ٹھہراؤ قسط نمبر ؛ ٦
ازقلم حمنہ خان
باب ۱۷
انزر انور کا دل اب صرف ایک ہی نام پر دھڑکتا تھا۔۔
ذکر نور۔
وہ اس پر بےانتہا جان چھڑکنے لگا تھا۔ صبح کی پہلی سانس سے لے کر رات کی آخری دھڑکن تک، اس کی دنیا کا محور بس وہی تھی۔ جب سے وہ بنگلہ دیش سے واپس آیا تھا، اس نے جیسے زندگی کا مقصد ہی بدل لیا تھا۔ اب اس کا ایک ہی کام تھا۔۔ ذکر نور کے پیچھے جانا، اسے منانا، اسے اپنا یقین دلانا۔
وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔
کبھی کسی بہانے، کبھی بے بہانے۔
کبھی سامنے آ کر، کبھی دور رہ کر۔
“بس ایک بار میری بات سن لو، ذکر نور۔۔
اسے چاہت بھی تھی، اور کھونے کا ڈر بھی۔
ذکر نور شروع میں اسے نظر انداز کر دیتی تھی، جیسے وہ اس کے لیے کوئی معنی ہی نہ رکھتا ہو۔ مگر محبت کی دستک اگر سچی ہو تو دل کے بند دروازے بھی زیادہ دیر بند نہیں رہتے۔
اب وہ… تھوڑا تھوڑا اس کی طرف متوجہ ہونے لگی تھی۔
ان چاہے لمحوں میں بھی اس کا خیال چپکے سے آ کر بیٹھ جاتا۔
انزر نے راستہ نکالا تھا—اس کی چھوٹی بہن۔
وہی اب دونوں کے درمیان خاموش پیغام رساں تھی۔
“آپ کو ڈاکٹر انزر کا میسج دینا تھا…”
اس کی آواز آتی اور ذکرا نور کا دل بے اختیار تیز دھڑکنے لگتا۔
ہر پیغام کے ساتھ اس کے دل کی دیوار سے ایک اینٹ کم ہو جاتی۔
وہ مانے یا نہ مانے۔۔
مگر وہ اب انزر کی طرف کھنچتی جا رہی تھی۔
اور شاید پہلی بار۔۔
اسے اس کھنچاؤ سے ڈر بھی نہیں لگ رہا تھا۔
ہوا میں عجب سی بےچینی تھی۔
شام اپنی نمی لیے آہستہ آہستہ اتر رہی تھی جب ذکر نور نے قدم موڑے… اور سامنے وہ کھڑا تھا۔
“انزر”۔
جیسے وہ کب سے اسی لمحے کا انتظار کر رہا ہو۔
اس کی آنکھوں میں نیند نہیں، بےقراری تھی۔
ہاتھوں میں سکون نہیں، التجا تھی۔
“راستہ چھوڑ دیں…” ذکرا نور نے نظریں چرائیں، مگر آواز کی کپکپاہٹ نے اس کا ساتھ نہ دیا۔
انزر ہلکا سا مسکرایا، وہی تھکا ہوا، ٹوٹا ہوا سا۔
“اگر راستہ چھوڑ دیا… تو کیا تم رک جاؤ گی؟”
دل ایک لمحے کو جیسے سینے سے ٹکرا کر رہ گیا۔
“آپ کو مجھ سے کیا چاہیے؟”
اس نے خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
انزر ایک قدم قریب آیا۔
اتنا قریب کہ اس کی سانسوں کی حدیں گڈمڈ ہونے لگیں۔
“بس… تم۔”
لفظ دھیرے سے نکلے، مگر اثر گہرا چھوڑ گئے۔
خاموشی۔
ایسی خاموشی جس میں دل چیخ رہے تھے۔
“میں تھک گیا ہوں ذکر نور… تم سے دور رہ کر، تمہیں مناتے مناتے، ہر روز خود کو ہارتے ہارتے۔”
اس کی آواز بھرّا گئی۔
“ایک بار کہہ دو کہ میں امید رکھوں… بس ایک بار۔”
ذکرا نور نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
وہاں کھیل نہیں تھا… ضد نہیں تھی…
صرف محبت تھی۔ خالص، بےبس محبت۔
اس کے ہاتھ بے اختیار کانپ گئے۔
“آپ کو اندازہ بھی ہے… آپ میرے لیے کیا بنتے جا رہے ہیں؟”
اس نے سرگوشی کی، جیسے اپنے ہی دل سے ڈر رہی ہو۔
انزر کی دھڑکن رک سی گئی۔
“بتاؤ… کیا؟”
ذکرا نور نے نظریں جھکا لیں۔
مگر اس کی خاموشی ہی اقرار بن چکی تھی۔
ہوا نے دونوں کے درمیان کھڑے فاصلے کو چھوا…
مگر اس شام، پہلی بار، فاصلے کم پڑ گئے تھے۔
انزر نے گہری سانس لی، اور ہمیشہ کی طرح دل سے بول گیا۔
“میں اگر ڈاکٹر ہوں… تو میرا اسٹیتهوسکوپ تم ہو۔
میں اگر ٹیچر ہوتا… تو میری کتاب تم ہوتیں۔
میں اگر زندگی گزار رہا ہوں… تو میری سانسیں تم ہو۔”
ذکرا نور نے فوراً اس کی بات کاٹ دی۔
“کافی اچھا بول لیتے ہو آپ…”
اس کے ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ آئی، “لیکن پلیز، اب یہ مت کہنا کہ اگر آپ پائلٹ ہوتے تو میں آپ کا ہوائی جہاز ہوتی۔”
انزر کے لبوں پر ہنسی رقص کرنے لگی۔
مگر وہ رکی نہیں۔
“اور یہ بھی مت کہنا کہ اگر آپ پولیس ہوتے تو میں آپ کی گن ہوتی۔۔
یا اگر صفائی کرنے والے ہوتے تو میں آپ کا جھاڑو ہوتی۔۔
اور خدا کے لیے یہ بھی مت کہنا کہ اگر آپ پاگل ہوتے تو میں آپ کی دیوانگی ہوتی!”
وہ طنزیہ انداز میں بولی، مگر اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔۔ چھپی ہوئی نرمی تھی۔
“مہربانی کر کے میرا راستہ چھوڑ دیں۔”
انزر اب کھل کر ہنس رہا تھا۔
ایسی ہنسی جو سیدھا دل سے نکلتی ہے، بے ساختہ، بے قابو۔
“تمہیں اندازہ ہے؟” وہ ہنسی کے بیچ میں بولا،
“تم مذاق اڑاتے اڑاتے بھی میری ہی ہو جاتی ہو۔”
ذکر نور نے نظریں چرائیں، مگر اس بار اس نے اسے روکا نہیں۔
وہ مڑی… اور قدم بڑھاتی ہوئی واپس چلی گئی۔
انزر وہیں کھڑا رہا۔
اس کی جاتی ہوئی پرچھائیں کو دیکھتا ہوا۔۔
اور پھر دیر تک ہنستا رہا۔
ایسے جیسے اسے یقین ہو گیا ہو—
یہ لڑکی جتنی بھی انکار کرے… دل سے اتنی ہی قریب ہے۔
“انکار جیسی لظت اقرار میں کہا
بڑھتا ہے عشق اس کی نہیں نہیں سے”۔۔
باب ۱۸
ابو بکر اور ادفر تو جیسے آسمانوں پر چل رہے تھے۔۔
نہیں، آسمانوں پر نہیں — ساتویں آسمان پر۔
زندگی نے اچانک ایسا موڑ لیا تھا کہ انہیں لگنے لگا، سکون اب کہیں باہر نہیں۔۔ بس انہی کے پاس رہنے آ گیا ہے۔
گھنٹوں نہیں، دن گزرتے تھے باتوں میں۔
وقفہ صرف ضرورت کا ہوتا… یا کبھی بہت زیادہ مصروفیت آ گھیرتی تو چند لمحوں کی دوری آ جاتی، ورنہ وہ ایک دوسرے کو لمحہ لمحہ جیتے تھے۔
کیا کھایا، کیا سوچا، کس بات نے دل دکھایا، کس بات نے ہنسایا—
سب معلوم ہوتا تھا۔
جیسے دو نہیں، ایک زندگی ہو۔
وہ تینوں اب ایک دوسرے کو سب بتا گئی تھی۔۔
تین دل، جو ایک دوسرے کے رازدار بن چکے تھے۔
ان کی باتوں کا مرکز اب یہی معاملہ تھا… محبت، انتظار، اور آنے والے وقت کی دھند۔
ان میں سے ایک تھی… فبیحہ۔
جس کی شادی ہونے والی تھی۔
بہت جلد۔
چند دن بعد ہی وہ اس گاؤں کی حویلی کی ملکہ بننے والی تھی۔
لوگ کہتے تھے نصیب والی ہے وہ۔۔
شان، دولت، نام — سب مل رہا تھا اسے۔
مگر کہانیاں ہمیشہ وہ نہیں ہوتیں جو لوگ دیکھتے ہیں۔
ہر ملکہ خوش نہیں ہوتی۔۔
اور ہر راجا، ہیرو نہیں ہوتا۔
فبیحہ خاموش بیٹھی سب سنتی رہتی۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ رکھتی… مگر دل میں ایک سوال بار بار اٹھتا۔
“کیا واقعی یہ میری کہانی ہے؟”
کیونکہ جس شخص کو اس کا راجا کہا جا رہا تھا۔۔
وہ اس کے دل کا انتخاب نہیں تھا۔
اور شاید—
اس کہانی کا اصل ہیرو ابھی منظر پر آیا ہی نہیں تھا۔
یہ خیال جب بھی فبیا کے دل میں آتا، اس کے اندر جیسے ہلچل مچ جاتی۔
خوشی، خوف میں بدلنے لگتی۔
مسکراہٹ، دعا بن جاتی۔
وہ نمرہ احمد ان کی کتاب میں لکھتی ہے:-
محرم اور نامحرم کے قوانین آپ کی دلیلوں سے بدل نہیں جائیں گے۔
جو غلط ہے، وہ غلط ہے۔
آپ جتنا حرام لیں گے، اتنا حلال آپ کھوتے جائیں گے”۔۔
مگر اس تعلق کو آخر کیا نام دیں؟
کبھی کبھی انسان جتنی مرضی دلیلیں دے لے۔۔دل کو سمجھا لے۔۔ حالات کو قصوروار ٹھہرا دے۔۔
مگر کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جو بدلتے نہیں۔
سادہ لفظوں میں —
نامحرم، نامحرم ہی رہتا ہے۔
قانون دلیلوں سے نرم نہیں پڑتے۔
اور جو حرام ہے… وہ حرام ہی رہتا ہے۔
محبت کبھی کبھی آزمائش بن کر آتی ہے۔
ایسی آزمائش جس میں جیتنے کے لیے ہارنا پڑتا ہے۔
اور اس ہار کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔۔
باب ۱۹
خاموش لب ہیں، جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں الفت نئی نئی ہے
ابھی تکلف ہے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ہے
بہار کا آج پہلا دن ہے، چلو چمن میں ٹہل کے آئیں
فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوں میں رنگت نئی نئی ہے
ابھی نہ آئے گی نیند تم کو، ابھی نہ ہم کو سکوں ملے گا
ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے
جو خاندانی رئیس ہیں، وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمہارا لہجہ بتا رہا ہے، تمہاری دولت نئی نئی ہے
ذرا سا قدرت نے کیا نوازا، کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں
ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے
بموں کی برسات ہو رہی ہے، پرانے جانباز سو رہے ہیں
غلام دنیا کو کر رہا ہے، وہ جس کی طاقت نئی نئی ہے۔۔
باتوں کا سلسلہ اب محض پیغامات تک محدود نہیں رہا تھا۔
اب وہ ملتے بھی تھے۔
کبھی اچانک، کبھی طے شدہ،
اور کبھی قسمت یوں دونوں کو ایک ہی راستے پر لا کھڑا کرتی کہ انکار کی گنجائش ہی نہ رہتی۔
انزر اور ذکرا نور۔
پہلے صرف لفظ قریب آئے تھے۔۔
اب قدم بھی آنے لگے تھے۔
وہ جب سامنے آتا تو ذکر نور کے دل کی رفتار بدل جاتی۔
جیسے کسی نے اچانک وقت کو تیز بھی کر دیا ہو اور روک بھی لیا ہو۔
“آپ پھر آ گئے”
وہ نظریں چرا کر کہتی، مگر اس کے لہجے میں وہ سختی نہیں رہتی تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔
انزر ہلکا سا مسکراتا۔
“نہ آؤں تو گزارا ہے؟”
سادہ سا جملہ… مگر اثر گہرا۔
اب وہ دونوں باتیں کرنے لگے تھے۔
چھوٹی چھوٹی، بے معنی، روزمرہ کی —
مگر انہی میں ایک دنیا چھپی تھی۔
کبھی ہنسی نکل جاتی،
کبھی خاموشی لمبی ہو جاتی،
اور کبھی دونوں صرف ایک دوسرے کو دیکھ کر ہی بات مکمل کر لیتے۔
ذکرا نور کو اب احساس ہونے لگا تھا کہ یہ راستہ آسان نہیں۔
مگر عجیب بات یہ تھی —
واپس مڑنے کا دل بھی نہیں چاہتا تھا۔
انزر ہر ملاقات کے بعد جیسے اور مضبوط ہو جاتا۔
جیسے اسے یقین مل رہا ہو کہ وہ آہستہ آہستہ اس کے دل کے دروازے تک پہنچ رہا ہے۔
اور شاید۔۔
دستک سن بھی لی گئی تھی۔
عجیب بات یہ تھی کہ اس ساری ہلچل کے باوجود
ذکرا نور کی پڑھائی پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
وہ کتابیں بھی سنبھال رہی تھی، اور دل بھی۔
دن بھر مصروف رہتی، کلاسز، نوٹس، تیاری — سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ مگر انہی مصروف لمحوں کے بیچ کہیں نہ کہیں محبت اپنی جگہ بنا ہی لیتی ہے۔
وہ وقت نکال لیتی تھی۔
چند لمحے، چند سانسیں۔
اور ان ہی لمحوں میں وہ اسے بات کر لیتی تھی۔
کبھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ،
کبھی دل کی دھڑکن چھپاتے ہوئے،
اور کبھی خود کو سمجھاتے ہوئے کہ یہ سب قابو میں ہے۔
مگر محبت کب قابو میں رہتی ہے؟
ادھر فبیحہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔
فیصلہ ہو چکا تھا —
وہ اس حویلی کی ملکہ بنے گی۔
لوگوں کے چہروں پر خوشی تھی، گھر میں رونق تھی، کپڑوں، زیوروں اور رسموں کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ہر کوئی آنے والے دنوں کے خواب سجا رہا تھا۔
اور فبیحہ۔۔
وہ خاموش تھی۔
جیسے کسی نے اسے ایک کردار دے دیا ہو، جسے اب نبھانا ہی نبھانا ہے۔
ملکہِ بد بننا تھا اسے۔
چاہے دل مانے یا نہ مانے۔
ذکرا اور ادفر اب اس کے ساتھ ہی رہنے آ گئی تھی۔
شادی میں چند ہی دن باقی تھے۔
راتوں کو جب سب سو جاتے، تب اصل باتیں شروع ہوتیں۔
خواب، ڈر، امیدیں، اور وہ سوال
جن کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
ظاہر ہاشم کو اب سمجھ آ گیا تھا۔
نصیب کبھی کبھی انسان کے نام کے ساتھ ایک سایہ بھی لکھ دیتے ہیں۔
اور اس کے حصے میں وہ سایہ سیاہ تھا۔
زندگی اب اسے سانس نہیں لینے دیتی تھی،
جیسے ہر لمحہ سینے پر رکھ دیا گیا کوئی ان دیکھا بوجھ ہو۔
سکون؟
وہ تو اسے پہلے بھی کہاں ملا تھا۔
مگر سکون نہ ملنا اور بات ہے
اور بے سکونی کا نصیب میں اتر آنا، یہ بالکل اور بات ہے۔
اب اسے جو ملا تھا وہ اذیت تھی، رگوں میں دوڑتی ہوئی، سانسوں میں اترتی ہوئی، ہر خیال کو زخمی کرتی ہوئی۔
جیسے تقدیر نے اس کے ماتھے پر مہر لگا دی ہو—
سیاہ نصیب۔
وہ چاہ کر بھی کچھ بدل نہیں سکتا تھا۔
اسی لیے وہ چلا گیا تھا۔
دور۔
بہت دور۔
مگر فاصلے کہاں اندر کے شور کو کم کرتے ہیں؟
زخم بر جائے
؟؟
گھر؟
وہاں کون سا سکون اس کا منتظر تھا۔
وہاں بھی سوال تھے، فیصلے تھے، اور دھمکیاں۔
شادی کی دھمکیاں۔
مان جانے کی دھمکیاں۔
جھک جانے کی دھمکیاں۔
سب ایک ساتھ اس کے وجود کو نوچ رہے تھے۔
وہ اندر سے ٹوٹ رہا تھا، مگر ٹوٹنے کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی۔
اس کے اندر ایک طوفان پل رہا تھا،
بڑھتا ہوا، پھیلتا ہوا، مگر نکلنے کا راستہ کہیں نہیں تھا۔
کبھی کبھی اس کے ذہن میں خیال آتا —
کاش سب ختم ہو جائے۔
مگر پھر وہ کڑوا سا احساس ہنستا۔
انسان مر تو سکتا ہے۔۔
لیکن کچھ لوگ مر بھی نہیں پاتے۔
کیونکہ ان کے حصے میں
جینا نہیں، صرف تکلیف برداشت کرنا لکھا ہوتا ہے۔
اور ظاہر ہاشم شاید انہی لوگوں میں سے تھا۔
کچھ دن پہلے فبیحہ کی نانی کے گھر جب شیرازی صاحب مشورہ لینے گئے تھے۔
تب فضا اتنی بھاری نہیں تھی۔
انہوں نے اس وقت صاف لفظوں میں شادی کا مشورہ نہیں دیا تھا۔
بات کو ٹال دیا تھا، جیسے وقت شاید کوئی اور راستہ نکال دے گا۔
مگر وقت نے راستہ نہیں بدلا تھا۔
وقت نے صرف خطرہ بڑھا دیا تھا۔
کیونکہ اب ایک نام درمیان میں آ چکا تھا۔
جبرام کریم خان۔
اور اس نام کے ساتھ صرف اثر نہیں آتا تھا… فیصلہ آتا تھا۔
اس کی دھمکیاں، دھمکیاں نہیں ہوتیں تھیں — اعلان ہوتیں تھیں۔
وہ لفظ صرف بولنے کے لیے نہیں نکالتا تھا۔
وہ کہتا تھا… تو ہو جاتا تھا۔
اسی لیے سب ڈرتے تھے۔
ڈرنا مجبوری نہیں تھا، بقا تھی۔
جو اس کے مقابل کھڑا ہوتا، وہ صرف ہارتا نہیں تھا —
مٹ جاتا تھا۔
اور مٹنا بھی اگر نصیب ہو جاتا تو شاید آسان ہوتا۔
مگر اس کے ہاتھوں مرنے والے عزت سے نہیں مرتے تھے۔
یہ کوئی عادت نہیں تھی۔
یہ اس کا اصول تھا۔
اس کا قانون۔
اسی لیے اب مخالفت کرنا بہادری نہیں، حماقت سمجھا جا رہا تھا۔
فیصلہ بدلنا پڑے گا۔
رائے بدلنی پڑے گی۔
شاید ساتھ بھی بدلنا پڑے۔
تاکہ لوگ زندہ رہ سکیں۔
اور ان کے پیارے بھی۔
کیونکہ کبھی کبھی زندگی بچانا،، سچ بچانے سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔
جاری ہے
