ٹھہراؤ قسط نمبر ؛١
ازقلم حمنہ خان
موسم بھی بدلتے وقت رنگ بدلتا ہے۔
شاید تُو بدلا نہیں تھا، یہ شک چھوڑ کر تُو آخر میں گیا ہے۔
یہ دنیا ہے، یہ ایسی ہی ہے، یہ سمجھتے ہیں ہم،
تجھے بھی دنیا ہی سمجھا ہوتا، پھر کیا ہی سمجھ میں آتا ہمیں۔
تجھ سے مل کر تو حقیقت سے مختلف لگا تھا ہم
“انتساب”
یہ کہانی ہر اُس دل کی ہے
جو انتظار میں بھی محبت کرتا رہا،
اور جدائی میں بھی وفا نبھاتا رہا۔
کچھ لوگ زندگی میں آ کر
ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتے ہیں…
چاہے وہ ہمارے ساتھ نہ ہوں۔
محبت میں ملنا ضروری نہیں ہوتا
جب تک انسان کو یہ سمجھ نہ آئے
وہ محبت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اسلام علیکم
پیش لفظ
رنج کی شدت میں بھی ایک خاموش حسن چھپا ہوتا ہے۔
یہی دکھ ہمیں اپنے آپ سے ملاتے ہے،،
غم کے بوجھ کو سہنا بھی ایک فن ہی تو ہے۔
دل کے زخم لفظوں میں نہیں آتے، مگر آنکھیں سب بتا دیتی ہیں۔
ہر مصیبت کے بعد دل کے دریچے تھوڑے وسیع ہوتے ہیں۔
مصیبتیں ہمیں توڑ نہیں سکتیں، بس ہمیں نیا دیکھنے کا زاویہ دیتی ہیں۔
طوفان جتنا شدید ہو، انسان اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے۔ کھبی کھبی ہمیں مصیبت جھیلتے جھیلتے ایسی باتیں عجیب لگتی ہیں مگر ایسی باتیں سمجھ بھی تو مصیبت میں ہی آتی ہے۔ عام سے بندھے کو ایسی باتیں سمجھ تھوڑی آنی ہیں۔
اور ایک بات تو ہے جو دکھ سہہ جاتا ہے، وہ سکون کو بہتر سمجھتا ہے۔ سکون کے سکون سے ہر کوئی واقف نہیں ہوتا۔
مشکلات انسان کو اپنا آئینہ دکھاتی ہیں۔
درد کے بغیر انسان کی حقیقت کبھی نہیں کھلتی۔
ہر شکست ایک سبق ہے، ہر غم ایک استاد۔
تنہائی کبھی سزائے دل نہیں ہوتی، بلکہ سکون کی پہلی سیڑھی ہے۔
خاموشی اکثر سب سے بڑی زبان ہوتی ہے۔
انسان اپنے اندر کے طوفان کو پہچان کر ہی بڑا ہوتا ہے، اور وہ توفان خاموشی ہی تو سناتی ہے۔
یاد اور انتظار مصیبت کی ایک پہچان ہے،
میرے خیال سے ہر یاد میں درد نہیں ہوتا، بعض یادیں سکون دیتی ہیں۔
اور انتظار مشکل ہوتا ہے مگر دل کو مضبوط بنا دیتا ہے۔
رنج میں اکثر امید کے بیج چھپے ہوتے ہیں۔
ہر بوجھ اٹھانا انسان کو نیا رنگ دیتا ہے۔
مشکلات کے بیچ زندگی کی خوشبو چھپی ہوتی ہے۔
اندھیروں میں چلنے والے ہمیشہ روشنی کے قابل ہوتے ہیں۔
درد ہمیں توڑ نہیں سکتا، بس نیا راستہ دکھاتا ہے۔
ہر غم انسان کو اپنے اصل میں واپس لے آتا ہے۔
میں نے بڑی قریب سے دیکھا ہے یہ جو سکون ہے نا، وہ لمحہ ہے جو دکھ کے بعد آتا ہے۔
طوفان کے بعد زمین کی خوشبو ہمیشہ تازہ لگتی ہے۔
رنج کی گہرائی میں چھپا سبق، زندگی کا سب سے بڑا تحفہ ہوتا ہے۔
“ہمنہ خان”
“مجھے جاننے والے چلتے ہیں، احتیاط سے میرے حالات دیکھنے کے بعد”۔
باب اول
تو نہ ملا تو کیا؟ اب کوئی شکایت نہیں رہی
تو نے جو فنا کیا، وہی تو ہم پہ عنایت رہی
کافی ہے اب یہ اذیتِ نسبت تیری مجھے
روحِ وفا بھی اب سلامت نہیں رہی
یہ دنیا بھی میری قسمت میں لکھی نہ جا سکی
ستم یہ ہے آخرت بھی امانت نہیں رہی
ہم وہ غزل ہیں اپنی ہی کتابِ دل میں کہیں
جو ہر کسی کی سادہ حکایت نہیں رہی
ہم وہ محرومِ زیست کہ جیتے تو عمر بھر
پر زندگی کبھی بھی موافقت نہیں رہی
سب کچھ سنا بھی دیتے مگر کیا کریں کہ اب
وہ درد دل کی قابلِ روایت نہیں رہی
چلو اگر یہ حقیقت نہیں تو قصہ سہی
یہ بھی اگر نہ ہو تو شکایت نہیں رہی
تیری محبتوں کے فسوں میں الجھ گئے
تو کر نہ سکا وفا، وہ دیانت نہیں رہی
یہ صرف تو نہیں، یہی دستورِ دہر ہے
افسوس ہم میں بھی وہ صداقت نہیں رہی
غم نہ ہوتے تو زندگی ایسی نہ ہوتی
زندگی ایسی نہ ہوتی تو وہ زندگی کیسی ہوتی؟
ہم اپنے شہر کی ویرانیوں میں آباد رہے
یہ ویرانیاں نہ ہوتیں تو ہم آباد کیسے ہوتے؟
گھر کی دیواروں کو ہم نے تنہائی جانا
ورنہ محفل میں بھی دل اکثر تنہا ہوتے
آزمائش کے لیے ہم بڑی محفل میں آئے تھے
کوئی پوچھے تو سہی، محفل کی تنہائی کیسی ہوتی؟
ہنس کر اتنا ہی کہیں گے اہلِ دنیا سے
یہ تنہائی نہ ہوتی تو ہم، ہم نہ ہوتے۔۔
صحن میں شور اٹھا تھا—کیسے نہ اٹھتا؟ حالات واقعی نازک تھے۔
وہ اپنے کمرے میں کپڑے تہہ کر رہی تھی، اور شور سن کر فوراً کھڑکی کی طرف دوڑی۔ جیسے ہی اس نے منظر دیکھا، وہ چونک گئی تھی۔ حلق سے کوئی آواز نہ نکل سکی تھی۔ سب کچھ سہمے ہوئے مناظر اور افسوس بھری نظروں کے درمیان کھڑے تھے۔
فبیحہ شیرازی حیران رہ گئی تھی۔ آج ابوذر کی خیر بالکل نہ تھی۔ فبیحہ کو اس منظر کو سمجھنے میں دس منٹ تو لگے ہی تھے، اور پھر وہ صحن میں آئی تھی۔
اس کے قدموں کی چھاپ سے پہلے ہی ابا نے ابوذر کی خوب لگائی تھی۔
وہ صحن میں آتے ہی ایسے کھڑی ہوئی جیسے ان کے سامنے قیامت آ کھڑی ہوئی ہو۔ پھر اس نے کہا تھا:
“تمہاری وجہ سے مجھے بہت بڑا غم ملا۔ اب چلے گئے تمہارے لفنگے دوست، اتنا بڑا کارنامہ کر کے، میں نے چار سال بعد تمہاری وجہ سے سب کچھ کھو دیا!”
وہ یہ سب الفاظ مسلسل دہرا رہی تھی، اور ہر لفظ میں درد اور مایوسی جھلک رہی تھی۔
ابو زر نے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی تھی:
“یہ تو اچھی بات ہے… بہنہ… آپ نے تو پرندوں کو بند رکھا تھا!”
فبیحہ کے غصے اور دکھ نے، ہر دلیل کو بے اثر کر دیا تھا۔ صحن میں ایک خاموشی چھا گئی تھی، جس میں صرف احساس اور بے بسی کی گونج سنائی دے رہی تھی۔
ہاں نہ پھر پیرزو یہاں اکیلی کیوں ہے؟ اسے بھی بھگا دو اس نے دوسری تنہا چڑیا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ ہم نے کچھ نہیں کیا وہ خود بھاگ گئی،، ابوذر نے مشکل سے بولا تھا۔۔
بابا وہ کہاں گئی ہوگی؟ اسے اپنا کھانا ڈھونڈنا آئے گا کیا؟ وہ سردی میں کہاں رہے گی؟ ابا میں اسے جب بھی چھوڑتی تھی وہ تھوڑا اڑ کر واپس آ جاتی تھی اس کے لفنگے دوستوں نے ایک تو صحن میں اسے چھوڑ دیا اور پھر اس کو ڈرا کر اس کے پیچھے بھاگے وہ ڈر کے باگ گئی۔
فبیحہ آج پھر روئی تھی،،
میری جان اللہ تعالیٰ نے سب کے رہنے اور کھانے کا اہتمام پہلے ہی کیا ہے آپ کو لگتا ہے اللہ آپ کی اینی کو کھانا دینا بھول جائے گا؟ ابا نے اسے شانت کرانے کی کوشش کی تھی۔۔
پیرزو پنجرے میں اکیلی اینی کو ڈھونڈ رہی تھی وہ شور کر رہی تھی۔ اس کی اینی کھو گئی تھی ۔اس نے اینی کو کھویا تھا اور فبیحہ نے ان دونوں کو کھو دیا تھا۔۔
فبیحہ پیرزو کو چھت پہ لے آئی تھی اس نے پیرزو کو اپنے ہاتھوں سے چھوڑ دیا تھا پیرزو کو اس کی آنکھوں سے کچھ منٹ لگے تھے غائب ہونے میں
“She lost her partner and we lost both”
ابو زر نے اس کے پیچھے آتے ہی کہا تھا۔
فبیحہ رو رہی تھی اور ابو زر نے اسے گلے لگایا تھا۔
بہت کچھ کی طرح ہم نے پھر سے بہت کچھ کھو دیا۔ یہ تو ہمارے ساتھ چار سالوں کی یادوں کی طرح تھی، اور یہ وہ واحد یادیں نہیں تھیں جو ہم نے کھوئیں ہو۔
اس نے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا،
“یہ واقعی ابو زر کے دوستوں کی وجہ سے ہوا تھا، مگر برا بہت برا تو اسے بھی لگا تھا۔”
اب صرف ایک دعا ہے— وہ دونوں ایک دوسرے سے مل جائیں۔ ہم تو شاید روز محشر میں بھی ان سے نہ مل سکیں۔
رہا یہ خالی پنجرہ —
یہ ہے حادم شیرازی کا چھوٹا سا گھر۔ یہاں ان کی چھوٹی سی دنیا رہتی تھی، جس میں یادیں، درد اور محبت سب ایک ساتھ جڑی ہوئی تھیں۔
باب دوم
حادم شیرازی کی بیگم بہت پہلے ہی انتقال کر گئی تھیں۔ اب یہاں وہ، ان کی بیٹی، فبیحہ شیرازی، اور بیٹا، ابو زر شیرازی، رہتے تھے۔
فبیحہ نے جب اپنی ماں کو کھویا تھا، تب وہ بہت چھوٹی تھی۔ اسی چھوٹی عمر میں اسے گھر سنبھالنا پڑا تھا، ابو زر کا خیال رکھنا پڑا تھا اور اس نے اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی تھی۔
چھوٹی عمر میں ماں کا کھو جانا زندگی کو بدل دیتا ہے— فبیحہ اور ابو زر کی زندگی واقعی بہت مختلف ہو گئی تھی۔
اس وقت فبیحہ کی عمر چودہ سال تھی، اور ابو زر کی عمر آٹھ سال۔ اس نے نہ صرف بھائی کو ماں کی طرح سنبھالا تھا بلکہ گھر کی ذمہ داریوں اور اپنی تعلیم کو بھی پوری لگن کے ساتھ نبھایا تھا۔
باب سوم
سلام، سلام! قیامت خاص کیسی ہے آپ؟”
مہران نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
“شکر ہے، “فصادِ خاص”، ٹھیک ہوں۔”
ابوزر کہاں ہیں؟ ہم نے پڑھنے کا ارادہ کیا تھا، مہران کریم نے کہا تھا۔
“پھر تو کافی برا ارادہ ہے!” فبیحہ نے مزاقی انداز میں جواباً کہا تھا۔
مہران اندر جاتے ہوئے دروازے پر رکا تھا،
“قیامت خاص میں کوئی بڑی دعوت نہیں، بس اچھی سی چائے پیوں گا۔ دودھ زیادہ، شکر کم—یہ بہتر ہے۔”
اندر جاتے ہوئے مہران نے کہا تھا،
“ہاں ناں،، دودھ تو آپ کے خوفناک بائی ہر گھر میں صبح بھجواتے ہیں۔”
وہ خود سے کہہ رہی تھی، مہران کریم خان سننے کے لیے تھوڑی رکا تھا۔
خان صاحب، گاؤں کے میں کسی کا انتقال ہو گیا ہے۔ آپ کہیں تو راستے میں ہی ان کا گھر آتا ہے، وہاں جائیں؟
“کس لیے؟” خان صاحب نے پوچھا۔
“ان کی بیوی کو تھوڑا دلاسا مل جائے گا۔”
اس نے گہرائی سے کہا تھا،
“تمہیں لگتا ہے کسی کو کسی کی وجہ سے دلاسا مل سکتا ہے؟ ہر کسی کو دلاسا یا تو خود مل جاتا ہے، یا نہیں ملتا۔ اگر کسی کو ٹھیک ہونا ہو تو کچھ بھی ہو چاہے، لوگ کچھ بھی کہیں، وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اور اگر کسی کو ٹھیک نہیں ہونا ہو، تو کوئی اسے سمجھانے کی کوشش کرے، وہ نہیں ٹھیک ہو سکتا ہے۔
اور ہاں، مجھے یہ موت والے گھروں سے خوف آتا ہے۔ رونا دھونا، شور شرابہ… یہ سب مجھے اچھا نہیں لگتا۔ تم میری طرف سے کسی کو بھیج دو۔
مجھے آج بھی یاد ہے وہ دن جب میرے باپ کو مارا گیا تھا۔ اُس وقت کوئی قریب نہیں آیا تھا۔ جب ماں بھی مر گئی، تب بھی کوئی ساتھ نہیں تھا۔ میں چاہتا تھا کہ کوئی ہوتا، لیکن اگر سب اپنی مرضی سے مل جائے تو پھر ہمیں سمجھ کیا آتی؟
جبران کریم خان اس گاؤں سے، بلکہ دنیا سے ہی بیزار تھا۔ یہ گاؤں اُس کے اشارے سے تو چلتا تھا، مگر دنیا کبھی کسی کے اشاروں سے چلتی ہے کیا؟۔
ان کا گھر گاؤں کے ہر گھر سے الگ، منفرد اور بڑا تھا۔ یہ ایک شاندار حویلی تھی، جو ہر زاویے سے اپنی کہانی سناتی تھی۔
“مہران کہاں ہے؟”
اس نے آتے ہی پوچھا تھا۔
خان صاحب وہ حویلی میں نہیں ہے۔
ایک تو یہ لڑکا مسافروں کی طرح گھر گھر گھومتا ہے۔ یہ کب خود کی عزت کرنا سیکھے گا؟”
وہ خود سے بڑبڑا رہا تھا،
وہ حادم شیرازی کے گھر گیا ہے، ملازم نے کہا تھا۔
کتنی دفعہ کہا ہے میں نے اس لڑکے سے…
جبران کریم کے لہجے میں غصہ اور مایوسی جھلک رہی تھی، وہ اس کی حد سے زیادہ بے پروائی پر ہمیشہ حیران ہوتا تھا۔
فبیحہ نے اس خالی پنجرے کو چھت پر کھلا رکھا تھا۔ اس میں کچھ دانے اور پانی رکھے تھے—اسی ان کے واپس آنے کی امید تھی۔
انسان کے لیے چار سال بہت لمبا وقت ہوتا ہیں۔ چار سالوں کو ایک پل میں بھولنا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ یادیں ہوتی ہیں، اور کچھ عادت۔
باب چہارم
وہ آج دو ہفتے بعد کالج آئی تھی۔ ان دنوں کالج میں امتحان کی چھٹی تھی۔
وہ ادفر کے ساتھ آئی تھی، یہ دونوں کالج ادفر کی گاڑی میں ہی آتی تھی، اس بار اس نے فبیحہ کو گھر سے ہی پک اپ کیا تھا۔
صبح صبح کچھ سوال اور تھوڑا سا بوال ہونے والا تھا، ان کی گاڑی کے سامنے اچانک ایک دوسری گاڑی آ گئی تھی۔ جب گاڑی کے سامنے کوئی آ جاتا ہے یا تو ٹکر ہو جاتی ہے، یا کوئی حادثہ۔ خوش قسمتی سے، اس بار ٹکر ہونے سے بچی۔
یہ سب تو بس بریک مارنے والے پر ہی منحصر تھا، اور وہ بھی بروقت ردعمل دینے والے تھے۔
ادفر آج کسی پہ باری پڑنے والی تھی، اور بےچاری فبیحہ، وہ اسے کھبی روک سکی تھی، جو آج روک پاتی۔
وہ بجلی کی طرح جلدی میں گاڑی سے باہر نکلی تھی۔ دوسری گاڑی سے چار ہینڈسم نوجوان باہر آیے تھے۔
ادفر، جو اکثر ہینڈسم لڑکوں سے متاثر ہوتی تھی، اس نے نقصان سے زیادہ ان پہ غصہ کیا تھا۔
اس نے فوراً کہا تھا،
“جب گاڑی چلانی نہیں آتی، تو پھر یوں سڑک پر گاڑی لے کر کیوں نکل جاتے ہو؟ کمرے میں بیٹھ کر ریموٹ کنٹرول کار ہی کیوں نہ چلاؤ!”
ہمیں تو وہ بھی چلانی نہیں آتی۔
ویسے اگر آسمان میں کوئی جہاز چلا رہا ہو اور کوئی لڑکی نیچے گاڑی چلا رہی ہو، اور جہاز کو دیکھ کر لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے، تو لڑکی پائلٹ پر کیس تو نہیں کرے گی؟
اب فبیحہ کو سب مناسب نہیں لگ رہا تھا، وہ گاڑی سے باہر آئے تھی۔ نظریں نیچی کیے ہوئے، وہ ان کے پاس گئی تھی۔
فبیحہ نے ان لڑکوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ادفر سے کہا تھا:
“چلو، اب دیکھو شکر ہے سب ٹھیک ہے۔”
عدفر نے جواباً کہا تھا،
“تم تو کچھ ہونے کے بعد بھی کسی سے کچھ نہیں کہوگی۔”
“ویسے، ان کے ساتھ رہ کر آپ تمیز نہیں سیکھتی؟”
“اگر تمیز سیکھنی ہے تو سیکھ لو، ویسے اس کے پاس کافی وقت ہے۔” ادفر نے مسکرا کر غصے سے کہا تھا۔
نمونہ خورافات، زرا جبران کا پتا بتا دو
اس گاؤں میں سب اسے جانتے ہیں۔
یہاں تو کوئی جبران نہیں رہتا۔”ادفر نے بڑی سختی سے کہا تھا،
فبیحہ نے ان چار لڑکوں کی طرف ایک ہی نظر ڈالی تھی۔ وہ اپنے بال بار بار پیچھے کر رہی تھی۔
وہ سب سے دور کھڑا، اسے گھور رہا تھا، لیکن اس کے چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں تھی۔
“یہاں جبران کریم خان کے لوگ آئے تھے۔
آپ خان صاحب کے مہمان ہیں نا؟ انہوں نے آپ کو حویلی لانے کا کہا ہے۔”
“آپ جبران کریم خان کی بات کر رہے ؟
ویسے کوئی ازرائیل، موت وغیرہ جیسے نام استعمال کرتے تو سمجھ آتا، اتنے پیار سے کہا ہوا جبران کا نام ان کے لیے فٹ نہیں بیٹھتا۔” ادفر نے جاتے ہوئے کہا تھا۔
دور کھڑا وہ شخص ابھی بھی فبیحہ کو ہی دیکھ رہا تھا، فبیحہ کی نظر اس پر نہیں تھی۔
جاری ہے
