تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۴
آج زیدان اور کائنات کا ولیمہ تھا۔
کائنات موقع کی مناسبت سے حد سے زیادہ خوش تھی، اور اس کی خوشی اس کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔ مگر یہ خوشی اس بات کی نہیں تھی کہ وہ آج ولیمہ والی دلہن ہے، بلکہ اس وجہ سے تھی کہ سب کچھ اس کی مرضی کے مطابق ہو رہا تھا۔ اس کا لباس، اس کا میک اپ، حتیٰ کہ کون سے پارلر جانا ہے، یہ سب اس سے پوچھ کر طے کیا گیا تھا۔ کسی نے اس پر اپنی رائے مسلط نہیں کی تھی، کسی نے اسے جتلایا نہیں تھا۔ وہ پارلر بھی گئی تھی اور ہر ولیمہ والی دلہن کی طرح پوری تیاری میں مصروف تھی۔
اور زیدان… وہ بھی خوش تھا۔
وہ کیوں خوش تھا؟
اس لیے کہ آج اس کا ولیمہ تھا۔ کائنات مانے یا نہ مانے، زیدان دل سے کائنات کو اپنی بیوی قبول کر چکا تھا۔
وہ اس وقت کمرے میں بیٹھا تیار ہو رہا تھا کہ اسوان اندر آیا۔ میں پریشے اور پری کو لے کر ہال جا رہا ہوں۔ کائنات بھی ہال پہنچ چکی ہے، باقی سب بھی جا چکے ہیں، تم بھی چلو۔
زیدان نے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہا، تم نکلو، میں پیچھے سے آ رہا ہوں۔
اسوان اثبات میں سر ہلا کر باہر چلا گیا۔۔۔
ہال میں اس وقت صرف گھر کے لوگ موجود تھے۔ ابھی ابھی ہادی کی فیملی بھی ہال میں داخل ہوئی تھی۔ زرتاشہ کی وجہ سے وہ سب بھی جلدی پہنچ گئے تھے۔
ارسم پر نظر پڑتے ہی دعا کو کچھ یاد آ گیا۔ وہ فوراً زارا کے پاس چلی آئی۔
Do you know? Arsam likes Kainat.
تمہیں پتا ہے؟ دعا نے دھیمی آواز میں کہا، ارسم کائنات کو پسند کرتا ہے۔۔۔
زارا چونک گئی۔ کیا؟
No, not like. He loves her.
پسند نہیں… دعا نے معنی خیز توقف کے بعد کہا، محبت۔
زارا نے گہری سانس لی۔ ہاں، مجھے پتا ہے… لیکن تمہیں یہ بات کیسے پتا چلی؟
If Arsam liked Kainat, then why didn’t you people get her married to Arsam?
بس… دعا نے بات گھما دی، اگر ارسم کائنات کو پسند کرتا تھا تو تم لوگوں نے اس کی شادی ارسم سے کیوں نہیں کروائی؟
زارا کی آواز میں بے بسی تھی۔ مجھے نہیں معلوم… یہاں کیا کیا ہو گیا، میں تو یہاں تھی ہی نہیں۔
کہاں تھیں تم؟
تمہارے گھر تھی بھول گئی، پری کے ساتھ۔
اوہ ہاں… دعا کو یاد آیا، زرتاشہ سے پوچھو۔
چھوڑو نا، جانے دو… زارا نے بات ٹالنی چاہی، یہ سب پرانی باتیں ہیں۔
نہیں زارا، یہ پرانی باتیں نہیں ہیں۔ دعا نے ارسم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، وہ اب تک موو آن نہیں کر پایا۔ اس کے چہرے پر سب کچھ صاف لکھا ہے۔ دیکھو۔۔۔۔ کتنا اداس لگتا ہے۔۔۔
کر لے گا موو آن۔ زارا نے بیزاری سے بات ٹالی
ایسے نہیں کرے گا۔۔۔
تو کیسے کرے گا؟
جب اس کی زندگی میں کوئی اور لڑکی آئے گی۔
اور وہ کیسے آئے گی؟
شادی کروا کے… دعا نے فوراً کہا، زرتاشہ اس کی بھابھی ہے، اسے کہو وہ آنٹی سے بات کرے۔
تم پاگل ہو، چپ کرو۔ زارا نے اسے ٹوکا۔
مگر دعا کہاں رکنے والی تھی۔ تُم چھوڑ دو۔۔ میں خود بات کرتی ہوں زرتاشا سے۔۔ یہ کہہ کر وہ زرتاشہ کی طرف بڑھ گئی۔
تمہیں پتا ہے زرتاشہ، ارسم کائنات کو پسند کرتا ہے۔
زرتاشہ چونک گئی۔ تم کیا بول رہی ہو؟
تمہیں نہیں پتا، لیکن مجھے سب پتا چل گیا ہے۔
وہ کیسے؟
بس… وہ میرا ٹیلنٹ ہے۔ دعا نے ہلکے سے مسکرا کر کہا، پھر سنجیدہ ہو گئی۔ ایک اور بات… ارسم اب تک موو آن نہیں کر پایا۔
زرتاشہ نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، تو میں کیا کروں؟
اس کی مدد کرو۔ پہلے نہیں کی، اب کر دو۔
پہلے نہیں کی؟ زرتاشہ کی آواز میں تلخی آ گئی۔
زارا نے بتایا کہ تم لوگوں کو پہلے سے پتا تھا کہ ارسم کائنات کو پسند کرتا ہے، پھر بھی اس کی شادی نہیں کروائی گئی۔
زرتاشہ کے لہجے میں کرب تھا۔ میں کائنات کی اماں ہوں، جو میں کھڑے ہو کر اُس کی شادی کرواتی،؟ ہاں؟
تم غصہ کیوں ہو رہی ہو؟ دعا نے فوراً وضاحت دی، میرا مطلب تھا کہ تم اس کی مدد کرتی۔
زرتاشہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ سب اسوان نے کیا۔ اسے یہ سب پتا تھا۔ اور سنو… اس نے آواز دھیمی کر لی، صرف ارسم ہی نہیں، کائنات بھی ارسم کو پسند کرتی تھی۔
کیا؟ دعا کو جیسے جھٹکا لگا۔
ہاں… زرتاشہ نے کہا، چہرے پر اب بھی کائنات کے لیے حقارت تھی۔۔۔دعاؤں میں مانا کرتی تھی اُسے۔ مگر افسوس… اس کی دعا قبول نہ ہوئی۔
دعا ساکت کھڑی رہ گئی۔
مگر حیرت کا جھٹکا صرف اسے ہی نہیں لگا تھا۔ دو اور لوگ بھی تھے، جنہیں دعا سے زیادہ حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔ جنہوں نے ان دونوں کی بات سن لی تھی۔
کائنات روتی رہی، کہتی رہی مجھے زیدان سے شادی نہیں کرنی… مگر اس گھر میں کسی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اس کی اماں نے بھی نہیں…
وہ ایک لمحے کو رکی۔ بیچاری…
سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کائنات سے ہمدردی کر رہی تھی یا اس پر طنز۔ الفاظ نرم تھے، مگر لہجے میں کہیں نہ کہیں ایک چبھن چھپی ہوئی تھی۔۔۔
++++++++++++++
وہ گاڑی میں بیٹھا اپنے گھر سے نکل چکا تھا۔
سڑک سنسان تھی اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔ وہ ابھی راستے ہی میں تھا کہ اچانک بہت سارے بائیکس اس کی گاڑی کے آگے پیچھے آ گئیں۔ بائیک پر سوار لڑکوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے، اور اگلے ہی لمحے وہ گاڑی کے قریب آ کر شیشوں پر پوری طاقت سے وار کرنے لگے۔
زیدان کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو بے قابو ہوئی، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ اس نے گاڑی موڑی اور پوری قوت سے انہیں ٹکر مار کر راستے سے ہٹانا چاہا، مگر وہ بار بار اس کے آگے آ جاتے۔ ہر کوشش ناکام ہوتی جا رہی تھی۔
اچانک زیدان نے ایک لمحے کا فیصلہ کیا۔
اس نے گاڑی آہستہ کی، کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالا اور بائیک پر بیٹھے ایک لڑکے کے ہاتھ سے ڈنڈا چھین لیا۔ اگلے ہی لمحے اس نے گاڑی روک دی۔
تمام بائیکس بھی رک چکی تھیں۔
زیدان گاڑی سے باہر نکلا، آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں تھیں اور ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑا ہوا ڈنڈا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر حملہ کیا۔ وہ اکیلا تھا، مگر اس کے وار میں ایسی شدت تھی کہ سامنے والا سنبھل نہ پایا۔
وہ سب اس پر ٹوٹ پڑے۔
ڈنڈے اس کے کندھوں، بازوؤں اور کمر پر پڑ رہے تھے، مگر وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔ ہر وار کے جواب میں وہ دو وار کرتا۔ سڑک پر شور گونج رہا تھا، سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں، اور ہوا میں غصہ، درد اور ضد سب کچھ شامل تھا۔
اس لمحے، کوئی پیچھے نہیں ہٹا۔
نہ وہ… نہ وہ لوگ،
لڑائی شدت اختیار کر چکی تھی۔
زیدان کا سانس پھول رہا تھا مگر اس کے قدم اب بھی مضبوطی سے زمین پر جمے ہوئے تھے۔ ایک ڈنڈا اس کے کندھے پر لگا تو اس نے کراہ کر پلٹ کر وار کیا، سامنے والا لڑکا زمین پر جا گرا۔ مگر اگلے ہی لمحے دو اور اس پر ٹوٹ پڑے۔ کسی نے پیچھے سے اس کی قمیص پکڑی، کسی نے پسلیوں پر لات ماری۔
زیدان لڑکھڑایا… مگر گرا نہیں۔
اس نے دانت بھینچے، خود کو سنبھالا اور پوری قوت سے کہنی پیچھے ماری۔ چیخ کی آواز فضا میں گونجی۔ اس نے مڑ کر ڈنڈا گھمایا، ایک اور لڑکا اپنا سر تھامتا ہوا پیچھے ہٹا۔ خون کی ایک باریک لکیر اس کی پیشانی سے بہنے لگی۔
مارو اسے….
کسی نے غصے سے چیخ کر کہا۔
جیسے یہ الفاظ سن کر سب ایک ساتھ پاگل ہو گئے ہوں۔ چاروں طرف سے وار ہونے لگے۔ زیدان کے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا اب اس کا سہارا بن چکا تھا۔ وہ وار روکتا، بچاتا، اور موقع ملتے ہی حملہ کرتا۔
ایک لمحے کو وہ گھٹنوں کے بل آیا، سینے میں تیز درد اٹھا… مگر اگلے ہی لمحے اس نے زمین سے ایک پتھر اٹھایا اور سامنے والے کی کلائی پر دے مارا۔ ڈنڈا ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا۔
+++++++++++++++
کائنات ڈریسنگ روم میں بیٹھی ہوئی تھی۔
کافی دیر گزر چکی تھی، مگر اب تک اس کی انٹری نہیں ہوئی تھی۔ وہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھتی، پھر آئینے میں اپنا عکس۔ دل میں ایک انجانا سا خدشہ سر اٹھا رہا تھا۔ انٹری تب ہی ہونی تھی جب زیدان ہال میں آتا… مگر زیدان نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔
اسوان مسلسل فون ملا رہا تھا۔ ایک بار…
دو بار…
بار بار…
مگر ہر دفعہ ایک ہی جواب ملتا۔ فون نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔
ہال میں موجود لوگوں کے چہروں پر حیرت کم اور بے پروائی زیادہ تھی۔
وہ آنا ہی نہیں چاہتا ہوگا۔ کہیں چلا گیا ہوگا۔۔
لڑکوں کا کیا ہے، دل نہیں مانا ہوگا۔.. کیسا انسان ہے، کِسی چیز کا خیال نہیں ہے اسے۔۔۔
کسی کو اس کی فکر نہیں تھی۔
کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ زیدان کے ساتھ بھی کچھ غلط ہو سکتا ہے۔..
لیکن بھلا کیا جو انسان خود غلط ہو ایک بدمعاش وحشی انسان ہو اُس کے ساتھ بھلا کیا غلط ہوسکتا ہے۔۔۔
ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔
فیضان صاحب کا صبر اب جواب دے چکا تھا۔ ان کے چہرے پر غصہ صاف جھلک رہا تھا۔ وہ تیز قدموں سے اسوان کے پاس آئے اور ضبط توڑتے ہوئے بولے، بس چھوڑ دو… نہیں آنے والا وہ۔ شروع سے اس کی عادت ہے ہماری بے عزتی کروانے کی۔ جان بوجھ کر کرتا ہے یہ سب….
ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ آس پاس کھڑے لوگ چونک گئے۔
فیضان صاحب کو چلاتا دیکھ کر رضیہ بیگم بھی فوراً ان کے قریب آ گئیں۔ ارے یہ کیا ہو رہا ہے؟ زیدان کہاں ہے؟
اسوان کی آواز میں شرمندگی اور پریشانی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ پتا نہیں… فون بھی نہیں اٹھا رہا۔ میں نے گھر کے گارڈ سے پوچھا ہے، وہ گھر سے نکل چکا تھا، مگر اب تک یہاں نہیں پہنچا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔
فیضان صاحب نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ نکل گیا ہوگا اپنے آوارہ دوستوں کے پاس۔ ولیمہ، عزت، خاندان… ان سب کی اسے کب پرواہ رہی ہے؟
فیضان صاحب غصے سے کانپ رہے تھے۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں اسوان… اس بار میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔ بچپن سے لے کر آج تک ہر دفعہ تم بیچ میں آ جاتے ہو۔ تمہاری وجہ سے ہی وہ اتنا بگڑ گیا ہے۔ اب مہمانوں کو کھانا کھلاؤ، سب کو رخصت کرو… وہ نہیں آنے والا۔ نافرمان کہیں کا….
ان کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی۔
اور عین اسی لمحے.ہال کے دروازے سے۔ ایک سایہ اندر داخل ہوا۔
سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس زیدان…
جس پر جگہ جگہ خون کے دھبے لگے ہوئے تھے۔
اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا، جو پیشانی سے پھسلتا ہوا اس کے رخسار تک آ رہا تھا۔ قدم ڈگمگا رہے تھے، سانس بے ترتیب تھی، مگر وہ پھر بھی سیدھا کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھوں اور پاؤں پر عجیب بات یہ تھی کہ خون کا ایک قطرہ تک نہیں تھا… جیسے سارا درد اس نے سینے اور سر میں سمیٹ رکھا ہو۔
ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
کوئی سانس لینا بھی بھول گیا۔
فیضان صاحب کے الفاظ ان کے حلق میں اٹک گئے۔
رضیہ بیگم کی آنکھوں سے ایک چیخ بے آواز نکل گئی۔ یا اللہ…
اسوان بے اختیار اس کی طرف لپکا۔ زیدان… یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے؟ کہاں تھے؟
زیدان نے نظریں اٹھائیں۔
ایک لمحے کو پورے ہال پر اس کی نظر گئی…
پھر زیدان نے دھیرے سے کہا، کائنات کہاں ہے…؟
اور جیسے یہ الفاظ ہال کی فضا میں تحلیل بھی نہ ہوئے تھے کہ ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا۔
کائنات باہر آ گئی۔
اس کے ساتھ دعا اور زارا بھی تھیں۔ یقیناً انہی دونوں نے اسے خبر دی تھی کہ زیدان آ گیا ہے… اور وہ بھی اس حالت میں۔
زیدان کی نظریں کائنات پر جا ٹھہریں۔
اور وہیں رک گئیں۔
وہ بس اسے دیکھتا رہا۔
جیسے ہال، لوگ، آوازیں… سب کہیں غائب ہو گئے ہوں۔
اس لمحے زیدان کی آنکھوں میں صرف درد تھا۔ خالص، بے آواز درد۔
کائنات آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی شکوہ نہیں تھا، کوئی غصہ نہیں… صرف حیرت۔ جیسے وہ یہ مان ہی نہ پا رہی ہو کہ یہ سب حقیقت ہے۔ جیسے کوئی ڈراؤنا خواب ہو جس سے ابھی آنکھ کھل جانی ہے۔
کس سے لڑ کر آئے ہو تم اس حالت میں؟ فیضان صاحب کی چیخ ہال میں گونجی۔
مگر زیدان نے نہ سنا۔
نہ دیکھا۔
وہ اب بھی صرف کائنات کو دیکھ رہا تھا۔
زیدان، بولو نا؟ اسوان نے اس کے کندھے کو تھاما۔
کیا ہوا؟ یہ سب چوٹیں کیسے لگیں؟
مگر کسی کی بھی نظر کائنات پر نہیں گئی۔ سب کی نظر زیدان پر تھی، سب زیدان کے گرد جمع تھے… اس شخص کے گرد، جو اتنے زخموں کے باوجود اپنے پیروں پر کھڑا تھا۔
کائنات اس کے بالکل قریب آ گئی۔
اس کے ہونٹ کپکپائے۔ یہ… یہ کیسے ہوا؟
اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا محسوس کر رہی ہے۔ دکھ؟ خوف؟ غصہ؟
زیدان نے اس کی طرف دیکھا۔
پہلی بار اتنا قریب سے۔ پھر آہستہ سے بولا، میں بہت برا ہوں کائنات… ایک لمحے کا وقفہ۔
خوشیاں مجھے راس نہیں آتیں۔
یہ الفاظ نہیں تھے۔ اعتراف تھا۔
کائنات کی آنکھوں میں نمی بھر آئی۔ یہ مت کہیں…
اس نے بے اختیار اس کے لہولہان ماتھے کی طرف ہاتھ بڑھایا، پھر جیسے یاد آ گیا کہ سب دیکھ رہے ہیں، ہاتھ وہیں روک لیا۔
آپ کو چوٹ لگی ہے… اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
زیدان نے ہلکا سا مسکرا کر سر جھکا لیا۔
اور اگلے ہی پل
اس کی آنکھوں کے سامنے اچانک اندھیرا چھا گیا۔
زیدان کے قدم لڑکھڑائے، جسم نے ساتھ چھوڑ دیا، اور وہ سیدھا زمین کی طرف جھک گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ فرش سے ٹکراتا، اسوان نے فوراً آگے بڑھ کر اسے تھام لیا۔
زیدان…
اسوان کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی۔
زیدان کا سر اسوان کے بازو پر ڈھلک گیا۔ آنکھیں بند تھیں، چہرہ زرد پڑ چکا تھا، اور سانس بہت ہلکی ہو گئی تھی۔ وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔
ہال میں ایک دم کہرام مچ گیا۔
یا اللہ خیر…. رضیہ بیگم گھبرا کر آگے بڑھیں۔
کائنات کا دل جیسے رک سا گیا۔ وہ دو قدم آگے آئی، مگر اس کے پاؤں جیسے زمین میں گڑ گئے ہوں۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے زیدان کے چہرے کی طرف دیکھا… وہی چہرہ جو چند لمحے پہلے اس سے بات کر رہا تھا، اب بالکل خاموش تھا۔
انہیں کچھ نہیں ہوگا نا؟ کائنات کی آواز رندھ گئی۔
اسوان نے زیدان کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا، نہیں… لیکن ہمیں فوراً اسپتال جانا ہوگا۔
فیضان صاحب بھی قریب آ گئے تھے، مگر اس بار ان کے چہرے پر غصہ نہیں تھا… صرف خوف تھا۔
ان کے پیچھے ہادی آگے آیا۔ اس نے رکتے قدموں کے ساتھ کائنات کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز نرم تھی، جیسے جان بوجھ کر نرمی اوڑھی گئی ہو۔ آپ گھبرائیں نہیں…
اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا،
اور فکر کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ زیدان بالکل ٹھیک ہے، بس چھوٹی موٹی سی چوٹیں ہیں۔ پٹی ہو جائے گی تو واپس آ جائے گا۔
وہ اپنی بات مکمل کر کے تیزی سے ادھر سے نکل گیا۔
کائنات وہیں کھڑی رہ گئی.
اور پھر فیضان صاحب اور اسوان زیدان کو سنبھالتے ہوئے تیزی سے اسپتال کی طرف روانہ ہو گئے۔
ہال کے باہر گاڑیوں کے انجنوں کی آوازیں گونجیں اور چند ہی لمحوں میں وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔.
+++++++++++++
جب زیدان نے آنکھ کھولی تو وہ اپنے بیڈ پر موجود تھا۔ کمرے میں ہلکی سی مدھم روشنی تھی۔ سر بھاری تھا، اس نے ذرا سا ہلنے کی کوشش کی تو درد کی ایک لہر اس کے سر سے پاؤں تک دوڑ گئی۔ تب اسے احساس ہوا کہ اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی، پاؤں پر بھی سفید پٹی لپٹی تھی، اور اس کے کپڑے… وہ بھی بدل چکے تھے۔
اور پھر اس کی نظر کائنات پر جا ٹھہری۔
وہ اس کے برابر میں ہی بیڈ پر لیتی سو رہی تھی۔۔۔
زیدان اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
میرے بے ہوش ہونے کے بعد… کیا ہوا ہوگا؟
یہ خیال اس کے ذہن میں ابھرا۔
میں واقعی بہت بُرا ہوں….وہ دل ہی دل میں بولا۔
پھر اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔ اور انہی بکھرے ہوئے خیالوں کے ساتھ کائنات کے پاس ہونے کے عجیب سے سکون میں وہ دوبارہ نیند کی گہرائیوں میں اتر گیا۔
کچھ گھنٹے بعد۔۔۔
کمرے میں اذان کی آواز گونج رہی تھی۔
فضا میں ایک سکون، ایک بلاوا، ایک پکار تھی۔
اس نے آہستہ سے آنکھ کھولی۔
کن اک نظر سے ساتھ لیٹی اُس لڑکی کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی سو رہی تھی۔۔۔ لیکن اُس کے خیال میں وہ تو ہمیشہ فجر کے وقت اُٹھ جاتی تھی نہ ؟؟
کچھ لمحے گزرے، اذان ختم ہو چکی تھی… لیکن وہ ابھی تک سو رہی تھی،
ایک خیال بجلی کی طرح ذہن میں کوندا۔۔۔
شاید اس کی آنکھ ہی نہ کھلی ہو؟
وہ تھوڑا سا جھکا، آواز میں نرمی سمیٹ کر کہا،
اُٹھو… نماز کا وقت ہے…
جواب فوراً آیا،
میں نے نہیں پڑھنی نماز۔
چہرے کا رُخ دوسری طرف تھا۔۔۔
اُسے ایک لمحے کو حیرت ہوئی۔
کیوں؟ اُس نے سوال کیا۔
میری مرضی… نہیں پڑھنی بس۔
وہ رکا، لیکن خاموش نہ رہ سکا۔۔۔ تمہاری نماز قضا تو نہیں ہوتی؟
ایک لمحے کی خاموش، پھر سرد لہجہ، اب سے ہوگی۔
کیوں؟ سوال جیسے دل سے نکلا ہو، زبان سے نہیں۔
سو جائیں آپ۔ مجھ سے سوال نہ کریں۔
لیکن وہ چپ نہ رہ سکا۔
میں حق رکھتا ہوں تم سے سوال کرنے کا…
یہ جملہ نہیں تھا۔۔۔۔
یہ گویا کوئی چوٹ تھی، جو سیدھی دل پر لگی۔
کوئی جواب نہ آیا۔
بس کمرے میں خاموشی تھی۔
اور اُسے لگا… وہ رو رہی ہے۔ وہ چپ چاپ، بے آواز، اپنے تکیے میں منہ چھپائے…
تم کیوں رو رہی ہو۔۔۔ اُس نے سوال کیا۔۔۔
میں سو رہی ہوں۔۔۔ اُس نے جواب دیا۔۔۔
پھر وہ خاموش ہوگیا کچھ نہیں بولا سب غلطی ہی اس کی تھی، سارے کیے کرائیں گا قصور وار وہ تھا۔۔ اور اب کی بار اُس کی لڑکی کے آنسو کا بھی قصور وار وہ تھا۔۔۔ وہ سمجھ رہا تھا وہ اُس کی وجہ سے رو رہی ہے، کہ اُس نے ولیمہ خراب کردیا،
مگر کیا واقعی ولیمہ کائنات کے لیے اتنی اہمیت رکھتا تھا؟
یہاں کائنات تو ہادی کا سوچ کر رو رہی تھی،
اس لمحے کو یاد کر کے جب ہادی نے اسے تسلی دی تھی—کتنے ٹھہراؤ سے، کتنی نرمی سے بات کی تھی اس نے۔ اس کے لفظوں میں کوئی جبر نہیں تھا، کوئی حق جتانا نہیں تھا، صرف خالص ہمدردی تھی۔ لیکن کائنات کا کیا قصور تھا، جو وہ اُسے نہ ملا ؟ جو اللّٰہ نے اُس کی نہ سنی ؟؟ وہ چار سال تک اس شخص کے ساتھ کیسے رہے گی، اور پھر ڈاکٹر بننے کے بعد وہ کیا کرے گی ؟ ہادی تو پھر بھی اُسے ملے گا نہیں۔۔۔؟؟
یہی سوچیں تھیں جو کائنات کو توڑ رہی تھیں،
اور یہی وہ حقیقت تھی جس سے زیدان بے خبر تھا۔
+++++++++
چند مہینے گزر چکے تھے۔
آج کائنات کے رزلٹ کا دن تھا، اور وہ کالج کے احاطے میں موجود تھی۔ دل عجیب طرح سے گھبرا رہا تھا، دھڑکنیں بے ترتیب تھیں، مگر ہونٹوں سے ایک بھی دعا نہیں نکل رہی تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ اللہ سے مایوس ہو چکی تھی… یا شاید اس لیے کہ اب وہ خود کو دعا کے قابل ہی نہیں سمجھتی تھی۔
اب جو ہونا تھا، وہ اس کے کیے کا ہی نتیجہ نکلنا تھا۔
اس کے بالکل پاس ہی حرا کھڑی تھی، ہاتھ اٹھائے دعاؤں میں مصروف۔ جیسے ساری امیدیں اس نے اپنی دعاؤں میں سمیٹ لی ہوں۔
ویسے تو کائنات اور حرا دونوں کے پیپر کلیئر ہو چکے تھے، مگر ڈاکٹر بننے کے لیے کم از کم 80 فیصد نمبر ضروری تھے۔ یہ حقیقت مارک شیٹ ہاتھ میں آنے کے بعد ہی واضح ہونی تھی۔
اور کائنات کے لیے معاملہ ذرا اور سخت تھا، اسے اسی نہیں، نوے فیصد چاہیے تھے۔ اسکالرشپ بھی تو درکار تھی۔
مگر خیر…
جو بھی تھا، اب سامنے آنے والا تھا۔
حرا نے دعا ختم کی اور فوراً کائنات کی طرف مڑی۔ لاؤ، اپنا ایڈمٹ کارڈ دو۔ میں مارک شیٹ لے آتی ہوں، تمہاری بھی، اپنی بھی۔
کائنات نے بغیر کچھ کہے خاموشی سے اپنا ایڈمٹ کارڈ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
اور حرا تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔
کائنات کے دل کی دھڑکن اور تیز ہو گئی۔
ہر گزرتا لمحہ اس کے لیے بھاری ہوتا جا رہا تھا۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک حرا خوشی سے اچھلتی، ہنستی، تقریباً دوڑتی ہوئی باہر آئی۔
یاہووو۔۔۔۔ وہ چیخی،
کائنات! ناچو! خوشیاں مناؤ! اللہ نے ہماری سن لی! بس اب سمجھ لو، ہم ڈاکٹر بن گئے۔۔۔۔
کائنات چونک گئی۔ واقعی؟
اس کی آواز میں بے یقینی تھی۔ کتنے آئے ہیں؟ دکھاؤ مجھے۔۔۔۔
یہ لو۔۔۔۔ حرا نے مسکراتے ہوئے مارک شیٹ کائنات کی طرف بڑھا دی۔
کائنات کی نظریں فوراً فیصد پر جا ٹھہریں۔۔۔
81%
اکیاسی؟
وہ بے اختیار بولی۔ ہاں۔۔۔۔
حرا خوشی سے چہک اٹھی،
اور میرے چوراسی! کمال ہو گیا نا؟
کائنات کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ مجھے تو اس کی امید ہی نہیں تھی… وہ خالص خوشی سے بولی۔
حرا مسکرا دی۔ مجھے بھی نہیں تھی… مگر دیکھ لو، بس اللہ کا کرم۔
پھر فوراً بولی، چلو، جلدی گھر چلتے ہیں۔ گھر والوں کو یہ خوشخبری دینی ہے۔ پھر پارٹی۔۔۔۔
کائنات ہنس دی۔ ہاں، ٹریٹ تو بنتی ہے۔
بنتی نہیں، میں دوں گی۔۔۔۔
حرا نے شرارت سے کہا، سب کو دوں گی۔ فی الحال تو بس سیدھا گھر پہنچنا ہے۔
کائنات نے اثبات میں سر ہلایا۔ میں بھی۔
اور پھر وہ دونوں کالج کے گیٹ سے باہر نکل گئیں۔
+++++++++++
گاڑی میں بیٹھی کائنات بے حد خوش تھی۔۔وہ اپنی منزل کی طرف پہلا قدم رکھ چکی تھی۔ دل میں ایک عجیب سی روشنی تھی، جیسے برسوں بعد کسی اندھیرے کمرے میں کھڑکی کھلی ہو۔
مگر خوشی کے ساتھ ساتھ سوال بھی تھا۔
وہ سوچ رہی تھی… گھر جا کر سب سے پہلے یہ خوشخبری کس کو سنائے گی؟
کیا اس کے گھر میں کوئی اس خبر کا انتظار کر رہا ہوگا؟
نہیں…
ہرگز نہیں۔
گھر میں ایسا کوئی بھی تو نہیں تھا جو اس کی کامیابی کے خواب بُنتا ہو۔
اور جہاں تک ماں کی بات تھی۔۔۔ کائنات نے تو انہیں کچھ بتایا ہی نہیں تھا۔
ورنہ شاید…
شاید وہ انتظار کرتیں۔
خیر…
سوچتے سوچتے گاڑی گھر کے سامنے رک چکی تھی۔
کائنات اندر داخل ہی ہوئی تھی کہ عین اسی لمحے پیچھے سے پریشے بھی اندر آ گئیں۔
اسے دیکھتے ہی کائنات چونک گئی۔
آپ کہاں گئی تھیں؟
پریشے نے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے فوراً پلٹ کر پوچھا، یہ چھوڑو… یہ بتاؤ، کیا بنا؟
کس کا؟ کیا بنا؟ کائنات اندر کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔
پریشے بھی اس کے پیچھے آ گئیں۔ ارے رزلٹ کا۔۔۔
کائنات رک گئی۔ آپ کو کیسے پتا؟
پریشے مسکرا دیں۔ صبح تمہیں جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا میں نے۔ اور پیپر ختم ہونے کے بعد رزلٹ ہی آتا ہے نا؟ اب اتنے دن بعد کالج رزلٹ لینے ہی گئی ہوگئی، ہے نا؟
کائنات کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ہاں… اور میں پاس ہو گئی ہوں۔ اکیاسی فیصد آئے ہیں میرے۔
وہ یہ بات خالص خوشی سے بولی۔ ماشاءاللہ… پریشے نے دل سے دعا دی۔ پڑھو، لکھو، محنت کرو۔ ان شاء اللہ جلد ہی ڈاکٹر بن جاؤ گی۔
کائنات نے حیرت سے دیکھا۔ آپ کو یہ کیسے پتا کہ میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں؟
پری نے بتایا ہے۔
پری ٹھیک ہو گئی آپ کے ساتھ؟
پریشے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، نہیں… ویسی ہی ہے۔ کبھی اُکھڑی اُکھڑی، کبھی پیاری پیاری۔
آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گی۔ کائنات نے کہا
ہاں… پریشے نے آہ بھری، میں نے سب کر کے دیکھ لیا ہے۔ اب بس اس کے دل سے یہ شک نکالنا ہے کہ میں اس کی جگہ نہیں لے رہی۔ میرے ساتھ تو ٹھیک رہتی ہے، مگر جیسے ہی مجھے اسوان کے ساتھ دیکھتی ہے،
یا اسوان میرے بارے میں اسے سمجھاتے ہیں، وہ چڑھ جاتی ہے۔
کائنات نے نرمی سے کہا، اس کا ایک ہی حل ہے۔
جب تک آپ اس کے دماغ میں یہ بات کلئیر نہیں کریں گی کہ آپ اس کی جگہ نہیں لے رہیں، وہ ٹھیک نہیں ہو گی۔
پریشے نے اثبات میں سر ہلایا۔ ہاں… اب میں یہی کروں گی۔
اور وہ کیسے؟
پریشے ہلکا سا مسکرا دیں۔ وہ میرا مسئلہ ہے۔
پھر فوراً موضوع بدلتے ہوئے بولیں، خیر! اب پارٹی دو مجھے۔
کائنات چونکی۔ کس بات کی پارٹی؟
ارے بھئی، رزلٹ کی۔۔۔۔
نہیں… میں پارٹی کیسے دوں؟
پارٹی کیسے دیتے ہیں، کہیں باہر لے جا کر کُچھ اچھا کھلا کر،
کائنات نے سوچتے ہوئے کہا، یہ ٹھیک ہے… میں گھر میں آپکو کچھ اچھا سا بنا کر کھلا دونگی۔۔۔ مگر ابھی نہیں۔ ابھی میں بہت تھک گئی ہوں۔
ہاں ہاں… ابھی تو میں بھی بہت تھک گئی ہوں۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئیں۔
کائنات انہیں جاتا دیکھتی رہ گئی۔ لیکن یہ کہاں گئی تھیں جو تھک گئیں؟ میرے سوال کا جواب تو دیا ہی نہیں… مجھ سے سب پوچھ کر چلی گئیں۔۔۔۔
اور وہ وہیں کھڑی، مسکراتے ہوئے، سوچتی رہ گئی۔۔
کائنات ابھی سیڑھیوں کی طرف بڑھی ہی تھی کہ کچن سے زینب بیگم نکلتی ہوئی سامنے آ گئیں۔
کائنات! ذرا میری بات تو سنو۔
کائنات نے رک کر پلٹ کر دیکھا۔ جی؟
ذرا فریش ہو جاؤ، پھر میرے ساتھ مارکیٹ چلنا ہے۔
کائنات کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی۔ کیوں؟
کچھ سامان لینا ہے۔
میں بہت تھک گئی ہوں۔ آپ زارا کو ساتھ لے جائیں۔
زینب بیگم کا لہجہ فوراً بدل گیا۔ وہ مصروف ہے، تم چلو۔
کائنات نے گہری سانس لی۔ میں نہیں جا رہی۔
زینب بیگم کی آنکھیں تنگ ہو گئیں۔ تم جا رہی ہو یا نہیں؟
دیکھیے، پہلی بات تو یہ کہ میں ابھی کالج سے آئی ہوں، بہت تھک گئی ہوں۔ میں آپ کا سامان اٹھا کر آپ کے ساتھ مارکیٹ کے چکر نہیں لگا سکتی۔
سوری۔
ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
پھر زینب بیگم نے غصّہ کے ساتھ کہا، تم پھر سے مجھے انکار کر رہی ہو؟۔بھول گئی ہو کیا کہ تمہارے پاس انکار کی اجازت نہیں ہے؟
کائنات کا دل زور سے دھڑکا۔ مگر اس بار وہ پیچھے نہیں ہٹی۔
کیوں نہیں ہے؟
اس کی آواز میں لرزش تھی، مگر سوال صاف تھا۔
کیا میں انسان نہیں ہوں؟
زینب بیگم کا چہرہ سخت ہو گیا۔ زیادہ سوال جواب مت کرو۔ اور چپ چاپ میرے ساتھ چلو۔
زینب بیگم کی آنکھوں میں اچانک نفرت کی ایک تیز چمک ابھری۔تمہاری اوقات ہی کیا ہے اس گھر میں؟
وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولیں۔
بھولنا مت… تم یہاں صرف احسان پر ہو۔
کائنات کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ یہ لفظ اس کے لیے نئے نہیں تھے… مگر ہر بار پہلے کی طرح چبھ رہے تھے۔
میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی، وہ دھیمے مگر واضح لہجے میں بولی،
بس اتنا کہا ہے کہ میں تھک گئی ہوں۔ کیا اپنی تھکن بتانا بھی گناہ ہے؟
زینب بیگم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
اب زبان بھی چلنے لگی ہے تمہاری؟
کالج جا کر دو چار نمبر کیا لے آئیں، خود کو بہت بڑی سمجھنے لگیں ہو؟
کائنات کے دل میں چبھن سی ہوئی۔ نہیں میں صرف وہ کہہ رہی ہوں۔۔۔ جو صحیح ہے۔۔۔ میں تھک گئی ہوں، مُجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ، اور ویسے بھی میں اب آپ لوگوں پر احسان کرتے کرتے بھی تھک گئی ہوں۔۔۔
یہ جملہ سنتے ہی زینب بیگم جیسے آگ بگولا ہو گئیں۔
احسان؟ وہ اُسے آنکھیں نکل کر ایسے گھوری جیسے ابھی آنکھوں سے ہی اُسے جلا کر راگھ کر دیں گی۔۔۔
احسان تم ہم پر کرتی ہو؟ یا ہم تم پر کر رہے ہیں؟
کھانا، کپڑا، چھت… یہ سب کون دیتا ہے؟
ہم نے تمہیں پالا ہے، بڑا کیا ہے، اور تم ہمیں احسان جتا رہی ہو؟
کائنات کے ہونٹ کانپنے لگے۔
میں نے کب کہا کہ آپ نے کچھ نہیں کیا؟ میں نے صرف یہ کہا کہ میں تھک گئی ہوں… ہر وقت، ہر بات میں، ہر حکم پر سر جھکا کر… میں انسان ہوں، کوئی مشین نہیں۔۔۔۔
بس پھر تو جیسے آگ لگ گئی۔
اوہو۔۔۔ زینب بیگم ایک دم چیخیں،
بہت زیادہ چلنے لگی ہے نا تمہاری زبان؟
میں ابھی تمہیں بتاتی ہوں تم کیا ہو… اور کیا نہیں۔۔۔
وہ تیز قدموں سے آگے بڑھیں اور کائنات کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔
آؤ۔۔۔ انہوں نے جھٹکے سے کہا، آج میں تمہیں اچھے س بتا ہی دیتی ہوں تُم کیا ہو۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے۔۔۔ کائنات گھبرا کر بولی،
مگر زینب بیگم کی گرفت اور سخت ہو گئی۔
وہ اسے گھسیٹتی ہوئی کچن کی طرف لے گئیں۔
چولہا جل رہا تھا، دیگچی میں کھانا بن رہا تھا۔
کائنات کے دل میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ایسا مت کریں… اس کی آواز اب کانپ رہی تھی۔
اب ڈر لگ رہا ہے؟ زینب بیگم نے تلخی سے کہا،
جب زبان چلاتی تھیں تب نہیں لگا؟
انہوں نے کائنات کا ہاتھ آگے بڑھایا۔
نہیں۔۔۔۔ کائنات چیخی،
مگر اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ گرم برتن کے قریب لے جایا گیا۔
ایک تیز جلن…
ایک بے اختیار سسکی…
آہھ۔۔۔
کائنات کی چیخ کچن میں گونج گئی۔
زینب بیگم نے ہاتھ جھٹک کر چھوڑا۔ یہ یاد رکھنا۔۔۔۔ وہ غصے سے بولیں،
اگر دوبارہ انکار کیا نا… تو اس سے بھی بدتر ہوگا۔۔۔
کائنات دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، ہاتھ جل رہا تھا،
مگر سب سے زیادہ جو جل رہا تھا…
وہ اس کا دل تھا۔۔۔۔
++++++++++++
ہادی کھانا کھا کر دوبارہ ہسپتال جا چکا تھا۔..
زرتاشہ اپنے کمرے میں موجود تھی جب دروازہ آہستہ سے کھلا۔
ارسم اندر آیا۔
اسے دیکھتے ہی زرتاشہ چونک گئی۔
کیا اب پھر مجھے دھمکانے آئے ہو؟
اس کی آواز میں تلخی تھی، مگر آنکھوں میں گھبراہٹ۔
نہیں…
ارسم نے پرسکون انداز میں کہا اور بیڈ کے ساتھ رکھے سوفے پر بیٹھ گیا۔
پھر کیا کام ہے؟ زرتاشہ نے رخ موڑتے ہوئے پوچھا۔
مجھے ایک بات پتا چلی ہے…
اس کے لہجے میں عجیب سی حق دار نرمی تھی۔
کیا؟
یہ کہ… تم مجھے پسند کرتی ہو۔
یہ سنتے ہی زرتاشہ کو جیسے بجلی کا جھٹکا لگا۔
ایک لمحے کو زبان کانپی، دل زور سے دھڑکا… مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔
تمہیں کس نے کہا؟
بس… مجھے معلوم ہو گیا۔
کس سے؟
ارسم نے گہری سانس لی۔
تم نے کائنات پر الزام کیوں لگایا تھا؟
صرف اس لیے نا… کہ کائنات مجھے پسند کرتی تھی؟
زرتاشہ کی پلکیں تڑپیں۔
یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟
میں نے تمہاری اور دعا کی باتیں سن لی تھیں۔ پھر خود ہی اندازہ لگا لیا۔ اور سچ کہوں تو… میں تمہیں اتنا جانتا ہوں۔ جب تمہیں پتا چلا ہوگا کہ کائنات مجھے دعاؤں میں مانگ رہی ہے…
تو تم اگ بگولا ہوگئی ہوگی۔
اور پھر تم نے وہ قدم اٹھایا…
زرتاشہ نے گہرا سانس لیا۔
ہاں تو…؟
تو… ارسم نے اس کی طرف دیکھا۔ میں بھی تمہیں پسند کرتا ہوں۔
کیا؟ زرتاشہ کی آواز بے اختیار نکل گئی۔
ہاں۔ کاش تم ایک بار مجھ سے پوچھ لیتی۔
میری آنکھوں میں دیکھتی… کہ ان میں کس کا چہرہ بسا ہوا ہے۔
اُس نے مایوسی سے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔
زرتاشہ کی آواز بھرا گئی۔
لیکن جب بھی تم ہمارے گھر آتے تھے، تم مجھ سے زیادہ کائنات پر توجہ دیتے تھے۔ مجھے لگا… وہ تمہیں اچھی لگتی ہے۔
ارسم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
میں اس پر ترس کھاتا تھا، زرتاشہ۔ تم مجھے جانتی ہو… میرے معیار کو۔ وہ نہ میری ٹائپ کی تھی، نہ میری کلاس کی۔ اس نے ایک لمحہ رکا… پھر آہستہ آہستہ بولا میری کلاس کی لڑکی تم ہو۔
انٹیلیجنٹ، پرفیکٹ، اعلیٰ ذوق، نفیس انداز،
بات کرنے کا اسٹائل، تمہارا فیشن سینس…
اور اوپر سے تمہاری خوبصورتی،
ایسی کہ دنیا رشک کرے۔
تم مکمل ہو… بالکل مکمل۔
زرتاشہ دم سادھے سنتی رہی۔
ہر لفظ اس کے دل میں اترتا گیا…
جیسے برسوں کی پیاس کو ایک دم پانی مل گیا ہو۔
ارسم اب بھی بول رہا تھا۔۔۔۔
میری پسند ہمیشہ سے تم رہی ہو۔
لیکن مجھے لگا تم مجھے پسند نہیں کرتیں۔
اور اسی غلط فہمی میں… سب کچھ برباد ہو گیا۔
مجھے تمہیں بہت پہلے پروپوز کر دینا چاہیے تھا۔
زرتاشہ نے دھیرے سے پوچھا
تو اب یہ سب مجھے کیوں کہہ رہے ہو؟
ارسم اٹھا۔
چند قدم چلتا ہوا اس کے قریب آ گیا۔
کیونکہ میں چاہتا ہوں… کہ تم مجھے قبول کر لو۔
کیا؟ زرتاشا چونکی
ہاں۔ اُس نے نرمی سے کہنا شروع کیا۔۔۔
تم ہادی سے طلاق لے لو… اور میرے ساتھ اپنی دنیا بسا لو، جیسے تم ہمیشہ سے چاہتی تھیں۔
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔
اور زرتاشہ… جسے زندگی نے پہلی بار
اس کی چاہت، اس کی محبت اور اس کا خواب
سب ایک ساتھ لا کر دے دیے تھے۔۔۔۔
+++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔

1 Comment
What the hell!! Ye arsaaaam kr kay raha ha zartasha se bdla le rha ha ya hadiiii ko zaleel kre ga ye uff!!!