Taqdeer e Azal Episode 31 written by siddiqui

تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی..)

قسط نمبر ۳۱

وہ اُس کے پیچھے بھی گئی تھی…
مگر جیسے ہی وہ کمرے سے نکلا، راہداری کی مدھم روشنی میں اُس کا سایہ چند لمحوں کو دیوار پر ابھرا… اور پھر غائب ہو گیا۔
ایسا لگا جیسے وہ گھر سے نہیں، اُس کی زندگی سے نکل گیا ہو۔
کائنات سیڑھیوں تک آئی تھی۔ نیچے جھانکا بھی تھا۔ صحن خاموش تھا۔ دروازہ بند تھا۔ گیراج میں گاڑی موجود تھی۔
وہ کہیں گیا نہیں تھا۔
پھر بھی… تھا نہیں۔
وہ واپس کمرے میں لوٹ آئی۔
کائنات نے بستر کے کنارے بیٹھ کر انتظار شروع کیا۔
پہلے اُس نے خود کو سمجھایا…
پھر گھڑی کی سوئیاں دیکھتی رہی۔
دس منٹ۔
پندرہ۔
آدھا گھنٹہ۔
دل میں ہلکی سی چبھن اُٹھی۔
وہ اُٹھی، دروازہ کھولا، راہداری میں جھانکا۔ خاموشی۔
وہ واپس آ کر بستر پر لیٹ گئی۔
مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
اُسے یاد آیا….
جب وہ پہلی بار اس کمرے میں آئی تھی، تو اُسے زیدان کی غیر موجودگی سے سکون ملتا تھا۔
آج… اُسی غیر موجودگی سے بےچینی ہو رہی تھی۔
کتنا عجیب ہے انسان۔ جس سے ڈرتا ہے،
کب اُس کی عادت بن جائے، پتا ہی نہیں چلتا۔
دروازہ بند تھا۔
روشنی مدھم تھی۔ وہ کروٹ بدلتی رہی۔
وہ سوچ رہی تھی۔۔۔ اگر اُسے اس کی بات بری لگی تو غصّہ کیوں نہیں کیا۔۔۔ بات بھی بھی سنی۔۔۔
کائنات نے آنکھیں بند کیے سوچا۔
اگر وہ چیخ دیتا… ڈانٹ دیتا… تو شاید دل ہلکا ہو جاتا۔ لیکن وہ ایسے خاموشی سے چلا گیا۔۔۔
مگر اُس کی وہ سنجیدہ آنکھیں…
میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔۔۔
یہ سب اُس کے دل پر آہستہ آہستہ اتر رہا تھا۔
کیا وہ واقعی بدل رہا تھا؟
جو بھی تھا اُسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔ لیکن انہوں نے تو یہ بات پہلے ہی پتہ تھی۔ کہ میں ڈرتی ہوں اُن سے۔۔ وہ جانتا بھی تھے۔۔۔ تو پھر ابھی میں نے کہہ دیا تو کیوں برا مان گئے۔۔۔
آنکھیں بھیگ گئیں۔
آخرکار، تھکن نے اُس کے پلکوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
وہ اُس کا انتظار کرتے کرتے سو گئی۔
دروازہ بند ہی رہا۔
اور رات…خاموشی سے گزر گئی۔۔۔

++++++++

کائنات کی آنکھ بہت دیر سے کھلی۔
کمرے میں ہلکی سی دھوپ پردوں سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔ چند لمحوں تک وہ ساکت پڑی رہی… جیسے یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو کہ رات کہاں ختم ہوئی تھی۔
وہ کب آیا؟
دروازہ کب کھلا؟
وہ اُس کے برابر آ کر کب لیٹا؟
اُسے کچھ معلوم ہی نہ ہوا۔
اُس نے آہستہ سے سر موڑ کر دیکھا۔
زیدان اُس کے برابر میں پُرسکون سو رہا تھا۔
کائنات خاموشی سے بستر سے اُتری۔
دل میں ہلکی سی راحت بھی تھی…
کہ وہ آیا تھا۔
کہ وہ گیا نہیں تھا۔
وہ واش روم کی طرف بڑھی ہی تھی کہ اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑی…
اور اُس کے قدم وہیں جم گئے۔
میز پر شراب کی کئی بوتلیں بکھری ہوئی تھیں۔
کچھ خالی۔ کچھ آدھی۔ ایک کا ڈھکن کھلا ہوا۔
کائنات کی آنکھیں پھیل گئیں۔
ابھی کچھ دیر پہلے اُس نے نماز پڑھی تھی۔
اور اب یہ؟
اُس کے اندر جیسے ایک دم سے آگ بھڑک اٹھی۔
یہ کیا ہے…؟ اُس کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا۔
نظر بےاختیار زیدان کی طرف گئی۔
وہ اُسی سکون سے سو رہا تھا۔ جیسے اُسے دنیا کی کوئی فکر نہ ہو۔
کائنات کے اندر کا ضبط ٹوٹنے لگا۔
کیا یہی تھا اُس کی خاموشی کا مطلب؟
کیا وہ رات بھر یہ سب کرتا رہا؟
اُسے اُس کی فجر کر وقت کی باتیں یاد آئیں۔
وہ سنجیدگی۔ وہ ٹھہراؤ۔ وہ گہرا لہجہ۔
اور اب یہ منظر۔۔
جیسے کسی نے اُس کے یقین پر تیز دھار رکھ دی ہو۔
وہ تیزی سے آگے بڑھی اور ایک بوتل اٹھا لی۔۔۔

+++++++++++

زیدان کی نیم وا آنکھیں اچانک پوری طرح کھل گئیں۔
سامنے کا منظر دیکھ کر وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
کائنات بوتل سے شراب گلاس میں انڈیل رہی تھی۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر ارادہ مضبوط لگ رہا تھا۔
گلاس ابھی اُس کے ہونٹوں تک پہنچا بھی نہ تھا کہ زیدان تیزی سے آگے بڑھا اور اُس کے ہاتھ سے گلاس چھین لیا۔
کچھ قطرے قالین پر گر گئے۔
یہ کیا کر رہی تھیں تم؟! اُس کی آواز غصّے اور حیرت سے بلند ہوئی۔
پاگل ہو گئی ہو؟!
کائنات کی آنکھیں سرخ تھیں۔
ہاں، ہو گئی ہوں پاگل… اُس نے جھٹکے سے جواب دیا۔
تمہیں پتا ہے یہ زہر ہے… زہر… وہ چیخا
اچھا؟ جب آپ پی سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟
زیدان کا جبڑا بھنچ گیا۔ میں پی سکتا ہوں… تم نہیں۔
کیوں؟ اُس نے فوراً سوال کیا۔
آپ بھی انسان ہیں اور میں بھی، جب آپ پی سکتے ہیں تو میں بھی پی سکتی ہوں۔۔۔
وہ میز کی طرف بڑھی اور دوسری بوتل اٹھا لی۔
اس بار زیدان نے اور بھی تیزی سے اُس کے ہاتھ سے بوتل چھین لی۔
دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا؟! اُس نے بوتل زور سے میز پر رکھ دی۔
کائنات کی آنکھوں میں آنسو آگئے، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ ہاں ہو گیا ہے…
وہ پھر ایک اور بوتل کی طرف بڑھی مگر اس بار زیدان نے اُس کے دونوں ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیے۔
کیوں نہیں پینے دے رہے؟
کہا نا یہ زہر ہے….اُس نے دانت بھینچ کر کہا۔
آپ بھی تو پیتے ہیں نا…
وہ ایک ہی جملہ دہرا رہی تھی، جیسے دل میں اٹکی ہوئی ساری تکلیف اسی ایک سوال میں سمٹ آئی ہو۔
جب آپ پی سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں…؟
زیدان نے دانت بھینچے..میں پی سکتا ہوں… مجھے عادت ہے۔
مجھے بھی ہو جائے گی۔
وہ چونکا۔ کیا؟
کائنات نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔
مگر زیدان نے اور مضبوطی سے پکڑ لیا۔
عادت…
چند لمحوں کو زیدان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔
جو میں کروں گا وہی تم کرو گی؟ زیدان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو درد ابھرا۔
مجھے نہیں پتا… وہ سسکی، لیکن جب آپ پی سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؟
وہ اُس کی گرفت سے ہاتھ چھڑا کر پھر بوتل کی طرف بڑھی…
اچھا… زیدان کی چیخ کمرے میں گونجی۔
نہیں پی رہا میں! نہیں پیوں گا…
کائنات وہیں رک گئی۔
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ خاموشی سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
نہیں پیوں گا میں… اُس نے قدرے دھیمی آواز میں کہا، اب خوش؟
کائنات نے کچھ نہیں کہا۔
بس آنکھوں سے واش روم کی طرف اشارہ کیا۔
کیا؟
وہ بدستور اُسے دیکھتی رہی۔
چند لمحے بعد زیدان نے ہار مان لینے والے انداز میں سر جھکا دیا۔
اچھا…
وہ میز پر رکھی ساری بوتلیں سمیٹنے لگا۔ ساری بوتلیں سمیٹ کر واش روم کی طرف بڑھا۔
کائنات بھی اُس کے پیچھے چلی آئی۔
دروازے کے پاس خاموش کھڑی ہو گئی۔.
واش روم کی ٹھنڈی روشنی میں زیدان کا چہرہ اور زیادہ سخت دکھائی دے رہا تھا۔ مگر آنکھوں میں آنکھوں میں بےبسی تھی۔
زیدان نے ایک بوتل ہاتھ میں لی۔
کائنات کی طرف دیکھا۔
وہ آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اُسے دیکھ رہی تھی… نہ فتح کا غرور، نہ ضد… بس خوف کہ کہیں وہ مُکر نہ جائے۔
زیدان نے گہری سانس لی۔ آئینے میں خود کو دیکھا۔
چہرہ بکھرا ہوا۔ آنکھوں میں بےچینی۔
اس نے ڈھکن کھولا۔
شراب بیسن میں بہنے لگی۔
تیز بو واش روم میں پھیل گئی۔
وہ وقفے وقفے سے نظر اٹھا کر کائنات کو دیکھتا۔
وہ وہیں کھڑی تھی۔
ہر بوتل خالی ہوتی گئی۔
آخری بوتل ہاتھ میں تھی۔ زیدان نے ایک لمحہ توقف کیا۔ پھر وہ بھی بہا دی۔
نل کھولا۔ پانی بہتا رہا… جب تک بیسن میں باقی رہ جانے والی بو بھی مدھم نہ ہو گئی۔
زیدان نے آہستہ سے آئینے میں کائنات کی جھلک دیکھی۔
وہ اب بھی اُسے دیکھ رہی تھی۔

+++++++++++

صبح کے ٹھیک ایک بج رہے تھے۔
اور زارا ابھی تک گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔
اچانک موبائل کی مسلسل وائبریشن نے اس سکوت کو چیر ڈالا۔
زارا نے آنکھیں پوری کھولے بغیر ہی فون کان سے لگا لیا۔
السلام علیکم…
نیند میں بوجھل آواز سن کر دوسری طرف سے ہلکی سی ہنسی ابھری۔
کون؟ زارا نے اب قدرے ہوش میں آ کر پوچھا۔
ارے… دائم بات کر رہا ہوں۔
زارا نے آنکھیں کھول کر گھڑی دیکھی۔ ایک بج رہا تھا۔
اس وقت؟ وقت دیکھا ہے تم نے؟ اتنی صبح صبح کس لیے کال کر رہے ہو؟
سو رہی تھی؟ دائم کی آواز میں شرارت تھی۔
نہیں، جاگ رہی تھی۔ تہجد پڑھ رہی تھی۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔
اچھا پھر ٹھیک ہے… میں تو بس۔۔۔
دائم، انسان کے بچے بن جاؤ۔
انسان کا بچہ کیسے بنوں؟ میں تو اب جوان ہو چکا ہوں۔
زارا نے آنکھیں بند کیں اور گہرا سانس لیا۔ فون رکھو۔
میری بات تو سن لو۔
بولو۔
میں کہہ رہا تھا کہ بس میں آنے والا ہوں۔
تو آ جاؤ نا۔ مجھ سے اجازت کیوں لے رہے ہو؟
لیکن یہ ویزا نہیں لگ رہا۔ کتنا مشکل ہے…
زارا نے تکیہ پلٹا۔ لگے بھی نہ۔
کیوں نہ لگے؟ میں اپنا سامان واپس لینے نہیں آؤں؟
اب زارا سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ مجھے تم نے یہ بتانے کے لیے کال کی ہے کہ تمہارا ویزا نہیں لگا؟
نہیں… اور بھی گڈ نیوز ہے۔
کیا؟
میں یہاں پوری طرح سیٹل ہو چکا ہوں۔
تو میں کیا کروں؟ زارا جھنجھلا گئی۔۔۔
دائم نے ہلکا سا توقف کیا۔ تو یہ کہ… اب میں شادی کروں گا۔
ہاں تو کر لو۔ کس نے روکا ہے؟
آج ممی سے بھی کہہ دیا… اور گیس واٹ؟ وہ مان گئیں۔
بہت اچھی بات ہے۔ اب فون رکھو۔
یار، کیسی ظالم لڑکی ہو تم۔ اپنی بہن سے کچھ سیکھ لو۔ روز بات کرتی ہے وہ دعا سے۔ اور ایک تم ہو… بس فون رکھو، فون رکھو!
زارا کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ زرتاشہ؟
ہاں نا! جب سے دعا پاکستان سے گئی ہے، ان کی بڑی دوستی چل رہی ہے۔ روز ایک دو گھنٹے فون پر۔
زارا کی آنکھوں میں ہلکی سی حیرت اتری۔
اتنی دیر کیا باتیں کرتی ہیں؟
دائم نے ہنستے ہوئے کہا، وہی گرلز گوسپ… میک اپ، جیولری، کپڑے اور کیا!
اچھا…
اور ایک تم ہو۔ تھوڑی دیر بات نہیں کرتی۔ میں یہاں کال کرتا ہوں اور تم وہاں ’رکھو رکھو‘ شروع کر دیتی ہو۔ ایسا کوئی کرتا ہے بھلا؟
زارا نے آنکھیں موند لیں۔
تمہاری فضول باتیں نہیں سن سکتی میں۔
دائم کی آواز یکدم سنجیدہ ہو گئی۔
پھر دعا کرو کہ میرا ویزا لگ جائے۔ پھر نہیں کروں گا تنگ تمہیں۔
زارا کے لبوں سے بے اختیار نکلا،
واقعی؟ یا اللہ… آمین۔
دوسری طرف دائم مسکرایا۔
آمین… آمین۔
اب رکھو فون۔ لگ جائے گا تمہارا ویزا۔
پھر سے فون رکھو؟
دائم کی بات ابھی ہوا میں معلق ہی تھی کہ زارا نے کال کاٹ دی۔ اور موڑ کر دوبارہ سوگئی۔۔۔

+++++++++++

اسوان اس وقت اپنے آفس میں موجود تھا۔
ٹیبل پر فائلوں کا ڈھیر تھا… مگر اُس کی نظریں کسی ایک کاغذ پر ٹکی نہیں رہ پا رہی تھیں۔
مزید پیسوں کی ضرورت تھی۔.ایک اور فلیٹ بیچنا پڑے گا۔.اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو…؟
وہ دانت بھینچ کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔
اتنی محنت سے کھڑی کی گئی سلطنت…
کہیں اُس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل نہ جائے۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
سر… وہ…
اسوان نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا،
اب کیا مسئلہ ہو گیا، فواد؟
فواد کے چہرے پر عجیب سی گھبراہٹ تھی۔
سر… وہ… آپ کے بھائی آئے ہیں…
اسوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کون؟ زیدان؟ آفس میں؟ ایسے کیسے…؟
وہ فوراً کرسی سے اٹھا اور باہر نکل آیا۔
ریسپشن ایریا میں منظر کچھ اور ہی تھا۔
زیدان کاؤنٹر کی گھومنے والی کرسی پر بیٹھا تھا…
ہلکے ہلکے جھول کھا رہا تھا۔
کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی.. سیما، ایک طرف ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔ نظریں جھکی ہوئی۔
اسوان چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا۔
آج وہ معمول کا زیدان نہیں تھا۔
سیاہ پینٹ۔۔اُس پر سفید شرٹ۔ ٹائی اور کوٹ۔
بال سلیقے سے جمے ہوئے۔۔ہلکی سی تراشی ہوئی داڑھی۔۔وہ کسی فلم کا ہیرو لگ رہا تھا۔۔
گندمی رنگت پر وہ لباس جیسے خاص طور پر اُسی کے لیے بنا ہو۔
عام دنوں میں وہ بکھری شرٹ، کھلے بٹن، چین والی جینز اور جیکٹ میں نظر آتا تھا۔
مگر آج… اج وہ کچھ الگ ہی لگ رہا تھا۔۔۔
اُسے ایسے دیکھ کر اب تو واقعی دل ہار دینا بنتا تھا۔۔۔

تم کیا کر رہے ہو؟ اسوان نے سخت لہجے میں پوچھا۔
زیدان نے جھولا روکا نہیں۔ آنکھیں اٹھا کر بھائی کو دیکھا۔ دیکھ کے کیا لگ رہا ہے؟
اسوان کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فواد اُس کے قریب آ کر آہستہ سے بولا،
سر… اِنہیں سیما نے کہا تھا کہ ویٹنگ ایریا میں بیٹھیں… تو یہ اُس کی جگہ پر ہی بیٹھ گئے۔ اور کہا کہ میں کسی کے باپ کی نہیں سنتا…
اسوان نے گہری سانس لی۔
پھر زیدان کی طرف دیکھا۔
روم میں آؤ میرے۔
کیوں؟ زیدان نے بے نیازی سے کہا۔
نہیں۔ میں تمہارے روم میں نہیں آ رہا۔
تو یہاں بیٹھے رہو گے؟
نہیں۔ میرا اپنا روم دو مجھے۔ وہ اب کرسی سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اور پاور آف اٹارنی بھی۔ آج سے یہ آفس میں چلاؤں گا۔
اسوان کا رنگ بدل گیا۔ کیااا؟ دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟
ہاں۔ زیدان نے ٹائی درست کی۔
کیا تم نہیں چاہتے تھے کہ میں آفس آؤ؟ خود کہتے تھے۔ آفیس اؤ آفیس اؤ کام پے دھیان دو۔۔ اب آ گیا ہوں۔
اس وقت؟ اسوان کی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔
ابھی جاؤ گھر۔ جب معاملات سیٹل ہو جائیں تو آ جانا۔
ابھی۔ زیدان کا لہجہ سخت ہو گیا۔ بعد میں پھر کبھی نہیں۔
مت آؤ پھر! جاؤ گھر میں بیٹھو۔۔۔ اسوان نے غصے سے کہا
زیدان نے یکدم فواد کی طرف دیکھا۔ کیا نام ہے تمہارا؟
فواد ہکلا گیا۔ ج… جی… فواد…
ہاں فواد۔ اندر سے ساری فائلیں لا کر دو مجھے۔
زیدان۔۔۔ اسوان نے غصّے سے اُسے گھورا۔
زیدان کھڑا ہو گیا۔
تم جانتے ہو۔ زیدان جب ایک بار ارادہ کر لے… تو پھر کسی کا باپ بھی اُسے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔۔۔
اسوان نے آواز نرم کرنے کی کوشش کی۔
زیدان… کیوں پریشان کر رہے ہو مجھے؟
تمہیں آرام کی ضرورت ہے، بھائی۔ جاؤ۔ کھاؤ، پیو، بستر تان کر سو جاؤ۔ یہاں میں دیکھ لوں گا۔ اور اس کے پیچھے کون ہے… یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔
اسوان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو بےچینی جھلکی۔
میں دیکھ لوں گا…
ابھی میں بہت بزی ہوں۔ زیدان نے کلاک پر نظر ڈالی۔
مجھے کہیں اور بھی جانا ہے حساب کرنے… یہ کہہ کر آگے بڑھا۔۔۔ اسوان کے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے۔
فواد! ساتھ آؤ۔۔۔
فواد بے بسی سے اسوان کو دیکھتا رہا…
پھر مجبوراً زیدان کے پیچھے چل پڑا۔
اسوان وہیں کھڑا رہ گیا۔۔۔
وہ جانتا تھا۔۔ زیدان سنے والا نہیں تھا۔۔۔۔

++++++++++

مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں ارسم کا کیا کروں…
کل اُس نے مجھے اتنا شرمندہ کیا ہے نا کہ میں کیا بتاؤں…
زرتاشہ چونکی۔ اب کیا کیا اُس نے؟
آپ کا تو ٹھیک ہے، میں ہوتا ہوں تو سنبھال لیتا ہوں… لیکن کائنات؟
زرتاشہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔ کیا کیا اُس کے ساتھ؟
ہادی نے جبڑا بھینچا۔
اُسے پرپوز کر رہا تھا۔ ایک شادی شدہ لڑکی کو۔
ایک بات بتائیں… ہادی نے نظریں اُٹھائیں، آپ کو کس نے کہا تھا کہ کائنات ارسم کو پسند کرتی ہے؟
زرتاشہ کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
میں نے… اُس کی دعا سن لی تھی…
ہادی نے سر نفی میں ہلایا۔
کائنات ارسم کو پسند نہیں کرتی۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ وہ تو کہہ رہی تھی کہ وہ اُسے بھائی مانتی ہے۔
زرتاشہ کے ذہن میں جیسے دھماکہ ہوا۔
اگر وہ اُسے پسند نہیں کرتی…
تو پھر اُس نے جو کچھ کیا… وہ کس بنیاد پر تھا؟
اور وہ دعا۔۔؟؟
لیکن… نہیں… ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اُس کی آواز مدھم ہو گئی۔
ہاں، جب ارسم نے اُس سے یہ بات کی تو وہ غصّے میں تھی۔ صاف کہہ دیا کہ نہیں کرتی۔ اگر کرتی تو خاموش ہو جاتی… لیکن نہیں ہوئی۔۔
زرتاشہ نے نظریں چرا لیں۔
لیکن میں غلط کیسے ہو سکتی ہوں…؟
ہادی کی آواز نرم ہو گئی۔
ہر انسان غلط ہو سکتا ہے، زرتاشہ۔ ہم انسان ہیں۔ غلطیاں ہوتی ہیں… غلط فہمیاں بھی۔
چند لمحے خاموشی کے گزرے۔
لیکن ارسم کو یہ بات کس نے بتائی؟
آپ کی اور دعا کی باتیں سن لی تھیں اُس نے۔ اسی لیے اُس دن میں اُس کے پیچھے بھاگا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کچھ کرے گا… اور جس بات کا ڈر تھا، وہی کیا اُس نے۔
زرتاشہ کا دل ڈوبنے لگا۔
ارسم کائنات کو پسند کرتا ہے؟
ہاں۔ گھر میں شادی کی بات بھی کی تھی اُس نے۔ مگر ابّا نے منع کر دیا تھا، کہا پہلے ہادی، پھر تم۔ اور ویسے بھی اُس وقت کائنات پڑھ رہی تھی…
ہادی کی آنکھوں میں سختی اُتر آئی۔
لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ مجھے ابّا سے بات کرنی پڑے گی۔ ساری صورتحال بتا کر کہوں گا اُسے شہر سے باہر بھیج دیں۔
زرتاشہ اُس کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
یہ وہ ہادی نہیں تھا جو ہر معاملے میں پُرسکون رہتا تھا۔
یہ ایک غیرت مند بھائی تھا… جو حد پار ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔
اُس کے ذہن میں اچانک ایک اور سوال بجلی بن کر کوندھا۔
تو ارسم کائنات کو پسند کرتا تھا…؟
پھر جو اُس نے اُسے پرپوز کیا تھا… وہ کیا تھا؟
کیا وہ جھوٹ تھا؟
ہاں… شاید جھوٹ ہی تھا۔
اور اگر ہادی کو یہ بات معلوم ہو گئی تو؟
وہ تو ارسم کو چھوڑے گا نہیں…
ذرتاشا کے دل نے بےاختیار توبہ کی۔
نہیں۔
یہ بات ہادی تک کبھی نہیں پہنچے گی۔ کبھی نہیں۔
آپ کیا سوچنے لگیں؟ ہادی کی آواز نے اُسے چونکا دیا۔
کچھ نہیں…
وہ اُسے غور سے دیکھنے لگا۔
آپ کو کوئی بات پریشان کر رہی ہے۔
اوہ ہادی… تم ایسے کیوں ہو؟ وہ ہنسنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا گئی۔
اب بتائیں… کیا مسئلہ ہے؟
اتنا مجھے سمجھا نہیں کرو… میں خود سے شرمندہ ہو جاتی ہوں… ذرتاشہ دھیرے سے اُسے دیکھتے بولی۔۔۔
وہ کیوں؟
زرتاشہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
کیونکہ مجھ جیسی اتنی گناہ گار لڑکی پر بھی اللہ نے کتنا کرم کیا ہے…
ہادی کا لہجہ یکدم سنجیدہ ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اُس کی زندگی میں ایک نہ ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ اپنی طرف واپس لوٹ آنے کا۔ سیدھے راستے پر آنے کا۔ تاکہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہیں تھا، ہم نادان تھے۔ تب اللہ فرمائے گا، کیا ہم نے تمہیں موقع نہیں دیا تھا؟ پھر تم نے کیا کیا؟
زرتاشہ خاموشی سے سنتی رہی۔
کوئی اُس موقع کا فائدہ اُٹھا لیتا ہے… اللہ اُسے معاف کر دیتا ہے۔ اور کوئی… اُس کے بعد بھی وہی سب دہراتا رہتا ہے…
زرتاشہ کی آواز کانپ گئی۔
یہ… میرے لیے اللہ کی تمام نعمتوں میں سب سے پیاری نعمت ہے…
ہادی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا،
میں…؟
اور زرتاشہ شرما گئی۔ ہادی واقعی اُس کے لیے اللہ کی تمام نعمتوں میں سے سب سے پیاری نعمت تھا۔۔۔

+++++++++++

آفس کی بلند و بالا عمارت پر شام کی دھندلی روشنی اتر رہی تھی۔
اور زیدان کے اندر آگ بھڑک رہی تھی۔
وہ سیدھا گاڑی سے اترا اور بغیر کسی توقف کے عمارت کے اندر داخل ہو گیا۔ ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی نے نام سنا۔۔۔ ز… زیدان صاحب؟
اوپر کیبن میں بیٹھے رضوان صاحب تک خبر پہنچی۔
انہیں آنے دو… آواز میں دبی ہوئی گھبراہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔
دروازہ کھلا۔
زیدان اندر آیا۔ آہستہ سے کرسی کھینچی… گردن ذرا سا ٹیڑھی کی… اور بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر وہی خطرناک سکون تھا، جو طوفان سے پہلے آتا ہے۔
السلام علیکم…
وعلیکم السلام بیٹا… خیریت؟ رضوان صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا، مگر پیشانی پر پسینہ ابھر آیا تھا۔
زیدان کی نظریں سیدھی ان کی آنکھوں میں گڑی تھیں۔
سب خیریت ہے… لیکن فی الحال آپ کی خیریت نہیں رہنے والی۔
کیا مطلب؟
وہ ذرا سا آگے جھکا۔
آپ بھول گئے تھے کیا… کہ کائنات کا شوہر کون ہے؟
رضوان صاحب کی سانس اٹکی۔
مجھے یاد ہو تم…
اچھا ہے۔ تو پھر لائیے… پراپرٹی کے کاغذات… اور کمپنی کے پچاس فیصد شیئرز۔
کیا؟! وہ حیران ہوئے
میری بیوی معصوم ہے۔ میں نہیں ہوں۔ سیدھی شرافت سے جو کہا ہے وہ کر دیں… ورنہ اتنی عزت کے قابل بھی نہیں ہیں آپ، جتنی میں دے رہا ہوں۔
دیکھو بیٹا، تم کمپنی کے معاملات نہیں سمجھتے۔ میں نے کائنات کو سب سمجھا دیا تھا۔۔
کہا نا… اس کی آواز یکدم سخت ہو گئی۔ میری بیوی معصوم ہے۔ میں نہیں۔ اور اتنا پاگل بھی نہیں ہوں کہ کسی اور کو بننے دوں۔ میں سب جانتا ہوں… اور اگر نہیں بھی جانتا… تو جاننا بھی نہیں چاہتا۔ جتنا کہا ہے، بس اتنا کر دیں۔
بیٹا تُم سمجھ نہیں رہے یہ کمپنی کے معاملات ہے۔۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر وہ اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔۔ٹھیک ہے…
وہ مڑا… اور کیبن سے باہر نکل گیا۔
رضوان صاحب چند سیکنڈ حیرت سے دروازے کو دیکھتے رہے۔ اتنی آسانی سے مان گیا…؟
اچانک باہر سے زور دار آواز آئی۔
کچھ ٹوٹنے کی۔ پھر ایک اور۔
وہ گھبرا کر باہر نکلے۔
اور منظر دیکھ کر ساکت رہ گئے۔
زیدان کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا۔ آنکھوں میں وہی سرد جنون۔ آفس کا آدھا حصہ تباہ ہو چکا تھا۔ شیشے چکنا چور چکے تھے، لیپ ٹاپ زمین پر اوندھے منہ پڑے تھے… ان کی اسکرینوں پر دراڑیں ایسے پھیل رہی تھیں جیسے کسی رگ میں زہر دوڑ جائے۔
فائلوں کے پلندے ہوا میں اڑ کر نیچے گرے تھے۔ کاغذ سفید پرندوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے…
ریسیپشن ڈیسک کا شیشہ ٹوٹ کر فرش پر بکھر چکا تھا۔  ملازمین دیواروں کے ساتھ لگے کھڑے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ آگے بڑھے۔ ابھی چند لمحے پہلے کچھ لڑکے بہادری دکھانے آئے تھے، وہ اب فرش پر گرے کراہ رہے تھے۔ سیکیورٹی گارڈ ایک طرف بازو پکڑے بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں میں درد اور بے بسی تھی۔
اور اس سب کے بیچ… زیدان کھڑا تھا۔۔
مگر…
آفس کا دوسرا حصہ بالکل سلامت تھا۔
وہ سیدھا کھڑا ہوا۔ ڈنڈا زمین پر ٹکایا۔ پھر رضوان صاحب کی طرف دیکھا۔
یہ آپ کی سائیڈ… دوسری طرف سب کچھ صحیح سلامت تھا۔ کرسیاں سیدھی، کمپیوٹر آن، فائلیں ترتیب سے رکھی ہوئی۔۔اور باقی سارے لوگ بھی وہیں دبکے کھڑے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں تھی کہ ایک قدم بھی اِدھر آئے۔ کچھ لڑکیاں ایک دوسرے کے پیچھے چھپی ہوئی تھیں، کچھ لڑکے دیوار سے لگے سانس روکے کھڑے تھے۔ ان سب کی نظریں زیدان پر تھیں، خوف، حیرت اور ناقابلِ یقین سے۔۔
پھر اس نے تباہ شدہ حصے کی طرف اشارہ کیا۔ جہاں وہ کھڑا تھا، جہاں کی ہر ایک ایک چیز تباہ کر چکا تھا۔۔۔ اور یہ میری۔
پھر اچانک وہ رکا۔ ڈنڈا سب کی طرف گھما کر بولا،
بیوی کے باپ کو کیا کہتے ہیں؟
کوئی جواب نہ آیا۔
بتاؤ۔۔۔ وہ دھاڑا۔
ایک لڑکی کی کپکپاتی آواز سنائی دی۔ س… سسر…
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ ہاں… سسر جی…
پھر اس کی نظریں رضوان صاحب پر جم گئیں۔
میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کروں گا۔ میری بیوی کہتی ہے، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔
وہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھا۔
تو میں بس… اپنے سسر جی کا حصہ ہی تباہ کروں گا۔
اور اگلے ہی لمحے ڈنڈا دوبارہ فضا میں بلند ہوا۔
کیا کر رہے ہو زیدان؟ رک جاؤ… رضوان صاحب چیخے۔
ابھی تو صرف اس حصے کا حساب ہوا ہے… اس نے ڈنڈا دوبارہ سب کی طرف گھمایا۔
باقی کا ابھی اور باقی ہے۔
لوگ پھر سے پیچھے ہٹے۔ جب جب وہ ڈنڈا کا رُخ اُن کی طرف کرتا وہ ڈر کے اور پیچھے ہٹے جاتے۔۔۔
میرے سسر بہت نیک انسان تھے… اللہ انہیں جنت نصیب کرے۔
رضوان صاحب کا دل جیسے دھک سے رہ گیا۔
لیکن… اس کی آواز یکدم سرد ہو گئی۔ میں نہیں ہوں۔
سب کا حساب ہوگا۔ بالکل برابر سے۔ سب کچھ آدھا آدھا ہو گا۔
اور پھر وہ مڑا۔ سیدھا فنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف۔
وہاں شیشے کی دیوار کے پیچھے لوگ کمپیوٹر اسکرینوں پر جھکے بیٹھے تھے۔ جیسے انہیں امید ہو کہ کام میں مصروف رہنے سے طوفان رک جائے گا۔
رضوان صاحب بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے آئے۔
رک جاؤ زیدان۔۔۔
وہ نہیں رکا۔
اس نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کا دروازہ زور سے کھولا۔
حصہ…
بس ایک لفظ کہا۔۔ رضوان صاحب کی طرف سے کوئی جواب نہ پاکر وہ اندر داخل ہوا۔
اور اگلے ہی لمحے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اندر قیامت اُتر آئی۔
ڈیسک پر رکھی فائلیں ہوا میں اُچھلیں۔ ایک مانیٹر زور دار وار سے نیچے گرا۔ کی بورڈ فرش پر ٹکرا کر دو حصوں میں بٹ گیا۔ شیشے کی پارٹیشن میں دراڑیں سانپ کی طرح رینگتی چلی گئیں۔
زیدان! بس کرو… رضوان صاحب چیخے۔
میں پولیس بلا لوں گا۔۔۔
زیدان نے ایک اور فائل الماری سے نکال کر زمین پر پھینکی۔ پھر مڑا۔ آنکھوں میں وہی ٹھنڈا جنون۔
بلا لیں…
جیل چلے جاؤ گے تم۔۔۔
وہ چند لمحے ساکت رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اُن کی طرف بڑھا۔
اب آپ بھول رہے ہیں… اس نے ڈنڈا ان کے سامنے زمین پر ٹکایا، کہ زیدان کا بھائی کون ہے؟
رضوان صاحب کا حلق خشک ہو گیا۔
مجھے جیل بھیجنے کے چکر میں… ایسا نہ ہو کہ خود ہی جیل چلے جائیں۔
کمرے میں موجود ہر شخص نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ نام لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ سب جانتے تھے وہ کس کی بات کر رہا ہے۔
رضوان صاحب کے ذہن میں فوراً اسوان کا خیال آیا۔
وہ جھنجھلا اٹھے۔ دونوں بھائی دونوں پاگل ہو۔۔۔
ایک مارنے میں ماہر ہے…اور دوسرا… پھنسانے میں۔
ایک مار پیٹ کے بلیک میل کرتا ہے دوسرا پھسا کر بلیک میل کرتا ہے۔۔وہ دل ہی دل میں جھلس کر رہ گئے۔۔۔
رضوان صاحب کے چہرے پر پسینہ چمکنے لگا۔
تمہیں اندازہ بھی ہے تم کیا کر رہے ہو؟ یہ سب ریکارڈ ہو رہا ہے۔۔۔۔
زیدان نے اوپر کونے میں لگے کیمرے کی طرف دیکھا۔
چند لمحے اُسے گھورتا رہا۔
پھر بولا۔ اچھا ہے۔
وہ کیمرے کے عین نیچے جا کھڑا ہوا۔
ریکارڈ کر لو۔
اس کی آواز گونجی۔
آج کا دن یاد رکھنا۔ زیدان اپنا حصہ لینے آیا تھا۔ مانگ کر… نہیں ملا۔ توڑ کر لے جائے گا۔
اس نے میز پر پڑی کیلکولیٹر اٹھائی۔
حساب… اس نے بٹن دبایا۔ آدھا۔
پھر اسے بھی زمین پر دے مارا۔
رضوان صاحب نے بے بسی سے اردگرد دیکھا۔
یہ لڑکا نہیں تھا۔ طوفان تھا۔
اور سب سے خطرناک بات یہ تھی۔۔۔
وہ طوفان کسی اندھے غصّے میں نہیں تھا۔
وہ ہوش میں تھا۔ پورے ہوش میں۔
آخری بار کہہ رہا ہوں… رضوان صاحب کی آواز ٹوٹ گئی، رک جاؤ زیدان…
وہ ٹھہر گیا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر اُس نے بہت آہستہ، بہت صاف لہجے میں کہا۔۔
شیئرز ٹرانسفر کریں۔ کاغذات تیار کریں۔
ڈنڈا اس نے ایک طرف رکھ دیا۔
ورنہ اگلی بار… میں ڈنڈا نہیں لاؤں گا۔
وہ مڑا۔ دروازے کی طرف پڑھ گیا۔
اور رضوان صاحب کی ٹانگوں سے جیسے جان نکل گئی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے۔۔۔

وہ تیز قدموں سے راہداری پار کرتا باہر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ سامنے سے ایک سایہ اُس کے راستے میں آ کر ٹھہر گیا۔.ارسم۔
چند لمحے دونوں ساکت کھڑے رہے۔
ہوا جیسے بھاری ہو گئی ہو۔
دونوں کی نظریں ملیں…
اور اُن نظروں میں نفرت تھی۔ کھلی، بے نقاب، بے لحاظ نفرت۔
ارسم کے جبڑے کی نس ابھر آئی۔
زیدان کی آنکھوں میں سرد تمسخر تھا۔
زیدان نے کوٹ کی آستین درست کی، جیسے یہ محض ایک رسمی ملاقات ہو۔
آنے میں بہت دیر کر دی تم نے۔۔۔ اس کی آواز دھیمی تھی، مگر ہر لفظ چاقو کی طرح سیدھا۔
ارسم کی مٹھی بھنچ گئی۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟
زیدان ہلکا سا قریب جھکا۔
ابھی جا رہا ہوں میں۔ کل دوبارہ آؤں گا… اسی وقت۔
چند لمحے کا وقفہ۔
کائنات کا حصہ لینے۔
ارسم کی آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری، غصّے کی، شاید حسد کی بھی۔
تم۔۔۔ وہ کچھ سخت کہنے ہی والا تھا کہ زیدان اس کے بالکل قریب سے گزرا۔
جان بوجھ کر کندھا ہلکا سا اُس سے ٹکرایا۔
اور بغیر رکے آگے بڑھ گیا۔
ارسم وہیں کھڑا رہ گیا۔
اُس کے پیچھے جاتے قدموں کی چاپ راہداری میں گونجتی رہی۔
اُسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا۔۔۔ کہ کچھ نہ کچھ زیدان کو معلوم ہوگیا ہے۔۔۔ ورنہ وہ ایسے تو کبھی نہیں دیکھتا تھا اُسے۔۔۔
ارسم نے مڑ کر رضوان صاحب کے کیبن کی طرف دیکھا جہاں شیشے اب بھی ٹوٹے پڑے تھے۔ دانت بھینچ لیا۔۔
دِل تو کر رہا ہے، ابھی تُمہارا گلا دبا کر تمہیں ماردوں۔۔ تُم سے سب چھین لوں تمہیں کہیں کا نہیں رہنے دوں۔۔۔۔
رضوان صاحب ابھی تک ٹوٹے ہوئے شیشوں اور بکھری ہوئی فائلوں کے درمیان کھڑے تھے جب ارسم تیز قدموں سے اندر داخل ہوا۔
یہ سب کیا ہے؟!
اُس کی آواز میں غصہ بھی تھا اور حیرت بھی۔
رضوان صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے خاموش کرایا۔
یہ سب چھوڑو… پہلے پیپرز تیار کرواؤ۔ نہیں تو وہ میرا پورا آفس برباد کر دے گا۔۔۔
لیکن کیوں؟
رضوان صاحب نے گہری سانس لی۔
پچھلے دنوں کائنات میرے پاس آئی تھی۔ حصہ مانگنے… راحیم کا جو دو کروڑ کا گھر تھا… اور اس آفس میں اُس کے پچاس فیصد شیئرز…
وہ لمحہ بھر کو رکے۔
میں نے اُسے ٹال مٹول کر کے بھیج دیا۔ وہ سمجھ بھی گئی تھی۔ مگر یہ… یہ زیدان…
ارسم کے چہرے پر سنجیدگی آ گئی۔
تو ڈیڈ… آپ نے ایسا کیوں کیا؟ دے دیتے نا۔ ظاہر ہے وہ اُن کی بیٹی ہے۔ اُس کا حق ہے ان سب میں۔
پاگل ہو گیا ہو کیا میں؟ دے دیتا؟ وہ اسوان کے پاس رہتی ہے۔ اسوان کے گھر میں! اسوان کے پاس پہلے ہی کتنی جائیداد ہے۔ یہ بھی اُنہیں دے دیتا تو میرے اور تمہارے پاس کیا رہتا؟ بتاؤ؟
ارسم نے آہستہ سے سر جھکا کر مسکرا دیا۔
اوہ ابّا… آپ کی اکلوتی اولاد ہوں میں۔ میں کتنا ہی کھا لوں گا؟ اوپر سے میرا اپنا آفس بھی ہے۔
رضوان صاحب غصے سے کہا
جس حساب سے تم اپنا آفس چلاتے ہو نا، مجھے تم پر کوئی بھروسا نہیں۔ آئے دن تمہاری کمپنی بحران میں ڈوبی رہتی ہے۔ اگر اسوان نے تمہاری اتنی مدد نہ کی ہوتی تو تم کچھ بھی نہ کر پاتے۔۔۔
ارسم کا چہرہ سخت ہو گیا۔
رضوان صاحب بولتے رہے۔۔۔
ایک تو اسی پراپرٹی کی وجہ سے میں نے ہادی کو اپنے پاس سے جانے نہیں دیا۔ ڈاکٹر بھی بنا دیا اُسے… اور اب دیکھو، اُسے ہمارے آفس کے معاملات کا کچھ پتہ ہی نہیں۔ ورنہ بہن کے بیٹے کی حیثیت سے اُس کا بھی حصہ بنتا تھا۔۔۔
خیر ہے ابّا… دے دیں اُنہیں۔ ویسے بھی یہ سب واپس میرے پاس ہی آئے گا۔
وہ یہ کہہ کر باہر نکل گیا۔
رضوان صاحب اُسے حیرت سے جاتے دیکھتے رہ گئے۔
واپس…؟
وہ زیرِ لب بڑبڑائے۔ کیا مطلب تھا اُس کا…؟

+++++++++++

تمہیں پتا ہے…؟ اُس کی آواز میں عجیب سی چمک تھی۔ میں نے پری کا اسکول میں ایڈمیشن کروا دیا ہے۔
اسوان کے قدم وہیں ٹھٹھک گئے۔
کیا؟
ہاں۔ اتنی بڑی ہو گئی ہے وہ۔ اور ابھی تک تم نے اُس کا ایڈمیشن نہیں کروایا تھا۔
اسوان نے کوٹ اُتار کر کرسی پر رکھا۔
کم از کم مجھ سے پوچھ تو لیتی تم۔
یمنہ کی آنکھوں میں ہلکی سی چبھن ابھری۔
کیا پوچھتی؟ میں اُس کی ماں ہوں۔ مجھے اُس کے مستقبل کی فکر ہے۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
ابھی کہاں ہے پری؟ اسوان نے لہجہ نرم کیا۔
سو رہی ہے۔ آج میں نے اُسے جلدی سُلا دیا۔ صبح ساتھ لے کر جاؤں گی نا اسکول… اس لیے۔
اسوان کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
اچھا… اُس نے پھر ضد تو نہیں کی؟
یمنہ نے چونک کر دیکھا۔
کس بات کی ضد؟
پریشے کی… اُس نے بےساختہ کہا، پھر خود ہی خاموش ہو گیا۔
یمنہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کو سوال ابھرا، پھر وہ دھیرے سے بولی،
کی تھی۔ مگر میں نے سمجھا دیا اُسے۔
اچھا… اسوان نے سر ہلایا۔
کمرے میں پھر وہی بوجھل سکوت اتر آیا۔
یمنہ نے کچھ دیر اُسے دیکھتے رہنے کے بعد دھیرے سے پوچھا
ایک بات بتاؤ… تم نے اُس سے شادی صرف پری کی وجہ سے کی تھی نا؟
اُس کی آواز میں غیر محسوس سا لرزش تھا۔
محبت تو نہیں کرتے نا تم اُس سے…؟
اسوان نے نظریں چرا لیں۔
چند لمحے اُس نے کچھ نہ کہا۔ پھر بہت آہستہ بولا
اگر محبت کرتا… تو اُسے کیا جانے دیتا؟
یمنہ نے اُس کے چہرے پر نظریں جما دیں۔ جیسے اس ایک جملے کے اندر چھپا مطلب پڑھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
ہاں… اُس نے دھیرے سے کہا۔ یہ بھی ہے۔

یمنہ کچھ دیر اُس کے پاس بیٹھی رہی، پھر خاموشی سے اُٹھ کر کمرے سے چلی گئی۔
کمرہ خالی ہوتے ہی سکوت اور گہرا ہو گیا۔
اسوان صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر کھڑا رہا۔ نظریں دیوار پر ٹکی تھیں… مگر دیکھ کچھ اور رہا تھا۔
پریشے۔
نام جیسے دل میں کسی نے آہستہ سے پکارا ہو۔
وہ بے اختیار آنکھیں بند کر گیا۔
ایک چہرہ ابھرا
ہنستی ہوئی آنکھیں… ضدی لہجہ… اُس کا لڑنا۔۔
اس نے آنکھیں کھول دیں۔
کمرہ ویسا ہی تھا۔ خاموش۔ سنسان۔
مگر دل میں ہلچل مچ چکی تھی۔
وہ آہستہ سے چلتا ہوا پری کے کمرے کے دروازے تک گیا۔ دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اندر ہلکی سی نائٹ لیمپ کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
پری گہری نیند میں تھی۔ اُس کے چہرے پر معصوم سکون تھا۔
اسوان دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
عجیب بات تھی۔۔۔
پری کو دیکھا تو پريشے کی پھر یاد ائی۔۔۔
اگر محبت کرتا… تو اُسے کیا جانے دیتا؟
اپنا ہی کہا ہوا جملہ دل پر چوٹ بن کر لوٹا۔
کیا واقعی…؟
یا اُس نے خود کو یہی یقین دلایا ہوا تھا؟
وہ اندر آیا۔ بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔ آہستہ سے پری کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
یادیں کبھی اجازت لے کر نہیں آتیں۔
وہ بس آ جاتی ہیں۔ اُسے وہ رات یاد آئی
جب پریشے نے پہلی بار خاموشی سے کہا تھا،
میں اب آپ سے آزاد ہونا چاہتی ہوں۔۔
اور اُس نے اُسے آزاد کردیا تھا۔۔۔
پری نیند میں ہلکی سی کروٹ بدل کر اُس کے قریب سمٹ آئی۔
اسوان کا دل عجیب سا بھاری ہو گیا۔
اندر… یادوں کا طوفان تھا۔۔۔
اور اسوان پہلی بار خود سے سوال کر رہا تھا۔۔۔
اگر محبت نہیں تھی… تو یہ درد کیوں ہے؟

+++++++++++

صبح کا وقت غیر معمولی طور پر پُرسکون تھا۔
ناشتے کی میز سمیٹی جا چکی تھی اور گھر میں ہلکی سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔
زیدان آئینے کے سامنے کھڑا خود کو دیکھ رہا تھا۔
نیلا پینٹ۔ سفید ٹی شرٹ۔ اور اُس کے اوپر نیلا کوٹ۔
وہ ٹائی باندھنے کے بجائے کف لنکس سیدھے کر رہا تھا۔ اُس کی حرکات میں عجیب سی ٹھہراؤ تھا۔ جیسے ہر حرکت سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہو۔
پیچھے بیڈ کے پاس کھڑی کائنات اُسے دیکھ کر چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی۔
یہ وہی زیدان تھا؟ یا کوئی اور؟
آپ کہاں جا رہے ہیں؟ اُس کے لہجے میں بےساختہ حیرت تھی۔
آفس جا رہا ہوں۔ اُس نے آئینے سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔
ہَیں؟ وہ واقعی چونکی تھی۔
اب وہ مُڑا۔ اُس کی نگاہ سیدھی اُس پر آ ٹھہری۔
اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو؟
کائنات کو ایک لمحے کے لیے الفاظ نہ ملے۔
آپ کو… کیا ہو گیا ہے؟
کیا ہوا ہے مجھے؟ وہ اُس کی طرف دیکھ بولا۔۔۔
وہ الجھ گئی۔ نظریں جھکا لیں۔
کچھ نہیں… اچھے لگ رہے ہیں۔
چند لمحے کے لیے کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
وہ دوبارہ آئینے کی طرف مڑ گیا۔ بالوں پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا۔ کوئی جواب نہیں دیا۔
کائنات کو اُس کی خاموشی کھلنے لگی۔
کیا ہوا؟
کچھ نہیں۔ اُس نے گھڑی پہنتے ہوئے کہا۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔
مگر بات صرف دیر کی نہیں تھی۔ کائنات یہ محسوس کر سکتی تھی۔
وہ دروازے کی طرف بڑھا تو کائنات کے دل میں انجانا سا خدشہ جاگا۔ وہ آفیس کیوں جا رہا تھا۔۔؟ ایسے اچانک سے آفیس، وہ تو کبھی آفس نہیں جاتا تھا۔
اور کائنات جانتی تھی، بھلے وہ سارا دن بے مقصد گھر میں پڑا رہے، لیکن جب بھی وہ کسی چیز کا ارادہ تھا، تو بے وجہ نہیں کرتا۔۔۔
آفیس جانے کا ارادہ بھی بے وجہ یا اسوان بھائی کے کہنے پر کیا ہو۔۔ ایسا بھی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔ کُچھ اور وجہ ہوگی یقیناَ لیکن کیا؟؟ ابھی تو کائنات نے بھی اُسے آفیس کے حوالے سے کچھ بات نہیں کی تھی تو پھر ؟؟
وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔

+++++++++++

جاری ہے۔۔۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *