TEHRAO BY HUMNA KHAN EPISODE:4

ٹھہراؤ قسط نمبر ؛٤

ازقلم حمنہ خان

باب ۱۱
آج دوپہر کے بعد جب ابا اور ابو زر دونوں گھر میں نہیں تھے۔۔۔
فبیا کپڑے دھو رہی تھی،، کوئی دروازے پہ تھا شاید کوئی تمیز والا ہی تھا،، وہ اس لیے کیونکہ دروازا کھولہ تھا اس نے پھر بھی بیل بجائی تھی۔۔ اور ایک بار ہی بجائی تھی۔۔۔۔
وہ صابن والے ہاتھ دھوۓ بغیر ہی گیٹ پہ آئی تھی۔۔
کون؟ وہ آتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔
اس نے گلا خراشا تھا۔۔۔
وہ گیٹ کھولتے ہی چھونک گئی تھی۔۔
اسلام علیکم!! اس نے اپنے آداب میں عزافہ کیا تھا۔۔
واعلیکم السلام!! اس نے بے حد خوبصورتی سے سلام کا جواب دیا تھا۔
اس نے زندگی میں پہلی بار سلام کا جواب خوبصورت سنا تھا۔۔ مگر اسنے پہلی بار تو کسی کو سلام نہیں کی تھی۔۔۔
یعنی سلام کا جواب دینے والا خوبصورت تھا شاید اس سے زیادہ خوبصورت اسے کوئی لگا نہیں تھا۔۔
ابا گھر پہ نہیں ہے،، اس نے دوپٹہ سیدا کرتے ہوئے کہا تھا۔۔
معلوم ہے!! وہ اس وقت جبران کی حویلی ان سے کسی معاملے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔۔ اس نے جواباً کہا تھا….
ابو زر بھی یہاں نہیں ہے،، اس نے اس کے پیچھے ہونے والے سورج سے نظریں چرا کر کہا تھا۔۔۔
تنگ کرنے والے سورج کی وجہ سے اس کے ماتھے کی شکنیں، اس کے آنکھوں کا چرانا،،، وہ اس پہ مر نہیں جاتا؟؟
اس نے سورج کو اپنے پیچھے چھوپا لیا تھا۔۔۔

“ہم آپ کی طرح چاند کو دیکھا نہیں کرتے
مگر سورج سے یوں نظریں چرایا نہیں کرتے”

یہ بھی معلوم ہے!! وہ وہاں اس گلی میں مہران کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔۔
وہ کچھ کہہ نہیں سکی تھی مگر اس کا چہرہ بہت سارے سوال پوچھ رہا تھا۔۔۔

مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے،،
گاؤں بہت بڑا ہے،، میں چاہتا تو آپ کو گاؤں کی کسی بھی جگہ ملنے کا کہتا… مگر یہ آپ کی شان میں گستاخی ہوتی۔۔
میں نے آپ کے بارے میں بہت سنا ہے اور اس میں سب سے زیادہ آپ کے حیا کے چرچے ہیں۔۔۔ میں آپ کی حیا کی بے حیائی کیسے کرتا۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا..
آپ کو لگتا ہے آپ چاہتے اور میں کہیں بھی ملنے آتی۔۔ اس نے عجیب انداز میں کہا تھا۔۔
یہیں تو میں کہہ رہا تھا،، “آپ کی حیا” وہ کہہ ہی رہا تھا جب اس نے اس کی بات کاٹ کر کہا تھا۔
یہ گاؤں بڑا ضرور ہے مگر یہاں لوگ بھی اتنے ہی رہتے ہے۔۔۔
اس لیے تو آپ کے گھر آنے کا بہت بڑا فیصلہ کیا۔۔
اور وہ بات کیا ہے جس کے لیے آپ نے یہاں آنے کی زحمت کی۔۔ اس نے بازوں باندھے ہوئے کہا۔۔
“میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں”…. یہ میری زندگی کا سب سے خوبصورت احساس ہے جو میں آپ کے لیے رکھتا ہوں۔۔۔
یعنی آپ میرے دروازے پہ یہ کہنے آیے ہے؟… وہ حیرانی سے کہہ رہی تھی۔۔۔
اگر آپ کے یہاں سے ایسے ہی یہ سب کہا جاتا ہے تو میں آپ کو آپ کے انداز میں ہی جواب دوںگی،،
نہ میرا ابھی شادی کا ارادہ ہے نہ میرے بابا کا ابھی مجھے یہاں سے بیجھنے کا حوصلہ ہوگا۔۔۔
ہر لڑکی کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی،، کسی نے آکر شادی کے لیے ہاتھ دیا اور لڑکی نے ہاتھ میں ہاتھ دے کر سر ہلا کر ہاں کہا۔۔۔
کچھ لڑکیوں کے قندوں پہ بہت ساری زماداریاں ہوتی ہے۔۔۔ اور میں انہی لڑکیوں میں سے ہوں۔۔۔ آپ اچھے دولہے لگے گے۔۔۔ پہلی فرصت میں دلہن ڈھونڈ کر شادی کر لے۔۔ کہی شادی کی عمر نہ نکل جاۓ یا یہ بھی ہو سکتا ہے دنیا میں لڑکیاں ختم ہو جائے میں نے یہ خبر کل اخبار میں پڑھی تھی،، لڑکیاں ختم ہو رہی ہے۔۔۔
میں آپ کو اندر ضرور بولاتی مگر آپ نے خود کہا میرے ابا اور بھائی یہاں نہیں ہے۔۔۔۔ اس نے کہہ کر گیٹ بند کر دیا تھا وہ بھی اس کے منہ پر،،،
“یہ اچھا نہیں تھا”
وہ ہنستا ہی رہا تھا…..


شادی؟؟ ابا انہوں نے آپ کو اس لیے وہاں بولایا تھا؟؟
فبیا نے ابا سے اطمینان سے پوچھا تھا۔۔۔
میں خود چاہتا ہوں آپ کی اب شادی ہو جائے،، مگر میں اس سے آپ کی شادی ہرگز نہیں کرنا چاہتا۔۔
ابا میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی،،
میں بےاے
مکمل کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ آپ نے وہی انکار کیوں نہیں کیا۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔۔ ابا اتنا ہی کہہ سکے تھے۔

اس نے جبران کریم خان سے ابا کو حویلی بولایا،، جبران کریم خان سے ابا کو بتایا،،
اور خود یہاں آیا مجھ سے کہنے۔۔۔
وہ کتنا عجیب ہے۔۔۔ وہ کمرے میں بیڈ پہ لیٹے سوچ رہی تھی۔۔۔

کل تم سب میرے ساتھ چلنا ،، جبران کریم نے ان سب سے کہا تھا۔۔
کہاں؟؟ یہ سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے تھے ۔۔
تم سب ہی کہہ رہے تھے میں تم سب کے آگے بیٹھا ہوں،،، اب میں نے ہٹنے کا فیصلے کیا۔۔
میں شادی کرنا چاہتا ہوں،، تاکہ تم سب کی باری آئیں ۔۔۔ اس نے کہا تھا۔۔
ہاۓ.. ہاۓ.. کیا بات ہے۔۔۔ اس کا مطلب تمہیں کوئی پسند آگئی ہے۔۔۔ کون ہے وہ قسمت کی ماری؟ ابوبکر نے چڑانے والے انداز میں کہا تھا۔۔
یعنی میری سوتیلی ماں آرہی ہے… مہران کریم نے منہ بنا کر کہا تھا۔۔
اسی لیے تو تمہاری بابھی تمہاری پسند سے لا رہا ہوں۔۔۔ وہ تمہیں بہت پسند ہے۔۔۔ جبران کریم نے مسکرا کر کہا تھا۔۔
یعنی وہ میری سوتیلی ماں بن کر نہیں آئے گی؟؟
بلکل بھی نہیں۔۔۔ جبران کریم نے جواباً کہا تھا۔۔

باہر کون آیا ہے؟ اتنا شور اور خوشی کیوں بکھرے ہوئے ہیں۔۔ اس نے شیریں سے پوچھا تھا۔۔۔۔
ابا کے دوست کا بیٹا ہے۔۔۔ وہ بنگلادیش میں ہوتا ہے کچھ دن پہلے ہی واپس آیا ہے ابا نے اسے یہاں بولایا ہے۔۔۔ “انور انکل کا بیٹا”
وہ باہر ابا کے دوست کے بیٹے کے لیے نہیں آئی تھی۔۔
مگر وہ اس سے ملی ہی گئی تھی اور مل کر حیرت سے بت بن گئی تھی۔۔
حیران صرف وہ ہوئی تھی،، وہ نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی جانتا تھا۔۔
یہ ڈاکٹر انزر ہے،، کچھ دنوں پہلے ہی بنگلادیش سے آۓ ہے۔۔۔ ابا نے سب سے الگ الگ ان کا تعارف کرایا تھا۔ ابھی زکرا سے باقی تھا وہ بھی ہو گیا تھا۔۔۔


باب ۱۲
میں نے جبران کریم سے کہہ دیا ہے آج نہیں وہ کل آجاۓ۔۔۔
ابا نے صبح صبح کچن میں آکر فبیا سے کہا تھا۔۔
میں آج آپ کی نانی کے گھر جا رہا ہوں ان سے اس بارے میں بات کرنی ہے۔۔۔ شاید آج واپس نہ آ سکوں،، میں زکرا اور ادفر کے گھر جا کر ان سے کہہ دوں گا وہ دونوں آج رات یہاں آئیں گی۔۔
باہر سے ابو زر کے چلانے کی آوازیں سنائی دیں رہی تھی۔۔ یہ دونوں بات یہی چھوڑ کر باہر باگے تھے۔۔
مرگوں کی آوازیں بڑھ رہی تھی۔۔۔
فبیا کی اٹھارہ مرگیاں اب اٹھارہ نہیں رہی تھی،، جن کی وہ اکثر قسمیں دکھا دکھا کر ان کی اہمیت جتاتی تھی۔۔
کتے نے اس کی ایک مرگی لے لی تھی اور کھا بھی لی تھی۔۔
اور زیادہ دکھ اس بات کا تھا جس کتے نے اسے کھایا تھا وہ وہی کتا تھا جس کا وہ روز رات کو گیٹ کے پاس یا تو وہ انتظار کرتی یا وہ کتا اس کا انتظار کرتا اس کے کھانے کے لیے۔۔۔
وہ درنگ کے موٹے اور بڑے بڑے برف کے چٹانوں سے زیادہ سرد اور جامد تھی،، وہ برف کی طرح تہہ در تہہ جم گئی تھی۔۔
ہمیں کتنی تکلیف ہوتی ہے نا جب ہم کسی سے بنا مطلب پیار کرے اس کی فکر کرے، اس کا خیال ذمداری سمجھ کر کرے پھر وہ ہمیں کوئی تکلیف دے جان بوجھ کر یا انجانے میں،، وہ انسان ہو یا جانور بعض اوقات بے جان بھی۔۔۔
وہ تو ایک کتا جسے وہ صرف رنگ کے طور پر جانتی تھی۔۔۔ وہ بس آتا کھانا کھا کے چلا جاتا۔۔۔
مگر اس نے فبیحہ کو رولا دیا تھا۔۔۔
انسان ہی تو ہے جنہیں پہچان کرنے میں اور کچھ سمجھنے میں وقت نہیں لگا۔۔۔
اور چھوٹی چھوٹی تکلیفیں رگ رگ میں اترنے میں بھی وقت نہیں لگتا۔۔۔
اسی یہ تکلیف پہلے بھی ایک بار ہوئی تھی،، جب اس کی چڑیاں باگ گئی تھی۔۔۔
اسے انسان ہونے کے طور پر اس کی ایک اور تکلیف بھی تھی اس نے ان چڑیاں کو دو سال بہت پیار سے رکھا تھا،، وہ کیوں بھولی تھی؟؟ انہیں یاد کیوں نہیں رہا تھا؟؟ انہیں واپس آکر اس پنجرے میں رہنا چاہیے تھا جس کا دروازا تب سے بند نہیں ہوا تھا اس امید پر کہ شاید وہ آۓ وہ روز چھت پر دیکھنے جاتی تھی اور اس میں پانی اور اناج رکھتی تھی۔۔
وہ بھول گئی تھی یہ دنیا بہت بڑی ہے کم سے کم اتنی تو ہے کہ وہ دو چھوٹی سی چڑیاں کہی بھی کھو جاتی،، انہیں ان کے دو سال کا گھر کیسے ملتا۔۔

وہ کتنا ہینڈسم ہے نا؟ شیریں مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔
کون؟ زکرا نے بے خبری سے پوچھا۔۔۔
ڈاکٹر انزر… شیریں نے مسکرا کر جواباً کہا۔۔
ڈاکٹر انزر… تم سے بڑے ہے وہ انہیں انزر بھائی بولنا چاہیے تمہیں.. زکرا نے اس سے کہا تھا۔۔
کم سے کم میں تو نہیں کہہ سکتی اتنے ہینڈسم لڑکے کو بھائی۔۔۔ شیریں نور نے جواباً کہا۔۔
شرم کرو جب میں تمہاری کلاس میں تھی نا،، میں خود سے بڑے لڑکوں کو بھائی نہیں انکل کہتی تھی۔۔
اور مجھ سے تو شرم کرو کم سے کم۔۔ شرم کیا بیچ کر کھائیں ہے تم نے۔۔ زکرا نے ہر بڑی بہن کی طرح اسے کہا تھا۔۔
اور وہ بڑے لڑکے آپ کو زندہ چھوڑ گئے انہیں انکل کہنے پر؟؟ اور ہاں اب اتنی بھی بڑی نہیں ہو آپ مجھ سے،، آپ تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے مغلِ اعظم کی خالا ہو۔۔ شیریں نے اسے ہمیشہ کی طرح چڑایا تھا۔۔
جب تم پیدا نہیں ہوئی تھی تب میں دو سال کی تھی ،، میں نے چلنا سیکھا تھا بولنا سیکھا تھا۔۔ اور اس کے دو سال بعد تم آئی اور پھر تم نے اس کے دو سال بعد بولنا سیکھا چلنا سیکھا،، اور اس وقت میں چار سال کی تھی،، وہ کہہ کر باہر آئی تھی،،
اس نے اسے پوری طرح الجھا کر رکھا تھا۔۔
مطلب؟ شیریں اس کے جانے کے بعد عجیب سا منہ بنا کر خود سے ہی بڑھ بڑھا رہی تھی۔
اگر سمجھنا ہی ہے تو تم سے بہتر ہسٹری کی ٹیچر کو سمجھ لوں،، اور سمجھنے والا دماغ ہوتا تو ابا کے اتنے اصرار پر سائنس ہی لیتی۔۔۔

باب ۱۳
رات کے آٹھ بج رہے تھے،،
آج شیرازی صاحب کے گھر میں بہت شور تھا،،
آج یہاں زکرا، ادفر، اور ابو زر مل گئے تھے یعنی
ان کا ملنا یا ایک ساتھ ہونا پانی میں نمک ڈالنے جیسا ہے۔
آج ایک شخص یہاں خاموش وہ اکثر دنوں میں بھی ان سے کم ہی بولتی تھی آج وہ بلکل ہی چپ اور اداس تھی۔۔
وہ جو ہمیشہ قسم دکھانے پہ کہتی تھی،
مجھے میرے اٹھارہ مرغیوں کی قسم،،
اب کیا اسے سترہ مرغیاں کہنا تھا؟

حد ہے ‘فبیی’ آج ہم یہاں بہت وقت بعد آۓ تھے تم نے تمہاری خدمت بھی ہم سے ہی کاروائی ہماری کرنے کے بجائے۔۔۔ زکرا نے اس سے کہا جب چاۓ بنا کر لے آئیں تھی۔۔
تم کیا ٹانگے توڑ کر آئی تھی میں تمہاری خدمت کرتی، آج مجھ سے تمیز کی امید مت رکھو۔۔
میں جب بھی انہیں دانا ڈالنے جاتی وہ میری طرف سب سے مختلف دیکھتی تھی،، مجھے اس کا وہ دیکھنا بھولتا ہی نہیں۔۔ فبیا کہہ رہی تھی اس کی آنکھوں میں آنسوں تھے سارا دن بہنے کے باوجود۔۔
حد ہے مرغی ہی تو ہے،، میں تمہارے لیے پانچ افغانی مرغیاں لاؤں گی۔۔
ان تینوں کی دوستی کی سب سے پیاری بات تھی یہ ایک دوسرے کو کچھ بھی کہتی انہیں برا نہیں لگتا تھا۔ صرف ایک دوسرے کا،، کوئی اور کہتا تو تینوں زلزلہ بن کر اس پر نازل ہوتی تھی۔۔

صرف ایک مرغی نہیں تھی وہ میرے احساسات اس کے ساتھ وابستہ تھے،، دس مرغیاں بھی اس کا کھونا نہیں بھولا سکتی ہے مجھے،
تمہاری افغانی مرغیاں میرے لیے صرف نئی مرغیاں ہوگی۔ یہ جو میری اٹھارہ مرغیاں ہے ان کے بدلے سو مرغیاں بھی ہو وہ صرف مرغیاں ہی ہوگی۔ فبیا کی بات پہ ابو زر ہنسا تھا۔۔
فبیا نے اسے کھا جانے والی نظر سے دیکھا تھا۔ ابو زر نے اسے دیکھ کر تھوک نگلا تھا۔۔۔
تمہاری وجہ سے ہمارے رشتے ہونا بھی مشکل ہے۔ لوگ کہیں گے ان کی دوست جس پہ ہم جان چھڑکتے تھے وہ مرغیاں کرتے کرتے ہی پاگل ہو گئی اور پھر مر گئی۔۔۔ ادفر نے اسے اور غصّہ دلایا تھا۔۔
اس نے تکیہ اٹھا کر اسے دے مارا تھا، جس کا ادفر نے آرام سے کیچ پکڑا تھا۔۔
تمہارا رشتہ ہو بھی تو میں برکا پہن کر تمہارے سسرال جاؤں گی تمہارا رشتہ توڑنے۔۔ زکرا نے مداخلت کر کے کہا تھا۔۔
یہ سب ہنسے تھے اس بار فبیا بھی ہنسی تھی۔۔
اس کا مجھے پہلے ہی شق تھا اس لیے میں نے پہلے ہی اس کا بندو بست کر دیا۔۔
میں نے “پریم ویواہ” کرنے کا فیصلہ کیا اسے فرق نہیں پڑے گا میرے پاگل، بدتمیز، بے شرم، بد دماغ، کام چور، یا بد صورت ہونے سے۔۔۔ ادفر نے کوئی انڈین سیریل دیکھا تھا شاید۔۔۔
اس نے مسکرا کر الگ انداز میں کہا تھا۔۔
چار دن کی چاندنی رات میں گھوم لو پھر بادل آنے والے ہے۔۔ زکرا نے دھیرے سے کہا تھا۔۔
پتہ ہے مجھے تم دونوں کنواری ہی مرو گی،، اور میری خوشیوں کو نظر لگا دوگی اس لیے میں نے سوچ لیا ہے تم دونوں کو شادی میں نہیں بھولاؤں گی۔۔
مت ہی بھولانا ورنہ اپنی شادی بھول جانا،، فبیا نے اس کی بات کاٹ کر کہا تھا۔۔
شادی… اس لفظ نے فبیا اور زکرا دونوں کو کوئی یاد دلایا تھا۔۔
انہوں نے اس بارے میں ابھی آپس میں بات نہیں کی تھی۔۔

کھانا ادفر نے گرم کر کے سب کو پروسا تھا۔ ابو زر پہلے ہی کھا کر کمرے میں گیا تھا، وہ ویسے بھی ان کے لڑائی بھرے پیار کو دیکھ کر حیران ہی ہو جاتا تھا اسے ہر بار لگتا تھا اس بات پہ ان کی لڑائی تو ضرور ہوگی۔
مگر وہ ہمیشہ غلط ثابت ہوتا تھا۔۔
ایک دوسرے کو بہت بری بات کہہ کر ان تینوں کو کوئی یا تو یاد آ جاتا تھا ہنسے کے لیے یا مذاق اڑانے کے لیے۔۔۔
کھانے کے بعد اس نے ہر روز کے معمول کے مطابق پلیٹ میں چاول نکالے تھے،، آج فرق یہ تھا وہ ہر روز یہ کام کھانا کھانے سے پہلے کرتی تھی آج کھانے کے بعد کیا تھا کیونکہ آج کھانا اس نے نہیں پروسا تھا۔
کہاں جا رہی ہو؟ زکرا نے پوچھا تھا۔۔
وہ جواب دینے کے بغیر ہی باہر آئی تھی،، اسے پتہ تھا یہ دونوں اس کا پھر سے مزاق اڑائیں گے۔۔
انہوں نے پھر بھی کہا چھوڑا تھا وہ دونوں اس کے پیچھے ہی گیٹ تک آئی تھی۔۔
ہر روز کی طرح وہ یہاں اس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔ اس نے ہر روز کی طرح وہاں رکھے پلیٹ میں کھانا ڈال دیا تھا۔۔
تمہیں کیا لگا میں آج نہیں آؤں گی؟ ہاں تم نے میرا دل بہت زیادہ دھو کھایا ہے۔
میرے لیے جیسی وہ مرغی تھی ویسے تم بھی ہو۔۔
اللہ تعالیٰ نے اگر تمہارے کھانے کی ذمداری مجھے دی ہے میں پیچھے کیسے ہٹ سکتی ہو اس لیے کہ تم نے میرا دل دکھایا ہے ہم بھی تو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتے ہیں وہ تو ہمارا رزق بند نہیں کرتا۔۔
وہ وہاں پاتھ پہ بیٹھی اسے کھاتے دیکھ کر کہہ رہی تھی۔۔ وہ ہر بات سے بے خبر کھا رہا تھا۔۔
“انسان تھوڑی تھا وہ”۔۔۔
وہ دونوں اس کے پیچھے اس کی باتیں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر سن رہی تھی۔۔۔
مجھے لگتا ہے ہمیں اب تم سے ملنے رعناواری مینٹل ہسپتال ہی آنا ہے۔۔ ادفر نے اس کے پاس آکر کہا تھا۔۔
میری مینٹل کنڈیش اتنی بری ہے۔۔ فبیا نے ہنس کر کہا تھا۔۔
بہت زیادہ…. زکرا نے اس کے دوسری طرف بیٹھ کر کہا تھا۔۔۔
رات کے دس بج رہے تھے۔ سڑک کھالی تھی سارے گھروں کے گیٹ بند تھے۔ گلی میں چند کتے تھے۔ اوپر تارے چاند کے اردگرد تھے۔ چاند کے بہت نیچے گلیوں میں سرکاری لائٹوں کی روشنی گلیوں کو خوبصورت بنا رہی تھی۔۔
ایک بات تو ہے رات میں سب سے زیادہ خوبصورت سڑکوں کی لئٹیں ہی لگتی ہے۔ اور اس لیٹ کے نیچے رات میں بیٹھ کر کچھ سوچنا یا دوستوں کے ساتھ باتیں کرنا یہ الگ ہی بات ہے۔۔
لڑکے کہی بھی جا کر اس موقع کو دیکھ سکتے ہیں،، لڑکیاں گھر کے گیٹ کے پاس زیادہ سے زیادہ گلی میں ہی آٹھ بجے کے بعد اس کے باہر نہیں جا سکتی ہے۔۔۔
اب ہر بات سب کے لیے نہیں ہوتی کیونکہ ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا۔۔
“ہر کوئی ہر کسی سے اور ہر کسی کے حالات مختلف ہے یہاں”۔۔۔۔۔۔

 


اگلے دن دوپہر ڈھلنے کو تھی جب شیرازی صاحب گھر پہنچے تھے۔ گھر کے اندر عجیب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ ابو زر اپنے کمرے میں سو رہا تھا، اور ان کے ساتھ وہ دونوں لڑکیاں بھی نیند کے مزے لے رہی تھیں۔
بس ایک فبیا تھی جو جاگ رہی تھی۔
وہ آدھا گھر سمیٹ چکی تھی۔ صرف وہ دو کمرے رہ گئے تھے جہاں سب سوئے ہوئے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی… جب بھی وہ یہاں آتی وہ دیر تک سوتی تھی۔۔۔
اور انہیں جگاتا بھی کون؟
فبیا؟
نہیں… وہ اس گھر کی گھر والی خود ہی تھی وہ انہیں جاگا کر بھلا سر نہیں لے سکتی تھی۔۔
ویسے بھی آج اس کا دل کچھ بوجھل سا تھا۔
دروازے پر دستک ہوئی تو وہ چونک کر لپکی۔
“ابا…!” اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔
انہوں نے مسکرا کر اس کے ماتھے کو چوما اور اندر آ گئے تھے۔ فبیحہ نے جلدی سے انہیں بٹھایا اور چائے بنا کر لا دی۔ باپ بیٹی کے درمیان چند ہلکی پھلکی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اندر والے کمرے کا دروازہ کھلا۔
وہ دونوں لڑکیاں باہر آئیں تھیں۔


بیٹا، آج شام تم دونوں یہیں فوبیا کے ساتھ رہنا۔ کچھ مہمان آ رہے ہیں۔”
بابا کی بات سن کر وہ دونوں ایک لمحے کو ٹھٹک گئیں۔ پھر آہستہ سے ایک دوسرے کو دیکھا… اور اگلے ہی پل ان کی نظریں فبیحہ پر جا ٹکیں۔
ایسی نظریں… جیسے ابھی اسے کھا ہی جائیں گی۔
تو مطلب یہ تھا…
فبیحہ نے یہ بات ان سے چھپائی تھی!
فبیحہ نے بے نیازی سے کندھے اُچکائے اور انہیں یوں دیکھا جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔ جیسے وہ اس سارے معاملے سے بالکل لاعلم ہو۔
“ہمیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا تم نے؟” ایک نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“مجھے خود ابھی پتا چلا ہے۔” فبیحہ نے معصوم بننے کی ناکام کوشش کی۔
بس پھر کیا تھا…
بات سے بات نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے تینوں کے درمیان ایک لمبی، تیز اور روایتی لڑائی چھڑ گئی۔ شکوے، طنز، الجھنیں—سب باہر آ گئے۔ مگر ہمیشہ کی طرح انجام وہی ہوا۔
کچھ دیر بعد تینوں پھر ساتھ بیٹھی تھیں۔ جیسے ہوا میں کبھی بارود گھلا ہی نہ ہو۔
شام کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔
اسی دوران ابوزر نہ جانے کہاں سے آ ٹپکا۔ آج تو جیسے اسے ایک ہی کام ملا ہوا تھا—فبیا کو چھیڑنا۔
“ارے ارے… راستہ دیجئے، دلہن صاحبہ تشریف لا رہی ہیں!” وہ ہر تھوڑی دیر بعد آواز لگاتا۔
فبیحہ جھنجھلا کر اسے گھورتی، مگر وہ باز آنے والوں میں سے نہیں تھا۔ پورا دن وہ اسے اسی نام سے پکارتا آیا تھا۔
اور اس کی مسکراہٹ…
وہ صاف بتا رہی تھی کہ اسے فبیحہ کی جھنجھلاہٹ سے بے حد لطف آ رہا ہے۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *