PATJHAR BY ALAM EPISODE :7

پت جھڑ قسط نمبر ؛٧

ازقلم الم

۔
’’بابا! جب وقت آئے گا آپ کا بوجھ بھی ہلکا کر دیں گے۔‘‘ اشعث کے شوخی بھرے لہجے میں کہنے پر ابراہیم شاہ نے ’’ہنہہ‘‘ کہہ کر سر جھٹکا  جیسے کہہ رہے ہوں، ’’خدا جانے وہ وقت کب آئے گا؟‘‘
’’امی! رات کو تیار رہیے گا۔ میرے بزنس پارٹنرز کے ہاں پارٹی کا انویٹیشن ہے۔ وہاں آپ میرے ساتھ جائیں گی اور ان کا بیٹا میرا بہت اچھا دوست بھی ہے اور اسی کے اعزاز میں یہ پارٹی دی جا رہی ہے۔اس لیے جانا ضروری ہے۔‘‘ اشعث نے ماں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں کیوں جانے لگی بھلا تمہارے ساتھ؟ ایک عدد منکوحہ ہے تمہاری، اس کے ساتھ گھوما پھرا کرو۔ ماں کے پلو سے نکل آؤ۔‘‘ ثمینہ بیگم نے شرارت سے کہا، جبکہ مشکوٰۃ کا نام سن کر اشعث کے چہرے پر تبسم کھلا تھا۔
اسی وقت مشکوٰۃ ملازمہ کے ساتھ چائے لے کر اندر داخل ہوئی تھی۔ قصر شاہ کے تمام افراد اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود شام کی چائے ساتھ ہی پیتے تھے۔
’’ارے مشکوٰۃ! آج رات کو تیار ہو جانا۔ اشعث کے ساتھ کسی بزنس پارٹی میں جانا ہے۔‘‘ ثمینہ بیگم نے مشکوٰۃ سے چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا تھا۔ مشکوٰۃ نے نظریں اشعث کی جانب موڑ دیں جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ مشکوٰۃ نے جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلا۔ اس کی اس حرکت پر اشعث کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔
’’جی امی، ہو جاؤں گی۔‘‘
                              ✩━━━━━━✩
’’ضرار! میں ٹھیک لگ رہی ہوں نا؟‘‘ ڈریسنگ مرر کے سامنے تیار ہوتی مفراہ نے اندر آتے ضرار کو دیکھ کر پوچھا جو اسے دیکھ کر ساکت ہوا دروازے پر ہی رک گیا تھا۔ پھر ہوش میں لوٹ کر قدم اپنی سجی سنوری بیوی کی طرف بڑھائے۔
’’چن دا ٹوٹا لگدی آں۔‘‘ ضرار نے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے شوخی بھرے لہجے میں اس کی تعریف کی تو مفراہ گلابی پڑتی مسکرا دی تھی۔

’’اچھا اب چھوڑیں مجھے، تیار ہونا ہے۔‘‘ مفراہ نے نظریں جھکائے ہی کہا تھا۔
’’اونہوں!!۔‘‘ ضرار نے اس کے گرد بازو تنگ کرتے ہوئے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا۔ پھر لب اس کے گالوں پر رکھے اور ایک شوخ سی جسارت کرتے ہوئے پیچھے ہٹا۔ مفراہ گلابی سے سرخ ہوئی تھی۔
’’جلدی کریں بیگم جان!‘‘ ضرار نے شوخی بھرے انداز میں کہا اور صوفے پر دراز ہو کر بظاہر موبائل میں مصروف ہو گیا جبکہ سارا دھیان اپنی تیار ہوتی بیگم پر ہی تھا۔
مفراہ نے جامنی کلر کی فراک کے ساتھ جامنی ہی پلازو پہن رکھا تھا۔ فراک پر ہلکی پھلکی گولڈن ایمبرائیڈری تھی، جبکہ جامنی دوپٹہ تھوڑا ہیوی تھا۔ اس نے گولڈ کی ہلکی پھلکی جیولری کے ساتھ ایک گولڈن اور جامنی امتزاج کی چادر کندھوں پر اوڑھ رکھی تھی اور دوپٹہ سلیقے سے سر پر جما کر وہ تیار تھی۔ جبکہ ضرار کیمل کلر کے فور پیس میں ملبوس تھا اور ریان بھی باپ ہی کے ساتھ ‘ٹوئیننگ’ کر رہا تھا اور نیچے آئرہ کے ساتھ لڑنے میں مصروف تھا۔
ان کی چھوٹی سی فیملی پارٹی میں جانے کے لیے تیار تھی۔ ضرار نے مفراہ کا ہاتھ تھاما اور اسے لیے نیچے آ گیا۔ سلطان شاہ گھر موجود نہیں تھے اور بڑی بیگم کمرے میں آرام کر رہی تھیں اس لیے موجیں لگی ہوئی تھیں ہاتھ پکڑنے میں۔ مطلب ان کے سامنے کہاں ہمت تھی۔
                              ✩━━━━━━✩
اشعث لاؤنج میں صوفے پر بیٹھا موبائل چلاتے ہوئے مشکوٰۃ کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک ٹیکسڈو اور بلیزر زیب تن کر رکھا تھا۔ سیاہ کلر میں اس کی پرسنالٹی بہت ڈیشنگ لگ رہی تھی۔ کسی خیال کے تحت اس نے نظریں اٹھائیں تو سیڑھیاں اترتی اس پری پر ٹک کر رہ گئیں۔
’’چلیے، شاہ جی!‘‘ مشکوٰۃ کی آواز نے اسے ہوش دلوایا تھا۔
وہ سیاہ کلر کی پیروں کو چھوتی فراک میں ملبوس تھی جس پر لائٹ سا سلور کام تھا۔ سیاہ نقاب اور سلور لائٹ سی جیولری میں وہ بہت خوبصورت اور ڈیسنٹ لگ رہی تھی۔ ان کی اتفاقاً ہی ڈریسنگ سیم ہو گئی تھی۔ اس کی سنہری آنکھیں کاجل کے باعث اور دلکش لگ رہی تھیں۔

اشعث کا دل کیا تھا کہ وہ ان آنکھوں کے صدقے میں خود کو وار دے۔

“بہار میں کھلتی پہلی کلی کی طرح حسین لگ رہی ہیں جو پت جھڑ کے بعد اداس روح کو تازگی بخشتی ہے” اسعث نے اس کے ہاتھ کا بوسہ لیتے ہوئے اس کی تعریف کی جسے سن وہ شرم سے سمٹ گئی وہ اپنے الفاظ سے اسے ایسے ہی خاص کر دیا کرتا تھا۔
اشعث اس کا ہاتھ تھامے ہی اسے لیے باہر آیا اور اس کیلئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور اس کے بیٹھنے پر اپنی طرف آ کر ڈرائیونگ سٹارٹ کی۔
ابراہیم صاحب اور بڑی امی اپنے کمرے میں تھے وہ دونوں ان سے وہیں مل آئے تھے۔
                             ✩━━━━━━✩
ضرار لوگوں کے گھر سے نکلتے ہی آئرہ بھی بائیک لے کر نکل پڑی تھی۔

سیاہ جینز، سیاہ شرٹ اور سیاہ ہی جیکٹ پر ہیلمٹ پہنے وہ بائیک کو ہوائی جہاز سمجھ کر اڑا رہی تھی، وہ بھی ٹریفک سے بھری روڈ پر۔ ’’بھئی زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ ایکسیڈنٹ ہی نہ۔‘‘ اسے کسی کی پرواہ نہ تھی۔ ایک جگہ اس نے بنا انڈیکیٹر آن کیے ہی ٹرن لیا حالانکہ دوسری طرف سے آنے والی گاڑی نے انڈیکیٹر کے ساتھ ساتھ ہارن بھی دیا تھا، جبکہ ریسر صاحبہ اندھی اور بہری دونوں ہو چکی تھیں اور یہ دے ماری بائیک سامنے سے آتی گاڑی میں۔ اس تصادم کے نتیجے میں آئرہ میڈم اچھل کر دور گری تھیں، جبکہ کار ڈرائیو کرتے ہوئے یوشع کا سر سٹیرنگ سے ٹکرایا تھا مگر زیادہ چوٹوں سے بچت ہو گئی تھی۔
’’اوہ شٹ!‘‘ یوشع جلدی سے گاڑی سے اترا تھا کہ سامنے والے کو دیکھ سکے۔ جبکہ آئرہ کے ہیلمٹ اتارنے کے بعد اس کے تاثرات بدلے تھے۔
’’ان آنکھوں سے اگر خود نہیں دیکھنا تو کسی مستحق کو عطیہ ہی کر دو۔ کم از کم وہ تو ان سے فائدہ اٹھائے ورنہ یہ تو ایسے ہی غیر استعمال شدہ کسی دن بند ہو جائیں گی۔‘‘ یوشع کے جلے سے انداز پر آئرہ نے غرا کر اسے دیکھا۔
’’تمہارے پاس تو آنکھیں تھیں تو تم دیکھ لیتے۔‘‘ آئرہ نے چٹخ کر کہا تھا۔
’’لڑ بعد میں لینا۔ اٹھو!‘‘ یوشع نے بحث کا ارادہ ترک کرتے ہوئے ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا سہارے کیلئے جسے اگنور کر آئرہ زمین پر دونوں ہتھیلیاں جما کر اٹھ گئی تھی۔ تو اس کے ایٹیٹیوڈ پر یوشع نے منہ بگاڑا۔
’’لگی تو نہیں؟ اگر لگی ہے تو آؤ ڈاکٹر کے لے چلوں۔ انفیکشن ہو جائے گا ورنہ۔‘‘
’’تمہیں اگر میرا باپ بننے کا اتنا شوق ہے تو مجھے اڈاپٹ ہی کر لو۔‘‘ آئرہ نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجائے جواب دیا جبکہ یوشع تپ گیا تھا۔ پتہ نہیں کیوں بیچارہ ہر لڑکی سے اتنے تمیز سے مخاطب ہوتا تھا اور ہر لڑکی اسے ذلیل کر کے نکل جاتی تھی۔
’’تمہارے جیسی گندی اولاد سے میں بے اولاد ہی بھلا اور تمہیں عزت راس ہی نہیں ہے۔ اس لیے مجھے اپنا وقت ضائع کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔‘‘ یوشع کے کہنے کے باوجود وہیں کھڑا رہا تھا کہ کہیں آئرہ کو واقعتا اس کی ضرورت نہ ہو، جبکہ اس خود غرض لڑکی نے بائیک سٹارٹ کی اور اس کے پاس سے لے کر گزر گئی حالانکہ لگی یوشع کے بھی تھی مگر آئرہ نے مڑ کر بھی اسے نہیں پوچھا تھا اور نہ ہی اپنی چوٹوں کے بارے میں بتایا تھا کیونکہ اگر وہ بتا دیتی تو اس بندے نے اسے یہیں روک لینا تھا اور اس کی ریس درمیان میں رہ جانے تھی جو بات اسے قطعاً منظور نہیں تھی۔
یوشع جو ریسٹورنٹ کھانا کھانے جا رہا تھا اب گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ لی کیونکہ اس کے سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔
                          ✩━━━━━━✩
اشعث مشکوٰۃ کو کچھ خواتین کے پاس چھوڑ کر خود کسی بزنس پارٹنر کے ساتھ مصروف ہو گیا۔ مشکوٰۃ بظاہر تو خواتین کی بات سن رہی تھی مگر نظریں اس کی اشعث پر ہی تھیں۔ وہ اشعث کے ساتھ پہلی دفعہ کسی پارٹی میں شرکت کر رہی تھی۔ وہ یہاں کسی کو بھی نہیں جانتی تھی اس لیے تھوڑی کنفیوز ہو رہی تھی۔ مشکوٰۃ نے تھوڑی دیر بعد جب نظریں دوبارہ کی تو ایک بہت ہی ماڈرن مگر خوبصورت سی لڑکی اشعث کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔ وہاں اس محفل میں مشکوٰۃ سب سے نمایاں تھی کیونکہ وہ اکلوتی نقاب میں ملبوس تھی۔ مشکوٰۃ تجسس سے مجبور ان کی طرف بڑھ گئی اور جا کر بالکل اشعث کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ اشعث نے محسوس تو کیا تھا اس کی موجودگی کو مگر متوجہ نہیں ہوا، جسے دیکھ کر مشکوٰۃ کو تب چڑھی۔ جبکہ بات کرتی وہ لڑکی بھی مشکوٰۃ کی طرف متوجہ ہوئی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میں مسز اشعث ابراہیم شاہ۔‘‘ اس لڑکی کے سوالیہ انداز میں پوچھتے ہی مشکوٰۃ نے اپنے بازو اشعث کے بازو میں سے گزارتے ہوئے مسکراتے لہجے میں جواب دیا جس پر لڑکی نے حیرت سے اشعث کو دیکھا اور اشعث تو پہلے ہی خوشگوار حیرت بھری مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنی سنہری گڑیا کو دیکھ رہا تھا۔ آج پہلی دفعہ اس نے خود سے خود کو اشعث کی بیوی کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ اشعث کا دل کیا تھا کہ اس خوشی پر وہ آسمان کو آتش بازی سے روشن کر دے۔
’’کیوں نہیں ہوں؟‘‘ مشکوٰۃ نے حیرت سے خود کو تکتے، اشعث کو دیکھ کر معصومیت سے  چہرہ اٹھا کر پوچھا تو اشعث کی ہر دھڑکن نے گواہی دی تھی کہ وہ اپنے شاہ جی کی روح کا سکون، دل کا قرار، نظروں کی ٹھنڈک، آنکھوں کی چمک، ہونٹوں کی مسکراہٹ اور ہر سانس کی ضمانت تھی۔

’’جی الحمدللہ یہ میری شریک حیات ہے۔‘‘ اشعث نے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے سرشار سے لہجے میں کہا۔ اس نے صرف بیوی یا منکوحہ نہیں کہا تھا بلکہ شریک حیات، کہا زندگی کے ساتھی، جس کے ساتھ وہ اپنی پوری زندگی گزارنا چاہتا ہو۔ اور اس نے اس بات پر خدا کا شکر بھی کیا تھا کہ وہ اس کی عمر بھر کی ساتھی تھی۔ جبکہ بہادر بنی مشکوٰۃ کی بہادری اس کے لمس پر پل میں غائب ہوئی تھی اور وہ چھینپ گئی تھی۔

’’واؤ ماشاءاللہ! اللہ آپ دونوں کو خوش رکھے۔ آپ کی وائف بہت کیوٹ ہے۔‘‘ آخر میں اس لڑکی نے شرارت سے کہا۔
مشکوٰۃ مزید خود میں سمٹی وہ لڑکی مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔ شاید اسے کسی نے آواز دی تھی۔
ابھی اشعث کچھ کہتا کہ کوئی جھٹ سے آ کر مشکوٰۃ کی ٹانگوں سے لپٹا تھا۔

’’بویا جانی!!” ریان کے محبت سے پرجوش لہجے کہتے ہی مشکوٰۃ نے جلدی سے گھٹنوں کے بل بیٹھتے اسے سینے سے لگایا تھا اور اس کے ماتھے، گالوں اور آنکھوں پر پیار کیا تھا۔
’’میرا گڈا۔‘‘ اس نے کہتے ہوئے اسے پھر خود میں بھینچا تھا۔ جب کہ اس سے آتی اپنے سب سے عزیز کی مہک محسوس کر اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
’’السلام علیکم، تاتو۔‘‘ ریان نے پاس کھڑے اشعث کو بھی سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام، چاچو کی جان۔‘‘ اشعث نے اسے گود میں اٹھا کر گال پر پیار کیا۔ اس کے باپ سے لاکھ اختلاف سہی مگر ریان میں واقعتا اس کی جان بستی تھی۔
’’تیرا باپ بھی آیا ہے؟‘‘ اشعث نے اس کے کان میں سرگوشی بھرے انداز میں سوال کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔اور اشعث مشکوٰۃ کے ردعمل کا سوچ پریشان ہوا تھا
’’کیسا ہے میرا گڈا؟‘‘ مشکوٰۃ کے لہجے میں بے پناہ مسکراہٹ تھی۔ آخر وہ اس کا سگا بھتیجا تھا۔
’’ٹھیک ہوں۔ بت بویا جانی آئی مسد یو لاٹ۔‘‘ ریان نے اداس سے لہجے میں کہا تو مشکوٰۃ کو اس پر پیار کے ساتھ ساتھ ترس بھی آیا۔ وہ بچہ بھی تو اس کی طرح اپنوں کی محبت کو ترس رہا تھا۔
’’او بوا جانی! آلسو مسڈ ہر پرنس آ لاٹ! مشکوٰۃ نے پیار سے اس کے گال کھینچے
اوہ شکر! ریان یہاں ہے، میں پریشان ہو گئی تھی اسے نہ دیکھ کر۔ کیسی ہو، مشکوٰۃ؟‘‘ وہاں آ کر مفراہ نے خوش دلی سے مشکوٰۃ کو گلے لگا کر کہا۔

اس نے ضرار سے لڑ کر اور سلطان شاہ کی پھٹکار سن کر بھی مشکوٰۃ سے رابطہ رکھا تھا۔ وہ اکثر چھپ کر ریان کو سب سے ملواتی بھی رہتی تھی۔ اس نے ضرار پر بھی بہت دباؤ ڈالا تھا اس سرد مہری کو ختم کرنے کے لیے مگر اس کی برف نہیں پگھلی تھی۔ ہاں شروع شروع میں اس نے اعتراض کیا تھا مگر پھر وہ بھی خاموش ہو گیا۔
’’میں ٹھیک ہوں، بھابھی۔ آپ کیسی ہیں؟‘‘ مشکوٰۃ نے خوش دلی سے جواب دیا۔
’’تمہارے سامنے ہی ہوں۔ اور اشعث، سناؤ کیسے جا رہی ہے زندگی؟‘‘ مفراہ نے دیور کو دیکھ کر سوال کیا۔
’’بہت خوبصورت بھابھی۔‘‘ وہ بات تو مفراہ سے کر رہا تھا مگر یہ الفاظ کہتے ہوئے نظریں مشکوٰۃ پر جمی تھیں۔
’’ماشاءاللہ!‘‘ مفراہ نے شرارت سے کہا تو اشعث مسکرا دیا۔
’’ارے بیگم! آپ یہاں ہیں؟ آئیں آپ کو کسی سے ملو انا ہے۔‘‘ سامنے سے آتے ضرار نے مفراہ کو دیکھ کر کہا۔ اس وقت اشعث اور مشکوٰۃ کی اس کی طرف پیٹھ تھی تو اس نے انہیں نہیں دیکھا تھا، جبکہ اس کی آواز قریب سے سن کر مشکوٰۃ ٹھہر گئی تھی۔ پاس آنے پر ضرار نے ریان کو اٹھائے کھڑے اشعث اور مشکوٰۃ کو دیکھا تو اس کی مسکراہٹ بھی سمٹی۔

’’جب فارغ ہو جاؤ تو آ جانا۔‘‘ ضرار مفراہ کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہہ کر وہاں سے چلا گیا بہن کی حسرت اور شکوہ کرتی آنکھوں سے نظریں چرا کر، جبکہ اس کی بے رخی پر مشکوٰۃ کے دل میں مانو کسی نے سوئیاں چبھوئیں تھیں۔ مگر وہ ضبط کیے کھڑی رہی۔
’’اچھا مشکوٰۃ! انشاءاللہ جلد ہی دوبارہ ملاقات ہو گی۔‘‘ مفراہ کی بات پر مشکوٰۃ زبردستی مسکراتی اس سے ملی اور نیچے بیٹھ کر دوبارہ ریان کو خود سے لگایا اور اس سے پیار کیا۔
مفراہ ریان کو لے کر ضرار کے پاس چلی گئی تو مشکوٰۃ بھی اشعث سے نظریں چراتی ایک کونے کی طرف بڑھ گئی۔ کرسی پر بیٹھ کر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی جب کوئی دھیرے سے آ کر اس کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھا اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے اور اس کے بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں کی پوروں پر چن لیا۔
’’آپ کے یہ آنسو میرے دل پر تیزاب کی طرح گرتے ہیں۔ اپنی نہیں تو میری تکلیف کا خیال کر لیا کریں۔‘‘ اشعث کی بات پر مشکوٰۃ نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’شاہ جی! جب یوسف جدا ہوتا ہے نا تو اس کے یعقوب کی بینائی چلی جاتی ہے کہ اگر یوسف نہیں دکھا تو پوری دنیا میں کچھ بھی دیکھنا منظور نہیں ہے، لیکن اب میری بدقسمتی دیکھیں، میرا یوسف تو میری نظروں کے سامنے ہے مگر میں پھر بھی یہ خواہش کرتی ہوں کہ میری آنکھوں کی روشنی چھین لی جائے۔ پھر کم از کم مجھے یہ دلاسہ تو ہوگا کہ یوسف مجھے دکھائی نہیں دیتا اس لیے مجھ سے دور ہے۔ جب آپ کے پیارے نظروں کے سامنے رہ کر بھی دل سے دور رہتے ہیں نا تو قیامت کا سا گمان ہوتا ہے۔‘‘ مشکوٰۃ نے ٹوٹے سے لہجے میں کہا۔
’’یعقوب نے یوسف کی جدائی پر صبر کیا تھا اور اس صبر کا انعام انہیں یوسف کی واپسی کے طور پر ملا تھا۔‘‘ اشعث نے مشکوٰۃ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا۔
’’اب تک صبر ہی تو کیا ہے شاہ جی!‘‘ مشکوٰۃ نے تھکے سے انداز میں کہا۔
’’تو بس پھر صبر کے انعام کا بھی یقین رکھو۔‘‘
’’مجھے گھر جانا ہے۔‘‘ مشکوٰۃ نے ضدی سے لہجے میں کہا۔ اس کا دل اب پارٹی سے اچاٹ ہو گیا تھا۔
’’اوکے چلو چلتے ہیں۔‘‘ وہ سید زادہ کیسے اپنی سید زادی کی بات ٹال سکتا تھا۔ اس کے کھڑے ہونے پر مشکوٰۃ کو احساس ہوا تھا کہ وہ اتنی دیر سے اس کے قدموں میں بیٹھا تھا۔
ایک تو مغرور انسان کی انا اس لڑکی کے سامنے پتہ نہیں کہاں چلی جاتی تھی۔ مشکوٰۃ تھوڑی سی شرمندہ ہو گئی تھی۔ اشعث نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے پارٹی سے چلا گیا۔ انہیں جاتے دیکھ کر ضرار کی آنکھوں میں تکلیف اور چہرے پر دکھ ابھرا تھا۔
اشعث نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اپنے دوست یعنی صدیقی صاحب کے بیٹے کو معذرت کا میسج کر دیا تھا کہ وہ اسے ملے بغیر جا رہا ہے، حالانکہ وہ اس کا سب سے قریبی دوست تھا مگر اپنی بیوی کی خوشی کے آگے اسے کچھ بھی عزیز تھا۔
                              ✩━━━━━━✩
بیل کی آواز پر یوشع نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی آئرہ کو دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہوئیں۔
’’اندر بلانا ہے یا میں جاؤں؟‘‘ آئرہ نے چڑ کر کہا۔
’’ہاں ہاں آؤ، اندر آؤ۔‘‘ یوشع نے حیرت پر قابو پاتے ہوئے اسے اندر آنے کی دعوت دی۔
’’تمہیں شرم تو نہ آئی؟ پھپھا کٹنی عورتوں کی طرح بھائی کو میری شکایتیں لگاتے ہوئے؟‘‘ آئرہ اندر آتے ہی بنا سلام دعا کیے، بنا بیٹھنے کی زحمت کیے اس پر چڑھ دوڑی تھی۔ دراصل صبح صبح ہی ضرار سے اس کی کلاس لگ گئی تھی۔ اسے اس کی بائیک ریسنگ کے متعلق علم ہو گیا تھا کہ وہ رات کو کیا کیا کارنامے سرانجام دے کر آئی ہے اور اب اس سب کا الزام یوشع کے سر ڈال کر اسے لڑنے آئی تھی۔
وہ اب اس کے گھر خصوصی طور پر لڑنے آئی تھی اور وہ بیچارہ جرم کیے بغیر پھر اس کی باتیں سنے گا۔ ایک تو پتہ نہیں ہر لڑکی اسے ہی کیوں ایٹیٹیوڈ دکھاتی تھی۔ یوشع نے تھک کر سوچا،
’’میں اتنا فارغ نہیں ہوں کہ بھائی کو تمہاری شکایتیں لگاتا پھروں۔ تم سے بھی زیادہ ضروری کام ہیں میری زندگی میں۔‘‘ یوشع کی آنکھیں گھما کر کہنے پر آئرہ نے اسے گھورا۔
’’تو تمہارے علاوہ کون جانتا تھا کہ میں ریسنگ کے لیے گئی تھی اور میرے معاملوں میں ٹانگ اڑانا شروع سے تمہارا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔‘‘ آئرہ فل لڑنے کے موڈ میں تھی۔
’’تمہاری اس دی سوغات کے بعد سر کے درد سے پریشان ہو کر میں آتے ہی سو گیا تھا۔ ابھی کچھ منٹ پہلے ہی اٹھا تھا کہ تم پھر میرے سر پر مسلط ہو گئیں۔ اب اس سارے وقت میں میں نے شکایت کب لگانی تھی؟ اور ہاں، اب مجھے میرے گھر پر تو سکون سے رہنے دو کم از کم!‘‘ یوشع نے اپنے ماتھے پر لگی بینڈیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چڑچڑے انداز میں کہا تھا۔
’’دفع ہو، مرو تم! تم سے منہ لگانا ہی فضول ہے۔‘‘ آئرہ نے اس کے ماتھے پر لگی چھوٹی سی بینڈیج کو دیکھ کر کہا۔ دراصل یہ لڑائی تو صرف بہانہ تھی۔ وہ جانتی تھی کہ شکایت یوشع نے نہیں لگائی۔ وہ جتنا مرضی چھپ کر کارنامے کیا کرے، ضرار کو خبر ہو ہی جاتی تھی وہ تو بس یوشع کو دیکھنے آئی تھی کہ وہ ایکسیڈنٹ کے بعد ٹھیک تھا یا نہیں۔ اور اس کی چوٹ دیکھ کر اسے تکلیف ہوئی تھی مگر وہ کب  سیدھی زبان میں بات کر سکتی ہے جو اب کرتی۔
’’آئرہ، رکو!‘‘ یوشع کی سنجیدہ آواز پر آئرہ کے باہر کو جاتے قدم تھمے تھے۔

’’نور قلب سے دور رہنا۔ اس کو اگر تمہاری وجہ سے ذرا سی بھی تکلیف پہنچی تو میں بھول جاؤں گا کہ میرا تم سے کوئی رشتہ بھی ہے۔‘‘ یوشع کے لہجے میں وارننگ تھی اور آئرہ جو اس کے لہجے میں احساسِ ذمہ داری ڈھونڈنا چاہ رہی تھی وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملی تھی۔
سیاہ آنکھوں نے بھوری آنکھوں میں جھانکا۔ اس نے ان بھوری آنکھوں میں وہ ذمہ داری نہیں دکھی تھی جو وہ آج تک اپنے لیے دیکھتی آئی تھی بلکہ اسے وہ محبت دکھی تھی جو اس نے اپنے لیے آج تک نہیں دیکھی تھی۔ آئرہ کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔
آئرہ کھوئی کھوئی سی گاڑی چلا رہی تھی جب اسے فٹ پاتھ پر ایک اجڑے سے حلیے والا فقیر بیٹھا نظر آیا۔ وہ گاڑی روک کر ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
’’ارے، آؤ بیٹی! بڑے دنوں بعد آئی ہو۔‘‘ فقیر نے خوش دلی سے اس کا استقبال کیا۔
’’بابا! وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے۔‘‘ آئرہ کے کھوئے سے لہجے پر انہوں نے غور سے تکلیف دہ سرخ ڈوروں سے سجی اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’تمہیں محبت کی نعمت ملی تھی پتر۔ تم نے قبول کرنے میں دیر کی اور نعمت کی ناشکری کرنے پر نعمت چھن جاتی ہے۔‘‘ فقیر نے عجیب سے لہجے میں کہا۔
’’میں تو اس نعمت کو حاصل کرنے کی بجائے اس کی حفاظت میں لگ گئی مجھے کیا پتہ تھا وہ کسی اور کے جھولی میں ڈال دی جائے گی؟‘‘ آئرہ نے کرب بھرے لہجے میں کہا۔
’’بس پتر، رب سونے دیاں رمزاں اوہ آپ ہی جانے۔‘‘ فقیر نے چہرہ آسمان کی جانب کر دونوں ہاتھ اٹھا کر عجز بھرے لہجے میں کہا۔

’’آپ کا رب تو شروع سے عاشقوں کا دشمن رہا ہے۔ کبھی بھی کسی کا عشق پورا ہی نہیں ہونے دیا۔ ہر کہانی انجام میں ادھوری ہی رہ جاتی ہے۔‘‘ لہجے میں غصہ اور مایوسی تھی۔
’’جیڑا پورا ہو گیا اوہ عشق تاں رہیا ہی نئیں، عشق تاں ناں ای ادھورا رہن دا اے۔ عشق تاں معشوق دی تلاش دی جستجو اے، تے کملیے جستجو وی کدی پوری ہوندی اے؟ جِنّا لبھو، اُنّا ہی گواچ جاندا اے۔(جو پورا ہو گیا پھر وہ عشق تو رہا ہی نہیں۔ عشق تو نام ہی ادھورے رہنے کا ہے۔ عشق تو معشوق کی تلاش کی جستجو ہے اور پاگل! جستجو بھی کبھی پوری ہوئی ہے؟ جتنا ڈھونڈو اتنا کھو جاتا ہے۔‘)‘ فقیر نے ہنستے ہوئے آئرہ کو سمجھایا۔

’’بابا! آپ کے اس رب سے میری نہیں بنتی۔ نہ میری آواز اس تک جاتی ہے۔ مگر آپ میری اس سے سفارش کرنا کہ میرا معشوق مجھے دے دے۔ میں اس کی تابعدار نہ سہی، اس کی مخلوق تو ہوں اور میں نے سنا ہے وہ اپنی ہر مخلوق کو برابر پیار کرتا ہے۔ مگر وہ چاہے مجھے پیار کرے نہ کرے مگر اسے کہنا میری یہ خواہش ضرور پوری کر دے۔‘‘ آئرہ نے کہا اور وہاں سے چل دی۔
’’واہ! ربا! تیرے رنگ نیارے!‘‘ فقیر کی نظروں نے دور تک اس کی پشت کو تکا تھا۔
زمین پر پھر عشق اترا تھا۔ ایک اور داستان جنم لے رہی تھی اور تاریخ گواہ ہے جب جب عشق کا نزول ہوا ہے تب تب موت اس کے تعاقب میں آئی ہے۔ سینکڑوں داستانیں موت کی دھول میں رل کر مٹی ہو گئی۔

تو ہے کمال مولا! تو ہے کمال
تیری قدرت کمال
تو ہے کمال مولا، تو ہے کمال۔
تیری سلطنت کمال!      
کب کس کو کیا دے دے،
کب کس سے کیا لے لے
کھیل تیرے بے مثال
تو ہے کمال مولا، تو ہے کمال!
تیری قدرت کمال، تیری سلطنت کمال!

فقیر اپنا تار بجاتے ہوئے آنکھیں بند کیے سرور سے پڑھ رہا تھا۔ وہ شاید  عشق کی مستی میں سرشار اپنے معشوق سے ہم کلام تھا۔ نہ اسے لوگوں کی خبر تھی نہ دنیا کا ہوش۔ کچھ لوگ اس کو سننے کے لیے رک گئے تھے۔ اس کی آواز میں سرور ہی اتنا تھا کہ خود بخود رعب طاری ہوتا تھا اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ اس کی آواز دور جاتی آئرہ کے کانوں میں بھی پڑی تھی

’’عنایہ! عنایہ! شرم تو نہیں آتی ہے؟ ماں آوازیں دے دے کر پاگل ہو گئی ہے اور تم اس مصیبت میں گم ہو؟‘‘ تہمینہ بیگم کب سے عنایہ کو آوازیں دے رہی تھیں۔ اب آ کر دیکھا تو عنایہ میڈم آڑی ترچھی لیٹی موبائل پر ناول پڑھنے میں مصروف تھی۔ پتہ نہیں ناول پڑھتے وقت ہماری قوت سماعت کو کیا ہو جاتا ہے۔
’’جی۔۔۔۔ جی امی، کیا ہوا؟‘‘ عنایہ فوراً بکھلا کر اٹھی۔
’’تمہارا سر ہو گیا۔ کھانا بن گیا ہے، کھا لو آ کر۔‘‘ تہمینہ بیگم کی ٹھیک ٹھاک تپی ہوئی تھی عنایہ کی حرکتوں سے۔
’’آپ جائیں، میں آتی ہوں۔‘‘ ٹالنے والے انداز میں کہا۔
’’آگے لگو میرے! مجھے پتہ ہے میرے جاتے ہی پھر اسی کو چمٹ جاؤ گی۔‘‘ ماں کے کہتے ہی عنایہ نے منہ بسورا اور ان کے آگے چلنے لگی۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *