TEHRAO BY HUMNA KHAN EPISODE :2

ٹھہراؤ قسط نمبر ؛٢

ازقلم حمنہ خان 

باب پنجم

ابو زر اور مہران کریم آج حویلی کے صحن میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ جبران کریم وہیں ایک چارپائی پر بیٹھا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں بلاشبہ ابو زر اور مہران پر تھیں، مگر ذہن کسی اور کام میں مصروف تھا۔
اس کے اردگرد ایک بڑی فوج موجود تھی، جنہیں وہ مختلف معاملات کے بارے میں ہدایات دے رہا تھا۔ یہ کوئی ضروری کام تھا، کیونکہ جبران کریم کے مہمان یہاں پہنچ چکے تھے۔
مہمانوں کی آمد کے ساتھ ہی مہران اور ابو زر وہاں سے چلے گئے۔ دونوں گاؤں کی طرف نکل پڑے تھے۔ یہ چاروں نوجوان جبران کریم کے دوست تھے۔

اسد امانت اللہ، ابو بکر، مرتضیٰ حسن، ظاہر ہاشم بخت اور ان کا مافیا دوست جبیران کریم خان۔
جبیران اس گاؤں میں بادشاہ سے کم نہ تھا۔ گاؤں کے بڑے بڑے فیصلے وہی کرتا تھا۔
باقی چاروں شہر میں رہتے تھے۔ اسد امانت اللہ اور مرتضیٰ حسن ڈاکٹر تھے، ابو بکر وکیل تھا، جبکہ ظاہر ہاشم بخت خود تو ریسٹورنٹ کا مالک نہیں تھا، مگر اس کا باپ تین بڑے ریسٹورنٹس کا مالک ضرور تھا۔
ظاہر ہاشم کا ایک بڑا بھائی تھا جو اس سے عمر میں بڑا تھا، اور ایک بہن تھی جو اس سے چھوٹی تھی۔

ظاہر ہاشم کا بڑا بھائی، باطن ہاشم، ان تینوں ریسٹورنٹس کو اکیلے ہی سنبھال رہا تھا۔ ظاہر ہاشم کی طرف سے ہمیشہ معذرت ہی رہی تھی، وہ بس گھر سے دور بھاگتا رہتا تھا، اور کاروبار سے بھی۔
نہ جانے کیوں، اسے پوری دنیا چھوڑ کر صرف گھر میں سکون نہیں ملتا تھا۔ سکون تو اسے ہر جگہ مل جاتا تھا اس کے گھر کے بغیر۔ فی الحال وہ جبران کریم کی حویلی میں آیا تھا۔
کچھ دیر پہلے سے اسے یہاں بھی بے سکونی سی محسوس ہو رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ بے سکونی پھر لوٹ آئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک چہرہ ٹھہر گیا تھا۔

شام کے پانچ بج رہے تھے۔
فبیحہ پریشان تھی۔ ابو زردار اتنی دیر تک کبھی گھر سے باہر نہیں رہتا تھا۔ ہر دن کی طرح آج بھی حادم شیرازی کی طبیعت صبح سے ہی ٹھیک نہیں تھی۔
“ابا، میں اسے دیکھتی ہوں۔ وہ مہران کے ساتھ ہی ہوگا، میں دیکھ آتی ہوں۔”
فبیحہ یہ کہہ کر حویلی کی طرف نکلی تھی۔
یہ پہلا بار تھا جب وہ اس حویلی جا رہی تھی۔ حویلی کے گیٹ پر وہ خاصی دیر کھڑی رہی وہ اندر جانے کے خیال سے ہی خوف زدہ تھی۔ پھر کسی نے اسے اندر آنے کو کہا تھا۔
دل کو مضبوط کر کے وہ اندر داخل ہو گئی تھی۔
وہ سب نشت گاہ میں بیٹھے تھے۔ فبیحہ دروازے پر ہی رک گئی تھی۔
ان سب کی آوازیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ جبران کریم کے بارے میں اس نے صرف سنا ہی تھا—اور اسے سب ایک طوفان کی طرح جانتے تھے۔

اور ایک دو مرتبہ اس نے جبران کریم کو دیکھا بھی تھا۔
اس کے بارے میں اس نے ابو زر اور مہران سے ہی سنا تھا۔
اس نے فبیحہ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔
آج اس نے بلیک سوٹ پہنا ہوا تھا۔ شفان دوپٹہ اس نے کندھوں پر رکھا تھا۔
حویلی میں جب بھی کوئی خاتون آتی، وہ شال اوڑھ کر ہی آیا کرتی تھی۔ یہ پہلی لڑکی تھی جو بال کھلے، اکیلی، اور جبران کریم کو خبر دیے بغیر حویلی کے اندر داخل ہوئی تھی۔
جبران کریم نے دروازے کے پیچھے کسی لڑکی کو کھڑا دیکھا تھا۔
“کون ہو تم؟ میں تم سے کہہ رہا ہوں، دروازے پر کیوں کھڑی ہو؟”
اس نے سخت لہجے میں کہا تھا۔
جبران کے علاوہ وہاں بیٹھے چاروں نوجوان بھی اسی لمحے اس کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
سب کی نظریں اس لڑکی پر ٹھہر گئیں تھی۔ وہ آہستہ آہستہ دروازے سے آگے بڑھی تھی، بالکل کسی چور کی طرح—جیسے کوئی چور پکڑا گیا ہو۔
“یہ تو صبح والی لڑکی ہے۔”
ابو بکر نے کہا تھا۔
“کون ہو تم؟”
جبران کریم نے یہ سوال دوسری بار دہرایا تھا۔
وہ سر جھکائے، بے حد گھبراہٹ کے عالم میں، ان سب کے سامنے نظریں نیچی کیے کھڑی تھی۔

 

جبران کریم نے ملازم کو آواز دی۔
“کون ہے یہ؟ اور اندر کیا کر رہی ہے؟”
“خان صاحب، یہ فبیحہ ہے… ابو زر کی بہن۔”
ملازم نے جواب دیا تھا۔
“حادم شیرازی کی بیٹی ہو آپ؟ آپ نے پہلے کیوں نہیں کہا؟”
جبران کے لہجے میں تم سے آپ تک کا فاصلہ پل بھر میں طے ہو گیا تھا۔
“ابو زر اتنی دیر تک باہر نہیں ہوتا۔ میں انہیں بلانے آئی تھی۔ ابا کی طبیعت خراب ہے، اسی لیے انہوں نے مجھے بھیجا۔”
فبیحہ نے نظریں اٹھا کر، کچھ مشکل سے کہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں واقعی ایک ایسی خوبصورتی تھی جو جبران کریم کو پگھلنے کا کہہ رہی تھی۔ وہاں بیٹھا دوسرا شخص بھی اسی لمحے اس سے متاثر ہوا تھا۔ ایک ہی وقت میں وہ دونوں آسمان سے تو گر ہی گیے تھے۔
ظاہر کے لیے، گھر کے علاوہ اگر کسی نے اسے بے سکون کیا تھا تو وہ سامنے کھڑی یہی لڑکی تھی۔
وہ شخص جو کبھی کسی کے لیے کرسی چھوڑ کر کھڑا نہیں ہوا تھا، آج اس لڑکی کی خاطر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ یہ زحمت اس نے پہلی بار کسی کے لیے کی تھی۔
اس نے سب ملازموں کو بلایا تھا۔
“مہران کہاں ہے؟”
اس نے پوچھا تھا۔

“خان صاحب، وہ دوپہر سے یہاں نہیں ہے۔ وہ دونوں ساتھ ہی یہاں سے نکلے تھے۔”
ملازم نے بتایا تھا۔
“ڈھونڈو انہیں۔ آپ کو خیال کیسے نہ رہا؟ وہ اتنی دیر سے واپس نہیں آیا۔”
جبران کریم نے سختی سے کہا تھا۔
اصل میں وہ کبھی دیر کرتا ہی کہاں تھا۔
“آپ بیٹھئے، وہ ابھی مل جائیں گے۔”
حقیقت میں فکر اسے مہران کے علاوہ کسی کی نہیں تھی—سوائے اس لڑکی کے۔
“اس کے لیے پانی لے کر آؤ۔”
اس نے ملازم سے کہا تھا۔
مگر وہ بیٹھی نہیں تھی۔
“میں باہر انتظار کرتی ہوں۔”
اس نے اجازت نہیں لی، بس جاتے ہوئے کہہ دیا تھا۔
ملازم کے ہاتھ میں پانی کا گلاس ویسے ہی رہ گیا تھا۔ وہ حویلی کے اندرونی صحن کی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ پانچوں بھی باہر صحن میں آ گئے تھے۔ انہیں دیکھ کر وہ خود کو عجیب سا محسوس کر رہی تھی۔
اس نے جبران کریم کے بارے میں جو کچھ سنا تھا، وہ بالکل ویسا نہیں تھا۔ لوگ جھوٹ بولتے تھے۔ یہ تو کسی اچھی سلطنت کا اچھا بادشاہ سا لگ رہا تھا۔
ملازم اس کے لیے پانی وہیں لے آیا۔ وہ سیڑھیوں پر بیٹھی، پریشان نظروں سے ان پانچوں کو دیکھ رہی تھی۔
اسی لمحے گیٹ سے دو گاڑیاں اندر داخل ہوئیں تھیں۔ وہ فوراً کھڑی ہو گئی تھی۔ پہلی گاڑی کے پچھلے دروازے سے مہران اور ابو زر اترے تھے۔
وہ دوڑ کر ابو زر کے پاس گئی اور اس کے گلے لگ گئی تھی۔ ابو زر اس سے عمر میں چھے سال چھوٹا تھا، مگر پھر بھی وہ اس سے خاصا بڑا لگتا تھا— وہ قد میں بھی لمبا تھا۔
بڑی بہنوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے، وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کی بڑی بہنیں کم ہی لگتی ہیں۔
گلے ملنے کے بعد اس نے اسے خود سے الگ کیا تھا اور اچانک ابو زر کے منہ پر زور سے تھپڑ مار دیا تھا۔
ابو زر کا چہرہ ایک طرف کو مڑ گیا تھا—تھپڑ لگا ہی ایسا تھا۔


اس تھپڑ میں بہت دیر کا غصہ بھرا ہوا تھا۔ وہاں موجود سب کے سب ساکت رہ گئے تھے۔ اتنی نازک اور خوبصورت لڑکی کا یوں تھپڑ مارنا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
وہ اسے وہیں چھوڑ کر گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی۔ اور وہ اس کے پیچھے بھاگا تھا۔ گیٹ پر جا کر وہ رک گئی تھی۔ اس نے جبران کریم کی طرف اس انداز سے دیکھا کہ جبران کریم کو خود پر فخر بھی محسوس ہوا—اور ساتھ ہی اپنے فنا ہونے کا خطرہ بھی۔
“شکریہ… آپ کا۔”
اس نے نرم لہجے میں کہا تھا۔
ان دونوں کے درمیان دس قدم کا فاصلہ تھا۔ وہ چاروں بھی وہیں موجود تھے، مگر اس نے کسی کو دیکھے بغیر وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔
وہاں موجود دو مردوں کے ذہن میں وہ شدید ہلچل چھوڑ گئی تھی۔
They both fell for her at the same time.

“بہنا، بات سنو… ہم تو پاس ہی تھے…”
ابوذر اچانک اس کے پیچھے التجا کرتا ہوا بول رہا تھا۔ وہ اسے منا رہا تھا۔


یہ وضاحت ابا کو دینا، وہ بے حد غصے میں یہ سب کہہ رہی تھی۔

“آئندہ اگر گلی گلی پھرنے کا شوق ہو تو حویلی میں کسی کو اطلاع دے دیا کرو، تاکہ دوبارہ ہمیں پریشان نہ ہونا پڑے۔ تمہیں تو کسی فقیر کے گھر ہی پیدا ہونا چاہیے تھا۔”
جبران کریم خان مہران کو طنز سے بھری ڈانٹ پلائی تھی۔

“ابو زر، آئندہ کہیں بھی جانا ہو تو اپنی بہن کو بتا کر جایا کرو۔ پہلے ہی اسے اتنے سارے کام ہوتے ہیں، اب تمہیں ڈھونڈنے بھی جانا پڑے گا اسے۔”
ابا نے ابو زر سے بس اتنا ہی کہا تھا۔
“ابا، یہ کیا؟ آپ ہمیشہ اس کی غلطیوں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ آپ اس سے بس اتنا ہی کہیں گے؟

آپ کیا چاہتی ہیں؟ کہ ابا مجھے چھڑی سے ماریں؟
“بس کرو تم دونوں۔”
ابا نے تھکن بھرے لہجے میں کہا تھا۔
“میری طبیعت پہلے ہی خراب ہے، اور تم دونوں بھی بہت عجیب ہو۔ جب میں اسے ڈانٹتا ہوں تو تم فوراً اس کی طرفداری کرنے آ جاتی ہو، اور تمہیں کہیں جانا ہو یا کچھ چاہیے ہو تو یہ فوراً تمہاری طرفداری میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ دونوں عجیب ہو۔”
ابا نے یہ سب انہیں اطمینان سے سمجھاتے ہوئے کہا تھا۔

باب ۶

اگلے دن سب کا غصہ اتر چکا تھا۔ کل کی بات بھلا دی گئی تھی۔ ذکرہ نور آج بھی سجی سنوری، ہر روز کی طرح فبیحہ سے ملنے آئی تھی۔ ذکرہ نور ان کی پڑوسی تھی۔
اسے خود کو سنوار کر رکھنا بے حد پسند تھا۔ نئے نئے جوڑے، نئی نئی پرفیوم چمکدار اور چم چماتے کپڑے، اور جوتے—ان سب کے ساتھ ساتھ چوڑیاں پہننا اس کا سب سے بڑا شوق تھا۔
اس کے علاوہ اسے تھوڑی بہت شاعری کا بھی شوق تھا۔ اگرچہ شاعر وہ دوسروں کی ہی چراتی تھی، مگر اسے تھوڑا بہت بدل کر اپنے انداز میں پیش کر دیتی تھی۔

ذکرہ نور نے آتے ہی ایک شعر سنا دیا تھا۔

“دکھ اتنے ہے کہ زبان سے بتایا بھی نہ جا سکتا
مسلہ یہ ہے کہ دل میں رکھا بھی نہیں جا سکتا”

“مجھے میری اٹھارہ مرغیوں اور دونوں بکریوں کی قسم، تمہاری شعری پر ایک مرغی ذبح کرنے کو دل کرتا ہے!”
فبیحہ نے بڑے جوش سے کہا تھا۔
“ان میں وہ تین کتے بھی شامل ہیں، اور وہ سڑک چھاپ بلی بھی!”
ذکرہ نور نے فوراً یاد دلایا تھا۔
“ وہ کتا جو ہر رات گیٹ پر تمہارے کھانے کا انتظار کرتا ہے، اور وہ بلی جو کبھی بھی منہ اٹھا کر بھوکی تمہارے پاس آ جاتی ہے!”

ہاں، میں انہیں ان میں شمار نہیں کرتی، کیونکہ وہ میرے نہیں ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ انہیں میرے ہاتھ سے کچھ کھلا دیتا ہے۔”
اس نے کہا تھا۔
“اور ایک تو تمہاری یہ مرغیاں… مجھے تو ان کی خوبصورت بدبو یاد دلاتی ہیں!”
اس نے عجیب سا منہ بنا کر ناک کو چھوتے ہوئے کہا تھا۔
“اور تم ہی ایک ہو جو میری بیچاری اٹھارہ مرغیوں کو پسند نہیں کرتی ہو!”
فبیحہ نے جواب دیا تھا۔

“اچھا، میں دیکھتی ہوں، میری مرغیوں کو پانی تو ہے نا۔”
یہ کہہ کر وہ دروازے پر رک گئی تھی۔
“تم ساتھ نہیں جاؤ گی؟”
اس نے ذکرہ کی طرف دیکھ کر طنز سے پوچھا تھا۔
“تمہیں لگتا ہے کہ اتنا سج سنور کر، اتنی پرفیوم لگا کر میں تمہارے ساتھ مرغیوں کو پانی دینے جاؤں گی؟”
ذکرہ نے ناک سکیڑی تھی۔
“یہ نوازش تمہیں ہی مبارک۔

رہنے دو، خوف ہے کہیں وہ مرغیاں تمہارا منہ ہی نہ نوچ لیں—یہ میک اپ والا منہ!”

“جاؤ جاؤ، مجھے پتا ہے، تم میری خوبصورتی سے جلتی ہو!”
ذکرہ نور نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

اگلے دن صبح فبیحہ کالج جا رہی تھی کہ ذکرہ نے ان کا راستہ روک لیا تھا۔ ذکرہ ان کے ساتھ کالج میں نہیں پڑھتی تھی۔ وہ بارہویں جماعت پاس کر چکی تھی اور اب نیٹ کی تیاری کر رہی تھی۔ ایک دو مرتبہ نیٹ کا امتحان دے چکی تھی، مگر اسلیکٹ نہیں ہو سکی تھی۔ اب تیسری بار پوری کوشش کے ساتھ امتحان دینے کے لیے اسے جانا تھا۔
“میں بھی ساتھ چلوں؟”
اس نے ان سے کہا تھا۔
اس نے بالکل ان جیسی یونیفارم پہن رکھی تھی۔ وہ ان سب باتوں میں ماہر تھی۔ فبیحہ نے اسے بس اتنا ہی کہنے دیا،
“اچھا، چلو نا۔”
ذکرہ ان سے آگے آگے چلنے لگی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتی ہی رہ گئیں تھیں۔ آخرکار دونوں ہنس پڑیں اور اس کے پیچھے بھاگیں تھے۔
آج ان تینوں نے کالج میں سب کو بے وقوف بنا دیا تھا۔
کالج سے واپسی پر وہ اسی راستے سے آ رہی تھیں جو کھیتوں کے بیچ سے گزرتا تھا۔ اسی دن جبران کریم بھی کھیتوں کی طرف پیدل جا رہا تھا—شاید پہلی بار، یا بہت عرصے بعد۔ دوستوں کے اصرار پر۔
انسان چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، دوستوں کے لیے اس کی اہمیت ہمیشہ وہی رہتی ہے۔ سمجھے؟
وہ تینوں اپنی مرضی سے چل رہی تھیں، ہنستی بولتی، بہت ساری فضول باتیں کرتے ہوئے۔


ایک بات تو طے تھی—ابو بکر کا دل ادفر پہ پہلی ہی ملاقات میں آ گیا تھا۔ دل تو کوئی اور بھی ہار بیٹھا تھا، خیر… وہ بات الگ تھی۔
جبران کریم نے ہاتھ پیچھے باندھ رکھے تھے، جبکہ باقی چاروں مستی میں چل رہے تھے۔
“اَہ خدا یا…”
فبیحہ نے سامنے دیکھ کر دل سے کہا تھا۔
“اب کیا کریں؟”
ذکرہ نے گھبرا کر پوچھا۔
“واپس مڑو۔”
ادفر نے مشورہ دیا—اور اس کے مشورے ہمیشہ ایسے ہی ہوتے تھے۔
وہ تینوں ایک ساتھ واپس مڑ گئیں تھی۔ قدم تیز کر لیے، مگر ان پانچوں مردوں نے انہیں اچھی طرح دیکھ بھی لیا تھا اور ماجرا بھی سمجھ لیا تھا۔
“سنو!”
جبران کریم نے اونچی آواز میں کہا تھا۔
مگر ان تینوں نے نہ سننے کی ایکٹنگ کی۔
“تم تینوں سے کہہ رہا ہوں!”
اس نے دوبارہ کہا تھا۔
وہ تینوں رک گئیں تھیں، مگر اس طرف نہیں مڑیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا—بالکل ایسے جیسے چوری کرتے پکڑی گئی ہوں۔
“فبیحہ!”
جبران کریم نے اس کا نام لیا تھا۔
وہ تمہارا نام جانتا ہے… کمبخت!
ذکرہ نے اس سے سرگوشی میں کہا تھا۔
دوست یہ سوال قیامت میں بھی پوچھنا نہیں بھولتے۔
ادفر صرف مڑی ہی نہیں، ان کے پاس بھی آ گئی تھی۔ ذکرہ بھی ہچکچاتے ہوئے ان کے قریب پہنچی تھی۔ فبیحہ وہیں ٹھہر گئی تھی—بت بن کر کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔
مگر ان جوانوں کی نظریں دور کھڑی فبیحہ پر ہی جمی ہوئی تھیں۔

جی خان صاحب، آپ نے ہمیں روکا؟”
ادفر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا تھا۔ اس میں اتنی ہمت تو تھی۔
ذکرہ اس کے ساتھ کھڑی تھی۔
“ہم نے روکا نہیں۔ آپ ہمیں دیکھ کر واپس جا رہی تھیں۔”
جبران کریم نے کہا۔
“نہیں تو… ہم تو وہاں اُس پیڑ کے پاس کچھ بول گئے تھے، وہیں جا رہے تھے۔”
اچانک فبیحہ کو یاد آ گیا—ایسے جھوٹ، اور ایسے وقت میں، صرف ادفر ہی بول سکتی تھی۔
“ویسے کیا بول رہی تھیں آپ؟”
ابو بکر نے طنزیہ انداز میں کہا تھا۔
ادفر کے جھوٹ کی کامیابی ممکن نہیں ہو سکی تھی، کیونکہ فبیحہ کے کانوں میں سفید موتی دھوپ میں صاف چمک رہے تھا—سچ کی طرح۔

اچھا، اتنی قیمتی ہے وہ بالی؟”
ابو بکر نے کہا۔
“ہاں نا، بہت!”
ادفر فوراً اس کی مدد کو بولی۔
“پھر تو ہم بھی ڈھونڈنے میں مدد کریں گے، صاحبہ۔”
ابو بکر آگے آتے ہوئے بولا تھا۔

“صاحبہ؟”
ادفر نے ذکرہ کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے لفظ دہرایا تھا۔
“صاحبہ کون ہے؟”
ذکرہ نے پوچھا۔
“آپ کا نام معلوم نہیں ہے، اس لیے صاحبہ کہا۔”
“ادفر… ادفر نام ہے میرا، اور اس کا نام ذکرہ ہے، اور اس کا نام فبیحہ ہے۔”
اس نے نام بتائے تھے۔
“ اتنا بڑا نام یاد نہیں رہے گا۔”
ابو بکر نے بے ساختہ کہا۔
ان تینوں لڑکیوں نے ان پانچوں لڑکوں کو بلا وجہ کھیتوں میں جھک کر بالی ڈھونڈنے میں لگا دیا تھا۔ حالانکہ وہ پانچوں جانتے تھے کہ وہ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں، کیونکہ حقیقت میں کوئی بالی کھوئی ہی نہیں تھی۔ اور ان تینوں بیچاریوں کو بھی یہ ناٹک کرنا فرض ہو گیا تھا۔
جبران کریم کی نظریں کھیتوں پر تھیں۔ فبیحہ الگ ذرا فاصلے پر کھڑی تھی۔
“آپ کیوں نہیں ڈھونڈ رہی ہیں؟ وہ تو آپ ہی کی بالی ہے نا؟”
ابو بکر نے اس سے پوچھا تھا۔
“اسے غم ہے نا، اور طبیعت بھی خراب ہے۔”
ادفر نے ایک اور جھوٹ مار دیا تھا۔
فبیحہ اس کے جھوٹ پر سر پکڑ کر رہ گئی تھی۔
اسی لمحے جبران کریم اس کے پاس آ گیا تھا۔ یہ سب ظاہر ہاشم غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے جیب سے سگریٹ نکالی اور ذرا الگ ہو کر پینے لگا تھا۔ ان تینوں لڑکیوں کی نظریں بے اختیار اسی پر ٹھہر گئیں تھی۔
“اور کیا کرتی ہیں آپ؟”
جبران کریم نے پوچھا۔
“مطلب؟”
فبیحہ نے حیرت سے کہا تھا۔
“مطلب اس بات سے غرض نہیں کہ لوگ کیا کرتے ہیں، بس… آپ کو جاننا چاہتا ہوں۔”
“میرا کیا جاننا چاہتے ہیں؟”
وہ خاموش ہو گیا—حالانکہ وہ عام طور پر کسی سوال پر یوں خاموش نہیں رہتا تھا۔

فوبیا نے اس کے چہرے کو دیکھ کر محسوس کیا تھا—شاید اس نے اس کی بےعزتی کر دی تھی۔ اسی خیال نے اس کی خاموشی توڑی۔
“گھر سنبھالتی ہوں۔ میرا بھائی بیٹے جیسا ہے، اسے سنبھالتی ہوں۔ میرے ابّا بہت پیارے ہیں، ان کا خیال تو مجھے نہیں رکھنا پڑتا، وہ میرا رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کالج جاتی ہوں۔ بس… انہی سب کے درمیان میری زندگی چل رہی ہے۔”
وہ ذرا ٹھہر گئی تھی، جیسے اپنے ہی لفظوں کو سمیٹ رہی ہو۔
“زندگی سے کیا چاہتی ہیں آپ؟”
اس نے اچانک پوچھ لیا تھا۔
“سچ میں… کیا ہمیں زندگی میں کچھ چاہنا بھی ہوتا ہے؟”
وہ یہ کہہ کر مسکرا دی تھی۔
“ہاں، اگر موقع ملا تو… سب کچھ۔”
اس نے رک کر کہا تھا، جیسے اس کے جواب پر سوال کر رہا ہو۔
وہ ہلکا سا چونکی تھی۔
“میرے ہاتھ کیا علاءالدین کا چراغ لگ گیا ہے جو میں خواہشوں کا اظہار کروں؟”
“جن کے پاس علاءالدین کا چراغ نہیں ہوتا، کیا ان کی خواہشیں پوری نہیں ہوتی؟”
اس نے ذرا مختلف انداز میں، اس کے سوال کے جواب میں سوال کیا تھا۔
الحمدللہ، مجھے ضرورت سے زیادہ سب کچھ ملا ہے۔

علاءالدین کے چراغ کی مجھے ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔”
وہ ذرا ٹھہر کر بولی۔
“ویسے… آپ کو کچھ چاہیے؟” اس نے اس سے پوچھا تھا۔
“کس سے؟”
اس نے جواباً پوچھا۔
“زندگی سے۔”
“بالکل چاہیے۔”
اس نے بنا جھجھک کہا۔
“بیوی چاہیے، بچے چاہیے، ایک خوبصورت زندگی چاہیے۔”

“یہ جو آپ کی اتنی آرام دہ زندگی ہے، جس میں سب آپ کے تابعدار ہیں—کیا یہ خوبصورت نہیں ہے؟”
اس نے سوال کیا۔

“یہ صرف زندگی ہے، اسے خوبصورت نہیں کہا جا سکتا۔”
اس نے سادہ سا جواب دیا۔
“یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی زندگی اور جو تفریح میں ہیں، ان کی زندگی ایک جیسی ہے؟ اور آپ کی زندگی اور ان لوگوں کی زندگی جو تکلیفوں میں ہیں، وہ بھی ایک جیسی ہے؟”

“میں نے یہ کب کہا؟”
اس نے فوراً کہا۔
“ زندگی خوبصورت ہو سکتی ہے، میری زندگی تنہائیوں میں آزاد ہے۔ اسے قیمتی چیزیں اور آسائشیں خوشی نہیں دیتیں۔”

“یعنی اب رشتہ چاہیے؟”
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“کوئی نہیں، ہماری پڑوس میں ایک خاتون رشتے کرواتی ہیں۔ میں ان سے کہہ دوں گی—آپ کے لیے تو کوئی آپ جیسی ہی ڈھونڈیں گی۔”

مجھ جیسی مطلب؟

کسی حویلی سے ، کسی بڑے اور خوبصورت خاندان کی۔ اس نے جواباً کہا تھا۔

اس کی ضرورت ہوتی تو کب کا لڑکی ڈھونڈ کر شادی کر لیتا۔”
وہ ذرا ٹھہر کر بولا۔
“لڑکی… میں نے ڈھونڈ لی ہے۔”

“ڈھونڈ لی ہے؟”
وہ چونکی تھی۔
“تو پھر شادی کیوں نہیں کرتے؟”

“کچھ دن پہلے ہی ملی ہے۔”

“آپ نے ان سے بات کی؟”
“نہیں۔ بات کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ سیدھا گھر جاؤں گا، شادی کی تاریخ لے کر۔”
“گھر… مطلب؟ وہ کسی محل میں نہیں رہتیں؟”

“نہیں۔ وہ حویلی سے نہیں ہے۔ اور اس سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اسی لیے وہ پسند آئی۔”

“اور اگر اسے آپ پسند نہ ہوں تو؟”
اس نے دھیرے سے پوچھا۔
وہ ذرا سا چونکا۔
“آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں پسند آنے کے قابل نہیں ہوں؟”

“نہیں تو آپ تو ایسے ہیں کہ… اسے پسند ہو گے۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔”

“میں اسے پسند ہوں گا۔”
اس نے خود سے ہی بڑبڑاتے ہوئے کہا تھا۔
کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔ باقی سب اب بھی بلا وجہ بالی ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے۔

“رشتہ کرانے والی خالہ والی بات میں نے ویسے ہی کہی تھی۔ آپ کو اچھی نہیں لگی ہوگی، سوری۔”
“اصل میں نا، خالہ ہر ہفتے بابا کے پاس آتی ہیں—میری زندگی کے دن گننے۔ اسی لیے رشتہ کروانے والی خالہ یاد آ جاتی ہے۔”

“دن گننے؟” اس نے حیرت سے پوچھا تھا

“مطلب… فلاں کا بیٹا انجینئر ہے، فلاں کا ڈاکٹر، فلاں باہر ہوتا ہے۔ ہوا نا میرے دن گننے برابر۔”
وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
“ہر ہفتے میرے لیے ایک نیا رشتہ لے کر آتی ہیں۔”
وہ یہ سب کہتے ہوئے ذرا خاموش ہو گئی تھی۔

اب نہیں آئیں گی وہ…

مطلب؟ فبیحہ نے حیرت سے پوچھا تھا۔

آپ شادی نہیں کرنا چاہتی؟”
شادی—وہ اور اس کا ذہن وہیں اٹک گیا تھا۔

اس بار ادفر نے اسے آواز دی تھی۔ ویسے بھی وہ یہاں سے نکلنا چاہتی تھی، بس کسی معجزے کے انتظار میں تھی۔
“ہم نے آپ سب کو تنگ کیا… سوری، اور شکریہ بھی۔”

وہ تینوں لڑکیاں وہاں سے باگی تھی۔ جیسے کسی لمحے کے انتظار میں ہو۔
اور یہ والا لمحہ جبران کریم کے چہرے پر ایک مسکراہٹ چھوڑ گیا تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *