تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲۹
وہ نیچے جا رہی تھی جب زیدان کی آواز پر سن کر روک گئی۔۔
یہاں بیٹھا جاؤ۔۔
زیدان بیڈ پر نیم دراز تھا۔ ایک ہاتھ ریموٹ پر، دوسرے ہاتھ سے اپنے سامنے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔۔
بیٹھ گئی؟ اب کیا کروں؟ وہ صوفے پر بیٹھی بولی۔۔
مُجھے دیکھو۔۔۔
کیا۔۔۔؟؟؟
میں کیا کر رہا ہوں ؟؟
آپ ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔۔۔
تو تُم بھی وہیں دیکھو۔۔۔
آپ جو ٹی وی پر دیکھا رہے وہ میں نہیں دیکھتی ہوں۔۔
ابھی زیدان کچھ کہتا اس سے پہلے دروازہ پر دستک ہوئی اور زارا نمودار ہوئی
ایکسکیوز مے..۔ کائنات کیا تُم مصروف ہو؟
کائنات کے بولنے سے پہلے ہی وہ بولا..۔
ہاں بہت زیادہ مصروف ہے۔۔۔
زارا نے حیرانی سے کائنات کو دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی۔ مُجھے مصروف لگ تو نہیں رہی۔؟؟فارغ بیٹھی ہے،کوئی کام بھی نہیں کر رہی۔۔۔
کس نے کہا وہ فارغ بیٹھی ہے۔۔؟؟ وہ ابھی اپنے شوہر کو دیکھنے میں مصروف ہے۔۔
ہین ؟؟ زارا کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ حیرانی سے کائنات کی شکل دیکھی اور پھر زیدان کا۔۔
ان کو چھوڑو۔۔۔ کیا کام ہے یہ بتاؤ۔۔۔
کائنات زارا کی طرف دیکھ فکرمندی سے بولی۔۔۔
بس بہت ہوگیا اب نکلو میرے روم سے۔۔
نہیں تو یہ گلدان اٹھا کر پھینک ماروں گا۔۔ زیدان نے غصے سے کہا
پتہ نہیں تُم کیسے رہتی ہو اس کے ساتھ۔۔ ( وہ کائنات کو بولتی یہاں سے فوراََ غائب ہوگئی۔۔اُس کا کوئی بھروسہ نہیں تھا وہ سچ میں دے مارتا۔۔)
کائنات اب اُسے گھورنے لگی پہلے تو ڈر کے مرے نظرے نہیں اُٹھتی تھی اُس شخص کے سامنے اور اب غصّہ سے اُسے آنکھیں دیکھا رہی تھی۔۔۔
ایسے کوئی بات کرتا ہے؟ کوئی تمیز ہوتی ہے بات کرنے کا کوئی طریقہ ہوتا ہے۔۔۔
میں ایسے ہی بات کرتا ہوں۔۔۔ زیدان نے کندھے اچکائے
ٹھیک ہے میں بھی پھر آپ سے ایسے ہی بات کرونگی۔۔۔ وہ غصے سے بولی۔۔۔
زیدان نے ریموٹ ایک طرف رکھا اور پوری طرح اُس کی طرف متوجہ ہوا۔ ایک تو تُم بات بات پر دھمکیوں پر کیوں اُتر آتی ہو۔۔۔۔
کیوں کے آپ میری بات سیدھی طرح مانتے نہیں۔۔۔
اپنی بات منوانا کیوں ہے تمہیں ایسی میں تمہیں اچھا نہیں لگ رہا ہوں کیا۔۔۔؟؟ زیدان نے لاپروائی سے کہا
کائنات کے دل میں عجیب ہی ہلچل ہوئی۔ مگر اُس نے اپنے لہجے کی سختی قائم رکھی۔
بلکل نہیں لگ رہے ایسے اچھے آپ مُجھے۔۔۔۔
زیدان نے اُس کی آنکھوں میں جھانکا۔ تو کیسے اچھا لگوں گا؟
کائنات نے نظریں نہیں چرائیں اس بار۔ اُس کی پلکیں مضبوطی سے جمی تھیں، جیسے اپنے دل کو بھی حکم دے رکھا ہو کہ ڈگمگانا نہیں۔
جب آپ میری ساری باتیں مانیں گے۔
زیدان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی..
یہ تو نہ ہو پائے گا۔..
ہاں… آپ سے کچھ ہو پائے گا بھی نہیں۔ نہ آپ کا کچھ ہو سکتا ہے۔ میں جا رہی ہوں۔
وہ جھٹکے سے صوفے سے اُٹھی۔ دوپٹہ سنبھالتی ہوئی تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھی۔
وہ دروازے تک پہنچ ہی گئی تھی کہ پیچھے سے زیدان کی سرد مگر گہری آواز ابھری۔
رُکو۔
کائنات کے قدم تھم گئے۔
واپس آؤ۔
وہ آہستہ سے مُڑی۔ بیزاری سے بولی کیا ہے؟
کہا نا… یہاں بیٹھو۔
لیکن۔۔
جو کہا ہے وہ کرو۔
اُس کے لہجے میں اب وہ ضد تھی جس سے کائنات اچھی طرح واقف تھی۔ اصل بات کچھ اور تھی… جو کائنات نہیں جانتی تھی۔
زیدان ابھی نیچے سے آیا تھا۔ ڈرائنگ روم میں زارا کی دوستیں بیٹھی تھیں۔ قہقہے، ہنسی، بناؤ سنگھار… اور اُن سب کے بیچ زارا کی مصنوعی سی میزبانی۔
وہ جانتا تھا، اگر کائنات نیچے گئی تو کیا ہوگا۔
زارا بظاہر بہت اچھی تھی، مگر اپنی سہولت کے معاملے میں وہ بھی کم نہ تھی۔ خود سجی سنوری دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاتی، اور کائنات کو کچن میں ملازمہ کے ساتھ لگا دیتی۔ چائے، سنیکس، برتن… اور پھر بعد کی صفائی۔
اور یہ سب زیدان ہرگز برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
وہ اپنی بیوی کو کسی کی خدمت گار بنتے نہیں دیکھ سکتا تھا…
کائنات ابھی تک دروازے کے پاس کھڑی تھی۔
میں نیچے جا رہی ہوں۔ اُس نے دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا۔ زارا مُجھے بُلا رہی ہے پتہ نہیں اُسے کیا کام تھا مُجھے سے۔۔۔۔
تم اُس کے کام کر لو… یا میری سن لو۔
کائنات نے بھنویں سکیڑیں۔ نہیں سنی تو؟
تو زبردستی۔۔
کائنات کی آنکھیں پھیل گئیں۔ بےتمیز انسان۔۔۔۔
وہ پلٹ کر واپس آئی اور زور سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
وہ جانتی تھی… زیدان اپنی بات منوانا جانتا ہے۔ اور جب وہ ضد پر آ جائے تو پہاڑ بھی ہٹ جائیں، مگر اُس کا ارادہ نہیں۔
زیدان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ اور وہ ٹی وی دیکھنے لگا اور کائنات اپنی کتابیں کھول کر بیٹھ گئی۔۔۔
++++++++++++
اسوان پوری رات جاگتا رہا۔.اکاؤنٹس صاف تھے۔.کمپنی کے پاس تقریباً کچھ نہیں بچا تھا۔.بینک انکار کر چکے تھے۔.پارٹنرز پیچھے ہٹ چکے تھے۔
اس نے خاموشی سے ایک فیصلہ کیا۔
اگلے دن وہ گھر نہیں گیا۔
وہ اپنے والد کی پرانی جائیدادوں کی فائلیں لے کر بیٹھ گیا۔
دو پلاٹس۔
ایک فارم ہاؤس۔
اور شہر کے پوش علاقے میں ایک کمرشل بلڈنگ۔
فواد نے حیرت سے پوچھا.
سر… آپ یہ سب بیچ رہے ہیں؟
اسوان نے سیدھا جواب دیا
کمپنی ڈوبی تو یہ سب ویسے بھی بےکار ہے۔
چند ہفتوں میں.سودے مکمل ہو گئے۔
رقم آ گئی۔.اسوان نے سارا پیسہ دوبارہ فیکٹری میں لگا دیا۔
نئی وائرنگ۔ نیا کنٹرول پینل۔
مشین نمبر چار کی مکمل تبدیلی۔
اضافی سکیورٹی۔
اس بار وہ ہار ماننے والا نہیں تھا۔
پروڈکشن دوبارہ شروع ہوئی۔
پہلا آرڈر کامیاب۔
دوسرا آرڈر کامیاب۔
مارکیٹ میں آہستہ آہستہ خبر پھیلنے لگی
اسدان مینوفیکچرنگ واپس آ رہی ہے۔
اسی رات۔.جب سب کو لگا کہ بحران ٹل گیا ہے…
رات کے دو بجے.سکیورٹی روم سے چیخ سنائی دی۔
پھر دھماکے کی آواز۔ فیکٹری کے پچھلے حصے سے شعلے اٹھنے لگے۔.اس بار آگ چھوٹی نہیں تھی۔
یہ سیدھا مین پاور لائن تک پہنچی۔
پورا فلور اندھیرے میں ڈوب گیا۔
فائر بریگیڈ آئی۔
آگ بجھی۔.لیکن نقصان بڑا تھا۔
نئی مشین۔.نیا پینل۔ نیا سرمایہ سب جل چکا تھا۔
صبح اسوان فیکٹری کے سامنے کھڑا تھا۔
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے۔ چہرہ سخت۔
فواد نے آہستہ سے کہا
سر… یہ سب نیا تھا…
کوئی الیکٹریکل فالٹ کیسے ہو سکتا ہے؟
اسوان نے جواب نہیں دیا۔
وہ صرف جل چکی عمارت کو دیکھتا رہا۔
کون تھا…
جو اسوان کو برباد کرنا چاہتا تھا؟
کون تھا…
جو ہر بار ایک قدم آگے نکل جاتا تھا؟
کون تھا
جسے ہر فیصلے کی خبر ہو جاتی تھی…
اس سے پہلے کہ وہ عمل میں آتا؟
کون تھا..
جو جانتا تھا کہ سرمایہ کب لگایا گیا…
مشین کب بدلی گئی…
اور سکیورٹی کہاں سخت کی گئی؟
یہ اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ قسمت نہیں تھی۔
یہ معلومات تھی۔ اور معلومات ہمیشہ اندر سے نکلتی ہے۔
کیا وہ کوئی پرانا دشمن تھا؟
کوئی سابق پارٹنر؟
کوئی ملازم جسے نظر انداز کیا گیا ہو؟
یا…
کیا وہ کوئی ایسا شخص تھا…
جو روز اسوان کے سامنے کھڑا ہوتا تھا؟
کوئی جو رپورٹس دیتا تھا۔
مشورے دیتا تھا۔
ساتھ کھڑا نظر آتا تھا۔
سب سے خوفناک بات یہ نہیں تھی…
کہ کمپنی جل رہی تھی۔
سب سے خوفناک بات یہ تھی…
کہ دشمن نظر نہیں آ رہا تھا۔
وہ سایہ تھا۔
وہ خاموشی تھا۔
وہ ہر میٹنگ میں موجود ہو سکتا تھا۔
ہر فائل کے پیچھے ہو سکتا تھا۔
ہر خبر کا پہلا گواہ ہو سکتا تھا۔
اسوان کو پہلی بار محسوس ہوا…
یہ لڑائی کاروبار کی نہیں ہے۔ یہ کسی ایسے شخص کی ہے جو اسے اندر سے جانتا ہے۔
بہت قریب سے۔ اتنا قریب کہ اسوان اس پر شک بھی نہیں کر پا رہا تھا۔ اور یہی سب سے بڑا خطرہ تھا۔
+++++++++++++
آج کائنات کا MCAT کا ٹیسٹ تھا۔
صبح سے ہی اس کے دل میں عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ سینٹر کے باہر کھڑے طلبہ کے چہروں پر بھی وہی تناؤ، وہی امید اور وہی خاموش مقابلہ جھلک رہا تھا۔
پیپر شروع ہوا تو پہلے چند منٹوں تک اس کے ہاتھ ٹھنڈے رہے، مگر پھر اس نے خود کو سنبھال لیا۔
تین گھنٹے بعد جب وہ ہال سے باہر نکلی تو اس کے قدم ہلکے تھے، مگر ذہن ابھی بھی سوالوں میں الجھا ہوا تھا۔
کچھ سوال بہت آسان تھے… کچھ نے خاصا الجھایا۔ مگر مجموعی طور پر وہ مطمئن تھی۔ اسے لگا کہ اس نے اپنی پوری کوشش کی ہے۔
سینٹر کے باہر آ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
آج کا دن صرف ٹیسٹ کا نہیں تھا… آج اس نے ایک اور فیصلہ بھی کیا تھا۔
ٹیسٹ کے بعد وہ سیدھا تایا کے گھر جائے گی۔
اس نے فون نکال کر ڈرائیور کو کال کی۔۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی گئی، اور وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ شہر کی سڑکیں معمول کے مطابق رواں تھیں، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا اضطراب تھا۔
کیا وہ تایا سے بات کر پائے گی۔۔؟؟
کیا وہ بات کہہ پائے گی جو وہ کہنے جارہی تھی۔۔۔؟؟
گاڑی تایا کے گھر کے باہر رکی تو اس کا دل ایک لمحے کو زور سے دھڑکا۔
کائنات نے ڈرائیور کو رخصت کرتے ہوئے کہا،
آپ جائیں… میں خود آ جاؤں گی واپس۔
ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلایا اور گاڑی آہستہ آہستہ گیٹ سے باہر نکل گئی۔
کائنات نے ایک لمحہ اُس بڑے سے گھر کو دیکھا… وہی در و دیوار، وہی صحن، مگر آج قدموں میں عجیب سی جھجھک تھی۔ پھر اس نے ہمت کی اور اندر داخل ہو گئی۔
ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی اُس کی نظر سائرہ بیگم پر پڑی۔
ارے کائنات؟ تم یہاں؟ سائرہ بیگم نے حیرانی سے کہا۔
السلام علیکم… کائنات نے دھیمی آواز میں کہا، کیا تایا ابو گھر پر ہیں؟
وعلیکم السلام… ہاں ہیں نا۔ تم بیٹھو تو سہی… سائرہ بیگم نے اشارہ کیا۔
کائنات آہستہ سے لاؤنج کے صوفے پر بیٹھ گئی۔ ہاتھ آپس میں جکڑے ہوئے تھے۔ دل کی دھڑکن بے وجہ تیز تھی۔
چند ہی لمحوں بعد زرتاشہ بھی اندر آ گئی۔
ارے کائنات؟ تم یہاں؟ اس کے لہجے میں ہلکی سی حیرت تھی، مگر چہرے پر مسکراہٹ۔
جی… کیسی ہیں آپ؟ کائنات نے مؤدبانہ انداز میں پوچھا۔
میں ٹھیک… تم کیسی ہو؟
جی میں بھی ٹھیک…
یہاں کیسے آنا ہوا؟
تایا ابو سے ملنے آئی ہوں…
اچھا؟ وہ کیوں؟
وہ… کچھ کام ہے… کائنات نے نظریں جھکا لیں۔
اچھا ٹھیک ہے۔ زرتاشہ نے مسکراتے ہوئے کہا، چلو بتاؤ کیا کھاؤ گی؟
کچھ بھی نہیں… کائنات نے فوراً جواب دیا۔
ارے ایسے کیسے؟ میں ایسے بغیر کھائے تو تمہیں جانے نہیں دینے والی… زرتاشہ نے قدرے اپنائیت سے کہا۔
کائنات نے حیرانی سے اُس کے چہرے کو دیکھا۔
یہی زرتاشہ… جو اکثر رسمی سی رہتی تھی… آج اتنی شفقت؟ اتنا نرم رویہ؟ دل میں ایک سوال سا ابھرا… یہ بدلا ہوا انداز کیوں؟
نہیں… میں کچھ نہیں کھاؤں گی… کائنات نے پھر آہستہ سے کہا، بس تایا ابو سے مل کر چلی جاؤں گی۔
زرطاشہ نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا، جیسے اُس کے لہجے میں چھپی سنجیدگی کو پرکھ رہی ہو۔
اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ وہ نرم لہجے میں بولی، پہلی دفعہ آئی ہو تُم ایسے بنا کُچھ کھائے پیئے تھوڑی نہ جانے دونگی۔۔۔۔
سائرہ بیگم بھی مسکرا رہی تھیں۔
بیٹا، گھر آئی ہو… مہمان تو نہیں ہو، مگر پھر بھی کچھ کھائے بغیر جانا اچھا نہیں لگتا۔
کائنات نے نظریں جھکا لیں۔
جی، آپ کی محبت کافی ہے… اس نے آہستہ سے کہا۔
اسی لمحے سیڑھیوں سے قدموں کی آواز آئی۔
کون آیا ہے،؟
کائنات کا دل دھڑکا۔ وہ فوراً کھڑی ہو گئی۔
السلام علیکم، تایا ابو…
وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو ایک لمحے کو ٹھٹک گئے۔
ارے کائنات؟ تم؟ خیر تو ہے؟
جی تایا ابو… میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتی تھی۔
ان کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔
خیریت تو ہے نا؟
جی… خیریت ہے۔ وہ چند لمحے رکی، جیسے الفاظ ترتیب دے رہی ہو۔ تایا ابو… آپ کو تو پتا ہے نا میں ڈاکٹر بن رہی ہوں… ابھی اسی کا ٹیسٹ دے کر آئی ہوں۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ یونیورسٹی کی فیس کتنی زیادہ ہوتی ہے…
رضوان صاحب نے فوراً کہا،
ہاں ہاں، میں جانتا ہوں۔ کتنے پیسے چاہئیں تمہیں؟ بتاؤ۔
نہیں… کائنات نے جلدی سے کہا، مجھے آپ کے پیسے نہیں چاہئیں… آپ میری بات تو پوری سنیں…
رضوان صاحب نے ذرا سنجیدہ ہو کر کہا،
اچھا ٹھیک ہے، بولو۔ تو کیا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کے لیے مدد نہیں چاہیے؟
نہیں… وہ مجھے…
ہاں بولو نا بیٹا، آرام سے بولو، گھبراؤ نہیں…
کائنات نے نظریں جھکا لیں۔ آواز ہلکی سی کانپی، مگر اس نے خود کو سنبھالا۔
مجھے اماں نے بتایا تھا… آپ کی اور بابا کی پارٹنرشپ میں کمپنی تھی۔ اور ہمارا ایک گھر بھی تھا نا…؟
کمرے کی فضا یکدم بدل گئی۔
تو… مجھے وہ چاہیے۔
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
زرتاشہ نے بات کاٹ دی، لہجہ تیز تھا۔
اتنا گھما پھرا کے بات کیوں کر رہی ہو کائنات؟ سیدھی سیدھی طرح بولو نا کہ تمہیں اپنا حصہ چاہیے…
سائرہ بیگم کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
حصہ؟ کون سا حصہ؟ کیسا حصہ؟
کائنات نے دھیرے سے کہا
وہ حصہ جو میرے بابا کا تھا۔ وہ سب کچھ… جو میرے بابا کا تھا۔
رضوان صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کائنات… تم کیا کہہ رہی ہو؟
میں صرف اپنا حق مانگ رہی ہوں، تایا ابو۔ نہ ایک روپیہ زیادہ… نہ کم۔
رضوان صاحب نے قدرے جھنجھلا کر کہا،
ارے تمہیں ڈاکٹر بننے کے لیے پیسے چاہئیں تو مجھ سے لے لو نا۔ میں دے دوں گا۔ اتنی سی بات پر گھر کا ماحول خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
کائنات کے چہرے پر ہلکی سی سختی آ گئی۔
مُجھے کسی کی مدد یا کسی کی خیرات کے پیسے نہیں چاہئیں، تایا ابو۔ مجھے اپنے پیسے چاہئیں۔
کمرے میں پھر سناٹا چھا گیا۔
میں چاہوں تو اسوان بھائی سے بھی لے سکتی ہوں۔ بچپن سے میری پڑھائی کا خرچہ تو وہی اٹھا رہے ہیں نا؟ اُن کے لیے میری یونیورسٹی کی فیس دینا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
لیکن مجھے کسی کے احسان کے پیسے نہیں چاہئیں۔ نہ آپ کے… نہ اسوان بھائی کے۔
اس کی آواز اب کانپ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی وہ بول رہی تھی ایک ہمت تھی، یا کسی کا ساتھ تھا جو اُسے بولنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔
میرے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود… آپ سب نے مجھے ہمیشہ محتاج بنا کر رکھا۔ کبھی یہ نہیں بتایا کہ بابا کا کیا تھا، کیا نہیں۔ میں ہمیشہ یہی سمجھتی رہی کہ ہم بس آپ کے سہارے ہیں۔
سائرہ بیگم آہستہ سے بولیں، بیٹا، ایسی بات نہیں ہے…
زرتاشہ حیرانی سے کائنات کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
یہ وہی کائنات تھی؟
وہی خاموش، نظریں جھکا کر بات کرنے والی لڑکی؟
جو ہر بات پر جی ٹھیک ہے۔۔ کہہ کر پیچھے ہٹ جاتی تھی، آج اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا اعتماد تھا۔ آواز میں لرزش نہیں تھی۔ جیسے وہ ہر لفظ سوچ سمجھ کر بول رہی ہو… اور ہر لفظ کا مطلب جانتی ہو۔
تم… تمہیں ہو کیا گیا ہے؟ زرتاشہ کے منہ سے بےاختیار نکلا۔
کائنات نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔
کچھ نہیں ہوا مجھے۔
رضوان صاحب نے چند لمحے خاموشی اختیار کی، جیسے ذہن میں الفاظ ترتیب دے رہے ہوں۔ پھر انہوں نے گہرا سانس لیا اور لہجہ نرم کر لیا۔
کائنات بیٹا… تم جذبات میں آ کر بات کر رہی ہو۔ تمہیں ابھی بھی کچھ بھی نہیں معلوم ہے تمہیں میں بتاتا ہوں۔۔۔
وہ ذرا آگے جھکے۔
تمہارے بابا کا ففٹی پرسنٹ نہیں… صرف ٹوئنٹی پرسنٹ شیئر تھا۔ وہ بھی بعد میں کم ہو گیا تھا جب کمپنی کو نقصان ہوا۔ کاغذات موجود ہیں میرے پاس۔
کائنات کی پیشانی پر بل پڑے۔ ٹوئنٹی پرسنٹ…؟
ہاں۔ اور اُس بیس فیصد میں سے بھی قرضے ایڈجسٹ ہوئے تھے۔ بینک کی لائیبلٹیز تھیں، سپلائرز کے پیسے تھے۔ آخر میں جو بچا… وہ تقریباً دس بارہ لاکھ بنتے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
کائنات نے نظریں سکیڑ کر رضوان صاحب کو دیکھا۔
مگر اماں تو کہتی تھیں۔۔۔
رضوان صاحب نے نرمی سے اُس کی بات کاٹ دی۔
اماں کو بزنس کی باریکیاں نہیں معلوم تھیں، بیٹا۔ تمہارے بابا جذباتی تھے۔ بہت سے فیصلے بغیر سوچے کر لیتے تھے۔ ہمیں بعد میں سنبھالنا پڑا سب کچھ۔
کمرے کی فضا جیسے دھیرے دھیرے اُن کے قابو میں آ رہی تھی۔
اور جہاں تک گھر کی بات ہے… انہوں نے ذرا توقف کیا، وہ گھر تمہارے بابا کے نام پر ضرور تھا، لیکن اُس پر بھی قرض تھا۔ ہم نے وہ بیچ کر قرضہ اتارا۔ ورنہ کمپنی بھی ہاتھ سے چلی جاتی۔
مگر ہمیں کبھی بتایا کیوں نہیں گیا؟ کائنات کی آواز اب پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی تھی۔
رضوان صاحب نے افسوس بھرا سانس لیا۔
کیونکہ تم چھوٹی تھیں۔ کیا ہم تم پر اتنا بوجھ ڈالتے؟ ہم نے سوچا تم بس پڑھو… آگے بڑھو۔ باقی ہم سنبھال لیں گے۔
کائنات خاموش ہو گئی۔
رضوان صاحب نے موقع دیکھ کر بات اور نرم کر دی۔
دیکھو بیٹا… اگر تمہیں پیسے چاہیے تو میں ابھی چیک لکھ دیتا ہوں۔ وہی دس بارہ لاکھ جو بنتے ہیں۔ لیکن گھر اور کمپنی کے نام پر کوئی بڑی رقم یا جائیداد موجود نہیں ہے۔ سب کچھ کاغذوں میں صاف ہے۔
انہوں نے دھیرے سے مزید کہا،
میں تمہارا تایا ہوں۔ دشمن نہیں۔ کیا میں تمہارے باپ کا حق کھا جاؤں گا؟
یہ جملہ سیدھا دل پر لگا۔
کائنات کے ذہن میں سوال اب بھی تھے… مگر الفاظ جیسے کم پڑ گئے تھے۔
نہیں… میں نے ایسا نہیں کہا… وہ فوراً بولی۔۔۔
رضوان صاحب نے موقع کو فوراً تھام لیا۔
میں جانتا ہوں بیٹا، تم ایسا سوچ بھی نہیں سکتیں۔ مگر بات کرنے کا انداز کبھی کبھی غلط مطلب دے دیتا ہے۔
انہوں نے نرمی سے کہا،
ہم نے ہمیشہ تمہیں اپنی بیٹی سمجھا ہے۔ اگر ہمیں کچھ چھپانا ہوتا تو کیا ہم تمہیں اپنے گھر آنے دیتے؟
تمہیں شاید اندازہ نہیں کہ کمپنی کو بچانے کے لیے کتنا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ تمہارے بابا کے بعد حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔
کائنات کے دل میں پھر سے ہلچل ہوئی۔
مگر اماں نے تو کہا تھا کہ
رضوان صاحب نے بات کاٹ دی،
اماں نے جو سنا ہوگا، وہ آدھی بات ہوگی۔ اصل حساب کتاب میرے پاس ہے۔ چاہو تو کل آفس آ جانا، میں فائلیں دکھا دوں گا۔۔۔
وہ چند لمحے رکے، پھر نرم مگر وزن دار لہجے میں بولے،
لیکن ایک بات یاد رکھو… رشتے حساب کتاب سے نہیں چلتے۔ اگر تم ہر چیز کو قانونی اور حصے میں بانٹنا شروع کرو گی تو دلوں میں دراڑ آ جاتی ہے۔
یہ جملہ سیدھا اثر کر گیا۔
کائنات خاموش بیٹھی رہی۔ اس کا اعتماد جیسے لمحہ بھر کو ڈگمگا گیا ہو۔
رضوان صاحب نے اور قریب ہو کر کہا، اگر تمہیں دس بارہ لاکھ چاہئیں تو لے لو۔ اپنا حق سمجھ کر لے لو۔ مگر یہ نہ سمجھو کہ تم سے کچھ چھینا گیا ہے۔
کائنات کے ذہن میں سوال اب بھی زندہ تھے…
مگر سامنے بیٹھا لہجہ اتنا پُرسکون تھا کہ سچ اور وضاحت کے بیچ کی لکیر دھندلی ہونے لگی۔
وہ آہستہ سے بولی، مجھے سوچنے کا وقت چاہیے…
رضوان صاحب نے فوراً مسکرا کر کہا،
جتنا چاہو لے لو بیٹا۔ دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔
کمرے میں بظاہر سکون تھا…
مگر کائنات کے اندر ایک نئی بےچینی جنم لے چکی تھی۔۔۔
کُچھ دیر بعد کائنات کے نہ نہ کرنے کے باوجود زرتشا نے
پورا ڈائننگ ٹیبل کائنات کے پسند کے کھانے سے سجا دیا تھا۔۔۔
زرتاشہ نے جیسے طے کر لیا تھا کہ آج کائنات کو خالی پیٹ نہیں جانے دینا۔
یہ بھی چکھو… اور یہ سالن تو تمہیں بچپن سے پسند تھا…
نا نا کرتے کرتے کائنات کے سامنے پلیٹیں بدلتی رہیں۔ کبھی کباب، کبھی پلاؤ، کبھی میٹھا۔ زرتاشہ خود اپنے ہاتھ سے اسے نکل نکل کر دے رہی تھی۔
کائنات حیران بھی تھی اور الجھی ہوئی بھی۔
آخرکار جب وہ اٹھ کر جانے لگی تو پیٹ سے زیادہ ذہن بوجھل تھا۔
وہ گیٹ سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے سے ارسم آتا دکھائی دیا۔
ارسم نے اسے دیکھا تو چہرہ کھل اٹھا۔
ارے کائنات! تم یہاں کیسے؟
السلام علیکم… کائنات نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، بس تایا ابو سے ملنے آئی تھی…
اوہ… مل لیا؟
جی…
چلو پھر میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔
نہیں… میں چلی جاؤں گی۔
ارے آ جاؤ نا، میں چھوڑ دیتا ہوں۔ ویسے بھی مجھے اسی طرف جانا ہے۔
کائنات نے ایک لمحے کو سوچا۔ دل نہیں چاہ رہا تھا… مگر انکار کرنا بھی عجیب لگتا۔ آخر وہ خاموشی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔
جب ارسم نے گاڑی اسٹارٹ کی اور کائنات کو ساتھ بٹھا کر گیٹ سے باہر نکلا… عین اُسی لمحے ایک اور گاڑی اندر داخل ہوئی۔
وہ ہادی کی کار تھی۔ وہ ہاسپٹل سے روزآنہ اسی وقت کھانا کھانے گھر آتا تھا۔۔۔۔ ہادی نے بس سرسری نظر سے سامنے دیکھا… اور اگلے ہی لمحے اس کی نظریں جم گئیں۔
اس نے صاف دیکھا۔۔۔ ارسم ڈرائیونگ سیٹ پر تھا… اور ساتھ والی سیٹ پر کائنات بیٹھی تھی۔
گاڑی ایک دوسرے کے بالکل قریب سے گزری۔
ایک لمحے کے لیے ہادی کی آنکھوں میں سختی آئی… پھر اس نے فوراً خود کو روکا۔
شاید غلط فہمی ہو… اس نے دل ہی دل میں کہا۔
شاید کسی اور کو دیکھا ہو… لیکن دل نے ماننے سے انکار کر دیا۔
وہ گاڑی پارک کر کے تیزی سے اندر داخل ہوا۔
لاؤنج میں زرتاشہ موجود تھی۔
کائنات… یہاں آئی تھی کیا؟
ہاں آئی تھی ابو سے ملنے۔ اور ابھی ابھی نِکلی ہے۔۔۔
یہ سنتے ہی جیسے ہادی کے ذہن میں زور کا دھماکہ ہوا۔ تو وہ غلط نہیں دیکھ رہا تھا۔
کس لیے آئی تھی؟ اس کی آواز غیر معمولی حد تک سنجیدہ تھی۔
پتا نہیں، کچھ حصے وصے کی باتیں کر رہی تھی۔ خیر چھوڑو… تم کیوں پوچھ رہے ہو؟
لیکن ہادی اب سن ہی نہیں رہا تھا۔ وہ پلٹا اور تیزی سے باہر نکلا۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی خیال گونج رہا تھا۔۔۔
کائنات اور ارسم… ساتھ؟
اس نے فوراً گاڑی اسٹارٹ کی اور سڑک پر نکال دی۔ سامنے دور ارسم کی کار کا اندازہ ہو رہا تھا۔
نو ارسم… نو… اس کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔
بس یہ غلطی نہیں کرنا تُم۔۔۔۔ ارسم نہیں پلز نہیں۔۔۔
++++++++++++
آفس میں مسائل حد سے زیادہ بڑھ چکے تھے۔
اس سب کے باوجود وہ کھانے کے وقت گھر آ چکا تھا۔
اُسے ماننے اُس سے بات کرنے۔۔۔۔
پریشے کا ملازمہ سے پوچھتے وہ سیدھا اُدھر چلا آیا۔
پریشے چولہے کے سامنے کھڑی تھی۔ بال ڈھیلے سے بندھے ہوئے، چہرہ بغیر میک اپ کے، مگر آنکھوں کے نیچے ہلکی سی سوجن جیسے روئی ہو یا سوئی نہ ہو۔
چولہے پر برتن میں میگی اُبل رہی تھی۔
شاید پری کے لیے۔
اسوان دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
ابھی تک ناراض ہو…؟
کوئی جواب نہیں آیا۔
وہ چند قدم آگے بڑھا۔
ایسے نہ کرو پریشے… تمہاری اس ناراضی کی وجہ سے آفس میں میرا دھیان نہیں لگ رہا…
چمچ اچانک رک گیا۔ پریشے نے آہستہ سے آنچ کم کی، پھر مڑی۔
آنکھوں میں نمی نہیں تھی۔ صرف ٹھنڈک تھی۔
کیوں…؟ اس نے سیدھا سوال کیا۔
یہ سوچ کر کہ میں اس وجہ سے پری کے ساتھ کچھ غلط نہ کر دوں؟
کچن کی فضا یکدم بھاری ہو گئی۔
لیکن آپ بےفکر رہیں… اس کی آواز اب قدرے سخت تھی، میرا ظرف اتنا گرا ہوا نہیں ہے کہ اپنے غصے کا بدلہ ایک بچے سے لوں۔
اسوان نے گہرا سانس لیا۔
یار… میں غصے میں تھا…
تو…؟ اس نے فوراً پلٹ کر کہا۔ اگر میں بھی غصے میں ہوں تو کیا میں آپ کی جان لے لوں؟
پریشے… اسوان نے نرم پڑتے ہوئے ہاتھ اٹھائے، جیسے اسے سمجھانا چاہتا ہو، قریب آ کر اس کے بازو تھامنے لگا
مگر وہ فوراً پیچھے ہٹ گئی۔
اتنا پیچھے… جیسے فاصلہ صرف قدموں کا نہ ہو۔
مجھے ہاتھ مت لگائیے…
یہ جملہ آہستہ تھا… مگر فیصلہ کن۔
اسوان کے ہاتھ ہوا میں ہی رہ گئے۔
میں آپ سے اب رہائی چاہتی ہوں… اس نے سیدھا کہا۔
میں اب آپ کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی۔
الفاظ سادہ تھے… مگر اثر تباہ کن۔.اسوان نے جیسے صحیح سنا ہی نہ ہو۔
کیا…؟
میں نے کل رات اللہ سے آپ سے اپنی رہائی کے لیے مدد مانگی ہے…
اسوان کا دل زور سے دھڑکا۔
پریشے، تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی ہو…
آواز میں حکم بھی تھا، خوف بھی۔
آج نہیں تو کل میں اس گھر سے چلی جاؤں گی… وہ آہستہ مگر واضح بولی۔
اور اب چاہ کر بھی آپ کچھ نہیں کر پائیں گے۔
اسوان چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
تم ایسا نہیں کر سکتی…
اب آپ کو مجھے اپنے پاس رکھنے کے لیے اُس رب سے رابطہ کرنا پڑے گا… اس نے دھیرے مگر مضبوط لہجے میں کہا۔ یہ طاقت… یہ رعب… یہ آپ کی دھمکیاں.. سب اُس رب کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں۔
اسوان ساکت رہ گیا۔….
وہ بس ایک کُن فرمائے گا… اس کی آواز کانپی نہیں،
اور میں آپ سے آزاد ہو جاؤں گی۔
پریشے… نہیں… اسوان ایک قدم آگے بڑھا۔ ایسا مت کہو…
پہلی بار اُس کی آواز میں بےبسی صاف سنائی دی۔
تم جانتی ہو نا میں نے وہ سب غصے میں کہا تھا…
پریشے… پلیز… ایسا مت کرو…
وہ اس کے قریب آیا، مگر اس بار اس نے خود فاصلہ برقرار رکھا۔
دعا کی ہے میں نے… اس نے دھیرے سے کہا،
اور جس دن وہ دعا قبول ہو گئی… آپ مجھے روک نہیں پائیں گے۔
اور پریشے نے خاموشی سے میگی ایک باؤل میں نکالی۔ وہ باؤل اٹھائے بغیر اس کی طرف دیکھے باہر نکل گئی۔
اسوان وہیں کھڑا رہ گیا۔
وہ کہنا چاہتا تھا
مجھے ضرورت ہے تمہاری، پریشے…
صرف عادت نہیں۔
صرف گھر سنبھالنے کے لیے نہیں۔
صرف پری کی ماں ہونے کے لیے نہیں۔
بلکہ… اپنے لیے۔
مگر اس کے اندر کا غرور
اس کے ہونٹوں تک آتے لفظوں کو قید کر لیتا تھا۔
وہ ہمیشہ حکم دینا جانتا تھا،
مانگنا نہیں۔
ہمیشہ فیصلہ سنانا جانتا تھا،
اقرار کرنا نہیں۔
اس کے اندر کا مرد جو طاقت کا عادی تھا،
جو کمزور نظر آنے سے ڈرتا تھا….
آج بھی اسے روک رہا تھا۔
مت جاؤ…
یہ دو لفظ اُس کے گلے میں اٹک کر رہ گئے….
++++++++++
گاڑی آہستہ سے سڑک پر آ گئی۔ چند لمحے خاموشی رہی۔
ٹیسٹ کیسا ہوا؟ ارسم نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
ٹھیک تھا… دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
مجھے پورا یقین ہے تمہارا ہو جائے گا۔ تم ہمیشہ سے ذہین رہی ہو۔
کائنات نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ دی، مگر ذہن کہیں اور تھا، رضوان صاحب کی باتیں، دس بارہ لاکھ، بیس فیصد شیئر…
سب ٹھیک ہے نا؟ ارسم نے اس کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔
ہاں… کیوں؟
بس لگ رہا ہے تم کچھ پریشان ہو۔
نہیں… بس تھک گئی ہوں۔۔۔
ارسم نے ایک نظر اسے دیکھا، جیسے کچھ اور کہنا چاہتا ہو، پھر خاموش ہو گیا۔
کائنات نے چونک کر سامنے راستے کو دیکھا۔
یہ… آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں؟ یہ راستہ تو میرے گھر کا نہیں ہے…
ارسم نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ جمائے مسکراتے ہوئے کہا،
چلو تو سہی…
لیکن کہاں؟
کھانا تو تم نے گھر پر کھا ہی لیا ہوگا… تمہیں آئس کریم کھلانے لے جا رہا ہوں۔
لیکن مجھے نہیں جانا… کائنات نے صاف کہا۔
مجھے پتا ہے تمہیں آئس کریم بہت پسند ہے۔
ہاں پسند ہے، لیکن اس وقت میرا دل نہیں ہے۔ آپ بس مجھے گھر چھوڑ دیں۔
ارسم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
یار، صبر تو کرو…
چند منٹ بعد اُس نے گاڑی ایک آئس کریم پارلر کے باہر روک دی۔ روشن بورڈ جگمگا رہا تھا، اندر ہلکی موسیقی کی آواز آ رہی تھی۔
ارسم گاڑی سے اترا اور کائنات کی طرف والا دروازہ کھول دیا۔
کائنات چند لمحے بیٹھی رہی، پھر خاموشی سے اتر گئی۔
آؤ اندر چلیں… ارسم نے نرمی سے کہا۔
وہ دونوں اندر آئے۔ ارسم نے ایک کونے کی میز چن کر اسے بٹھا دیا۔
تم بیٹھو، میں آرڈر دے کر آتا ہوں۔
مجھے کچھ نہیں چاہیے… کائنات نے دھیمی آواز میں کہا۔
میں جانتا ہوں تم کیا کھاتی ہو… وہ مسکرا کر کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔
چند ہی لمحوں میں وہ دو کپ لے کر واپس آیا اور ایک اس کے سامنے رکھ دیا۔
چاکلیٹ فَج… تمہاری فیورٹ۔
کائنات نے آئس کریم کو دیکھا، مگر چمچ نہیں اٹھایا۔
ارسم نے گہرا سانس لیا۔
دراصل… مجھے تم سے کچھ کہنا بھی تھا…
کائنات نے نظریں اٹھائیں۔
بولیے…
ارسم چند لمحے خاموش رہا، جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو۔
کائنات… میں کافی دنوں سے تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔ لیکن موقع نہیں مل رہا تھا۔
وہ اس کی طرف دیکھ رہی تھی، چہرہ سنجیدہ۔
آج تمہیں یہاں دیکھ کر لگا شاید یہی صحیح وقت ہے…
کیا بات ہے ارسم؟ کائنات کی آواز متوازن تھی، مگر دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
ارسم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا—
میں تمہیں بچپن سے جانتا ہوں… اور شاید تب سے ہی… وہ رکا، ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر اس میں جھجک بھی تھی۔ شاید تب سے ہی تم میرے لیے صرف کزن نہیں رہیں…
کائنات کے ہاتھ میں پکڑا چمچ بےحرکت رہ گیا۔
فضا میں ایک ان کہی سی تبدیلی آ گئی تھی۔۔
اور عین اُسی لمحے اُس کے ذہن میں زیدان کا جملہ گونجا۔۔۔
وہ تمہیں اُس نظر سے دیکھتا ہے… جس نظر سے دیکھنے کا حق صرف مجھے ہے۔
دل جیسے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔
میں جانتا ہوں شاید یہ وقت مناسب نہیں… شاید میرا انداز بھی غلط ہے… لیکن I really love you, کائنات۔
اُس کی آواز میں پہلی بار ہچکچاہٹ تھی۔
میں تمہیں بچپن سے پسند کرتا ہوں۔ ہمیشہ سے۔ بس کبھی کہہ نہیں سکا۔
کائنات نے بےچینی سے اردگرد دیکھا۔
ارسم پلیز… میں شادی شدہ ہوں۔
کیسی شادی؟ ارسم نے فوراً کہا، کون سی تمہاری مرضی سے ہوئی ہے؟ تم خود خوش نہیں ہو۔ تم ویسے بھی اُس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں۔
یہ جملہ سیدھا اُس کے دل میں لگا۔
دیکھو… ارسم نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے کہا،
تم زیدان سے ڈیوورس لے لو۔ پھر ہم شادی کر لیں گے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کائنات کی سانس تیز ہو گئی۔
آخر تم بھی تو یہی چاہتی تھیں نا؟ ارسم نے دھیرے سے کہا، ہم دونوں ایک دوسرے کو چاہتے تھے۔ حالات نے ہمیں جدا کر دیا۔ ورنہ میں تو رشتہ بھیجنے والا تھا… وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر بولا، یہ سب اسوان بھائی کی وجہ سے ہوا۔ انہوں نے بیچ میں آ کر سب بدل دیا۔
ایک منٹ… آپ کو کس نے کہا کہ میں آپ کو چاہتی ہوں؟ اس کی آنکھیں سیدھی ارسم پر تھیں۔
میں نے آپ کو پہلے بھی اپنے بھائی کی نظر سے دیکھا تھا… اور اب بھی۔
ارسم مسکرایا
کیوں جھوٹ بول رہی ہو کائنات؟ کیوں اپنے دل کی گواہی کو جھٹلا رہی ہو؟ میں جانتا ہوں تم مجھے بہت پسند کرتی ہو…
نہیں۔۔۔ کائنات نے سختی سے کہا۔ میں آپ کو پسند نہیں کرتی۔
اچھا؟ پسند نہیں کرتی؟ ارسم کی آواز میں ضد آ گئی۔ پھر مجھے دعاؤں میں کیوں مانگتی تھیں؟
یہ سن کر کائنات جیسے ساکت رہ گئی۔
آپ کو یہ کس نے کہا؟ اس کی آواز میں صاف گھبراہٹ تھی۔ یہ بات آپ کو کیسے پتا چلی؟
اور اسی لمحے ایک کرسی زور سے پیچھے سرکی۔
ہادی، جو خاموشی سے اندر داخل ہو کر کچھ فاصلے پر کھڑا سب سن رہا تھا، اب ان کے درمیان آ چکا تھا۔
اس کی نظریں سیدھی ارسم پر تھیں۔ لہجہ سرد… مگر اندر آگ جل رہی تھی۔
تم پاگل ہو گئے ہو کیا… ارسم؟
ارسم نے چونک کر اسے دیکھا۔
ہادی… تم یہاں۔۔۔
جو بکواس کر رہے ہو وہ سنائی دے رہا ہے مجھے۔ ہادی کی آواز دبی ہوئی تھی مگر کاٹ دار۔
شادی شدہ لڑکی کے سامنے بیٹھ کر اسے طلاق لینے کا مشورہ دے رہے ہو؟ ہوش میں ہو؟
ارسم نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا،
پاگل نہیں ہوا میں۔ میں بس سب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔
ٹھیک؟ ہادی کا لہجہ مزید ٹھنڈا ہو گیا۔ کسی کا گھر توڑ کر؟
کائنات اب دونوں کے درمیان کھڑی تھی۔
دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
پلیز… آپ دونوں خاموش ہو جائیں… اس نے آہستہ مگر مضبوط آواز میں کہا۔
ارسم نے جھک کر کائنات کی طرف دیکھا، آواز میں بےتابی تھی۔
دیکھو کائنات… اب تمہیں مجھ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں۔ نہ ڈرنے کی۔ سب سچ سامنے آ چکا ہے…
کائنات نے سرد لہجے میں کہا،پہلے یہ بتائیں آپ کو یہ سب پتا کیسے چلا؟ کس نے کہا آپ سے؟
ہادی نے گہرا سانس لیا۔
اس دن… میں اور ارسم دونوں نے دعا اور زرتاشہ کی بات سن لی تھی۔ زرتاشہ نے دعا سے کہا تھا کہ تم ارسم کو پسند کرتی تھیں… دعاؤں میں مانگتی تھیں…
زرتاشہ… کائنات کے لبوں سے کڑوا سا لفظ نکلا۔
وہ آخر مجھ سے چاہتی کیا ہے…؟
ارسم نے سختی سے کہا
چھوڑو اُسے! اپنی بات کرو۔ تم پسند کرتی ہو نا مجھے؟
نہیں۔۔۔۔ کائنات نے فوراً کہا۔
آپ جانتے ہیں میں جھوٹ نہیں بولتی۔ صاف صاف کہہ رہی ہوں… نہیں۔ I don’t like you. اگر میری زیدان سے شادی نہ بھی ہوئی ہوتی… تب بھی میں آپ سے شادی نہ کرتی۔۔۔
یہ جملہ سیدھا ارسم کے غرور پر لگا۔ وہ اچانک کرسی سے کھڑا ہو گیا۔
کیوں؟ آخر کیوں؟ آس پاس بیٹھے لوگ چونک کر ادھر دیکھنے لگے۔
میں نہیں تھا تو وہ کون تھا جسے تم اتنی شدت سے چاہتی تھیں کہ دعاؤں میں مانگ رہی تھیں؟ کون تھا وہ؟!
کائنات جیسے پتھر ہو گئی۔ لب ہلے… مگر آواز نہ نکلی۔
ہادی فوراً اٹھا اور ارسم کو بازو سے پکڑ کر دوبارہ کرسی پر بٹھا دیا۔
ارسم! Calm down. اس کا لہجہ اب سخت تھا۔
اپنی حد پار مت کرو۔ اور مجھے مزید غصہ مت دلاؤ۔
ارسم کی سانسیں تیز تھیں۔ آنکھوں میں ضد اور زخم دونوں تھے۔
کائنات کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔
وہ اچانک بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
ہونٹ کانپ رہے تھے۔
میں اپنی دعا میں جو بھی مانگوں… کسی کو بھی مانگوں… اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی، سانس بےترتیب ہو چکی تھی، وہ میرے اور میرے اللہ کا معاملہ ہے۔
کوئی بھی انسان یہ سوال نہیں کر سکتا کہ میں دعا میں کیا مانگتی ہوں… اور کیوں مانگتی ہوں… اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، مگر آواز میں اب لرزش کے ساتھ ساتھ غصہ بھی تھا۔
ہادی اور ارسم دونوں خاموش کھڑے تھے۔
دعا… کسی کے سامنے پیش کرنے کی چیز نہیں ہوتی۔ وہ دل کا راز ہوتی ہے۔ کبھی امید ہوتی ہے، کبھی کمزوری… کبھی بچپنا بھی… اس نے ارسم کی طرف دیکھا، مگر اسے ثبوت بنا کر میرے سامنے مت رکھیں۔
ارسم کے چہرے پر پہلی بار پچھتاوا سا آیا، مگر ضد ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔
میں نے کبھی آپ سے کچھ وعدہ نہیں کیا۔ کبھی کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اگر کسی نے کچھ سن لیا… یا کچھ سمجھ لیا… تو وہ میری ذمہ داری نہیں ہے۔
وہ ہادی اور ارسم دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
آپ لوگوں نے… میری دعاؤں کو بھی تماشہ بنا دیا…
اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
اور اگر کبھی کوئی خاموش سی پسند تھی بھی… تو کیا وہ گناہ تھا؟ کیا ہر پسند نکاح تک جاتی ہے؟
ارسم خاموش ہو گیا۔ ہادی کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
کائنات کے آنسو اب رک نہیں رہے تھے۔
میری شادی ہو چکی ہے۔ یہ میرا رشتہ ہے۔ چاہے جیسے بھی حالات ہوں… یہ میرا فیصلہ ہے کہ میں اسے نبھاؤں یا نہیں۔ مگر کوئی بھی… کوئی بھی مجھے طلاق لینے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔
وہ کھڑی ہو گئی۔
اور نہ ہی مجھے میرے دعاؤں کی وجہ سے کٹہرے میں کھڑا کر سکتا ہے…
فضا میں گہری خاموشی چھا گئی۔
ارسم کی نظریں جھک گئیں۔ وہ پہلی بار پہلی بار اپنی حرکت پر شرمندہ ہُوا تھا۔۔۔
ہادی بھی بےبس نظر آرہا تھا۔۔
اگر میری دعا قبول ہوتی نا…تو میں پورے جہان کو بتاتی کہ میری دعا قبول ہوئی ہے۔ سب کو بتاتی کہ میں نے دعا میں کیا مانگا تھا…
کائنات نے آنسو پونچھے۔
میں کبھی نہیں شرماتی۔ کبھی نہیں چھپاتی۔ کیونکہ دعا قبول ہونا شرمندگی نہیں… نعمت ہوتی ہے۔
ارسم ساکت کھڑا تھا۔
ہادی کے چہرے پر سختی کی جگہ گہری سوچ آ گئی تھی۔
مگر جب دعا قبول نہ ہو… کائنات کی آواز پھر لرز گئی، تو انسان اُسے اپنے دل کے اندر دفن کر دیتا ہے۔
اور نہ ابھی اور نہیں کسی اور دِن میں نہیں بتاؤں گی، میں دعا میں کیا مانگتی تھی۔۔۔ نہ ہی کوئی پوچھنے کا حق رکھتا ہے،
خاموشی۔
میں نے کبھی کسی سے صفائی نہیں دی… اور نہ آج دوں گی۔ جو مانگا تھا، وہ میرے اور اللہ کے درمیان تھا۔ جو ملا ہے، وہ بھی اسی کی طرف سے ہے۔
وہ کُرسی سے اُٹھتی… اور تیزی سے باہر نکل گئی۔
ہادی بھی اُس کے پیچھے تیزی سے لپکا۔۔
ارسم بےبس سا وہیں بیٹھ گیا۔۔۔
برباد کر دیتی ہے یہ محبت،
جب جواب میں خاموشی ملے۔
جب خواب تو اپنے ہوں،
مگر تعبیر کسی اور کے حصے میں چلی جائے۔
برباد کر دیتی ہے یہ محبت،
جب ضد کو عشق سمجھ لیا جائے،
اور دل کی خواہش کو حق۔
یہ آگ بھی ہے…
جو سینے میں جلتی رہے تو راکھ کر دے،
اور اگر بجھ جائے تو
سرد راکھ میں عمر بھر کی چنگاری چھوڑ جائے۔
محبت کبھی زبردستی سے نہیں ملتی،
یہ تو خیرات بھی نہیں کہ مانگ لی جائے۔
یہ تو بس نصیب ہوتی ہے۔۔۔۔
یا پھر نصیب سے چھن جاتی ہے۔
+++++++++++++
کائنات سڑک پر تیز قدموں سے چل رہی تھی۔
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر اُس نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ شہر کی روشنی دھندلی ہو چکی تھی، شاید آنسوؤں کی وجہ سے، شاید دل کے بوجھ کی وجہ سے۔
پیچھے سے آواز آئی۔۔۔
رک جاؤ کائنات… کائنات رُکو۔۔۔۔
وہ نہیں رکی۔
ہادی تیز قدموں سے آگے بڑھا اور اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ اچانک رک گئی۔ آنکھیں سُرخ، سانس بےترتیب۔ اس نے دھندلائی نظروں سے اسے دیکھا۔
کیا ہے؟
ہادی نے پہلی بار خود کو کمزور محسوس کیا۔
آئی ایم سوری۔ ارسم کی طرف سے بھی… اور زرتاشہ کی طرف سے بھی۔ دونوں کی طرف سے تم سے معافی چاہتا ہوں۔
کیا فائدہ اس معافی کا؟ اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
جو تھا وہ تو ملا نہیں نا… دعا قبول ہوئی نہیں…
ہادی چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا۔۔
میں نہیں جانتا تم دعا میں کسے مانگ رہی تھیں… نہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں۔ لیکن…
اس نے سانس لی،
مجھے تمہاری آنکھوں میں اب بھی وہی دکھ نظر آ رہا ہے۔ کیا تم… اب بھی چاہتی ہو اسے؟
یہ سوال سیدھا دل کے زخم پر لگا۔
کائنات خاموش کھڑی رہی۔
دل ٹوٹنے کی آواز سنائی نہیں دیتی۔۔۔۔
لیکن اندر کچھ ایسا تھا جو بکھر چکا تھا۔
ہادی کی نظریں اُس کے چہرے پر تھیں، جیسے جواب پڑھ لینا چاہتا ہو۔ وہ آہستہ سے بولا۔۔۔
شاید… یہ تمہاری تقدیر تھی…
لفظ برف کے گولوں کی طرح تھے۔
نہ جلانے والے، نہ کاٹنے والے، بس منجمد کر دینے والے۔
تمہیں اُس کے پاس ہی جانا تھا…
آواز میں نہ غصہ تھا، نہ شکوہ۔ بس ایک بےبسی۔۔۔
جو وقت سے، قسمت سے، اور شاید خود سے ہار چکی تھی۔
تمہیں اُسی کا ہی ہونا تھا… کائنات نے آنکھیں بند کر لیں۔ ایک آنسو پلک سے ٹوٹ کر گرا۔
جملہ ختم ہوا، اور اس کے ساتھ وہ رشتہ بھی، جس کے لیے برسوں کی دعائیں، راتوں کی نیندیں، اور دل کے سب خواب وقف کیے گئے تھے۔
مگر تقدیر…؟ تقدیر تو قلم نہیں دیتی۔ بس پڑھنے کا حق دیتی ہے، وہ بھی آخری صفحے پر جا کے سمجھ آتا ہے۔۔۔۔
ہادی نے دھیرے سے کہا، کچھ چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں… وہ ہمارے نصیب میں لکھی ہوتی ہیں۔ وہ چند لمحے رکا، پھر اس کی طرف دیکھ کر بولا، تم اپنے نصیب کو قبول کر لو کائنات…
شروع سے یہی لکھا تھا۔ تم بنائی ہی اُس کے لیے گئی تھی…
کائنات کے چہرے پر ایک کرب سا ابھرا۔ آنکھوں میں نمی پھر سے تیرنے لگی۔
پھر اللہ نے میرے دل میں کسی اور شخص کے لیے اتنی محبت کیوں ڈالی؟ کیوں…؟ اس کی آواز میں شکوہ تھا۔ درد تھا۔ اور ایک سچا سوال بھی۔
ہادی نے نظریں جھکا لیں۔ چند لمحے سوچتا رہا، جیسے لفظ تول رہا ہو۔
اللہ محبت میاں بیوی کے رشتے میں ڈالتا ہے… وہ آہستہ سے بولا۔
غیر محرم کے دل میں نہیں۔ وہ بس پسندیدگی ہوتی ہے… اٹریکشن ہوتا ہے… محبت نہیں ہوتی۔
کائنات کی پلکیں ہلکی سی لرزیں۔
یہ ہم انسانوں کی غلطی ہوتی ہے۔ ہم اپنے دل کو سنبھالنے کے بجائے… اسے وہاں لے جاتے ہیں جہاں نہیں لے جانا چاہیے۔
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر نرم لہجے میں بولا
کبھی کبھی یہ سب ہارمونل ایمبیلنس کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلے ہمیں کسی انسان کی ایک عادت اچھی لگتی ہے… پھر ہم اُس پر غور کرنے لگتے ہیں۔
وہ کائنات کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے چاہتا ہو وہ بات کو صرف سنے نہیں، سمجھے بھی۔
پھر ہم اُس کی باتوں میں معنی تلاش کرنے لگتے ہیں۔
آہستہ آہستہ ہم اپنی توجہ اُس پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ پھر وہ ہمیں ہر جگہ نظر آنے لگتا ہے۔ صِرف اُس کے بارے میں سوچتے ہیں۔۔۔ صِرف اُس کا سوچتے ہیں۔۔ ہمیں وہ باقی سب سے مختلف لگنے لگتا ہے۔ خاص لگنے لگتا ہے۔
پھر ہم اُس پسندیدگی کو بڑھا چڑھا کر اپنے دل میں جگہ دے دیتے ہیں۔ اُسے خیالوں میں اہم بنا دیتے ہیں۔ اور ایک دن جا کر کہتے ہیں، ہمیں محبت ہو گئی ہے۔۔۔
کائنات نے پلکیں آہستہ سے جھپکائیں۔
تو محبت کیا ہوتی ہے…؟
ہوا چند لمحوں کے لیے ساکت ہو گئی۔
محبت… وہ نہیں جو دل کو بےقابو کر دے۔
وہ نہیں جو انسان کو اپنے ہی اصولوں سے گرا دے۔
محبت وہ ہے۔۔۔
جو دل میں اتر کر اسے سنوار دے۔
محبت میں بےچینی نہیں ہوتی،
اگر ہوتی بھی ہے تو کھو دینے کی نہیں… کھو بیٹھنے کی ذمہ داری کی۔
محبت وہ ہے جہاں کسی کو پانے سے زیادہ اُسے محفوظ رکھنے کی خواہش ہو۔
جہاں تم یہ نہ سوچو کہ “وہ میرا کیوں نہیں؟”
بلکہ یہ سوچو کہ “میں اُس کے قابل کیسے بنوں؟”
محبت میں خودغرضی نہیں ہوتی۔
وہ چھینتی نہیں… سونپتی ہے۔
اگر کسی کے خیال سے تم اللہ کے قریب ہو جاؤ،
اپنے کردار میں مضبوط ہو جاؤ،
اپنے فیصلوں میں باوقار ہو جاؤ۔۔۔
تو شاید وہ محبت ہو۔
اور اگر کسی کے خیال سے تم اپنے رب سے سوال کرنے لگو،
اپنے نصیب سے لڑنے لگو، اپنی عزتِ نفس کھونے لگو۔۔۔
تو وہ محبت نہیں… دِل کی آپکی آزمائش ہوتی ہے۔۔۔
کائنات نے نظریں جھکا لیں۔
ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، جیسے دونوں کے درمیان کہی گئی باتیں اب زمین میں جذب ہو رہی ہوں۔
ہادی کچھ اور بھی کہنے والا تھا کہ اُس کی جیب میں رکھا موبائل اچانک بج اٹھا۔
اسکرین پر نظر پڑتے ہی اس کا چہرہ بدل گیا۔
ہسپتال… اُس کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔
دل ایک لمحے کو دھڑکا۔ اس نے فوراً کال ریسیو کی۔
جی… ہاں… میں بول رہا ہوں…
دوسری طرف سے تیز اور گھبرائی ہوئی آواز آ رہی تھی۔ ہادی کے چہرے کا رنگ آہستہ آہستہ اڑنے لگا۔
کیا…؟ کب…؟ اُس کی آواز بے اختیار بلند ہوئی۔
کائنات نے چونک کر اسے دیکھا۔ کیا ہوا؟
ہادی چند لمحے خاموش رہا، جیسے الفاظ اکٹھے کر رہا ہو۔ مجھے ابھی ہسپتال جانا ہوگا…
سب خیریت ہے؟ کائنات کے دل میں انجانا سا خوف اترا۔
ہادی نے سر ہلایا، مگر اس کے چہرے کی گھبراہٹ اُس کے انکار کو جھٹلا رہی تھی۔
ایمرجنسی ہے… تُم گھر چلی جانا اور میری بات پر غور ضرور کرنا۔۔۔
وہ كہتا تیزی سے مڑا۔ سڑک پر کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
کائنات وہیں کھڑی رہ گئی۔ ہوا میں اب سردی کچھ زیادہ تھی۔۔۔ اور کائنات کا دل ابھی بولچل سا ہورہا تھا۔۔
+++++++++++++
رات کے آٹھ بج رہے تھے۔
اسوان ابھی ابھی آفس سے لوٹا تھا۔ کوٹ اتار کر کمرے کی کرسی پر ڈال دیا تھا اور خود بیڈ کے کنارے بیٹھا پیشانی مسل رہا تھا۔
دن غیر معمولی طور پر تھکا دینے والا تھا…
یا شاید ذہن کی الجھن زیادہ بھاری تھی۔
گھر کے باقی لوگ اپنے اپنے کمروں میں مصروف تھے۔
کائنات، پریشے اور ننھی پری اس وقت پری کے کمرے میں بیٹھی تھیں۔ فرش پر بکھرے کھلونوں کے درمیان پری قہقہے لگا رہی تھی اور کائنات اس کے ساتھ گیم کھیلتے ہوئے زبردستی مسکرا رہی تھی۔ دل کہیں اور تھا… مگر بچی کی خاطر وہ خود کو معمول پر دکھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
اسی لمحے مرکزی دروازہ کھلا۔
ملازمہ نے سر اٹھا کر دیکھا…. اور جیسے پتھر ہو گئی۔
بیگم صاحبہ؟
وہ خاموشی سے اندر آئی۔
پانچ سال بعد۔
چہرہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ، آنکھیں پہلے سے زیادہ گہری۔ سادہ مگر مہنگا لباس، ہاتھ میں صرف ایک پرس۔
سب خیریت ہے؟ اس نے معمول کے لہجے میں پوچھا۔
ملازمہ کے ہوش اڑے ہوئے تھے۔
آپ… آپ واپس آ گئیں؟
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
یہ میرا گھر ہے۔ مُجھے ایک نا ایک دِن واپس آنا ہی تھا۔۔۔
بغیر کسی جلدبازی کے وہ لاؤنج کے صوفے پر بیٹھ گئی۔ جیسے پانچ سال کا وقفہ صرف پانچ دن ہو۔
ملازمہ گھبرا کر باقی گھر والوں کو اطلاع دینے دوڑی۔
اوپر کمرے میں اسوان ابھی پانی کا گلاس ہاتھ میں لیے کھڑا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔
سر… نوکر کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
وہ… وہ آ گئی ہیں…
کون؟ اسوان نے بے دھیانی میں پوچھا۔
ی… یُمنہ بیگم…
گلاس اسوان کے ہاتھ میں ساکت رہ گیا۔
کیا؟ چند لمحوں تک اسے یقین ہی نہ آیا۔
سر… وہ نیچے لاؤنج میں بیٹھی ہیں…
اسوان کا دل ایک لمحے کو زور سے دھڑکا۔
پانچ سال…
بغیر کچھ کہے وہ تیزی سے کمرے سے نکلا۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے قدم غیر معمولی طور پر بھاری تھے۔
++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
