تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۵
کافی دیر گزر چکی تھی،
مگر کائنات اب تک کمرے میں نہیں آئی تھی۔
زیدان نے پہلے انتظار کیا…
پھر بے چینی نے صبر توڑ دیا۔
وہ کمرے سے باہر نکلا اور بلند آواز میں پکارا،
کائنات… کائنات۔۔۔۔
ایک ملازمہ ڈرتے ڈرتے اس کے قریب آئی۔
جی صاحب… وہ… وہ کچن میں ہیں…
زیدان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
کچن میں؟ وہاں کیا کر رہی ہے؟
ملازمہ نے نظریں جھکا لیں۔ جی… رو رہی ہیں…
کیا؟ کیوں؟ یہ کہتے ہی وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا کچن کی طرف بھاگا۔
کچن میں داخل ہوتے ہی اس کے قدم رک گئے۔
کائنات فرش پر بیٹھی تھی… آنکھیں سرخ، سانس بے ترتیب۔ اس کے پاس مارک شیٹ پڑی تھی، اور ایک ہاتھ… جو بری طرح جلا ہوا، لال ہو چکا تھا۔
یہ کیا ہو گیا؟ ادھر آؤ۔۔۔
وہ لپک کر اس کے پاس پہنچا،
اس کا جلا ہوا ہاتھ تھاما اور اسے کھڑا کیا۔
پھر مارک شیٹ اٹھائی۔۔۔ اور اسے ساتھ لیے کچن سے باہر نکل آیا۔ وہ اسے اپنے کمرے میں لے آیا، بیڈ پر بٹھایا اور خود میڈیسن باکس اٹھا لایا۔ میڈیسن باکس کھول کر وہ رک گیا۔ کئی کریمیں تھیں…
کوئی موچ کی، کوئی درد کی، کوئی بام۔
مگر جلے ہوئے ہاتھ کے لیے کون سی؟
وہ الجھ گیا۔ ایک کریم اٹھائی،
کائنات کی طرف دیکھ کر پوچھا، یہ لگا دوں؟
کائنات نے نفی میں سر ہلا دیا۔
اس نے دوسری اٹھائی۔ یہ…؟
پھر نفی۔
تیسری کریم اٹھائی۔
یہ؟
اس بار کائنات نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
زیدان نے آہستگی سے کریم اس کے ہاتھ پر لگانی شروع کی۔ پھر دھیرے سے پوچھا، یہ کیسے ہوا؟
کائنات خاموش رہی۔
مجھے بتاؤ… ہاتھ کیسے جلا؟
کوئی جواب نہیں۔
کائنات… بتاؤ۔۔
وہ پھر بھی خاموش رہی۔
زیدان مسلسل پوچھتا رہا، اور وہ مسلسل خاموش۔
آخرکار… وہ ٹوٹ گئی۔ اور سب کچھ بتا دیا۔
ایک لمحے کو زیدان کے اندر آگ سی لگ گئی۔
غصہ… شدید غصہ۔ مگر اس نے خود کو قابو میں رکھا۔
چچی اور گھر والوں سے وہ بعد میں نمٹ لے گا۔
اس وقت… اسے کائنات کو سنبھالنا تھا۔
دیکھو… اس کی آواز نرم مگر مضبوط تھی۔
صبر کرنا اور ظلم برداشت کرنا۔۔ یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ اور میں تمہیں صاف بتا رہا ہوں، جب تک تم خود اپنے لیے اسٹینڈ نہیں لو گی، کوئی بھی تمہارے لیے نہیں لے گا۔
کائنات کی آواز کانپ گئی۔
میں نے لیا تھا… میں نے کہا تھا مجھے نہیں جانا…
صرف کہنا کافی نہیں ہوتا۔
تمہیں وہ کچن کی طرف کیسے لے کر گئیں؟
تم انہیں دھکا دے سکتی تھیں۔
کائنات کی آواز بھیگ گئی۔
میں… میں ایسا نہیں کر سکتی۔ مجھے نہیں آتا۔ میں ڈر گئی تھی۔ انہوں نے مجھ پر… اتنے احسان کیے ہیں…
زیدان نے فوراً کہا، کس نے کہا تم پر کسی نے احسان کیا ہے؟
کیا نہیں کیا؟ انہوں نے مجھے اور اماں کو رکھا،
کھلایا، پلایا…
تو وہ ان کا فرض تھا۔ اب سنو… وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ پہلی بات تمہاری ماں اس گھر کی بیٹی ہیں۔ دوسری بات اس گھر میں ان کا پورا حق بنتا ہے، جو تم دونوں نے کبھی لیا ہی نہیں۔
کائنات نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
یہ گھر، یہ کاروبار، یہ جائیداد سب میرے دادا کی ہے۔ اور باپ کی جائیداد میں بیٹی کا حصہ ہوتا ہے۔
اگر تم دونوں اپنا حصہ لو، تو اتنا ہوگا کہ ساری زندگی عزت سے گزار سکو۔ اور اگر وہ پیسہ بزنس میں لگاؤ، تو سمجھو زندگی محفوظ ہو گئی۔
وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا،
اور اگر یہ لوگ تمہیں رکھے ہوئے ہیں، تو اس سب پر تمہارا حق ہے۔ تم بھی دادی کی نواسی ہو۔ جیسے میں ان کا پوتا ہوں۔ تم کوئی غیر نہیں ہو۔
وہ اتنا زیادہ بولنے کا عادی نہیں یہاں لیکن اج وہ بول رہا تھا۔۔صِرف بول نہیں وہ سمجھ جارہا تھا۔۔
کائنات کی آنکھوں میں سوال تیرنے لگے۔
پھر… یہ لوگ احسان کیوں جتاتے ہیں؟
زیدان نے سیدھا جواب دیا۔
کیونکہ تم جتانے دیتی ہو۔
پھر ذرا رکا…۔اور آہستہ سے بولا، اور اب تو… تم میری بیوی بھی ہو۔
میری بیوی… یہ لفظ سنتے ہی کائنات نے بے اختیار اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ سنجیدہ تھا… بہت سنجیدہ۔
تو اب اس گھر میں۔ تمہاری وہی حیثیت ہے۔جو پریشے بھابھی کی ہے۔ ان کی سب عزت کرتے ہیں نا؟ تو تمہاری بھی کریں گے۔ کوئی تمہیں ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کرے گا…
کائنات کے لب ہلکے سے کپکپائے۔ لیکن…
زیدان نے فوراً اس کی بات کاٹ دی، آواز میں ٹھہراؤ تھا، یقین تھا۔
دیکھو کائنات… میں تمہارے ساتھ ہوں۔ آگے بھی… پیچھے بھی… اور تمہارے برابر بھی۔
وہ ذرا سا جھکا،
تُم اب اکیلی نہیں ہو۔۔ تم مجھے کہو گی تو میں تمہارے لیے اسٹینڈ لوں گا، تمہارے آگے کھڑا ہو جاؤں گا۔ تو میں ہوجاؤں گا۔۔۔ تم کہو گی تو تمہارے پیچھے، تمہیں سہارا دینے کے لیے کھڑا رہوں گا۔ تو میں تُمہارے پیچھے کھڑا ہوجاؤں گا۔۔۔
اور اگر تم کہو گی، تو میں تمہارے ساتھ تمہیں سپورٹ کرنے کے لیے کھڑا رہوں، تو میں تُمہارے ساتھ کھڑا ہوجاؤں گا۔۔۔
زیدان نے نرم مگر پُر یقین لہجے میں کہا، تم وہی کرو جو تمہارا دل کہتا ہے، کائنات۔ جو تمہارا دل چاہے۔
تمہیں کسی کے آگے دب کر جینے کی ضرورت نہیں ہے، نہ ہر بات سننے کی، نہ ہر حکم ماننے کی۔
کائنات اُسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ یہ پہلی بار تھا… واقعی پہلی بار کہ اُسے اس کی باتیں اچھی لگ رہی تھیں۔ اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ اس کے الفاظ اسے اپنے بابا کی یاد دلا رہے تھے۔ بچپن میں وہ بھی تو یہی کہتے تھے،
جو دل چاہے وہ کرنا، میں تمہارے آگے بھی ہوں، پیچھے بھی… ہر جگہ تمہارے ساتھ ہوں۔
اس کے دل میں کہیں بہت گہری جگہ پر ایک دبی ہوئی کسک جاگ اُٹھی۔
زیدان نے بات جاری رکھی،
اور ایک بات اور سن لو… اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ تم ہر حکم مان کر، ہر بات برداشت کر کے صبر کر رہی ہو تو یہ صبر نہیں ہے، کائنات۔
زیدان نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا،
صبر وہ نہیں ہوتا، کائنات، جو انسان مجبوری میں کرے۔ جو خوف کی وجہ سے کیا جائے، یا احسان کے بوجھ تلے دب کر اختیار کیا جائے۔
وہ ایک لمحہ رکا، جیسے خود بھی لفظوں کو تول رہا ہو۔
صبر وہ ہوتا ہے، جو انسان اختیار کے ساتھ کرے۔
جب وہ بول بھی سکتا ہو، روک بھی سکتا ہو،
مگر پھر بھی برداشت کرے، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔
کائنات کی پلکوں پر نمی تیرنے لگی۔
تم جو کر رہی ہو، وہ برداشت ہے، خاموشی ہے، اور خود کو مٹا دینے کی کوشش ہے۔ یہ صبر نہیں ہے۔
اس نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔
اور یاد رکھو… اللہ بھی اُس خاموشی کو پسند نہیں کرتا جس میں انسان پر ظلم ہو رہا ہو اور وہ خود کو بے بس سمجھ کر چپ رہ جائے۔
کائنات کے دل میں جیسے کوئی بند دروازہ چرچرا کر کھلنے لگا ہو۔
تمہیں اپنی عزت کے لیے بولنا ہوگا، کیونکہ جب تک تم خود اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرو گی، کوئی اور بھی نہیں کرے گا۔..
زیدان نے ہلکے مگر حکم دینے والے انداز میں کہا،
اچھا، اب اُٹھو۔ فریش ہو جاؤ، کپڑے بدلو…
اور فریش ہو کر نیچے آ جانا۔
یہ کہہ کر وہ خود اُٹھا، چند قدم پیچھے ہٹا
اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
کائنات بھی پھر اُٹھ کر واشروم میں کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
نیچے آتے ہی اس کی نظریں لاشعوری طور پر چاروں طرف زینب بیگم کو تلاش کرنے لگیں۔ اور جیسے اتفاق کو اسی لمحے ہونا تھا، وہ اسے کچن میں نظر آ گئیں۔
زیدان سیدھا کچن کی طرف بڑھا۔۔۔
اور اندر قدم رکھتے ہی بے ساختہ بولا، ہیلو…
زینب بیگم چونک کر پیچھے مُڑیں۔ کیا ہے؟
لہجے میں وہی پرانی سختی موجود تھی۔
زیدان نے پرسکون انداز میں پوچھا، آپ کیا بنا رہی ہیں؟
زینب بیگم نے چولہے کی طرف متوجہ رہتے ہوئے کہا،
اپنے لیے الگ سالن۔ یہ اماں بھی نا… روز ملازمہ کو وہی چیزیں پکانے کو کہتی رہتی ہیں جو مجھے بالکل پسند نہیں۔
زیدان نے ذرا جھک کر دیکھا۔ واقعی سالن تقریباً تیار تھا۔ کڑاہی ابھی ابھی چولہے پر چڑھائی گئی تھی،
اور اس میں تیل آہستہ آہستہ گرم ہو رہا تھا۔
مگر زیدان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔
کہ زینب بیگم آخر بنا کیا رہی تھیں۔
اس نے نظریں واپس اُن کے چہرے پر جمائیں۔۔۔
وہ بدستور بے پرواہ انداز میں چمچ ہلا رہی تھیں۔
تیل کافی گرم ہو گیا ہے، زیدان نے بظاہر عام سے لہجے میں کہا۔
زینب بیگم نے لاپرواہی سے جواب دیا، ہاں، بس اب گوشت ڈالنا ہے۔
زیدان ایک قدم آگے بڑھا۔ اس کا لہجہ اب بھی پرسکون تھا، لیکن آنکھوں میں کچھ ایسا تھا، جو زینب بیگم محسوس نہ کر سکیں۔
چلیں، میں مدد کر دیتا ہوں۔
زینب بیگم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
تم؟ ہلکی سی تمسخر آمیز مسکراہٹ۔ تمہیں کچن کے کام کب سے آنے لگے؟
زیدان نے جواب نہیں دیا۔ بس خاموشی سے کڑاہی کے قریب آ کھڑا ہوا۔
اگلے ہی لمحے اس نے اچانک زینب بیگم کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
ارے یہ کیا بدتمیزی ہے؟!
زینب بیگم کی آواز بلند ہوئی۔
مگر زیدان کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھی۔
بدتمیزی؟ زیدان نے دھیرے سے کہا، نہیں چچی… یہ بدتمیزی نہیں ہے۔۔
اور پھر اس نے ان کا ہاتھ آگے بڑھایا۔ اور زینب بیگم کا ہاتھ گرم تیل کے کڑائی میں ڈال دیا۔۔۔
تیل کی تیز گرمی نے چھوا، ایک جھٹکا، ایک تیز جلن
آہھ! زینب بیگم کی چیخ کچن میں گونج گئی۔
زیدان نے فوراً ہاتھ چھوڑ دیا۔
بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے کائنات کا ہاتھ جھٹک کر چھوڑا تھا۔
زینب بیگم پیچھے ہٹیں، آنکھوں میں خوف، چہرے پر درد اور حیرت اکٹھی جم گئی۔
تم پاگل ہو گئے ہو؟! وہ کانپتی آواز میں بولیں۔
زیدان سیدھا کھڑا تھا۔ چہرے پر کوئی غصہ نہیں، بس ایک سرد، ٹھہرا ہوا سکون۔
نہیں، اس نے آہستگی سے کہا، میں بس آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا تھا، کہ جلنے کا درد کیسا ہوتا ہے۔
وہ ایک قدم قریب آیا۔
کائنات کوئی چیز نہیں ہے، کوئی بوجھ نہیں، اور نہ ہی کسی کے احسان تلے دبی ہوئی مخلوق۔
وہ میری بیوی ہے۔
اس کی آواز اب سخت ہو چکی تھی۔
اور یاد رکھیے، آئندہ اگر اُس کے ہاتھ پر یا اُس کی زندگی پر کسی قسم کی آنچ آئی۔ تو یہ صرف ہاتھ نہیں جلے گا۔
زینب بیگم کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاگل کہیں کے… وہ چیخیں، تمہیں میں ابھی بتاتی ہوں…
ان کا چمچ پکڑا ہوا ہاتھ پوری قوت سے اوپر اٹھ گیا۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ زیدان کے چہرے تک پہنچتا، زیدان نے فوراً ان کی کلائی مضبوطی سے پکڑ لی۔ نہ کوئی جھٹکا تھا، نہ زور آزمائی، بس ایسی گرفت تھی جس میں روک بھی تھی اور حد بھی۔
بھولیے مت…
وہ ایک ایک لفظ واضح ادا کرتے ہوئے بولا،
میں زیدان ہوں،۔۔
زینب بیگم نے جھٹکا دینے کی کوشش کی، مگر گرفت اور مضبوط ہو گئی۔
اپنی حد میں رہیے، ورنہ میں یہ پورا تیل والا کڑاہی
آپ کے اوپر اُلٹ دوں گا۔
یہ کہہ کر اس نے ان کی کلائی ایک جھٹکے سے چھوڑ دی۔ زینب بیگم پیچھے لڑکھڑا گئیں۔۔۔
آج کے بعد اگر کائنات کی آنکھ سے ایک آنسو بھی آپ کی وجہ سے گرا نا۔۔۔
وہ لمحہ بھر رکا، پھر سرد نظروں سے انہیں دیکھا۔
تو میں بتا رہا ہوں… پھر اچھا نہیں ہوگا۔
اور اگلے ہی لمحے وہ کچن سے باہر نکل گیا۔۔۔
++++++++++++
زرتاشہ چند لمحے ارسم کو دیکھتی رہی، پھر دھیمے مگر واضح لہجے میں بولی،
اگر تم یہ بات ہادی کے میری زندگی میں آنے سے پہلے کہتے نا، تو میں خوشی خوشی تمہیں ہاں کہہ دیتی۔
مگر اب… اب میں ہادی کی بیوی ہوں۔
اور میں تمہارا پروپوزل قبول نہیں کر سکتی۔
آئی ایم سوری، ارسم۔
پھر وہ ذرا رکی، جیسے کوئی ادھورا جملہ خود سے چھپانا چاہتی ہو،
اور ہاں… میں تمہیں پسند کرتی تھی۔
مگر کرتی تھی… اب نہیں کرتی۔
ارسم کے چہرے پر ایک لمحے میں ناگواری اور صدمہ اکٹھا اتر آیا۔
لیکن… کیوں؟
زرتاشہ نے گہری سانس لی۔
“ہادی کے آنے سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ حسن ہی سب کچھ ہے۔ پیسہ ہی سب کچھ ہے۔
اسٹیٹس، بڑا خاندان، بڑا نام، بڑا رعب… یہی زندگی کی کامیابی ہے۔
وہ مسکرائی، مگر اس مسکراہٹ میں خود پر ہلکا سا افسوس تھا۔
مگر میں غلط تھی، ارسم۔
اصل اہمیت انسان کے اخلاق کی ہوتی ہے،
اس کے دل کی، اور اس بات کی کہ وہ دوسروں کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔
وہ لمحہ بھر رکی، پھر بولی،
ہادی نے شادی والی رات مجھ سے کہا تھا،
تم وہ لڑکی ہو جس پر لوگ رشک کرتے ہیں… مگر سچ کہوں تو رشک کرنے والی بات مُجھے میں، میرے حسن کے سوا کچھ بھی نہیں۔’
زرتاشا نے ہلکی سی سانس لی، جیسے کچھ باتیں ذہن میں لانے کی کوشیں کر رہی ہوں۔۔۔
پھر میں نے ایک دن اس سے پوچھا…
اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔
ہادی… وہ کون سی عورت ہوتی ہے جس پر رشک کیا جاتا ہے؟
ارسم خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
زرتاشا کی آنکھوں کے سامنے وہ لمحہ زندہ ہو گیا۔
ہادی نے ذرا سا مسکرا کر کہا تھا،
وہ عورت جس پر رشک کیا جائے، زرتاشا،
اُس کا سب خوبصورت ہونا ضروری نہیں ہوتی۔
اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا۔
وہ عورت وہ ہوتی ہے…
جس کے دل میں کسی کے لیے حقارت نہ ہو،
جس کی زبان کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہ چلے،
جو اپنے حسن پر غرور نہیں
بلکہ اپنے رب کی نعمت سمجھ کر شکر کرے۔
زرتاشا کی آواز بھر آئی۔
ہادی نے کہا تھا…
جس عورت کے ہاتھ کسی کو زخمی کرنے کے بجائے
کسی کا ہاتھ تھامنا جانتے ہوں،
جس کی آنکھیں دوسروں کی کمزوریاں تلاش نہ کریں
بلکہ ان کا پردہ بن جائیں۔۔
اصل رشک اسی عورت پر کیا جاتا ہے۔
وہ لمحہ بھر رکی۔
اور اُس دن… پہلی بار
مجھے اپنے آپ سے شرمندگی محسوس ہوئی تھی، ارسم۔
ارسم کی نظریں تیز ہوگئی۔۔۔
مجھے احساس ہوا
کہ میں جس چیز پر فخر کرتی رہی،
وہ تو فانی تھا۔
اور جس چیز کو میں نے کبھی اہم ہی نہیں سمجھا،
وہی اصل دولت تھی۔
زرتاشا نے سیدھا اس کی طرف دیکھا۔
ہادی نے جب کہا کہ میں وہ عورت ہوں
جس پر رشک کیا جائے…
وہ لمحہ بھر کو رکی،
تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا، کہ میں ویسی ہوں،
بلکہ یہ کہ وہ مجھے ویسا سمجھتا ہے۔
اس کی آواز ذرا لرز گئی۔
یہ سوچ کر میری روح کانپ جاتی ہے ارسم…
کہ کوئی مجھے اتنا بہتر سمجھتا ہے
جتنا میں خود کو بھی نہیں سمجھ پائی تھی۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹی، جیسے خود کو سمیٹ رہی ہو۔
وہ مجھ پر مان کرتا ہے۔ ارسم
اور میں…
اس مان کو توڑنا نہیں چاہتی۔
وہ کہتا ہے کہ میں ایک بہتر عورت ہوں…
تو پھر میں ایک بہتر عورت بن کر اُسے دکھاؤں گی۔
میں اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی نہیں کروں گی۔
نہ خیال میں، نہ لفظ میں، نہ عمل میں۔
کیونکہ جو مان مجھے اُس نے دیا ہے،
میں اُسے توڑ کر خود کو چھوٹا نہیں کرنا چاہتی۔
جب وہ اپنی بات کہہ کر رکی تو اس کی نظر ارسم پر پڑی۔ ارسم کی آنکھوں میں اب وہ چمک نہیں تھی
جو کچھ لمحے پہلے تک تھی۔ وہ خواہش نہیں…
وہ نرمی نہیں… بلکہ اب وہاں کچھ اور تھا۔
کچھ ٹھنڈا۔ کچھ تلخ۔
ارسم نے ہلکا سا مسکرا کر کہا،
مگر وہ مسکراہٹ آنکھوں تک نہیں پہنچی۔
لیکن افسوس، زرتاشا…
تم ویسی کی ویسی ہی عورت ہو۔
زرتاشا کے دل میں جیسے کسی نے ایک پل کو نوچ لیا۔
ارسم کی آواز میں اب نرمی نہیں تھی،
بلکہ ایک عجیب سا طنز تھا۔
سوچو ذرا…
جب ہادی کو سب کچھ پتا چلے گا نا،
تو پھر کیا ہو گا، زرتاشا؟
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر آہستہ مگر کاٹ دار لہجے میں بولا،
تمہاری یہ ساری وفاداری، یہ سارا اخلاق، یہ سارا بہتر بننے کا دعویٰ… تب بھی قائم رہے گا؟
زرتاشا نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔
ارسام۔۔۔۔
وہ نام لیتے ہوئے رک گئی۔ اس کا چہرہ… واقعی بدل چکا تھا۔ آنکھوں میں اب محبت نہیں تھی، وہاں نفرت تھی صِرف نفرت۔۔۔
اچھا… اگر اس طرح نہیں تو اس طرح ہی سہی۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا، آنکھوں میں سختی ابھر آئی۔
میں جا رہا ہوں، ہادی کو سب کچھ سچ سچ بتانے۔
زرتاشا کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رُکی۔
اور تمہاری طلاق…. وہ دانت بھینچ کر بولا،
وہ تو میں کروا کے رہوں گا۔
یہ کہتے ہی وہ مڑا اور بغیر پیچھے دیکھے کمرے سے نکل گیا۔
++++++++++++
ڈرائنگ روم میں اس وقت عجیب سا ہنگامہ برپا تھا۔
زینب بیگم کی چیخ و پکار نے پہلے ہی سب کو اکٹھا کر لیا تھا۔ وہ رو رو کر اپنی صفائیاں پیش کر رہی تھیں، کبھی ہاتھ اٹھا کر، کبھی سینہ پیٹ کر۔
بس انتظار تھا تو صرف زیدان اور کائنات کا۔
اسوان کے سوا گھر کے سب افراد موجود تھے۔ اسے کئی بار فون کیا گیا تھا، مگر اس نے صاف انکار کر دیا تھا کہ وہ آفس میں مصروف ہے۔
اور پھر…
دروازہ کھلا۔
زیدان اندر داخل ہوا، اس کے ساتھ کائنات تھی۔
کائنات کے قدم ہلکے تھے، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
آپ نے کیا کیا ہے؟
اس نے آہستہ سے زیدان کے کان کے قریب سرگوشی کی۔
کچھ نہیں، زیدان نے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا،
بس نظریں نیچی رکھو اور خاموشی سے میرے پیچھے کھڑی رہو۔
عدنان صاحب کی سخت آواز گونجی۔
یہ کیا حرکت ہے زیدان؟
زیدان نے سیدھی نظر اٹھا کر دیکھا۔
نظر نہیں آ رہا آپ کو؟
کیا عدنان صاحب چونکے۔
میری حرکت۔ زیدان کا لہجہ ٹھنڈا تھا،
فیضان صاحب فوراً بول پڑے۔
نظر آ رہا ہے، اسی لیے پوچھ رہے ہیں! یہ سب کیوں کیا؟
جو جیسا کرتا ہے، ویسا ہی بھرتا ہے۔ زیدان نے عام سے لہجے میں کہا
بکواس بند کرو۔۔۔ فیضان صاحب غصے سے دھاڑے،
ورنہ ایک تھپڑ لگا دوں گا۔۔۔
زیدان ایک قدم آگے بڑھا۔ لگا کر دکھائیے۔
بےتمیزی مت کرو۔۔۔۔ فیضان صاحب چیخے۔
رضیہ بیگم نے فوراً ٹوکا۔
اے! تو چپ رہ، میرے کو بات کرنے دے۔۔۔
فیضان صاحب تلخ ہو گئے۔
آپ لوگوں نے اسے سر پر چڑھا رکھا ہے، بالکل اپنی ماں پر گیا ہے، ایک نمبر کا ڈھیٹ۔۔۔
زیدان کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
میری ماں کے خلاف ایک لفظ بھی اور نہیں بولیے گا ورنہ میں لحاظ نہیں کرونگا۔۔۔
یہ لحاظ ہے؟ فیضان صاحب نے طنز کیا۔۔۔۔
ہاں، زیدان نے دانت بھینچ کر کہا،۔ورنہ میں بات کم اور ہاتھ زیادہ چلاتا ہوں۔
فیضان صاحب غصے میں صوفے سے اٹھے، مگر رضیہ بیگم نے صرف ایک نظر ڈال کر انہیں بٹھا دیا۔
میرے کو بولنے دے گا یا نہیں؟ وہ جھنجھلا کر بولیں۔
پھر زیدان کی طرف متوجہ ہوئیں۔
اچھا تو بتاؤ، تم نے زینب کا ہاتھ کیوں جلایا؟
کیونکہ انہوں نے میری بیوی کا ہاتھ جلایا تھا۔
یہ سنتے ہی رضیہ بیگم نے زینب بیگم کی طرف پلٹ کر دیکھا۔
اے! تُو نے کائنات کا ہاتھ جلایا؟!
ہاں! زینب بیگم نے تڑخ کر کہا، یہ مجھ سے بدتمیزی کرتی ہے، زبان چلا رہی تھی۔۔۔
میری بیٹی کسی سے بدتمیزی نہیں کرتی۔۔۔ مریم بیگم پہلی بار بولیں۔
تم چپ رہو۔۔۔ زینب بیگم نے جھڑک دیا۔
زیدان فوراً آگے آیا۔
آپ چپ رہیں۔ میری بیوی بدتمیزی کرے یا نہ کرے، کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کا ہاتھ جلائے۔
کائنات خاموش کھڑی تھی۔ دل سینے میں بےقابو ہو رہا تھا۔ وہ اب تک اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہی تھی کہ زیدان نے واقعی… زینب بیگم کا ہاتھ جلایا تھا۔
عدنان صاحب نے بھاری آواز میں کہا،
جو بھی ہو زیدان، یہ غلط تھا۔
زیدان کی نظر سیدھی ان پر جم گئی۔
مُجھے پر غصّہ آرہا ہے نہ اس وقت؟ کہ میں نے آپکی بیوی کا ہاتھ جلا دیا، مجھے اس سے کہیں زیادہ غصّہ آیا تھا، جب مجھے پتا چلا کہ میری بیوی کا ہاتھ صرف اس لیے جلایا گیا کہ اس نے مارکیٹ جانے سے انکار کیا تھا۔
فیضان صاحب بول اٹھے۔ تو کیا ہوا؟ وہ بڑی ہے! اور کائنات نے ہی کوئی بدتمیزی کی ہوگی۔۔۔
ابا، چپ ہو جاؤ۔۔۔ زیدان چیخا ورنہ میں ضبط کھو بیٹھوں گا۔ آپ لوگوں نے میری ماں کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ اس وقت میں چھوٹا تھا، ناسمجھ تھا، مگر اب… اب میں اپنی بیوی کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔
زیادتی کونسی زیادتی کی ہے میں نے تمہاری ماں کے ساتھ، میں نے تمہاری ماں کو سب کچھ دیا۔۔۔ فیضان صاحب چیخے۔
سوائے عزت کے۔۔۔۔ زیدان کا جواب ایک وار کی طرح تھا۔
زینب بیگم نے تلخی سے کہا، مجھے سمجھ نہیں آتی آپ سب نے اس پاگل کو گھر میں رکھا ہُوا ہے کیوں ہے ؟ نکلے اسے باہر۔۔۔
میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ نہ مجھے اس گھر میں رتی برابر بھی دلچسپی ہے، نہ آپ لوگوں میں۔
پھر اس کی نظر راضیہ بیگم پر گئی،
اور ہاں دادی… آپ بھی سن لیں،۔اور باقی سب بھی۔ آج جو ہو گیا، ہو گیا۔
آئندہ… میری بیوی پر آپ لوگوں کی طرف سے
ایک خراش بھی آئی نا تو میں برداشت نہیں کروں گا۔
ڈرائنگ روم کی خاموشی اب کائنات کے کانوں میں شور بن چکی تھی۔ ہر لفظ، ہر آواز، ہر الزام… سب اس کے اندر کہیں گونج رہا تھا۔ وہ اب بھی زیدان کے پیچھے کھڑی تھی، نظریں جھکی ہوئی تھیں، مگر اس جھکاؤ میں اب وہی کمزوری نہیں تھی جو کچھ دیر پہلے تک تھی۔
اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ہتھیلی جل رہی تھی… مگر اس جلن سے زیادہ اس کے اندر کچھ اور جل رہا تھا۔ کوئی ڈر… کوئی بے بسی… کوئی وہ پرانی عادت جو اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتی تھی۔
آج پہلی بار جب کسی نے اس کے لیے آواز بلند کی تھی،
تو اسے احساس ہوا کہ وہ واقعی اکیلی نہیں ہے۔
اسے یاد آیا
وہ سب لمحے جب اس نے خاموشی کو صبر سمجھا تھا،
جب اس نے ہر زخم کو “میری ہی غلطی ہو گی” کہہ کر دل میں دفن کر دیا تھا۔
اور آج… کسی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا
کہ یہ صبر نہیں تھا۔ یہ ظلم تھا۔
اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔۔
جب وہ اپنے ہوش کی دنیا میں پوری طرح واپس آئی،
تو کائنات نے دیکھا زیدان نے اُس کا دوسرا ہاتھ تھاما اور کسی کو کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا۔
آگے آگے زیدان…
اور اس کے پیچھے پیچھے کائنات،
اس کی نظر زیدان کے اس ہاتھ پر جمی ہوئی تھی،
جو اس نے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
جیسے وہ صرف اسے ساتھ نہیں لے جا رہا تھا،
بلکہ اسے یقین دلا رہا تھا، کہ اب وہ اکیلی نہیں ہے۔
وہ دونوں ابھی چند قدم ہی بڑھے تھے۔۔۔
کہ اچانک پریشے تیزی سے ڈرائنگ روم سے نکل کر
ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
واہ واہ… ہیرو۔۔۔۔ وہ حسبِ عادت شوخی سے بولی۔
زیدان نے اسے سخت نظروں سے گھورا۔
مگر کائنات نے فوراً دوسرے ہاتھ سے اس کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈالا۔۔ ایک خاموش اشارہ… کہ کچھ بھی بولیں۔
زیدان نے کچھ کہنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔
پریشے مسکرائی اور پھر بولی،
ویسے زیدان صاحب ہیرو تو آپ بن گئے، لیکن ہیرو صاحب کیا آپ کو معلوم ہے؟ کہ آج آپ کی ہیروئن صاحبہ کا رزلٹ آیا ہے… اور مارکس بھی بہت اچھے ائےہیں۔
زیدان نے مختصر سا کہا، تو؟
تو پارٹی تو بنتی ہے نا۔۔۔ پریشے نے فوراً جواب دیا۔
مجھے پارٹیاں پسند نہیں۔ زیدان کا لہجہ سپاٹ تھا۔
پریشے نے فوراً کائنات کی طرف دیکھا،
لیکن کائنات کو تو پسند ہے۔ اور رزلٹ بھی اسی کا آیا ہے۔ اگر تمہیں نہیں جانا، تو مت جاؤ…
میں، پری اور کائنات چلے جائیں گے۔۔۔ تُم بس کائنات کو اجازت دے دو۔۔۔
زیدان رک گیا۔ کہاں…؟
کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں۔ پارٹی کرنے۔
نہیں۔ اس نے فوراً کہا۔ میں لے کر جاؤں گا۔
پریشے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
مجھے معلوم تھا۔۔۔ پھر شام میں تیار ہوجاؤں گی میں، وہ خوشی سے بولی
اور تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔
زیدان نے کائنات کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہا،
یہ تھوڑی سی پاگل ہے۔
کائنات کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
نہیں… صِرف معصوم ہے۔ اور اچھی ہے۔
تمہاری طرح؟ زیدان نے آنکھوں میں شرارت لیے پوچھا۔
نہیں… کائنات نے سر ہلایا، مجھ سے بھی زیادہ۔
زیدان ہلکا سا مسکرایا،
نہیں… تم سے زیادہ معصوم اس دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا۔۔۔ کائنات زیدان سے اپنا ہاتھ چھڑواتی اوپر کمرے کی طرف بھاگ گئی۔۔۔۔۔
+++++++++
ریسٹورنٹ کی نرم روشنیوں میں۔شیشے کے دروازے کھلتے ہی پریشے نے سب سے پہلے اندر قدم رکھا۔
اوہ مائی گاڈ… اس نے گردن گھما کر اردگرد دیکھا،
یہ جگہ تو واقعی بہت خوبصورت ہے۔۔۔
پری نے بھی چاروں طرف دیکھتے کہا
ہاں بلکل میری طرح حسین ہے۔۔
زیدان نے اسے ایک سخت نظر دی۔ اور ٹیبل پر آبیٹھا۔
پریشے نے فوراً کائنات کے کان کے قریب جھکی،
یہ تُمہارا شوہر کیا ہر وقت ایسے ہی کڑوا کریلا بنا گھومتا رہتا ہے۔۔۔۔
پریشے کی سرگوشی سنتے ہی کائنات کے لبوں پر بے اختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اس نے نظریں جھکائے رکھتے ہوئے آہستہ سے جواب دیا، نہیں… ہر وقت نہیں۔۔۔
پریشے نے آنکھیں پھیلا دیں۔
ویسے اسے کڑوا کریلا بن کے ملتا کیا ہے؟؟
اس نے شوخی سے کہا، پھر ذرا سنجیدہ ہو کر بولی،
ویسے ماننا پڑے گا، آج اس نے واقعی ہیرو والا کام کیا ہے۔
کائنات نے لاشعوری طور پر میز کے اس پار زیدان کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش بیٹھا تھا، نظریں سامنے، چہرہ سپاٹ۔
اسی لمحے زیدان نے سر اٹھا کر کائنات کی طرف دیکھا۔
ایک لمحے کو دونوں کی نظریں ملیں۔
کائنات نے فوراً نظریں ہٹا لیں، مگر دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی۔
پریشے نے یہ سب نوٹ کیا اور دبی ہنسی ہنستی ہوئی بولی،
اچھا اچھا… سمجھ گئی۔ یہ کڑوا کریلا صرف باہر سے ہے، اندر سے تو کافی میٹھا لگ رہا ہے۔
کائنات نے ہلکے سے پریشے کو کہنی ماری۔
آہستہ… وہ سن لے گے۔
پریشے نے معصومیت سے شانے اچکا دیے۔
سن بھی لے تو کیا؟ شوہر ہے نا… تعریف ہی سمجھے گا۔
کائنات کے دل میں ایک عجیب سی حرارت دوڑ گئی۔
شوہر… یہ لفظ اب بھی نیا تھا، مگر اب اجنبی نہیں رہا تھا۔
ٹیبل پر رکھے شیشے کے گلاس سے زیدان نے پانی کا ایک گھونٹ لیا۔
اس کی نظر دوبارہ کائنات پر ٹھہری۔
پھر اس نے دھیرے سے کہا،
اکر بیٹھ بھی جاؤ وہیں کھڑے رہنے کا ارادہ ہے؟
پھر وہ دونوں بھی میز پر آ بیٹھی، پری تو پہلے ہی زیدان کے ساتھ اکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
زیدان نے مینو اٹھایا اور بنا دیکھے کہا،
جو تمہیں پسند ہو، آرڈر کر لو۔
کائنات نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ میں…؟
ہاں۔ اس نے سادہ انداز میں کہا، آج تمہارا دن ہے۔
پریشے نے فوراً خوشی سے کہا یہ ہوئی نا بات۔۔۔ ہیرو صاحب،
کائنات نے مینو دیکھا۔
مجھے یہ پسند ہے۔ اس نے آہستہ سے کہا
اور انگلی ایک ڈش پر رکھ دی۔
زیدان نے ویٹر کو بلا لیا۔
یہ اور یہ لے آئیں۔
پریشے نے آنکھیں سکیڑیں۔
صرف یہی؟ میں تو اور بھی بھوکی ہوں۔۔۔
تو جو دل کرے وہ مانگا لیں۔ زیدان نے بے نیازی سے کہا۔
پریشے نے فوراً لمبی لسٹ سنا دی۔۔
پری نے ناگواری سے پریشے کو گھورا
کتنا کھائے گی آپ۔۔۔۔
اکیلی تھوڑی کھاؤں گی۔۔۔تُم بھی میرے ساتھ کھاؤ گی۔۔۔
نہیں بھئی، مجھے موٹی نہیں ہونا…
پری نے منہ بنایا۔
دیکھو، تمہارا چہرہ کتنا گول مٹول سا ہے…
پریشے نے اس کا چہرہ چھوتے ہوئے کہا۔
تھوڑی سی موٹی ہو جاؤ گی تو اور بھی پیاری لگو گی…
نہیں بھئی، مجھے موٹی نہیں ہونا۔ آپ اپنا آئیڈیا اپنے
پاس رکھیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔۔
وہ ذرا سی مسکرائی، پھر کندھے اچکاتے ہوئے بولی
چلو ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح۔۔۔کیا بولوں اب میں۔۔۔
کائنات حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
کیا ہوا؟ پریشے نے سرگوشی کی۔ پہلی بار آزادی لگ رہی ہے نا؟
کائنات نے ہلکا سا سر ہلایا۔
ہاں… کچھ عجیب سا مگر اچھا۔
کھانا آ گیا۔۔خوشبو نے فضا بھر دی۔
پریشے نے فوراً موبائل نکالا۔
تصویر بنتی ہے!
زیدان نے ناگواری سے دیکھا۔۔نہیں۔
کائنات نے آہستہ سے کہا، ایک ہی لے لیں نا…
زیدان چونکا۔ وہ لمحہ بھر رکا پھر ہلکا سا سر ہلا دیا۔
صرف ایک۔ پریشے نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ تصویر لی۔ اوکے! اب کھانا۔
کائنات نے پہلا نوالہ لیا۔ ذائقہ اچھا تھا۔
مگر اس سے زیادہ احساس اچھا تھا۔
تم مسکرا رہی ہو۔ زیدان نے نوٹ کیا۔
کائنات نے چونک کر خود کو محسوس کیا۔
واقعی… وہ مسکرا رہی تھی۔
پریشے نے شرارت سے کہا، کیوں کہ یہ کھانا پکانے سے جو بچ گئی۔۔۔ اسی لیے خوش ہورہی ہے۔۔۔
نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔ کائنات نے فوراً انکار کہا۔۔۔
زیدان نے نظریں کائنات پر جما دیں۔ کیوں؟؟
اگر تُم مُجھے یہاں ریسٹورانٹ نہیں لاتے تو کائنات مُجھے پارٹی گھر پر دیتی۔۔۔ پریشے بولی
یہ اللّٰہ ان کو تھوڑی عقل دے۔۔۔۔ پری نے پریشے کی بات سنتے ہی آسمان کی طرف ہاتھ بلند کر کے کہا
کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟؟ صِرف پارٹی ہی تو مان رہی ہوں میں۔۔۔ پریشے نے منہ بنائے پری کی طرف دیکھا۔۔۔
مسئلہ یہ ہے کہ آپ بہت بولتی ہیں، اور ایسے تھوڑی نہ پارٹی مانتے ہیں، اتنا شور کر کے، پری بولی۔۔۔
پریشے نے ایک لمحے کو منہ بند کیا، پھر آنکھیں پھیلا کر بولی، اوہ! تو اب پارٹی مانگنے کے بھی آداب ہوتے ہیں؟
پری نے فوراً سر ہلایا، بالکل ہوتے ہیں… پارٹی مانگنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے…خاموشی سے، تمیز سے۔
پریشے فوراََ بولی۔ ہاں تو میں کونسا کائنات کو یہ بولی کہ اے لڑکی پارٹی دے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔
یا میں ایسے بولی۔۔۔
پریشے نے مصنوعی غصّہ چہرے پر طاری کرتی کائنات کو گھورتے بولی۔۔۔ پارٹی دو۔۔۔
اور کائنات نے اختیار ہنس دی۔۔۔ زیدان بھی دِل ہی دِل میں ان دونوں کی حرکت دیکھ محظوظ ہورہا تھا۔۔۔
افّفف۔۔۔۔ پری نے اپنا سر ہی پکڑ لیا۔۔۔
++++++++++++
رات کے پَہر، اسوان کمرے میں بیٹھا تھا۔ پری اس کے برابر بیٹھی اپنے فون پر ریستوران کی کھینچی ہوئی تصویریں دکھا رہی تھی، کہیں کھانے کی میزیں تھیں، کہیں قہقہوں میں لپٹی کائنات پریشے کی اور کہیں سنجیدہ بیٹھے زیدان کی تصویریں
کمرے کے ایک کونے میں پریشے خاموشی سے الماری میں کپڑے ترتیب دے رہی تھی۔
اسوان نے آہستہ سے مُسکراتے ہوئے کہا
اکیلے اکیلے انجوائے کر لیا؟ بابا کو پوچھا بھی نہیں؟
پری نے فوراً جواب دیا،
اکیلی کہاں تھی، یہ تھیں نا میرے ساتھ۔
وہ جانتا تھا۔
پری کا رویہ اب پریشے کے ساتھ کافی حد تک بہتر ہو چکا تھا، مگر پھر بھی ایک خلا تھا۔ وہ کبھی اسے “ماما” نہیں کہتی تھی، نہ ہی نام لے کر پکار پاتی تھی۔ پریشے نے خود کہا تھا کہ اگر ماما کہنا مشکل ہے تو نام لے لیا کرو، مگر پری کے لیے وہ بھی آسان نہ تھا۔
وہی تو میں کہہ رہا ہوں، ماں بیٹی نے اکیلے اکیلے مزے کر لیے، بابا کو پوچھنا ضروری نہیں سمجھا۔
پری نے فوراً صفائی دی،
ان سے پوچھیں، انہوں نے ہی منع کر دیا تھا۔ ورنہ میں تو آپ کو کال کرنے ہی والی تھی۔
پریشے نے کپڑوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بغیر پلٹے کہا،
آپ آفس میں مصروف تھے، اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ آپ کو تنگ کیا جائے۔
اسوان نے دل ہی دل میں ایک ٹھنڈی سانس لی۔
وہ کافی دنوں سے محسوس کر رہا تھا، کہ جس دن سے پریشے اپنے گھر سے واپس آئی تھی، وہ بدلی بدلی سی تھی۔ اس سے بات کرتی تو تھی، مگر صرف ضرورت کے تحت۔ الفاظ میں گرمجوشی نہیں، صرف ذمہ داری ہوتی۔ جیسے ان کے درمیان کوئی ان دیکھا پردہ حائل ہو گیا ہو۔
پری بولی، ہاں بابا، آپ شام میں بھی نہیں آئے تھے۔
ہمم… اسوان نے سر ہلاتے ہوئے پوچھا،۔ویسے زیدان تم لوگوں کے ساتھ گیا کیسے؟
ہاں نہ بابا میں نے تو اُن سے ضد بھی نہیں کی تھی، پری نے کہا، وہ خود ہی تیار تھے ہمیں لے جانے کے لیے۔ پھر اچانک اسے یاد آیا، ہاں، انہوں نے کہا تھا، اُنہیں پارٹی دینے کے لیے ۔۔۔
کس چیز کی پارٹی؟ اسوان نے چونک کر پوچھا۔
کائنات کے رزلٹ کی، بابا۔ پری فوراََ بولی۔۔۔
کائنات؟ پریشے نے فوراً پلٹ کر پری کو ٹوکا۔۔۔
پری چونک کر سیدھی ہو گئی۔۔سوری چاچی…چاچی کا رزلٹ آیا تھا۔
اسوان نے نوٹ کیا پری پریشے کو باتیں سن بھی رہی ہے اور مان بھی رہی۔۔۔اسوان دِل ہی دِل میں مسکرایا۔۔پریشے اپنی ذمےداری اچھے سے نبھا رہی ہے۔۔۔
اسوان نے نظریں سمیٹتے ہوئے کہا،
اچھا… اور وہ مان گیا؟
ہاں، پری ہنس پڑی، یہ اتنا زیادہ بولتی ہیں نا، لوگوں کو اتنا زیادہ تنگ کرتی ہیں، کہ انہیں ہر حال میں پارٹی چاہیے تھی۔ کائنات سے کہہ دیا تھا، باہر نہیں تو گھر میں ہی پارٹی دو مجھے۔
اور کچھ رہ گیا ہے جو نہیں بتایا؟ پریشے نے اب کی بار تلخی کے ساتھ کہا۔
پری نے دبے دبے قہقہے کے ساتھ اسوان کی طرف دیکھا، بابا، کوئی غصہ ہو رہا ہے۔
اسوان بھی مسکرا دیا،
ہاں، مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے۔
یہ سنتے ہی پریشے نے فوراً رخ موڑ لیا۔۔۔ کُچھ نہیں بولی۔۔۔
اسوان بظاہر مسکرا رہا تھا، مگر اس کے اندر کہیں کچھ بیٹھ سا گیا تھا۔ پری کی ہنسی، اس کے معصوم جملے سب کچھ ٹھیک تھا، مگر کمرے کی فضا میں ایک کمی تھی۔ وہ کمی جس کا نام وہ جانتا تھا، مگر ماننے سے گھبراتا تھا۔
وہ بار بار پریشے کی طرف دیکھتا۔۔۔۔
وہ اب بولتی کم تھی، مگر جب بولتی… تو بس ضرورت کے تحت۔ جیسے اسوان اس کی زندگی کا حصہ نہیں، صرف ایک ذمہ داری ہو۔ وہ عورت جو کبھی اس کی آواز میں آواز ملا کر بات کرتی تھی، اب اُسے نظر انداز کرنے لگی تھی۔۔۔
+++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔

1 Comment
Zaidan haye….🙈🙈🙈❤️🔥😭🤌🏻kay bnda ha bheey 🙂 lekin hath jala dia o m g ye umeed ni thi mje