PATHARJHAR BY ALAM EPISODE 2

پت جھڑ قسط نمبر ؛٢

ازقلم الم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قصرِ شاہ کے لان میں بڑی امی اور مشکوٰۃ کرسیوں پر بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں۔ موسم اچانک سے خوشگوار ہو گیا تھا۔ آسمان پر سیاہ بادلوں نے اپنا ڈیرا جما رکھا تھا اور ہوا میں ہلکی سی خنکی محسوس ہو رہی تھی۔ لان میں لگے پھولوں کی مہک طبیعت پر اچھا اثر چھوڑ رہی تھی۔ ابراہیم صاحب ڈیرے پر گئے ہوئے تھے جبکہ اشعث آفس میں تھا (وہ اپنا بزنس چلاتا تھا)۔
اچانک بارش شروع ہو گئی اور بڑی امی تو فوراً اٹھ کر اندر چلی گئیں جبکہ مشکوٰۃ وہیں بیٹھی رہی کیونکہ اسے بارش میں بھیگنا بہت پسند تھا۔ اس نے اپنا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا اور اس کے سنہری اور سیاہ امتیاز کے بال کمر پر بکھر گئے جو کہ صبح تھوڑی دیر پہلے نہانے کی وجہ سے ابھی بھی ہلکے ہلکے نم تھے۔ ویسے بھی گھر میں کوئی نہیں تھا، نہ ابو جان اور نہ ہی اشعث، اور باہر سے کسی بھی مرد اور ملازم کو اندر آنے کی اجازت نہیں تھی۔
مشکوٰۃ آنکھیں بند کیے گردن پیچھے کی جانب گرائے بارش کو اپنے اوپر گرتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔ وہ اپنی سوچوں میں اس قدر مگن تھی کہ اشعث کی گاڑی کی آواز بھی محسوس نہ کر سکی۔ ویسے بھی گیراج مردانے کی طرف تھا، زنان خانے سے فاصلے پر۔ اشعث بارش کے باعث تیز تیز قدم اٹھاتا زنان خانے کی طرف بڑھ رہا تھا مگر لان کے منظر نے اس کے قدم زنجیر کیے۔ بارش میں بھیگتی اس کی سنہری گڑیا اس کی دھڑکنیں بڑھا گئی تھی۔ اشعث کے قدم بے ساختہ اس کی طرف اٹھے تھے۔ ہلکے فیروزی سوٹ میں بنا دوپٹے، کھلے بالوں اور اپنی حالت سے بے پروا، وہ شاہ کو سیدھا اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس کے دل کی ملکہ!

بوند بوند میں گم سا ہے
یہ ساون بھی تو تم سا ہے

بارش کے قطرے مشکوٰۃ کے چہرے پر ٹھہرتے ایک دلکش سا منظر پیش کر رہے تھے۔ اشعث کا سانس سینے میں اٹکا۔

اک اجنبی احساس ہے
کچھ ہے نیا کچھ خاص ہے
قصور یہ سارا موسم کا ہے

اشعث کئی لمحے وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ “ذھبیۃ!!!! (عربی زبان کا لفظ جس کے معنی ہیں سونے سے بنی یا سنہری) یہاں کیا کر رہی ہیں آپ؟” اشعث نے استفسار کیا۔
“ش۔ش۔شاہ جی! میں۔میں وہ بارش انجوائے کر رہی تھی،” مشکوٰۃ اس کی آواز سن کر ایک دم گھبرا گئی تھی۔
“اندر چلیں، بیمار پڑ جائیں گی،” اس نے اس سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
“جی اچھا،” مشکوٰۃ دوپٹہ اوڑھتی ہوئی بولی۔ اس کے گال بالکل گلابی ہو گئے تھے جو اشعث کی مشکلات اور بڑھا گئے ۔ مشکوٰۃ اندر کی طرف بڑھ گئی اور اس کے پیچھے ہی اشعث نے قدم بڑھا دیے وہ خود بھی پورا بھیگ گیا تھا مگر اس منظر کی سب سے خوبصورت چیز اشعث کے چہرے کی مسکراہٹ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوشع اپنے دوست کے ساتھ اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا لنچ کر رہا تھا
” تو کب سے جوائن کر رہی ہے تمہاری بہن؟؟” یوشع نے استفسار کیا
” ایک ماہ تک شاید” سامنے والے نے جواب دیا
“اور ہوسٹل وغیرہ کا انتظام ہو گیا؟” یوشع نے دوسرا سوال کیا
” ہممم ہو گیا ہے ۔نور تو اتنی چوزی نہیں ہے وہ ہر جگہ  ایڈجسٹ کر لیتی ہے مگر اس کی وہ پاگل دوست اس کے بہت نخرے ہوتے ہیں اس کے لیے اچھا ہوسٹل جو ان محترمہ کے شایان شان ہو ڈھونڈنے میں ذلیل ہو کر رہ گیا ہوں میں” افق نے چڑ کر کہا تو یوشے کا قہقہہ بے ساختہ تھا
“واہ بھئی کمال ہے مسٹر افق اشفاق صاحب اتنا خیال ہے مس ایکس۔وائے۔ زی کی چوائس کا ۔ویسے میں انہیں کیا کہوں بھابھی ٹو بی” یوشع نے مزے لیتے ہوئے کہا

“بکواس نہیں کرو اس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور آگے پیچھے ذمہ داری لینے والا کوئی مرد نہیں لیکن ہماری فیملیز کے اچھے ٹرمز ہیں تو اس لیے میں ان کے گھر کے معاملات دیکھ لیتا ہوں” افق نے سنجیدگی سے کہا اور اس کی وضاحت پر یوشع بھی سنجیدہ ہوا ابھی وہ کھانا کھا ہی رہے تھے کہ ان کے کان سے کسی لڑکی کے چلانے کی آواز پڑی

“کتے کمینے انسان تمہارا مجنوں تو میں نکالتی ہوں” وہ جو کوئی بھی تھی ایک لڑکے کو بری طرح پیٹ رہی تھی “سالے حرام** گالی بڑی گالی اور بڑی گالی” وہ ہاتھ کے ساتھ ساتھ زبان کا بھی خوب استعمال کر رہی تھی
اس لڑکی کی گالیاں سن کر افق کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا تھا جبکہ یوشع سکون سے کھانا کھا رہا تھا
“یہ کیا چیز ہے؟” افق نے حیرت سے کہا
“اس چیز کو آئرہ سلطان شاہ کہتے ہیں” یوشع نے جواب دیا اس نے ابھی لڑکی کی شکل نہیں دیکھی تھی مگر اواز سے وہ پہچان گیا تھا

“واٹ تمہاری کزن؟؟؟”  افق کو تو 440 واٹ کا جھٹکا لگا تھا یہ سن کر کہ اس لڑکی کا تعلق شاہ ولا سے تھا کیونکہ وہ شاہ ولا کے سخت اصولوں سے واقف تھا جبکہ اس کے جواب پر یوشع نے فقط اثبات میں سر ہلایا تو افق نے بھی مزید بات نہ کی کہ اسے اپنے گھر کی عورتوں کے متعلق بات کرنا پسند نہیں تھا اس لیے وہ آئرہ سے صرف نام کی حد تک واقف تھا مزید کچھ نہیں جانتا تھا
افق اور یوشع ایک دوسرے کو یونیورسٹی کے ٹائم سے جانتے تھے ان کی دوستی بہت پکی نہیں تھی مگر اچھی بات چیت تھی
” او ہیلو ڈیئر کزن!! کھانا کھایا جا رہا ہے؟؟” آئرہ اپنے پھڈے سے فارغ ہو کر جانے ہی والی تھی جب اس کی نظر یوشع پر پڑی تو اسی طرف آ گئی
دراصل آئرہ سو رہی تھی جب اس کی دوست کائنات کی کال آئی وہ فون پر بہت رو رہی تھی کیونکہ اس کا بوائے فرینڈ اسے چیٹ کر رہا تھا اس نے اسے کسی اور لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے پکڑ لیا تھا بس آئرہ اس لڑکے کا دماغ ٹھکانے لگانے بنا سوچے سمجھے چل پڑی تھی
” ہاں!” یوشع نے ایک نظر اسے دیکھ کر مختصر جواب دیا
جبکہ آئرہ کو سلیپنگ ڈریس (جو کہ ایک ٹراؤزر اور چھوٹی سی شرٹ پر مشتمل تھا) میں دیکھ کر یوشع کے چہرے پر ناگواری اتری اور چہرہ غصے کی وجہ سے سرخ ہوا مگر وہ اسے کچھ بھی کہنے سے قاصر تھا پہلے ہی وہ رات اس سے بحث کرنے پر پچھتا رہا تھا اب دوبارہ اسے کچھ کہہ کر تایا جان سے خود کو اور بابا کو ذلیل کروانے کا اسے کوئی شوق نہیں تھا اس کی بے بسی آئرہ اچھے سے سمجھ رہی تھی اس لیے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری
‘ اچھا افق میں چلتا ہوں کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے جب تمہاری بہن جوائن کرے گی تو مجھے بتا دینا میں دیکھ لوں گا باقی معاملات” یوشع اٹھتے ہوئے بولا
“چل ٹھیک ہے۔” افق بھی اٹھ کر اس سے بغل گیر ہوا
یوشع کے جانے کے بعد افق بھی  بل پے کر کے(لنچ اس کی طرف سے تھا) جانے لگا تو آئرہ نے اسے روکا “تمہاری بہن بھی پنجاب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے رہی ہے؟؟”
” جی !!”فق نے مختصر جواب دیا
یوشع پنجاب یونیورسٹی میں میتھ کا پروفیسر تھا اور افق  نور لوگوں کے سلسلے میں ہی ملنے آیا تھا اس سے
“او گڈ ویسے نام کیا ہے تمہاری بہن کا؟” آئرہ نے سوال کیا
کیوں آپ جان کر کیا کریں گی؟؟” افق نے جوابا سوال کیا
” بھئی تمہیں نہیں پتا یونیورسٹی میں فریشنرز کی ریگنگ عام بات ہے میں بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں تو۔۔۔” آئرہ نے بات ادھوری چھوڑی تو
” تو اپ اس کی مدد کرنا چاہ رہی ہیں” افق نے بات مکمل کی
” نہیں مجھے خدمت خلق کا قطعاً شوق نہیں ہے بلکہ میں تو بذات خود اس کی ریگنگ کرو گی آخر میرے ڈیئرسٹ کزن کے جان پہچان والے ہیں سپیشل ٹریٹمنٹ تو بنتی ہے” اس نے مصنوعی اپنائیت سے جواب دیا تو افق  اس پاگل لڑکی کی شکل دیکھ کر رہ گیا اور وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا
جبکہ اس کے اس طرح بنا جواب دیے جانے پر آئرہ نے قہقہہ لگایا اور اپنے لیے ناشتہ آرڈر کیا (دوپہر کے دو بجے) اس کا  مقصد یوشع کو زچ کرنا تھا جو وہ کر چکی تھی
             °۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
” ہائے یار اللہ دی قسمیں!!!! کیا بندہ ہے۔ کیا پرسنلٹی اور کیا ایٹیٹیوڈ ہے۔”عنایہ نور کے بیڈ پر نیم دراز کھوئے ہوئے لہجے میں بولی جبکہ پاس بیٹھی نور قلب نے بیزاریت سے اسے دیکھا
“اب یقیناً تم نے کوئی نیا تھرڈ کلاس چیپ رومینٹک ناول پڑھ لیا ہوگا؟؟” دراصل عنایہ کو ناول پڑھنا بہت پسند تھا مگر نمرہ احمد اور عمیرہ احمد والے نہیں بلکہ یہ جو آج کل  چیپ ناولز کا ٹرینڈ چلا ہوا ہے نا وہ والے
” یار تمہیں نہیں پتہ یار!! جو ہیرو ہے نا وہ مافیا ڈون ہے 30 سال کا اور اس کو ایک 16 سال کی معصوم اور بے انتہا پیاری لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے جنونی والی اور وہ اس سے زبردستی شادی کر لیتا ہے اور۔۔۔۔”
” بس کر دو یار تمہارے ہر ناول کی یہی گھسی پٹی سٹوری ہوتی ہے” نور نے بےزاریت سے کہا “یہ صرف ہماری بچیوں کا دماغ خراب کر رہے ہیں ڈومیسٹک وائلنس کو محبت کا نام دے کر حقیقت میں کوئی بھی ایسے ذہنی مریضوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہے گی ہم نے کڈنیپ کو فینٹسی بنا لیا ہے جبکہ یہ ہوریبل ہے عزت اور جان کا خطرہ ہوتا ہے تو آئندہ یہ چیپ سٹوریز لے کر میرے پاس مت آنا” نور نے اس کی بات درمیان میں کاٹتے ہوئے بیزاریت سے کہا جبکہ عنایہ نے برے برے منہ بنائے
” اچھا !!!نور سنو جب تمہیں محبت ہوگی تو کیا کرو گی؟؟” عنایہ نے اشتیاق سے پوچھا
“مجھے محبت نہیں ہو سکتی۔” نور نے بے تاثر لہجے میں کہا
” کیوں؟؟”
” کیونکہ محبت اہل دل لوگوں کا جذبہ ہے اور بہت عرصہ ہوا مجھ پر اب جذبے اثر نہیں کرتے”
” لیکن محبت تو ایک بے اختیاری عمل ہے نا یہ تو ہو جاتی ہے بنا سوچے بنا پوچھے”
” ہوتی ہوگی لیکن ہم جیسے لوگ ایسے جذبوں کے لیے نہیں بنے ہوتے ہمیں صرف دو ہی جذبوں کا پتہ ہوتا ہے نفرت اور انتقام”
اس کی بات پر عنایہ مسکرائی “واللہ ایسے لوگ محبت بھی بڑی شدت کی کرتے ہیں” جبکہ جواباً نور نے خالی نظروں سے اسے دیکھا
” کیا ہو گیا ہے نور محبت سے خوفزدہ کیوں رہتی ہو ؟؟”
“محبت کرنے سے نہیں محبت ہو جانے سے خوفزدہ رہتی ہوں”
” مطلب؟؟” عنایہ الجھی
“پتہ ہے ہمیں  فطری محبت کس سے ہوتی ہے؟؟عنایہ نے نفی میں سر ہلایا ۔
“وہ کسی انسان سے نہیں وہ اللہ سے ہوتی ہے ہم اللہ کے سامنے فلٹر فری ہوتے ہیں تمہیں پتہ ہے قبر اور دوزخ کے عذاب جاننے کے باوجود ہم گناہ کیوں کرتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم چاہے جتنے مرضی گناہ کر لیں ہمارا صرف ایک آنسو ان سب کو مٹا دے گا ہم اللہ کی رحمت سے ایکسپیکٹ کرتے ہیں کہ ہمیں بخش دیا جائے گا ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں سزا نہیں ملے گی ہم اللہ سے ہر وہ راز سانجھا کر لیتے ہیں جو ہم کسی اور کو بتانے سے خوفزدہ ہوتے ہیں یہ وہ محبت ہوتی ہے جو بے غرض ہوتی ہے جس میں سنا جاتا ہے بنا جج کیے جس میں عطا کیا جاتا ہے بنا جتائے جس میں لوٹ آنے پر طعنہ نہیں دیا جاتا اور ہماری محبت سے 70 گنا زیادہ محبت واپس دی جاتی ہے اور یہ محبت ہر انسان میں ہوتی ہے چاہے وہ سمجھے یا نہ سمجھے”
” اور ہم جو محبت انسان سے کرتے ہیں وہ؟؟” عنایہ نے ٹرانس کی کیفیت میں پوچھا۔
” ہمیں جس بھی انسان سے محبت ہوتی ہے وہ ہم خود کرتے ہیں دل کے کہنے پر چاہے وہ ماں باپ ہوں بھائی بہن ہو دوست ہو یا محبوب بچپن میں جو ہمیں پالتے ہیں پیار کرتے ہیں ہمارا لا شعور کہتا ہے کہ یہ ہمارے والدین ہیں ہمیں ان سے محبت ہو جاتی ہے اسی طرح ہم بھائی بہنوں کے ساتھ رہتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور محبوب۔۔۔ ہم کسی انسان کے حسن سے یا کسی بھی دوسری عادت سے متاثر ہو کر محبت کر بیٹھتے ہیں اور یہ انسانوں کی محبت بہت خوار کرتی ہے عنایہ”
” تو اللہ کی محبت میں درد نہیں ہوتا؟؟” عنایہ نے سوال کیا اس کے سوال پر نور ہلکا سا مسکرائی
“بالکل ہوتا ہے محبت تو نام ہی درد کا ہے اللہ کی محبت میں تو زیادہ آزمائشیں زیادہ تکلیفیں ہوتی ہیں لوگوں کے طعنے دنیا کی لا تعلقی اپنی پسندیدہ چیزوں کو محبوب(اللہ) کے لیے چھوڑنا پڑتا ہے وہ محبت سچی ہو ہی نہیں سکتی جس میں درد نہ ہو بس اللہ سے محبت میں درد کے ساتھ سکون بھی ہوتا ہے اجر ہوتا ہے انعام ہوتا ہے آنسو بے مول نہیں ہوتے”
” تو تو اس کا مطلب انسانوں سے سچی محبت نہیں کی جا سکتی؟؟” عنایہ نے افسوس سے کہا
“بہت کم لیکن اگر سچی محبت ہو جائے تو انسان کی جھولی میں زخم درد آنسوؤں کی آزمائش ڈالی جاتی ہے اور اگر محبت صادق ہو تو ہی اللہ نوازتا ہے لیکن یاد رکھنا صادق محبت محرم سے ہی ہوتی ہے نامحرم سے کبھی بھی صداقت والی محبت نہیں ہو سکتی”
” محبت پر اتنی ریسرچ کر رکھی ہے اور کہتی ہو کہ محبت نہیں کرنی” عنایہ نے شرارت سے کہا
“میرے پاس جھیلنے کے لیے اس سے بڑے بڑے دکھ ہیں میرا دل پہلے ہی زخم زخم ہے اس میں ایک اور زخم کا اضافہ کرنے کی سکت مجھ میں نہیں ہے” نور نے زخمی سے لہجے میں کہا اور باہر چلی گئ
پیچھے عنایہ نے دکھ سے اس کی پشت کو دیکھا
کیا بنا دیا گیا تھا اس کی دوست کو جو محبتیں بانٹا کرتی تھیں اب محبت سے ڈر رہی تھی  کتنے ظالم ہوتے ہیں نا یہ دل میں بسنے والے جو دلوں کا قتل بھی کرتے ہیں اور پھر دوبارہ آ کر اس کی قبر پر مٹی  ڈالنا بھی گوارہ نہیں کرتے
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
ابراہیم صاحب واپس آگئے تھے ڈیرے سے اور اس وقت سب لاؤنج میں بیٹھے پکوڑے انجوائے کر رہے تھے اور اشعثث اور مشکوٰۃ بھی چینج کر کے وہیں آگئے تھے
“مشکوٰۃ بچے یونیورسٹی کب سے جوائن کر رہی ہیں؟” آغا جان نے مشکوٰۃ سے سوال کیا
“آغا جان میرٹ میں نام تو آگیا ہے اب ایڈمشن کروانا ہے اور ایک ماہ بعد شاید کلاسز سٹارٹ ہوں” مشکوٰۃ نے تفصیل سے بتایا
” اچھا!!! شاہ تم کروا دینا ایڈمیشن جا کر اور مشکوٰۃ کو بھی ساتھ لے جانا” ابراہیم صاحب نے  پہلی بات مشکوٰۃ سے جبکہ دوسری بات پاس بیٹھے اشعث سے کہی
” جی بابا جان میں دیکھ لوں گا اور زہبیہۃ آپ مجھے اپنے ڈاکومنٹس دے دیجئے گا”
“جی! شاہ جی” وہ سب کے سامنے اس کے اس  نام سے پکارنے پر مشکوٰۃ چھینپ گئی تھی کیونکہ عموماً سب کے سامنے وہ اسے فاطمہ یا مشکوٰۃ ہی کہتا تھا
جبکہ بڑی امی مسکرا دی وہ بچپن سے ہی اسے اسی نام سے پکارتا تھا اور جو مشکوۃ کے پیدا ہونے کے بعد اس کا کا نام رکھنے پر اس کی اور ضرار کی لڑائی ہوئی تھی الامان!!! ضرار فاطمہ رکھنے کا کہہ رہا تھا جبکہ اشعث مشکوٰۃ آخر کار دونوں کی مان کر مشکوٰۃ فاطمہ نام رکھا گیا لیکن اشعث اسے پیار سے سنہری گڑیا کہتا تھا کیونکہ وہ بالکل گڑیا جیسی تھی بڑی بڑی آنکھوں والی گڑیا
کتنا خوش تھے سب پھر ایک حادثے نے سب بدل کر رکھ دیا اور ان کے اپنوں کو ان سے جدا کر دیا بڑی امی نے اداسی سے سوچا
“شاہ تم مشکوٰۃ کو مارکیٹ لے جانا وہ اپنی ضرورت کا سامان لے لے گی ویسے بھی اتنے دنوں سے میری بچی گھر سے باہر ہی نہیں گئی” بڑی امی نے پیار سے مشکوٰۃ کے بال سہلاتے ہوئے کہا
“امی ابھی ایک دو دن تک مصروف ہوں تو کچھ دن بعد لے جاؤں گا”
“چلو ضرور لے جانا یاد سے”
اشعث نے چائے پیتے ہوئے ایک نظر مشکوٰۃ پر ڈالی جو آغا جان کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی مگر اس کی آنکھیں وہ شدید اداسی کے لپیٹ میں تھیں وہ مسکراہٹ آنکھوں تک نہیں پہنچی تھی
“اشعث کو یہ  اداسی لانے والوں سے اس وقت شدید نفرت محسوس ہوئی تھی وہ ان میں چمک دیکھنے کا عادی تھا اب اداسی اسے تکلیف دے رہی تھی
وہ سب کے درمیان سے اٹھ کر سائیڈ پر کھڑا ہو گیا اور فون نکال کر بلیک ہارٹ کے نمبر پر کال کی دوسری طرف سے تیسری بیل پر کال اٹھا لی گئی
“ہیلو!!” سپیکر سے آواز ابھری
“لاہور کب آنا ہے؟؟” اشعث نے سوال کیا
“کچھ دن تک”  جواب آیا
“جلد از جلد پہنچو میں زیادہ دن انہیں اس دنیا میں سانس لیتے اور خوش نہیں دیکھ سکتا”
“میں بھی۔” سامنے سے مدھم لہجے میں سرگوشی کی گئی
“اب وقت آگیا اگیا ہے جنگ کا” اشعث نے سرد لہجے میں کہا
“اور اس جنگ میں جیت ہماری ہو نہ ہو ہار ان کے مقدر میں ہی آئے گی” دوسری طرف سے تاریک لہجے میں کہہ کر کال کاٹ دی گئی

آغاز ہونے جا رہا تھا جنگ کا ،انتقام کا ،نفرت کا اور جنگ تباہی لے کر آتی ہے تخت چھین لیے جاتے ہیں محبتیں چھوٹ جاتی ہیں اور جنگ پتہ ہے کیا لے کر آتی ہے “موت”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاہ تاریک رات میں وہ اندھا دھند ایک جنگل میں بھاگ رہا تھا آس پاس سے جنگلی جانوروں  کی آوازیں ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھیں۔آہٹ محسوس ہونے  پر اس نے بنا رکے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھیڑیوں کا ایک جھنڈ اسے اپنے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آیا اس نے اپنے بھاگنے کی رفتار مزید تیز کر دی لیکن ٹھوکر لگنے کے باعث وہ زمین پر گر گیا اتنی دیر میں بھیڑیے اس کے مزید قریب آ گئے تھے اس کے سامنے خونخوار بھیڑیے اور پیچھے گہری تاریک کھائی تھی اس وقت اس نے خود کو بالکل بے بس محسوس کیا تھا کہ اچانک اس نے دیکھا کہ کوئی اس بھیڑیوں کے جھنڈ کو چیرتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا ہے وہ جیسے جیسے قریب آ رہا تھا ویسے ویسے بھیڑیے اس سے خوفزدہ ہو کر دور بھاگتے جا رہے تھے اس وجود نے اس کے قریب پہنچ کر اسے سہارے کے لیے ہاتھ دیا  اس نے جیسے ہی اس کا ہاتھ تھاما تو ایک تیز روشنی سارے تاریک جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے گئی تیز روشنی یکدم آنکھوں میں پڑتی اسے آنکھیں میچنے پر مجبور کر گئی تھی اس نے دیکھا کہ  پیچھے سے کسی نے اس سیاہ ہیولے کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس ہیولے نے مڑ کر ان کی طرف دیکھا وہ ابھرنے والا نیا مہربان چہرہ اس کی ماں کا تھا اس سیاہ ہیولے نے اُس کا ہاتھ تھام کر اُس کے ماں کے ہاتھ میں دیا اور خود قدم پیچھے کی جانب لینے لگا اور پھر وہ وجود آہستہ آہستہ دھویں میں غائب ہو گیا۔

اس کے ساتھ ہی یوشع کی آنکھ کھل گئی تھی اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا اور تنفس تیز اس نے پانی کا گلاس بھر کر پیا وہ ابھی تک اس خواب کے زیر اثر تھا اسے یہ خواب اکثر آیا کرتا تھا۔
وہ خواب میں خود کو بچانے والے کا چہرہ آج تک نہیں دیکھ پایا تھا مگر جو چیز اس کے لاشعور میں رہ جاتی تھی وہ اس وجود کے سیاہ لمبے خوبصورت بال تھے جس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ صنف نازک تھی وہ خواب اسے خوف زدہ کر دیتا تھا مگر وہ اس سے پیچھا چھڑانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس خواب میں اسے اپنی سب سے محبوب ہستی اپنی ماں کا چہرہ نظر آتا تھا ۔
وہ ابھی اس خواب کے متعلق ہی سوچ رہا تھا کہ اس کی سماعت سے فجر کی اذان کی آواز ٹکرائی تو وہ بستر چھوڑ کر اٹھا لباس تبدیل کر کے وضو بنایا اور مسجد کے لیے روانہ ہو گیا ۔

جب تک وہ نماز ادا کر کے لوٹا تھا تب تک ابھی  شاہ ولا میں سناٹوں کا راج تھا اس گھر کے مکین صبح دیر سے اٹھنے کے عادی تھے لیکن اس کو صبح صبح اٹھ کر نماز پڑھنے کی عادت اپنی ماں سے ملی تھی جوگنگ اور ورک آؤٹ کے بعد اس نے ملازمہ کو ناشتہ تیار کر کے اس کے کمرے میں لانے کا کہا آج اس کی کلاسز تو دیر سے تھی لیکن کیونکہ آج نئے سٹوڈنٹس آ رہے تھے تو وہ پہلے جا رہا تھا اس نے ناشتہ کیا اور یونیورسٹی کے لیے تیار ہوا۔

سیاہ ڈریس پینٹ ڈارک براؤن ڈریس شرٹ میں اس کا دراز قد سراپہ اور مضبوط جسم دلکش لگ رہا تھا بے شک وہ حسین مردوں میں شمار ہوتا تھا گہری بھوری  آنکھیں سیاہ امتزاج کے ساتھ بھورے بال جو جل لگا کر سلیقے سے سیٹ کیے گئے تھے اور ہلکی بڑی ہوئی بیئرڈ وہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس نے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر کی طرف بڑھ گیا جانے سے پہلے وہ اپنے معمول کے مطابق کبیر شاہ سے ملا تھا ۔
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
یوشع اپنی گاڑی پارکنگ میں کھڑی  کر کے یونیورسٹی کے احاطے میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ اس کا سامنے سے آتے وجود کے ساتھ زبردست تصادم ہوا اور وہ وجود اس کے ساتھ ٹکرا کر زمین بوس ہوا تھا مگر یوشع کو خاص فرق نہیں پڑا
“سو سوری آپ کو لگی تو نہیں ” یوشع نے معزرت خوانہ انداز میں کہا

انی دیا دسدا نی تینوں (اندھے تمہیں نظر نہیں آتا)۔ چیختی ہوئی باریک نسوانی آوازم
“محترمہ خدا نے دو آنکھیں آپ کو بھی دے رکھی ہیں” یوشع نے بےتاثر لہجے میں ٹھنڈے تاثرات کے ساتھ کہا اس نے اپنی ناگواری چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی کیوں کہ وہ اس کی معزرت کے جواب میں بدتمیزی کر رہی تھی۔
“اچھی طرح جانتی ہوں میں تم جیسے امیرزادوں کو تم لوگوں کا ناک بہت اونچا ہوتا ہے اور ہم جیسے لوگوں کے لیے تم لوگوں کے پاس ایک ہی جذبہ ہوتا ہے فقط حقارت کا”۔  سامنے والی نے مشتعل ہو کر کہا وہ یقینا اس کے لباس سے اس کی کلاس کا اندازہ لگا چکی تھی۔
یوشع نے تنقیدی نظروں سے سامنے کھڑی اس لڑکی کا جائزہ لیا وہ معمولی سی شکل و صورت کی ایک عام سی لڑکی تھی گندمی رنگت درمیانہ قد مگر عبایا اور سیاہ حجاب میں وہ نظروں کو بھلی لگ رہی تھی اس کے چہرے پر جو سب سے قابل غور چیز تھی  وہ اس کی آنکھیں تھیں بڑی بڑی ہلکی بھوری آنکھیں جو دھوپ کے باعث اپنی رنگت تبدیل کر چکی تھی۔

“دیکھیے محترمہ آپ کے الفاظ سے آپ کی ذہنیت کا اندازہ میں اچھے سے لگا چکا ہوں باقی اس فضول بحث کے لیے آپ کے پاس خاصا وقت ہوگا لیکن میرے لیے میرا وقت انتہائی قیمتی ہے اس لیے راستہ دیں” یوشع کو اب کوفت ہونے لگی تھی اس بے کار بے وجہ کی بحث سے کہ ایک تو خود آکر ٹکرائی اور زبان الگ چلا رہی تھی لیکن پھر بھی وہ ادب کے دائرے میں رہ کر اس سے بات کر رہا تھا۔
ابھی وہ جواباً کچھ اور کہتی کہ اس سے پہلے ہی اپنے نام کی پکار  کانوں سے ٹکرائی۔ 
” عنایہ !!!!!”
یوشع نے بھی آواز کی سمت نگاہ اٹھائی تو سیاہ عبایا اور سیاہ ہی نقاب میں ملبوس ایک لڑکی اسی طرف آ رہی تھی۔
“یہاں کیا کر رہی ہو؟؟” یوشع کو یکسر نظر انداز کرتے نور نے عنایہ سے سوال کیا جس کا وہ کافی دیر سے انتظار کر رہی تھی اندر اور وہ دو منٹ کا بول کر ابھی تک نہیں آئی تھی۔
“میں آ ہی رہی تھی کہ ایس باندر نال متھا لگ گیا (اس بندر سے ٹکرا گئی)”عنایہ نے برا سا منہ بنا کر جواب دیا۔
جبکہ خود کو بندر کہے جانے پر کوائٹ  اور کام سے یوشع کے تو ایک تپ چڑھ رہی تھی ایک اتر رہی تھی اس کا ناک مکمل سرخ پڑ چکا تھا اسے غصہ بہت کم آتا تھا لیکن وہ  لڑکی یقیناً اسے اچھا خاصا زچ کر چکی تھی۔

نور نے عنایہ کے اشارہ کرنے پر اس طرف نظریں اٹھائیں  عین اسی وقت یوشع نے بھی اس کی طرف دیکھا تھا بھوری اور سرمئی انکھوں کا زبردست تصادم ہوا تھا ہوائیں ساکت ہوئیں  دھڑکنوں نے رفتار پکڑی  اور لمحوں نے سرکنے سے انکار کیا یوشع کو بے ساختہ  ان آنکھوں کو دیکھتے ہوئے فیض احمد فیض صاحب کے کہے چند الفاظ یاد آئے تھے

” تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا گیا ہے”

ان سرد سرمئی انکھوں کی تاثیر یوشع کو سیدھا اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی آج اس نے تسلیم کر لیا تھا کہ آنکھیں سحر کرتی ہیں ایسا سحر کے سامنے والا بے ساختہ خواہش کر بیٹھے کہ کاش وہ  اس سحر سے کبھی  آزاد نہ ہو یہی حال یوشع کبیر شاہ کا تھا۔
یوشع کے سلگتے دل کو ان سرد سرمئی آنکھوں نے سکون بخشا تھا  مدتوں بعد دل  سکون میں آیا تھا اس لیے اب دھڑک دھڑک کر خوشی کے ترانے گا کر جھوم رہا تھا غصہ پلوں میں غائب ہوا تھا۔
یوشع کو دیکھ کر نور کی آنکھوں میں شناسائی ابھری تھی
“یوشع کبیر شاہ ؟؟”نور نے سوالیہ لہجے میں پوچھا ۔
” جی؟؟؟…. جی جی” اس کے پکانے پر یوشع کی محویت میں خلل آیا۔
“میں نور قلب ، افق اشفاق کی بہن اور یہ میری دوست عنایہ۔۔۔ عنایہ حیدر” نور نے سنجیدگی سے اپنا اور عنایہ کا تعارف کروایا۔
جبکہ اس کے تعارف پر عنایہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی اور دل میں دعا کر رہی تھی کہ یہ وہ پروفیسر دوست نہ ہو افق کا۔
“کیسی ہیں آپ مس قلب؟؟” یوشع نے خوش اخلاقی سے پوچھا۔
” اللہ کا شکر ہے!! کلاس دکھا دیں گے آپ ؟؟”نور کی سنجیدگی ہنوز قائم تھی  اسے لوگوں کے ساتھ زیادہ فری ہونا پسند نہیں تھا خصوصاً لڑکوں سے جبکہ اس کا قلب کہہ کر پکارنا اسے عجیب سے احساسات سے دوچار کر گیا تھا کیونکہ وہ سب کے منہ سے خود کے لیے نور سننے کی عادی تھی۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *