پت جھڑ قسط نمبر ؛٥
ازقلم الم
“میں نے آلو والے پراٹھے بنائے ہیں یش بھائی کو بہت پسند ہے نا اس لیے” مشکوٰۃ نے مسکراتے ہوئے پرجوش لہجے میں کہا تو اس وقت اسے مشکوٰۃ بہت کیوٹ لگی تھی۔
دل نے شرارت پر آمادہ کیا مگر اس نے جذبات پر قابو پایا حالانکہ وہ اس کے نکاح میں تھی جائز رشتہ تھا مگر اشعث کبھی بلاوجہ اس کے قریب نہیں گیا تھا وہ چاہتا تھا مشکوٰۃ پہلے اپنی تعلیم مکمل کر کے اپنے کیریئر کو سیٹ کرے پھر اس پر اپنے جذبات آشکار کرے گا ابھی ابھی اسے ان سب چیزوں میں ڈال کر اس کا فوکس تعلیم سے ہٹانا نہیں چاہتا تھا
“شکریہ فاطمہ” اس نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا تو وہ بھی جواباً مسکرائی۔
°۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ°
“اب بتائے گا کیا مسئلہ ہوا ہے؟”اشعث اس وقت یوشع کے سامنے بیٹھا ہوا تھا یوشع ناشتہ کر چکا تھا اور اشعث نے اس سے ناشتہ کیسے کروایا تھا وہ ایک الگ کہانی ہے اور اب دونوں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
اس کے سوال پر یوشع نے گہرا سانس بھر کر رات کا سارا واقعہ اشعث کے گوش گزار کیا جسے سنتے اشعث کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے۔
“سلطان شاہ کو کسی دن اس کا یہی غرور لے ڈوبے گا تم دیکھنا اور وہ وقت انشاءاللہ قریب ہی ہے اس شخص نے اپنا زہر آئرہ کے کچے ذہن میں بچپن سے ہی ڈال دیا ہے اور اس کو خود بھی اپنے جیسا انا پرست اور بےحس بنا دیا ہے خیر تمہیں بھی جذبات میں حویلی نہیں چھوڑنی چاہیے تھی کچھ بھی تھا وہ تمہارا گھر تھا جتنا حق سلطان شاہ کا ہے اتنا تمہارا بھی ہے” نفرت بھرے لہجے میں کہتے آخر میں اس کا لہجہ سمجھانے والا تھا ۔
“میں نے بہت سوچ سمجھ کر حویلی چھوڑی تھی وہاں میرا دم گھٹتا ہے ہر کسی کی آنکھ میں نفرت اور حقارت ہی نظر آتی ہے مجھے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت نہیں سب کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے کی اجازت نہیں اور رہی بات میرے باپ کی وہ تو ہیں ہی کٹھ پتلی انہوں نے پہلے میرے لیے اواز اٹھائی تھی نہ آج اٹھائیں گے میں سب کے درمیان میں تنہا تھا اور بھیڑ میں تنہا ہونا بہت تکلیف دہ ہوتا ہے” اس نے زخمی لہجے میں کہا تو اشعث نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
“اچھا ویسے تو پرائے پھڈے میں تو آتا ہی نہیں ہے اتنا تو میں جانتا ہوں پھر اس لڑکی کے پیچھے تو آئرہ سے بھڑ گیا کیا چکر ہے باس” اس نے اسے شرارتی نظروں سے دیکھ تے سوال کیا تو یوشع بوکھلایا۔
” وہ افق کی بہن ہے جس کی ذمہ داری اس نے مجھ پر سونپ دی ہے اس لیے” اس کے نظریں چرا کر کہنے پر اشعث گہرا مسکرایا ۔
“یہ تو تو نے کور اپ مارا ہے سچی بات بتا محبت وحبت کا چکر تو نہیں ہے”
” پتہ نہیں پر اسے پہلی دفعہ دیکھ کر لگا تھا کہ وہ آنکھیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی جن پر دیوان لکھے جاتے ہیں اس کی آواز سنی تو محسوس ہوا کہ کچھ آوازیں سماعت کا سکون اور روح کی ٹھنڈک ہوتیں ہیں اس کے آس پاس ہونے پر محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کشش ہے جو اس کی طرف کھینچتی ہے اس کو دیکھ کر لگا تھا کہ شاید اللہ نے میری سرمئی گڑیا بھیج دی ہے” وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں بول رہا تھا اس کی حالت دیکھ اشعث مسکرایا وہ خود بھی تو اسی مرض کا مریض تھا۔
“شاہ صاحب تم تو گیو” اشعث سنجیدگی کے کہنے پر وہ اپنی کیفیت سے باہر آیا تھا۔
“تو نئی نئی محبت کا جشن منا مجھے اور بھی کئی کام ہیں میں چلتا ہوں” اشعث نے شرارت سے کہا تو یوشع کا چہرہ سرخ ہوا اس کے لڑکیوں کی طرح شرمانے پر اشعث کا قہقہہ بے ساختہ تھا اسے مل کر وہ باہر کی طرف چلا گیا اور اس کے جاتے ہی یوشع کے چہرے پر بے نام سے مسکراہٹ بکھری تھی ان سرمئی آنکھوں کو یاد کرتے۔
اشعث گاڑی میں بیٹھا اور فون نکال کر کسی کو کال ملائی اب کہ اس کے تاثرات پتھریلے تھے یہ کوئی مختلف اشعث تھا۔
“ہیلو!!” مصروف سا ہیلو ابھرا
“یونیورسٹی میں ہوئے فساد کے متعلق مجھے آگاہ کرنا ضروری کیوں نہیں سمجھا گیا؟” اس کا لہجہ بے انتہا سنجیدہ تھا
“وہ اتنا ضروری بھی نہیں تھا اور ویسے بھی وہ حل ہو گیا تھا” سامنے والے نے لاپروا سے انداز میں جواب دیا۔
“اس غیر ضروری واقعے کو بنیاد بنا کر آئرہ یوشع کو حویلی سے نکلوا چکی ہے” اشعث کا لہجا جتاتا ہوا تھا
” ہیں!! کیا ؟؟ اس میں یوشع کہاں سے آگیا وہ کافی حیران تھی۔
” یوشع کے اس کو ڈانٹنے پر اس نے اچھا خاصا سین کرییٹ کروایا اور سلطان شاہ نے یوشع کو گھر سے نکال دیا”
” اووو تو یہ بات ہے پھر اب کیا کریں گے آپ “
“میں نہیں تم کرو گی “
“میں کیا کروں گی”
” جو پہلے ہی دن میس کرییٹ ہوا ہے اسے سمٹیو گی تمہیں آئرہ کے ساتھ رویہ بہتر رکھنا تھا بگاڑنا نہیں تھا اس لیے تم شاہ حویلی جاؤ گی آئرہ سے معذرت کرو گی اور ممکن ہوا تو وہاں خفیہ کیمرے بھی لگا کر آؤ گی تاکہ ان پر ہم نظر رکھ سکیں کیونکہ مجھے شک ہے کہ وہاں کچھ تو گڑبڑ چل رہی ہے”
“اور اپ کو کیوں لگتا ہے میں وہاں جاؤں گی؟؟”
” تم جاؤ گی کیونکہ ہمارا مقصد ہمارے پرسنل معاملات سے بڑھ کر ہے” اس کے کہتے ہی سامنے والے نے گہری سانس بھری اور جانے کے لیے حامی بھری “ٹھیک ہے میں تیار ہوں جانے کے لیے”
” گڈ فار یو” کہتے ہی کھٹاک سے فون بند کر دیا فون بند ہونے پر اس نے فون کو گھورا پتہ نہیں یہ شاہ خاندان والوں میں اتنی اکڑ کیوں تھی اس نے تلملاتے ہوئے سوچا
“تمہاری کہاں جانے کی تیاری ہے؟ صبح صبح تمہاری کلاس میں تو ٹائم ہے نا؟” عنایہ کی روم میٹ، عائشہ نے اسے صبح صبح تیار ہوتے دیکھ کر پوچھا۔
“ایک ضروری کام سے جانا ہے،” عنایہ نے مصروف انداز میں جواب دیا۔
“کون سا ضروری کام ہے لاہور میں؟ یہاں آئے ہوئے تمہیں ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا، نہ کسی کو جانتی ہو نہ پہچانتی ہو۔” عائشہ نے تفتیشی افسران کی طرح سوال کیا۔
“تمہیں کیا پتا میں لاہور کتنی مرتبہ آ چکی ہوں یا میرے کتنے تعلقات ہیں؟” عنایہ نے پِن منہ میں دبائے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔ تو عائشہ کا منہ کھلا۔
“مطلب تم لاہور پہلی مرتبہ نہیں آئیں؟” عائشہ نے حیرت سے سوال کیا۔
“اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا،” عنایہ نے پِن سے حجاب سیکیور کرتے ہوئے جواب دیا۔
“اوہ، اس کا مطلب ہے پہلی مرتبہ ہی آئی ہو۔ نور نے تو ایسا ہی کہا تھا،” عائشہ پرسکون ہو کر بولی۔
“وہ تو نور نے کہا تھا نا، میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔” عنایہ نے زچ کرنے والی مسکراہٹ چہرے پر سجائے جواب دیا تو عائشہ حقیقتاً زچ ہو چھی گئی۔
“اس کا مطلب ہے پہلی دفعہ نہیں آئی ؟؟”عائشہ کا سکون پھر سے غارت ہوا
“اب میں نے ایسا بھی نہیں کہا؟” عنایہ نے اپنا بیگ اور موبائل اٹھایا، “یار! یہ کون سا سسپنس ہوا؟ بتا دو پہلی مرتبہ آئی ہو نا لاہور؟” عائشہ، عنایہ کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی آ رہی تھی کیونکہ عنایہ اس کو تجسس میں ڈال چکی تھی اور انسانی فطرت میں سب سے خطرناک چیز پتا ہے کیا ہوتی ہے؟ تجسس۔ یہ تجسس ہی ہوتا ہے جو انسان سے بڑی بڑی ایجادات کروا دیتا ہے، یہ تجسس ہی ہوتا ہے جو انسان کو چاند پر پہچنے پر مجبور کرتا ہے اور یہی تجسس بعض دفعہ ہمیں بڑے بڑے خطرات سے بھی دوچار کر دیتا ہے۔
“تم کہاں۔۔۔۔؟” عنایہ کا ٹکراؤ باہر نور سے ہوا جس نے ایک ابرو اٹھا کر سنجیدگی سے سوال کیا۔
“آ کر بتاتی ہوں، جانے من!” عنایہ شرارت سے کہتے ہوئے فلائنگ کِس اس کی طرف اچھال کر باہر کی طرف بڑھ گئی تو نور نے نفی میں سر ہلایا، گویا افسوس کیا ہو کہ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا۔
“نور! یہ عنایہ پہلی بار لاہور آئی ہے نا؟” عائشہ کی سوئی لاہور پر اٹک چکی تھی۔
“تمہیں کیوں جاننا ہے؟ یار! وہ مجھے نا تجسس میں ڈال گئی ہے یہ کہہ کر کہ ‘تمہیں کیا پتا میں لاہور پہلی دفعہ آئی ہوں کہ نہیں؟'” عائشہ کو پتا نہیں کیوں اس بات کا صدمہ لگے جا رہا تھا کہ کہیں عنایہ نے پہلے سے لاہور تو نہیں دیکھ رکھا۔ ویسے لاہور ایسا شہر ہے بھی جس کے لیے جیلس فیل کیا جائے اور یقیناً عائشہ کو یہ گوارا نہیں ہو رہا تھا کہ عنایہ نے اس سے پہلے لاہور کی فضاؤں میں سانس لیا ہو۔ فضول تو تھی یہ بات، پر عائشہ کی منطق تھی کیا کہا جا سکتا ہے۔ اب محبت چیز ہی ایسی ہوتی ہے، چاہے وہ لاہور سے ہو یا کسی لاہوری سے۔
“تم نے اس سے کیا پوچھا تھا؟” نور نے محظوظ انداز میں سوال کیا۔
“میں نے۔۔۔۔؟؟” اور نور کے پوچھنے پر عائشہ کو یاد آیا کہ اس نے عنایہ سے اس کے جانے کے متعلق سوال کیا تھا۔
“میں نے اس سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے؟” عنایہ نے صدمے کی کیفیت میں جواب دیا تو نور کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
“وہ تمہیں بے وقوف بنا گئی ہے عائشہ! اس نے تمہیں ڈائریکٹ تمہارے سوال کا جواب دینے سے انکار نہیں کیا، بلکہ وہ تمہیں ایک نئے مسئلے میں الجھا گئی اور تم اس میں اتنا الجھ گئیں کہ اپنا اصل سوال بھول کر اس کے فراہم کردہ سوال میں لگ گئیں اور وہ بنا کوئی وضاحت دیے آسانی سے نکل گئی۔” نور عائشہ کی حالت سے اچھا خاصا لطف اندوز ہو رہی تھی جو عنایہ کے ہاتھوں حالیہ اوقات میں بے وقوف بن چکی تھی۔ جب کہ عائشہ ابھی تک صدمے میں تھی کہ عنایہ اس کی لاہور سے متعلق محبت کے متعلق جانتی تھی اسی لیے اس نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ جب کہ نور اسے صدمے میں چھوڑ کر اندر بڑھ گئی۔
✩━━━━━━━✩
“بھائی صاحب! میں آپ کو کہہ رہی ہوں کہ میں آپ کی چھوٹی بی بی کی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں، اس سے کام ہے مجھے، ملنا ہے اور آپ ہیں کہ مجھے جانے نہیں دے رہے۔” عنایہ حقیقتاً زچ ہو چکی تھی اس چوکیدار سے، وہ کوئی پچھلے دس منٹ سے اس کے ساتھ بحث کر رہی تھی مگر اس کی ایک ہی رٹ تھی:
“میڈم! پرمیشن لیٹر دکھائیں یا پھر اندر سے کسی سے پرمیشن لے دیں۔” تو عنایہ نے زچ ہو کر کہا۔
“تم خود فون کر کے اندر سے اجازت لے لو۔” تو چوکیدار کا جواب تھا کہ انہیں اجازت نہیں ہے۔ صبح نو بجے سے پہلے ولا میں فون کر کے کسی کو ڈسٹرب کرنے کی یہ وقت سب کے سونے کا ہوتا تھا۔ ایک تو شاہ ولا کے اصول ہی نرالے تھے: ولا میں گھر والوں کے علاوہ صرف ان لوگوں کو داخلے کی اجازت تھی جن کے پاس ایک خاص قسم کا پرمیشن لیٹر ہوتا تھا۔ ابھی عنایہ اور چوکیدار کی بحث چل ہی رہی تھی کہ مفراہ جو مالی سے پودوں کی کانٹ چھانٹ کروا رہی تھی، وہ شور کی آواز سن کر گیٹ کی طرف گئی۔ یوشع کے بعد اگر کسی کو جلدی اٹھنے کی عادت تھی تو وہ مفراہ اور صائمہ بیگم تھیں۔
“کیا ہوا ہے کرم الٰہی؟ کیا مسئلہ ہے؟” مفراہ نے چوکیدار سے پوچھا۔
“بی بی! یہ محترمہ کہہ رہی ہیں کہ چھوٹی بی بی جس یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں، ان سے کوئی کام ہے مگر ان کے پاس کوئی اجازت نامہ نہیں۔” کرم الٰہی نے نظریں جھکا کر جواب دیا تو مفراہ نے ایک تنقیدی نظر سامنے کھڑی سیاہ عبایا اور سیاہ حجاب میں ملبوس عنایہ پر ڈالی۔
“انہیں اندر آنے دو،”اس نے کچھ سوچ کر کہا جب کہ اجازت ملتے ہی عنایہ نے شکر کا سانس لیا۔ مفراہ اسے ڈرائنگ روم میں لائی۔
“اب یہاں بیٹھیں، نسرین! ان کے لیے چائے ناشتہ لے کر آؤ۔” مفراہ نے عنایہ کو ڈرائنگ روم میں بٹھاتے ہی ملازمہ کو آواز دی۔
“نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے، میں ناشتہ کر چکی ہوں۔” پہم عنایہ مسکراتے ہوئے بولی “اب میں ان کی حرام کی کمائی کا کھانا کھاؤں گی؟ اللہ معاف کرے۔” اور یہ بات دل میں کہی
“صرف چائے ہی لے لیجیے گا “تو مفراہ بھی جواباً مسکرا کر گویا ہوئ، “آپ بیٹھیں، میں آئرہ کو بھیجتی ہوں۔”
اس کے جاتے ہی عنایہ کا چہرہ سنجیدہ ہوا۔ عنایہ نے ٹیڑھی نظروں سے دائیں کونے میں لگے کیمرے کو دیکھا اور نہ محسوس انداز میں بائیں ہاتھ میں پکڑا موبائل بازو نیچے کر کے اپنے پاؤں پر پھینکا تاکہ موبائل گرنے کی آواز پیدا نہ ہو۔ پھر بڑے محتاط انداز میں اسے پاؤں سے زمین پر رکھا اور ہلکے سے ٹھوکر مار کر اسے صوفے کے نیچے دھکیل دیا جب کہ اس دوران وہ مسکرا کر کمرے میں داخل ہوتی ہوئی نسرین کی کسی بات کا جواب دے رہی تھی۔ اس کے تاثرات سے قطعاً یہ انداز نہیں ہوتا تھا کہ اس کا دماغ گفتگو کے ساتھ کسی اور کام میں مصروف ہے۔ وہ ایک ساتھ تین کام سرانجام دے رہی تھی: پہلا نسرین سے گفتگو کرنا، دوسرا ہاتھوں اور پاؤں کو حرکت دینا وہ بھی بالکل چونکنے انداز میں، تیسرا چہرے کے تاثرات پر قابو پانا اور یہ تینوں کام بیک وقت سرانجام دینا بہت مشکل تھا مگر وہ دے رہی تھی۔
ٹیبل لوازمات سے سَج چکا تھا مگر عنایہ نے وہاں سے پانی کا ایک گھونٹ تک بھی نہیں پیا۔ بھلا کیوں وہ ان کی حرام کی کمائی کھاتی بھئی؟ تھوڑی دیر میں ہی سلیپنگ ڈریس میں ملبوس، الجھے بالوں والی آئرہ آنکھیں مسلتے ہوئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ وہ حیران تھی کہ اس کی کون سی دوست اتنی صبح صبح اس کے گھر آ ٹپکی ہے؟ آئرہ ویسے تو نہ آتی مگر اس کو اٹھانے مفراہ گئی تھی اور آئرہ اگر پوری دنیا میں کسی بات کو اہمیت دیتی تھی تو وہ ضرار تھا اور اسی کے رشتے کے توسط سے مفراہ کی بھی وہ سُن لیتی تھی ورنہ وہ نیند کی قربانی دے کر کبھی نہ آتی مگر سامنے بیٹھی عنایہ کو دیکھ اس کی نیند بھک سے اڑی۔ چہرے پر پہلے حیرت پھر غصہ اور پھر نفرت نمودار ہوئی۔ وہ عنایہ کو اپنے سامنے دیکھنے کی توقع قطعاً نہیں کر رہی تھی، کل کے واقعے کے بعد تو بالکل بھی نہیں۔ جب کہ اس کے برعکس عنایہ کا چہرہ نارمل تھا۔
“تم۔۔۔۔۔!!!تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” آئرہ کی آواز غصے سے بلند ہوئی۔
“ریلیکس آئرہ! میں بات کرنے آئی ہوں۔” عنایہ نے تحمل سے کہا تو آئرہ کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھری۔
“کرو بات…؟” کچھ سوچ کر آئرہ نے کہا کہتے ہی اس کے سامنے صوفے پر جا کر ہاتھ سینے پہ باندھ کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گئی۔وہ جاننا چاہ رہی تھی کہ آخر وہ اس کے گھر کیا کرنے آئی ہے اسے پہلے دن سے ہی ان کے متعلق کچھ کھٹک رہا تھا کوئی وارننگ الارم جیسا۔
اب حیران ہونے کی باری عنایہ کی تھی، وہ آئرہ کے اتنے جلدی مان جانے کی توقع نہیں کر رہی تھی مگر وہ جلدی ہی اپنی اس کیفیت پر قابو پا گئی۔
“دیکھو آئرہ! کل جو ہوا اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔ میرا ارادہ تو صرف تھا کہ تھوڑا بہت مذاق کر لیں گے، دیٹس اِٹ مگر نور کی حرکت پر میں خود شاک تھی۔ بلکہ شرمندہ۔ آپ لوگ سینیئر تھے۔ تھوڑا بہت فن کر رہے تھے، یہ اتنا بڑا ایشو نہیں تھا، نور کا ردعمل شدید تھا، جس کے لیے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں۔” عنایہ کے سنجیدگی سے کہنے پر آئرہ نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا۔
“مان لیا کہ تم شرمندہ ہو، مگر یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ تم اپنی دوست کے خلاف جا کر مجھ سے معذرت کرنے آئی ہو کیونکہ اس کی یہاں غیر موجودگی اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اسے معافی مانگنے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے اور یقیناً تم بھی اسے بتا کر نہیں آئی ہو۔” آئرہ کا لہجہ بھی حد درجہ سنجیدہ تھا۔
“بالکل، کیونکہ اس کے پاس بیک سپورٹ ہے، جبکہ میرے پاس نہیں ہے۔ میں آپ جیسے بڑے لوگوں کے ساتھ دشمنی افورڈ نہیں کر سکتی، میری ذمہ داریاں میری اَنا سے بڑی ہیں۔ اس لیے میں امید کرتی ہوں کہ آپ یقیناً میری معذرت قبول کریں گی۔” اس بار عنایہ کا لہجہ دھیما تھا۔
“ٹھیک! تو مطلب تم میرے ردعمل سے، جو کہ ابھی دینا باقی ہے، امان طلب کرنے آئی ہو؟” آئرہ نے مغرور انداز میں مسکراتے ہوئے سوال کیا تو عنایہ نے کڑواہٹ گلے میں اتارتے چہرے پر مسکینی طاری کرتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
“میرے گھر آ کر امان طلب کرنے کا طریقہ مجھے پسند آیا اور ہمارے ہاں یہ اصول ہے کہ گھر آئے سوالی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔ تو آئرہ سلطان شاہ آج تمہیں زبان دیتی ہے کہ تمہیں آئندہ میری طرف سے کبھی کوئی نقصان نہیں دیا جائے گا۔ ہاں! لیکن تمہاری دوست کی گارنٹی میں بالکل بھی نہیں لیتی۔” آخری بات کہتے ہوئے کچھ۔۔۔۔۔ کچھ تھا اس کی آنکھوں میں جو مستقبل کے لیے خوش آئند تو بالکل نہیں لگ رہا تھا۔
“خیرہے اس کی، میں سیکیور ہوں۔ میرے لیے یہی بہت ہے۔” عنایہ نے کمینی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہا تو آئرہ نے محظوظ ہوتے ہوئے قہقہہ لگایا۔
“ایول سپرٹ!” آئرہ نے مسکراتے ہوئے داد دی۔
“خون کا اثر ہے۔” عنایہ نے عجیب سی مسکراہٹ سے کہا مگر وہ مسکراہٹ صرف ہونٹوں تک تھی، آنکھوں میں مسکراہٹ تو نہیں تھی، یہ تپش تھی۔ شاید۔
“مجھے فریش ہونا ہے، واش روم کس طرف ہے؟” عنایہ نے نارمل انداز میں پوچھا۔
“یہ ساتھ۔۔۔۔”
“بی بی جی! واش روم کا نل خراب ہے۔ آج پلمبر آئے گا اسے ٹھیک کرنے۔” آئرہ کے بولنے سے پہلے ہی نسرین جو وہاں ہاتھ باندھے کھڑی تھی، وہ بول اٹھی۔
“مہمانوں کا آنا جانا ہوتا ہے اور تم لوگوں سے ایک نل نہیں ٹھیک کروایا گیا؟” آئرہ نے سخت لہجے میں کہا۔
“وہ چھوٹی بی بی جی! کل شام کو ہی خراب ہوا ہے، ابھی کچھ دیر میں پلمبر آ کر کر دے گا ٹھیک۔” نسرین نے منمناتے ہوئے جواب دیا۔ ایک تو سب ملازمین کو اس مغرور چڑیل سے بڑا ڈر لگتا تھا جس کا پتا نہیں کب دماغ پھر جائے۔
“ہو جانا چاہیے! اس نے ‘چاہیے’ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“جی بی بی جی! جاؤ، میڈم کو باہر والا واش روم دکھاؤ۔” جب کہ عنایہ تو صرف یہ سوچ رہی تھی کہ خراب ہوا تھا یا خراب کروایا گیا تھا؟
“آئیں میڈم جی!” نسرین کے کہتے ہی عنایہ اس کے پیچھے چل دی۔ جب کہ اس کی نظریں عقاب کی طرح ہر طرف کا جائزہ لے رہی تھیں۔
“بی بی جی! یہاں،” نسرین نے لاؤنج کے دائیں طرف بنے واش روم کی طرف اشارہ کیا تو عنایہ واش روم میں داخل ہو گئی۔ کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تو نسرین اس کا باہر ہی انتظار کر رہی تھی۔ وہ بنا کچھ کہے اس کے پیچھے چل دی، اچانک گزرتے ہوئے اس کا حجاب گلدان میں پڑیں پھولوں کے کانٹوں میں اٹکا تو وہ اسے نکالنے کے لیے رک گئی۔ خدا جانے وہ اٹکا تھا یا اٹکایا گیا تھا۔ عنایہ میڈم نے پورے دو منٹ کانٹوں سے حجاب چھڑوانے میں لگائے تھے، “ہو گیا، چلو!” حجاب چھڑواتے ہی وہ دوبارہ چل دی۔
جب وہ ڈرائنگ روم میں پہنچیں تو آئرہ ابھی تک وہاں موجود تھی۔
“آؤ، بیٹھو اور ناشتہ کرو، تم نے تو کچھ لیا ہی نہیں،” اس کے آتے آئرہ نے خوش دلی سے اچھے میزبان کی طرح آفر کی۔
“نہیں، شکریہ، میں ناشتہ کر کے آئی تھی۔ میں چلتی ہوں، کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے۔” عنایہ نے کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔
“چلو، امید ہے ملاقات ہوتی رہے گی۔” آئرہ نے دوستانہ انداز میں کہا۔
“جی! انشاء اللہ۔” عنایہ آئرہ سے مصافحہ کرتے ہوئے جانے لگی تھی کہ دروازے سے واپس پلٹی، “کیا ہوا، خیریت؟” آئرہ نے اس کو واپس آتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا۔
“وہ میں اپنا فون یہیں بھول گئی ہوں۔” عنایہ نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
“نسرین! فون ڈھونڈ دو،” آئرہ کے کہتے ہی نسرین نے صوفے پر، میز پر فون تلاشنا شروع کیا، سارا کمرہ چھان مارنے کے بعد بھی فون نہ ملا۔
“بی بی جی! یہاں تو کہیں نہیں ہے۔” آئرہ کے ماتھے پر لکیریں ابھریں، جب کہ عنایہ نے چہرے پر مصنوعی پریشانی طاری کی اور خاموش کھڑی رہی کیونکہ اگر وہ اوور ایکٹنگ کرتی تو پکڑی جاتی۔
“ایسا کرو صوفے کے نیچے دیکھو، وہاں نہ گر گیا ہو۔” آئرہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ ‘عقل تو ہے اس میں،’ عنایہ نے دل میں سوچا!
نسرین نیچے جھکنے لگی مگر اس کے بھاری جسم نے اس بات کی اجازت نہ دی۔
“اب رہنے دیں، میں دیکھ لیتی ہوں۔” عنایہ کے کہنے پر نسرین کی مشکل آسان ہوئی اور وہ خود نیچے جھک کر فون تلاش کرنے لگی۔ چار سے پانچ منٹ بعد اس نے صوفے کے نیچے سے اپنا ہی پھینکا گیا فون برآمد کر لیا۔
“آہ مل گیا!” عنایہ فون لے کر کھڑی ہوئی، “اوکے، اللہ حافظ، میں چلتی ہوں۔” اس کے کہنے پر آئرہ نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ وہاں سے چل دی۔ مگر گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے چوکیدار کو زبان چڑھائی، گویا کہہ رہی ہو ‘روک لیا مجھے؟’ جب کہ وہ منہ کھولے اس پاگل لڑکی کی شکل دیکھ کر رہ گیا۔
“وزن کم کر لو کچھ،” آئرہ نے سخت لہجے میں نسرین سے کہا اور باہر نکل گئی، جب کہ وہ بیچاری شرمندہ ہو گئی۔ اب کیسے ہو پتلی؟ وہ تو کھانا چھوڑ دیتی مگر کھانا اسے نہیں چھوڑتا تھا۔ ورزش کرنے سے اسے کمزوری ہوتی تھی اور وہ بس معجزے کے انتظار میں تھی کہ چھڑی گھومے اور نسرین ہو جائے نازک، پتلی حسینہ، مگر کاش ایسا ممکن ہو۔
“یہ آئرہ صبح صبح کہاں سے آ رہی ہے؟” صائمہ بیگم نے ملازمہ لاؤنج میں انٹر ہوتی آئرہ کو کچن کی کھڑکی سے دیکھ کر ملازمہ سے پوچھا کیونکہ اس کے جلدی اٹھنے پر وہ حیران تھیں۔
“چھوٹی بیگم جی! وہ ان کی کوئی سہیلی آئی تھی جی ان سے ملنے اس لیے…” ملازمہ نے ادب سے جواب دیا۔
“اچھا،” صائمہ بیگم نے حیرت سے کہا پھر سر جھٹک کر کام کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ اس لڑکی کی حرکتیں اکثر ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
“محسن! پچھلے آدھے گھنٹے کی سی سی ٹی وی دکھاؤ۔” آئرہ نے سکیورٹی روم میں داخل ہوتے ہی سکیورٹی انچارج کو کہا تو وہ چونکا۔
“خیریت میم؟”
“ہاں، تم دکھاؤ۔” اس کے حکمانہ انداز میں کہتے ہی محسن نے ویڈیو پلے کی تو آئرہ غور سے ڈرائنگ روم میں بیٹھی عنایہ کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے لگی۔ اس کو عنایہ کا آنا کھٹک رہا تھا۔ کل کے واقعے کے اگلے دن ہی…
اس کی رگوں میں زمینی ابلیس کا خون دوڑ رہا تھا، مکاری اس کے خون میں تھی اور مکار انسان مکاری کی بُو بہت جلدی سونگھ لیتے ہیں۔ محسن بھی غور سے عنایہ کا جائزہ لے رہا تھا۔ بظاہر تو کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو مشکوک ہو مگر عنایہ کا خود ہی ٹیڑھی نظروں سے کیمرے میں دیکھ کر آہستہ سی حجاب پھولوں پر پھیکنا اور گلدان کے پاس رک کر کئی منٹ وہیں الجھے کھڑے رہنا آئرہ کو کھٹک گیا تھا۔
“پاز۔۔۔۔۔” اس نے نظریں سکرین پر جمائے ہوئے حکم دیا۔
“زوم کرو، پھر ویڈیو پلے کرو۔” آئرہ کے کہتے ہی تصویر زوم کی گئی تو یہ دیکھ آئرہ کے چہرے پر شیطانی سی چمک ابھری، اپنا شک درست نکلنے کی۔ عنایہ کا دوپٹہ پھولوں کے اوپری حصے پر اٹکا تھا، جب کہ عنایہ کے ہاتھ گلدان کے اندر تھے جیسے وہ اندر کچھ تلاش رہی ہو یا شاید کچھ رکھ رہی ہو، پھر کام ختم ہونے کے بعد اٹکا ہوا حجاب نکالا اور چلی گئی۔
“پلے فاسٹ فارورڈ،” آئرہ کے کہتے ہی منظر تیزی سے سکرین پر دوڑنے لگے۔
“اسٹاپ، اسٹاپ! ویڈیوز زوم کرو اور نارمل اسپیڈ میں پلے کرو،” سکرین پر وہ کلپ چل رہی تھی جب عنایہ صوفے کے نیچے سے اپنا موبائل ڈھونڈ رہی تھی، مگر اگر ہاتھوں کی حرکت غور سے دیکھی جائے تو موبائل زمین پر ٹٹولنے کی بجائے وہ صوفے کے نیچے اوپری سطح پر جیسے کچھ چپکا رہی تھی۔
“محسن! وائس بک کسی جگہ پر انسٹال کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟” آئرہ نے پرسوچ انداز میں سوال کیا۔
“میم! ایک پروفیشنل کو چند سیکنڈز یا ایک دو منٹ، جبکہ ایک اناڑی شخص کو پانچ سے سات منٹ،” محسن سنجیدگی سے جواب دیا تو آئرہ نے کچھ سوچ کر سر ہلایا۔
“محسن! لاؤنج، واش روم، ڈرائنگ روم ہر جگہ کو ڈی بگ کرو، دیکھو، ڈھونڈو کہیں کوئی خفیہ کیمرہ یا مائیکروفون تو نہیں اور ہاں، گلدان کو اور صوفے کو خصوصاً۔” جلدی، آئرہ کے حکم پر محسن نے سکیورٹی کو الرٹ کیا اور وہ گھر کے کونے کونے میں پھیل گئے۔سیکیورٹی کی توجہ اسی طرف لگ گئی اور سکرین آپریٹر کی نظریں بھی باقی مقامات سے ہٹ لاؤنچ میں ہوتی تلاشی پر لگ گئی
“آئرہ! یہ سب کیا ہے؟” صائمہ بیگم نے بیٹی سے حیرت سے سوال کیا۔
“اماں یار! بعد میں پلیز!” اس نے ماں کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا تو وہ خاموش ہو گئیں۔
پورے لاؤنج کو چھان مارا تھا، اب وہ اسی گلدان کے پاس کھڑے تھے۔ انہوں نے گلدان الٹا تو اس میں سے کچھ نکل کر نیچے گرا جسے دیکھ کر آئرہ کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہو گئیں۔ وہ ببل گم تھی، چبا کر تھوکی ہوئی، آئرہ اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھی یہ وہ آخری چیز بھی نہیں تھی جس کی وہ توقع کر سکتی تھی۔
“شاید یہ ہمیں گمراہ کرنے کے لیے… صوفے کی تلاشی لو۔” اس کے کہنے پر وہ لوگ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھے اور ہر کونا کو ٹٹولنا شروع کیا۔ جب صوفے کو الٹا کیا گیا تو اس کے نیچے بھی ببل گم چپکائی گئی تھی۔
“یہ کیا مذاق تھا؟”
“میم! مجھے لگتا ہے لڑکی کو ببل گم کھانے کی عادت ہے لیکن وہ یہاں آ کر کنفیوز ہو گئی تھی اور ببل گم پھینکنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں ڈھونڈ پا رہی تھی اسی لیے یہ اسٹوپڈ کام کیا اس نے، آپ کو پتا ہے یہ لوئر مڈل کلاس لوگ ہائی سوسائٹی ہاؤسز کو دیکھ کر کنفیوز ہو جاتے ہیں۔” محسن نے حیران کھڑی آئرہ کو مسئلے کا ایک متوقع حل تھمایا تھا تو اسے یاد آیا کہ عنایہ کچھ چبا رہی تھی اس کے آنے سے پہلے مگر اس کو دیکھ کر وہ اپنی حرکت سے باز ہو گئی تھی۔ آئرہ نے اس بات پر اتنی توجہ نہ دی۔
“جاہل لڑکی! ڈسٹ بن دکھا نہیں تھا تو پوچھ لیتی بے وقوف۔” نفرت بھرے غصے میں کہتے ہی وہ چلی گئی جب کہ ملازمین سارا بکھھیرا سمیٹنے لگے۔ باقی گھر میں کہیں بھی اور کچھ بھی نہیں ملا تھا۔ کچھ تو تھا جو آئرہ کو کھٹک رہا تھا لیکن کیا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ ‘شاید میں کچھ زیادہ ہی شک کر رہی ہوں،
اسے بھلا کیا مفاد مجھ سے جو میرے گھر میں خفیہ کیمرے یا مائیکروفون لگواتی پھرے؟’ آئرہ نے سر جھٹکا۔
“آئرہ! کیا ہے یہ سب؟” سلطان شاہ جو کچھ دیر پہلے ہی باہر آئے تھے لاؤنج میں بیٹھے چشمہ لگائے اخبار پڑھنے میں مصروف تھے، بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولے۔
“بابا! اس حویلی کی اینٹ اینٹ بہت سے بھیانک رازوں کی گواہ ہے، اس لیے ان رازوں کی حفاظت کرنا اشد ضروری ہے ورنہ رازوں کی سیاہی ایک دن ہمیں نگل لے گی۔” آئرہ کی سنجیدگی سے کہنے پر سلطان شاہ کا سنجیدہ چہرہ مزید سنجیدہ ہوا تھا اور آئرہ ان کا جواب سنے بغیر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
جب کہ سر پر سیاہ ہڈی لیے یہ تمام مناظر لیپ ٹاپ کی سکرین پر دیکھتے ہوئے لڑکی مسلسل ان کی حرکات سے محظوظ ہو رہی تھی، “باندر کسے تھاں دے(بندر کہیں کے)” وہ بڑبڑائی
حالیہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے جب عنایہ شاہ ولا سے باہر نکلی تھی، عنایہ ولا سے باہر نکلتے ہی پاس کی ایک لائبریری میں داخل ہوئی اور قدر سنسان کونے والی نشست سنبھالی اور اپنا لیپ ٹاپ نکال کر میز پر رکھا، کانوں پر ہیڈسیٹ پہنے اور نظریں سکرین پر مرکوز کر لیں۔
جاری ہے
