Teenage written by Ayesha Aftab…(Article).

(“teenage”) ٹین ایج

اردو آرٹیکل بقلم عائشہ آفتاب

ٹین ایج ہم سب کی زندگی کا وہ دور ہے جہاں انسان ایک نئے سفر پرقدم رکھتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں ہماری بچپن کی معصومیت آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتی ہے اور ایک نئی سوچ،نئی کیفیات اور نئی الجھنیں زندگی میں شامل ہو جاتی ہیں۔

یہ عمر بہت نازک ہوتی ہے ۔یہ ہمارے دل اور دماغ دونوں کو ہال دیتی ہے۔ اس لیے زندگی کے اس دور کو سمجھنا ، سنھبالنا اور ٹھیک طریقے سے گزارنا بہت ضروری ہوتا ہے۔زندگی کے اسی دور میں انسان کو اس کے جذبات بہت طاقتوردل پر اثر کر جاتی ہے۔ً

امحسوس ہوتے ہیں۔ایک چھوٹی سی بات فورکسی کی ایک مسکراہٹ ہمارا دن بنا دیتی ہے۔ کسی کی ایک بے رخیرات بھر سونے نہیں دیتی ۔ ہمیں لگتا ہے کہ سب کچھ اتنا شدید کیوں محسوس ہو رہا ہے؟

لیکن یہ بالکل فطری ہے۔ یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے۔ٹین ایج کا ایک حصہ محبت کا احساس بھی ہوتا ہے ۔ اکثر لوگ کہتےہیں کہ ٹین ایج کی محبت بچپنا ہوتی ہے ، لیکن حقیقت میں یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔

یہ ہمارے دل کا پہال امتحان ہوتا ہے۔ اسی دور میں کسی سے جذباتی طور پر جڑ جانا بہت آسان ہوتا ہے۔ کسی کاذرا سا نرم رویہ محبت محسوس ہوتا ہے، کسی کی تھوڑی سی توجہ اہمیت لگتی ہے۔ اور یہ سب محسوس کرنا غلط نہیں ہے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے اسی عمر میں محبت کو غلط سمجھا جاتا ہے۔ہمارے دل کو لگتا ہے کہ جس کو ہم پسند کرتے ہیں وہی شخص ہمارامستقبل ہے۔لیکن وقت کے ساتھ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم غلط تھے

یہ شخص تو ہمارے لیے بنا ہی نہیں تھا۔ اکثر یہ صرف ہمارے لیے ایک سبق ہوتا ہے ۔ اسی لیے ٹین ایج کو سوچ سمجھ کر گزارنا چاہئیے ۔ اپنےجذبات کو ایک طرف رکھ کر اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سوچناچاہیے۔

اسی عمر میں انسان سب سے زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔ لیکن ان غلطیوں میں سب سے خطرناک غلطی یہ ہوتی ہے ک اپنے آپ کو کم تر سمجھنےلگتا ہے۔ کسی اور کے نظرانداز کرنے سے یہ لگنے لگ جاتا ہے کہ شاید ہم قیمتی نہیں۔ اسی طرح کسی کے چھوڑ جانے سے لگتا ہے کہ ہم میں کمی تھی ۔

یہی سوچ انسان کو توڑ دیتی ہے ۔ حالانکہ اصل حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ زندگی کے اس دور میں ہر چیز عارضی ہوتی ہے،جذبات بھی، لوگ بھی،دکھ بھی اور ان عارضی چیزوں کو مستقل سمجھ لینا سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے ۔ٹین ایج میں انسان کا دل بہت جلدی ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک معمولی سی مایوسی پوری دنیا کے ختم ہونے جیسی لگتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ زندگی ختم ہو گئی۔ یہ آپ کیلئے صرف ایک یاد دہانی ہوتی ہے کہ اللہ ہمیں بہتر راستے کی طرف لے جانا چاہتا ہے ۔

بہت دفعہ اللہ ہمیں کسی غلط رشتے سے دور کر کے ہماری حفاظت کرتا ہے، مگرہم اسے اپنے لیے سزا سمجھ لیتے ہیں۔اسی عمر میں نا محرم رشتوں کا فتنہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمارے دل کو کسی کا ساتھ چاہیئے ہوتا ہے ۔ کسی کا سہارا چاہیئے ہوتاہے

اور جب ہمارے گھر والے، ہمارے دوست ہمیں وہ توجہ نہیں دےپاتے تو ہم غلط جگہ اپنا سکون تلاش کرنے لگتے ہیں۔ سوشل میڈیا ،خفیہ باتیں ، چھپے ہوئے تعلقات۔ شروع میں سب کچھ بالکل ٹھیک لگتا ہے ، لیکن رفتہ رفتہ خوف ، بے سکونی اور گناہ کا احساس ہمارےدل میں جگہ بنانے لگتا ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک حدود دی ہے لیکن جب ہم خود اس حدود کو توڑتے ہیں تو سب سے پہلے تکلیف ہمیں ہوتی ہے۔

حرام رشتہ پہلے تو سکون دیتا ہے لیکن آہستہ آہستہ ہماری بے سکونی کا باعث بنتا ہے ۔

حلال رشتہ وقت لیتا ہے لیکن اصل میں اس میں اللہ کی برکت شامل ہوتی ہے ۔ اللہ کی حکمت ہم انسانوں کی سمجھ سے بہت مختلف ہوتی ہے ، مگر اس کا انجام ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔

ٹین ایج میں اپنا موازنہ دوسروں سے کرنا سب سے زیادہ زہر بنتا ہے ۔کسی بھی خوبصورت انسان کا چہرہ دیکھ کر ہم خود کو کم تر سمجھ لیتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی سے زیادہ کسی دوسرے کی زندگی بہتر لگتی ہے ۔ اور ہمیں لگنے لگتا ہے کہ ہماری زندگی میں کچھ خاص نہیں ہے

ہماری زندگی بے کار ہے۔لیکن اکثر جو ہم دیکھتے ہیں وہ حقیقت نہیں ہوتی۔ جو لوگ بہترین نظر آتے ہیں وہ بھی اپنے اندھیروں سے گزرے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے ہرانسان کو الگ آزمائش دی ہے۔ اگر آپ کو اپنا راستہ سست نظر آتا ہےتو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ آپ کمزور ہو یا آپ کا اس دنیامیں کوئی مقصد نہیں ہے

اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ آپ کو اسوقت کے لیے تیار کر رہا ہے جب آپ ایک مضبوط انسان بن کر دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائیں گے ۔ٹین ایج وہ دور ہے جہاں انسان خود کو کھو بھی دیتا ہے اور پا بھی لیتا ہے

یہ دور ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں سب سے پہلے خود کو سنبھالنا سیکھنا ہوگا ۔ ہمیں اپنی قدر کرنا سیکھنا ہوگا اور اللہ کو اپنا ساتھی بنانا ہوگا۔

اگر آپ اس وقت الجھنوں سے گزر رہے ہیں، کسی سے خفیہ طور پر جڑے ہوئے ہیں، کسی دل ٹوٹنے سے گزر چلے ہیں یا آپ کسی دباؤ میں ہیں ۔ تو آپ ایک بات یاد رکھیں ۔

آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپکی کیفیت بالکل نارمل ہے ۔ آپکو بس خود کواللہ کے اور قریب لے جانا ہے۔

ٹین ایج ختم ہو جاتی ہے ۔ دل کی تکلیف بھی گزر جاتی ہے۔ لیکن جوانسان اسی دور میں اپنی قدر پہچان لیتا ہے، اللہ اس کا مستقبل بہت خوبصورت بنا دیتا ہے۔

یہ دور مشکل ضرور ہوتا ہے ، لیکن اسی میں آپکی اصل مضبوطی کی بنیاد رکھی جاتی ہے ۔ اور جس بنیاد میں حلال ہو، وہ ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے۔

(ختم شد)

 

1 Comment

  1. Obsessed 😍💓 I have no words how I like this article litterly a teenager life faces these things…ahh
    Amazing 🤩😍 article 👏🎉👏

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *