بشر ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۵
وہ دونوں ابھی ہوٹل کے راستے میں ہی تھے…
کہ اچانک
گاڑی روکو! گاڑی روکو…
سومین کی آواز ایک دم بلند ہوئی…
ہان وو نے فوراً اس کی طرف دیکھا…
ہوا کیا…؟
پہلے گاڑی روکو۔۔۔
سومین نے بے صبری سے کہا…
ڈرائیور نے بریک لگا دی…
گاڑی ابھی پوری طرح رکی بھی نہیں تھی…
کہ سومین دروازہ کھول کر تیزی سے باہر نکلا…
اوئے۔۔۔۔
ہان وو بھی فوراً اس کے پیچھے اترا…
سومین سیدھا سڑک کراس کرتا ہوا… دوسری طرف پہنچ گیا…
ہان وو نے نظر اٹھا کر دیکھا…
سڑک کے اُس پار… ایک لڑکی کھڑی تھی…
بے حد پریشان… چہرہ زرد… آنکھیں نم… جیسے وہ ابھی رو پڑے گی…
یہ کون ہے…؟ ہان وو نے ہلکے سے کہا…
ایک گارڈ فوراً سومین کے پیچھے گیا…
جبکہ دوسرا ہان وو کے ساتھ ہی کھڑا رہا…
ادھر…
سومین اُس لڑکی کے سامنے جا کر رک گیا…
تم ٹھیک ہو…؟
اس کا لہجہ اس بار حیران کن حد تک نرم تھا…
لڑکی نے چونک کر اسے دیکھا…
جیسے کسی نے اچانک اسے اس کی پریشانی سے باہر نکال دیا ہو…
میں… وہ…
اس کی آواز ہلکی سی کانپ رہی تھی…
سومین نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے دیکھا…
پھر اردگرد نظر دوڑائی… خالی سڑک… چند گزرتی گاڑیاں… اور وہ… اکیلی…
کیا ہوا ہے…؟ اس نے پھر پوچھا…
سومین اس کے سامنے جا کر رکا…
کیا ہوا…؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو…؟
وہ… میں… میں…
اس کی آواز کانپ رہی تھی…
آپ… میری مدد کریں نا پلیز… وہ ۔۔۔
ہاں ہاں کروں گا مدد… پہلے بتاؤ کیا ہوا ہے…
سومین نے ذرا جھنجھلا کر کہا… مگر لہجہ پھر بھی نرم تھا…
میں… میں نا… غلطی سے راستہ بھول گئی ہوں…
پہلے رونا بند کرو…
سومین نے سیدھا کہا…
اور آرام سے بتاؤ… کیا ہوا ہے…
اس کی نظر اچانک سومین کے پیچھے کھڑے گارڈ پر گئی…
یہ…؟
یہ میرا دوست ہے… چھوڑو اسے…
سومین نے بے پرواہی سے کہا…
تم بتاؤ…
صدف نے ہچکچاتے ہوئے کہنا شروع کیا…
میں یونیورسٹی سے نکلی تھی… رکشہ لیا…
پھر… پتہ نہیں کیسے یہاں آ گئی…
راستہ نہیں پتہ تھا تمہیں…؟ سومین نے فوراً پوچھا…
پتہ تھا… وہ جلدی سے بولی… میں دیکھ کر بیٹھی تھی… ساتھ میں راستہ بھی دیکھ رہی تھی صحیح راستے پر تھی… پھر میں مطمئن ہو گئی… فون میں لگ گئی… اور پھر… رکشہ والے نے یہاں اتار دیا… اور چلا گیا… اب مجھے نہیں پتہ… یہ کون سا راستہ ہے…
سومین نے اسے غور سے دیکھا…
تم تو اپنے بھائی کے ساتھ آتی جاتی ہو نا… پھر آج کیوں…؟
صدف فوراً رک گئی… چہرے پر ہلکی سی جھجھک…
وہ… میں آپ کو نہیں بتاؤں گی…
سومین نے بھنویں اٹھائیں… کیوں بھلا…؟
بس… نہیں بتا سکتی…
چند لمحوں کی خاموشی…
پھر سومین نے کندھے اچکائے…
ٹھیک ہے… مت بتاؤ…
وہ مڑنے لگا…
پھر کھڑی رہو یہاں…
ہنہ۔۔۔۔
صدف نے فوراً منہ بنایا…
آپ سے یہی امید تھی مجھے… جائیں… اپنے راستے… مجھے آپ کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے…
سومین رکا…
پیچھے مڑ کر اسے دیکھا…
سوچ لو… واقعی چلا جاؤں گا میں…
ہنہ… بدتمیز۔۔۔۔ صدف نے غصے سے کہا…
سومین نے ذرا سنجیدگی سے پوچھا…
تم نے رکشے والے کو بتایا تھا کہ کہاں جانا ہے…؟
صدف نے ہلکا سا سر ہلایا…
وہ تو نہیں بتایا… یونیورسٹی کے پاس تو ویسے بھی بہت سارے رکشے کھڑے ہوتے ہیں…
اوہ… سومین نے آہستہ سے کہا…
پھر اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا…
گھر دیکھا ہوا ہے اپنا…؟
صدف نے فوراً “ہاں” میں سر ہلا دیا…
چلو پھر… میں چھوڑ دیتا ہوں…
سومین نے سادہ انداز میں کہا…
صدف نے ایک لمحے کو ہاں کی…
مگر پھر اس کی نظر سومین کے پیچھے کھڑے گارڈ پر گئی… پھر سڑک کے اُس پار… ہان وو اور اس کے ساتھ کھڑے دوسرے لڑکے پر… ایک دم… وہ گھبرا گئی…
نہیں نہیں… میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتی…
سومین نے بھنویں سکیڑیں…
اچھا… تو اپنے بھائی کو فون کر لو…
صدف نے بے بسی سے کہا…
فون ہی نہیں ہے میرے پاس… اور مجھے کسی کا نمبر بھی یاد نہیں… نہ بھائی کا… نہ گھر میں کسی اور کا… اب میں کیا کروں…؟ مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ یہ کون سا راستہ ہے…
وہ واقعی پریشان تھی…
سومین نے ایک لمحے کے لیے آسمان کی طرف دیکھا…
جیسے صبر جمع کر رہا ہو…
میرے ساتھ بھی نہیں جانا… فون بھی نہیں ہے…
تو پھر گھر کیسے جاؤ گی…؟
صدف نے آہستہ سے کہا…
پتا نہیں…
اچھا… میں تمہارے لیے کیب بک کر دیتا ہوں… تم اس میں لوکیشن ڈال دینا…
نہیں۔۔۔ صدف نے فوراً کہا…
میں کیب میں نہیں جاؤں گی… اگر وہ مجھے کہیں اور لے گیا تو…؟
سومین نے ہلکا سا سر جھٹکا… نہیں لے کر جائے گا۔۔۔
نہیں۔۔۔ وہ ضد سے بولی…آپ بس کسی طرح میرے بھائی کو یہاں بلا دیں… پلیز…
میں کیسے بلاؤں…؟ سومین نے اب ذرا واضح انداز میں کہا… نمبر ہی یاد نہیں ہے تمہیں۔۔۔
صدف کی آنکھیں پھر بھرنے لگیں…
اب میں گھر کیسے جاؤں گی…؟
سومین نے فوراً کہا اچھا اچھا… رو مت…
چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا… پھر ذرا نرم لہجے میں بولا… میں ہوں نہ میرے ساتھ چلو۔۔۔ میں چھوڑ دونگا تمہیں گھر۔۔۔
ہان وو گاڑی کے پاس کھڑا تھا… نظریں سیدھی سڑک کے اُس پار… جہاں سومین اور وہ لڑکی کھڑے تھے…
وہ کچھ دیر تک خاموشی سے دیکھتا رہا…
پھر آہستہ سے اس نے ساتھ کھڑے باڈی گارڈ سے پوچھا… تم نے کبھی سومین کو اتنا پریشان دیکھا ہے…؟
باڈی گارڈ نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیا…
ہان وو نے چونک کر اس کی طرف دیکھا…
کب…؟
جب کنسرٹ کے دوران اس کا فیورٹ بلیو مائک نہیں ملتا… باڈی گارڈ نے سنجیدگی سے جواب دیا…
ارے۔۔۔ ۔پھر ایک لمحے کے لیے رکا… سوچا… وہی تو…
اس نے دھیمی آواز میں کہا… یہ اپنی چیزوں کے علاوہ… کسی اور کے لیے اتنا پریشان کیسے ہو سکتا ہے…؟
باڈی گارڈ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا…
آپ سب کے لیے بھی تو ہوتے ہیں…
ہم… اس کے اپنے ہیں… ہان وو نے فوراً کہا…
نظریں اب بھی سومین پر تھیں… وہ… نہیں ہے…
باڈی گارڈ نے آہستہ سے کہا… کیا پتا… بن گئی ہو…
ہان وو نے بھنویں سکیڑیں… کیا مطلب…؟
باڈی گارڈ نے ہلکے سے مسکرا کر کہا…
آپ نے وہ والا گانا نہیں سنا…؟
جانو نہ میں تجھ میں میرا حصہ ہے کیا…
پر اجنبی اپنا مجھے تو لگا…
ہان وو نے فوراً پوچھا… یہ کون سا گانا ہے…؟
ہندی گانا ہے… آپ نے نہیں سنا ہوگا…
ہان وو نے سیدھا سوال کیا… تو تم نے کیسے سن لیا…؟
باڈی گارڈ نے ہلکا سا سر جھکایا…
سر… میں کبیر ہوں… انڈین ہوں میں…
ہان وو ایک لمحے کو رکا… پھر آہستہ سے کہا…
اوہ… سوری…
چند لمحوں کی خاموشی…
پھر اس نے دوبارہ سڑک کے اُس پار دیکھا…
سومین اب بھی وہیں کھڑا تھا…
اسی لڑکی کے سامنے… اسی سنجیدگی کے ساتھ…
ایسا… صرف فلموں اور گانوں میں ہوتا ہے… ہان وو نے آہستہ سے کہا…
باڈی گارڈ نے اس کی طرف دیکھا… پھر بہت سکون سے بولا… ریئل میں بھی ہوتا ہے… اور اب تو… آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے…
ہان وو نے کچھ نہیں کہا… بس… اس کی نظریں تھوڑی دیر اور وہیں ٹھہری رہیں…
صدف نے بے بسی سے اسے دیکھا…
آپ کچھ کریں نا…
کیا کروں میں؟ تمہیں میرے ساتھ جانا نہیں… کیب میں بھی نہیں جانا… بھائی کا نمبر یاد نہیں…
دوبارہ رکشہ کروا دوں…؟
نہیں… صدف نے فوراً کہا…
سومین نے گہری سانس لی… پھر سے نہیں…؟ تو اب اور کیا کروں میں… بولو…
صدف نے آہستہ سے کہا… مجھے نہیں پتا…
پیچھے کھڑے باڈی گارڈ نے آہستہ سے کہا…
سر… پولیس کو بلا لیتے ہیں… وہ انہیں گھر چھوڑ دے گی…
سومین نے فوراً صدف کی طرف دیکھا… ہاں… پولیس کو بلا لیتا ہوں…
ہاں؟ پولیس کیوں…؟ صدف ایک دم گھبرا گئی…
وہ تمہیں پروٹوکول کے ساتھ گھر چھوڑ دیں گے…
سومین نے سیدھا کہا… ان پر تو یقین کر لو گی…؟
یہ سن کر… صدف کی آنکھیں اور بھر گئیں…
ارے۔۔۔ رونے کیوں لگ گئی…؟ سومین نے فوراً کہا…
یہاں کی پولیس کون سی اچھی ہے… وہ روتے ہوئے بولی…
سومین چند لمحے اسے دیکھتا رہا…
تو کون اچھا ہے یہاں…؟ نہ رکشہ والے اچھے… نہ کیب والے اچھے… نہ پولیس والے اچھے…
وہ ذرا سا جھکا… اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا…
پھر ہے کون اچھا…؟
صدف نے آنسو پونچھے۔۔۔
ناک سرخ ہو چکی تھی… آواز ہلکی سی ٹوٹی ہوئی…
میں… میں اچھی ہوں بس…
چند لمحوں کے لیے… سومین بالکل خاموش ہو گیا…
پھر… اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی…
ہاں… یہ تو نظر آ رہا ہے…
صدف نے فوراً منہ بنایا… آپ مذاق اڑا رہے ہیں میرا…
نہیں… سومین نے سر ہلایا…
میں سیریس ہوں… پھر اس نے ایک قدم پیچھے لیا…
اور سیدھا کہا…۔چلو… ایک کام کرتے ہیں…
صدف نے امید سے اسے دیکھا…
تم میرے ساتھ آ جاؤ… اس نے سکون سے کہا…
اور اگر تمہیں ایک فیصد بھی لگا کہ کچھ غلط ہے…
تو وہیں اتر جانا…
صدف خاموش ہو گئی…
اس کی نظریں سومین پر ٹکی تھیں…
جیسے وہ…ناسے پرکھ رہی ہو…
ہان وو بھی سڑک کراس کر کے اُن کے پاس آ گیا…
اور آتے ہی سومین سے اپنی زبان میں بولا…
کیا کر رہے ہو؟ چلنا نہیں ہے؟ اور کون ہے یہ…؟
صدف چونک کر دونوں کو دیکھنے لگی…
کیا…؟ کیا…؟ آپ نے مجھے کیا کہا…؟
سومین نے فوراً سنبھالا…
کچھ نہیں… بس پوچھ رہا ہے… تم کون ہو…
اس نے انگریزی میں کہا…
ہان وو نے پھر اسی لہجے میں کہا…
بتا نا مسئلہ کیا ہے… کب سے کھڑا ہے یہاں…
تو اسے جانتا ہے…؟ سومین نے پوچھا…
نہیں۔۔۔
پھر چپ رہ… سومین نے سیدھا جواب دیا…
ابے تو کب تک کھڑے رہنا ہے…؟ ہان وو نے بےزاری سے کہا…
جب تک یہ یہاں کھڑی رہے گی۔۔ سومین نے صدف کی طرف دیکھتے کہا۔۔۔ جو اب بے حد پریشان اپنے دونوں ہاتھ مسلتے ہوئے، سوچ رہی کے وہ اب گھر کیسے پہنچے۔۔۔
تو یہ یہاں کھڑی ہوئی کیوں ہے۔۔۔؟؟
اسے گھر جانا ہے… اور یہ غلط راستے پر آ گئی ہے…
سومین نے مختصر بتایا…
تو چلو نا… گھر چھوڑ دیتے ہیں… ہان وو نے سادہ سا حل دیا…
نہیں جا رہی نا ہمارے ساتھ… سومین نے ہلکا سا جھنجھلا کر کہا…
کیوں…؟
بہت سارے لڑکے ہیں… اسی لیے…
ہان وو نے سیدھا جواب دیا… کیا لڑکوں سے الرجی ہے…؟
ہاں… سومین نے خشک انداز میں کہا…
وہ دونوں اپنی زبان میں بات کر رہے تھے…
اور صدف کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا…
ہان وو نے ایک لمحے کے بعد آہستہ سے کہا…
فیس ماسک اتار دے… پھر دیکھنا… کیسے مانے گی…
سومین نے فوراً اسے گھورا… اپنے شہر میں نہیں ہیں ہم…۔اور اس نے مجھے دیکھا ہوا ہے…
کب…؟ ہان وو نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا…
مسجد کے باہر…
ہان وو کی نظریں اور تیز ہو گئیں… تم مسجد یہ کرنے جاتے تھے…؟
نہیں! سومین فوراً بولا… تو غلط سمجھ رہا ہے… میں کوئی ڈیٹنگ ویٹنگ نہیں کر رہا…
تو پھر…؟
بتاؤں گا… گھر جا کے… سومین نے بات ختم کی…
ابھی یہ سوچ… اسے گھر کیسے پہنچاؤں…
اسی لمحے…
صدف دوبارہ اُن کی طرف مڑی… اور انگریزی میں بولی…
آپ… بھائی کے دوست ہیں نا…؟ آپ کے پاس نمبر نہیں ہے… بھائی کا…؟
سومین ایک لمحے کو رکا… نمبر…؟ پھر اچانک جیسے اسے کچھ یاد آیا… اوہ ہاں… نمبر…! اس نے ماتھے پر ہاتھ مارا… اس نے تو مجھے اپنا نمبر دیا تھا…
صدف اسے خانے والی نظروں سے گھور رہی تھی…
اس کا چہرہ ہمیشہ کی طرح سیاہ نقاب میں چھپا ہوا تھا… صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں… اور اس وقت… وہ آنکھیں واقعی کسی کی جان لینے کو تیار تھیں…
ارے یار… میں سچ میں بھول گیا تھا… سومین نے صفائی دی…
جھوٹ مت بولیں… صدف نے فوراً کاٹ دیا…
نہیں… میں جھوٹ نہیں بول رہا…
تو پھر اتنی دیر سے کھڑے میرا تماشا دیکھ رہے تھے…؟
نہیں یار… واقعی بھول گیا تھا…
صدف نے تلخی سے کہا… ہاں… میرے ہی وقت میں سب بھول جاتے ہیں نا…اس دن بھی کہا تھا مسجد سے میرے بھائی کو بلا دیں… آپ بھول گئے…
ابھی آپ کے پاس نمبر تھا… وہ بھی بھول گئے…
سب جانتی ہوں میں…
سومین ایک لمحے کو چپ ہو گیا…
کیا جانتی ہو…؟
یہی… کہ آپ میری مدد کرنا ہی نہیں چاہتے…
اس کی آواز ہلکی سی بھر گئی… میری ہی غلطی تھی… جو آپ سے دوسری بار بھی مدد مانگ لی…
چند لمحوں کی خاموشی…
سوری… سومین نے آہستہ سے کہا…
میں سچ میں بھول گیا تھا…
ہان وو…بس خاموش کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا…
اور پہلی بار…اس کے ذہن میں ایک ہی سوال آیا…
کیا یہ وہی سومین ہے…؟
وہی۔۔۔ جو ہر بات کو مذاق میں اڑا دیتا تھا…
جو کسی کے غصے… کسی کے آنسو… کسی کی پریشانی کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا…
وہی… جو دو جملے بول کر سامنے والے کو خاموش کرا دیتا تھا…
لیکن ابھی… وہ صفائی دے رہا تھا… وضاحت… کر رہا تھا… اور عجیب بات یہ تھی… اس کی آواز میں وہ کاٹ نہیں تھی… وہ طنز نہیں تھا… جو ہمیشہ ہوتا تھا…
وہ گروپ کا سویج بوائے تھا… لیکن… آج… وہ چپ تھا… اور شاید… پہلی بار… کسی کے سامنے… تھوڑا سا سنجیدہ بھی تھا۔۔۔
صدف نے خفگی سے منہ پھیر لیا… اب فون کریں بھائی کو…
سومین نے جیب سے فون نکالا…
اور نمبر ڈھونڈتے ہوئے پھر آہستہ سے کہا…
مجھے واقعی یاد نہیں تھا…
صدف نے فوراً کاٹ دیا…
سوری… میں اب بہری ہو چکی ہوں…
سومین رکا… ہیں…؟
مجھے آپ کی آواز نہیں آ رہی… چپ سے کال کریں…
وہ سرد لہجے میں بولی…
ہان وو نے ایک نظر سومین پر ڈالی…
اور پھر نظریں ہٹا لیں…
سومین نے آخرکار نمبر ڈائل کیا… فون کچھ لمحے بجتا رہا… پھر دوسری طرف سے آواز آئی… باسط کی…
ہيلو…؟
ہاں… سنو۔۔۔ سومین نے سیدھا کہا… اور مختصر انداز میں لوکیشن بتا دی… دوسری طرف خاموشی کا ایک لمحہ…
پھر اچانک…
کیا؟ وہ وہاں کیا کر رہی ہے…؟
باسط کی آواز واضح پریشان تھی…
سومین نے صرف اتنا کہا… آ جاؤ…
چند سیکنڈ بعد… آیا میں… ابھی آیا…کال کٹ گئی…
سومین نے فون نیچے کیا…
صدف اب بھی دوسری طرف منہ کیے کھڑی تھی…
بازو باندھے ہوئے… جیسے اب بھی ناراض ہو…
آ رہا ہے… سومین نے آہستہ سے کہا…
بہت مہربانی۔۔۔ وہ خفکی سے بولی۔۔
+++++++++++++
سوہان ابھی وہیں پتّھر پر بیٹھا تھا، جہاں سیونگ لوگ اُسے چھوڑ کر گئے تھے۔۔ وہ تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ، ایک طرف گھاس پر بیٹھ گیا…
ماسک ہٹایا… لمبی سانس لی… ہوا ٹھنڈی تھی…
تبھی…
ارے یار یہ کون ہے…؟ قریب سے آواز آئی…
سوہان نے نظر اٹھائی… تین لڑکے کھڑے تھے…
عمر میں اس جیسے ہی… کندھوں پر بیگ… چہروں پر تجسس… اور بالکل بے تکلف انداز…
ان میں سے ایک نے سیدھا اسے دیکھتے ہوئے کہا…
یہ پاکستانی تو نہیں لگتا…
سوہان سمجھا نہیں…
مگر لہجے سے اندازہ ہوا کہ بات اسی کے بارے میں ہے…
دوسرے نے آگے بڑھ کر انگریزی میں پوچھا…
Hey… you okay? Where are you from?
سوہان نے ہلکا سا سر اٹھایا…
Korea… he said simply.
تینوں کے چہروں پر ایک ساتھ حیرت آئی…
کوریا سے…؟ پہلے والے نے اردو میں کہا… پھر فوراً انگریزی میں پلٹا…
Like… South Korea?
Yes…
Tourist? یہاں گھومنے آئے ہو؟
Sohan nodded… Trip… with friends.
ارے یار… تیسرے نے سیٹی بجائی… کوریا سے مرگلہ آئے ہیں… کمال ہے…
پہلے والے نے جھک کر ہاتھ آگے بڑھایا…
I’m Zaid… he said with an easy grin… This is Hamza… and that one is Bilal…
بلال نے ہاتھ ہلایا… وہ پہلے سے ہنس رہا تھا…
پارک سوہان… سوہان نے آہستہ سے کہا…
سوہان… زائد نے دہرایا… اچھا نام ہے…
پھر ایک لمحہ رکا…
تم اکیلے بیٹھے ہو… دوست کہاں گئے؟
سوہان نے پیچھے اشارہ کیا…
Somewhere there…
حمزہ نے ہنستے ہوئے کہا…
Got lost or they lost you?
سوہان کو پوری بات سمجھ نہیں آئی… مگر لہجہ سمجھ آیا…
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی…
زائد نے اس کی طرف دیکھا…
پھر بالکل سادگی سے بولا…
Chalo… come with us… we’re playing cards over there… you can wait for your friends with us…
سوہان نے ایک لمحہ سوچا…
پھر…
اوکے۔۔۔۔ اس نے آہستہ سے کہا…
اور اٹھ گیا…
تھوڑی دیر بعد…
وہ ان تینوں کے ساتھ گھاس پر بیٹھا تھا…
درمیان میں تاش کے پتے بکھرے ہوئے تھے…
بلال اسے رولز سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا…
آدھے اردو میں… آدھے انگریزی میں…
سوہان آدھا سمجھ رہا تھا…
آدھا اندازے سے کھیل رہا تھا…
اور ہر بار جب وہ غلط چال چلتا…
حمزہ ہنس کر پتے میز پر پٹختا… یار یہ تو cheat کر رہا ہے۔۔۔
نو… نو… اٹس اے گیم… سوہان نے فوراً کہا…
ابے اس پر الزام نہیں لگا… ابھی ہار رہا ہے تو بہانہ بنا رہا ہے… بلال نے سیدھا حمزہ کو کہا…
یہ ہر بار ایسا ہی کرتا ہے۔۔۔ زائد نے کہا چلو کوئی اور سا گیم کھیلے۔
پتے سمیٹے گئے…
سوہان نے پوچھا… What game?
بلال نے آنکھیں چمکائیں…
Running… catching… you know?
سوہان نے ایک لمحہ سوچا…
پھر سر ہلا دیا…
اوکے…
رولز سیمپل ہیں… جو پکڑایا… وہی پکڑے گا اگلے کو…
سوہان نے سر ہلایا… جیسے سمجھ آ گئی ہو…
آئی ہو یا نہ آئی ہو… وہ الگ بات تھی…
پہلے دو منٹ ٹھیک رہے…
بھاگنا… مڑنا… ہنسنا…
سوہان بھی ہنس رہا تھا… بے وجہ… بے فکر…
پھر…
زائد نے مڑ کر دیکھا… سوہان قریب آ رہا تھا…
بچنے کے لیے اس نے اچانک موڑ کاٹا…
سوہان بھی مڑا…
حمزہ بھی اسی طرف آ رہا تھا…
بلال اسی راستے سے واپس بھاگ رہا تھا…
ایک لمحہ…
چاروں نے ایک دوسرے کو دیکھا…
اور اگلے ہی لمحے…
چاروں ایک ساتھ گھاس پر…
کوئی الٹا… کوئی سیدھا… کوئی بیچ میں…
خاموشی… ایک سیکنڈ… دو سیکنڈ…
پھر حمزہ نے اوپر سے ٹانگ ہٹائی… یار یہ میری ٹانگ ہے یا تیری…؟
بلال نے گھاس میں منہ دبائے ہوئے کہا… مجھے نہیں پتا… میں زندہ بھی ہوں یا نہیں ابھی…
زائد اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا… مگر ہنسی کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا تھا…
اور سوہان… وہ چت لیٹا آسمان دیکھ رہا تھا…
سانس پھولی ہوئی… گھاس کی مٹی کپڑوں پر…
اور چہرے پر… ایک بڑی سی مسکراہٹ…
وہ کب آئی… اسے خود نہیں پتا تھا…
پِھر ہستے ہستے چاروں اٹھ کر بیٹھ گئے…
کپڑے جھاڑے…
حمزہ نے بیگ سے چھوٹا سا پٹی کا ڈبہ نکالا…
بلال نے گھٹنا آگے کیا… لگا دو یار…
حمزہ نے اس کا گھٹنا دیکھا… یہ تو بس سرخ ہوا ہے… کچھ نہیں ہوا…
بلال نے پھر بھی منہ بنایا… پھر بھی لگا دو…
زائد نے سر ہلایا… بچہ ہے بالکل…
حمزہ نے پٹی لگاتے لگاتے کہا…
بچا لیا اللہ نے ہمیں… ورنہ ابھی ہم سب مرے جاتے…
بلال نے سنجیدگی سے سر ہلایا… ہاں… ایک تو اتنی خطرناک جگہ… اوپر سے گرنا…
زائد نے سوہان کی طرف دیکھا… تمہیں کوئی چوٹ نہیں آئی نا…؟
سوہان نے اپنے ہاتھ دیکھے… نفی میں سر ہلایا۔۔
بلال نے فوراً کہا… بچ گئے تم…
سوہان نے ایک لمحہ سوچا… گر جاتے تو کیا ہوتا… مر جاتے…؟ اُس نے انگریزی میں کہا
حمزہ نے فوراً سر ہلایا… نہیں… ہسپتال میں پڑے ہوتے… اتنا آسان تھوڑی ہے مرنا…
بلال نے آہستہ سے کہا… ہاں… اتنا آسان ہوتا تو ابھی مر جاتا میں…
زائد نے پیچھے سے ہلکا سا مارا… ابے خودکشی کرے گا تو…
بلال نے فوراً ہاتھ اٹھایا… نہیں یار اللہ کی توبہ… ویسے ہی کہہ رہا تھا…
ہلکی سی ہنسی پھیل گئی…
پھر حمزہ نے سوہان کی طرف رخ کیا…
تم بتاؤ… تم مسلم ہو…؟ ویسے کرسچن ہوگے…
سوہان نے ایک لمحہ سوچا… نہیں… پتا نہیں…
بلال نے بھنویں چڑھائیں… کیا مطلب…؟
مطلب… میں مانتا نہیں کسی کو بھی…
حمزہ نے سیدھا پوچھا… مطلب خدا کو ہی نہیں مانتے…؟
سوہان نے سر ہلایا… نہیں…
بلال نے منہ بنایا… یہ سہی نہیں ہے…
زائد خاموش تھا… اس نے ایک لمحہ سوہان کو دیکھا…
پھر آہستہ سے پوچھا… کیوں نہیں مانتے…؟
سوہان نے نظریں نیچے کیں… کوئی لمبی کہانی نہیں تھی… کوئی بڑا فلسفہ نہیں تھا… بس…
Nobody ever told me…
اس نے سادگی سے کہا…
ایک لمحے کے لیے سب خاموش ہو گئے…
زائد نے اسے غور سے دیکھا…
جیسے یہ جواب اس نے expect نہیں کیا تھا…
حمزہ نے آہستہ سے کہا… کسی نے بتایا ہی نہیں…؟
سوہان نے ہلکا سا سر ہلایا…
بلال کچھ کہنے والا تھا…
مگر زائد نے اسے ایک نظر سے روک دیا…
پھر زائد نے سوہان کی طرف دیکھا…
اور بالکل سادگی سے… بس اتنا کہا۔۔ تو پھر… کبھی جاننے کی کوشش کرو…
سوہان نے اس کی طرف دیکھا…
سوہان نے کندھے اچکائے… کیا فرق پڑتا ہے…
زائد نے اسے دیکھا… پھر آہستہ سے کہا…
فرق پڑتا ہے نا…
سوہان نے نظریں اٹھائیں…
زائد نے گھاس پر کہنی ٹکائی… لہجہ بالکل سادہ تھا…
دیکھو… اگر ہم خدا کو مانتے ہیں… تم نہیں مانتے…
سوچو… اگر خدا ہوا تو… تو ہم تو بچ جائیں گے…
اور اگر خدا نہ ہوا… تب بھی ہم بچ جائیں گے…
وہ ایک لمحہ رکا… لیکن اگر خدا ہوا… تو تم کیسے بچو گے…؟
سوہان کے ہونٹ کھلے… پھر بند ہو گئے… جیسے جواب تھا… مگر نکلا نہیں…
خدا ہے تو…؟ اس نے آہستہ سے پوچھا…
بلال نے اسے دیکھا… تو وہ تم سے سوال نہیں کرے گا… کہ تم نے مجھے کیوں نہیں مانا… یا تم نے مجھے تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی…
وہ رکا… پھر بولا…
پھر تم کیا جواب دو گے…؟
خاموشی… ہوا چل رہی تھی… درخت ہل رہے تھے…
مگر سوہان کے اندر… کچھ تھم سا گیا تھا…
کوئی بڑا انقلاب نہیں آیا… کوئی آنسو نہیں آئے…
کوئی فیصلہ نہیں ہوا… بس… ایک سوال تھا…
جو پہلے کبھی کسی نے نہیں پوچھا تھا…
اور آج…۔ایک اجنبی نے پوچھ لیا تھا…
پھر تم کیا جواب دو گے…؟
++++++++++++
باسط کی بائیک اُن کے سامنے آ کر رکی…
وہ تیزی سے اُترا… اور سیدھا صدف کی طرف بڑھا…
کیا کر رہی ہو یہاں تم…؟ تھوڑا سا انتظار نہیں ہوتا تم سے؟
اس کی آواز میں صاف غصہ تھا…
صدف کی نظریں فوراً جھک گئیں…
سومین نے ہلکا سا قدم آگے بڑھایا…
اس کی غلطی نہیں ہے… رکشہ والا اسے غلط راستے پر چھوڑ گیا…
باسط نے ایک نظر سومین پر ڈالی…پھر واپس صدف کی طرف دیکھا… اچھا؟ اس کی غلطی نہیں ہے…؟
صدف خاموش رہی…
سومین کو پوری بات سمجھ نہیں آ رہی تھی…
مگر tone سب کچھ بتا رہی تھی…
چلو اب… گھر… باسط نے سختی سے کہا…
نہیں جاؤں گی… صدف نے فوراً جواب دیا… آپ غصہ کریں…
یہ کیا بچپنا ہے صدو…؟
اب تو کوئی مجھے یہاں سے ہلا کے دکھائے… وہ ضد سے بولی…
باسط نے دانت بھینچے… سب کے سامنے تماشا مت بناؤ…
صدف نے فوراً سر اٹھایا…
آنکھیں اب بھی نم تھیں… مگر لہجہ تیز…
اور جو آپ نے بنایا؟ میرا تماشا؟ سب کے سامنے مجھ پر چیخا…وہ؟؟
ایسی حرکت کرو گی تو چیخوں گا نہیں تو اور کیا کروں گا؟ باسط نے جھنجھلا کر کہا…
تھوڑی دیر اِنتظار نہیں ہو سکا تم سے؟ یونیورسٹی سے نکل آئیں…؟
ہاں تو آپ کو خیال رکھنا چاہیے تھا! میری کوئی فکر ہی نہیں ہے… دیر سے چھوڑو… دیر سے لینے آؤ…
سب جا چکے تھے… میں اکیلی وہاں کیا کرتی…؟
ہان وو اور دونوں باڈی گارڈ پیچھے ایک طرف پودے کے بنے کیاری پر بیٹھے ہوئے تھے…
اور سومین… وہ بس کھڑا… دونوں کو دیکھ رہا تھا…
الفاظ پوری طرح سمجھ نہیں آ رہے تھے…
لیکن احساس… صاف سمجھ آ رہا تھا…
غصہ… شکایت… اور تھوڑی سی… تکلیف…
سومین نے آہستہ سے ہان وو کی طرف دیکھا…
پھر دوبارہ اُن دونوں کی طرف…
سومین نے ہلکے سے کہا… اب لے جاؤ اسے گھر… کافی دیر سے یہاں کھڑی ہے…
باسط نے سر ہلایا… ہاں… چلو…
نہیں جا رہی میں… صدف نے فوراً کہا…
دیکھو… اب پھر بدتمیزی کر رہی ہو تم… باسط نے سختی سے کہا…
ہاں… میں بدتمیز ہی اچھی…
سومین نے اسے دیکھتے ہوئے آہستہ سے انگریزی میں پوچھا…۔اب کیوں ناراض ہو رہی ہو…؟
صدف چونکی… آپ کو کیسے پتا…؟ آپ کو اردو آتی ہے…؟
نہیں… expression… سومین نے سادہ جواب دیا…
ہو گیا نا آپ کا کام… اب جائیں… ہنہ… صدف نے ناگواری سے کہا
آہہ… اتنی بدتمیزی… سومین نے سر ہلاتے ہوئے کہا…
ہاں… آپ مرد ذات اسی قابل ہیں…
باسط ہلکا سا مسکرایا… میرا تو سمجھ آتا ہے… تم نے کیا کر دیا اس کے ساتھ…؟
سومین بس سر ہلا کر رہ گیا…۔
اچھا سوری… اب چلو گھر… باسط نے نرم لہجے میں کہا…
یہ بھی بولیں کہ آئندہ نہیں ہوگا… صدف نے شرط رکھی…
نہیں ہوگا میری ماں… اب چلو… باسط قدرے پریشان ہوتے ہوئے کہا آندھی آجائے طوفان آجائے لیکن مجال ہے جو یہ لڑکی کبھی عقل سے کام لے لے۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔
پھر باسط نے سومین کی طرف دیکھا…
ویسے… تمہیں یہ ملی کیسے…؟
بس… میں یہاں سے جا رہا تھا… نظر پڑی… پہچان لیا میں نے… سومین نے مختصر جواب دیا…
یہ ہے ہی پاگل… کیا کروں میں اس کا… ذرا سی دیر ہو گئی یونیورسٹی سے لینے میں… اور یہ اکیلی نکل آئی… کہیں آتی جاتی بھی نہیں… راستہ بھی نہیں پتا… اور ہمت دیکھ لو…
زیادہ میری برائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے… صدف نے فوراً کہا… ابھی بائیک پر بیٹھی نہیں ہوں میں…
اچھا میری ماں… باسط نے ہنسی دباتے ہوئے کہا…
ویسے تم تو آج جانے والے تھے…؟
ہاں… جانے والے تھے… سومین نے جواب دیا…
پھر ٹکٹ کی وجہ سے کچھ دن اور رکنے کا پلان ہے۔۔
اچھا… پھر مسجد کیوں نہیں آئے…؟
سومین ایک لمحے کو گھبرا گیا…
وہ…
چلیں بھی… صدف نے بات کاٹ دی… یہ آپ ان سے کل پوچھ لیجیے گا… یہ کل مسجد آئیں گے تو…
پھر وہ سیدھا سومین کی طرف مڑی…
اوکے… ٹھیک ہے… کل مسجد میں مل لیجیے گا ان سے…۔اور… تھینک یو… بٹ نو تھینک یو…
سومین نے بس اسے دیکھا… کچھ کہا نہیں…
باسط نے بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے کہا…
چلو… ملتے ہیں پھر کل ان شاء اللہ… اپنا خیال رکھنا… فی امان اللہ…
اگلے ہی لمحے… بائیک اسٹارٹ ہوئی… اور وہ دونوں… وہاں سے چلے گئے…
پیچھے سے ہان وو کی آواز آئی… شکر ہے…
سومین نے فوراً اسے گھورا… کیا ہے…؟
مجھے تو لگا رات تک یہیں کھڑے رہنا پڑے گا…
ہان وو نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا…
دیکھ وقت… پتہ نہیں کب سے یہاں کھڑے ہیں…
سومین نے ہلکا سا سر جھٹکا… چلی گئی اب نا… اب چل…
وہ سامنے روڈ کراس کر گاڑی کی طرف بڑھا…
ہان وو بھی اس کے ساتھ چلنے لگا… پھر اس نے آہستہ سے کہا… تم… کافی دیر تک کھڑے رہے…
سومین نے بغیر رکے جواب دیا… تو…؟
کچھ نہیں… ہان وو نے کندھے اچکائے…
بس… unusual تھا…
سومین رکا۔۔۔ ایک لمحے کے لیے… پھر آہستہ سے اس کی طرف مڑا… زیادہ سوچا نہ کرو… دماغ خراب ہو جاتا ہے…
ہان وو نے ہلکی سی مسکراہٹ دی… اور دونوں… خاموشی سے گاڑی کی طرف بڑھ گئے…
++++++++++++
گاڑی کے پاس پہنچتے ہی… منیجر نے فوراً اسے دیکھا…
آپ کہاں تھے…؟ سب آپ کو ڈھونڈ رہے تھے…
سوہان نے معصومیت سے کہا… یہیں تو تھا… اوپر…
منیجر نے ایک لمحہ اسے دیکھا… پھر موبائل اٹھایا…
ابھی سب کو اطلاع کرتا ہوں کہ آپ صحیح سلامت ہیں…
اس نے کال لگانی چاہی… مگر سگنل نے ساتھ نہیں دیا…
ایک بار… دو بار… تیسری بار…
منیجر نے ہلکا سا سر ہلایا… اور میسج لکھ کر سب کو بھیج دیا…
سوہان نے کندھے اچکائے… اور قریب ہی ایک پتھر پر بیٹھ گیا…
زمین سے ایک ٹہنی اٹھائی…
اور بے خیالی میں زمین پر کچھ لکھنے لگا…
S… O… H… A… N…
ہوا چل رہی تھی…
منیجر کال کرنے کی کوشش میں لگا تھا…
اور سوہان…
ابھی تک اسی خیال میں تھا…
پھر تم کیا جواب دو گے…؟
پیچھے سے ایک چپت آئی۔۔۔
سوہان چونکا…
دوسری۔۔۔۔
تیسری۔۔۔۔
چوتھی۔۔۔۔
وہ جھنجھلا کر کھڑا ہوا…
اور سامنے سے جے کیونگ نے آ کر ایک اور لگائی…
سوہان ایک دم چیخا کیا ہے…؟ پھر چونک… تین تھپڑ رہ گئے…؟؟
تائیجون نے فوراً کہا… تین کیسے دوں… سومین اور ہان وو نہیں ہیں ادھر… ان سے گھر میں پٹے گا تو…
سوہان نے منہ بنایا… ہان وو دو مارتا ہے… ایک اپنا اور ایک میرا۔۔۔
رن یون نے غصے سے سوہان کو گھورتے ہوئے دیکھا۔۔۔
کہاں تھے تم…؟
سوہان نے بالکل سادہ لہجے میں کہا… یہیں تھا نا… اوپر…
سیونگ نے بھنویں چڑھائیں… ہم اسی راستے سے واپس آئے… تم تو تھے نہیں وہاں…؟
تائیجون نے ایک اور سوہان کو لگاتے کہا ارے پوچھ کیا رہے ہو… دو تین اور لگاؤ…
سوہان فوراََ تائیجون سے دور ہُوا … وہیں تھا میں… بس کھیلنے لگا تھا…
ہیوک نے نظریں سکیڑیں… کس کے ساتھ…؟
سوہان نے کندھے اچکائے… وہ کچھ لڑکے مل گئے تھے مجھے…
رن یون کی آواز اس بار سنجیدہ تھی…
تمہیں منع کیا ہے نا… بغیر بتائے کسی کے ساتھ کہیں نہیں جانا…
سوہان نے آنکھیں گھمائیں… چھوٹا بچہ تھوڑی ہوں میں…
تائیجون نے فوراً کہا… بچہ ہی ہے تو…
رن یون نے سیدھا کہا… بس… اب اسے کوئی بھی اکیلا نہیں چھوڑے گا… بتا دیا ہے میں نے…
سوہان نے منہ بنایا… اوہ بھائی… کچھ ہوا تھوڑی مجھے…
جے کیونگ نے ٹھنڈے لہجے میں کہا…
ہو جاتا تو…؟ کون ذمہ دار ہوتا اس کا…؟
سوہان کچھ بولنے والا تھا… مگر پھر رکا… کیونکہ جواب تھا نہیں اس کے پاس…
آہستہ سے بولا…
ارے میں تو وہیں بیٹھا تھا تُم لوگوں کا انتظار کر رہا تھا… پھر وہ لڑکے آ گئے… کہا چلو گیم کھیلتے ہیں… تو پھر ادھر میں پگھل گیا… کہا ہاں ٹھیک ہے… پھر کھیلتے وقت نہ وقت کا پتا چلا نہ جگہ کا…
وہ رکا… لیکن بھائی لوگ تمہیں پتا…
سیونگ نے پوچھا… کیا…؟
سوہان نے ایک لمحہ سوچا…
ان لوگوں نے مجھ سے ایک سوال پوچھا…
تائیجون نے فوراً ہاتھ اٹھایا…
ابھی نہیں… بہت بھوک لگی ہے… کھانا نکلو پھر بیٹھ کر آرام سے بتانا…
جے کیونگ نے سر ہلایا… ہاں… بھوک تو بہت لگی ہے۔۔۔
چند لمحوں بعد…
گھاس پر ایک بڑی سی چادر بچھ گئی… سب بیٹھ گئے… کھانے کے ڈبے کھل گئے… ہوا میں کھانے کی خوشبو پھیل گئی…
پہاڑ پیچھے تھا… شام آگے تھی…
اور سوہان…
ابھی بھی اس سوال کے ساتھ بیٹھا تھا…
جو کسی نے پہلے کبھی نہیں پوچھا تھا…
