Bashar Episode 8 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۸

اسلام آباد ایئرپورٹ کی روشنیوں میں وہ سب ایک ساتھ کھڑے تھے…
سامان ہاتھوں میں… اور آنکھوں میں اگلے سفر کی چمک…
اسلام آباد کا سفر واقعی شاندار رہا تھا…
کچھ یادیں ہلکی سی مسکراہٹ بن کر رہ گئی تھیں…
اور کچھ… دل میں کہیں گہرائی تک اتر گئی تھیں…
اب اگلا پڑاؤ لاہور تھا…
ایک نیا شہر… نئی فضا… نئی یادیں…
سب کے چہروں پر جوش تھا…
سوائے ایک کے…
رین یون خاموش کھڑا تھا…
جیسے وہ ابھی تک کہیں پیچھے رہ گیا ہو…
کسی ادھورے سوال کے ساتھ…
سومین جاتے وقت اداس تھا…
مگر جیسے ہی وہ جہاز کی سیٹ پر آ کر بیٹھا…
اس کا موڈ بدلنے لگا…
کھڑکی سے باہر بادلوں کو دیکھتے ہوئے…
اس کے چہرے پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ لوٹ آئی…
جیسے دل نے خود کو سمجھا لیا ہو…
کچھ سفر… انسان کو بدل دیتے ہیں…
اور کچھ… صرف یاد بن کر ساتھ چلتے ہیں…
چند گھنٹوں بعد…
جہاز نے آہستہ آہستہ لینڈ کیا…
اور وہ سب…
لاہور کی سرزمین پر قدم رکھ چکے تھے…
ہوا میں ایک الگ سی مہک تھی…
پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر… لاہور…
منیجر کی آواز اُن کے کانوں میں گونجی…
کہتے ہیں… جس نے لاہور نہیں دیکھا… وہ پیدا ہی نہیں ہوا…
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا…
اور مسکرا دیے…
یہاں بہت سی خوبصورت جگہیں ہیں…
یہاں کے لوگ… یہاں کی زبان… یہاں کا کلچر…
سب کچھ آپ کے لیے نیا ہوگا…
وہ بولتا جا رہا تھا…
مگر اُن سب کی نظریں اب اردگرد پھیلی ہوئی دنیا کو دیکھ رہی تھیں…
روشنیوں میں نہایا ہوا شہر… ہجوم… آوازیں…
اور ایک عجیب سی زندگی…
مگر رین یون… وہ اب بھی خاموش تھا…
اس کی نظریں کہیں دور جمی ہوئی تھیں…
لاہور اس کے سامنے تھا…
مگر اس کا دل… ابھی تک کہیں اور ٹھہرا ہوا تھا…
ایئرپورٹ سے نکلتے ہی لاہور کی سڑکیں جیسے ان کا استقبال کر رہی تھیں…
گاڑی روشنیوں، ہارنز اور ہلکی سی خنکی میں آگے بڑھ رہی تھی…
چند ہی دیر میں گاڑی ایک شاندار عمارت کے سامنے آ کر رُک گئی…
یہ تھا — Avari Lahore Hotel
اونچی، باوقار عمارت… باہر سنہری روشنیوں کی ہلکی چمک…
اور دروازے پر کھڑے یونیفارم میں ملبوس گارڈ…
جیسے ہی وہ سب نیچے اُترے…
ایک نرم سی خوشبو ہوا میں محسوس ہوئی…
لابی کے شیشے کے دروازے خود بخود کھل گئے…
اندر قدم رکھتے ہی…
سب ایک لمحے کو ٹھٹھک گئے…
کشادہ لابی… چمکتے ہوئے ماربل کے فرش…
اوپر لٹکتے ہوئے خوبصورت فانوس…
اور ہر طرف ہلکی سنہری روشنی…
ریسپشن کے پیچھے کھڑا عملہ مسکراتے ہوئے اُن کا استقبال کر رہا تھا…
ہیوک نے گردن گھما کر اردگرد دیکھا…
بھائی… واہ کیا ہوٹل ہے۔۔۔ بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔
تائیجون نے صوفے پر خود کو گراتے ہوئے کہا…
میں تو یہی سیٹل ہو رہا ہوں… لاہور گھومنے کی ضرورت نہیں…
سب ہنس پڑے…
پھر جیسے پچھلی بار طے ہوا تھا… ویسے ہی یہاں بھی فیصلہ کر لیا گیا…
دو دو افراد ایک کمرہ لیں گے…
البتہ یہاں سہولت کچھ زیادہ تھی…
چاہیں تو کوئی ایک بندہ الگ سے سنگل روم بھی لے سکتا تھا…
ہیوک نے سب سے پہلے ہاتھ اٹھایا…
مجھے سنگل روم دے دو… میں سوہان کے ساتھ نہیں رہوں گا… یہ بہت پھیلاؤ کرتا ہے…
سوہان فوراً بولا…
میں بھی نہیں رہوں گا اس کے ساتھ…
ہان وو نے بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھا…
کیوں…؟ تمہیں کیا مسئلہ ہے…؟
سوہان نے منہ بنایا…
کیونکہ یہ ہر وقت مجھے صاف صفائی کرنے کا کہتا رہتا ہے…
سیونگ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا…
وہ صرف تمہیں تمہارا اپنا سامان جگہ پر رکھنے کا کہتا ہے… اتنا بھی نہیں کر سکتے تم…؟
نہیں… سوہان نے فوراً جواب دیا…
اسی دوران سومین نے لاپرواہی سے کہا…
اچھا ٹھیک ہے… تم میرے ساتھ رہ لو…
سومین نے جیسے ہی کہا ہان وو نے فوراً پلٹ کر سومین کو دیکھا…
نگاہ میں حیرت تھی…
جیسے یہ بات اسے اچھی نہیں لگی…
یہ کیسے ممکن تھا…؟
سومین… اور کسی کے ساتھ کمرہ شیئر کرے…؟
بات صرف دوستی کی نہیں تھی…
ہان وو سب کے ساتھ گھل مل کر رہتا تھا…
وہ کسی کے ساتھ بھی رہ سکتا تھا…
مگر مسئلہ کچھ اور تھا…
صفائی…
ہان وو حد سے زیادہ صفائی پسند تھا…
ہر چیز اپنی جگہ پر… ہر کام اپنے وقت پر… اور ہر چیز میں مکمل perfection…
اور حیرت کی بات یہ تھی کہ… سومین بھی بالکل ویسا ہی تھا…
دونوں کی عادتیں ایک جیسی تھیں…
اٹھتے ہی بیڈ سیٹ کرنا… سامان ترتیب سے رکھنا…
وقت پر سونا… وقت پر جاگنا… کوئی بھی چیز اِستعمال کرنے کے بعد اُسے اس کی جگہ پر رکھنا۔۔
یہ سب اُن کے لیے معمول تھا…
جبکہ باقی سب بھی صفائی پسند تھے، لیکن اُنہیں ان دونوں کی طرح پرفیکشن کی او سی ڈی نہیں تھی۔۔۔
سومین کی بات سن کر سب ایک لمحے کو واقعی حیران رہ گئے…
تائیجون نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا…
کیا بولا تُو نے…؟
سومین نے کندھے اچکائے…
بہرا ہے کیا…؟ سنائی نہیں دیا…؟
رین یون نے سیدھا سوال کیا…
تو تم ہان وو کے ساتھ روم شیئر نہیں کرو گے…؟
سومین نے بغیر ہان وو کی طرف دیکھے جواب دیا…
نہیں…
وہ سیدھا رین یون کی طرف دیکھ رہا تھا
جب کے اُس کے برابر میں ہیوک کھڑا تھا اور اس کی ساتھ ہی ہان وو۔۔
ہان وو کی نظریں اب بھی اُسی پر تھیں…
وہ چاہتا تو کچھ کہہ سکتا تھا…
روک سکتا تھا…
صرف ایک جملہ…
مگر… اپنے لیے بولنا…
اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا…
یہ ہان وو کو کبھی آیا ہی نہیں تھا…
اور سومین… یہ بات اچھی طرح جانتا تھا…
اسی لیے وہ خاموشی کا فائدہ اٹھا رہا تھا…
اس کے فیصلے کے پیچھے وجہ بھی تھی…
وہ قرآن پڑھنا چاہتا تھا…
اور وہ جانتا تھا… اگر وہ ہان وو کے ساتھ رہا…
تو وہ اُس کی موجودگی میں قرآن نہیں پڑھ پائے گا۔۔
اسی لیے اُس نے سوہان کو چُنا…
کیونکہ سوہان… لاپرواہ تھا… اپنی ہی دنیا میں مگن رہتا اُس کے آس پاس کے لوگ کیا کر رہے ہیں اُسے گھنٹہ پتہ نہیں چلتا نہ فرق پڑتا تھا۔۔۔
اور شاید… سوہان کے ساتھ رہنے سے ہی۔۔
سومین کو وہ خاموشی مل سکتی تھی…
جس میں وہ خود کو… اور اپنے رب کو… تلاش کر سکتا تھا۔۔۔
رین یون نے گہری نظر سے ہان وو کو دیکھا…
تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے…؟
وہ اپنے دوستوں کو خوب جانتا تھا…
اور یہ بھی کہ ہان وو کے لیے… سومین کے علاوہ کسی اور کے ساتھ رہنا آسان نہیں ہوگا…
مگر ہان وو نے ہمیشہ کی طرح صرف ہلکا سا سر ہلا دیا…
نہیں… کوئی مسئلہ نہیں… یہ “نہیں” بھی کیسا تھا…
بےآواز… بےرنگ…
سومین کے دل میں ہلکی سی چبھن اُٹھی…
وہ ایک لمحے کو خاموش رہا…
پھر جیسے خود کو سنبھالتے ہوئے بولا…
ٹھیک ہے… یہ جے کیونگ کے ساتھ رہ لے گا…
اُس نے ہان وو کے لیے تھوڑی آسانی کردی، کیوں کہ جے کیونگ بھی کافی حد تک ترتیب پسند تھا…
اس کے ساتھ رہنا ہان وو کے لیے اتنا مشکل نہیں ہوگا…
سب کی نظریں جے کیونگ پر گئی جے کیونگ کُچھ کہتے اُس کے پہلے ہی تائیجون فوراً بول اٹھا…
ابے اوہ… تو پھر میں کس کے ساتھ رہوں گا…؟
سومین نے بےپرواہی سے جواب دیا…
تو ہیوک کے ساتھ…
ہیوک نے فوراً احتجاج کیا…
یہ کون سا اچھا ہے… یہ بھی سوہان ہی کی طرح ہے…
تائیجون نے اسے گھورا…
ابے چل آ… بڑا آیا… تُو ہی سوہان کے ساتھ رہ…
سومین نے بغیر سوچے جواب دیا…
تو ہیوک کے ساتھ…
ایک لمحے کی خاموشی…
پھر
نہیںییییییییییییییی…!!!
تائیجون کی آواز پوری لابی میں گونج گئی…
سیونگ نے ہاتھ اٹھا کر تائیجون کو ایک لگایا۔۔۔
بس… ہو گیا فائنل… اب مزید بحث نہیں…
پر۔۔۔ ہیوک نے کچھ کہنا چاہا…
مگر رین یون نے اُسے ٹوک کیا۔۔
تمہیں سب سے ہی مسئلہ ہے… تھوڑا ایڈجسٹ کرنا سیکھ لو…
بات ختم ہو گئی… ہان وو چپ چاپ مُڑا…
اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا…
نہ اُس نے کسی کو دیکھا… نہ کچھ کہا… بس چلا گیا…
تائیجون نے جے کیونگ کو کہنی ماری…
ابے… تُو کچھ بول بھی…
جے کیونگ نے سادہ سا جواب دیا…
نہیں…یہ ٹھیک ہے…
اور وہ بھی ہان وو کے پیچھے چل پڑا…
سومین کے ہونٹوں پر فوراً مسکراہٹ آ گئی…
موئے موئے…
سوہان نے طنزیہ انداز میں کہا…
کوئی عزت نہیں ہے تیری…
اور ہنستا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا…
ہیوک نے جاتے جاتے بڑبڑایا…
ایک لیزی کو چھوڑ کر دوسرا لیزی پکڑا دیا…
تائیجون فوراً اس کے پیچھے بھاگا…
ابے اوہ…تو ہوگا لیزی۔۔۔
دونوں کی آوازیں دور تک سنائی دیتی رہیں…
باقی سب بھی ہنستے مسکراتے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے…

++++++++++++

صبح کی پہلی روشنی ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی…
ہلکی سی ٹھنڈی ہوا کھڑکیوں کے پردوں کو آہستہ آہستہ ہلا رہی تھی…
ہوٹل کے کوریڈور میں خاموشی تھی…
بس کبھی کبھار کسی دروازے کے کھلنے کی آواز سنائی دیتی…
منیجر کی ہدایت کے مطابق سب کو جلدی تیار ہونا تھا…
آج لاہور کی پہلی سیر تھی…
ایک ایک کر کے سب نیچے لابی میں جمع ہونے لگے…
ہیوک نیند سے بھری آنکھیں ملتا ہوا آیا…
یار… اتنی صبح کون گھومنے جاتا ہے…
تائیجون نے ہنستے ہوئے کہا…
بادشاہی مسجد دیکھنی ہے بھائی… کوئی عام جگہ نہیں ہے…
سوہان نے جمائی لیتے ہوئے کہا…
مجھے تو بس ناشتہ چاہیے…
سیونگ نے گھڑی دیکھی…
بس اب سب آ جائیں تو نکلتے ہیں…
اسی دوران سومین بھی آ گیا…
سادہ سے کپڑوں میں… مگر آج اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی…
ہان وو بھی خاموشی سے آ کر ایک طرف کھڑا ہو گیا…
نظریں ایک لمحے کو سومین پر ٹھہریں…
پھر فوراً ہٹ گئیں…
رین یون آخر میں آیا…
چلیں…؟ منیجر کی آواز آئی…
سب گاڑی کی طرف بڑھے…
لاہور کی سڑکیں ابھی جاگ رہی تھیں…
ہلکی روشنی… کم ٹریفک… اور فضا میں ایک عجیب سی تازگی…
گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی رہی…
اور پھر… وہ سامنے تھی…
Badshahi Mosque
وسیع… باوقار… خاموش…
گاڑی جیسے ہی رُکی…
سب کے قدم خودبخود آہستہ ہو گئے…
کسی نے کچھ نہیں کہا…
بس سب دیکھ رہے تھے…
سرخ پتھروں کی بلند دیواریں…
اونچے مینار…
اور درمیان میں پھیلا ہوا بےانتہا کشادہ صحن…
ہیوک نے آہستہ سے کہا…
یہ… حقیقت میں ہے…؟
تائیجون نے سر ہلایا…
بھائی… یہ پاکستان ہے…
سوہان نے چاروں طرف دیکھا…
یہ تو… فلموں سے بھی زیادہ خوبصورت ہے…
منیجر مسکرایا…
یہ ہے بادشاہی مسجد… مغل دور کی شان…
مگر اُن سب کی توجہ اب الفاظ پر نہیں تھی…
وہ بس… محسوس کر رہے تھے…
جیسے ہی وہ صحن میں داخل ہوئے…
ٹھنڈا سنگِ مرمر پاؤں کے نیچے آیا…
سومین کے قدم آہستہ ہو گئے…
وہ رک گیا… آنکھیں بند کیں… گہری سانس لی…
دور کہیں اذان کی ہلکی سی آواز گونجی…
رین یون نے بے اختیار سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا… وہی سوال… وہی بےچینی…
ہان وو نے ایک لمحے کو سومین کی طرف دیکھا…
وہ اب بھی وہیں کھڑا تھا…
ہان وو نے نظریں جھکا لیں…
اور آہستہ سے دوسری طرف چل دیا…
رین یون صحن کے درمیان جا کر رک گیا…
ہوا ہلکی سی چلی…
اور اس کے ذہن میں لڑکی کی آواز گونجی…
ہر چیز کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے…
اس نے آہستہ سے آنکھیں بند کیں…
پھر… پہلی بار… اس کے دل میں سوال نہیں…
بلکہ ایک تلاش پیدا ہوئی…
وہ سب وہاں کھڑے تھے…
وہ سب صحن کے ایک کونے میں جمع ہو گئے…
صبح کی نرم روشنی اب پورے صحن پر پھیل چکی تھی…
پرندوں کی ہلکی آوازیں… اور دور کہیں سے آتی اذان کی بازگشت…
منیجر نے ایک نظر سب پر ڈالی…
پھر آہستہ سے بولنا شروع کیا…
آپ لوگ جس جگہ کھڑے ہیں…
وہ رکا…
یہ صرف ایک مسجد نہیں… ایک تاریخ ہے…
سب خاموش ہو گئے…
یہ وہی بادشاہی مسجد ہے…
جسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے سترہویں صدی میں تعمیر کروایا…
ہیوک نے چونک کر کہا…
اتنی پرانی…؟
منیجر نے سر ہلایا…
1671 میں اس کی تعمیر شروع ہوئی…
اور صرف دو سال میں… 1673 میں مکمل ہو گئی…
تائیجون نے اوپر دیکھا…
صرف دو سال…؟
جی… منیجر نے مسکرا کر کہا
اور صدیوں بعد بھی… یہ اسی شان سے کھڑی ہے…
اس نے ہاتھ سے اردگرد اشارہ کیا…
یہ سرخ پتھر… راجستھان سے لایا گیا…
اور یہ سفید نقش و نگار… خالص سنگِ مرمر سے بنے ہیں…
سوہان نے آہستہ سے کہا…
کتنا صبر ہوگا ان لوگوں میں…
منیجر کی آواز نرم ہو گئی…
یہ صرف صبر نہیں تھا… عقیدت تھی…
چند لمحوں کی خاموشی… پھر وہ دوبارہ بولا…
یہ چار مینار… تقریباً 53 میٹر اونچے ہیں…
اور یہ وسیع صحن… ایک وقت میں ساٹھ ہزار نمازیوں کو اپنے اندر سمو سکتا ہے…
ساٹھ ہزار…؟
ہیوک کے منہ سے بے اختیار نکلا…
منیجر نے سر ہلایا…
اور جب یہ بنی تھی…
اس وقت یہ دنیا کی سب سے بڑی مسجد تھی…
سوہان نے ہیوک کے کان میں سرگوشی کی،
بھائی ساٹھ ہزار لوگ یہاں بیوقوف ہیں۔۔؟؟
ہیوک نے ناسمجھی سے سوہان کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا مطلب ؟؟
مطلب یار۔۔ تائیجون نے کہا نہ کہ کوئی خدا نہیں ہے، تو یہ جو سات ہزار لوگ ہیں وہ تو بیوقوف ہوئے۔۔۔
ہیوک ہنستا ہؤا سر ہلا دیا۔۔۔۔
سیونگ نے آہستہ سے پوچھا…
پھر کیا ہوا اس کے ساتھ…؟
بعد میں… منیجر کے چہرے پر ہلکی سی اداسی آئی…
مغل دور ختم ہوا… سکھوں نے لاہور فتح کیا…
اس مسجد کو فوجی چھاؤنی بنا دیا…
پھر انگریز آئے… انہوں نے بھی یہی کیا…
سومین نے بھنویں سکیڑ کر کہا…
اللہ کے گھر کو…؟
منیجر نے کہا… ہاں… مگر… 1856 میں… یہ واپس مسجد بنی… اور آج بھی ہے… آج بھی یہاں اذان ہوتی ہے… آج بھی یہاں سجدے ہوتے ہیں…

ٹھوڑی دیر اِدھر اُدھر گھومنے کے بعد۔۔
سب آہستہ آہستہ واپس گاڑی کی طرف بڑھے…

ہوٹل واپس آتے آتے دوپہر ہو چکی تھی…
سب تھکے ہوئے تھے… سب کی ہمت جواب دے رہی تھی۔۔
لابی میں پہنچتے ہی ہیوک صوفے پر ڈھے گیا…
بھائی… پاؤں جواب دے گئے…
تائیجون نے پانی کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا…
اتنا بڑا صحن… اتنا گھومے… تھکیں گے نہیں تو کیا…
سوہان نے جمائی لی…
مجھے تو نیند آ رہی ہے…
سیونگ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا…
صبح سے ابھی تک سو کر ہی تو آئے ہو… گاڑی میں…
سوہان نے بے پرواہی سے کندھے اچکائے…
وہ الگ نیند تھی… ابھی الگ نیند لونگا۔۔۔
پاگل کوئی حال نہیں تُمہارا۔۔۔
سب ہنس پڑے…
جے کیونگ اور ہان وو لفٹ کی طرف بڑھ گئے…
ہان وو خاموش تھا… ہمیشہ کی طرح…
جے کیونگ نے ایک نظر اسے دیکھا…
آج اچھا لگا…؟
ہان وو نے ہلکا سا سر ہلایا…
ہاں…
جے کیونگ سمجھ گیا… مزید نہیں پوچھا…
پِھر باقی سب بھی ایک ایک کر کے اپنے لفٹ کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

++++++++++

شام ڈھلنے لگی تھی…
لاہور کی فضا میں ایک عجیب سی رونق آ گئی تھی…
ہوٹل کی لابی میں منیجر نے اعلان کیا…
آج شام فوڈ سٹریٹ چلیں گے… گوالمنڈی…
ہیوک کی آنکھیں فوراً کھل گئیں…
کھانا…؟
منیجر نے ہنستے ہوئے سر ہلایا…
لاہوری کھانا…
ہیوک پہلے ہی اٹھ کھڑا ہوا…
بھائی میں تیار ہوں… ابھی… اسی وقت…
تائیجون نے اسے اوپر سے نیچے دیکھا…
تو ابھی تک ٹوزر میں ہے…
ہیوک نے نیچے دیکھا…
اوہ…
اور بھاگتا ہوا لفٹ کی طرف گیا…
کچھ دیر بعد سب نیچے جمع ہو گئے…
سوہان نے آتے ہی پوچھا…
یہ گوالمنڈی ہے کیا…؟
سیونگ نے جواب دیا…
لاہور کی مشہور جگہ ہے… کھانے پینے کی…
سوہان کی آنکھیں چمکیں…
مطلب صرف کھانا…؟
ہاں…
تو پھر یہ میری پسندیدہ جگہ ہے… اور میں نے دیکھی بھی نہیں ابھی تک…
دیکھنے سے پہلے ہی پسندیدہ…؟ ٹائیجون نے سوال کیا
جہاں کھانا ملتا ہے وہ میری پسندیدہ جگہ ہے۔۔۔
پاگل۔۔۔ سیونگ نے پھر سوہان کو کہا
گاڑی جیسے ہی فوڈ سٹریٹ کے قریب پہنچی…
روشنیوں سے جگمگاتی گلیاں… ہر طرف لوگوں کا ہجوم… قہقہے… آوازیں… برتنوں کی کھنک… اور ہوا میں گھلی ہوئی مصالحوں، باربی کیو اور تازہ پکے کھانوں کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔۔
سوہان نے کھڑکی سے باہر جھانکا…
بھائی یہ تو پوری دنیا ہے…
ہیوک نے گردن لمبی کی…
یہ سب کھانے ہیں…؟
منیجر نے مسکراتے ہوئے کہا…
لاہوری دسترخوان… ایک بار بیٹھے تو اٹھنے کا دل نہیں کرتا…
تائیجون نے سینہ پھلایا…
یہ چیلنج قبول ہے…
سڑک کے دونوں طرف پرانی طرز کی عمارتیں کھڑی تھیں… بالکونیوں میں لٹکتی زرد روشنیاں…
لکڑی کی کھڑکیاں… اور دیواروں پر وقت کے نشان…
مگر انہی پرانی دیواروں کے بیچ… زندگی دھڑک رہی تھی…
کہیں گرم گرم نہاری بڑے دیگچوں میں کھول رہی تھی…
کہیں سیخ کبابوں سے اٹھتا دھواں ہوا میں گھل رہا تھا…
کہیں تازہ تندوری نان تنور کی دیواروں سے لگے پک رہے تھے…
بھائی… یہ جگہ تو بہت خطرناک ہے…
ہیوک نے سنجیدگی سے کہا…
میں یہاں اپنے diet plans بھول جاؤں گا…
سومین بےاختیار ہنس پڑا…
ایک طرف سے قلفی والے کی آواز آئی…
دوسری طرف چائے والے کے گرد رش لگا ہوا تھا…
اُبلتی دودھ پتی کی خوشبو الگ ہی نشہ پیدا کر رہی تھی…
رین یون خاموشی سے اردگرد دیکھ رہا تھا…
اسلام آباد کی نسبت… لاہور مختلف تھا…
زیادہ شور… زیادہ رنگ… زیادہ زندگی… اور شاید…
زیادہ دل بھی…
اوپر آسمان پر رات پھیل چکی تھی…
نیچے گوالمنڈی کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں…
پِھر وہ سب ایک بڑی سی جگہ پر بیٹھ گئے…
چاروں طرف روشنیاں… پرانی عمارتیں… اور ہر طرف سے آتی لاہوری کھانوں کی خوشبو…
ویٹر نے مینو رکھا…
سب نے اٹھا کر دیکھا…
کچھ سمجھ آیا… کچھ نہیں…
سوہان نے منیجر کو دیکھا…
بھائی اس میں سے کیا منگوائیں…؟
منیجر نے کہا نہاری… پائے… حلیم… لاہوری چکن… اور قورمہ…
سب…؟ سوہان فوراََ بولا۔۔
سب… منیجر نے حیرانی سے سوہان کی طرف دیکھا۔۔
سوہان نے ہاتھ اٹھایا…
بھائی مجھے یہاں سیٹل ہونا ہے… ہمیشہ کے لیے…
میں بھی… ہیوک بھی ساتھ بولا۔۔۔
تم دونوں کو ویزا نہیں ملے گا… تائيجون نے کہا
تو شادی کر لیں گے یہاں… سوہان نے کہا۔۔
جے کیونگ بولا تو صرف کھانا کھانے کی وجہ سے یہاں شادی کرلے گا؟؟
سوہان فوراََ بولا۔۔۔ ہاں۔۔کھانے کے لیے کچھ بھی۔۔۔
پاگل۔۔ سیونگ پھر بولا۔۔
پِھر کھانا آگیا۔۔…
میز پر ایک سے بڑھ کر ایک چیز رکھی گئی…
ہیوک نے پہلا نوالہ لیا…
پھر رک گیا…
پھر آہستہ سے بولا…
بھائی…
تائیجون نے کہا کیا ہوا…؟
ہیوک نے پوچھا۔۔ یہ… یہ کیا ہے…؟
منیجر نے بتایا نہاری…
ہیوک نے مزے سے نوالہ لیتے کہا یہ… دنیا کی بہترین چیز ہے…
سوہان نے فوراً اپنی پلیٹ اپنی طرف کھینچ لی…
میری ہے یہ…
ہیوک چیخا ابے…
سوہان نے کہا پہلے آؤ پہلے پاؤ…
تائیجون نے بیچ میں ہاتھ ڈالا…
دونوں ہٹو…
اور آدھی پلیٹ اپنی طرف کر لی…
سیونگ نے ماتھے پر ہاتھ رکھا…
اتنا سارا رکھا ہے یہاں لیکن پھر بھی لڑنا ایک پلٹ کے پیچھے ہی ہے۔۔۔
رین یون خاموشی سے کھا رہا تھا…
مگر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی…
ان سب کو دیکھ کر…
جے کیونگ نے قورمہ چکھا…
پھر ہان وو کی طرف دیکھا…
یہ لو… چکھو…
ہان وو نے ہلکے سے انکار میں سر ہلایا…
جے کیونگ نے اصرار نہیں کیا…
مگر ایک لمحے بعد خود ہی آہستہ سے بولا…
آج بادشاہی مسجد میں… تم بہت خاموش تھے…
ہان وو نے کچھ نہیں کہا…
جے کیونگ نے بھی مزید نہیں پوچھا… اور کھانے میں مصروف ہوگیا۔۔۔
رات گہری ہونے لگی…
فوڈ سٹریٹ کی روشنیاں اب اور تیز لگ رہی تھیں…
واپسی پر سوہان کا قدم لڑکھڑایا…
تائیجون نے تھام لیا…
کیا ہوا…؟
سوہان نے پیٹ پر ہاتھ رکھا…
بھائی… بہت کھا لیا…
تائیجون نے فوراً کہا تو اپنا پیٹ سمجھ کر کھانا چاہیے تھا نہ۔۔
بھائی پیٹ نے پہلے بتایا ہی نہیں… سوہان نے معصومیت سے کہا
ہاں پیٹ بتایا گیا نا تُجھے کہ پیٹ کا پیٹ بڑھ گیا ہے۔۔۔
ہاں اور نہیں تو کیا۔۔۔؟ سوہان نے کہا
ابے ہٹ بھاگ اِدھر سے۔۔۔ تائیجون نے سوہان ہاتھ چھوڑ دیا…
سوہان لڑکھڑایا… ابے پکڑو… گر جاؤنگا میں۔۔۔ سوہان نے فوراً بازو پکڑ لیا…
ہٹ جا نہیں تو سچ میں گرا دونگا۔۔ ٹائیجون نے اپنے بازوں سے سوہان کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا۔۔
نہیں… بھائی میں سچ میں گر جاؤں گا۔۔ سوہان نے معصومیت سے کہا
بس ڈرامے کروا لو۔۔۔ ٹائیجون کہتا تیزی سے آگے گاڑی کی طرف نکل گیا۔۔
ہیوک پیچھے سے ہنستا ہوا آیا…
یار… میں نے روکا تھا تجھے…
سوہان نے پلٹ کر دیکھا… تو نے کب روکا…؟
جب مینیجر نے کہا تھا… یہ نہاری بہت بھاری ہے…
وہ تو نے اپنے لیے کہا تھا… میرے لیے نہیں…
ہیوک لاپروائی سے بولا ایک ہی بات ہے…
بالکل نہیں ہے…
سومین بھی پیچھے آیا، تو کیا اب وہ تیرا ہاتھ پکڑ کر روکتا تُجھے، وہ بس چند قدم ہی اُن کے پیچھے تھا۔۔اُن کی ساری باتیں سن رہا تھا۔۔۔
ہاں اور نہیں تو کیا۔۔۔
سیونگ نے آگے سے آواز لگائی…
تم دونوں چلو گے بھی…؟
ہیوک فوراََ بولا یہ چل نہیں پا رہا…
سیونگ نے پلٹ کر دیکھا… سوہان…؟
سوہان نے معصوم چہرہ بنایا… بھائی… پیٹ بھاری ہے…
سیونگ نے ایک لمحہ اسے دیکھا… پھر بے تاثر انداز میں بولا… چلتے رہو… ہضم ہو جائے گا…
اور آگے بڑھ گیا…
سب کے سب بے رحم ہو۔۔ میری فکر ہی نہیں ہے کِسی کو۔۔۔
تو کب بڑا ہوگا سوہان۔۔۔ جے کیونگ پیچھے سے کہتا ہنسا۔۔۔ وہ اُن کے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔۔۔
اگلی بار کھانا کم کھانا… سومین نے سوہان سے کہا
اگلی بار بھی یہی ہوگا… تُم لوگوں کو کونسا فرق پڑتا ہے۔۔۔ سوہان نے کسی ضدی بچے کی طرح کہا
ابے تیرے پیٹ ہے یا ہمارا۔۔۔ ہیوک نے سوہان کو گھور کے دیکھا۔۔۔
تُم سب بس جلتے ہو مُجھے سے۔۔۔ سوہان نے منہ بنایا
ابے اب جلنے والی کونسی بات آگئی ؟؟؟ ہیوک نے ناگواری سے کہا
سومین نے فوراً ٹوکا، ابے اس سے بحث مت کر پاگل ہے یہ۔۔۔ جلدی سے پکڑ اس کو، اور گاڑی تک لے جا کر اُس میں ٹوس دے اس کو۔۔۔۔
ہاں پلز۔۔۔ مُجھ سے بلکل چلا نہیں جارہا۔۔۔ سوہان نے بیچاری سے کہا
کوئی کُچھ بھی ہو پر تیرے طرح بےشرم نہیں ہو۔۔ ہیوک کہتا، اُس کو پکڑتا لے جانے لگا۔۔۔
سیونگ اور تائیجون تو گاڑی کی طرف پہنچ چکے تھے۔۔
سوہان ہیوک اور سومین کے پیچھے ہی جے کیونگ اور ہان وو تھے، اور رین یون آخر میں آ رہا تھا…
پِھر سوہان، ہیوک، سومین اور جے کیونگ بھی گاڑی تک پہنچ گئے۔۔۔
ہاں وو اتنا آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ رین یون نے اُسے دیکھ ٹوکا۔۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟
اتنا بھاری کھانا کھانے کی عادت نہیں ہے نہ۔۔ ہان وو نے دھیرے سے کہا
رین یون نے اسے دیکھا… پھر ہلکا سا مسکرایا…
تم بھی سوہان کی طرح نکلے…
نہیں… مُجھے معلوم تھا، میں نے زیادہ بھی کھایا۔۔ لیکن پھر بھی ایسا محسوس ہورہا ہے، کہ بہت زیادہ کھا لیا۔۔۔
رین یون نے اسے ایک نظر دیکھا…
چلو ہوٹل جا کر آرام کر لینا۔۔۔
ہمم۔۔ ہان وو سر ہلاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
رین یون اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا…
وہ بھی گاڑی کی طرف بڑھ گیا…
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے سیونگ سے کہا۔۔۔
اتنے سال ہوگئے اسے ہمارے ساتھ لیکن اس کے مزاج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔۔۔
کس کی بات کر رہے ہو ؟؟ سیونگ نے ناسمجھی سے کہا
ہان وو کی۔۔۔ کبھی مذاق نہیں کرتا، کبھی کوئی فضول بات نہیں کرتا… کبھی اونچی آواز میں ہنسنا نہیں… رین یون نے کہا
نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔۔ ہان وو میں بہت کچھ بدلا ہے، پہلے تو وہ ہنستا بھی نہیں تھا۔۔۔ لیکن اب ہمارے ساتھ ہوتا ہے تو ہنستا ہے۔۔ بس مذاق نہیں کرتا۔۔۔ زیادہ فضول باتیں بھی کرنے کی عادت نہیں ہے اُسے۔۔ نہ ہی اُسے اتنا زیادہ گھومنے پھیرنے کی عادت ہے، اتنے سالوں میں… ہان وو بدلا تو بہت کچھ تھا… مگر ایک چیز آج بھی ویسی ہی تھی… وہ اپنے احساسات… اپنے اندر ہی رکھتا تھا…
ہمم۔۔۔ یہ تو ہے۔۔۔ رین یون نے کہا
سیونگ ہلکا سا ہنسا… پھر آہستہ سے بولا…
اور اب مجھے نہیں لگتا کہ اُس میں کوئی خاص چینج آئے گا… اب تم خود کو ہی دیکھ لو…
تمہیں بھی کہاں اتنا مستی مزاق پسند ہے…
پھر اُس نے جے کیونگ کی طرف دیکھا۔۔
اور اِسے دیکھ لو… کتنا کھڑوس ہے…
سوہان کو دیکھ لو… ایک نمبر کا بچہ… ہر وقت الٹی سیدھی باتیں…
اور تائیجون… اُس کو دیکھ لو… ہر وقت مذاق… کبھی سنجیدہ ہی نہیں ہوتا…
پھر سومین کو دیکھ لو…
ہر بات کا الٹا جواب تیار ہوتا ہے اُس کے پاس…
یہ سب… بس اِن سب کا مزاج ہے… اور شاید…
انسان کا اصل مزاج کبھی بدلتا نہیں…
رین یون نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا…
وہ سب ٹھیک ہے… لیکن تم یہ بھی دیکھو…
میں جب اِن کے ساتھ ہوتا ہوں تو مستی مذاق کرتا ہوں…
جے کیونگ بھی ہمارے ساتھ ہوتا ہے تو ہنستا ہے… مذاق کرتا ہے…
تائیجون بھی کبھی کسی سیریز بات پر سیریز ہو جاتا ہے…
اور سوہان… وہ صرف ہمارے سامنے ایسا ہے…
سیونگ خاموشی سے اُس کی بات سنتا رہا۔۔
رین یون نے آہستہ سے دوبارہ کہا…
مگر ہان وو…
وہ جیسے ہر وقت اپنے اردگرد ایک دیوار بنا کر رکھتا ہے… کبھی کسی کو اُس کے اندر آنے ہی نہیں دیتا…
گاڑی کی ہلکی روشنی ہان وو کے چہرے پر پڑ رہی تھی…
وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا… اُس تک ان کی آواز نہیں پہنچ رہی تھی۔۔۔
سیونگ دوبارہ بولا… اُس کا مزاج ہی ایسا ہے۔۔۔
گاڑی میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی…
سامنے سوہان اب بھی ہیوک سے الجھ رہا تھا…
میں نے کہا تھا نا مجھے ونڈو سیٹ چاہیے…
اور میں نے کہا تھا پہلے آؤ پہلے پاؤ… ہیوک نے فوراً جواب دیا…
یہ میری عزت کا مسئلہ ہے…
تیری کوئی عزت نہیں ہے… تائیجون نے فوراً کہا…
ابے یار… ہٹ جا۔۔۔ بھائی دیکھو اسے بولو ہٹ نے۔۔۔ سوہان نے منہ بنایا…
سیونگ پھر بولا ہٹ جاؤ نہ تُم لوگ بچے کے ساتھ بچے بن جاتے ہو۔۔۔
بین۔۔۔ بھائی۔۔ سوہان چیخا۔۔۔
اور باقی سب ہسنے لگے۔۔۔

+++++++++++++

رات کے وقت ہوٹل کے کمرے میں ہلکی سی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی…
باہر لاہور کی سڑکیں شاید ابھی بھی جاگ رہی تھیں…
مگر کمرے کے اندر… مکمل خاموشی تھی…
رین یون اپنے بیڈ پر بیٹھا تھا…
آنکھیں کھلی ہوئی تھیں…
نیند اُس سے جیسے بہت دور جا چکی تھی…
اور عجیب بات یہ تھی…
اُسے بار بار اُس لڑکی کی یاد آ رہی تھی…
وہ اکثر اُس کے بارے میں سوچتا تھا…
روز…
بغیر کسی وجہ کے…
مگر ہر بار ایک ہی چیز ہوتی…
اُسے اُس لڑکی کا چہرہ یاد ہی نہیں آتا تھا…
جیسے اُس کی یاد میں صرف اُس کی آواز رہ گئی ہو…
اُس کے الفاظ…
اُس کی آنکھوں کا احساس…
مگر چہرہ…؟
دھندلا… بالکل دھندلا…
رین یون نے آہستہ سے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کی طرف دیکھا…
وہی قرآن… انگلش ترجمے کے ساتھ…
جو اُس لڑکی نے اُسے دیا تھا…
ابھی تک اُس نے اُسے کھولنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی…
بس ساتھ لیے پھر رہا تھا…
جیسے کوئی انجان چیز…
جو اُسے اپنی طرف کھینچ تو رہی تھی…
مگر وہ خود اُس کے قریب جانے سے ہچکچا رہا تھا…
اُس نے کتاب کو انگلیوں کے درمیان گھمایا…
پھر خاموشی سے سوچنے لگا…
اُس نے مجھے اپنے مذہب کی کتاب کیوں دی…؟
وہ چاہتی کیا ہے…؟
کیا واقعی…
اِس میں میرے سوالوں کے جواب ہیں…؟
اُس کے ذہن میں پھر لڑکی کی آواز گونجی…
اِسے پورا پڑھیے گا… جب بھی موقع ملے…
رین یون نے آہستہ سے قرآن کو اپنے سینے سے لگا لیا…
اور آنکھیں بند کر لیں…
وہ اُسے پڑھنا نہیں چاہتا تھا…
مگر شاید… چاہتا بھی تھا…
وہ اُسے خود سے دور کرنا چاہتا تھا…
مگر کر نہیں پا رہا تھا…
کیونکہ… وہ اُس نے دیا تھا…
اُس لڑکی نے… جس کا چہرہ اُسے یاد نہیں تھا…
رین یون نے بےاختیار کتاب کو اور مضبوطی سے تھام لیا…
اُسے خود پر غصہ بھی آ رہا تھا…
ایک اجنبی لڑکی… چند ملاقاتیں… چند باتیں…
پھر کیوں…؟
کیوں اُس کے دیے ہوئے ایک قرآن کو وہ ایسے پکڑے بیٹھا تھا…
جیسے وہ کوئی عام کتاب نہ ہو…؟
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا…
وہ قرآن کو کھولنا نہیں چاہتا تھا…
کیونکہ اُسے ڈر تھا…
اگر واقعی…
اُس میں اُس کے سوالوں کے جواب ہوئے تو…؟
اور اگر نہ ہوئے تو…؟
دونوں باتیں اُسے بےچین کر رہی تھیں…
کمرے کی مدھم روشنی میں وہ خاموش بیٹھا رہا…
قرآن اُس کے سینے سے لگا ہوا تھا…
اور شاید… زندگی میں پہلی بار…
اُسے کسی چیز سے اتنا ڈر لگ رہا تھا…
جتنا سکون… اُس کے قریب محسوس ہو رہا تھا…

+++++++++++++++

جے کیونگ گہری نیند میں تھا…
جب اچانک… دروازہ کھلنے کی ہلکی سی آواز پر اُس کی آنکھ کھل گئی…
اُس نے نیم غنودگی میں سر اٹھایا… اور دھندلی نظروں سے سامنے دیکھا…
ہان وو کا بیڈ خالی تھا…
جے کیونگ اٹھ بیٹھا…
یہ اس وقت کہاں ہے…؟
کہاں گیا۔۔۔؟؟
وہ جلدی سے اٹھا… چپل پہنی… اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا…
راہداری خاموش تھی…
ہلکی روشنی میں آگے ہان وو کا سایہ نظر آیا…
وہ لفٹ کی طرف جا رہا تھا…
جے کیونگ نے قدم تیز کیے… لفٹ تک پہنچا…
ہان وو اندر جا چکا تھا…
جے کیونگ نے دوسری لفٹ لی… لابی میں پہنچا تو…
ہان وو کہیں نہیں تھا…
جے کیونگ نے چاروں طرف نظر دوڑائی…
رات کے اس وقت بھی ہوٹل میں بہت چہل پہل تھی لوگ آرہا تھے جارہے تھے ویٹر اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے، ریسپشن پر بیٹھا لڑکا کال میں مصروف تھا۔۔۔ سب ہی اپنے اپنے کاموں میں لگے تھے۔۔
کہاں گیا یہ…؟ شاید باہر…؟
وہ شیشے کے دروازے کی طرف بڑھا…
باہر رات ٹھنڈی تھی… سڑک پر گاڑیاں کم تھیں…
مگر لاہور… اب بھی پوری طرح سویا نہیں تھا…
باہر بھی کافی چہل پہل تھی۔۔۔ گاڑیاں آرہی تھی جارہی تھی لوگ اپنے دکان پر بیٹھتے تھے۔۔
جے کیونگ نے گردن گھما کر اردگرد دیکھا…
ہان وو…؟
وہ کہیں نہیں نظر آیا۔۔۔؟؟ کہاں گیا۔۔؟؟
جے کیونگ نے ادھر ادھر دیکھا…
پھر بائیں طرف…
ہان وو… اُسے وہ دور دور تک نظر نہیں آیا۔۔۔
ہان وو…؟
وہ سوچتے ہوئے روڈ کراس کرنے سڑک کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اچانک
تیز ہارن کی آواز فضا میں گونجی…
جے کیونگ نے چونک کر سر اٹھایا…
اور اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھیں پھیل گئیں…
ایک گاڑی پوری رفتار سے اُس کی طرف آ رہی تھی…
اُس کے قدم جیسے زمین میں جم گئے…
سانس رک گیا… اُسے جیسے کُچھ سمجھ نہیں آیا،
اُس کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے… وہ ہل بھی نہیں سکا…
گاڑی اتنی قریب آ چکی تھی کہ اُس کی ہیڈلائٹس کی تیز روشنی سیدھا اُس کی آنکھوں میں پڑ رہی تھی…
بس ایک لمحہ…
پھر گاڑی اُس کے بالکل قریب سے گزری…
ہوا کا شدید جھونکا اُس کے جسم سے ٹکرایا…
جے کیونگ پیچھے لڑکھڑا گیا…
دل بری طرح دھڑک رہا تھا…
سانس بےترتیب ہو چکی تھی…
کچھ سیکنڈ… صرف چند سیکنڈ… بس وہیں کھڑا رہا…
پھر آہستہ آہستہ فٹ پاتھ کی طرف ہٹا…
اور ہوٹل کے دیوار کا سہارا لے وہیں سائڈ پر بیٹھ گیا…
ہاتھ ابھی تک کانپ رہے تھے…
اگر وہ ایک قدم اور آگے ہوتا…
بس ایک قدم…
اس کے ذہن میں یہ خیال آیا…
اور ساتھ ہی ایک اور…
اگر میں مر جاتا…
تو…؟
وہ رک گیا…
یہ سوال پہلے کبھی نہیں آیا تھا…
کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی…
مگر آج…
آج وہ لمحہ اتنا قریب تھا…
اتنا حقیقی…
اگر وہ گاڑی پاس سے گزری نہ ہوتی…
تو ابھی…
وہ یہاں نہ ہوتا…
مرنے کے بعد…
کیا ہوتا…؟
جے کیونگ نے آسمان کی طرف دیکھا…
رات کا اندھیرا… اور چند ستارے…
کوئی جواب نہیں تھا وہاں…
وہ سوچنے لگا…
جسم ختم ہو جاتا… یہ تو سمجھ آتا ہے…
مگر…
میں…؟
جو سوچتا ہے… محسوس کرتا ہے… یاد کرتا ہے…
وہ کہاں جاتا…؟
کیا وہ بھی ختم ہو جاتا…؟
بس… کچھ نہیں…؟
اندھیرا…؟
ہمیشہ کے لیے…؟
اس خیال نے اسے اندر سے ہلا دیا…
ہمیشہ کا اندھیرا…
ہمیشہ کی خاموشی…
جیسے کبھی تھا ہی نہیں…
جیسے کچھ بھی… کوئی بھی… کہیں بھی… نہیں…
اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا…
زندگی تھی… گزر رہی تھی…
کبھی یہ سوال ہی نہیں اٹھا…
مگر آج… آج یہ کیا ہوگیا تھا۔۔۔
وہ اٹھا… آہستہ آہستہ… قدم ڈگمگا رہے تھے…
اس نے ایک بار پھر اس سڑک کو دیکھا…
جہاں چند لمحے پہلے… سب ختم ہو سکتا تھا…
جے کیونگ ہوٹل کے اندر داخل ہوا…
لابی میں ٹھنڈی ہوا تھی…
مگر اسے محسوس نہیں ہوئی…
وہ لفٹ کی طرف بڑھا…
اور اچانک رک گیا…
ابھی ابھی کیا ہوا تھا…؟
وہ… اکیلا… رات کو… سڑک پر…؟
کوریا میں تو گھر سے باہر نکلنا بھی اتنا آسان نہیں تھا…
گارڈ… پروٹوکول… گاڑیاں… مینیجر کی اجازت…
ہر قدم پر کوئی نہ کوئی ساتھ ہوتا تھا…
اور آج…
وہ بغیر سوچے… بغیر کسی کو بتائے…
اکیلا سڑک پر نکل گیا…
جیسے عام آدمی…
جیسے… کوئی بھی…
جے کیونگ کے ذہن میں ایک عجیب خیال آیا…
کوریا میں وہ اسٹار تھا…
گارڈ تھے… پروٹوکول تھا… ہر طرف حفاظت تھی…
مگر آج…
کوئی نہیں تھا…
اور وہ بھول گیا…
بھول گیا کہ سڑک خطرناک ہوتی ہے…
بھول گیا کہ گاڑیاں آتی ہیں…
بھول گیا کہ وہ اکیلا ہے…
اور پھر وہی سوال…
اگر وہ گاڑی پاس سے گزری نہ ہوتی…
تو کیا اس کا اسٹار ہونا کام آتا…؟
کیا اس کی شہرت کام آتی…؟
کیا اس کی گاڑیاں… گارڈ… پروٹوکول…
کچھ بھی کام آتا…؟
نہیں…
ایک لمحے میں…
سب ختم…
اسٹار بھی… شہرت بھی… سب بھی…
جے کیونگ لفٹ میں داخل ہوا…
دروازہ بند ہوا…
لیفٹ میں لگے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا…
وہی چہرہ… جو لاکھوں لوگ جانتے تھے…
مگر آج…
اس چہرے پر صرف ایک سوال تھا…
جو کوئی نہیں جانتا تھا…
مرنے کے بعد…
یہ چہرہ بھی کہیں نہیں ہوگا…
تو پھر…
میں کہاں ہوں گا…؟
لفٹ رکی…
دروازہ کھلا…
جے کیونگ باہر نکلا…
راہداری خاموش تھی…
وہ آہستہ آہستہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا…
دروازہ کھولا…
اندر آیا…
ہان وو کا بیڈ ابھی خالی تھا…
جے کیونگ اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا…
ہاتھ ابھی تک ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے…
اس نے انہیں دیکھا…
پھر آہستہ سے لیٹ گیا…
چھت کو تکتا رہا…
پِھر وہ بے چینی سے اٹھ کھڑا ہوا کھڑکی کے پاس گیا۔۔۔ پِھر اُس نے سامنے سڑک کو دیکھا…
لاہور کی رات اب بھی زندہ تھی…
کہیں دور چائے کے ہوٹل پر لوگ بیٹھے تھے…
کسی بائیک والے نے زور سے ہارن دیا…
دو آدمی سڑک کنارے کھڑے ہنس رہے تھے…
اور عجیب بات یہ تھی…
یہ سب اُسے unfamiliar ہونے کے باوجود… ڈرا نہیں رہا تھا…
کوریا مختلف تھا…
وہاں سڑکوں پر عجیب سی خاموشی ہوتی تھی…
ہر چیز رولز کے مطابق… ہر انسان اپنی لائن میں… اپنی رفتار میں… یہاں تک کہ سڑک کراس کرنے کا بھی وقت مقرر ہوتا تھا…
سگنل ریڈ ہو… تو پوری خالی سڑک پر بھی کوئی قدم نہیں رکھتا… ہر چیز منظم تھی
اور یہاں… پاکستان میں… لوگ رولز توڑتے تھے…
بےتحاشہ ہارن بجاتے تھے… سڑکیں noisy تھیں…
بےترتیب تھیں
یہاں لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے تھے…
بات کرتے تھے… ہنستے تھے…
کوریا میں اکثر لوگ ایک دوسرے کے برابر سے گزر جاتے تھے… جیسے کسی کو کسی سے فرق ہی نہ پڑتا ہو…
جے کیونگ نے گہری سانس لی…
اس سے یہی غلطی ہوگئی تھی، وہ بنا سمجھے روڈ کراس کرنے لگا تھا یہ اُس کا کوریا نہیں تھا یہ لاہور تھا۔۔۔
ذہن میں کوریا آیا…
وہاں پیدل چلنے والوں کے لیے الگ راستے تھے…
زیبرا کراسنگ… سگنل… انڈرپاس…
سب کچھ ترتیب سے…
پیدل چلنے والا سڑک پر نہیں اترتا…
جب تک سگنل سبز نہ ہو…
اور یہاں…؟
جے کیونگ کو یاد آیا… آج شام گوالمنڈی میں…
لوگ سیدھے سڑک پر اتر رہے تھے…
گاڑیوں کے بیچ سے نکل رہے تھے…
کوئی انڈرپاس نہیں… کوئی زیبرا کراسنگ نہیں…
بس… ہمت کرو اور پار کر لو… مگر پھر…
ایک بات یاد آئی…
دن میں جب وہ سب بادشاہی مسجد سے واپس آ رہے تھے…
سڑک کے اوپر ایک پل تھا…
لوہے کی سیڑھیاں… اوپر پیدل راستہ… دوسری طرف اترو…
منیجر نے بتایا تھا…
یہ فٹ اوور برج ہے… یہاں سڑک پار اسی سے کرتے ہیں…
مگر…
نیچے پھر بھی لوگ سڑک پر سے ہی پار کر رہے تھے…
پل خالی تھا…
جے کیونگ کے ذہن میں ایک عجیب سی بات آئی…
پل بنایا گیا…
تاکہ لوگ محفوظ رہیں…
مگر لوگوں نے پل کو نظرانداز کر دیا…
اور خطرے کو معمول بنا لیا…
اور میں…؟
جے کیونگ نے خود سے پوچھا…
میں بھی تو وہی کر رہا تھا…
پل تھا… راستہ تھا… محفوظ راستہ…
مگر میں سیدھا سڑک پر اتر گیا…
اس نے پھر اپنا سر جھکٹا دیا۔۔۔ اُس کی ہی غلطی تھی شکر تھا کہ وہ بچ گیا۔۔۔

++++++++++++++++

رات کافی گزر چکی تھی…
کمرے کی ہلکی روشنی میں سومین خاموش بیٹھا تھا…
سوہان ہمیشہ کی طرح بےخبری سے سو رہا تھا…
اور اُس کے ہاتھ میں کھلا ہوا قرآن تھا…
اس نے ابھی ابھی قرآن کھولا تھا، اور اب وہ آگے آیت سے پڑھنے والا تھا۔۔۔
پِھر اُس نے آہستہ آہستہ ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔۔۔
“And who believe in what has been revealed to you, and what was revealed before you, and of the Hereafter they are certain.”
( اور جو ایمان لاتے ہیں اُس (کتاب) پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی… اور اُن (کتابوں) پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئیں… اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں…)
سومین کی نظریں وہیں رک گئیں…
پہلی کتابیں…؟
اور بھی کتابیں ہیں…؟
کون سی…؟
وہ چند لمحے خاموش بیٹھا سوچتا رہا…
پھر فوراً اُس نے فون اٹھایا… اور باسط کو میسج سینڈ کر دیا۔۔
قرآن کے علاوہ بھی کوئی کتابیں ہیں…؟
میسج سینڈ کرنے کے بعد وہ دوبارہ قرآن کی طرف متوجہ ہوگیا…
پھر اُس نے اگلی آیت پڑھنی شروع کی…
پھر اُس نے آہستہ سے اگلی آیت پڑھی…
“These are upon guidance from their Lord, and it is those who are the successful.”
(یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں… اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں…)
سومین کچھ لمحے خاموش رہا…
پھر اُس نے دوبارہ آخری لفظ پڑھا…
“successful…”
کامیاب…
وہ ہلکا سا الجھا…
کامیابی…؟
مطلب کس طرح کی کامیابی…؟
پیسہ…؟ مشہور ہونا…؟ یا پھر کچھ اور…؟
پھر اُس نے پچھلی آیات دوبارہ دیکھیں…
غیب پر ایمان… نماز… اللہ کی دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرنا… پہلی کتابوں پر ایمان… آخرت پر یقین…
پھر اُس نے دوبارہ لفظ پڑھا۔۔۔۔
کامیابی…
یہ لوگ کامیاب ہیں…؟
سومین کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
یہ عجیب تھا…
کیونکہ اُس کی دنیا میں کامیابی کا مطلب بالکل مختلف تھا…
مشہور ہونا… امیر ہونا… لوگ تمہیں جانتے ہوں… تمہارا نام ہو… تم جو چاہو خرید سکو… لوگ تمہیں admire کریں…
مگر یہاں…کامیابی کا تعلق کسی اور چیز سے تھا…
یقین…؟
وہ کچھ دیر سوچتا رہا…
پھر آہستہ سے خود سے بولا…
تو قرآن کے مطابق… کامیاب انسان وہ نہیں… جس کے پاس سب کچھ ہو…؟
یہ خیال اُس کے لیے نیا تھا…
بہت نیا…
پھر اُس نے فون اٹھایا اور باسط کو ایک اور میسج بھیجا۔۔۔
قرآن میں کامیابی کا مطلب exactly کیا ہے…؟ کیونکہ یہاں تو definition ہی الگ لگ رہی ہے…
میسج سینڈ کرنے کے بعد وہ دوبارہ قرآن کی طرف دیکھنے لگا…
پھر اُس کی نظر اگلی آیت پر گئی…
And as for those who disbelieve — it is all the same whether you warn them or do not warn them — they will not believe.
( بے شک جن لوگوں نے انکار کیا… اُن کے لیے برابر ہے کہ آپ اُنہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں… وہ ایمان نہیں لائیں گے…)
سومین کچھ لمحے خاموش بیٹھا رہا…
پھر اُس نے آہستہ سے خود سے کہا…
یہ کیسے ہو سکتا ہے…؟
اُس نے دوبارہ آیت پڑھی…
وہ ایمان نہیں لائیں گے…
یہ جملہ اُس کے ذہن میں اٹک گیا…
اُس کے لیے disbelief کا مطلب کچھ اور تھا…
اُس کے مطابق ہر انسان سوال کرتا ہے… سوچتا ہے… پھر کسی نتیجے پر پہنچتا ہے…
تو پھر قرآن اتنے یقین سے کیسے کہہ رہا تھا کہ کچھ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے…؟
اگر کسی کو بس صحیح طرح سمجھایا نہ گیا ہو تو…؟
یا شاید… اُس کے پاس ماننے کی کوئی وجہ نہ ہو…؟
وہ سوچنے لگا…
کیونکہ اُس کے اپنے ذہن میں بھی تو کتنے سوال تھے…
وہ خود بھی تو blind faith پر یقین نہیں رکھتا تھا…
پھر یہ آیت ایسے کیوں لگ رہی تھی… جیسے قرآن انسان کے اندر کی کسی اور چیز کی بات کر رہا ہو…؟
سومین نے انگلی آیت کے لفظوں پر پھیری…
پھر دھیرے سے بڑبڑایا…
کیا واقعی کچھ لوگ… سچ جان کر بھی نہیں مانتے…؟
یہ خیال اُسے عجیب لگا…
کیونکہ اُس کے لیے truth ہمیشہ evidence سے جڑی چیز تھی…
مگر یہاں… بات جیسے دل کی ہو رہی تھی…
وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا…
کمرے میں صرف مدھم روشنی تھی… اور سوہان کی بےفکر نیند…
سومین نے ایک گہری سانس لی…
اُسے محسوس ہوا… یہ کتاب اُسے سکون سے زیادہ confusion دے رہی تھی…
مگر پھر بھی… وہ اگلی آیت پڑھنے سے خود کو روک نہیں پایا۔۔۔
پھر اُس نے اگلی آیت پڑھی…
اللہ نے اُن کے دلوں پر اور اُن کی سماعت پر مہر لگا دی ہے… اور اُن کی آنکھوں پر پردہ ہے… اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے…
سومین کی آنکھیں فوراً وہیں رک گئیں…
مہر لگا دی ہے…؟
وہ آہستہ سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا…
چہرے پر الجھن صاف نظر آ رہی تھی…
اگر اللہ نے خود دل بند کر دیے ہیں… پھر وہ مانیں کیسے…؟
یہ سوال فوراً اُس کے ذہن میں آیا…
اُس نے دوبارہ آیت پڑھی…
پھر ایک بار اور…
مگر جتنا وہ پڑھ رہا تھا… اُتنا ہی confuse ہو رہا تھا…
پھر choice کہاں گئی…؟
اگر کسی کا دل seal کر دیا جائے… تو پھر وہ responsible کیسے ہوا…؟
وہ آہستہ سے بڑبڑایا…
اُس کے لیے یہ concept بالکل نیا تھا…
وہ ہمیشہ religion کو انسان کے decision کے طور پر دیکھتا آیا تھا…
سومین نے تھکے ہوئے انداز میں ہاتھ بالوں میں پھیرا…
یہ کتاب سیدھی بات کیوں نہیں کرتی…؟
وہ بےاختیار بول پڑا…
پھر خاموش ہو گیا…
کیونکہ عجیب بات یہ تھی…
وہ بند بھی نہیں کرنا چاہتا تھا…
ہر آیت کے بعد اُس کے ذہن میں نئے سوال آ رہے تھے…
سومین نے کچھ دیر خاموشی سے قرآن کو دیکھا…
پھر آہستہ سے اُسے بند کر دیا…
اُس کے ذہن میں ایک ساتھ اتنے سوال گھوم رہے تھے کہ مزید پڑھنے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی…
وہ کچھ لمحے ویسے ہی بیٹھا رہا…
پھر اچانک اُس نے فون اٹھایا…
باسط آن لائن نہیں تھا… مگر اُس نے پھر بھی چیٹ کھول لی…
انگلیاں کچھ لمحے کی بورڈ پر رکی رہیں…
جیسے اُسے سمجھ نہ آ رہا ہو… کہ بات کہاں سے شروع کرے…
پھر اُس نے ٹائپ کرنا شروع کیا…
تم لوگ قرآن میں “کامیابی” سے exactly کیا مراد لیتے ہو…؟
کیونکہ یہاں کامیابی کا مطلب fame، money یا peaceful life نہیں لگ رہا…
پھر یہ “آخرت پر یقین” والی بات…
اگر کوئی آخرت پر یقین نہ کرے تو کیا وہ automatically wrong ہے…؟
اور ایک بات اور…
قرآن کہتا ہے کچھ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے…
کیسے…؟
اگر کسی کو بس convince نہ کیا جا سکا ہو تو…؟
پھر اگلی آیت میں لکھا ہے کہ اللہ نے اُن کے دلوں پر مہر لگا دی…
اگر دل seal کر دیے جائیں…
تو پھر انسان responsible کیسے ہوا…؟
پھر choice کہاں گئی…؟

میسج سینڈ کرنے کے بعد سومین کافی دیر فون کو دیکھتا رہا…
پھر اُس نے آہستہ سے فون ایک طرف رکھا…
اور دوبارہ قرآن کی طرف دیکھا…
اور پھر قرآن بند کردیا۔۔۔۔

++++++++++++

کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا…
ہان وو اندر آیا تو اُس کی نظر فوراً جے کیونگ پر پڑی…
وہ بیڈ پر سیدھا لیٹا ہوا تھا… مگر سو نہیں رہا تھا…
آنکھیں چھت پر گھومتے پنکھے پر جمی ہوئی تھیں…
ہان وو چند لمحے اُسے دیکھتا رہا… پھر آہستہ سے بولا…
تم تو سو رہے تھے…؟ اُٹھتے کب۔۔؟؟
جے کیونگ جیسے چونک گیا…
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا…
کہاں گئے تھے تم…؟
ہان وو نے دروازہ بند کیا… پھر سکون سے جواب دیا…
نیند نہیں آ رہی تھی… تو ہوٹل کے ٹیرس پر چلا گیا تھا…
جے کیونگ کی بھنویں سکڑ گئیں…
لیکن… میں نے تو تمہیں لفٹ سے نیچے جاتے دیکھا تھا…
ہاں… ہان وو نے جوتے اتارتے ہوئے کہا، ریسپشن پر پوچھنے گیا تھا… کہ ٹیرس پر جانے کی اجازت ہے یا نہیں…
پھر اُس نے سر اٹھا کر جے کیونگ کو دیکھا…
لیکن تم میرا پیچھا کر رہے تھے…؟
نہیں… جے کیونگ نے فوراً کہا، بس… اتنی رات کو تم اچانک نکل گئے… تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا…
ہان وو نے مختصر سا سر ہلایا…
تم جاگ رہے ہوتے تو بتا کر جاتا…
وہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گیا… اور خاموشی سے جیکٹ اتارنے لگا…
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی پھیل گئی…
پھر جے کیونگ آہستہ سے بولا…
میں تمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے باہر نکل گیا تھا…
ہان وو کے ہاتھ ایک لمحے کو رکے…
اُس نے جے کیونگ کی طرف دیکھا…
پھر… میرا accident ہوتے ہوتے رہ گیا…
ہان وو چونکا  کیا…؟
جے کیونگ کی نظریں اب بھی کہیں کھوئی ہوئی تھیں…
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا…
چوٹ تو نہیں لگی…؟
نہیں…
وہ چند لمحے خاموش رہا…
پھر بہت آہستہ سے بولا…
لیکن… اگر میں مر جاتا تو…؟
ہان وو نے فوراً ناگواری سے کہا…
فضول باتیں مت کرو۔۔۔
میں سیریز ہوں… اگر میں مر جاتا تو…؟ پھر کیا ہوتا…؟
ہان وو نے گہری سانس لی…
ایک accident سے کوئی نہیں مرتا…
جے کیونگ نے فوراً اُس کی طرف دیکھا…
وہ بھی مرا تھا… وہ بائیک والا… یاد ہے…؟ جے کیونگ نے دھیرے سے کہا، ہماری آنکھوں کے سامنے…
ہان وو خاموش ہو گیا… وہ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا… پھر آہستہ سے اٹھا… اور آ کر اُس کے برابر بیٹھ گیا…
تم ٹھیک ہو…؟
جے کیونگ نے جواب نہیں دیا…
بس خالی نظروں سے سامنے دیکھتا رہا…
اگر میں مر جاتا تو…؟ وہ پھر بولا، میں کہاں جاتا…؟
ہان وو نے نظریں جھکا لیں…
کچھ نہیں ہوتا…
جے کیونگ نے فوراً اُس کی طرف دیکھا…
کیا مطلب… کچھ نہیں ہوتا…؟
اب اُس کی آواز میں بےچینی واضح تھی…
مرنے کے بعد… میرا کیا ہوتا…؟ میں کہاں جاتا…؟ میرا… کیا بنتا…؟
ہان وو کچھ لمحے خاموش رہا…
پھر آہستہ سے بولا…
۔جنت جاتے…
جے کیونگ کی پیشانی پر شکن آئی…
۔جنت…
ہمم…
ہان وو نے دھیمی آواز میں کہا…
۔جنت… اور جہنم…
مرنے کے بعد… سب کو وہیں جانا ہوتا ہے…
جے کیونگ خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا…
پھر آہستہ سے پوچھا…
جنت کیا ہوتا ہے…؟ یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔؟؟
ہان وو کچھ لمحے خاموش رہا… جیسے الفاظ سوچ رہا ہو… پھر اُس نے آہستہ سے کہا…
میرے بچپن میں… میری دادی مجھے جنت کے بارے میں بتایا کرتی تھیں…
جے کیونگ خاموشی سے سننے لگا…
وہ کہتی تھیں… وہاں نہ درد ہوتا ہے… نہ خوف… نہ تنہائی…
ہان وو کی آواز دھیمی تھی…
لوگ وہاں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوتے ہیں…
جے کیونگ کی نظریں اُس کے چہرے پر ٹک گئیں…
ہمیشہ کے لیے…؟
ہمم…
ہان وو نے ہلکا سا سر ہلایا…
اور کہتے ہیں… وہاں انسان اُن لوگوں سے دوبارہ ملتا ہے… جنہیں وہ کھو دیتا ہے…
جے کیونگ نے آہستہ سے پوچھا…
اور جہنم…؟
ہان وو کچھ دیر خاموش رہا…
پھر دھیرے سے بولا…
جہاں خدا سے ہمیشہ کے لیے دوری ہو…
جے کیونگ کی بھنویں سکڑ گئیں…
خدا سے دوری…؟
ہمم…
ہان وو نے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا…
چرچ میں پادری کہتے تھے… انسان صرف جسم نہیں ہوتا… وہ آہستہ سے بولا… اُس کے اندر روح بھی ہوتی ہے…
جے کیونگ خاموش بیٹھا رہا… ہان وو نے بات جاری رکھی…
اور جب انسان مرتا ہے… تو جسم یہیں رہ جاتا ہے…
پھر اُس نے جے کیونگ کی طرف دیکھا…
لیکن روح ختم نہیں ہوتی…
جے کیونگ کے چہرے پر اب بھی الجھن تھی…
تو… پھر وہ کہاں جاتی ہے…؟
ہان وو نے ہلکی سانس لی…
خدا کے پاس…
جے کیونگ کی نظریں اُس پر جم گئیں…
پھر…؟
جو خدا کو مانتا ہوگا۔۔ وہ جنت جائے گا… ہان وو نے آہستہ سے کہا…
جے کیونگ نے بھنویں سکیڑ لیں… اور جو نہیں مانتا…؟
ہان وو خاموش رہا کچھ دیر…
پھر بولا… جہنم…
جے کیونگ نے ایک لمحے کو کچھ نہیں کہا…
پھر آہستہ سے بولا…
تو کیا خدا کو مانا اتنا ضروری ہے۔۔۔؟؟
ہاں۔۔۔ ہان وو نے سر ہلایا۔۔۔
ہان وو نے ایک لمحہ لیا… پھر آہستہ سے بولا…
کیونکہ…
وہ رکا… جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو…
تم نے آج پوچھا نا… مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے…
جے کیونگ نے سر ہلایا… ہان وو نے کہا…
یہ سوال صرف تمہارا نہیں ہے… ہر انسان کے اندر یہ سوال ہے… کہیں نہ کہیں…
جے کیونگ خاموشی سے سنتا رہا… ہان وو آگے بولا…
اور بائبل کہتی ہے… خدا نے انسان کو اپنی صورت میں بنایا… مطلب… انسان کے اندر کچھ ہے…
جو خدا سے جڑا ہوا ہے… اور جب انسان اُس سے کٹ جاتا ہے… تو اندر سے خالی ہو جاتا ہے…
جے کیونگ نے آہستہ سے کہا…
خالی…؟
ہان وو نے اسے دیکھا…
تم نے کبھی محسوس کیا ہے…؟
کہ سب کچھ ہے… مگر پھر بھی کچھ نہیں ہے…؟
جے کیونگ کے ہونٹ کھلے رہ گئے… وہ جواب دینا چاہتا تھا… مگر الفاظ نہیں آئے… کیونکہ جواب… ہاں تھا…
ہمیشہ سے تھا… بس کبھی کسی نے پوچھا نہیں تھا…
ہان وو نے نظریں جھکا لیں…
میں نے بھی محسوس کیا ہے…
جے کیونگ نے حیرت سے اسے دیکھا…
ہان وو…؟
ہان وو نے کہا… شہرت ہے… پیسہ ہے… لوگ ہیں…
مگر کبھی کبھی رات کو… لگتا ہے… کہیں کوئی چیز ہے جو نہیں ملی…
جے کیونگ کی آنکھیں بھر آئیں…
ہان وو نے اوپر دیکھا…
بائبل میں لکھا ہے… ہمارا دل بے چین رہتا ہے…
جب تک خدا میں نہ ٹھہر جائے…
جے کیونگ نے آہستہ سے کہا… تو کیا خدا سچ میں ہے…؟
ہان وو نے ایک لمحہ لیا… پھر بہت دھیمی آواز میں بولا… میں یقین رکھتا ہوں کہ ہے…
کیوں…؟
ہان وو نے کھڑکی سے باہر دیکھا… لاہور کی رات تھی…
پھر آہستہ سے بولا…
کیونکہ آج… وہ گاڑی رکی…
جے کیونگ کا دل ایک لمحے کو ٹھہر گیا…
ہان وو نے اسے دیکھا…
اور تم یہاں بیٹھے ہو… یہ کافی نہیں ہے کیا…؟
جے کیونگ کی حیرانی سے اُسے دیکھتے رہا۔۔۔
پِھر ہان وو اُٹھ کر اپنے بیڈ پر آگیا۔۔۔
جے کیونگ نے لیٹتے ہوئے آہستہ سے کہا… ہان وو…
ہمم…
شکریہ…
ہان وو نے کوئی جواب نہیں دیا… بس اپنے بیڈ پر لیٹ گیا… آنکھیں بند کر لیں…
مگر ہونٹوں پر… بہت ہلکی سی… ایک مسکراہٹ تھی…

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *