Taqdeer e Azal Episode 28 written by siddiqui

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲۴
زیدان تیزی سے کمرے میں داخل ہوا تو اچانک سامنے موجود اجنبی وجود کو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ اس کی نظریں فوراً سخت ہو گئیں۔
تم کون ہو؟
حِرا چونک کر فوراً کھڑی ہو گئی۔
آپ کون ہیں؟ میں… میں کائنات کی دوست ہوں۔
زیدان نے سرد لہجے میں سوال کیا،
تو یہاں کیا کر رہی ہو؟
حِرا نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا،
آپ کائنات کے شوہر ہیں؟
ہاں۔
حِرا کے چہرے پر بےاختیار حیرت آ گئی۔
ارے نہیں نہیں… آپ کیسے ؟ آپ تو اتنے ہینڈسم ہیں۔۔۔
زیدان کی بھنویں تن گئیں۔ کیا مطلب ہے تمہارا؟
وہ تیز نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولا۔
حِرا گھبرا گئی مگر زبان پھر بھی رک نہ سکی۔
میرا مطلب یہ ہے کہ کائنات نے تو مجھے بتایا تھا آپ بہت خطرناک ہیں۔۔
وہ کہتے کہتے رک گئی، پھر فوراً بات سنبھالی،
لیکن آپ تو کافی ہینڈسم ہیں۔ اوپر سے کائنات نے کہا تھا کہ آپ سے شادی اس کی سزا تھی… لیکن اگر سزا اتنی ہینڈسم ہو تو پھر مجھے بھی ایسی سزا چاہیے۔
زیدان کے چہرے پر سختی مزید گہری ہو گئی۔
کائنات نے میرے بارے میں کیا کہا ہے؟
حِرا نے سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔
کہ آپ بہت وحشی انسان ہیں، بلاوجہ غصہ کرتے ہیں۔ میں نے تو آپ کا تصور لمبے لمبے بالوں اور بڑی بڑی مونچھوں والا کر لیا تھا، مگر یہاں تو معاملہ بالکل الٹا لگ رہا ہے۔
زیدان کا ضبط جواب دے گیا۔
بکواس مت کرو،۔ نکلو یہاں سے۔۔۔
حِرا نے فوراً ہاتھ اٹھا دیے۔
بس بس، یہی… تھوڑی سی سختی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر آپ خود دیکھیں گے۔
کیا دیکھوں؟ زیدان نے جھنجھلا کر پوچھا۔
حِرا نے ہمت کر کے کہا،
یہ کہ کیسے لڑکیاں آپ کے آگے پیچھے گھومتی ہیں… اور کائنات اپنی قسمت پر رشک کرتی ہے۔
زیدان کو اس کی باتیں سن کر غصہ آیا، مگر جیسے ہی اس کی بات مکمل ہوئی، وہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گیا۔ ذہن میں کہیں دور کائنات کے الفاظ گونجنے لگے۔
جاؤ یہاں سے۔۔۔
وہ اچانک چلّایا۔
حِرا تھوڑا سا ڈر گئی۔ اس نے ایک آخری نظر کمرے پر ڈالی، پھر خاموشی سے وہاں سے نکل گئی۔

++++++++++

زیدان شیشے کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ لمحہ بھر کو اس نے خود کو غور سے دیکھا، اتنی توجہ سے جیسے آج پہلی بار اپنا عکس دیکھ رہا ہو۔
اور پھر، بےاختیار اس حقیقت کا احساس ہوا کہ… ہاں، وہ واقعی ہینڈسم تھا۔
مگر اس احساس میں کوئی خوشی نہیں تھی۔
اس کی نظر آہستہ آہستہ اپنی ہی آنکھوں سے ہٹ کر کہیں اور ٹھہر گئی، کائنات کے خیال میں۔
وہ سوچنے لگا…
کیا وہ اسی لیے اتنا روتی ہے؟
کیا اس کی شادی مجھ سے ہو جانا ہی اس کے آنسوؤں کی وجہ ہے؟
اس کے دل میں ایک اور سوال ابھرا، پہلے سے زیادہ چبھتا ہوا
اور اس نے نماز پڑھنا کیوں چھوڑ دیا؟
پہلے وہ یہی سمجھتا رہا تھا کہ وہ گھر والوں کی رویہ کی وجہ سے روتی ہے۔۔۔
مگر نہیں…
ایسا ہرگز نہیں تھا۔
کبھی کبھی تو گھر میں کوئی بات بھی نہیں ہوتی تھی، پھر بھی اس کی آنکھیں بھیگی ہوتیں۔
اور صرف یہی نہیں۔۔۔
وہ تو شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
یہ خیال زیدان کے دل میں کسی کانٹے کی طرح چبھ گیا۔
شاید مسئلہ صرف شادی کا نہیں تھا…
شاید مسئلہ وہ خود تھا۔۔۔
پھر زیدان نے لاشعوری طور پر ہاتھ اپنے بالوں میں پھیرا، انگلیوں کی گرفت میں انہیں پیچھے کی طرف سیٹ کیا، جیسے بکھری ہوئی سوچوں کو بھی ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہو۔
کھلی ہوئی شرٹ کے اگلے بٹنوں پر نظر پڑی تو ایک لمحے کو رکا، پھر ایک ایک کر کے انہیں بند کرنے لگا۔
یہ صرف بٹن نہیں تھے جو بند ہو رہے تھے،
یہ وہ بےساختگی تھی جو وہ خود پر مسلط کر رہا تھا،
وہ نرمی… جسے اس نے برسوں پہلے خود سے دور کر دیا تھا۔
اور اب…
وہی نرمی، جسے اس نے خود سے چھین لیا تھا،
آہستہ آہستہ اپنے وجود میں واپس لا رہا تھا،
کائنات کے لیے… صرف کائنات کے لیے۔

++++++++++++

حِرا بھاگتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف جا رہی تھی کہ عین وہیں کائنات سے ٹکرا گئی۔
کہاں جا رہی ہو؟
کائنات نے چونک کر پوچھا۔
حِرا نے آنکھیں پھیلا کر کہا،
یار تم نے سب کچھ بتایا … بس یہ نہیں بتایا کہ تمہارا شوہر اتنا ہینڈسم ہے….
کائنات نے ایک لمحے کو اسے دیکھا، پھر بےساختہ بولی،
یہ کوئی بتانے والی بات تھی؟
ہاں، اور نہیں تو کیا! حِرا نے فوراً جواب دیا۔
کائنات نے جھجکتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا۔
چپ رہو… اور اُنہیں کہاں سے دیکھ لیا۔۔۔؟
حِرا نے سر ہلایا۔
یار ابھی ابھی روم میں آئے تھے۔۔۔، ابھی انہی سے مل کر آ رہی ہوں۔ بس… تھوڑے سے سخت ہیں۔
کیا؟ کائنات ایک دم پریشان ہو گئی۔
کچھ کہا تو نہیں؟ غصہ تو نہیں کیا تم پر؟
حِرا نے فوراً تسلی دی۔
ہاں، تھوڑا سا کیا تھا… لیکن میں خاموشی سے نکل آئی۔
کائنات نے گہری سانس لی۔
بہت اچھا کیا۔ اب چلو، نیچے ڈائننگ ٹیبل پر ہی کھانا کھا لیتے ہیں۔
حِرا مسکرا کر اس کے ساتھ چل پڑی۔
ویسے تُم نے تو کہا تھا وہ اس ساتھ تک نہیں آتے؟
کائنات فوراََ بولی یار اُن کے دماغ کا کُچھ نہیں پتہ ہوتا۔۔۔ تب کیا کر دیں تب کس وقت آجائے۔۔۔
اچھا۔۔۔ویسے ایک آدھا غصہ چھوڑ کر، شوہر اچھا ہے تیرا۔۔۔
کائنات کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی، وہ مسکراہٹ جو بہت کم دکھائی دیتی تھی۔
ہاں… جانتی ہوں۔
+++++++++++

کائنات کمرے میں آئی تو اس کے قدموں میں بےاختیار سی تیزی تھی۔ دل ابھی تک حِرا کے سہمے ہوئے چہرے پر اٹکا ہوا تھا۔
میری دوست پر غصہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
اس نے سیدھا سوال کر دیا۔
زیدان شیشے سے نظریں ہٹا کر کائنات کو دیکھا۔۔۔
غصہ؟ نہیں، میں نے تو بس یہ کہا تھا کہ یہاں سے جاؤ۔
کائنات کے ماتھے پر شکن پڑ گئی۔
ایسا کوئی مہمان کے ساتھ کرتا ہے بھلا؟ اگر اسے بُرا لگ جاتا تو؟
زیدان نے نظریں چرا لیں، جیسے اس موضوع پر مزید بات اس کے بس میں نہ ہو۔
اب یہ مت کہنا کہ میں سب کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤں۔ یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہو گا۔
کائنات نے اسے دیکھا،  آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا…
زیدان نے چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھا، پھر قدرے دھیمے لہجے میں بولا،
تو تم کچھ کر لو نا…
میں کیا کروں؟ آپ میری سنتے ہی کہاں ہیں۔
زیدان فوراً بولا، کیا مطلب، نہیں سنتا؟
کائنات نے سر ہلا دیا۔ نہیں سنتے۔ پھر اچانک سوال کیا، اور اس وقت گھر کیوں آئے ہیں؟
زیدان کے لہجے میں بےاختیاری سی جھلک آئی۔
ارے، میری مرضی… جب چاہوں گھر آؤں۔
کم از کم بتا کر تو آیا کریں، تاکہ مجھے آپ کی ٹائمنگ کا پتہ ہو۔
زیدان ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے جھنجھلا کر جیب سے فون نکل کر اٹھایا۔
دوسری طرف سے کسی کی چیخ سنائی دی،
ابے جلدی اِدھر آ۔۔۔
آواز اتنی تیز تھی دوسری طرف کی کے اسپیکر نہ ہونے کے باوجود بھی کائنات کو اُس کی آواز سنائی دے گئی۔۔۔ شاید دوسری طرف جو تھا وہی اتنے تیز آواز میں چیخا تھا۔۔
کائنات چونک گئی۔
اس کی نظریں بےاختیار زیدان کے چہرے پر جم گئیں،
جہاں لمحہ بھر کو ناگواری اور بےچینی ایک ساتھ ابھر آئی تھی۔
آ رہا ہوں، مر مت۔۔۔ زیدان نے چڑ کر جواب دیا۔
ابے سالے، تو مر، میں کیوں مروں۔۔۔ دوسری طرف سے فوراََ جواب آیا۔۔۔
زیدان نے مزید کوئی بحث کیے بنا جھٹ سے فون کاٹ دیا۔
کائنات نے حیرانی سے پوچھا، آپ کہاں جا رہے ہیں؟
زیدان نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا،
تم نے کہا تھا نا کہ زیادہ نہ لڑوں؟ بس… اسی کا انتظام کرنے جا رہا ہوں۔
کائنات نے الجھ کر کہا،
ہاں… کیا؟ لیکن۔۔۔ کیا کیسے۔۔؟
لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی،
زیدان تیزی سے کمرے سے نکل چکا تھا۔
اور کائنات وہیں کھڑی رہ گئی، اس کے دل میں سوالوں کی ایک قطار اور جواب… سب کے سب ادھورے۔

++++++++++++

اسوان آفیس سے گھر لوٹا تو سیدھا پری کے کمرے میں آ گیا۔ آفیس کی الجھنیں، فیصلوں کا بوجھ، اور ناکام ہونے کا اندیشہ اسے اندر تک زخمی کر چکا تھا۔
کمرے میں داخل ہوا تو پری بستر پر سو رہی تھی۔
وہ ٹھٹھک گیا۔
اتنی جلدی…؟
آہستہ سے اس کے پاس بیٹھ گیا۔
ننھا سا چہرہ، پرسکون سانسیں…
وہی بچی جس کے لیے وہ پوری دنیا سے لڑ سکتا تھا۔
میری جان…
اس نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اتنی جلدی سو گئی؟
پری ذرا بھی نہیں ہلی۔
بابا کی جان، اٹھ جاؤ نا…
اس کی آواز میں بےچینی در آئی۔
بابا کو آپ سے بات کرنی ہے…
مگر پری گہری نیند میں تھی۔
اسوان نے تھوڑی دیر اسے دیکھا، پھر آہستہ سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔
آخرکار اس نے اسے جگانے کا ارادہ چھوڑ دیا۔
اسی لمحے پریشے کمرے میں آئی۔
آج آپ جلدی آ گئے… اس نے ہلکی سی حیرت سے کہا۔
اچھا ہوا… مجھے آپ سے کام تھا۔
آسوان نے پلٹ کر دیکھا۔ کیا؟
پریشے نے ہچکچاتے ہوئے کہا، کافی تیز بخار ہے… چکر بھی آ رہے ہیں۔ بس نیند آ رہی ہے۔ یہ دوا لینی ہے…
اس نے پرچی آگے بڑھائی۔
لیکن میڈیسن باکس میں دوا نہیں ہے۔
میں نے سوچا بخار رات تک بہتر ٹھیک ہوجائے گا۔۔ مگر بخار بڑھ گیا ہے… اور ڈرائیور کی ڈیوٹی بھی ختم ہو چکی ہے… تو آپ یہ دوا۔۔
پریشے کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی آسوان کے اندر جمع سارا غصہ پھٹ پڑا۔
کیا کیا تم نے میری بیٹی کے ساتھ؟!
اس کی آواز کمرے میں گونج اٹھی۔
دن سے بخار تھا اور تم مجھے اب بتا رہی ہو؟!
تمہیں پہلے فون کیوں نہیں کیا؟!
پریشے گھبرا گئی۔ نہیں… اِسے کچھ نہیں ہوا۔۔۔
مگر وہ سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا،
پریشے کے بازو تھام کر اسے دیوار سے لگا دیا۔
کہیں تم میری بیٹی کے معاملے میں لاپرواہی تو نہیں کر رہیں؟!
اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں، خوف تھا…
مگر وہ خوف چیخ بن چکا تھا۔
میری بات تو سنے۔۔۔
میں نے کہا تھا نا، پری کا خاص خیال رکھنا ہے۔۔۔
وہ چیختا رہا۔
یہ کوئی عام بچی نہیں، یہ اسوان دیارِ شاہ کی بیٹی ہے۔۔۔
اگر اسے کچھ ہوا تو میں۔۔۔ تمہیں جان سے ماردونگا۔۔۔
وہ خود نہیں جانتا تھا وہ کیا کہہ رہا ہے۔
صبح سے بخار تھا…
اور تم انتظار کر رہی تھیں کہ کچھ ہو جائے؟! کہیں ایسا تو نہیں ہے، تُم یہ سب جان بوج کر رہی ہو۔۔۔
پریشے خاموش رہی۔ بس آنسو، جو اس کی پلکوں سے بہہ نکلے۔ دِل پہ خنجر تھا جو چالا چُکا تھا۔۔۔
اسی شور میں پری ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
بابا…؟ اس کی آواز نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔
کیا ہوا؟ آپ اتنا کیوں چیخ رہے ہیں؟
اسوان فوراً پریشے کو چھوڑ کر پری کے پاس آ گیا۔
میری جان، طبیعت کیسی ہے؟
زیادہ بخار تو نہیں؟
وہ اس کا ماتھا چیک کرنے لگا۔ مگر ماتھا بالکل نارمل تھا۔
بابا، مجھے کیا ہوا ہے؟ میں تو ٹھیک ہوں…
آسوان الجھ گیا۔
تمہاری طبیعت خراب نہیں تھی؟
پھر اتنی جلدی کیوں سو گئیں؟ آٹھ بجے ہی؟
پری نے معصومیت سے کہا، بابا، میں تھک گئی تھی نا،
آج پلے ایریا گئی تھی، بہت کھیلی…
کس کے ساتھ؟۔اسوان نے فوراً پوچھا۔
پری نے سادگی سے جواب دیا،
آپ کی بیوی کے ساتھ۔
آسوان کی نظر بےاختیار پریشے پر گئی۔
وہ دیوار کے ساتھ کھڑی تھی،
چپ، کانپتی ہوئی…
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
پری نے اسے دیکھا تو بولی،
دیکھیں بابا، وہ رو رہی ہیں۔ آپ ان پر کیوں غصہ کر رہے تھے؟
آسوان نے الجھن سے پوچھا، پھر بخار کس کو ہے…؟
اس نے ایک بار پری کو دیکھا، پھر پریشے کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی اس نے پریشے کا ماتھا چھوا۔۔ وہ تپ رہا تھا۔
پریشے… اس کی آواز خود بخود نرم ہو گئی۔
پری بستر پر بیٹھی بیٹھی بولی، بخار انہیں ہے بابا۔ اور آپ ان پر غصہ کر رہے تھے… پھر کہتے ہیں میں ان کے ساتھ بدتمیزی کرتی ہوں۔ آپ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔۔
آسوان کا دل بیٹھ گیا۔
ہاں… چلو… اس نے فوراً کہا۔ میں لے چلتا ہوں۔
اس نے پریشے کا ہاتھ پکڑنا چاہا،
مگر اس نے آہستہ سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
اچھا نا… آسوان کی آواز میں ندامت تھی۔ آئی ایم سوری مجھے صحیح سے کیوں نہیں بتایا کہ تمہیں بخار ہے؟ میں غصے میں الٹا سیدھا بول گیا…
پریشے خاموش رہی۔ اس کا دل چاہا وہ اسی لمحے یہاں سے غائب ہو جائے۔ کہیں بہت دور… اتنی دور کہ اسوان کی آنکھیں بھی اسے تلاش نہ کر سکیں۔
نہ کسی کی نظر پڑے، نہ کسی کے لفظ اسے چھو سکیں۔
اسوان مسلسل بول رہا تھا، معافیاں مانگ رہا تھا،
جیسے لفظوں سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
یار، آفس کے مسائل کی وجہ سے میں ویسے ہی پریشان تھا… تم نے اور بتا دیا تو غصہ آ گیا۔ معاف کر دو نا…
کافی دیر بعد پریشے نے آہستہ سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا،
کر دیا معاف…
اسوان نے سکون کا سانس لیا۔
چلو، اب ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں…
نہیں جانا… پریشے کی آواز بہت ہلکی تھی۔
اچھا، میں دوائی لے آتا ہوں…
لے آئیں… کھاؤں گی نہیں میں۔
اسوان کی بھنویں تن گئیں۔ یہ کیا بچپنا ہے، پریشے؟
وہ کچھ نہیں بولی۔ خاموشی سے پلٹ کر جانے لگی۔
اگلے ہی لمحے اسوان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
معاف کر دیا نا؟ پھر دوائی نہ کھانے کی ضد کیوں کر رہی ہو؟
پریشے نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔ آپ کو معاف کیا ہے… ایک لمحہ رکی۔ خود کو نہیں کیا…
اسوان ٹھٹک گیا۔ خود کو کیوں معاف کرو؟ تم نے کوئی غلطی نہیں کی…
پریشے کے ہونٹوں پر ایک بے جان سی مسکراہٹ آئی۔
کی ہے نا… سب سے بڑی غلطی کی ہے میں نے…
اسوان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
لیکن پریشے نے بنا کچھ کہے، آہستہ سے اُس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا… اور خاموشی کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔
پری نے روتی ہوئی آنکھوں سے بابا کی طرف دیکھا اور گھبراہٹ میں بولی، بابا… جلدی سے ان کو منا لیں نا…
میری ہی غلطی ہے۔ میں نے ان کی ایک نہیں سنی۔ وہ کہہ رہی تھیں میرے سر میں درد ہے، لیکن میں نے ہی پلے ایریا جانے کی ضد کی تھی…
اسوان فوراً بولا۔۔ نہیں میری جان، تم بالکل ٹینشن نہ لو۔
آرام سے جاؤ… بابا ہے نا، وہ سب سنبھال لے گا۔
پری نے ایک لمحہ دروازے کی طرف دیکھا،
جہاں سے پریشے خاموشی سے جا چکی تھی۔
اس کی چھوٹی سی سانس بھرا گئی۔
پھر اسوان اس کے پاس آیا۔ آہستہ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ دھیرے سے بولا، اب سو جاؤ۔ اس کی انگلیاں نرمی سے اس کے بالوں میں چلتی رہیں۔
پری کی سسکیاں آہستہ آہستہ ہلکی پڑنے لگیں۔
پلکیں بوجھل ہوئیں
اور چند لمحوں بعد وہ گہری نیند میں چلی گئی۔
آسوان نے کچھ دیر وہیں بیٹھے رہ کر اسے دیکھتا رہا۔
پھر جانے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

++++++++++

تھوڑی دیر بعد جب اسوان کمرے میں کھانا اور ساتھ دوائیاں لے کر آیا تو پریشے کمبل اوڑھے کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی۔
وہ اس کے قریب آ کر سائیڈ ٹیبل پر کھانے کی ٹرے رکھتا ہوا بولا،
میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو۔
پریشے کی طرف سے خاموشی تھی…
آسوان نے کرسی کھینچی اور اس کے قریب بیٹھ گیا۔
دیکھو… جو ہوا وہ ٹھیک نہیں تھا،
لیکن تم بھی جانتی ہو میں ایسا کیوں ہو گیا تھا۔
پری… وہ میری کمزوری ہے۔ میری بیٹی۔
اس نے جان بوجھ کر بیٹی پر زور دیا۔
اگر اسے کچھ ہو جاتا نا…
وہ رکا، جیسے الفاظ خود بخود رک گئے ہوں،
تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاتا۔
خاموشی اب بھی برقرار تھی، وہ ذرا سا آگے جھکا۔
میں نے تم پر شک نہیں کیا تھا، پریشے…
میں بس ڈر گیا تھا۔ پری کے معاملے میں، میں ایسے ہی ڈر جاتا ہوں۔۔۔اور زبان سے الٹا سیدھا نکل دیا۔۔۔
کمبل ہلکا سا سرکا۔ پریشے نے کروٹ بدلی، مگر چہرہ پھر بھی اس کی طرف نہ تھا۔
آسوان نے آخری وار بہت نرمی سے کیا۔۔۔ دوائی لے لو۔ کھانا بھی۔ اگر تم بیمار رہو گی، تو مجھے صِرف تُمہاری ہی فکر رہے گی۔۔۔
کمبل ہٹا اور پریشے ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی۔ آنکھیں سرخ تھیں، کیوں؟ وہ لرزتی ہوئی بولی، کیوں میری فکر لگے رہے گی؟
اور اسوان خاموش ہوگیا اس بات کا جواب تو و خود بھی بھی جانتا تھا۔۔۔
پریشے سیدھا اسوان کی طرف دیکھ کر بولی۔ میں جانتی ہوں۔۔ آپکو میری فکر نہیں۔۔ بلکہ اس بات کی فکر ہے کہ میں بیمار پڑ گئی تو پری کا خیال کون رکھے گا۔۔۔ ہیں نہ۔۔۔ لیکن آپ فکر نہ کریں۔۔ میں جب تک یہاں ہوں پری کا اچھے سے خیال رکھوں گی۔۔۔
اور یہ کہہ کر وہ دوبارہ لیٹ گئی، کمبل کو اپنے اردگرد دوبارہ سے لپٹ لیا۔۔۔
آسوان گھبرا سا گیا۔ وہ فوراً آگے جھکا۔
ایسا مت کرو، پریشے… آواز بے اختیار نرم ہو گئی۔
تم مجھ پر چیخ لو، چلا لو، جو دل چاہے کہہ دو… لیکن دوائی لے لو۔۔۔۔
وہ چند لمحے رکا، پھر دھیرے سے بولا میں غلط تھا۔ لیکن میری نیت… میری نیت تمہیں دکھ دینے کی نہیں تھی۔
پریشے کی پلکیں بند تھیں، مگر آنسو تکیے میں جذب ہو رہے تھے۔ آسوان وہیں کرسی پر بیٹھا رہ گیا۔
کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک صاف سنائی دے رہی تھی، جیسے ہر گزرتا لمحہ اس کے صبر کا امتحان لے رہا ہو۔ وقت آہستہ آہستہ سرکتا رہا…
کھانے کی ٹرے ویسے ہی پڑی رہی، دوائیاں جوں کی توں۔ وہ دوبارہ بولا نہیں،
بس بیٹھا رہا۔ کبھی نظریں اس کمبل پر جم جاتیں، کبھی دیوار پر۔ کافی دیر بعد اس نے گہری سانس لی۔
آواز اب بالکل دھیمی تھی،
ایسی جیسے کسی نے اس کا غرور نچوڑ لیا ہو۔
بس کردو پریشے، دوائی لے لو۔۔۔
وہ آہستہ سے بولا،
بھلے نہ بات کرو مُجھے سے۔۔۔دوائی تو لے لو۔۔۔
خاموشی…
لیکن اس بار کمبل کے نیچے سانس کی آواز کچھ اور تھی۔
کر بھی دو معاف۔۔۔تُم جانتی تو ہو مُجھے، میں غصے کا تھوڑا تیز ہوں۔۔۔ مُجھے اُس وقت کُچھ سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔
وہ آہستہ سے کرسی پر جھکا، کہنیوں پر ہاتھ رکھے۔
میں مانتا ہوں میں نے حد پار کی۔
لیکن تم اگر اس طرح كرو گی، تو تُمہاری طبیعت مزید خراب ہوگی۔۔
کمرے میں پھر خاموشی پھیل گئی۔
مگر اس خاموشی میں رات گہری ہو چکی تھی۔
وقت گزرتا رہا… آدھی رات کب ہوئی،
پتہ ہی نہ چلا۔ پریشے کمبل میں سمٹی ہوئی تھی،
جسم تھکا ہوا، دل اور زیادہ۔ اسوان اب بھی وہیں بیٹھا تھا۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صِرف پریشانی تھی۔۔۔
کافی دیر بعد
پریشے کے جسم میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ اس نے کروٹ بدلی۔ آسوان نے فوراً یہ حرکت محسوس کی،
لیکن اس بار کچھ نہیں بولا۔ بس آہستہ سے بولا
دوائی رکھ دی ہے یہاں… جب دل کرے لے لینا۔
کوئی جواب نہیں آیا۔
وقت نے ایک اور چکر مکمل کیا۔ آخرکار تھکن نے ضد پر سبقت لے لی۔ پریشے کی سانسیں ہموار ہونے لگیں۔
وہ سو گئی تھی۔
اسوان نے اسے دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ لی۔
آسوان آہستہ سے کرسی سے اٹھا۔
حرکت اتنی محتاط تھی جیسے ذرا سی آواز بھی
اس خاموشی کو توڑ دے گی، جس میں پریشے آخرکار سو پائی تھی۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ کمبل کے کنارے سے جھانکتا اس کا چہرہ، آنکھوں کے نیچے تھکن کی ہلکی سی سیاہی، اور پیشانی پر وہ شکن جو نیند میں بھی باقی رہ گئی تھی۔
اسوان کا دل ایک لمحے کو بھاری ہو گیا۔ ہاتھ بےاختیار آگے بڑھا، مگر ٹھٹھک گیا۔ جیسے خود سے اجازت مانگ رہا ہو۔ پھر بہت آہستہ سے وہ جھکا۔
اس کے ہونٹ پریشے کی پیشانی کو بس ایک لمحے کے لیے چھو گئے۔
نہ کوئی دعویٰ، نہ کوئی حق جتانا، نہ کوئی لفظ  صرف ایک خاموش سا لمس، جس میں ندامت بھی تھی،اور وہ محبت بھی،  جسے وہ اکثر غصے کے پیچھے چھپا دیتا تھا۔
وہ سیدھا ہوا۔
ایک بار پھر اسے دیکھا، جیسے دل ہی دل میں کچھ کہہ رہا ہو، جو زبان تک آنے کی ہمت نہ رکھتا تھا۔
پھر آہستہ سے لائٹ مدھم کی،
اور بستر کی دوسری طرف آکر لیٹ گیا۔۔۔
مگر نیند اس سے کوسوں دور تھی۔
++++++++++++

زیدان، سنان کے سامنے بیٹھا تھا۔
سنان کے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کی بوتل تھی،
جسے وہ گھماتے ہوئے زیدان کو گھور رہا تھا۔
ٹیبل پر زیدان کے سامنے دو موبائل فون رکھے تھے
دونوں اسی کے تھے۔
زیدان نے خاموشی توڑی۔ بتا نام۔
سنان نے بوتل سے ایک گھونٹ لیا۔ سوچ لے…
زیدان نے دانت بھینچے۔ ابے بتا…
سنان نے بوتل میز پر رکھی۔ اسوان۔
زیدان چونک گیا۔ کیا…؟
سنان نے ٹھنڈے لہجے میں بولنا شروع کیا جن جن لوگوں کو تیری سپاری کے لیے کال کی گئی ہے نا
کسی کو بھی کال کرنے والے نے اپنا نام نہیں بتایا۔
نہ کوئی شناخت، نہ کوئی سرا۔
وہ ذرا سا جھکا، فونز کی طرف اشارہ کیا۔
بس یہ سب مافیا کو کی گئی کالز کی ریکارڈنگز ہیں۔
اور ان کال ریکارڈز میں جو آواز ہے…
ایک لمحہ رکا۔ وہ اسوان کی ہے۔
زیدان نے سر ہلایا۔
ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے…
ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔ سنان کولڈ ڈرنک کا ایک گھونٹ لیتا بولا۔۔۔
ابے سالے… وہ میرے بھائی ہے۔ وہ مجھے کیوں مارنا چاہے گے؟
سنان نے کولڈ ڈرنک کی بوتل میز پر رکھ دی۔
جائیداد کے لیے… اور کس لیے؟
وہ زیدان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،
تو پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھتا کیا؟
بھائی بھائی جائیداد کے لیے دشمن بن جاتے ہیں۔
تو پاکستانی ڈرامے بھی دیکھتا ہے۔۔۔
ہاں بڑے شوق سے۔۔۔
فارغ انسان ہے تو بھی…
شکریہ۔۔۔ اب بتا تیرے بھائی کی سپاری دے دوں۔۔۔
زیدان کا جبڑا سخت ہو گیا۔
وہ میرے بھائی ہیں۔۔۔
سنان نے ایک لمحہ زیدان کو دیکھا، پھر اُس نے آہستہ سے ٹیبل پر پڑا ایک موبائل اٹھایا۔
باتوں پر یقین نہیں آتا نا؟ وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا۔
تو ثبوت دیکھ لے۔
اس نے اسکرین آن کی، ریکارڈنگ اوپن کی اور فون میز پر رکھ دیا۔
کمرے میں ایک مانوس آواز گونجی۔ آواز میں وہی ٹھہراؤ، وہی لہجہ جو زیدان برسوں سے جانتا تھا۔
زیدان کا جسم اکڑ گیا۔
آنکھیں اسکرین پر جمی رہ گئیں۔
سنان نے دوسرا فون اٹھایا۔
یہ دوسری کال ہے۔ دوسری مافیا کو۔ تاریخ، وقت، سب دیکھ لے۔
اس نے انگلی سے اسکرین پر سلائیڈ کیا۔
کال لاگز، ریکارڈنگز، ہر چیز سامنے تھی۔
ہر کال مختلف نمبر سے کی گئی،
سنان بولا،
مگر آواز… آواز ایک ہی ہے۔
زیدان کے ہاتھ آہستہ آہستہ مٹھی میں بند ہونے لگے۔
یہ جعلی نہیں ہے۔
سنان نے آخری کیل ٹھونکی۔
نہ ہی ایڈیٹڈ۔
میں نے تین مختلف لوگوں سے کراس چیک کروایا ہے۔
خاموشی۔ بھاری، زہریلی خاموشی۔
اب بتا، زیدان… سنان نے نظریں گاڑ دیں۔
یہ بھی ڈرامہ لگ رہا ہے؟
زیدان نے کچھ نہیں کہا۔ بس فون کو دیکھتا رہا۔

وہ ہوسٹل کے بستر پر الٹا پڑا تھا۔
بازو پھیلائے، چھت کو گھورتا ہوا۔ بال بکھرے ہوئے،
حلیہ اجڑا ہوا۔ گندے کپڑے، میلا چہرہ۔
پتہ نہیں کتنے دنوں سے نہایا نہیں تھا۔ جس کو وجہ سے اس کے پاس سے عجیب سی بوہ آرہی تھی۔۔۔
اس کی حالت کی وجہ سے کوئی اس کے قریب نہیں آتا تھا۔۔۔
تبھی ہوسٹل کی آیا دروازہ کھول کر اندر آئی۔
زیدان… تمہارا بھائی آیا ہے۔
زیدان نے پلک تک نہیں جھپکی۔ ویسے ہی چھت کو گھورتا رہا۔
آیا نے دوبارہ کہا،
چلو… نہیں تو وہ واپس نہیں جائے گا۔
یہ سنتے ہی زیدان کے اندر جیسے آگ لگ گئی۔
پھر آ گیا؟
اب کیا لینے آیا ہے؟
غصہ اس کے جسم میں دوڑ گیا۔ دل میں آیا
آج تو دو تین اس کے لگاؤں گا۔
کہوں گا…
دفع ہو جا،
میری زندگی سے نکل جا۔
جب کسی کو اس کی فکر نہیں تھی
تو یہ کیوں بار بار آ جاتا تھا؟ اور اگر اتنی ہی فکر تھی تو روک اُسے کیوں نہیں۔۔۔ اور اتنے سال بعد کیوں آیا۔۔۔
وہ جھٹکے سے اٹھا.. اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
راہداری میں کھیلتے بچے اِدھر اُدھر بھاگتے پھر رہے تھے، مگر جیسے ہی زیدان نکلا سب اس سے دور ہو گئے۔ کسی کو اُس سے فرق نہیں پڑتا تھا۔۔
اور نہ ہی زیدان کو کسی کی پروا تھی۔
یہ ہوسٹل مہنگا، صاف ستھرا، اور امیر گھروں کے بچوں سے بھرا ہوا تھا۔
اور زیدان… وہ یہاں بھی اکیلا تھا۔
نیچے پہنچا۔۔۔ تو اسوان بینچ پر بیٹھا تھا۔
وہ پہلے سے کافی بدل چکا تھا۔
قد لمبا، چہرہ سنبھلا ہوا۔ انٹر پاس کر چکا تھا،
یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ فیضانِ صاحب کے آفیس بھی جاتا تھا۔
پینٹ، شرٹ، اوپر جیکٹ۔ بال سلیقے سے بنے ہوئے،
نیت صاف، پورا ایک جینٹل مین۔
اور زیدان؟ میٹرک میں پہنچ چکا تھا، مگر آج تک پاس نہیں ہو پایا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔
ایگزام ہال میں بیٹھتا، اور سارے پیپر خالی چھوڑ کر آ جاتا۔
جیسے ہی اسوان کی نظر زیدان پر پڑی،
وہ فوراً اٹھا اور آگے بڑھ کر زیدان کو گلے لگا لیا۔
شکر ہے…
اسوان کی آواز بھرا گئی۔
تم مجھ سے ملنے نیچے تو آئے۔
اسوان کو نہ زیدان کے بکھرے ہوئے حلیے سے کوئی فرق پڑا، نہ اُس کے میلے چہرے سے، اور نہ ہی اُس بدبو سے جو اس کے پاس سے آ رہی تھی۔
اس کے لیے وہ سب کچھ ثانوی تھا۔
اس کے سامنے بس اُس کا بھائی کھڑا تھا۔۔
وہی زیدان، جسے وہ لینے آیا تھا۔۔۔ جو اس سے بہت دور جا چکا تھا۔..
زیدان نے زور سے اسے دھکا دیا
اور اگلے ہی لمحے ایک گھونسا اس کے پیٹ میں مارا۔
مت آیا کرو یہاں۔۔۔۔
اسوان نے درد ضبط کیا۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں، وہ بولا، میرے ساتھ چلو۔
نہیں جاؤں گا۔۔۔ زیدان چیخ اٹھا۔ اور اگر میری بات نہیں مانی نا تو میں بہت ماروں گا۔۔۔ اتنا ماروں گا کہ زندہ نہیں بچو گے۔۔۔
اسوان نے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔ آنکھوں میں عجیب سا سکون تھا۔
مارو… لو مار لو
زیدان آگے بڑھا اور ایک اور گھونسا مارا۔
کہا نا نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔
اسوان پیچھے نہیں ہٹا۔ آواز مضبوط تھی۔
تمہیں لیے بغیر میں نہیں جاؤں گا، زیدان۔

چل بائے… میں چلا۔
سنان کی آواز پر زیدان چونکا۔ اور اپنے خیالوں کی دنیا سے واپس آیا۔۔۔
کہاں؟ زیدان نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا۔
سنان نے جیکٹ سیدھی کی۔ بندہ ٹپکانے۔
زیدان نے آنکھیں گھمائیں۔ اس کے علاوہ کچھ آتا ہے تجھے؟
سنان رک گیا۔ پھر سنجیدہ چہرے کے ساتھ بولا،
ہاں آتا ہے نا۔
کیا؟
کھانا، پینا… اور سونا۔
ایک لمحے کو خاموشی رہی۔۔۔ پھر زیدان ہنس پڑا۔
بھاگ جا یہاں سے…
اور سنان واقعی یہاں سے ایک سیکنڈ میں غائب ہوگیا۔۔۔
+++++++++++

صبح کی ہلکی سی روشنی پردوں سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھی جب اسوان کی آنکھ کھلی۔
اس نے پہلا کام یہ کیا کہ ساتھ والی جگہ پر نظر ڈالی۔
بستر کا دوسرا حصہ خالی تھا۔
تکیہ ویسے ہی رکھا تھا…
چادر بھی سلیقے سے تہہ کی ہوئی۔
اس کی نگاہ بے اختیار سائیڈ ٹیبل پر رکھی دوائیوں پر جا ٹھہری۔
وہ ویسے کی ویسے ہی رکھی تھیں۔
چھوئی تک نہیں گئی تھیں۔
اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
وہ فوراً اٹھا، جلدی سے فریش ہوا اور سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔
ڈائننگ ایریا میں سب جمع تھے۔ صبح کا ناشتہ چل رہا تھا۔
پریشے سب کے ساتھ بیٹھی تھی۔ چہرہ ہلکا سا اترا ہوا، مگر آنکھوں میں وہی ضدی چمک موجود۔
اسوان خاموشی سے اس کے قریب آ کر بیٹھا اور بنا کچھ کہے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
اب بخار نہیں ہے تمہیں؟
اس کا ہاتھ لگتے ہی پریشے نے اس طرح اسے گھورا
کہ اگر وہاں سب موجود نہ ہوتے تو شاید وہ اس کا ہاتھ جھٹک دیتی۔
اسوان نے اس کی آنکھوں کی ناراضی پڑھ لی۔ مگر کچھ کہا نہیں۔
ہائے اللہ، کیا ہوا اسے؟ راضیہ بیگم نے فوراً سوال کیا۔
کچھ نہیں دادی… بس کل رات سے ہلکا سا بخار تھا۔
اسوان نے سادہ لہجے میں جواب دیا۔
پریشے، تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو پھر پری کو لے کر باہر کیوں گئی تھیں؟ عائشہ بیگم نے قدرے ناراضی سے پوچھا۔
وہ ضد کر رہی تھی… پریشے نے مختصر سا جواب دیا۔
ایک لگایا کرو اسے۔ زینب بیگم نے بے لاگ انداز میں کہا۔ مار نہیں کھاتی نا، تبھی اتنی ضدی ہوگئی ہے۔ ایک بار ضد پکڑ لے تو کسی کی نہیں سنتی۔
اسوان کی نظریں فوراً اٹھیں۔
چاچی، آپ کچھ زیادہ نہیں بول رہیں؟
بالکل نہیں۔ جو کہہ رہی ہوں سچ کہہ رہی ہوں۔ تم نے اسے کچھ زیادہ ہی سر پر چڑھا لیا ہے۔ بے جا لاڈ پیار کی وجہ سے بگڑ گئی ہے۔ کیوں اماں؟ صحیح کہہ رہی ہوں نا میں؟
رضیہ بیگم نے سر ہلایا۔
ائے ہاں، جب الٹی سیدھی حرکت کرے یا بلاوجہ ضد کرے تو ایک دو لگا دیا کرو۔ سیدھی ہو جائے گی۔
اسوان نے پریشے کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش بیٹھی تھی۔
دادی… بچی ہے ابھی۔ اسوان نے دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا۔ چھوٹی سی تو ہے۔
تو ہم کون سا کہہ رہے ہیں کہ اس پر ظلم کرو۔ ایک دو لگانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بلکہ بچہ سنبھل جاتا ہے۔ زنیب بیگم پھر بول پڑی
اسوان نے گہرا سانس لیا۔ نہیں۔ ضرورت نہیں ہے۔
اس کی آواز اب واضح تھی۔
میری بیٹی ہے۔ میں خود دیکھ لوں گا۔
ناشتہ ختم ہونے کے بعد گھر کے سب لوگ اپنی اپنی مصروفیات میں لگ گئے۔
اسوان بھی خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ گیا۔
آج اسے آفیس جانا تھا۔ مگر ایک بات اسے مسلسل کھٹک رہی تھی۔ پریشے اس کے پیچھے اوپر نہیں آئی تھی۔ وہ عموماً اس کے ساتھ ساتھ ہی آتی تھی، کبھی کسی دِن بیڈ سیٹنگ کرتی، کبھی الماری ترتیب دے دیتی،۔کبھی اپنے ہی کپڑے استری کرتے کرتے اس کی شرٹس بھی ہینگر پر جما دیتی۔
ویسے تو وہ اسوان کا کوئی کام نہیں کرتی۔۔ لیکن پھر بھی جب اُسے کوئی چیز نہیں ملتی تو وہی ڈھونڈ کر دیتی، کیوں کہ کمرے اور اُس کے کپڑے کی سیٹنگ تو وہی کرتی تھی۔۔
پہلے تو وہ صرف کام کی حد تک بات کرتی تھی۔
مختصر جملے۔ نظریں جھکی ہوئی۔ فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے۔۔ جس وہ اُس کا شوہر نہیں کوئی انجان شخص ہو۔۔۔
اور اب…؟
کیا وہ اب میرے سامنے بھی نہیں آئے گی…؟
اُس کے دل ہی دل میں خیال آیا۔۔۔ اور حلق تک کڑواہٹ سی بھر گئی۔
عجیب بات تھی۔۔۔ وہ کبھی لفظوں کا محتاج نہیں رہا تھا۔ لوگ خود اس کے اردگرد گھومتے تھے۔ وہ کسی کو منانے، روکنے یا سمجھانے کا عادی نہیں تھا۔
مگر آج…
ایک لڑکی کی خاموشی اسے بےچین کر رہی تھی۔
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔ ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔
پھر اس کی نظر پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھی دوائیوں پر جا ٹھہری۔
ویسے کی ویسے۔
اس نے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس لیا۔
ضدی ہو تم…
وہ زیرِلب بولا۔ مگر لہجے میں غصہ نہیں تھا۔ فکر تھی۔
پھر اُس نے سوچوں کو جھٹکا، اور تیار ہونے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔
الماری سے گرے رنگ کی پینٹ اور وائٹ شرٹ نکالی۔ اور واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
واشروم سے چینج کر کے واپس آیا تو  سامنے ہی ڈریسنگ ٹیبل پر اس کا سارا ضروری سامان ترتیب سے رکھا تھا
گھڑی، بٹوّا، پرفیوم، گاڑی کی چابی۔
وہ چند لمحے رکا۔
یہ ترتیب اُس کی اپنی نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا۔
اسوان نے آہستہ سے بوتل اٹھائی۔
اس کی نظریں آئینے میں اپنے عکس پر تھیں،
مگر ذہن کہیں اور۔
سامنے نہیں آنا… مگر خیال رکھنا نہیں چھوڑنا…
وہ دھیمی آواز میں مسکرایا۔
یہ کون سا اصول ہے تمہارا، پریشے؟
اس نے گھڑی باندھی، فائل اٹھائی،
مگر قدم دروازے تک جا کر رک گئے۔
تُم ایک دِن میری جان لے کر ہی مانوں گی۔۔۔
اسوان نے اچانک فیصلہ کیا۔ آفس چند گھنٹے دیر سے بھی جا سکتا تھا۔
وہ کمرے سے باہر آیا۔
سیڑھیوں کے قریب کھڑے ہو کر نیچے جھانکا۔
ڈرائنگ روم خالی تھا۔
فرنچ ونڈو کے شیشے سے باہر نظر ڈالی تو پریشے لان میں گھاس پر بیٹھی تھی۔ گھٹنوں کو بانہوں میں جکڑے، چہرہ دوسری طرف موڑے۔
اسوان آہستہ آہستہ اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
دوائی کیوں نہیں لی؟
پریشے نے جواب نہیں دیا…
میں تم سے بات کر رہا ہوں، پریشے۔
اب کی بار آواز میں سختی نہیں تھی… مگر عادت کا وزن ضرور تھا۔
پریشے نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔
اور بغیر کچھ کہے، اُٹھ کر اس کے پہلو سے گزر گئی۔
اسوان ایک لمحے کو ساکت رہ گیا۔
پریشے۔۔۔
وہ رکی نہیں۔
یہ پہلا موقع تھا، جب اس نے بحث نہیں کی،
صفائی نہیں دی، ناراضگی بھی ظاہر نہیں کی۔
بس… بات کرنا چھوڑ دیا۔
اسوان کے اندر عجیب سی بےچینی دوڑی۔
غصہ آنا چاہیے تھا۔ مگر آیا نہیں۔
اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ اندر جا چکی تھی۔

+++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *