تقدیرِ ازل ( از قلم صدیقی)
آخری قسط۔۔۔۔۔
اسوان کیفے کے ایک کونے میں بیٹھا تھا…
سامنے رکھی کافی کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی مگر اُس کے ذہن میں چلنے والے طوفان کو کوئی تھام نہیں پا رہا تھا۔
وہ بار بار ایک ہی سوال میں الجھ رہا تھا…
کیا میں صحیح کر رہا ہوں…؟
اسی کشمکش میں اُس کی نظر اچانک کیفے کے پچھلے حصے پر پڑی…
اور وہاں…
یمنہ بیٹھی تھی… کسی اجنبی لڑکے کے ساتھ۔
ایک لمحے کو اسوان کے اندر کچھ ہلا…
مگر اگلے ہی لمحے اُس کے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آگئی۔
یہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی…
وہ بغیر کسی ردِعمل کے اُٹھا…
اور خاموشی سے اپنی جگہ بدل کر ایسے کونے میں جا بیٹھا جہاں سے یمنہ اُسے دیکھ نہ سکے۔
اب اُس کے لیے وہ سب ختم ہو چکا تھا…
نہ کوئی سوال… نہ کوئی شکوہ… نہ کوئی تعلق۔
چند لمحوں بعد…
کیفے کے دروازے سے وہ اندر آئی…
پرِیشے۔
سادگی میں لپٹی…
مگر ہمیشہ کی طرح پُرسکون اور پُراعتماد۔
وہ سیدھا اُس کے سامنے آ کر رُکی۔
السلام علیکم… فرمائیے… کیا سوچا آپ نے؟
اسوان نے ہلکا سا سر اٹھایا…
وعلیکم السلام… بیٹھو۔
وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسوان بولا…
تم… گھر سے جانے کے بعد بیمار ہو گئی تھی؟
پرِیشے نے چونک کر اُسے دیکھا۔
آپ کو کس نے بتایا؟
اسوان کی آواز سخت ہو گئی…
جو پوچھا ہے… اُس کا جواب دو۔
پرِیشے نے بس سر ہلایا۔۔۔
اسوان نے آہستہ سے کہا…
سوری…
وہ لمحہ بھر رُکا… پھر بولا،
تم چُپ چاپ کیوں چلی گئی… چیختی… چِلاتی… مجھے پر، تھپڑ مار دیتی… ہمیشہ سے تُم ایسا ہی کرتی ہو، تو اُس دِن پھر کیوں تُم چپ چاپ چلی گئی۔۔۔
پرِیشے نے فوراً جواب دیا،
آپ کو تھپڑ کھانے کا بہت شوق ہے؟
اسوان ہلکا سا مسکرایا…
نہیں… شاید اُسی وقت میرے ہوش ٹھکانے آ جاتے…
اسوان نے موضوع بدلا…
تم نے تو پڑھائی چھوڑ دی تھی… پھر یہ یونیورسٹی اچانک؟
پرِیشے کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اگر آپ اسوان ہیں… تو میں بھی پھر پرِیشے ہوں… چُپکے سے جاتی تھی یونیورسٹی… آپ کے گھر سے ہی…
اسوان جیسے سُن ہو گیا۔
کیا…؟ میرے گھر میں… میری مرضی کے بغیر۔
میری مرضی کے بغیر میرے گھر میں ایک صوفہ تک نہیں بدلتا… اور تم؟!
پرِیشے نے سکون سے کہا،
پریشے کو نہیں سننے کی عادت نہیں ہے۔۔۔
لیکن مجھے پتہ کیسے نہیں چلا۔۔۔
اپنے آفس جانے کے بعد گھر سے نکلتی تھی اور آپ کے آفیس آنے سے پہلے ہی گھر واپس آجاتی تھی۔۔ سارے گھر والوں کو بھی پتہ تھا۔۔ سب کو لگا آپ نے اجازت دی ہے… لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا…
اسوان نے گہری سانس لی۔
بہت چالاک ہو تم…
آپ سے سیکھی ہے چالاکی…
چند لمحے خاموشی میں گزرے… پھر اسوان نے سیدھا سوال کیا،
پری کو ساتھ کیسے لے جاؤ گی؟ اسکالرشپ پر؟
پرِیشے فوراً سنبھل گئی۔
پرنسپل میم سے بات ہو گئی ہے… میری فیس، ہاسٹل سب وہ دیں گے… مُجھے تو ریسپانڈ کر رہے ہیں، لیکن پری کا آنے جانے اور وہاں کا سب کا خرچ مجھے خود اُٹھانا ہوگا…
اور میں نے میم سے کہہ دیا ہے…آپ اس چیز کی فکر نہ کریں۔۔ میری بیٹی کا باپ بہت امیر ہے…
پھر اُس نے ہلکی سی طنزیہ نظر سے اسوان کو دیکھا۔
امیر ہے نہ۔۔۔؟؟
اسوان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
ہاں… بالکل ہے۔۔۔لیکن تم نے کبھی میرے پیسے استعمال نہیں کیے… کیوں؟
پرِیشے کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔
میں نے مانگا تو تھا… کہ یونیورسٹی کی فیس دوں گی… وہ میں نے حقِ مہر کے پیسوں سے دے دی… باقی ہسپتال والے پیسے محلے والوں کی مدد سے لیے تھے… وہ اُنہیں واپس کر دیے…
وہ چند لمحے رکی، پھر دھیرے سے بولی،
اور پھر میرا دل یہ گوارا نہیں کر رہا تھا کہ میں آپ کے پیسے خرچ کروں…
اسوان نے پوچھا، کیوں؟
پریشے نے سیدھا جواب دیا،
کیونکہ شوہر بننا تھا نا… صرف نام کا شوہر نہیں کہنا تھا آپ کو… ماننا بھی تھا…
اسوان اُسے دیکھتا رہ گیا۔
یہ کیا منطق ہے؟
چھوڑیں… اپنا فیصلہ سنائیں…
اسوان نے ایک گہری سانس لی…
جیسے خود کو اندر سے مضبوط کر رہا ہو۔
پھر اُس نے سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا…
مجھے تمہاری شرط منظور ہے…
پرِیشے جیسے ساکت رہ گئی۔
سچ میں…؟
اسوان نے بغیر ہچکچائے جواب دیا،
ہاں… سچ میں…
وہ آگے جھکا… آواز دھیمی مگر مضبوط تھی،
صرف انتظار ہی تو کرنا ہے نا… کر لوں گا…
لیکن تمہیں کھو کر پوری زندگی کا خسارہ نہیں کر سکتا…
اور پرِیشے حیرانی سے اسوان کا چہرا دیکھتی رہ گئی۔۔
+++++++++++
آج پھر یونیورسٹی جاتے وقت کائنات حسبِ عادت اپنا ہاتھ پھیلائے زیدان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
زیدان نے اُسے دیکھ کر بھنویں اُچکائیں۔
اتنے پیسے تو ہیں تمہارے پاس…
کائنات نے فوراً جواب دیا،
میں چاہے جتنی بھی امیر کیوں نہ ہو جاؤں… آپ کو تو مجھے پیسے دینے ہی پڑیں گے…
کیوں…؟
کائنات نے فخر سے ٹھوڑی اُٹھائی۔
کیونکہ بیوی کا حق ہوتا ہے یہ…
زیدان نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
پہلے تمہیں یہ حق یاد نہیں آیا…؟
کائنات نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
آیا تھا… لیکن تب میں سمجھتی تھی آپ بےروزگار ہیں… مجھے کیا معلوم تھا آپ اتنے بڑے جم ٹرینر ہیں…
زیدان پھر جیب سے چند نوٹ نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔
لو… خوش…؟
کائنات نے فوراً نوٹ سنبھالے اور چمکتی آنکھوں سے بولی،
بہت…
زیدان نے اُسے غور سے دیکھا۔
اور تمہیں اب جم نہیں جانا…؟
کائنات نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… میں کیا کروں گی جم جا کر… میں کوئی موٹی تھوڑی ہوں…
زیدان نے آنکھیں سکیڑ کر کہا،
تو گئی کیوں تھی…؟
کائنات ہلکا سا شرما کر بولی،
دیکھنے گئی تھی نا… دیکھ لیا… اب کسی دن دل کیا تو چلی جاؤں گی…
چلو… میں یونی چھوڑ دیتا ہوں تمہیں…
کائنات کے لبوں پر فوراً مسکراہٹ آگئی۔
ہاں… میں یہ کہنے والی تھی…
وہ دونوں ساتھ دروازے کی طرف بڑھے…
اور کائنات دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی…
کیونکہ اب وہ مان چکی تھی،
یہ صرف اُس کا شوہر نہیں… بلکہ اُس کا اپنا تھا۔۔۔
++++++++++++
جب گھر والوں کو پتا چلا کہ اسوان، پری کو باہر بھیج رہا ہے… وہ بھی پریشے کے ساتھ… تو پورے گھر میں جیسے ہلچل مچ گئی۔
ہر طرف اعتراض ہی اعتراض تھا…
کوئی ماننے کو تیار نہیں تھا۔
اتنی چھوٹی بچی کو اتنی دور بھیج دو گے…؟
وہ بھی سوتیلی ماں کے ساتھ…؟
یہاں تو ہم سب نظر رکھتے ہیں بہت وہ بچی کے ساتھ کیا کر دے کیا پتا چلے گا کسی کو۔۔۔
مگر ان سب آوازوں کے درمیان…
ایک آواز سب پر بھاری تھی… اور وہ تھی اسوان کی۔
اس نے فیصلہ کر لیا تھا…
اور اس گھر میں جب اسوان فیصلہ کر لیتا تھا…
تو پھر کسی اور کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی تھی۔
اصل میں… اسے ایسا بنایا ہی گیا تھا۔
راضیہ بیگم اور فیضان صاحب کے ہوتے ہوئے بھی…
گھر میں آخری بات ہمیشہ اسوان کی ہی مانی جاتی تھی۔
اور اب تو حالات اور بھی بدل رہے تھے…
ابھی پری کی بحث ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک نیا موضوع چھڑ گیا۔۔۔
حریم بیگم نے اپنے بیٹے دائم کے لیے زارا کا ہاتھ مانگ لیا تھا۔
یہ خبر جیسے ہی زارا تک پہنچی…
اُس کے قدم وہیں رک گئے۔
چہرے کا رنگ اُڑ گیا…
کیا…؟ اُس کے لبوں سے بےاختیار نکلا۔
اُسے یوں لگا جیسے کسی نے اچانک اُس کے سر پر بم گرا دیا ہو۔
+++++++++++++
زارا غصے سے فون کان سے لگائے کھڑی تھی،
چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور آنکھوں میں جھنجھلاہٹ صاف نظر آ رہی تھی۔
تمہارا دماغ خراب ہے کیا…؟ میں تم سے شادی کروں گی…؟
دائم کی طرف سے ہلکی سی بےبسی بھری آواز آئی،
یار میں کیا کروں… ماما کی پسند ہو… وہ میری سن ہی نہیں رہیں…
زارا نے دانت بھینچے۔
مرد بنو… مرد… جا کر صاف صاف منع کر دو…
دائم نے لمبی سانس لی۔
نہیں مان رہی نا… میں نے تمہاری اتنی برائی بھی کی ہے اُن کے سامنے… لیکن وہ اپنی بات سے پیچھے ہی نہیں ہٹ رہیں…
زارا ایک لمحے کو چونکی… پھر بھڑک اُٹھی۔
تم نے میری برائی کی…؟ مجھ میں کیا برائی ہے…؟ اچھی خاصی ہوں… کوئی برائی نظر آتی ہے مجھے…؟
دائم ہلکا سا ہنسا،
وہی نا… ماما بالکل یہی کہہ رہی تھیں… اب میں کس منہ سے منع کروں…؟
زارا نے جھنجھلا کر پیشانی پر ہاتھ مارا۔
تم کہہ دو تم کسی اور کو پسند کرتے ہو…
لیکن میں تو کسی کو پسند نہیں کرتا…
ارے جھوٹ بول دو نا…!
دائم فوراً بولا،
پھر ماما کہیں گی کون ہے وہ لڑکی… ملو مجھے… تو میں کیا کروں گا…؟
زارا نے جھٹکے سے کہا،
افف کچھ بھی کہو… جیسے بھی… کچھ بھی کرو…
دائم نے تھوڑا رک کر کہا،
تم منع کر دو نا…
زارا کی آواز میں بےبسی آگئی۔
ادھر ہزار دفعہ میں کہہ چکی ہوں سب سے… لیکن کوئی سنتا کہاں ہے میری…
ابو سے تو کچھ کہہ ہی نہیں سکتی… زرتاشہ کی وجہ سے ابو پہلے ہی اپ سیٹ ہیں…
دائم نے آخرکار ہار مانتے ہوئے کہا،
بس ہو گیا… میں بھی کچھ نہیں کر سکتا… تم دیکھ لو…
اور اگلے ہی لمحے…
فون کٹ گیا۔
زارا چند لمحے فون کو دیکھتی رہ گئی… جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو۔
یہ پہلی بار تھا…
کہ دائم نے خود فون کاٹا تھا…
ورنہ ہمیشہ وہی کرتی تھی۔
آہہ… بدتمیز کہیں کا… وہ غصے سے بڑبڑائی۔
جاہل… ہمت تو دیکھو اس کی…
وہ تیزی سے کمرے میں ٹہلنے لگی۔
اس کی تو میں چھوڑوں گی نہیں… مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا…
اس نے فوراً فون اٹھایا… اور زرتاشہ کا نمبر ملا دیا۔
زرتاشہ نے فون اُٹھاتے ہی سیدھا پوچھا،
ہاں بولو…
زارا کی آواز میں جھنجھلاہٹ صاف تھی۔
مجھے بتاؤ یہ دائم سے میں اپنی جان کیسے چھڑاؤں…؟
زرتاشہ نے بالکل سادہ لہجے میں کہا،
چپ سے شادی کرو… اور لندن چلی جاؤ…
یار… زارا تقریباً چیخ پڑی،
تم جانتی بھی ہو اسے… ایک نمبر کا سائیکو انسان ہے وہ…
صرف اُلٹی سیدھی باتیں ہی کرتا ہے نا بس… اور تو کوئی برائی نہیں اُس میں…
دیکھو… اچھا کماتا ہے، ڈیسنٹ سا لڑکا ہے… لڑکیوں کی اتنی عزت بھی کرتا ہے…
اوپر سے انڈر اسٹینڈنگ ہے… تمہیں سمجھے گا… تمہارا خیال بھی رکھے گا…
زارا چند لمحے خاموش رہی… پھر حیرانی سے بولی،
تمہیں کیا ہو گیا ہے…؟ تم کب سے کمپرو مائز والی باتیں کرنے لگی…؟
زرتاشہ کی آواز اب سنجیدہ ہو گئی۔
ہر رشتے میں کمپرو مائز کی ضرورت ہوتی ہے، زارا…
سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم سوچتے ہیں…
اور میاں بیوی کے رشتے میں تو خاص…
پھر اُس نے نرمی سے کہا،
اور دیکھو… سب سے اچھی بات… پھپھو نے خود تمہارا رشتہ مانگا ہے… انہیں تم پسند ہو… وہ تمہیں اپنے گھر میں اچھے سے رکھیں گی…
زارا نے فوراً بات کاٹ دی۔
پھپھو کی بات ہی نہیں ہے… یہاں بات ہسبنڈ کی ہے…
مجھے اسوان جیسا ہسبنڈ چاہیے…
زرتاشہ نے فوراً طنزیہ انداز میں کہا،
دھوکے باز…؟
نہیں… سنسیر… ریسپانسبل… خیال رکھنے والا…
اور یہ دائم… اسے ہر چیز مذاق لگتی ہے…
زرتاشہ نے گہری سانس لی۔
میں نے کہا نا… کمپرو مائز کرنا ہوتا ہے…
ذمہ داری تو وہ تمہاری اٹھا لے گا… اتنا تو مجھے بھی پتا ہے… اور خیال بھی رکھ سکتا ہے…
ہاں… سیریز نہیں رہ سکتا وہ۔۔۔
زارا نے منہ بنایا۔
اوپر سے اُس کی پاگلوں جیسی باتیں مجھے اریٹیٹ کرتی ہیں…
زرتاشہ نے سیدھی بات کی،
تم دیکھ لو… تمہارے پاس آپشن نہیں ہے…
چند لمحے خاموشی رہی… پھر وہ دوبارہ بولی،
ابھی تک جتنے بھی رشتے آئے ہیں…
اُن سب میں ابو اسی کو فائنل کرنے والے ہیں…
اور مجھے تو لگ رہا ہے اس معاملے میں…
امّاں بھی ہمارا ساتھ نہیں دیں گی…
زارا نے گہری سانس لی…
دل اور دماغ جیسے آپس میں لڑ رہے تھے۔
وہی تو مسئلہ ہے… اُس نے آہستہ سے کہا،
دادی نے رضامندی دے دی ہے…۔بس اب ابو کا فیصلہ آنا باقی ہے…
زارا نے بےچینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور تیزی سے بولی،
اور تمہیں پتا ہے… اسوان نے نا پری کو پریشے کے ساتھ بھیجنے لگا ہے… چائنا… وہ بھی…
زرتاشہ چونکی۔
کیوں…؟
زارا نے بےبسی سے کندھے اُچکائے۔
پتا نہیں کیوں… بس ہمیں بتایا کہ پریشے باہر پڑھنے جا رہی ہے… تو پری کو میں اُس کے ساتھ بھیج رہا ہوں…
زرتاشہ نے سر ہلایا، جیسے بات اُس کی سمجھ سے باہر ہو۔
یہ انسان بھی عجیب ہے…
زارا نے لمبی سانس لی۔ یار…
زرتاشہ نے تھوڑا سوچ کر کہا،
تم دیکھو… اماں سے بات کر کے…
زارا فوراً بولی،
کوئی اچھا سا آئیڈیا دو نا…
زرتاشہ نے سیدھا جواب دیا،
میرے پاس نہیں ہے… جو کرنا ہے خود ہی کرو…
فون کے اُس پار خاموشی چھا گئی…
زارا نے آہستہ سے فون نیچے کیا…
اور بستر پر بیٹھ گئی…
+++++++++++++
ایئرپورٹ کی روشنیاں آنکھوں کو چبھ رہی تھیں…
اور ہجوم کے شور میں بھی ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔
پریشے اپنی فیملی کے ساتھ کھڑی تھی…
اس کے ساتھ ہانیہ اور مصباح بھی تھیں… جو اس کے ساتھ جا رہی تھیں۔
ہانیہ نے اُسے گھورتے ہوئے کہا، تم نا بالکل پاگل ہو…
پریشے نے ہلکا سا مسکرا کر پوچھا، اب کیا کیا میں نے…؟
ہانیہ نے بھنویں چڑھائیں، اُس کی اولاد کو اپنے سینے سے لگا کے پھر رہی ہو…
پریشے نے کچھ نہ کہا…
بس ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ کر ٹھہر گئی…
جس میں بہت کچھ چھپا ہوا تھا۔
اُسی لمحے…
اسوان، پری کو ساتھ لیے اُن کی طرف بڑھا…
پری نے جیسے ہی پریشے کو دیکھا…
وہ فوراً اسوان کا ہاتھ چھڑا کر زور سے چیخی،
ماااا…!!
اور دوڑتی ہوئی جا کر پریشے سے لپٹ گئی۔
پریشے نے بھی اُسے مضبوطی سے اپنے ساتھ لگا لیا…
جیسے وہ پہلے ہی سے اسی لمحے کا انتظار کر رہی ہو۔
اسوان بھی قریب آیا…
تو احمد صاحب نے اُسے سخت نظروں سے دیکھا۔
سوری… اسوان نے دھیمی آواز میں کہا۔
احمد صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا…
بس اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
وہ صرف پریشے کی خاطر خاموش تھے…
ورنہ اگر اُن کے بس میں ہوتا…
تو وہ کبھی اسوان کو معاف نہ کرتے۔
پریشے نے اسوان کی طرف دیکھا…
آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔
پوری شرط یاد ہے نا آپ کو…؟
اسوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا،
خیال رکھنا اپنا…
پھر پریشے اور پری…
سب سے مل کر آگے بڑھنے لگیں۔
جیسے جیسے وہ دور جا رہی تھیں…
پیچھے کھڑے دو دل… ایک جیسے حال سے گزر رہے تھے۔
دونوں کی آنکھیں نم تھیں…
دونوں کی بیٹی دونوں کی نظروں سے دور بہت دور جارہی تھی۔۔۔
احمد صاحب نے آہستہ سے کہا،
اب پتا چلا… بیٹی دور جاتی ہے تو کیسا لگتا ہے…؟
اسوان نے گہری سانس لی… آواز میں درد تھا،
آپ کی تو صرف بیٹی جا رہی ہے…
میری تو بیوی بھی جا رہی ہے…
احمد صاحب نے تلخی سے کہا،
رہنے دو… تم اُسے اپنی بیوی مانتے کب ہو…
میری ہی غلطی تھی جو تم سے پریشے کی شادی کروا دی…
اسوان کی نظریں جھک گئیں۔
سوری…
احمد صاحب نے ایک لمحہ اُسے دیکھا… پھر کہا،
تمہارے پاس وقت ہے… سدھر جاؤ… ورنہ وہ واپس نہیں آئے گی…
یہ کہہ کر وہ مڑ گئے…
اور اسوان وہیں کھڑا رہ گیا…
آنکھوں کے سامنے…
وہ دونوں دور ہوتی جا رہی تھیں…
اور اس کے ہاتھ… خالی ہوتے جا رہے تھے۔
++++++++++++
وہ گھر آیا تو قدم جیسے بوجھل ہو گئے تھے…
صرف دس دن ہوئے تھے…
مگر یہ دس دن اُس پر برسوں کی طرح گزرے تھے۔
چہرے کی ویرانی… آنکھوں کی خالی پن…
یہ سب کچھ اتنا واضح تھا کہ
زیدان کو بھی اندازہ ہو گیا۔
وہی زیدان…
جسے کبھی کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا… یہاں تک کہ کوئی مر بھی جائے تو جب تک اُسے معلوم نہیں ہوگا جب تک کوئی اُسے بتا نہیں دیتا۔۔۔
زیدان نے اُسے غور سے دیکھا اور بےنیازی سے کہا،
بھیجا کیوں… جب جدائی برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے…؟
اسوان نے تھکی ہوئی سانس لی،
تو اور کیا کرتا…؟
صرف چند سالوں کی وجہ سے… ساری زندگی کے لیے تو اُسے کھو نہیں سکتا نا…
پھر ایک لمحہ رُک کر بولا،
پتا ہے… وہ مجھ سے پری کی بات کرواتی ہے…
مگر خود بات نہیں کرتی…
زیدان نے کندھے اُچکائے، تو چلے جاؤ…
اسوان نے چونک کر دیکھا، کہاں چلا جاؤں…؟
زیدان نے سیدھا جواب دیا، بھابی کے پاس…
پاگل ہو…؟ اسوان فوراً بولا۔
زیدان ہلکا سا مسکرایا،
دیکھو… شرط میں بھابی نے یہ تو نہیں کہا تھا نا…
کہ تم چائنا اُن کے پاس نہیں آ سکتے…
اسوان کے چہرے پر ہلکی سی سوچ ابھری،
مطلب…؟
زیدان نے سادہ انداز میں کہا،
مطلب… جیسے ہمیشہ جاتے ہو… پھر چلے جاؤ…
اسوان کچھ لمحے خاموش رہا…
پھر آہستہ سے بولا، وہ اور ناراض ہو جائے گی…
زیدان نے بےفکری سے کہا، ابھی کونسا نہیں ہے۔۔۔
اسوان نے فوراً سر ہلایا، نہیں… نہیں… رہنے دو…
تمہاری مرضی…
وہ کہتا کرسی سے اُٹھ کر باہر چلا گیا۔
اسوان وہیں بیٹھا رہ گیا…
ذہن میں ایک ہی بات گونج رہی تھی،
چلا جاؤں…؟
دل کہہ رہا تھا،
ہاں…
مگر خوف… اب بھی اُس کے قدم باندھے ہوئے
+++++++++++++
تین سال بیت چکے تھے اور یہ تین سال اسوان پر بہت بھاری گزرے تھے… پرِیشے نے جاتے ساتھ ہی پری کی بات تو اسوان سے کروا دی تھی لیکن خود کبھی بات نہیں کرتی تھی… اور جب بھی اسوان زیادہ ضد کرتا بات کرنے کے لیے تو وہ غصّے سے کہتی کہ پری سے بھی اُس کی بات نہیں کروائے گی…
پرِیشے نہیں جانتی یہاں اسوان کا بہت بُرا حال تھا… وہ ہر رات روتا اپنے کیے کی معافی مانگتا خدا سے کہ وہ اُسے معاف کر دے اور پرِیشے کا دل بڑا کرے تاکہ وہ بھی اُسے معاف کر دے… وہ ہر رات جاگ کر گزارتا تھا…
اُسے احساس تو پرِیشے کے گھر چھوڑتے وقت ہی ہو گیا تھا بس وہ مان نہیں رہا تھا… وہ جب جب کوئی ایسی حرکت کرتا اُس کے فوراً بعد ہی اُسے احساس ہو جاتا تھا لیکن خود میں “میں” اتنا تھا کہ مانتا نہیں تھا…
اسی “میں” کی قیمت وہ ہر دن ادا کر رہا تھا…
اور اب تو پرِیشے نے اتنی بڑی سزا دے دی تھی اُسے…
وہ ہر روز پرِیشے سے پری کے ذریعے معافی مانگتا تھا… اور خود اچھا انسان بننے کی کوشش کرتا جیسا پرِیشے کو پسند آ جائے…
اور چین میں پرِیشے اُس کی بیٹی کو ایک اچھی تربیت دے رہی تھی… کہ وہ اسوان جیسی نہ بنے… اگر تو وہ یہ شرط نہ رکھتی اور اسوان سے طلاق لے لیتی تو وہ ایک اور اسوان کو دیکھتی جو کہ وہ چاہتی نہیں تھی… وہ اچھی تھی دل صاف تھا اُس کا اسی لیے وہ نہیں چاہتی تھی کہ پری اسوان کی طرح بنے… اسی لیے وہ اسے یہاں ایک بہت اچھی سیکھ دے رہی تھی…
زارا اور دائم کی بات کب کی پکی ہو چکی تھی… لیکن اسوان کی حالت کی وجہ سے گھر پر شادی کی ترکیب سٹارٹ نہیں ہو رہی اور ابھی فی الحال دائم کی فیملی کا ویزا بھی نہیں لگ رہا تھا…
اسوان کی جو حالت تھی وہ پرِیشے نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن گھر والے دیکھ سکتے تھے… زیدان نے، کائنات نے اور گھر کے ہر ایک فرد نے پرِیشے سے بات کی کہ وہ اُسے معاف کر دے…
اتنی منتوں کے بعد جا کر پرِیشے پھر سے پگھل ہی گئی اور… معاف کر دیا…
پھر وہ اسوان سے کال پر ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اُن کے بیچ سب کچھ ٹھیک ہو گیا کیونکہ اسوان پہلے سے کافی بدل چکا تھا… لیکن پرِیشے کو تھوڑا ڈاؤٹ اب بھی تھا ہوسکتا ہے کہ وہ صرف فون پر ایسا بن رہا ہو… چند سیکنڈ کی کال اور بس…
تو پرِیشے نے اُسے چین آنے کا کہہ دیا… پہلے اسوان کو تو زیدان نے بہت کہا تھا کہ چلے جاؤ… لیکن اگر اس بار وہ وہی پہلی والی غلطی کر دیتا اور پرِیشے کو ناراض کر دیتا تو پھر زندگی بھر پرِیشے کی شکل نہیں دیکھ پاتا… وہ جانتا تھا پرِیشے کو اگر وہ اس بار پری اور گھر والوں کی وجہ سے مان گئی ہے تو ہر بار ایسا نہیں ہوگا…
اسوان کے لیے یہ ایک اور امتحان تھا…
وہ جانتا تھا… اگر اس بار بھی وہ غلطی کر گیا…
تو ہمیشہ کے لیے اُسے کھو دے گا…
وہ چلا گیا…
اور پھر… پرِیشے نے اُسے ہر طرح سے آزمایا…
ہر انداز سے…
یہاں تک کہ پری کو بھی اپنے پلان میں شامل کر لیا…
اور جب…
ہر طرف سے اسوان کا ردِعمل مثبت آیا…
ہر آزمائش میں وہ پورا اُترا…
تو آخرکار…
پرِیشے کو یقین آ ہی گیا…
کہ وہ بدل چکا ہے…
+++++++++++++
چند سال بعد…
گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا…
ہر طرف خوشی کا شور تھا… قہقہے… مہندی کی خوشبو… اور دلہن کے گیت…
آخرکار…
زارا کے نہیں نہیں کرتے کرتے… آج اُس کا اور دائم کا نکاح تھا۔
پورا گھر سجا ہوا تھا…
ہر کمرہ جیسے کسی جشن کی کہانی سنا رہا ہو۔
ادھر…
کائنات تیار ہو کر اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی…
سادہ سا لباس… ہلکا سا میک اپ…
مگر اُس کی آنکھوں کی چمک… اور چہرے کی تازگی…
زیدان کو چند لمحوں کے لیے جیسے بھلا ہی گئی کہ وہ کہاں ہے۔
کائنات نے بھنویں چڑھائیں۔
آپ جائیں گے بھی یا نہیں…؟
زیدان خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا…
میں آپ سے بات کر رہی ہوں… کائنات نے تھوڑا زور دے کر کہا۔
مگر وہ…
اب بھی بس اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
آخرکار کائنات نے اُس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا۔
ہیلو…؟
زیدان جیسے ہوش میں آیا،
ہاں…؟ بولو…
کائنات نے ہلکی سی ناراضی سے کہا،
نہیں جائیں گے آپ…؟
زیدان نے نظر ہٹاتے ہوئے کہا،
جاؤں گا…
دل تو اُس کا بالکل نہیں تھا…
نہ وہ جانا چاہتا تھا…
اور نہ ہی کائنات کو اکیلے بھیجنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔
کہیں پھر اُس کے ساتھ کچھ ہو گیا تو…؟
اور پھر…
وہ آج…
حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
کائنات نے بےصبری سے کہا، پھر تیار ہو جائیں جلدی سے…
زیدان آہستہ سے اُٹھا، ہاں… پھر اُسے کُچھ یاد آیا۔۔
وہ کہاں ہے۔۔؟؟
وہ کون ؟؟ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی…
وہ کس کی بات کر رہا ہے۔
کیا نام ہے اُس کا۔۔۔؟؟ زیدان نے کائنات کو گھورتے غصے سے کہا
یا اللّٰہ وہ آپکا بچہ ہے۔۔۔
زیدان نے فوراً کہا، ہاں وہی بچہ… کہاں ہے وہ…؟
کائنات نے سکون سے جواب دیا،
وہ اماں کے پاس ہے… میں نے تیار کر دیا تھا اُسے…
زیدان نے سُکون کا سانس لیا،
ہاں… اچھا ہے… اُسے مجھ سے دُور ہی رکھو…
کائنات چونکی، اللہ اللہ کیوں…؟ آپ کا بچہ ہے وہ…
زیدان نے نظریں چرا لیں،
بس… دُور ہی رکھو اُسے مجھ سے…
اُسے دیکھ دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے… اُسے کچھ ہو جائے گا… اتنا چھوٹا سا ہے…
کائنات ہنس دی،
ہاہا… وہ ابھی ایک سال کا بھی نہیں ہوا… چھوٹا ہی ہوگا… بچے چھوٹے ہی ہوتے ہیں…
زیدان نے سر ہلایا،
نہیں… وہ بہت زیادہ چھوٹا ہے… اور بہت کمزور بھی… کہیں سے زیدان کا بیٹا نہیں لگتا…
کائنات نے نرمی سے سمجھایا،
ارے… بچے ایسے ہی ہوتے ہیں… ایک دم سے تو وہ بڑا نہیں ہو جائے گا نا…
زیدان نے بات ختم کرتے ہوئے کہا،
جو بھی ہے…
اور یہ کہہ کر وہ سیدھا واش روم میں چلا گیا۔
کائنات نے اُس کے پیچھے دیکھ کر سر ہلایا،
ہونٹوں پر بےبسی بھری مسکراہٹ آ گئی،
ان کا کچھ نہیں ہو سکتا…
پھر اچانک واش روم کے دروازے سے اُس نے سر باہر نکالا…
اور… کسی کو میرا بچہ نہیں دینا…
کائنات نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا…
زیدان نے سنجیدگی سے مزید کہا،
اور اچھے سے خیال رکھو میرے بچے کا…
جب بڑا ہو جائے… تب میرے سامنے لانا اُسے…
کائنات کے ہونٹوں پر ہنسی دب گئی…
اور ہاں… زیدان نے جیسے ابھی بات ختم نہ کی ہو،
اگر تم سے بھی وہ سنبھال نہیں رہا… تو اسوان بھائی کو دے دینا… پری کو بھی سنبھالے تھے وہ…
اُن کو بہت ایکسپیرینس ہے چھوٹے بچوں کو سنبھالنے کا…
کائنات اب ہنس پڑی…
زیدان نے آخری بار تاکید کی،
سچ میں کہہ رہا ہوں…
کائنات نے سر ہلاتے ہوئے مسکراتے کہا،
آپ بھی نا… حد کرتے ہیں… جلدی سے تیار ہوجائیں۔۔۔
اور پھر اندر غائب ہو گیا۔۔۔
++++++++++
زرتاشہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہادیہ کو تیار کر رہی تھی…
ننھی سی ہادیہ… جسے اس دنیا میں آئے ابھی صرف چھ مہینے ہی ہوئے تھے…
چھوٹے چھوٹے ہاتھ… گلابی سا چہرہ…
اور ذرا سی بات پر رونا…
زرتاشہ اس وقت اپنے میکے میں تھی…
اور ہادیہ کے کپڑے بدلتے ہوئے خود بھی ہلکی سی پریشان ہو رہی تھی۔
ارے بس بھی کرو… وہ پیار سے بولی،
مگر ہادیہ اور زور زور سے رونے لگی۔
اُسی وقت فون بجا…
اس نے ایک ہاتھ سے ہادیہ کو سنبھالا اور دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگا لیا۔
آپ کی بیٹی نا… مجھے بہت تنگ کرتی ہے… زرتاشہ نے شکایتی لہجے میں کہا،
جب بھی اس کے کپڑے چینج کرتی ہوں… اتنا اتنا چیخ چیخ کے روتی ہے…
دوسری طرف سے ہادی کی ہنسی سنائی دی،
ہاہا… میں تو کہہ ہی رہا تھا اسے میرے پاس چھوڑ دو…
زرتاشہ نے فوراً جواب دیا، آپ تو اور ہیں…
پھر جلدی سے پوچھا، تیار ہو گئے…؟
ہادی نے کہا، بس ہونے لگا…
زرتاشہ نے ہادیہ کو تھپکیاں دیتے ہوئے کہا،
ہاں… جلدی سے تیار ہو جائیں اور ہال پہنچیں…
ہادی کی آواز نرم ہو گئی،
ہاں… خیال رکھیے گا اپنا…
زرتاشہ نے ایک لمحے کو مسکرا کر ہادیہ کو دیکھا…
اور آہستہ سے کہا، آپ بھی…
فون بند ہوا…
اور کمرے میں پھر سے ہادیہ کی ہلکی ہلکی سسکیاں رہ گئیں…
مگر اب…
زرتاشہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی،
++++++++++
اسوان بھی اپنے کمرے میں کھڑا تیار ہو رہا تھا…
اور ہاتھ میں فون لیے ویڈیو کال پر پری سے بات کر رہا تھا۔
پری کی چمکتی ہوئی آواز آئی،
بابا پتا ہے آپ کو… یہاں اتنا مزہ آتا ہے… لیکن میرا بھی دل کر رہا ہے زارا پھوپو کی شادی میں آنے کا…
اسوان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
میں تمہیں دکھاؤں گا نا ویڈیو کال پر سب کچھ…
پری فوراً بولی،
ہاں ہاں… ایک منٹ کے لیے بھی فون بند نہیں کیجیے گا… میں دیکھ رہی ہوں…
اسوان نے ہلکے سے سر ہلایا، پھر پوچھا،
ماما کہاں ہیں تمہاری…؟
یہ سوال کرتے ہوئے اُس کی آواز میں ایک ان کہی سی کمی تھی…
دو مہینے ہو چکے تھے…
پرِیشے نے اسوان سے ایک بار بھی بات نہیں کی تھی…
وہ جب بھی کال کرتا… وہ بات نہیں کرتی تھی…
کیونکہ اسوان تو یہاں زارا کی شادی کی وجہ سے آ گیا تھا… کیونکہ اُس کے بنا اِدھر راضیہ بیگم کوئی فنکشن اسٹارٹ کرنے نہیں دے رہی تھی… باقی گھر والوں کی بھی یہی خواہش تھی… کیونکہ اسوان اس گھر کی بڑی اولاد تھا… اور اُس کے بنا ہر چیز جیسے رُک سی جاتی تھی… پھر سب نے مل کر اُسے اس گھر کا سربراہ بھی بنا رکھا تھا… تو اُسے آنا پڑا…
جس پر پرِیشے اس سے سخت ناراض ہو گئی تھی…
کیونکہ وہ واپس آنا چاہتی تھی…
لیکن اُس کی حالت اتنی ٹھیک نہیں تھی…
کہ وہ فلائٹ میں سفر کر سکتی…
پڑھائی تو اُس کی ویسے ہی آن لائن چل رہی تھی…
اور ابھی صرف ایک سال اور رہتا تھا…
آن لائن کلاسز کے بعد اُس کے ایگزام تھے…
اور بس پھر سب ختم…
مگر اسوان نے منع کر دیا تھا…
کہ ابھی واپس آ کر پورے تین سال برباد ہو جائیں گے… اور پھر… اسوان پرِیشے کے پاس صفیہ بیگم کو بھی تو چھوڑ کر آیا تھا…
اسی بات نے پرِیشے کو اور بھی ناراض کر دیا…
کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر اُس کے پاس تو آ سکتا ہے…
مگر اُسے واپس آنے نہیں دے رہا…
پری نے ادھر ادھر دیکھا، پھر آہستہ سے بولی، وہ…؟ وہ یہیں بیٹھی ہیں… لیکن بات نہیں کرنا چاہتیں…
اسوان نے ایک لمحہ آنکھیں بند کیں…
پھر دھیمی آواز میں کہا، اور کب تک ناراض رہنا ہے اُس نے…؟
پری نے معصومیت سے کہا، کیا معلوم…؟
اسوان نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا، کیا کر رہی ہیں وہ…؟
پری فوراً بولی، سبزی کاٹ رہی ہیں…
طبیعت تو ٹھیک ہے نہ اُس کی؟؟
ہاں بلکل ٹھیک ہے۔۔۔ بس منہ بنا ہوا ہے۔۔۔ آپ آجاؤ یہاں یہ ایسے نہیں ماننے والی۔۔۔
اسوان ہلکے ہلکے تیار ہوتے ہوئے مسکرایا، پھر ایک اور سرپرائز ملے گا۔۔۔
پیچھے سے غصے بھری آواز آئی، دور رہے مُجھے سے۔۔۔
اور دونوں باپ بیٹی مسکرا دیے۔۔۔
+++++++++++
شادی کے فنکشن میں ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا…
ہر چہرہ مسکرا رہا تھا…
ہر آنکھ میں چمک تھی…
اور ہر دل اپنی اپنی دنیا میں مطمئن نظر آ رہا تھا۔
نئے مہمان… نئی خوشیاں ساتھ لائے تھے…
زرتاشہ کی زندگی میں ہادیہ کی آمد نے سب بدل دیا تھا…
عدنان صاحب نے بھی بیٹی کو معاف کر دیا تھا…
اور زیدان…
ائدان کے آنے کے بعد وہ واقعی بدل گیا تھا…
اب وہ ذمہ دار ہو چکا تھا…
مگر صرف اپنی بیوی اور بچے کے لیے…
کائنات کی محنت کا اثر تھا کہ وہ اب گھر والوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے لگا تھا…
ہلکی پھلکی باتیں بھی کر لیتا تھا…
مگر اُس کی فطرت کی سختی…
اور وہ تیز مزاجی…
اب بھی ویسی ہی تھی…
غلط بات وہ آج بھی برداشت نہیں کرتا تھا…
فرق صرف اتنا آیا تھا۔۔۔
کہ اب وہ بلاوجہ کسی پر نہیں بھڑکتا تھا…
فنکشن اپنے عروج پر تھا…
ادھر اسوان… ایک کونے میں کھڑا…
فون پر ویڈیو کال کے ذریعے پری کو سب کچھ دکھا رہا تھا…
ہال کے شیشوں سے ڈھکی روشنیاں ایسے جگمگا رہی تھیں جیسے آسمان کے ان گنت تارے زمین پر اتر آئے ہوں…
محفل میں شور تھا… قہقہے تھے… زندگی تھی…
مگر اُس ہجوم میں ایک شخص ایسا بھی تھا۔۔۔
جو سب سے الگ کھڑا تھا…
وہ… بس اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا…
کہاں جا رہی ہے…؟
کس سے مل رہی ہے…؟
کس لہجے میں بات کر رہی ہے…؟
جیسے اُس کی نظریں… ایک حصار بن چکی تھیں…
ہال میں موجود ہر منظر اُس کی نظروں میں تھا…
مگر مرکز صرف ایک ہی تھا۔۔۔
وہ عورت… جو اُس کی بیوی تھی…
دلچسپ بات یہ تھی…
کہ جس طرح وہ اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا…
اسی طرح ہال میں موجود لوگ اُسے دیکھ رہے تھے…
تعجب سے… حیرت سے… اور کچھ… رشک سے…
“یہ آج کے فنکشن میں کیسے آ گیا…؟”
سرگوشیاں ہو رہی تھیں…
کیونکہ یہ پہلا موقع تھا…
جب وہ کسی تقریب میں آیا تھا…
مگر اُسے کسی کی پرواہ نہیں تھی…
اُس کے لیے دنیا… روشنی… ہجوم… سب بے معنی ہو چکے تھے…
اگر کچھ تھا، تو صرف اُس کی بیوی…
ادھر…
ہادی ایک طرف بیٹھا ہادیہ کو گود میں لیے ہوئے تھا…
تبھی زرتاشہ اُس کے پاس آئی…
ارسم کی بار بار کال آ رہی ہے…
وہ آہستہ سے بولی،
آپ اُس سے بات کیوں نہیں کرتے…؟
ہادی نے سنجیدگی سے کہا،
میرے بات کرنے سے کیا ہوگا…؟
زرتاشہ نے نرمی سے کہا،
بہت کچھ… وہ پریشان ہے… اب ٹھیک بھی ہو چکا ہے… اُسے بہت پچھتاوا ہے…
ہادی خاموش رہا…
وہ واپس آنا چاہتا ہے… زرتاشہ نے مزید کہا،
مگر پاپا اُسے آنے نہیں دے رہے…
ہادی نے سخت لہجے میں کہا،
میں نہیں کر رہا معاف اُسے…
جب اُس وقت میری بات نہیں سنی…
تو اب کیوں…؟
زرتاشہ نے آہستہ سے کہا،
غلطی ہو گئی… معاف کر دیں…
مجھے بھی تو کیا تھا نا…
ہادی نے گہری نظر سے اُسے دیکھا،
تمہیں اس لیے کیا تھا… کیونکہ تمہارے پاس اُس وقت کوئی سمجھانے والا نہیں تھا… مگر اُس کے پاس میں تھا…
وہ رکا… پھر بولا،
کچھ لوگ دل کے قریب ہوتے ہیں… اور جب وہی غلطی کریں… تو معاف کرنا آسان نہیں ہوتا… مُجھے سمجھ نہیں آتا کہ انسان کے پاس جو چیز نہیں ہوتی اُس پر حسد کرتا ہے اور یہ۔۔۔ صِرف کائنات کو لے کر نہیں بلکہ اسوان بھائی کو لے کر بھی ہوتا تھا۔۔۔کیا اس کے پاس میں نہیں تھا؟؟ اُسے نہیں پتہ میں اُس کے لیے کیا نہیں دیا۔۔۔ میں نے اس کے لیے وہ قربانی دی تھی جو شاید اسوان بھائی بھی نہ دے پاتے۔۔۔ لیکن مجھے اس سب کے بدلے میں کیا ملا؟؟ مُجھے بدلہ چاہیے بھی نہیں تھا۔۔۔ لیکن وہ ایسے خود کو برباد تو نہ کرتا۔۔۔
زرتاشہ نے بات بدلتے ہوئے کہا،
اچھا ٹھیک ہے… نارمل ہو جائیں… نہیں کریں بات۔۔۔
وہ جانے لگی…
لاؤ فون دو… ہادی نے اچانک کہا۔
زرتاشہ مسکرا دی…
اور فون اُس کے ہاتھ میں دے دیا…
کال پہلے سے ہی آن تھی…
یقیناً…
ارسم سب سن چکا تھا…
ہادی نے فون کو دیکھا،
یہ…؟
زرتاشہ شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
سوری…
اور فوراً وہاں سے بھاگ گئی…
جب انسان کے پاس چاند ہوتا ہے…
دوسری طرف سے ارسم کی آواز آئی،
تو اُسے اُس کی قدر نہیں ہوتی…
ہادی نے فوراً کہا،
حد ہے… چاند…؟ مجھے چاند بنا دیا…؟
ارسم ہنسا،
ہاں… ابھی تو چاند ہی بنا ہوا ہے نا…
اتنا دور بھی… اور ناراض بھی، میرا ناراض چاند…
فضول نہ بولو… ہادی نے روکا۔
یار معاف کر دے… ارسم کی آواز بدل گئی،
غلطی ہو گئی…
ہادی نے سنجیدگی سے پوچھا،
سچ میں احساس ہوا ہے…؟ یا بس…؟
آ کے دیکھ لے… ارسم بولا،
پتا چل جائے گا…
واپس آنا چاہتے ہو…؟
نہیں۔۔۔ ارسم نے آہستہ سے کہا،
یہیں ٹھیک ہوں…
بس… تُو بات کرتا رہا کر…
ہادی خاموش ہوا…
پھر بولا،
معاف نہیں کروں گا… میں…
ارسم کی ہلکی سی ہنسی آئی،
سب کو معاف کر سکتا ہے… بس مجھے نہیں…
تجھ سے یہ توقع نہیں تھی… ہادی کی آواز بھاری ہو گئی،میں نے سمجھایا تھا…
کیا کروں… ارسم نے ٹوٹے لہجے میں کہا،
دل کو سکون نہیں ملتا…
ہادی نے آہستہ سے کہا، میں نے کہا تھا نا…
دوسروں کو برباد کرنے والے… کبھی خوش نہیں ہوتے…
کچھ لمحے خاموشی رہی…
پھر ارسم بولا،
دعا کر… سکون مل جائے…
ہادی نے گہری سانس لی،
معافی مانگ لو… سکون مل جائے گا…
ارسم نے فوراً کہا،
مانگ چکا ہوں… اسوان بھائی سے… انہوں نے معاف بھی کر دیا… کائنات نے بھی… اور اُس نے کہا… زیدان نے بھی…
ہادی نے آہستہ سے بولا، مل جائے گا… اب سکون…
تھوڑی دیر بعد اسوان چلتا ہوا زیدان کے پاس آیا…
اُس کے ہاتھ میں موبائل تھا…
وہ سیدھا اُس کے سامنے کر دیا،
یہ دیکھو… بالکل مجھ پر گیا ہے نا…؟
زیدان نے ایک نظر بھی نہ ڈالی…
بلکہ فوراً رُخ موڑ لیا،
یہ چھوٹے چھوٹے بچے نہیں دکھایا کرو مجھے…
اسوان نے حیران ہو کر کہا،
پاگل ہو گئے ہو…؟
زیدان نے سنجیدگی سے جواب دیا،
کوئی اپنے اتنے چھوٹے بچے کو چھوڑ کر یہاں آتا ہے بھلا…؟
اسوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
یہاں اگر میں نہ آتا نا… تو یہ فنکشن بھی نہ ہوتا…
زیدان نے طنزیہ انداز میں کہا،
ایوی کا تمہیں سب نے سر پر چڑھا کے رکھا ہوا ہے…
اسوان فوراً بولا،
ہاں… جیسے میں نے تمہیں…
زیدان نے آنکھیں تنگ کیں،
اب اپنے بچے کو سنبھالو…
اسوان نے لاپروائی سے کندھے اُچکائے،
اُس کے پاس اُس کی ماں ہے… اور ماں کی ماں بھی ہے… تم فکر نہ کرو…
پھر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
کچھ ہی مہینے رہتے ہیں…
پھر بھابھی واپس آنے ہی والی ہیں…
زیدان نے فوراً کہا،
بھول جاؤ… وہ واپس آ کر یہاں آنے والی ہیں…
اسوان نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا…
زیدان نے سنجیدہ لہجے میں بات مکمل کی،
پہلے وہ ایک کو لے کر گئی تھی… اب دو کو لے کر جائے گی…
اسوان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
کوئی نہیں… وہ جہاں جائے گی، میں پھر اُس کے پاس چلا جاؤں گا…
زیدان نے اُسے عجیب سی نظروں سے دیکھا،
بڑے مطلب پرست انسان ہو تم…
اُسی وقت فون سے پری کی آواز آئی،
یار بابا… آپ دونوں بعد میں لڑنا۔۔۔ ابھی اسود کو دکھا دیا نا میں نے…
اب مجھے بھی ائدان کو دکھا دیں نا پلیز…
زیدان فوراً چونک کر بولا،
نہیں! اُس کو نہیں دیکھو… بہت چھوٹا ہے وہ…
پری ایک لمحے کو رُکی،
ہیں…؟
اسوان نے زیدان کو گھور کر دیکھا،
تم سچ میں پاگل ہو گئے ہو…؟
زیدان نے سنجیدگی سے کہا،
پاگل کیا… نظر لگ جائے گی…
پری فوراً بولی،
میں لگاؤں گی نظر…؟؟
آپ رُکیں ذرا… میں باہر آ گئی ہوں نا…
تو آپ بہت بڑے ہو گئے ہیں… ابھی آتی ہوں پھر بتاتی ہوں آپ کو…
زیدان نے فوراً دفاعی انداز میں کہا،
نہیں! میں صحیح کہہ رہا ہوں…
تم بھی اسود کو چھپا کے رکھو…
اسوان ہنس پڑا،
چھوڑ اسے… میں دکھاتا ہوں تمہیں ائدان کہاں ہے…
یقیناً اپنی نانی کے پاس ہوگا… کیونکہ اِن میاں بیوی سے اِن کا بچہ سنبھل نہیں رہا…
پری نے فوراً ہنستے ہوئے کہا،
ہاں۔۔۔
زیدان نے اُسے گھورا…
خود کا بچہ کونسا خود کے پاس ہے۔۔ خود کا بچہ بھی اپنی نانی کے پاس ہے۔۔۔
++++++++++
کائنات آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہادی کے پاس آ گئی…
ہادی اپنی بیٹی ہادیہ کو گود میں لیے بیٹھا تھا…
کائنات نے جھک کر ہادیہ کے گال کو پیار کیا اور مسکرا کر بولی، بہت پیاری ہے یہ…
ہادی نے نرمی سے کہا، ہاں…
کائنات نے ایک لمحہ اُسے دیکھا… پھر سنجیدگی سے بولی، شکریہ… مجھے سمجھنے کے لیے… میں بہت پہلے سے ہی آپ سے ملنے چاہتی تھی لیکن کوئی وقت یہ کوئی ایسا موقع نہیں مل رہا تھا۔۔۔
ہادی نے اُس کی طرف دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، اس کی ضرورت نہیں…
تمہیں خوش دیکھ کر ہی مجھے میرا شکریہ مل گیا تھا…
کائنات کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آ گئی…
ہاں… وہ آہستہ سے بولی،
آپ نہ سمجھتے تو… مجھے کبھی سمجھ ہی نہ آتی…
اُس وقت تو آپ کی بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی تھی… لیکن بعد میں جب سوچا…
تو سب کچھ صاف صاف نظر آنے لگا…
وہ ہلکا سا رُکی… پھر مسکرا کر بولی،
اور اب دیکھیں… میری خوشیاں…
ہادی نے کائنات کو دیکھا پھر اسٹیج کے پاس کھڑی زرتاشہ کو دیکھا پھر ہادیہ کو دیکھا اور مسکرا کے بولا۔۔۔
اور پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے…؟
کائنات نے زیدان کی طرف دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا پھر ائدان کی طرف دیکھا جو مریم بیگم کی گود میں سو رہا تھا۔۔۔ اور اُس کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی…
+++++++++++
دلہا بنے دائم نے زارا کو دیکھا…
جو نظریں جھکائے، غصّے کے ساتھ بیٹھی تھی…
دائم نے مسکراتے ہوئے اُس کی طرف دیکھ کر کہا،
میرا سارا سامان تو سنبھال کے رکھا ہے نا تم نے؟
زارا نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا…
دائم ہنسا،
ارے جو جو سامان میرا یہاں رہ گیا تھا… سب پیک کر دیا ہے نا؟.آج میں اپنا سارا سامان اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں…
زارا نے غصّے سے اُس کی طرف دیکھا…
محفل میں بیٹھی تھی وہ…
ہر طرف لوگوں کی نظریں تھیں…
اگر کوئی اُس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ لیتا…
تو نہ جانے کتنی باتیں بن جاتیں…
پھر وہ دھیرے سے، دانت پیستے ہوئے بولی،
میں اضافی ہوں…
جتنے مزے سے تم مجھے یہاں سے دلہن بنا کر لے جا رہے ہو…
اتنے ہی مزے سے میں لندن میں تمہارا جینا حرام کروں گی…
دائم نے ہلکا سا جھک کر کہا،
شوق سے کرنا… میں تو اپنا جینا حرام ہی کروانا چاہتا ہوں…
اور ہاں… اضافی نہیں ہو تم…
تم تو میرے اُن سارے سامان میں سب سے اہم ہو…
زارا نے بھنویں چڑھائیں، اچھا… مجھے چھوڑ کے گئے تھے کیا؟
دائم نے مسکرا کر کہا، نہیں… اپنا دل بھی چھوڑ کے چلا گیا تھا… میرا دل بھی میرے باقی سامان کی طرح تمہارے پاس رہ گیا تھا… اب واپس لے کر جا رہا ہوں…
زارا چونک کر اُسے دیکھنے لگی،
You are like me…?
دائم نے آنکھ ماری،
Yes, of course…
زارا چند لمحے اُسے دیکھتی رہی…
محبت…؟ Like…؟ یہ سب کب ہوا… اُس نے تو کہا تھا کہ وہ پھوپو کی پسند ہے۔۔۔؟؟ اور اب۔۔؟
دائم نے ہاتھ ہلا کر کہا، جب تُم پری کے ساتھ لندن آئی تھی، تو میری آنکھوں میں نیا خواب سجا کر گئی تھی۔۔ پھر جب میں پاکستان آیا۔۔۔ تو اپنا دل یہیں چھوڑ کر چلا گیا۔۔ پھر تُم نے کہا جو بھی چیز رہ گیا ہے تُمہارا آجاؤ واپس پاکستان۔۔۔ آکر لے جاؤ۔۔۔ تو میں آگیا۔۔۔ اور اب لے کر جارہا ہوں۔۔۔
زارا چونک کر ہوش میں آئی اور فوراً بولی،
اچھا نہیں تھا۔۔۔ i am not impressives ۔۔ ایک نمبر کے چپڑی لگ رہے ہو…
دائم ہنس دیا…
اب ایمپریس کر کے بھی کیا کرونگا اب تو شادی ہوگئی۔۔۔
پاگل۔۔۔۔ زارا کہہ کر ہنس دی۔۔۔
+++++++++++++++
ختم شد۔۔۔۔
زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی…
مگر ہر آزمائش کے بعد کا انجام بہت خوبصورت ہوتا ہے…
بس صبر اور یقین تھامے رکھنا پڑتا ہے…
کیونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے…
وہ آخرکار بہتر ہی ثابت ہوتا ہے…
از قلم صدیقی
