Bashar Episode 9 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۹

صبح کافی دیر بعد…
جب سومین کی آنکھ کھلی تو کمرے میں ہلکی سی دھوپ پھیل چکی تھی… سوہان اب بھی بےخبری سے سو رہا تھا… کمبل آدھا نیچے گرا ہوا تھا… اور فون اُس کے ہاتھ میں پھنسا ہوا تھا…
سومین خاموشی سے اٹھ کر بیٹھ گیا… رات والے سوال اب بھی اُس کے ذہن میں موجود تھے… وہ چند لمحے ویسے ہی بیٹھا رہا… پھر آہستہ سے فون اٹھایا…
اسکرین آن ہوتے ہی اُس کی نظر فوراً باسط کے میسج پر گئی…
اسلام وعلیکم صبح بخیر… میں کوشش کرتا ہوں تمہیں آسانی سے سمجھا دوں۔۔۔
سومین خاموشی سے پڑھنے لگا…
سب سے پہلے… تم نے کامیابی کے بارے میں پوچھا تھا…
دیکھو… زیادہ تر لوگ کامیابی کا مطلب یہی سمجھتے ہیں: پیسہ… مشہور ہونا… پرامن زندگی… لوگوں کی عزت… اپنی مرضی کی زندگی…
اور یہ چیزیں بری نہیں ہیں…
اسلام بھی یہ نہیں کہتا کہ غریب یا تکلیف میں رہنا ہی اچھا ہے…
لیکن قرآن کہتا ہے… یہ سب چیزیں عارضی ہیں…
آج ہیں… کل نہیں ہوں گی…
پیسہ ختم ہو سکتا ہے… شہرت ختم ہو سکتی ہے… خوبصورتی… طاقت… جوانی… سب ختم ہو جاتا ہے…
اس لیے قرآن کے مطابق اصل کامیابی وہ نہیں… جو صرف کچھ سالوں کے لیے ہو…
بلکہ اصل کامیابی وہ ہے… جس کا انجام بھی اچھا ہو…
سومین کی نظریں خاموشی سے اسکرین پر جمی رہیں…
باسط نے آگے لکھا تھا:
اسی لیے قرآن آخرت کی بات کرتا ہے…
کیونکہ اگر مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں… تو پھر آخر میں سب برابر ہو جائیں گے…
ایک ظالم انسان… اور ایک اچھا انسان…
دونوں آخر میں ختم…
تو پھر انصاف کہاں ہوا…؟
اسلام کہتا ہے… نہیں… انسان کی زندگی meaningless نہیں ہے…
ہر چیز کا حساب ہوگا…
سومین خاموشی سے پڑھتا رہا…
پھر تم نے پوچھا تھا… اگر کوئی آخرت پر یقین نہ کرے… تو کیا وہ automatically غلط ہے…؟
دیکھو… اسلام ہر غیر مسلم کو evil نہیں کہتا…
ہر انسان کی اپنی کہانی ہوتی ہے…
کچھ لوگوں کو مذہب غلط انداز میں ملا ہوتا ہے… کچھ لوگ صرف confuse ہوتے ہیں… کچھ emotionally hurt ہوتے ہیں… کچھ سچ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں لیکن اُنہیں clarity نہیں ملتی…
اسلام میں نیت بھی اہم ہے… دل کی حالت بھی…
سومین کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
وہ مزید غور سے پڑھنے لگا…
اصل مسئلہ صرف ‘نہ ماننے’ کا نہیں ہوتا… کبھی کبھی مسئلہ arrogance ہوتا ہے…
یعنی… انسان جان بوجھ کر سچ ignore کرے…
صرف ego کی وجہ سے…
سومین کچھ لمحے خاموش رہا…
پھر اُس نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا…
اب وہ آیت… کہ کچھ لوگ ایمان نہیں لائیں گے…
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ زبردستی کسی کو گمراہ کر دیتا ہے…
بلکہ اگر کوئی انسان بار بار کسی چیز کو ignore کرے… تو آہستہ آہستہ اُس کا دل اُس چیز کے لیے بند ہونے لگتا ہے…
مثلاً… اگر کوئی انسان بار بار جھوٹ بولے… تو ایک وقت کے بعد اُسے جھوٹ غلط محسوس ہونا بند ہو جاتا ہے…
اگر کوئی بار بار ظلم کرے… تو اُس کا دل سخت ہو جاتا ہے…
شروع میں برائی عجیب لگتی ہے… پھر عادت بن جاتی ہے…
قرآن میں ‘دلوں پر مہر’ کا مطلب یہی ہے…
یہ اچانک نہیں ہوتا…
انسان پہلے خود مسلسل انکار کرتا ہے… پھر اُس انکار کا اثر اُس کے دل پر پڑتا ہے…
یعنی choice پہلے انسان کی ہوتی ہے…
مہر بعد میں لگتی ہے…
سومین نے بےاختیار گہری سانس لی…
کمرے میں خاموشی تھی…
باسط کا آخری میسج اب بھی اسکرین پر تھا…
اُمید کرتا ہوں۔۔۔ تمہیں تُمہارے سوالوں کے جواب مل گئے ہوگئیں، لیکن اگر اب بھی کچھ confuse کرے…
تو دوبارہ پوچھ لینا۔۔۔ ابھی تو میں صدف کو یونیورسٹی چھوڑ کر آفیس جارہا ہوں۔۔۔ رات میں آکر تُمہارے سوال کا جواب دے دونگا۔۔۔ اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔۔۔ اللّٰہ حافظ۔۔۔۔
سومین کافی دیر تک فون کو خاموشی سے دیکھتا رہا…
پھر آہستہ سے اُس کی نظریں برابر میں رکھے قرآن پر گئیں…
دل چاہتا ہے دوبارہ اسلام آباد چلا جاؤں۔۔۔
فیس ٹو فیس پڑھنے میں زیادہ صحیح سمجھ آتا ہے۔۔۔
باسط کے بنا تو میں کبھی یہ قرآن سمجھ ہی نہیں پاؤں گا۔۔۔
وہ آہستہ سے بڑبڑایا…
پھر خاموشی سے بیڈ سے نیچے اُترا… کھڑکی کے پردے تھوڑے سے ہٹائے… لاہور کی صبح پوری طرح جاگ چکی تھی… نیچے سڑک پر گاڑیاں چل رہی تھیں…
لوگ جلدی جلدی کہیں جا رہے تھے…
سومین کچھ لمحے وہیں کھڑا باہر دیکھتا رہا…

+++++++++++

بادشاہی کے بعد اُن کا اگلا سفر شروع ہو چکا تھا…
لاہور کی سڑکیں ہمیشہ کی طرح زندہ تھیں…
گاڑیوں کا شور… دور کہیں رکشے والوں کی آوازیں…
اور ہلکی ہلکی شام کی ہوا…
سب گاڑی میں اپنے اپنے انداز میں بیٹھے تھے…
سوہان حسبِ عادت کھانے کی باتیں کر رہا تھا…
تائیجون اُسے چھیڑ رہا تھا… سیونگ فون میں مصروف تھا… جبکہ ہیوک کھڑکی سے باہر شہر کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا… جے کیونگ اور ہان وو آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے
اچانک گاڑی ہلکا سا جھٹکا کھا کر رکی…
سب چونک گئے…
کیا ہوا…؟ جے کیونگ نے پوچھا…
ڈرائیور فوراً نیچے اُترا…
چند لمحے بعد واپس آیا…
سر… ٹائر کا مسئلہ ہے…
پانچ سے دس منٹ لگ جائیں گے… ابھی بدل دیتا ہوں…
تائیجون نے فوراً لمبی سانس لی…
بس… یہی رہ گیا تھا…
منیجر نے اِدھر اُدھر دیکھا…
سامنے ہی ایک پارک ہے…
آپ لوگ چاہیں تو وہاں walk کر لیں… تب تک گاڑی ready ہو جائے گی…
یہ آئیڈیا سب کو ٹھیک لگا…
اور پھر وہ سب آہستہ آہستہ سڑک کنارے چلتے ہوئے پارک کی طرف بڑھنے لگے…
ہلکی شام اتر رہی تھی…
فضا میں مٹی اور گھاس کی ملی جلی خوشبو تھی…
ہیوک سب سے تھوڑا پیچھے چل رہا تھا…
اُسی وقت اچانک…
ایک چھوٹی سی سفید اور بھوری بلی کا بچہ آ کر اُس کے پاؤں سے لپٹ گیا…
ہیوک فوراً رُک گیا…
اوہ…
اُس کے چہرے پر فوراً نرم سی مسکراہٹ آ گئی…
وہ جھک کر اُسے اٹھانے لگا ہی تھا کہ بلی کا بچہ اچانک اُس کے ہاتھ سے پھسل کر بھاگ گیا…
ارے… رُکو تو…
ہیوک بےاختیار اُس کے پیچھے چل پڑا…
بلی کا بچہ تیزی سے ایک تنگ سی گلی میں مڑا…
ہیوک بھی اُسی طرف آ گیا…
اور پھر… اُس کے قدم آہستہ ہو گئے…
سامنے ایک لڑکی بیٹھی تھی…
سیاہ عبایا پہنے… چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا…
ساتھ اُس کا یونیورسٹی بیگ رکھا تھا…
اور اُس کے سامنے دودھ سے بھرا ایک بڑا سا باؤل رکھا تھا… وہ دونوں ہاتھ چہرے کے قریب کیے… بہت پیار سے میاؤں میاؤں کی آوازیں نکال رہی تھی…
بالکل… بلیوں جیسی…
اگلے ہی لمحے…
ادھر اُدھر سے کئی چھوٹے چھوٹے بلی کے بچے بھاگتے ہوئے نکل آئے…
کوئی گاڑی کے نیچے سے… کوئی دیوار کے پیچھے سے…
کوئی ڈبوں کے درمیان سے…
اور سب آ کر دودھ پینے لگے…
لڑکی کی آنکھیں اُن پر جمی ہوئی تھیں…
جیسے…
اُس کے لیے دنیا کا سب سے خوبصورت منظر یہی ہو…
کبھی کوئی بلی کا بچہ رُک جاتا…
تو وہ فوراً دوبارہ میاؤں میاؤں کرتی…
اور وہ پھر دودھ پینے لگتا…
ہیوک چند قدم دور کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا…
اُسے واقعی ایسا لگ رہا تھا… جیسے یہ اِن سب کی ماں ہو… اتنے پیار سے جو میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔۔
اُس کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ آ گئی…
پھر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ آہستہ آہستہ اُس کی طرف بڑھ گیا…
اُس نے عادتاً کورین میں ہیلو کہا…
لڑکی چونک کر اُس کی طرف دیکھنے لگی…
ہیوک کو فوراً احساس ہوا…
اوہ…۔پھر اُس نے جلدی سے انگلش میں کہا…
یہ… آپ کی بلیاں ہیں…؟
لڑکی چند لمحے اُسے دیکھتی رہی…
جی…؟ میرا مطلب… یہ آپ کی pets ہیں…؟
نہیں… اُس نے آہستہ سے سر ہلایا….میں نے آج صبح یونیورسٹی جاتے ہوئے اِنہیں دیکھا تھا…
یہاں گلیوں میں بہت بلیاں گھومتی رہتی ہیں…
شاید کسی کی ہوں گی… یہ بہت چھوٹے تھے…
اور شاید بھوکے بھی… اس لیے میں نے دودھ دے دیا…
پھر اُس نے بہت پیار سے بلیوں کی طرف دیکھا…
بہت پیارے ہیں نا…؟
ہیوک نے فوراً سر ہلایا….ہاں… بہت…
لڑکی ہلکا سا ہنس دی….آپ کا بھی دل آ گیا نا…؟
ہیوک بےاختیار مسکرایا… ہاں… واقعی… میرا بھی دل آ گیا…
لڑکی نے خوشی سے کہا… ہے ہی اتنے پیارے….کسی کا بھی دل آ جائے…
ہیوک نے بلی کے ایک بچے کو دیکھتے ہوئے کہا…
اور اِن کی آوازیں بھی بہت کیوٹ ہیں… ہے نا…؟
وہ فوراً بولی… اتنی پیار سے “میاؤں میاؤں” کرتے ہیں…
ہیوک ہلکا سا ہنس دیا…
چند ہی لمحوں بعد باؤل کا دودھ ختم ہو گیا…
اور پھر وہ سارے بلی کے بچے جیسے آئے تھے… ویسے ہی بھاگ گئے…
کوئی گاڑی کے نیچے… کوئی دیوار کے پیچھے…
لڑکی نے آہستہ سے باؤل اٹھایا… چلیں… اب میں بھی چلتی ہوں… وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی… اور عبایا ٹھیک کرنے لگی…
ہیوک نے فوراً کہا… اپنا نام تو بتاتی جائیں…؟
لڑکی کے ہاتھ ایک لمحے کو رُک گئے… پھر اُس نے پہلی بار اُسے اوپر سے نیچے تک غور سے دیکھا…
اور اچانک اُسے احساس ہوا… وہ اتنی دیر سے ایک اجنبی لڑکے سے بات کر رہی تھی…
اوہو… ماہم پاگل… تیرے میں عقل کب آئے گی…
وہ بےاختیار خود سے اردو میں بڑبڑائی…
ہیوک فوراً الجھ گیا… جی…؟
پھر لڑکی کے منہ سے اچانک نکل گیا…
آپ کون ہو…؟
ہیوک کچھ سمجھا ہی نہیں…
آپ نے کیا کہا…؟
لڑکی کو فوراً احساس ہوا کہ وہ غلطی سے اردو بول گئی ہے…
پھر اُس نے جلدی سے انگلش میں پوچھا…
آپ کو اردو نہیں آتی…؟
ہیوک نے فوراً سر ہلایا…
نو نو۔۔۔ آئی ایم tourist۔۔۔
اوہ۔۔
لڑکی کے دل کو تھوڑا سکون آیا… اچھا…
یعنی یہ محلے کا کوئی آوارہ لڑکا نہیں تھا…
وہ چند لمحے سوچتی رہی… پھر آہستہ سے بولی…
ماہم…
ہیوک نے دھیرے سے دہرایا…
ماہم…
پھر لڑکی نے بیگ کندھے پر ڈالا…
اب میں چلتی ہوں… مجھے گھر بھی جانا ہے…
اور وہ مڑ گئی…
ہیوک چند لمحے وہیں کھڑا اُسے جاتا دیکھتا رہا…
ماہم…
وہ بہت آہستہ سے خود ہی اُس کا نام دوبارہ بول گیا…
تبھی پیچھے سے منیجر کی آواز آئی…
سر…! سر…!
ہیوک چونک کر مُڑا…
منیجر تیزی سے اُس کی طرف آ رہا تھا…
سر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں…؟ سب لوگ پارک پہنچ بھی گئے۔۔
ہیوک نے فوراً خود کو سنبھالا… آ… آ رہا ہوں…
وہ جلدی سے منیجر کے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔
ایک لمحے کو اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا…
ماہم اب وہاں نہیں تھی…
ہیوک نے نہ جانے کیوں…۔بےاختیار ہلکی سی سانس لی…
پھر منیجر کے ساتھ پارک کی طرف چل دیا…

++++++++++++++

پارک میں پہنچتے ہی سب کے موڈ کافی اچھے ہوگئے تھے۔
کچھ دیر سب پارک میں اِدھر اُدھر گھومتے رہے… کوئی تصویریں لے رہا تھا… کوئی درختوں کے پاس کھڑا باتیں کر رہا تھا…
پھر نہ جانے کس نے اچانک فٹ بال نکال لی… اور اگلے ہی لمحے سب میدان کے بیچوں بیچ کھڑے تھے۔
اوئے پاس دے…!
ادھر… ادھر…!
چیٹنگ نہ کر…!
پارک میں اُن کی آوازیں گونجنے لگیں۔
سوہان ہنستے ہوئے ایک طرف کھڑا تھا جبکہ سومین بینچ کے پاس کھڑے ہو کر سب کو دیکھ رہا تھا۔
ہیوک کبھی کھیلتا… کبھی ہنس کر ایک طرف ہٹ جاتا۔
اور دوسری طرف…
بال مجھے دو… تم لوگوں سے کچھ نہیں ہوتا…
جے کیونگ اکڑ کر بولا۔
ہاں ہاں جیسے میسی تمہارے چچا ہیں…
تائیجون نے طنزیہ انداز میں کہا تو سب ہنس پڑے۔
جلتے ہو مجھ سے…
جے کیونگ نے بال پاؤں میں گھماتے ہوئے کہا… پھر اگلے ہی لمحے پوری طاقت سے کِک مار دی۔
بال ہوا میں بہت دور جا گری۔
چند سیکنڈ کے لیے سب خاموش ہوگئے۔
پھر تائیجون نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے۔
اب جا لے کر آ… یہ تیرا اسٹیڈیم نہیں ہے جو اتنی زور کی شاٹ مار رہا ہے…
جے کیونگ فوراً بولا۔ میں نہیں جا رہا۔
سوہان نے بےرحمی سے کہا۔
جس نے کِک ماری ہے وہی جائے گا۔ ہم اتنی دور نہیں جا رہے۔
جے کیونگ نے منہ بنایا… پھر پاس کھڑے گارڈ کی طرف اشارہ کیا۔
اِن سے کہو نا… اوئے… جا بال لے کر آ…
رین یون نے فوراً اُسے گھورا۔
یہ اِن کا کام نہیں ہے۔
پِھر سیونگ بولا۔۔ بدتمیزی کی بھی حد ہوتی ہے… میں لے آتا ہوں…
وہ آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ سومین نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
امی جی… اتنا پریشان نہیں ہوتے… بچے کو کبھی خود بھی کچھ کرنے دیا کریں…
سیونگ نے فوراً گھور کر دیکھا۔
ایک لگاؤں گا ابھی…
سب زور سے ہنس پڑے۔
جے کیونگ نے چڑ کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
دفع ہو بدتمیز سب… میں ہی جا رہا ہوں…
وہ بڑبڑاتا ہوا بال لینے چل پڑا۔
چند قدم بعد بھی اُس کی آوازیں آرہی تھیں۔
پاگل لوگ… اتنی دور کیوں ماری میں نے…؟
سوہان نے فوراً آواز لگائی۔
کیونکہ عقل نہیں ہے تم میں۔۔۔
چپ رہ۔۔۔
جے کیونگ نے پیچھے مڑے بغیر ہاتھ ہلا کر کہا۔
سب دوبارہ ہنسنے لگے۔
چلتے چلتے جب وہ اُس جگہ پہنچا جہاں بال گری تھی…
تو اُس کے قدم اچانک آہستہ پڑ گئے۔
بال کے قریب ہی ایک لڑکی بیٹھی تھی۔
وہ ایک بڑی سی چادر پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی…
نیلے رنگ کا فراک تھا یا عبایا وہ اُسے سمجھا نہیں آیا۔۔ اُس کا چہرا بھی نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔۔ ہاتھ میں موٹی سی کتاب پکڑی ہوئی تھی… اور وہ اُسے پڑھنے میں اِتنی مگن تھی… کہ شاید اُسے احساس تک نہیں ہوا تھا کہ بال اُس کے قدموں کے پاس آ کر رکی ہے۔۔۔

جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا…
پھر آواز دی۔
Excuse me… hi?
کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔
وہ اب بھی کتاب میں گم تھی۔
آپ کیا پڑھ رہی ہیں…؟ اُس نے انگریزی میں، بال مانگنے کی جگہ یہ پوچھا۔۔ کیوں کہ اُسے بال سے زیادہ ہے جاننے می انٹریسٹ تھا کہ وہ کونسی کتاب پڑھ رہی ہے۔۔۔ نام بھی اُس کا اردو میں لکھا تھا، انگلش میں لکھا ہوتا تو شاید وہ پڑھ پاتا۔۔۔ شاید وہ پہلی لڑکی تھی، جس سے جے کیونگ کا دل کو رہا تھا بات کرنے کا۔۔۔
پھر بھی خاموشی۔
جے کیونگ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
ارے اتنا بھی کیا اٹیٹیوڈ… بندہ سوال کا جواب ہی دے دیتا ہے…
اب بھی اُس لڑکی نے کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
جے کیونگ کو ایک دم غصّہ آیا۔۔۔ اُس نے جھنجھلا کر خود ہی آگے بڑھا اور بال اٹھانے لگا…
تبھی اچانک لڑکی نے غصے سے اُسے گھورا…
اور ہاتھ میں پکڑی کتاب سیدھی اُس کے ہاتھ پر مار دی۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟
جے کیونگ چونک گیا۔
بدتمیزی؟؟
ہاں بدتمیزی۔۔۔
میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی… ہاں آپ کر رہی ہیں…
اوہ ہیلو مسٹر… پیچھے مُڑو اور چلتے بنو…

Excuse me??

Excuse rejected. Now turn around and disappear.

جے کیونگ نے بےاختیار دانت بھینچے۔
مجھ سے زیادہ بدتمیزی نہ کریں… مجھے میری بال دیں… پھر جو مرضی کریں…
پہلے تمیز سے بات کرنا سیکھیں… لڑکی نے ٹھنڈے لہجے میں بال اپنی طرف کرتے ہوئے کہا۔
جے کیونگ نے گہری سانس لی۔ جبڑا سختی سے بھینچ گیا۔
دیکھیں… میرا already mood خراب ہے… اس لیے میری بال دیں اور مجھے مزید irritate مت کریں…
لڑکی نے فوراً جواب دیا۔
آپ کی بال؟؟ یہ میری بال ہے…
جے کیونگ نے اُس کے ہاتھ میں پکڑی کتاب کی طرف دیکھا… پھر اُسے گھورا۔
کتاب پڑھنا اچھی بات ہے… لیکن اتنا بھی نہیں کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے اُس کا ہوش ہی نہ رہے… یہ میری بال ہے… میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا… ایک کِک کی وجہ سے یہ یہاں آگئی… اگر آپ کو ہوش ہوتا تو پتا ہوتا…
میں کیسے مان لوں؟ وہ فوراً بولی۔
دیکھیں مجھے غصہ مت دلائیں… جے کیونگ نے اب واضح جھنجھلاہٹ سے کہا۔ میں نے کہا نا یہ میری بال ہے… مجھے دیں… کُچھ دیر پہلے وہ اس لڑکی کو دیکھتے ہی attracted ہوا، اب جب اس سے بات کر رہا تھا تو اُسے مزید غصّہ آرہا تھا۔۔۔
اُس نے فوراً پیچھے اشارہ کیا…
جہاں اُس کے دوست اب بھی اُن دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہاں اُن کے ساتھ کھیل رہا تھا میں… وہیں سے بال یہاں آئی ہے…
تبھی دور سے تائیجون کی آواز آئی۔
اوئے! لے کر بھی آ اب بال۔۔۔
لڑکی نے ایک لمحے کے لیے اُن سب کی طرف دیکھا…
پھر دوبارہ جے کیونگ کو گھورا۔
فرینڈز ہونے سے پروف نہیں مل جاتا…
جے کیونگ کا صبر اب تقریباً ختم ہو چکا تھا۔
وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ لڑکی نے اچانک بال اٹھا کر اُس کی طرف بڑھا دی۔
مجھے آپ سے مزید argue نہیں کرنا… آپ کا ہو یا نہ ہو… لے جائیں…
جے کیونگ نے اُسے عجیب نظروں سے دیکھا۔
عجیب لڑکی ہیں آپ…
اور آپ بدتمیز…
دوبارہ بدتمیز
وہ پریشان ہو کر بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔ آپ کو اور کوئی word نہیں آتا؟
آپ کو تمیز نہیں آتی…
چند لمحوں تک دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
ہوا سے اُس لڑکی کی کتاب کے صفحات ہلکے ہلکے ہل رہے تھے…
پھر جے کیونگ نے اچانک اُس کے ہاتھ سے بال زور سے کھینچی۔
تھینک. کہے واپس مُڑ گیا…
لیکن جاتے ہوئے بھی…
اُسے عجیب طرح سے محسوس ہو رہا تھا…
وہ لڑکی واقعی عجیب تھی… بہت عجیب ۔۔۔۔
جیسے ہی جے کیونگ واپس پلٹا… اُس کے قدموں میں عجیب سی جھنجھلاہٹ تھی…
اور چہرے پر صاف لکھا تھا کہ اُس کا موڈ بری طرح خراب ہو چکا ہے…
دور کھڑے باقی سب اُسے ہی دیکھ رہے تھے…
تائیجون نے جیسے ہی اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھے…  بال لینے گیا تھا یا لڑکی سے بکواس کرنے گیا تھا۔۔۔
سوہان نے فوراً دلچسپی سے پوچھا۔
کیا ہوا؟؟ اتنی دیر کیوں لگا دی؟
جے کیونگ نے قریب آتے ہی بال زور سے سوہان کی طرف اچھالی۔ ابے وہ بدتمیز لڑکی تھی… ہنہ… بال ہی نہیں دے رہی تھی…
ہان وو نے حیرت سے پوچھا، کیوں؟
کہتی ہے میری بال ہے… جے کیونگ نے منہ بنایا۔
سومین ہلکا سا ہنسا۔ لو… اُس نے دیکھا نہیں تھا کیا؟
نہیں… جے کیونگ جھنجھلا کر بولا۔ میڈم پوری کتاب کے اندر ڈوبی ہوئی تھی… آس پاس کیا ہو رہا ہے… کوئی ہوش ہی نہیں…
سیونگ نے سر ہلاتے ہوئے بات ختم کی۔
چلو چھوڑو بھی… بال مل گئی نا؟ اب کھیلنا شروع کرو…
ہاں بس…
رین یون نے بال اٹھاتے ہوئے کہا۔
ورنہ آج پورا دن جے کیونگ اُس لڑکی کے بدلے ہمیں ہی سنتے رہیں گے…
دفع ہو… جے کیونگ نے فوراً اُسے گھورا۔
سب دوبارہ ہنس پڑے…
چند ہی لمحوں بعد کھیل دوبارہ شروع ہوگیا…
پارک میں شور… قہقہے… اور فٹ بال کی آوازیں دوبارہ گونجنے لگیں…
لیکن کھیلتے کھیلتے بھی…
جے کیونگ کی نظریں کبھی کبھار بےاختیار اُس طرف اٹھ جاتی تھیں… وہ بہت دور تھی لیکن پھر بھی اُسے یہاں سے صاف نظر آرہی تھی۔۔۔
اور ہر بار… وہی منظر نظر آتا…
وہ لڑکی اب بھی خاموشی سے چادر پر بیٹھی تھی…
ہوا اُس کے نقاب کے کنارے کو ہلکا سا ہلا رہی تھی…
اور اُس کی ساری توجہ اب بھی کتاب پر تھی…
جیسے ابھی کچھ دیر پہلے کسی سے بحث ہوئی ہی نہ ہو…
جے کیونگ نے بےاختیار بھنویں سکیڑیں۔
عجیب لڑکی ہے…
وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا…
آخر اُسے بار بار اُس طرف دیکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی تھی…؟
پھر جانے کیوں… اُس کے ذہن میں دوبارہ وہی منظر آگیا…
فرینڈز ہونے سے پروف نہیں مل جاتا۔۔۔
جے کیونگ نے بےاختیار زبان سے ٹاسک کی آواز نکالی… جیسے خود ہی خود کو اریتیڈ کر رہا ہو۔
اب کیا ہوا؟ تائیجون نے فوراً پوچھا۔
کچھ نہیں… وہ جھٹ سے بولا اور دوبارہ فٹ بال کھیلنے لگا…
کچھ دیر بعد مینیجر تیز قدموں سے اُن کی طرف آیا۔
سر… گاڑی ٹھیک ہوگئی ہے…
سب کی توجہ فوراً اُس کی طرف ہوگئی۔
تائیجون نے فٹ بال اٹھائی جبکہ سوہان نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا،
فینالی… یہاں کی گرمی نے تو جان لے لی تھی…
رین یون ہلکا سا ہنسا۔
گرمی نہیں… تم لوگ خود تھک گئے ہو…
سب آہستہ آہستہ پارک کے باہر کی طرف بڑھنے لگے…
جے کیونگ بھی اُن کے ساتھ چل رہا تھا… مگر اُس کے قدم باقی سب سے ذرا سست تھے…
ایک لمحے کے لیے اُس نے بےاختیار پیچھے مڑ کر دیکھا…
وہی لڑکی اب بھی چادر پر بیٹھی تھی…
کتاب اب بھی اُس کے ہاتھ میں تھی… اور وہ پوری دنیا سے بےنیاز خاموشی سے پڑھ رہی تھی…
جے کیونگ کی نظریں چند سیکنڈ اُس پر ٹکی رہیں۔
یار چل بھی…
تائیجون کی آواز پر وہ چونکا۔
ہاں آرہا ہوں…
وہ دوبارہ چلنے لگا… مگر چند قدم بعد اُس نے اچانک بھنویں سکیڑیں۔
اِس لڑکی کا مسئلہ کیا تھا…؟
سوہان نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔
کون لڑکی…؟
وہی… عجیب سی… کتاب لے کر بیٹھی تھی…
تائیجون فوراً ہنس پڑا۔
اوہ ہو… ابھی تک اُسی کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
میں کیوں سوچوں گا اُس کے بارے میں؟
جے کیونگ نے فوراً خفگی سے کہا۔
تو پھر خود ہی اُس کا ذکر کیوں چھیڑا؟
سوہان نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
جے کیونگ نے فوراً نظریں چرا لیں۔
بس ایسے ہی… اتنا attitude تھا جیسے پارک اُس کے باپ کا ہو…
تائیجون قہقہہ مار کر ہنسا۔ اور تُو کون سا کم تھا؟ ہم تُجھے بھی اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔
اُس نے پہلے بدتمیزی کی تھی…
سوہان اور تائیجون ایک ساتھ بولے، ہمیں یقین نہیں ہے۔۔۔
دفع ہو…
دونوں ہنسنے لگے جبکہ جے کیونگ چِڑ کر آگے بڑھ گیا۔

+++++++++++++++

گھوم پھر کر جب وہ لوگ رات میں ہوٹل پہنچے…
تو سب کی حالت بری ہو چکی تھی…
پورا دن سفر… گھومنا… شور شرابا…
اب ہر کوئی صرف بستر پر گرنا چاہتا تھا…
سب ایک دوسرے کو جلدی جلدی good night کہتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے…
جے کیونگ بھی تھکا ہوا سیدھا بیڈ پر آ کر گرا…
مگر جیسے ہی اُس نے جیب میں ہاتھ ڈالا… اُس کی بھنویں فوراً سکڑ گئیں۔
میرا فون کہاں ہے…؟
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا… پھر بیڈ، تکیے اور کمبل کے آس پاس دیکھنے لگا۔
ہان وو… میرا فون دیکھا کیا تُو نے…؟
ہان وو جو پہلے ہی آدھا لیٹا ہوا تھا، بغیر اُس کی طرف دیکھے بولا، نہیں…
مل نہیں رہا…
ہان وو نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ سب سے جا کر پوچھ کے آ… کسی کے پاس رکھوایا ہوگا…
جے کیونگ نے جھنجھلا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
ہاں… دیکھتا ہوں…
وہ فوراً کمرے سے باہر نکل گیا۔
سب سے پہلے وہ رین یون کے کمرے میں گیا۔
دروازہ کھولتے ہی بولا،
میرا فون کہاں ہے…؟
رین یون نے سکون سے جواب دیا،
اوہ… وہ؟ میں نے مینیجر کو دے دیا تھا…
جے کیونگ فوراً رک گیا۔
مینیجر کو کیوں دیا…؟ وہ ہمارا سگا تھوڑی ہے…
رین یون کچھ کہتا اُس سے پہلے ہی جے کیونگ مڑ کر تیز قدموں سے مینیجر کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جیسے ہی اُس نے دروازہ نوک کیا…
تو دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا…
اندر مینیجر فون پر بات کرنے میں مصروف تھا…
جے کیونگ پہلے تو اندر جانے ہی والا تھا…
مگر اگلے ہی لمحے اُس کے قدم رک گئے…
کیونکہ مینیجر کی آواز صاف اُس کے کانوں میں پڑی۔
جی سر… یہاں سب اوکے ہے… میں نے پوری نظر رکھی ہوئی ہے… کچھ بھی گڑبڑ نہیں ہے… ابھی لاہور میں ہیں ہم… اِس کے بعد کراچی کا ٹرپ ہے…
جے کیونگ کی آنکھیں فوراً سکڑ گئیں۔
وہ خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑا سننے لگا۔
جی… جی… میں ساری اپڈیٹ دیتا رہوں گا…
کال ختم ہوتے ہی جے کیونگ کے ذہن میں جیسے سب کچھ ایک ساتھ کنیکٹ ہوگیا…
اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
یہ… کسی کو ہماری انفارمیشن دے رہا ہے…
اگلے ہی لمحے وہ غصے میں سیدھا اندر گھسا اور مینیجر کا کالر پکڑ لیا۔
جھوٹ بولتے ہو ہم سے…؟!
مینیجر بری طرح گھبرا گیا۔
سر کیا ہوا ہے؟!
تم تو ٹرپ کے منیجر تھے نا؟!
جے کیونگ غصے سے اُس پر چلایا۔
تو پھر یہ کس کو انفارمیشن دے رہے تھے؟!
اُس کی گرفت کالر پر اور سخت ہوگئی۔
بول۔۔۔۔
مینیجر کے چہرے پر واضح خوف آ گیا۔
سر آپ غلط سمجھ رہے ہیں،
Then explain۔۔
جے کیونگ تقریباً چیخا۔
اور اگلے لمحے ہان وو، رین یون اور باقی سب تیزی سے اندر آئے…
اؤئے! جے-کے چھوڑ اُسے۔۔۔
ہان وو فوراً آگے بڑھا۔
مگر جے کیونگ کا غصہ اب قابو سے باہر ہو رہا تھا…
یہ ہم پر نظر رکھ رہا ہے… کیوں؟! مینیجر کا تو ہم نے منع کر دیا تھا نا…
اُس کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔
مینیجر واضح طور پر بری طرح گھبرا چکا تھا۔
سر پلیز میری بات سنیں۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔ جے کیونگ غصے سے چلایا۔ مُجھے بےوقوف سمجھ رکھا ہے تم نے؟!
وہ غصے میں جیسے ہی ہاتھ اٹھانے لگا…
جے کیونگ۔۔۔
ہان وو فوراً آگے بڑھا اور اُس کا بازو پکڑ لیا۔
اسی وقت رین یون اور تائیجون نے بھی اُسے پیچھے کھینچا۔
چھوڑو مجھے۔۔۔ جے کیونگ بری طرح جھٹکنے لگا۔
جب ہم نے مینیجر کے لیے مانا کردیا تھا تو یہ پھر۔۔۔۔ہمارے ساتھ کیسے آیا۔۔۔۔اوپر سے جھوٹ بولا ۔۔۔
پاگل ہو گیا ہے کیا؟! رین یون نے سختی سے کہا۔
ہوٹل میں scene create مت کرو۔۔۔
اسے سے پوچھو ہم سے جھوٹ کیوں بولا اس نے۔۔۔۔۔ جے کیونگ پھر غصے سے مینیجر کی طرف بڑھنے لگا مگر اِس بار تینوں نے مل کر اُسے مضبوطی سے روک لیا۔
تائیجون نے بمشکل اُسے پیچھے کھینچا۔
یار پہلے سکون سے بات تو سن لے۔۔۔
مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔
ہان وو نے جھنجھلا کر اُس کے کندھے کو زور سے پکڑا۔
بس کر اب۔۔۔
چند لمحوں تک کمرے میں صرف جے کیونگ کی بھاری سانسوں کی آواز گونجتی رہی…
مینیجر دیوار کے ساتھ کھڑا واضح طور پر خوفزدہ لگ رہا تھا۔
رین یون نے ایک گہری سانس لی پھر جے کیونگ کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے دروازے کی طرف لے جانے لگا۔
چل باہر…
میں نہیں جا رہا۔۔۔
تو کیا واقعی مارے گا اُسے؟!
ہان وو نے سخت لہجے میں کہا۔
جے کیونگ خاموش ہوگیا… مگر اُس کی آنکھوں میں غصہ اب بھی بھڑک رہا تھا۔
آخرکار تینوں اُسے زبردستی کمرے سے باہر لے آئے…
رین یون کے کمرے میں آتے ہی جے کیونگ نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا۔
Don’t touch me…
وہ غصے سے دیوار پر مکا مار کر کھڑا ہوگیا۔
مجھے پہلے ہی شک تھا…
سب چند لمحے خاموش رہے،
جے کیونگ غصے سے اِدھر اُدھر چل رہا تھا…
اُس کے چہرے پر واضح frustration تھی…
تم نے خود کہا تھا نا…
کوئی مینیجر ہمارے ساتھ نہیں جائے گا…
وہ غصے سے رین یون کی طرف مُڑا۔
اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ ٹرپ والوں کا مینیجر ہے…
تو پھر یہ کمپنی کے سی ای او کو ہماری انفارمیشن کیوں دے رہا تھا؟!
اگلے ہی لمحے اُس نے زور سے اپنا ہاتھ سامنے رکھی میز پر مارا۔
کیا کوئی قیدی ہوں میں…؟! اُس کی آواز بھاری ہوگئی تھی۔ یا کسی کا غلام ہوں میں…؟
یہ لوگ اتنی نظر کیوں رکھتے ہیں ہم پر؟!
سب خاموشی سے اُسے دیکھ رہے تھے…
کیونکہ وہ جانتے تھے… یہ غصہ صرف آج کا نہیں تھا…
یہ برسوں کی گھٹن تھی…
کیوں ہر چیز میں ہماری نہیں… اُن کی چوائس چلتی ہے؟! کپڑے کیا پہننے ہیں… کہاں جانا ہے… کیا کھانا ہے… کس انٹرویو میں کیا بولنا ہے…
اُس نے جھنجھلا کر بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
يہاں تک کہ اپنی فیملی سے کب ملنا ہے یہ بھی وہ decide کرتے ہیں…
جے کیونگ کی آواز اب مزید کڑوی ہوتی جا رہی تھی۔
ریلیشن شپ میں کب جانا ہے… جانا بھی ہے یا نہیں…
اپنے دوستوں سے ملنا ہے یہ نہیں۔۔۔ انسٹاگرام پر کیا پوسٹ کرنا ہے کیا نہیں۔۔۔
اُس نے غصے سے دیوار کی طرف دیکھا۔
ہم کسی انجان بندے سے زیادہ بات نہیں کر سکتے…
اکیلے کہیں نہیں جا سکتے… کِسی سے مل نہیں سکتے کِسی سے کھول کر بات نہیں کرسکتے۔۔
تائیجون نے آہستہ سے کہا،
جے کیونگ…
مگر وہ رکا نہیں۔
فون تک چیک ہوتے ہیں ہمارے…
social media controlled…
۔live میں کیا بولنا ہے وہ scripted…
وزن بڑھ جائے تو punishment…
۔dating کرو تو apology…
وہ چند لمحے خاموش ہوا… پھر آہستہ مگر بھرائی ہوئی آواز میں بولا،
یہ کیسی زندگی ہے…؟
کسی کے پاس اُس سوال کا جواب نہیں تھا… کیوں کہ صرف جے کیونگ نہیں سب ہی اس کیفیت سے گزر رہے تھے۔۔۔
جے کیونگ نے غصے سے ایک اور لمبی سانس لی… پھر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
اور اب جب چند دن کی چھٹی ملتی ہے…
وہ تلخ لہجے میں بولا،
اُس میں بھی یہ لوگ گھس آتے ہیں… تنگ آ گیا ہوں میں اِن سب سے…
ہان وو خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا…
صبح سے رات تک schedule…
practice…
diet…
camera…
smile…
اور پھر لوگ کہتے ہیں idols کی life perfect ہوتی ہے…
لعنت ہی اسی زندگی پر۔۔۔ ایسے fame پر۔۔۔ جہاں انسان کا اپنا کُچھ نہیں رہے، سب دکھاؤ سب fake۔۔
رین یون نے دھیرے سے کہا،
ہر چیز کے ساتھ کچھ price بھی آتی ہے…
Price…?
جے کیونگ فوراً اُس کی طرف مُڑا۔
یہ price نہیں ہے… یہ suffocation ہے…
اُس کی آواز میں اب غصے سے زیادہ تھکن تھی۔
کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میری اپنی کوئی زندگی ہی نہیں… جیسے میں تو کچھ ہوں ہی نہیں۔۔۔ میری تو کوئی مرضی ہی نہیں ہے۔۔ جیسے میں کوئی روبوٹ ہوں۔۔ ایسے میرا دم گھستا ہے۔۔ سانس نہیں آتی مُجھے۔۔۔
رین یون نے آخرکار جھنجھلا کر کہا،
اتنا کیوں چیخ رہے ہو…؟ اِن سب rules کے باوجود بھی تو تم rules توڑ ہی دیتے ہو…
جے کیونگ نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
ہاں۔۔۔ کیونکہ مجھے اپنی زندگی میں کسی اور کا control پسند نہیں۔۔۔
اُس کی آواز اب بھی غصے سے بھری ہوئی تھی۔
اور اب جب اِن لوگوں نے جھوٹ بولا ہے… تو سزا بھی اِنہیں ہی ملے گی…
یہ کہتے ہوئے اُس نے فوراً اپنی جیب سے فون نکالا۔
ہان وو کی آنکھیں فوراً پھیل گئیں۔
کیا کر رہا ہے تُو؟
مگر جے کیونگ تیزی سے اسکرین کھول چکا تھا۔
ابھی social media پر سب ڈال دیتا ہوں…
پاگل ہو گیا ہے؟!
تائیجون فوراً اُس کی طرف لپکا۔
جے کیونگ پہلے ہی اپنی تصویر upload کرنے لگا تھا…
Let them handle the mess۔۔
جے-کے stop۔۔۔
اگلے ہی لمحے سب جلدی جلدی اُس سے فون چھیننے کی کوشش کرنے لگے۔
کمرے میں ایک عجیب افراتفری مچ گئی۔
فون نیچے رکھ۔۔
ڈیلیٹ کر۔۔
اُسی دھکم پیل میں فون جے کیونگ کے ہاتھ سے پھسل کر دوسری طرف جا گرا۔
رین یون فوراً فون اٹھایا۔
اسکرین کھلی ہوئی تھی…
اور post upload ہو چکی تھی…
اوہ نہیں…
رین یون گھبراہٹ میں جلدی جلدی options دبانے لگا۔
ڈیلیٹ… ڈیلیٹ کہاں ہے۔۔۔
مگر اگلے ہی سیکنڈ اُس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
سب فوراً اُس کی طرف دیکھنے لگے۔
کیا ہوا؟
ہان وو نے بےچینی سے پوچھا۔
رین یون نے آہستہ سے اسکرین اُن کی طرف کی۔
…میں نے غلطی سے پورا account delete کر دیا…
چند سیکنڈ کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔
WHAT?!
تائیجون تقریباً چیخا۔
جے کیونگ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
رین یون نے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا۔
میں panic میں تھا okay?!
تم پاگل ہو؟!
پاگل تو تم ہو۔۔۔
رین یون بھی آخرکار پھٹ پڑا۔
تمہارا دماغ کام نہیں کر رہا؟!
وہ غصے سے جے کیونگ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
تمہاری اِنہی حرکتوں کی وجہ سے… میں نے ہی تُم سے بھی اور تُم سب سے بھی جھوٹ بولا تھا۔۔۔
یہ سنتے ہی سب اچانک خاموش ہوگئے۔
جے کیونگ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
…کیا؟
رین یون نے ایک گہری سانس لی…
پھر آہستہ سے بولا،
مینیجر نے کوئی جھوٹ نہیں بولا…
اُس کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ تھی۔
جھوٹ میں نے بولا تھا…
سب کی نظریں فوراً اُس پر جم گئیں۔
میں نے تم لوگوں سے کہا تھا نا…
کہ کمپنی مان گئی ہے اور کوئی مینیجر ساتھ نہیں آئے گا…
لیکن سچ یہ ہے… اُس نے دھیرے سے نظریں جھکا لیں۔
وہ کبھی مانے ہی نہیں تھے… میں نے تم سب سے جھوٹ بولا… رین یون نے آہستہ سے کہا۔ کہ یہ ٹرپ والے مینیجر ہیں… کمپنی کے نہیں… حالانکہ یہ مینیجر… اور سکیورٹی… سب کمپنی کی طرف سے ہی ہیں…
یہ سنتے ہی جیسے سب کے چہروں کے رنگ بدل گئے۔
سی ای او نے صاف کہا تھا… ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا…
ہان وو نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد آخر پوچھ ہی لیا،
لیکن… ہم سے جھوٹ کیوں بولا۔۔۔
رین یون نے تھکے ہوئے انداز میں اپنی گردن دیوار سے ٹکا دی۔
کیونکہ اگر میں تم سب سے جھوٹ نہ بولتا…
وہ آہستہ سے بولا،
تو کیا تم لوگ اتنی خوشی خوشی یہاں تک آتے…؟
کسی نے جواب نہیں دیا۔
رین یون کی نظریں سیدھی جے کیونگ پر گئیں۔
جےکیونگ نے تو پہلے ہی منع کر دیا تھا…
جے کیونگ خاموش بیٹھا رہا۔
اور تم سب…
رین یون دھیرے سے بولا،
ہر بار کی طرح یہ والی چھٹیاں بھی dorm یا گھر میں بیٹھ کر گزار دیتے…
اب سب خاموش بیٹھے ایک دوسرے کے چہرے دیکھ رہے تھے…
کچھ لمحے پہلے تک جے کیونگ غصے سے بھرا ہوا تھا…
مگر اب… وہ خاموش بیٹھا تھا۔
سر جھکا ہوا… اور نظریں کہیں زمین پر جمی ہوئی تھیں۔
چند لمحوں بعد تائیجون نے ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
ویسے… وہ آہستہ سے بولا،
۔account delete ہونے پر کمپنی پہلے ہمیں مارے گی یا جے کیونگ کو…؟
چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد…
سوہان ہلکا سا ہنس دیا۔
سوہان نے فوراً اُس کے بازو پر مارا۔
یہ ہنسنے والی بات ہے؟
نہیں… مگر اب روئیں کیا؟
سومین نے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا۔
صبح ہونے دو… پھر پتا چلے گا کمپنی ہمیں زندہ چھوڑتی بھی ہے یا نہیں…
اس بات پر بھی کوئی سیدھی طرح نہیں ہنسا…
بس سب کے چہروں پر ہلکی سی بےبسی آ گئی…
اور جے کیونگ… وہ اب بھی خاموش بیٹھا تھا…
جیسے اُس کے اندر بہت شور ہو… مگر باہر نکلنے کی ہمت نہ بچی ہو…

++++++++++++++

سب رین یون کے روم میں ہی موجود تھے…
کمرے میں عجیب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی…
کوئی صوفے پر بیٹھا تھا… کوئی نیچے قالین پر ٹیک لگائے خاموش تھا… اور کوئی تھکن سے بےحال بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا تھا…
جے کیونگ دروازے کے پاس کھڑا تھا…
بازو سینے پر بندھے ہوئے… جبڑا سختی سے بھنچا ہوا…
اور نظریں کہیں خالی سی جمی ہوئی تھیں…
کچھ دیر تک صرف اے سی کی ہلکی آواز سنائی دیتی رہی…
پھر اچانک جے کیونگ نے خاموشی سے دروازہ کھولا۔
سومین فوراً چونکا۔
کہاں جا رہا ہے…؟
مگر جے کیونگ نے جواب نہیں دیا…
بس خاموشی سے باہر نکل گیا۔
اوئے۔۔۔ تائیجون فوراً اٹھا اور اُس کے پیچھے بھاگا۔
رین یون نے سنجیدگی سے اُسے روکا۔
کچھ کہنا نہیں اُسے…
تائیجون رکا اور اُس کی طرف دیکھا۔
رین یون نے دھیمی آواز میں کہا،
بس اُس کے پیچھے پیچھے رہنا… دھیان رکھنا اُس کا…
تائیجون نے خاموشی سے سر ہلایا… اور پھر جلدی سے روم سے باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہوتے ہی کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
رین یون نے گہری سانس لی اور باقی سب کی طرف دیکھا۔
اور کسی کو جانے کی ضرورت نہیں ہے… سب اپنے اپنے روم میں جاؤ…اور سوجاؤ۔۔۔
ہیوک تھکے ہوئے انداز میں صوفے سے ٹیک لگا کر بولا،
اب لگتا ہے نیند آئے گی…
ہان وو بولا۔۔ یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے… ہم سب جانتے ہیں جے-کے کو تھوڑا سا سر پھرا ہے… صبح تک ٹھیک ہوجائے گا۔۔
سیونگ نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں… جب تک ہم ساتھ ہیں… محفوظ ہیں…
یہ سن کر سب کے چہروں پر ہلکی سی خاموش مسکراہٹ آگئی…
جیسے تھکن کے درمیان کسی نے تھوڑا سا سکون رکھ دیا ہو…
پھر آہستہ آہستہ سب اٹھنے لگے…
کوئی جمائی لیتا ہوا… کوئی فون اٹھاتا ہوا… کوئی خاموشی سے اپنے خیالات میں گم…
اور پھر ایک ایک کر کے سب اپنے اپنے کمروں کی طرف چلے گئے…

+++++++++++++++

ہوٹل کی لمبی راہداری اس وقت تقریباً سنسان تھی…
صرف ہلکی پیلی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔۔
جے کیونگ تیز قدموں سے چلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا…
چہرہ اب بھی سخت تھا… مگر آنکھوں میں وہی دبی ہوئی بےچینی موجود تھی…
تائیجون کچھ فاصلے سے اُس کے پیچھے چل رہا تھا…
بالکل ویسے ہی جیسے رین یون نے کہا تھا…
بغیر کچھ بولے… بس نظر رکھتے ہوئے…
چند لمحوں بعد جے کیونگ ہوٹل کے پچھلے حصے میں نکل آیا…
وہاں ہوٹل کے پچھلے حصے میں ایک کھلا سا آؤٹ ڈور ٹیرس تھا…
فرش پر گہرے رنگ کی ٹائلیں لگی ہوئی تھیں…
ایک طرف شیشے اور لوہے کی لمبی ریلنگ تھی… جس کے اُس پار پورا شہر روشنیوں میں ڈوبا نظر آ رہا تھا…
کونے میں چند گملے رکھے تھے… جن میں رات کی ہوا سے پودے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے…
کچھ فاصلے پر دو تین خالی کرسیاں اور ایک چھوٹی سی گول میز رکھی تھی…
اوپر مدھم زرد لائٹس جل رہی تھیں…
اور رات کی ٹھنڈی ہوا اُس خاموش جگہ کو مزید سنسان بنا رہی تھی…
جے کیونگ آ کر ریلنگ کے پاس کھڑا ہوگیا… دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے… سر ہلکا سا جھکائے…
کافی دیر تک وہ بس خاموش کھڑا رہا…
تائیجون بھی چند قدم دور رُک گیا…
کچھ دیر بعد اُس نے آہستہ سے کہا۔
ابھی بھی غصہ کم نہیں ہوا…؟
مجھے خود نہیں پتا… میں ہر وقت اتنا irritated کیوں رہتا ہوں…
تائیجون خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
کبھی کبھی… جے کیونگ دھیرے سے بولا،
دل کرتا ہے بس کہیں بھاگ جاؤں…
ہوا کا ایک جھونکا آیا…
اُس کے بال ہلکے سے بکھر گئے…
ایسی جگہ… جہاں کوئی مجھے جانتا نہ ہو…
کوئی camera نہ ہو… کوئی schedule نہ ہو…
کوئی یہ نہ بتائے کہ مجھے کیسے جینا ہے…
تائیجون نے آہستہ سے ریلنگ پر کہنی ٹکائی۔
پھر؟
جے کیونگ چند لمحے خاموش رہا…
پھر بہت آہستہ سے بولا،
پھر شاید… میں پہلی بار سکون سے سانس لے پاؤں…
یہ سنتے ہی تائیجون کے چہرے کی ہلکی مسکراہٹ آہستہ سے غائب ہوگئی…
کیونکہ وہ جانتا تھا… یہ بات مذاق نہیں تھی…
یہ واقعی جے کیونگ کے اندر کی تھکن تھی…
کافی دیر دونوں خاموش کھڑے رہے…
پھر اچانک تائیجون نے ماحول بدلنے کے لیے کہا،
ویسے ایک بات بولوں…؟
کیا…
وہ پارک والی لڑکی… واقعی pretty تھی…
جے کیونگ فوراً سیدھا ہو کر اُس کی طرف مُڑا۔
میں نے اُس کا چہرے تک نہیں دیکھا…
تائیجون نے ہنسی روکنے کی کوشش کی۔
لیکن تم اُسے بار بار دیکھ رہے تھے…
میں نہیں دیکھ رہا تھا…
اوہ اچھا… تو پھر فٹ بال کھیلتے ہوئے ہر دو منٹ بعد پیچھے کون مڑ رہا تھا؟ میں؟
جے کیونگ نے فوراً اُسے گھورا۔
چپ کر…
تائیجون اب ہنس پڑا۔
ویسے نام کیا تھا اُس کا…؟
یہ سنتے ہی جے کیونگ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگیا…
اور نہ جانے کیوں… اُس کے ذہن میں پھر وہی آواز گونجی…
“Excuse rejected. Now turn around and disappear.”
جے کیونگ نے بےاختیار ہلکی سی ٹسک کی آواز نکالی۔
عجیب لڑکی تھی…
تائیجون نے فوراً شرارتی انداز میں کہا،
ہاں… اور تُو پھر بھی اُس کے بارے میں سوچ رہا ہے…
میں نہیں سوچ رہا…
اچھا؟
جے کیونگ نے جھنجھلا کر نظریں دوسری طرف کرلیں۔
بس irritate کر رہی تھی…
ہاں ہاں… ظاہر ہے…
تائیجون اب باقاعدہ مزے لے رہا تھا۔
پہلی لڑکی ہوگی جس نے تمہیں importance نہیں دی…
جے کیونگ فوراً بولا،
مجھے کسی کی attention نہیں چاہیے…
لیکن تمہیں اُس کی چاہیے تھی…
نہیں چاہیے تھی…
تھی…
نہیں تھی…
تھی…
تائیجون قسم سے ایک لات ماروں گا…
اس بار دونوں واقعی ہنس پڑے…
اور شاید کئی گھنٹوں بعد…
یہ پہلی بار تھا جب جے کیونگ کے چہرے پر ہلکی سی سچی مسکراہٹ آئی تھی…
ہوا اب بھی خاموشی سے چل رہی تھی…
مگر اُس کے اندر کا شور… شاید تھوڑا سا کم ہوگیا تھا…

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *