Taqdeer e Azal Last Episode ( part 1 ) written by siddiqui


تقدیرِ ازل (از قلم صدیقی)

قسط نمبر ۳۳

پریشے کی طبیعت اب پہلے سے کافی بہتر ہو چکی تھی۔ گھر والوں کی محبت اور مسلسل ساتھ نے اسے دوبارہ زندگی کی طرف مائل کر دیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اپنی پرانی روٹین کی طرف لوٹ رہی تھی۔
آج بھی وہ یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔
اس نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا تھا جس پر جگہ جگہ سفید پھول بنے ہوئے تھے، اس کے ساتھ گلابی شلوار۔ بالوں کو سمیٹ کر اس نے سادہ سا جوڑا بنا لیا۔ پھر اس کے اوپر سیاہ رنگ کا عبایا اوڑھ لیا اور گلابی اسکارف سر پر ٹھیک کرتے ہوئے آئینے میں ایک لمحے کو خود کو دیکھا۔
چہرے پر اب وہ گہری اداسی نہیں رہی تھی جو کچھ عرصہ پہلے ہر وقت اس کے ساتھ چپکی رہتی تھی۔
وہ خاموشی سے کمرے سے نکلی اور گھر والوں سے مختصر سی اجازت لے کر یونیورسٹی کے لیے روانہ ہو گئی۔
جب وہ یونیورسٹی پہنچی تو جیسے اس کے لیے ایک اور خوشخبری منتظر تھی۔
پریشے سائنس کی طالبہ تھی اور ایم ایس زولوجی کے آخری سال میں تھی۔ آج ڈیپارٹمنٹ میں غیر معمولی سی چہل پہل تھی۔ طلبہ گروپوں کی شکل میں کھڑے کچھ نہ کچھ باتیں کر رہے تھے۔
وہ ابھی پوری طرح سمجھ بھی نہیں پائی تھی کہ معاملہ کیا ہے کہ اس کی دوست ہانیہ خوشی سے اس کے پاس آ کر بولی، پریشے! تم نے سنا؟
وہ چونک کر اس کی طرف مڑی۔ کیا ہوا؟
یونیورسٹی میں چائنا سے پی ایچ ڈی کی آفر آئی ہے۔۔۔
پریشے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
کیا…؟ واقعی؟
ہاں! اور وہ بھی ہماری فیلڈ کے لیے۔ زولوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسٹوڈنٹس اپلائی کر سکتے ہیں۔
ایک لمحے کے لیے پریشے بالکل خاموش رہ گئی۔
اس کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل ہوئی…
پریشے ابھی تک حیرت میں کھڑی تھی کہ ہانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک طرف لے لیا۔
ارے آؤ ادھر… میں تمہیں صحیح سے بتاتی ہوں۔
پریشے نے ابھی تک پوری طرح بات سمجھی بھی نہیں تھی۔
یہ سب ہوا کیا ہے ہانیہ؟ کیسی آفر…؟
ہانیہ کے چہرے پر صاف جوش نظر آ رہا تھا۔
چائنا کی ایک بڑی یونیورسٹی نے ہماری یونیورسٹی کے ساتھ کولیبوریشن کی ہے۔ وہ زولوجی کے اسٹوڈنٹس کے لیے پی ایچ ڈی اسکالرشپ دے رہے ہیں۔
اسکالرشپ…؟
ہاں، پورا فنڈڈ پروگرام ہے۔ ہانیہ نے تیزی سے بتایا۔ ٹیوشن فیس وہ لوگ دیں گے، رہائش بھی یونیورسٹی دے گی، اور ماہانہ اسٹائپنڈ بھی ملے گا۔ بس چند اسٹوڈنٹس کو سلیکٹ کریں گے۔
پریشے کے دل کی دھڑکن جیسے ایک لمحے کو تیز ہو گئی۔
لیکن… سلیکشن کیسے ہوگی؟
ہانیہ نے فوراً جواب دیا۔
پہلے اپلائی کرنا ہوگا۔ پھر یونیورسٹی کے پروفیسرز انٹرویو لیں گے۔ جن کے رزلٹ اچھے ہوں گے اور ریسرچ میں انٹرسٹ ہوگا، انہیں شارٹ لسٹ کیا جائے گا۔
وہ ذرا جھک کر آہستہ سے بولی۔
اور تم تو ویسے بھی ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی ٹاپ اسٹوڈنٹس میں سے ہو۔
پریشے نے فوراً سر ہلا دیا۔
نہیں ہانیہ… اتنا آسان نہیں ہوتا یہ سب۔
ہانیہ ہلکا سا مسکرائی۔
آسان تو نہیں… لیکن ناممکن بھی نہیں۔
پھر اس نے مزید بتایا۔
ایک اور بات ہے… اگر سلیکشن ہو جائے تو تقریباً چار سے پانچ سال کے لیے چین جانا ہوگا۔ وہاں ریسرچ کرنی ہوگی۔
پریشے کے قدم جیسے ایک لمحے کو رک گئے۔
چار… پانچ سال؟
ہاں۔ پی ایچ ڈی ہے بھئی۔
پریشے چند لمحے خاموش رہی۔
ہانیہ نے بات جاری رکھتے ہوئے قدرے جوش سے کہا،
اور سنو… ایک اور بات بھی ہے۔
پریشے نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
کیا؟
ہانیہ ذرا قریب آ کر آہستہ آواز میں بولی،
اگر پی ایچ ڈی کے بعد تم چاہو تو وہیں سیٹل بھی ہو سکتی ہو۔
پریشے ایک لمحے کو بالکل ساکت رہ گئی۔
سیٹل…؟
ہاں۔ ہانیہ نے سر ہلایا۔ وہاں ریسرچرز کی بہت ویلیو ہے۔ اگر تمہاری ریسرچ اچھی ہوئی تو وہ لوگ خود جاب آفر دیتے ہیں۔ یونیورسٹی میں یا کسی ریسرچ لیب میں۔
پریشے کے چہرے پر ہلکی سی حیرت پھیل گئی۔
ہانیہ نے مزید بتایا،
اور صرف جاب ہی نہیں… اچھا خاصا پیکج بھی دیتے ہیں۔ کئی لوگ تو پی ایچ ڈی کے بعد واپس ہی نہیں آتے۔ وہیں کام شروع کر دیتے ہیں، اپنا کیریئر بنا لیتے ہیں۔
پریشے خاموشی سے اس کی باتیں سنتی رہی۔
ہانیہ نے ہلکا سا مسکرا کر کہا،
سوچو… نئی جگہ، نئی زندگی… اور اپنا فیوچر بھی سیکیور۔ کبھی کبھی اللّٰہ تعالیٰ ہم جیسوں پر بھی مہربان ہوجاتے ہیں۔۔۔
پریشے نے آہستہ سے نظریں جھکا لیں۔
اس کے دل میں عجیب سی کشمکش پیدا ہو گئی تھی۔
ایک طرف نیا موقع… خوابوں جیسا مستقبل
اور دوسری طرف اپنا گھر، اپنے لوگ…
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی،
تم جانتی ہو نہ مجھے اجازت نہیں ملے گی۔۔ بابا مجھے دوسرے شہر اکیلے نہیں جانے دیتے۔۔ اور تم دوسرے ملک کی بات کر رہی ہو۔۔۔۔
ہانیہ فوراً مسکرا دی۔
یار اجازت تو مجھے بھی نہیں ملے گی، لیکن سوچو… اگر ہمارا کیریئر بن گیا نا تو پھر ہمیں کسی پر ڈپینڈ نہیں رہنا پڑے گا۔
پریشے نے قدرے سنجیدگی سے پوچھا،
تمہیں اجازت مل جائے گی؟
ہانیہ نے کندھے اچکائے۔
نہیں ملے گی… لیکن اگر تم، میں اور مصباح ساتھ جاؤ گے نا تو میرے گھر والے مان ہی جائیں گے۔ ویسے بھی جب سے میں نے اپنے گھر والوں کو تمہارے بارے میں بتایا ہے نا… تو وہ سب بھی اتنے خوف زدہ ہوگئے ہیں۔۔۔ اب تو وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ پہلے پڑھائی اپنی مکمل کرو اپنے پیروں پر کھڑی ہو پھر ہی تمہارے بارے میں کچھ سوچیں گے۔۔۔
پریشے یہ سن کر خاموش ہو گئی۔
اُس کے چہرے پر ہلکی سی اُداسی اُتر آئی۔
ہانیہ نے بات جاری رکھی۔
اور تم خود بھی سوچو… اچھا ہی ہے۔ یہاں سے نکل جاؤ گی۔ پھر کبھی اُس سے سامنا بھی نہیں ہوگا۔ اور تمہیں کسی کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ تمہارا کیریئر بن جائے گا… اور اپنے بابا کی مدد بھی کر سکو گی۔
پریشے نے آہستہ سے کہا،
وہ تو میں ابھی بھی یونیورسٹی کے بعد جاب کر سکتی ہوں۔
ہانیہ نے فوراً جواب دیا،
لیکن ایسا آفر کہاں ملتا ہے؟ اور پھر… وہ جو تمہارا درندہ شوہر ہے…
پریشے نے بات کاٹ دی۔ وہ اب کچھ نہیں کریں گے۔۔
ہانیہ نے سر ہلایا۔
اُس کا کوئی بھروسہ نہیں۔ آسانی سے چھوڑ دیا تمہیں… شکر ادا کرو اور خود کو سنبھالو۔ ورنہ تو اللّٰہ بچائے اُس خبیث انسان سے تمہیں۔۔۔
پریشے نے گہرا سانس لیا۔
تم فضول کا ٹینشن لے رہی ہو… لیکن پھر بھی میں بابا سے بات کروں گی۔ ویسے بھی… مجھے خود یہاں سے نکلنا ہے۔ گھٹن سی ہوتی ہے۔
ہانیہ نے چونک کر پوچھا،
گھٹن؟ کیوں؟
پریشے کچھ لمحے خاموش رہی، پھر دھیمی آواز میں بولی، میں اگر کچھ بولوں گی نا… تو تم کہو گی میں پاگل ہو گئی ہوں۔
ہانیہ ہنس دی۔ یار وہ تو میں ویسے بھی کہتی رہتی ہوں۔ لیکن تم بتاؤ… دل میں کیا چل رہا ہے؟
پریشے نے نظریں جھکا لیں۔ اُس کی آواز میں عجیب سی بے بسی تھی۔
میں نہیں چاہتی ہوں اب کے وہ واپس آئے۔۔۔
پریشے نے پہلے ہانیہ کی طرف دیکھا… پھر آسمان کی طرف نظر اُٹھائی۔
نیلے آسمان پر بکھرے بادل جیسے کہیں بہت دور جا رہے تھے۔
پھر اُس کی نگاہ آہستہ سے سرک کر سائڈ میں بنی پودوں کی کیاری پر ٹھہر گئی…
جہاں ہلکی ہوا کے ساتھ پتے آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔
وہ چند لمحے یونہی دیکھتی رہی… جیسے اپنے بکھرے ہوئے خیال سمیٹ رہی ہو۔ پھر بہت دھیمی آواز میں بولی،
وہ اب بھی مجھے منائے… تو میں بے وقوف ہوں،
مان جاؤں گی۔
اُسے دور رکھو مجھ سے۔۔۔ بات کو سمجھو…
وہ ذرا سا بھی سامنے آئے، تو بکھر جاؤں گی میں،
وہ سب جانتے ہیں، فائدہ اٹھاتے ہیں۔
وہ پھر سے کچھ سمجھائیں گے… اور میں پھر سے مان جاؤں گی۔
اور کچھ حاصل نہیں کیا، بس اُس کے خیال سے امیر ہوں۔
اُس کا خیال اپنے خیال سے نکال دوں … تو میں خالی ہو جاؤں گی۔۔
ہانیہ اُس کی بات سن کر جیسے ساکت رہ گئی۔
پریشے کی آنکھوں میں عجیب سی ویرانی تھی… ایسی ویرانی جس میں صرف درد ہی درد تھا۔
ہانیہ نے اُسے سمجھانے، یا شاید دلاسہ دینے کے لیے لب کھولے… مگر کوئی لفظ باہر نہ آ سکا۔
بھول جاؤ اسے… موو آن کر لو… وہ تمہارے قابل نہیں تھا… تم کسی بہتر کی حقدار ہو… اُسے تمہاری قدر ہی نہیں ہے۔۔۔
یہ سب جملے وہ پچھلے کئی دنوں سے سب کی زبان سے سن رہی تھی۔ وہ بھی چاہتی تو یہی کہہ دیتی۔ مگر وہ جانتی تھی… یہ الفاظ زخم پر مرہم نہیں بن سکتے۔
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جن پر الفاظ نہیں رکھے جا سکتے۔
وہ خاموش ہو گئی۔
پریشے اب آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی… اور ہانیہ کی نظریں اُس کے چہرے پر ٹھہری ہوئی تھیں۔
کتنی خوبصورت لڑکی تھی وہ…
اور اُس کا نصیب…
اکثر لڑکیاں نصیب کے ہاتھوں ہار جاتی ہیں۔
مگر پریشے… اُس کا درد ہانیہ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ وہ اُس کی پھول جیسی نازک دوست تھی۔
یہ پھول ایسے کیسے مرجھا گیا…؟
چند لمحوں تک دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی۔
پھر پریشے کی مدھم آواز سنائی دی۔
میں درد سے مر جاؤں گی… لیکن اُس کے پاس واپس نہیں جاؤں گی۔
اُس کی آواز کانپ رہی تھی۔
میرا دل بار بار کہتا ہے… سب چھوڑ دوں… لیکن نہیں۔ میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گی، مگر اپنی عزت کا تماشا نہیں بناؤں گی۔
یہ کہتے ہوئے اُس کی پلکیں بھاری ہو گئیں۔
ہانیہ سے یہ سب دیکھا نہ گیا۔
وہ تیزی سے آگے بڑھی اور پریشے کو مضبوطی سے اپنے گلے لگا لیا۔
بس یہی لمحہ تھا…
جب پریشے کی آنکھوں میں رکے ہوئے آنسو بہہ نکلے۔

++++++++++++

دوپہر کے وقت اسوان گھر آیا تھا۔
وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا خاموشی سے لنچ کر رہا تھا۔
چند لمحے گزرے تو اُس نے اچانک پوچھا،
پری کہاں ہے؟
یمنٰہ نے پانی کا گلاس رکھتے ہوئے جواب دیا،
وہ تو سو رہی ہے۔
اسوان نے قدرے ناگواری سے کہا، کتنا سونے لگی ہے وہ… میں جب بھی دوپہر میں آفیس سے آکر پوچھتا ہوں۔۔ تو وہ سو رہی ہوتی ہے۔ پھر میں رات میں آتا ہوں تو تب بھی وہ سو رہی ہوتی ہے۔۔۔
یمنٰہ نے سنجیدگی سے کہا، اسکول جاتی ہے، تھک جاتی ہے۔ پھر ابھی اٹھے گی تو مدرسہ بھی جائے گی، اُس کے بعد ٹیوشن… ظاہر ہے تھک جاتی ہے۔ اور تمہاری ٹائمنگ کا بھی مسئلہ ہے۔
اسوان کا چہرہ سخت ہو گیا۔
میری بچی پر اتنا بوجھ مت ڈالو۔ ابھی تو اسکول میں ایڈمیشن کروایا ہے تم نے… اور اب مدرسہ اور ٹیوشن بھی۔
یمنٰہ نے فوراً جواب دیا، میں کون سا بوجھ ڈال رہی ہوں؟ اُس کے مستقبل کا سوچ رہی ہوں۔ اتنی بڑی ہو گئی ہے… کیا پڑھے گی لکھے گی نہیں؟ اس عمر میں سب بچے پڑھتے ہیں۔
وہ ہلکا سا رکی، پھر بولی،
تمہیں تو چاہیے تھا کہ تین سال کی عمر میں ہی اُس کا ایڈمیشن کروا دیتے، لیکن نہیں… تم نے تو اُسے بس گھر بٹھا کر رکھا ہوا تھا۔
بحث مت کرو مجھ سے۔ اسوان نے سخت لہجے میں کہا۔
یمنٰہ فوراً خاموش ہو گئی۔
اُس کے لہجے کی سختی کچھ زیادہ ہی تھی۔
چند لمحوں بعد اُس نے غور سے اسوان کو دیکھتے ہوئے پوچھا،
تمہیں کیا ہوا ہے؟ کوئی مسئلہ ہے؟
اسوان نے نظریں جھکا لیں۔
نہیں… بس تھک گیا ہوں۔
یمنٰہ نے آہستہ سے کہا،
تم بہت بدل گئے ہو اسوان… پہلے جیسے نہیں رہے۔
اسوان نے سر اٹھا کر اُسے دیکھا۔
یمنٰہ بولتی رہی،
اب تم بات بات پر مجھ پر غصہ کرتے ہو… سختی کرتے ہو… اور ہر وقت مجھے خاموش کروا دیتے ہو۔ ٹھیک سے بات تک نہیں کرتے تُم مُجھ سے۔۔۔
اسوان کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔
وہ تو مجھے چھوڑ کر جانے سے پہلے تمہیں سوچنا چاہیے تھا نا۔
یمنٰہ کے چہرے پر ایک لمحے کو بے بسی آئی۔
میری مجبوری تھی…
اسوان نے سرد لہجے میں کہا، اب برداشت کرو۔
یمنٰہ نے فوراً سر ہلایا۔
میں نہیں برداشت کر سکتی تمہارا ایسا رویہ۔ مجھے اس رویے کی عادت نہیں ہے۔
اسوان نے کھانا کھاتے ہوئے کہا،
میں نے معاف کر دیا ہے نا تمہیں… آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاؤ گا۔
یمنٰہ نے دھیمی آواز میں کہا، hope so۔۔۔
ابھی اسوان لنچ ہی کر رہا تھا کہ گارڈ اندر آیا اور ایک لفافہ اُس کے سامنے رکھ دیا۔
سر، یہ آپ کے لیے آیا ہے۔
اسوان نے چونک کر کہا، میرے لیے؟
اس نے لفافہ ہاتھ میں لیا اور کھانا چھوڑ کر اُسے کھولنے لگا۔
اگلے ہی لمحے…
سر کے اوپر آسمان گرنا کیا ہوتا ہے آج اسوان کے سمجھ آیا۔۔۔۔
وہ پریشے کی طرف سے خلع کا نوٹس تھا۔
اسوان کی آنکھیں چند لمحوں تک کاغذ پر جمی رہیں۔
پھر اُس نے ساتھ رکھا دوسرا چھوٹا سا لفافہ کھولا۔
اُس میں اسوان کا کریڈٹ کارڈ رکھا تھا۔
کریڈٹ کارڈ دیکھتے ہی اسے اچانک یاد آیا…
پریشے نے آج تک اُس کارڈ سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا تھا۔
اگر کرتی تو اُس کے فون پر میسج آ جاتا۔
اسوان نے تو اُسے کارڈ دینے کے بعد بھلا ہی دیا تھا… اور اپنے لیے الگ نیا کارڈ بنوا لیا تھا۔
وہ چند لمحے خاموشی سے کارڈ کو دیکھتا رہا۔
دل میں ایک عجیب سا سوال ابھرا۔
جب پیسے خرچ ہی نہیں کرنے تھے… تو کارڈ لیا کیوں تھا؟
کیا ہے؟ یمنٰی نے پوچھا۔
اسوان جیسے چونک کر ہوش میں آیا۔
وہ دھیمی آواز میں بولا، آزادی چاہتی ہے…وہ مجھ سے۔
یمنٰہ نے حیرت سے کہا، کون؟ پھر اگلے ہی لمحے اُسے یاد آیا۔ پریشے…
بغیر کاغذ دیکھے ہی وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ خلع کا نوٹس ہے۔
یمنٰہ نے سادہ انداز میں کہا، اگر وہ طلاق لینا چاہتی ہے… تو دے دو۔
اسوان نے اُس کی طرف گہری نظر سے دیکھا۔
اور اگر وہ نہیں لینا چاہتی تو؟
یمنٰہ نے کندھے اچکائے۔
تو کیا؟ ویسے بھی تم نے اُسے چھوڑ ہی تو دیا ہے۔۔۔
اُس نے یہ اچھا فیصلہ کیا ہے… کہ بیچ میں لٹانے سے اچھا ہے کہ ایک طرف ہو جائے۔
مگر اسوان اب بھی خاموش بیٹھا تھا۔
اُس کی نگاہیں اب بھی اُس کریڈٹ کارڈ پر جمی تھیں…
اسوان نے میز پر رکھا کریڈٹ کارڈ انگلیوں کے درمیان گھماتے ہوئے اچانک پوچھا،
اگر تمہارے پاس کسی کا کریڈٹ کارڈ ہو… اور پھر بھی تم اُس میں سے پیسے خرچ نہ کرو… تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
یمنٰہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ مطلب… وہ کریڈٹ کارڈ کس کا ہے؟
اسوان نے قدرے بے دلی سے کہا، مان لو… میرا ہے۔
یمنٰہ ہلکا سا مسکرائی۔ پھر تو تمہارا سوال ہی غلط ہے۔
اسوان نے بھنویں سکیڑیں۔ مطلب؟
یمنٰہ نے سیدھے سادے انداز میں کہا، مطلب یہ کہ کریڈٹ کارڈ تمہارا ہو… اور میں اُس میں سے پیسے خرچ نہ کروں… ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔
اسوان نے فوراً پوچھا،nکیوں نہیں ہو سکتا؟
یمنٰہ نے جیسے ایک سادہ سی حقیقت بیان کی۔
کیونکہ تم میرے شوہر ہو۔
اسوان نے بے تاثر انداز میں کہا، ہاں تو؟
یمنٰہ نے قدرے سنجیدگی سے جواب دیا،
تو شوہر کے پیسوں پر بیوی کا حق ہوتا ہے۔ اگر تم نے منع کیا ہوگا کہ پیسے خرچ نہیں کرنے تو الگ بات ہے… ورنہ تو وہ میرے ہی پیسے ہوئے نا۔
اسوان چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
اچھا… مان لو میں نے تمہیں منع نہیں کیا… پھر بھی تم پیسے خرچ نہیں کر رہیں… تو؟
یمنٰہ نے کندھے اچکائے۔
تو شاید مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اسوان نے فوراً پوچھا، بس؟
ہاں۔
اسوان نے گہری نظر سے اسے دیکھا۔.ایسا تو نہیں ہو سکتا نا… کہ تمہیں کبھی پیسوں کی ضرورت ہی نہ پڑے؟
یمنٰہ نے ذرا سوچ کر کہا، ہاں… ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
اسوان نے قدرے بے صبری سے پوچھا، تو پھر؟
یمنٰہ نے اب صاف انداز میں کہا، مجھے صاف صاف بتاؤ نا… کہنا کیا چاہتے ہو؟
اسوان نے نظریں ہٹا لیں۔ کچھ نہیں…
پھر دھیمی آواز میں بولا، تم اُس جیسی نہیں ہو۔
یمنٰہ نے چونک کر پوچھا، کس جیسی؟
اسوان کے لبوں سے بے اختیار نکلا، پریشے جیسی۔
یمنٰہ نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
اور اسوان اٹھ کھڑا ہوا۔ اور سیدھا اپنے روم کی طرف چلا گیا۔۔۔
اور یمنہ نے پہلی بار ایک لڑکی سے حسد محسوس کیا تھا۔۔۔
کچھ لمحے بعد اُس کے فون پر میسج کی آواز آئی۔
یمنٰی نے بے دلی سے فون اٹھایا۔
انسٹاگرام پر کسی دائم علی نام کے شخص کا میسج تھا۔
“Hi beautiful…”
یمنٰہ نے فوراً اُس کی آئی ڈی کھول کر دیکھی۔
پروفائل تصویر میں ایک خاصا ہینڈسم لڑکا تھا۔
پروفائل سے پتا چل رہا تھا کہ وہ لندن میں رہتا تھا… اور بزنس مین تھا۔
یمنٰی نے چند لمحے اُس کی پروفائل دیکھی…
پھر خاموشی سے واپس چیٹ پر آ گئی۔
اور اگلے ہی لمحے اُس نے اُس کی ریکویسٹ ایکسیپٹ کر لی۔
اس کے بعد دونوں کے درمیان آہستہ آہستہ چیٹنگ شروع ہو گئی۔

++++++++++++

اس وقت وہ اپنے کمرے میں موجود تھا۔
کھانا کھانے کے بعد وہ بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا کہ اچانک دروازہ زور سے کھلا۔
پری چیختی ہوئی بھاگ کر اندر آئی اور سیدھا اسوان کی طرف دوڑی۔
بابااا!
اگلے ہی لمحے وہ اسوان کی گود میں چڑھ گئی۔
بابا بابا مجھے ان سے بچائیں!
اسوان ابھی کچھ سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ یمنٰہ بھی تیزی سے اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی۔
پری! بدتمیزی نہیں کرو!
اسوان نے حیرانی سے دونوں کو دیکھا۔
ارے مجھے بتاؤ تو کیا ہوا ہے؟
پری فوراً بولی۔
آپ ماما کو واپس کب لے کر آ رہے ہیں؟
یمنٰہ کا چہرہ فوراً سخت ہو گیا۔
پھر سے ماما؟ میں ہوں تمہاری ماما۔۔۔۔
پری نے فوراً منہ بنا لیا۔
ماما ایسی نہیں ہوتی…
اسوان نے قدرے حیرت سے پوچھا۔
پری… تم تو سو رہی تھیں نا؟
جب وہ گھر آیا تھا تو پری سو رہی تھی۔
کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ کر آرام کر رہا تھا۔
پری فوراً بولی۔
اُٹھ گئی میں… ورنہ یہ تو چاہتی ہیں کہ میں سوتی ہی رہوں… یا پھر مر جاؤں۔۔۔
پری۔۔۔۔ اسوان نے سختی سے کہا۔
مگر پری رکنے والی نہیں تھی۔
بابا ہاں ہاں! یہ ایسا ہی چاہتی ہیں۔۔۔
یمنٰہ نے غصے سے کہا۔
میں تمہاری ماں ہوں پری! تمہاری دشمن تھوڑی ہوں۔۔۔ جو ایسا چاہوں گی۔۔۔
پری نے فوراً منہ موڑ لیا۔
نہیں چاہیے مجھے ایسی ماما۔۔۔
پھر اس نے اسوان کی طرف دیکھ کر کہا۔
بابا آپ کو پتا ہے یہ میرے ساتھ کیا کرتی ہیں؟
یمنٰہ نے جھنجھلا کر کہا۔ پتہ نہیں کون سا جادو کر کے چلی گئی ہے وہ میری بچی پر! یہ میری ایک نہیں سنتی۔۔
پھر اس نے تلخی سے کہا۔
اوپر سے مجھے نقصان پہنچنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔۔۔
پری نے فوراً کہا۔ ہاں! کیونکہ میں چاہتی ہوں آپ مر جائیں۔۔ آپ واپس کیوں آئیں؟ آپ کو نہیں آنا چاہیے تھا واپس۔۔۔ جہاں سے آئی ہیں وہیں واپس چلی جائے۔۔
اسوان نے سخت لہجے میں کہا۔
پری! یہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم؟
پری کی آنکھیں بھر آئیں۔
بابا پلیز… پریشے ماما کو واپس لے آئیں۔
یمنٰی اب برداشت نہ کر سکی۔
دن بھر پریشے پریشے کی رٹ لگائے رکھتی ہے۔۔۔
پھر اس نے تلخی سے کہا۔ میں ہوں تمہاری ماں! میں نے پیدا کیا ہے تمہیں۔۔۔ اُس نے نہیں۔۔۔
یمنٰہ اسوان نے سختی سے کہا۔ خاموش رہو۔
پھر اس نے پری کی طرف دیکھا۔
پری… تم بتاؤ کیا ہوا ہے؟
پری فوراً بولی۔
انہیں میرا ذرا بھی خیال نہیں ہے! یہ چاہتی ہیں میں بس اسکول جاؤں اور پھر سوتی رہوں۔۔۔
یمنٰہ فوراً بولی۔
دیکھ لو ڈرامے اس کے! اسکول نہیں جائے گی، پڑھے گی نہیں۔۔۔
پری نے ضد سے کہا۔ جیسے آپ چاہتی ہیں نا میں اسکول جاؤں… میں ویسے نہیں جاؤں گی۔۔۔
اسوان نے گہرا سانس لیا۔ اچھا… اب یمنٰہ تم بتاؤ۔
یمنٰی نے ناراضی سے کہا۔
یہ ہر بات پر ضد کرتی ہے۔ اسکول جانے میں ڈرامے کرتی ہے۔ اور تمہیں پتہ ہے مجھے نقصان پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔ اور تمہیں پتہ ہے… مجھ پر ہاتھ بھی اٹھاتی ہے۔۔۔
پری فوراً بولی۔ بابا آپ ان کی بات نہ سنیں۔۔۔
پھر اس نے التجا کی۔ بس آپ پریشے ماما کو واپس لے آئیں… اور ان کو بولیں جہاں سے آئی تھیں وہیں واپس چلی جائیں۔
پھر وہ جلدی سے بولی۔
میں اسکول بھی چلی جاؤں گی… ان کی بات بھی مانوں گی۔
اسوان نے تھکے ہوئے انداز میں کہا۔
اچھا… ابھی سو جاؤ۔ میں دیکھوں گا۔
پری نے فوراً کہا۔
صرف دیکھیں نہیں… واپس لائیں۔۔
اسوان نے آہستہ سے کہا۔ ہاں ہاں…
پری نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔ مجھے بہت نیند آ رہی ہے…
پھر وہ اسوان کے برابر میں لیٹ گئی۔
چند لمحے بعد وہ آہستہ سے بولی۔
اگر یہ مجھ پر حکم چلائیں گی نا… تو میں انہیں جان سے مار دوں گی…
ششش… اسوان نے فوراً کہا۔ خاموشی سے سو جاؤ۔
پری نے آنکھیں بند کر لیں۔
چند ہی منٹوں میں وہ گہری نیند میں چلی گئی۔ جیسے بہت نیند آنے کے باوجود بھی وہ جاگ رہی تھی۔۔۔
یمنٰہ سائیڈ پر روٹھی ہوئی بیٹھی تھی۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔
اسوان نے آہستہ سے کہا۔
ابھی اتنی جلدی یہ سیٹ نہیں ہوگی… تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔
یمنٰی نے فوراً کہا۔ کیا برداشت کرنا پڑے گا؟ اس کی آواز میں غصہ تھا۔ میں ہی برداشت کروں؟ تمہیں بھی… اور اسے بھی؟
پھر اس نے شکایت کی۔
پتہ ہے کل میں اسے اسکول چھوڑنے گئی تو اس نے مجھے اتنا زور سے دھکا دیا… کہ میں گرتے گرتے بچی۔۔
اسوان نے سنجیدگی سے کہا۔ یہ نارمل نہیں ہے یمنٰہ…
پھر آہستہ سے بولا۔ اسے نارمل بچوں کی طرح ٹریٹ مت کرو۔
اسوان نے سوتی ہوئی پری کی طرف دیکھا۔
بچی کے چہرے پر معصوم سی تھکن پھیلی ہوئی تھی۔ وہ اسوان کے بازو کے ساتھ سمٹ کر سو گئی تھی۔
اسوان نے آہستہ آواز میں کہا،
تمہیں اس کا بہت دھیان رکھنا ہوگا… اور برداشت بھی کرنا پڑے گا۔ اس کا رویہ بھی، اس کی تلخ باتیں بھی۔ اور بہت پیار سے سمجھنا پڑے گا۔۔۔
یمنٰہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
اسوان نے اپنا ہاتھ پری کے بال پر پھرا اور بولا۔۔۔
میں نے اسے بہت مشکل سے سنبھال کر یہاں تک لایا ہے…
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر دھیمی آواز میں بولا،
ورنہ جس حالت میں تم اسے چھوڑ کر گئی تھی…
اس کی بات ادھوری رہ گئی۔
اسوان نے گہرا سانس لیا۔
تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے یمنٰہ… وہ کتنی ٹوٹ گئی تھی۔
اس کی آواز آہستہ ہو گئی۔
ہر چیز سے نفرت کرنے لگی تھی۔ صرف دو سال کی تھی… مگر اِتنا چیختی چلاتی رہتی تھی۔ کبھی کہتی ماما کو لے آؤ… نہیں تو سب کو مار دوں گی۔
وہ ہلکا سا مسکرایا… جیسے کسی پرانی اذیت کو یاد کر رہا ہو۔
کبھی کبھی مجھے مارتی تھی… کہ ماما کہاں ہیں… ماما کو واپس لے کر آؤ۔
یمنٰہ خاموشی سے سن رہی تھی۔
اسوان کی نظریں اب بھی پری پر تھیں۔
اور کبھی اچانک بالکل خاموش ہو جاتی تھی۔ نہ کچھ بولتی… نہ کچھ کھاتی۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
پھر میں اس کی مار کھا کھا کر اسے کھانا کھلاتا تھا۔
اسوان ہلکا سا مسکرایا۔
ہر وقت مجھ سے چپکی رہتی تھی۔ آفس بھی میں اسے ساتھ لے کر جاتا تھا۔ اور کسی سے سنبھلتی بھی نہیں تھی۔
وہ پری کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا۔
چھوٹی سی تو تھی… لیکن کسی آفت سے کم نہیں تھی۔
پھر اسوان نے پری کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔
اور آفت کو سنبھالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
یمنٰہ نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
پھر… کون سنبھالتا تھا اسے؟
اسوان نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
کبھی کبھی کائنات سنبھال لیتی تھی۔ وہ بھی اس سے بہت مار کھاتی تھی۔
پھر اس نے یمنٰہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
لیکن تمہیں پتا ہے سب سے زیادہ مار پری سے کس نے کھائی؟
یمنٰہ نے حیرت سے پوچھا۔
کس نے؟
اسوان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
زیدان نے۔
پھر وہ آہستہ سے ہنسا۔
تم یقین نہیں کرو گی… لیکن کوئی تھا ڈھیٹ… میرے علاوہ… جو اس کے چیخنے چلانے اور ضد کرنے سے تنگ نہیں ہوتا تھا۔
اس نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
ورنہ جس کے پاس پری جاتی تھی… ٹھیک دس منٹ بعد وہ انسان اسے واپس میرے پاس لے آتا تھا۔
اسوان نے سر ہلایا۔
لیکن زیدان کے کمرے میں گھنٹوں بیٹھی رہتی تھی وہ۔
جب کبھی میری آفس میں میٹنگ ہوتی… تو میں اسے زیدان کے کمرے میں بھیج دیتا تھا۔
زیدان تو اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں آتا تھا… اور جب پری اندر جاتی تھی… تو وہ بھی واپس نہیں آتی تھی۔
یمنٰہ نے حیرت سے پوچھا۔
ایسا کیا کرتا تھا وہ؟
ڈھیٹ تھا نا… خود بھی ویسا ہی تھا۔
اس کی بات نہیں سنتا تھا… مار کھاتا رہتا… اس کے ساتھ کھیلتا رہتا… اور وہ چیختی رہتی۔
پھر اسوان کا لہجہ تھوڑا سنجیدہ ہو گیا۔
ہمارے جینز میں شامل ہے یہ anger issue۔
میرے بابا میں بھی بہت تھا… مجھ میں بھی ہے… اور زیدان میں بھی۔
پھر اس نے پری کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہا۔
اور اب پری میں بھی۔
جب چیزیں ہمارے مطابق نہیں ہوتیں… تو ہم خود کو قابو میں نہیں رکھ پاتے۔ ہم سے ہمارے کِسی اپنے کو  چھینو یا پھر ہمارے ساتھ کُچھ غلط کرو تو پھر دیکھو۔۔۔ ہم پوری دنیا میں قہر بن کے برس پڑتے ہیں۔۔۔
یمنٰہ نے ایک لمحے کے لیے پری کے معصوم چہرے کی طرف دیکھا… پھر اسوان کی طرف۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا…
کہ اسوان صرف ایک باپ نہیں تھا…
وہ ایک ایسا انسان تھا جس نے پچھلے چند سالوں میں بہت کچھ اکیلے برداشت کیا تھا۔
لیکن اس احساس کے باوجود اُس کے دل میں ایک چبھن بھی تھی۔
اسوان نے پری کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے مزید کہا
یہ میرا سب سے قیمتی احساس ہے…
پھر اس نے بہت دھیمی آواز میں مزید کہا،
اسوان کے بس میں دل نہیں ہے… کیونکہ اسوان کا دل تو اس کی بیٹی ہے۔
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی پھیل گئی۔
اسوان نے یمنٰہ کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا،
اور اگر ساری غلطی بھی پری کی ہوگی نا… تب بھی کمپرومائز تمہیں ہی کرنا پڑے گا۔۔
یمنٰہ کے دل میں ایک عجیب سا احساس ابھرا۔
ہاں… وہ اس کی بیٹی تھی۔
مگر اس وقت اسوان جس طرح ساری توجہ اور اہمیت صرف اپنی بیٹی کو دے رہا تھا… وہ یمنٰی کو اچھا نہیں لگا۔۔ اُسے بھی ہو چوٹ لگی تھی وہ بھی تو پری کو سنبھال رہی تھی۔۔ اُس کا خیال نہیں کیا۔۔؟؟
کبھی یہی اسوان اس سے بھی اسی شدت سے محبت کیا کرتا تھا۔
آج بھی کرتا تھا…
تبھی تو اس کی اتنی بڑی غلطی کے باوجود اسے معاف کر دیا تھا۔
لیکن کیا ایسا اب بھی ہے۔۔۔؟؟ کیوں کہ اس کا دل مان نہیں رہا تھا اسوان کے رویے میں بھی فرق آچکا تھا۔۔۔

++++++++++++

فجر کا وقت تھا۔
کمرے میں ہلکی سی ٹھنڈی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ باہر آسمان ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوا تھا۔
اسی خاموشی میں اچانک کائنات کی آنکھ کھل گئی۔
اس نے نیم وا آنکھوں سے کمرے میں نظر دوڑائی… تو سامنے زیدان کو جائے نماز پچھاتے دیکھا۔۔۔
کائنات فوراً چونک کر اٹھ بیٹھی۔
آپ… نماز پڑھ رہے ہیں؟
زیدان نے مڑا
اس کے چہرے پر حیرانی نہیں تھی… اُسے پتہ تھا اِس وقت اُس کی ہاتھ کھول جاتی ہے۔۔۔ وہ اُٹھے گی ہی۔۔۔
اس نے بس ہلکا سا سر ہلا دیا۔
کائنات نے ذرا آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
سورہ یاد کر لی آپ نے؟
زیدان نے اس بار بھی خاموشی سے سر ہلا دیا۔
کائنات کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اچھا… رکھیں، میں بھی پڑھوں گی۔
کیوں؟
کائنات نے فوراً جواب دیا۔
جنت میں اکیلے جانے کا ارادہ ہے آپ کا؟
اکیلا ہی اس دنیا میں آیا ہوں… اکیلا ہی جاؤں گا…
تو جنت میں بھی اکیلا ہی چلا جاؤں گا۔
کائنات نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں… میں نہیں جانے دوں گی آپ کو جنت میں اکیلے۔ وہ جلدی سے بستر سے اترتے ہوئے بولی،
میں بھی ساتھ جاؤں گی۔
یہ کہتے ہوئے اس نے تیزی سے دوپٹہ سر پر لپیٹا اور سیدھی واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
وہ تو بالکل عام سے انداز میں… ایک عام سی بات کہہ کر چلی گئی تھی۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی…
کہ اس کی یہ چھوٹی سی بات زیدان کے دل میں کیسی ہلچل پیدا کر گئی تھی۔
زیدان کچھ لمحے وہیں جائے نماز پر کھڑا رہ گیا۔
اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی تھی۔
بات واقعی عام تھی…
مگر زیدان کے لیے وہ بہت بڑی تھی۔
کیونکہ کسی نے پہلی بار اس سے یوں کہا تھا…
کہ وہ اس کے ساتھ جنت تک جانا چاہتی ہے۔

کچھ ہی دیر بعد واش روم کا دروازہ کھلا۔
کائنات تیزی سے باہر آئی۔
اس نے جلدی جلدی دوپٹہ سر پر ٹھیک کیا اور زیدان کے برابر میں جائے نماز بچھا لی۔
پھر آہستہ سے بولی،
اب شروع کریں
زیدان نے ایک لمحے کو اُس کی طرف دیکھا…
پھر نظریں جھکا کر نماز پڑھنا شروع کردیا۔۔
فجر کی خاموش فضا میں دونوں کی دھیمی آوازیں گونج رہی تھیں۔
نماز ختم ہوئی تو کائنات نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی۔
کچھ لمحے وہ خاموشی سے مانگتی رہی…
پھر آہستہ سے آنکھیں کھول دیں۔
وہ خاموش جائے نماز پر خاموش بیٹھا تھا۔۔۔۔
آپ دعا نہیں مانگ رہے؟
زیدان نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔
کیا مانگوں…؟ سب کچھ تو ہے میرے پاس۔
اللہ بغیر مانگے ہی مجھ پر مہربان ہے۔
کائنات نے فوراً سر ہلایا۔
ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ہمارے پاس اللہ سے مانگنے کے لیے کچھ نہ ہو۔
ہوتا بہت کچھ ہے… بس ہم مانگتے نہیں ہیں۔
زیدان نے قدرے سنجیدگی سے پوچھا۔
جیسے کہ…؟
کائنات نے دھیرے سے جواب دیا۔
جیسے… اپنے گناہوں کی معافی۔ جنت پانے جہنم سے بچنے کی دعا۔۔ اسلام کے سیدھے راستے پے چلنے کی دعا۔۔ اپنے آپ کو بہتر انسان بنانے کی دعا۔
زیدان کے چہرے پر ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
میں گناہوں کی معافی نہیں مانگتا۔
کائنات چونک گئی۔
کیوں…؟
زیدان کی نظریں زمین پر جم گئیں۔
کیونکہ جو گناہ میں نے کیے ہیں… اور اوپر سے، جان بوجھ کر کیے ہیں۔ ان کی سزا تو مجھے ملنی چاہیے۔
کائنات نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔
آپ خود کے ساتھ اتنے سخت کیوں ہو رہے ہیں…؟
زیدان نے بے تاثر انداز میں کہا۔
مجھے اپنے اندر کوئی اچھائی نظر نہیں آتی۔
کائنات نے فوراً جواب دیا۔
آپ اپنے اندر اچھائی بھی تو پیدا کر سکتے ہیں نا۔
زیدان نے ہلکا سا طنزیہ سوال کیا۔
کیوں کروں…؟
کائنات نے سادہ مگر پختہ لہجے میں کہا۔
اللہ کے لیے۔
کیا آپ بھی اللہ سے ناراض ہیں…؟
زیدان نے فوراً سر اٹھایا۔
نہیں۔
میں نے آج تک اللہ سے کبھی شکوہ نہیں کیا۔
جو بھی میرے ساتھ ہوا… کبھی شکایت نہیں کی۔
جب میری امّاں کا انتقال ہوا… تب بھی نہیں۔
اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔
کیونکہ میں تو اُس اتنی بڑی ذات کے آگے کچھ بھی نہیں ہوں۔ جو کچھ ہے سب اُسی کا تو ہے۔۔۔
وہ چاہے تو میرے آگے پوری دنیا رکھ دے…
اور چاہے تو کچھ بھی نہ دے۔
یہ اُس کی مرضی ہے۔
میں کون ہوتا ہوں اُس سے شکوہ کرنے والا۔
کائنات چند لمحے خاموش رہی۔
پھر آہستہ سے بولی۔ تو پھر یہ سب…؟
(کائنات کا اشارہ اُس کے بے تمیز رویے اُس کے گھر والوں کے ساتھ سخت رویے اور شراب سگریٹ ، مار پیٹ کی طرف تھا۔۔۔)
ایسا بن گیا ہوں میں۔ لوگوں نے بنا دیا ہے۔
کائنات نے اسے غور سے دیکھا… جیسے پہلی بار اسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
پھر وہ دھیمی آواز میں بولی۔
اتنی بڑی اچھائی اپنے اندر چھپا کر رکھے ہوئے ہیں…
اور کہتے ہیں کہ آپ میں کوئی اچھائی نہیں۔
زیدان نے حیرانی سے پوچھا۔ کیا…؟
کائنات نے آہستہ سے کہا۔
خود کو اللہ کی نظر سے دیکھیں…
لوگوں کی نظر سے نہیں۔
یا پھر اُس کی نظر سے دیکھیں… جو آپ سے محبت کرتا ہے۔
زیدان کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
زیدان سے محبت صرف زیدان کا اللہ کرتا ہے۔
ورنہ…
جہاں زیدان ہے… وہاں زیدان ہوتا ہی نہیں۔
کائنات نے فوراً جواب دیا۔
تو پھر ویسا بن جائیں جیسے وہ چاہتا ہے۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر زیدان نے پہلی بار سنجیدگی سے کائنات کی طرف دیکھا۔
تمہاری نظر میں کیسا ہوں میں…؟
کائنات تھوڑی سی ہچکچائی۔
میری نظر میں…؟
زیدان نے آہستہ سے کہا۔
ہاں… تمہاری نظر میں۔
کائنات نے چند لمحے اسے دیکھا… پھر سادگی سے بولی۔
میری نظر میں آپ… بس میرے شوہر ہیں۔
زیدان کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی۔
شوہر…؟
کائنات نے سر ہلا دیا۔
ہاں… شوہر۔
اور اگر آپ میں لاکھوں اچھائیاں بھی ہوں… تب بھی میں آپ کی ویسی ہی عزت اور خدمت کروں گی جیسے ایک بیوی اپنے شوہر کی کرتی ہے۔
اور اگر آپ میں لاکھوں برائیاں بھی ہوں…
وہ ایک لمحے کو رکی… پھر نہایت سکون سے بولی۔
تب بھی میں آپ کی ویسی ہی عزت اور خدمت کروں گی۔
زیدان اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
مگر زیدان کے دل میں سوالوں کی ایک پوری بھیڑ اُتر آئی تھی۔
کیا وہ اُسے واقعی ویسے ہی قبول کر رہی تھی…؟
یا صرف سمجھوتہ کر رہی تھی…؟
یا پھر… ہمیشہ کی طرح اُس کے پاس کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا۔
زیدان کی نظریں چند لمحوں تک کائنات کے چہرے پر ٹھہری رہیں۔
اچانک کائنات نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا،
بہت تھرکی ہوتے جا رہے ہیں آپ…
زیدان جیسے چونک گیا۔
کیا…؟
کائنات نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔
کچھ نہیں…
زیدان نے بھنویں سکیڑ کر کہا،
مجھے تھرکی انسان بولا تم نے…؟
کائنات نے کندھے اچکائے۔
ہاں تو… ایسے دیکھ رہے ہیں… اور کیا بولوں؟
یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کر جائے نماز سمیٹنے لگی۔
زیدان نے فوراً کہا،
رکو… ابھی بتاتا ہوں تمہیں۔
اور جانے نمازِ موڑنے لگا۔۔۔
کائنات فوراً پیچھے ہٹی۔
میں سونے جا رہی ہوں۔
وہ جلدی سے جائے نماز میز پر رکھ کر بستر پر چڑھی اور کمبل میں گھس گئی۔
زیدان اُس کی حرکت دیکھ کر مسکرا دیا۔ اور سختی سے بولا۔۔۔
آج تو معاف نہیں کروں گا۔
کائنات نے کمبل میں سے اپنا سر نکال کر فوراً کہا،
مار دوں گی میں۔۔
زیدان نے بازو باندھ لیے۔
بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نا۔۔
کائنات نے فوراً جواب دیا،
آپ کو ایسے تھرکیوں کی طرح نہیں دیکھنا چاہیے تھا نا
زیدان نے بے پروائی سے کہا،
میں تو دیکھوں گا۔
کائنات نے فوراً کہا،
پھر میں تو بولوں گی۔
ہاں ہاں… بتاتا ہوں نا ابھی۔ رکو ذرا۔”
وہ جائے نماز  میز پر رکھتا اس کی طرف بڑھا
کائنات فوراً گھبرا گئی۔
مار دوں گی میں… کمرے سے چلی جاؤں گی۔۔۔
زیدان نے مسکرا کر کہا،
میں جانے دوں گا تب نا۔
کائنات نے فوراً دھمکی دی،
میں شور مچا دوں گی۔۔۔
زیدان نے بے فکری سے جواب دیا،
میں منہ بند کروا دوں گا۔
کائنات نے بے بسی سے کہا
یا اللہ… آپ کو تمیز نہیں ہے۔
زیدان نے فوراً کہا،
آپ سکھا دیں نا۔
کائنات نے فوراً کمبل اپنے منہ تک کھینچ لیا۔
میں سو رہی ہوں… مجھے ڈسٹرب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
اور پھر وہ دوبارہ کمبل میں پوری طرح چھپ گئی۔
اور زیدان کے لبوں پر بے اختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
++++++++++

پریشے نے جب چین جانے والی بات گھر میں کی تو اُسے خود بھی یقین نہیں تھا کہ گھر والے مان جائیں گے…
خاص طور پر احمد صاحب۔
وہ تو پہلے ہی اُسے دوسرے شہر اکیلے بھیجنے کے حق میں نہیں تھے… پھر یہ تو دوسرا ملک تھا۔
مگر اس بار معاملہ مختلف تھا۔
احمد صاحب نے خاموشی سے اُس کی بات سنی… اور چند لمحے سوچنے کے بعد اجازت دے دی۔
پریشے کو خود بھی حیرت ہوئی تھی۔
اصل میں وہ بھی اُس کی حالت سمجھ رہے تھے۔
وہ دیکھ رہے تھے کہ پریشے یہاں رہ کر کس خوف میں جی رہی ہے۔
ہر وقت… ہر لمحہ…
اُسے یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں اچانک اسوان سامنے نہ آ جائے۔
یا راستے میں کہیں اُس سے سامنا نہ ہو جائے۔
اور ابھی تو خلع کا نوٹس بھی بھیجے دوسرا دن ہی تھا۔
ابھی تک اسوان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔
اگر طلاق ہو جاتی…
تو شاید پریشے کے دل کا خوف کچھ کم ہو جاتا۔
مگر احمد صاحب کو اچھی طرح اندازہ تھا…
کہ اسوان اتنی آسانی سے چھوڑ دینے والا آدمی نہیں ہے۔
اسی لیے انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر بیٹی کو جانے کی اجازت دے دی تھی۔
ورنہ…
اگر اسوان والا معاملہ نہ ہوتا… تو وہ کبھی بھی پریشے کو اتنی دور جانے کی اجازت نہ دیتے۔
ایک تسلی بس یہی تھی…
کہ اُس کی دوستیں بھی ساتھ جا رہی تھیں۔
ہانیہ اور مصباح کا ساتھ ہونا احمد صاحب کے لیے تھوڑا سا حوصلہ بن گیا تھا۔
پھر پریشے نے بھی پہلی بار تھوڑی سی ضد کی تھی۔
اس کی آنکھوں میں عجیب سی التجا تھی…
جیسے وہ اس شہر سے، ان یادوں سے… اور اس خوف سے نکل جانا چاہتی ہو۔
احمد صاحب کا دل تو اب بھی نہیں مان رہا تھا۔
لیکن وہ جانتے تھے…
یہی پریشے کے لیے بہتر ہے۔۔۔
اور آج…
پریشے نے یونیورسٹی جا کر فارم جمع کروا دیا تھا۔

+++++++++++++

رضوان صاحب نے ارسم کے جانے کے تمام انتظامات کر دیے تھے۔
ٹکٹ بک ہو چکی تھی…
پاسپورٹ، ویزا اور باقی ضروری کاغذات بھی تیار تھے۔
اب صرف جانے کا انتظار باقی تھا۔
آج 16 فروری تھی…
اور ارسم کی فلائٹ 20 فروری رات 9 بجے کی تھی۔
یعنی صرف تین دن رہ گئے تھے۔
گھر کا ماحول عجیب سا ہو گیا تھا۔
کوئی کھل کر کچھ نہیں کہہ رہا تھا…
مگر سب کو احساس تھا کہ چند دن بعد ارسم اس گھر میں نہیں ہوگا۔
رضوان صاحب بظاہر بہت مصروف دکھائی دے رہے تھے۔
وہ بار بار کاغذات چیک کرتے… کبھی کسی کو فون کرتے… کبھی کچھ اور انتظام دیکھتے۔
مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ خود کو مصروف رکھ کر اپنے دل کو سمجھا رہے تھے۔
بیٹا پہلی بار اتنی دور جا رہا تھا۔
اور سائرہ بیگم کے لیے تو یہ اور بھی مشکل تھا۔
وہ بار بار ارسم کے کمرے میں آتی…
کبھی اس کے کپڑے دیکھتی… کبھی بیگ چیک کرتی…
جیسے کوئی چیز رہ نہ جائے۔
ارسم خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا۔
لیکن ان سب میں ہادی ایک دفعہ بھی اُس کے پاس نہیں آیا تھا۔۔۔ وہ گیا تھا بات کرنے لیکن ہادی نے اس سے مختصر بات کی جانے کا پوچھا اپنے خیال رکھنے کا کہا اور بس کچھ نہیں۔۔۔
ارسم جا تو رہا تھا لیکن ابھی تک اُسے دِلی سکون نہیں ملی تھی۔۔۔ اُس کے دماغ میں اب بھی ایک شور برپا تھا۔۔۔۔

++++++++++++

آج کائنات کی یونیورسٹی کا پہلا دن تھا…
اور وہ بے حد خوش تھی۔
ناشتہ بنا کر اُس نے زیدان کے سامنے رکھا اور خود تیار ہونے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
چند لمحے خود کو غور سے دیکھتی رہی…
پھر الماری کھولی اور اُس میں سے ایک نیا سوٹ نکالا۔
وہ کپڑے بدلنے لگی۔
بالوں کو سلیقے سے باندھا…
دوپٹہ ٹھیک کیا…
اور دوبارہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
یہ سارا منظر زیدان خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
وہ بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا اور ابھی ابھی اپنا ناشتہ ختم کیا تھا۔۔۔
کائنات آئینے کے سامنے کھڑی تھی کہ اچانک رکی…
پھر مڑ کر زیدان کی طرف دیکھا۔
آج یونیورسٹی کا میرا پہلا دن ہے۔
زیدان نے سادہ انداز میں پوچھا۔
فارم وغیرہ تم نے جمع کروا دیا تھا؟
کائنات نے سر ہلایا۔
ہاں… کب کا۔ میں نہیں گئی تھی، حرا کو کہہ دیا تھا۔
زیدان نے مختصر سا جواب دیا۔
آل دی بیسٹ۔
کائنات کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
پھر وہ مکمل تیار ہو کر زیدان کے پاس آئی…
اور اچانک اُس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔
زیدان چونک گیا۔
کیا…؟
کائنات نے سیدھے سادے انداز میں کہا۔ پیسے۔
زیدان نے بھنویں چڑھائیں۔ کونسے پیسے؟
کائنات نے بالکل معصومیت سے کہا۔
میں یونیورسٹی جا رہی ہوں۔
زیدان نے بے پرواہی سے جواب دیا۔
تو جاؤ نا۔
کائنات نے ہاتھ وہیں پھیلائے رکھے۔
پیسے دیں مجھے۔
زیدان نے حیرت سے کہا۔
کس کے پیسے؟ کون سے پیسے؟
کائنات نے جیسے اسے سمجھانا ضروری سمجھا۔
میں یونیورسٹی جا رہی ہوں۔ وہاں کھاؤں گی، پیوں گی…
مجھے پیسوں کی ضرورت ہو گی۔
زیدان نے سکون سے کہا۔
تمہارے پاس تو ہیں۔
ہر مہینے کمپنی کے شیئرز سے تمہیں لاکھوں روپے آتے ہیں۔
کائنات نے فوراً جواب دیا۔۔۔
ہاں… وہ میرے پیسے ہیں۔
پھر اُس نے ذرا سا سر جھکا کر مگر بڑی سنجیدگی سے کہا۔
میں ابھی آپ کے پیسے مانگ رہی ہوں۔
زیدان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
میرے پیسے کیوں؟
کائنات نے بالکل سادہ لہجے میں کہا۔
کیونکہ آپ میرے شوہر ہیں۔
زیدان نے بھنویں اٹھا کر کہا،
ہاں تو…؟
کائنات نے فوراً جواب دیا،
تو پیسے دیں مجھے۔
زیدان نے گہرا سانس لیا جیسے اس کی ضد سے تنگ آ گیا ہو۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈالا اور جتنے بھی کھلے پیسے تھے سب نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔
یہ لو بھئی۔
کائنات نے نیچے دیکھ کر پیسے گنے بھی نہیں، بس ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں مٹھی میں بند کر لیا۔
پھر اس نے بڑے سکون سے بولی،
میں چاہے جتنی بھی امیر کیوں نہ ہو جاؤں… آپ کو مجھے جیب خرچی دینی پڑے گی۔
زیدان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیوں…؟
کائنات نے فوراً جواب دیا،
کیونکہ وہ میرا حق ہے۔
پھر ذرا سا مسکرا کر اسے یاد دلایا،
آپ ہی نے تو کہا تھا… تمہیں  اپنے حق لینے چاہیے۔
زیدان نے بھنویں اٹھا کر کہا،
میری بلی… مجھ سے ہی میاؤں؟
کائنات نے بے فکری سے کندھے اچکا دیے۔
سوچ سمجھ کے کہنا چاہیے تھا نا آپ کو۔
زیدان چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
یہ وہی لڑکی تھی…
جو کچھ عرصہ پہلے اس کے سامنے بولنے سے بھی گھبراتی تھی۔
اور آج…
اسی کے الفاظ اسی پر آزما رہی تھی۔
یہ سب یوں ہی نہیں تھا…
یہ سب زیدان کی لاپروائی کا نتیجہ تھا۔
اصل میں قصور کائنات کا اتنا بھی نہیں تھا۔
قصور تو اُس آزادی کا تھا… جو زیدان نے خود اُسے دے رکھی تھی۔
وہ کبھی اُس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا…
نہ اُس کی شوخیوں پر ناراض ہوتا…
نہ اُسے روکتا ٹوکتا۔
آہستہ آہستہ کائنات کو بھی احساس ہو گیا تھا…
کہ زیدان کے سامنے وہ جیسی چاہے ویسی رہ سکتی ہے۔
وہ اُسے ڈانٹ دے گا…
یا دو لفظ سخت کہہ دے گا…
مگر حقیقت میں کبھی اُس پر ظلم نہیں کریں
گے۔۔۔۔
اور شاید یہی وجہ تھی…
کہ اب کائنات پہلے جیسی خاموش اور ڈری ہوئی لڑکی نہیں رہی تھی۔
اب وہ اُس کے سامنے ہنس بھی لیتی تھی…
لڑ بھی لیتی تھی…
اور کبھی کبھی تو اُسے اسی کے لفظوں میں جواب بھی دے دیتی تھی۔
اور زیدان…
وہ ہر بار اُسے دیکھ کر بس ہلکا سا مسکرا دیتا تھا۔

+++++++++++++++

اسوان کی گاڑی پریشے کے محلے میں آ کر رکی تھی۔
گاڑی رکتے ہی ہمیشہ کی طرح بچوں کا ایک جھنڈ اس کے اردگرد جمع ہو گیا۔
مگر آج عجیب بات یہ تھی کہ پہلی دفعہ اسوان کو یہ ہجوم بُرا نہیں لگا تھا۔۔۔ ورنہ وہ ان بچوں کو دیکھتے ساتھ چیڑ جاتا تھا۔۔۔
اس کے ہاتھ میں چاکلیٹ کا ایک ڈبہ تھا۔
بچے خوشی سے اس کے آگے پیچھے گھوم رہے تھے… کوئی گاڑی کو چھو کر دیکھتا، کوئی شیشے کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتا۔
تبھی ایک سخت آواز فضا میں گونجی۔
سائیڈ میں جا کر کھیلو۔۔۔
یہ رشیدہ بیگم کی آواز تھی۔
ان کی سرد اور سخت آواز سن کر سارے بچے ایک دم سہم گئے۔
سب کی نظریں فوراً انہی کی طرف اٹھ گئیں۔
انہوں نے صرف ہاتھ کے اشارے سے بچوں کو گاڑی سے دور ہونے کو کہا۔
بچے فوراً پیچھے ہٹ گئے اور تھوڑا دور جا کر ایک کونے میں پھر جھنڈ بنا کر بیٹھ گئے، مگر ان کی نظریں اب بھی اسوان پر ہی تھیں۔
اسوان گاڑی سے اُترا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
السلام علیکم۔۔۔
رشیدہ بیگم نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
وعلیکم السلام۔۔۔ کس لیے آیا ہے یہاں؟
اسوان ایک لمحہ رکا، پھر آہستہ سے بولا۔
وہ… پریشے سے ملنا تھا۔
رشیدہ بیگم کی آنکھوں میں سختی اُتر آئی۔
کیا کرے گا اُس سے مل کر؟
اور کتنی تکلیف دینا باقی رہ گئی ہے اُسے؟
جتنی دے چکا ہے… کیا وہ کم ہے؟
وہ ایک قدم آگے بڑھیں۔
چلا جا یہاں سے۔
وہ تُجھ سے نہیں ملنا چاہتی۔
اسی لمحے بچوں کے جھنڈ کی طرف سے شور سا اُٹھا۔
اپی۔۔۔ اپی آگئی۔۔۔۔۔
اسوان کا دل جیسے ایک دم دھڑکنا بھول گیا۔
پریشے ابھی ابھی یونیورسٹی سے واپس آئی تھی۔
گلی میں کھڑی گاڑی کو دیکھتے ہی وہ پہچان گئی تھی کہ یہ کس کی ہے۔
وہ چاہتی تھی کہ چپ چاپ سائڈ سے اندر چلی جائے…
یا تھوڑی دیر کے لیے پیچھے ہی کہیں چھپ جائے۔۔۔
مگر بچوں نے اُسے دیکھ لیا تھا۔۔۔
اور اب وہ سب خوشی سے چیختے ہوئے اُس کی طرف بھاگ رہے تھے۔
یہ بچوں کا روز کا معمول تھا۔
بارہ بجے اسکول سے آتے…
کھانا کھا کر دو سے تین بجے تک اسی سوسائٹی میں گھومتے پھرتے نظر آتے…
پھر مدرسے جاتے… پھر ٹیوشن…
اور رات کو دوبارہ کھیلنے نکل آتے۔
بچے خوشی سے پریشے کے گرد جمع ہو چکے تھے۔
اسی لمحے اسوان تیزی سے مڑا۔
اور اس کی نظر سیدھی پریشے پر جا کر ٹھہر گئی۔
وہ بھی اُسی کو دیکھ رہی تھی۔
کتنے دنوں بعد وہ اسے اس طرح سامنے دیکھ رہا تھا۔
نہ کوئی دیوار… نہ کوئی دروازہ… نہ کوئی فاصلے۔
بس وہ… اور اُس کے سامنے پریشے۔
پریشے کی نظریں چند لمحے اسوان پر ٹکیں…
پھر جیسے اُس نے خود کو سنبھالا… اور نظریں پھیر لیں۔
بچے اُس کے گرد جمع ہو گئے تھے۔..
اسوان کی نظریں اب تک پریشے کے اوپر تھی وہ بچوں سے کُچھ بات کر رہی تھی۔۔۔ بچے کچھ کہہ رہے تھے… رشیدہ بیگم وہیں کھڑی تھیں… مگر اسوان کے کانوں تک کچھ نہیں پہنچ رہا تھا۔
وہ بس اُسے دیکھ رہا تھا…

تو بات یہ ہے کہ میں تمہیں بھول کیوں نہیں پاتا…
بھوری آنکھیں…
سنہرے بال…
اور وہ پیاری سی مسکراہٹ…
یہ تم ہو…
تمہارے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا…
تیرا چہرہ مجھے میرے سائے میں دکھتا ہے…
میرے سائے کے بغیر میں گھر سے نکل نہیں پاتا…
کوئی پوچھے تیرے بارے میں…
تو کیا ہی جواب دوں…
خاموش ہی رہتا ہوں…
کچھ کہا نہیں جاتا…
میں خود میں میں ڈھونڈ رہا ہوں…
مگر مجھ میں صرف تُو بچا ہے…
تُو مجھے دیکھ تو ایک بار…
تجھے کیوں کچھ سمجھ نہیں آتا ہے…
دن کا تو ٹھیک ہے…
میں صبر کر لیتا ہوں…
تنہا رات میں…
اب مجھ سے رہا نہیں جاتا…
سوال ہمیشہ سے یہی تھا…
جواب آج بھی نہیں ہے…
میں تمہیں بھول کیوں نہیں پاتا ہوں…
پریشے بچوں کے جھنڈ سے آہستہ آہستہ نکل کر اسوان کی طرف بڑھی۔
اسوان اب تک اُسی کو دیکھ رہا تھا…
پریشے اُس کے سامنے آ کر رکی۔
ایک لمحے کو دونوں کی نظریں ملیں… پھر پریشے نے بنا کچھ کہے اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ کا ڈبہ لے لیا۔
وہ مڑی اور بچوں میں چاکلیٹ بانٹنے لگی۔
بچے خوشی سے شور مچا رہے تھے۔
کوئی دو مانگ رہا تھا… کوئی ہنس رہا تھا… کوئی پریشے کے گال پر پیار کر رہا تھا۔۔۔
تبھی اسوان کی آواز سنائی دی۔
کہتے ہیں… جن سے محبت ہو… پھر وہ جن سے محبت کرتے ہیں… اُن سے بھی محبت ہو جاتی ہے۔
پریشے کے ہاتھ ایک لمحے کو رکے… مگر اُس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
اسوان نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور دو شاپر نکالے جن میں بچوں کے لیے اور بھی چیزیں تھیں۔
وہ بھی بچوں میں بانٹنے لگا۔
اسی دوران پریشے نے ہلکا سا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
اس نظر میں نہ حیرت تھی… نہ خوشی… بس ایک خاموش تھی۔
مگر وہ پھر بھی کچھ نہ بولی۔
اسوان بچوں میں چیزیں بانٹتا رہا۔
اور جب پریشے پلٹ کر وہاں سے جانے لگی…
تو اسوان کی آواز ایک بار پھر اس کے قدموں کو روک گئی۔
میں آج اپنی ضد… اپنی انا… اپنا آپ سب تم پر وارنے آیا ہوں۔
وہ چند قدم اس کی طرف بڑھا۔
میں آج تمہیں لینے آیا ہوں… پریشے۔۔۔
رشیدہ بیگم کی سخت آواز فضا میں گونجی۔
اے… وہ نہیں جائے گی تیرے ساتھ۔
چلا جا یہاں سے۔
پریشے کے قدم اس آواز پر رک گئے۔
دل کے کسی کونے میں ایک لمحے کو خواہش جاگی…
کہ وہ مُڑ جائے…
سب کچھ بھلا دے…
اور اُس کے ساتھ چلی جائے۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے خود کو روک لیا۔
ادھر اسوان کی آواز پھر سنائی دی… اس بار پہلے سے زیادہ ٹوٹی ہوئی۔
پریشے… مجھے معاف کر دو۔
میں نے جو بھی کچھ کیا… تمہارے ساتھ… سب کے لیے۔
اس کی آواز میں ایک بے بسی تھی جو شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔
تم کہو تو میں یمنٰہ کو بھی چھوڑ دوں گا تمہارے لیے۔ میں تمہیں بھلا نہیں پا رہا ہوں…
مجھ پر رحم کھا لو پریشے۔۔ میں تُم سے تُمہاری رحم کی بھیک مانگ رہا ہوں۔۔۔
میرے پاس واپس آ جاؤ… پریشے۔
پریشے اب تک مُڑی نہیں تھی۔
مگر اُس نے لمبی سی خاموشی کو توڑ دیا۔
آواز آہستہ تھی… مگر لفظ بہت صاف تھے۔
میں ایک عورت ہو کر دوسری عورت کا گھر برباد نہیں کر سکتی۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے اپنے گھر کی طرف بڑھ گئی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی…
اگر وہ وہاں ایک لمحہ بھی اور رُکی…
تو شاید اس کا دل واقعی بغاوت کر بیٹھے گا۔
پریشے…
اسوان بے اختیار اُس کی طرف بڑھا۔
مگر رشیدہ بیگم فوراً اس کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔
اے… بس! ہو گیا جو ہونا تھا۔ اب چلا جا یہاں سے۔
اسوان چند لمحے وہیں کھڑا رہ گیا۔
دل چاہ رہا تھا کہ وہ اندر جائے…
سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے…
سب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کرے۔
مگر رشیدہ بیگم نے اُسے دروازے تک آنے ہی نہ دیا۔
آخرکار…
وہ اُسی جگہ سے لوٹ گیا…
جہاں سے آیا تھا۔
مگر اس بار اس کے قدم پہلے جیسے مضبوط نہیں تھے۔
جیسے وہ صرف واپس نہیں جا رہا تھا…
بلکہ اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ وہیں چھوڑ کر جا رہا تھا۔
+++++++++++++

یونیورسٹی کا آج کائنات کا پہلا دن تھا…
اور وہ حیران تھی کہ یہ دن اُس کی توقع سے کہیں زیادہ اچھا گزرا تھا۔ اور تو اور زیدان اُسے خود یونیورسٹی چھوڑنے آیا تھا اور اب لینے بھی آنے والا تھا۔۔۔
کلاس ختم ہو چکی تھی اور چھٹی میں ابھی دس منٹ باقی تھے۔
وہ حرا کے ساتھ یونیورسٹی کے اندر ہی آہستہ آہستہ ٹہل رہی تھی۔
حرا نے مسکراتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا۔
تمہارا خواب تو اب پورا ہونے جا رہا ہے۔
کائنات کے چہرے پر خوشی کی نرم سی روشنی پھیل گئی۔
ہاں… اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
حرا نے ذرا شرارتی انداز میں پوچھا۔
تو اب ڈاکٹر بننے کے بعد اپنے شوہر کو چھوڑ دو گی؟
کائنات نے چند لمحے سوچا… پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
شاید… کچھ کہہ نہیں سکتی۔
اگر مجھے لگا کہ مجھے انہیں چھوڑنے کی ضرورت ہے… تو چھوڑ دوں گی۔
حرا نے حیرانی سے بھنویں اٹھائیں۔
تو کیا وہ اب ٹھیک ہیں تمہارے ساتھ؟
کائنات نے آہستہ سے سر ہلایا۔
ٹھیک تو پہلے بھی تھے… بس غصہ اُن کی ناک پر رہتا ہے۔
باقی کوئی برائی نہیں ہے اُن میں۔
بلاوجہ تو غصہ نہیں کرتے نا؟
کائنات ہلکا سا ہنس دی۔
نہیں… تھوڑے بددماغ ہیں۔
کبھی میری بڑی سے بڑی بات کو بھی سیریس نہیں لیتے… ہوا میں اُڑا دیتے ہیں۔
اور کبھی میری ذرا سی بات پر آگ بگولا ہو جاتے ہیں۔
حرا نے کندھے اچکا دیے۔
چلو… دیکھ لو۔ جیسے تمہیں ٹھیک لگے ویسا کرنا۔۔۔
ہاں…
اسی دوران چھٹی ہو گئی۔
دونوں یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف بڑھنے لگیں۔
مگر گیٹ کے باہر زیدان نہیں… کوئی اور کھڑا تھا۔
ارسم۔
کائنات کو دیکھتے ہی وہ تیزی سے اُس کی طرف بڑھا۔
السلام علیکم۔
وعلیکم السلام… آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
ارسم کی آواز میں عجیب سی بے چینی تھی۔
میں جا رہا ہوں یہاں سے… لندن۔
کائنات نے سادہ سا جواب دیا۔
اچھی بات ہے۔
مگر ارسم نے فوراً کہا۔
کائنات… تم ایک دفعہ پھر سوچ لو۔
میرے ساتھ چلو… پلیز۔
تم مجھ سے جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟
کائنات کا چہرہ سخت ہو گیا۔
میں نے آپ سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔۔۔
ارسم نے اچانک اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
یہ سب تم زیدان کی وجہ سے کہہ رہی ہو۔
تم اُس سے ڈرتی ہو نا؟ بس ہاں کر دو… پھر دیکھنا میں اُس درندے سے بھی تمہیں بچا لوں گا۔
میرے ساتھ چلو۔
اُس کے ہاتھ پکڑنے کی دیر تھی…
کائنات کا ہاتھ زور سے اٹھا…
چٹاخ!
زور دار تھپڑ ارسم کے گال پر پڑا۔
آس پاس کھڑے لوگوں کی نظریں فوراً اُن دونوں کی طرف اٹھ گئیں۔
کائنات کی آنکھوں میں غصہ بھڑک رہا تھا۔
آپ کو شرم نہیں آتی؟!
ارسم غصے سے تڑپ اٹھا۔
تُم نے مجھے تھپڑ مارا؟!
اُس نے فوراً کائنات کے دونوں بازو زور سے پکڑ لیے۔
حرا فوراً آگے آئی۔
چھوڑیں اسے۔۔۔
وہ ارسم کو دھکا دینے لگی۔
مگر ارسم نے ایک ہاتھ سے اُسے زور سے پیچھے دھکیل دیا۔
حرا لڑکھڑا کر دور جا گری۔
سب لوگوں کی نظر اُن پر تھی۔۔۔۔ مگر کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ سب تماشائی بنے کھڑے تھے۔
اچانک…
پیچھے سے کسی نے ارسم کے بال پکڑے…
اور زور سے اُسے سامنے والی دیوار سے دے مارا۔
دھڑام!
ارسم کا سر دیوار سے ٹکرایا اور خون بہنے لگا۔
زیدان کی سرد آواز گونجی۔
تو اس قابل نہیں ہے… کہ تیرے ساتھ ہمدردی کی جائے۔
ارسم نے سر تھام کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔
زیدان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔
ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی؟
اگلے ہی لمحے اُس کا مکا ارسم کے چہرے پر پڑا۔
ارسم بھی چیخ اٹھا۔
مار لے… مار لے! اور تُو کر بھی کیا سکتا ہے؟
تجھے مارنے کے علاوہ آتا ہی کیا ہے؟!
تیرے اسی ڈر کی وجہ سے کائنات تیرے ساتھ رہ رہی ہے۔
ورنہ وہ کب کا تجھے چھوڑ چکی ہوتی۔
زیدان کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی۔
وہ کیوں چھوڑے گی مجھے؟ بکواس نہ کر۔۔۔۔
ارسم چیخا۔
بکواس نہیں کر رہا… سچ کہہ رہا ہوں!
تو چھوڑ دے اُسے… وہ تیرے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔۔
زیدان نے تیزی سے کائنات کی طرف دیکھا۔
آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔
تم… مجھے چھوڑنا چاہتی ہو؟
کائنات ایک لمحے کو سہم گئی۔ اُسے کُچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔
بغیر سمجھے اُس کا سر ہل گیا… جیسے ہاں۔
مگر اگلے ہی لمحے اُسے اپنی حرکت کا احساس ہوا۔
ن… نہیں…
زیدان کی آواز اور بھی سخت ہو گئی۔
تم اگر ایسا چاہتی بھی ہو نا…
تو اپنے دل و دماغ سے یہ بات نکال دو۔
میں چھوڑنے والا نہیں ہوں تمہیں۔
اور نہ ہی تمہیں چھوڑنے دوں گا۔
پھر اُس نے ارسم کا کالر پکڑ لیا۔
اور تُو بھی سن لے…
زیدان کو کائنات سے صرف ایک چیز الگ کر سکتی ہے…
اور وہ ہے موت۔
ارسم ہانپتے ہوئے بولا۔
چھوڑ دے اُسے… وہ تیری نہیں ہے۔
اگلا مکا پھر اُس کے چہرے پر پڑا۔
میں نے کہہ دیا نہیں چھوڑوں گا… تو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔
زیدان اُسے مسلسل مارتا جا رہا تھا۔
چند لمحوں میں وہاں بڑا ہجوم جمع ہو گیا…
مگر کوئی آگے نہ بڑھا۔
سب بس تماشا دیکھ رہے تھے۔
حرا ڈرتے ہوئے کائنات کے پاس آئی۔
روکو نا انہیں… یہ تو انہیں جان سے مار دیں گے۔۔۔
کائنات کی آواز کانپ رہی تھی۔
کیسے روکوں… مجھے خود ڈر لگ رہا ہے۔ دیکھ نہیں رہی کتنے غصے میں ہیں۔۔۔
پھر بھی روکو… کچھ تو کرو۔۔۔
کائنات نے زور سے پکارا۔
رک جائیں… پلیز… رک جائیں نا۔۔۔۔
مگر زیدان نے نہیں سنا۔
وہ ارسم پر مسلسل ہاتھ اٹھا رہا تھا۔
آخرکار کائنات دوڑ کر اُس کے پاس گئی…
اور اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
بس کریں نا…
زیدان کی سانسیں تیز چل رہی تھیں۔
میں نے اسے ایک موقع دے دیا تھا…
اب نہیں دوں گا۔۔۔۔
پلیز… کائنات نے التجا کی
کائنات… پیچھے ہٹ جاؤ۔ زیدان نے سرد لہجہ میں کہا
کائنات کی آواز نرم ہو گئی۔
انہیں مار کے کیا ملے گا آپکو۔۔۔۔ میں تو آپ کے پاس ہی ہوں۔
زیدان نے دانت بھینچ لیے۔
دور جانے بھی نہیں دوں گا…
نہیں کرے نہ… پلیز چھوڑ دیں… جانے دیں۔۔۔
پیچھے سے حرا بھی بولی۔
پلیز نہ کریں… یہ مر گئے تو پولیس کیس ہو جائے گا۔۔۔
ارسم زمین پر پڑا تھا…
زیدان اُسے اتنا مار چکا تھا کہ وہ درد سے بلبلانے لگا تھا۔
کائنات نے زیدان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر کھینچا۔
چلیں… گھر چلیں…
زیدان نے ایک لمحہ ارسم کو دیکھا…
پھر نہ چاہتے ہوئے بھی کائنات کے ساتھ چل پڑا۔
اور جب وہ دونوں وہاں سے نکل گئے…
تو پیچھے کھڑی حرا نے فوراً ایمبولینس کو فون کر دیا۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *