گرداب ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۲
باب دوم : گریم ریپر Grim reaper
گریم ریپر… ایک ایسا نام، جو کراچی کی ہواؤں میں گھلا ہوا تھا۔ گلیوں کی گرد میں لپٹا، دیواروں پر تحریر اور بچوں کے ڈراؤنے خوابوں میں بسا ہوا۔
یہ نام صرف ایک شخص کا نہیں تھا، یہ ایک داستان تھی۔ ایسی داستان جس میں خون بھی تھا، انصاف بھی… مگر سب کچھ الجھا ہوا، گمبھیر، اور اندھیر۔
گریم ریپر جرم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا۔ وہ جرم کے تخت پر بیٹھا، موت کا تاج پہنے، زندگی کو تاش کے پتوں کی طرح کھیلتا تھا۔ کون سا ایسا جرم تھا جس کی ڈور اس کے ہاتھ میں نہ تھی؟ اغواء، قتل، بلیک میلنگ، ہتھیاروں کی اسمگلنگ، سب کچھ۔
لیکن…
ریپر خود کسی کے قابو میں نہ تھا۔
نہ کسی گروہ کا حصہ، نہ کسی سازش کا مہرہ۔
وہ صرف “گریم ریپر” تھا۔
وہ چاہتا کیا تھا؟
یہ سوال تھا، جس کا جواب آج تک کوئی نہ دے سکا۔
نہ پولیس، نہ سیاستدان، نہ اس کا دشمن، اور نہ شاید وہ خود۔
وہ سیاست دانوں کے پیچھے کیوں پڑا رہتا تھا؟
کیوں ایک ایک کر کے وہ ان کو خاموشی سے موت کے گھاٹ اتارتا؟
صرف اس لیے کہ وہ اُسے روکنے کی بات کرتے تھے؟
یا اس لیے کہ وہ اُن میں خود کو دیکھتا تھا، جھوٹ، دھوکہ اور طاقت کی بھوک؟
ریپر ایک ہی بات کہتا تھا،
جو میں کرتا ہوں، مجھے کرنے دیا کرو… تو نقصان نہیں ہوگا۔
اور پھر وہی شخص،
نقصان کرنے کے بعد کہتا تھا،
میں نے کہا تھا نا، نقصان نہیں ہوگا؟
یہ فقرہ… سننے میں عام تھا،
لیکن اُس کی زبان سے نکل کر موت کی مہر لگاتا تھا۔
ریپر صرف جرم نہیں کرتا تھا،
وہ جرم کے ذریعے کوئی پیغام دیتا تھا۔
ایک ایسا پیغام،
جو اکثر صرف مقتول کی آنکھوں میں پڑھا جا سکتا تھا۔
اس وقت رات تھی۔
وہ رات جو پورے کراچی پر خاموشی کی چادر تان چکی تھی، سوائے سمندر کی لہر کے، جو ہر تھوڑی دیر بعد کسی کونے سے کراہتی تھی۔
اور ریپر…
اپنے مخصوص گھاٹ پر موجود تھا۔
یہ وہی گھاٹ تھا جہاں وہ اکثر آتا تھا ، ۔
پانی کی سطح پر چاند کی روشنی کا عکس لہرا رہا تھا، اور روشنی میں کھڑی وہ… ایک دُبلی پتلی سی لڑکی، جس کے وجود میں تباہی تھی،
آج اُس کی آنکھیں بھوری تھیں۔
ہر بار کی طرح آج بھی اُس کا چہرہ ماسک کے پیچھے چھپا ہوا تھا،
وقت شاید رُک گیا تھا۔ یا شاید ریپر کی موجودگی میں وقت ویسے ہی سانس لینا بھول جاتا تھا۔
سب کچھ آپ کے سامنے ہے، ریپر… آگے کیا حکم ہے؟
ریپر خاموش رہا۔
چند لمحے، جن میں دریا کا پانی بھی شاید رک گیا تھا۔
پھر اُس نے آہستہ سے سر اُٹھایا۔
آواز سرد تھی، جیسے کسی پرانے قبرستان سے نکلی ہو۔
بس… بہت ہو گیا۔
لفظ پتھروں کی طرح گرے۔
اب نادیہ کو موت کے گھاٹ اُتار دو۔
وہ آہستہ بولا،
کل کا سورج… اُس کی آنکھیں نہ دیکھ سکیں۔
لڑکی نے سُن کر سر جھکا لیا۔ نہ حیرت تھی، نہ سوال۔
کیونکہ ریپر کا حکم، فیصلۂ موت ہوتا تھا — بے اپیل، بے دلیل۔
وہ پلٹی، مگر چند قدم چلنے سے پہلے رُکی۔
آپ کو یقین ہے؟ آواز دھیمی تھی،
ریپر نے اُس کی بھوری آنکھوں کو گھورا۔
یقین؟
یقین صرف اُنہیں ہوتا ہے جن کے پاس کھونے کے لیے کچھ ہو۔ مجھے… صرف بدلہ لینا ہے۔
دریا خاموش تھا۔
موت… فیصلہ پا چکی تھی۔
++++++++++++
ریپر نے کہا تھا، اور جیسے وہ ہمیشہ کہتا تھا، ویسا ہی ہوا۔
نادیہ فیروز، وہی نادیہ جو کل تک نیوز چینلز کی اسکرین پر بیٹھ کر خود کو مظلوم اور سچائی کی علمبردار کہتی تھی،
اب صرف ایک خبر بن چکی تھی۔
نادیہ فیروز، معروف سیاسی تجزیہ نگار، پراسرار حالات میں اسپتال میں دم توڑ گئیں۔
یہ خبر فجر کے وقت نہیں پھیلی تھی۔
یہ تو جیسے فجر سے پہلے ہی ہواؤں میں تحلیل ہو چکی تھی،
ہر فون اس کی گونج سے بج رہا تھا، ہر نیوز روم میں ہنگامہ برپا تھا، اور ہر صحافی اپنی سانس روکے یہ سوچ رہا تھا کہ…
اب اگلا کون؟
اور دوسری طرف,
امن۔
وہ جو ابھی کل ہی خود پر لگے جھوٹے الزام کے بوجھ تلے دب رہا تھا،
آج اُس کے سر پر ایک اور بم گرا تھا۔
نادیہ کی موت کی خبر اُس وقت پہنچی جب وہ ابھی پولیس اسٹیشن کی کرسی پر بیٹھا، آنکھیں بند کیے، خاموشی سے اپنا اگلا جملہ سوچ رہا تھا۔
دروازہ کھلا، اور جیسے کسی نے ایک لفظ نہیں، ایک سزا اندر پھینکی۔
وہ مر گئی ہے.
آفیسر نے آہستہ کہا،
امن نے آنکھیں کھولیں۔
پلکیں نہیں لرزیں، مگر دل میں ایک دراڑ سی پڑی۔
کون؟
اُس نے پوچھا، جیسے وہ جانتا نہ ہو۔
نادیہ۔ اسپتال میں… موت پراسرار تھی۔ کوئی زہر، کوئی سرنج… کچھ واضح نہیں۔ لیکن مر چکی ہے۔
چند لمحے — خاموش۔
پھر امن نے آہستہ سانس لی۔
اب میں کیا لگتا ہوں تمہیں؟ مجرم؟ قاتل؟ یا صرف ایک بچا ہوا نام، جو مرنے سے رہ گیا؟
آفیسر نے کوئی جواب نہ دیا۔
کیونکہ سچ کا بوجھ کبھی کبھی سوال کی شکل میں سامنے آتا ہے،
اور ہر سچ، کہنے کے لیے نہیں ہوتا۔
+++++++++++++
نادیہ فیروز کی موت کسی عام موت کی طرح نہیں تھی، وہ جلتی لکڑی کی طرح نہیں، آگ کی طرح پھیلی۔
اس نے مرنے سے پہلے اپنے بیان میں واضح کہا تھا
اگر مجھے کچھ ہوا، تو صرف ایک شخص ذمہ دار ہوگا — امن!
اور پھر وہی ہوا۔
ہسپتال میں، آئی سی یو کے بیڈ پر، کسی نے اُس کے منہ پر تکیہ رکھ کر اُس کی سانس روک دی۔
ایسا لگتا ہے جیسے اُس کے الفاظ اُس کی آخری سانسوں سے لپٹے ہوئے تھے۔ اور وہ سانس جیسے کسی نے خود اپنی مرضی سے بند کی ہو۔
پولیس کے مطابق۔
سی سی ٹی وی فوٹیج غائب تھی
ہسپتال کے کسی ڈاکٹر یا نرس کی ملوث ہونے کی کوئی شہادت نہیں ملی۔
اسپتال میں اتنی سیکیورٹی کے باوجود کوئی نادیہ کے روم میں گھس کر اُسے قتل کیسے کر سکتا تھا۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا۔۔
وہ بالکل ٹھیک ہوچکی تھی، کچھ دن بعد ہم اُنہیں ڈسچارج کر دیتے
اور یوں ایک اور پراسرار موت، ایک اور بےچینی کا آغاز۔
میڈیا کے سرخیوں میں اب کیا تھا؟
نادیہ فیروز کو قتل کیا گیا؟
امن پر الزام — کیا یہ سچ ہے یا سیاسی ڈراما؟
نادیہ نے خود ایف ائی آر درج کرائی تھی، کیا امن اب گرفتار ہوگا؟
اور ٹویٹر پر
#JusticeForNadia
ٹرینڈ کر رہا تھا،
ٹی وی اسکرین پر کوئی بریکنگ نیوز نہیں — صرف نادیہ کا چہرہ اور امن کی خاموشی۔
نادیہ فیروز قتل — امن حنان، پولیس کارروائی کیوں نہیں کر رہی؟
سابق ایم پی اے کا بیٹا یا قاتل؟ عوام جواب چاہتے ہیں!
نادیہ کے آخری الفاظ — ‘میری موت کا ذمہ دار امن ہوگا’
خاموشی بھی جرم ہے! — یہ سلوگن دیواروں پر اسپرے کیا جا رہا تھا۔
نادیہ کے والدین کی پکار
ٹی وی پر نادیہ کی ماں رو رہی تھی، آواز میں لرزش اور آنکھوں میں جلی ہوئی راتیں
میری بیٹی نے مرنے سے پہلے انصاف مانگا تھا۔ اب صرف انصاف چاہیے — یا پھر اس ملک کا قانون دفن کر دو!
نادیہ کے والد کے ہاتھ میں وہ ایف آئی آر تھی، وہ کاغذ جو اب ایک قومی علامت بن چکا تھا۔
امن کی دنیا تنگ ہو چکی تھی، لیکن کوئی ثبوت نہیں ہونے کے بنا پر ابھی تک پولیس امن کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کر رہی تھی، اور کچھ لوگ ابھی بھی تھے جو امن کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔
++++++++++++++
دادو… دادو…
وہ زور زور سے رو رہی تھی، جیسے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر باہر نکل رہے ہوں۔
دادو، میں کیا کروں؟ میں کیسے اُن کی مدد کروں؟ سب منحوس ہیں، سب جُھوٹے ہیں، میرے امن پر الزام لگا رہے ہیں، وہ ایسے نہیں ہیں دادو، میں جانتی ہوں، وہ ایسا نہیں کر سکتے، وہ ایسے نہیں ہیں
وہ دادو سے لپٹ کر بلک بلک کر رو رہی تھی، اور دادو، وہ صرف اسے دیکھ رہی تھیں۔ کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھیں، کچھ سمجھا بھی نہیں سکتی تھیں۔ عشق کا بخار اُترتا کب ہے آسانی سے؟ دادو کو یُسرا کی حالت دیکھ کر فکر کھائے جا رہی تھی۔
یُسرا کی آنکھوں میں اب آنسوؤں کے ساتھ ساتھ نفرت کی چنگاریاں بھی بھڑکنے لگی تھیں۔
دادو، یہ ریپر منحوس ہے، میں کہہ رہی ہوں، ایک بار میرے ہاتھ آ جائے، میں ایسا حال کروں گی کہ پوری زندگی یاد رکھے گا، اور یہ میڈیا والے؟ ایک ایک کو چُن چُن کے ماروں گی!
++++++++++++++
کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی…
صرف ٹی وی کی آواز گونج رہی تھی —
نادیہ فیروز کے مرنے کے بعد امن پر قتل کا شبہ، پورا کراچی سراپا احتجاج.
صوفے پر تینوں بیٹھے تھے۔
امل کی آنکھوں میں فکر، افتخار صاحب خاموش اور گہری سوچ میں گم، اور انیسہ بیگم کے چہرے پر صرف ایک چیز — غصہ اور بددعا۔
ٹی وی پر مخالف پارٹی کی ویڈیو کلپس،
امن قاتل ہے!
نادیہ کو انصاف دو!
انیسہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس ٹی وی میں گھس کر چیخ پڑیں۔
یہ ریپر… یہ خبیث… اللہ کرے مر جائے، کتے کھائیں اسے! منحوس کہیں کا…!
ان کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔
ہاں دادی، منحوس کہیں کا خود کیوں نہیں مار جاتا، ہماری زندگی عذاب کی ہوئی، خود کے ساتھ ایسے ہوتا نہ پھر پتہ چلا، اللّٰہ پوچھے گا اس سے
امل نے بھی اپنا حصہ ڈالا، دادی پوتی نیوز دیکھتی کبھی مخالف پارٹی کو بددعا دیتی کبھی ریپر کو، اور افتخار صاحب خاموشی سے بیٹھے تھے، گہری سوچ میں گم۔
+++++++++++
ہنزہ سیری کی سیڑھیاں آہستہ آہستہ اُترتی لاؤنج میں داخل ہوئی، جہاں اُس کا بھائی ارباز، صوفے پر نیم دراز، لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جھکا بیٹھا تھا۔ اُس کے چہرے پر روشنی اور فکر دونوں کا عکس تھا۔
بھائی… نیوز دیکھی آپ نے؟
ارباز نے نظر اُٹھائی،
کون سی نیوز، گُڑیا؟
یہی، امن بھائی والی، وہی ریپر والا مسئلہ، سارا کچھ اسی منحوس کی وجہ سے ہو رہا ہے!
اُس کی آنکھوں میں نفرت کا رنگ جھلکنے لگا تھا، اور لہجے میں غصے کی سُرخی۔
ہاں، مجھے بھی لگتا ہے، وہی ہے اصل مجرم۔
ارباز نے اثبات میں سر ہلایا،
لگتا کیا بھائی یقینا اُسی نے ہی کیا ہے، وہی تو ہے اس پورے کراچی میں سب سے خبیث انسان، جاہل، دِل نام کی کوئی چیز نہیں اس کے اندر
ہاں، ہے تو واقعی خبیث انسان
ارباز نے ہنزہ کی بات کی تصدیق کی،
پتا نہیں اُس خبیث انسان کو کیا ملتا ہے یہ سب کر کے، اور امل وہ کتنی پریشان ہے آج کل!
ہنزہ کی آواز میں امل کے لیے ایک بےچینی تھی، جو دوستوں سے زیادہ بہنوں جیسی قربت رکھتی تھی۔
وہ کیوں پریشان ہے؟
ارباز نے حیرانی سے پوچھا،
اف! بھائی! آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں، نہ امل کے بارے میں، نہ میری دوستوں کے بارے میں! آپ کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ میری کتنی دوستیں ہیں!
ارباز نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا،
گڑیا، تمہاری دوستوں کے بارے میں جان کر میں کیا کروں گا؟
بات تو آپ کی بالکل صحیح ہے
وہ آہستہ سے بڑبڑائی اور پھر صوفے پر گِر سی گئی۔
اُسی لمحے، کیئر ٹیکر ہاتھ میں ٹرے لیے اندر داخل ہوئی۔
اس کی دوستوں کے بارے میں اس کی سول سسٹر حریم کو پتہ ہوگا نہ، چلو اب بتائیں بند کھانے اور دوا کا وقت ہوچکا ہے، چلو دوا کھاؤ پھر کھانا
نہیں کھانی دوا! یار!
ہنزہ نے چہرہ پھیر لیا، جیسے ناراض بچی۔
ارباز نے نرمی سے اُسے سمجھایا،
گُڑیا، دوا نہیں کھاؤ گی تو جلدی سے ٹھیک کیسے ہوگی؟
ہنزہ نے تڑپ کر کہا،
بھائی! کیا ساری زندگی دوا ہی کھاتی رہوں گی؟ بچپن سے یہی سن رہی ہوں، کب ٹھیک ہوں گی میں؟ کب؟
ارباز کے دل میں کچھ ہِل سا گیا۔ وہ کچھ بول نہ سکا۔
جس دن تمہیں اپنے ٹھیک ہونے کی امید ہوگی، اُس دن دوا بھی شفا بن جائے گی، جس دن تم یقین سے دوا کھاؤ گی کہ میں اب ٹھیک ہوجاؤں گی، اُسی دن سے تم واقعی ٹھیک ہونے لگو گی
وہ کہتی اُس کے سامنے ٹیبل پر ٹرے رکھی دوا اُس کے ہاتھ میں پکڑائی، جس پر ہنزہ نے خاموشی سے کھالیا۔
تھنک یوں
ارباز اُس کی طرف دیکھ نرمی سے کہا
کس لیے؟ مُجھے اس کے پیسے ملتے ہیں
اُس نے بے نیازی سے کہا، وہ عنایت تھی ایک بہت اچھی نرس اور ساتھ میں ایک بہت پیاری اور سلجی ہوئی لڑکی۔ جیسے صِرف محبت بٹنا آتا تھا، اُس کی بات پر ارباز بس مُسکرا دیا۔
++++++++++++
ٹی وی بند ہو چکا تھا، پورے ڈرائنگ روم میں سکوت تھا۔ امل اور انیسہ بیگم ریپر کو گلی دے کر اب تھک کر اپنے کمرے میں جا چکی تھی، لیکن افتخار صاحب وہیں بیٹھے تھے آنکھوں میں وہی پرانا غرور اور سیاسی چالاکی لیے۔
یہ سب میڈیا کا کھیل ہے، میں دیکھ لوں گا اِن سب کو
انہوں نے اپنی چھڑی ایک طرف رکھتے ہوئے فون اٹھایا۔
ندیم! کل تک ایک بھی چینل پر امن کا نام نہ آئے، سب کے سب منہ بند ہونے چاہیئں۔ پیسہ لگاؤ، تعلقات استعمال کرو، اور خاص طور پر اُس اینکر کو… ہاں، اُسی کو، جو کل رات چیخ چیخ کے کہہ رہی تھی ‘امن قاتل ہے’. اُس کی زبان بند ہونی چاہیے!
ندیم نے جی سر کہہ کر فون بند کر دیا۔
افتخار صاحب نے لمبی سانس لی۔
سب سنبھل جائے گا۔ ہم افتخار ہیں، کوئی عام نام نہیں۔
مگر اُسے کیا خبر تھی،
سچ بند کمروں میں نہیں رُکتا، وہ دراڑوں سے بھی نکل آتا ہے۔
+++++++++++
کراچی کا موسم آج ویسا ہی تھا جیسا سیاست کا مزاج ، بادلوں سے بھرا، کسی بھی لمحے برسنے کو تیار۔
بنگلے کی پچھلی سمت ایک خاموش کمرہ، جو نہ مکمل طور پر نجی تھا، نہ ہی مکمل سرکاری۔ یہی تھا افتخار صاحب کا دفتر — جہاں فیصلے ہوتے تھے،
کمرے میں داخل ہوتے ہی دیوار پر ایک بڑا نقشۂ پاکستان آویزاں تھا، جس پر مختلف رنگوں کے پن لگے تھے —
دائیں جانب لکڑی کی ایک اونچی الماری تھی، جس میں سیاسی کتابیں، فائلیں اور چند پرانی تصاویر سجی تھیں — قائداعظم کے ساتھ ایک سیپیائی رنگ کی تصویر، نیچے ہاتھ سے لکھا تھا “رہنمائی میں امید ہے۔”
لمبی میز کمرے کے بیچ میں رکھی تھی، جس کے گرد درجن بھر کرسیاں۔ میز پر پانی کی بوتلیں، چائے کے کپ، کچھ کاغذات، اور ایک بھاری بھرکم ریموٹ کنٹرول — جو شاید ٹی وی سے زیادہ ایئرکنڈیشنر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
کھڑکی کے پردے آدھے کھلے تھے، باہر آسمان پر گھنے بادل جھول رہے تھے۔
کمرے کے ایک کونے میں امن کی کرسی ذرا اونچی تھی — غیر محسوس طریقے سے سب سے نمایاں۔
اور اس وقت اس میز کے گرد ایک درجن چہرے بیٹھے تھے۔
سب وہی جنہوں نے امن کے ساتھ مل کر الیکشن مہم میں دن رات ایک کیا تھا۔
امن میز کے سرے پر بیٹھا، نگاہیں سب پر، آواز میں وہی ٹھہراؤ لیے۔
آپ سب جانتے ہیں، مجھ پر قتل کا الزام ہے
سب خاموش تھے۔
اور یہ بھی جانتے ہیں،یہ الزام جھوٹا ہے۔ مگر عوام حقیقت نہیں سنتی، صرف سرخیاں دیکھتی ہے۔
میز کے دوسری جانب، پارٹی کے سینئر رہنما — رؤف حلیم — اپنی کرسی پر جھکے، دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑے، کچھ لمحے تک امن کو گہری نظر سے دیکھتے رہے، پھر دھیمی آواز میں بولے:
امن، آپ ہم سے پہلے سچ بولیں، کیا واقعی آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا؟
یا اگر کر بھی دیا ہو، تو بتا دیں، ہم سب ساتھ ہیں آپ کے۔
پولیس کو کیسے سنبھالنا ہے، میڈیا کی زبان کیسے بند کرنی ہے، ہم جانتے ہیں۔ بس، سچ جان لیں۔
وہ بول رہے تھے، مگر ہر لفظ کے ساتھ امن کے تاثرات میں ایک تھرتھراہٹ پیدا ہو رہی تھی۔
آپ یہ کہنا چاہتے ہیں، کہ میں قاتل ہوں؟
امن کی آواز میں حیرت سے زیادہ تکلیف تھی۔
رؤف حلیم نے گہری سانس لی۔
نہیں، بس اگر ہو، تو تسلیم کر لیں۔ ہم سیاستدان ہیں، سچ کی قیمت جانتے ہیں، اسے بیچنا بھی جانتے ہیں
امن خاموش رہا۔
چند لمحے ایسے گزرے جیسے وہ اپنے اندر کے طوفان کو زبردستی زنجیروں میں باندھ رہا ہو۔
پھر اس نے کرسی سے پشت ہٹائی، دونوں ہاتھ میز پر رکھے، اور سامنے دیکھ کر بولا:
آپ میری پارٹی چھوڑ کر جا سکتے ہیں، رؤف صاحب۔
جیسے کسی نے گولیاں چلا دی ہوں۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا۔
کیا کہا آپ نے؟
رؤف حلیم کی آنکھوں میں یقین اور غصہ دونوں تھے۔
میں نے جب یہ پارٹی جوائن کی تھی
امن کی آواز میں نہ تماشائیوں کے لیے وضاحت تھی، نہ مجرموں کے لیے معافی۔
وہ بس سچ کی دہلیز پر کھڑا، سچائی کا پرچم تھامے بول رہا تھا
تب میں نے صاف کہہ دیا تھا، مجھے وہ لوگ چاہییں جو حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔
جو سچ کی دھوپ میں پسینے بہا سکیں، نہ کہ جھوٹ کی چھاؤں میں آرام تلاش کریں۔
اور آپ
اس نے سامنے بیٹھے رؤف صاحب کی طرف دیکھا،
آپ کیسے سوچ سکتے ہیں کہ میں اپنے مفاد کے لیے کسی کا قاتل بنوں گا؟
اگر سچ کی قیمت کسی کا خون ہے، تو میں وہ سچ نہیں چاہتا۔
لیکن اگر جھوٹ کی قیمت میری ساکھ ہے، تو میں وہ ساکھ جلانے کو تیار ہوں!
کمرے کی خاموشی اب بوجھ بننے لگی تھی۔
میں سیاست میں طاقت کے لیے نہیں آیا، میں سیاست میں حق کے لیے آیا ہوں۔
اگر آپ کو اس راہ پر چلنا دشوار لگتا ہے — تو دروازہ آپ کے لیے کھلا ہے۔
میں افتخار صاحب کے وقت سے ہوں اس پارٹی کے ساتھ! تُم میرے ضمیر پر ایسے اُنگلی نہیں اٹھا سکتے میں تو تمھارا ہی ساتھ دے رہا ہوں
رؤف صاحب کی آواز اونچی ہوئی۔
امن نے گردن موڑی، اس کی آنکھوں میں کچھ بجھ گیا تھا
تو بس وہی وقت تک ٹھہر جانا تھا، رؤف صاحب۔
میں افتخار صاحب نہیں ہوں، مُجھے ایسا ساتھ نہیں چاہیے
رؤف صاحب کرسی سے اٹھے، کرسی کے ہلنے کی آواز کمرے کے سکوت کو چیر گئی۔
پھر تو تُم بہت بڑی غلطی کر رہے ہو، امن ! تمہاری یہ سچائی تمہیں ڈبو دے گی۔
امن نے نظریں نہیں جھکائیں۔
اگر سچ بولنے کا مطلب ڈوبنا ہے، تو میں ہر بار ڈوبوں گا۔
پھر تُم ڈوبنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا۔
وہ کہتے ہوئے مُڑا، اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔
کرسی ہلنے کی آواز، دروازے کے کھلنے کی چرچراہٹ، اور پھر قدموں کی چاپ…
بس یہی باقی رہ گیا۔
کمرے میں جیسے سب کچھ منجمد ہو گیا ہو۔
پھر اس نے میز پر نظر دوڑائی، سب آنکھوں سے ٹکرا کر بولا
کسی کو اگر اپنی وفاداری کو اقتدار سے جوڑنا ہے، تو یہی وقت ہے فیصلہ کرنے کا۔
میں کمزور اتحاد کے ساتھ طاقتور جھوٹ نہیں چاہتا — مجھے سچ کے ساتھ کھڑے وہ چند لوگ چاہییں جو میدان میں تنہا بھی ہوں، تب بھی نہ ڈریں۔
کمرے میں موجود نوجوان، کارکن، اور چند خاموش مشیر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
کچھ آنکھوں میں سوال تھے، کچھ میں عزم۔
پھر وہ نرمی سے گویا ہوا، آواز میں تھکن کم اور یقین زیادہ تھا۔
میں اپنے دادا کو جانتا ہوں، وہ کیسے سیاست کرتے تھے، کیسے فیصلے لیتے تھے۔
لیکن میں اُن جیسا نہیں ہوں۔
میں اُن کی وراثت کا احترام کرتا ہوں،
مگر اندھی تقلید نہیں۔
وہ لمحہ بھر رُکا، جیسے خود سے تصدیق لے رہا ہو۔
جان تو گئے ہوں گے مُجھے اب سب،
رؤف صاحب نے جو کہا، وہ صرف اُن کی سوچ نہیں تھی، اور اگر اس کمرے میں یا باہر بھی کوئی اور یہی سوچ رکھتا ہے، تو اُس کے لیے بھی دروازہ کھلا ہے۔
پھر اس نے گردن اٹھائی، ایک ایک چہرے کو دیکھا۔
لیکن یاد رکھیں،
میں اپنے ضمیر پر کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا۔
نہ اقتدار کے لیے، نہ بچاؤ کے لیے۔
کسی کونے سے ہلکی آواز آئی
اگر رؤف صاحب کچھ اور بھی جانتے ہوں؟
اگر وہ آپ کے خلاف مزید ثبوت لے آئیں؟
امن نے آنکھیں بند کیں، پھر ہمت جمع کی
تو لائیں…
اس نے آہستہ سے کہا،
کیونکہ اگر میں سچ پر ہوں، تو کسی جھوٹ سے خوفزدہ نہیں ہوں۔
اور اگر غلط ہوں…
تو سزا میرے حصے کی ہونی چاہیے —
نہ کہ اُن کارکنوں کی، جو میری سچائی پر یقین کرتے ہیں۔
پھر ایک عمر رسیدہ امیدوار، سید بابر علی بولے
بیٹا، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پہلے ہم افتخارِ صاحب کی بات مانتے تھے اب آپ کی مانے گئے، آپ سچائی کے ساتھ کھڑے ہو تُم ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔
ٹھیک ہے،میں کچھ دیر کے لیے بریک چاہتا ہوں۔
اُس نے کہا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
سب نے خاموشی سے سر ہلایا،
ایک ایک کر کے اٹھے،
چلتے قدموں کی ہلکی چاپ اور دروازے کی چرچراہٹ کمرے میں گھلنے لگی۔
مگر ایک چہرہ —
وہیں جہاں تھا، وہیں بیٹھا رہا۔
تھوڑی دیر بعد امن کی آنکھیں کھلی تو اُسے سامنے پایا تُم کیوں بیٹھے ہو یہاں؟ جاؤ…
سامنے وہی کرسی، اور اُسی پر بیٹھا وہ شخص۔
وہ ہولے سے مسکرایا، جیسے ہوا نے کسی درخت کی شاخ کو آہستہ سے چھو لیا ہو۔
نہات تو کب کا جا چکا ہے، میں نومی ہوں۔
یہ میرا ورک پلیس ہے نومی یہاں کیسے آسکتا ہے؟ امن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
جب ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی ضرورت پڑتی ہے، تو کونسی جگہ کونسا ورک پلیس، وہ بس پہنچ جاتا ہے، بھلے وہ جگہ اُسے پسند نہ ہو، لیکن اُس کے بھائی کو اُس کی ضرورت ہے تو وہ پہنچے گا ضرور
امن نے سانس لیا — گہرا، تھکا ہوا، اور شکر گزار۔
تم ہر بار مُجھے متاثر کرتے ہو… نہات!
ایک سچی سی مسکراہٹ لبوں پر آئی۔ کون کہہ سکتا تھا سید امن حنان افتخار بھی کسی سے متاثر ہوتا ہوگا وہ بھی کسی عام شخص سے
نہات نے گردن جھٹک کر تصحیح کی —
نہات نہیں، نومی
امن نے ہنسی دبی، پھر آہستہ سے کہا ہاں بھئی، نومی!
بھائی، آپ واقعی کراچی کے لیے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو برسوں سے کسی نے نہیں کیا،
جو کام حکومتوں کے اعلانات میں دب گئے، وہ آپ نے سڑکوں پر اتار دیے۔ مگر یہ شہر آسان نہیں —
یہاں سچ بولنے والے جلد تنہا کر دیے جاتے ہیں،
اور جو روشنی لاتے ہیں، اُنہیں اندھیرے نگلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈر یہ ہے،
کہ کہیں آپ کراچی کو بچاتے بچاتے، خود کو نہ کھو بیٹھیں۔
وہ امن کی فکر میں ڈوبتا بولا
امن نے چند لمحے خاموشی میں گم گزارے —
نومی کی بات جیسے سیدھی دل کے اندر جا اتری ہو۔
پھر اس نے گہری سانس لی، نگاہ کھڑکی سے باہر بادلوں میں اٹکی،
اور دھیرے سے بولا
یہ جو شہر ہے نا، نومی
وہ کرسی سے ذرا آگے جھکا، نظریں اب کھڑکی سے ہٹ کر سیدھی نہات پر تھیں،
یہ صرف مٹی، عمارتیں اور شور نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔
جو اسے اپنا کہتا ہے، اُسے پھر اس کے زخم بھی اپنے کرنے پڑتے ہیں۔
نہات نے خاموشی سے سر ہلایا۔
یہاں لوگوں نے برسوں وعدے سنے، امیدیں کیں، اور ہر بار مایوسی ملی۔
اب اگر ہم بھی خاموش رہ گئے، تو شاید ہماری اگلی نسل بولنے سے بھی ڈر جائے۔
لیکن بھائی، یہ سچ مہنگا پڑ سکتا ہے۔ نہات کی آواز تھوڑی دھیمی ہوئی۔
میں تیار ہوں قیمت دینے کے لیے۔
بس یہ نہ ہو کہ کل کوئی بچہ اپنے باپ سے پوچھے:
‘کراچی کو کس نے بچایا؟’
اور باپ نظریں جھکا کر کہے — ‘کوئی نہیں۔’
اور اگر کوئی پوچھے: ‘کون لڑا تھا؟’
تو میں کہوں گا — میرا بھائی۔ نومی نے آہستہ سے کہا
امن نے مسکرا کر اس کا کندھا تھپتھپایا،
تُم میرا حوصلہ ہو نہات، مُجھے کبھی دھوکا نہیں دینا،
نومی نے ہلکا سا سر جھٹکا،نرمی سے بولا،
نہات نہیں، نومی!
امن نے پلکیں موند لیں، مسکراہٹ گہری ہوئی،
ہاں بھئی، نومی!
نومی نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
کم از کم نام تو یاد رکھا کریں، بھائی صاحب —
آپ لیڈر ہیں، مگر میں آپ کا بچپن!
امن نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں،
پھر آہستگی سے کہا
شاید اسی لیے تم ہر بار میرے اندر کا شور سن لیتے ہو، جب دنیا چیخ رہی ہوتی ہے، تم خاموشی میں آ جاتے ہو۔
نومی نے بس اتنا کہا
کیونکہ آپ صرف کراچی کے لیڈر نہیں، میرے بڑے بھائی بھی ہو۔اور بڑے بھائی ہار نہیں سکتے۔
امن صرف ہلکا سا مسکرایا اور اپنے کوٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
گھر جا رہا ہوں، دادی انتظار کر رہی ہوں گی۔
میرا حوصلہ تو تم ہو، نومی،
لیکن اُن کا، میں ہوں۔
نومی نے آہستہ سر ہلایا،
++++++++++++++
یہ… کیا کہہ رہے ہیں آپ؟
مایرا کی آواز جیسے کمرے کے در و دیوار پر پتھر کی طرح جا ٹکرائی۔
وہ وہیں، کرسی کی پشت سے ہٹی، نگاہوں میں حیرت اور دل میں ایک انجانی کھٹک لیے،
راشد صاحب کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
راشد صاحب نے نگاہ چرائی
شاید اُن کے لب پر موجود خاموشی، اس خبر سے زیادہ وزنی تھی۔
اوپر سے آرڈر آیا ہے۔
انہوں نے مختصر، دھیما مگر غیر لچکدار جواب دیا۔
مایرا نے جیسے سنا، مگر سمجھنے سے انکار کر دیا۔
کیا مطلب… کون سا آرڈر؟
ابھی، ابھی ظفر صاحب نے خود فون پر حکم دیا ہے۔
راشد صاحب کا لہجہ نرم نہیں تھا، صرف حقیقت سے بوجھل تھا۔
تم چلو گی؟
مایرا نے بغیر لمحہ گنوائے سر ہلایا۔
ہاں…!
کیونکہ سچ سے بھاگنا، اُس نے کبھی سیکھا نہیں تھا۔
دعا، جو ایک طرف خاموشی سے بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی،
آخر بول ہی پڑی
لیکن کیوں؟… اچانک کیا ہوا؟ کل تک تو ایسی کوئی بات نہیں تھی۔
راشد صاحب نے گہری سانس لی، جیسے ہر خبر کے ساتھ اُن کے سینے پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہو۔
ایک رپورٹر کا دعویٰ ہے کہ اسے پارٹی کی طرف سے دھمکی ملی ہے —
اور اسپتال کے بعد کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں امن کی پارٹی کا بندہ اسپتال کے اندر جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
مایرا کی نظریں لمحہ بھر کو ساکت ہو گئیں۔
لیکن، کوئی کسی حوالے سے بھی تو اسپتال جا سکتا ہے۔
ہمیں بس، تفتیش کرنی ہے، مایرا۔
راشد صاحب نے مختصر مگر وزنی جملہ کہا۔
دعا نے الجھتے ہوئے سوال پوچھا
مگر رپورٹرز کو دھمکی کس نے دی؟
راشد صاحب کی آنکھوں میں فکریں تھیں، جواب نہیں۔
ہو سکتا ہے، امن کی پارٹی کے اندر کا ہی کوئی بندہ ہو۔
اور امن خود اس بات سے بےخبر ہو۔
مایرا نے سر ہلایا۔
ہاں، ہو سکتا ہے…
مگر اُسی لمحے،
دروازہ ایک دھماکے کی آواز سے کھلا —
اور اندر ایس پی ظفر جاوید، وہی وجود جو پولیس کی وردی میں کبھی طاقت کا استعارہ لگتا تھا،
اب سختی کا طوفان تھا۔
آپ اب تک یہاں ہی کھڑے ہیں؟
ظفر کی آواز میں گویا بجلی بھری ہوئی تھی۔
میں نے آپ کو کیا آرڈر دیا تھا؟
کمرے کی فضا میں خاموشی، جیسے کسی عدالت کی سنگینی۔
مجھے، پندرہ منٹ میں امن حوالات کے اندر چاہیے۔
وہ دھاڑے،
اور اس بار راشد صاحب بھی اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
مایرا نے آہستہ سے دعا کا ہاتھ تھاما۔
چلو، ہم صرف ایک گرفتار کرنے نہیں، ایک حقیقت کا سامنا کرنے جا رہے ہیں۔
دعا نے نظریں جھکا لیں۔
کیونکہ اس بار، تفتیش صرف امن کی نہیں تھی
بلکہ اس سسٹم کی بھی، جو سچائی کے ساتھ رہنے والوں کو اکثر مجرموں کی فہرست میں ڈال دیتا ہے۔
++++++++++++
وہ خاموشی سے آ کر انیسہ بیگم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔
نہ کوئی لفظ، نہ کوئی شکایت۔ بس تھکن، جیسے سارا بوجھ اس ایک لمس کے سپرد کر دیا ہو۔
انیسہ بیگم نے دھیرے سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنا شروع کیا، جیسے ہر تھپکی میں کوئی دُعا، کوئی تسلی چھپی ہو۔
جب تُو چھوٹا تھا نا امن، تو یونہی میرے پاس آ کر لیٹ جاتا تھا، اور میں یونہی تیرے بال سنوارتی رہتی تھی، بس اب فرق یہ ہے کہ تب تُو خوابوں سے لڑتا تھا، اب حقیقتوں سے۔
امن نے آنکھیں بند کر لیں۔
انیسا بیگم کے ہاتھوں کی تھپک جیسے ہر زخم پر مرہم رکھ رہی تھی۔
کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک اور تسبیح کی سرسراہٹ باقی رہ گئی تھی
اور ایک ماں کی دعا، جو ہمیشہ خاموشی سے قبول ہو جاتی ہے۔
+++++++++++
پولیس کی گاڑی، گیٹ سے نکلی تو لمحے بھر کو پورا تھانے کا احاطہ دھول میں لپٹ گیا۔
گاڑی کی رفتار، جیسے وقت سے بھاگ رہی ہو…
جیسے کسی حقیقت تک پہنچنے میں ایک پل کی بھی دیر، سب کچھ بدل دے گی۔
مایرا اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی،
چہرہ سپاٹ، مگر اندر ایک طوفان جیسے دل کی دھڑکن سے جا بجا ٹکرا رہا ہو۔
دعا پچھلی سیٹ پر خاموش بیٹھی تھی،
آنکھوں میں سوال تھے، زبان پر نہیں۔
راشد صاحب ڈرائیونگ سیٹ پر تھے، مگر ان کے ہاتھوں کی گرفت عجیب سی سخت تھی
جیسے وہ صرف اسٹیئرنگ نہیں، اپنا غصہ بھی قابو میں رکھے ہوئے ہوں۔
پانچ منٹ اور
مایرا نے خود سے کہا، مگر وہ الفاظ گاڑی کی کھڑکی سے باہر اڑتی ہوا میں تحلیل ہو گئے۔
گاڑی کی بتیاں، سائرن کی آواز اور اندر کا سکوت —
تینوں الگ الگ دُنیا کے نمائندے تھے۔
گاڑی نے ایک موڑ کاٹا —
اور دور سے، امن کا گھر…
جیسے ایک مضبوط قلعہ، جو اب گرفتاری کے بھاری قدموں سے لرزنے کو تیار کھڑا تھا۔
پولیس والے پہلے سے موجود تھے۔
سفر کا آخری لمحہ آ چکا تھا۔
گاڑی جیسے رُکی، مایرا نے سانس اندر کھینچی۔
اسے یاد آیا، کتنی بار اس نے امن کو نیوز کانفرنسز میں، جلسوں میں، بڑی بڑی تقاریر میں دیکھا تھا۔
چمکتے اسٹیج کی روشنیوں میں وہ مرد جس کے لفظوں میں بغاوت تھی،
لہجے میں یقین،
اور آنکھوں میں وہ خواب، جو شاید اس قوم نے برسوں بعد کسی کے چہرے پر دیکھے تھے۔
اور آج—
آج وہ اُسی شخص کے سامنے جانے والی تھی۔
مگر نہ اسٹیج تھا، نہ روشنی،
نہ ہجوم، نہ تالیوں کی گونج۔
صرف خاموشی کا ہال،
قانون کا سایہ
اور ایک الزام،
جو اس شخص کے گرد موت کی طرح لپٹا تھا۔۔۔
صحن کے بڑے لوہے کے دروازے پر جیسے ہی دھڑ سے پولیس کی گاڑی رُکی، نوکروں اور مالیوں کی نظریں حیرت سے اٹھیں، کچھ نے فوراً اندر اطلاع دوڑائی، کچھ وہیں ساکت کھڑے رہ گئے۔
مگر اس بار—یہ عام آمدورفت نہیں تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا، جو دیواروں کو بھی کان دے دیتا ہے۔
پولیس گارڈز—وردی میں ملبوس، سنگین چہروں کے ساتھ—کسی کی پروا کیے بغیر، ٹھہرے ہوئے قدموں اور خاموش اختیار کے ساتھ اندر داخل ہو گئے۔
مایرا سب سے آگے تھی۔
سپاہی دونوں اطراف میں، اور اس کے پیچھے رشید صاحب۔۔
مایرا جیسے ہی اندر داخل ہوئی، پہلا منظر جو اس کی نظروں میں بجلی کی طرح کوندا، وہ لونج کا وہ گوشہ تھا، جہاں امن، اپنی دادی کی گود میں سر رکھے بیٹھا تھا۔
وہی امن،
جس کے لیے ٹی وی پر اینکرز لڑتے تھے،
جس کی بات پر نوجوان جان دیتے تھے،
جس کی مسکراہٹ میں مستقبل کی چمک تھی۔
اور آج—
وہ کسی معصوم بچے کی طرح لگ رہا تھا ۔۔
انیسہ بیگم کا ہاتھ اس کے بالوں میں تھا،
مایرا کا قدم جیسے وہیں رک گیا،
یہ پولیس یہاں کس لیے آئی ہے؟
انیسہ بیگم کی آواز پر وہ چونکا اور جھٹ سے سیدھا ہوا، دادی کی گود سے اٹھا،
اور ایک لمحے میں، وہی چہرہ جو ابھی معصوم لگ رہا تھا،
اچانک ایک لیڈر جیسا کھڑا تھا۔
سید امن حنان افتخارِ ہم آپکو اپنے ساتھ لے جانے آئے ہیں رشید صاحب نے آگے آکر بڑھ کر کہا۔
آپ کے پاس ثبوت ہے؟
وہ آواز نہیں، گرج تھی۔
کس بنیاد پر آپ میرے پوتے کو ساتھ لے جا رہے ہیں؟
افتابی روشنی کے بادل سے نکلتے، افتخار صاحب ــ
سفید شلوار قمیص، اوپر سے ہلکی نیوی واسکٹ میں،
ابھی ابھی اپنے اسٹڈی روم سے نکلے تھے۔
ان کی آنکھیں… عمر رسیدہ تھیں مگر کمزور نہیں —
بلکہ ایسی تھیں جیسے برسوں کی سیاست، قربانیاں،
اور وفاداریاں اُن میں بستیاں بسا چکی تھیں۔
رشید صاحب نے ایک پل کو نگاہ جھکائی،
مگر اُن کی ذمہ داری، اُن کی وردی،
اُس جھکی ہوئی نگاہ سے زیادہ مضبوط تھی۔
امن صاحب، پر شک ہے کہ نادیہ فیروز کی ہسپتال میں موت کی تفتیش میں،
آپ کی جماعت کے ایک رکن کا سی سی ٹی وی میں آنا، اور ایک رپورٹر کو دھمکی ملنے کی شکایت، یہ سب، ہمیں یہاں لایا ہے۔
انہوں نے تھوڑا آگے بڑھ کر، آنکھوں میں وہی پرانی سختی لیے،
رشید صاحب کی طرف دیکھا، جیسے سوال نہیں،
برسوں پرانی دیانتداری کا ثبوت مانگ رہے ہوں۔
شک…؟
ان کا لہجہ سرد تھا،
ایک افتخار کو، تم ‘شک’ پر لے جانا چاہتے ہو؟
مایرا نے آگے بڑھ کر احترام سے کہا،
سر، یہ گرفتاری نہیں، صرف تحقیقات کا ایک مرحلہ ہے۔
امن صاحب کو شاملِ تفتیش کیا جا رہا ہے، نہ کہ مجرم سمجھ کر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ عدالت کے حکم پر ، اور قانون کے مطابق۔
امن نے نرمی سے انیسہ بیگم کا ہاتھ چھوڑا،
اُن کی طرف ایک لمحہ دیکھا،
پھر افتخارِ صاحب کے پاس آیا —
دادا، اگر میں نہیں گیا، تو یہ لوگ اپنے شک کو سچ بنا ڈالیں گے۔ لیکن اگر میں گیا، تو شاید سچ کی ایک لکیر کھنچ جائے گی۔ اور مجھے اپنی صفائی کا پورا حق چاہیے۔
افتخار صاحب کی آنکھوں میں جیسے کوئی پرانا زخم تازہ ہو گیا ہو، وہ جو ساری عمر الزامات کو لفظوں سے، اور سازشوں کو تعلقات سے توڑتے آئے تھے —
آج انہیں اپنا خون خود، قانون کے آگے پیش کرنے آ گیا تھا۔
امن کی بات سن کر انہوں نے تھوڑا پیچھے ہو کر راستہ دیا، جیسے اجازت دے دی ہو اور بس اتنا کہا —
جا… لیکن ایک بات یاد رکھ —
افتخار کا بیٹا کبھی بغاوت کرے تو سیاست ہار سکتا ہے،
لیکن اگر وہ جھکے — تو افتخار کا نام مر جاتا ہے۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا —
اور تیز قدموں سے آگے بڑھا۔
مایرا نے دروازہ کھولا،
اور پولیس کے جوانوں نے خاموشی سے گھیرا بنایا۔
گاڑی کا دروازہ کھلا،
امن نے پلٹ کر صرف ایک بار دیکھا —
اور بیٹھ گیا۔
وہ دونوں — افتخار صاحب اور انیسہ بیگم — دروازے پر ساکت کھڑے تھے۔
امن، جسے ہمیشہ فخر سے دیکھتے آئے تھے، آج پولیس کے ساتھ چپ چاپ چلا گیا تھا۔
افتخار صاحب نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا،
یہ وہی راہ ہے، جو میں نے چنی تھی،
مگر میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ وہ اس راہ پر میرے کندھے سے نہیں، میرے نام سے لڑے گا۔
انیسہ بیگم نے جیسے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے پوچھا،
کیا آپ کو یقین ہے، وہ بےقصور ہے؟
افتخار صاحب نے نظریں ہٹائے بغیر کہا،
یقین؟
پھر سانس لیا،
میں جانتا ہوں، وہ سچ کے لیے لڑتا ہے۔
اور جو سچ کے لیے لڑے،
وہ ہار سکتا ہے، گِر سکتا ہے،
مگر قاتل نہیں ہو سکتا۔
لیکن کسی نے بھی سیڑھی کی ریلنگ پر کھڑی اُس لڑکی پر توجہ نہیں دی تھی،
وہ جو خاموشی سے کھڑی تھی چُپ چپ۔
ہوا اُس کے بالوں سے کھیل رہی تھی، مگر اُس کی آنکھیں کسی اور طوفان کا پتہ دے رہی تھیں۔
ابھی جس وقت جو تکلیف میں محسوس کر رہی ہوں
اُس نے لبوں کو سختی سے بھینچتے ہوئے خود سے کہا،
اس سے زیادہ دہلادینے والی تکلیف تمہیں ہو ، ریپرِ
تم مرو…
اُس کی آواز سانس سے زیادہ دھیمی مگر زہر سے لبریز تھی۔
تم اُس تکلیف سے مرو جو کسی بےگناہ کو بدنام کر کے ملتی ہے۔
ریلنگ کے نیچے شہر کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں،
مگر اُس کے اندر صرف اندھیرا تھا..
+++++++++++++
اسکرین پر لال رنگ کی بریکنگ نیوز پٹی دوڑ رہی تھی۔
ہیڈلائن:
افتخارِ صاحب کے نواسے سید امن حنان افتخار کو پولیس نے حراست میں لے لیا!
کیمرہ اینکر پر زوم کیا گیا — چہرے پر سنجیدگی، آواز میں سنسنی۔
ناظرین! کراچی کی سیاست میں بھونچال —
سید افتخار کے نواسے، معروف سیاسی رہنما اور نوجوان لیڈر امن افتخار کو آج رات ان کے رہائش گاہ سے پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
اس کے بعد ویڈیو کلپ چلی —
امن کو پولیس کے بیچ سے نکلتا دکھایا گیا،
اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی، مگر نظر جھکی نہیں تھی۔
ذرائع کے مطابق، نادیہ فیروز کے کیس میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں امن کی پارٹی کا ایک شخص اسپتال میں داخل ہوتا دیکھا گیا ہے،
جبکہ ایک معروف رپورٹر نے پارٹی کی جانب سے دھمکیاں ملنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اس کے بعد اسکرین پر مختلف سیاسی تبصرہ نگار نظر آئے:
کوئی کہہ رہا تھا — یہ ایک سازش ہے
کوئی بولا — یہی وقت ہے کہ امن خود سچ سامنے لائے
اور ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا —
سیاسی مستقبل خطرے میں ہے۔ امن افتخار اگر بے قصور ہے، تو اُسے ہر الزام کا سامنا کرنا ہوگا، ورنہ یہ خاموشی، سیاست نہیں، کمزوری سمجھی جائے گی۔
ٹی وی کے سامنے بیٹھی وہ چپ تھی، لیکن اُس کے اندر توڑ پھوڑ مچی ہوئی تھی۔
اُس کا دل چیخ رہا تھا، تڑپ رہا تھا، خود کو روکنے کی کوشش میں اور زیادہ زخمی ہوتا جا رہا تھا۔
خبر بار بار دہرائی جا رہی تھی۔
امن کے چہرے کی کلپ دوبارہ آئی،
وہ پولیس والوں کے درمیان چل رہا تھا،
پر اُس کی آنکھوں میں…
یسرٰی کو سب سے زیادہ خوف اس بات سے آیا کہ وہ آنکھیں جھکی نہیں تھیں۔
وہ بے قصور ہے۔۔۔
یسرٰی کے لبوں سے خود بخود نکلا۔
وہ ایسا کر ہی نہیں سکتا، اُسے الزام دیا جا رہا ہے، ضرور کوئی سازش ہے۔۔۔
اس کے دل نے جیسے اُس لمحے قسم کھا لی تھی —
جتنے بھی الزام لگیں، میں اُس پر یقین نہیں چھوڑوں گی۔
کیوں؟ کیونکہ میں اُس پر صرف اعتماد نہیں کرتی،
میں اُس سے محبت کرتی ہوں۔
یسرٰی نے آنکھوں کی نمی صاف کی،
سانس اندر کھینچی، اور سر اُٹھایا۔
اور پہلی بار اُس کے اندر ایک فیصلہ بیدار ہوا
اگر دنیا کی سچائی جھوٹ ہو گئی،
تو میں امن کا سچ بن جاؤں گی۔
مُجھے کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا
وہ اُٹھی، اپنے روم کی طرف گئی، اور لمحے بھر میں کمرے چینج کرتی باہر نکل گئی۔
++++++++++++++
امن کو گرفتار ہوئے آج تیسرے دن کا سورج طلوع ہوا تھا۔
جیل کی دیواریں خاموش تھیں، لیکن شہر کے کوچے، گلیاں اور نیوز چینلز چیخ رہے تھے۔
اور الیکشن؟ وہ صرف سات دن دور تھا۔
سات دن، جن کے بعد یا تو امن تاریخ رقم کرتا،
یا وہ صفحات سے کٹ جاتا—بغیر کچھ کہے، بغیر کچھ کیے۔
اگر وہ الیکشن سے پہلے باہر نہ آیا، تو وہ جیتنے سے پہلے ہی ہار چکا ہوگا۔
یہ الفاظ اُس لڑکی کے تھے، جو ریپر کے سامنے کھڑی تھی۔
وہی لڑکی، آج اس کی بلی جیسی آنکھوں کا رنگ ایسا تھا،
جیسے جامنی دھند میں کوئی سچ چھپا ہو۔
وہ بول رہی تھی، تیز تیز، جیسے وقت اس کے مقابل ہو۔
ایک ایک کر کے ساری نیوز ریپر کے سامنے رکھ چُکی تھی۔
یہ سب ریپر نے کیا ہے، اور دنیا کو یہ جاننا چاہیے!
ریپر نے صرف اتنا کہا —
…آگے وہ لڑکی جانتی تھی، اُسے کیا کرنا تھا۔
+++++++++++++
کمرے میں صرف ایک پنکھا چل رہا تھا، اور دونوں بزرگوں کی باتوں کی تپش اس گرمی سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔
افتخار صاحب کے بنگلے کی دوسری منزل پر، رؤف صاحب صوفے کے کونے پر بیٹھے تھے،
چہرے پر ناپسندیدگی صاف جھلک رہی تھی۔
یہ کیا کیا ہے آپ کے پوتے نے میرے ساتھ؟
ان کی آواز میں صرف شکوہ نہیں تھا، انا کا زخم بھی شامل تھا۔
افتخار صاحب نے گھڑی اتار کر میز پر رکھی اور پرسکون انداز میں مسکرا کر بولے،
تو تم بھی تو پاگل ہو، جانتے نہیں میرے پوتے کو؟ جو منہ پہ آتا ہے، بول دیتا ہو۔ تمہیں قتل کا الزام دے دیا؟
رؤف صاحب کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
مجھے لگا، اس نے واقعی مروا دیا ہوگا۔ یہ لڑکا تو ہر وقت انصاف، سچ، حق—یہی کچھ بک بک کرتا رہتا ہے۔ اگر ایسے ہی رہا نا، تو ایک دن منہ کے بل گرے گا!
افتخار صاحب نے آنکھیں آہستہ سے بند کیں، جیسے کوئی پرانی یاد تازہ ہو گئی ہو۔
اللہ نہ کرے، میرے بچے کے لیے بددعا نہ نکالو زبان سے۔ اور زیادہ بولنے کی بھی ضرورت نہیں، بہتر ہے خاموشی اختیار کرو۔ نیا نیا ہے، جوان خون ہے، جوش تو مارتا ہی ہے۔ ہم بھی تو جب سیاست میں آئے تھے، ایسے ہی تھے۔ جذباتی، نڈر، زبان میں کاٹ تھی۔ اب دیکھو، تھم گئے، سیکھ گئے۔
انہوں نے پانی کا گلاس رؤف صاحب کے سامنے رکھا، جیسے غصے کو بھی سیراب کرنا ہو۔
وہ بھی سیکھ جائے گا، سمجھ جائے گا، مگر اگر تم جیسے لوگ اس پر زبردستی کرو گے تو جو سیاست اُس کے ہاتھ میں آنی ہے، وہ بھی کھسک جائے گی۔
رؤف صاحب نے گلاس کو ہاتھ نہ لگایا، بس آنکھوں میں وہی غصہ لیے بولے،
اور اب؟ اب کیا کروں میں؟ اس نے مجھے سب کے سامنے اتنا ذلیل کیا ہے۔ میری پوزیشن، میرا قد، کچھ نہیں چھوڑا!
افتخار صاحب نے ہلکی سی سانس لی، جیسے ایک اور بڑی بات کہنے جا رہے ہوں۔
تو کس نے کہا تھا زبان دراز کرو؟ برداشت سیکھو۔ تم جیسے بزرگ اگر برداشت نہیں کریں گے تو یہ نوجوان کیا خاک سیکھیں گے؟
پھر وہ تھوڑا قریب ہو کر دھیمی آواز میں بولے
اچھا، میں بات کروں گا امن سے۔ مگر پہلے یہ بتاؤ، جیل سے باہر کیسے نکالوں اُسے؟ اس کا کوئی راستہ بتاؤ مجھے۔
رؤف صاحب تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر آہستہ سے بولے
راستے ہیں، مگر قیمت بھی ہے۔ اور یہ لڑکا تو قیمت دینے کو تیار ہی نہیں لگتا۔
افتخار صاحب نے نظریں چھت کی طرف اٹھا لیں،
جیسے اُس لڑکے کو دعا دے رہے ہوں جو اصول پر ڈٹا تھا۔
+++++++++++++
سب کچھ ٹھیک تھا…
یا کم از کم یہی دکھایا جا رہا تھا۔
شہر اپنی رفتار میں تھا، نیوز چینلز اپنی ریٹنگز کے پیچھے، سوشل میڈیا پر وی لاگرز، تجزیہ نگار، تبصرہ نگار… سب مصروف۔
امن کی بھی نیوز وقتاً فوقتاً چل رہی تھی۔
پھر…
ایک لمحہ آیا۔ ایسا لمحہ جو وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر گیا — اس سے پہلے اور اس کے بعد۔
اچانک ہر اسکرین پر ایک ہی کلپ چلنے لگا۔
ہر نیوز چینل، ہر انسٹاگرام پیج، ہر فیس بک پروفائل، ہر یوٹیوب چینل، ہر ٹوئٹر فِیڈ — سب پر ایک ہی ویڈیو۔
ہر اسکرین سیاہ ہو گئی۔
ایسی جیسے کوئی نظر نہ آنے والا ہاتھ پوری دنیا کے ڈیجیٹل نیٹورک کو اپنی گرفت میں لے چکا ہو۔
سیاہ پس منظر، سناٹا، اور صرف ایک ہی سایہ۔
ریپر۔
وہ کسی تاریکی میں بیٹھا تھا۔ چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا، صرف اس کی آواز گونج رہی تھی — گہری، سرد آواز۔
نادیہ فیروز کا قتل… ریپر نے کیا ہے۔
خاموشی…
پھر وہی آواز، مگر اب اس میں اعلان تھا۔ شدت تھی۔
کراچی میں جتنے بھی جرائم ہوتے ہیں، ان سب کا ذمہ دار میں ہوں۔ ان سب کا ذمہ دار ریپر ہے۔
جب تک گریم ریپر زندہ ہے، ایک بھی سیاستدان زندہ نہیں رہ سکتا۔
اور اب… امن کی باری۔
آواز میں ایسا سکوت تھا… جو ہڈیوں تک اُتر جائے۔
لفظ الگ نہیں لگتے تھے، جیسے سائے خود بول رہے ہوں۔
پھر وہ لمحہ آیا…
جب اس نے امن کے لیے اعلان کیا۔
امن اب اپنی اُلٹی گنتی گننا شروع کر دے
تمہاری سانسیں اب میری مرضی سے چلیں گی…
تمہارے ہاتھ میں قدرت کا قلم تھا… مگر اب میرے ہاتھ میں تمہارا آخری صفحہ ہے۔
اور پھر اچانک… ویڈیو ختم۔
اسکرین سیاہ ہوئی، اور نیا سین شروع ہوا۔
سفید روشنیوں والا ہسپتال۔ خاموش راہداری۔
نادیہ فیروز کے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔
دو لڑکیاں اندر داخل ہوئیں۔
سیاہ جینز، چہرے پر ماسک، اور سروں پر سیاہ پی کیپ — جن پر سفید حروف میں صرف ایک لفظ لکھا تھا:
REAPER
ایک لڑکی آگے بڑھی۔ نادیہ نیند کے آغوش میں تھی۔
لڑکی نے خاموشی سے تکیہ اٹھایا، اور نادیہ کے چہرے پر رکھ دیا۔
ساکت، مگر سفاک حد تک مکمل۔
نادیہ کی سانسیں، جیسے دھاگہ ہو جو آہستہ آہستہ ٹوٹ گیا ہو۔
دوسری لڑکی نے کیمرے کی طرف دیکھا۔
ماسک کے پیچھے آنکھوں میں وہ چمک تھی، جیسے اعلان کر رہی ہو کہ
ہم آپ کے سامنے ہیں، کیا کر لوگے؟
اس نے ہاتھ ہلایا۔
اور منظر تاریکی میں ڈوب گیا۔
+++++++++++++
خبرناموں کا انداز ہی بدل گیا تھا۔
کمرشلز بند، موسیقی بند، اور ہر نیوز اینکر کے چہرے پر ایک ہی تاثر—خوف زدہ حیرت۔
ہم آپ کو ایک غیر معمولی اور چونکا دینے والی خبر دے رہے ہیں… ریپر، جس کا چہرہ آج تک کسی نے نہیں دیکھا، آج رات خود منظرِ عام پر آ گیا۔
ایک چینل کا اینکر جھجھکتے ہوئے بولا
کیا یہ اعتراف تھا یا دھمکی؟ کیا واقعی نادیہ فیروز کو قتل کیا گیا؟ اور کیا امن اگلا نشانہ ہے؟
ٹکرز چیخ رہے تھے
AMAN IN DANGER
REAPER RETURNS
SILENT KILLER SPEAKS OUT
ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام—سب پر صرف ایک ہی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا:
#ReaperConfession
#JusticeForNadia
#SaveAman
وی لاگرز نے فوری رِیئیکشن ویڈیوز ڈال دیں۔
Guys, I just saw the Reaper clip. I’m literally shaking!
Bro, did Reaper just confess murder live on every screen?! That’s next level Dark Web stuff!
کچھ اسے ساویئر کہہ رہے تھے، کچھ سائیکو کریمنل۔
اور کچھ صرف خاموش تھے، اپنے فون کی اسکرین پر وہ آخری جملہ دہراتے ہوئے
امن اب اپنی اُلٹی گنتی گننا شروع کر دے
چائے کی دکانیں، جام ہوتے سگنلز، بسوں میں، کالجز کے کیفےٹیریاز میں—ہر جگہ صرف ریپر کی بات ہو رہی تھی۔
بھائی، یہ تو کوئی عام بندہ نہیں ہے، نظام کے اندر بیٹھا ہوا ہے۔
یار، مجھے تو لگتا ہے پولیس بھی ملی ہوئی اس کے ساتھ۔
امن کو فضول کا جیل میں ڈالا دیا۔
لوگ خوفزدہ تھے، اور سب سے زیادہ امن کے لیے فکر مند۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں ایمرجنسی اجلاس بلایا گیا۔
وزیروں کے چہرے فکرمند تھے۔
ایک سینیٹر نے ٹیبل پر ہاتھ مار کر کہا
یہ اگر کل تک گرفتار نہ ہوا، تو ہماری ساکھ خاک میں مل جائے گی!
کچھ نے اسے انارکی کہا، کچھ نے ڈرامہ، اور کچھ نے سرگوشی میں سچ مان لیا۔
اور جیل کی کوٹھری میں بیٹھے امن کے سامنے ایک چھوٹا سا، بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی چل رہا تھا۔
ریپر کی وہی آواز… وہی دھمکی۔
امن اب اپنی اُلٹی گنتی گننا شروع کر دے
امن نے ٹی وی بند نہیں کیا۔
اس نے خاموشی سے اسکرین کو گھورا، اندھیرے کی سیاہی میں چھپے اس ایک سائے کو دیکھنا چاہ
اور اس کی خاموش مسکراہٹ بتا رہی تھی
میں تیار ہوں۔
+++++++++++++
ظفر خاموشی سے اپنے فون پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔
ریپر کی وہ ویڈیو جیسے اس کے ذہن میں کیل کی طرح گڑ گئی ہو۔
آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں تھیں، لیکن لب—خاموش۔
بس ایک گھٹتا ہوا اشتعال، جو انگلیوں کی جنبش سے صاف ظاہر تھا۔
اس نے دانت پیسے، ہاتھ میں موبائل مضبوطی سے تھاما۔
شٹ…
(ایک دبی گالی)
اب سالے کو رہا کرنا پڑے گا…
دروازہ دبے پاؤں کھلا،
مایرا اندر آئی، سپاٹ چہرہ، مگر آنکھوں میں آگ۔
سر، یہی آپ اگر کسی مجرم کے لیے کہتے، تو شاید تھوڑا اچھا لگتا…
ظفر نے سر اٹھا کر مایرا کو دیکھا۔
کیا کام ہے؟
مایرا نے شانے اچکائے۔
کچھ نہیں، اب شاید اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ظفر کی آواز میں الجھن تھی
کس کی؟
مایرا آگے بڑھی، میز پر ایک فائل پٹخی—وہ فائل جس کی قیمت شاید امن کی زندگی تھی۔
جب آپ آرام سے اس کرسی پہ بیٹھے تھے، اور باقی آفیسرز بھی چائے کے کپ میں انصاف کو گھول رہے تھے، تب کوئی تفتیش نہیں کر رہا تھا۔ سب بس انتظار میں تھے… کہ کب امن کا کیریئر دفن ہو۔
ظفر خاموش رہا۔
مایرا نے بات جاری رکھی، اب کی بار لہجہ سرد تھا، شاید کچھ بے بسی بھی شامل تھی:
لیکن میں اِنصاف کے ساتھ آج بھی کھڑی ہوں، سر۔ میں نے وہ فائل نکلوائی۔ وہ فاروق، جو امن کی پارٹی کا بندہ ہے، وہ نادیہ کے ہسپتال گیا تھا… مگر نادیہ کو مارنے نہیں، اپنی نانی کو دیکھنے۔
وہ ظفر کی طرف جھکی، تصویریں دکھائیں جو کیمرے سے لی گئی تھیں—فاروق کے آنے اور جانے کی۔
ایک نرس نے بتایا—وہ مرد نادیہ کے قتل سے پہلے آیا، اور نادیہ کے قتل سے پہلے ہی نکل بھی گیا۔ نادیہ کے کمرے کا کیمرہ غائب تھا، باقی ساری جگہوں پر کیمرے تھے۔ اور پولیس؟ صرف انٹری کیمرہ دیکھ کے الزام لگا دیا۔
ظفر نے جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔
مایرا نے ایک لمحے کو اُسے دیکھا—وہی خاموشی، وہی بے حسی۔
اوہ… کون نرس تھی؟
ظفر نے آخرکار پوچھا،
مایرا نے اسے کچھ لمحوں تک ویسے ہی دیکھا جیسے کراچی خود اپنے محافظوں کو دیکھتا ہے۔
تبھی فون بجا۔ میز پر رکھی اسکرین چمکی۔
High Authority Call
ظفر نے کال اٹھائی، چند لمحے بات کی، اور کال بند کر کے میز پر فون پٹخ دیا۔
سالے کو رہا کرنا پڑے گا… اوپر سے الگ سے سیکیورٹی بھی دینی ہے! یہ ریپر منحوس نے سارا کام خراب کردیا ہے۔۔۔
مایرا کے اعصاب جیسے کھچ گئے۔
غصے کو حلق سے نیچے اتارا، لیکن لہجے کی تہذیب برقرار رکھی۔
آپ کے سالے نہیں لگتے، وہ۔
وہ آہستہ سے بولی، تمیز سے۔ مگر ہر لفظ نشتر تھا۔
ویسے سر، مبارک ہو آپ کو ایک بے گناہ کو پروٹیکٹ کرنے کا حکم مل گیا۔ پہلی دفعہ سسٹم نے کسی ٹھیک بندے کے لیے آرڈر دیا ہے۔
اب کی بار اُس کی آنکھوں میں چمک تھی۔
ظفر نے کچھ نہیں کہا۔ نہ برا منایا، نہ تسلیم کیا۔ اوپر سے آرڈر تھا، مانا تو پڑے گا۔
ظفر کا چہرہ سپاٹ تھا، آواز میں روایتی خشک پن
آفیسر سیلیکٹ کرو، جو امن کی سیکیورٹی میں جائے گا۔
سر… کیا میں بھی امن کی سیکیورٹی ٹیم میں شامل ہو سکتی ہوں؟
اب کی بار اُس کی آواز میں نرمی تھی—کام نکلوانا تھا نا۔
ظفر نے نظریں اٹھا کر مایرا کو دیکھا۔
ایک پل کے لیے اُس کے چہرے پر کچھ ہلا نہیں—نہ حیرت، نہ سوال، نہ امید۔
پھر وہ ویسے ہی سرد لہجے میں بولا
نہیں۔
مایرا کا سینہ جیسے کسی نے اندر سے دبا دیا ہو۔
لب بھینچے، سانس روکی… لیکن پھر بھی بولی
کیوں؟ میں وہی آفیسر ہوں جس نے سچ تلاش کیا۔ وہی، جس نے ثابت کیا کہ امن بے قصور ہے۔ اب جب وہ خطرے میں ہے، میں اس کے ساتھ ہونا چاہتی ہوں۔
ظفر نے کرسی سے ٹیک لگائی
کیونکہ تم جذباتی ہو۔ اور ریپر جذبات کو نہیں بخشتا۔
مایرا ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئی۔
وہ لمحے بھر کو کچھ نہ بول سکی۔
ظفر نے کاغذات اٹھا لیے، جیسے اس مکالمے کا اختتام بس اس کے ایک جملے سے ہو چکا ہو۔
لیکن مایرا ابھی مکمل چُپ نہ ہوئی تھی۔
اس کے اندر ایک طوفان تھا، جو نہ چیختا تھا، نہ گرجتا، بس خود کو اندر ہی اندر تباہ کرتا تھا۔
اگر جذباتی ہونا جرم ہے، تو شاید مجھ جیسی عورتوں کو یہ وردی پہننے کا حق ہی نہیں۔ لیکن سر، جذبات ہی وہ چیز ہیں جو ہمیں ‘فائل’ اور ‘انسان’ کے بیچ کا فرق سکھاتے ہیں۔
آفیسر، مجھ سے بحث نہ کرے۔ میں نے کہہ دیا ہے، اب نہیں جا سکتی تو نہیں جا سکتی۔
ظفر نے سرد لہجے میں کہا۔
ظفر نے ایک سرد سانس لی۔
مایرا کے الفاظ…
فائل اور انسان کے بیچ کا فرق
جیسے کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آئے۔
لیکن اس کے چہرے پر اب بھی وہی بے تاثر لکیر کھنچی تھی—
جیسے جذبات کسی اور درجے کا جرم ہوں۔
مایرا نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں۔
اس کی پلکوں کے نیچے ایک لرزتا ہوا عکس تھا—
نہ آنسو، نہ کمزوری،
بس وہ لمحہ، جب سچ کی آواز ‘نہ’ کے سامنے بے بس ہو جائے۔
وہ خاموشی سے پلٹی۔
چند قدم چل کر دروازے تک پہنچی،
پھر رکی۔
اس کی پشت ظفر کی طرف تھی، آواز مضبوط مگر دبی دبی
سر، آپ مجھے سیکیورٹی ٹیم میں نہیں جانے دے رہے ، یہ آپ کا اختیار ہے۔ مگر سچ کے ساتھ کھڑے رہنا، میرا فرض ہے۔ اور یہ فرض میں آپ کی اجازت کے بغیر بھی نبھا سکتی ہوں۔
دروازہ کھلا۔
ایک ہلکی سی ہوا اندر آئی،
شاید ایک نئی سحر کی نوید لیے۔
مایرا دروازے سے نکل گئی۔
اس کی پشت پر چلتی ہوا، اور اس کے دل میں جلتا ارادہ—
امن کو بچانا تھا، چاہے وردی ساتھ ہو یا نہ ہو۔
ظفر خاموش بیٹھا رہا۔
+++++++++++++++
ٹی وی بند ہوا تو کمرے میں ایک گہرا سناٹا اُتر آیا۔
ایسا سناٹا جو صرف خبروں کے شور کے بعد آتا ہے،
جب حقیقت اور خوف آپس میں گھلنے لگیں۔
دادو نے گردن موڑی،
يسریٰ کی طرف دیکھا اور ہولے سے مسکرا کر بولیں
چلو، اب خوش ہو جاؤ… وہ اب جیل سے باہر آ جائے گا۔
اور جیسے ہی یہ جملہ ادا ہوا،
وہ اپنی سفید چادر کو کندھوں پر درست کرتی،
اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں،
یوں جیسے دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہو گیا ہو۔
اور یسریٰ؟
وہ صوفے پر بیٹھی، ٹی وی کی کالی اسکرین کو گھورتی رہی،
جیسے کالی اسکرین سے کوئی سچ نکل آئے گا،
کوئی حل، کوئی اطمینان۔
لیکن وہاں کچھ نہیں تھا—
نہ روشنی، نہ یقین… بس ایک خاموش سیاہی۔
دل میں ایک عجیب سا کھچاؤ تھا۔
کیا دادی نے سنا نہیں؟
یا سنا، اور پھر بھی نظر انداز کر دیا؟
کیا ان کے لیے ریپر کی دھمکی بس ایک سیاسی ڈائیلاگ تھا؟
یا پھر اُن کی عمر نے اُن سے خوف چھین لیا تھا؟
یسریٰ نے آہستہ سے پلکیں جھپکیں۔
ایک آنسو نکلا،
جیسے دل کے اندر بھرا پانی لبوں تک آنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔
یا اللہ… کیا کروں؟
میں کچھ نہیں کر سکتی،
کچھ بھی نہیں۔
اس نے سر ہاتھوں میں رکھ لیا۔
پاؤں خود بخود فرش پر رگڑنے لگے، جیسے زمین سے کوئی سہارا تلاش کر رہی ہو۔
ایک پل کو، دل چاہا کہ چیخ پڑے۔
اپنی بے بسی، اپنا ڈر— سب دنیا کو بتا دے۔
جب تک ریپر زندہ ہے، کوئی سیاستدان زندہ نہیں رہ سکتا…
اور اب امن کی باری ہے۔
امن اب اپنی اُلٹی گنتی گننا شروع کر دے۔
یسریٰ کے کانوں میں ریپر کی وہی دھمکی،
وہی آواز گونج رہی تھی۔۔۔
+++++++++++++
وہ جیل سے باہر نکلا تو سامنے آفیسر ظفر اپنی کُرسی پر بیٹھا تھا، کندھے پر رینک کی چمک اور چہرہ سپاٹ۔
اس کے سامنے کُرسی پر افتخار صاحب بیٹھے تھے—سفید بالوں میں وقت کی تہذیب اور آنکھوں میں انتظار کی نمی۔
امن کو آتا دیکھ کر افتخار صاحب فوراً کھڑے ہوئے،
بنا کچھ کہے، اُسے گلے لگا لیا۔
کیسے ہو، بیٹا؟
افتخار صاحب نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے آہستہ سے پوچھا۔
امن نے صرف ہلکے سے سر ہلایا۔
ظفر جاوید آگے بڑھا،
اُس کے لہجے میں غیر معمولی نرمی تھی
ہم معذرت خواہ ہیں… اُس اذیت کے لیے جو آپ کو ہماری وجہ سے جھیلنی پڑی۔
لیکن آج سے آپ کی مکمل سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے۔
الیکشن تک…
ریپر آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔
امن خاموش رہا۔
وہ وہی شخص تھا جس پر کچھ دن پہلے یہی سسٹم شک کر رہا تھا…
اور آج وہی سسٹم اُسے تحفظ دینے کا وعدہ کر رہا تھا۔
باہر پولیس کی چند گاڑیاں کھڑی ہیں،
جن میں افسران اور محافظ موجود ہیں۔
یہ سیکیورٹی اعلیٰ حُکام کے حکم پر خاص طور پر آپ کے لیے ہے… ظفر نے کہا۔
امن نے دھیرے سے سر جھکایا۔
شکریہ۔ کہہ کر اُس نے سر کو خم کیا۔
افتخار صاحب نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ساتھ چل دیے۔
تبھی اچانک، کسی نرم قدموں کی چاپ سنائی دی۔
مایرا سرمد، برق رفتاری سے اُن کے پیچھے لپکی۔
چہرے پر سنجیدگی، سانس میں تیزی، اور دل میں وہی اضطراب جو کسی ایسے شخص کے لیے ہوتا ہے جس پر تم اعتبار تو کرتے ہو… مگر دنیا نہیں کرتی۔
سر… آپ اپنے لیے الگ سے اچھی سیکیورٹی کا بندوبست کیجیے گا۔
مجھے ان پولیس والوں پر بالکل بھروسا نہیں۔
وہ اُس کے ساتھ چلتے ہوئے گہری سانس لے کر بولی،
امن نے ایک پل کو قدم روکے۔
پھر اُس کی طرف مڑا،
آپ کی تعریف؟
مایرا نے ذرا سنبھل کر، رسمی انداز میں کہا:
میں آفیسر مایرا سرمد۔
امن کی آنکھیں لمحہ بھر کے لیے نرم ہو گئیں۔
آپ وہی آفیسر ہیں، جو میرے گھر آئی تھیں؟
جی، سر۔۔
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی،
اچھی پولیس آفیسر ہیں آپ۔
بس اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔
اور مایرا کا دن بنا گیا۔
++++++++++++
کتنی بدتمیزی سے میرے بھائی کو دھمکا رہا ہے۔۔۔
سالہ خود کیوں نہیں مر جاتا؟ جاہل کہیں کا۔۔۔
اس کے لہجے میں بہن ہونے کا غصہ تھا…
اگر اس نے واقعی بھائی کو کچھ کر دیا تو؟
دادی، میں کیا کروں گی؟
اس کے لب لرزے… آواز ٹوٹ کر گری۔
انیسہ بیگم نے موبائل کی طرف دیکھا،
ریپر کی آواز گونج رہی تھی
امن اب اپنی اُلٹی گنتی گننا شروع کر دے۔۔
اور پھر ایک سرد سانس لی۔
ان کا دل تو ویسے ہی کئی دنوں سے ڈولتا آ رہا تھا۔
اب جیسے وہ اندر ہی اندر بیٹھ گیا ہو۔
یہ ہے ہی منحوس مارا۔ کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہمارے امن کا۔
تُو ٹینشن نہ لے، ہم اس کے دادا کو بولیں گے…
سیکیورٹی دیں گے، سب کریں گے۔۔۔۔
لیکن اُن کا لہجہ بھی اب پہلے جیسا پُراعتماد نہ تھا۔
ماؤں کے دل لفظوں سے زیادہ دھڑکنوں سے بولتے ہیں…
اور آج اُن کی دھڑکن میں وسوسے کی لرزش تھی۔
بھائی گھر آنے والے ہیں نا؟
امل کی آواز اس بار زیادہ کمزور تھی۔
ہاں…
انیسہ بیگم نے کہا تو تھا،
لیکن اس “ہاں” کے پیچھے چھپی گھبراہٹ اُن کی پلکوں کے کنارے سے صاف دکھائی دے رہی تھی۔
دادی…
یہ سب کر کے اسے کیا ملتا ہے؟
سوال سادہ تھا، جواب… نہیں تھا۔
انیسہ بیگم نے گہری سانس لی۔
چہرے پر ہلکی سی حیرت،اور آنکھوں میں تھکن۔
اللہ جانے… نہ جانے اس کے ماں باپ کہاں ہیں۔
نہ جانے کیسی تربیت پائی ہے اس نے…
وہ بولیں،
مگر ان کے الفاظ میں اب سوال زیادہ تھے، جواب کم۔
امل نے نظریں نیچی کیں،
ہونٹوں پر ایک ٹوٹی ہوئی مسکراہٹ اُتری۔
کیا پتہ دادی…
میری طرح اس کے بھی ماں باپ نہ ہوں؟
انیسہ بیگم کا ہاتھ رُک گیا۔
چہرہ دھندلا سا لگا۔
ایک ماں کے دل کو جیسے یہ جملہ بہت گہرا لگا تھا۔
اے… کوئی تو ہو گا نا…
اس کے خاندان میں…
پتہ نہیں…
لیکن دادی، وہ بہت منحوس انسان ہے…
امل نے آہستہ سے کہا۔
انیسہ بیگم نے دانت بھینچے،
چہرہ سخت ہوا… اور آواز میں وہی خاندانی غصہ لوٹا جس نے اُن کے بچوں کو بچپن سے غیرت سکھائی تھی۔
ہاں، وہ تو ہے۔ سالہ کتے کی موت مرے گا۔۔۔
+++++++++
ارباز جب کمرے میں داخل ہوا، تو ہنزہ بیڈ پر بیٹھی، ایک سائڈ پر سمٹی ہوئی، موبائل پر کوئی ہلکی پھلکی رومانوی فلم دیکھ رہی تھی۔
گڑیا…
ارباز اُس کے پاس آکر بیٹھ گیا، آواز میں نرمی اور لہجے میں تھوڑا سا وہ پیار جسے کبھی بھی مکمل الفاظ نہیں ملے تھے۔
میڈیسن کا وقت ہو گیا ہے…
تم وقت پر دوا کیوں نہیں لیتی؟
ہنزہ نے موبائل کا والیم کم کیا۔ پلکیں گرا کر آہستہ سے کہا
میں دوا کھا کھا کر تھک گئی ہوں، بھائی۔۔۔۔
یہ جملہ…
وہی جملہ تھا، جو ہر روز، ہر دوا پر، ہر سیرپ کے بعد، وہ سنے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔
اور ہر بار یہ جملہ سن کر، وہ مسکرا تو دیتا…
لیکن دل سے کچھ اور ہی ٹوٹتا تھا۔
جلدی ٹھیک ہونا ہے تو دوا تو کھانی پڑے گی نا…
وہ دھیرے سے بولا، جیسے ایک بچی کو منایا جا رہا ہو۔
اُسی لمحے، ہنزہ کے فون کی اسکرین جگمگائی۔
“Emuu Calling”
اسکرین پر لکھا نام ارباز نے دیکھا، بھنویں اُچکیں۔
یہ ایمو کون ہے؟
آواز میں ہلکا سا تجسس تھا
دوست ہے میری، بھائی۔۔۔۔
ہنزہ نے لاپروائی سے کہتے ہوئے کال اٹھا لی۔
ہاں بولو، اِملی۔۔۔
ارباز کے لبوں پر ایک چھوٹی سی مسکراہٹ آگئی۔
ایک دوست کے کتنے نام ۔۔۔
وہ خاموشی سے دوا نکالنے لگا،
اور اُدھر کال پر حال احوال کے بعد وہی موضوع چِھڑ گیا…
جس سے پورا ملک زخم کھا رہا تھا—ریپر۔۔۔
ہاں، صحیح کہہ رہی تُو…
قبر میں کیڑے پڑیں گے اُس ریپر کو۔
ہنزہ نے دانت پیس کر کہا۔
ارباز نے دوا اُس کے ہاتھ پر رکھی۔۔۔
ہنزہ نے اُسے گھور کر دیکھا،
پھر دانت بھینچ کر دوا نگل گئی۔
ارباز نے فوراً اُس کی طرف پانی بڑھایا،
ہنزہ نے پانی پی کر گہری سانس لی،
پھر دوبارہ موبائل کان سے لگایا
ہاں، منحوس ہے ریپر…
پھر ارباز اٹھا اور خاموشی سے روم سے نکل گیا اور ہنزہ کال پر مصروف رہی۔۔۔
++++++++++++++
مایرا وہیں کھڑی رہی۔
امن تو آگے بڑھ چکا تھا، لیکن اس کے ایک جملے نے جیسے مایرا کے اندر بہت کچھ بدل دیا تھا۔
اچھی پولیس آفیسر ہیں آپ۔۔۔۔
کچھ الفاظ بڑے عام ہوتے ہیں، مگر جب صحیح وقت پر صحیح انسان سے نکلیں—تو روح پر مہریں لگا دیتے ہیں۔
مایرا نے پلکیں جھپکیں، ایک چھوٹا سا مسکراہٹ بھرا سانس اندر کھینچا، جیسے کسی نے آسمان سے دل پر توفیق کا ہاتھ رکھ دیا ہو۔
وہ پل مختصر تھا، مگر گہرا۔
ایک لمحے میں مایرا نے فیصلہ کر لیا تھا — وہ اس مشن کا حصہ بنے گی، چاہے وردی پہنے یا بغیر وردی۔
وہ اُس انسان کو محفوظ رکھے گی، جو سچائی کے لیے کھڑا ہوا تھا۔
+++++++++++
امن گاڑی میں بیٹھا، تو سب سے پہلا چہرہ جو اسے اندر ملا، وہ تھا راشد صاحب کا۔
اسلام علیکم امن صاحب، وہ بولے،
آپ فکر نہ کریں، اب ہم ہیں آپ کے ساتھ۔۔۔
امن نے نظریں اٹھا کر ان کا چہرہ دیکھا۔
بوڑھی آنکھوں میں خلوص تھا، وردی کے اندر سے ضمیر کی آواز بول رہی تھی۔
وعلیکم سلام۔ شکر ہے کوئی تو ہے جو دل سے ڈیوٹی دے رہا ہے۔
راشد صاحب نے ہلکی مسکراہٹ دی،
ہمارے پاس ایمان کم ہو سکتا ہے، بیٹا، مگر ریپر جیسے لوگ ہمیں بزدل نہیں بنا سکتے۔۔۔۔
گاڑی آہستہ آہستہ تھانے کے گیٹ سے نکل گئی،
+++++++++++
اسی وقت کہیں اور، ایک پرانی سی عمارت کے بیسمنٹ میں، ایک شخص اندھیرے میں بیٹھا تھا۔
دیوار پر لٹکی ایک اسکرین پر امن کی رہائی کی ویڈیو چل رہی تھی۔
ریپر کرسی پر بیٹھا، انگلی سے اسکرین پر آہستہ آہستہ چہرہ رگڑ رہا تھا۔
ایک سرد، بے رنگ ہنسی اس کے ہونٹوں پر ابھری۔
تم آزاد ہو گئے؟ اب کھیل مزید دلچسپ ہوگا۔۔۔
پھر اُس نے میز پر رکھا ریوالور آہستہ سے گھمایا۔
امن، نہ میں تمہیں چین سے جینے دوں گا، نہ آسان موت دوں گا
+++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
