تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۳
پریشے پرنسپل میم کے سامنے بیٹھی تھی۔
ہاتھ آپس میں الجھے ہوئے تھے آنکھوں میں نمی سی ٹھہر رہی تھی۔۔۔
میم… آپ میری بات سمجھ رہی ہیں نا؟
اُس کی آواز دھیمی تھی مگر لرز رہی تھی۔
میں کیا کروں؟ میرا شوہر… وہ بہت ٹاکسک ہیں۔
وہ مجھے پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے۔
اور دھمکاتے ہیں اتنا کہ… طلاق لینے بھی نہیں دیتے۔
اُس نے لمحہ بھر کو توقف کیا۔
میم، میں بہت پریشان ہوں۔
اوپر سے میرے والدین بھی ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ میں کوئی مضبوط اسٹینڈ لے سکوں…
پرنسپل میم نے اُسے غور سے دیکھا۔
تو آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں، مس پریشے؟
کیا میں آپ کے لیے اسٹینڈ لوں؟
پریشے فوراً گھبرا گئی۔
نہیں نہیں میم، ایسا کچھ نہیں۔ بس… بس آپ میری مدد کر دیں میری اسٹڈیز مکمل کرنے میں۔
وہ کیسے؟ پرنسپل میم نے نرمی سے پوچھا۔
پریشے نے گہرا سانس لیا، جیسے ہمت جمع کر رہی ہو۔
میں پڑھنا چاہتی ہوں، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں۔ تبھی میں اپنے شوہر کے خلاف کھڑی ہو سکوں گی۔ اگر میری پڑھائی بیچ میں رک گئی تو میرا کیریئر تباہ ہو جائے گا۔ اور پھر مجھے ساری زندگی
اسی ٹاکسک رشتے میں گزارنی پڑے گی۔
آپ سمجھ رہی ہیں نا، میم؟
پرنسپل میم کے لہجے میں اب سنجیدگی آ گئی تھی۔
آپ بتائیں، میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟
بس… پریشے کی آواز میں التجا شامل ہو گئی۔
مجھے اجازت دے دیں کہ میں یونیورسٹی تھوڑی لیٹ آ جایا کروں۔۔۔ اور تھوڑا جلدی چلی جایا کروں۔
میرے شوہر نو بجے دفتر چلے جاتے ہیں،
میں نو پندرہ پر یونی آ جاؤں گی۔
اور وہ ایک بجے واپس آ جاتے ہیں،
تو میں بارہ پینتالیس پر یہاں سے نکل جاؤں گی۔
میم، پلیز…
پرنسپل میم نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا۔
تو آپ اپنے شوہر سے چھپ کر پڑھائی مکمل کریں گی؟
پریشے نے آہستہ سے سر ہلایا۔
یس میم۔۔۔ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
پرنسپل میم نے کرسی سے ٹیک لگائی۔
اوکے، میں سمجھ گئی ہوں۔
ویسے تو میں یونیورسٹی کے رولز تبدیل نہیں کر سکتی، لیکن آپ کی صورتحال ایسی ہے کہ میں آپ کو اجازت دے دیتی ہوں۔ مگر ایک وعدہ کرنا ہوگا۔
پریشے کی آنکھوں میں اُمید جاگ اٹھی۔
جی، میم؟
کچھ بھی ہو جائے،
آپ اپنی پڑھائی مکمل کریں گی۔
یس میم تھینک یو سو مچ۔۔۔ پریشے کی آواز بھر آئی۔
پرنسپل میم نے ہمدردی سے کہا،
اگر ہو سکے تو اپنے شوہر سے طلاق لے لیں۔
چاہیں تو میں اس میں بھی آپ کی مدد کر سکتی ہوں۔
پریشے نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں میم، بس یہ کافی ہے۔
ایک دفعہ میری پڑھائی مکمل ہو جائے،
پھر میں خود اپنے شوہر کے خلاف اسٹینڈ لے سکوں گی۔
پرنسپل میم نے آخری سوال کیا،
اور فیس کا کیا ہوگا؟ آپ کے شوہر کو شک نہیں ہوگا؟
پریشے نے خود کو سنبھالا۔
نہیں میم، وہ میں مینیج کر لوں گی۔ میرے شوہر بزنس مین ہیں تو میں تھوڑے تھوڑے پیسے اُن سے بچا کر جمع کرلوگی۔۔۔ جس کے ذریعہ میں آرام سے فیس دے سکوں گی۔۔۔
اوکے… پرنسپل میم نے کہا۔
پریشے کھڑی ہوئی۔
تھینک یو سو مچ میم، مجھے سمجھنے کے لیے…
پرنسپل میم نے جاتے جاتے پوچھا،
آپ اس طرح پڑھ تو لیں گی نا؟
پریشے کے چہرے پر پہلی بار اعتماد اُبھرا۔
جی میم، بالکل۔
میری پڑھائی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،
بلکہ اور بہتر ہو جائے گی۔
یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکلی تو
اُس کے قدم اب بھی ڈگمگا رہے تھے،
مگر دل میں ایک فیصلہ مضبوطی سے جڑ چکا تھا۔۔۔
باہر قدم رکھتے ہی ہانیہ نے اُسے بازو سے پکڑ لیا۔
آنکھوں میں تجسس بھی تھا اور فکر بھی۔
تو پچھلے دو گھنٹے سے پرنسپل روم میں کیا کر رہی تھی؟
پریشے کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
بس یار… اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ بنا رہی تھی۔
ہانیہ نے چونک کر پوچھا، اور… راستہ بن گیا؟
ہاں… پریشے نے اعتماد سے کہا۔
پریشے رؤف اپنے ارادے سے کبھی پیچھے ہٹی ہے؟
پاپا یونہی تو نہیں کہتے…
پریشے کی کہی ہوئی بات پتھر پر لکیر ہوتی ہے۔
ہانیہ نے آنکھیں گھما دیں۔
کیا بک رہی ہے؟ ایسا بھی کیا کر دیا ہے؟
پریشے نے ہاتھ پکڑ کر اُسے بینچ پر بٹھایا۔
بیٹھ… پورا سین بتاتی ہوں۔ روک۔۔۔
جب پریشے نے ساری بات تفصیل سے سنا دی تو
ہانیہ اُسے حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔
تو… اس سب کے باوجود اُس شخص کے ساتھ رہ رہی ہے؟
پریشے کی آواز فوراً مدھم ہو گئی۔
اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ پاپا کی کنڈیشن نہیں دیکھ رہی؟
ہانیہ نے بےچینی سے کہا،
جو بھی ہے، یہ تمہارے لیے کوئی چھوٹی بات نہیں۔
تم چاہو تو اس سب سے نکل سکتی ہو۔
پریشے نے سر ہلا دیا۔
نہیں نکل سکتی یار… پاپا ایک دفعہ ٹھیک ہو جائیں،
پھر دیکھوں گی۔
ہانیہ نے چونک کر پوچھا،
یار، تو اب اُس کی بچی کو پالے گی؟
ہاں… پریشے کے لبوں پر بے اختیار نرمی آ گئی۔
اور تجھے پتا ہے؟ اُس کا نام بھی میرے نام سے ملتا جلتا ہے۔ پریشے… پری واش… بالکل میری جیسی، کیوٹ سی…
ہانیہ نے ایک اُس کے سر پر لگتے ہوئے کہا
ابے، اپنے دماغ کا علاج کروا لے۔۔۔
پریشے ہنس پڑی۔
ارے چھوڑ یار… جانے دے۔ بس میں نے پرنسپل میم سے بات کر لی ہے۔ اب تُو بھی نوٹس وغیرہ میں میری مدد کر دینا۔
ہانیہ نے پھر کہا، تو اُسے چھوڑ دے نا۔
کہا نا، نہیں چھوڑ سکتی… پریشے نے آہستہ سے کہا۔
پاپا والی بات تو بتائی ہے نا…
ہانیہ کی آواز تلخ ہو گئی۔ تو کبھی نہیں چھوڑے گی اُسے؟
پریشے نے خلا میں دیکھتے ہوئے کہا،
تجھے پتا ہے، میں کبھی اپنی قسمت پر رشک کیا کرتی تھی…
سوچتی تھی کہ کسی عام سی لڑکی کے لیے
کوئی شہزادہ کیسے آسکتا ہے۔۔۔
وہ مسکرائی، مگر دل بے حد دکھا ہُوا تھا۔
مگر سچ یہ ہے کہ
عام لڑکیوں کے لیے شہزادے نہیں آتے۔
جو آ بھی جائیں…
وہ شہزادے نہیں، درندے ہوتے ہیں۔
ہانیہ نے آہستہ سے کہا،
تو اس درندے کو چھوڑ دے نا…
پریشے نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں چھوڑ سکتی۔
کچھ اُس کی دھمکیوں نے ہاتھ باندھ رکھے ہیں…
اور کچھ دل اور دماغ
اُس کی محبت میں قید ہیں۔
ہانیہ چونک گئی۔
کیا؟
پریشے کی آواز ٹوٹ گئی۔
اُس نے مجھے پاگل کر رکھا ہے یار…
نہ اُسے چھوڑ سکتی ہوں،
نہ اُس کے ساتھ رہ سکتی ہوں…
ہانیہ نے اُسے گھور کر دیکھا، پھر نیم طنزیہ انداز میں بولی،
اب تو اپنے دل کا بھی علاج کروا لے۔
پریشے کے ہونٹوں پر اداس سی مسکراہٹ آ گئی۔
وہ نہیں کر رہا نا…
ہانیہ چونکی۔ کون؟
اسوان… پریشے نے شررات سے مُسکرا کر کہا
اور ہانیہ یہ سنتے ہی ٹاپ گئی۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے ہانیہ نے پاس پڑا بیگ اٹھایا اور اُس کی طرف جھپٹی۔
ابے۔۔۔۔
وہ اُسے مارنے کے انداز میں لپکی تو پریشے ہنستے ہوئے فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی اور بھاگنے لگی۔
ارے سن! پاؤں ٹوٹا ہوا ہے میرا۔۔۔۔
ہانیہ پیچھے سے چلّائی،
اچھا ہے۔۔۔ اور توڑاوا اُس کے پاس رہ کر اپنا پاؤں۔۔۔
وہ اُس کے پیچھے لپکی، اور پريشے بھاگی۔۔۔۔
+++++++++++++
حریم پھپھو جس اِرادے کے لیے یہاں آئی تھیں، وہ اِرادہ اب پورا ہونے کے قریب تھا۔۔۔۔
۱۵ جنوری کو زیدان اور کائنات کے ولیمے کی تاریخ طے ہو چکی تھی، اور اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ کائنات کے پیپرز مکمل ہونے کے بعد ہی ولیمہ رکھا جائے۔
اب پیپر ختم ہوئے بھی کافی دن گزر چکے تھے، اور ولیمے میں محض چار پانچ دن باقی رہ گئے تھے۔
گھر میں ہر طرف تیاریوں کا شور تھا۔
دلہن اور دولہا کے سوا، تقریباً سب کی تیاری مکمل ہو چکی تھی۔
نئے کپڑے، نئے جوتے، زیورات… سب کچھ خریدا جا چکا تھا۔
عائشہ بیگم نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا،
اماں، اب زیدان کو بھی ولیمے کے بارے میں ٹھیک طرح سے بتا دینا چاہیے۔
رضیہ بیگم نے آہستہ سے جواب دیا،
اے، ہم نے ذکر تو کیا ہے اُس سے، مگر اس نے خاص دھیان نہیں دیا۔
عائشہ بیگم نے ماتھے پر بل ڈالے،
بتا دیں تاکہ وہ بھی اپنے کپڑے وغیرہ لے لے۔
زینب بیگم فوراً بولیں،
اسے کیا بتانا؟ اس کی بیوی کو بتاؤ، وہ جا کر اس سے کہے۔ یا اسوان سے کہو۔
حریم پھپھو نے تائید کی،
ہاں، اور کائنات کو بھی ساتھ لے کر چلے مارکیٹ۔ بیچاری کی تو ابھی تک شاپنگ ہی نہیں ہوئی۔
عائشہ بیگم نے سر ہلایا،
ہاں، آج شام کو لے چلتے ہیں، پھر اسے بھی۔
عائشہ بیگم نے زارا اور دعا کی طرف دیکھ کر پوچھا،
باقی سب کا سب کچھ ہو گیا ہے نا؟
زارا فوراً بولی،
ہاں، میرا تو کمپلیٹ ہے۔
دعا نے سادہ انگریزی میں کہا،
Mine too.
(میرا بھی )
دائم نے مسکرا کر کہا،
میرا تو پہلے ہی ہو گیا تھا۔
عائشہ بیگم نے کہا،
بس ٹھیک ہے، کائنات آ جائے تو اس سے بھی پوچھ لوں گی۔
سب ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ کر رہے تھے کہ اتنے میں اسوان بھی تیار ہو کر نیچے آ گیا۔
پری فوراً بولی،
بابا، آج آپ آفس سے جلدی آ جانا۔
اسوان نے چونک کر پوچھا،
کیوں؟
پری نے معصومیت سے کہا،
مجھے شاپنگ پر جانا ہے۔
اسوان نے یاد دلاتے ہوئے کہا،
تم نے فراک تو لے لی تھی نا؟
پری نے منہ بنایا،
فراک لی تھی، مگر سینڈل تو نہیں لیے۔
اسوان کچھ لمحے خاموش رہا۔ اس کے ذہن میں آفس کے الجھے ہوئے معاملات گردش کرنے لگے۔ پتا نہیں کون اس کے بزنس کے معاملات میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ مال واپس آ رہے تھے، مارکیٹ میں موجود اسٹاک بھی فروخت نہیں ہو رہا تھا۔ کوالٹی میں کوئی کمی نہیں تھی، پھر بھی نقصان ہو رہا تھا۔ ایسے میں آفس چھوڑنا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔
میں آج بہت بزی ہوں، پری… میں نہیں جا سکوں گا۔
پری نے فوراً ضدی لہجے میں کہا،
بابا… مجھے اب کے ساتھ ہی جانا ہے، مجھے نہیں پتا۔
مجھے آفس میں کام ہے، پری۔۔۔
یہ سنتے ہی پری نے منہ موڑ لیا۔ اور اس کی ناراضی اسوان سے دیکھی نہ گئی۔
اچھا ٹھیک ہے… میں آ جاؤں گا۔
پری کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آ گئی،
ہاں نا، ٹھیک ہے، میں انتظار کروں گی۔۔۔
اسی لمحے کائنات سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئی اور سیدھا کچن کی طرف جانے لگی، کہ عائشہ بیگم کی آواز آئی،
پہلے یہاں آؤ کائنات…؟
جی… وہ رُک کر ان کی طرف مڑی۔
آج شام تیار ہو جانا، ہم مارکیٹ جائیں گے۔ تم اپنے ولیمے کا سوٹ اپنی پسند کا لے لینا۔
کائنات نے فوراً نفی میں سر ہلایا،
نہیں، آپ سب جا کر لے آئیں۔
حریم پھپھو نے حیرانی سے کہا،
کیوں بھئی؟ اپنی پسند کا لو گی نا؟
نہیں… میرا دل نہیں کر رہا۔
دائم نے شوخی سے کہا،
ایسا کیسے؟ ولیمہ تمہارا ہی ہے۔ یار کزن، تھوڑے نخرے تو دکھاؤ۔
کائنات کے ہونٹوں پر ہلکی سی تلخی آئی،
نخرے صرف انہیں دکھانے چاہئیں، جو آپ کے نخرے اٹھاتے ہوں۔۔۔
ابھی اس نے یہ کہا ہی تھا کہ اوپر سے زیدان کی آواز آئی،
میرا ناشتہ؟!
وہ ریلنگ پر کھڑا کائنات کو گھور رہا تھا، جو ناشتہ لانے کے بجائے باتوں میں مصروف تھی۔
کائنات نے اس کی طرف دیکھا، دونوں ہاتھ باندھے اور اسی انداز میں اسے گھورنے لگی۔
اس کے اس بے باک انداز پر زیدان ایک لمحے کو چونک گیا، ک… کیا ہوا؟
میں ناشتہ نہیں لا رہی۔ نیچے آ کر خود کر لیں۔
یہ جملہ ابھی مکمل ہی ہوا تھا کہ ٹیبل پر موجود سب لوگ کائنات کو دیکھنے لگے۔
چھوڑو… میں ناشتہ نہیں کر رہا۔
یہ کہہ کر وہ پلٹا اور واپس کمرے میں چلا گیا۔
کائنات نے ناک سکیڑی،
ہنہ… پھر سب کی طرف دیکھ کر بولی،
آپ لوگ ہی جا کر میرا سوٹ لے آئیں۔
مجھے اپنے شوہر کی خدمت سے فرصت نہیں ملتی۔
یہ کہتے ہوئے وہ کچن کی طرف بڑھ گئی،
اور پیچھے بیٹھے سب لوگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔۔۔
راضیہ بیگم نے بےزاری سے ہاتھ ہلایا،
اے چھوڑ دو اسے… تم لوگ ہی اس کا سوٹ لے آنا۔
عائشہ بیگم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ہاں ٹھیک ہے اماں… اسے واقعی زیدان سے فرصت نہیں ملتی۔ کتنا تنگ کرتا ہے بیچاری کو۔
اسوان نے کچھ سوچتے کہا
نہیں، رہنے دیں۔ ویسے بھی شام کو میں پری کو شاپنگ کرانے لے جا ہی رہا ہوں،
تو اسی وقت زیدان کو بھی کہہ دوں گا۔
پھر زیدان اور کائنات کو بھی ساتھ لے جاؤں گا،
وہ دونوں خود ہی اپنی شاپنگ کر لیں گے۔
عائشہ بیگم نے ہلکا سا سر ہلایا،
ہاں، یہی ٹھیک رہے گا۔
راضیہ بیگم نے بھی بات ختم کرتے ہوئے کہا،
اے صحیح ہے پھر تو ہی لے جانا۔۔۔
+++++++++++++
کائنات ناشتہ لے کر کمرے میں آئی تو زیدان آئینے کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا۔
ناشتہ…
اُس نے ٹرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
نہیں کرنا۔ زیدان نے مختصر جواب دیا۔
کائنات نے ناگواری سے بولی،
آپ کے پھر ڈرامے شروع…
زیدان پلٹ کر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ
اچانک دروازہ ناک ہوا اور اسوان اندر آ گیا۔
شام میں تیار رہنا، زیدان۔
کیوں؟ تمہارا ولیمہ ہے؟ زیدان کنگھی ٹیبل پر رکھتا نے ناگواری سے بولا۔۔۔
نہیں، تمہارا ہے۔ اسوان نے بے حد آرام سے جواب دیا۔۔۔
زیدان چونکا۔ مجھے نہیں کرنا ولیمہ۔
زیدان… اسوان نے اُسے ٹوکا۔
کیا ہے بھائی۔۔۔ زیدان جھنجھلا اٹھا۔
کبھی شادی کر لو، کبھی ولیمہ کر دو…
مجھے اکیلا سکون سے جینے دو۔۔۔
بس، میں نے کہہ دیا ہے۔ شام میں، پانچ بجے تک تیار رہنا۔ اسوان نے حکم کے انداز میں کہا، پھر کائنات کی طرف دیکھ کر بولا،
ہاں، کائنات تم بھی۔
اس کا بھی ولیمہ ہے؟ زیدان نے طنز کیا۔
ہاں تو، تمہاری ہی بیوی ہے نا۔۔۔ اسوان نے جواب دیا۔
ہاں ہاں، جاؤ اب نکلو۔ زیدان نے ہاتھ کے اشارے سے کہا
اسوان نے مسکراتے ہوئے کہا،
تیار نہیں ہوئے نا، تو تمہاری بیوی کو پھر گھر والوں کے ساتھ شاپنگ پر جانا پڑے گا۔
زیدان فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ چہرے پر غصّہ دار آیا۔۔
میری بیوی اب اُن سب کے ساتھ کہیں نہیں جائے گی۔
تو پھر اپنے ساتھ لے جانا۔ اسوان نے کندھے اُچکائے۔
ورنہ مجبوراً مجھے بھیجنا پڑے گا۔
ہو جاؤں گا تیار، اب جاؤ۔۔۔ زیدان نے غصے سے کہا۔
اسوان ہنستا ہوا نکل گیا۔
زیدان بھی دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ
کائنات اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
ناشتہ…؟ اُس نے ذرا خفگی سے اُسے گھورتے ہوئے کہا۔
اب تمہیں بھی مجھ سے مسئلہ ہونے لگا ہے؟
مجھے کیا مسئلہ ہوگا؟ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
کائنات نے معصومیت سے کہا
تو ہٹو، مجھے ناشتہ نہیں کرنا۔
مجھے غصہ نہیں دلائیں۔
اور جو تم مجھے غصہ دلا رہی ہو، وہ؟
میں بس ناشتہ کرنے کا کہہ رہی ہوں۔
وہی نہیں کرنا۔۔۔۔
پھر کائنات کُچھ نہیں بولی خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی اور صوفے پر جا بیٹھی۔
زیدان نے سر پر ہاتھ مارا۔
اُف… اب کیا مسئلہ ہے؟ کر لیتا ہوں ناشتہ۔۔۔۔ وہ بڑبڑایا۔ پہلے مجھے باتیں سناؤ، پھر زبردستی ناشتہ بھی کروا دو…
وہ صوفے پر آ بیٹھا اور جلدی جلدی ناشتہ کرنے لگا۔
اور کائنات بس مسکرا کر رہ گئی۔۔۔۔
+++++++++++++
شام ڈھلنے لگی تھی جب اسوان، زیدان، کائنات اور پری شاپنگ کے لیے نکل چکے تھے۔ مال کی چمکتی روشنیوں میں زیدان خاموشی کا مجسمہ بنا بس سب کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ نہ کوئی رائے، نہ کوئی دلچسپی
جیسے یہ سارا ہنگامہ اُس سے متعلق ہی نہ ہو۔
دوسری طرف کائنات تھی،
جو پری کے ساتھ گھلی ملی پھر رہی تھی۔
کبھی کسی شو کیس کے سامنے رک کر کچھ کہتی،
کبھی کسی لباس کی طرف اشارہ کرتی۔
پری آنکھیں چمکائے سنتی، جیسے ہر بات بہت اہم ہو۔
اسوان کبھی انہیں ایک دکان میں لے جاتا،
کبھی دوسری میں۔ کبھی کہتا،
یہ دیکھو، یہ اچھا ہے…
اور کبھی خود ہی کسی ڈریس کو ہاتھ میں لے کر رُک جاتا۔
یوں پورے تین گھنٹے مال کی راہداریوں میں گھومتے پھرتے آخرکار شاپنگ مکمل ہوئی۔
خریداری کے بعد
وہ سب مال کے ہی فوڈ ایریا میں آ کر بیٹھ گئے۔
ٹیبل پر چاٹ، چپس اور کولڈ ڈرنکس رکھے تھے۔
کائنات نے ایک لقمہ لیا
اور دل ہی دل میں مسکرا دی۔
بہت دنوں بعد آج اسے واقعی اچھا لگ رہا تھا۔
یہاں کوئی نہیں تھا جو ٹوک دے
یہ مہنگا ہے، یہ مت لو
یا
یہ تمہارے حساب کا نہیں ہے۔
ورنہ اس سے پہلے جب بھی وہ شاپنگ پر جاتی،
یا تو زرتاشہ ساتھ ہوتی، یا عائشہ بیگم، یا پھر زارا میں سے کوئی۔ ہر قدم پر اُسے غیر ضروری محسوس کروایا جاتا۔ اُس کی پسند پر سوال اُٹھتے، اُس کے انتخاب کو فضول کہہ دیا جاتا۔ اسی لیے رفتہ رفتہ
اُس کا شاپنگ کرنے کا دل ہی مر گیا تھا۔
مگر آج… آج اس نے اپنی پسند کا سوٹ لیا تھا۔
پری کے لیے بھی دل سے لیا تھا۔ اس کی بات سنی گئی تھی، اُس کی پسند کی اہمیت تھی۔
کسی نے اُس کے وجود کو نظرانداز نہیں کیا تھا۔
نہ ہی اُس کی پسند کو بے وقعت کہا تھا۔
اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اُس کی خوشی میں اضافہ وہ دو لوگ بھی کر رہے تھے جن سے وہ کوئی توقع نہیں رکھتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ زیدان اُس کی پسند کو اہمیت دے۔
نہ ہی اُسے اچھا لگتا تھا کہ اسوان اُس کے منتخب کیے ہوئے کپڑے لے۔ اسوان سے تو ویسے ہی وہ کوئی تعلق نہیں رکھتی تھی۔ مگر پھر بھی… پتہ نہیں کیوں
اُس کے دل میں خوشی اتر رہی تھی۔
جہاں زیدان ہر سوٹ کو رد کر رہا تھا،
وہیں کائنات کے صرف ایک جملے پر جس لباس پر اُس نے ہاتھ رکھا زیدان نے وہی لے لیا۔
اور اسوان
جو عام طور پر کسی کی پسند کی پروا نہیں کرتا تھا.
وہ کائنات سے پوچھ رہا تھا،
کون سا بہتر ہے؟
اور کائنات نے جس پر ہاتھ رکھا،
اسوان نے وہی خرید لیا۔
پری کا تو خیر حال ہی اور تھا…
وہ تو ویسے ہی کائنات کی دیوانی تھی۔
یہ بےحد چھوٹی سی خوشی تھی، مگر کائنات کے لیے یہ خوشی ایک یاد بن گئی تھی۔…
نہ اس میں کوئی وعدہ تھا،
نہ کوئی بڑا سہارا بس چند لمحے تھے…
جن میں اُسے خود کو اہم محسوس کرنے کی اجازت ملی تھی۔۔۔۔
++++++++++++
اگلی صبح الارم کی آواز پر زرتاشا عادت کے برخلاف ہادی کے ساتھ ہی جاگ گئی۔
ہادی نے پہلے تو زیادہ دھیان نہ دیا….
اس نے یہی سمجھا کہ شاید واش روم کے لیے اٹھی ہو گی۔
مگر جب وہ ناشتہ لیے ڈائننگ ٹیبل پر آئی
تو ہادی چونک گیا۔
آج آپ کی نیند پوری ہو گئی؟
اس نے حیرت سے پوچھا۔
زرتاشا نے پلیٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر کہا،
ہاں… اب روز اسی وقت پوری ہو جایا کرے گی۔
کیوں؟
زرتاشا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا،
میں اپنے شوہر کو ملازماؤں کے رحم و کرم پر تو نہیں چھوڑ سکتی نا،
ایسا نہ ہو کہ میرا شوہر… میرا نہ رہے۔
ہادی بےساختہ مسکرا دیا۔
نہیں نہیں، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
کیوں نہیں ہو سکتا؟
بھلا میں ملازمہ سے شادی کر لوں تو اچھا لگوں گا؟
وہ ہنستے ہوئے بولا۔
ہاں، اسی لیے تو میں نے آپ کو بچا لیا ہے، زرتاشا نے فخر سے کہا۔
ویسے سچ میں مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے،
آپ اپنی روٹین میری وجہ سے چینج نہ کریں۔
زرتاشا نے گہری سانس لی۔ مجھے معلوم ہے ہادی…
لیکن پلیز اتنا اچھا بننے سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔
میں تمہاری بیوی ہوں، تم مجھ پر حکم چلا سکتے ہو۔
ہادی مسکرا دیا۔
حکم چلاتا ہُوا میں اچھا نہیں لگوں گا۔
اوہ گاڈ، تم نہیں سدھر سکتے،
وہ ہلکی سی جھنجھلاہٹ سے بولی۔
اچھا چھوڑو، ایک بات مانو گے؟
ہزار باتیں مانوں گا، ہادی فوراً بولا۔
یہ ‘آپ’ کہنا بند کر دو پلیز،
مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں تم سے بہت بڑی ہوں۔
ہادی نے شرارت سے بھنویں اچکائیں۔
میڈم، کیا آپ کو عزت راس نہیں آتی؟
بالکل نہیں آتی، وہ فوراً بولی۔
پلیز مجھے تم کہہ کر ہی مخاطب کرو۔
جیسا آپ کی مرضی… ہادی نے جان بوجھ کر پھر “آپ” کہا۔
پھر؟ زرتاشا نے آنکھیں سکیڑیں۔
ہادی مسکرا دیا۔ مشکل ہے۔
کیا؟ تم کہنا۔۔۔ ذرتشا فوراََ بولی
ہاں نا… ہادی معصومیت سے گویا ہوا۔۔
اوہو ہادی۔۔۔ زرتاشا نے اپنے سر پے ہاتھ مرا کیا چیز تھا یہ ہادی سمجھ کے باہر،
اسی لمحے ارسم اپنے کمرے سے نکل کر آیا۔
زرتاشا پر ایک سرد سی نظر ڈال کر چپ چاپ آ کر بیٹھ گیا۔
میں تمہارے لیے بھی ناشتہ لے آتی ہوں،
زرتاشا نے کہا اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔
ارسم نے نظریں اٹھا کر ہادی کو دیکھا۔
آواز میں زہر گھلا ہوا تھا۔
اسے چھوڑ دے ہادی، تجھے نہیں پتا۔۔ یہ ڈائن ہے ڈائن تو اپنے ساتھ ایک ڈائن کو پال رہا ہے۔ یہ بہت زہریلی ہے، سب کی خوشیاں کھانے والی، ڈائن۔۔ یہ
ہم سب کی خوشیاں کھا جائے گی۔
بات کرتے کرتے اس کا رخ کچن کی طرف تھا۔ جیسے اُسے کچن کے اندر ہی جلا کے راگ کر دے گا۔۔۔
مگر جیسے ہی اس نے مڑ کر ہادی کو دیکھا،
ہادی کی نظریں سخت تھیں، چہرہ پتھر کی طرح سنجیدہ۔
آج کہہ دیا ہے، آئندہ نہیں کہنا، ہادی کی آواز میں سختی تھی۔ تم میرے بھائی ہو، اسی لیے نادان سمجھ کر معاف کر رہا ہوں۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا، تو میں اپنی بیوی کے خلاف ایسے الفاظ
کبھی برداشت نہ کرتا۔
لیکن یار، تو بات سمجھ نا۔۔۔ ارسم نے بیچاری سے کہا
میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا، ارسم۔۔۔ ہادی نے ہاتھ اٹھا کر اُسے ٹوکا۔۔۔۔
بھائی، مجھے تیری فکر ہے۔۔۔ ارسم نے پھر معصومیت سے کہا
ہادی نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔ خاموشی سے اٹھا
اور باہر چلا گیا۔
ہادی… ہادی… ارسم پکارتا رہ گیا، مگر وہ جا چکا تھا۔
اسی وقت زرتاشا ناشتہ لیے واپس آئی۔
یہ کہاں چلا گیا؟ ناشتہ بھی نہیں کیا…
ارسم نے زرتاشا کو نفرت بھری نظروں سے گھورا۔
آواز میں زہر تھا، لفظوں میں آگ۔
میرے بھائی کی زندگی سے نکل جاؤ۔
کائنات کی خوشیاں تو تم کھا ہی چکی ہو،
اب میرے بھائی کی خوشیاں میں تمہیں کھانے نہیں دوں گا۔
زرتاشا خاموش کھڑی رہی۔ نہ آنکھوں میں آنسو تھے،
نہ ہونٹوں پر کوئی صفائی۔ بس ایک عجیب سی ٹھہراؤ… جیسے بہت کچھ سہنے کے بعد
اب الفاظ بھی بیکار لگنے لگے ہوں۔
ارسم نے اس خاموشی کو کمزوری سمجھا۔
میں ہادی کو سب سچ بتا دوں گا،
دیکھنا پھر…
پھر دیکھنا وہ تمہارے ساتھ کیا کرے گا۔
تم برباد ہو جاؤ گی زرتاشا… برباد…
تب زرتاشا نے آہستہ سے بولنے کے لیے ہونٹ کھولے۔
آواز میں شکوہ نہیں تھا، صرف ایک تھکن تھی۔
تم مجھے کیوں برباد کرنا چاہتے ہو، ارسم؟
وہ ہنسا، ایک تلخ، کھوکھلی ہنسی۔
کیونکہ تمہاری وجہ سے، صرف تمہاری وجہ سے
مجھے کائنات نہیں ملی۔ میں نے کہا تھا نا…
پہلے اسوان بھائی، پھر اس کے بعد تم۔۔۔
آنکھوں میں انتقام کی چمک تھی۔
اسوان بھائی کی بربادی اب بس ناک پر ہے۔
ان کا کھیل ختم ہونے والا ہے۔
اور اب بچی ہو تم…
وہ لمحہ بھر رکا، پھر زہر اگلتا ہوا بولا
اپنی الٹی گنتی گننا شروع کر دو،
مس زرتاشا شاہ۔
میں بہت جلد ہادی کو سب سچ بتا دوں گا،
اور وہ خود تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اس گھر سے باہر نکالے گا۔
اور پھر وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔
زرتاشا وہیں کھڑی رہ گئی۔ ہاتھوں میں ناشتے کی ٹرے تھی، اور دل میں ایک انجانا سا بوجھ۔
کیا واقعی اس کی زندگی میں اب ایک اور تذلیل لکھی تھی؟ وہ بھی ہادی کے ہاتھوں؟
++++++++++++
پریشے کل راؤف صاحب کو دوسرے ہڈیوں کے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تھی۔ مکمل معائنے اور تمام ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹر نے آج رپورٹ دینے کا وقت رکھا تھا۔ آج وہ اکیلی ہی رپورٹ لینے آئی تھی۔
وہ ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئی تو خاموشی سے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
جی ڈاکٹر صاحب، رپورٹ کیسی ہے؟
اس کی آواز میں گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی۔
ڈاکٹر نے فائل بند کی اور پوچھا،
آپ انہیں کون کون سی دوائیں دیتی رہی ہیں؟
پریشے نے بیگ سے دواؤں کی فہرست نکال کر ان کے سامنے رکھ دی۔ ڈاکٹر نے ایک ایک نام غور سے پڑھنا شروع کیا۔ چند لمحوں بعد ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
آپ کے والد کو اصل مسئلہ کیا تھا؟
پریشے نے گہری سانس لی۔
جی… ان کا حادثہ ہوا تھا۔ حادثے کے بعد کچھ لوگ انہیں اسپتال لے آئے تھے۔ وہاں ڈاکٹر نے کہا کہ ہڈیاں فریکچر ہو گئی ہیں اور آپریشن ضروری ہے۔ آپریشن کے بعد یہ دوائیں دی گئیں اور کہا گیا کہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ڈاکٹر نے افسوس سے سر ہلا دیا۔
مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کے والد کے ڈاکٹر نے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔
پریشے کا دل زور سے دھڑکا۔
کیا… کیا مطلب ہے ڈاکٹر صاحب؟
مطلب یہ کہ اگر حادثہ ہوا بھی ہوگا تو چوٹ معمولی تھی۔ آپ کے والد کی ہڈیاں بالکل درست اور سلامت ہیں۔ کہیں کوئی فریکچر نہیں ہے۔
پریشے کی آنکھوں میں حیرت اور خوف اکٹھا اتر آیا۔
تو پھر وہ چل پھر کیوں نہیں سکتے تھے؟
ڈاکٹر کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔
اس لیے کہ ان کے پاؤں کے اعصابی نظام کو بلاک کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر…؟ اس کی آواز لرز گئی۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟
ڈاکٹر نے آہستہ مگر واضح لہجے میں کہا،
ان کے جسم میں ایک تجرباتی انجیکشن لگایا گیا تھا۔ اس انجیکشن نے دماغ اور پاؤں کے درمیان اعصابی رابطہ منقطع کر دیا۔ وہ نہ چل سکے، نہ صحیح طرح کھڑے ہو پائے۔ پاؤں بالکل بے جان سا ہو گیا تھا۔
پریشے کے ہاتھ سرد پڑنے لگے۔
اور یہ دوائیں…؟
ڈاکٹر نے میز پر رکھی فہرست کی طرف اشارہ کیا۔
یہی تو حیرانی کی بات ہے۔ پہلے ان کا اعصابی نظام بند کیا گیا، پھر انہیں نیورووال نامی دوا دی گئی جو روزانہ دی جاتی رہی، تاکہ اعصاب آہستہ آہستہ دوبارہ کام کرنا شروع کریں۔ اسی لیے مہینوں بعد پہلے انگلی ہلی، پھر ہلکا سا قدم اٹھا، اور آخرکار وہ بغیر سہارے چلنے لگے۔
پریشے خاموشی سے ڈاکٹر کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔ اس کے ذہن میں سوالوں کا طوفان تھا اور دل میں ایک تلخ حقیقت اتر چکی تھی۔
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا،
آپ مجھے اس ڈاکٹر کا نام بتائیں۔ آپ کے والد کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، اس پر کارروائی ہونا بہت ضروری ہے۔
اور پریشے سمجھ چکی تھی…
یہ صرف غفلت نہیں تھی، یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
مگر سوال یہ تھا کہ کوئی آخر اس کے اتنے اچھے اور شریف والد کے خلاف سازش کیوں کرے گا؟
چند لمحوں کے لیے وہ وہیں ساکت بیٹھی رہ گئی۔ جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ کانوں میں ایک عجیب سی سنسناہٹ گونجنے لگی۔ دل ماننے کو تیار نہیں تھا اور دماغ مسلسل انکار میں سر ہلا رہا تھا۔
ڈاکٹر کچھ کہہ رہے تھے…
مگر ان کی آوازیں اب اسے دور کہیں سے آتی محسوس ہو رہی تھیں۔
مس پریشے… مس پریشے؟
ڈاکٹر کی آواز نے اسے حال میں لوٹایا۔ وہ ہڑبڑا کر سیدھی ہو بیٹھی۔
جی… جی ڈاکٹر صاحب؟
اس کی آواز مدھم اور بجھی ہوئی تھی۔۔۔
ڈاکٹر نے نرمی مگر سنجیدگی سے کہا،
آپ مجھے اُس ڈاکٹر کا نام بتا دیں۔ اور یہ جو دوا میں آپ کو ابھی دے رہا ہوں، یہ باقاعدگی سے اپنے والد کو دیں۔ اس سے ان کی ریکوری کا عمل تیز ہو جائے گا، اور اعصاب جلدی بہتر ہونے لگیں گے۔
پریشے نے خاموشی سے دوا کی پرچی تھام لی۔ اس کی نظریں کاغذ پر جمی تھیں مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا،
چند لمحوں بعد اس نے نظریں اٹھائیں۔
ڈاکٹر صاحب… آپ کا بہت شکریہ۔
وہ آہستہ سے بولی۔
میں اُس ڈاکٹر سے خود بات کر لوں گی۔
اس کے لہجے میں عجیب سی مضبوطی تھی، ایسی مضبوطی جو اس بات کا اعلان تھی کہ
یہ معاملہ اب یونہی نہیں چھوڑا جائے گا۔
ڈاکٹر نے اسے غور سے دیکھا، پھر ہلکا سا سر ہلا دیا۔
اور پریشے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔
++++++++++++
پریشے سیدھی سٹی ہسپتال پہنچی، وہی ہسپتال جہاں چند ماہ پہلے راؤف صاحب کا آپریشن ہوا تھا۔ قدم تیز تھے، چہرے پر عزم اور آنکھوں میں وہ سوال جو اب جواب مانگتے تھے۔
وہ کاؤنٹر کے پاس رکی۔
مجھے ڈاکٹر جمال سے ملنا ہے۔
ریسیپشن پر بیٹھی خاتون نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
میَم… سب خیریت ہے؟ کوئی ایمرجنسی ہے کیا؟
جی، ہے۔ پریشے نے بنا جھجک جواب دیا۔
براہِ کرم مجھے بتا دیں، وہ اس وقت کہاں ملیں گے؟
میَم، اس طرح اچانک۔۔۔۔
میں ان کی مریضہ ہوں۔ پریشے نے بات کاٹ دی۔
مجھے اپنی رپورٹ انہیں دکھانی ہے، پلیز۔
چند لمحے کی خاموشی کے بعد ریسیپشنسٹ نے سر ہلا دیا۔
اچھا میَم، آپ ان کے کمرے میں چلی جائیں۔
پھر وہ ساتھ بیٹھی نرس سے مخاطب ہوئی،
انہیں ڈاکٹر جمال کے روم تک لے جاؤ۔
پریشے راہداری میں آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک سامنے سے آتے ہوئے ڈاکٹر ہادی کی نظر اس پر پڑ گئی۔
السلام علیکم پریشے؟ آپ یہاں؟ سب ٹھیک تو ہے؟ کوئی ایمرجنسی ہے؟
پریشے رکی، مگر صرف ایک لمحے کے لیے۔
وعلیکم السلام۔ جی سب ٹھیک ہے، میں ڈاکٹر جمال سے ملنے جا رہی ہوں۔
ڈاکٹر ہادی نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
پریشے نے مضبوط لہجے میں کہا،
آپ کا جو شک تھا نا… وہ صحیح ثابت ہوا، میں ہوں سے مل کر پھر آپ سے بات کرتے ہوں ۔۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گئی، جیسے ایک لمحہ مزید رکنا اس کے حوصلے کو کمزور کر دے گا۔
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
السلام علیکم۔
ڈاکٹر جمال نے فائل سے نظریں اٹھائیں، چشمہ درست کیا اور اسے غور سے دیکھا۔
آپ…؟
میں پریشے راؤف ہوں۔ احمد راؤف صاحب کی بیٹی۔
اس کی آواز پُرسکون تھی، حد سے زیادہ پُرسکون۔
چند ماہ پہلے آپ نے میرے والد کا آپریشن کیا تھا۔ یاد آیا؟
ڈاکٹر جمال نے لمحہ بھر سوچا، پھر جیسے سب یاد آ گیا ہو۔
اوہ… جی جی، مس پریشے۔ آئیے آئیے۔ آپ کے والد کی طبیعت اب کیسی ہے؟ سب ٹھیک ہے نا؟ کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟
پریشے نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ آنکھوں میں اب نرمی نہیں تھی۔ میرے والد صاحب کا پاؤں فریکچر نہیں ہوا تھا، ڈاکٹر۔ وہ سرد لہجے میں بولی۔
ڈاکٹر جمال کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
ی… یہ… یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟
آپ نے میرے بابا کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
پریشے کی آواز میں اب درد بھی تھا اور غصہ بھی۔
آپ کی میرے والد سے کیا دشمنی تھی؟
بیٹا، اَ… ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔
ڈاکٹر، مجھے سب معلوم ہو چکا ہے۔
وہ ایک دم بول پڑی۔ میں اپنے والد کو کسی اور ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تھی۔ انہوں نے مجھے سب بتا دیا۔ کیسے آپ نے انہیں ایک انجیکشن دیا…
وہ اچانک خاموش ہو گئی۔ لفظ گلے میں اٹک گئے تھے۔
چند لمحے بعد اس نے خود کو سنبھالا۔
مجھ سے سچ بول دیں، ڈاکٹر۔
اس کی آواز اب خطرناک حد تک پرسکون تھی۔
ورنہ مجھے آپ کے خلاف سخت کارروائی کرنا پڑے گی۔
ڈاکٹر جمال کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔
تم کیا ہی کر لو گی؟
پریشے نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
اگر آپ جھوٹ بول کر میرے والد کو کچھ مہینے کے لیے معذور کر سکتے ہیں،
وہ آہستہ مگر کاٹ دار لہجے میں بولی،
تو کیا میں سچ بول کر آپ کا کیریئر ختم نہیں کروا سکتی؟
ڈاکٹر جمال نے پانی کا گلاس اٹھایا، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے گلاس دوبارہ میز پر رکھ دیا۔
ڈاکٹر…
پریشے نے ایک قدم اور آگے بڑھایا۔
آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ یا تو آپ ابھی، اسی وقت، مجھے سچ بتا دیں، یا پھر میں وہ سب کروں گی جس کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔
ڈاکٹر جمال کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔
میں میڈیا تک جا سکتی ہوں، ڈاکٹر۔ وہ سرد لہجے میں بولی۔ میڈیکل کونسل، پولیس، ہر جگہ۔ آپ کے سارے کیسز، سارے مریض، سب کی چھان بین ہو گی۔ اور یقین مانیں، ایک بار یہ دروازہ کھلا… تو بند نہیں ہو گا۔
ڈاکٹر جمال نے بے بسی سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
ٹھیک ٹھیک ہے میں بتا ہوں۔۔۔ میں بتاتا ہوں۔۔۔ سب کچھ لیکن پھر تُم کُچھ نہیں کروگی،
پریشے نے بس خاموشی سے سر ہلا دیا۔
اور ڈاکٹر جمال بولنے لگا۔
میں نے یہ سب… اسوان دیا شاہ کے کہنے پر کیا تھا۔
اسوان کا نام سنتے ہی جیسے پریشے کے وجود سے سارا غصہ، ساری سختی، ایک لمحے میں تحلیل ہو گئی۔
چہرے پر چھایا سرد پن ٹوٹا اور اس کی جگہ بے بسی نے لے لی۔…
یہاں بھی اسوان…؟
واقعی اسوان…؟
ایک اور دھوکا، ایک اور وار، ایک اور یقین ٹوٹ گیا تھا،
آنکھوں میں نمی چمکنے لگی۔
وہ بمشکل بول پائی،
کیوں…؟
ڈاکٹر جمال نے تھکے ہوئے انداز میں آنکھیں بند کر لیں۔
اسوان نے مجھے مجبور کیا تھا، بیٹا۔ ورنہ میں ایسا انسان نہیں ہوں… میں کبھی ایسا نہیں کرتا۔
اس کی آواز میں اب دفاع نہیں، ندامت تھی۔
ایک وقت تھا جب اس نے میری مدد کی تھی۔ میرے بیٹے کا کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ اسوان نے اپنے وسائل استعمال کر کے اس کا داخلہ کروا دیا۔
وہ رکا، پھر بوجھل لہجے میں بولا،
میں اس کے احسان کے بوجھ تلے دب چکا تھا۔
جب اس نے مجھ سے یہ سب کرنے کو کہا… تو میں انکار نہ کر سکا۔ اور ویسے بھی…
وہ خود کو جواز دیتا گیا،
وہ کسی کی جان لینے کو تو نہیں کہہ رہا تھا نا۔ مگر میں جانتا ہوں… یہ بہت غلط تھا۔ تم لوگ مہینوں تکلیف میں رہے ہو گے۔
وہ تلخی سے مسکرایا۔
مگر یہی تو اسوان چاہتا تھا۔
پریشے نے سر اٹھایا۔ڈاکٹر جمال بولتا گیا،
وہ میرے پاس آیا اور بولا
پہلے ایک معمولی سا حادثہ کروایا جائے گا، ایسا جس میں زیادہ چوٹ نہ آئے۔ پھر اپنے ہی آدمیوں کے ذریعے احمد راؤف کو اسی ہسپتال میں بھجوا دیا جائے گا۔
اس کے الفاظ کمرے کی فضا کو زہریلا کرتے جا رہے تھے۔
میرا کام بس یہ تھا کہ تمہیں یقین دلاؤں کہ ان کا پاؤں فریکچر ہو گیا ہے۔ آپریشن کا ناٹک، اور بارہ لاکھ روپے کا خرچ۔
اسوان کا خیال تھا کہ تم لوگ غریب ہو، پیسے نہیں دے پاؤ گے… مگر الٹا تم نے سب ادا کر دیا۔ اس کا مقصد وہیں پورا نہیں ہوا۔
پریشے کی انگلیاں مٹھی میں بند ہو چکی تھیں۔
مجھے نہیں معلوم وہ تم سے کیا چاہتا تھا،
ڈاکٹر جمال نے آہستہ کہا،
لیکن اس کے بعد اس نے کہا کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ تمہارے والد چند مہینے ہسپتال ہی میں رہیں۔
میں نے کہا، یہ ممکن نہیں…
وہ نظریں چرا گیا۔
تب اس نے مجھے یہ گھناونا خیال دیا۔
پریشے کی سانس رک گئی۔
کہ ان کے پاؤں کا اعصابی نظام بلاک کر دیا جائے۔ وہ چل نہیں سکیں گے، اور تمہیں کبھی شک بھی نہیں ہو گا کہ آپریشن حقیقت میں ہوا بھی تھا یا نہیں۔ پھر ایسی دوا دی جائے جو آہستہ آہستہ اثر ختم کرے… تاکہ سب کچھ قدرتی ریکوری لگے۔
وہ خاموش ہو گیا۔
باقی کام اسوان کا تھا…
اس نے بے بسی سے کہا۔
اور میں… میں نے وہی کیا جو اس نے کہا۔
پریشے ساکت بیٹھی اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
آنکھوں میں آنسو جمے تھے، مگر وہ بہنے سے انکاری تھے۔
جب ڈاکٹر جمال خاموش ہو گیا تو کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔
کافی دیر بعد پریشے نے لب کھولے۔
آپ نے اپنے ڈاکٹر ہونے کا غلط فائدہ اٹھایا ہے، ڈاکٹر۔
بے شک مجبوری میں ہی سہی، لیکن آپ نے بہت غلط کام کیا ہے۔
ڈاکٹر جمال کی نظریں جھک گئیں۔…
پریشے خاموشی سے اُٹھی اور کمرے سے باہر آ گئی۔
قدموں میں نہ جلدی تھی، نہ ہچکچاہٹ، بس ایک عجیب سا بوجھ تھا جو وہ اپنے ساتھ لیے چل رہی تھی۔
باہر ہادی وہیں کھڑا تھا، اس کے انتظار میں۔
پریشے کو باہر آتے دیکھ کر اس نے فوراً پوچھا،
سب ٹھیک ہے، پریشے؟
وہ رکی، چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر بے اختیار بولی، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
یہ کہہ کر وہ وہیں راہداری میں رکھی بینچ پر بیٹھ گئی۔
ہادی بھی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
بات کر لی ڈاکٹر سے؟ کیا کہا اس نے؟
پریشے کی آنکھیں خالی تھیں۔
کاش… کاش میں نے اسوان دیار شاہ سے محبت نہ کی ہوتی۔ کاش میں نے اس پر بھروسا نہ کیا ہوتا۔
اس کی آواز ٹوٹنے لگی۔
تو آج میری زندگی سکون میں ہوتی۔
وہ لمحہ بھر رکی،
اس نے… اس نے میرا ایک اور مان توڑ دیا ہے،۔ جب اس نے مجھے گھر میں زبردستی روکا تھا، تب اس نے مجھے میرے بابا کی دھمکی دی تھی۔ مگر مجھے کبھی یہ امید نہیں تھی کہ وہ بابا کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے۔
وہ ساکت بیٹھی کہہ رہی تھی،
اس کی زندگی میں کچھ بھی اہم نہیں ہے۔ کوئی رشتہ، کوئی احساس… کچھ بھی نہیں۔ اہم ہے تو صرف اس کی اپنی بیٹی۔ ایک بیٹی کے لیے اس نے دوسری بیٹی کی پوری زندگی برباد کر دی۔
ہادی خاموش کھڑا سنتا رہا۔
اسے تو پہلے ہی اسوان پر شک ہو چکا تھا۔۔۔
ارمان کو ہسپتال میں دیکھنے کے بعد، پھر اسی ہسپتال میں اسوان کی موجودگی، اور نرس کا اسے رؤف صاحب کے کمرے میں جانے سے روکنا…
سب کچھ آہستہ آہستہ جڑ رہا تھا۔
مگر ایک بات وہ اب بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔۔۔
پریشے اسے یہ سب کیوں بتا رہی تھی؟
اس کے سامنے کیوں رو رہی تھی؟
شاید اس لیے کہ اس لمحے اس کے پاس کوئی اور ایسا شخص موجود نہیں تھا جس کے سامنے وہ دل ہلکا کر سکے۔
اور شاید۔۔۔ وہ یہ سب اپنے گھر والوں کو کبھی نہیں بتا سکتی تھی۔
ہادی نے دھیمے، نرم لہجے میں پوچھا،
وہ تو آپ سے محبت کرتے تھے نا… پھر آپ کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ شادی کے وقت سنا تھا، اسوان اور پریشے کی محبت کی شادی تھی۔۔۔
پریشے خاموش رہی۔
کافی دیر بعد اس نے آہستہ سے کہا،
محبت نہیں تھی، محبت ہوتی تو یہ سب نہ ہوتا۔
اس کی آواز کانپ گئی۔
وہ… وہ دھوکا تھا۔ بس دھوکا۔
ہادی نے گہری سانس لی۔
صبر رکھیے۔ اللہ سب بہتر کرے گا۔
یہ الفاظ تسلی تھے، مگر اس لمحے صرف اتنے ہی ممکن تھے۔
پریشے اُٹھی۔
آنکھیں پونچھیں، چہرے پر ایک نقاب سا اوڑھ لیا۔
تھینک یو سو مچ۔ میری مدد کرنے کے لیے، مُجھے بتانے کے لیے آپ نہ ہوتے تو مجھے سچائی کا کبھی علم نہیں ہوتا۔۔۔
وہ آہستہ سے بولی اور پلٹ گئی۔
ہادی وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔
اس وقت…
اسے اس لڑکی کے لیے بے حد بُرا لگ رہا تھا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا۔۔۔
+++++++++++
پریشے سیدھی گھر آئی تھی۔
سب سے پہلے اس نے راؤف صاحب کو وہ دوا دی جو ڈاکٹر نے دی تھی۔
چہرے پر اطمینان کا ایسا تاثر تھا جیسے واقعی سب ٹھیک ہو چکا ہو۔
بابا، اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے ریکوری بالکل درست جا رہی ہے۔
وہ مسکرا کر بولی، حالانکہ دل کے اندر سب کچھ بکھرا پڑا تھا۔
اس نے سب کو تسلی دی، سب سے جھوٹ بولا
اور خود کو سب سے آخر میں رکھا۔
پھر آہستہ سے بولی،
میں… میں واپس جانے کا سوچ رہی ہوں۔
عشال چونک گئی۔
آپ تو جمعے کو جانے والی تھیں، آج تو جمعرات ہے۔
صفیہ بیگم نے فوراً کہا،
ہاں، کل چلی جانا۔ ایک دن اور رک جاؤ۔
پریشے نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں، وہاں کچھ کام ہیں نا… اور زیدان کا ولیمہ بھی ہفتے کو ہے۔ میں نے سوچا پہلے ہی چلی جاؤں۔
پھر وہ راؤف صاحب کی طرف متوجہ ہوئی۔
اور بابا… اب آپ نے اپنا خاص خیال رکھنا ہے۔
انوشے فوراً بولی،
وہ میں ہوں نا ڈیڈی کے پاس، میں رکھ لوں گی ان کا خیال۔
پریشے مسکرائی، ایک ہلکی، تھکی ہوئی مسکراہٹ۔
صرف ڈیڈی کا نہیں، اپنا بھی۔
راؤف صاحب نے نرمی سے پوچھا،
اسوان کو بُلا لیتی، وہ لینے نہیں آئے گا؟
پریشے کے دل میں ایک لمحے کو کچھ ٹوٹا… مگر آواز ہموار رہی۔
نہیں، وہ اس وقت آفس میں ہوں گے۔ میں نے ڈرائیور بُلا لیا ہے۔
صفیہ بیگم چونکیں۔
ڈرائیور؟ ڈرائیور کہاں سے آ گیا؟ کل تک تو نہیں تھا۔
ہاں، وہ زیدان نے رکھوایا ہے۔ گھر پر کوئی ہوتا نہیں، ہمیں کہیں جانا ہو تو ڈرائیور ہونا چاہیے۔ اسوان نے کہہ کر رکھوایا ہے۔ دو ڈرائیور ہیں، ایک گھر والوں کے لیے اور ایک ہم دونوں کے لیے۔
عشال نے بھنویں چڑھائیں۔
ہم دونوں کون؟ ایک آپ اور…؟
زیدان کی بیوی، کائنات۔
عشاء نے غور سے پریشے کو دیکھا۔
آپّی، مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ کو اس گھر میں الگ ہی ٹریٹ کیا جاتا ہے؟
پریشے چونکی۔
کیا مطلب؟
مطلب خاص… آپ کے لیے اور اب ڈرائیورانی کے لیے الگ ڈرائیور کیوں؟ ایک میں بھی تو کام چل سکتا تھا۔
پریشے نے فوراً بات کو ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
نہیں چل سکتا تھا نا۔ کائنات پڑھتی ہے، اس کا ابھی کالج ختم ہوا ہے۔ اب یونیورسٹی جائے گی تو اسے ڈرائیور کی ضرورت ہو گی۔ چھوڑو، یہ گھر کا مسئلہ ہے، تم اتنا دھیان نہ دو۔
عشاء نے کندھے اچکائے۔ اچھا… ٹھیک ہے۔
صفیہ بیگم کے چہرے پر اطمینان تھا۔
میں تو بہت خوش ہوں کہ تمہیں اتنا اچھا سسرال مل گیا۔ اللہ تمہارے اور نصیب اچھے کرے۔
راؤف صاحب نے فوراً کہا،
آمین، آمین۔
عشال فوراً بولی
ہاں، مجھے بھی ایسا ہی سسرال چاہیے، کوئی کچھ کہتا ہی نہیں۔
پریشے نے زبردستی مسکراہٹ سنبھالی۔
ہاں بس بس… اب میں چلتی ہوں۔ اللہ حافظ۔ آپ سب اپنا خیال رکھیے گا۔
وہ سب سے ملی۔
ماں کے گلے لگی، بابا کے ماتھے پر ہاتھ رکھا، بہنوں کو دیکھا،
اور بغیر پیچھے مڑے باہر آ گئی۔
چند لمحوں بعد وہ گاڑی میں بیٹھی تھی۔
دروازہ بند ہوا۔ گاڑی چل پڑی۔
اور پریشے نے پہلی بار… اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
++++++++++++
رات کے ٹھیک نو بجے تھے جب اسوان گھر آیا۔
کمرے کا دروازہ کھلا…
اور وہ رک گیا۔
پریشے بستر پر بیٹھی تھی۔
خاموش، ساکت، جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہو۔
آنکھیں سامنے دیوار پر جمی تھیں، مگر اندر ایک پوری دنیا جل رہی تھی۔
اسوان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اس نے اسے دیکھ کر خوشی چھپانے کی کوشش کی۔۔
سرپرائز… وہ عام سے انداز میں بولا۔
تم کب آئی؟ جمعے سے پہلے تو آنے والی نہیں تھیں نا؟ وہ اس کے قریب آیا۔
کیا میری یاد آ رہی تھی؟
پریشے آہستہ سے بستر سے اٹھی۔
قدم بہ قدم چلتی ہوئی اس کے سامنے آ کر رکی۔
چہرہ ہر تاثر سے خالی تھا، نہ غصہ، نہ آنسو، نہ شکوہ… بس ایک عجیب سا سکوت۔
پھر اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا۔
اور اگلے ہی لمحے
ایک زور دار تھپڑ اسوان کے چہرے پر پڑا۔
اسوان چند لمحے وہیں کھڑا رہ گیا۔
اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ ابھی ہوا کیا ہے۔
وہ صدمے کے عالم میں اسے دیکھتا رہ گیا۔
پھر اچانک اس کے اندر غصے کا لاوا پھٹ پڑا۔
تم نے مجھے تھپڑ کیسے مارا؟!
وہ چیخا۔
اس کی آواز ابھی فضا میں تھی کہ
پریشے نے دوسرا تھپڑ بھی اس کے چہرے پر رسید کر دیا۔
اس بار اسوان نے ضبط نہ کیا۔
وہ آگے بڑھا،
اس کے دونوں بازو زور سے پکڑ کر اسے گھسیٹتا ہوا دیوار سے جا لگا۔
زیادہ ہی ہمت آ گئی ہے تم میں۔۔۔۔ وہ غرّایا۔
اس کے ہاتھ اس کے بازوؤں میں گڑ گئے۔
درد تھا، شدید درد
مگر پریشے کے چہرے پر ایک شکن تک نہ آئی۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
بغیر ڈر کے… بغیر لرزے۔
کاش… میں آپ سے کبھی نہ ملتی۔
کاش میں نے آپ پر کبھی بھروسا نہ کیا ہوتا۔
کاش میں نے آپ سے کبھی محبت نہ کی ہوتی۔
اسوان چیخ پڑا،
بکواس بند کرو۔۔۔۔
میں نے کوئی گناہ ہی کیا ہو گا…
یا کسی کا دل دکھایا ہو گا،
جس کی سزا مجھے آپ کی صورت ملی ہے۔
منہ بند رکھو اپنا۔۔۔۔ اسوان پھر چیخا
پریشے کے آنسو مزید نہیں روکے اور آنکھوں سے
بہنے لگے۔
اسوان پھر چیخا،
مجھے تھپڑ مارنے آئی ہو یہاں؟
پریشے نے آنسوؤں کے بیچ کہا،
شکر کریں کہ صرف تھپڑ مارا ہے۔
نہیں تو اور کیا کرتی تم؟ اسوان غصے سے بولا۔۔۔
میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ کبھی نہیں۔
میں معافی مانگ بھی نہیں رہا۔ اسوان نے سرد لہجے میں کہا۔
پریشے نے اس کی طرف دیکھا۔
ایک دن… آپ کو اس سب کا پچھتاوا ہو گا۔
منہ بند کرلو اپنا۔۔۔
اسوان نے اسے قریب کھینچتے ہوئے کہا۔
مجھے چھوڑیں۔۔۔۔ پریشے چیخی۔
نہیں چھوڑ رہا۔
میں کہہ رہی ہوں چھوڑیں مجھے۔۔۔
وہ چلّائی اور اپنے ہاتھوں سے اسے خود سے دور دھکیلنے لگی۔
اسوان خود ہی ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔
پریشے کی آواز پھٹ گئی۔
میرے ساتھ جو کرنا تھا، کر لیا…
مگر میرے بابا کے ساتھ ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہاں؟!
وہ چیخ رہی تھی، ٹوٹ رہی تھی۔
میں انہیں کل کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تھی…
یہ سنتے ہی اسوان ایک دم خاموش ہو گیا۔
کمرے میں ایک سرد سی خاموشی اتر آئی۔
پریشے پھر چیخی،
کیوں کیا آپ نے ایسا؟ کیوں؟
وہ رو بھی رہی تھی اور چیخ بھی رہی تھی۔
آپ کو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔
وہ ہچکیاں لینے لگی۔
آپ میرے پاس آتے… سچ سچ سب بتاتے…
اور کہتے کہ مجھ سے شادی کر لیں،
میری بیٹی کو تُمہاری ضرورت ہے…
میں اُس وقت آپ پر ترس کھا کر بھی شادی کر لیتی۔ آپ کی بیٹی کا خیال بھی رکھ لیتی۔
آپ کو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی…
جھوٹ۔۔۔۔ وہ غرّایا۔ تم ایسے تو مجھ سے شادی کرنے والی نہیں تھیں۔ دو سال میں تمہارے پیچھے خوار ہوتا رہا، کہ اب کر لو شادی، اب مان جاؤ… مگر نہیں۔۔۔۔اس کی آواز میں تلخی بھر گئی۔
تم اپنی ضد پر قائم تھیں۔ اور اب کہہ رہی ہو کہ کر لیتی؟
میں نے جو کچھ کیا، تم نے مجھے مجبور کیا۔۔۔۔
پریشے نے سر ہلایا۔ آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
ہاں… اس دنیا میں سب ہی مجبور ہوتے ہیں۔
وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔
پہلے غلطیاں کرتے ہیں، لوگوں کا نقصان کرتے،
پھر کہتے ہیں: میں مجبور تھا۔
زندگیاں برباد کر کے کہتے ہیں: میں مجبور تھا۔
یہ کیا بکواس کر رہی ہو؟ اسوان چلّایا۔
تمہاری کون سی زندگی برباد ہو گئی؟ کہاں؟ وہ قریب آیا۔
میں نے تمہیں زمین سے آسمان پر بیٹھا دیا، اور تم…
پریشے نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا،
اگر آسمان کے چاروں طرف ہر بار دھوکا ہی ہو…
تو نہیں چاہیے ایسا آسمان۔
نہیں چاہیے۔۔
وہ چیخی۔
اس آسمان سے بہتر مجھے میری زمین عزیز ہے۔
اس آسمان سے اچھا میں زمین میں ہی ہی اچھی ہوں۔۔۔ وہ کانپتی آواز میں بولی،
آپ کو پتہ ہے اُس وقت میں کتنی پریشان تھی؟
میں ہسپتال میں بیٹھی رو رہی تھی…
آپ کے سامنے رو رہی تھی…
اور آپ سب کچھ کر کے مجھے ایسے دلاسے دے رہے تھے،
جیسے اس دنیا میں آپ سے زیادہ میرا کوئی مخلص ہی نہ ہو۔
اس کی آواز سرگوشی بن گئی۔
اس آسمان نے پہلے مجھے زخم دیا… پھر خود ہی مرہم بھی بن کر آ گیا۔
وہ رک گئی۔
سانس ٹوٹ رہی تھی۔
اور میں… میں اندھی تھی، اسوان۔۔میں نے اسے محبت سمجھ لیا۔
اسوان کچھ لمحے خاموش رہا۔ پریشے کی ہچکیوں کی آواز سنتا رہا۔ اپنے اندر اُبلتے غصے کو ضبط کیا…
اور پھر آہستہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
اب اس کے لہجے میں وہ سختی نہیں تھی۔
آواز نرم تھی، حد سے زیادہ نرم۔
وہ آگے بڑھا، اس کا ہاتھ تھاما اور آہستگی سے کہا،
آؤ… یہاں بیٹھو۔
اس نے اسے بستر کے کنارے لا بٹھایا۔
پریشے نے کوئی مزاحمت نہ کی۔ وہ جیسے خالی ہو چکی تھی۔
آنکھوں سے آنسو اب بھی بہہ رہے تھے،
خاموش… تھکے ہوئے۔ اسوان خود اس کے سامنے
نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
میں نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا، پریشے…
وہ بے حد نرمی سے بولا۔
بتاؤ، میں کیا کرتا؟ تم شادی کے لیے مان ہی نہیں رہی تھیں۔ اور میں… میں جلد سے جلد تم سے شادی کرنا چاہتا تھا۔
پریشے نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
ان آنکھوں میں اب غصہ نہیں تھا،صرف صدمہ تھا۔
میں چاہتا تو تمہارے بابا کو بہت بڑا نقصان پہنچا سکتا تھا…
وہ جیسے احسان جتا رہا ہو۔
لیکن میں نے نہیں پہنچایا۔ میں بس یہ چاہتا تھا کہ تم مجھ سے شادی کر لو۔
اس کی آواز میں عجب سا اطمینان تھا۔
کمپنی والوں کو بھی میں نے ہی تمہارے گھر بھیجا تھا…
تاکہ تمہارے پاس کوئی راستہ نہ بچے۔
پریشے کی پلکیں کانپیں۔
تم ایسے مان نہیں رہی تھیں نا…
تو میں کیا کرتا، بتاؤ؟
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
مجھے ہر حال میں تم سے شادی کرنی تھی۔
اور اس کے لیے ضروری تھا کہ میں تمہیں مجبور کر دوں۔
پھر بھی میں نے اس بات کا خیال رکھا
کہ تمہارے پاپا کو کوئی جانی نقصان نہ ہو۔
وہ نرمی سے بولتا گیا۔
اور اب دیکھنا… وہ پھر سے پہلے جیسے ہو جائیں گے۔ میں خود ان کی جاب ایک بہت اچھی کمپنی میں لگوا دوں گا۔
وہ ذرا سا آگے جھکا۔
میں سب ٹھیک کر دوں گا، پریشے۔
میں نے کہا نا… تم جو کہو گی، میں سب کروں گا۔
اس نے اپنے ہاتھ سے اُس کے ہاتھ کو سلایا۔۔۔
تم کہو تو میں ہر مہینے تمہارے ابو امی کو خرچہ دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔
پریشے نے آہستہ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
وہ نرمی… وہ وعدے… وہ یقین دہانیاں…
وہیں پُرانا روپ، سب کچھ ایک جال لگ رہا تھا۔
پریشے نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کر دیا۔
ہتھیلی کھلی ہوئی تھی۔ خالی۔ مگر اس خالی پن میں اس کا ٹوٹا ہوا یقین، اس کی خاموش بغاوت اور ایک سرد سا فیصلہ رکھا تھا۔
دیں۔ اس کی آواز مدھم تھی، مگر صاف۔
اسوان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کیا؟
پریشے نے پلکیں جھکائے بغیر کہا،
اپنا کریڈٹ کارڈ۔
اور وہ بارہ لاکھ… جو آپ نے میرے بابا کے نام پر آپریشن کے لیے لیے تھے۔ اور حقِ مہر کے پچاس لاکھ بھی۔
کمرے میں جیسے ہوا رک گئی۔
وہ ذرا رکی…
پھر نہایت سنجیدگی سے بولی،
اور کریڈٹ کارڈ دینے کے بعد
آپ مجھ سے کبھی یہ سوال نہیں کریں گے…
کہ میں نے پیسے کہاں خرچ کیے۔
اسوان کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت چمکی۔ پھر حساب۔ پھر سکون۔
اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا نا؟ اس نے دھیرے سے پوچھا، جیسے سودا طے کر رہا ہو۔
پریشے نے ایک پل آنکھیں بند کیں۔
ہاں…. وہ آہستہ سے بولی۔
اسوان نے سکھ کا سانس لیا۔
ٹھیک ہے۔ وہ اٹھا،
جیب سے بٹوہ نکالا۔
کریڈٹ کارڈ اس کی ہتھیلی پر رکھا….
پریشے نے کارڈ اٹھا لیا۔ انگلیاں ذرا سی کانپیں،
مگر چہرہ بے تاثر رہا۔
میں کل پیسے ٹرانسفر کروا دوں گا۔
اسوان نے یقین دہانی کروائی۔
پریشے نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ بس اس کارڈ کو دیکھتی رہی۔۔۔
پھر وہ کھڑی ہوگئی۔۔۔۔اور کمرے سے نکلنے لگی۔
دروازے پر پہنچ کر
اس نے بغیر مڑے کہا،
لیکن میں معاف کبھی نہیں کرونگی آپکو۔۔۔
دروازہ بند ہو گیا۔
اور اسوان وہیں کھڑا رہ گیا۔۔۔
+++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
