہ گئی۔
زیدان نے دھیمی، آواز میں کہا،
درندہ… وحشی انسان تو میں تھا ہی۔۔۔
سب ہی کہتے ہیں۔
مگر میں بہودہ انسان بھی ہوں۔۔۔
یہ مجھے نہیں معلوم تھا…
اُس کی گرفت سخت ہو گئی۔
اور اب، جب تم نے مجھے بہودہ کہہ دیا ہے…
تو پھر؟
وہ اُس سے پہلے کہ مزید کچھ بولتا یا کُچھ کرتا۔۔۔
کائنات نے اچانک اپنے دونوں ہاتھوں سے اُسے پوری قوت سے دھکا دے دیا۔
زیدان ایک لمحے کو توازن کھو بیٹھا،
اور پیچھے کی طرف لڑکھڑا گیا۔
وہ کانپتی ہوئی مگر بلند آواز میں بولی،
دور رہیں مجھ سے… بے تمیز انسان۔۔۔
زیدان نے خود کو سنبھالا، سیدھا ہوا اور بولا،
وہ تو نہیں رہوں گا میں۔
یہ کہتے ہی وہ دوبارہ اس کی طرف بڑھا۔
مگر اس سے پہلے کہ زیدان اُسے پھر چھو پاتا،
کائنات تیزی سے مڑی
اور دروازے کی طرف بھاگ گئی۔
اس نے دروازے کا ہینڈل مضبوطی سے پکڑا
اور پلٹ کر چیخی،
جو جو میں نے کہا ہے۔۔ سب ہو آپ۔۔۔
بہودہ انسان۔۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے وہ دروازہ کھول کر
وہاں سے بھاگ گئی۔
کمرے میں رہ گیا تھا۔۔ زیدان، وہ بھی مُسکراتا ہُوا۔۔۔
+++++++++++++
دوسرے دن، شام کے ٹھیک چار بجے،
اسوان پریشے کو لینے اُس کے گھر پہنچ چکا تھا۔
اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
پریشے کی بہن، عشال نے دروازہ کھولا۔
جِیجو! آپ؟ السلام علیکم۔ آئیے نا۔
وہ اُسے ساتھ لے کر ڈرائنگ روم میں آ گئی۔
میں ابھی پاپا امّی کو بلاتی ہوں،
یہ کہتے ہوئے اشال اندر کی طرف بھاگ گئی۔
چند لمحوں بعد راؤف صاحب وہیل چیئر پر بیٹھے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔
اسوان نے انہیں دیکھتے ہی صوفے سے اٹھ کر ادب سے سلام کیا۔
السلام علیکم۔
ارے بیٹا، بیٹھے رہو، راؤف صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اور بتاؤ، کیسے ہو؟ گھر میں سب ٹھیک ہے؟
اسوان دوبارہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا،
اللہ کا شکر ہے پاپا، سب ٹھیک ہے۔ آپ سنائیں، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ پاؤں میں کچھ بہتری آئی؟
راؤف صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ہاں بھئی، بس دیکھتے ہیں کب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا ہوں میں۔
ان شاء اللہ جلد ہی کھڑے ہو جائیں گے،
اسوان نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
دوائیاں وقت پر لیتے ہیں نا آپ؟
ہاں ہاں، راؤف صاحب نے آہ بھری۔
خیال رکھنے والی تو تم لے گئے ہو، پھر بھی میں اپنا خیال رکھ رہا ہوں۔
اسوان مسکرا دیا۔ کیسی بات کر رہے ہیں پاپا۔ ایک ہی بیٹی کو تو لے کر گیا ہوں۔ ابھی تو آپ کے پاس تین اور ہیں، اور اوپر سے امّی بھی ہیں۔ کیا وہ آپ کا خیال نہیں رکھتیں؟
راؤف صاحب نے بیزاری سے منہ بنائے کہا
ارے بیٹا، اُس کا چھوڑو، ہر وقت غصہ، چیخنا چلانا۔۔ وہ بات کرتے کرتے رک گئے۔
سامنے صفیہ بیگم ڈرائنگ روم میں داخل ہو چکی تھیں۔
ہاں، بول لیجیے، وہ طنزیہ انداز میں بولیں۔
کر لیجیے میری برائی داماد کے سامنے۔
ارے نہیں نہیں، وہ تو۔۔۔
راؤف صاحب نے وضاحت کرنا چاہی۔
چھوڑیں، میں بتاتی ہوں بیٹا، صفیہ بیگم نے بات کاٹ دی۔
نہ یہ وقت پر دوائی لیتے ہیں، نہ کھانا پینا، اور نہ ہی ورزش۔۔۔۔ اب ایسے میں یہ کیسے بہتر ہوں گے؟
وہ ذرا رکی، پھر شکوے کے ساتھ بولیں،
میری تو ذرا بھی نہیں سنتے۔ میں چیختی رہتی ہوں،
دوائی کھا لیں، دوائی کھا لیں، مگر نہیں۔
ہاں، جب انوشے اسکول سے آتی ہے نا،
تو اس کے کہنے پر فوراً دوائی بھی کھاتے ہیں،
اور کھانا بھی اسی کے ساتھ کھاتے ہیں۔
اسوان مسکرا کر سب سن رہا تھا۔۔۔
نہیں نہیں، ایسا نہیں ہے، راؤف صاحب فوراً بول اٹھے۔
صفیہ بیگم نے معنی خیز نگاہ سے ان کی طرف دیکھا۔
کیا مطلب ایسا نہیں ہے؟
بیٹا، تم خود ہی دیکھ لو۔ پریشے تو ہوتی نہیں یہاں، ورنہ اس کے ایک بار کہنے پر یہ فوراً دوائی لے لیتے تھے،
اور عشال سے تو ان کی بنتی ہی نہیں۔ وہ ذرا تیز مزاج کی ہے، وہ تیزی سے کہتی ہے، یہ انکار کرتے ہیں، پھر اسے غصہ آ جاتا ہے۔ اور پھر ان دونوں کی تو تُوتو میں میں ہو جاتی ہے،
اور دوائی وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔
وہ باتوں کے بہاؤ میں بولتی چلی گئیں۔
اور عشاء… وہ ذرا حساس ہے۔ وہ کچھ کہتی ہے تو یہ غصے میں جواب دے دیتے ہیں، پھر اس کا منہ بن جاتا ہے اور وہ اپنے کمرے میں بند ہو جاتی ہے۔
میں تو رو دوں، چیخ دوں۔۔۔ مگر میری بات بھی یہ سنتے نہیں۔ اب رہ گئی انوشے۔۔
وہی ہے جو انہیں سیدھا رکھتی ہے۔
راؤف صاحب نے بے بسی سے مسکرا کر کہا، ارے، وہ تو میری جان نہیں چھوڑتی۔ اس پر کسی چیز کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ بہت ضدی ہے۔
اسوان نے نرمی سے کہا، چھوٹی ہے نا، پاپا۔
لیکن آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اپنا خیال خود رکھیں، دوائی وقت پر لیں۔۔۔ تو جلدی ٹھیک ہو جائیں گے۔
راؤف صاحب نے ہلکی سی ناگواری سے کہا،
دوائی کھانے کے بعد عجیب عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ دل نہیں چاہتا کچھ کھانے کو…
اسوان نے سنجیدگی سے کہا،
تبھی تو اُسے دوائی کہتے ہیں، پاپا۔ اگر زیادہ مسئلہ ہو رہا ہے تو ڈاکٹر کو دکھا دیں۔ وہ دوا کی مقدار کم کر دیں گے۔ ہو سکتا ہے زیادہ پاور والی دوا سے طبیعت عجیب لگ رہی ہو۔
اتنے میں عشال واپس آ گئی اور ناشتہ لگانے لگی۔
اسوان نے فوراً منع کیا،
ارے یہ سب کیوں کر رہی ہو؟ رہنے دو، میں کوئی مہمان تھوڑی ہوں۔
عشال نے ٹرے میز پر رکھتے ہوئے کہا،
آپ پریشے آپی کو لینے آئے ہیں نا؟
ہاں، اسوان نے چونک کر پوچھا، کہاں ہے وہ؟
وہ تو گھر پر نہیں ہیں، عشال نے سادہ سے انداز میں کہا۔
صفیہ بیگم حیران ہو گئیں۔
ارے، ابھی تو یہیں تھی۔۔۔۔
امّی، وہ تھوڑی دیر پہلے عشاء کے ساتھ گئی ہیں، عشال نے بتایا۔
ایک تو یہ عشاء۔۔۔ صفیہ بیگم جھنجھلا گئیں۔ اکیلی کہیں نہیں جا سکتی۔
اسوان نے فوراً پوچھا، کہاں گئی ہے؟
عشاء کو اپنی نوٹس لینے اپنے دوست کے گھر جانا تھا نا، تو پریشے آپی بھی اس کے ساتھ چلی گئی۔۔ ہیں، عشال نے وضاحت کی۔
اسوان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
اچھا… اس کا پاؤں ٹھیک ہو گیا؟
عشال نے حیرانی سے پوچھا،
پاؤں کو کیا ہوا ہے اُن کے؟
راؤف صاحب بھی چونک پڑے۔
ہاں، کیا ہوا پریشے کے پاؤں میں؟ چوٹ آئی ہے؟
اسوان ذرا سا جھجکا۔
ہاں… وہ… گر گئی تھی۔
صفیہ بیگم نے لاپرواہی سے کہا،
اچھا ہاں، میں نے دیکھی تھی۔ چھوٹی موٹی سی چوٹ ہے۔ تم اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہو۔۔۔
ہاں… وہ… اسوان کے لبوں پر بات آ کر رک گئی۔
(گھر میں تو وہ چلتی پھرتی بھی نہیں تھی، جیسے پاؤں رکھنا مشکل ہو۔ چوٹ تو خاصی بہتر ہو چکی تھی، مگر وہاں اس کا یہ حال… اور یہاں؟ یہ خیال وہ دل ہی دل میں سوچ کر رہ گیا۔)
عشال ہنستے ہوئے بولی،
اتنی محبت کرتے ہیں جیج ان سے، پریشان تو ہوں گے ہی۔
صفیہ بیگم نے تسلی دی،
ارے بیٹا، پریشان نہ ہو۔ وہ بالکل ٹھیک ہے۔
اچھا، پھر وہ کب آئے گی؟ اسوان نے پوچھا۔
عشال نے چونک کر کہا،
آپ کو آپی نے نہیں بتایا؟ کہ وہ کب واپس جائیں گی؟
اسوان نے نفی میں سر ہلایا۔
اچھا، پھر میں کل لینے آ جاؤں گا۔
نہیں، عشال فوراً بولی،
کل تو آپی نے اپنی دوستوں کو گھر بلایا ہے۔ کل تو وہ نہیں جائیں گی۔ اور پرسوں وہ پھپھو کے گھر جا رہی ہیں۔ پھر تایا کے گھر بھی جانا ہے، ان کے پاس تو وقت ہی نہیں ہے۔
صفیہ بیگم نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
یہ لڑکی بالکل پاگل ہے۔ ابھی آئی ہے تو ہمارے ساتھ وقت گزارے، مگر نہیں، جو جی میں آتا ہے، وہیں کرتی ہے،
راؤف صاحب نے نرمی سے کہا،
تو کرنے دو نا۔ اب دل چاہ رہا ہوگا سب سے ملنے کا۔
اسوان کے اندر اس وقت پریشے کے لیے شدید غصہ اُبھر رہا تھا، مگر وہ خاموشی سے سب ضبط کیے بیٹھا رہا۔
عشال نے پھر کہا،
آپ جمعہ کو آ جائیے گا آپی کو لینے۔
اسوان نے یہ سنا تو اسے پریشے کی بات یاد آ گئی،
جمعہ کو واپس آؤں گی۔۔۔اور وہ دل ہی دل میں کھول کر رہ گیا۔
راؤف صاحب مسکرا دیے۔
پورا پلان بنا کر آئی ہے وہ۔ اب تو بیٹا، جمعہ سے پہلے تمہارے ساتھ جانا ناممکن ہے۔
صفیہ بیگم نے شکوے سے کہا،
عجیب لڑکی ہے۔ بیٹا، اس نے تمہیں بتایا نہیں کہ کب واپس جائے گی؟
چھوڑو، راؤف صاحب نے کہا، بھول گئی ہو گی۔
آپ بس اپنی بیٹی کی ہی سائیڈ لیتے رہیں، صفیہ بیگم بولیں۔ بڑی ہو رہی ہے مگر ذمہ داری نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔
اسوان نے گہری سانس لے کر کہا،
اچھا، رہنے دیں۔ میں جمعہ کو آ جاؤں گا اسے لینے۔
راؤف صاحب ہلکا سا ہنسے۔
آنا ہی پڑے گا، بیٹا۔ وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ جو کہہ دیا، سو کہہ دیا، بہت ضدی لڑکی ہے۔
صفیہ بیگم نے فوراً کہا،
اپنے ہی تو اسے اتنا ضدی بنایا ہے۔
اور اسوان… خاموشی سے مسکراتا رہا، مگر دل کے اندر غصہ اور بےبسی دونوں ایک ساتھ پل رہے تھے۔۔۔
++++++++++++
اسوان کے جانے کے بعد عشال سیدھی اپنے کمرے میں آ گئی۔
دروازہ بند کرتے ہی اس نے گہری سانس لی۔
چلے گئے اسوان جیجو…
پریشے بیڈ کے کنارے بیٹھی ہوئی تھی۔
اس نے اطمینان سے کہا،
شکریہ۔
عشال نے اس کی طرف دیکھا۔
گھر نہیں جانا تھا تو ویسے ہی جا کر انہیں بتا دیتیں۔ مجھ سے جھوٹ بلوانے کی کیا ضرورت تھی؟
پریشے نے کندھے اچکائے،
وہ بھی میری طرح ہی بہت ضدی ہیں نا…اسی لیے۔۔
عشال ہلکا سا مسکرائی۔
دیکھ لیں، بچا لیا میں نے۔ اب میرا انعام تو بنتا ہے۔
ہاں ہاں، ملے گا، ملے گا انعام، پریشے نے ہنستے ہوئے کہا۔اچھا یہ بتاؤ، جو میں نے کہا تھا… اُنہیں کہا وہ سب ؟؟
عشال نے فوراً جواب دیا، ہاں، بول دیا۔ اب وہ جمعہ سے پہلے آنے والے نہیں ہیں۔
پریشے نے سکھ کا سانس لیا۔ شکر ہے۔
عشال نے اسے غور سے دیکھا۔
ویسے آپ کو گھر کیوں نہیں جانا؟
پریشے ذرا سنجیدہ ہو گئی۔
یار، ویسے ہی ابھی آئی ہوں۔ دل چاہ رہا ہے کچھ دن اور یہیں رہوں۔ اور پھر یونیورسٹی بھی جانا ہے،
اور پاپا کو اسپتال بھی لے کر جانا ہے۔
عشال چونک پڑی۔
پاپا کو اسپتال کیوں؟
بس ایسے ہی، پریشے نے نرمی سے کہا۔
چیکنگ کروانی ہے کہ واقعی بہتری آئی ہے یا نہیں۔
عشال نے فوراً کہا،
چلیں ٹھیک ہے، میں بھی ساتھ چلوں گی۔
پریشے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
ہاں، ٹھیک ہے۔ چلنا۔
++++++++++++
ڈرائنگ روم میں سب لوگ جمع تھے۔
باتوں کا رخ اچانک اس طرف مڑ گیا جس کا سب کو انتظار تھا۔
رضیہ بیگم نے فیصلہ کن انداز میں کہا،
بس، بہت دن ضائع ہو گئے۔ اب آنے والے، ہفتہ کے دن زیدان اور کائنات کا ولیمہ ہے۔
یہ کہتے ہوئے وہ فیضان صاحب کی طرف مڑیں۔
ہال مل گیا ہے نا؟ ہفتے کا؟
جی امّاں، فیضان صاحب نے فوراً جواب دیا،
آپ لوگ اپنی تیاریاں شروع کر دیں۔
حریم پھپو مسکراتے ہوئے بولیں،
تیاری تو ہماری آتے ساتھ شروع ہوگئی تھی۔۔۔
عائشہ بیگم نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
بس جو رہ گیا ہے، وہ بھی جلدی نمٹا لیں گے۔
عدنان صاحب نے کہا،
لیکن زیدان کے ولیمے میں آپ لوگوں نے خاصی دیر لگا دی۔
رضیہ بیگم فوراً بول اٹھیں،
ارے بس ہاں رہنے دے اب۔۔ پہلے حریم کا انتظار کرتے رہے، پھر زرتاشہ کا ولیمہ بیچ میں آ گیا، پھر کائنات کے پیپر ختم ہونے کا انتظار اور اوپر سے ہال بھی وقت پر نہیں ملتا۔
زینب بیگم نے نرمی سے بات سنبھالی،
خیر ہے، کوئی بات نہیں۔
اب سب کام اچھے طریقے سے ہو جائیں گے نا۔
ہاں ہاں، راضیہ بیگم نے ہاتھ کے اشارے سے کہا،
بس تم سب بازاروں کے چکر لگاؤ
اور اپنی تیاریاں جلد سے جلد پوری کرو۔
عائشہ بیگم نے اسوان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
اسوان، تم جا کر زیدان سے کہہ دو اُسے مال لے جاؤ۔۔ اُس کی شاپنگ کروا دو۔۔۔ اور کائنات کو ہم اپنے ساتھ لے جائیں گے، انہوں نے بات مکمل کی۔
حریم پھپو نے فوراً سوال داغا،
اور وہ دلہن؟ وہ تو اپنے گھر گئی ہوئی ہے نا رہنے؟
اسوان نے سادگی سے جواب دیا،
ابھی تو شادیوں میں اسے اتنے سوٹ ملے ہیں
کہ اس کی شاپنگ کا کوئی مسئلہ نہیں۔
عائشہ بیگم مطمئن ہو گئیں۔
چلو پھر، یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوا۔
ڈرائنگ روم میں ایک بار پھر چہل پہل لوٹ آئی۔۔
ولیما نزدیک تھا، اور اس گھر میں تیزی سے تیاریاں شروع ہوچکی تھی۔۔۔
++++++++++++
رات کے وقت پری اچانک اسوان کے کمرے میں آ گئی۔
ارے پری، آؤ، اسوان نے مسکرا کر کہا۔
پری اندر آئی اور پوچھا، وہ کہاں ہیں؟
کون؟ اسوان نے چونک کر کہا۔۔۔ ماما؟
پری نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ اپنے گھر گئی ہیں، اسوان نے جواب دیا۔
تو ابھی تک آئیں نہیں؟ پری نے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ تم چاہتی ہو وہ جلدی آ جائیں؟
نہیں۔۔۔ پری نے فوراً کہا۔
مجھے کیا ہے… میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔
جب بھی آئیں۔۔۔ آیا یہ با آیا۔۔۔ یا اللہ کرے آئیں ہی نہ۔
اسوان نے فوراً ٹوکا۔ پری! ایسے نہیں کہتے۔ اللہ سن لیتا ہے۔۔۔
یار بابا۔۔۔۔ پری نے منہ بنایا۔ آپ کو میری زیادہ فکر نہیں، اُن کی زیادہ فکر ہے۔
ایسا نہیں ہے، اسوان نے نرمی سے کہا۔ ادھر آؤ۔
پری اس کے قریب آ گئی۔
اسوان نے اُسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔
تم تو اپنے بابا کی جان ہو، میری شہزادی ہو۔
تمہاری جگہ کوئی اور کیسے لے سکتا ہے بھلا؟
پری نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا، اور وہ…؟
وہ تمہاری ماما ہیں۔ اسوان نے مُسکرا کے بولا۔۔
اُفف… پری نے بیزاری سے سر ہلایا۔۔۔ میں یہیں سو جاؤں؟
ہاں، سو جاؤ۔
پری اسوان کی گود سے اُتر کر اس کے برابر لیٹ گئی۔
کچھ دیر بعد اسوان نے کہا،
چاچو کا ولیمہ ہے۔
پری چونک گئی۔ زیدان کا؟
ہاں۔ اور مجھے اس وقت اُس پر شدید غصہ آ رہا ہے۔
کیوں بابا؟
اسے اس وقت یہاں ہونا چاہیے تھا۔
وہ تمہاری شاپنگ کرتی، اپنی کرتی، میری کرتی،
ہم سب مل کر شاپنگ کرتے۔
تو آپ لے آئیں نا اُنہیں، پری نے سادگی سے کہا۔
میں گیا تھا، اسوان نے آہستہ کہا۔ وہ گھر پر نہیں تھیں۔ کہتی ہیں جمعہ کو آؤں گی۔ مگر میں جانتا ہوں، وہ ہم سے بھاگ رہی ہیں۔ اصل میں وہ آنا ہی نہیں چاہتی۔۔ لیکن میں پھر بھی اُسے لے آؤنگا۔۔۔
نہیں بابا، پری نے فوراً کہا۔ وہ ہم سے نہیں بھاگتیں۔
نہ آپ سے، نہ مجھ سے۔ اس نے سر جھکا لیا۔
میں نے بہت کوشش کی ہے۔ میں نے اُنہیں بہت باتیں سنائی ہیں۔ تاکہ وہ چلی جائیں، ہماری زندگیوں سے نکل جائیں، کہیں بھاگ جائیں… مگر وہ بھاگتی ہی نہیں۔ ہمیں چھوڑ کر جاتی ہی نہیں۔۔۔۔
اسوان سنجیدہ ہو گیا۔ پری… تم نے اُن سے الٹا سیدھا کہا ہے؟
ہاں۔۔۔۔ پری نے صاف صاف کہا۔ مجھے اُنہیں دیکھ کر غصہ آتا ہے۔
پھر میں نے تمہیں سمجھایا تھا نا؟ اسوان نے نرمی سے پوچھا۔ بھول گئی…؟؟
ہاں، پری نے آہستہ کہا۔ میں انہیں نقصان تو نہیں پہنچاتی۔
نقصان نہیں… مگر دل دکھاتی ہو؟ اسوان نے دھیرے سے کہا
پری چونک گئی۔ بابا…
میری بات مانو، پری، اسوان نے گہری آواز میں کہا۔
صرف ایک بار۔۔ بس ایک بار انہیں اپنی ماما سمجھ کر دیکھو۔ اگر آج تمہاری اپنی ماما ہوتیں،
تو کیا تم اُن کے بارے میں بھی ایسا ہی سوچتیں
جیسا پریشے کے بارے میں سوچتی ہو؟
پری کی آواز بھر آئی۔
بابا… یہی تو بات ہے۔۔۔۔وہ میری سگی ماما نہیں ہیں۔
وہ مجھ سے محبت کیسے کر سکتی ہیں؟
مجھے اپنی بیٹی کیسے مان سکتی ہیں؟
اسوان نے آہستہ سے کہا،
سگی ماں نے کون سی تم سے محبت کر لی تھی؟
پری اُسے دیکھتی رہ گئی۔ الفاظ اس کے پاس نہیں تھے۔ واقعی اُس کی سگی ماں نے تو اُسے پیدا کرتے ہی چھوڑ دیا تھا۔۔۔
اچھا چھوڑو، اسوان نے بات بدلی۔
اگر یاد آ رہی ہے تو ہم اُس کو کال کر لیتے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے اسوان نے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا۔
لیکن مجھے یاد نہیں آ رہی… پری نے آہستہ سے کہا۔
مگر اسوان نے پھر بھی کال ملا دی۔۔۔۔اور فون اسپیکر پر کر دیا۔۔
پہلی ہی بیل پر کال اٹھا لی گئی،
اور فوراً پریشے کی آواز آئی
اگر آپ مجھے پر غصے کرنے اور واپس آنے کا کہنے کے لیے کر رہے ہیں، تو براہِ کرم پریشے اس وقت بہت مصروف ہے۔۔۔۔
اس کی آواز سنتے ہی اسوان بےاختیار مسکرایا۔۔۔
ویسے تو مجھے بہت غصہ آ رہا ہے، اس نے کہا،
مگر فی الحال تمہاری بیٹی کو تمہاری بہت یاد آ رہی ہے۔
جیسے ہی اسوان نے تمہاری بیٹی کہا،
پری نے فوراً اسوان کا چہرہ دیکھا۔۔۔۔ حیرت، الجھن، چہرے پر دار ائی۔۔۔ مگر وہ خاموش رہی۔
وہ پریشے کا جواب سننا چاہتی تھی۔
فون پر پریشے کی آواز آئی
ہائے اللہ!۔میں کہیں خوشی سے مر ہی نہ جاؤں
کہ میری بیٹی نے مجھے یاد کیا۔۔۔
اوہ گاڈ۔۔۔
مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا۔
اسوان مسکرایا اور پری کی طرف دیکھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہا ہو۔۔۔ دیکھو، یہ ہے تمہاری ماما۔
پھر ہلکے سے بولا، یہ یہیں میرے ساتھ بیٹھی ہے۔
خود پوچھ لو۔
فون سے پریشے کی آواز آئی ۔۔
پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟
جبکہ مجھے جواب پہلے سے ہی معلوم ہے۔
پری حیران ہوئی۔۔۔۔مگر خاموش رہی۔
اور کیا ہے وہ جواب؟ اسوان نے پوچھا۔
پریشے کی آواز آئی میرے پوچھنے پر وہ کہے گی۔۔۔
ہاں بھلا، میں کیوں آپ کو یاد کرنے لگی؟
اتنے برے دن نہیں آئے ابھی میرے، کہ میں آپ کو یاد کروں۔ میری بلا سے آپ آئیں یا نہ آئیں۔
یا اللہ کرے آئیں ہی نہ۔ مجھے کیا ہے۔۔۔۔
جملہ مکمل ہوا اور اسوان اور پری دونوں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ لیا۔
یہی جملہ… بالکل یہی لفظ…
ابھی کچھ دیر پہلے پری نے بھی تو یہی کہا تھا۔
پری نے بےچینی سے اپنے ہاتھ مروڑے۔
دل جیسے کسی ان دیکھے خوف سے بھرنے لگا تھا۔
کیا واقعی پریشے اس کے دل کی بات سن لیتی تھی؟
دوسری طرف سے پریشے کی آواز دوبارہ آئی،
ارے کیا ہوا…؟ باپ بیٹی سو گئے کیا؟
اسوان چونکا۔ نہیں… نہیں۔
تو پھر بولیں نا، میں دیواروں سے باتیں کروں کیا؟
پری کہاں ہے؟ سو گئی کیا؟ میری باتیں سن رہی ہے کیا؟
ہاں، سن رہی ہے… بولو۔ اسوان نے کہا۔
پریشے کی آواز میں شوخی گھل گئی۔ تم بولو گی تو میں کل ہی آ جاؤں گی… لیکن میں جانتی ہوں، تم نہیں بولو گی۔۔۔اسی لیے میں جمعے کو ہی آؤں گی۔
اسوان نے آہ بھری۔ اور میں؟ میں جو کہہ رہا ہوں واپس آنے کے لیے؟
آپ کی کون سنتا ہے بھلا؟ وہ ہنسی، ہلکی سی بےفکری کے ساتھ۔
اسوان کو محسوس ہوا وہ اپنے گھر میں زیادہ خوش اور مطمئن لگ رہی ہے۔۔۔۔
زیدان کا ولیمہ ہے۔
کب رکھا گیا ہے؟ پریشے نے فوراً پوچھا۔
ہفتے کو۔ اسوان نے بتایا۔۔۔
شکر ہے… وہ مطمئن ہوئی۔ جمعے تک تو میں آ ہی جاؤں گی۔
کل آ جاؤ نا۔ اسوان نے پھر کہا۔
نہیں… اس نے صاف انکار کر دیا۔ اب باپ بیٹی سو جائیں، اور مجھے بھی سونے دیں۔
اسوان نے فون ہاتھ میں لیے پری کی طرف دیکھا۔
بولو گی نہیں کچھ، پری؟
دوسری طرف سے پریشے فوراً بولی،
گڈ نائٹ ہی بول دو، پھر مجھے نیند اچھی آئے گی۔
پری نے خفکی سے کہا
مجھے نیند آ رہی ہے، میں سونے جا رہی ہوں… گڈ نائٹ۔ یہ کہتے ہی وہ کمبل میں گھس گئی۔
اسوان مسکرا دیا۔ سو گئی… پھر فون میں بولا،
تم بھی اب سو جاؤ۔ گڈ نائٹ۔
اللہ حافظ، گڈ نائٹ… پریشے نے کہا۔
اور کال کٹ گئی۔۔۔۔
+++++++++++
زرتاشہ ابھی نیند سے جاگ کر کمرے سے نکلی ہی تھی کہ
سائرہ بیگم نے اُسے ٹوک لیا۔
اب تو تمہارا ولیمہ بھی ہو چکا ہے،
اُن کے لہجے میں نرمی کم اور تاکید زیادہ تھی،
اور کچن میں بھی تمہارا آنا جانا شروع ہو گیا ہے،
تو اب اپنی ذمہ داریوں پر دھیان دینا بھی سیکھ لو۔
زرتاشہ ٹھٹکی۔
کیسی ذمہ داری؟
سائرہ بیگم نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
صبح اُٹھو، ہادی کو ناشتہ دو، اُسے اسپتال بھیجو۔
وہ اسپتال سے کب آتا ہے، اُسے کھانا وقت پر ملنا چاہیے۔
ایک لمحہ رُکیں، پھر گویا ہوئیں،
میں تم سے یہ نہیں کہہ رہی کہ خود کھانا بناؤ،
لیکن کچن سے نکل کر سارا کام صرف ملازمہ کے حوالے بھی مت کر دو۔ اس سے کام کرواؤ، مگر خود پیچھے پیچھے موجود رہو۔
یہ سب کام اگر ملازمہ ہی کرے گی تو تم کیا کرو گی؟
زرتاشہ نے آہستہ سے سر ہلایا۔
اچھا…
سائرہ بیگم نے تاکید جاری رکھی،
سمجھ آ گئی نا میری بات؟
اب کل سے ہادی کے ساتھ ہی اُٹھا کرو۔
بس ہادی کے ٹائم شیڈول کے مطابق خود کو ڈھال لو،
تو سب کے لیے بہتر رہے گا۔
زرتاشہ نے نظریں جھکا لیں۔
جی… ٹھیک ہے، آپ فکر نہ کریں۔
++++++++++++
کائنات ناشتہ لے کر کمرے میں آئی۔
زیدان نے پلیٹ دیکھتے ہی سر اٹھایا اور تیز نظروں سے اُسے گھورا۔
کیا میں نے ناشتہ مانا تھا؟ مُجھے نہیں کرنا ہے لے جاؤ۔۔۔
کائنات نے سکون سے پلیٹ سامنے رکھی۔
آپ اس وقت ناشتہ ہی کرتے ہیں۔
نہیں، مجھے ضرورت نہیں۔ لے جاؤ۔ وہ سرد لہجے میں بولا۔
کائنات کو ایک دم غصّہ آیا۔۔اور وہ غصے میں بولی۔۔۔
تھپڑ مار دوں گی میں…
زیدان چونکا۔ کیا؟
یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے آپ نے؟
اُس کی آواز میں غصہ بھی تھا اور فکر بھی۔
کل صبح سے نہ ناشتہ کیا، نہ دوپہر کا کھانا، نہ رات کا۔ ایسے کیسے چلے گا؟
تمہیں اب میرے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
زیدان نے منہ موڑ لیا۔
کیوں؟ کائنات نے فوراً کہا۔
میں نہیں کروں گی تو کون کرے گا؟
کسی اور کے ہاتھ کا کام تو آپ کو پسند ہی نہیں آتا۔
تو چھوڑ دو مجھے۔ میرے حال پر۔۔۔
تمہیں میری اتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
وہ سب میں نے آپ کو نہیں کہا تھا۔
بس اب تمہیں میری خدمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس نے بات ختم کرنے کے انداز میں کہا۔
کائنات ایک لمحے کو رُکی، پھر اچانک بولی،
اچھا، یہ بتائیں…
آپ نے مجھے جان سے کیوں نہیں مار دیا؟
اگر میں آپ کا کام نہ کرتی تو آپ مجھے مار دیتے نا؟
زیدان نے فوراً کہا، نہیں، بالکل نہیں۔
کیوں؟ کائنات نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
آپ کو تو اپنے قریب کسی کا وجود برداشت نہیں ہے نا؟ پھر مجھے کیوں نہیں مارا؟
زیدان کے لبوں پر عجیب سی مسکراہٹ آئی۔
میں نے سوچا تم خود ہی اپنی جان لے لو گی۔
لیکن ماشاءاللہ، وہ بھی نہیں لے پائیں تم۔
اچھا، میں جا رہی ہوں۔ وہ پلٹ گئی۔
کہاں؟ زیدان چونکا
چھت سے کودنے… وہ غصے میں بولی۔۔۔
زیدان ہنس پڑا۔ کود جاؤ گی؟
کائنات غصے سے مڑی، تیزی سے واپس آئی اور بولی،
آپ ناشتہ کر رہے ہیں یا نہیں؟
اور خبردار! آئندہ کوئی ڈرامہ کیا تو۔۔۔
اُس نے انگلی اٹھا کر وارن کیا۔
اور نہ ہی مجھ پر غصہ کریں گے،
نہ مجھے کمرے سے باہر نکالیں گے،
اور نہ ہی کبھی ‘دفع ہو جاؤ’ کہیں گے۔
بولا تو۔۔۔۔۔
بولا تو؟ زیدان اُس کی طرف دیکھتے پوچھا۔۔
تو میں بھی کہوں گی۔۔ آپ کو دفع ہو جائیں۔۔۔
پھر اچھا لگے گا آپ کو؟ ہاں؟ وہ غصے سے بولی۔۔
ہاں، لگے گا… وہ سر جھکائے مُسکراتا بولا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ پھر میں بھی کہوں گی۔۔ کائنات نے سنجیدگی سے کہا۔
ارے نہیں، نہیں… زیدان فوراً سنبھلا۔ سر اٹھایا۔۔۔
نہیں بولوں گا اب۔
گُڈ… کائنات نے فاتحانہ انداز میں کہا۔
اور تم بھی ایسی ویسی باتیں کر کے مجھے غصہ نہیں دلاؤ گی۔
نہیں، میں تو دلاؤں گی۔ آپ کو غصہ نہیں کرنا، بس۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی؟
اب مجھے کیا پتا، آپ کو کب کس بات پر غصہ آ جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو بلاوجہ ہی آ جاتا ہے۔ بلاوجہ چیختے چلاتے ہیں۔۔۔
کیا مطلب؟
میں بلاوجہ غصہ کرتا ہوں؟ زیدان نے ناگواری سے کہا
کیا ایسا نہیں ہے؟
زیدان نے مسکرا کر اعتراف کیا۔ ہے تو…
تو پھر… کائنات نے پلیٹ اس کے قریب سرکائی۔
اب چپ چاپ ناشتہ کریں۔
تم نے ناشتہ کر لیا؟ زیدان ناشتے کی پلٹ سے پراٹھا توڑتے بولا۔۔۔
ہاں، کب کا۔ میں آپ سے پہلے اُٹھ جاتی ہوں۔
تو کیا اب میں بھی جلدی اُٹھوں؟
نہیں نہیں… وہ فوراً بولی۔
میری صبح خراب کرنے کی ضرورت نہیں۔
جیسے اُٹھتے ہیں، ویسے ہی اُٹھا کریں۔
زیدان نے ناشتے کا پہلے لقمہ لیا۔۔۔
اور کائنات نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔۔۔۔
++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
