PATJHAR BY ALAM EPISODE : 3

پتجھڑ قسط نمبر ؛٣

ازقلم الم

“جی چلیں” اس کی سنجیدگی یوشع نے محسوس کر لی تھی اسی لیے مزید کوئی فضول بات کیے بنا اسے اپنے ساتھ آنے کا کہا جب کہ عنایہ تو ابھی تک یہی پروسیس نہیں کر پائی تھی کہ جس کے ساتھ اس نے صبح ہی صبح بدتمیزی کی ہے وہ اس کا پروفیسر ہے وہ بھی میتھ کا۔

میتھ سے عنایہ کو نفرت تھی اور عنایہ سے میتھ کو۔

عنایہ نے چار سال کی متوقع بےعزتی کے لیے خود کو پہلے دن سے ہی تیار کر لیا تھا اور چہرے پر معصومیت سجائے ان کے پیچھے گردن جھکا کر چل پڑی۔
یوشع نور لوگوں کو کلاس روم دکھانے کے بعد اس کی کلاسز کے شیڈیول کے بارے میں بتا رہا تھا اگرچہ نور کو ایسے وی۔ائی۔پی پروٹوکول سے خاصی چڑ تھی لیکن افق کے آرڈر کے آگے وہ مجبور تھی۔
یوشع کو نور کے ساتھ آئرہ نے دیکھ لیا تھا کلاس کے باہر کھڑے اور اس کی آنکھوں میں شیطانی چمک ابھری تھی یقینا اس کا ارادہ یوشع کو نئے طریقے سے زچ کرنے کا تھا۔
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
مشکوٰۃ کو یونیورسٹی سے پک اینڈ ڈراپ کرنے کی ذمہ داری اشعث نے اپنے ذمہ لی تھی۔
مشکوٰۃ اس وقت ہلکے سرمئی عبایہ اور سیاہ نقاب میں ملبوس تھی ہاتھوں پہ سیاہ گلوز پہن رکھے تھے گود میں اس کا بیگ پڑا تھا اور وہ اس وقت بالکل خاموش بیٹھی تھی۔
جبکہ اشعث کو اتنی خاموشی حیران کر رہی تھی وہ پہلے دن یونیورسٹی جا رہی تھی لیکن اپنی ایکسائٹمنٹ اپنے شاہ جی کو بتا نہیں رہی تھی حالانکہ اس کی یہ بچپن سے عادت تھی کہ وہ اپنی ہر خوشی اپنی ہر بات اس سے بانٹتی تھی ہاں اس کی زندگی میں ہوئے کچھ حادثوں نے اس کو کچھ حد تک خاموش کر دیا تھا لیکن آج اس کی خاموشی عجیب تھی۔
“فاطمہ!!” اشعث نے اسے پکارا۔
“ہمممم”مشکوٰۃ نے اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے مدھم لہجے میں جواب دیا
اشعث کو وہ بجھی بجھی محسوس ہوئی اس نے گاڑی سائیڈ میں روکی  اور رخ اس کی طرف کیا۔
” فاطمہ کیا ہوا ہے کیوں اداس ہو؟کسی نے کچھ کہا ہے آپ سے؟” اشعث  نے نرم لہجے میں پوچھا۔
” نہیں” پھر وہی اداس سا لہجہ۔
“ذہبیہ ادھر دیکھیں میری طرف” اشعث  نے تھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا تو نقاب سے جھانکتی اس کی سنہری آنکھوں میں آنسو تھے اشعث کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
“کیا ہوا ہے کیوں رو رہی ہیں؟؟” اشعث نے فکر مند لہجے میں سوال کیا مگر وہ جواباً خاموش رہی اور خاموشی سے آنسو بہاتی رہی تو اشعث کچھ سوچ کر چونکا پھر گہرا سانس لے کر پوچھا۔
“چچا جان اور چھوٹی امی کی یاد آ رہی ہے ؟؟”اشعث  نے نرم لہجے میں سوال کیا تو مشکوٰۃ نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا۔
“ملنے چلے ان سے؟”اشعث نے پھر پوچھا تو مشکوٰۃ نے چونک کر اس کو دیکھا۔
“آپ لے چلیں گے ؟؟”اس نے حیرت سے سوال کیا۔
” ہاں ضرور “اشعث نے خوش دلی سے جواب دیا  اور دوبارہ کار سٹارٹ کی مگر اس وقت گاڑی مختلف راستوں پر گامزن تھی۔
اشعث نے گاڑی لے جا کے قبرستان کے باہر روکی، باہر لگے ٹھیلے سے پھول خریدے اور مشکات کے ساتھ اندر بڑھ گیا۔
وہ دونوں دو قبروں کے سامنے جا کر رکے دونوں قبریں ساتھ ساتھ تھی ایک قبر پر الفاظ کندہ تھے “سید ہارون قیوم شاہ “تاریخ وفات “16 دسمبر” اور دوسری پر “سیدہ زلیخہ ہارون شاہ” زوجہ سید ہارون قیوم شاہ تاریخ وفات “16 دسمبر” ان دونوں قبروں کو دیکھ بے ساختہ مشکوٰۃ کے دل میں درد اٹھا تھا۔
کتنے ظالم ہوتے ہیں نا اس شہر خاموشاں کے باسی خود تو یہاں آ کر آرام سے لیٹ جاتے ہیں اور پیچھے اپنے پیاروں کو ظالم دنیا کے سہارے چھوڑ جاتے ہیں کیا انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ انہیں کندھا دینے والوں کے کندھے ان کے پیچھے ہمیشہ کے لیے ان کی میت کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور ان کی محبت سے چمکنے والی آنکھیں اداسی کی چادر لپیٹ لیتی ہیں اور  ان انکھوں کی  آرائش مستقل نمی ہوتی ہے۔
مشکوٰۃ کی انکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے اور سسکیاں فضا میں بلند ہو رہی تھی۔
” مما بابا لاڈو آئی ہے” اس نے سسکیوں کے درمیان مدہم لہجے میں جیسے اپنے آنے کی اطلاع دی تھی جبکہ اس کی آواز میں موجود کرب محسوس  کر بے اختیار اشعث کے بائیں پہلوں میں ایک چبھن ہوئی تھی۔

اس نے مشکوٰۃ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی پشت سہلائی تھی گویا اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا تھا۔

” فاطمہ!! چچا جان اور چھوٹی امی کو اپنی لاڈو کا رونا نہیں پسند” اشعث نے اسے رونے سے باز رکھنے کے لیے کہا۔
“تو کیوں دے گئے عمر بھر کے آنسو کیوں چھوڑ گئے خود تو ساتھ ساتھ چلے گئے لاڈو کو اکیلا چھوڑ گئے لاڈو بکھر گئی ان کی “یہ کہتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی اشعث نے بے اختیار اسے سینے سے لگا کر اس کی پشت سے سہلائی۔
“بس اگر مزید روئی تو میں دوبارہ لے کر نہیں آؤں گا ان کے لیے دعا کرو رو کر تکلیف کیوں دے رہی ہو” اس کی بات سن کر وہ اس سے الگ ہوئی اور ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے بالکل کسی سعادت مند بچے کی طرح اشعث کی شرٹ اور اس کا نقاب دونوں اس کے آنسؤوں سے بھیگ گئے تھےم
اشعث نے آگے بڑھ کر دونوں قبروں پر پھول چڑھائے پھر دونوں نے وہاں فاتحہ پڑھی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔
“بابا مما آج میرا یونیورسٹی کا پہلا دن ہے میں اس لیے آپ سے ملنے آئی ہوں اب اپ لوگوں سے مل لیا تو میرا دن اچھا گزرے گا” وہ دونوں قبروں کے درمیان گھٹنوں کے پل بیٹھی ایک ایک بازو دونوں قبروں پر رکھے کہہ رہی تھی
سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب اپنے پیاروں سے  ملنے قبرستان جانا پڑے اور ان کی عمر دراز کی دعائیں مانگتے مانگتے آپ کو  مغفرت کی دعائیں کرنا پڑیں۔
مشکوٰۃ اٹھو وقت جا رہا ہے اشعث نے اس بکھری سی بیٹھی لڑکی کو ہوش دلوایا ورنہ وہ تو شاید ساری عمر وہیں گزار دیتی جب کہ شاہ کو اسے ایسے دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی۔
“ہممم! چلیں “مشکوٰۃ نے اٹھتے ہوئے کہا۔
” اللہ حافظ مما بابا میں پھر ملنے آؤں گی کیونکہ اب آپ لوگ تو آ نہیں سکتے نا” یہ کہتے ہوئے اس نے ہچکی بھری تھی۔
“چلو” اشعث نے پھر یاد دلایا تو مشکوٰۃ ایک الوداعی نظر دونوں قبروں پر ڈال کر  اس کے پیچھے چل پڑی
مگر سامنے سے آتی ہستی کو دیکھ کر اس کے قدم بے ساختہ روکے تھے جبکہ ٹھہر تو اسے دیکھ کر “سید ضرار ہارون شاہ” بھی گیا تھا اسے دیکھ کر مشکوٰۃ کی آنکھوں میں تکلیف کرب بے بسی اور شکوہ ابھرا تھا جبکہ تکلیف تو اسے دیکھ کر ضرار کی آنکھوں میں بھی ابھری تھی لیکن وہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس کے پاس سے گزر گیا اور ایک اشتعال سے بھرپور نظر پاس کھڑے اشعث پر ڈالی جبکہ اشعث کے تاثرات سے سپاٹ تھے۔

  مشکوٰۃ کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا اشعث نے مشکوٰۃ کی کلائی تھامی اور اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا پیچھے ضرار بھی جا کر ان دونوں قبروں کے سامنے رک گیا وہ اس کے والدین کی قبریں تھیں وہ بھی اپنے والدین سے ملنے آیا تھا۔

اشعث نے مشکوٰۃ کو گاڑی میں بٹھایا اور اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھائی اس کے آنسو تو رک گئے تھے مگر وہ ابھی بھی ہچکیاں بھر رہی تھی

“بس اب نہیں رونا اوکے اتنا سپیشل دن ہے موڈ ٹھیک کرو اور اچھے سے انجوائے کرو ٹھیک” اشعث نے اس کے سر کو سہلاتے ہوئے کسی بچے کی طرح بہلایا  تو جوابا نے اس نے بنا کچھ کہے صرف اثبات میں ہلایا اور پانی کے دو تین گھونٹ کر بوتل واپس رکھ دی۔
“گڈگرل” اس نے اسے شاباشی دی اور گاڑی یونیورسٹی کی طرف بڑھا دی گاڑی یونیورسٹی کے باہر آ کر رکی اشعث نے مشکوٰۃ کی طرف کا دروازہ کھولا
جب مشکوٰۃ باہر نکلی تو اشعث کی نظر اس کے عبایا پر پڑی جہاں شاید قبرستان سے مٹی لگ گئی تھی تو وہ مغرور شاہ زادہ اپنی سید زادی کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھا اور جیب سے رومال نکال کر اس کے عبایا اور جوتوں پر لگی مٹی صاف کی جبکہ مشکوٰۃ اس کے عمل پر ششدر تھی مٹی صاف کرنے کے بعد وہ اٹھا ہاتھ چھاڑے اور مشکات کو بازو کے حلقے میں لے کر خود سے لگایا اور اس کے رونے کے باعث سوجھی ہوئی انکھوں کا بہت عقیدت و محبت سے بوسا لیا
“All the best to the peace of my soul”اس نے دھیرے سے مشکات کے کان میں سرگوشی کی جبکہ مشکوٰۃ کو چھپنےکے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی وہ اکثر خاص مواقع پر اسے ایسے ہی وش کیا
کرتا تھا لیکن یہاں سب کے سامنے اس کے اس عمل پر وہ حیران تھی پاس سے گزرتی یونیورسٹی کے چند شوخ لڑکیوں نے انہیں دیکھ کر
مسکراہٹ دبائی تھی اور ان کے اس عمل پر مشکات کی گلابی رنگت مزید سرخ ہوئی تھی۔
“آپ یوشع کے آفس جانا وہ آپ کی کلاس دکھا دے گا ٹھیک ہے”  اشعث نے مشکوٰۃ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا مشکوۃ کی تو زبان گویا تالو سے چپک گئی تھی اس نے فقط ہاں میں سر ہلایا وہ ایک دو بار یوشع کے ساتھ اس کی آفس آچکی تھی اسی لیے اسے اس کے آفس کا معلوم تھا “اللہ حافظ” اشعث نے اسے دھیرے سے کہتے سنا پھر وہ اندر کی جانب بڑھ گئی۔
اشعث نظروں سے اوجھل ہونے تک اسے دیکھتا رہا پھر گاڑی میں بیٹھ کر آفس کی طرف روانہ ہو گیا۔
«۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔»
آئرہ اپنے گروپ کے ساتھ انٹرنس پر ہی بیٹھی تھی مقصد  طلبہ کی ریگنگ۔ اس کے گروپ کی ایک لڑکی فائزہ نے مشکوٰۃ کو اندر کی طرف آتے دیکھا تو اپنی باقی ساتھیوں کو کمینی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا
کیونکہ انہیں شاید اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ نیو سٹوڈنٹ ہے تو کسی سے باتوں میں مصروف آئرہ نے بھی ہنستے ہوئے غیر ارادی نظر اٹھائی تو اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
اس سے پہلے کے فائزہ مشکوٰۃ کو اس طرف بلواتی آئرہ نے سنجیدگی سے اسے ہاتھ روک کر منع کر دیا “اسے کوئی تنگ نہیں کرے گا۔۔۔ کوئی کا مطلب۔۔۔ کوئی بھی۔۔۔ سب کو بتا دو” آئرہ نے وارننگ آمیز لہجے میں کہا جب کہ سب اس کے سنجیدہ ہونے پر حیران تھے لیکن اس کی وارننگ پر سب نے سر ہلا کر گویا حامی بھری تھی۔

مشکوٰۃ کی نظر آئرہ پر نہیں پڑی تھی وہ سیدھا جا کر یوشع کے آفس کے باہر رکی دستک دی اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہو گئی
“السلام علیکم بھائی” اس کی آواز پر یوشع ہے سر اٹھایا اور مسکرا کر سلام کا جواب دیا مشکوٰۃ اس کے سامنے بیٹھ گئی اور دونوں چھوٹی موٹی باتوں میں مصروف ہو گئے۔

“نور یونیورسٹی تو اچھی ہے یار مگر یہ جو ہر جگہ دو ٹکے کے عاشقوں کے  ٹولے پھر رہے ہیں نا ان سے مجھے چڑ ہو رہی ہے اور یہ یونیورسٹی کی لڑکیاں پڑھنے آئی ہیں یا فیشن شو میں ساٹھ کلو کا میک اپ تھوپ کر عجیب و غریب سے فیشن کر کے آ جاتی ہیں اور پھر یہ جو زبردستی کا کیوٹ بننے کی کوشش کرتی ہے نا دل کرتا ہے تھپڑ ماروں میں ان کے منہ پہ” عنایہ منہ بسور جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہی تھی۔
“یار میں نے تو سنا تھا کہ پہلے دن ریگنگ ہوتی ہے شیگنگ ہوتی  ہے یہاں یہ سین نہیں ہے کیا؟ میں تو بہت ایکسائٹڈ تھی مگر اب بغیر کسی ایڈونچر کے بور ہو رہی ہوں” عنایہ مسلسل بول رہی تھی جبکہ نور صرف اسے سننے پر مجبور تھی۔
وہ دونوں یونیورسٹی ہی دیکھ رہیں تھی کہ آئرہ کی نظر ان دونوں پر پڑی اور کائنات کو اشارہ کر کے ان کی طرف متوجہ کیا۔
“اے تم دونوں برقعہ ادھر آؤ”کائنات نے انہیں آواز دی۔
عنایہ نے پہلے دائیں دیکھا پھر بائیں اور پھر انگلی سے اپنی طرف اشارہ کیا
“باجی ہم آپ کے دادا کے صاحبزادے کے ملازم تو یقیناً نہیں ہیں اس لیے عزت و تکریم سے مخاطب کریں”عنایہ نے انتہائی تابعداری سے جواب دیا۔
“اے چپ چاپ یہاں آؤ”اس بار فائزہ نے کرخت لہجے میں کہا
عنایہ کچھ بولتی اس سے پہلے ہی نور نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کروایا اور اسے آنکھ چھپکا کر تحمل کا اشارہ کیا جبکہ اس دوران آئرہ مسلسل دلچسپی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
عنایہ اور نور دونوں ان کے سامنے موجود تھے نور نے ایک تنقیدی نظر بلیک چینز بلیک شرٹ اور بلیک ہی جیکٹ میں ملبوس آئرہ پر ڈالیں جس کے گلے میں چینز اور ہاتھوں میں عجیب اقسام کے بریسلٹ تھے انکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے کندھوں تک کٹے بالوں پر رومال باندھے مسلسل ببل گم چباتی وہ نور کو خاصی پسند نہیں آئی تھی۔
” یہ ٹینٹ اتارو دونوں اپنے” فائزہ نے روعبدار لہجے میں کہا جبکہ آئرہ کی نظریں نور پر جمی تھیں۔
“باجی یہاں آپ کے جیجا کا ولیمہ تو منعقد نہیں ہوا تھا جو یونیورسٹی والے ٹینٹ لگاتے جب ٹینٹ لگے ہی نہیں ہیں تو ہم اتارے کہاں سے” عنایہ نے معصومیت سے جواب دیا۔
“زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے زیادہ برقعے اتارو دونوں اور پھر ناچ کے دکھاؤ” اب کے کائنات بولی تھی۔
” کیوں تمہاری ماں کوٹھے والی ہے جو تمہیں لڑکیاں نچوانے کا زیادہ شوق ہے” عنایہ کی بجائے جواب نور نے دیا تھا اس کے جواب پر کائنات کا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا جبکہ نور کو فارم میں آتا دیکھ کر عنایہ چہرے پر کمینی سی مسکراہٹ لیے تماشہ دیکھنے کے لیے تیار تھی۔
“کتوں کی طرح بھونکنے کی ضرورت نہیں ہے جو کہا ہے وہ کرو” اب یہ چیخنے والے میمونہ تھی۔
” مجھے عادت ہے کہ جو زبان سامنے والا سمجھتا ہو میں وہی استعمال کرتی ہوں” نور نے پھر اسی سکون سے جواب دیا جبکہ آنکھوں میں عجیب سی سفاکیت تھی۔
“تیری تو”اس سے پہلے کہ فائزہ اس پر ہاتھ  اٹھاتی آئرہ نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور خود اٹھ کر نور کے مقابل کھڑی ہو گئی اور اپنی سیاہ آنکھیں اس کی سرمئی انکھوں میں گاڑ دیں وہ دونوں مسلسل ایک دوسرے کی انکھوں میں دیکھتی  ایک دوسرے کو گھور رہیں تھی۔
سیاہ آنکھیں تپش زدہ تھی جبکہ سرمئی آنکھیں سرد سفاک بے تاثر

  اس کے اس طرح بنا نظریں جھکائے خود کو گھورنے پر آئرہ کو خاصہ غصہ آ رہا تھا وہ ہمیشہ اس یونیورسٹی پر حکومت کرنے کی عادت رہی تھی۔ اس کے فیملی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے کوئی اس کے سامنے زبان نہیں کھولتا تھا یہاں اس کے گروپ کی چلتی تھی وہ جو کہتی تھی سب وہ کرتے تھے۔
مگر سامنے کھڑی اس لڑکی کی یہ دیدہ دلیری اب اسے مشتعل کر رہی تھی آئرہ نے غصے سے جھپٹ کر نور کا نقاب اتارنا چاہا مگر نور نے ایک ہاتھ سے اس کی بڑھتی کلائی روکی اور دوسرے ہاتھ کو گھما کر زوردار تھپڑ آئرہ کے گال پر جڑ دیا آئرہ کا چہرہ نیچے کی جانب جھک گیا تھا ہر جانب خاموشی چھا گئی لوگوں نے سانس تک روک لی تھی جبکہ فائزہ کائنات اور میمونہ کی آنکھیں باہر ابلنے کو تھیں حیرت سے۔

“تواڈی اوئے۔۔۔۔۔۔ چپیڑ پے گئی(تمہاری تو۔۔۔چماٹ پڑ گئی)”خاموشی میں عنایہ کی حیران مگر پرجوش آواز گونجی

°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
آئرہ کو پڑنے والے تھپڑ نے یونیورسٹی کی فضا میں جیسے سکوت قائم کر دیا تھا ہر کوئی اپنی جگہ حیران تھا آئرہ شاہ کو تھپڑ پڑا تھا یہ سب کے لیے ناقابل یقین بات تھی۔
آئرہ نے جھکا ہوا چہرہ اوپر اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں مانو خون اترا آیا ہو آگ کی سی تپش تھی ان سیاہ آنکھوں میں ایسی تپش جو سب کچھ جلا کر خاکستر  کر دینا چاہتی ہو اس کے بائیں گال پر نور کی انگلیوں کے واضح نشان  ثبت تھے۔
“تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا” آئرہ کی بے یقین سی سرگوشی نے  سکوت کو توڑا۔
“تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا” اب کی اس کی دہاڑ گونجی تھی۔
” تم نے آئرہ سلطان شاہ پر ہاتھ اٹھایا ہاں تمہاری اتنی ہمت” اتنا کہتے ہی اس نے نور کو تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا مگر  اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ نور تک پہنچ پاتا کسی نے اسے اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا۔

” آئرہ بیہیو…” ایک تنبیہ کرتی مردانہ اواز سماعت سے ٹکرائی
“تم ہوتے کون ہو ہاں مجھے روکنے والے اوقات ہے تمہاری یا تمہاری اس آشنا کی” آئرہ یوشع کو دیکھتے ہوئے  چیخی وہ اس وقت آپے سے باہر ہو رہی تھی جبکہ اس سب میں نور  جو بےتاسر نگاہوں سے یہ تماشہ دیکھ رہی تھی لفظ آشنا پر اس کی آنکھوں میں ہلکا سا غصہ جھلکا دوسری طرف عنایہ مزے سے فساد انجوائے کر رہی تھی اور دل ہی دل سوچ رہی تھی اگر پاپ کارن ہوتے تو مزہ دوبالا ہو جاتا۔

آئرہ کے حقارت سے بھرپور الفاظ نے یوشع کو بھرے مجمعے میں ذلالت کے احساس سے دوچار کیا تھا۔
“مس آئرہ میں یہاں آپ کا فیملی ممبر نہیں بلکہ آپ کا پروفیسر ہوں اس لیے اپنے الفاظ اور لہجے پر غور کریں”
“ہنہنہ !!!پروفیسر مائی فٹ بتا دو اپنی اشنا اشنا کو کہ الٹی گنتی گننا شروع کرے اس نے آئرہ سلطان شاہ پہ ہاتھ اٹھا کر غلطی کی ہے جس کا انجام اسے جلد ہی بھگتنا پڑے گا” آئرہ نے انگلی اٹھا کر یوشع کی انکھوں میں انکھیں گاڑ کر دھمکی دی اور پھر وہ وہاں رکی نہیں تھی
جبکہ اس کا گروپ بھی نور اور عنایہ پر ایک قہر سے بھرپور نگاہ ڈال کر اس کے پیچھے بڑا۔

  یوشع کا رخ اب باقی سٹوڈنٹس کی جانب تھا آپ لوگ جائیں یہاں سے اس کے ذرا سختی سے کہتے ہیں یہ سارے سٹوڈنٹس آہستہ آہستہ وہاں سے ہٹ گئے تھے
” اور آپ مس قلب اینڈ مس حیدر میرے افس میں آئیں” ان دونوں کو سخت لہجے میں کہہ کر افس کی جانب بڑھ گیا۔

“بےعزتی باجی تو لاہور میں بھی پیچھے پیچھے آ گئی پہلے دن کون اتنا ذلیل ہوتا ہے لیکن نہیں جہاں عنایہ حیدر ہو بےعزتی تو خود بخود پہنچ جاتی ہے” عنایہ نے جل کر کہا جبکہ نور کے آفس کی جانب بڑھ گئی تھی۔
” تو کیا آپ باہر ہوئے تماشے کی وضاحت دینا پسند کریں گی؟؟؟” یوشع نے سامنے بیٹھی عنایہ اور نور سے پوچھا۔

” جی کیوں نہیں معلم محترم اصل میں وہ جو باہر والی مخلوق (آئرہ) ہے نا اس نے نور کے ساتھ بدتمیزی کی اور اس کا اس کے حجاب کھولنے کی کوشش کی بس پھر میری سہیلی کا میٹر شارٹ ہوا اور یہ رکھ کر تھپڑ جڑ دیا” عنایہ نے ہاتھ نچانا نچا کر وضاحت دی تو یوشع نے سمجھ کر سر ہلایا وہ آئرہ سے کسی ایسی ہی بےہودہ چیز کی توقع کر رہا تھا۔
” دیکھیں مس قلب وہ ایک با اثر فیملی سے تعلق رکھتی ہے اور ویسے بھی اس کا فائنل ایئر ہے تو ایسے مسائل اس پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور لڑائی جھگڑے اس کا روز کا معمول ہے جبکہ آپ لوگ متوسط طبقے سے ہیں آپ لوگوں کا ماحول بالکل مختلف ہے اور یہ آپ کا یونیورسٹی میں تعلیم کا آغاز ہے تو ایسے سکینڈلز اپ پر بہت زیادہ اثر انداز ہو سکتے ہیں ریپیویٹیشن اور سٹڈی دونوں اعتبار سے اس لیے احتیاط کیجئے” یوشع نے بہت شائستہ انداز میں اسے سمجھایا جس پر نور نے سمجھ کر جی سر کہا تھا جبکہ عنایہ نے اس انداز میں آنکھیں گھمائی گویا کہہ رہی ہو جو “مرضی کر لو پھڈا تاں کرنا ای کرنا”

” ہم جائیں؟؟” یوشع کے بات ختم کرتے ہی عنایہ نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے بیزاری سے استفسار کیا۔
“جی ضرور” یوشع نے بھی مصنوعی خوش اخلاقی سے جواب دیا تو عنایہ نے وہاں سے غائب ہونے میں ایک لمحہ نہیں لگایا تھا جبکہ نور کو یوشع کے الفاظ نے روکا تھا۔
” آپ کس عمل کے نتائج تو سنگین ہے مگر پھر بھی میں آپ کی ہمت کی داد دوں گا کہ اپ اگر پردہ کرتی ہیں تو اس پردے کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہیں اور میں آپ کی ہمت سے متاثر ہوا ہوں لیکن ساتھ ہی میں اپ کو تاکید بھی کروں گا کہ آئرہ سے ہوشیاریہے گا”
” یہ پیغام اپ کی کزن کے لیے بھی” باہر کھڑی عنایہ نے سر دروازے میں سے نکال کر یوشع کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا جس پر یوش نے بمشکل خود کو کچھ بھی کہنے سے قابو کیا تھا یہ لڑکی چند ہی گھنٹوں میں اس کا ضبط آزما چکی تھی وہ اتنا زچ شاید ہی کسی انسان سے ہوا ہوگا جتنا وہ عنایہ سے ہو چکا تھا۔
” جی ضرور سر ہم محتاط رہیں گے” نور نے سنجیدگی سے کہا اور باہر کی جانب بڑھ گئی جب اس کے جاتے ہی یوشع کے چہرے پر سنجیدگی چھائی تھی آئرہ کے متوقع رد عمل کا سوچتے ہوئے یوشع کو یہ سارے فساد کی اطلاح ایک سٹوڈنٹ نے دی تھی اور  اور وہ جلدی ہی وہاں پہنچا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ نور نے جو حرکت کی ہے اس پہ آئرہ شدید رد عمل دے گی اور نور کو یہاں اس کی ذمہ داری پہ بھیجا گیا تھا
” اف یار کتنا پکاتے ہیں استاد صاحب” نور کے باہر آتے عنایہ نے ڈرامائی انداز میں کہا تو نور نے اسے گھورا۔
“چلو یار کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے  خوامخواہ میں اتنا وقت ضائع ہو گیا ہے” عنایہ نے کہتے ہی نور کا بازو پکڑا اور اسے لیے ساتھ چل دی۔
آج کی ساری کلاسز میں صرف تعارف ہی ہوا تھا باقی نور اور عنایہ نے کسی کے ساتھ بھی دوستی کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا اور ان کی طرف بڑھے ہوئے ہاتھ عنایہ نے تھامنے نہیں دیے تھے۔
دوسری طرف مشکوٰۃ کو تھوڑی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی کیونکہ نہ تو وہ یہاں کسی کو جانتی تھی اور دوسری طرف لڑکیوں کی بولڈنس دیکھ کر اس کا دل عجیب سا ہو رہا تھا اس کے لیے یہ بالکل ہی نیا ماحول تھا لیکن دوسری رو میں بیٹھی لڑکی اسے پسند آئی تھی اس نے نہ تو بہت بڑی چادر اوڑھ رکھی تھی اور نہ ہی عبایا پہن رکھا تھا صرف اس نے سر پہ سلیقے سے دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا لیکن اس کو دیکھ کر جو گمان ہوتا تھا وہ ایک حیادار اور سلجھی ہوئی لڑکی کا تھا وہ باقی لڑکیوں سے تھوڑی مختلف تھی اس لڑکی نے نظروں کا ارتکاز محسوس کر کے ادھر ادھر دیکھا تو خود کو دیکھتی مشکوٰۃ کو دیکھو مسکرا دی اور اٹھ کے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی جبکہ اس کے اس طرح آ کر بیٹھنے پر مشکات بوکھلا گئی تھی۔
“السلام علیکم میرا نام آمنہ چوہدری ہے اور تمہارا؟؟” اس نے مسکرا کر بات کا آغاز کیا تو مشکوٰۃ  نے جھجکتے ہوئے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا “وعلیکم السلام میں سیدہ مشکوۃ فاطمہ شاہ ہوں”
” اوہ تو آپ سید زادی ہیں پھر تو ہمارے لیے قابل احترام ہیں” آمنہ نے ہلکی سی شوخی سے کہا تو مشکوٰۃ صرف مسکرا دی اور اس کی مسکراہٹ کا پتہ اس نقاب سے جھلکتی اس کی چھوٹی ہوئی آنکھوں سے لگتا تھا۔ پروفیسر کلاس میں انٹر ہوئے تمام سٹوڈنٹس ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے سارا دن ایسا ہی تعارف میں گزرا تھا مشکوٰۃ اور آمنہ کی اچھی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تھی۔
” جی تو مشکوٰۃ بہت اچھا گزرا آج کا دن تمہاری سنگت میں تو آج سے ہم دوست ہوئے ” اس نے خوش دلی سے سوال کیا
” جی دوست ہوئے” مشکوٰۃ نے بھی خوش دلی سے اس کی دوستی کی آفر قبول کی تھی اور دونوں ہی اپنا بیگ اٹھا کر باہر آ گئی تھی جہاں اشعث باہر کھڑا مشکوٰۃ کا ہی ویٹ کر رہا تھا مشکوٰۃ نے آمنہ سے الودائی مصافہ کیا اور پھر اشعث کے ساتھ بیٹھ کر روانہ ہو گئی۔
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°
“نور وہ تو تمہارے بھائی نہیں ہیں” نور اور عنایہ کلاسز کے بعد یونیورسٹی سے باہر نکلی تو گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے افق کو دیکھ کر عنایہ نے کہا سکن پینٹ اور سیاہ شرٹ میں سیاہ گلاسز آنکھوں پر لگائے بال سلیقے سے جمائے وہ وجیہ لگ رہا تھا وہ تھا بھی پیارا۔
” ہاں لگ تو وہی رہے ہیں چلو” نور نے کہتے قدم اس طرف بڑھائے “السلام علیکم بھائی” نور نے پاس پہنچ کر سلام کیا
“وعلیکم السلام کیسی ہو” نور کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
“ٹھیک ہوں”
جب کہ اس کو دیکھتے ہمیشہ کی طرح عنایہ کے چہرے پہ گلابیاں گھلی تھیں
“السلام علیکم سکائے” عنایہ نے مدھم آواز میں کہا تو افق نے ایک نظر اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے سر ہلا کر جواب دیا وہ کہیں نہ کہیں عنایہ کے جذبات سے واقف تھا مگر اس نے کبھی بھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی بلکہ ہمیشہ ایک دیوار ہی حائل رکھی تھی دونوں کے درمیان۔ 
“بھائی آپ یہاں خیریت؟” نور نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے سوال کیا ہاں وہ ایک کام سے آیا تھا تو سوچا تمہیں پک کر لوں اور سناؤ کیسا رہا دن افق نے سرسری سے انداز میں پوچھا۔
“اچھا” نور نے یک لفظی جواب دیا تو اس نے سر ہلایا جب کہ پیچھے بیٹھی  عنایہ خاموش تھی اس کی پٹر پٹر چلتی زبان صرف افق کے سامنے ہی بند ہوتی تھی۔
“کچھ کھاؤ گی؟؟” افق کے پوچھنے پر نور نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اور یقینا اپ کا بھی روزہ نہیں ہوگا” بیک مرر میں میں دیکھتے ہوئے عنایہ سے پوچھا تو اس نے جوابا ڈھٹائی سے دانت دکھائے
افق نے گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے سامنے روکی “تم لوگ چلو میں گاڑی پاک کر کے آتا ہوں” اس کے کہتے ہی وہ دونوں اندر کی طرف بڑھ گئی 

جب وہ اندر آیا تو وہ دونوں ایک کونے والے ٹیبل پر بیٹھی تھی نور تو شاید آرڈر کر چکی تھی جبکہ عنایہ ہر ڈش کے نام پڑھ کر ناک چڑھا رہی تھی بالاخر اس کو پورے مینیو میں سے صرف بریانی پسند آئی تھی کیونکہ اس کو بڑے بڑے ہوٹلوں کے یہ اوٹ پٹانگ کھانے سمجھ نہیں آتے تھے وہ تو دیسی ٹھیلوں کے چٹپٹے کھانے کی عادی تھی عنایا نے بریانی آرڈر کی جبکہ افق نے اپنے لیے جوس آرڈر کیا تھا کیونکہ لنچ وہ پہلے ہی کر چکا تھا۔

کھانا لگنے کے بعد انہوں نے سکون سے کھانا کھایا نور کو اب نقاب میں کھاتے ہوئے مشکل نہیں ہوتی تھی کیونکہ اسے عادت ہو چکی تھی
جب بل پے کرنے کی باری آئی تو عنایہ نے بیگ سے پیسے نکال کر رکھے۔
“عنایہ میں کر رہا ہوں پے”
“شیور لیکن آپ صرف نور کا پے کردیں” یہ کہتے ہی عنایہ نے اپنے آرڈر کے پیسے رکھے اور ایکسٹرا پیسے ہٹا دیے
“لنچ میری طرف سے تھا میں کر رہا ہوں” اس بار اس کا لہجہ تھوڑا سا سخت تھا
“تھینک یو سکائی لیکن میں اپنا بل پے کر سکتی ہوں” عنایہ نے تحمل سے مسکراتے ہوئے کہا۔
” کیوں فالتو کا سین کرییٹ کر رہی ہو؟؟” افق نے دبے دبے لہجے میں کہا کیونکہ وہ اتنے سارے لوگوں میں کوئی ڈرامہ نہیں چاہتا تھا تو عنایہ کی مسکراہٹ سے سمٹی وہ اس کی خودداری کو ڈرامہ کہہ رہا تھا اسے عنایہ کو سمجھنا چاہیے تھا یا اسے تحمل سکون سے سمجھاتا۔
پتہ نہیں اگر کوئی لڑکی لڑکوں کی بات سے انحراف کر دے تو ان کی میل ایگو کو کون سا ٹرک  کچل جاتا ہے۔
” بھائی اٹس اوکے اگر وہ پے کرنا چاہ رہی ہے تو یہ کوئی بڑا ایشو نہیں ہے آپ میرا بل پے کر دیں” نور نے درمیان میں آ کر بات سنبھالی تھی۔
“فائن میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں” وہ درشتی سے کہتا پیسے رکھ کر باہر کی طرف بڑھ گیا مگر جاتے جاتے وہ رکا۔

“شاہ بھائی!!” جبکہ اس کی آواز پر کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے اشعث مڑا اور میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں کہہ کر کال کٹ کر دی
“ارے آؤ افق اشفاق بڑے عرصے بعد کیسے ہو”اشعث اس سے بغل گیر ہوا
” میں ٹھیک ہوں آپ سنائیں “
“میں بھی ٹھیک لاہور خیریت سے آئے ہو”
” آ جی وہ بس چھوٹی بہن کا یونیورسٹی میں نیو ایڈمیشن ہوا ہے اس لیے اور کچھ پرسنل کام بھی تھا” افق نے تفصیل سے وضاحت دی تو اشعث  نے سمجھ کر سر ہلایا
“چلیں بھائی پھر ملاقات ہوگی” جبکہ نور اور عنایہ کو آتے دیکھ کر افق نے بات سمیٹی اور الوداعی مصافحے کے بعد اشعث اندر کی جانب چلا گیا مگر ایک معنی خیز نظر پیچھے کھڑی لڑکی پر بھی ڈالی بہت کچھ تھا اس ایک نظر میں  جب کہ جوابا اس نے بھی آنکھیں چھپکیں
وہ یہاں مشکوٰۃ کو لنچ کے لیے لے کر آیا تھا یونیورسٹی سے واپسی پر جبکہ ایک ضروری فون کال کی وجہ سے باہر آ گیا
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔°

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *