Inikas Episode 1 written by siddiqui

انعکاس ( از قلم  صدیقی )

قسط نمبر ۱ 

وہ یونی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔جب اس نے گھڑی پر نظر ڈالی تو ہونٹ بےاختیار بھنچ گئے۔
اللہ… دیر ہو رہی ہے۔
ابھی وہ اپنا بیگ اٹھانے ہی والی تھی کہ اچانک گھر کے مرکزی دروازے کے قریب سے کسی چیز کے گھسیٹنے کی ہلکی سی آواز آئی۔
وہ ایک دم رک گئی۔
دل نے زور سے دھڑکنا شروع کر دیا۔
شاید پڑوس والی بلی ہوگی۔۔۔
اس نے خود کو تسلی دی، لیکن اس کے قدم پھر بھی آہستہ ہو گئے۔
آہستہ آہستہ وہ لاؤنج سے ہوتی ہوئی دروازے کے قریب پہنچی۔
اور پھر وہ وہیں جم کر رہ گئی۔
دروازے کے سامنے ایک لمبا، غیر معمولی حد تک ہینڈسم لڑکا کھڑا تھا۔
اس کی پشت اس کی طرف تھی، وہ دروازے پر اپنی انگلیوں سے کچھ نشان بنا رہا تھا،
آہہہہ وہ زور سے چیخی اور فوراً منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
وہو دی ہیل آر یو؟! تم… تم میرے گھر میں کیا کر رہے ہو؟!
لڑکا جھٹکے سے پلٹا۔
اس کی آنکھوں میں حیرت کی ایک صاف جھلک تھی۔
تم… مجھے دیکھ سکتی ہو؟
اس نے جیسے یقین نہ آنے والے انداز میں پوچھا۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
ظاہر ہے دیکھ سکتی ہوں! اسی لیے تو پوچھ رہی ہوں۔ تم میرے گھر میں کیسے آئے؟!
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ کیونکہ میں ایک جن ہوں… لیکن تم مجھے دیکھ کیسے پا رہی ہو؟
اس کے جسم میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔
بکواس بند کرو۔۔۔ وہ جھنجھلا کر بولی۔
تم مجھے پاگل سمجھتے ہو؟ میں ابھی پولیس کو فون کرتی ہوں۔۔
وہ مجھے نہیں دیکھ پائیں گے…
اس کی نظر سیدھی اس کی آنکھوں میں تھی۔
الٹا وہ تمہیں ہی پاگل سمجھیں گے۔
ک…کیا؟! وہ تیزی سے پلٹی۔
یہیں رکو! کہیں مت جانا، میں ابھی آتی ہوں۔۔۔
وہ تقریباً بھاگتی ہوئی کمرے میں گئی، بیڈ سے فون اٹھایا اور فوراً واپس لوٹی۔
دروازے کے پاس کوئی نہیں تھا۔۔۔ دروازہ بند تھا۔ اور وہ حسین لڑکا غائب تھا۔۔۔
چلا گیا؟
اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔
کہاں گیا؟!
نظر دروازے پر پڑی۔ وہ عجیب سا نشان…
اب بھی وہیں تھا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
یا اللہ… وہ سرگوشی میں بولی۔
میں لیٹ ہو رہی ہوں۔۔۔
اس نے گھڑی دیکھی، سانس بحال کی، بیگ اٹھایا اور تیزی سے گھر سے نکل گئی۔۔۔

+++++++++++++

جب وہ یونیورسٹی پہنچی تو سانس بری طرح پھولی ہوئی تھی۔ کلاس روم کے دروازے کے باہر رُک کر اس نے اندر جھانکا، سر پہلے ہی کلاس میں موجود تھے اور لیکچر شروع ہو چکا تھا۔
اوہ نو… مر گئے۔۔۔۔ اس نے دل ہی دل میں کراہ کر کہا۔
وہ دروازے کے پاس کھڑی ہمت جمع کرتی رہی، پھر آہستہ سے بولی، سر… مے آئی کم اِن؟
سر نے چشمہ ناک پر درست کیا اور اس کی طرف دیکھا۔ “ہاں تھیں، مس جِشاہ آپ؟ اور آپ لیٹ کیوں ہیں؟
وہ نظریں جھکائے، شرمندہ سی کھڑی رہی۔
سر… وہ… میرے گھر میں کوئی گھس آیا تھا…
یہ سنتے ہی سر ہی نہیں، پوری کلاس چونک گئی۔
کچھ طلبہ نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
جِشاہ نے گھبراہٹ میں بات جاری رکھی،
میں نے اس سے پوچھا کہ آپ اندر کیسے آئے تو وہ کہنے لگا کہ وہ ایک… جن ہے۔۔۔
جملہ مکمل بھی نہ ہو پایا تھا کہ پوری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھی۔
اسٹوپ اِٹ، گائز!
سر کی سخت آواز پر کلاس فوراً خاموش ہو گئی۔
سر نے دوبارہ جِشاہ کی طرف دیکھا۔
مس جِشاہ، براہِ کرم صبح صبح اس طرح اُٹھ کر یونیورسٹی نہ آیا کریں۔ لگتا ہے آپ نے ناشتہ نہیں کیا، اسی لیے اس قسم کی بھیگی بھیگی باتیں کر رہی ہیں۔
لیکن سر…
مِس جِشاہ کلاس کو ڈسٹرب نہیں کریں، اندر آجائے اب اور اپنی صحت کا خیال رکھے پلز۔۔۔
جی سر۔۔۔
وہ آہستہ سے اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی، دل اب بھی بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔
کلاس ختم ہوئی تو اس کی دوست فوراً اس کے پاس آ گئی۔
یار، میں نے تم سے کتنی دفعہ کہا ہے کہ یہ فینٹسی، جن، جنات والی لو اسٹوریز پڑھنا اور دیکھنا چھوڑ دو۔۔۔
جِشاہ نے فوراً احتجاج کیا۔ ارے یار، میں نے سچ ہی بتایا ہے۔۔۔
اس کی دوست نے آنکھیں گھمائیں۔
چلو چھوڑو، پہلے کچھ کھا لو۔ لگتا ہے واقعی تم نے کچھ نہیں کھایا۔ بعد میں بات کریں گے۔
جِشاہ کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آ گئی۔ ہاں چلو۔۔۔ پھر فوراً بولی، اور عمر کو بھی لے لیتے ہیں۔
نورا نے چڑتے ہوئے کہا، ہاں ہاں، لے لو اُسے بھی۔۔۔
دونوں ہنستی ہوئی عمر کے پاس گئیں۔ عمر، کینٹین چلنا ہے؟
عمر نے ایک لمحہ سوچا، پھر مسکرا کر بولا، چلو، کیوں نہیں۔
اور یوں تینوں کینٹین کی طرف بڑھ گئے،
جبکہ جِشاہ کے ذہن میں اب بھی دروازے کے سامنے کھڑا وہ پراسرار وجود گردش کر رہا تھا…

++++++++++++

یونیورسٹی کی چھٹی کے وقت نورا نے اچانک جِشاہ کی طرف دیکھ کر کہا،
آج میں تمہارے گھر رک جاؤں؟
جِشاہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ کیوں؟
نورا نے کندھے اچکا دیے۔ بس ویسے ہی۔
جِشاہ مسکرا دی۔ اچھا، ٹھیک ہے۔ رک جاؤ۔
شام تک دونوں جِشاہ کے فلیٹ پہنچ چکی تھیں۔
جِشاہ اپنے شہر کو چھوڑ کر لندن پڑھنے آئی تھی۔
یہ ایک پرسکون سوسائٹی تھی، جہاں ایک عمارت میں کئی فلیٹس تھے۔ ہر فلیٹ میں تین کمرے، ایک کچن اور ایک واش روم۔ وہ دونوں مل کر کچن میں کھانا بنانے لگیں۔ ہنسی، باتیں، اور دن بھر کی تھکن…
کھانے کے بعد جیسے سب کچھ ہلکا ہو گیا تھا۔
کھانا کھا کر دونوں الگ الگ کمروں میں سونے چلی گئیں۔
جِشاہ اپنے کمرے میں آئی تو اس نے الماری کے پاس رکھی اپنی سب سے پسندیدہ کتاب اٹھائی۔
وہی ناول۔۔۔ جنون
( when a Jinn Falls in Love )
وہ مسکرا دی۔ اسے جن، فینٹسی، اور پراسرار کہانیاں بے حد پسند تھیں۔ ناول کے چند صفحات پڑھنے کے بعد وہ خود سے بڑبڑانے لگی۔
کاش میرا بھی کوئی جن دوست ہوتا… وہ چھت کو دیکھتے ہوئے بولی، میں اس سے اپنے سارے کام کرواتی، اس سے باتیں کرتی… وہ ہر وقت میرے ساتھ رہتا… پھر اچانک وہ رک گئی۔
لیکن ایک منٹ… اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
کیا جن واقعی اس دنیا میں ہوتے ہیں؟
اچانک…
بالکل قریب سے ایک آواز آئی۔
Yes… we exist.
جِشاہ کے حلق سے ایک چیخ نکلی۔
وہ اچھل کر پیچھے ہوئی اور جو سامنے تھا اُسے زور سے دھکا دیا۔
وہ لڑکا۔۔۔۔ بیڈ سے نیچے جا گرا۔
وہ فرش پر بیٹھا، حیرت سے جِشاہ کو دیکھ رہا تھا۔
جیسے اسے خود بھی یقین نہ آ رہا ہو۔
تم…
اس کی آواز میں خالص تعجب تھا،
تم مجھے چھو بھی سکتی ہو؟
وہ ہراسان نظروں سے سامنے دیکھنے لگی۔
وہ… وہی لڑکا تھا۔ وہی غیر معمولی حد تک حسین چہرہ۔ وہی گہری سیاہ آنکھیں۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کون ہو تم؟!
آواز غصے اور خوف کا عجیب امتزاج تھی۔
میرے گھر میں کیسے آئے؟!
وہ بھی فوراً کھڑا ہوا اور اچانک اس نے جِشاہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ خود چونک گیا۔ یہ تو عجیب ہے…
اس نے آہستہ سے کہا، میں انسان کو بھی چھو سکتا ہوں؟
جِشاہ نے فوراً ہاتھ جھٹک لیا۔ تمہیں ہو کیا گیا ہے؟!
وہ چیخی۔ میرے گھر میں کیا کر رہے ہو؟ اور اندر آئے کیسے؟!
مگر وہ لڑکا اب بھی ایک ہی سوال میں الجھا تھا۔
تم مجھے دیکھ کیسے سکتی ہو… اور چھو کیسے سکتی ہو؟
میرے گھر سے نکلو۔۔۔ جیشا غصے سے چیخی۔
ورنہ میں۔۔۔
وہ جملہ پورا بھی نہ کر سکی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھل گیا۔
نورا اندر آ گئی۔
جِشاہ؟ تم کس سے باتیں کر رہی ہو؟
جِشاہ نے فوراً اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔
اس سے۔۔۔ وہ ہانپتے ہوئے بولی۔
یہ دیکھو، کیسے میرے گھر میں گھس آیا ہے! گارڈ کو بلاؤ، اسے باہر نکلواؤ۔۔۔۔
نورا نے حیرت سے جِشاہ کے چہرے کو دیکھا۔
پھر کمرے میں نظر دوڑائی۔
جِشاہ
اس کی آواز نرم ہو گئی۔
تم کس کی بات کر رہی ہو؟ یہاں تو کوئی نہیں ہے۔
کیا؟! جِشاہ چیخ پڑی۔
یہ اتنا لمبا، چھ فٹ کا آدمی تمہیں نظر نہیں آ رہا؟!
نورا کے چہرے پر تشویش ابھر آئی۔
نہیں… مجھے لگتا ہے تم ٹھیک نہیں ہو۔ شاید نیند پوری نہیں ہوئی۔
وہ اس کے قریب آئی، اس کے ہاتھ سے ناول لیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
پھر نرمی سے جِشاہ کو بیڈ پر لٹا دیا۔
اب سو جاؤ۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔
جِشاہ کی نظریں مسلسل اس جگہ پر تھیں…
جہاں وہ لڑکا کھڑا مسکرا رہا تھا۔
نورا نے لائٹ بند کی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
خاموشی پھیل گئی۔
جِشاہ نے آہستہ سے کمبل سر سے ہٹایا۔
دیکھا؟ وہ لڑکا بولا۔ میں نے کہا تھا… وہ مجھے نہیں دیکھ سکتی۔
پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
صرف بیڈ کے ساتھ جلتا ہوا ہلکا سا لیمپ تھا، جس کی زرد روشنی میں دونوں کے چہرے آدھے واضح اور آدھے سائے میں چھپے ہوئے تھے۔
جِشاہ غصے سے بولی، مانا مجھے جنوں کی کہانیاں پسند ہیں، مگر میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔
وہ مسکرایا۔
ابھی بھی یقین نہیں آیا؟
اگلے ہی لمحے وہ دیوار کے آرپار گزر گیا۔
اس کے فوراً بعد کمرے کی لائٹ خودبخود جل اٹھی۔
ہوا میں ایک عجیب سی سرسراہٹ پھیلی اور کمرے میں رکھی چیزیں ایک ایک کر کے زمین سے بلند ہونے لگیں۔
جِشاہ ششدر رہ گئی۔
آنکھیں پھیلی کی پھیلی رہ گئیں۔
وہ بڑبڑائی، لگتا ہے مجھے واقعی سو جانا چاہیے…
میرا دماغ سچ میں خراب ہو گیا ہے…
اس نے فوراً کمبل منہ پر اوڑھ لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ لمحے گزرے۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ دل کی دھڑکن ذرا سنبھلی تو اس نے ہمت کر کے کمبل ذرا سا سرکایا،
اندر سے جھانک کر باہر دیکھا۔
کمرہ خالی تھا۔ نہ کوئی سایہ، نہ کوئی وجود، نہ وہ لڑکا۔
یہ… یہ سب میرے وہم ہی تھا۔
وہ خود سے بڑبڑائی۔
دل کو زبردستی یقین دلاتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ ہی دیر میں تھکن نے خوف پر قابو پا لیا
اور وہ گہری نیند میں ڈوب گئی۔

++++++++++++

جب صبح جِشاہ کی آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اس کے حواس پر کچن سے آتی ہوئی لذیذ کھانے کی خوشبو نے دستک دی۔
وہ چونکی۔
وہ فوراً بستر سے اٹھی اور تیز قدموں سے کچن کی طرف گئی۔
وہاں نورا موجود تھی،
ایپرن باندھے، آخری لمحوں میں ناشتہ تیار کرتی ہوئی۔
گُڈ مورننگ جِشاہ۔۔۔ نورا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ آؤ، بیٹھو۔ ناشتہ کر لو۔
جِشاہ نے حیرت سے میز کی طرف دیکھا۔ تم کیا بنا رہی ہو؟
وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
نورا نے اس کے سامنے پلیٹ رکھتے ہوئے کہا،
سینڈوچ، بریڈ… اور ایپل جوس۔
جِشاہ نے ناشتہ شروع کیا، مگر چند لقموں کے بعد ہی رک گئی۔
آج تم یونیورسٹی اکیلی چلی جانا، وہ آہستہ سے بولی۔
نورا چونکی۔ کیوں؟
میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی، جِشاہ نے پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ آج یونی نہیں جاؤں گی۔
نورا فوراً سنجیدہ ہو گئی۔ کیا ہوا ہے تمہیں؟
بس ہلکا سا سر درد ہے، اس نے بات ٹال دی۔
نورا نے سر ہلایا۔ اچھا، ٹھیک ہے۔ تم آرام کرو۔ میں یونی کے بعد یہاں بھی اونگی اپنے گھر چلی جاؤنگی۔۔۔۔
ہاں…ٹھیک۔۔۔۔۔ جِشاہ نے کہا لیکن وہ چاہتی تھی کہ نورا کُچھ دن اور روک جائے کیوں کے اُس کی طبیعت اس وقت کُچھ عجیب سی ہورہی تھی، لیکن وہ کہہ نہیں سکی وہ کبھی اپنی فیلنگ کِسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ بھلے کوئی اُس کا اتنا ہی اچھا دوست کیوں نے ہو۔۔۔
وہ ناشتہ پورا کیے بغیر اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں دوبارہ سونے جا رہی ہوں۔
کمرے میں آتے ہی وہ جیسے بستر پر ڈھیر ہو گئی۔
سر بھاری تھا، جسم میں عجیب سا درد پھیلا ہوا تھا۔
شاید بخار تھا۔ اس نے جلدی سے دوا لی اور آنکھیں بند کر لیں۔

کچھ دیر بعد

اسے پیشانی پر ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ جیسے کسی نے ٹھنڈا ہاتھ رکھا ہو۔ وہ چونکی۔
آنکھیں کھولتے ہی اس کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی۔
اہ ہ ہ !
easy۔۔۔
ایک آواز فوراً بولی۔ وہی لڑکا۔ وہ اس کے بالکل قریب بیٹھا تھا۔
یہ میں ہوں۔
جِشاہ ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی۔ ہاں! تم ہو۔۔۔۔ وہ چیخی۔ اسی لیے تو میں چلّا رہی ہوں!
تم میرے گھر میں پھر کیسے گھس آئے؟!
وہ مسکرایا۔ وہی پُراسرار، مطمئن مسکراہٹ۔
جب بھی تم مجھ دیکھتی ہو، وہ نرمی سے بولا، ایک ہی سوال بار بار کیوں پوچھتی ہو؟
جِشاہ گھبرا کر ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی۔
آہھھ! تم فوراً میرے گھر سے نکلو۔۔۔
وہ لڑکا اچانک سنجیدہ ہو گیا۔
اس کی آنکھوں میں نرمی کی جگہ سختی آ گئی۔
چپ کرو۔۔ اس نے دبے مگر حکم دینے والے لہجے میں کہا۔ اور خاموشی سے لیٹ جاؤ۔ تمہیں بہت تیز بخار ہے۔۔۔۔
جِشاہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
ہاں ہے تو! مگر تم پھر بھی یہاں سے جاؤ۔۔۔
وہ لڑکا اس کے قریب آیا،
میں تمہارے پاس سے کہیں نہیں جا سکتا۔ تم کہو تب بھی نہیں۔
جِشاہ چونکی۔
کیوں؟
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ کیونکہ میں جن ہوں…
ایک لمحے کو رکا، پھر بولا، اور وہ بھی صرف تمہارا جن۔ جہاں تم ہو، وہیں میں ہوں۔
آہھھ۔۔۔۔ جِشاہ بے بسی سے چلّائی۔
اب کیوں چیخ رہی ہو؟ وہ پرسکون انداز میں بولا۔
کیونکہ تم جن ہو۔۔۔ وہ تقریباً رونے والی تھی۔
نہیں… شاید میں خواب دیکھ رہی ہوں۔
وہ جھکا، اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
ابھی بھی یقین نہیں آیا؟
نہیں۔۔۔ وہ چیخی۔۔۔
اس نے فوراً نرمی سے اپنا ہاتھ جِشاہ کے منہ پر رکھ دیا۔
شور مت کرو۔
پھر کمبل درست کرتے ہوئے بولا،
خاموشی سے لیٹی رہو۔ میں تمہارے لیے سوپ بنا کر لاتا ہوں۔
جِشاہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ تمہیں کھانا بھی بنانا آتا ہے؟
وہ مسکرا دیا۔ ہاں، کیوں نہیں؟
میں جن ہوں… مجھے دنیا کا ہر کام آتا ہے۔
یہ کہہ کر وہ کچن کی طرف بڑھ گیا۔
جِشاہ، بے اختیار، اس کے پیچھے پیچھے ہول میں آ گئی۔
جیسے ہی وہ کمرے سے باہر نکلی،
وہ چونک کر رک گئی۔ پورا گھر ترتیب سے سجا ہوا تھا۔ صاف ستھرا، جیسے کسی نے خاص توجہ سے سب کچھ درست کیا ہو۔ وہ بے دھیانی میں بول اٹھی،
یہ نورا کر کے گئی ہوگی
نہیں،۔۔۔ وہ لڑکا فوراً بولا۔ یہ میں نے کیا ہے۔
جِشاہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ آہ ہ ہ ! کیوں؟
وہ اس کی طرف مڑا۔ کیونکہ میں تمہارا جن ہوں۔
تم خواہش کرتی تھی نا کہ تمہارے پاس بھی کوئی جن ہو… جو تمہارا ہو، ہر وقت تمہارے ساتھ رہے۔
جِشاہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
یہ… یہ واقعی نہیں ہو سکتا… وہ بڑبڑائی۔
وہ مسکرا کر اس کے سر پر ہلکا سا تھپکی دے بیٹھا۔
بس، اپنے اس چھوٹے سے دماغ پر زیادہ زور مت ڈالو۔
آہستہ آہستہ تمہیں میری عادت ہو جائے گی۔
اور پھر… واقعی، آہستہ آہستہ جِشاہ کو اس کی عادت ہو گئی۔ وہ یونیورسٹی جاتی اور گھر واپسی کا شدت سے انتظار کرتی، کیونکہ گھر پر وہ ہوتا تھا۔ وہ یونیورسٹی کی ساری باتیں اسے سناتی،
ہر چھوٹی بڑی بات۔ وہ اس کے سامنے نخرے کرتی،
اور وہ خاموشی سے سب سہہ لیتا۔
وہ اس کا خیال رکھتا، اس کے سارے کام کرتا۔
ایک دن وہ اس کے ساتھ یونیورسٹی بھی گیا۔
جِشاہ خوشی سے بولی،
روز میرے ساتھ یونی آ جایا کرو۔
وہ ہنس پڑا۔
اور گھر کا خیال کون رکھے گا؟ گھر کے کام کون کرے گا؟
حالانکہ حقیقت یہ نہیں تھی۔ وہ تو ایک جن تھا۔۔۔
ایک لمحے میں سب کچھ کر سکتا تھا۔
اصل مسئلہ جِشاہ تھی۔ جب جب وہ اس کے ساتھ یونی جاتا،
اسٹوڈنٹ جِشاہ کو ہوا میں باتیں کرتے دیکھتے،
پاگل کہتے۔ اساتذہ بلاوجہ اسے غور سے دیکھتے،
نصیحتیں کرتے۔
اور اب تو اس کی دوستیں بھی محسوس کرنے لگی تھیں کہ جِشاہ کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور گڑبڑ ہے۔
اور آج تو عمر نے بھی اس سے کہہ دیا تھا۔
عمر جِشاہ کا کرش تھا۔
یونیورسٹی کا سب سے بدمعاش لڑکا،
جس نے سب کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔
مگر جب بات جشاہ کی آتی،
وہ یکدم خاموش، مہذب، اور حد سے زیادہ خیال رکھنے والا بن جاتا۔

کیا معلوم… کہیں وہ بھی جِشاہ کو پسند تو نہیں کرتا؟

++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *