Inikas Episode 2 written by siddiqui

انعکاس ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۲

کلاس روم میں مکمل خاموشی تھی۔ صرف سر کی آواز گونج رہی تھی، جو اپنا لیکچر ختم کرتے ہوئے وائٹ بورڈ کے سامنے آ کھڑے ہوئے تھے۔
اوکے اسٹوڈنٹس… انہوں نے ہاتھ میں پکڑی فائل بند کرتے ہوئے کہا، میں نے کچھ دن پہلے جو اسائنمنٹ دیا تھا، آج وہ جمع کروں گا۔ اور جس کے پاس اسائنمنٹ موجود نہیں ہے… وہ ابھی کھڑا ہو جائے۔
یہ سنتے ہی پوری کلاس میں بے چینی پھیل گئی۔ کچھ طلبہ نے فوراً بیگز کھول لیے، کچھ نے ایک دوسرے سے صفحات مانگنے شروع کر دیے۔
سر نے چشمہ درست کیا اور رجسٹر پر نظر ڈالی۔ پھر ایک ایک کر کے اُن طلبہ کے نام لینے لگے جن کا اسائنمنٹ ہمیشہ لیٹ آتا تھا۔
راوِن!
پچھلی قطار میں بیٹھا لڑکا چونک کر کھڑا ہو گیا۔
جی سر…
کہاں ہے آپ کا اسائنمنٹ؟
راون نے بے بسی سے سر کھجایا۔
سر… آپ نے بتایا نہیں تھا کہ آج جمع کروائیں گے…
پوری کلاس میں ہلکی سی ہنسی پھیل گئی۔
سر نے خشک لہجے میں کہا،
کون سا میں بتا دیتا تو تمہارا اسائنمنٹ مکمل ہو جاتا؟ پھر طنزیہ انداز میں بولے،نلاؤ، جتنا بنایا ہے اتنا ہی دکھا دو۔
راون نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
سوری سر… اگر آپ ایک تاریخ دے دیتے تو میں ایک رات پہلے بنا لیتا…
ہاں، جیسا تُم نے کہا اور میں نے مان لیا۔ سر نے فوراً جواب دیا۔ اور ویسے بھی اسائنمنٹ صرف چھاپنے کا نام نہیں ہوتا، سوال سمجھ بھی آنے چاہییں۔ اب باہر جاؤ کلاس سے۔
پوری کلاس ہنس پڑی جبکہ راون منہ لٹکائے باہر نکل گیا۔
سر دوبارہ رجسٹر دیکھنے لگے۔ چند مزید ناموں کے بعد اچانک اُن کی نظریں ایک نام پر آ کر رک گئیں۔
جِشاہ صدیقی…
کلاس میں بیٹھی جِشاہ نے فوراً سر اٹھایا۔
ایسا نہیں تھا کہ جشاہ پڑھائی میں اچھی نہیں تھی، وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی… بے حد اچھی۔ مسئلہ صرف ایک تھا۔۔۔۔ وقت۔ اور جِشاہ کا وقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ ہر کام دیر سے کرتی تھی۔
اسائنمنٹ ہو، یونیورسٹی آنا ہو، یا کوئی پروجیکٹ… ہر چیز لیٹ۔ اگر سر کہتے کہ فلاں تاریخ کو اسائنمنٹ جمع ہوگا، تو جِشاہ اُسی دن جا کر بنانا شروع کرتی، اور پھر تین چار دن بعد شرمندہ سی شکل بنا کر جمع کرواتی۔
اسی عادت کی وجہ سے وہ تقریباً ہر ٹیچر کی نظروں میں رہتی تھی۔
اُسے بار بار ٹوکنا پڑتا، یاد دلانا پڑتا، ڈانٹنا پڑتا… ورنہ اپنی مرضی سے وہ کبھی اتنی ذمہ دار نہ بنتی۔
سر نے دوبارہ آواز دی۔
جِشاہ؟
جِشاہ آہستہ سے اپنی سیٹ سے کھڑی ہوئی۔
جی سر…
آپ کا اسائنمنٹ کہاں ہے؟
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر جِشاہ نے بالکل سنجیدگی سے کہا،
سر… میرے پاس اسائنمنٹ ہے۔
سر ایک لمحے کو رکے۔
What…?
یہ شاید پہلی بار تھا کہ جِشاہ نے وقت پر اسائنمنٹ بنایا تھا۔ بلکہ وقت سے پہلے۔ سر نے تو بس کہا تھا کہ وہ نیکسٹ ویک کو اسائنمنٹ جمع کریں گے۔۔ کس دِن جمع کروانا ہے یہ نہیں بتایا تھا اور جشاه نے اسائنمنٹ بنا لیا تھا حیرت کی بات تھی۔۔۔ سر کو تو مکمل یقین تھا کہ ابھی جِشاہ بہانے بنائے گی، پھر دو دن کی مہلت مانگے گی، اور اس کے بعد تین دن مزید لگا دے گی۔
مگر آج…؟
سر، میں نے اسائنمنٹ مکمل کر لیا ہے۔ جِشاہ نے پورے اعتماد سے کہا۔
اب صرف سر ہی نہیں، پوری کلاس حیران تھی۔
نورا، جو اُس کے ساتھ بیٹھی تھی، فوراً اُس کی طرف جھکی۔
جِشاہ… تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا؟
جِشاہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
ہاں، مجھے کیا ہونا ہے؟
پیچھے سے لڑکوں کی بھی آواز آئی۔۔۔ سر جشاه کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسے کُچھ ہوگیا ہے اسے آرام کی ضرورت ہے۔۔۔۔
نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ جِشاہ نے پیچھے مُڑ کر لڑکوں سے کہا
تو ایسی بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہی ہوں۔۔۔
نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔ یہ دیکھو میرا اسائنمنٹ بنا ہوا ہے۔۔۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا  اسائنمنٹ اُن سب کے سامنے ہوا میں لہرایا۔۔۔
ضرور کسی کے بیگ سے چرایا ہوگا۔ نورا کے برابر میں بیٹھی لڑکی نے کہا۔۔۔
میں کسی کی چیزیں نہیں چراتی۔ جشاہ منہ بنائے بولی۔۔۔
سر نے کھنکار کر کہا،
اسٹاپ اٹ۔۔۔ جشاہ لائیں اسائنمنٹ جمع کروائیں۔
جی سر۔
جِشاہ اپنی سیٹ سے اتری اور جا کر اسائنمنٹ سر کے سامنے رکھ دیا۔
سر کو شاید اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے اسائنمنٹ کھول لیا۔
کلاس خاموش ہو گئی۔
چند لمحے بعد سر کے چہرے پر واضح حیرت ابھری۔
واو، جِشاہ… انہوں نے صفحات پلٹتے ہوئے کہا۔
یہ واقعی تم نے بنایا ہے؟ اتنا صاف ستھرا۔۔۔ زبردست۔۔۔ پھر مشکوک انداز میں بولے،
کسی نے تمہاری مدد کی ہے؟
جی سر۔ جِشاہ فوراً بولی۔
صرف مدد نہیں… اصل میں اُس نے مجھ سے اسائنمنٹ بنوایا بھی ہے۔
اچھا؟ سر نے دلچسپی سے پوچھا۔
کون ہیں وہ؟ کوئی ٹیچر؟
سر کو واقعی یہی لگا تھا۔ کیونکہ یونیورسٹی کے کئی اساتذہ جِشاہ کے پیچھے لگے رہتے تھے کہ یہ لڑکی وقت پر کام کرنا سیکھ لے۔
جِشاہ نے پورے اطمینان سے جواب دیا۔
سر… میرے جن نے۔۔۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد پوری کلاس زور زور سے ہنس پڑی۔
سر نے سنجیدگی سے کہا جِشاہ… آر یو اوکے؟
یس سر، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ وہ سنجیدگی سے بولی۔
واقعی میرے ساتھ ایک جن رہتا ہے۔
اب تو کلاس مزید زور سے ہنسنے لگی۔
سر نے طنزیہ انداز اپنایا۔۔۔
اچھا؟ اور اُس جن کا نام کیا ہے؟
جِشاہ چند لمحے سوچتی رہی۔ پھر اچانک چونکی۔
اوہ۔۔۔ وہ واقعی پریشان ہو گئی۔
سر… میں نے تو اُس سے اُس کا نام پوچھا ہی نہیں۔۔۔
پوری کلاس دوبارہ قہقہوں سے گونج اٹھی۔
گھر جا کر پوچھوں گی… وہ خود سے بڑبڑائی۔
پچھلی سیٹ سے پھر سے لڑکوں کی آواز آئی،
او بھائی! جنوں کے بھی نام ہوتے ہیں؟
کیوں نہیں ہوتے؟ جِشاہ فوراً پلٹی۔
جیسے انسان ایک مخلوق ہیں، ویسے جن بھی ایک مخلوق ہیں۔ اُن کی بھی دنیا ہوتی ہے، فیملی ہوتی ہے…
بچے بھی ہوتے ہیں؟ ایک اور لڑکے نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
ہاں، بالکل ہوتے ہیں۔۔۔۔ جِشاہ نے پورے یقین سے جواب دیا۔
سر، یہ تو پوری پاگل ہو چکی ہے۔ اسے مینٹل ہاسپٹل بھیج دیں۔۔۔۔
اسٹوپ اِٹ۔۔۔۔
سر کی سخت آواز پر پوری کلاس فوراً خاموش ہو گئی۔
پھر انہوں نے جِشاہ کی طرف دیکھا۔
جِشاہ… آپ نے آج صبح ناشتہ کیا تھا؟
جِشاہ فوراً مسکرا دی۔ جی سر، کیا تھا۔ پھر معصومیت سے بولی، جن نے بنایا تھا۔ بہت مزے کا تھا۔
پیچھے سے پھر آواز آئی،
لو جی! اب جن ناشتہ بھی بنانے لگ گئے۔۔۔
ہاں۔۔۔ جِشاہ نے فخر سے کہا۔
اور میرے گھر کی صفائی بھی کرتے ہیں۔۔۔
پھر ہمارے گھر بھی بھیج دو، ذرا ہم بھی صفائی کروا لیں۔۔۔
کلاس دوبارہ ہنسنے لگی۔
سر نے فوراً سب کو ڈانٹ کر خاموش کروایا اور جِشاہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
نورا فوراً اُس کے قریب جھکی اور دانت پیستے ہوئے بولی،
یہ تم کیا بکواس کر رہی ہو؟!
جِشاہ نے فوراً احتجاج کیا۔
یار، میں سچ بول رہی ہوں۔۔۔
نورا نے لمبی سانس لی۔
افف… تمہیں تو صرف عمر ہی ٹھیک کرے گا۔ اُس کے پاس ہی چلو تُم تو۔۔۔۔
عمر کا نام سنتے ہی جِشاہ کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آ گئی۔
اوکے۔۔۔۔

+++++++++++++++

کلاس ختم ہوتے ہی طلبہ شور مچاتے ہوئے باہر نکلنے لگے۔ مگر آج عجیب بات یہ تھی کہ آدھی کلاس جاتے جاتے بھی جِشاہ کو مُڑ مُڑ کر دیکھ رہی تھی۔
قسم سے آج تو مزہ آگیا…
یار وہ سچ میں پاگل ہو گئی ہے…
نہیں بھائی، مجھے تو جن والی بات کافی انٹرسٹنگ لگی…
جشاء اپنے جن سے کہو نا کہ ہمارے گھر کی بھی صاف صفائی کر دے۔۔۔ قسم سے بہت گندا ہُوا پڑا ہے۔۔۔
سرگوشیاں اُس کے پیچھے چل رہی تھیں مگر جشاء کو جیسے کسی بات کی پروا ہی نہیں تھی۔ وہ سکون سے اپنا بیگ بند کر رہی تھی۔
نورا نے غصے سے اُس کی طرف دیکھا۔
تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے آج کیا کیا ہے؟
جشاء نے معصومیت سے پلکیں جھپکائیں۔
کیا کیا ہے؟
پوری کلاس کے سامنے جنوں کی باتیں کر رہی تھی۔۔۔
کیونکہ وہ سچ ہے…
اوہ پلیز۔۔ نورا نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ یہ ناولز کم پڑھا کرو…
جشاء نے ہونٹ سکیڑے۔ میں نے جھوٹ نہیں بولا…
چھوڑ تُم عمر کے پاس ہی چلو۔۔۔۔
ہاں چلو نہ چلو۔۔۔ جشاء مسکراتی نورا میں ساتھ چلنے لگی۔۔۔
جشاء اور نورا عمر کو ڈھونڈتے ہوئے کوریڈور میں نکل آئیں۔
وہ لان کے قریب دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ فون ہاتھ میں تھا مگر نظریں اوپر تھیں جیسے کسی سوچ میں گم ہو۔
جشاء کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر ہلکی سی تبدیلی آئی۔
آ گئیں آپ دونوں؟
نورا نے سیدھا کہا۔ عمر، اس کو سنبھالو۔ آج کلاس میں پوری کلاس کے سامنے جن کا قصہ سنا دیا۔
عمر نے جشاء کی طرف دیکھا۔ کیا ہوا؟
جشاء نے بے فکری سے کہا۔ کچھ نہیں۔ سر نے پوچھا کہ اسائنمنٹ کس نے کروائی تو میں نے بتا دیا۔
کیا بتایا؟
یہی کہ جن نے کروائی۔
عمر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آتے آتے رک گئی۔ اس نے نورا کو دیکھا۔ نورا نے آنکھیں گھما لیں۔
جشاء عمر نے آہستہ سے کہا۔ تم واقعی ٹھیک ہو نا؟
ہاں بالکل۔ وہ اطمینان سے بولی۔ اور اسائنمنٹ بھی مکمل تھی۔ سر نے خود تعریف کی۔
عمر نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے دیکھا۔
وہ آج واقعی مختلف لگ رہی تھی۔ نہ وہ الجھن جو ہمیشہ چہرے پر رہتی تھی، نہ وہ تھکاوٹ۔ بال سلیقے سے بندھے تھے، آنکھوں میں ہلکی سی چمک تھی۔
کینٹین چلتے ہیں؟ اس نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
ہاں چلو۔ جشاء فوراً بولی۔ مجھے بھوک لگی ہے۔
نورا نے ہنستے ہوئے کہا۔ کیا جن نے ناشتہ نہیں کروایا آج؟
کروایا تھا۔ جشاء نے بالکل سنجیدگی سے جواب دیا۔ مگر وہ بہت پہلے ہو گیا تھا۔
عمر نے ہنسی دباتے ہوئے آگے قدم بڑھایا۔
کینٹین میں تینوں ایک کونے والی میز پر بیٹھ گئے۔
عمر نے کھانا منگوایا۔ نورا اپنے فون میں مصروف تھی۔ اور جشاء… وہ کھڑکی کے باہر دیکھ رہی تھی۔
یونیورسٹی کا لان دھوپ میں نہایا ہوا تھا۔ درختوں کے سائے لمبے تھے۔
اچانک اس کی نظر ایک لمحے کے لیے رکی۔
درخت کے قریب۔ مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔
اس نے آہستہ سے نظریں ہٹا لیں۔
کہاں کھو گئی؟
عمر کی آواز سے وہ چونکی۔
کہیں نہیں۔ اس نے مسکرا کر کہا۔ بس ایسے ہی۔ آج گھر جا کر ان سے اُن کا نام پوچھوں گی۔۔۔
آج شام کا کوئی پلان ہے؟ عمر نے  بات بدلنے کی کوشش کی۔
جشاء نے سوچا۔ نہیں… گھر جانا ہے۔
بس؟
بس۔ وہ ہلکا سا مسکرائی۔
عمر نے اسے دیکھا۔ پہلے تو تم گھر جانے سے کتراتی تھیں۔
جشاء کے قدم ایک لمحے کے لیے رکے۔
پہلے گھر خالی لگتا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا۔ اب نہیں لگتا۔
عمر نے کچھ نہیں پوچھا۔
مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت تھی۔
وہ جشاء سے پوچھنا چاہتا تھا۔ بہت کچھ۔
مگر الفاظ کہیں اٹک گئے تھے۔
شام کو جب جشاء گھر پہنچی تو فلیٹ خاموش تھا۔
اس نے بیگ رکھا۔ جوتے اتارے۔ کچن میں جا کر پانی پیا۔
پھر کمرے میں آئی۔ کھڑکی کھولی۔
ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔
آج کلاس میں بتا دیا سب کو۔
وہ بولی… کمرے سے۔ ہوا میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔
جانتا ہوں۔
جِشاہ مڑی۔
وہ کمرے کے کونے میں کھڑا تھا۔ بازو سینے پر باندھے۔ چہرے پر وہی پرسکون تاثر۔
آپ وہاں بھی تھے؟ جِشاہ نے آنکھیں سکیڑیں۔
ہمیشہ ہوتا ہوں۔
جِشاہ نے منہ بنایا۔ تو پھر بتاتے کیوں نہیں؟
کیوں بتاؤں؟ اس کے لہجے میں ہلکا سا طنز تھا۔ تم تو خود ہی پوری کلاس کو بتا دیتی ہو۔
میں نے غلط کیا کیا؟ سر نے پوچھا تو بتا دیا۔
سر نے پوچھا تھا کہ کس استاد نے کروائی۔ جن کا نام لینا ضروری تھا؟
تو جھوٹ بولتی؟
نہیں بس نظر انداز کر دیتی۔۔۔
جِشاہ نے بستر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ویسے سر نے تعریف کی۔ اسائنمنٹ بہت اچھی تھی۔
جانتا ہوں۔
تھوڑا کریڈٹ تو ملنا چاہیے نا آپ کو۔
اس نے کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
کریڈٹ مجھے نہیں چاہیے۔
تو پھر؟
بس یہ کافی ہے کہ تم سب کے سامنے اچھی نظر اؤ تُمہاری سب تعریف کرے۔۔۔ تُمہاری تعریف ہوگئی مطلب میری تعریف ہوگئی۔۔۔
جِشاہ نے اسے غور سے دیکھا۔
آپ کو واقعی اس میں خوشی ہوئی؟
اس نے جواب دینے میں ایک لمحہ بھی نہیں لیا۔
ہاں۔
جشاء بے اختیار مسکرا دی۔
کمرے میں خاموشی تھی۔ مگر وہ خاموشی جو بھاری نہیں ہوتی، بس ٹھہری ہوئی ہوتی ہے۔
کل بھی وقت پر جاؤں گی۔ اس نے آہستہ سے کہا۔
جانتا ہوں۔
اور اگلی اسائنمنٹ بھی وقت پر دوں گی۔
جانتا ہوں۔
آپ کو سب پتہ ہے۔
ہاں۔
جشاء نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔
تکیہ اس کے آرپار گزر کر دیوار سے جا لگا۔
دونوں ایک لمحے کو خاموش رہے۔
پھر جِشاہ ہنس پڑی۔
اور وہ… بس دیکھتا رہا۔

+++++++++++++

جشاء اُس وقت اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑی تھی۔ رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ پورے آسمان پر پھیل رہا تھا اور ٹھنڈی ہوا اُس کے بالوں کو ہلکا ہلکا اُڑا رہی تھی۔ کمرے کی لائٹ بند تھی، صرف چاند کی مدھم روشنی اُس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
وہ ریلنگ پر دونوں ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے اُس سائے کو دیکھ رہی تھی جو ہمیشہ کی طرح اُس کے قریب کھڑا تھا۔
جشاء نے دھیرے سے پوچھا۔
آپ کل میرے ساتھ چلیے گا…؟
سامنے چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔ پھر وہی گہری اور پُرسکون آواز اُبھری۔
کہاں…؟
یونیورسٹی…
نہیں…
جشاء کا چہرہ فوراً اُتر گیا۔
کیوں…؟
تم میری سنتی نہیں ہو…
جشاء نے ہونٹ پھلا لیے۔
اتنا تو سنتی ہوں… اب کیا ہوگیا…؟
سایہ اُس کی طرف تھوڑا قریب ہوا۔ ہوا ایک دم سے اور ٹھنڈی محسوس ہونے لگی۔
میں نے تمہیں منع کیا تھا نا… کہ سب کے سامنے میرا نام یا میرا ذکر نہیں کرنا…
جشاء نے معصومیت سے آنکھیں جھپکیں۔
آپ کو پتا تو ہے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا…
تو جواب نہ دیا کرو… اُس نے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں کہا، بس خاموش رہا کرو… یا نظر انداز کردیا کرو…
جشاء نے فوراً گردن ہلا دی۔
کوشش کروں گی…
گُڈ…
کچھ لمحوں تک دونوں کے درمیان خاموشی رہی۔ نیچے سڑک پر گاڑیوں کی ہلکی آوازیں آرہی تھیں جبکہ بالکونی میں صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی۔
پھر جشاء اچانک اُس کی طرف مُڑی۔ اُس کی آنکھوں میں بچوں جیسی تجسس بھری چمک تھی۔
ویسے آپ نے مجھے بتایا نہیں…
کیا…؟
آپ کا نام کیا ہے…؟
سایہ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ جیسے سوچ رہا ہو کہ بتائے یا نہیں۔
تم نے پوچھا نہیں…
جشاء ہلکا سا ہنس پڑی۔
اب پوچھ رہی ہوں نا… بتائیں… کیا نام ہے آپ کا…؟
ہوا جیسے ایک لمحے کو تھم سی گئی۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا۔
نہان…
جشاء نے اُس نام کو آہستہ سے دہرایا۔
نہان
اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور گہری ہوگئی۔
اچھا نام ہے…
سایہ خاموش رہا، مگر جشاء کو محسوس ہوا جیسے وہ ہلکا سا مسکرا دیا ہو۔

پھر جیسے اچانک اُسے کچھ یاد آیا ہو، اُس کے چہرے کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی۔
وہ خاموشی سے ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔ نیچے سڑک پر جلتی بجھتی لائٹیں اُس کی آنکھوں میں عجیب سی اداسی بھر رہی تھیں۔
اتنے دن ہوگئے… اُس نے دھیمی آواز میں کہا، گھر سے کسی کا کال نہیں آیا…
نہان خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
کیوں پریشان ہوتی ہو…؟ اُس نے نرمی سے کہا، وہ لوگ مصروف ہوں گے…
جشاء ہلکا سا ہنسی، مگر وہ ہنسی خالی تھی۔
بِزی…؟ اُس نے آہستہ سے دہرایا، انہیں میری پروا ہی نہیں ہے…
ایسی بات نہیں ہے… نہان کی آواز میں عجیب سا اطمینان تھا، ماں باپ کو اپنی اولاد بہت پیاری ہوتی ہے…”
جشاء نے نظریں جھکا لیں۔
ہاں… لیکن اگر وہ اکلوتی ہو تو…
کچھ لمحوں کے لیے اُس کی آواز بھرائی۔
میرے گھر میں اتنا جمگھٹا ہے…
اِن سب کے بیچ میں، میں کہاں سے نظر آؤں گی…؟
نہان چند لمحے خاموش رہا۔ جیسے اُس کے لفظوں کے پیچھے چھپی اداسی کو محسوس کر رہا ہو۔
تم بہت زیادہ سوچتی ہو… اُس نے آخرکار دھیرے سے کہا، اتنا مت سوچا کرو…
جشاء نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چاند اب بادلوں کے پیچھے چھپنے لگا تھا۔
ہاں… وہ مدھم سی آواز میں بولی، سوچنا تو میری بیماری ہے۔۔۔
پھر وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
بہت بھوک لگی ہے۔۔ مُجھے ویٹر کھانا پلز۔۔۔
ویٹر کس کو بول رہی ہو۔۔۔
آپکو اور کس کو۔۔۔ وہ ہنسی۔۔۔
تو نہان بھی ہنس دیا۔۔۔

+++++++++++++

اب تو پوری یونیورسٹی کو پتہ چل گیا تھا۔
کوئی اعلان نہیں ہوا تھا۔ کوئی خبر نہیں پھیلی تھی۔
بس… لوگوں نے دیکھا۔ جشاء وقت پر آتی تھی۔
پہلے گھنٹہ بھر لیٹ۔ پھر آدھا گھنٹہ۔ پھر دس منٹ۔ اور اب… بعض اوقات سب سے پہلے۔
جشاء کے نوٹس مکمل ہوتے تھے۔
جشاء کلاس میں سوال کرتی تھی۔ سیدھے، سمجھدار سوال۔
وہی جشاء جس نے پچھلے سمسٹر میں پروفیسر کی کرسی پر بیٹھ کر سیلفی لی تھی۔
وہی جشاء جس نے ایک بار لیب میں غلطی سے فائر الارم بجا دیا تھا اور بعد میں کہا تھا کہ مجھے لگا وہ لائٹ کا سوئچ ہے۔
وہی جشاء جو ہر اسائنمنٹ تین دن لیٹ جمع کرواتی تھی اور بہانہ یہ ہوتا تھا کہ رات کو نیند نہیں آئی۔
وہ جشاء اب مختلف تھی۔
نورا نے یہ سب خاموشی سے دیکھا۔ سنا۔ محسوس کیا۔
اور آج کینٹین میں جب جشاء واش روم گئی تو اس نے فوراً عمر کی طرف رخ کیا۔
عمر۔
ہوں۔ وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے فون دیکھ رہا تھا۔
فون رکھو۔
عمر نے نظریں اٹھائیں۔ نورا کے چہرے دیکھ کر فون میز پر رکھ دیا۔
کیا ہوا؟
نورا نے آہستہ سے کہا۔
تم نے notice کیا ہے نا؟
کیا؟
جشاء کو۔
عمر خاموش رہا۔
نورا نے آگے کہا۔
پہلے وہ کلاس میں پیچھے بیٹھتی تھی۔ اب آگے بیٹھتی ہے۔ پہلے ہر لیکچر میں سوتی تھی۔ اب نوٹس لیتی ہے۔ پہلے ہر کام آخری لمحے پر کرتی تھی۔ اب… وقت سے پہلے کر لیتی ہے۔
عمر نے ایک سانس لی۔
ہاں۔
بس ہاں؟
عمر نے کپ میز پر رکھا۔
تم کیا چاہتی ہو میں کہوں؟
نورا نے ہونٹ بھینچے۔
یہ کہ تمہیں بھی عجیب لگ رہا ہے۔
عمر نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔
وہ کیا ہے جو جشاء کو بدل رہا ہے… وہ کچھ تو ہے۔
نورا نے دھیمی آواز میں کہا۔
وہ جن والی بات۔۔۔
عمر نے فوراً اسے دیکھا۔ نورا۔
میں جانتی ہوں۔ نورا نے ہاتھ اٹھایا۔ میں بھی نہیں مانتی۔ مگر…
وہ رکی۔
جشاء نے پہلے بھی عجیب عجیب باتیں کی ہیں۔ مگر اس طرح… اتنے یقین سے؟ اوپر سے اُس کے اندر کا بدلاؤ۔۔۔
آنے دو اُسے کرتا ہیں اُس سے بات۔۔۔ عمر نے بس اتنا کہا۔۔۔
+++++++++++++

کچھ دیر وہ تینوں ایک ہی بینچ پر بیٹھے تھے۔
یار جشاء… عمر نے سنجیدگی سے کہا، تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟
جشاء نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ میں تم لوگوں کو بتاتی تو ہوں، وہ آہستہ بولی، مگر تم لوگ یقین ہی نہیں کرتے۔
نورا، جو برابر میں بیٹھی تھی، فوراً بول پڑی۔ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اس نے بے ساختہ کہا۔ کہتی ہے اس کے پاس اس کا ایک جن ہے۔
عمر چونکا۔ واقعی، جشاء؟
جشاء نے اثبات میں سر ہلایا۔ ہاں نا۔
عمر نے کچھ لمحے اسے غور سے دیکھا۔ پھر بولا، تو پھر ہمیں بھی ملواؤ نا اس سے۔
جشاء فوراً بولی، وہ کسی سے نہیں ملتے۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ عمر نے سوال کیا۔ اچھا، کم از کم بات ہی کروا دو۔
جشاء نے بے بسی سے دونوں کو دیکھا۔ پھر جیسے کوئی فیصلہ کر لیا ہو۔ اچھا چلو… وہ آہستہ سے بولی، تم دونوں آج میرے ساتھ میرے گھر چلو۔
عمر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔ ہاں، چلو۔ یونی کے بعد چلتے ہیں۔
اوکے۔ جشاء نے سر ہلایا۔ اب بتاؤ، کیا کھاؤ گے؟ میں لے کر آتی ہوں۔
عمر نے مسکراتے ہوئے کہا، جو آپ خوشی خوشی کھلا دیں۔
جشاء مسکرا دی۔ اوکے، میں ابھی آئی۔
جشاء کے جاتے ہی نورا نے فوراً عمر کی طرف رخ کیا۔
تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ اس نے دھیمی مگر تیز آواز میں کہا۔ تم واقعی اس کی باتوں پر یقین کرنے لگے ہو؟
عمر نے نظریں چرا لیں۔ نہیں… پھر بولا، مگر اگر وہ ایسا کہہ رہی ہے تو ضرور کچھ نہ کچھ بات تو ہے۔
نورا نے ناک سکوڑی۔ کیا مطلب؟
کیا پتا… عمر نے سنجیدگی سے کہا، کوئی لڑکا اسے بیوقوف بنا رہا ہو۔ تم جانتی ہو نا وہ کتنی معصوم ہے۔
نورا چڑ کر بولی، معصوم نہیں، پاگل ہے۔
عمر نے فوراً اسے گھورا۔ تم چپ رہو۔ جو بھی بات ہے، مجھے اس کی تہہ تک جانا ہے۔
عمر نے دور تک جاتی ہوئی جشاء کو دیکھا پھر دوبارہ نظریں نورا پر جما لی۔۔۔

++++++++++++

یونیورسٹی کی چھٹی کے بعد جشاء کے ساتھ نورا اور عمر بھی اس کے فلیٹ آ گئے۔
جیسے ہی عمر نے دروازے کے اندر قدم رکھا، وہ ایک لمحے کو رک گیا۔
فلیٹ… غیر معمولی حد تک صاف تھا۔ ہر چیز اپنی جگہ، فرش چمک رہا تھا،
یہ وہی فلیٹ نہیں لگ رہا تھا، جسے وہ جانتا تھا۔
جشاء صفائی ستھرائی کے معاملے میں حد سے زیادہ لاپرواہ لڑکی تھی۔ وہ اپنے فلیٹ کی صفائی بس ہفتے میں ایک دن، اتوار کو کرتی تھی،۔ اور باقی پورا ہفتہ
جو چیز جہاں پڑی ہوتی، وہیں پڑی رہتی۔
اکیلی رہنے کی وجہ سے اسے کبھی زیادہ فرق بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔ نہ کسی کی روک ٹوک تھی، نہ کسی کے سوال۔
مگر آج… ہر چیز اپنی جگہ پر تھی۔ صاف، ترتیب میں، جیسے کسی نے خاص توجہ اور وقت لگا کر یہ فلیٹ سنبھالا ہو۔
یہ سب کچھ جشاء کی عادت کے بالکل برعکس تھا۔
اور یہی بات سب سے زیادہ تشویش ناک تھی۔
نورا نے ایک لمحہ اسے گھورا۔ پھر ناک سکوڑ کر بولی،
نہیں، نہیں… اب تو حد ہی ہو گئی۔
نہان نہان۔۔۔۔ جشاء اب چیخنے لگی تھی۔۔۔
یہ کیسے آوازیں دے رہی ہو، جِشاہ؟ عمر نے پوچھا۔۔۔
جشاء فوراً بولی، ارے جن کو آواز دے رہی ہوں
اُن کا نام نہان ہے۔ اُنہون نے بتایا مجھے۔
عمر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ نہان؟ ذرا ٹھہر کر بولا، اور اس نے اور کیا بتایا؟
جشاء نے پورے یقین سے کہا،
یہی کہ وہ میرا جن ہے… اور وہ میرے ہے۔ اور وہ
ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔۔
نورا نے آنکھیں گھما لیں، مگر کچھ کہنے سے پہلے ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک پھیلی۔ اور اگلے ہی لمحے
نہان ان تینوں کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔
بالکل حقیقت کی طرح۔
جشاء کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ آ گئی۔
یہ دیکھیں۔۔ وہ خوشی سے بولی۔ یہ میرے فرینڈز ہیں۔ یہ نورا… اور یہ عمر۔ نورا سے تو آپ مل ہی چکے ہیں۔
نہان نے بے زاری سے نورا اور عمر پر ایک نظر ڈالی۔
پھر کندھے اچکاتے ہوئے کہا، ہاں، تو میں کیا کروں؟
اس کا لہجہ بے حد لاپروا تھا، جیسے جشاء کے دوست اس کے لیے کوئی اہمیت ہی نہ رکھتے ہوں۔
جِشاہ چونکی۔ یہ کیا بات ہوئی، نہان؟
نہان نے نظریں صرف جشاء پر جمائے رکھیں۔
دیکھو، میں صرف تمہارے ساتھ اچھا ہوں۔ میں صرف تم سے مل سکتا ہوں۔ مجھے ان سے مت ملواؤ۔
جشاء کا منہ بن گیا۔ وہ ناراضی سے نہان کو گھورنے لگی۔
نہان نے ایک گہری سانس لی۔
اچھا، ٹھیک ہے… فائن. وہ بولا، تمہارے لیے کچھ بھی۔ بتاؤ، ان کے لیے کیا کروں؟ جوس پیش کروں؟
کھانا؟ یا کچھ اور؟
جشاء نے فوراً کہا، نہیں، بس ان سے بات کرو۔ انہیں یقین دلا دو کہ تم واقعی موجود ہو۔
عمر اور نورا خاموش کھڑے تھے۔
نہان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جِشاہ کی طرف دیکھا۔ جشاء وہ نرمی سے بولا، میں صرف تم سے بات کر سکتا ہوں۔ اور صرف تمہیں ہی نظر آ سکتا ہوں۔ انہیں نہیں۔
جشاء الجھ گئی۔ ہاں، مگر کیوں؟
نہان کی آواز دھیمی ہو گئی۔ کیونکہ صرف تم ہی مجھے دیکھ سکتی ہو۔
کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
چند لمحوں بعد جشاء نے ہار مانتے ہوئے کہا،
اچھا چھوڑیں… آپ ان کے لیے اچھا سا ڈنر ہی تیار کر دیں۔
نہان کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آئی۔ ہاں، یہ میں کر سکتا ہوں۔
جشاء نے نورا اور عمر کی طرف رخ کیا۔
تم دونوں فریش ہو کر آ جاؤ۔ تب تک نہان ڈنر تیار کر دے گا۔ میں بھی فریش ہو کر آتی ہوں۔

یہ کہہ کر جشاء اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *