Bashar Episode 6 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۶

ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک گھلنے لگی تھی…
سورج آہستہ آہستہ پہاڑ کے پیچھے ڈوب رہا تھا…
آسمان پر نارنجی اور سنہری رنگ پھیل گئے تھے…
چادر پر سب بیٹھے تھے…
کھانے کے ڈبے کھل چکے تھے…
سب کے ہاتھ میں ایک ایک پلیٹ تھی…
آج وہ اپنا ہی کھانا ہوٹل سے بنوا کر ساتھ لائے تھے…
کِمباپ اور یوبوچوباپ کی خوشبو ہوا میں گھل رہی تھی…
کچھ دیر سب خاموشی سے کھاتے رہے…
پھر اچانک…
سوہان نے سر اٹھایا…
انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا… اگر خدا ہوا تو…؟
تائیجون نے فوراً کندھے اچکائے…
ہوا تو کیا…؟ کچھ نہیں…
سوہان نے آہستہ سے سر ہلایا…
نہیں نا….اس نے پلیٹ کی طرف دیکھا… پھر دھیرے سے بولا… میں نے کبھی سوچا ہی نہیں…
کہ اگر خدا ہے تو ہے… اور اگر نہیں ہے تو نہیں ہے…
ہیوک نے نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا… تو…؟
سوہان نے سر اٹھایا… آنکھوں میں اب ہلکی سی سنجیدگی تھی… جو سنجیدگی بہت کم سوہان کی آنکھوں میں دکھائی دیتی تھی،تو… بات ایسے نہیں ہے… جیسے… بھائی تم نہیں مانتے کہ خدا ہے… میں بھی نہیں مانتا۔۔۔
لیکن اگر خدا نہ ہوا…
تو جو لوگ خدا کو مانتے ہیں… وہ تو ویسے ہی رہیں گے… کچھ نہیں ہوگا…
لیکن… اگر خدا ہوا…؟ تو ہم کیسے بچے گے بھائی…؟
کسی نے کچھ نہیں کہا… سوہان کی آواز اور دھیمی ہو گئی…
اگر اُس نے پوچھ لیا… تم نے مجھے کیوں نہیں مانا…؟
تم نے کبھی مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کیوں نہیں کی…؟
سوہان کی بات کے بعد…
چند لمحوں تک کوئی کچھ نہیں بولا…
سب خاموش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
تبھی تائیجون بولا۔۔۔
یہاں سب خدا کو مانتے ہیں… لیکن… سب الگ الگ طرح سے… سب کے الگ الگ خدا ہیں۔۔۔
کیا اتنے سارے خدا ہیں۔۔۔؟؟ میرے تو مانا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے۔۔۔ خُدا کو انسان نے خود بنایا ہے۔۔۔
خدا کو انسان نے خود تخلیق کیا ہے۔۔۔ یہ سب انسانی تصورات ہیں۔۔۔
سب دھیان سے تائيجون کی بات سننے لگے۔۔۔
تائیجون اب سیدھا بیٹھ گیا تھا…
لہجہ اب بالکل سنجیدہ تھا…
انسان… بہت کمزور ہوتا ہے… اندر سے…
اسے ڈر لگتا ہے… اکیلے ہونے سے… غیر یقینی سے…
موت سے… اور جب انسان کو کوئی نظر نہیں آتا… جس پر وہ بھروسہ کر سکے…
تو وہ ایک “وجود” تخلیق کر لیتا ہے…
ایسا وجود… جو ہمیشہ ہو…
جو سب سن رہا ہو…
جو اسے دیکھ رہا ہو…
ہیوک کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
تائیجون نے ہاتھ سے ہوا میں ہلکی سی لکیر کھینچی…
یہ ایک طرح کا psychological defense ہے…
ہم اپنے خوف کو manage کرنے کے لیے… ایک یقین create کرتے ہیں…
کہ کوئی ہے… جو سب ٹھیک کر دے گا…
کوئی ہے… جو ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے گا…
سوہان خاموشی سے سن رہا تھا…
تائیجون کی آواز اب اور نرم ہو گئی…
سوچو… جب کوئی بندہ ٹوٹتا ہے…
تو وہ کیا کہتا ہے…؟ “خدا بہتر کرے گا…”
یہ جملہ… حقیقت ہے… یا تسلی…؟
کسی نے جواب نہیں دیا…
تائیجون نے خود ہی آہستہ سے کہا…
یہ تسلی ہے… ایک ایسی تسلی… جو انسان نے خود کو دی…
ہم emotionally dependent ہوتے ہیں…
ہمیں کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے…
اور جب وہ سہارا انسانوں میں نہیں ملتا…
تو ہم اسے آسمان میں ڈھونڈ لیتے ہیں…
ہوا خاموش ہو گئی…
ایک لمحہ… دو لمحے…
پھر تائیجون نے سوہان کی طرف دیکھا…
تو میرے لیے… خدا… ایک psychological need ہے… اور کُچھ نہیں۔۔۔
دیکھو… ایک بات اور بھی ہے…
اس نے آہستہ مگر واضح انداز میں کہا…
ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں نا…
کہ جو لوگ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں…
جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا…
جو اندر سے کمزور ہوتے ہیں…
وہی خدا کے قریب آ جاتے ہیں…
اور جو لوگ خوش ہوتے ہیں…
جن کے پاس سب کچھ ہوتا ہے…
اچھا گھر… اچھی زندگی… سکون…
وہ آہستہ آہستہ خدا سے دور ہو جاتے ہیں…
وہ رکا… سب کی طرف دیکھا…
کیوں…؟
کسی نے جواب نہیں دیا… تائیجون خود ہی بولا…
کیونکہ انسان کی فطرت ہے…
کہ وہ ضرورت کے وقت سہارا ڈھونڈتا ہے…
جب سب کچھ چھن جاتا ہے…
تو انسان کے پاس کوئی نہیں بچتا…
تب وہ کسی “اوپر والی طاقت” کو پکڑ لیتا ہے…
ایک امید… ایک سہارا…
یہ اصل میں… ایک psychological need ہے…
وہ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے سمجھانے لگا…
جب تم اکیلے ہوتے ہو… ٹوٹے ہوتے ہو…
تو تمہارا دماغ خود کو بچانے کے لیے
ایک strong belief create کرتا ہے…
تاکہ تم گر نہ جاؤ…
اور جب تم strong ہوتے ہو…
تمہیں لگتا ہے تمہیں کسی کی ضرورت ہی نہیں…
تو تم خود ہی خدا سے دور ہو جاتے ہو…
وہ ہلکا سا مسکرایا…
اس لیے نہیں کہ خدا قریب یا دور ہوتا ہے…
بلکہ اس لیے… کہ انسان خود بدلتا ہے…
رن یون نے ہلکے سے سر ہلایا…
میں بھی اس بات سے اگری کرتا ہوں…
ہیوک نے بھی خاموشی سے تائیجون کی بات سنی اور کُچھ نہیں بولا۔۔
جے کیونگ… اب بھی خاموش تھا…
نہ اس نے ہاں کی… نہ ناں…
بس نظریں نیچے کیے… کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا…
سوہان نے اردگرد دیکھا….سب کچھ سن رہا تھا…
لیکن سمجھ… آدھی بھی نہیں آ رہی تھی…
اس نے بس ہلکا سا سر ہلا دیا…
جیسے مان بھی لیا ہو… اور نہیں بھی…
سیونگ نے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا…
مطلب… خدا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے…؟
تائیجون نے فوراً سر ہلایا…
نہیں…
لیکن سیونگ جانتا تھا، خدا ہے واقعی ہے۔۔۔
رن یون نے اس بار سوہان کی طرف دیکھا…
سمجھ گئے تم…؟
سوہان نے ایک لمحہ اسے دیکھا…
پھر آہستہ سے سر ہلا دیا…
ادھر…
جے کیونگ کی دنیا الگ ہی چل رہی تھی…
وہ ابھی تک اسی ایک سوال میں پھنسا ہوا تھا…
کیا خدا کو ماننا، اِتنا ضروری ہے…؟
اگر مانیں… تو کیوں…؟
اگر نہ مانیں… تو کیا ہوگا…؟
اور ابھی ابھی…
تائیجون نے کہہ دیا تھا…
کہ سب کچھ انسان کے دماغ کا سہارا بھی ہو سکتا ہے…
تو پھر…
اگر خدا ہے ہی نہیں… تو ماننے کا مطلب…؟
اور اگر ہے…
تو نہ ماننے کا انجام…؟
وہ خود کو مطمئن کرنا چاہ رہا تھا…
لیکن عجیب بات تھی… جتنا وہ خود کو سمجھاتا…
اتنا ہی اندر ایک ہلکی سی بے چینی بڑھ جاتی…
جیسے… کوئی جواب ہے… مگر ابھی… ملا نہیں…

+++++++++++

ہوٹل کی لابی روشنیوں سے جگمگا رہی تھی…
لمبے شیشے… چمکتی فرش… اور ہلکی سی خوشبو… جو فضا میں گھلی ہوئی تھی…
سب اپنے اپنے کمروں کی طرف جا رہے تھے…
رن یون بھی آہستہ قدموں سے راہداری میں چل رہا تھا…
چہرہ سنجیدہ… مگر ذہن کہیں اور الجھا ہوا…
ابھی وہ اپنے کمرے کے قریب پہنچا ہی تھا کہ…
اچانک… سامنے سے کوئی آتا دکھائی دیا…
رن یون کے قدم وہیں رک گئے…
آنکھیں ایک لمحے کو جیسے ٹھہر گئیں…
یہ…؟
اسے یقین نہیں آیا…
یہ حقیقت تھی… یا صرف ایک وہم…؟
وہ وہیں کھڑا… بس اسے دیکھتا رہا…
سب کچھ جیسے دھندلا سا ہو گیا تھا…
اور وہ لڑکی… بالکل واضح…
وہی…
جسے وہ بار بار دیکھ رہا تھا…
یا شاید… دیکھنا چاہ رہا تھا…
لڑکی فون میں مصروف تھی…
تیزی سے چلتی ہوئی…
اور پھر…
ٹھک!
وہ سیدھا رن یون سے آ ٹکرائی…
سوری… سوری…
اس نے بغیر دیکھے جلدی سے کہا…
مگر جیسے ہی اس کی نظر رن یون کے چہرے پر پڑی…
وہ ایک دم رک گئی… چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے…
آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے…؟
رن یون جیسے ہوش میں آیا…
ج… جی…؟
میں نے کہا… آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ کیا چاہتے ہیں آپ؟
رن یون نے ایک لمحہ اسے دیکھا…
پھر آہستہ سے بولا… کچھ نہیں… میں کیا چاہوں گا…؟ دل نے فوراً جواب دیا تھا…
تم سے بات کرنا چاہتا ہوں…
مگر زبان… خاموش رہی…
لڑکی نے جھنجھلا کر کہا… پھر میرے راستے سے ہٹ کیوں نہیں جاتے؟ ہر بار… بار بار… میری نظروں کے سامنے مت آیا کریں۔۔۔
اس میں میری کیا غلطی ہے…؟
لڑکی نے فوراً کہا… ہاں… میری ہی غلطی ہے نا؟ راستے میں آپ آتے ہیں… دور سے مجھے گھورتے ہیں…؟ لیکن غلطی میری ہے۔۔۔
رن یون نے نظریں ہٹا لیں… میں کیا کروں… میں نے کوشش تو کی تھی…
کیسی کوشش…؟
رن یون کی آواز ہلکی سی دھیمی ہوئی…
تمہیں نظر انداز کرنے کی کوشش… لیکن… نہیں کر پایا…
چیپ اُس نے کڑواہٹ سے زیرِ لب کہا…
رن یون نے فوراً دیکھا… کیا…؟ کچھ کہا تم نے…؟
نہیں… اس نے فوراً انکار کیا…
پھر رن یون نے سنجیدگی سے کہا…
تم میرے ایک سوال کا جواب دے دو… تو شاید۔۔۔
وہ اُس کے آگے بولنے سے پہلے ہی بول پڑی
پوچھیں… جلدی
رن یون نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا…
کیا تم مجھے جانتی ہو…؟
وہ خاموش رہی…
اور اگر جانتی ہو… تو یہ بھی جانتی ہو گی کہ میں کوئی آوارہ یا۔۔۔ غلط لڑکا نہیں ہوں…
پھر بھی… تمہارا رویہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہے…؟
اور تُمہاری دوست نے تو کہا تھا کہ تُم لڑکوں سے بات نہیں کرتی۔۔۔؟؟ پھر تُم اُس دن پارک میں کس لڑکے سے بات کر رہی تھی؟؟
لڑکی کے چہرے پر سختی آ گئی…
میں صرف اُن لوگوں سے بات کرتی ہوں… جن سے میرا کوئی رشتہ ہو… اور پارک میں… جس لڑکے سے بات کر رہی تھیں… وہ میرا بھائی تھا…
رن یون چند لمحے خاموش رہا… پھر بولا۔۔
تو مطلب… تم سے بات کرنے کے لیے… مجھے تم سے کوئی رشتہ بنانا پڑے گا…؟
لڑکی نے بغیر جھجک کے کہا… ہاں… اور جو آپ نہیں بنا سکتے…
رن یون کی آنکھیں اس پر جم گئیں…
کیوں…؟
وہ سیدھا بولی…
کیونکہ آپ اور میرا… نہ کوئی رشتہ ہے… اور نہ کبھی بن سکتا ہے…
یہ جملہ سیدھا آ کر کہیں اندر لگا…
مگر رن یون نے خود کو سنبھالا…
میں اتنا بھی برا ہوں…؟
اس نے ہلکے طنز سے کہا…
اتنا فیمس ہوں آدھی دنیا مُجھے پسند کرتی ہے۔۔ فین نہ سہی… تھوڑی سی ریسپیکٹ تو کر سکتی ہو…
لڑکی نے فوراً جواب دیا… مجھے اجازت نہیں ہے…
وہ ایک لمحہ رکی… پھر ہلکی سی اکڑ کے ساتھ بولی…
میں بدتمیز ہی اچھی ہوں… مجھے نہیں آتی کسی کی ریسپیکٹ کرنی… کوئی مسئلہ۔۔؟؟
رن یون نے آہستہ سے سر ہلایا… نہیں… لیکن…
وہ رکا… پھر جیسے اچانک ذہن میں آیا ہو…
کیا تم… married ہو…؟ یا پھر… boyfriend…؟
ایک لمحے کی خاموشی… پھر لڑکی نے سیدھا جواب دیا… ہاں… married ہوں… دو بچے بھی ہیں میرے… اور چار boyfriend بھی ہیں…
رن یون کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا…
لڑکی نے ایک نظر اسے دیکھا…
پھر ہلکا سا طنزیہ مسکرائی… اور کچھ…؟
اور بغیر اس کے جواب کا انتظار کیے…
وہ اس کے پاس سے گزر گئی…
رن یون وہیں کھڑا رہ گیا…
اب بھی… اسی حیرانی میں… یہ… کیا تھا…؟

+++++++++++++

سومین ابھی سونے کی تیاری ہی کر رہا تھا…
تبھی فون پر نوٹیفکیشن آیا…
سومین ایک لمحے کو رُکا…
نظر سیدھی فون کی طرف گئی…
یہ اس کا پرسنل فون تھا…
اور اس فون پر میسج آنا… مطلب کوئی خاص بات…
کیونکہ اس میں صرف چند لوگوں کے نمبر تھے…
قریبی دوست… اور فیملی…
اس نے فون اٹھایا… سکرین آن کی…
اور اگلے ہی لمحے…
باسط
نام دیکھ کر اس نے بھنویں ہلکی سی اٹھائیں…
میسج کھولا…
السلام علیکم… میں صدف… میسج کر رہی ہوں… بھائی کے نمبر سے…مُجھے آپکی ایک ہیلپ چاہیے؟ آپ میری مدد کریں گے…؟
سومین کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی…
اس نے فوراً جواب ٹائپ کیا…
ہاں بولیں…
چند سیکنڈ بعد جواب آیا…
کل آپ مسجد جائیں گے نا… تو میرا ایک کام کر دیں… پلیز بھائی کو کل جلدی گھر بھیج دیجیے گا…
سومین نے پڑھتے ہوئے سر تھوڑا سا جھکایا…
وہ کیا ہے نا… کل میری یونیورسٹی میں فنکشن ہے… اور مجھے جلدی جانا ہے… دوست کے ساتھ پکچر وغیرہ بنانی ہے، لیکن بھائی کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی… یونیورسٹی تو ویسے ہی دیر سے چھوڑتے ہیں… فنکشن کے دوران تو اور… وہ مجھے دس بجے یونیورسٹی چھوڑیں گے…
سومین اب پوری توجہ سے پڑھ رہا تھا…
آپ نے بس اتنا کرنا ہے… کہ جیسے بھی ہو انہیں وقت سے پہلے مسجد سے باہر بھیج دیں…
میں باہر انتظار کرتی رہ جاتی ہوں… وہ آتے نہیں ہیں…
سومین نے فوراً جواب دیا…
اچھا… میں کہہ دوں گا…
دوسری طرف سے فوراً میسج آیا…
ہاں لیکن دھیان رہے… انہیں یہ نہیں کہنا کہ مجھے یونیورسٹی چھوڑنے جانا ہے… نہ میرا نام لینا ہے… نہ یہ کہنا کہ میں نے آپ کو میسج کیا تھا…
سومین نے ہلکا سا سر ہلایا…
ہاں ہاں… مجھے پتا ہے… کسی بھی بہانے سے باہر لے آؤں گا…
اس بار جواب کے ساتھ جیسے مسکراہٹ بھی تھی…
گڈ… گڈ… کافی سمجھدار ہیں آپ…
سومین نے ہلکی سی آنکھیں سکیڑیں…
چند سیکنڈ…
پھر آخری میسج آیا…
اچھا اب میں جا رہی ہوں سونے… بائے بائے… گڈ نائٹ… اور اب میسج مت کیجیے گا…
سومین نے سکرین کو چند لمحے دیکھا…
پھر مختصر سا جواب دیا…
اوکے… گڈ نائٹ…
سین…
کوئی جواب نہیں آیا…
سومین نے فون سائیڈ پر رکھا…
چھت کی طرف دیکھا…
چند لمحے… پھر آہستہ سے مسکرایا…
اور بیڈ پر لیٹ گیا…
مگر نیند… ابھی نہیں آ رہی تھی…
ہان وو کی بات ذہن میں آئی…
پھر… صدف کا میسج… سومین نے آنکھیں بند کیں…
پہلے تو اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا…
لیکن اب اُسے مسجدِ جانا ہی پڑے گا۔۔۔۔

++++++++++++

رن یون ابھی تک وہیں کھڑا تھا…
چہرے پر وہی حیرانی…
دو بچے…؟ چار بوائے فرینڈ…؟
اس نے آہستہ سے خود سے دہرایا…
پھر ہلکی سی ہنسی اس کے ہونٹوں پر آئی…
پاگل ہے…
اس نے سر ہلایا…
یا مجھے پاگل بنا رہی ہے…
اچانک جیسے کوئی خیال بجلی کی طرح ذہن میں آیا…
وہ فوراً مڑا…
اور تیزی سے اُس کے پیچھے چل دیا…
مگر اس احتیاط کے ساتھ… کہ وہ لڑکی اسے دیکھ نہ لے…
کوریڈور لمبا تھا… روشنی ہلکی مدھم…
اور وہ لڑکی… بے خبری میں فون دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی…
رن یون تھوڑے فاصلے پر رُک کر چل رہا تھا…
نظریں بس اسی پر…
پھر وہ ایک دروازے کے سامنے رُکی…
کارڈ نکالا…
اور دروازہ کھول کر اندر چلی گئی…
رن یون کی نظر فوراً دروازے کے اوپر گئی…
202
وہ چند لمحے وہیں کھڑا رہا…
تو مطلب… یہ بھی اسی ہوٹل میں ٹھہری ہے…؟
اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس آیا…
جیسے کوئی اَن دیکھی ڈور بار بار اسے اسی طرف کھینچ رہی ہو…
یا تو یہ محض اتفاق تھا…
یا پھر… کچھ اور…
رن یون نے گہری سانس لی…
پھر مڑا… اور سیدھا لفٹ کی طرف بڑھ گیا…
کچھ ہی دیر بعد…
وہ نیچے ریسپشن پر کھڑا تھا…
ریسپشنسٹ نے پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا…
جی سر… کیسے ہیلپ کر سکتا ہوں…؟
رن یون نے ہلکے سے کہا…
روم نمبر 202… اس میں کون ٹھہرا ہے…؟
ریسپشنسٹ نے سسٹم چیک کیا… پھر سر اٹھا کر بولا…
طاہر صاحب…
رن یون چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا
طاہر صاحب…؟
اس کے ذہن میں فوراً کئی سوال ایک ساتھ ابھر آئے…
اس کے فادر…؟ یا… ہزبنڈ…؟
اس نے بےاختیار لب بھینچ لیے…
کیا وہ سچ کہہ رہی تھی…؟
نہیں… دو بچے… یہ تو ہو سکتا ہے…
لیکن… چار بوائے فرینڈ…؟
اس نے ہلکا سا سر جھٹکا…
یہ بات اس کے گلے سے نہیں اتر رہی تھی…
یا تو وہ جھوٹ بول رہی تھی…
یا… اسے کنفیوز کر رہی تھی…
یا پھر…
وہ واقعی ویسی ہی تھی… جیسا اس نے کہا…
رن یون نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں…
پھر خود سے ہی آہستہ سے کہا…
نہیں… ایسا نہیں ہو سکتا…

+++++++++++++++

ہوٹل کی راہداری میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی…
کمرے بند ہو چکے تھے…
روشنی مدھم… اور ماحول تھوڑا سا سنجیدہ…
ہیوک بالکونی کے پاس کھڑا باہر دیکھ رہا تھا…
نیچے شہر کی لائٹس جگمگا رہی تھیں…
سوہان آہستہ آہستہ چلتا ہوا اُس کے پاس آ کر رُک گیا…
چند لمحے… دونوں خاموش…
پھر سوہان نے ہلکی سی سانس لی…
ہیوک…
ہیوک نے نظریں ہٹائے بغیر کہا…
ہاں…؟
سوہان نے تھوڑا رک کر کہا…
تمہیں… تائیجون کی بات سمجھ آئی…؟
آدھی…
سوہان نے فوراً کہا…
مجھے تو آدھی بھی نہیں آئی…
ہیوک نے اب اس کی طرف دیکھا…
لیکن ایک بات ہے…
کیا…؟
وہ جو کہہ رہا تھا… مکمل غلط بھی نہیں تھا…
سوہان کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
مطلب…؟
ہیوک نے دیوار سے ٹیک لگائی…
دیکھ… جب انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا نا…
تو وہ واقعی… کسی کو ڈھونڈتا ہے… اور جب سب کچھ ہوتا ہے… تو انسان خود کو ہی کافی سمجھنے لگتا ہے…
سوہان نے فوراً کہا…تو کیا… اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا واقعی نہیں ہے…؟
ہیوک چند لمحے خاموش رہا… پھر آہستہ سے بولا…
یہی تو مسئلہ ہے، بات سمجھ بھی آتی ہے…
اور نہیں بھی آتی…
ہاں… یہی حال میرا بھی ہے…
وہ دونوں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے…
ہوا ہلکی سی ٹھنڈی تھی…
سوہان نے پھر آہستہ سے کہا…
اگر واقعی… سب انسان کے دماغ کا کھیل ہے…
وہ رکا… تو پھر ہماری فیملی اور دنیا کے اتنے لوگ کیوں نہیں سمجھتے۔۔؟؟ کیوں اتنے بڑے بڑے۔۔ لوگ خدا پر believe رکھتے ہیں۔۔؟؟ میرے ایک چاچا ہیں جو psychologist ہے،۔۔ اور وہ بھی خدا پر believe رکھتے ہیں۔۔۔ کیوں۔۔؟؟
ہیوک نے اس کی طرف دیکھا…
اس سوال کا جواب اس کے پاس بھی نہیں تھا…
اس نے نظریں ہٹا لیں…
اور اگر خدا واقعی ہے…
سوہان کی آواز اب اور دھیمی ہو گئی…
تو… پھر ہم…؟
جملہ ادھورا رہ گیا…
ہیوک نے گہری سانس لی…
دیکھ سوہان…
ہم نہ… زیادہ سوچ رہے ہیں…
سوہان نے فوراً کہا…
لیکن یہ سوچنے والی بات ہے…
ہیوک نے ہلکا سا سر ہلایا…
ہاں ہے… لیکن…
وہ رکا… ہر بات کا جواب ہمارے پاس ہونا ضروری نہیں ہوتا…
سوہان نے کچھ نہیں کہا… بس نیچے دیکھتا رہا…
کچھ لمحے گزرے…
پھر ہیوک نے ہلکے سے کندھے اچکائے…
اور ویسے بھی…
سوہان نے سوالیہ نظروں سے دیکھا…
ہیوک ہلکا سا مسکرایا…
ہم کون ہوتے ہیں… اتنی بڑی چیزوں کو سمجھنے والے…؟
سوہان کے ہونٹوں پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی…
مگر آنکھوں میں اب بھی الجھن تھی…
سچ میں… وہ آہستہ سے بولا… جتنا سوچتا ہوں… اتنا ہی کنفیوز ہو جاتا ہوں…
ہیوک نے ہلکے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا…
تو پھر ایک کام کر…
کیا…؟
ہیوک نے آدھی مسکراہٹ کے ساتھ کہا…
چھوڑ دے بھائی…
سوہان نے چونک کر اسے دیکھا…
کیا مطلب…؟
ہیوک نے سیدھا جواب دیا…
اس معاملے سے دور ہی رہتے ہیں… تو بہتر ہے…اگر تو دور نہیں رہ سکتا۔۔ تو تیرے جو دِل کر رہا ہے وہ کر۔۔۔ اپنے دل کی سن۔۔ خدا ہے یہ نہیں، اس سوال کو چھوڑ دے۔۔ بس تیرا دِل کیا کہتا ہے وہ سن۔۔۔ اگر تیرا دِل کر رہا خدا کو ماننے گا تو تو مان لے۔۔ ہم تُجھے کُچھ نہیں بولے گے، نہ ہی ٹائیجون تُجھے کُچھ بولے گا۔۔۔ ٹائیجون نے تو بس اپنا پوائنٹ آف یو رکھا تھا۔۔ تیرا دِل نہیں کر رہا تو نہیں مان۔۔۔ یہ تیری چوائس ہے یہ تیری مرضی ہے۔۔۔
سوہان کی آنکھوں میں چمک آگئی۔۔۔
ٹھیک ہے میں گھر جا کے اس بارے میں سوچوں گا۔۔ ابھی گھومنے آیا ہوں اس پر ہی اپنا فوکس رکھتا ہوں۔۔۔
ہاں اور تھوڑا سا اپنا فوکس صاف صفائی پر بھی رکھ۔۔۔ ہیوک کا اشارہ بیڈ پر پڑے کپڑے کی طرف تھا۔۔ جو سوہان ابھی مارگلہ ہیلز کے آنے کے بعد کپڑے چینج کیے تھے اور اُترے ہوئے کپڑے بیڈ پر ویسے کے ویسے بکھرے ہوئے…
سوہان نے اُس کی نظر کا پیچھا کیا… پھر بےپرواہی سے کندھے اچکائے… یہ تو اسٹائل ہے…
وہ گیا… اور بیڈ پر پڑے سارے کپڑے ایک ہی جھٹکے میں اٹھا کر صوفے پر پھینک دیے…
یہ دیکھ… ہو گیا صاف ایک سیکنڈ میں…
پھر سیدھا بیڈ پر گر گیا…
اور اب… آرام سے سوتے ہیں… گڈ نائٹ…
ہیوک نے اسے گھور کر دیکھا…
تو کب سدھرے گا سوہان…؟
سوہان نے آنکھیں بند کرتے ہوئے فوراً جواب دیا…
کبھی نہیں…

+++++++++++++++

رن یون اب اپنے کمرے میں آ چکا تھا…
دروازہ بند کیا…
اور سیدھا بیڈ پر بیٹھ گیا…
خاموشی…
کمرہ بھی خاموش…
اور وہ خود بھی…
مگر ذہن… بالکل خاموش نہیں تھا…
بار بار وہی منظر…
وہی چہرہ…
وہی لہجہ…
کیونکہ آپ اور میرا… نہ کوئی رشتہ ہے… اور نہ کبھی بن سکتا ہے…
رن یون نے آنکھیں بند کیں…
یہ جملہ…
اب بھی کہیں اندر گونج رہا تھا…
اس نے جھنجھلا کر آنکھیں کھولیں…
اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا…
نیچے شہر کی روشنیاں پھیلی ہوئی تھیں…
لوگ… گاڑیاں… شور… زندگی…
مگر اس کے اندر…
ایک عجیب سی خاموشی تھی…
اس نے آہستہ سے خود سے کہا…
میں ایسا کیا کروں کہ وہ میری ہوجائے۔۔؟؟
وہ مڑا… اور دوبارہ بیڈ پر آ کر لیٹ گیا…
مگر اس بار… آنکھیں بند کرتے ہی…
نیند نہیں آئی…
صرف ایک ہی خیال تھا…
202…
اور وہ لڑکی… جو بار بار… اس کے راستے میں آ رہی تھی…

++++++++++++

صبح کی ہلکی روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی…
کھڑکی کے پردے سے سنہری دھوپ اندر آ رہی تھی…
ہان وو کی آنکھ آہستہ آہستہ کھلی…
کچھ لمحے وہ یونہی چھت کو دیکھتا رہا…
پھر ایک گہری سانس لے کر اُٹھ بیٹھا…
باہر کا ماحول پُرسکون تھا…
اس نے جلدی سے تیار ہو کر جیکٹ پہنی…
اور خاموشی سے کمرے سے نکل گیا…

++++++++++++

ہوٹل کے باہر ہوا ٹھنڈی تھی…
سڑکیں ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھیں…
آسمان  بھی ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوا تھا۔۔
ہان وو آہستہ آہستہ چل رہا تھا… وہ اپنے آپ کو فٹ کرنے کے لیے روزآنہ ایسے ہی واک کرتا تھا۔۔
زیادہ بھاگتا نہیں تھا بس چلتا رہتا چلتا رہتا۔۔
دو یا تین چکر لگا کر پھر گھر واپی یہ اُس کا روز کا روٹین تھا۔۔
وہ صرف جسم کو فِٹ رکھنے کے لیے نہیں چلتا تھا…
بلکہ اس لیے بھی… کہ وہ خود کو پُرسکون رکھ سکے…
کیوں کہ واک پر جا کر ذہن صاف ہو جاتا ہے…
یعنی بکھری ہوئی سوچیں آہستہ آہستہ ٹھہرنے لگتی ہیں… اور انسان خود کو پہلے سے زیادہ ہلکا اور پُرسکون محسوس کرنے لگتا ہے…
وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔۔۔
تبھی… اس کی نظر آگے ایک بزرگ شخص پر پڑی… وہ سڑک کے کنارے کھڑے تھے…
ہاتھ میں ایک بڑی چھری تھی۔۔ اور چہرے پر ہلکی سی پریشانی…
وہ بار بار سڑک کی طرف دیکھتے… پھر پیچھے ہٹ جاتے…
ہان وو کچھ لمحے انہیں دیکھتا رہا…
پھر آہستہ آہستہ اُن کے پاس چلا گیا…
آپ کو… سڑک پار کرنی ہے…؟
بزرگ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا… ہان وو نے انگلش میں کہا تھا لیکن بزرگ کو انگلش کہاں آتی تھی۔۔ وہ کُچھ سمجھے ہی نہیں۔۔۔
پھر ہان وو نے خود ہی سمجھتے ہوئے اُن کا ہاتھ تھام لیا… آئیں… میں کرا دیتا ہوں…
وہ آہستہ آہستہ سڑک پار کرنے لگے…
ہان وو پوری توجہ سے اردگرد دیکھ رہا تھا…
تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہو…
چند لمحوں بعد… وہ دوسری طرف پہنچ گئے…
بزرگ نے اس کا ہاتھ چھوڑا…
اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے…
اللہ تمہیں خوش رکھے…
پِھر ہاتھ سے آگے کی طرف اِشارہ کیا۔۔۔ اور بولے
مُجھے آگے ذرا مسجدِ تک بھی چھوڑ دو۔۔
ہاں وو نے سر ہلایا، اُسے لگا وہ اُس کا اپنی زبان میں شکریہ ادا کر رہے ہیں،
پِھر اُن بزرگ نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور چلنے لگے۔۔
ہان وو کے کُچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔ وہ اُن سے بولا۔۔۔
کہاں لے کر جارہے ہیں مُجھے۔۔۔
بزرگ نے بس مُسکراتے ہوئے سر ہلا دیا۔۔۔ اللّٰہ جانے اُنہوں نے ہاں وو کی بات کا کیا مطلب سمجھا تھا۔۔۔
ہان وو کے کُچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ خاموشی سے اُن کے ساتھ چلنے لگا۔۔۔
راستہ زیادہ لمبا نہیں تھا… مگر اُس چند منٹ کے سفر میں ایک عجیب سی خاموشی بھی تھی… اور عجیب سی بات چیت بھی…
بزرگ مسلسل کچھ نہ کچھ بولے جا رہے تھے…
ہان وو اُن کی باتوں کا ایک لفظ بھی نہیں سمجھ رہا تھا…
مگر پھر بھی… وہ بار بار مسکرا دیتا… سر ہلا دیتا…
جیسے سمجھ رہا ہو…
پِھر وہ بزرگ اُسے ساتھ لیے آہستہ آہستہ مسجد کے اندر داخل ہو گئے…
اندر کا ماحول بالکل مختلف تھا…
ہلکی سی ٹھنڈک… فرش کی سادگی… اور ایک عجیب سا سکون…
لوگ صفوں میں کھڑے ہو رہے تھے… کوئی آہستہ آہستہ بات کر رہا تھا… کوئی خاموشی سے اپنی جگہ بنا رہا تھا…
ہان وو ایک لمحے کو رُکا…
اس نے پیچھے مڑ کر باہر کی طرف دیکھا…
دل چاہا… بس چپ چاپ نکل جائے…
لیکن…
بزرگ نے اُس کا ہاتھ ابھی تک پکڑا ہوا تھا…
وہ کچھ کہہ رہے تھے… مسکرا بھی رہے تھے… جیسے اُسے ساتھ شامل ہونے کا اشارہ دے رہے ہوں…
ہان وو نے آہستہ سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی…
مگر پھر رک گیا…
کہیں انہیں برا نہ لگ جائے…
یہ سوچ آتے ہی اُس نے خود کو روک لیا…
بزرگ نے اُسے صف میں کھڑا کر دیا…
اور خود اُس کے ساتھ کھڑے ہو گئے…
ہان وو اب بالکل ساکت کھڑا تھا…
آنکھوں میں ہلکی سی الجھن…
دل میں عجیب سی ہچکچاہٹ…
یہ کیا ہو رہا ہے…؟ وہ یہاں کیا کر رہا ہے۔۔؟
اُسے سمجھ آ چکی تھی…
وہ بزرگ اُسے بھی اپنے جیسا ہی مسلمان سمجھ رہے تھے…
ہان وو نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی…
جیسے ہی یہ لوگ شروع کریں گے… میں نکل جاؤں گا…
وہ خود سے یہی کہہ کر کھڑا رہا…
چند سیکنڈ…
پھر مزید لوگ آ کر اس کے اردگرد کھڑے ہو گئے…
اب نکلنا… اتنا آسان نہیں تھا…
اچانک… خاموشی چھا گئی…
نماز شروع ہو چکی تھی…
امام صاحب کی آواز آئی
اللّٰہ اکبر
ہان وو نے فوراً اِدھر اُدھر دیکھا…
راستہ… بند… لوگ… ہر طرف… تھے پیچھے اُس کے دائیں بائیں بھی سب نماز پڑھنے میں مصروفِ تھے۔۔ کوئی اُسے نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
اب…؟ ایک لمحہ… دو لمحے…
پھر اُس نے آہستہ سے اپنے سامنے کھڑے آدمی کو دیکھا۔۔۔ وہ جھکا…
پھر سیدھا ہوا…
پھر دوبارہ جھکا…
ہان وو کی آنکھوں میں ہلکی سی حیرانی آئی…
اور پھر… بغیر سمجھے… بغیر جانے…
وہ بھی ویسا ہی کرنے لگا…
جھکنا… سیدھا ہونا… سجدہ…
سب کچھ… بس دیکھ کر…
مگر…
جیسے جیسے وہ یہ سب کر رہا تھا…
اُس کا دل تیز تیز دھڑکا رہا تھا۔۔۔
اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا…
ہر حرکت… جیسے اُس کے لیے اجنبی تھی…
ہر لمحہ… جیسے اُس پر بھاری پڑ رہا تھا…
اُس کا دل چاہ رہا تھا… بس فوراً یہاں سے نکل جائے…
بھاگ جائے…
مگر…
وہ بھاگ نہیں پا رہا تھا…
لوگ اُس کے اردگرد کھڑے تھے…
اور سب ایک ترتیب میں تھے…
وہ اکیلا… اُس ترتیب سے باہر نہیں نکل پا رہا تھا…
اُس نے دوبارہ سامنے دیکھا…
سب ایک ساتھ جھکے… وہ بھی جھک گیا…
مگر اس بار… سجدے میں جاتے ہوئے…
اُس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ گئے…
ماتھا زمین پر لگا…
اور اسی لمحے… اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں…
دل کی دھڑکن… اور تیز…
جیسے سینے سے باہر نکل آئے گی…
میں کیا کر رہا ہوں…؟
یہ سوال زور سے ذہن میں آیا…
میں یہاں کیوں ہوں…؟
ایک عجیب سی گھبراہٹ…
جیسے وہ خود سے ہی بھاگ رہا ہو…
چند لمحے گزرے… وہ اسی طرح سجدے میں رہا…
پھر آہستہ آہستہ… لوگ اٹھنے لگے…
ہان وو نے بھی ہچکچاتے ہوئے سر اٹھایا…
پہلے گھٹنوں کے بل بیٹھا… پھر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا…
دل کی دھڑکن اب بھی تیز تھی…
لیکن… پہلے جیسی گھبراہٹ نہیں رہی تھی…
چند سیکنڈ بعد… سلام پھیرا گیا…
السلام علیکم و رحمۃ اللہ…
ہان وو نے اِدھر اُدھر دیکھا…
سب نے دائیں… پھر بائیں دیکھا…
وہ بھی ویسا ہی کرنے لگا…
اور پھر… نماز ختم ہو گئی…
ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی…
مگر یہ خاموشی… پہلے والی نہیں تھی…
اب لوگ ہاتھ اٹھا رہے تھے…
دعا مانگ رہے تھے…
کچھ کی آنکھیں بند تھیں…
کچھ کے ہونٹ ہلکے ہلکے ہل رہے تھے…
ہان وو وہیں بیٹھا رہا…
پھر اُس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا…
پھر آہستہ سے… وہ بھی ہاتھ اٹھا کر بیٹھ گیا…
اُسے نہیں پتا تھا… کیا کہنا ہے…
کس سے کہنا ہے… کیسے کہنا ہے…
مگر پھر بھی… وہ ویسے ہی بیٹھا رہا…
چند لمحے… پھر اُس نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں…
اور اسی لمحے… اُسے پہلی بار… سکون محسوس ہوا…
بغیر کسی وجہ کے… بغیر کچھ سمجھے… بغیر کچھ مانگے…
بس… دل ہلکا سا ہو گیا… جیسے اندر کوئی شور تھا…
جو آہستہ آہستہ خاموش ہو گیا ہو…
سانسیں… جو ابھی تک بے ترتیب تھیں…
اب دھیرے دھیرے نارمل ہونے لگیں…
وہ حیران تھا… یہ کیا تھا…؟
کچھ سمجھ نہیں آیا… مگر… اچھا لگا…
بہت اچھا…
کچھ دیر بعد… لوگ اٹھنے لگے…
بزرگ نے اس کی طرف دیکھا…
اور مسکرا دیے…
ہان وو نے بھی بےاختیار… ہلکی سی مسکراہٹ دے دی…
اس بار… اُس کی مسکراہٹ میں الجھن کم تھی…
اور سکون… زیادہ… تھا۔۔
یہ کیسا سکون تھا، جو بنا کُچھ بولے بنا کُچھ سمجھنے اُسے حاصل ہوگیا تھا۔۔
اور ایسا سکون جو اُسے اج سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا۔۔۔
تھا کیا یہ ؟؟ کیوں تھا۔۔۔؟؟

++++++++++++++++


ہوٹل کے باہر صبح کی ٹھنڈی ہوا اب بھی باقی تھی…
سڑکیں آہستہ آہستہ جاگ رہی تھیں…
اور شہر ابھی پوری طرح شور میں نہیں بدلا تھا…
ہان وو کے نکلنے کے کچھ دیر بعد…
سومین بھی خاموشی سے کمرے سے باہر نکلا…
کچھ دیر بعد…
وہ مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا…
اس کی نظر اِدھر اُدھر گھومی…
اور پھر جا کر ایک جگہ ٹھہر گئی…
باسط وہیں بیٹھا تھا…
دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے…
قرآن سامنے رکھا ہوا…
اور چہرے پر وہی سادہ سی سنجیدگی…
سومین چند لمحے وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا…
پھر آہستہ آہستہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا…
ہیلو…۔اس نے ہلکی آواز میں کہا…
باسط نے فوراً سر اٹھایا…۔اور مسکرا دیا…
السلام علیکم… کیسے ہو؟
میں ٹھیک… سومین نے مختصر سا جواب دیا…
آج پڑھنا ہے؟ باسط نے سیدھا سوال کیا…
ہاں… اب آ گیا ہوں تو پڑھ لیتا ہوں…
سومین نے آہستہ سے کہا…
باسط نے بھنویں ہلکی سی اٹھائیں… کیا مطلب… آ گیا ہوں تو؟ تم آنا نہیں چاہتے تھے؟
سومین ایک لمحے کو رکا…۔پھر نظریں ہٹا لیں…
نہیں… ایسی بات نہیں ہے…
باسط نے کچھ نہیں کہا…۔بس ہلکا سا مسکرا کر بولا…
اچھا… چلو… اُس دن ہم نے سورۃ الفاتحہ پڑھی تھی… آج ہم سورۃ البقرہ شروع کریں گے…
سومین نے آہستہ سے سر ہلایا…۔ہمم…
پھر جیسے اچانک یاد آیا ہو…
وضو کر لیں پہلے…؟
ہاں… چلو…
دونوں خاموشی سے اُٹھے…
اور وضو خانے کی طرف چل دیے…
پانی ٹھنڈا تھا…
مگر اُس ٹھنڈک میں ایک عجیب سی تازگی تھی…
سومین ہر حرکت دھیان سے دیکھ رہا تھا…
ہاتھ… منہ… چہرہ…
جیسے ہر چیز سیکھ رہا ہو…
کچھ دیر بعد…
دونوں واپس آ کر اپنی جگہ بیٹھ گئے…
باسط نے آہستہ سے قرآن کھولا…
باسط نے پڑھنا شروع کیا…
الم…
سومین کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں… وہ فوراً بول پڑا…
یہ کیا ہے…؟۔باسط نے اس کی طرف دیکھا…
اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
یہ… حروفِ مقطعات ہیں… ان کا اصل مطلب اللہ ہی بہتر جانتا ہے…اس کا مطلب اللہ نے ہم سے چھپا کر رکھا ہے۔۔۔     
لیکن کیوں؟ سومین نے سوال کیا..
باسط نے ہلکی سی سانس لی…
اور سیدھا جواب دینے کے بجائے تھوڑا سا سوچ کر بولا… دیکھو… اگر سادہ انداز میں سمجھاؤں نا… دنیا میں ہر چیز… انسان کے سمجھنے کے لیے نہیں ہوتی…
سومین نے بھنویں سکیڑیں…
مطلب…؟
جیسے… تم سائنس کو دیکھ لو…
ہم بہت کچھ جانتے ہیں… لیکن سب کچھ نہیں…
کچھ چیزیں ہم دریافت کرتے ہیں…
اور کچھ ابھی بھی راز رہتی ہیں…
سومین خاموشی سے سن رہا تھا…
تو یہ ‘الم’ بھی ویسا ہی ہے… باسط نے نرمی سے کہا… ایک ایسی چیز… جو انسان کو یاد دلاتی ہے…
کہ تم سب کچھ نہیں جانتے…
سومین نے فوراً سوال کیا… لیکن پھر قرآن میں ڈالنے کا مقصد…؟
باسط ہلکا سا مسکرایا… دو وجہ ہو سکتی ہیں…
وہ انگلیوں پر گننے لگا…
پہلی… یہ ایک چیلنج ہے… یہی حروف… ا، ل، م… انسان روز استعمال کرتا ہے…
وہ قرآن کی طرف اشارہ کرتا ہے…
لیکن انہی حروف سے… ایسی کتاب نہیں بنا سکتا…
اور دوسری… اس کی آواز تھوڑی نرم ہو گئی…
یہ انسان کے غرور کو توڑتا ہے…
سومین نے چونک کر دیکھا… کیسے…؟
باسط نے سیدھا جواب دیا…
کیونکہ انسان سمجھتا ہے…
کہ اگر کوئی چیز سچی ہے… تو وہ اسے فوراً سمجھ آ جائے گی…
لیکن یہاں شروع ہی ایسی چیز سے ہو رہا ہے…
جو تم سمجھ نہیں سکتے…
سومین نے آہستہ سے کہا… تو… یہ اندھا یقین ہے…؟
باسط نے فوراً سر ہلایا… نہیں…
پھر اس نے واضح انداز میں کہا… قرآن تمہیں سوچنے کو کہتا ہے… لیکن ساتھ یہ بھی بتاتا ہے…
وہ ہلکا سا رکا… کہ تمہاری ایک حد ہے…
سومین نے نظریں جھکا لیں…
تو… اگر مجھے کچھ سمجھ نہ آئے… وہ آہستہ سے بولا… تو کیا میں اسے نظر انداز کر دوں…؟
باسط نے نرمی سے کہا… نہیں… نظر انداز نہیں…
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
مان لو… کہ ابھی سمجھ نہیں آیا… اور آگے بڑھ جاؤ…
سومین نے پہلی بار ہلکا سا سر ہلایا…
جیسے… زندگی میں ہوتا ہے…
باسط نے فوراً کہا… بالکل…
باسط نے آہستہ سے اگلی آیت کی طرف دیکھا…
پھر دھیمی آواز میں پڑھا…
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ…
سومین نے فوراً سر اٹھایا… یہ کیا کہہ رہا ہے…؟
باسط نے اس کی طرف دیکھا…۔اور نرمی سے بولا…
یہ کہہ رہا ہے… یہ وہ کتاب ہے…
جس میں کوئی شک نہیں…
سومین کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
کوئی شک نہیں…؟ لیکن… شک تو مجھے ہو رہا ہے…
باسط نے فوراً جواب نہیں دیا… بس چند لمحے اسے دیکھتا رہا… پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
یہ نہیں کہہ رہا کہ تمہیں کبھی شک نہیں ہوگا…
یہ کہہ رہا ہے… کہ اس کتاب میں خود کوئی کمی یا غلطی نہیں ہے… شک اگر آئے گا… تو وہ انسان کے اندر سے آئے گا… کتاب کی طرف سے نہیں…
سومین حیران ہوا… بہت چونک کر بولا…
کیا مطلب ہے…؟ کہ اس کتاب میں کوئی غلطی… کوئی کمی نہیں…؟
باسط نے سیدھا جواب دیا… نہیں…
سومین کی آنکھوں میں سوال تھا…
ایسے کیسے ہو سکتا ہے…؟
باسط نے ایک لمحہ لیا… پھر آہستہ سے بولا…
کیونکہ یہ خدا کی کتاب ہے…
اور خدا جب خود غلطیوں سے پاک ہے…
تو اس کی کتاب میں غلطی کہاں سے آئے گی…؟
سومین چند لمحے بس یونہی بیٹھا رہا…
خاموش… حیران… اس نے بہت سی کتابیں پڑھی تھیں… بڑے بڑے مصنف… بڑے بڑے فلسفی…
مغرب کے بھی… مشرق کے بھی… لیکن کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا… کسی نے نہیں لکھا تھا…
نہ کہا تھا… کہ اس کتاب میں کوئی غلطی نہیں ہے…
ہر مصنف جانتا تھا کہ وہ انسان ہے…
اور انسان سے غلطی ہوتی ہے… اگر یہ کسی انسان کی لکھی گئی کتاب ہے تو پھر یہ کتاب…
یہ دعویٰ کیسے کر سکتی تھی…؟ کہ اس میں کوئی غلطی نہیں۔۔۔؟؟
سومین نے آہستہ سے پوچھا… لیکن… یہ ثابت کیسے ہو…؟
باسط نے اس کی طرف دیکھا… اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا…
یہی سوال… اس کا جواب بھی اسی کتاب میں ہے…
ابھی آگے بڑھیں گے… تو ملے گا…
سومین نے نظریں جھکا لیں… کچھ نہیں بولا…
بس اندر کہیں… کچھ ہلچل سی تھی…
باسط نے آہستہ سے قرآن کی طرف دیکھا…
پھر سومین کو….اور بولا…
چلو… آگے پڑھتے ہیں…
اس نے دھیمی آواز میں پڑھا…
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ…
سومین نے فوراً سر اٹھایا…
یہ کیا کہا…؟
باسط نے ترجمہ کیا…
یہ ہدایت ہے… متقین کے لیے…
سومین کی پیشانی پر ہلکی سی لکیر آئی…
متقین…؟ یہ کون ہیں…؟
باسط نے سوچ کر جواب دیا…
وہ لوگ… جو سچ جاننا چاہتے ہیں…
سومین خاموش رہا….باسط نے آگے کہا…
یعنی… یہ کتاب ہر کسی کے لیے نہیں کھلتی…
سومین نے چونک کر دیکھا… مطلب…؟
باسط نے نرمی سے سمجھایا…
دیکھو… تم نے کبھی کوئی لیب میں کام کیا ہے…؟
سومین نے ہلکا سا سر ہلایا… نہیں۔۔ لیکن فلموں میں دیکھا ہے۔۔۔
باسط نے کہا…۔تو تم جانتے ہو…
جو سائنسدان کسی نتیجے تک پہنچنا چاہتا ہے…
وہ پہلے کیا کرتا ہے…؟
سومین نے آہستہ سے جواب دیا…
کھلے ذہن سے دیکھتا ہے…
باسط نے انگلی اٹھائی…
بالکل… وہ پہلے سے فیصلہ نہیں کرتا… کہ نتیجہ یہی ہوگا…
سومین کی آنکھوں میں کچھ چمکا…۔باسط آہستہ سے بولا…۔یہ کتاب بھی ایسے ہی ہے…
جو اسے سمجھنا چاہے… سچے دل سے…
اس کے لیے یہ کھلتی ہے… لیکن جو پہلے سے طے کر کے آئے… کہ میں نے نہیں ماننا… اس کے لیے یہ صرف الفاظ رہتے ہیں…
سومین نے ایک لمحہ لیا… پھر آہستہ سے بولا…
تو… میں متقی ہوں…؟
باسط نے فوراً جواب نہیں دیا…
بس اسے دیکھتا رہا… پھر الٹا سوال کیا…
تم یہاں کیوں آئے ہو…؟
سومین نے چونک کر دیکھا…
مطلب…؟
باسط نے نرمی سے کہا…
سیدھا سوال ہے…۔کسی نے بھیجا تھا…؟
سومین نے فوراً سر ہلایا… نہیں…۔کسی نے کہا تھا…؟
نہیں…
پھر…؟
سومین کچھ دیر خاموش رہا…
پھر آہستہ سے بولا… کیوں کہ میں اپنے سوالوں کے جواب چاہتا ہوں۔۔۔
یہی… تقویٰ ہے…
سومین کی بھنویں سکڑ گئیں…
لیکن… میں مسلمان نہیں ہوں…
باسط نے سر ہلایا…
میں جانتا ہوں…
تو پھر…؟
باسط نے قرآن کی طرف دیکھا…۔پھر آہستہ سے بولا…
لوگ سمجھتے ہیں… تقویٰ کا مطلب ہے ڈرے سہمے رہنا… لیکن اصل میں… تقویٰ ہے… ایک سچائی…
سومین خاموشی سے سن رہا تھا…
باسط نے آگے کہا… جو انسان سچ جاننا چاہتا ہے…
جھوٹ سے بچنا چاہتا ہے… جو خود کو دھوکہ نہیں دیتا… وہ متقی ہے…
باسط نے آہستہ سے اگلی آیت کی طرف دیکھا…
پھر دھیمی آواز میں پڑھا…
الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ…
سومین فوراً بولا…
یہ…؟
باسط نے ترجمہ کیا…
وہ لوگ… جو غیب پر ایمان لاتے ہیں…
سومین کی پیشانی پر لکیر آ گئی…
غیب…؟ یعنی… جو دکھائی نہ دے…؟
باسط نے سر ہلایا… ہاں…
سومین نے فوراً کہا…
لیکن… جو دکھائی نہ دے… اسے مانیں کیسے…؟
باسط خاموش رہا…جیسے سوال سننے دے رہا ہو…
سومین آگے بولا…
میں سائنس میں یقین رکھتا ہوں… جو دیکھو… جو ناپو… جو ثابت ہو… وہ سچ… باقی…
وہ ادھورا چھوڑ گیا…
باسط نے اس کی طرف دیکھا…
اور ہلکے سے پوچھا…
تم نے کبھی ہوا دیکھی ہے…؟
سومین رک گیا…
باسط نے بات جاری رکھی…
نہیں دیکھی… لیکن محسوس کی ہے… اس کا اثر دیکھا ہے… تو مانتے ہو کہ ہوا ہے…
سومین کی آنکھوں میں ایک لمحہ کچھ ٹھہرا…
پھر اس نے آہستہ سے کہا…
لیکن ہوا ناپی جا سکتی ہے…
باسط نے نرمی سے کہا…
اور محبت…؟
سومین چپ ہو گیا…
باسط نے کہا…
تم نے محبت ناپی ہے کبھی…؟ کسی آلے سے…؟
کسی فارمولے سے…؟
سومین نے کوئی جواب نہیں دیا…
باسط نے آہستہ سے کہا…
لیکن مانتے ہو کہ ہوتی ہے… کیونکہ محسوس کی ہے…
سومین کی نظریں قرآن پر جا ٹکیں…
باسط نے آہستہ سے کہا…
کچھ چیزیں آنکھ سے نہیں… اثر سے پہچانی جاتی ہیں…
سومین خاموش ہو گیا… باسط نے بات آگے بڑھائی…
خدا بھی ایسا ہی ہے… تم اسے دیکھ نہیں سکتے… لیکن اس کے اثرات… ہر جگہ ہیں…
وہ تھوڑا سا رکا…
تم نے خود کہا تھا نا… دل empty لگتا ہے…
سومین نے فوراً نظریں جھکا لیں…
وہ empty جگہ… باسط نے نرم لہجے میں کہا…
اسی لیے ہے… کیونکہ وہ جگہ کسی اور چیز کے لیے بنی ہی نہیں…
سومین نے آہستہ سے پوچھا۔۔
تو… صرف خدا کے لیے…؟
ہاں…
سومین خاموش ہوگیا۔۔۔
باسط نے پھر آیت کا اگلا حصہ پڑھا…
وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ…
سومین نے فوراً پوچھا…
یہ کیا کہہ رہا ہے…؟
باسط نے قرآن بند نہیں کیا… بس انگلی وہیں رکھ کر بولا…
یہ کہہ رہا ہے… وہ نماز قائم کرتے ہیں…
سومین نے فوراً بھنویں سکیڑیں…
لیکن… میں مسلمان نہیں ہوں… تو یہ میرے لیے کیسے relevant ہے…؟
باسط نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا…
اچھا… نماز کو ابھی ‘ritual’ نہ سمجھو… ایک concept سمجھو…
سومین خاموش ہو گیا…
باسط نے آہستہ سے کہا…
تم دن میں کتنی بار خود سے connect ہوتے ہو…؟
ایسا وقت… جب تم صرف رک جاؤ… اور سوچو… کہ میں کیا کر رہا ہوں… کیوں کر رہا ہوں…؟
سومین نے کچھ سوچا… پھر آہستہ سے کہا…
۔Honestly… کبھی نہیں…
بس… باسط نے کہا…
نماز یہی ہے…
سومین نے چونک کر دیکھا…
یہ صرف الفاظ پڑھنا نہیں… باسط نے نرمی سے سمجھایا… یہ دن میں بار بار ٹھہرنا ہے…
اپنے آپ کو دوبارہ ترتیب دینا ہے…
سومین اب غور سے سن رہا تھا…
باسط نے آہستہ سے کہا…
اور ایک اور بات… ہم سمجھتے ہیں کہ نماز خدا کے لیے ہے… لیکن اصل میں… یہ انسان کے لیے ہے…
سومین نے پوچھا… کیسے…؟
کیونکہ… باسط نے کہا… یہ تمہیں یاد دلاتی ہے کہ تم کائنات کا مرکز نہیں ہو… اور نہ ہی ہر چیز تمہارے اختیار میں ہے… وہ تھوڑا سا رکا…
اور جب انسان یہ مان لیتا ہے… تو اس کا anxiety آدھا ختم ہو جاتا ہے…
سومین کی آنکھوں میں ہلکی سی سنجیدگی آ گئی…
تم کہہ رہے تھے نا… باسط نے نرم آواز میں کہا…
سب کچھ ہونے کے باوجود empty feel ہوتا ہے…
سومین نے آہستہ سے سر ہلا دیا…
کیونکہ تم ہر چیز خود اٹھانے کی کوشش کر رہے ہو…
success… expectations… image…
وہ آہستہ سے بولا…
نماز تمہیں سکھاتی ہے… کہ سب کچھ تمہارے کندھوں پر نہیں ہے…
خاموشی پھیل گئی…
باسط نے پھر آیت کا آخری حصہ پڑھا…
وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ…
سومین نے پوچھا…
یہ کیا کہہ رہا ہے…؟
یہ کہ… باسط نے کہا…
جو ہم نے انہیں دیا ہے… وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں…
سومین نے فوراً کہا…
۔charity…؟
ہاں… لیکن صرف پیسے نہیں… باسط نے نرمی سے کہا…
time… attention… kindness…
وہ تھوڑا سا جھکا…
تم نے نوٹس کیا ہے…؟
کبھی کبھی… جب تم کسی کی مدد کرتے ہو… تو خود تھوڑا بہتر  محسوس کرتے ہو…؟
سومین نے فوراً سر ہلایا…
…ہاں…
کیوں؟ باسط نے پوچھا…
سومین کچھ بول نہ سکا…
باسط نے آہستہ سے کہا…
کیونکہ انسان صرف لینے کے لیے نہیں بنا…
دینے کے لیے بھی بنا ہے…۔اور جب وہ صرف لیتا ہے… تو اندر empty رہ جاتا ہے…
پھر سومین نے آہستہ سے کہا…
تو… یہ سب… صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے…؟
باسط نے فوراً سر ہلایا…
نہیں…
پھر بہت سادہ انداز میں کہا…
یہ انسان کے لیے ہے…
سومین نے پہلی بار گہری سانس لی…
باسط نے آہستہ سے قرآن بند کیا…
ابھی کے لیے اتنا ہی۔۔۔جتنا پڑھا ہے اُسے یاد رکھنا۔۔۔
سومین نے کچھ سوچتے کہا۔۔
میرا ایک سوال ہے۔۔۔ اگر ہمارے دل میں کسی بھی چیز کو لے کر شک آئے تو۔۔۔؟ قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟؟ اگر تمہیں اپنے مذہب کو لے کر کسی بات پر شک ائے تو؟      
باسط نے اس کی بات سنی…
اور فوراً جواب نہیں دیا…
بس کچھ لمحے خاموش رہا… جیسے کُچھ یاد کر رہا ہو۔۔ پھر اس نے آہستہ سے قرآن دوبارہ کھولا…
اور نرم آواز میں پڑھا…
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ… فَاسْأَلْ…
یہ کیا کہہ رہا ہے…؟
باسط نے اس کی طرف دیکھا… اور سادہ انداز میں کہا…
یہ کہہ رہا ہے…
اگر تمہیں شک ہو… تو پوچھو…
سومین حیرانی سے باسط کا چہرا دیکھنے لگا۔۔۔
پوچھو…؟ اس نے آہستہ سے دہرایا…
باسط نے سر ہلایا… ہاں… دیکھو…
یہ نہیں کہا گیا کہ شک آئے تو دباؤ… یا نظر انداز کرو… بلکہ کہا گیا… شک آئے… تو سچ ڈھونڈو… سوال کرو…
سومین غور سے سن رہا تھا…
باسط نے بات جاری رکھی…
اور ایک اور جگہ… قرآن کہتا ہے…
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ…
سومین نے پوچھا… اس کا کیا مطلب ہے…؟
باسط نے جواب دیا…
یہ کہ… کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے…؟
یعنی… یہ کتاب خود تمہیں کہہ رہی ہے…
کہ آنکھیں بند کر کے نہ مانو…
سوچو… سمجھو… سوال کرو…
سومین کے چہرے پر حیرانی ہی حیرانی تھی۔۔۔
سومین نے آہستہ سے کہا…
اور اگر مجھے جواب نہ ملے…؟
باسط ہلکا سا مسکرایا…
تو ابھی کے لیے اسے hold پر رکھ دو…
سومین نے چونک کر دیکھا…
یعنی… نظر انداز کر دوں…؟
نہیں… باسط نے نرمی سے کہا…
نظر انداز نہیں… بس یہ مان لو کہ… ابھی نہیں سمجھ آیا… ہر سوال کا جواب فوراً نہیں ملتا…
کچھ چیزیں وقت کے ساتھ سمجھ آتی ہے۔۔۔
سومین خاموش ہو گیا…
باسط نے آخری بات آہستہ سے کہی…
اور ایک بات یاد رکھو… اگر تم سچ میں سچ چاہتے ہو… تو تمہیں وہ مل جائے گا…
سومین نے سر اٹھایا…
کیسے…؟
باسط نے قرآن کی طرف اشارہ کیا…
کیونکہ… هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ
پھر وہ مسکرایا…
یہ کتاب راستہ اُنہی کو دکھاتی ہے…
جو واقعی راستہ ڈھونڈ رہے ہوں…
سومین کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا…
پھر بہت آہستہ سے مسکرا دیا۔۔۔
پھر دونوں مسجد سے باہر نکلے…
باہر کی ہوا میں اب ہلکی سی دھوپ شامل ہو چکی تھی…
باسط نے قدم آہستہ کیے… پھر مسکراتے ہوئے بولا…
چلو… آج تمہیں اپنے گھر کی اچھی سی چائے پلاتا ہوں…
سومین کچھ کہنے ہی والا تھا کہ جیسے اچانک اسے کچھ یاد آیا…
اس کے قدم وہیں رک گئے…
اس نے تو کہا تھا… وہ دل میں ہی بڑبڑایا…
پھر اچانک اس نے پوچھا…
وقت کتنا ہوا ہے…؟
باسط نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا…
ساڑھے نو بج رہے ہیں…
سومین کے چہرے کا رنگ ہلکا سا بدل گیا…
اوہ نو…
باسط نے چونک کر اسے دیکھا…
تمہیں کہیں جانا تھا…؟
سومین نے نظریں چرا لیں…
ہاں… نہیں…ہاں
باسط ہلکا سا ہنسا…
نہیں یا ہاں…؟ چھوڑو… گھر چلو…
سومین نے ایک نظر اردگرد دوڑائی…
دل میں انجانا سا اضطراب تھا…
وہ یہاں کہیں نظر نہیں آئی…
اس نے آہستہ سے سانس لی…
اور خاموشی سے باسط کے ساتھ چل پڑا…
چند قدم ہی چلے تھے کہ باسط کا گھر آ گیا…
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا…
سومین کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا…
اور خود کچن کی طرف بڑھ گیا…
سومین صوفے پر بیٹھا تھا…
مگر سکون کہیں نہیں تھا… دل بےچین تھا…
خیالات الجھے ہوئے… یوں کہ دماغ میں صرف صدف صدف گھوم رہی تھی۔۔۔
آج تو وہ مجھے یہاں دیکھ کر میرا گلا ہی دبا دے گی…۔اس نے دل ہی دل میں سوچا…
وہ تو اس کی بات پِھر سے کیسے بھول گیا…
اچانک کچن سے ہلکی سی آواز آئی…
پھر باسط جلدی سے باہر آیا…
چہرے پر ہلکی سی گھبراہٹ تھی…
سومین فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا…
کیا ہوا…؟
باسط نے بےچینی سے کہا…
یہ صدف نے تو میرا جینا حرام کر رکھا ہے…
سومین کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا…
باسط بولتا گیا…
اکیلی یونیورسٹی سے نکل آئی…
اس دن میں دیر سے لینے پہنچا تو خود ہی گھر کے لیے نکل گئی… اور آج…
وہ رک گیا… جیسے خود بھی پریشان ہو…
میں نے اسے سمجھایا بھی تھا…
اس نے جھنجھلا کر کہا…
فنکشن ہے… اگر تھوڑی دیر ہو جائے تو کیا ہو جائے گا…
سومین کا دل چاہا وہ ابھی اپنا سر دیوار میں مار لے…
ایک عجیب سی گھبراہٹ اندر پھیل گئی…
پھر باسط نے اچانک فیصلہ کیا…
دیکھنا پڑے گا اُسے یونی جا کر پہنچی بھی ہے یہ نہیں
دونوں جلدی سے گھر سے نکلے…
باسط نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا…
سومین نے فوراً کہا…
میں بھی چلتا ہوں…
چند لمحوں بعد دونوں بائیک پر سوار تھے…
اور یونیورسٹی کی طرف بڑھ رہے تھے…
راستے میں باسط مسلسل بول رہا تھا…
اتنا سمجھاتا ہوں اسے…
لیکن مجال ہے جو میری کوئی بات سن لے…
سنتی ہی نہیں کسی کی…
ہوا تیز چل رہی تھی…
مگر سومین کے اندر کا شور اس سے کہیں زیادہ تھا…
وہ بار بار ایک ہی بات سوچ رہا تھا…
میں کیسے بھول گیا…؟ ابھی وہ اگر اُس کی بات بھولا نہیں ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔
اس کے دل میں اب شدید افسوس تھا…
اور ایک انجانا سا خوف بھی…
جیسے کچھ غلط نہیں ہوجائے۔۔۔

++++++++++++++

دونوں یونیورسٹی کے راستے پر نظریں دوڑاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے…
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بےچینی اور بڑھتی جا رہی تھی…
آخرکار وہ یونیورسٹی کے گیٹ تک پہنچ گئے…
باہر سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا…
باسط نے جلدی سے اس کے پاس جا کر کہا…
میری بہن اندر ہے… اسے لینے آیا ہوں…
گارڈ نے ایک نظر دونوں کو دیکھا…
پھر سر ہلا کر انہیں اندر جانے دیا…
شاید فنکشن کی وجہ سے بھی زیادہ سختی نہیں تھی…
اندر قدم رکھتے ہی منظر بدل گیا…
پوری یونیورسٹی سجی ہوئی تھی…
رنگ برنگی لائٹس… بینرز…
ہر طرف ہنسی، شور اور موسیقی کی آوازیں…
اسٹیج کی طرف سے تیز میوزک آ رہا تھا…
اور طلبہ کے گروہ ادھر اُدھر مصروف تھے…
یہ سالانہ فنکشن کا دن تھا…
لیکن اس ہنگامے میں… باسط اور سومین کی دنیا الگ تھی… دونوں کی نظریں بس ایک ہی چہرہ ڈھونڈ رہی تھیں…
صدف…
باسط تیزی سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا…
ہر گروہ… ہر کونے پر نظر ڈال رہا تھا…
کہاں چلی گئی یہ لڑکی… وہ بےچینی سے بڑبڑایا…
سومین کی نظریں بھی لوگوں کے ہجوم میں اسے تلاش کر رہی تھیں…
دل کی دھڑکن عجیب سی ہو گئی تھی…
باسط نے جلدی سے کہا…
تم یہاں باہر دیکھو… میں اندر کی طرف دیکھ کر آتا ہوں…
سومین نے سر ہلایا…
اوکے…
باسط تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گیا…
سومین وہیں کھڑا رہ گیا…
اس کی نظریں بےچینی سے اِدھر اُدھر گھومنے لگیں…
ہر چہرہ… ہر سایہ…
وہ غور سے دیکھ رہا تھا…
دل اب بھی کسی انجانے خدشے سے بھرا ہوا تھا…
تبھی…
اچانک ایک لڑکی اس کے سامنے آ کر رک گئی…
سومین کی نظر اس پر ٹھہر گئی…
گندمی رنگ… گہری سیاہ آنکھیں…
لمبا سا فلوئی گاؤن… ہلکے نیلے رنگ کا… جس کی تہیں ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ لہرا رہی تھیں…
اور چہرہ ہلکے گلابی رنگ کے اسکارف میں لپٹا ہوا تھا۔۔
وہ بالکل سامنے کھڑی تھی… غصے سے اُسے گھورتے ہوئے… اگر صدف ایسے سومین کو گھور نہ رہی ہوتی…
تو شاید وہ کبھی اسے پہچان ہی نہ پاتا…
کیوں کہ اس نے جب بھی اُسے باہر دیکھا تھا نقاب میں ہی دیکھا تھا۔۔۔
سومین کی سانس ایک لمحے کو رُک گئی…
کوریا کے سب سے فیمس S2S گروپ کا سب سے مشہور لڑکا…
جسے سب “سویج بوئے” کے نام سے جانتے تھے…
جو لڑکا کسی کی ایک نہیں سنتا، بلکہ دوسروں کی فوراََ بجا دیتا تھا۔۔۔
آج… وہ اس چھوٹی سی لڑکی کی آنکھوں سے ڈر رہا تھا…
اس کی گہری سیاہ آنکھیں…
جن میں غصہ صاف دکھ رہا تھا…
سومین نے بے اختیار ایک قدم پیچھے لیا…
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی…
کیا کر رہے ہیں آپ یہاں؟؟

+++++++++++++++

ہوٹل میں ناشتہ کا وقت ہو چکا تھا…
اور مینیجر نے حسبِ معمول سب کے کمروں میں ناشتہ بھجوا دیا تھا…
مگر کچھ ہی دیر بعد…
ویٹر نے اسے آکر بتایا کہ ہان وو… اور سومین…
دونوں اپنے کمروں میں موجود نہیں تھے…
اس کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی…
وہ فوراً خبر لے کر رین یون کے پاس پہنچا…
سر… وہ دونوں اپنے روم میں نہیں ہیں…
رین یون نے چونک کر اس کی طرف دیکھا…
کیا مطلب…؟ کہاں چلے گئے ہیں یہ دونوں…؟ ابھی تک آئے کیوں نہیں…؟
سیونگ، جو وہیں کھڑا تھا، فوراً بولا…
فون لگاؤ…
رین یون نے بغیر وقت ضائع کیے کال ملائی…
ایک رنگ…
دوسرا رنگ…
اور فوراً ہی کال اٹھا لی گئی…
ہاں… ہان وو کی آواز آئی…
تم لوگ ہو کہاں…؟ رین یون کے لہجے میں واضح ناراضی تھی…
ہان وو نے ایک لمحہ لیے بغیر جواب دیا…
راستے میں پھس گیا تھا… بس آ رہا ہوں…
رین یون نے بھنویں سکیڑیں…
جلدی آؤ…
اور اس نے فوراً کال کاٹ دی…
اسے لگا… کہ سومین بھی ہان وو کے ساتھ ہی ہوگا…
اسی لیے اُس نے سومین کو کال نہیں کیا۔۔۔

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *