Qasas by Rida Fatima episode 14

قصاص قسط نمبر:۱۴

ازقلم ردا فاطمہ

وہ اس وقت اپنے سفید محل سے باہر نکل رہا تھا
تین سیڑھیاں اتر کر وہ گارڈن کے راستے پر ا پہنچا
اس کے دائیں اور بائیں گارڈن کا علاقہ تھا اور بیچ میں سفید ٹائلیں لگی تھی جو بہت ہی خوبصورت نظر آتی تھی اس راستے پہ بہت سی خوبصورت
لائٹس کی سیٹنگ کی گئی تھی وہ قدم بڑھاتا اس راستے سے نکل کر پورچ میں ا پہنچا تھا جہاں پر اس کی لال مسٹرڈیز کھڑی تھی ساتھ میں اور بھی بہت گاڑیوں کی قطاریں تھی لیکن یہ اُس کی پسندیدہ تھی
مرسڈیز کے پاس جا کر دروازہ کھولا اور اس میں بیٹھ گیا اب وہ ڈرائیو کرتا ہوا اپنی کمپنی میں
ا پہنچا تھا جہاں پر کمپنی کے دروازے پر اس کی سیکرٹری اور مینجر پہلے سے ہی ویٹ کر رہے تھے
اس نے بہت ہی شایانِ شان طریقے سے گاڑی کا دروازہ کھلا سٹائل مارتا ہوا گاڑی سے نیچے اترا اور سیکرٹری اور مینجر کی طرف بڑھا تب ہی
دونوں نے اور کچھ اور لوگوں نے مل کر اس کو سلام کیا اور اس نے سلام کا جواب دیا اور کمپنی میں اندر چلا گیا جہاں پر کچھ لوگ کام کر رہے
تھے اور کچھ ایسے ہی بیٹھے تھے اور کچھ اپنے لیپ ٹاپ پر گیمز کھیل رہے تھے اور کچھ سونگ سن رہے تھے اس نے دیکھتے ہی چلا کر سب کو کہا
کیا تم لوگوں کو اسی کام کی تنخواہ ملتی ہے تب ہی اس نے مینیجر کو کہا جو جو لوگ فالتو میں ہی کمپنی کا ٹائم ضائع کر رہے ہیں
ان سب کی اس مہینے کی ادھی تنخواہ کاٹ لو اور اس مہینے کسی کو چھٹی بھی نہیں دینا جو جتنا کام کرے گا اس کو اتنی ہی اسانیاں ملیں گی ہمیں
کسی فضول خور کی ضرورت نہیں ہے کمپنی میں تب ہی سب لوگ کھڑے ہو گئے اور وہ سب کے بیچ میں سے چلتا ہوا اپنے کیبن میں جا کر بیٹھ گیا اور مینیجر سے غصے سے کہنے لگا کیا تم ایسے ہی کمپنی میں کام کرتے ہو تم کس چیز کے مینجر ہو تمہارا کام ہے ہر ایک چیز پر دھیان دینا اور مجھے رپورٹ کرنا اس نے اپنی سیکرٹری کی طرف دیکھا اور بولا اس مینیجر کی بھی ہاف سیلری کاٹ لینا اس مہینے کی اور مجھے تفصیل بتاؤ ابھی تک ہم
نے کتنی سیلز کی ہیں اور کون سے پروڈکٹس ہیں جو لوگوں میں زیادہ بک رہے ہیں مجھے ہر چیز کی تفصیل لا کر دو تم تو کسی کام کے نہیں ادھر ہی یہ
سب باتیں اور کام چیک کرتے ہوئے اس کو کچھ ایک گھنٹہ لگ چکا تھا
دوسری طرف وہ اس سفید محل جیسے گھر کے ایک کمرے میں تھی
وہ وہاں سے باہر نکلنا چاہتی تھی پر ہر طرف سے کچھ نظریں اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ گارڈز ۔۔ گھر کے ملازم جن کو علی خاص طور پر کہہ کے
گیا تھا کے ہیر پر نظر رکھی جائے وہ گھر سے باہر نہ جا سکے ۔۔۔ لیکن ہیر کے دماغ میں ابھی بھی تھا کہ وہ کیسے گھر سے نکلے۔۔ اسے کسی بھی
حال میں اپنے گھر واپس پہنچنا تھا نہ جانے وہ کہاں پر تھی ۔۔۔ اس کے ماں باپ اس کے دونوں بھائی اس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔
ہیر خاموشی سے اپنے بیڈ سے اُٹھی۔۔ رات تو یہاں پر ہی گزر گئی تھی۔۔
اور نیند اس کی انکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔صبح کی روشنی کھڑکی سے کمرے میں ارہی تھی۔۔۔ پھر خاموشی سے کمرے کا
دروازہ کھولا۔۔۔ شاید صبح کے آٹھ بجے کا وقت تھا۔۔۔ علی گھر پر نہیں تھا۔۔ ہیر نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی ۔۔۔ ہیر نے نظر دائیں
طرف گھمائی اور اس کو کمروں کی قطاریں نظر ائیں ۔۔ پھر نظر بائیں طرف گھمائی ۔۔ عالیشان سنہرے رنگ کی سیڑھیاں نیچے والے فلور پر جا رہی تھیں ۔۔ وہ خاموشی سے دبے پاؤں سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔ نیچے باہری دروازے پر دو گارڈ کھڑے تھے ۔۔ جو یقینا ہیر کے لیے ہی کھڑے کیے گئے تھے ۔۔۔ سیڑھیوں کے اخر پر بھی کارڈ کھڑا تھا ہاتھ میں گن پکڑے ۔۔۔ وہ نیچے اتری کسی نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا ۔۔۔
تمھارا ملک کہاں پر ہے ۔۔ ہیر نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے گارڈ سے پوچھا لیکن وہ خاموش رہا
ہیر نے ایک پل کو اسے گھورا پھر بولی۔۔۔ تمہارا مالک کہاں پر ہے میں نے پوچھا ۔۔۔ لیکن گارڈ پھر بھی کچھ نہیں بولا ۔۔ ہیر خاموشی سے آگے
بڑ گئی جہاں عالیشان لاؤنچ تھا ۔۔ سامنے پوری دیوار جتنی ایل سی ڈی لگی تھی ۔۔ جیسے کوئی سنیما ہو ۔۔
سنہرے صوفے بھی لگے نظر آ رہے تھے ۔۔۔ اور شیشے کا سینٹر ٹیبل بھی رکھا تھا ۔۔۔ ہیر ہر طرف نظر گھما رہی تھی ۔۔ ہیر کا گھر بڑا تھا
لیکن وہ پٹھانوں کا گھر ہونے کا پورا ثبوت دیتا تھا جب کے یہ گھر ۔۔
یہ گھر نہیں محل لگ رہا تھا ۔۔ کیسی بادشاہ کا محل ۔۔۔ نیچے والے پورشن میں بھی کمروں کے دروازے نظر آ رہے تھے ۔۔ سفید دروازے ۔۔
سنگے مر مر کے فرش پر چلتے ہیر ایک دروازے کے سامنے ا رُکی ۔۔
گھر سے باہر تو جا نہیں سکتی تھی ۔۔ لیکن گھر میں گھوم تو سکتی تھی نہ ۔۔
ہیر نے دروازے کا ہندال گھمایا ہی تھا کے اُس پر طلسم تاری ہونے لگا ۔۔
وہ کتابوں کی دنیا میں اگئی تھی ۔۔۔ الماریوں سے بھرا کمرا اور الماریوں میں کتابیں ہی کتابیں ۔۔ کوئی کتابوں سے اتنی محبت کیسے کر سکتا تھا ۔۔؟
ہیر کے دل میں سوال اُٹھا ۔۔ وہ کمرے میں داخل ہو گئی اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔ ابھی وہ کتابوں کو دیکھ ہی رہی تھی جب نظر صوفے پر گئی ۔۔
پاس میں پڑے ٹیبل پر کوئی فائل کھلی پڑی تھی ۔۔ ہیر نے قدم اُٹھائے ۔۔
اور فائل کے قریب ابھی ائی ہی تھی کے لائبریری میں پڑا پرانے طرز کا فون بجنے لگا ہیر پل بھر کو حیران ہوئی ۔۔ پھر واپس گھوم گئی ۔۔
اور کتابوں کے درمیان پڑا فون دیکھا ۔۔ وہ ابھی تک بج رہا تھا ۔۔
ہیر نے کانپتے ہاتھوں سے فون اُٹھایا ۔۔۔ اور کان سے لگایا ۔۔۔
ہ۔۔ ہیلو ۔۔۔ ہیر نے کہا ۔۔ دوسری طرف سے جانی پہچانی اواز گونجی ۔۔
لائبریری میں انے سے روکا تھا نہ میں نے ۔۔اواز میں غصّہ نہیں تھا عجیب سرد پن تھا ۔۔
م۔۔ میری مرضی ۔۔ جب تم مجھے میرے گھر
نہیں جانے دے رہے تو میری مرضی میں جہاں مرضی جاؤں۔۔ہیر نے پل بھر کو خوف کو ایک طرف رکھ کے بڑی ہمت سے کہا تھا ۔۔۔ اور پھر ہیر کی ہمت ایک لمحے میں ختم ہو گئی ۔۔ دوبارہ میری لائبریری میں ائی تو اپنے پاؤں
پر واپس نہیں جا سکو گی گھر میں گھومنے کی اجازت ہے فائل دیکھنے کی یا چیک کرنے کی نہیں ۔۔ اب کی بار علی کی اواز میں سرد پن بڑ گیا تھا ۔۔۔
تم ہو کون آخر ۔۔تم کیا چاہتے ہو ۔۔مجھے جانے کیوں ۔۔نہیں دے رہے ۔۔
تمھیں جانے دیا تو سمجھو خد کو کھو دیا اور میں یہ نہیں ہونے دوں گا ہیر ۔۔
جو کر رہا ہوں کرنے دو ۔۔ یہاں ہو سلامت ہو یہاں نہ ہوتی تو شاید مر چکی ہوتی ۔۔ وہ اب کی بار اونچی اواز میں بولا تھا ۔۔ ہیر سہم کر رہ گئی ۔
۔ اور میں کیا چاہتا ہوں تمھیں یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
اج شام کو میں خود تمھیں تمھارے گھر چھوڑ دوں گا فکر نہ کرو ۔۔ ۔۔
اور ہاں لائبریری سے ابھی اور اسی وقت باہر جاؤ نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ فون بند ہو گیا ۔۔ہیر نے قدم باہر گھما دیے ۔۔۔
وہ باہر ائی تو رات والی ملازمہ باہر کھڑی نظر ائی ۔ ۔ بی بی خدا کا واسطہ ہے اپ کمرے میں رہیں ۔۔ نہیں تو صاحب جی غصّہ کرتے ہیں ۔۔
بی بی جی اپ کیوں ہمیں نوکری سے نکلوانا چاہتی
ہیں ۔۔
مجھے بتاؤ اپ کا یہ صاحب کب واپس ائے گا۔۔ ہمیں نہیں پتہ وہ کب واپس ائیں گے ۔۔
نہیں اتا تو نہ ائے مجھے میرے گھر واپس جانا ہے اپنے یہ گارڈز کو کہو مجھے باہر جانے دیں ۔۔
میں یہ نہیں کر سکتی بی بی جی ۔۔ صاحب کی اجازت کے بغیر ہمیں کوئی بھی کام کرنا منع ہے ۔۔۔
دیکھو اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو ۔۔ ہیر نے یہاں وہاں نظر گھمائی ۔۔ پاس میں
سنٹر ٹیبل پر پڑی پھلوں کی ٹوکری میں چھری نظر ائی ۔۔ ہیر نے چھری اُٹھا کر فوراً اپنی کلائی پر رکھ لی ۔۔
میں خود کی جان لے لوں گی ۔۔ اگر مجھے جانے نہیں دیا تو ۔۔ تمھیں اندازہ ہے ہمارے گھر والے کیا سوچ رہے ہو گے کے میں بھاگ گئی
ہوں کیسی لڑکے کے ساتھ ۔۔ ممکن ہے میں گھر جاؤں اور وہ مجھے جان سے مار دیں ۔۔
دیکھیں بی بی ۔۔ یہ کرنا فضول ہے ۔۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے جب تک صاحب جی ہمیں نہ کہیں۔ ۔۔۔
تو ٹھیک ہے پھر میں اپنی جان لے لیتی ہوں قصہ ہی ختم ہو جائے گا ۔۔
گھر والے بھی کچھ نہیں کہیں گے ۔۔ ابھی ہیر یہ بولی ہی تھی۔۔۔
جب ٹیبل پر پڑا فون بجنے لگا ۔۔۔ ہیر نے فون کی طرف دیکھا ۔۔
یہ تمہارے صاحب کا فون ا رہا ہے نا ہیر نے فورا اگے بڑھتے ہوئے فون اٹھایا۔۔۔۔ تب ہی ملازمہ نے فورا فون اس کے ہاتھ سے
کھینچا اور کال اٹینڈ کی ۔۔۔ جی صاحب جی کہیں ۔۔۔
سپیکر کھولو ۔۔ دوسری طرف سے اواز ائی تھی ۔۔۔ تو ملازمہ نے سپیکر ان کیا ۔۔۔
ہیر میری بات کان کھول کے سن لو ۔۔ تمہیں
اپنی جان لینی ہے تو بے شک ابھی کہ ابھی لے لو لیکن یہ حرکتیں کر کے میرے ملازموں کو یا پھر مجھے تنگ کرنے کی کوشش نہیں کرو ۔۔۔
میں تمہیں پہلے بھی بول چکا ہوں کہ تم اج شام سے پہلے گھر سے باہر نہیں نکل سکتی ۔۔۔ میرا صبر نا ازماؤ ۔۔۔ وہ اب کی بار چلایا تھا ۔۔۔
مجھے میرے گھر جانا ہے سن رہے ہو تم ۔۔۔ ہیر کی انکھوں میں اب انسو اگئے تھے ۔۔
تمہاری اس حرکت کی وجہ سے میرے گھر والے جانتے ہو کیا سمجھ رہے ہوں گے ۔۔۔ دلاور بھائی وہ کس قدر بھٹکا رہے ہوں گے میرے بابا کو ۔۔۔ میرے۔۔میرے ۔ بابا میرے۔۔ سے نفرت کرنے لگیں گے علی ۔۔۔ ہیر روتے ہوئے چلائی تھی ۔۔۔
ہیر تم رو یا جو مرضی کرو لیکن شام سے پہلے تم اس گھر سے باہر نہیں جا سکتی میری بات کان کھول کے اپنے دماغ میں ڈال لو ہیر دوسری
طرف سے علی اس سے بھی اونچا چلایا تھا ۔۔۔ پھر فون بند ہو گیا ۔۔۔۔
ہیر گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئی
نا جانے گھر میں کیا ہو رہا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

یوسف نے شہر کے اس پاس کے سارے پولیس سٹیشن والوں کو ہیر کی تصویر دے دی تھی۔۔۔اور ساتھ میں ڈھونڈنے کا بھی کہہ دیا تھا۔۔۔ جھنگ کے سارے پولیس اسٹیشنز اس وقت ہیر خان کی تلاش میں تھے۔۔۔ لیکن ہیر وہ نہ جانے کہاں تھی وہ تو شاید ان کے ڈھونڈنے سے ملنی ہی نہیں تھی۔۔۔ ہیر کے بابا بے سود سے اپنے بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے ان کی طبیعت اب نڈھال ہو چکی تھی بلڈ پریشر ہائی ہو رہا تھا۔۔ ہیر کی امی الگ سے پریشان تھی۔۔۔
وہ پوری رات اپنی بیٹی کے غم میں روتی رہی تھی نیند ان سب کی انکھوں سے دور تھی ریحان الگ سے پریشانی سے بیٹھا ہوا تھا نہ جانے اس کی بہن کس حال میں ہوگی وہ ٹھیک بھی تھی یا نہیں وہ اچانک ایسے کیسے کہیں پر جا سکتی تھی۔۔۔ دلاور۔۔ اس کا پورا دھیان تھا کہ وہ ہیر کے خلاف کر دے سب کو۔۔۔ لیکن وہ بار بار اس کوشش میں تقریبا ناکام ہی ہو رہا تھا ۔۔۔

یوسف نے یاسر کو بھیجا تھا یسرا کو لینے اور یاسر یسرا کو لینے کے لیے چلا گیا تھا ۔۔۔۔ خود یوسف ہیر کو ڈھونڈنے میں مصروف تھا ۔۔۔ منہ بولی ہی صحیح لیکن ہیر اس کی بھی بہن تھی۔۔ وہ اس وقت سڑکوں پر اپنی گاڑی بھگا رہا تھا ۔۔۔
ہیر کے سب دوستوں کو بھی پتہ چل گیا تھا کہ ہیر لاپتا ہے حیات اور رخسار بھی اس وقت گھر میں ہی موجود تھی ۔۔۔ زرمان کو بھی پتہ
تھا کہ ہیر لاپتا ہے اُس کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔۔ شام اب ڈھلنے ہی والی تھی۔۔۔ صبح کی روشنی آسمان پر مدہم ہو رہی تھی۔۔۔ شام کے
پانچ بج رہے تھے۔۔۔ جب یوسف خالی ہاتھ لیے کامران کے گھر میں داخل ہوا تھا۔۔۔ انکل ہیر کا کچھ بھی عطا پتہ نہیں ہے وہ نہ جانے کہاں پر ہے۔۔۔ وہ نڈھال سی حالت میں بولا تھا یوسف
کل رات سے سویا نہیں تھا اور اس وقت وہ نہایت ہی تھک چکا تھا۔۔۔
لیکن ہیر کو ڈھونڈنا وہ اپنا فرض اور اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔۔۔
کامران خان نہایت ہی پریشان تھے۔۔۔ تب ہی دلاور کو پھر سے بولنے کا موقع مل گیا۔۔
میں کہہ رہا ہوں بابا ہیر اپنی مرضی سے بھاگی ہے
اپ میری بات کا یقین کیوں نہیں کرتے اپ کو یقین نہیں اتا تو ۔۔اگر جب وہ واپس ا جائے تو بے شک اپ اس کا فون دیکھ لیجئے گا نہیں
تو میں خود چیک کروں گا اس کا فون۔۔۔ دلاور بولا تو ریحان کو اس اس پر شدید غصہ ایا۔۔۔ مجھے حیرت ہوتی ہے دلاور خان تم جیسا بھائی
میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ریحان بے ساختہ چلا کر بولا تھا۔۔۔
اپنی اواز سنبھال کر بات کرو لڑکے تم سے بڑا بھائی ہوں اور زیادہ جانتا ہوں دنیا کو اور ہیر جیسی لڑکیوں کو بھی۔۔۔ دلاور کا ا بھی کہنا ہی تھا
جب کامران نے فورا دلاور کے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مارا تھا۔۔۔
دلاور فوراً خاموش ہو گیا۔۔۔ اپنی زبان سے ہیر کے خلاف کچھ بھی نہیں نکالنا دلاور میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔ ہیر جیسی لڑکیاں ۔۔۔
کیا بولے ہو تم ہیر جیسی لڑکیاں تم نے میری بیٹی کو سمجھ کے کیا رکھا ہوا ہے وہ کیسی ہے۔۔۔ تم اس کے بھائی ہو تم یہ سب سوچ بھی کیسے
سکتے ہو دلاور۔۔۔ کامران خان اب چلا رہے تھے۔۔ دلاور کا صبر جواب دے گیا وہ فورا چلاتا ہوا بولا۔۔ اپ سب کو یقین نہیں ارہا میں خود اپ سب کو یقین دلاؤں گا ہیر کا فون چیک کر کے انے دیں اسے ذرا۔۔۔
وہ کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔کامران خان واپس صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔۔ یوسف خاموشی سے پاس کھڑا تھا ۔۔۔ ہیر کی امی
ان کو کبھی پانی پلا رہی تھی۔۔۔ تو کبھی میڈیسن کے پتے ان کے سامنے کر رہی تھی۔۔۔ ان کی طبیعت نہایت خراب ہوتی جا رہی تھی۔
کبھی کبھی بیٹی کی جدائی۔۔ باپ کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔۔۔ اور یہی حال اس وقت کامران خان کا تھا۔۔۔۔
اب کوئی اور راستہ نہیں تھا انتظار کرنے کے علاوہ۔۔۔ اب بس ایک انتظار تھا۔۔۔ ہیر خان کا انتظار۔۔۔
گھنٹوں پر گھنٹے گزر رہے تھے ۔۔۔ زرمان اپنے گھر میں پریشان کھڑا تھا۔۔
اپنی ماں کے سامنے ۔۔۔ امی ۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ہیر صحیح تو ہیں ۔۔ ۔امی مجھے بہت خوف ا رہا ہے انہیں کچھ ہو تو نہیں گیا ۔۔
کچھ نہیں ہوتا میرے بچے تم ہمت رکھو ہیر بالکل ٹھیک ہوگی ۔۔۔۔
زرمان کبھی لاؤنج کے ایک طرف چکر کاٹتا تو کبھی دوسری طرف ۔۔۔ وہ اس وقت شدید پریشان تھا۔۔۔۔

اب شام سے رات ڈھلنے کو تھی ۔۔۔ تقریباً رات کے 8 بج رہے تھے ۔۔
جب کامران ہاؤس کا دروازہ کھولا ۔۔ پھر ہیر گھر میں داخل ہوئی ۔۔۔
سب نے بے ساختہ دروازے کی طرف دیکھا ہیر تھکی تھکی سی لگ رہی تھی انکھوں میں انسو تھے۔۔
اعلی نے کہا تھا اُس کو چھوڑ کے جائے گا لیکن علی نہیں کوئی ڈرائیور اسے چھوڑ کے گیا تھا علی فارغ نہیں تھا ۔۔
ہیر اندر داخل ہوئی اور دلاور جو کچھ دیر پہلے ہی اپنے کمرے سے فریش ہو کر باہر ایا تھا جس کا غصہ پل بھر کو کم تو ہوا تھا لیکن ہیر کا چہرہ دیکھ کر
اسے ایک بار پھر طیش انے لگا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ کامران خان یا ریحان یا گھر میں سے کوئی اور ہیر کی طرف بڑھتا دلاور خان ہیر کی طرف
بڑھا ۔۔۔ اور ایک زوردار تھپڑ ہیر کے چہرے پر رکھ مارا ۔۔۔
ساتھ میں ایک خطاب بھی بخشا ۔۔ بد کردار لڑکی ۔۔ ہیر کم سے کم اس جھٹکے کے لیے تو تیار نہیں تھی۔۔۔ ریحان اور کامران خان اپنی
جگہ پر ساکت رہ گئے کسی کی مجال نہیں تھی ہیر خان پر کوئی ہاتھ اُٹھا سکے
لیکن وہ کوئی اور تھوڑی تھا وہ تو اس کا اپنا بھائی تھا ۔۔ وہ کہتے ہیں نہ ۔۔
ہم ہمیشہ اپنوں کے ہاتھوں زخم کھاتے ہیں۔۔ کسی غیر کو کیا پتہ کے ہماری کمزوری کیا ہے۔۔۔ ہیر ساکت رہ گئی ہونٹ سے خون نکلنے لگا
اور رخسار پر دلاور کی چار انگلیاں چھپ گئی۔
ریحان سے رہا نہیں گیا وہ فوراً دلاور کی طرف بڑھا تھا ۔۔ اور غصے سے اس نے دلاور کو جھپٹ لیا ۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کو
بد کردار کہنے کی۔۔ ریحان نے ایک کے بعد ایک دلاور کے چہرے پر موقعوں کی برسات کر دی تھی ۔۔
آخر ایک دن سے ہیر کے خلاف وہ دلاور کے موں سے غلاظت بھرے الفاظ سن رہا تھا اب جا کر دل کو سکون ملا تھا
ہیر کا ہونٹ ایک طرف سے پھٹا تھا لیکن اس کا پورا چہرہ تھپڑ کے نشان سے نیلا پڑ چکا تھا ۔۔۔ ریحان کو برداشت نہیں تھا ہیر خان کو کوئی بھی
اس طرح سے بلائے ۔۔ یہ اس پر ہاتھ اُٹھائے۔۔۔ دلاور نے تو پھر
تھپڑ مار کے ہیر کے ہونٹ سے خون ہی نکال دیا تھا ریحان کیسے یہ برداشت کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ ریحان کا بس نہیں چل رہا تھا وہ دلاور کی جان لے لے۔۔۔ جب مارتے ہوئے اچانک کامران خان کی اواز گونجھی۔۔
ریحان خان۔۔۔روک جاؤ ۔۔۔ ریحان ایک دم روک گیا ۔۔ انکھوں میں نمی تھی غصّہ تھا ۔۔ بابا اس نے ہماری ہیر کو بد کردار کہا بابا ۔۔ ہماری نازوں سے پلی بیٹی ہماری بہن کو اس
نے تھپڑ مارا بابا یہ کیسا بھائی ہے ۔۔۔ ریحان کو دیکھ کے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی رو دے گا ۔۔۔ کامران خان کی انکھوں میں انسوں اگئے ۔۔ انہوں نے ہیر کو دیکھا ۔۔ اور اپنے پاس انے کو کہا ۔۔ وہ جو دروازے میں ہی سہم کر کھڑی تھی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی کامران خان کی طرف اگئی کہ نہ جانے اب بابا کیا کہیں گے ۔۔۔
ج۔۔ جی ۔۔ ب۔بابا ۔۔ہیر ڈرتے ہوئے بولی
ہیر کہاں تھی تم ۔۔ کس حال میں تھی ۔۔ کیسی تھی بابا کی جان ۔۔ کامران نے ہیر کو گلے
لگا لیا ۔۔۔ وہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی ہاں وہ سخت مزاج تھے ۔۔ لیکن وہ ہیر سے بہت پیار کرتے تھے ۔۔
ہیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔ م۔۔ مجھے ۔۔کیسی نے اغوا کر ۔۔ لیا۔۔۔ تھا ۔۔۔
ہیر نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔ کامران حیران ہو کر رہ گئے ریحان جو اپنی جگہ پر غصے میں کھڑا تھا وہ بھی ایک پل کے لیے حیران رہ گیا ۔۔
کون تھا وہ کس نے اغوا کیا تھا تمہیں ۔۔۔ کچھ ہوا تو نہیں تمھیں ۔۔

رخسار اور حیات ایک طرف خاموش کھڑی تھی وہ اس سارے معاملے میں کچھ بھی نہیں بولی تھی ایک لفظ بھی نہیں ۔۔ م۔۔ میں ن۔۔
نہیں جانتی بابا ۔۔ م۔۔ میں نے اُس ۔۔ کا ک۔۔ چہرہ نہیں دیکھا ۔۔
ہاں ہیر نے اس بات میں جھوٹ بولا تھا اس نے علی کا چہرہ دیکھا تھا
لیکن نہ جانے کیوں اس نے جھوٹ بول دیا کہ شاید کہیں اُس کے بابا علی کو ڈھونڈ کے اس کی جان نہ لے لے ۔۔ اور کم سے کم ہیر تو
نہیں چاہتی تھی کہ کسی انسان کی کسی جیتے جاگتے انسان کی جان چلی جائے ۔۔۔
میرا گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوا تھا ۔۔۔ میں یونیورسٹی کے باہر بہت دیر ڈرائیور کا انتظار کرتی رہی لیکن وہ نہیں ایا ۔۔۔ پھر میں نے خود ہی
گھر انے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔ میرا گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوا۔۔۔
بے ہوش ہو گئی جب میری آنکھ کھلی۔۔ تو میں ایک کمرے میں موجود تھی بابا پتہ نہیں ۔۔ کہاں تھی میں ۔۔
تو کیا تمہیں گھر یاد نہیں ہے تم کہاں پر تھی ہیر ۔۔ ریحان نے نرمی سے اپنی بہن کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔ ن۔۔۔نہیں میں۔۔
جس نے مجھے اغوا کیا تھا اس کا ہی کوئی ڈرائیور مجھے چھوڑنے کے لیے
ایا تھا۔۔۔ ل ۔۔ لیکن اس نے میری انکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی
تاکہ مجھے کچھ نظر نہ ائے ۔۔۔ اور ہاں یہ بات حقیقت تھی ڈرائیور نے علی کے حکم پر ہیر کی انکھوں پر پٹی بندوائی تھی ۔۔۔ تاکہ ہیر کو راستہ یاد نہ رہے اور وہ کسی کو بتا نہ سکے ۔۔۔۔ کامران اب یوسف سے بولے ۔۔
جو پاس کھڑا سن رہا تھا یوسف کسی بھی حال میں اس ادمی کو ڈھونڈو جس نے بھی ہیر کو اغوا کیا تھا ۔۔۔ اور میں تو کم سے کم تمہیں یہی کہوں
گا کہ اس کی جان لے لینا ۔۔۔
پوری کوشش کروں گا انکل جیسے ہی مجھے
وہ ملے گا میں اسے مار دوں گا بلکہ اس کی لاش اپ کے گھر لے کر اؤں گا ۔
یوسف کہتے ہوئے گھر سے باہر نکل گیا ۔۔۔
دلاور کی اگ نہ جانے ابھی بھی ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی وہ ایک بار پھر ٹانگ اڑاتا ہوا بولا۔۔۔ لیکن مجھے تو لگتا ہے تم کسی لڑکے سے
بات کرتی ہو۔۔۔ تم جیسی لڑکیاں اور کر بھی کیا سکتی ہیں۔۔۔ میں نے تمہیں خود دعوت والی رات کو کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے
سنا تھا۔۔۔ ہیر کا رنگ ہوا ہو گیا ریحان نے ایک بار پھر پیچھے کھڑے دلاور کو گھورا لیکن دلاور خان چپ ہونے والوں میں سے تو نہیں تھا۔۔۔
م۔۔ میں۔۔ کی۔۔ کیوں ۔۔ک۔۔ کیسی س۔سے بات کروں گی ۔۔۔
اچھا ایسی بات ہے اپنا فون مجھے دو میں دیکھتا ہوں ہیر کا رنگ نیلا پڑنے لگا ۔۔۔ اگر دلاور زرمان کا نمبر دیکھ لیتا تو گھر میں بوال ا جانا تھا کامران خان نے تو کم سے کم شدید ناراض ہونا تھا ۔۔۔
کیا ہوا ہیر ڈر گئی ۔۔ فون دو مجھے ۔۔ اگر تم بد کردار نہیں ہو یا کسی سے بات نہیں کرتی تھی تو فون دینے سے ڈر کیوں رہی ہو۔۔دلاور کا یہ کہنا
تھا کامران خان اٹھ کر چلائے تھے۔۔ میں تمہیں کہتا ہوں ابھی اور اسی وقت اپنے کمرے میں جاؤ نہیں تو میرے گھر سے نکل جاؤ دلاور۔۔
میری بیٹی کے اوپر میں الزام برداشت نہیں کروں گا نکلو۔۔۔ کامران ہلک کے بل چلائے تھے ۔۔ ۔
جا رہا ہوں بابا اپنے کمرے میں نہیں کرتا اپ کی بیٹی سے کوئی بات۔۔۔ دلاور بھی کہتا واپس اپنے کمرے کی طرف اگیا ۔۔۔
ہیر تم جاؤ اپنے کمرے میں جا کر ارام کرو بیٹا ۔۔ کامران خان نے بولا۔۔

تو ہیر خاموشی سے اٹھتی اپنے کمرے کی طرف اگئی۔۔ کمرے کا دروازہ کھولا سکون کی لہر اس کے اندر تک اتر گئی۔۔۔ وہ تقریباً ایک دن سے
زیادہ وقت کسی اور کے گھر میں رہی تھی لیکن جو سکون اپنے گھر میں تھا وہ کہیں اور نہیں تھا۔۔۔ دلاور نے بہت کوشش کی ہیر خلاف بھڑکانے کی لیکن کوئی بھی بھٹکنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔ ہیر خاموشی سے اپنے کمرے میں اگئی ۔۔ الماری کھولی اپنے کپڑے نکالیں اور واش روم میں فریش ہونے کے لیے چلی گئی۔۔۔۔تقریبا 15 منٹ بعد وہ باہر آئی ۔۔ سر کے بال گیلے تھے اس نے انہیں جوڑے کی قید سے ازاد کیا لیکن سکھانے کی زحمت نہیں کی گیلی لٹیں اب کمر پر لہرا رہی تھی ۔۔
اس نے کندھے پر دوپٹہ ڈالا ائینے میں اپنا چہرہ دیکھا ۔۔ گال پر دلاور کی انگلیوں کے نشان تھے اور اب وہ سوجھ چکا تھا ۔۔۔ ہیر نے اپنے
ہونٹ پر نظر ڈالی جو کنارے سے پھٹا ہوا تھا ۔۔ اور انتہا کا سرخ ہو رہا تھا ۔

ڈریسنگ ٹیبل کا دراز کھول کر ہیر نے کریم نکالی ۔۔ اور اپنے ہونٹ کے کنارے پر لگائی ۔۔۔ پھر خود کو ائینے میں دیکھ کر تنزیہ مسکرائی۔۔ جیسے خود سے ہی کہہ رہی ہو ۔۔ واہ ہیر خان کیسا بھائی پایا تو نے ۔۔ کیا بھائی بھی ایسے ہوتے ہیں ۔۔ خد سے ہی ہیر نے سوال کیا تھا ۔۔ لیکن ہاں کچھ بھائی ایسے ہوتے ہیں جن کی انا کو چھیڑنا نہیں
چاہیے ۔۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ۔۔ جب اُن کی اہمیت کھونے لگے تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اپنے پیارے رشتے کو بدنام بھی ۔۔
ہیر نے خود کو دیکھا ۔۔ اور بیڈ پر ا کے بیٹھ گئی ۔۔ تب ہی دروازہ کھولا ۔۔ ریحان اندر داخل ہوا ۔۔
اب کیسی ہو ۔۔ ریحان اندر اتے بولا ۔۔۔۔ ہاں میں ٹھیک ہوں ۔۔
تم کیسے ہو ۔۔
میں تمھیں دیکھ کے ٹھیک ہو گیا ہوں ہیر ۔۔
ریحان تمھیں کیا ضرورت تھی لڑائی کرنے کی دلاور بھائی سے ۔۔
بس ایسے ہی غصّہ اگیا تھا انہوں نے تمھیں وہ الفاظ بولا اور تھپڑ مارا ۔۔
ریحان نے ہیر کے گال کو چھوا جہاں انگلیوں کے نشان تھے ۔۔
ہیر مسکرائی ۔۔۔
ریحان ۔۔ ہیر نے بلایا ۔۔
ہاں بولو ۔۔
ایک بات پوچھوں ۔۔۔؟
ہاں پوچھو میں سن رہا ہوں ۔۔۔
دلاور بھائی کو اتنا برا لگا اتنا برا کہ ریحان انہوں نے مجھے تھپڑ کھینچ مارا۔۔۔ اگر تم وہاں نہیں ہوتے تو شاید وہ مجھے جان سے مار دیتے ۔۔ تمہیں برا نہیں لگا کیا تمہارا یقین ایک پل کے لیے بھی میرے سے ڈگمگایا نہیں کہ کہیں میں بھاگ گئی ہوں ۔۔ یہ میں نے تم سب کی عزت مٹی میں ملا دی ۔۔ جب تم نے میرا چہرہ دیکھا دروازے میں مجھے کھڑے پایا تو تمہارا دل نہیں کیا کہ تم میری
جان لے لو ۔۔ جیسے دلاور بھائی کی غیرت نے اپنا سر اٹھایا تمہاری غیرت نے اپنا سر کیوں نہیں اٹھایا ریحان۔۔۔ تمہاری عزت نے تمہاری غیرت نے تمہیں مجبور کیوں نہیں کیا ۔۔ کہ تم بھی مجھے بھاگا ہوا سمجھتے۔۔ یا تم مجھے تھپڑ مارتے ۔۔۔ یا مجھے دلاور بھائی کی طرح بد کردار کہتے تم بھی تو بھائی ہو نا میرے۔۔۔
ہیر کی انکھوں میں اب انسو آگئے تھے ۔۔۔
ہیر میں پاگل نہیں ہوں کہ غیرت کے نام پر تمہیں مار دوں میری ایک ہی بہن ہو تم۔۔۔ اور اگر میری کوئی اور بہن بھی ہوتی تب بھی میں تمہیں کچھ نہ کہتا ۔۔۔ ریحان اگر مجھے کیسی سے محبت ہو دلاور بھائی مجھے غلط سمجھے گے ۔۔ تم مجھے غلط نہیں سمجھو گے کیا ؟
نہیں ہرگز نہیں۔۔ محبت کرنا اگر مردوں کے لیے گناہ نہیں ہے تو عورتوں کے لیے بھی نہیں ہونا چاہیے اور میری نظر میں یہ گناہ نہیں ہے ہیر ۔۔۔
میں بس تمہارے لیے فکر مند تھا ۔۔میرے دماغ میں ایک پل کے لیے بھی یہ خیال نہیں ایا کہ تم بھاگ گئی ہو ۔۔۔اور جہاں تک مارنے
کی بات ہے۔۔ تم میری ایک بہن ہو ہیر اگر تمہیں مار دوں گا تو میرے پاس کیا رہ جائے گا ۔۔۔۔؟ ریحان نے اپنے کندھے اچکائے ۔۔۔
تم میری لاڈلی بہن ہو تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا اور یہ غیرت وغیرہ کچھ نہیں ہوتی یہ صرف دنیا داری کی باتیں ہیں ۔۔۔ اس جہان میں غیرت
کے نام پر مار دوں تو اگلے جہان میں حساب کے دن کیا کروں گا میں۔۔۔۔ ؟
اور مردوں کی عزت اور غیرت تب ہی کیوں جاگتی ہے جب اپنی بیٹی یا بہن کی بات اتی ہے ۔۔۔ جب اس کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے۔۔۔ جب وہ اپنی محبت کا اقرار کر لیتی ہے ۔۔۔اور دیکھو بھلا غیرت جاگتی بھی ایسے ہیں کہ اپنی ہی ساتھ پروان چڑھی بہن اور اپنی ہی ناز نخروں سے پالی بیٹی کا خون سوار ہو جاتا ہے ۔۔۔ ہیر اب رو رہی تھی ۔۔
مجھے ایسی غیرت کو نہیں جگانا ہیر جو میری بہن کو ختم کر دے ۔۔۔
اگر دنیا یہ دلاور کی نظر میں میں بے غیرت ہوں ۔۔ تو میں اسے ہی صحیح ہوں ۔۔۔ ہیر کا چہرہ اب سرخ ہونے لگ گیا تھا ۔۔ انسو انکھوں
سے لگاتار گر رہے تھے وہ ہچکیوں کے درمیان بولی ۔۔ کاش کہ سارے۔۔۔ بھائی۔۔ تمہاری۔۔ طرح ہو ریحان ۔۔۔ تمہاری بیٹی بہت قسمت
والی ہوگی ۔۔ جو اسے تم جیسا باپ ملے گا ۔۔۔ کاش کے دلاور بھائی تمہاری طرح ہوتے ۔۔ کاش کے ہر بہن کا بھائی تمہاری طرح ہوتا ۔۔
کاش ریحان ۔۔ کاش ۔۔ ریحان کی انکھوں میں انسوں آگئے ۔۔
ہیر کا رونا ریحان کو ہرگز برداشت نہیں تھا ۔۔
چپ کرو ایسے رو نہیں ۔۔۔ ریحان نے ہیر کے انسو صاف کیے ۔۔۔
سب کی زندگی میں یہ کاش رہ جاتا ہے ہیر ۔۔ ہر ایک کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی ۔۔ ہر ایک کی زندگی میں یہ کاش رہ جاتا ۔۔ انسان سوچتے ہیں کاش ایسا نہیں ویسا ہو جاتا ۔۔کاش یہ نہیں کاش وہ ہو جاتا ۔۔
یہ کاش ہمیشہ رہتا ہے ہیر ۔۔۔ اس کےساتھ جینا پڑتا ہے ۔۔ دنیا کے ہر انسان کے پاس اپنے دکھ اپنی پریشانیاں ہوتی ہیں ۔۔ اگر وہ سب سوچنے بیٹھ جائیں تو ہر انسان پاگل ہو جائے ۔۔ اس لیے ہی تو ۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی کبھی کبھی مسکرانا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اب تم مسکراو ہیر نہیں تو میں دلاور کو جا کے دو چار تھپڑ اور مار کے اتا ہوں ۔۔
ریحان بولا تو ہیر روتے ہوئے مسکرا دی ۔۔
یہ ہوئی نہ بات ۔۔۔
ریحان نے ہیر کے سر پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔ وہ کبھی کبھی ہی اتنا جذباتی ہوتا تھا۔۔۔ وہ اُٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگا تو ہیر پیچھے سے بول اٹھی۔۔
ریحان ۔۔ م۔۔ میں ز۔۔ زرمان کو۔۔ کو پسند کرتی ہوں۔۔۔
ریحان پل بھر کو کھڑا رہا پھر مسکرا دیا ۔۔ جانتا ہوں ۔۔ وہ بھی تمھیں پسند کرتا ہے ۔۔۔ ریحان نے کہتے ہوئے قدم کمرے سے باہر رکھ دیے ۔۔
۔۔۔ ہیر نے سکون کا سانس لیا ۔۔ لیکن ابھی تو آندھی آنی تھی ۔۔
ابھی تو ہیر خان کے آس پاس دو ایسے طوفان گھوم رہے تھے ۔۔
جو خود کو تو برباد کرنے کو تیار تھے ساتھ میں ہیر کو بھی برباد کرنے والے تھے اور ہیر کے ساتھ شاید کسی اور کو بھی ۔۔۔۔۔۔

ایک دن رہتا تھا ہیر کو لاہور جانا تھا ٹرپ پر ۔۔ اپنے دماغ سے ہر سوچ کو بھلائے ہوئے یہی سوچتے ہوئے ہیر اپنے بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔
ابھی اس کو ارام کرنا تھا اور صبح اس کو جلدی اٹھنا تھا یونیورسٹی کے لیے جو ایک دن کا لیکچر اس نے مس کیا تھا اسے وہ بھی کور کرنا
تھا اور سبمٹ کروانا تھا ۔۔ اور پرسوں صبح لاہور کی ٹرپ کے لیے نکلنا تھا۔۔۔ ۔۔ ہیر بیڈ پر لیٹی کروٹیں بدلتی رہی نیند انکھوں سے
کوسوں دور تھی۔۔۔ لیکن کسی کی بھرپور نظر اس پر تھی۔ ۔۔
جو جاگتے سوتے ہر پل اس پر نظر رکھتا تھا وہ جہاں کہیں بھی ہو وہ اس پر نظر رکھتا تھا۔۔۔
یہ علی کی لائبریری کا منظر تھا۔۔۔ وہ لائبریری میں صوفے پر بیٹھا سینٹر ٹیبل کے اوپر اپنا لیپ ٹاپ رکھے ہوئے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جو شاید ہیر کے کمرے کی تھی ۔۔۔ علی
بہت ہی دھیان سے ہیر کی اوپر نظریں گاڑے بیٹھا تھا ۔۔۔ چہرے پر سنجیدگی ۔۔ انکھوں میں سرد پن ۔۔۔ ایک دم الرٹ ۔۔۔
وہ پورے دن کا تھکا ہوا تھا وہ سونا چاہتا تھا لیکن وہ سو نہیں سکتا تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا ہیر کے گھر میں کوئی تھا جو کیسی بھی حد تک جا سکتا تھا ہیر کو بدنام کرنے کے لیے ۔۔۔ یا اسے نقصان پہنچانے کے لیے ۔۔۔
علی کسی بھی حال میں ارام نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔اسی لیے اس وقت علی کے پاس ٹیبل پر بلیک کافی سے بھرا مگ پڑا تھا وہ سی سی ٹی وی دیکھتا ہوا گھونٹ گھونٹ کافی پی رہا تھا نہ جانے یہ اس کا کتنا مگ تھا۔۔
تب ہی ملازمہ نے لائبریری کا دروازہ کھٹکھٹایا اجاؤ علی کی اواز پر ملازمہ دروازہ کھول کر اندر ائی صاحب جی کھانا تیار ہے اپ ا جائیں ۔۔
میرا کھانا مجھے یہاں ہی دے دو اور ممی کو کہو وہ کھانا کھا لیں میں اج ان کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکوں گا علی نے کہتے ہوئے اسے لائبریری سے
باہر جانے کا اشارہ کیا تو وہ خاموشی سے گردن ہلاتی باہر چلی گئی ۔۔۔
کوئی جانتا ہی نہیں تھا علی ہیر پر نظر کیوں رکھ رہا تھا ۔۔۔ اخر کیا راز تھا ۔۔
اخر کون تھا ۔۔ ایک پرفیوم کی کمپنی کا مالک ۔۔ یہ پھر کوئی گینگسٹر ۔۔۔ ؟

یاسر جو یوسف کے گھر میں یسرا کو کولڈ ڈرنک دے رہا تھا ۔۔۔
ٹرے سے کولڈ ڈرنک کا گلاس اٹھاتے ہوئے یسرا نے اس کا چہرہ دیکھا۔۔۔
شکریہ اپ کا۔۔۔ ویسے یوسف بھائی نظر نہیں ارہے کہاں پر ہیں۔۔۔
کامران صاحب کے گھر گئے ہیں بس اتے ہی ہوں گے ۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے میں انتظار کر لیتی ہوں ۔۔یسرا خاموش ہو کے بیٹھ گئی ۔۔ یاسر سامنے والے صوفے پہ جا کے خاموشی سے بیٹھ گیا
اور اس کو دیکھنے لگا ۔۔۔ یاسر کی نظر خود پر محسوس کرتے یسرا نے اس کو گھورا ۔۔۔ کیا اپ کو کوئی بیماری ہے جو مجھے گھورتے رہتے ہیں ۔۔۔
جی عشق کی بیماری ہے کیا اپ ٹھیک کر دیں گی ۔۔۔ اس کی بات پر یسرا مسکرائی نہیں میرے پاس عشق کی بیماری کا علاج نہیں
ہے اپ کسی اور سے رابطہ کریں ۔۔۔
لیکن جب عشق ہوا ہی اپ سے ہے تو کسی اور سے رابطہ کر کے میں کیا کروں گا ۔۔۔ ویسے اپ سے بھرا فلرٹ کرنے والا انسان میں نے زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔۔
دیکھیں گے بھی کیسے میں اکیلا ہی ہوں اس دنیا میں ۔۔۔ سنگل پیس یو نو ۔۔۔
۔ یاسر معصومانہ انداز میں بولا یسرا ہنسنے لگی ۔۔۔
یاسر بھی ساتھ ہی مسکرایا ۔۔ تب ہی فلیٹ کا دروازہ کھلا اور یوسف اندر داخل ہوا ۔وہ تھکا تھکا نڈھال سا لگ رہا تھا ۔۔۔ یاسر نے اس
کو پانی کا گلاس دیا ۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے پینے لگا ۔۔۔
بھائی ہیر مل گئی ہے کیا ۔۔۔
ہاں یاسر مل گئی تھی ۔۔۔
کہاں سے ملی کیسے ملی ٹھیک ہے وہ ۔۔۔؟
یاسر وہ اغوا ہو گئی تھی پھر نہ جانے کڈنیپرز
خود ہی اسے چھوڑ کر چلے گئے۔۔
اللہ اللہ ۔۔۔ کیسے کڈنیپر ہے کوئی پیسہ کوئی رقم مانگی ہی نہیں ۔۔ یاسر حیران ہوا تھا۔۔۔
مجھے خود یہ بات سمجھ نہیں ائی یاسر یہ کیسے گرنیپر تھے جنہوں نے بس ہیر کو کڈنیپ کیا ۔۔۔
چلیں اپ یہ سب چھوڑیں یہ شکر منائیں کہ وہ ملی تو صحیح ۔۔
ہاں یاسر ہم سب ہی بہت پریشان ہوئے تھے پورے دن سے میں سڑکوں پر گھومتا پھر رہا تھا ۔۔ یسرا خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔
یوسف بھائی یہ ہیر وہی ہے نا جس کی یونیورسٹی میں اپ مجھے صبح ایڈمیشن کے لیے لے کر جائیں گے ۔۔۔
صبح تو نہیں لے کے جا سکتا کچھ دنوں میں
لے کر جاؤں گا پرسوں ہیر کی یونیورسٹی کی ٹرپ جا رہی ہے میں نے یونیورسٹی سے پتہ کیا تھا ۔۔ تو اس کے بعد ہی تم ایڈمیشن لے سکتی ہو ۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے کوئی بات نہیں لیکن میں تب تک کیا کروں گی میں بور ہوں گی گھر میں اپ دونوں تو پولیس اسٹیشن چلے جاتے ہیں ۔۔۔
اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا یسرا میرا پولیس اسٹیشن جانا تو بہت ضروری ہے ۔۔ ہاں یاسر کا کل کوئی کام نہیں ہے اسے فیحال
اسے میرے ساتھ کسی کیس پر نہیں جانا ہے ۔۔۔ تو کل وہ تمہیں جھنگ گھما دے گا ۔۔۔ یسرا نے برا سا منہ بنا کے جی کہا ۔۔۔ یاسر کی خوشی تو جیسے چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ۔۔۔ٹھیک ہے یوسف بھائی میں کمرے میں جا کر جلدی
سوتا ہوں صبح جلدی اٹھنا ہے نا یسرا جی کے لیے یاسر جلدی سے کہتا ہوا سوفے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا تو یوسف نے حیران کن نظروں سے
اسے دیکھا ۔۔۔ ۔۔بڑی بات ہے یاسر کبھی اتنی خوشی پولیس اسٹیشن جانے کے لیے تو نہیں ہوئی ۔۔۔ پولیس اسٹیشن جانے کے لیے کون خوش ہوتا ہے بھائی۔۔
یوسف خاموشی سے یاسر کو دیکھ کر رہ گیا ۔۔ یسرا تو کب کی اُٹھ کے اپنے کمرے میں سونے کے لیے جا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

قاسم اس وقت لاہور کی سڑک پر گھوم رہا تھا ۔۔۔ قاسم خان اور لاہور ۔۔ کیسے ۔۔؟ وہ اپنے گھر والوں کو بتا کر ایا تھا کہ وہ کسی ضروری ہوٹل کی ڈیل کی وجہ سے لاہور جا رہا ہے ۔۔۔ لیکن کوئی ڈیل تو تھی ہی نہیں ۔۔ وہ تو شاید کوئی اور ہی ڈیل پوری کرنے ایا تھا ۔۔
۔قاسم کسی گھر کے اندر داخل ہوا ۔۔۔گیٹ کھولا تھا ۔۔ گارڈ نے ارام سے اسے گھر کے اندر داخل ہونے دیا جیسے پہلے سے جانتا ہو ۔۔
قاسم نے چہرے پر ہیلمٹ پہن رکھا تھا جو کہ ابھی تک اتارا نہیں تھا ۔۔۔ سیاہ پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی وہ گھر میں داخل ہوا اور لاؤنچ میں آگیا ۔۔ ایک 33 35 سال کا مرد سامنے کھڑا بات کر رہا تھا ۔۔
قاسم تمھیں کیسی بھی حال میں اس وکیل کو مارنا ہے اگر وہ بچ گیا تو یقینا میرے بیٹے کو سزائے موت دلوا کر چھوڑے گا
اپ بالکل فکر نہ کریں ۔۔ میرے لیے انسان مارنا مشکل کام نہیں ہے ۔۔۔
اور اس کو میں مار دوں گا ۔۔
ٹھیک ہے قاسم اگر تم نے یہ کام کر دیا
تو تمہیں منہ مانگی قیمت ملے گی ۔۔۔
رہنے دیں عدنان صاحب اگر میں نے منہ مانگی قیمت مانگ لی تو آپ کا یہ گھر اور ساری جائیداد بھی کم پڑ جائے گی ۔۔۔ اس لیے آپ بتا دیں آپ کیا دیں گے نہیں تو پھر میں اپنی فرمائش رکھتا ہوں ۔۔
قاسم میں تمہیں 2 کروڑ دوں گا اس وکیل کو مارنے کے ۔۔ عدنان بولا تو قاسم اس کو دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔
بس۔۔ دو کروڑ ۔۔۔ ؟ اپ کو نہیں لگتا یہ کم ہے ۔۔ بلکہ شاید یہ بہت زیادہ ہی کم ہے ۔۔
تو قاسم پھر تم خود ہی بتا دو تمہیں کتنے پیسے چاہیے ۔۔۔ چلیں پھر 10 کروڑ دے دے ۔۔نہ زیادہ نہ کم ۔۔۔ ! قاسم بڑے ہی نارمل انداز
میں بولا جیسے 10 کروڑ کوئی رقم ہی نہیں ہوتی جبکہ عدنان کا منہ کھل گیا ۔۔۔
قاسم 10 کروڑ کچھ زیادہ نہیں ہے ۔۔
نہیں بالکل بھی نہیں۔۔۔ بلکہ یہ تو ابھی بھی بہت کم ہے ۔۔
میں نے تو آپ کا احساس کر کے اتنے کم پیسے
مانگے ہے نہیں تو میں زیادہ لیتا ہوں ۔۔۔ اپ سمجھ رہے ہیں نہ ۔۔۔
ٹھیک ہے قاسم میں دے دوں گا 10 کروڑ ۔۔
سوچ لیجیے عدنان صاحب کیونکہ اگر اپ مکریں ۔۔ تو ممکن ہے میں اپ کی جان بھی کے لوں ۔۔ اپ چاہیں خود کو بیچیں مجھے میرے پورے پیسے چاہیے کام ہو جانے پر ۔۔
یقین رکھو قاسم میں دے دوں گا ۔۔۔ تم اس کا کام تمام کر دو پہلے ۔۔
ٹھیک ہے سمجھیں ہو گیا اُس کا کام تمام ۔۔۔ قاسم کہتا گھر سے۔ باہر نکل گیا ۔۔۔۔

باہر آ کر اس نے بائیک سٹارٹ کی اور پوری رفتار سے بائیک بھگا لے گیا ۔۔۔ ۔۔

یہ صبح پرسکون اور سہانا دن تھا ۔۔۔ہیر اپنے بستر سے اُٹھی ۔۔
وہ ایک دن بعد سکون کی نیند سوئی تھی ۔۔۔ وہ اپنے بیڈ سے اُٹھی اور فریش ہونے کے لیے واش روم میں چلی گئی کچھ دیر بعد وہ واش روم سے فریش ہو کر باہر ائی ائینے میں کھڑے ہو کر اپنا عکس شیشے میں دیکھا چہرے کی سوجن قدریں کم ہو گئی تھی لیکن نشان ابھی بھی نظر ارہے تھے ۔۔۔ خیر نشانوں پر غور کرتی تو یونیورسٹی جانا مشکل لگتا ۔۔۔
اس نے ہلکی پھلکی شلوار قمیض پہن رکھی تھی سیاہ چادر اپنے گرد لپیٹی اپنا بیگ اُٹھایا اور کمرے سے باہر نکل ائی ۔۔۔ کامران صاحب
صوفے پر بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے ساتھ ساتھ چائے پی رہے تھے ۔۔۔
ہیر کو اتے دیکھ کر مسکرائے آؤ آؤ بیٹا۔۔۔ السلام علیکم بابا۔۔۔
وعلیکم السلام بابا کی جان کیا حال ہے تمہارا۔۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
ہیر نے مسکراتے ہوئے کہا کامران خان کی نظر ہیر کے چہرے پر لگے نشان پر پڑی ۔۔۔ انکھوں میں دلاور خان کے لیے غصہ درایا جو خاموشی
سے ٹی وی کی طرف نظریں گاڑے بیٹھا تھا اس نے ہیر کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔
تم کیا یونیورسٹی جا رہی ہو کامران خان نے پوچھا۔۔۔جی بابا یونیورسٹی ہی جا رہی ہوں۔۔
ہیر ارام کر لیتی میرا تو خیال تھا تمہیں اج نہیں جانا چاہیے تھا یونیورسٹی۔۔۔
نہیں بابا پہلے ہی ایک دن کا لیکچر ضائع کر چکی
ہوں ابھی تو بالکل بھی چانس نہیں ہے دوبارہ لیکچر ضائع کرنے کا۔۔۔
ٹھیک ہے یہ ریحان تمہیں خود لینے ائے گا یونیورسٹی سے۔۔
اس سے پہلے غلطی سے بھی یونیورسٹی سے باہر نہیں نکلنا۔۔۔
جی بابا جیسا اپ کہیں میں نہیں نکلوں گی یونیورسٹی سے باہر۔۔۔
ریحان ہی ہیر کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تھا۔۔۔
وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئی اور اپنی کلاس کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔
کوریڈور میں زرمان چلتا ہوا نظر اگیا وہ نڈھال نڈھال سا چل رہا تھا۔۔۔
وہ دوڑتے ہوئے اس تک بڑھی۔۔ اور پیچھے سے زرمان کے کندھے کو تھپکا ۔۔۔ وہ ایک پل کو ٹھٹکا پھر مڑ کر دیکھا۔۔زرمان کا بجھا ہوا چہرہ
کھل اُٹھا۔۔۔انکھوں میں خوشی بھرے انسو اگئے ۔۔۔ او ۔۔ اللہ ۔۔
آپ ۔آپ ٹھیک ہیں زرمان فوراً سے چہک کر بولا تھا ہیر نقاب کے اندر سے کھل کھلا کر ہنسی ۔۔۔ ہاں دیکھو میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔
ہیر کہاں تھی آپ کو ذرا سا بھی اندازہ ہے میں کتنا پریشان ہو گیا تھا
آپ ایسے کیسے گھر سے غائب ہو سکتی ہیں رخسار اور حیات نے بتایا ہے آپ اغوا ہو گئی تھی ہیر ایسے کیسے کوئی آپ کو اغوا کر سکتا ہے
آپ کو کہیں چوٹ تو نہیں ائی آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔ زرمان بنا رکے سوال پہ سوال کر رہا تھا۔۔۔ اور ہیر اس کا فکر مند ہونا دیکھ کر
مسکرائے جا رہی تھی ۔۔
رکو ذرا صبر کرو میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔
اور کچھ ہو بھی نہیں سکتا ۔۔۔ ہیر خان کو بھلا کوئی کچھ کر سکتا ہے کیا۔۔۔
ہیر مذاق نہ کریں۔۔ آپ کو ذرا سا بھی اندازہ ہے میں کتنا زیادہ ڈر گیا تھا۔۔۔
پوری رات مجھے سکون سے نیند نہیں آئی کہ آپ صبح یونیورسٹی ائیں گی بھی یا نہیں۔۔۔ مجھے اگر ذرا سا بھی اندازہ ہوتا کہ اس دن آپ کے
ساتھ وہ واقعہ ہو جائے گا میں کبھی بھی آپ کو اکیلے آپ کے گھر نہیں جانے دیتا ۔۔ ائندہ سے میں کبھی بھی آپ کی طرف سے لاپرواہی نہیں
برتوں گا ۔۔ کچھ بھی ہو آپ میرے ساتھ ہی اپنے گھر جایا کریں گی۔۔
۔زرمان بولے جا رہا تھا ہیر نے ایک دم اس کی زبان کو بریک لگائی۔۔
کیا ہو گیا ہے پاگل تو نہیں ہو گئے بابا نے اگر دیکھ لیا نا تمہیں ہمارے ساتھ تو تمہاری بھی جان لے لیں گے اور میری بھی ۔۔
کوئی بات نہیں آپ کے لیے میں مرنے کو بھی تیار ہوں۔۔۔
دیکھو زرمان بابا نے ریحان کو کہا ہے وہی مجھے چھوڑنے اور لینے کے لیے ایا کرے گا تمہیں فکر کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
اچھا ریحان ایا کرے گا چلیں پھر ٹھیک ہے لیکن آپ اپنا دھیان رکھا کریں ۔۔۔ آپ کیا ائندہ سے میں آپ کا دھیان رکھا کروں گا ۔۔۔
بس اسی لیے آپ سے کہتا ہوں کہ میرے سے شادی کر لیں کم سے کم ہمیشہ آپ کے اس پاس تو رہوں گا آپ کا خیال رکھنے کے لیے ۔۔
اب کی بار ہیر نے گھور کر اسے دیکھا پھر وہ کچھ سیریس انداز میں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بولا۔۔۔
آپ کے گھر والوں نے آپ کو کچھ کہا تو نہیں۔۔۔مطلب کامران انکل
یا پھر آپ کا وہ بھائی کیا نام ہے اس لنگور کا
دلاور خان اس نے کچھ کہا تو نہیں آپ کو ۔۔۔ بابا نے کچھ نہیں کہا تھا ہمیں ۔۔۔ بس ہیر نے اتنا ہی کہا زرمان نے چلتے ہوئے قدم
روک دیے۔۔۔ پھر ہیر کی طرف دیکھا اور دلاور نے ۔۔۔؟
ہیر پل بھر کو خاموش ہوئی ۔۔۔ زرمان سمجھ گیا ۔۔ ہیر کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی ۔۔۔ مطلب اس نے آپ کو ڈانٹا ہے۔۔۔
ہیر نے نفی میں گردن ہلائی ۔۔۔۔تو پھر ہیر ۔۔
ہیر نے ہلکی سی اپنے چہرے پر سے چادر ہٹائی ایسے کہ ہیر کے ایک
گال کا رخ نظر ایا ۔۔۔ جہاں پر قاسم کی انگلیوں کے نشان نظر ائے سرخ نشان ۔۔۔ زرمان کو اپنا دل حلق میں اتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔
ی۔۔ یہ قاسم ۔۔نے مارا ۔۔ہے؟ہیر نے بس ہاں میں گردن ہلائی
اور چادر واپس اپنے چہرے کے گرد کر لی ۔۔۔
ک۔۔ کیسی ن۔نے روکا نہیں ۔۔ زرمان نے اگلا سوال پوچھا
زرمان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا انکھوں میں نمی تھی وہ ہیر کا درد ہیر سے زیادہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔ کہا نا ریحان نے تو ان کو مارا بھی تھا ۔۔
بابا نے بھی ان کو بہت ڈانٹا ۔۔۔
اور آپ ۔۔۔ آپ نے کوئی صفائی نہیں دی ۔۔؟
ان کو کتنی بھی صفائی دے لیتی انہیں یقین نہیں انا تھا وہ تو کہہ رہے تھے میں بد کردار
ہوں کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی۔۔۔ انہوں نے مجھے تم سے دعوت والی رات بات کرتے ہوئے سن لیا تھا۔۔ انہیں یہ نہیں پتہ میں تم سے بات کر رہی تھی۔۔۔
زرمان اب حیران تھا ۔۔۔ ت۔۔ تو اب ۔زرمان نے پوچھا ۔۔۔
۔ اب کچھ نہیں کیا ہونا ہے ۔۔ ؟ہیر نے لاپرواہی سے جواب دیا۔۔۔
پھر ایک پل کو زرمان ۔۔کی طرف دیکھا۔۔ زرمان ۔۔۔ ہیر نے بلایا وہ جو خاموشی سے تیز تیز قدم ہیر سے اگے کو چلنے لگ گیا تھا کہ کہیں ہیر اس کے چہرے کے تاثرات نہ دیکھ لے یک دم رک گیا ۔۔ پھر اپنے چہرے کو نارمل کرتے ہوئے پیچھے پلٹا اور مسکرایا۔۔
جی کہیں
زاتا سرا مینا کم ۔۔۔۔ ہیر نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔۔ زرمان سمجھ ہی نہیں سکا ۔۔ کیا ا ا ۔۔۔۔ یہ کیا کہا اپ نے۔۔۔
میں نے کہا زرمان ز تا سرا مینا گم ۔۔۔
یہ کیا اپ مجھے پشتو میں گالی دے رہی ہیں ۔۔۔ زرمان پل بھر کو حیران ہوا اور منہ بناتے ہوئے بولا ۔۔۔
نہیں گالی تو نہیں دی ۔۔۔
تو پھر اُردو میں بولیں نہ کیا بولا ہے اپ نے ۔۔
جاؤ یہاں سے جب سمجھ آجائیں کے میں نے کیا کہا ہو پھر انا ۔۔
ٹھیک ہے ابھی گوگل پر سرچ کر لیتا ہوں ۔۔زرمان نے کہتے ہوئے
اپنی پینٹ کی جیب سے فون باہر نکالا تو ہیر فوراً سے بولی ۔۔ خبردار ابھی کچھ بھی گوگل پر سرچ کیا جب گھر چلے جاؤ گے تو گھر جا کر سرچ کرنا فی الحال نہیں ہیر نے گھورتے ہوئے کہا تو زرمان نے معصومیت سے فون واپس اپنی پنٹ کی جیب میں ڈال دیا۔۔۔
ٹھیک ہے جیسا آپ کا حکم آپ کی فرمانبرداری تو میرے پر فرض ہے۔۔
زرمان نے کہتے ہوئے قدم اگے بڑھا دیے۔۔ہیر بھی ساتھ ساتھ جلدی کلاس میں داخل ہو گئی۔۔۔ پیچھے پیچھے حیات اور رخسار بھی
اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ پھر وہیں روز کی طرح جیسے کلاس ہوتی ہے
ویسے ہوئی۔۔۔
میتھ کی کلاس کے بعد افق نے ہیر کو اپنے افس میں بلایا۔۔۔
ہیر دروازہ نوک کرتی اندر افس میں داخل ہوئی۔۔۔۔سر آپ نے مجھے بلایا ہے۔۔۔
جی ائیں بیٹھے ہیر میں نے آپ سے کوئی بات کرنی تھی۔۔۔
جی کہیں سر میں سن رہی ہوں ہیر سامنے چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولی افق کرسی گھسیٹ کر ذرا اگے
ہوا اور اپنے ہاتھ ٹیبل پر رکھے ۔۔۔۔ ہیر میں نے اج دیکھا ہے آپ کا دھیان لیکچر کی طرف نہیں تھا کیا کوئی پریشانی ہے۔۔۔؟افق نے شاید محسوس کر لیا تھا نہ جانے کیسے ہیرکو بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔
نہیں سر کوئی پریشانی نہیں ہے بس سر میں تھوڑا سا درد تھا۔۔۔ اور یہ حقیقت بات تھی پورے دن سے سوچ سوچ کر ہیر کے سر میں درد ہونے لگا تھا۔۔
افق نے اپنے ٹیبل کا دراز کھولا اس میں سے سر درد کی گولی نکالی ۔۔
پانی کا گلاس جو پاس ہی بھرا ہوا پڑا تھا اس نے ہیر کی طرف بڑھایا ۔۔
ساتھ میں میڈیسن کا پتہ بھی ہیر کی طرف بڑھایا ۔۔ یہ سر درد کی دوائی ہے کھا لیں ارام ا جائے گا۔۔۔ افق نے کہا ہیر نے بس اسبات
میں سر ہلاتے ہوئے پتے میں سے ایک گولی نکالی اور ۔۔ پانی کے ساتھ حلق میں اتار دی۔۔۔۔
تو اپ سے پوچھ سکتا ہوں ہیر اپ کل
یونیورسٹی کیوں نہیں آئی تھی۔۔۔
کچھ پرابلم ہو گئی تھی سر گھر میں اس لیے نہیں ا سکی تھی ۔۔۔
اچھا چلیں ٹھیک ہے ۔۔۔
اپ کا ارادہ ہے نہ کل لاہور جانے کا ٹرپ پر۔۔۔ افق نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ افق کے چہرے سے پریشانی جھلک رہی تھی۔۔۔
جی سر میرا پورا ارادہ ہے کل جانے کا۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر۔۔۔ چھٹی تو ویسے بھی ہونے والی ہے اپ کے گھر سے اپ کو کوئی لینے کے لیے ارہا ہے۔۔
جی سر میرا بھائی مجھے لینے کے لیے ائے گا ہیر کو سمجھ نہیں ارہی تھی۔۔
آخر افق اج اس کو اپنے سامنے کیوں بٹھا کر رکھ رہا تھا
لیکن بات یہ تھی کہ ایک دن بھی محبوب کا دیدار نہ ہو تو دل گھبرانے لگتا ہے اور اس وقت ایک دن بعد ہیر کا دیدار کر کے افق کے دل کو سکون ملا تھا نہیں تو وہ واقعی بہت پریشان تھا ۔۔۔۔
میں جاؤں سر۔۔۔
جی ٹھیک ہے ہیر آپ جائیں اب ا فق نے کہا تو ہیر شکریہ کہتی اُٹھ کر افس سے باہر نکل گئی افق اپنی کرسی کے ساتھ پیچھے کو ٹیک لگا گیا۔۔۔۔
وہ گہری سوچ میں گم تھا ۔۔۔۔۔
افق کی نئی کتاب پر کام ابھی تک جاری تھا۔۔۔ وہ بھرپور دھیان سے اپنی کتاب لکھ رہا تھا۔۔۔ یہ اس کی زندگی کی آخری کتاب ہونے والی تھی۔۔۔ اور وہ اس کتاب کو اس طرح سے لکھنا چاہتا تھا کے ایک بار دنیا جانے افق مصطفی کو ۔۔۔۔

ہیر اپنے گھر واپس آئی تو ریحان اور ہیر نے شاپنگ پر جانے کا پلان بنایا تھا البتہ انہوں نے زرمان حیات اور رخسار کو بھی ساتھ ہی بلا لیا
تھا ۔۔۔۔ کل انہوں نے لاہور جانا تھا اور ریحان بس اسی خوشی میں فی الحال ان سب کو شاپنگ اپنے پیسوں سے کروا رہا تھا۔۔۔۔
وہ اس وقت ایک مال کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے ۔۔۔
ہیر اور رخسار کو اپنے لیے کچھ کپڑے خریدنے تھے۔
حیات کا سر درد کرنے لگا تھا تو وہ تو کیفے چلی گئی تھی کافی پینے کے لیے ۔۔۔ جبکہ زرمان
اور ریحان ایک ساتھ ساتھ جینٹس کی دکان میں چلے گئے تھے ۔۔۔۔
زرمان ساتھ ساتھ باتیں کر رہا تھا ریحان سے اور ریحان بھی اس کی باتوں کا بھرپور طریقے سے جواب دے رہا تھا۔۔ ایسے ہی چلتے چلتے
زرمان کے دماغ میں ہیر کے صبح والے پشتو میں کہے الفاظ گونجے ۔۔۔
ریحان تم سے ایک بات پوچھنی تھی ۔۔۔
ہاں پوچھو نا ۔۔۔
میں نے پوچھنا تھا یہ پشتو میں بھی گالیاں ہوتی ہیں کیا ۔۔۔
ہاں ہوتی ہیں پشتو میں گالیاں۔۔
لیکن تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو تم نے کس کو گالیاں
دینی ہیں۔۔ریحان اس کی بات پر ہنسا تھا۔۔۔ نہیں کسی کو بھی نہیں ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔۔۔ اچھا ریحان یہ پشتو میں ایک الفاظ تھا
زرمان نے یاد کرنے کی کوشش کی۔۔۔
ہاں زاتا ۔۔سرا ۔مینا ۔۔کم۔۔۔
اس کا کیا مطلب ہے۔۔۔ ریحان زرمان کے الفاظ سن کر ایک پل کو ہنسا پھر اس کی طرف دیکھا۔۔ کیوں تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو
بس ایسے ہی پوچھ رہا ہوں بتاؤ تو صحیح یار۔۔۔۔ زرمان اس کا مطلب ہوتا ہے کہ مجھے تم سے پیار ہے مطلب ائی لو یو۔۔۔
زرمان کے پیروں کے نیچے سے سمجھو زمین نکل گئی تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں ارہی تھی وہ ہنسے یا روئے۔۔۔ کیا ہیر نے یہی الفاظ اس
سے بولے تھے یا اسے سننے میں غلطی ہوئی تھی زرمان کو سمجھ نہیں ارہی تھی وہ کیا کرے۔۔۔ زرمان راجپوت کا بس نہیں چل رہا تھا
وہ مال کے بیچ و بیچ کھڑا ڈانس کرنے شروع ہو جائے ۔۔۔ کیا ہیر نے اس کو پروپوز کیا تھا ۔۔ ہاں ہیر نے اس کو پروپوز کیا تھا زرمان نے
سوچتے ہوئے اپنے قدم ۔۔ تیزی سے اس طرف کو گھما دیے جہاں پر ہیر تھی ۔۔۔ پھر بھاگتے ہوئے وہ اس دکان کے اندر داخل ہوا سامنے
کاؤنٹر پر ہیر کو کھڑے ہوئے دیکھا وہ کپڑے لے چکی تھی اور اب بل ادا کر رہی تھی جب زرمان کو اپنی طرف بھاگتے ہوئے اتا دیکھ کر حیران ہو گئی۔۔ وہ بالکل اس کے پاس ا کر رکا ۔۔۔ اگر زرمان کے قدموں کو بریک نہ لگتی تو یقینا وہ ہیر سے ٹکراتا ۔۔۔ ہیر پل بھر کو ایک دم پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے
ہاں کہو میں سن رہی ہوں اور یہ کیا عجیب جانوروں کی طرح بھاگ کر ا رہے تھے ۔۔۔ زرمان کا سانس پھولا ہوا تھا۔۔۔
یہاں نہیں مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے دو منٹ کے لیے باہر ائیں گی ۔۔۔ ریحان جو اہستہ اہستہ قدم اُٹھاتے پاس ا رہا تھا وہ
مسکرایا ۔۔۔۔ پھر دکان کے اندر داخل ہوا ۔۔۔
اچھا بولو ہیر ذرا سائیڈ پر ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔ریحان جو تھوڑا فاصلے پر کھڑا ان کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ حیات نے اس سے پوچھا یہ ان
دونوں کو کیا ہو گیا ہے۔۔
کچھ بھی نہیں ان دونوں کی اپسی بات ہے
تم کپڑے خریدو ۔۔۔ ریحان نے کہا تو حیات نے ان دونوں کی طرف سے نظر ہٹائی اور کپڑوں پر دھیان دینے لگی ریحان خاموشی سے سینے
پر بازو باندھے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ دور سے اواز کم ہی سنائی دے رہی تھی۔۔۔
مجھے آپ کے پشتو کا مطلب سمجھ اگیا آپ نے مجھے کیا کہا تھا۔۔۔
اچھا تو پھر بتاؤ میں نے کیا کہا تھا ہیر نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
زرمان مسکرایا نہیں میں ایسے نہیں بتا رہا مجھے شرم اتی ہے
ہیر نے اس کو گھور کے دیکھا ویسے حیرت کی بات ہے اب تمہیں شرم ارہی ہے یونیورسٹی کے پہلے دن تمہیں شرم نہیں ائی تھی اس کے بعد اتنی بار مجھے پروپوز کرتے رہے تمہیں شرم اس وقت نہیں ائی۔۔۔
اب تمہیں شرم ا رہی ہے تھپڑ ماروں گی جلدی بولو
ہیر بولی تو زرمان نے مسکراتے ہوئے کہا اپ نے مجھے ائی لو یو بولا تھا نا پشتو میں۔۔۔ ہیر مسکرائی اور گردن اسبات میں ہلائی
بتائیں پھر بارات کب لے کر اؤں آپ کے گھر میں ۔۔۔ نہیں پہلے تو رشتہ لے کر انا پڑے گا نا۔۔۔
امی کو ساتھ لے کر اؤں گا اپنی۔۔ آپ کے بابا مان تو جائیں گے نا ۔۔۔
کب لے کر اؤں رشتہ ۔۔۔ ہیر اس کا دیوانہ پن دیکھ رہی تھی۔۔۔
جب مرضی دل کرے لے آ ؤ۔۔ ۔۔۔
زرمان بے ساختہ اُچھلا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر ۔۔۔ اج ہی گھر جا کر امی کو بتاتا ہوں۔۔۔ ہم کل یا پرسوں آپ کے گھر رشتہ لے کر ائیں گے۔۔ زرمان نے مسکراتے
ہوئے کہا ۔۔
دماغ درست ہے کل پرسوں ہم نے تو لاہور میں ہونا ہے۔۔۔ تم بھول گئے ہو کیا ۔۔
ٹھیک ہے لاہور سے آنے کے بعد لے آئیں
گے رشتہ ہیر نے ہاں میں سر ہلایا۔۔
چلو اب ہٹو مجھے شاپنگ کرنی ہے ۔۔
ہیر کی مسکراہٹ چھپائے نہیں چھپ رہی تھی لیکن مسکراہٹ چھپانے
چکر میں گالوں پر سرخی ا رہی تھی وہ وہی چھپانا چاہتی تھی زرمان سے تو ایک دم سے مڑ گئی ۔۔۔ اور واپس دکان کے اندر داخل ہو گئی ۔۔۔
ریحان زرمان کے قریب ایا اور اس نے بے ساختہ زرمان کو گلے لگایا
مجھے تم سے پوری امید تھی کہ تم کوئی غلط قدم نہیں اٹھاؤ گے اور تم میری بہن کا دل بھی نہیں توڑو گے۔۔۔
جو دل میں بستا ہو اس کا دل نہیں توڑا جاتا ریحان۔۔۔ میں ہیر کا دل کبھی بھی نہیں توڑ سکتا۔۔۔بس ایک بار لاہور سے واپس ا جائیں۔۔میں لازمی امی کو لے کر اؤں گا ہیر کا رشتہ لے کر۔۔۔ بس اب دعا ہے
بابا بس ہاں کر دیں کیونکہ بابا کا پورا ارادہ ہے کہ وہ قاسم سے ہیر کی شادی کرے گے ۔۔لیکن بابا نے تمہیں بھی دیکھا ہوا ہے ہو سکتا ہے بابا
تمہاری طرف سے ہاں کر سکتے ہیں۔۔۔۔
انشاءاللہ وہ ہاں ہی کریں گے زرمان نے سچے دل سے کہا۔۔۔۔پھر دور کھڑی ہیر پر نظر ڈالی
وہ جو دکان کے اندر کھڑی کچھ کپڑے وغیرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔ زرمان اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *