PATJHAR BY ALAM EPISODE : 9

پتجھڑ قسط نمبر ؛ ٩

ازقلم الم

’’اول میرے گھر میں قدم نہ رکھا کرو۔ اگر رکھ بھی لیا تو اپنا یہ چھچھورا پن باہر دہلیز پر چھوڑ کر آیا کرو۔‘‘ افق نے فخر کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا اور اسے دھکیل کر وہاں سے چلا گیا۔
’’نادیہ! یہ تم نے گھر میں کیا یتیم خانہ کھول رکھا ہے؟ جس کو دیکھو منہ اٹھا کر آ جاتا ہے اور جب دیکھو یہ لڑکی یہیں پڑی رہتی ہے۔‘‘ نور کی چچی   بولی ۔
مریم بیگم اور نادیہ بیگم دونوں کو ان کا لہجہ بہت برا لگا تھا جبکہ وہاں سے گزرتی نور کے قدم بھی ان کے الفاظ سننے پر رکے تھے۔ وہ بھی تو یتیم تھی اور اسے یاد تھا کہ کیسے اس کے باپ کے مرتے ہی خاندان والوں نے نظریں پھیری تھیں جو تلوے چاٹتے تھے پھر بھونکنے پر اتر آئے تھے ان کی خیر خواہی کرنے والا کوئی نہیں تھا اور اب سب اس کے سگے بننے پہنچ آئے تھے جب انہیں ان کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ فطری بات ہے جب سائبان کا سایہ سر سے اٹھتا ہے نا تو ساری عمر جو آپ کے ٹکڑوں پر پلے ہوتے ہیں، سب سے پہلے زبانیں بھی ان کی ہی کھلتی ہیں۔ اور اس کی چچی کے یہ چکر بے وجہ نہیں تھے اور وجہ نور اچھے سے جانتی تھی۔
ابھی نور، مریم بیگم یا نادیہ بیگم میں سے کوئی کچھ بولتا کہ افق تن فن کرتا وہاں پہنچا۔
’’چچی! اپنے اس گھٹیا بیٹے کو دوبارہ میرے گھر میں لانے کی جرات بھی مت کریے گا۔ اگر تربیت سے مجبور میں آپ لوگوں کا لحاظ کر رہا ہوں تو میری برداشت کی حد مت آزمائیں۔ اور یہ میرا گھر ہے جہاں کما کر میں لاتا ہوں۔ کوئی آئے یا جائے، آپ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ کا ایک پیسہ بھی نہیں لگتا۔‘‘ وہ بھی شاید ان کے الفاظ سن چکا تھا۔ افق جیسے تن فن کرتا آیا تھا ویسے ہی جواب کا موقع دیے بنا نکل گیا اور وہ بیٹا بیٹا کرتی رہ گئیں۔ انہوں نے وہاں داخل ہوتے فخر کو گھورا تھا۔ اس ذلیل انسان کی وجہ سے افق غصہ ہو کر گیا تھا۔ انہیں یقین تھا اسی نے کوئی حرکت کی ہوگی۔ وہ افق کی اچھی نوکری اور پرسنلٹی کی وجہ سے اپنی بیٹی کا رشتہ وہاں کرنا چاہ رہی تھی مگر ان کے بیٹے نے آتے ہی افق کا موڈ آف کر دیا۔
’’اچھا نادیہ! میں چلتی ہوں۔‘‘ اس بےعزتی کے بعد انہیں رکنا عبث لگا جاتے وقت انہوں نے صرف نادیہ بیگم سے مصافحہ کیا اور مریم بیگم کو عجیب حقارت بھرے انداز میں دیکھ کر وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئیں اور کسی نے مروت میں بھی انہیں نہیں روکا تھا۔
نور کھانا لے کر جب کمرے میں آئی  تو عنایہ پھر موبائل میں بری طرح غرق ناول پڑھنے میں مصروف تھی۔ گزرے واقعے کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ غم چھپانے میں خاصی ماہر تھی۔ اس کے لہجے اور اس کے تاثرات سے اس کے اندر ابلتے جذبات کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا۔
’’یار! نیچے چچی کی سُتھری ہو گئی۔‘‘ نور نے مزے سے کہتے سارا واقعہ سنا دیا جسے سن عنایہ عجیب سے احساس سے دوچار ہوئی کہ افق صرف اس کے لیے لڑا تھا۔ یہ بات اس کے لیے بہت اہمیت کی حامل تھی۔
نور اور عنایہ کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئیں۔
                            ✩━━━━━━✩
ضرار پارٹی سے آتے ہی کمرے میں منسلک سٹڈی روم میں بند ہو گیا تھا اور مفراہ نے کوئی بات نہیں کی، اس نے بھی شاید ہار مان لی تھی اسے سمجھا سمجھا کر۔مفراہ نے سوتے ہوئے ریان کا ڈریس چینج کیا پھر خود بھی چینج کر کے فریش ہو کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔
ضرار کرسی سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ وہ کتنا خوش تھا اپنی پرنسز کی پیدائش پر مگر پھر سب کچھ ایک حادثے کی وجہ سے ختم ہو گیا۔
ماضی:
’’بابا جان! میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ ذلیخہ نے حاتم شاہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’ہماری جان کے ٹکڑے! آپ بہت حسین لگ رہی ہیں۔‘‘ انہیں ذلیخہ  سب اولادوں میں سے زیادہ عزیز تھی، وہ اسے جان کا ٹکڑا کہتے تھے، وہ ان کی لاڈلی تھی، بے انتہا لاڈلی۔
’’دیکھا بابا! میں تو ہوں ہی پیاری۔‘‘ زلیخا نے اتراتے ہوئے کہا تو حاتم شاہ نے قہقہہ لگایا۔
’’بالکل! ہم کب انکار کر رہے ہیں؟‘‘ حاتم شاہ نے زلیخا کو خود سے لگاتے ہوئے اس کے ماتھے کا بوسہ لیا۔ پھر اس کے سر سے چند نوٹ وار کر ملازم کو پکڑا دیے۔
’’اچھا اب بھئی! ہمیں جانے دو، بہت انتظامات دیکھنے ہیں۔‘‘
’’جائیں بابا جان، جائیں۔ ہم نے کب روکا ہے۔‘‘ زلیخا شرارت سے کہتے خود ہی وہاں سے بھاگ گئی۔ پیچھے حاتم شاہ نے بیٹی کے ہمیشہ ایسے ہی مسکراتے رہنے کی دعا کی۔
’’امی! میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ ذلیخہ زقیہ بیگم یعنی بڑی بیگم کے سامنے کھڑی اپنی فراک لہرا کر پوچھ رہی تھی۔
’’پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ ان کے نارمل سے انداز پر بھی ذلیخہ کا چہرہ کھل گیا تھا۔
’’جاؤ دیکھ کر آؤ بھابھی تیار ہوئی کہ نہیں؟‘‘ زقیہ بیگم نے بیٹی کو کہا۔ آج سلطان شاہ کا ولیمہ تھا تو سب اسی تیاریوں میں مصروف تھے۔
’’ماشاءاللہ بھابھی! آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں۔‘‘ ذلیخہ دلہن بنی صائمہ بیگم کو دیکھ کر کہنے لگی تو وہ مسکرا دیں۔
’’تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ جبکہ ان کی اتنی سی تعریف پر بھی زلیخا کے گال ٹماٹر کی طرح لال ہو گئے تھے۔ وہ ایسے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلش کر دیتی تھی۔
’’اچھا بھابھی! آپ چادر اوڑھ لیں، سب نکل رہے ہیں حال کے لیے۔‘‘ زلیخا نے خود چادر اوڑھنے کے بعد صائمہ  بیگم کو اوڑھائی اور اسے ساتھ لیے گاڑی میں بیٹھنے میں مدد کی۔
گاڑی کو کبیر شاہ ڈرائیو کر رہے تھے اور سلطان شاہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔
’’بھیو! آپ سلطان بھیا سے کہو نا کہ وہ بھابھی کے ساتھ انٹری کر لیں۔‘‘ زلیخا نے گاڑی چلاتے کبیر شاہ کو میسج کیا۔ کیونکہ وہ سلطان سے بہت ڈرتی تھی۔ جبکہ کبیر شاہ کی اور اس کی خاصی بنتی تھی وہ سلطان شاہ کی سخت طبیعت کے باعث ہی ان کے قریب نہیں ہو پائی تھی یا شاید سلطان نے کبھی خود ہی ان کو قریب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
’’بھائی! وہ اگر آپ بھابھی کے ساتھ ہال میں انٹری لے لیں تو وہ کیمرا مین کہہ رہا تھا کہ فوٹوز اچھی بن جائیں گی۔‘‘ کبیر شاہ بھی تھوڑا ہچکچاتے بولے تھے۔ سلطان شاہ کا پورے گھر پر رعب تھا۔
’’ہم اتنے بے غیرت نہیں ہوئے کہ بیوی کا پلو پکڑ کر گھومیں۔‘‘ سلطان شاہ نے اکڑ بھرے لہجے میں کہا جسے سن کر صائمہ بیگم کا چہرہ پھیکا پڑا اور زلیخا کو بے ساختہ افسوس ہوا کہ اس کے آئیڈیا کی وجہ سے بھابھی کا دل خراب ہو گیا اپنے اتنے سپیشل دن پر اور کبیر شاہ کچھ کہتے کہتے ضبط کر گئے تھے۔
کچھ دیر بعد گاڑی ہال کے باہر رکی تو زلیخا نے صائمہ بیگم کی مدد کی اترنے میں جبکہ سلطان شاہ ان پر ایک نظر ڈالے بغیر مردوں والے سائیڈ کی طرف بڑھ گئے۔ صائمہ بیگم جب ہال کے گیٹ پر پہنچیں تو ان کے لیے سرپرائز تیار تھا۔
سارے ہال کی لائٹس آف تھی جبکہ ایک سپاٹ لائٹ برائیڈ کو فوکس کر رہی تھی اور دوسری کبیر شاہ سمیت ان کے سارے کزنز جو وہاں کھڑے تھے ان کو۔ سب کی ڈریسنگ تقریباً سیم ہی تھی، بلیک فور پیس اور سب نے ہاتھوں میں ایک ایک گلاب کا پھول پکڑ رکھا تھا۔ وہ سب باری باری صائمہ بیگم کو ایک ایک پھول پکڑاتے جاتے اور ہٹتے جاتے۔ ان کے ہٹتے ہی سامنے ان کی ساری فیمیل کزنز موجود تھیں۔ میوزک پلے ہوا اور…

میرے ویر نے ویا کے لے آندی
بھابی میری حور ورگی
اودی چال ناں کسے توں چلی جاندی
بھابھی میری حور ورگی
مکھ اودا جاوے جی میں چودھویں دا چن نی
نین نے مرگ اودے موتی جہے دند نی
ہتھ لایا تے ہو جاوے کملا دی
بھابھی میری حور ورگی
میرے ویر نے ویا کے لے آندی
بھابھی میری حور ورگی

‘بھابی میری حور ورگی’ کی لائن پر سارے کزنز اکٹھتے گاتے۔ گانا ختم ہونے کے بعد سارے کزنز صائمہ بیگم کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ساتھ چلائے، ’’ویلکم بھابھی!‘‘ کبیر نے حیران سی کھڑی زلیخا کو بھی ساتھ ہی کھینچ لیا تھا۔ ان کے ویلکم کہتے ہی اوپر سے پھولوں کی برسات ہوئی اور ہال میں سب لوگوں نے ہوٹنگ اور کلپنگ کی صائمہ بیگم جو سلطان شاہ کے جملوں پر اداس ہو گئی تھیں ان کا موڈ ایک دم خوشگوار ہو گیا تھا۔ انہیں یہ اسپیشل ٹریٹمنٹ بہت پسند آیا تھا۔ ان کے تمام دیور اور نندوں نے ان کا دن حسین بنا دیا تھا ۔زلیخا نے ہی لے جا کر انہیں سٹیج پر بٹھایا دوسری کزن کی مدد کے ساتھ۔
’’السلام علیکم! سوری، ثمن یار میں لیٹ ہو گئی۔ ایکچولی بھائی لیٹ آئے تھے گھر اس لیے۔‘‘ گہرے بھورے لباس میں ایک خوبصورت سی لڑکی ثمینہ بیگم کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ہاتھ سے کان پکڑ کر معذرت کر رہی تھی جبکہ اس کے اس انداز پر صائمہ بیگم مسکرا دیں۔ وہ جو اس سے خفگی ظاہر کرنا چاہ رہیں تھی اس کیوٹ سی حرکت پر وہ اپنی ناراضگی برقرار نہیں رکھ پائیں۔
آواز پر کبیر شاہ نے بھی سرسری سی نظریں اٹھا کر اس طرف دیکھا مگر ان کی نگاہیں اس کی آنکھوں پر ٹھہر گئیں اور انہیں جس چیز نے ساکت کیا تھا وہ تھی سامنے والی کی خوبصورت سرمئی آنکھیں۔ کبیر شاہ کو لگا تھا انہیں بینائی عطا ہی ان حسین نگاہوں کو دیکھنے کے لیے کی گئی تھی وہ خود کو ان آنکھوں کی کشش میں کھنچتا ہوا پا رہے تھے۔ ان کے لیے تمام دنیا ساکت تھی اور صرف ان گھنیری پلکوں کی جنبش ہی تھی جو محسوس ہو رہی تھی۔
’’بھائی! یہ کیسے اور کب کیا؟‘‘ ذلیخہ کی آواز بھی انہیں اس کیفیت سے باہر نہیں لا پائی تھی۔
’’بھائی۔۔۔!!!‘‘ ذلیخہ نے کندھا ہلا کر متوجہ کیا۔
’’ہاں۔۔۔؟ ہاں۔۔۔!‘‘ کبیر یکدم چونکے،
’’کہاں گم ہیں؟‘‘ ذلیخہ کے پوچھنے پر کبیر کو دوبارہ وہ آنکھیں یاد آئیں۔
’’سرمئی نگینے میں۔‘‘ کھوئے سے انداز میں کہا۔
’’ہیں؟‘‘وہ ان کے رویے پر حیران تھی۔
’’کچھ نہیں، تم کیا کہہ رہی تھی؟‘‘ انہوں نے سنبھلتے ہوئے کہا۔
’’یہی یہ سب کیسے کیا اور کب کیا؟‘‘ ذلیخہ کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
’’تم نے دیکھا تھا نا بھابھی کیسے اداس ہو گئی تھی بھائی کی بات پر؟ بس یہ ان کی اداسی دور کرنے کی کوشش تھی۔ میں نے عمر (کزن) کو میسج کر کے شارٹ نوٹس پر یہ سب تیار کیا۔ کیسا لگا؟‘‘ کبیر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’بہت اچھا بھائی!‘‘ ذلیخہ ان کے بازو کے ساتھ لگتے ہوئے بولی تو کبیر نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’اچھا جاؤ جا کر بھابھی کو کمپنی دو۔‘‘ کبیر کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے مگر جاتے جاتے بھی انہوں نے ایک بھرپور نظر اس سرمئی آنکھوں والی لڑکی پر ڈالی تھی۔ گہرے بھورے بال اور دوپٹہ سر پر جمائے وہ بہت دلکش لگ رہی تھی۔
’’ارے آؤ ذلیخہ! یہ بتول ہے میری بیسٹ فرینڈ اور بتول! یہ میری پیاری سی نند ذلیخہ۔‘‘ صائمہ نے دونوں کا تعارف کروایا۔
’’کیسی ہو، زلیخا؟‘‘ بتول کھڑی ہو کر ذلیخہ سے ملی تھی۔
’’میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں؟‘‘ زلیخا خوش دلی سے اس سے ملی تھی۔ مگر اس دوران وہ ہلکا ہلکا بلش کر رہی تھی۔ آہ، اس کی یہ شرمانے کی عادت اسے یہ پیاری سی سرمئی آنکھوں والی لڑکی بہت اچھی لگی۔
ولیمہ اچھے سے ہو گیا تھا۔ سلطان شاہ اپنے والد حاتم شاہ کے کہنے پر کچھ دیر کے لیے سٹیج پر آئے تھے مگر جلد ہی اٹھ کے چلے گئے صائمہ کو ان کا رویہ تکلیف دے رہا تھا مگر وہ مجبور تھی۔ لڑکیاں تو مجبور ہوتی ہیں نا ماں باپ کی عزت اور معاشرے کی باتوں کی وجہ سے۔ اگر وہ کچھ کہتی تو انگلیاں ان پر اٹھائی جانی تھیں کہ شادی کے ایک دن بعد ہی اس کے شکوے شروع ہو گئے ہیں یہ آگے کیا کرے گی؟ ایسے بہت سی باتیں تھیں۔ اس لیے انہوں نے خاموش رہنا بہتر سمجھا۔
سب ولیمے سے واپس آ کر تھکے ہوئے اپنے کمروں میں سونے کے لیے چلے گئے تھے۔مگر  کبیر شاہ چاہ کر بھی نہیں سو پا رہے تھے۔ ان کا دل اور دماغ دونوں سرمئی آنکھوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔

محبت کی کونپل پھوٹ رہی تھی مگر بدقسمتی یہ تھی کہ موسم پت جھڑ کا تھا اور خزاں میں پھول کھلتے نہیں مرجھا جاتے ہیں۔

سلطان اور صائمہ کی شادی کو ایک مہینہ ہو گیا تھا۔ سلطان کے رویے میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔ مگر اب صائمہ بیگم نے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ شروع کے ہفتوں میں شکایت کرنے پر سلطان شدید برہم ہوئے تھے۔ صائمہ کو اچھا خاصا ذلیل کرنے کے بعد وہ کمرے سے نکل گئے  اور ایک ہفتے تک کمرے میں نہیں آئے تھے۔ اس کے بعد سے صائمہ نے لب سی لیے تھے۔ ان کے درمیان اب صرف رسمی سی گفتگو ہوتی تھی۔
چ
​”ارے بھابھی جان! آپ کیوں اتنا کام کر رہی ہیں؟ تھک جائیں گی” کبیر نے صائمہ کو کچن میں کام کرتے دیکھ کر، مکھن لگانے والے انداز میں کہا۔
​”دیور جی، کام بولیں؟” کبیر کے انداز سے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ انہیں ضرور کوئی کام تھا۔
​کبیر نے محتاط انداز میں اِدھر اُدھر دیکھا پھر رازدانہ انداز میں پوچھا، “وہ جو شادی پہ آپ کی سرمئی آنکھوں والی دوست آئی تھی، اس کی معلومات درکار تھیں۔”
​کبیر شاہ کے کسی سعادت مند بچے کی طرح پوچھنے پر صائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
​”مردم شماری میں لگ گئے ہو جو لوگوں کی معلومات اکٹھی کرتے پھر رہے ہو؟” صائمہ نے ابرو اچکا کر سوال کیا۔
​”بھابھی جان! بتا دےنا! اس کا معاملہ ہے۔” کبیر نے چہرے پر معصومیت طاری کیے، دل پر ہاتھ رکھ کر بے بسی سے کہا تو صائمہ بھی سنجیدہ ہو گئی۔
​”کبیر، وہ ایسی ویسی لڑکی نہیں ہے۔” صائمہ نے ذرا سخت لہجے میں کہا کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ کبیر دوسرے امیر زادوں کی طرح صرف وقت گزاری کا ارادہ رکھتا ہے۔
​”تو میں نے کب کہا کہ وہ ایسی ویسی لڑکی ہے؟ اس سے محبت کرتا ہوں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں۔” اب کہ کبیر بھی سنجیدہ تھا۔

​”کبیر مجھے بہت کام کرنے ہیں، تمہارے بھائی آنے والے ہوں گے ان کا کھانا بنانا ہے، ہٹو پیچھے۔” صائمہ نے ان کی بات کو نظر انداز کیا۔ وہ ابھی اس خاندان میں صرف ایک ماہ پہلے آئی تھی، بے شک کبیر بظاہر بہت سلجھا ہوا لڑکا تھا مگر وہ اپنی جان سے پیارے دوست کو کسی بھی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ ہم کسی کی نیت کے بارے میں کیا جانتے ہیں، اس لیے وہ بھی کبیر کے الفاظ پر یقین نہیں لائی تھی۔ اور سچی دوستی کی نشانی ہی یہی ہوتی ہے کہ آپ دوست کی عزت کا بھی خیال کریں، نہ کہ آج کل کے دوستوں کی طرح، کسی لڑکے نے ہلکی سی تعریف کی نہیں کہ آپ اپنی دوست کا بائیو ڈیٹا اس کے سامنے کھول کر رکھ دو۔

​کبیر کو ان کے انداز سے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ اس کی بات کو نظر انداز کر رہی ہیں۔ انہیں ایک نظر دیکھ کر وہ اپنے والد کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔ کچھ دیر بعد صائمہ کو پیغام ملا کہ انہیں حاتم شاہ اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں تو وہ تھوڑا حیران ہوئی، پھر کچن کا کام ملازمہ کے حوالے کر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ دروازے کے پاس رک کر دستک دے کر جب وہ اندر داخل ہوئی تو حاتم شاہ اور بڑی بیگم بیڈ پر بیٹھے تھے اور کبیر سامنے صوفے پر سنجیدہ سا بیٹھا تھا۔ کبیر کو وہاں دیکھ کر صائمہ کو کچھ کھٹکا تھا۔
​”ارے آؤ بیٹا، بیٹھو۔” حاتم شاہ نے صائمہ کو دیکھ کر نرمی سے کہا تو وہ بھی کبیر کے صوفے کی دوسری طرف بیٹھ گئی۔
​”بیٹا! آپ کی کسی دوست نے آپ کی شادی میں شرکت کی تھی؟” حاتم شاہ نے صائمہ کو مخاطب کیا۔
​”جی ابو۔” اس نے آہستہ سے جواب دیا۔ وہ معاملہ کچھ کچھ سمجھ گئی تھی۔
​”بیٹا کیا آپ ان کی فیملی کے بارے میں بتا سکتی ہیں؟” ان کی بات پر صائمہ نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
​”دراصل کبیر نے اس لڑکی کو شادی میں دیکھا تھا اور وہ اسے پسند آ گئی ہے۔ اب وہ اس کے گھر رشتہ بھیجنے کی بات کر رہا ہے تو اگر وہ تمہاری دوست ہے اور اچھی لڑکی ہے تو ہمیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟” اب کہ بڑی بیگم نے بات واضح کی تو صائمہ نے حیرت سے کبیر کو دیکھا جو جتاتی ہوئی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا کہ “دیکھ لو میں سچ کہہ رہا تھا۔”
​”جی امی! اس کا نام بتول ہے اور وہ میری بچپن کی دوست ہے۔ اس کے والدین کا انتقال کافی عرصہ پہلے ہو گیا تھا اور ارحم بھائی نے ہی اسے پالا ہے۔ ارحم بھائی کی بابا کے ساتھ کاروبار میں شراکت بھی ہے اور حماد بھیا (صائمہ کا بھائی) کے دوست بھی ہیں۔” صائمہ نے ساس سسر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
​”چلو ماشاءاللہ! یہ تو اچھی بات ہے کہ دیکھے بھالے لوگ ہیں اور سلطان آجائے تو اس سے بھی مشورہ کرتے ہیں۔” جبکہ سلطان کے نام پر اب کبیر تھوڑا پریشان ہوا تھا کہ کہیں وہ انکار ہی نہ کر دے۔
​”لو سلطان بھی آ گیا!” اس کمرے میں داخل ہوتے سلطان شاہ کو دیکھ کر حاتم شاہ نے کہا۔ سلطان ابھی ابھی آئے تھے اور ملازمہ سے پوچھنے پر انہیں پتہ چلا تھا کہ سب حاتم شاہ کے کمرے میں ہیں تو وہ بھی اسی طرف ہی آ گئے۔
​”بیٹھو سلطان!” باپ کے کہنے پر وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ حاتم شاہ نے جب سلطان شاہ کو سارا معاملہ بتایا تو انہوں نے ایک نظر بیوی پر ڈال کر جب دوسری بھائی پر ڈالی تو وہ آنکھوں میں امید، خوف اور التجا لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
​”ٹھیک ہے، اگر آپ لوگوں کی مرضی اور کبیر کی خوشی اسی میں ہے تو ہمیں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟” انہوں نے کچھ سوچ کر کہا تو کبیر کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔
​”چلو ڈن ہو گیا! کل ہم رشتہ لے کر جا رہے ہیں۔” کبیر کے پرجوش انداز میں کہنے پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔
​”کیا؟ بھائی مجھے جلدی ہی میری بیوی میرے پاس چاہیے۔” کبیر  کے بےشرمی سے کہنے پر سلطان نے نفی میں سر ہلایا جبکہ باقی سب مسکرا دیے۔
​”چلیں ٹھیک ہے، ہم کل ہی چلتے ہیں۔” حاتم نے بیٹے کی خوشی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہا تو کبیر کا دل کیا تھا کہ بھنگڑے ڈالے!
“کیا محبت اتنی آسانی سے مل جاتی ہے؟” کبیر شاہ نے بے ساختہ سوچا ۔ لیکن انسان آسانی سے ملی ہوئی چیزوں کی قدر بھی نہیں کرتے۔
​زلیخہ جب سے کالج سے آئی تھی، حیرت سے منہ کھولے کبیر کو دیکھ رہی تھی جو اس کی حالت دیکھ کر ہنسے جا رہا تھا۔
​”بھائی آپ کتنے میسنے ہیں؟” زلیخہ نے صدمے سے کہا تو صائمہ بھی ہنس دی۔
​”ہاں بھئی! یہ تو چھپا رستم ہے۔”
​”چلیں بھائی! معاف کیا آپ کو اس غداری اور رازداری پر ہونے والے بھابھی کے صدقے۔” زلیخہ نے شانِ بے نیازی سے کہا۔
​سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا۔ کبیر شاہ کا رشتہ جانے پر بتول تو حیران تھی کہ اس کی بیسٹ فرینڈ اس کے لیے رشتہ لے آئی ہے اور ارحم نے ایک دو دن سوچنے کے بعد بتول کی رضامندی پر انہیں ہاں کہہ دی تھی کیونکہ انہیں رشتہ مناسب لگا تھا، دوسرا وہاں صائمہ بھی تھی اور وہ بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے جب مثبت جواب کی خبر کبیر شاہ تک پہنچی تو ان کا دل مانو باغ باغ ہو گیا تھا۔
یہ سب انہیں کسی حسین خواب کی تعبیر جیسا لگ رہا تھا۔
                          ✩━━━━━━✩
پھر آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب کبیر شاہ کی محبت لباسِ عروسی میں ملبوس ان کی سیج سجائے بیٹھی تھی۔ کبیر شاہ سرشار سے کمرے میں داخل ہوئے۔
وہ خود کو ایسے فاتح کی مانند محسوس کر رہے تھے جو بنا کسی جنگ کے فتح یاب ٹھہرا ہو، انہیں بھی تو اپنی محبت پانے کے لیے کسی غم کو نہیں جھیلنا پڑا تھا، کسی ظالم سماج کا مقابلہ نہیں کرنا پڑا تھا۔
وہ جا کر دلہن بنی بتول کے سامنے بیٹھ گئے، ان کے سلام کے جواب پر بتول نے صرف سر ہلایا۔ کبیر نے جب اس کا گھونگھٹ پلٹا تو چند لمحے وہ ان کے حسن میں ہی کھو گئے۔ وہ دلہن بنی قیامت ڈھا رہی تھی، اس کی نشیلی سرمئی آنکھیں حشر برپا کر رہی تھیں۔
کبیر نے ایک انتہائی خوبصورت انگوٹھی منہ دکھائی کے تحفے کے طور پر پہنا دی، پھر ان کے ہاتھ کا بوسہ لیا۔
​”شکریہ! میری زندگی میں شامل ہونے کا۔ شکریہ! میری خوشیوں کو دوام بخشنے کا۔ تمہارا میری زندگی میں آنا ایسے ہے جیسے مسافر کو منزل، کشتی کو کنارہ، صحرا کو پانی اور زخمی کو مرہم۔ تم میرے لیے مصور کی اس حسین تصویر کی مانند ہو جسے وہ ساری دنیا سے چھپا کر رکھتا ہے، تم میری پہلی اور مکمل محبت ہو۔” کبیر نے کہتے ہوئے بتول کے ماتھے کا بوسہ لیا جبکہ بتول حیران تھی کہ کوئی اس سے بھی اس قدر دیوانہ وار محبت کر سکتا ہے؟
کبیر کے ہر لفظ کے ساتھ بتول کو اپنا آپ پگھلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس رات ان دونوں نے ایک دوسرے کو مکمل کر دیا تھا۔
         
​کبیر شاہ کی شادی بخیر و عافیت گزر گئی تھی، ولیمہ بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا اور زلیخہ نے بھرپور طریقے سے انجوائے کیا تھا کیونکہ کبیر نے سلطان کے برعکس ہر چیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔
                         ✩━━━━━━✩
تقریباً چار ماہ بعد:
سب لوگ ہاسپٹل کے کمرے کے باہر پریشان چہرہ لیے کھڑے تھے۔ ڈاکٹر باہر آئی تو سب ان کی طرف لپکے۔
​”آئی ایم سوری، ہم بچے کو نہیں بچا پائے۔ بچہ پہلے ہی ویک تھا اس لیے حالت زیادہ کریٹیکل ہونے کی وجہ سے سروائیو نہیں کر سکا۔” ڈاکٹر کی بات پر سب کے چہرے پر تکلیف ابھری تھی۔ سب کتنا خوش تھے کہ خاندان میں پہلی خوشخبری آ رہی ہے۔
​سلطان شاہ سرخ آنکھیں لیے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئے۔ “تم کیسی عورت ہو؟ ہاں! کیسی عورت ہو تم جسے ایک بچہ نہ سنبھالا گیا؟ تمہیں حل کر پانی بھی نہ پینے دیا، ہر آسائش تمہارے قدموں میں رکھی پھر ایسے کون سے روگ تمہیں لگے ہوئے تھے کہ بچہ مار دیا تم نے؟ ہاں! کون سا ذہنی دباؤ دیا جا رہا تھا تمہیں؟” وہ کمرے میں آتے ہی بے حال سی لیٹی صائمہ بیگم پر چیخنے لگے۔
​صائمہ بیگم کو تین ماہ پہلے پتہ چلا تھا کہ وہ ماں کے عہدے پر فائز ہونے والی ہے۔ اس خبر کے بعد فرق یہ پڑا تھا کہ سلطان شاہ کی زبان کا زہر اور طعنے کچھ کم ہو گئے تھے مگر ان کے سخت رویے اور بے پروا انداز میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا۔
آج اچانک طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے جب انہیں ہاسپٹل لایا گیا تو یہ خبر پگھلا ہوا سیسہ بن کر ان کے کانوں میں ڈلی تھی۔ اب ان کا شوہر آ کر ان پر ہی چیخ رہا تھا جبکہ وہ بھی ماں تھیں اور نقصان دونوں کو برابر ہوا تھا۔ اس وقت انہیں ایک دوسرے کو سنبھالنا تھا مگر سلطان شاہ انہیں ہی الزام دیے جا رہے تھے۔ وہ بھی تو باپ تھے اس ہونے والے بچے کے، انہوں نے کب کب صائمہ بیگم سے ان کی صحت کا پوچھا تھا، کب کب پوچھا تھا کہ کھانا ٹھیک سے کھا رہی ہو کہ نہیں؟ بس ایک کیئر ٹیکر رکھ کر فرض پورا کر دیا جبکہ انہیں شوہر کی توجہ اور محبت کی ضرورت تھی جو سلطان شاہ نے انہیں کبھی نہیں دی۔
​”سلطان! کیا تماشا لگا رہے ہو؟ وہاں بہو کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے، تم اوپر سے اور ٹینشن دے رہے ہو۔ ابھی یہاں سے جاؤ!” حاتم شاہ شور سن کر اندر آئے تھے اور جب انہوں نے بیٹے کو بہو پر چیختے ہوئے دیکھا تو انہیں بہت افسوس ہوا تھا اور غصہ بھی شدید آیا تھا۔ باپ کے کہنے پر سلطان ایک قہر بھری نظر  بتول کے گلے لگ کر بلک بلک کر روتی صائمہ پر ڈال کر وہاں سے نکل گئے تھے۔
​”سر!” سلطان نے گاڑی کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ محسن کی آواز نے انہیں متوجہ کیا۔
​”بولو!” انہوں نے غصہ قابو کرتے ہوئے کہا۔
​”سر! وہ دو لڑکے فیکٹری میں آگ لگنے کی وجہ سے مر گئے ہیں اور کچھ زخمی ہسپتال میں ہیں۔” محسن نے انہیں بتایا۔
​”مر گئے، تو میں کیا کروں؟ مرنا تھا مر گئے اور ان کے گھر والوں کو پیسہ کھلا کر معاملہ رفع دفع کرو اور زخمیوں کا علاج کروا کر میڈیا پر نیوز چلوادو کہ ہم اپنے ورکرز کا کتنا خیال رکھتے ہیں اور چند ایک ورکرز کو بھی بیان کے لیے راضی کرو جو ہمارے لیے تعریفی بیان ریکارڈ کروائیں اور اس آگ کو مخالفین کی سازش کا رنگ دے کر اسے اپنے حق میں کرو۔” سلطان  مکاری سے کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔
کیا عجب! تھا وہ شخص اپنی اس اولاد کے مرنے پر واویلا مچا چکا تھا جو ابھی اس دنیا میں آئی بھی نہیں تھی اور کتنی آسانی سے کسی کی جوان اولاد کی موت پیسوں میں تول گیا تھا۔
                          ✩━━━━━━✩
​اس واقعہ کو چند ماہ گزر گئے تھے۔ ہر چیز معمول پر آ گئی تھی۔ صائمہ بھی نارمل ہو گئی تھی مگر سلطان کا سرد رویہ مزید سرد ہو گیا تھا۔
​”صاحب! کوئی مہمان آئے ہیں۔” حاتم شاہ جو بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے انہیں ملازم نے آ کر خبر دی۔
​”اچھا! انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ، ہم آ رہے ہیں۔” حاتم شاہ کے کہنے پر ملازم “جی” کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
​حاتم شاہ  جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو سامنے ہی ایک باوقار مرد سفید شلوار قمیض اور سکن کلر کی شال اوڑھے بیٹھا تھے۔ ان کے چہرے سے نور جھلک رہا تھا اور ساتھ ہی ایک عورت خود کو مکمل طور پر چادر سے ڈھکے بیٹھی نظر آئیں۔ حاتم شاہ نے مشترکہ سلام کیا اور صوفے پر بیٹھ گئے۔ ملازم پہلے ہی میز پر لوازمات سجا چکے تھے۔
​”سکینہ! جاؤ، زقیہ بیگم کو بلا کر لاؤ۔” حاتم نے ساتھ آئی عورت کی وجہ سے زکیہ بیگم کو بھی پیغام بھیجا تھا۔
​”حاتم شاہ صاحب! ہم سید ابراہیم قیوم شاہ ہیں، سید قیوم شاہ کے بیٹے اور یہاں آپ سے آپ کی سب سے قیمتی چیز مانگنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔” سامنے بیٹھے مرد کے تعارف پر حاتم شاہ کی آنکھوں میں جو عقیدت ابھری تھی وہ بڑی بیگم نے شدت سے محسوس کی تھی۔
​”شاہ صاحب! آپ شرمندہ کر رہے ہیں، آپ جیسی قابل احترام ہستی نے ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشا ہے یہ واقعی ہمارے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔” حاتم شاہ نے عاجزانہ لہجے میں کہا۔ وہ ان کے نام اور مقام سے واقف تھے مگر آمنے سامنے ملاقات پہلی بار ہو رہی تھی۔
​”شاہ صاحب! آپ شرمندہ کر رہے ہیں، اب ہم دونوں تو ہر لحاظ سے برابر ہیں۔” ان کا اشارہ جس طرف تھا حاتم شاہ سمجھ گئے تھے۔
​”برابر کہاں ہیں؟ آپ نے اپنی گدی کو سنبھال کر رکھا ہے جبکہ ہم دنیاوی چکاچوند کے پیچھے پڑ کر اسے چھوڑ آئے ہیں۔” حاتم شاہ نے افسوس سے کہا۔
​”شاہ صاحب! یہ تو خدا کی مرضی ہوتی ہے جس کو جس چیز سے نوازے۔ ویسے ہم یہاں آپ سے آپ کی صاحبزادی کو اپنی بیٹی بنانے کی عرض لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ آپ اپنی لختِ جگر کو ہمارے چھوٹے بھائی ہارون شاہ کے نکاح میں دے دیں۔ دراصل ہم سید ہیں اور سیدوں کے علاوہ بیٹا یا بیٹی کا نکاح کہیں اور نہیں کرتے، چونکہ آپ بھی سید ذات ہیں تو ہم یہ درخواست لے کر آپ کے در پہ حاضر ہوئے ہیں۔” ابراہیم شاہ نے جس عاجزانہ انداز میں اپنی بات سامنے رکھی تھی، اس چیز نے حاتم شاہ کو متاثر کیا تھا۔ ان کے لہجے میں بیٹے والوں جیسا غرور نہیں تھا بلکہ ایک سوالی جیسا عاجز پن تھا جو کسی سے اس کی قیمتی چیز کا سوال کر رہا ہو۔
​”آپ حکم بھی کرتے تو ہم کہاں ٹال سکتے تھے اور اگر ہماری بیٹی آپ کی نسلوں کی امین بنے گی تو یہ ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات ہے اور وہ آپ کی بھی بیٹی ہے، مگر میں ایک دفعہ اس سے اجازت لے کر آپ کو جواب دوں گا، میری طرف سے تو ہاں ہے مگر آخری فیصلہ اسی کا ہے۔” حاتم شاہ کے کہنے پر ابراہیم نے مسکرا کر سر ہلایا جبکہ بڑی بیگم نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا۔ وہ کیسے اجنبیوں کو اپنی بیٹی سونپنے کے لیے اتنی آسانی سے ہاں کہہ سکتے تھے؟ مگر حاتم شاہ کی سوچ کچھ اور تھی۔ وہ اپنی دونوں بہوئیں غیر سید لے کر آئے تھے مگر وہ اپنی بیٹی کو سیدوں کے ہاں ہی بیاہنا چاہتے تھے اور دوسرا ابراہیم شاہ کے خاندان کے بارے میں وہ اچھے سے واقف تھے۔ انہیں ان کے خاندان یا ان کے رویے کو لے کر کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔

​”بہن جی! آپ بے فکر ہو جائیں، میں اسے دیورانی نہیں اپنی چھوٹی بہن بنا کر رکھوں گی۔” ثمینہ بیگم نے بڑی بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔ پھر تھوڑی بہت باتوں کے بعد وہ لوگ رخصت ہو گئے۔
​زلیخہ کو جب یہ خبر ملی تو وہ حیرت کی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس نے ابھی زندگی کے اس موڑ کے بارے میں تو سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ تو ابھی  بچوں والی زندگی ہی گزار رہی تھی اپنے باپ اور بھائیوں کے سائے میں، اسے آج پتہ چلا تھا کہ وہ بڑی ہو گئی ہے۔ سلطان اور کبیر کو تو والد کے فیصلے پر کوئی اختلاف نہیں تھا اور زلیخہ نے بھی مشرقی بیٹی کی طرح فیصلے کا حق اپنے باپ اور بھائیوں کو ہی دیا تھا۔

​”ارے بھیا! راستہ بھول گئے تھے کیا یہاں کا؟ کیسے ہیں آپ؟” ملازمہ نے بتول کو آ کر ارحم کے آنے کی خبر دی تو وہ خوشی سے ان کے پاس ملنے پہنچی مگر ساتھ ساتھ شکوہ بھی کر گئی تھی۔
​”بس تمہاری یاد آ رہی تھی، کبھی رہا نہیں تھا تمہارے بغیر اتنے دن۔” بتول کو اپنے حصار میں لے کر ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے ارحم نے کہا۔
​”کہتی تو ہوں بیوی لے آئیں،” بتول کے شرارت سے کہنے پر ان کی آنکھوں میں کسی کا عکس ابھرا تھا۔
​”اسی معاملے میں تم سے بات کرنی تھی۔” ارحم کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
​”اوہو! میں نے تو آپ کو بتایا ہی نہیں، میری نند یعنی زلیخہ کا رشتہ پکا ہو گیا ہے، سید گھرانہ ہے کوئی، کچھ دنوں تک شاید نکاح اور رخصتی بھی کر دیں۔” بتول اور نہ جانے کیا کیا بول رہی تھی مگر ارحم کے ذہن میں تو وہی الفاظ گونج رہے تھے،
“زلیخہ کا رشتہ پکا ہو گیا ہے۔” کیا اس نے دیر کر دی تھی؟ کیا اس کی محبت سانس لینے سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی؟ مگر اس نے کمال مہارت سے جذبات چھپا لیے تھے۔ اس نے اپنی اس گمنام محبت کو گمنامی کی موت ہی سلا دیا تھا۔ اس کے مقدر میں شاید ادھورا پن ہی تھا۔
پتہ نہیں وہ سنہری بالوں والی پری کب اس کے دل میں گھر کر گئی تھی۔

​”ہاں! آپ کچھ کہہ رہے تھے؟” بتول اچانک یاد آنے پر بولی۔
​”نہیں، کچھ خاص نہیں۔” وہ بمشکل مسکراتے ہوئے کہا۔ “تم سناؤ، ٹھیک ہو؟ کبیر خوش رکھتا ہے؟” بھائی کے پوچھنے پر بتول شرمیلا سا مسکرا دی۔ کبیر کی سنگت میں گزرے یہ چند ماہ بہت حسین تھے، اس نے ہر روز اسے یقین دلایا تھا کہ وہ اس کے لیے کس قدر خاص، کس قدر اہم ہے اور وہ اسے کتنی محبت کرتا ہے۔ جبکہ بہن کے چہرے پر کھلی سچی خوشی دیکھ کر ارحم بھی سرشار ہو گیا تھا۔ تو کچھ دیر باتوں کے بعد ارحم نے اجازت چاہی۔
​”اچھا اب میں چلتا ہوں۔”
​”ارے! بیٹھیں تو، کھانا تو کھا کر جائیں۔ دراصل ثمن آنٹی لوگوں کے گھر گئی ہوئی ہے اور امی سو رہی ہیں جبکہ زلیخہ کالج تو کھانا میں نے دیکھنا ہے، آپ بس کچھ دیر انتظار کریں میں بنا کر لاتی ہوں۔”
​”نہیں! میرا لنچ پارٹنرز کے ساتھ فکس ہے، میں وہی کروں گا، بس تمہیں ملنا تھا، مل لیا، اب چلتا ہوں۔” ارحم کھڑے ہوتے ہوئے بولا اور ایک دفعہ پھر بتول کو خود سے لگا کر پیار کیا۔
​”کیا ہوتا اگر رک جاتے؟” بتول کے منہ بسور کر کہنے پر ارحم مسکرا کر بنا کچھ بولے اس کا گال تھپتھپا کر نکل گیا۔ مگر واپس جاتے ہوئے اس کے چہرے پر زخمی سے تاثرات تھے، وہ زخم کھا کر آیا تھا، ایک ایسا زخم جو نظر نہیں آتا مگر اس میں لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی رہتی ہے اور قطرہ قطرہ خون رستا رہتا ہے۔
                     
                           ​زلیخہ اور ہارون کا نکاح سنت کے مطابق مسجد میں ادا کیا تھا اور سادگی سے ہی رخصتی لی گئی تھی۔ اس وقت زلیخہ حاتم شاہ کے گلے لگ کر بہت رو رہی تھی اور حاتم شاہ کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ وہ اپنی جان کا ٹکڑا کسی اور کے حوالے کر رہے تھے، یہ ان کے لیے حقیقتاً بہت مشکل تھا۔ کبیر بھی بہن کی وداعی پر آبدیدہ تھا جبکہ سلطان شاہ جذبات سنبھالے کھڑے تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر زلیخہ کے سر پر دستِ شفقت رکھا پھر اسے گاڑی میں بٹھایا اور زلیخہ اپنے پیا دیس سدھار گئیں۔
شاید بیٹیاں ہماری زندگی میں آتی ہی چند لمحوں کے لیے ہیں، آنگن کو خوشیوں سے مہکا کر پھر کسی اور کے انگن کا پھول بن جاتی ہیں۔

​زلیخہ کو ثمینہ بیگم نے لا کر ہارون شاہ کے کمرے میں بٹھایا۔ کمرہ بہت خوبصورتی اور نفاست سے سجایا گیا تھا۔ زلیخہ بہت پزل ہو رہی تھی، ایک تو لوگ نئے تھے اور دوسرا اس نے صرف اپنے شوہر کی تصویر ہی دیکھ رکھی تھی، وہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔ وہ نروس ہو رہی تھی۔
​”السلام علیکم!” ہارون شاہ سلام کہتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے اندر داخل ہوئے اور آ کر زلیخہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ جبکہ زلیخہ خود میں کچھ اور سمٹی۔ جبکہ اس کی حرکت پر ہارون کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔ اس نے زلیخہ کے چہرے سے گھونگھٹ ہٹایا تو ان کی دلہن ان کی دھڑکنیں بڑھا گئی تھی۔
​”میں نے اپنی اب تک کی زندگی بہت شفاف گزاری ہے، ہمیشہ خود کو کسی بھی نامحرم سے منسوب ہونے سے باز رکھا اور مجھے پتہ تھا کہ میرے اعمال کا انعام مجھے دیا جائے گا مگر مجھے علم نہیں تھا وہ اجر اس قدر حسین ہوگا۔” ہارون نے زلیخہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تو زلیخہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ بھی مبہوت ہوئی تھی۔
سیاہ دلکش آنکھیں، سیاہ گھنے بال، ستواں ناک، مضبوط کندھے اور خوبصورت چہرے پر سجی سیاہ بیرڈ اسے مزید دلنشیں بنا رہی تھی۔ بے شک اس کی قسمت میں ایک شاندار مرد لکھا گیا تھا۔ وہ بھی پوچھنا چاہ رہی تھی کہ یہ حسین اجر کس نیکی کا صلہ تھا مگر جھجک کی وجہ سے خاموش رہی۔

ہارون نے خوبصورت سا بریسلیٹ اس کی کلائی میں پہنایا اور وہاں اپنے لب رکھے، اس کے لمس پر زلیخہ کا پہلے سے گلابیاں چھلکاتا چہرہ مزید سرخ اناری ہوا تھا۔ ہارون نے اس کی سنہری مگر سہمی ہوئی آنکھوں کو دیکھا تو مسکرا دیا۔
​”ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے انسان کھانا چھوڑ دیے ہیں۔” ہارون نے سنجیدہ سے انداز میں کہا۔
​”ہیں!” زلیخہ کی حیرت سے آنکھیں بڑی کر کے کہنے پر ہارون ہنس دیا اور اسے اپنے حصار میں لیا تو زلیخہ کو چھپنے کے لیے جگہ ملنا مشکل ہو گیا تھا۔

پھر ہارون نے بھاری میک اپ اور جیولری سے آزاد ہونے میں اس کی مدد کی تھی مگر اس دوران وہ چھوٹی موٹی شرارتیں کر دیتا  تو زلیخہ لال سرخ ہو جاتی۔ اسی طرح انہوں نے ایک حسین رات ایک دوسرے کی سنگت میں گزاری۔
                          ✩━━━━━━✩
​ہارون شاہ بے چینی سے لیبر روم کے باہر چکر کاٹ رہا تھا۔ زلیخہ کے ماں بننے کی خبر نے دونوں خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی تھی کیونکہ اس حادثے کے بعد کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے صائمہ بیگم کی گود بھی خالی تھی جبکہ بتول اور کبیر کی طرف سے بھی ابھی کوئی خوشخبری نہیں تھی۔ اور ابراہیم اور ثمینہ بیگم بھی شادی کے اتنے سال بعد اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔ ڈاکٹر مسکراتے ہوئے روم سے باہر آئی تو ہارون بے چینی سے اس کی طرف بڑھا۔
​”ڈاکٹر! میری وائف ٹھیک تو ہے نا؟” ہارون کی بے تابی پر ڈاکٹر مسکرا دی۔
​”جی الحمدللہ! وہ بالکل ٹھیک ہیں اور مبارک ہو آپ کو، اللہ نے صحت مند بیٹے سے نوازا ہے۔” ڈاکٹر کی بات پر ہارون کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔ “زلیخہ کو ہم تھوڑی دیر میں روم میں شفٹ کر دیں گے تو آپ ان سے مل لیجیے گا۔”
​تب ہی ایک نرس کمبل میں لپٹا ایک ننھا سا وجود لیے باہر آئی اور اسے ہارون کی گود میں دیا۔ اپنے ہی وجود کے حصے کو گود میں لے کر ہارون کے جو احساسات تھے وہ بیان سے باہر تھے۔ انہوں نے جھک کر اس کے ماتھے کا بوسہ لیا تو وہ ہلکا سا کسمسایا۔ ابراہیم شاہ نے بھی اسے گود میں لے کر پیار کیا، ان کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
جب وہ ننھا سا وجود ثمینہ بیگم کے گود میں گیا تو وہ بے اختیار رو دی۔ انہیں لگا تھا کہ ان کی خالی گود بھر دی گئی ہے۔ اس معصوم گڈے نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا تو ثمینہ بیگم کو لگا کہ انہیں کل کائنات مل گئی ہو۔ وہ ہو بہو اپنے باپ کی کاپی تھا، وہی سیاہ آنکھیں، ویسے ہی نین نقش۔
ابراہیم شاہ نے اس کے کان میں اذان دی اور ہارون شاہ نے اپنے شہزادے کا نام “سید ضرار ہارون شاہ” رکھا تھا۔ ہارون شکرانے کے طور پر نوافل ادا کرنے مسجد کا رخ کیا۔
ہارون جب ضرار کو تھامے اندر داخل ہوا تو زلیخہ اپنی مکمل دنیا کو دیکھ کر آسودگی سے مسکرا دی۔
​”پہلے میں آپ کا محب تھا مگر آج میں آپ کا قرضدار ہو گیا ہوں، میری اولاد کو اس دنیا میں لا کر آپ نے مجھے خرید لیا ہے۔” ہارون نے زلیخہ کی آنکھوں اور ماتھے کا بوسہ لیتے ہوئے محبت سے کہا۔
​”ہمارا بیٹا!” ہارون نے کہتے ضرار کو ماں کی گود میں دیا تو زلیخہ نے نم آنکھوں اور مسکراتے لبوں کے ساتھ اپنے بیٹے کے ہر نقش کو چوما۔
​”میرے جگر کا ٹکڑا، میرا ضرار!” انہوں نے سرشاری کے عالم میں کہا تو اس نے آنکھیں کھول کر مسکرا کر ماں کو دیکھا۔
وہ اور ہارون پہلے ہی مل کر بچے کا نام سوچ چکے تھے۔ شاہ ولا سے بھی سب ضرار کو دیکھنے آئے تھے جبکہ حاتم شاہ تو جب سے آئے تھے ضرار کو گود میں لیے بیٹھے تھے۔ ان کی جان کے ٹکڑے کی اولاد تھا، انہیں بہت عزیز تھا۔
​”ارے بھئی! یہ ہماری جھلی سی زلیخہ اتنی بڑی کب ہو گئی؟” کبیر نے شرارت سے کہتے زلیخہ کو خود سے لگایا تھا زلیخہ ان کی بات پر چھینپ گئی تھی جبکہ باقی سب مسکرا دیے۔
​”خوش رہو۔” سلطان شاہ نے زلیخہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دعا دی جبکہ سلطان کو دیکھ کر ہارون کا چہرہ سنجیدہ ہوا تھا۔
                        ✩━━━━━━✩
​دیکھتے ہی دیکھتے تین سال کیسے بیت گئے پتہ بھی نہیں چلا۔ آج کے دن دونوں شاہ گھرانوں میں خوشی کی نوید آئی تھی۔ ایک طرف ثمینہ بیگم کے ماں بننے کی خبر نے جہاں سب کو خوشیاں تھمائی تھیں وہیں بتول کے بھی امید سے ہونے کی خبر نے خوشی کو دوبالا کر دیا تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *