تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۳۰
یُمنہ کی نظر جیسے ہی اسوان پر پڑی، وہ فوراً صوفے سے اٹھی۔
اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی،
اور اس کے گلے لگ گئی۔
اسوان ساکت کھڑا رہ گیا۔
اس کے بازو نیم اٹھے… مگر مکمل طور پر اس کے گرد حلقہ نہ بنا سکے۔ جیسے جسم موجود ہو… مگر ذہن ابھی تک پانچ سال پیچھے اٹکا ہو۔
اوپر سیڑھیوں سے قدموں کی آواز آئی۔
پریشے، کائنات اور ننھی پری بھی نیچے اتر آئی تھیں۔
میں نے تمہیں بہت مس کیا اسوان… بہت… یُمنہ کی آواز بھری ہوئی تھی۔
۔I really love you… اسوان…
پری نے حیرت سے پوچھا یہ کون ہیں؟
کائنات کے لبوں سے بےاختیار نکلا
یہ واپس کیسے آ گئی…؟
پریشے وہیں کھڑی رہ گئی۔
جیسے کسی نے اس کے قدم زمین میں گاڑ دیے ہوں۔
یُمنہ اسوان سے الگ ہوئی۔ آنکھوں میں آنسو، چہرے پر پچھتاوا۔
مجھے معاف کر دو اسوان… میں تمہیں چھوڑ کر چلی گئی…
وہ چند لمحے رکی، پھر بولی۔۔۔
تم تو جانتے ہو نا… میں نے اپنے ڈیڈ کے خلاف جا کر تم سے شادی کی تھی۔ انہوں نے مجھے دھمکی دے کر اپنے پاس بلا لیا تھا۔ میں کیا کرتی؟
اس کی آواز لرز رہی تھی۔
میں اسی لیے اپنی بیٹی کو بھی تمہارے پاس چھوڑ کر چلی گئی۔ اگر ساتھ لے جاتی… یا ڈیڈ کو پتہ چل جاتا… تو وہ ہماری بیٹی کو جان سے مار دیتے۔
میں ایسا نہیں چاہتی تھی… اسی لیے بغیر بتائے تمہیں اور اپنی بیٹی کو چھوڑ کر جانا پڑا…
اچانک اس کی نظریں ادھر اُدھر گھومیں۔
کہاں ہے میری بیٹی…؟
پری نے معصومیت سے کائنات کی طرف دیکھا۔۔ یہ میری ماما ہیں…؟
کائنات نے دھیرے سے کہا۔۔ ہاں…
یہ لفظ جیسے فضا میں معلق رہ گیا۔
اگلے ہی لمحے پری نے پریشے کا ہاتھ چھڑایا۔۔
اور دوڑتی ہوئی یُمنہ کی طرف گئی۔
ماما…
یُمنہ کے چہرے پر پہچان کی چمک آئی۔ اس نے جھک کر اسے بانہوں میں بھر لیا۔
میری جان… میری بیٹی… کیسی ہو؟
وہ روتے ہوئے اسے چوم رہی تھی۔
ماما کو معاف کر دو… ماما آپ کو چھوڑ کر چلی گئی تھی…
پریشے کے ہاتھ خالی رہ گئے۔۔وہ وہیں کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔۔اسے اچھی طرح یاد تھا۔۔۔ جب پری نے اسے اپنی سگی ماں سمجھا تھا تو اُسے کتنا مرا تھا؟ تو اب وہ اس لڑکی کو کیوں نہیں مار رہی تھی؟؟ جو سچ میں اس کی ماں تھی۔۔۔
اسوان کی آواز نے اس کے خیال توڑے۔۔۔
تم مجھے یہ بات بتا نہیں سکتی تھی؟
لہجہ شکوہ بھرا تھا۔
بتا دیتی تو ڈیڈ کو پتہ چل جاتا… یُمنہ نے فوراً جواب دیا۔
وہ مجھے طلاق لینے پر مجبور کر رہے تھے… اگر انہیں ہماری بیٹی کے بارے میں علم ہو جاتا تو۔۔
وہ رک گئی۔
تو اب واپس کیوں آئی ہو؟ اسوان کی آواز میں اب سردی تھی۔
یُمنہ نے آنکھیں جھکا لیں۔ ڈیڈ… نہیں رہے… اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ انہیں بلڈ کینسر ہو گیا تھا… تبھی تو انہوں نے مجھے بلیک میل کر کے بلا لیا تھا۔ ورنہ میں ہرگز نہ جاتی…
اس نے اسوان کی طرف دیکھا۔
تم جانتے ہو نا… میں تم سے کتنی محبت کرتی ہوں…
کمرے کے باقی افراد بھی اپنے کمروں سے نکل کر آ چکے تھے۔ سب کی نظریں یُمنہ پر تھیں۔
حیرت۔ سوال۔ بےیقینی۔ پری یُمنہ سے لپٹی ہوئی تھی۔
اور پریشے… خاموش کھڑی تھی۔
اس کی نظریں کبھی پری پر جاتیں… کبھی اسوان پر۔
اسوان خاموش تھا۔
نہ اس نے یُمنہ کو الگ کیا… نہ پری کو اُس سے الگ کیا تھا۔۔۔
بس کھڑا دیکھتا رہا۔ پریشے کے اندر کچھ ٹوٹا نہیں۔۔
بلکہ بیٹھ گیا۔ شاید امید۔
شاید وہ خاموش سا حق… جو اس نے کبھی مانگا ہی نہیں تھا۔
کائنات نے آہستہ سے پریشے کی طرف دیکھا۔
یہ اسوان بھائی کی پہلی بیوی ہیں…
اسوان بھائی کی کلاس فیلو تھیں یہ… یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ وہیں سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔
یُمنہ اسوان سے معافی مانگ رہی تھی۔ اور پری اب بھی اس سے لپٹی ہوئی تھی۔
جب شادی کا وقت آیا… کائنات نے بات جاری رکھی،
تو یُمنہ کے ڈیڈ چاہتے تھے کہ ان کی شادی خاندان ہی کے کسی لڑکے سے ہو۔ وہ یُمنہ کی اکلوتی اولاد تھیں… اور شاید اسوان بھائی پر مکمل بھروسا نہیں کر پا رہے تھے۔ اور تو اور یُمنہ بچپن سے اپنے کزن کے ساتھ منسوب تھیں… کائنات کی آواز نرم تھی،
لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اپنے والد کے خلاف جا کر اسوان بھائی سے شادی کر لی۔
یُمنہ کے ڈیڈ بہت ناراض ہو گئے تھے… تعلق تقریباً ختم کر دیا تھا۔
کائنات کی نظریں ایک لمحے کو پریشے پر ٹھہریں۔
پھر… باقی کی بات تو آپ جانتی ہیں…
پریشے کا دل دھڑکا۔
پری کی پیدائش کے دوسرے دن… ہسپتال سے یُمنہ بھابھی چلی گئیں۔
اسوان بھائی نے بہت ڈھونڈنے کی کوشش کی… بہت…
کائنات نے آہستہ سے کہا۔ مگر ناکام رہے۔
اور پھر… کائنات کی آواز میں ہلکی سی تلخی شامل ہو گئی،ان کے اندر کا غرور آ گیا۔
وہ رک گئی۔ کہ جانے والے کو روکا نہیں کرتے… نہ ڈھونڈا کرتے۔۔۔
لیکن اِن سب کے بیچ میں… میں کہاں ہوں؟
میری کیا غلطی تھی…؟ پریشے نے دھیرے سے کہا
کائنات کے دل میں جیسے کسی نے چبھتا ہوا کانٹا رکھ دیا۔
واقعی۔۔۔
اس ہجوم میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا۔۔ جو پریشے کے ساتھ کھڑا ہوتا۔
جو کہتا۔۔۔ اس کی کیا خطا تھی؟ سب یُمنہ کے گرد جمع تھے۔ کوئی اس سے حال پوچھ رہا تھا، کوئی افسوس کر رہا تھا، کوئی پرانی باتیں یاد دلا رہا تھا۔
اور پریشے…؟
وہ اس گھر کی دیوار کے ساتھ کھڑی ایک اضافی سایہ لگ رہی تھی۔
مجھے پہلے اسوان نے کہا تھا… کہ اُن کی پہلی بیوی مر چکی ہے… پھر مجھے پری سے پتہ چلا… کہ وہ چھوڑ کر گئی ہیں۔
اس کی آواز آہستہ آہستہ کانپنے لگی۔
مُجھے لگا۔۔۔ شاید رہنا نہیں چاہتی تھیں۔ شاید ان کا رشتہ اچھا نہ ہو…
وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر ہلکی سی سانس خارج کی۔
لیکن…؟ اس ایک لفظ میں برسوں کی الجھن تھی۔
آہ۔۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
کتنی خراب قسمت ہے میری…
کائنات فوراً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
ایسے نہیں کہتے… اس نے نرمی سے کہا، مگر خود اس کی آواز بھیگ چکی تھی۔
پریشے نے اس کی طرف دیکھا۔
پتا ہے… میں ہی بےوقوف ہوں…
کائنات نے فوراً اس کا ہاتھ دبایا۔
ایسا مت کہیں…
نہیں… پریشے نے آہستہ سے سر ہلایا،
مجھے پہلے ہی اپنا انتظام کر لینا چاہیے تھا… اپنے لیے کوئی راستہ رکھنا چاہیے تھا۔ جیسے بھی کر کے ان کی تمام دھمکیوں کے باوجود کوئی حال تلاش کرلینا چاہیے تھا۔۔۔
لیکن میں…
وہ رکی، جیسے لفظ گلے میں اٹک گئے ہوں۔
میں اتنی بےوقوف تھی…
اس کی آنکھیں بےاختیار اسوان کی طرف اٹھیں۔
ان کی اصلیت جاننے کے بعد بھی… ہر بار… بار بار… ان کی غلطیوں پر انہیں معاف کرتی رہی۔
اس کی آواز ٹوٹنے لگی۔
پتا ہے کیوں؟ پریشے نے خود ہی سوال کیا۔
پھر اسوان کی طرف دیکھا۔۔ جو یمنہ کے ساتھ کھڑا تھا۔۔
کیونکہ محبت کرتی تھی…
میرا دل… میرا دل اُسے چھوڑ کر جانے کو تیار ہی نہیں ہوتا تھا…
پریشے کی آواز اب دھیمی تھی، جیسے خود سے اعتراف کر رہی ہو۔
ہر بار جب میں نے فیصلہ کیا کہ بس… اب نہیں…
اسی لمحے دل آ کر میرے سامنے کھڑا ہو جاتا تھا…
وہ ہلکا سا مسکرائی، خود پر۔
کہتا تھا… شاید اس بار وہ بدل جائیں گے۔
شاید اس بار وہ سمجھ جائیں گے۔
شاید اس بار وہ مجھے کھونے سے ڈر جائیں گے…
اسوان کی سانس بھاری ہو گئی۔
میں اسوان کو بدلنا چاہتی تھی…
پریشے نے صاف لفظوں میں کہا۔
میں چاہتی تھی کہ وہ نرم ہو جائیں… وہ مجھے دیکھیں… سمجھیں… میرے ہونے کو اہمیت دیں…
میں نے خود کو ہر بار سمجھایا… پریشے کی آنکھیں نم تھیں، کہ غصہ وقتی ہوتا ہے… سختی وقتی ہوتی ہے… کہ وہ اندر سے برے نہیں ہیں…
میں نے اسوان کے اندر کے اُس اچھے انسان سے محبت کی تھی… جو کبھی کبھار جھلک دکھا دیتا تھا…
پریشے کی بات ختم ہوئی کائنات اُسے بےبسی سے دیکھتے رہ گئی۔۔۔
زارا جو اب تک خاموش کھڑی سب دیکھ رہی تھی،
اچانک آگے بڑھی۔
اوہ ہليو۔۔۔۔
اس کی آواز نے کمرے کی فضا چیر دی۔
سب چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
وہ تب سے دیکھ رہی تھی کہ کیسے رضیہ بیگم نے چار سخت باتیں کہہ کر بھی یُمنہ کو گلے لگا لیا تھا۔
کیسے عائشہ بیگم اور زینب بیگم بھی اس کے گرد جمع تھیں۔
زارا کے ہونٹ طنزیہ مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔
ڈرامہ کر رہی ہے یہ لڑکی۔
یُمنہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟ اس کی آواز سخت ہوئی۔
زارا نے کندھے اچکائے۔
زرتاشہ ٹھیک کہتی تھی… تم سنکی ہو اسوان۔
اسوان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
شکر ہے میں بچ گئی تمہارے شر سے۔۔ زارا نے زہر گھولتے لہجے میں کہا،
کیا بکواس ہے یہ؟! اسوان دھاڑا۔
بکواس نہیں، سچ۔۔۔ زارا ایک قدم آگے آئی۔
اس نے سیدھا یُمنہ کی طرف اشارہ کیا۔
تم اپنی بیوی کو لگتا ہے جانتے نہیں ہو؟ یا جان کر انجان بن رہے ہو؟
یُمنہ کا رنگ اڑ گیا۔
یہ ایک نمبر کی جھوٹی اور مکار عورت ہے۔۔۔ زارا کی آواز اب بلند ہو چکی تھی۔
تم اچھی طرح جانتے ہو یہ تمہیں چھوڑ کر کیوں گئی تھی…
کمرے میں کھلبلی مچ گئی۔
زارا! حد میں رہو۔۔۔ عائشہ بیگم چلائیں۔
لیکن زارا رکنے والی نہیں تھی۔
اور یہ… یہ جو کھڑی ہے تمہاری دوسری بیوی…
اس کی نظر پریشے پر گئی، جو خاموش، پتھر بنی کھڑی تھی۔
اسے بھول گئے تم؟
اسوان کے چہرے پر جیسے کسی نے طمانچہ مار دیا ہو۔
زارا نے یُمنہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
سچ بتاؤں؟ یہ اس لیے گئی تھی، کیوں کہ اس کا عاشق تھا۔۔۔ اپنے عاشق کے ساتھ بھاگی تھی یہ۔۔۔
جھوٹ۔۔۔ یُمنہ چیخی۔
تو پھر پانچ سال کہاں تھیں؟ زارا نے فوراً وار کیا۔
اگر اپنے پاپا کے پاس گئی ہوتی تو ہمیں پتہ چلا جاتا۔۔۔ ان کے ابّا حضور اس مُلک کے باہر تو نہیں رہتے۔۔۔
بس کرو زارا۔۔۔۔اس بار اسوان کی آواز گونجی۔
وہ چیخ نہیں رہا تھا… مگر اس کی آواز میں ایسا جمود تھا کہ چند لمحوں کو سب ساکت رہ گئے۔
یُمنہ کا چہرہ سپید پڑ چکا تھا۔
یہ جھوٹ ہے… اس کی آواز لرزی، میرا کوئی عاشق نہیں تھا…
تو پھر سچ بتاؤ۔ پانچ سال کہاں تھیں؟ کس شہر میں؟ کس گھر میں؟ کس نام سے رہ رہی تھیں؟
سوال در سوال۔۔یُمنہ کے لب ہلے… مگر آواز نہ نکلی۔
اسوان کی آنکھوں میں اب پہلی بار شک کی ہلکی سی پرچھائیں ابھری۔
بولو یُمنہ… اس کا لہجہ سرد تھا، میں بھی سننا چاہتا ہوں۔
کمرہ جیسے عدالت بن گیا تھا۔
پری، جو ابھی تک یُمنہ کے گلے لگی ہوئی تھی، اب سہم کر اسے دیکھ رہی تھی۔
یُمنہ نے ہمت جمع کی۔
میں… کراچی میں تھی… اس نے آہستہ سے کہا، ڈیڈ نے مجھے اپنی خالہ کے گھر رکھا تھا… میں گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھی… فون تک نہیں تھا میرے پاس…
اور عاشق؟ زارا نے فوراً کاٹا۔
یُمنہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
اللہ کا خوف کرو زارا… ایسا الزام مت لگاؤ…
زارا کی آنکھوں میں غصہ بھڑکا۔
خوف؟ خوف تمہیں اس دن نہیں آیا جب تم نے ایک نومولود بچی کو چھوڑا؟
یہ جملہ سیدھا جا کر لگا۔
پریشے کے اندر کہیں کچھ ہلکا سا کانپا۔
پری اب یُمنہ سے ذرا الگ ہو چکی تھی۔ وہ الجھی ہوئی نظروں سے کبھی یُمنہ کو دیکھتی… کبھی پریشے کو۔
اگر تم مجبور تھیں… زارا نے تیز لہجے میں کہا،
تو ایک خط؟ ایک پیغام؟ کسی کے ہاتھ خبر؟ کچھ تو بھیج سکتی تھیں۔۔۔ کیسی ماں تھی جو تمہیں اپنی بچی کی بھی فکر نہ تھی کہ وہ ایک ماں کے بنا زندہ کیسے رہے گی؟؟
اسوان کے ذہن میں پچھلے پانچ سال فلم کی طرح چلنے لگے۔ وہ راتیں… جب پری بخار میں تپتی تھی۔
وہ لمحے… جب اسے ماں کے لیے روتے دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ جاتا تھا۔
وہ دن… جب اس نے ضد میں آ کر کہہ دیا تھا،
جانے والے کو ڈھونڈا نہیں کرتے۔
اور آج… وہی جانے والی اس کے سامنے کھڑی تھی۔
یُمنہ نے دونوں ہاتھوں سے آنسو پونچھے۔
وہ ایک قدم آگے بڑھی۔
میں نے کچھ نہیں کیا تھا اسوان… اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی، مگر الفاظ ترتیب سے نکل رہے تھے۔
سب ڈیڈ نے کیا… انہوں نے میرا فون لے لیا تھا… میرا باہر نکلنا بند کر دیا تھا… میں قید تھی… قید!
وہ اسوان کے بالکل سامنے آ کھڑی ہوئی۔
تم جانتے ہو نا وہ کیسے تھے… ضدی… سخت… اپنے فیصلوں میں اٹل…
اسوان کے چہرے پر الجھن ابھری۔
میں روز تمہیں یاد کر کے روتی تھی… اپنی بیٹی کے لیے تڑپتی تھی…
اس نے پری کو سینے سے لگا لیا۔
اگر مجھے ذرا سا بھی اختیار ہوتا… تو کیا میں اپنی نومولود بچی کو چھوڑتی؟ کیا میں اپنی محبت کو چھوڑتی؟
یہ آخری جملہ اس نے دھیرے سے کہا، مگر سیدھا اسوان کی آنکھوں میں دیکھ کر۔
میں بےوفا نہیں تھی… مجبور تھی…
کمرے میں خاموشی گہری ہو گئی۔
زارا کچھ کہنے کو بڑھی، مگر زنیب بیگم نے فوراً اس کے پاس اکر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
خاموش رہو۔۔ زیادہ نہیں بولو۔۔ تُمہارا معاملہ نہیں ہے یہ۔۔
لیکن ماما۔۔۔ وہ غلط کر رہا ہے۔۔۔؟؟
جو بھی کر رہا ہے، کرنے دو۔۔ ہمارا اس سے کُچھ لینا دینا نہیں۔۔۔ زینب بیگم نے زارا کا منہ بند کروا دیا۔۔
یُمنہ نے ایک اور وار کیا۔
اگر مجھے کوئی اور پسند ہوتا تو۔۔۔تو میں تُم سے شادی کیوں کرتی۔۔۔؟ وہ بھی اپنے ابّا کے خلاف جا کر۔۔۔
یہ جملہ اثر کر گیا۔ اسوان کی نظریں جھک گئیں۔
پریشے نے وہ تبدیلی صاف دیکھی۔
یُمنہ نے آہستہ سے کہا، میں آج بھی وہی یُمنہ ہوں… جس نے سب کے خلاف جا کر تمہیں چُنا تھا…
چُنا تھا۔ یہ لفظ فضا میں دیر تک معلق رہا۔
پریشے کے دل میں جیسے کسی نے ٹھنڈا پتھر رکھ دیا۔
اسوان نے اچانک سر اٹھایا۔ اس کی نظر سیدھی پریشے پر گئی۔ کچھ لمحے بس وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
پھر اسوان نے دھیرے مگر صاف لہجے میں کہا،
تم جانا چاہتی تھیں نا… مجھے چھوڑ کر؟
پریشے کا دل دھڑکا۔
تم نے کہا تھا نا… کہ اللہ سے رہائی مانگی ہے؟
اس کی آواز اب عجیب حد تک پرسکون تھی۔
پریشے کے ہونٹ کانپے۔ اسوان۔۔۔
جاؤ۔۔۔۔ وہ بیچ میں ہی بول پڑا۔
سب چونک گئے۔
آج سے تم آزاد ہو۔
یہ الفاظ جیسے دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئے۔
میں تمہیں اب زبردستی نہیں روکوں گا…
پری کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔
بابا…؟
پریشے ساکت کھڑی تھی۔ اس نے شاید یہ جملہ سنا تھا۔۔ مگر اس طرح نہیں۔
اسوان نے نظریں ہٹا لیں۔
تمہاری دعا قبول ہوگئی، مل گئی تمہیں مُجھ سے رہائی۔۔۔
کائنات نے بےیقینی سے اسوان کو دیکھا۔۔
اسوان بھائی… آپ کیا کہہ رہے ہیں؟
مگر اسوان خاموش تھا۔
یُمنہ کے چہرے پر ایک ہلکی سی، بہت ہلکی سی سانسِ اطمینان ابھری۔۔۔
جسے شاید صرف پریشے نے دیکھا۔
پریشے نے جھک کر اپنا آنسو پونچھا۔
پھر سیدھی ہو کر اسوان کو دیکھا۔
ٹھیک ہے…
بس دو لفظ۔ بس دو لفظ کہہ کر وہ پلٹی اور سیڑھیاں چڑھا گئی۔۔۔
+++++++++++
کائنات نے بےچینی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔
رضیہ بیگم… زینب بیگم… عائشہ بیگم… اس کی اپنی ماں… حتیٰ کہ فیضان صاحب اور عدنان صاحب بھی نیچے موجود تھے۔
اگر کوئی نہیں تھا…
تو اس کا اپنا شوہر… زیدان۔
یا اللہ… اِنہیں کسی چیز کی فکر ہی نہیں…
وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے میں آئی۔
دروازہ کھولا
زیدان آرام سے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے موبائل اسکرول کر رہا تھا۔
کیا کر رہے ہیں آپ یہاں؟ ہاں؟ کائنات کی آواز میں خفگی تھی۔
فون چلا رہا ہوں۔ کیوں؟ تمہیں کوئی کام ہے؟ اس نے بغیر اوپر دیکھے جواب دیا۔
نیچے اتنا بڑا تماشا ہو گیا اور ایک آپ ہیں کہ…
ہونے دو۔ مجھے کیا؟
کائنات نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
یا اللہ… کیسے انسان ہیں آپ…
زیدان نے اب اس کی طرف دیکھا۔
بہت برا انسان ہوں میں۔..
کائنات کا لہجہ نرم پڑ گیا۔
آہ… ایسے نہیں کہتے۔ آپ کو پتہ بھی ہے گھر میں کیا ہوا ہے؟
کیا ہوا؟.وہ تیزی سے بیڈ پر اس کے پاس آ بیٹھی۔
زیدان نے فون سائیڈ پر رکھ دیا۔
یُمنہ بھابھی واپس آ گئی ہیں…
اچھا۔ بس ایک لفظ۔
ہاں! اور پتہ ہے اسوان بھائی نے کیا کیا؟
زیدان کی نظریں اس کے چہرے پر ٹک گئیں۔
کیا؟
پریشے بھابھی کو جانے کا کہہ دیا… کہہ دیا آج سے آزاد ہو… ذرا بھی خیال نہیں آیا اُن کا… کتنی زیادتی کی اُن کے ساتھ…
یہ سنتے ہی زیدان کے ذہن میں جیسے کوئی پرانا دروازہ کھل گیا۔
ایک اور گھر… ایک اور عورت…
جو دیوار کے ساتھ کھڑی رہ گئی تھی۔
اُس کی ماں۔
فیضان صاحب کی پہلی شادی گھر والوں کی مرضی سے سیما بیگم سے ہوئی تھی۔
وہی سیما بیگم.. زیدان کی سگی ماں۔
شروع میں سب ٹھیک تھا۔
دو بیٹے ہوئے… اسوان… اور زیدان۔
گھر میں ہنسی تھی۔ رونق تھی۔
پھر ایک دن… خاموشی آ گئی۔
فیضان صاحب کا باہر کسی اور عورت سے تعلق بن گیا۔
سیما بیگم کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے گہرے ہونے لگے۔
آواز دھیمی ہو گئی۔ لبوں کی مسکراہٹ غائب۔
شوہر کا رویہ بدلا… پھر گھر والوں کا بھی۔
اور آخرکار… فیضان صاحب نے دوسری شادی کر لی… عائشہ بیگم سے۔
اس دن زیدان نے اپنی ماں کو پہلی بار ٹوٹتے دیکھا تھا۔ چیخیں… جھگڑے… الزام… مگر طلاق نہیں ہوئی۔
کیوں؟ کیونکہ دو بیٹے تھے۔
اسوان… اور زیدان۔
سیما بیگم نے خاموشی اوڑھ لی۔
صِرف بچے کی خاطر طلاق نہیں لی۔۔۔
زیدان کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
کائنات اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔
آپ سن بھی رہے ہیں؟ اس نے آہستہ سے پوچھا۔
زیدان نے گہری سانس لی۔
میں سب سن رہا ہوں…
تو کچھ کرے نہ۔۔۔ کائنات نے بےبسی سے کہا
اچھا ہے نا… جانے دو بھابھی کو…
زیدان کی آواز غیر معمولی طور پر ہموار تھی۔
کائنات نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیا مطلب؟
اچھا ہے… آزاد ہو جائیں گی۔ وہ آہستہ سے بولا، اچھا ہے کہ اُن کے کوئی بچے بھی نہیں… ورنہ پھر وہ بھی مظلوم بن جاتی۔۔۔ عمر بھر برداشت کرتی۔
کائنات کو جیسے کسی نے جھنجھوڑ دیا۔
آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
زیدان نے نظریں ہٹا لیں۔
اگر میں کچھ بول کر اُنہیں رکوا بھی لوں… تو کیا فائدہ؟بھائی یُمنہ بھابھی کو چھوڑے گا تو نہیں نا…؟
کائنات خاموش رہ گئی۔
ایسے میں پریشے بھابھی کا یہاں رہنا بھی ٹھیک نہیں۔
اچھا ہے ابھی آگے اُن کی پوری زندگی پڑی ہے… کم از کم ایک نام کے رشتے میں قید ہو کر تو نہیں رہیں گی…
کائنات نے دھیرے سے پوچھا،
آپ کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟
یہ جملہ سیدھا جا کر لگا۔ زیدان کے جبڑے سخت ہو گئے۔ مُجھے کیا ہوگا۔۔۔ کُچھ بھی نہیں ہوا ہے مُجھے۔۔۔
زیدان کے لہجے کی سختی… اُس کے اپنے کانوں کو بھی اجنبی لگی۔
کائنات نے حیرت سے اسے دیکھا۔ آپ…؟
مگر وہ خود بھی شاید اپنے اندر کی گونج سے گھبرا گیا تھا۔
اُس نے جھٹکے سے فون اٹھایا، پھر دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے رکا… بغیر مُڑے بولا،
بھابھی کو روکنا مت… جانے دینا… اُن کے لیے یہی اچھا ہے…
اور اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز نے کائنات کو ساکت کر دیا۔
ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟؟ رہے رہے اتنے عجیب سے کیوں ہوجاتے ہیں۔۔۔
وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔
+++++++++++++
پریشے الماری کے سامنے کھڑی تھی۔
دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندر کپڑے ترتیب سے رکھے تھے…
اس نے آہستہ سے ایک سوٹ نکالا۔
بیڈ پر رکھا۔ پھر دوسرا۔ پھر اچانک اُس کے ہاتھ رک گئے۔
آج سے تم آزاد ہو… یہ جملہ پھر کانوں میں گونجا۔
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔
عجیب بات تھی…
جس رہائی کے لیے اُس نے راتوں کو سجدوں میں دعا کی تھی…
آج وہی رہائی اُس کے سینے پر بوجھ بن گئی تھی۔
آنکھوں سے آنسو بہے… مگر چیخ نہ نکلی۔
کمرے میں ہلکی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ پردے کے بیچ سے آتی شام کی مدھم کرنیں دیوار پر ٹوٹ کر بکھر رہی تھیں۔
دیوار سے ٹیک لگائے وہ دوبارہ اٹھی… اور بیگ کھول کر آہستہ آہستہ سامان رکھنے لگی۔
ہر جوڑا…ہر کتاب… ہر چھوٹی بڑی چیز…
جیسے ہر چیز کے ساتھ وہ اپنے دل کا ایک ٹکڑا بھی تہہ کر کے رکھ رہی ہو۔
جیسے جیسے سامان بیگ میں جاتا جا رہا تھا…
ویسے ویسے اُس کا دل سکڑتا جا رہا تھا۔
سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔
دل کی دھڑکنیں جیسے وزن کے ساتھ مدھم پڑتی جا رہی تھیں۔
وہ ایک لمحے کو رکی۔
ہاتھ کانپے۔
آنکھوں میں نمی ابھری۔
مجھے لگتا تھا… آپ صرف اپنی بیٹی سے محبت کرتے ہیں…
آواز بھاری تھی۔ ٹوٹتی ہوئی۔
پھر لگا… شاید صرف اپنے بھائی سے کرتے ہیں…
پھر خیال آیا… شاید بیوی سے…
وہ ہلکا سا مسکرائی..
وہ کڑوی سی مسکراہٹ، جو اکثر آنکھوں کے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش ہوتی ہے۔
لیکن… اصل میں تو آپ صرف اپنے آپ سے محبت کرتے ہیں…
آنسو چپکے سے گال پر بہہ گیا۔
سامنے بیڈ کے اوپر وہ تصویر رکھی تھی…
اسوان کی۔
وہ تصویر کو دیکھ رہی تھی۔
نہ مکمل محبت سے۔
نہ مکمل نفرت سے۔
شاید حسرت سے۔
شاید مایوسی سے۔
یا شاید اُن سب جذبات سے… جنہیں لفظوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
++++++++++++
بابا…! ماما کو روک لیں پلیز… وہ چلی جائیں گی…
آواز کانپ رہی تھی۔
الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے۔
دروازے پر کھڑی اُس کی بیٹی چہرہ زرد، آنکھیں آنسوؤں سے لبریز، سانس بےترتیب… جیسے ابھی ابھی دوڑ کر آئی ہو اور دل ابھی تک خوف کے تعاقب میں ہو۔
اور وہ…؟
وہ بیڈ پر نیم دراز، لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا۔ اسکرین کی روشنی اُس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ چہرہ سنجیدہ تھا… مگر بےاثر۔
جیسے یہ سب اُس کی دنیا کا حصہ ہی نہ ہو۔
جیسے دروازے پر کھڑی کپکپاتی آواز اُس کے کانوں تک پہنچی ہی نہ ہو۔
اس نے ایک لمحے کو نظریں اٹھائیں۔
دروازے پر کھڑی وہ ننھی سی ہستی… اُس کی اپنی بیٹی تھی۔
روک لیں نا بابا…پلز۔۔۔ ماما کو روک لیں۔۔۔ وہ چلی جائے گی۔۔۔
اس بار آواز اور بھی دھیمی تھی۔ جیسے امید آخری سانس لے رہی ہو۔
اسوان چونکا۔۔۔ اس بار اُس نے اس کی آواز صحیح سے سنی۔۔۔ پری نے کیا کہا تھا۔
ماما۔۔۔۔ وہ لفظ جو کبھی اس گھر میں پریشے کے لیے استعمال نہیں ہوا تھا۔
ہمیشہ وہ۔۔
ہمیشہ اُنہیں۔ یا آپکی بیوی۔۔
مگر آج۔۔
آج اُس نے کہا تھا، ماما کو روک لیں…
تم نے… اسوان کی آواز غیر ارادی طور پر دھیمی ہوئی، تم نے اُسے ماما کہا…؟
پری کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
کیونکہ وہ ہیں… اُس نے روتے ہوئے کہا۔ مُجھے نہیں پتہ لیکن وہ۔۔۔ وہ مُجھے سے بہت محبت کرتی ہیں۔۔
اسوان نے لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
ادھر آؤ… اُس نے نرم لہجے میں کہا، میرے پاس بیٹھو…
پری آ کر بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ اُس کے چھوٹے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔
تمہاری ماما تو واپس آ گئی ہیں نا… اسوان نے آہستہ سے کہا، یُمنہ…
پری نے فوراً سر ہلایا۔ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے۔
ہاں… لیکن… مجھے نہیں پتہ… وہ… وہ نہیں…وہ الجھ گئی۔ لفظ ڈھونڈنے لگی۔ جو وہ ہیں… وہ نہیں…
اسوان نے اُسے غور سے دیکھا۔
آپ بس اُنہیں روک لیں… پری نے اُس کے بازو کو تھام لیا۔ وہ میرے ساتھ رہ جائیں گی نا؟ وہ میرے پاس رہیں گی نا…؟ یہ سوال نہیں تھا۔ یہ خوف تھا۔
اسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
اور اگلے ہی لمحے یُمنہ اندر آ گئی۔
ارے میری جان… کیوں رو رہی ہے؟ اُس نے پری کے قریب آ کر پوچھا، لہجہ نرمی سے لبریز۔
پری نے فوراً آنسو پونچھے۔ مگر اُس کی نظریں بےچینی سے اسوان اور یُمنہ کے درمیان گھوم رہی تھیں۔
آپ اُنہیں روک لیں… اُس نے گھبراہٹ میں کہا۔
کسے؟ یُمنہ نے چونک کر پوچھا۔
ماما کو…
یُمنہ کے چہرے پر ایک لمحے کو توقف آیا۔ پھر وہ مسکرائی۔ ارے… تمہاری ماما تو میں ہوں…
پری نے الجھن سے سر ہلایا۔ اُس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ نہیں… وہ… وہ… وہ اسوان کی طرف مڑی۔
پاپا یار…
یہ لفظ اسوان کے دل پر جا لگا۔
وہی تو چاہتا تھا وہ۔
کہ پری کبھی پریشے سے مانوس ہو جائے۔
کہ دونوں کے درمیان ایک رشتہ بن جائے۔
مگر اس طرح…؟
یوں… کہ فیصلہ اُس کے ہاتھ سے نکل جائے؟
یُمنہ نے اب پری کو غور سے دیکھا۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟
پری نے ہمت جمع کی۔
وہ میری ماما ہیں… جو مجھے سونے سے پہلے کہانی سناتی ہیں… جو میرے بال باندھتی ہیں… جو مجھے ڈانٹتی بھی ہیں… مگر بعد میں خود ہی مناتی بھی ہیں…
اُس کی آواز ٹوٹ گئی۔
آپ… آپ میری ماما ہیں… اُس نے یُمنہ کی طرف دیکھا، لیکن وہ بھی…
یہ بھی کمرے میں دیر تک گونجتا رہا۔
اسوان نے پہلی بار یُمنہ کے چہرے پر وہ ہلکی سی سختی دیکھی… جو اُس نے نیچے سب کے سامنے نہیں دیکھی تھی۔
پری… یُمنہ نے نرمی سے کہا، بیٹا، رشتے ایک ہی ہوتے ہیں۔ ماما ایک ہی ہوتی ہے…
پری نے فوراً سر جھٹکا۔
نہیں… اُس کی آواز بلند ہو گئی۔ دو بھی ہو سکتی ہیں…
يمنہ نے نرمی سے پری کو سمجھایا۔۔۔ ابھی کے لیے انہیں جانے دو، … وہ اس وقت غصے میں ہیں۔ ہم روکے گے بھی تو وہ روکے گی نہیں۔۔۔ کل… ہم خود اُن کے گھر جائیں گے۔ منا لیں گے۔ جب غصّہ ٹھنڈا ہوجائے گا نہ تو جلدی مان جائے گی۔۔۔
پری کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
سچ میں…؟ اُس نے یقین نہ آنے والے انداز میں پوچھا۔
یُمنہ نے مسکرا کر اُس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
ہاں سچ میں، میری جان…”
یاہو۔۔۔ پری خوشی سے بیڈ سے اُچھل کر نیچے اتری۔ میں جا رہی ہوں یہ خبر چچی کو دینے۔۔۔
یُمنہ نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں سے پری خوشی خوشی دوڑتی ہوئی گئی تھی۔ اُس کے لبوں پر ایک مطمئن سی مسکراہٹ تھی، جیسے ابھی ابھی اُس نے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔
وہ آہستہ سے پلٹی اور اسوان کی طرف دیکھا۔
تمہیں کیا ضرورت تھی… دوسری شادی کرنے کی؟
اسوان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو سختی اُتری۔
تو کیا کرتا؟ اُس نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔ تمہارے انتظار میں بیٹھا رہتا؟ جس طرح تم گئی تھیں… مجھے سب یاد ہے۔ اُس انداز میں جانے کے بعد تمہارے واپس آنے کا کوئی چانس نہیں بنتا تھا۔ تو کس لیے میں تُمہارا اِنتظار کرتا۔۔۔؟اور تُم اچھے سے پتہ ہے۔۔ میں کسی کا اِنتظار نہیں کر سکتا۔۔۔
یُمنہ نے نظریں جھکا لیں۔
اچھا… چھوڑو۔ جو ہو گیا، وہ جانے دو۔ اُس نے بات سمیٹنے کی کوشش کی۔
مگر اسوان کے ذہن میں ایک اور سوال اٹکا ہوا تھا۔
پری کا کیا کرنا ہے…؟
یُمنہ نے ہلکی سی سانس لی، جیسے یہ سوال اُس کے لیے اتنا اہم نہ ہو۔
کچھ نہیں۔ دو دن ضد کرے گی، بولے گی… پھر خود ہی سیٹ ہو جائے گی۔ بچے جلد بھول جاتے ہیں۔
اسوان خاموش ہو گیا۔
I hope so…
اُس نے آہستہ سے کہا۔
+++++++++++
زیدان اس وقت پھر سِنان کے سامنے بیٹھا تھا۔ حسبِ معمول سِنان کے ہاتھ میں آج بھی کولڈ ڈرنک کی بوتل تھی، جسے وہ ایسے تھامے بیٹھا تھا۔۔۔
زیدان نے ناگواری سے بوتل کی طرف دیکھا۔
مت پیا کر یہ… اس سے گردہ خراب ہو جاتا ہے۔
سِنان نے بوتل ہلاتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ اچھالی۔
تیرے اُس شراب سے تو یہ بہتر ہے۔ میں تو کہتا ہوں تُو بھی پیا کر۔
زیدان نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
پِلا۔
سِنان نے ناگواری سے اپنا بوتل والا ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔
ابے چل نکل… اپنا پی مانگنا کر۔
بھوکّا سالا۔
دیکھو تو ذرا بول کون رہا ہے۔ سنان نے فوراً طنز کیا۔۔۔
زیدان نے موضوع بدلتے ہوئے سنجیدہ لہجہ اختیار کیا۔
چپ سے بتا… کیا ڈیٹیل ہے؟
سِنان کا چہرہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
تیرے بھائی کی کمپنی ڈوب چکی ہے۔
زیدان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کیا؟ کیوں؟ کیسے؟
سِنان نے کندھے اچکائے۔
مجھے کیا معلوم۔ حالات بہت خراب چل رہے ہیں۔ کسی کی سخت نظر ہے تیرے بھائی کے آفس پر۔
کس کی؟
یہ پتا نہیں کرنے کا بولا تھا تُو نے۔
زیدان نے جھنجھلا کر کہا، ابے جو بولوں گا صرف وہی کرے گا؟ کبھی اپنے دماغ سے بھی کچھ کر لیا کر۔
سِنان نے فوراً ہاتھ اٹھایا۔ نو… نیور۔
زیدان نے گہری سانس لی۔ پتا لگا کون ہے۔
سِنان نے بوتل میز پر رکھتے ہوئے آنکھیں سکیڑیں۔
اب پیسے لگیں گے۔
زیدان نے گھورا۔ چماٹ دوں؟
چماٹ نہیں… پیسے۔
نکل جا… اور پتا کر کون کر رہا ہے یہ سب۔
سِنان کرسی پر پھیل گیا۔۔او بھائی، مجھے کیا ملے گا؟
زیدان نے خشک لہجے میں کہا، فُٹّی کوڑی ملے گی۔ ویسے بھی تُو کام صحیح نہیں کرتا۔
سِنان نے فوراً اعتراض کیا۔
ابے کیا کام صحیح نہیں کیا؟ سب صحیح کیا ہے میں نے۔ تیرا بھائی تجھے برباد کرنا چاہتا ہے… اور تیرے بھائی کو کوئی اور برباد کرنا چاہتا ہے۔
زیدان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو پرانا یقین جھلکا۔
میں نے تجھے اُن دنوں بھی بتایا تھا…
سِنان جھکا۔ کیا؟
اسوان بھائی… مجھے نہیں مار سکتے۔
سِنان نے بھنویں اٹھائیں۔ کیوں؟
زیدان نے آہستہ مگر پختہ لہجے میں کہا،
کیونکہ میں اُن کا بھائی ہوں۔
سنان سنجیدہ ہُوا۔۔۔
ارے بھائی ہی بھائی کو تو مارتا ہے… ایسا ہی ہوتا ہے۔
زیدان نے جھنجھلا کر ہاتھ ہلایا۔
ابے نکل… اپنا ٹاکسک سا دماغ لے کر دفع ہو جا یہاں سے۔
سِنان نے بوتل اُٹھاتے ہوئے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ٹاکسک دماغ نہیں… حقیقت پسند دماغ۔
زیدان نے سِنان کو دیکھا۔
حقیقت پسند دماغ نہیں… سڑا ہوا دماغ ہے تیرا۔
سِنان نے بنا برا مانے بوتل کا ڈھکن کھولا اور ایک گھونٹ لے کر بولا،
ہاں ہاں، مجھے پتا ہے… تیرا سڑا ہوا دماغ ہے۔
زیدان نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے گھورا۔ میرا؟
سِنان نے بےنیازی سے کندھے اُچکائے۔
ہاں اور کیا… تیرے باپ کا ہے کیا؟
زیدان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو چنگاری سی لپکی، مگر اگلے ہی پل اُس نے سرد لہجے میں جواب دیا،
ہاں… میرے باپ کا دماغ تو ہے سڑا ہوا۔
سِنان چونکا۔ اُسے شاید اس جواب کی توقع نہیں تھی۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے مصنوعی انداز میں سینے پر ہاتھ رکھا اور ڈرامائی لہجے میں گایا،
ہائے دل پہ زخم کھائے ہیں… پھر بھی مسکرائے ہیں…
زیدان نے گھور کر دیکھا۔..
ڈراما مت کر… جلدی سے پتا لگا۔
++++++++++++
زَرا تیز قدموں سے کمرے میں داخل ہوئی۔ دروازہ اُس نے ضرورت سے کچھ زیادہ زور سے بند کیا۔ دل میں غصہ اُبال کھا رہا تھا۔
کیسا منحوس انسان ہے یہ اسوان… وہ بڑبڑائی اور فوراً موبائل اُٹھا کر زرتاشہ کو کال ملا دی۔
چند منٹ میں اُس نے سارا واقعہ نمک مرچ لگا کر سنا دیا۔ ہر جملے میں چڑچڑا پن، ہر لفظ میں غصہ۔
وہ سچ میں سَنکی ہے… سَنکی! اُس نے کال بند کرتے ہوئے آخری فیصلہ سنایا۔
موبائل ابھی اُس کے ہاتھ میں ہی تھا کہ اسکرین جگمگا اُٹھی۔ دائم کالنگ… وہ چونکی۔
کتنے دنوں بعد اُس کی کال آئی تھی۔ پچھلے کچھ عرصے سے وہ غائب تھا۔ نہ میسج، نہ کال۔ اور آج اچانک…
زَرا نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر فوراً کال ریسیو کر لی۔
خیریت؟ اتنے دن کہاں غائب تھے؟ اُس کے لہجے میں لاپروائی تھی،
دوسری طرف ہلکی سی ہنسی گونجی۔
کیوں؟ میری یاد آ رہی تھی کیا؟
زَرا نے آنکھیں گھمائیں۔
نہیں، میں شکر ادا کر رہی تھی کہ سکون ہے۔
اچھا؟ میں تو یہاں انتظامات کر رہا تھا۔ دائم کی آواز میں شرارت تھی۔
کس چیز کے انتظامات؟
پاکستان واپس آنے کے۔
زَرا ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی۔
پاکستان کیوں آنا ہے؟
اپنا سامان لینے۔ بھول گئی جو جو وہاں رہ گیا ہے؟ سب واپس لینے آؤں گا۔ میری ساری چیزیں سنبھال کر رکھنا۔
زَرا نے ہنکارا بھرا۔
دائم، میں تمہیں آخری بار بتا رہی ہوں۔ یہاں تمہارے فون چارجر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
نہیں… اور بھی چیزیں ہیں۔
نہیں ہیں!
ہوں گی۔ ذرا ڈھونڈ کر دیکھو تو سہی…
وہ تنگ آ کر بولی، تم اپنا علاج کیوں نہیں کرواتے؟
دائم نے فوراً جواب دیا،
پاکستان آؤں گا نا تمہارے پاس، کروا دینا میرا علاج۔
زَرا نے ماتھا پیٹ لیا۔ فون رکھو، میں بزی ہوں۔
ارے یار، کیسی لڑکی ہو؟ تھوڑی دیر مجھ سے بات کر لو گی تو کیا ہو جائے گا؟
زیادہ کچھ نہیں ہوگا… بس تمہارے ساتھ ساتھ میں بھی پاگل ہو جاؤں گی۔
تو ہو جاؤ نا…
جی نہیں، مجھے پاگل ہونے کا کوئی شوق نہیں ہے!
پاگل کو سنبھالنے کا ہے؟
وہ بھی نہیں!
لیکن بچوں کو سنبھالنے کا تو بہت شوق ہے…
زَرا نے فوراً کہا،
تم بچے نہیں ہو۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد دائم کی آواز آئی،
ایک منٹ… تمہیں کیسے پتا میں اپنی بات کروں گا؟
زَرا کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ آ گئی، مگر اُس نے آواز میں سختی برقرار رکھی۔
کیونکہ تم پاگل ہو۔ پاگلوں جیسی ہی باتیں کرتے ہو۔ جانتی ہوں میں تمہیں اچھی طرح۔
دائم کی ہنسی گہری ہو گئی۔
یہ تو اور بھی اچھی بات ہوئی…
کیا اچھی بات؟
یہی کہ تم مجھے جانتی ہو۔
زَرا پھر فوراً چیڑ گئی۔۔ پاگل… فون رکھو!
اچھا، میں بھی تمہیں جانتا ہوں…
جانتے رہو، مجھے کیا… اور اُس نے جلدی سے کال کاٹ دی۔
پاگل کہیں کا۔۔۔ وہ غصے سے بڑبڑائی۔۔۔
++++++++++++
زیدان سِنان سے ملنے کے بعد سیدھا گھر آیا۔
رات کے تقریباً گیارہ بج چکے تھے۔ گھر غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
پریشے کب کی اپنے گھر جا چکی تھی…
زیدان تیز قدموں سے اسوان کے کمرے کی طرف بڑھا اور بغیر دستک دیے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔
وہ ہمیشہ سے ایسے ہی کرتا تھا۔۔۔
کمرے میں اسوان کے ساتھ یُمنہ بھی موجود تھی۔
یُمنہ نے فوراً ناگواری سے کہا، ناک کر کے آیا کرو۔
زیدان نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس ہاتھ کے اشارے سے اُسے باہر جانے کا کہا۔
یُمنہ نے حیرانی سے پہلے زیدان کو دیکھا، پھر اسوان کی طرف۔
اسوان نے ہلکا سا سر ہلا کر اُسے جانے کا اشارہ کیا۔
یُمنہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو… مگر پھر خاموشی سے مڑ کر کمرے سے نکل گئی۔
زیدان نے اُسے خاموشی سے جاتے دیکھا۔۔۔ اور بےساختہ اُسے پریشے یاد آ گئی۔ اگر وہ یہاں ہوتی… تو ہرگز اس طرح چپ چاپ نہ جاتی۔ دس سوال کرتی۔
کیوں؟ کیا ہوا؟ مجھ سے کیوں چھپا رہے ہیں؟ میرے سامنے بات نہیں ہو سکتی کیا؟
اُس کا بھی الگ انداز تھا اُس کا بھی الگ نیچر تھا۔۔۔
زیدان نے ناگواری سے سر جھکٹا۔۔۔
اور سرد لہجے میں بولا۔۔۔
تم مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو… بھائی؟
اسوان کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔
دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟
جو پوچھا ہے اُس کا جواب دو۔
اسوان کا لہجہ سخت ہو گیا۔
زیدان… تھپڑ مار دوں گا میں تمہیں۔ فضول بکواس مت کرو۔
بکواس نہیں کر رہا میں۔ زیدان کی آواز غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھی۔
تم مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو؟
اسوان ایک قدم آگے بڑھا۔
میں تمہیں کیوں مارنا چاہوں گا؟ پاگل ہو گئے ہو کیا؟
جائیداد کے لیے۔
ہاں، تمہارے پاس جیسے بہت جائیداد ہے۔
تو کیا نہیں ہے؟
بالکل نہیں ہے۔ جو کچھ ہے، میرا ہے۔ کمپنی میری ہے… یہ گھر بھی میرے نام پر ہے۔ رہی بات دادا کی پراپرٹی کی… اُس میں سے پہلے ابّا اور چچا کا حصہ نکلے گا، پھر دونوں پھپھوؤں کا۔ جو ابّا کے حصے میں آئے گا، اُس میں سے پچاس فیصد تمہارا ہو گا۔ بس۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور اس سے کہیں زیادہ پراپرٹی میرے پاس ہے۔
زیدان نے گہری نظر سے اُسے دیکھا۔
پھر کیوں مارنا چاہتے ہو تم مجھے؟
اسوان نے پیشانی مسلی۔
آج پھر پی کر آئے ہو؟
نہیں۔ میں سنجیدہ ہوں۔
میں تمہیں کیوں ماروں گا؟ دماغ صحیح ہے تمہارا؟
جھوٹ مت بولو۔
اسوان کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔
زیدان نے بات جاری رکھی،
ولیمے کے دن سے کوئی میرے پیچھے لگا ہوا ہے۔ ہر تین چار دن بعد مجھ پر حملہ ہوتا ہے۔ کوئی مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے۔
اسوان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ کون؟
زیدان نے بغیر پلک جھپکائے کہا، تم۔
چند لمحوں کے لیے کمرے کی فضا منجمد ہو گئی۔
اسوان نے دانت بھینچے۔
میں چاہوں تو تمہارا گلا ابھی دبا سکتا ہوں۔ تمہارے سامنے… اور کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پھر مجھے حملہ کروانے کی کیا ضرورت نہیں ہے۔
زیدان نے سرد لہجے میں کہا،
ہاں، وہی تو پوچھ رہا ہوں پھر… کون ہے؟
مجھے نہیں معلوم۔ پتا لگاؤ۔
پتا کیا ہے میں نے۔ زیدان کی آواز بھاری ہو گئی۔
نام آ رہا ہے… اسوان۔
اسوان چونکا۔ تو کوئی پھانسنا چاہتا ہے مجھے۔
زیدان نے سر ہلایا۔ نہیں… ہمارے بیچ لڑائی لگوانا چاہتا ہے۔ کوئی مجھ سے جلتا ہے۔
اسوان نے تمسخر سے کہا، تم سے کون جلے گا؟
زیدان کے ہونٹوں سے ایک نام نکلا، ارسم۔
اسوان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ کیا؟
ہاں، ارسم جلتا ہے مجھ سے۔
وہ کیوں جلے گا تم سے؟ اسوان نے سوال کیا۔۔۔
زیدان نے نظریں گہری کر لیں۔
کیونکہ اُسے جو چاہیے تھا… وہ سب میرے پاس ہے۔
مطلب؟
زیدان نے طنزیہ انداز میں کہا، مطلب مجھے نہیں پتا۔ دماغ خود تمہارے پاس نہیں ہے اور مجھے کہتے ہو۔ تھوڑا سا دماغ استعمال کرتے تو یہاں نہ ہوتے۔
اسوان کا صبر جواب دینے لگا۔ تو کہاں ہوتا؟
ارسم کے گھر۔ جا کر حساب لو اُس سے۔ نہیں تو میں پہنچ گیا تو بہت برا ہو جائے گا۔
اسوان نے سنجیدگی سے پوچھا، ارسم تمہیں کیوں مارنا چاہے گا؟
زیدان دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا، وہ ارسم سے ہی پوچھ لینا۔ وہ بتا دے گا۔
اسوان نے پیچھے سے کہا، پاگل ہو تم۔
لیکن زیدان نے سنا ہی نہیں… وہ دروازہ زور سے بند کر کے نکل گیا۔
کمرے میں ایک لمحے کو مکمل خاموشی چھا گئی۔
اسوان وہیں کھڑا رہ گیا۔
ارسم کیوں جلے گا… زیدان سے؟
یہ سوال اُس کے ذہن میں بار بار گونجنے لگا۔
وہ آہستہ سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں الجھ گئیں۔
ارسم…
اسوان نے پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔
کیا کائنات کی وجہ سے…؟
یہ خیال آتے ہی اُس کا دل ایک لمحے کو دھڑکا۔
لیکن اگلے ہی لمحے اُس نے خود ہی اسے رد کر دیا۔
اگر ایسا ہوتا تو وہ اس حوالے سے مجھ سے بات کرتا…؟
ارسم ہمیشہ ہر معاملے میں سیدھا اُس کے پاس آتا تھا۔
ہر چھوٹی بڑی بات..
اسوان بھائی یہ کرو… وہ کرو…
یہ نہیں ہو رہا… وہ مسئلہ آ گیا…
وہ کبھی گھما پھرا کر بات کرنے والا انسان نہیں تھا۔
وہ تو اسوان کو اپنا بڑا بھائی مانتا تھا۔۔۔نہ اُس سے کوئی بات چھپاتا تھا۔۔۔
پھر یہ سب خفیہ حملے؟
پیچھے سے وار؟ وہ زیدان کو کیوں مارنا چاہے گا۔۔
نہیں ارسم ایسا نہیں تھا۔۔۔
نہیں… یہ اُس کا طریقہ نہیں تھا۔
اسوان نے گہری سانس لی۔
مگر اگر ارسم نہیں…
تو پھر کون؟
ایک مسئلہ حل ہوا نہیں تھا کہ دوسرا آ کھڑا ہوا تھا اُس کے پاس۔
زندگی جیسے اُس کے لیے کسی قطار میں کھڑی مصیبتوں کا نام بن گئی تھی….
ایک ختم ہوتی تو دوسری دروازہ کھٹکھٹا دیتی۔
گھر کا سکون ٹوٹ چکا تھا۔
پریشے جا چکی تھی۔
زیدان کو کوئی مارنا چاہتا تھا۔۔۔
یُمنہ واپس آ چکی تھی۔
اور اب کمپنی کے حالات بھی ڈانواں ڈول تھے۔
ہر طرف سے جیسے دیواریں سکڑ رہی تھیں۔
اور اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب وہ کیا کرے۔۔۔؟
++++++++++
وہ ابھی اسوان کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف جا ہی رہا تھا کہ نیچے سیڑھیوں کے پاس سے آواز آئی۔
بیٹا… بات سنو۔
آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر اُس ٹھہراؤ کے پیچھے ہلکی سی بےچینی بھی چھپی ہوئی تھی۔
زیدان رُکا۔ نیچے دیکھا۔
مریم بیگم سیڑھیوں کے قریب کھڑی تھیں۔
وہ خاموشی سے نیچے اُتر آیا۔
جی… بولیں؟
یہاں نہیں… میرے کمرے میں چلو۔
زیدان نے مختصر سا سر ہلایا۔
چلیں۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی مریم بیگم نے دروازہ آہستہ سے بند کیا۔ جیسے بات دیواروں سے بھی چھپانی ہو۔
چند لمحے وہ اُسے دیکھتی رہیں، پھر بولنا شروع کیا۔
تم تو جانتے ہو نا… کائنات ڈاکٹر بن رہی ہے؟
زیدان نے بےنیازی سے جواب دیا،.ہاں تو؟
تو اب یونیورسٹی جائے گی…
ہاں۔ اُس کا لہجہ اب بھی سپاٹ تھا۔
مریم بیگم نے گہری سانس لی۔.وہ نہیں جا رہی۔
زیدان کی نظریں پہلی بار ٹھہریں۔.کیوں؟
کیونکہ وہ نہ تم سے، نہ اسوان کے پیسوں سے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا چاہتی ہے۔
زیدان کے چہرے پر ہلکی سی شکن آئی۔
اُس نے اسکالرشپ کے لیے اپلائی کیا تھا… مگر اُس کے مارکس اتنے کم آئے کہ اُسے اسکالرشپ نہیں ملی۔
کمرے کی فضا اور سنجیدہ ہو گئی۔
جب میں نے اُس سے اُس کے پاپا کے بارے میں بات کی… تو وہ تایا ابّا کے پاس گئی تھی۔
پھر؟
مریم بیگم کی آواز دھیمی ہو گئی۔
پھر کیا… انہوں نے نہ جانے اُسے کیا کیا کہہ دیا۔ وہ واپس آئی تو بالکل خاموش تھی۔ اور اب کہہ رہی ہے کہ یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہی نہیں لے گی۔
زیدان کچھ لمحے خاموش کھڑا رہا۔
بیٹا… مریم بیگم کی آواز میں ماں والی نرمی آ گئی،
میں تمہیں یہ سب اس لیے بتا رہی ہوں کہ اُس کی بہت خواہش ہے۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔
ہاں… جانتا ہوں۔
بس اتنا کہہ کر وہ مڑ گیا۔
مریم بیگم اُسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئیں۔
اور زیدان…کمرے سے باہر نکل آیا۔
پتہ نہیں انہوں نے زیدان کو بتا کے صحیح کیا تھا یہ نہیں۔۔۔۔
++++++++++
ہمیشہ کی طرح فجر کی اذان ہوتے ہی کائنات کی آنکھ کھل گئی تھی۔ اذان کی وہ مدھم مگر روح کو چھو لینے والی صدا کمرے کی خاموشی میں رس گھول رہی تھی۔ کھڑکی کے پردوں سے چھن کر آتی ہلکی سی نیلگوں روشنی رات اور صبح کے بیچ کی سرحد کھینچ رہی تھی۔
کائنات نے نیم وا آنکھوں سے چھت کو دیکھا، کروٹ بدلی اور لحاف ذرا سا اور اوپر کھینچ لیا۔ نیند ابھی پوری طرح رخصت نہیں ہوئی تھی کہ اوپر سے زیدان کی آواز آئی..
اٹھو… نماز پڑھ لو۔
کائنات نے منہ دوسری طرف کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، مجھے نہیں پڑھنی…
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد زیدان کی سنجیدہ مگر نرم آواز گونجی، لیکن مجھے تو پڑھنی ہے۔
کائنات چونک کر اٹھ بیٹھی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت صاف جھلک رہی تھی۔ وہ پلٹ کر زیدان کی طرف دیکھنے لگی جو بستر کے کنارے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔
کیا؟ آپ کو نماز پڑھنی ہے؟
ہاں، کیوں؟ میں نماز نہیں پڑھ سکتا؟ اس کی آنکھوں میں عجیب سی سنجیدگی تھی۔۔
نہیں… وہ مطلب میرا… کیوں؟ کیسے؟ وہ الجھ گئی تھی۔
کہنا کیا چاہتی ہو؟ کیا میں نہیں پڑھوں نماز؟ اس نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھا۔
نہیں نہیں… پڑھیں نا… کائنات نے جلدی سے کہا
زیدان نے ہلکا سا سانس لیا۔
لیکن پڑھوں کیسے؟
کیا مطلب؟ پڑھنا نہیں آتا؟
آتا ہے… مگر کچھ کچھ سورتیں بھول گیا ہوں۔ اور رکوح میں کیا پڑھتے ہیں؟ اور سجدے میں۔۔؟؟ میں سب بھول گیا ہوں۔۔۔
کائنات نے چند لمحے اسے دیکھا۔ اسے پہلی بار یوں اعتراف کرتے دیکھ کر دل میں انجانی سی نرمی اتر آئی۔
اچھا… تو یاد کر لیں۔
مجھے جلدی یاد نہیں ہوتا۔ اس نے بے بسی سے کندھے اچکائے۔
تو پھر؟
زیدان نے اس کی طرف ذرا جھک کر کہا،
پھر ایسا کرو… تم بھی میرے ساتھ نماز پڑھو۔
کیوں؟ میرے نماز پڑھنے سے آپ کو یاد ہو جائے گا؟ اس نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
نہیں۔ تم ذرا اونچی آواز میں سورت پڑھنا… میں تمہارے ساتھ ساتھ ریپیٹ کر لوں گا۔
کائنات چند لمحے ساکت بیٹھی رہی، پھر آہستہ سے بولی، اچھا… سچ میں؟ واقعی؟
اس کی آنکھوں میں چمک ایسی تھی جیسے کسی بچے کو برسوں بعد اپنی پسندیدہ چیز مل گئی ہو۔
زیدان نے نظریں چرا لیں۔
ہاں، واقعی۔ اب اٹھو بھی… اذان ختم ہونے والی ہے۔
کائنات جلدی سے بستر سے اتر گئی۔ وضو کے لیے جاتے ہوئے اس کے قدموں میں عجیب سی ہلکی سی خوشی تھی۔
چند منٹ بعد دونوں جائے نماز پر کھڑے تھے۔ کمرے کی خاموشی میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔ زیدان نے تکبیر کہی تو کائنات کے دل میں عجیب سی لرزش دوڑ گئی۔
اللہ اکبر…
وہ اس کے پیچھے ساتھ کھڑی تھی، مگر آج اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اکیلی نہیں رہی۔
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے اس کی آواز ہلکی سی کانپ رہی تھی، مگر وہ جان بوجھ کر ذرا بلند پڑھ رہی تھی۔ زیدان اس کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ دہرا رہا تھا۔ کچھ الفاظ پر وہ رک جاتا، کائنات بے اختیار آہستہ سے صحیح لفظ دہرا دیتی۔
نماز مکمل ہوئی تو دونوں کچھ دیر یونہی بیٹھے رہے۔ کھڑکی سے آتی روشنی اب ذرا تیز ہو چکی تھی۔
زیدان نے جائے نماز تہہ کرتے ہوئے دھیرے سے کہا،
تم نے نماز پڑھنا کیوں چھوڑ دیا تھا، کائنات…؟
اس کا لہجہ نرم تھا، مگر سوال گہرا۔
کائنات کے نماز تہہ کرتے ہاتھ روک گئے۔۔۔
اس نے نظریں جھکا لیں۔ چند لمحے وہ کچھ بول نہ سکی، جیسے الفاظ حلق میں اٹک گئے ہوں۔
پھر بمشکل لب کھولے۔۔۔
کیونکہ میں اللہ سے خفا ہوں…
زیدان کا ہاتھ وہیں رک گیا۔ خفا…؟
ہاں… خفا۔
اللہ سے بھی کوئی خفا ہوتا ہے؟ اس نے دھیرے سے پوچھا،
کائنات نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ ہوتا ہے… جب وہ آپ سے وہ سب چھین لے جس کے لیے آپ نے اس سے دعائیں مانگی ہوں۔ جب وہ آپ کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے جہاں ہر راستہ بند لگے۔ جب آپ کو لگے کہ آپ کی سنی ہی نہیں جا رہی… اس کی آواز لرزنے لگی تھی۔ میں نے بہت مانگا تھا، بہت۔ میں نے بہت دل سے مانگا تھا۔۔ بہت رو رو کر مانگا تھا۔۔ لیکن اللّٰہ نے میری دعائے نہیں سنی۔۔
وہ لمحہ بھر کو رکی، پھر جیسے برسوں کی تلخی ایک جملے میں سمٹ آئی۔۔۔
پھر اب میں بھی اللّٰہ کی نہیں سنو گی۔۔۔
زیدان نے اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر غصہ نہیں تھا، صرف گہری سنجیدگی۔
تم سمجھتی ہو… تم نے نماز چھوڑ کر اللہ کو سزا دی ہے؟
کائنات نے لب بھینچ لیے۔
میں نے بس… خود کو بچایا ہے۔ ہر سجدہ مجھے یاد دلاتا تھا کہ میری دعا رد ہو گئی۔
اور یہ کس نے کہا کہ وہ رد ہو گئی؟
وہ چونکی۔ اگر قبول ہوتی تو پوری ہو جاتی۔
زیدان نے آہستہ سے سر ہلایا۔
ہم دعا کو قبولیت سے جوڑ دیتے ہیں… اور قبولیت کو اپنی مرضی سے۔ جبکہ قبولیت کبھی کبھی ’نہ ملنے‘ کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔
کائنات نے الجھن سے اسے دیکھا۔ یہ کیسی قبولیت ہوئی؟
ہم اپنی محدود سوچ سے فیصلے کرتے ہیں۔ وہ مکمل علم سے کرتا ہے۔ ہم ایک لمحہ دیکھتے ہیں، وہ پوری زندگی دیکھتا ہے۔۔۔
کائنات نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
پوری زندگی…؟ اس کے لہجے میں تھکن تھی۔
میری پوری زندگی تو اسی ایک لمحے میں رک گئی تھی،
زیدان نے پہلی بار اس کے درد کی شدت کو اتنے واضح لفظوں میں سنا تھا۔ وہ چند لمحے خاموش رہا، جیسے الفاظ چن رہا ہو۔
کبھی کبھی۔۔۔ وہ آہستہ سے بولا،
اللہ ہمیں وہ نہیں دیتا جو ہم مانگ رہے ہوتے ہیں… کیونکہ وہ ہمیں اُس سے بڑی آزمائش سے بچا رہا ہوتا ہے جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔۔
یا پھر… کائنات کی آواز بھاری ہو گئی، وہ ہمیں اُس چیز کے قابل ہی نہیں سمجھتا۔
ایسا مت کہو۔ زیدان کا لہجہ پہلی بار ذرا سخت ہوا۔
اللہ محروم نہیں کرتا… وہ محفوظ رکھتا ہے۔ فرق صرف نیت کا نہیں، نتیجے کا بھی ہوتا ہے۔
کائنات کے ہونٹ کانپ گئے۔ اگر محفوظ رکھنا تھا… تو پھر اتنا خالی کیوں کر دیا مجھے؟ یہ سوال شکوہ نہیں تھا… اعتراف تھا۔
میں یہ سب جانتی ہوں۔۔ کہ جو دعائیں ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتی، تو وہ اللہ پوری نہیں کرتا مُجھے معلوم ہے لیکن۔۔ اگر مُجھے صاف صاف اپنی آنکھوں سے نظر آرہا ہے، کہ وہ دعا میرے حق میں بہتر تھی اگر نہیں بھی تھی تو بہتر بنا کر دیتے۔۔؟ لیکن اللّٰہ نے کیا کیا میرے ساتھ؟؟ اُس نے مجھے وہ دے دیا جس کا سب سے زیادہ خوف تھا میرے دل میں جو مُجھے نہیں چاہیے تھا۔۔۔ میں آخری آخری لمحہ تک اللّٰہ سے دعا مانتی رہی۔۔ لیکن اللّٰہ نے نہیں سنی میری۔۔۔
زیدان اُس کی بات سُن رہا تھا۔۔۔ پھر اُس کی بات سنتے سنتے حیران ہوا پھر۔۔۔ زیدان کی آواز آئی، بہت دھیمی، مگر سیدھی اس کے دل پر لگتی ہوئی۔ تم… میری بات کر رہی ہو؟
وقت جیسے ایک لمحے کے لیے ٹھہر گیا۔
کائنات کی سانس رک سی گئی۔ اس نے آہستہ آہستہ سر اٹھایا۔ پھر واپس سے جُھکا لیا۔۔ کائنات کے لب ہلے مگر آواز نہ نکلی۔
چند لمحے دونوں کے درمیان صرف سانسوں کی آواز تھی۔
جس سب سے زیادہ خوف تھا تمہارے دل میں…
زیدان نے آہستہ سے کہا، وہ میں تھا؟
کائنات نے نظریں جھکا لیں۔
خاموشی کبھی کبھی اقرار سے زیادہ واضح ہوتی ہے۔
زیدان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی۔۔
تم اللہ سے اس لیے خفا ہو… کیونکہ اُس نے تمہیں میرے ساتھ باندھ دیا؟
ایسا مت کہیے… کائنات کی آواز کانپ گئی۔
اس نے ہمت کر کے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں پانی تھا۔۔۔
وہ کچھ بولنے لگی۔۔ کہ زیدان جہانِ نماز اٹھا کر اُٹھ کھڑا ہُوا۔۔۔
میری بات تو سنائیں۔۔۔ وہ بھی جلدی سے جہانِ نماز سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
لیکن اُس نے سنا نہیں۔۔۔ وہ روم سے تیزی سے نکل گیا۔۔
+++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
