Taqdeer e Azal Episode 26 written by siddiqui

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۶

صبح کی نرم روشنی کھڑکی کے پردوں سے چھن کر کمرے میں اتر رہی تھی۔ کائنات ناشتہ لے کر آئی تو زیدان کے قریب جا کر بیٹھ گئی۔
مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے…
اس کی آواز میں جھجک بھی تھی اور ہمت بھی۔
زیدان نے سرسری سا جواب دیا،
کہو۔
کائنات نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر آہستہ سے بولی،
میرا خیال ہے… آپ کو مامی کا ہاتھ اس طرح نہیں جلانا چاہیے تھا۔
زیدان کے چہرے پر ناگواری کی ایک لکیر ابھری۔ اس نے نگاہ اٹھائے بغیر کہا،
دیکھو کائنات، تمہیں ہر کسی پر رحم آ جاتا ہوگا۔ مجھے نہیں آتا۔
کیوں؟ اس نے دھیرے سے پوچھا۔ آپ اتنے سنگ دل تو نہیں ہیں۔
میں ہوں، اس نے بے حد سادگی سے کہا۔
زندگی نے مجھے نرم دل ہونا نہیں سکھایا۔
کائنات نے اسے غور سے دیکھا۔
اس شخص کو… جو دنیا کے لیے سخت تھا،
مگر جس کے لیے اس کا دل بلا وجہ نرم پڑ جاتا تھا۔
آپ نے غلط کیا، اس نے پہلی بار صاف لفظوں میں کہا۔
زیدان چونک سا گیا۔ اس نے تیز نگاہوں سے کائنات کو دیکھا۔ کیا کہا تم نے؟
جی، کائنات نے نظریں جھکائے بغیر جواب دیا،
غلط کیا۔ کسی کو سزا دینے کا حق ہمیں نہیں ہوتا، چاہے وہ کتنا ہی قصوروار کیوں نہ ہو۔
زیدان کے ضبط کا بندھن ٹوٹ سا گیا۔ وہ یک دم اٹھ کھڑا ہوا۔
کائنات، سريسلی اس کی آواز میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
تم اب بھی اُن کی طرف داری کر رہی ہو؟ ذرا اپنا جلا ہوا ہاتھ دیکھو ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا۔
کائنات نے لاشعوری طور پر اپنا ہاتھ دوسری ہتھیلی میں چھپا لیا، مگر نظریں پھر بھی زیدان سے نہ ہٹیں۔
وہ ایک قدم اس کی طرف بڑھا،
اور میں نے تو انہیں صرف تمہارے بس ہاتھ جلانے کی سزا دی ہے… ورنہ میرا خون اب بھی اس قدر کھول رہا ہے کہ اگر وہ میرے سامنے آ جائیں، تو میں انہیں دنیا سے ہی مٹا دوں۔
کائنات کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا، مگر اس کی آواز غیر معمولی طور پر پُرسکون رہی۔
یہی تو میں کہہ رہی ہوں، زیدان…۔وہ آہستہ سے بولی،
غصہ آپ سے فیصلے کروا رہا ہے، انصاف نہیں۔
زیدان نے  غصے سے چیخا
تمہیں انصاف اور ظلم میں فرق سکھانے کی ضرورت نہیں مجھے۔
مجھے سکھانے کی ضرورت نہیں، کائنات نے نرمی سے کہا، بس یاد دلانے کی کوشش کر رہی ہوں… کہ طاقت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم کسی کو تکلیف دے سکیں۔ وہ لمحہ بھر کو رکی، پھر ہمت جمع کر کے بولی، مجھے درد برداشت کرنا آتا ہے، کائنات نے بات جاری رکھی،
مگر یہ سوچنا کہ آپ کسی کو تکلیف دے کر مجھے تحفظ دے رہے ہیں، یہ درد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
زیدان کی مٹھی آہستہ آہستہ ڈھیلی پڑ گئی۔
تُم۔۔۔۔ تُم کیسی لڑکی ہو کائنات۔۔۔۔ اُسے شدید غصّہ آرہا تھا۔۔
کائنات نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
آپ بیٹھ جائیں، اس نے نرمی سے کہا،
ناشتہ تو کریں… آرام سے میری بات سنیں۔
زیدان چونک گیا۔
غصّے میں بھی کسی کا یوں ہاتھ پکڑ لینا… وہ اس کا عادی نہیں تھا۔
آپ اس طرح غصّہ کریں گے تو میں اپنی بات کبھی نہیں کہہ پاؤں گی،
کائنات کی آواز میں ہلکی سی لرزش آ گئی،
کل بھی میں نے اسی وجہ سے آپ سے بات نہیں کی تھی۔
زیدان نے اس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟ اس نے سخت لہجے میں پوچھا۔
کیونکہ جب آپ غصّے میں ہوتے ہیں،
کائنات نے نظریں جھکا لیں،
تو مجھے آپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔
کائنات کی پوری بات سن کر زیدان حیران رہ گیا۔
اس کے غصّے کی شدت جیسے کسی نے اچانک کم کر دی ہو۔
اور پھر اسے ایک بات یاد آئی…
وہ لمحے، وہ دن, جب کوئی تلخ بات ہو جاتی،
کوئی سخت جملہ کہا جاتا،bتو کائنات اسی دن اس سے بات نہیں کرتی تھی۔
وہ خاموش ہو جاتی تھی۔
اور اگلے دن… جب زیدان کا غصّہ ٹھنڈا ہو جاتا،
جب وہ خود کو سنبھال لیتا،
تب کائنات آتی تھی..اسی نرمی، اسی تحمل کے ساتھ۔
زیدان کو حیرت ہو رہی تھی۔
وہ اس کی ایک ایک کیفیت کا کتنا خیال رکھتی تھی۔
اس کے غصّے کا بھی…اس کے سکون کا بھی۔
تم…اہ ہ ہ وہ اپنا سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
تُم کیا چیز ہو کائنات۔۔۔
کائنات گھبرا کر اس کے قریب آ گئی۔
آپ ٹھیک ہیں؟ اس کی آواز میں فوراً فکر اتر آئی۔
زیدان نے سر جھکائے رکھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا…
اس کی آواز اب غصّے سے خالی تھی،
تم میرے سامنے ڈر جاتی ہو…
اور پھر بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتیں۔
میں تمہیں توڑ دیتا ہوں، زیدان نے کرب سے کہا،
پھر بھی تم مجھے جوڑنے آ جاتی ہو۔
چند لمحوں بعد اس نے آہستہ مگر صاف لفظوں میں کہا، میں نے اُس دن تمہیں کمرے سے نکالا تھا…
تم پھر بھی دوبارہ میرے پاس آ گئی تھیں۔
کائنات کی پلکیں جھک گئیں، مگر چہرے پر ندامت نہیں تھی۔
شادی سے پہلے بھی، زیدان نے بات جاری رکھی،
میں بار بار تمہیں اپنے کمرے سے نکالتا رہا…
مگر تم آتی رہیں۔
کائنات نے نظریں جھکا لیں۔ لبوں پر ہلکی سی بے بسی تھی۔
اس سوال کا جواب تو مجھے خود بھی نہیں پتا،
اس نے آہستہ سے کہا، میں آنا نہیں چاہتی… مگر آ جاتی ہوں۔ وہ ذرا رکی، پھر سچائی سے بولی، میں آپ سے خود کو دور رکھنا چاہتی ہوں،
مگر دور ہوتی ہی نہیں ہوں۔
زیدان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
اور آپ بھی تو…
کائنات نے نگاہ اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا،
چاہ کر بھی مجھ پر ویسی سختی نہیں کر سکتے
جیسے آپ سب کے ساتھ کرتے ہیں۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
زیدان کے لب ہلے، مگر کوئی لفظ نہ نکل سکا۔
کیونکہ یہ سچ تھا۔ وہ سب پر سخت ہو سکتا تھا…
مگر کائنات پر نہیں۔
پھر کائنات ایک عجیب سی الجھن اور کشمکش میں وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
زیدان اب بھی صوفے پر بیٹھا رہا۔ اس کا غصّہ کب کا ہوا ہو چکا تھا۔ اب اس کی جگہ عجیب سی کشمکش نے لے لی تھی،
وہ سب کے معاملے میں اتنا بےحسی ہوجاتا ہے تو پھر کائنات کے معاملے میں کیوں نہیں؟؟؟
کیوں اُس کا معاملہ آتے ہی وہ اپنے غصے کو قابو کرنے لگتا ہے۔۔ اور تو اور وہ یہ بھی جانتا تھا… کہ
کائنات پہلے مامی کے حوالے سے کیا کہنا چاہ رہی تھی۔
اور شاید…
جو اس نے اس کا رویّہ اپنے باپ کے ساتھ دیکھا تھا،
اس پر بھی بات کرنا چاہتی تھی۔
وہ سب جان کر بھی انجان بنا رہا۔
وہ کوئی وہشی درندہ نہیں تھا،
نہ ہی اندھا یا بے خبر۔ اسے خوب معلوم تھا۔۔۔
کیا غلط ہے، اور کیا صحیح۔
مگر مسئلہ یہی تھا۔ وہ سب کچھ جان بوجھ کر کرتا تھا۔ غصّے میں۔۔۔ کیوں کہ اُسے لوگوں سے شدید نفرت تھی۔۔۔

زیدان کی نظر خالی دیوار پر جم گئی۔ سانس بھاری ہو گئی۔ اچانک وہ آواز…
جو وہ برسوں سے بھولنے کی کوشش کرتا آیا تھا۔
خاموش رہو، بچوں کے سامنے آواز اونچی مت کرو…
یہ سیما بیگم تھیں۔

ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑی وہی عورت ہلکی سی کانپتی ہوئی، مگر پھر بھی مضبوط۔ سامنے فائزن صاحب تھے۔ چہرہ سخت، آنکھوں میں غصّہ۔
تم نے میرے لیے کبھی سکون نہیں رکھا…
وہ چیخے تھے۔
ہر وقت شکایت، ہر وقت رونا…
زیدان کونے میں کھڑا تھا۔ چھوٹے سے ہاتھ کانوں پر رکھے ہوئے۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
میں نے کیا مانگا ہے تم سے؟
سیما بیگم کی آواز بھرا گئی تھی۔
بس بچوں کا خیال… بس تھوڑا سی عزت…
فیضان صاحب چیخے۔۔۔
عزت؟
تم جیسی عورتیں عزت کے لائق نہیں ہوتی۔۔۔
اسی لمحے
اسوان نے زیدان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔
جیسے کہہ رہا ہو
ڈرو مت، میں ہوں۔
مگر زیدان کا دل اپنی ماں کے پاس اٹکا ہوا تھا۔
میں طلاق نہیں چاہتی،
سیما بیگم نے دھیمی مگر فیصلہ کن آواز میں کہا تھا۔
میں بچوں کی خاطر سب سہہ لوں گی۔
وہ جملہ ننھے زیدان کے دل میں کسی خنجر کی طرح اتر گیا تھا۔
سب سہہ لوں گی…
اُس کا ذہن نمی تاریخ سے گھوم کر دوبارہ روشن ہوا
زیدان نے پلکیں زور سے بند کیں،
جیسے کسی نے ماضی کو زبردستی واپس حال میں دھکیل دیا ہو۔
اور جب اس نے آنکھیں کھولیں…
سامنے کائنات کا چہرہ تھا۔
وہی آنکھیں جن میں الزام نہیں تھا،
ڈر نہیں تھا، صرف فکر تھی۔
زیدان کے ذہن میں سیما بیگم کی آواز گونجی..
میں بچوں کی خاطر سب سہہ لوں گی…
اور اسی لمحے کائنات کی آواز اسی نرمی کے ساتھ
اس کے کانوں میں اتری…
کیونکہ جب آپ غصّے میں ہوتے ہیں،
تو مجھے آپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔
اس کا دل زور سے دھڑکا۔ ایک پل کے لیے کائنات کا چہرہ اسے اپنی ماں کے چہرے سے ملتا جلتا لگا
وہی برداشت، وہی خاموش طاقت۔ اسے جھٹکا سا لگا۔
نہیں…
وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا
کہ کائنات بھی سیما بیگم بنے۔
اس نے بے اختیار نظریں چرا لیں۔
ہاتھ کانپنے لگے۔
تم…
اس کے لب ہلے، مگر لفظ باہر نہ آ سکے۔
کیونکہ وہ سچ جان گیا تھا۔۔۔
کائنات اس کی زندگی میں زخم بھرنے نہیں آئی تھی…
وہ انہیں دہرانے بھی نہیں آئی تھی۔
وہ تو بس آئینہ تھی۔
جو اسے وہ دکھا رہی تھی
جو وہ برسوں سے خود سے چھپاتا آیا تھا۔
اور پہلی بار زیدان کو اپنے غصّے سے ڈر لگا۔
اس لیے نہیں کہ وہ کسی اور کو تکلیف دے گا،
بلکہ اس لیے کہ وہ کائنات کو اسی کہانی کا حصہ بنا دے گا۔۔۔
++++++++++++

ہادی ناشتہ کر ہی رہا تھا کہ زرتاشہ کچن میں چلی گئی۔ چند لمحوں بعد ارسم آ کر ڈائننگ ٹیبل پر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
مجھے تُجھے کچھ بتانا ہے،
ارسم کی آواز میں غیر معمولی سنجیدگی تھی۔
ہادی نے نوالہ توڑتے ہوئے سر اٹھایا۔
بتاؤ۔
زرتاشہ کے بارے میں…
ہادی کی پیشانی پر بل پڑ گیا۔
ارسم، اگر تم نے پھر کوئی اُلٹی سیدھی بات کرنے والے ہو تو میں تمہیں صاف کہہ رہا ہوں، منہ فوراً بند کر لو۔
نہیں، ارسم نے جلدی سے کہا،
اس بار مجھے سچ بتانا ہے۔
بولو، ہادی نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔
اگر میں کہوں کہ زرتاشہ کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں تھا۔۔۔
کیا؟ بوائے فرینڈ؟
جو مایوں کے دن پکڑا گیا تھا،
وہ زرتاشہ کا بوائے فرینڈ نہیں تھا۔
ہادی کا نوالہ ہاتھ میں ہی رک گیا۔ تو پھر وہ کون تھا؟
وہ زرتاشہ کا مہرہ تھا، ارسم نے ایک لمحہ توقف کیا،
اور وہ بھی جانتے ہو کس کے لیے؟ کائنات کے لیے۔
ہادی نے آنکھیں سکیڑ لیں۔
اچھا… پھر؟
ارسم نے سب کچھ بتانا شروع کیا کہ کیسے زرتاشہ نے اس لڑکے کو ہائر کیا، کیسے اسے گھر کے اندر لایا گیا،
کیسے سارا منظر بنا… اور مایوں والے دن صرف ایک غلط فہمی نے سب کچھ تباہ کر دیا۔
سب یہی سمجھتے رہے کہ وہ اس کا بوائے فرینڈ تھا،
ارسم نے آخری بات کہی،
مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تو صرف زرتاشہ کا مہرہ تھا۔
ہادی چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا،
تو کیا اسوان بھائی کو یہ بات پتا تھی؟
یہ تو نہیں معلوم مجھے…
ہادی نے میز پر انگلی رکھ کر کہا،
ظاہر ہے، انہوں نے ہی تو اسے پکڑا تھا۔
پکڑا تو تھا، ارسم نے ہلکی آواز میں کہا۔
تو پھر اس لڑکے نے جھوٹ کیوں بولا؟
ہادی اچانک چونکا۔ ایک منٹ… زرتاشہ؟ زرتاشہ؟
کچن سے زرتاشہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی آئی۔
چہرہ زرد تھا، آنکھیں جھکی ہوئی۔
تم نے مجھے یہ نہیں بتایا،
ہادی نے سیدھا سوال کیا،
کہ اس لڑکے نے جھوٹ کیوں بولا؟
مجھے نہیں معلوم، زرتاشہ نے دھیمی آواز میں کہا۔
ہادی نے گہری سانس لی۔
ضرور اس میں بھی اسوان بھائی کا ہاتھ ہوگا۔
تو پھر؟ ارسم نے بے زاری سے کہا، کیا کرنا ہے اس کا؟ دفع کرو۔۔۔۔
ہاں، دفع کرو، ہادی نے کہا اور دوبارہ ناشتہ کرنے لگا۔
ارسم نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور زور زور سے اُسے جھنجھوڑنے لگا۔۔۔
او بھائی! تو اتنے سکون میں کیسے ہے؟
ہادی نے سکون سے جواب دیا،
اور کیا کروں؟ تمہاری طرح جا کر اسوان کا گریبان تو نہیں پکڑ سکتا۔ اللہ دیکھ رہا ہے، وہ خود حساب لے لے گا۔ جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔
اور یہ؟ ارسم نے زرتاشہ کی طرف اشارہ کیا۔ اس کا کیا کرنا ہے؟
اس کا کیا کرنا ہے؟ ہادی نے آہستہ سے دہرایا۔ ارسم… کسی کو اس کے ماضی کی وجہ سے ٹرِگر نہیں کرتے۔
ارسم نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
جب کوئی انسان شرمندہ ہو اور معافی مانگ لے،
ہادی نے پختگی سے کہا، تو اسے معاف کر دینا چاہیے۔
ہر کسی کا ماضی ہوتا ہے،  کچھ اچھا، کچھ بُرا۔
ہمارے اندر اتنا ظرف ہونا چاہیے، کہ ہم اسے قبول کر سکیں۔
وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا،
اور جو بھی تھا وہ سب شادی سے پہلے تھا، شادی کے بعد میں نے اپنی بیوی میں خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
لیکن… ارسم تڑپ اٹھا، یہ اس کی فطرت ہے، یہ پھر وہی سب کرے گی۔۔۔
اچھا، مان لیا، ہادی نے تحمل سے کہا،
لیکن تم؟ تم کیا کر رہے ہو؟ تم بھی تو اسوان کے ساتھ وہی نہیں کر رہے جو اس نے کیا تھا؟
نہیں، ارسم نے فوراً کہا، میں بدلہ لے رہا ہوں۔ لیکن یہ… اس نے بدلہ نہیں لیا تھا، اس نے حسد میں کیا تھا۔
بات سچ ہے، ہادی نے آہستہ کہا، لیکن تم بھی یہ سب حسد میں ہی کر رہے ہو۔
اس نے ارسم کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا،
ذرا سوچو… اگر اسوان بھائی وہی غلط حرکتیں
تمہارے لیے کرتے جو انہوں نے زیدان کے لیے کیں،
تو کیا تم ان سے بدلہ لے رہے ہوتے؟ کہ آپ نے یہ ساری غلط حرکت کی، یہ صحیح نہیں تھا، لڑکی کے ساتھ زبردستی کی۔۔۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
تم یہ سب حسد میں کر رہے ہو، تُم زیدان سے حسد کر رہے ہو، کہ کائنات اُس کے پاس ہے تُمہارے پاس نہیں۔۔۔۔
ہادی کا سکون کوئی اچانک پیدا ہونے والی چیز نہیں تھا۔ وہ اس سچ کا نتیجہ تھا…
جو زرتاشہ پہلے ہی اس کے سامنے رکھ چکی تھی۔
ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا ہادی نوالہ توڑتے ہوئے بھی پرسکون تھا،
کیونکہ اس کے لیے یہ سب نیا نہیں تھا۔
جب ارسم بول رہا تھا،
تو زرتاشہ کچن میں کھڑی خاموشی سے وہ لمحے یاد کر رہی تھی، جب اس نے کانپتے ہوئے یہ سب ہادی کو بتایا تھا۔۔۔
ارسم نے تو شروع دِن سے ہی اُسے دھمکیاں دینا شروع کردیا تھا۔۔لیکن ارسم کی ایک غلطی تھی جو اُس نے زرتاشا کو اتنا لمبا عرصہ دے دیا تھا، اگر ارسم شروع میں ہی ہادی کو سچ بتا دیتا تو شاید وہی ہوتا ارسم نے سوچا تھا۔۔۔لیکن جیسے جیسے ہادی کی طرف سے زرتاشا کو اعتماد ملتا رہا وہ اور مضبوط ہوتی گئی۔۔ اور پھر ایک رات ہادی کے سامنے اُس نے سب خود سے  اعتراف کرلیا۔۔ کہ مایوں والے دن جو لڑکا پکڑا گیا وہ اس کا بوائے فرینڈ نہیں تھا۔ وہ اس کا مہرہ تھا۔ کائنات کے خلاف ایک غلط قدم۔ حسد کا نتیجہ۔ کمزوری کا ثبوت۔۔۔
اور ہادی نے اُس رات نہ چیخا تھا،
نہ سوالوں کی بوچھاڑ کی تھی۔ بس خاموش ہوگیا۔۔ تھا۔۔۔ حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا، پھر اُسے کُچھ دن لگے، سنبھالنے میں سچ کو قبول کرنے میں، لیکن زرتاشا کے بدلے رویے اور معافی کی وجہ سے ہادی نے اُسے ایک اور موقع دے کر معاف کردیا،
آج ارسم جب وہی سچ دہرا رہا تھا،
تو ہادی کے چہرے پر کوئی حیرت نہیں تھی۔
زرتاشہ نے ہادی کو سچ اور بھروسا دیا،
اور ہادی نے بدلے میں اسے عزّت اور وہ تحفظ دیا..

ہادی کی بات ختم ہوتے ہی ارسم کے چہرے پر وہی سختی لوٹ آئی۔۔ جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
بس کرو۔۔۔۔ وہ اچانک چیخ پڑا۔
تم مجھے ہی غلط ثابت کرنا چاہتے ہو۔۔۔
ہادی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
ارسم، میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔
مجھے مت سکھاؤ کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔۔۔
ارسم کی آواز بلند ہوگئی۔۔۔
مجھے پتا ہے میں کیا کر رہا ہوں۔۔۔۔ اور یہ۔۔ یہ ڈائن کہیں کی کالا جادو کر رکھا ہے اس نے تُم پر۔۔۔۔
ہادی نے گہری سانس لی۔
ارسم، غصّے میں فیصلے مت کرو۔۔۔
فیصلے؟ میں نے تو بہت پہلے فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔
وہ کرسی پیچھے دھکیلتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
تم لوگ اپنی نیکی اپنے پاس رکھو۔
مجھے اس کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
وہ دروازے کی طرف بڑھا۔
ارسم
ہادی نے آخری بار پکارا۔ مگر وہ نہیں رکا۔
دروازہ زور سے بند ہوا۔ آواز پورے گھر میں گونج گئی۔
ہادی نے بےبسی سے سر ہلایا۔۔۔پھر زرتاشا کو طرف دیکھا۔۔۔اور بولا۔۔ تُم دعا کرنا اس کے لیے۔۔۔۔
++++++++++++

اسوان نے آئینے کے سامنے کھڑے کھڑے ٹائی درست کی، اور عین اسی لمحے جب پریشے کمرے سے نکلنے لگی، اس کی آواز نے اسے روک لیا۔
تم مجھ سے اب تک خفا ہو؟
پریشے نے قدم روکے، مگر پلٹ کر نہیں دیکھا۔
نہیں… اس کا جواب مختصر تھا، بے حد محتاط۔
اسوان نے آئینے میں اس کا عکس دیکھا۔
جو تم نے کہا تھا، میں نے مان لیا۔پیسے بھی دے دیے۔ مگر پھر بھی تم مجھ سے خفا لگ رہی ہو۔
پریشے نے آہستہ سے سانس لی اور اب اس کی طرف مڑی۔ کیوں؟ میں اپنی ذمہ داری تو ٹھیک طرح نبھا رہی ہوں نا؟ اور آپ فکر نہ کریں، آپ کو پری کی طرف سے کوئی شکایت نہیں ملے گی۔
اسوان کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔
وہ تیزی سے پلٹا۔
میں پری کے حوالے سے بات نہیں کر رہا….
اس کی آواز میں غصّہ صاف جھلک رہا تھا..
میں تمہاری بات کر رہا ہوں۔ اپنی اور تمہاری…
پریشے کے چہرے پر حیرت ابھری۔
کیوں؟ ہمارے بیچ کیا ہوا ہے؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟
اسوان نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا۔
نہیں، کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ تم اپنی اور میری نسبت سے بہت غافل ہو گئی ہو، پریشے۔

میں بالکل بھی غافل نہیں ہوئی۔

پھر یہ مجھ سے اتنے فاصلے کیوں؟ یہ خاموشی…یہ احتیاط… تم اب مجھے نظرانداز کرنے لگی ہو۔
کام کے علاوہ تم مجھ سے کوئی بات نہیں کرتیں۔

پریشے کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو چمک آئی، پھر وہ بجھ سی گئی۔
آپ مجھے یہاں پری کے لیے لائے تھے نا؟ جب میں نے یہ بات قبول کر لی ہے، تو اب آپ کو مسئلہ کیوں ہو رہا ہے؟

آسوان نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا۔
ہاں، میں تمہیں پری کے لیے لایا تھا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں، کہ تم میری وجہ سے خود کو ایک خول میں بند کر لو۔

میں نے خود کو کسی خول میں بند نہیں کیا۔

مگر مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔

پریشے نے اسوان کی طرف دیکھا لہجہ سرد تھا۔۔۔
تو لگنے دیں۔ آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ کہتے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
آسوان وہیں کھڑا رہ گیا۔
++++++++++++

جب پریشے کمرے سے باہر نکلی تو پری عین دروازے کے پاس کھڑی ملی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں،
پلکوں پر ٹھہرے آنسو ابھی گرنے کا فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔
بابا کو آپ کی بہت فکر ہے نا…؟ پری نے دھیرے سے پوچھا۔
پریشے کے چہرے پر ایک لمحے کو الجھن اتر آئی۔
سمجھ گئی… وہ سب سن چکی تھی۔ اور اب پھر سے وہ سب باتوں کا غلط مطلب سمجھ گی۔۔۔۔
پری نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما۔
ادھر آؤ…
وہ پری کو پری کے کمرے میں لے آئی۔ بستر پر بٹھایا،
خود بھی اُس کے برابر بیٹھ گئی۔
میں تمہیں ایک چیز دکھاتی ہوں۔
اس نے فون کھولا
اور راؤف صاحب کی تصویر پری کے سامنے رکھی۔
انہیں جانتی ہو؟ یہ میرے بابا ہیں۔
پھر صفیہ بیگم کی تصویر دکھائی۔
اور یہ میری ماما۔
پری نے آہستہ سے سر ہلایا۔
ہاں…
پریشے نے ایک اور تصویر کھولی۔ بچپن کی، مسکراتی ہوئی ننھی سی بچی۔
اور جانتی ہو یہ کون ہے؟
کون؟ پری نے تجسس سے پوچھا۔
یہ میں ہوں۔ اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ میں بابا کی سب سے بڑی بیٹی ہوں۔ بابا نے ماما سے شادی کی، اور وہ ماما سے بہت محبت کرتے تھے۔
پھر میں پیدا ہوئی… اور بابا کی زندگی میں آ گئی۔
وہ مجھ سے بھی بہت محبت کرنے لگے، میرا خیال رکھتے، میری فکر کرتے…
پریشے نے گہری سانس لی۔
تو اب کیا؟ یہ سب دیکھ کر میری ماما یہ سمجھنے لگیں، کہ بابا صرف مجھ سے ہی محبت کرتے ہیں؟
یا میں ان سے ان کا شوہر چھین لوں گی؟
وہ ایسا کیوں نہیں سوچ سکیں،؟
کیونکہ آپ ان کی بیٹی تھیں… پری نے فوراً کہا۔
ہاں… پریشے نے اثبات میں سر ہلایا۔
میں ان کی بیٹی تھی، بابا کی بھی بیٹی…
ان کی بیوی نہیں۔ بیٹی تھی… اس لیے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ بابا اپنی بیوی کو چھوڑ کر صرف مجھ سے محبت کرنے لگیں۔ بیوی سے محبت اور بیٹی سے محبت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
وہ لمحہ بھر رکی، پھر نرم لہجے میں بولی۔
اچھا، ذرا سوچو…
اگر میری ماما مجھے اور بابا کو چھوڑ کر چلی جاتیں، اور بابا دوسری شادی کر لیتے، تو کیا وہ لڑکی آ کر میری جگہ لے لیتی؟
پری نے فوراً سر ہلایا۔ نہیں… کبھی نہیں۔
بالکل۔ کیونکہ وہ ان کی بیٹی نہیں ہوتی، صرف بیوی ہوتی۔ وہ اگر کسی کی جگہ لے بھی سکتی تھی،
تو ماما کی… جو پہلے ہی مجھے چھوڑ چکی تھیں۔
پریشے نے فون بند کیا اور پری کی آنکھوں میں دیکھا۔
تمہیں رشتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، پری۔
ہماری زندگی میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔
جیسے تمہارے پاس بابا ہیں، پھر چچا ہیں، پھر چاچی ہیں۔ تم سب سے محبت کرتی ہو نا؟
پری نے سر ہلایا۔
اگر تمہارے چچا یہ کہنے لگیں کہ تمہیں چاچی کی زیادہ فکر ہے، تم چاچی سے زیادہ محبت کرتی ہو…
تو تم کیا کہو گی؟
پری مسکرا دی۔
وہ تو چاچی ہیں نا۔ اور وہ چچا ہیں۔ میں دونوں سے محبت کرتی ہوں۔ چچا کبھی چاچی کی جگہ نہیں لے سکتے اور چاچی کبھی چچا کی۔
بالکل۔ پریشے نے نرمی سے کہا۔
نہ تم میری جگہ لے سکتی ہو۔۔
اور نہ میں تمہاری۔ کیونکہ تم ان کی بیٹی ہو اور میں بیوی۔ رشتوں میں فرق ہوتا ہے نا؟
پریشے نے دوبارہ فون کھولا اور ایک اور تصویر دکھائی۔
اب دیکھو… میرے بعد میری یہ بہن، عشال، پیدا ہوئی۔ تو کیا میں اب اپنی ہی بہن سے ڈرنے لگ جاؤں؟ کہ وہ میری جگہ لے لے گی؟
پری نے سر ہلایا۔
نہیں… کیونکہ بابا کے دل میں جو محبت میرے لیے ہے،  وہ کوئی نہیں نکال سکتا۔ اور جو جگہ میری ہے،
وہ ہمیشہ میری ہی رہے گی۔
پری کچھ لمحے خاموش بیٹھی رہی۔ آنکھیں جھکی ہوئی تھیں، جیسے اندر کہیں بہت سی باتیں آپس میں ٹکرا رہی ہوں۔
پھر اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
میں نے کبھی یہ سب اس طرح سوچا ہی نہیں تھا…
اس کی آواز بھرا گئی۔
مُجھے لگا… مجھے لگا کہ بابا آپ کو مجھ سے زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔
پریشے کا دل بھر آیا۔ وہ آگے بڑھی اور پری کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
محبت ایسے کم نہیں ہوتی، پری۔ یہ تقسیم نہیں ہوتی
کہ ایک کو زیادہ ملی، تو دوسرے کو کم رہ گئی۔
پری نے سسکتے ہوئے سر ہلایا۔
مجھے ڈر لگتا ہے… ماما مجھے چھوڑ گئیں،
اور اب…
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
اور اب تمہیں لگا کہ بابا بھی تمہیں چھوڑ دیں گے؟
پریشے نے نرمی سے پوچھا۔
پری نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اور میری جگہ لے۔
میں۔۔۔میں اپنے بابا سے بہت۔۔۔ بہت محبت کرتی ہوں۔۔
پریشے نے نرمی سے اسے اپنے ساتھ لگایا،
ہاتھ آہستہ آہستہ اس کی پیٹھ سہلاتی رہی۔
بابا بھی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں، پری…
اس کی آواز میں یقین تھا، ایسا یقین جو خوف کے کانوں میں سکون بن کر اترتا ہے۔
وہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ کبھی بھی نہیں۔
سچ…؟ وہ سسکتی ہوئی بولی۔
سچ۔ پریشے نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
بابا کو سب سے زیادہ آپ سے ہی محبت ہے۔۔۔
پری نے آنکھیں بند کر لیں۔
دل کی دھڑکن آہستہ آہستہ نارمل ہونے لگی۔
کچھ یقین الفاظ سے نہیں آغوش سے منتقل ہوتے ہیں۔
پری اچانک کسی خیال کے پیچھے کھنچتی چلی گئی۔
آنکھوں میں الجھن ابھر آئی۔
تو آپ… کیا ماما کی جگہ لیں گی؟
پریشے چونک کر مسکرائی۔
یا اللہ، پری… کم سوچا کرو پلز۔۔۔۔
وہ اب اللہ کے پاس ہیں، اُن کو بھی بخش دو۔۔۔
اور مجھے بھی اب… میں کسی کی جگہ لینے نہیں آئی۔
پری نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔
نہیں… وہ اللہ کے پاس نہیں ہیں۔
پریشے کا ماتھا شکن آلود ہو گیا۔
ان کا انتقال ہو گیا ہے نا، پری؟ تو وہ اللہ کے پاس ہی ہوں گی۔
نہیں… آپ کو کس نے کہا کہ ان کا انتقال ہو گیا؟
تو پھر؟ پریشے کی آواز خودبخود مدھم ہو گئی۔
وہ مری نہیں ہیں… پری نے دھیرے سے کہا۔
وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔
پریشے کے دل میں ایک جھٹکا سا لگا۔
چھوڑ کر؟ مطلب… وہ زندہ ہیں؟ وہ بابا سے الگ ہو کر گئی ہیں؟
پری نے کندھے اچکائے۔
نہیں… بس بھاگ گئی تھیں۔ بغیر کچھ کہے…
تمہیں یہ سب کس نے بتایا؟
پریشے کی آواز اب سنجیدہ تھی۔
کچھ اماں دادی سے سنا، کچھ دادی سے… پری نے معصومیت سے کہا۔
پریشے نے نرمی سے ٹوکا۔
ایسے پیٹھ پیچھے کسی کی باتیں نہیں سنتے، پری۔
یہ بہت بری بات ہوتی ہے۔
پری نے فوراً صفائی دی۔
میں سنتی نہیں ہوں…
بس آتے جاتے میرے کان میں آواز آ جاتی ہے۔
پریشے نے ہلکا سا مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اب نہیں آنی چاہیے آواز، ٹھیک ہے؟ اب آواز اگر آئے تو کان اپنے یہ دونوں ہاتھ رکھ لینا۔۔۔
جی جی۔ پری نے تابعداری سے سر ہلایا
اچھا، تمہاری ماما کا کیا نام تھا؟
پری نے سر جھکا لیا۔ مجھے نہیں پتا۔
تم نے کبھی اپنی ماما کو نہیں دیکھا؟
نہیں… میرے پیدا ہوتے ہی وہ بھاگ گئی تھیں۔
میں نے دادی سے سنا تھا۔۔ کہ وہ ہاسپٹل سے ہی چلی گئی تھیں۔
پریشے نے لمحہ بھر سوچا۔
اچھا، تو تصویر میں تو دیکھا ہوگا نا؟
نہیں…
نہ میرے کمرے میں ان کی کوئی تصویر ہے
نہ بابا کے پاس۔ اور میں بابا سے پوچھ کر
انہیں hurt نہیں کرنا چاہتی…
وہ رکی، پھر دھیرے سے بولی،
اسی لیے تو میں نے آپ کو سمجھایا تھا،
کہ آپ بابا کی بیوی ہیں۔
پریشے کے دل میں عجیب سا کھٹکا ہوا۔
ایک منٹ… گوگل پر تو تصویر ہوگی۔ یقیناً ہوگی۔
اس نے فوراً فون نکالا
اور سرچ کیا۔۔
Aswan Diyar Shah — Asdan Manufacturing Owner — Marriage Life
چند لمحوں میں اسکرین بھر گئی۔
پریشے کی سانسیں جیسے اٹک گئیں۔
تمہیں پتا ہے…
وہ حیرت سے بولی،
شادی سے پہلے جب میں آسوان کے بارے میں سرچ کرتی تھی، تو کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ اور اب…
وہ ویب سائٹ کھولتی چلی گئی۔
تفصیل سامنے تھی۔۔۔ کاروبار، کامیابی، اقدار… اور پھر آخری حصہ۔
Personal Life
Aswan got married six years ago to Parishay Rauf…
پریشے کے ہاتھ کانپنے لگے۔
یہ… یہ کیا ہے؟ اس کے منہ سے بےاختیار نکلا۔
کیا ہوا؟ پری نے چونک کر پوچھا۔
گوگل پر… ان کی پہلی بیوی کا کوئی ذکر ہی نہیں۔
جبکہ… وہ رکی،
اس کی جگہ میرا نام ہے۔ اور ہماری شادی… چھ سال پہلے؟ یہ… یہ کیا ہے؟
پریشے نے دھیرے سے پوچھا، تمہاری ماما کا نام بھی پریشے راؤف تھا؟
پری ہنس پڑی۔
ارے نہیں۔۔۔ آپ کا ہی نام ہے۔ نام تو ایک جیسا ہو سکتا ہے۔۔ سرنامے تھوڑی نا۔
تو پھر…؟
تو بابا نے ان کا نام ہٹا کر آپ کا نام ڈلوا دیا ہوگا۔
ہیں؟ پریشے کے لبوں سے بےیقینی ٹپکی۔
ہاں۔۔۔ پری نے پورے یقین سے کہا۔ آپ بابا کو نہیں جانتیں۔ وہ اپنے مقصد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
پریشے اچانک ہنس پڑی۔
ہاں… ہاں… مجھے یاد آیا۔ انہوں نے کہا تھا،  کہ وہ تمہیں دوسری شادی کے بارے میں بتانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ وہ مجھے تمہارے سامنے تمہاری ہی ماما بنا کر لانا چاہتے تھے، مگر ہم دونوں نے ان کا پلان فیل کر دیا۔
ہاں۔۔۔ پری بھی ہنس دی۔
کمرے میں ہنسی بکھر گئی،
مگر پریشے کے دل کے کسی کونے میں ایک سوال خاموشی سے جاگ چکا تھا۔۔
اگر اسوان کی پہلی بیوی زندہ ہے تو وہ اُسے چھوڑ کر کیوں گئی۔۔؟؟ اور وہ ایک کیسی ماں ہے، بیوی تو شوہر کو تو چھوڑ کر جا سکتی، لیکن ایک ماں ایک ماں اپنی اولاد کو کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہے۔۔؟؟؟
+++++++++++

اسدان مینوفیکچرنگ کبھی اسوان کا فخر ہوا کرتی تھی۔
یہ وہ فیکٹری تھی جس کا نام سن کر کلائنٹس کو یقین آ جاتا تھا کہ مال مضبوط ہوگا، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور ڈیلیوری وقت پر ملے گی۔
مشینوں کے پرزے ہوں یا صنعتی سامان، اسوان کی کمپنی کی پہچان صرف ایک تھی۔۔۔
کوالٹی۔
اسوان نے یہ کمپنی دن رات کی محنت سے کھڑی کی تھی۔
وہ مالک کم اور نگران زیادہ تھا۔
ہر مشین، ہر آرڈر، اور ہر فائل پر اس کی نظر ہوتی تھی۔
مگر پچھلے دو مہینے سے سب کچھ بدلنے لگا تھا۔
وہ مال، جو کبھی واپس نہیں آتا تھا، اب لوٹنے لگا تھا۔
وہ کلائنٹس، جو برسوں سے ساتھ تھے، سوال اٹھانے لگے تھے۔
اور بازار میں آہستہ آہستہ یہ بات پھیلنے لگی تھی کہ
اسدان مینوفیکچرنگ اب پہلے جیسی نہیں رہی۔
اسوان کے لیے یہ بات ماننا مشکل تھا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا۔۔۔
اگر اس کی کمپنی میں کوئی کمی تھی،
تو وہ غلطی نہیں، سازش ہو سکتی تھی۔
اور اسی کشمکش کے درمیان…
وہ اس دن میٹنگ روم کی کرسی پر بیٹھا تھا۔
آج اس کے چہرے پر وہ رعب اور اعتماد نہیں تھا جو عام طور پر سب کو خاموش کرا دیتا تھا۔
ٹیبل پر رکھی فائل اس نے آہستہ سے بند کی۔
Accounts…
اس نے دھیمی آواز میں کہا،
سیدھی بات بتاؤ… ہمارے پاس کتنا پیسہ بچا ہے؟
سی او آف نے گلا صاف کیا۔
اس کی نظریں فائل پر ہی جمی رہیں، اسوان کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
سر… پچھلے کچھ وقت سے مال واپس آ رہا ہے،
پروڈکشن میں نقصان ہو رہا ہے،
اور penalties بھی دینی پڑ رہی ہیں…
اس نے ایک لمحے کو رُک کر کہا،
ہم پچھلے دو مہینوں سے کمپنی کی بچت استعمال کر رہے تھے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
آخری بات؟
اسوان نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔
سی او آف نے آہستہ سے کہا،
سر… اب تقریباً سارا پیسہ ختم ہو چکا ہے۔
اگر نئی پروڈکشن شروع کرنی ہے تو…
ہمیں نیا سرمایہ چاہیے۔
اسوان کی انگلیاں خود بخود مٹھی میں بند ہو گئیں۔
کتنا سرمایہ؟
اس نے مختصر سا سوال کیا۔
اتنا کہ فیکٹری دوبارہ چل سکے، اور کلائنٹس کو یقین دلایا جا سکے… وہ رک گیا، پھر بولا، ورنہ…
ورنہ کمپنی بند ہو جائے گی،
اسوان نے خود ہی بات مکمل کر دی۔
وہ کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
پہلی بار وہ واقعی تھکا ہوا دکھائی دیا۔
بینک؟ اس نے پوچھا۔
سی او آف نے نفی میں سر ہلایا۔
مارکیٹ میں جو افواہیں پھیل رہی ہیں، ان کی وجہ سے بینکس نے لون روک دیا ہے،
اسوان کے ہونٹوں پر ہلکی سی ہنسی آئی،
مگر اس میں کوئی خوشی نہیں تھی۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہی شہر، وہی عمارتیں…
مگر آج سب کچھ اجنبی لگ رہا تھا۔
فواد نے ہمت کر کے کہا،
سر… اگر جلد سرمایہ arrange نہ ہوا تو۔۔۔
اسوان نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
مجھے پتا ہے، اس نے کہا۔
اب اس کی آواز میں غصہ نہیں تھا،
بلکہ مضبوط فیصلہ تھا۔
ہمیں پیسہ بھی چاہیے… اور یہ بھی جاننا ہے کہ یہ سب کر کون رہا ہے۔۔۔
وہ آہستہ سے بولا،
کیونکہ جس نے یہ سب کیا ہے،
وہ میرے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا۔۔یہاں تک کہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ میں کام کیسے کرتا ہوں۔۔۔
میٹنگ ختم ہو چکی تھی۔ اسوان اکیلا میٹنگ روم میں کھڑا تھا۔
کرسی پر بیٹھنے کے بجائے وہ کھڑکی کے پاس آ کر رُک گیا۔ شہر نیچے پھیلا ہوا تھا۔
ہزاروں لوگ… اور سب سے اوپر وہ۔ اس نے میز پر پڑی نوٹ پیڈ اٹھائی۔
قلم گھمایا،
اور اوپر ایک لائن لکھی:
Internal Access
کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔
اس نے پہلا نام لکھا…
پروڈکشن ہیڈ۔
دوسرا
کوالٹی کنٹرول۔
تیسرا
ڈسپیچ۔
ہر وہ شخص جس کے ہاتھ سے مال گزرتا تھا۔
یہ بھروسا توڑنے کا لمحہ نہیں تھا،
یہ حساب لگانے کا تھا۔
اسوان کے چہرے پر کوئی غصہ نہیں تھا، نہ ہی پریشانی۔ صرف حساب۔
اس نے ایک لائن کھینچی اور ساتھ لکھا
Benefit
کسے فائدہ ہو رہا تھا؟
کسے اسوان کے کمزور ہونے کی ضرورت تھی؟
اس نے لسٹ پر نظر ڈالی۔
ایک نام پر نظر ایک لمحہ زیادہ ٹھہری۔
وہ نام مٹایا نہیں۔ نہ ہی کاٹا۔ بس ذہن میں محفوظ کر لیا۔
اسوان نے قلم بند کیا۔ نوٹ پیڈ میز پر رکھا۔
اور جو یہ سمجھتا ہے، کہ میں برباد ہوجاؤں گا…
وہ مجھے ابھی جانتا ہی نہیں۔۔۔
اسوان نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔
نہ فواد کو، نہ سی او آف کو،
نہ ہی پروڈکشن ٹیم کو۔
آفس میں سب کچھ ویسا ہی چلتا رہا جیسے پہلے چل رہا تھا۔۔۔ میٹنگز، رپورٹس، فون کالز۔

اسوان نے تین الگ فائلیں بنوائیں۔ ہر فائل میں
ایک ہی آرڈر تھا، مگر تفصیل میں معمولی فرق۔ ایک فائل پروڈکشن ہیڈ کے پاس گئی۔
دوسری کوالٹی کنٹرول میں۔
تیسری ڈسپیچ کے لیے۔
فرق اتنا چھوٹا تھا۔۔۔
کہ صرف وہی شخص پہچان سکتا تھا
جو جان بوجھ کر دیکھ رہا ہو۔
اسوان خود پیچھے کھڑا تھا۔
نہ نظر آتا، نہ بولتا۔
اس نے ہدایت دی کہ
یہ آرڈر “priority” میں چلایا جائے۔
ظاہر میں ایک عام آرڈر۔ حقیقت میں ایک جال۔
اس نے سسٹم میں ایک اضافی قدم بھی ڈلوایا۔۔۔
خاموش لاگ۔ ہر فائل کب کھلی، کس نے دیکھی،
کس نے بدلی۔۔۔
سب کچھ record ہو رہا تھا۔
کسی کو خبر نہیں تھی۔۔۔

+++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *