وقت
ازقلم انیقہ شعیب ۔۔۔
وقت ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل گیا
دل کا ہر خواب آنکھوں میں ہی مچل گیا
ہم نے جس کو رکھا تھا دل کے بہت قریب
وہی رشتہ نہ جانے کیسے بدل گیا
کل جو ہنستا تھا میرے ساتھ بیٹھ کر
آج وہی شخص نظریں چرا کے نکل گیا
میں نے چاہا تھا حالات سے سنبھل جاؤں
پر ہر حوصلہ آنکھوں میں ہی پگھل گیا
زندگی کے سوالوں میں یوں الجھی رہی
میرا سادہ سا دل بھی آہستہ بدل گیا
وقت کو روکنا میرے بس میں نہ تھا
وہ تو خاموشی سے آیا اور گزر گیا۔
