TEHRAO BY HUMNA KHAN EPISODE :7

ٹھہراؤ قسط نمبر ؛٧

ازقلم حمنہ خان 

باب ۲۰


ظاہر ہاشم اب خود میں گم رہنے لگا تھا۔
ایسا گم… کہ جیسے باقی دنیا دھندلا گئی ہو۔
پہلے وہ صرف سگریٹ پیتا تھا،
اب وہ اس حد سے بھی آگے نکل چکا تھا۔
نشہ شاید وقتی بھلا دیتا ہے۔
مگر ختم کچھ بھی نہیں کرتا۔

دوست فون کرتے۔
بار بار کرتے۔
مگر وہ کسی کا فون نہیں اٹھاتا تھا۔
نہ دوستوں کا، نہ گھر والوں کا، نہ دنیا کا۔
اس نے خود کو جیسے سب کی زندگی سے کاٹ دیا تھا۔
وہ دنیا سے رخصت سا ہو گیا تھا۔
مگر سانسیں اب بھی اسے اسی دنیا میں قید رکھے ہوئے تھیں۔
عجیب قید ہوتی ہے یہ —
جسم زندہ، روح تھکی ہوئی۔
لوگ کہتے ہیں نشہ درد کم کر دیتا ہے۔
مگر نشہ کرنے والوں کا مسئلہ یہی تو ہے۔
وہ پورا دن بےخبر رہ لیں، پھر بھی اذیت ان کے اندر زندہ رہتی ہے۔
ان کا انتظار کرتی ہوئی۔
ظاہر ہاشم کو محبت نے نہیں توڑا تھا صرف۔
محبت اتنی ظالم بھی نہیں ہوتی کہ ایک ہی وار میں انسان کو مٹا دے۔
اسے بہت سی چیزوں نے توڑا تھا۔
دوستی نے۔
اعتماد نے۔
زندگی کے فیصلوں نے۔
اپنوں کی توقعات نے۔
اور ہاں۔۔۔۔۔
ان سب کے بیچ سب سے گہرا زخم پھر بھی محبت نے ہی دیا تھا۔
کیونکہ جب باقی سب چھوڑ دیتے ہیں۔
تب بھی انسان دل سے امید باندھے رکھتا ہے۔
اور جب وہ امید ٹوٹتی ہے—
تو آواز بہت دور تک جاتی ہے۔
مگر سنائی کسی کو نہیں دیتی۔

فون بجتے رہتے۔
اسکرین پر نام چمکتے رہتے۔
مگر وہ دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتا تھا۔
جیسے رابطہ رکھنا اب اس کی زندگی کے اصولوں کے خلاف ہو۔
کمرہ بکھرا پڑا تھا۔
پردے گرے ہوئے، روشنی اندر آنے سے ڈر رہی تھی۔
اور وہ… ایک کونے میں بیٹھا، خود سے بھی نظریں چراتا ہوا۔
دروازے پر دستک ہوئی تھی۔
وہ نہیں ہلا۔
دوسری بار۔۔
اس بار کچھ زور سے۔
پھر بھی خاموشی۔
مگر تیسری بار دستک نہیں تھی —
لگتا تھا جیسے دروازہ توڑ دینے کا ارادہ ہو۔
“ظاہر! دروازہ کھولو!”
آواز میں غصہ بھی تھا، فکر بھی۔
وہ چونکا۔
پہچانی ہوئی آواز تھی۔
وہ اٹھنا نہیں چاہتا تھا۔
کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مگر باہر والا شاید آج واپس جانے نہیں آیا تھا۔
کنڈی آخر کھل ہی گئی۔
دروازہ کھلا تو سامنے اس ابوبکر کھڑا تھا — سانس پھولی ہوئی، آنکھوں میں نمی، چہرے پر سختی۔
“یہ کیا حال بنا رکھا ہے تم نے اپنا؟”
وہ اندر آتے ہی بولا، جواب کا انتظار کیے بغیر۔
ظاہر نے نظریں چرا لیں۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
ابوبکر ہنس پڑا، تلخی سے۔
“مرنے والوں جیسا ٹھیک؟”
خاموشی۔
وہ آگے بڑھا، اس کے کندھے کو تھاما۔
“سب ختم نہیں ہوا۔۔
یہ جملہ جیسے سیدھا اس کے سینے پر لگا تھا۔
ظاہر کی آنکھیں بھر آئیں، مگر وہ رویا نہیں۔
شاید آنسو بھی اب اس سے خفا تھے۔
“میں تھک گیا ہوں”۔۔۔۔
اس نے پہلی بار مانا، آواز ٹوٹی ہوئی تھی۔
“بہت زیادہ۔”
ابوبکر کی گرفت نرم ہو گئی تھی۔
یہاں اکیلے کیوں لڑ رہے ہو؟
ہمیں وہاں جانا ہی نہیں چاہیں تھا، اب دو لوگوں کو ایک سے محبت ہو جائے وہ ایک کو ہی ملے گی نا دونوں کو تو نہیں مل سکتی۔ وہ ایک جبران ہے اور وہ دوسرا تم ہو۔۔ تم نہیں تو اسے اذیت میں ہونا تھا۔ تمہیں نہیں تو آج اسے ہم دلاسہ دے رہے ہوتے۔۔۔

مگر محبت ہمیشہ طاقت ور انسان کے نصیب میں ہی آتی ہے۔۔ اس نے اس کی بات کاٹ کر کہا تھا۔۔

نہیں،، محبت نہیں صرف انسان مل جاتے ہے،، محبت کا طاقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔

کمرے میں عجیب سی خاموشی پھیل گئی تھی۔
ابوبکر اس کے سامنے بیٹھا تھا، نظریں اس پر جمائے۔
اور ظاہر ہاشم… وہ نظریں بچاتے بچاتے تھک چکا تھا۔
آخر کب تک؟
اس نے گہری سانس لی۔
ہونٹ کھلے، مگر لفظ فوراً باہر نہ آ سکے۔
“میں ٹھیک نہیں ہوں”
وہ آہستہ سے بولا، جیسے کوئی بہت بڑا راز مان رہا ہو۔
ابوبکر نے کچھ نہیں کہا تھا۔
صرف سننے لگا تھا۔
اور شاید یہی اسے بولنے کی ہمت دے گیا تھا۔
“میں ہار گیا ہوں” اس کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔۔
سب سے۔ حالات سے۔ اپنے لوگوں سے۔ خود سے۔
اس کی انگلیاں آپس میں الجھ گئیں تھیں۔

میں نے جسے بچانے کی کوشش کی… وہ بھی میرے ہاتھ سے نکل گیا۔
یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں پہلی بار اٹھیں۔
ٹوٹے ہوئے انسان کی نظریں۔
میں مضبوط نہیں ہوں یار۔
اندر سے میں بہت پہلے ختم ہو چکا ہوں۔
ابوبکر کا چہرہ بدل گیا تھا۔
اس نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پکڑ لیے تھے۔
“تم اکیلے نہیں ہو۔”

مسائل ختم نہیں ہوئے تھے۔
مگر بوجھ اب تقسیم ہو گیا تھا۔
اور کبھی کبھی۔
اتنا ہی کافی ہوتا ہے کچھ لمحوں کے لیے۔۔

باب ۲۱

 

حویلی سے منگنی کا سامان آیا تو پورا گھر بھر گیا تھا۔
چمکتے ڈبے، بھاری کپڑے، زیور، مٹھائیاں۔۔

مگر عجیب بات تھی —
اس گھر میں کوئی خوش نہیں تھا۔
لوگ چل پھر رہے تھے، کام بھی ہو رہے تھے، رسمیں بھی نبھائی جا رہی تھیں۔۔
مگر دل؟
دل کہیں اور تھے۔

جیسے سب کو اصل حقیقت معلوم ہو… اور سب اس سے نظریں چرا رہے ہوں۔
فبیحہ ایک کونے میں بیٹھی تھی۔
آج اس کی منگنی ہو چکی تھی۔
لوگ مبارک دے رہے تھے، دعائیں دے رہے تھے، ہنس بھی رہے تھے —
مگر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے ہر لفظ اس سے بہت دور ہو۔
بہت دور۔
اسے اپنے اردگرد کی آوازیں مدھم سنائی دے رہی تھیں۔
جیسے پانی کے اندر سے کوئی دنیا کو دیکھتا ہے۔
سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔
“یہ خوشی ہے؟”
اس نے خود سے پوچھا۔
نہیں۔
یہ کسی فیصلے کا اعلان تھا۔
ایسا فیصلہ جس میں اس کی مرضی شامل نہیں تھی۔
اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے زندگی آہستہ آہستہ اس کے وجود سے الگ ہو رہی ہے۔
جیسے کوئی اس کی روح کو تھوڑا تھوڑا کاٹ رہا ہو۔
آج منگنی ہوئی تھی۔
اور اسے لگ رہا تھا۔۔
جیسے موت نے تاریخ بتا دی ہو۔
اس کی آنکھیں نم تھیں، مگر وہ رو بھی نہیں سکتی تھی۔
کیونکہ رونا سوال کھڑے کر دیتا ہے۔
وہ صرف بیٹھی رہی۔
مسکراتی ہوئی۔
ٹوٹتی ہوئی۔
اور اس کا یہ نظر انداز ہوتا گیا۔۔


حویلی میں شور تھا۔
مبارکبادوں کی آوازیں، سرگوشیاں۔

اور یہاں آوازوں کے بیچ فبیحہ کی قسمت پر مہر لگا دی گئی تھی۔


ظاہر ہاشم کے ہاتھ میں موبائل تھا۔
وہ بے دلی سے اسکرین دیکھ رہا تھا، جیسے کسی بھی خبر سے اب فرق نہیں پڑنا چاہیے۔
مگر کچھ خبریں انسان کو پوچھ کر اثر نہیں کرتیں۔
ایک پیغام آیا۔
مختصر سا۔
چند لفظ۔
“آج فوبیا کی منگنی ہو گئی۔”
بس۔
اتنا ہی۔
مگر یہ چند لفظ نہیں تھے —
یہ فیصلہ تھا۔
وار تھا۔
سانس روک دینے والا لمحہ تھا۔
اس کی انگلیاں ساکت ہو گئیں تھیں۔
موبائل ہاتھ سے پھسلتے پھسلتے بچا۔
چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔
“نہیں”
اس کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا۔
جیسے وہ ایک لفظ حقیقت کو واپس موڑ دے گا۔
دل نے ایک بار زور سے دھڑکا،
پھر جیسے سب سن ہو گیا۔
وہ کرسی پر بیٹھا نہیں رہا — گر سا گیا۔
آنکھوں کے سامنے فبیحہ کا چہرہ آیا تھا۔
اس کی ہنسی۔
اس کی خاموشی۔

اور آج۔
کسی اور کے نام کی انگوٹھی اس کے ہاتھ میں ڈال دی گئی تھی۔
ظاہر ہاشم نے آنکھیں بند کر لیں تھی۔
درد جب حد سے بڑھ جائے تو چیخ بھی نہیں نکلتی۔
صرف سانس چلتی رہتی ہے۔۔
بھاری، ٹوٹی ہوئی۔
“میں دیر کر گیا”
اس نے خود سے کہا تھا۔
اور شاید پہلی بار اسے وقت سے اسے خود سے نفرت ہوئی تھی۔

باب ۲۲

اے گردش ایام مجھے رنج بہت ہے۔۔
کچھ خواب تھے ایسے جو بکھرنے کے نہیں تھے۔۔

پیغام اس کی آنکھوں کے سامنے اب بھی چمک رہا تھا۔
“آج فبیحہ کی منگنی ہو گئی۔”
کتنے سادہ لفظ تھے۔
کتنی آسانی سے لکھ دیے گئے تھے۔
مگر ان لفظوں نے اس کے اندر جو توڑا تھا۔۔
اس کی آواز کہیں نہیں تھی۔
ظاہر ہاشم نے موبائل کو آہستہ سے نیچے رکھ دیا تھا۔
جیسے اب اسے کسی چیز کی ضرورت ہی نہ ہو۔
وہ ہنسا۔
ہاں… ہنسا۔
مگر وہ ہنسی خوشی کی نہیں تھی۔
وہ اس انسان کی ہنسی تھی جس کے پاس رونے کی بھی طاقت نہیں بچتی۔
“ٹھیک ہے…”
اس نے سر ہلایا، جیسے کسی فیصلے کو مان رہا ہو۔
“ایسا ہی ہونا تھا۔”
وہ کرسی سے اٹھا، دو قدم چلا۔
پھر جیسے ٹانگوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
وہ زمین پر بیٹھ گیا تھا۔
پیٹھ دیوار سے لگی ہوئی، آنکھیں خالی۔
کچھ دیر پہلے تک جس دل میں شور تھا،
اب وہاں سنّاٹا تھا۔
ایسا سنّاٹا جس میں انسان اپنی سانس بھی اجنبی لگتی ہے۔
اسے یاد آیا —
وہ خواب جو اس نے دیکھے تھے۔
وہ لمحے جنہیں وہ بچانا چاہتا تھا۔
وہ امید کہ شاید آخر میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔
مگر زندگی کہانیوں جیسی کہاں ہوتی ہے۔
یہاں ہیرو ہمیشہ جیتتا نہیں۔
کبھی کبھی وہ صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔۔
اور سب اس کے سامنے چھن جاتا ہے۔
ظاہر نے چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تھا۔
آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے، مگر آواز پھر بھی نہیں تھی۔
وہ ٹوٹ گیا تھا۔
پوری طرح۔
اور شاید پہلی بار اسے لگا —
کچھ چیزیں واپس نہیں آتیں، چاہے انسان کتنی ہی دیر دروازے پر کھڑا رہے۔


لوگ جا رہے تھے، کچھ رُک کر باتیں کر رہے تھے، رسموں کی تھکن چہروں پر اترنے لگی تھی۔
اور فبیحہ۔۔
سب کے بیچ ہوتے ہوئے بھی کہیں نہیں تھی۔
انگوٹھی اس کی انگلی میں تھی۔
مگر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کے ہاتھ میں بوجھ رکھ دیا ہو۔
وہ اچانک چونکی۔
دل نے بے وجہ تیز دھڑکنا شروع کر دیا تھا۔
ایسا نہیں تھا کہ کسی نے اس کا نام لیا ہو۔
نہ کوئی آواز آئی تھی۔
پھر بھی۔۔
جیسے کہیں کچھ ٹوٹا ہو۔
اس نے بے اختیار سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔
سانس بھاری ہو رہی تھی۔
“کیا ہوا ہے؟”
وہ خود سے پوچھنے لگی۔
اور پھر اچانک۔
ظاہر ہاشم کا چہرہ اس کے ذہن میں ابھرا۔
بہت واضح۔
اس کی آنکھیں۔
اس کی خاموشی۔
وہ باتیں جو وہ کبھی پوری نہیں کر پایا۔
فبیحہ کی پلکیں بھیگنے لگیں تھیں۔
“آپ ٹھیک تو ہیں نا…؟”
یہ سوال اس کے دل نے پوچھا، زبان نے نہیں۔
محبت عجیب ہوتی ہے۔
فاصلوں کی محتاج نہیں ہوتی۔
خبر کے بغیر بھی خبر دے دیتی ہے۔
اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے دور کہیں بیٹھے اس کا نام لے کر درد سے پکارا ہو۔
اس نے ہجوم میں نظریں گھمائیں، جیسے وہ یہاں کہیں مل جائے گا۔
مگر کچھ لوگ قریب ہو کر بھی نہیں ملتے۔
اور کچھ بہت دور ہو کر بھی دل سے نہیں جاتے۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں تھی۔

باب ۲۳


حویلی میں اب بھی روشنی تھی۔
لوگ جا رہے تھے، کچھ رُک کر باتیں کر رہے تھے، رسموں کی تھکن چہروں پر اترنے لگی تھی۔
اور فبیحہ۔۔۔
سب کے بیچ ہوتے ہوئے بھی کہیں نہیں تھی۔
انگوٹھی اس کی انگلی میں تھی،
مگر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے اس کے ہاتھ میں بوجھ رکھ دیا ہو۔
وہ اچانک چونکی تھی۔
دل نے بے وجہ تیز دھڑکنا شروع کر دیا تھا۔
ایسا نہیں تھا کہ کسی نے اس کا نام لیا ہو۔
نہ کوئی آواز آئی تھی۔
پھر بھی۔۔
جیسے کہیں کچھ ٹوٹا ہو۔
اس نے بے اختیار سینے پر ہاتھ رکھا۔
سانس بھاری ہو رہی تھی۔
“کیا ہوا ہے؟”
وہ خود سے پوچھنے لگی۔
اور پھر اچانک۔۔
ظاہر ہاشم کا چہرہ اس کے ذہن میں ابھرا۔
بہت واضح۔
اس کی آنکھیں۔
اس کی خاموشی۔
وہ باتیں جو وہ کبھی پوری نہیں کر پایا۔
فبیحہ کی پلکیں بھیگنے لگیں تھی۔
“آپ ٹھیک تو ہیں نا…؟”
یہ سوال اس کے دل نے پوچھا، زبان نے نہیں۔
محبت عجیب ہوتی ہے۔
فاصلوں کی محتاج نہیں ہوتی۔
خبر کے بغیر بھی خبر دے دیتی ہے۔
اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے دور کہیں بیٹھے اس کا نام لے کر درد سے پکارا ہو۔

مگر اسے اس سے محبت کب ہوئی تھی؟

اس نے ہجوم میں نظریں گھمائیں تھی،
جیسے وہ یہاں کہیں مل جائے گا۔
کچھ لوگ قریب ہو کر بھی نہیں ملتے۔
اور کچھ بہت دور ہو کر بھی دل سے نہیں جاتے۔
اس نے آنکھیں بند کر لی تھی۔


دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں۔۔

 

رات اپنی نمی کے ساتھ پھیل رہی تھی۔
حویلی میں روشنی تھی، مگر دلوں میں اندھیرا۔
لوگ منگنی کی باتیں کر رہے تھے، مستقبل کے قصے بنا رہے تھے۔۔
اور وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی، جیسے اس ہجوم کا حصہ ہو کر بھی اس میں شامل نہ ہو۔
کہیں دور سے کسی نے غزل لگا دی۔
“سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں”
پہلا ہی مصرعہ تھا۔۔
اور اس کا دل لرز گیا تھا۔

مگر دل نے تصویر خود بنا لی تھی۔
وہ بیٹھا ہو گا۔
ہاتھ ڈھیلے۔
آنکھیں خالی۔
اور یہ مصرعہ…
جیسے اس کے زخم پر رکھا جا رہا ہو۔
اس کی پلکوں سے آنسو پھسل گیا تھا۔
“آپ نے دیکھا بھی ہو گا…؟”
اس نے دل میں پوچھا،
“یا اب دیکھنا بھی چھوڑ دیا ہو گا؟”
غزل چلتی رہی۔
ہر لفظ قسمت کا مذاق لگ رہا تھا۔
لوگ واقعی اسے آنکھ بھر کے دیکھ رہے تھے —

شہر کے دوسرے کونے میں رات کچھ اور گہری تھی۔
کمرے کی لائٹ بند تھی۔
صرف کھڑکی سے آتی ہلکی سی روشنی اور ظاہر ہاشم کی ٹوٹی ہوئی سانسیں۔
وہ زمین سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
پیغام پڑھنے کے بعد سے جیسے وقت نے حرکت کرنا چھوڑ دی تھی۔
اچانک موبائل کی اسکرین جل اٹھی۔
کسی نے اسٹیٹس لگایا تھا۔
آواز خود بخود چل پڑی۔
“سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں…”
ظاہر کے ہونٹ ہلے بھی نہیں،
مگر اس کے اندر کچھ بکھر گیا تھا۔
اس نے سر دیوار سے ٹکا دیا۔
آنکھیں بند کر لیں۔
لوگ دیکھ رہے تھے اسے۔
آنکھ بھر کے۔
اور وہ؟
وہ تو اسے اپنا کہہ کر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔
غزل کا ہر لفظ جیسے اس کی ہار کا اعلان تھا۔
اسے یاد آیا۔
وہ ہنسی، وہ باتیں، وہ خواب۔
اور اب کسی اور کے نام کی انگوٹھی۔
وہ مسکرایا — ایک ٹوٹی ہوئی مسکراہٹ۔

آنکھوں سے آنسو نکل کر خاموشی سے گر گیا۔
دور کہیں، اسی وقت، شاید کوئی اور بھی یہی مصرعہ سن کر رو رہا تھا۔
مگر دونوں کے درمیان
فاصلہ صرف میلوں کا نہیں تھا،، قسمت کا بھی تھا۔

یہاں محبت ہار گئی ہے، رسم جیت گئی ہے، اور کردار سانس لیتے ہوئے بھی دفن ہو رہے ہیں۔


دو دن۔
صرف دو دن تھے۔
مگر ان دو دنوں نے صدیوں کا کام کر دیا تھا۔
بہت کچھ ٹوٹا تھا۔
بہت کچھ بکھرا تھا۔
اور جتنا درد باہر نہیں آیا… اس سے کہیں زیادہ اندر اتر گیا تھا۔
وہ دونوں ایک ہی دنیا میں تھے،
ایک ہی آسمان کے نیچے۔
مگر دور۔
اتنے دور کہ اب چاہ کر بھی ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔
نام لینا بھی جیسے جرم ہو گیا تھا۔
یہ میلوں کا فاصلہ نہیں تھا۔
یہ تقدیر کا فاصلہ تھا۔
اور تقدیر کے فاصلے ناپے نہیں جاتے،، صرف جھیلے جاتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں تم میری زندگی کی خوشبو ہو،،
یہ دنیا کا اصول ہے بیٹوں کا گھر بدلنا۔
میں تو باپ ہو تمہارا چاہتا ہوں تمہیں خود سے کبھی الگ نہ کروں مگر یہ ممکن ہے کیا؟ یہ اصول ختم ہونے کا نہیں ہے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ اس دنیا کو دنیا رکھنے کا سب سے مضبوط دستور۔ کل کو اس جگہ آپ کی بیٹی ہوگی۔ اس وقت آپ کو اسے رخصت کرنا ہوگا اور آج مجھے آپ کو۔
اس وقت آپ صرف خود کو سمجھ رہی ہے، اس وقت آپ مجھے اور اسے دونوں کو سمجھ سکے گی۔۔
یہ باپ کے لفظ تھے، اور اس وقت یہاں ہر کوئی رو رہا تھا ۔۔۔


شادی ہو چکی تھی۔
فبیحہ اب حویلی میں تھی۔
اس کا استقبال ایسے ہوا جیسے کوئی ملکہ آئی ہو،
جیسے آسمان سے کوئی پری زمین پر اتری ہو۔
روشنی، پھول، دعائیں، خوشیاں۔
سب کچھ تھا۔
بس وہ نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔
وہ ہر چیز کو دیکھتی، چھوتی، سنتی ہوئی گزر رہی تھی —
مگر جیسے اس کا دل کہیں پیچھے رہ گیا ہو۔
بہت پیچھے۔
کمرے میں وہ اکیلی بیٹھی تھی۔
سر جھکا ہوا۔
ہاتھ ساکت۔
کافی دیر بعد دروازہ کھلا۔
اس کا دلہا اندر آیا تھا۔
وہ شخص جسے سب اس کا راجا کہہ رہے تھے۔
مگر وہ اس کا راجا نہیں تھا۔
نہ اس کا شہزادہ۔
وہ کوئی اور تھا۔
وہ خوش تھا۔
بہت خوش۔
ایسی خوشی جیسے اس نے دنیا کی سب سے قیمتی چیز پا لی ہو۔
اس کی آنکھوں میں فتح تھی۔
وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
اسے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی خواب حقیقت بن گیا ہو۔
جیسے زندگی نے اسے اپنی سب سے خوبصورت نعمت دے دی ہو۔
اور فبیحہ؟
وہ دیوی بنا دی گئی تھی۔
مگر دیویوں کے دل نہیں پوچھے جاتے۔
جبرام کریم خان نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔
وہ کنگن اس کی کلائی میں پہنا رہا تھا۔
اس کے لمس میں حق تھا، قبضہ تھا، اعلان تھا۔
اور فبیحہ؟
وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
کہاں جاتی؟
کس سے لڑتی؟
اس نے صرف محبت کی تھی۔ بنا اظہار کی محبت۔

اور محبت اتنی طاقتور نہیں ہوتی کہ دنیا سے جنگ جیت لے۔
وہ صرف ایک کام کرتی ہے —
انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
چپ چاپ۔
بے آواز۔


کمرے میں روشنی تھی، پھول تھے، خوشبو تھی، دروازے کے باہر ہنسی تھی۔۔
لیکن اس کے اندر مکمل ویرانی تھی۔
اس کے ہاتھوں میں پڑے کنگن بج رہے تھے مگر اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے ہر چھنک اس کے دل پر ہتھوڑا مار رہی ہو۔
وہ پلنگ کے کونے پر بیٹھی تھی، سر جھکا ہوا، آنکھیں خشک مگر جلتی ہوئی۔
آج پہلی رات تھی۔۔
مگر محبت کی آخری رات۔
اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے اندر کوئی آہستہ آہستہ مر رہا ہے۔
کوئی نام جو وہ لینا چاہتی تھی مگر لے نہیں سکتی تھی۔
کوئی چہرہ جو آنکھیں بند کرتے ہی سامنے آ جاتا تھا۔
اس نے اپنے ہاتھوں کی مہندی کو دیکھا اور ہلکی سی ہنسی آئی۔۔
“یہ رنگ میرے نصیب کا نہیں ہے۔”
دروازہ کھلا۔
جبریل خوش تھا۔ اسے لگا جیسے اسے دنیا مل گئی ہو۔
مگر فبیحہ کو لگا جیسے اس سے دنیا چھن گئی ہو۔
وہ خاموش رہی۔
اس کی محبت چیخ رہی تھی، مگر آواز نہیں بن رہی تھی۔
اس رات فبیحہ نے نیند نہیں کی تھی۔
اس نے صرف صبح ہونے کا انتظار کیا تھا۔۔
کیونکہ کچھ راتیں ختم نہیں ہوتیں، بس برداشت کر لی جاتی ہیں

باب ۲۴
کسی نے آ کر بس اتنا کہا:
“شادی ہو گئی۔”
دو لفظ تھے۔
مگر ظاہر کی پوری زندگی ان دو لفظوں کے نیچے دفن ہو گئی تھی۔
وہ بیٹھ گیا تھا۔
ایسے جیسے کسی نے اس کی ہڈیاں توڑ دی ہوں۔
سانس آ رہی تھی مگر زندگی نہیں تھی۔
اس نے سوچا تھا درد ہوگا۔۔
مگر یہ تو قیامت تھی۔
اسے ہر وہ لمحہ یاد آنے لگا جب فبیحہ نے اسے دیکھا تھا، بات کی تھی، اس نے اسے کبھی کوئی وعدہ کیا ہی نہیں تھا — بس اس نے سمجھ لیا تھا محبت سمجھی ہی تو جاتی ہیں۔۔
وہ ہنس پڑا تھا عجیب سی ہنسی۔
“محبت کبھی جیتی ہی کب ہے ؟ جب جیت بھی جاۓ تو وہ مکمل جیت نہیں ہوتی”
رات کو اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
ایک ہی آسمان تھا۔۔
مگر اس کی دنیا اب اس آسمان کے نیچے نہیں رہی تھی۔


شادی کو کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔
مگر فبیحہ کے لیے وقت آگے نہیں بڑھا تھا… وہ وہیں رکا ہوا تھا جہاں اس کا دل ٹوٹا تھا۔
حویلی کے اپنے قانون تھے۔
اور سب سے بڑا قانون یہ تھا کہ فبیحہ باہر نہیں جا سکتی تھی۔
جس نے ملنا ہوتا، وہ یہیں آتا۔
بابا آتے تو بیٹھک میں بٹھا دیے جاتے۔
حال احوال پوچھا جاتا۔
عزت دی جاتی۔
مگر اس کو ہمیشہ محسوس ہوتا جیسے وہ امانت ہو۔
اس کا بھائی اکثر وہیں رک جاتا،
اور اس کی وجہ مہران کریم تھا۔


مہران اس حویلی میں عجیب سا شخص تھا۔
نہ وہ سخت تھا، نہ حکم چلانے والا۔
اس کے لہجے میں ہمیشہ نرمی رہتی تھی۔


مہران وہ واحد شخص تھا:
جو اسے اپنا سا لگتا تھا۔۔
جو بھائی کی کمی کم کر دیتا تھا۔۔
جو اسے عزت دیتا تھا۔۔
جو اس کی خاموشی کو بھی سمجھ لیتا تھا۔
کبھی کبھی وہ بس اتنا پوچھ لیتا،
“آپ ٹھیک ہیں؟”

 

ادفر اور ذکرا نور حویلی آتے جاتے تھے۔
پہلے یہ ملاقاتیں بس حال احوال تک محدود تھیں،
مگر اب ہر ملاقات اپنے ساتھ ایک خبر، ایک بوجھ لے کر آتی تھی۔

ادفر کی شادی طے ہو گئی تھی۔
گھر میں خوشی تھی، رشتے دار مطمئن تھے،
مگر ایک دل تھا جو اس فیصلے کو قبول نہیں کر پا رہا تھا —
ابوبکر۔
وہ خاموش رہتا، مگر اس کی خاموشی چیخوں سے زیادہ اونچی تھی۔

 

جبران کریم اپنے دوستوں کے لیے جان دے سکتا تھا۔
وہ دنیا الٹ سکتا تھا۔
وہ دشمن مٹا سکتا تھا۔
لیکن۔۔
وہ اپنی محبت نہیں دے سکتا تھا۔
یہی وہ قیمت تھی جو وہ پہلے بھی ادا کر چکا تھا۔
ایک دوست اس کی وجہ سے ٹوٹ چکا تھا، بچھڑ چکا تھا، دنیا سے بھی… اور اس سے بھی۔
اس بار لڑکی اس کی محبت نہیں تھی۔
اس بار اگر ضرورت پڑتی تو وہ دنیا کے آخری کونے سے بھی ابوبکر کی محبت لا کر اس کے قدموں میں رکھ دیتا۔
تقدیر ہمیشہ اتنی مہربان کہاں ہوتی ہے۔
اس کے اپنے فیصلے کے آگے کسی کو بولنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔
جبران کریم خان نے ادفر کے گھر دو باتیں کہہ کر انہیں منا لیا تھا۔۔ کیسے منایا تھا وہ الگ بات ہے،، وہ صحیح طریقے سے تھوڑی مناتا ہے۔۔

مگر اس بار بات بری طرح سے بگڑ گئی تھی،، اس بار گھر والوں نے نہیں محبت نے منہ موڑ لیا تھا۔۔


اس بار ابوبکر نے صرف ناراضگی نہیں دکھائی تھی
اس نے مُنہ موڑ لیا تھا۔
نہیں —
اس نے ادفر کو چھوڑنے کا نہیں سوچا تھا،
وہ اسے چھوڑ چکا تھا۔
وہ شادی کر چکا تھا۔
یہ خبر ادفر کے دل میں ایسے لگی جیسے کسی نے گولی چلا دی ہو۔
سانس چل رہی تھی، مگر زندگی رک گئی تھی۔
وہی ابوبکر۔۔
جو محبت کے دعوے کرتا تھا۔
جو کہتا تھا دنیا بدل دوں گا۔
جس نے جبران کریم کو ادفر کے گھر بھیجا تھا۔
آج وہی ابوبکر اپنے گھر والوں کی مرضی کے آگے سر جھکا چکا تھا۔
کیوں؟
کیونکہ وہ اپنے رشتوں میں دراڑ نہیں ڈال سکتا تھا۔
خوابوں کی قیمت
ادفر کے ذہن میں ایک ایک لمحہ زندہ تھا۔
وہ وعدے۔
وہ مستقبل کی باتیں۔
وہ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں۔
مگر شاید ابوبکر کے لیے وہ سب پرانا ہو چکا تھا۔
انسان جب کسی کے ساتھ بہت سارے خواب دیکھ لیتا ہے، بہت قریب آ جاتا ہے، تو کبھی کبھی
ان خوابوں کی چمک مدھم پڑ جاتی ہے۔
پانا باقی نہیں رہتا —
کیونکہ وہ پہلے ہی پا چکا سمجھ لیتا ہے۔
اب اگر ادفر مل جاتی… تو ٹھیک۔
نہ ملتی… تو بھی کیا فرق پڑتا؟
حقیقت کا کڑوا جملہ

ادفر کے کانوں میں جیسے کوئی سرگوشی کر رہا تھا:
“یہی انجام ہوتا ہے ان راستوں کا جو جائز نہیں ہوتے…”
حرام رشتے
پہلے دل کو میٹھے لگتے ہیں، پھر روح کو جلا دیتے ہیں۔
وہ محبت نہیں چھینتے —
وہ یقین چھین لیتے ہیں۔
ادفر ٹوٹی نہیں تھی۔
وہ بکھر گئی تھی۔
اور بکھرنے کی آواز
صرف اسے سنائی دے رہی تھی۔

ادفر کی شادی اب خاندان سے باہر کر دی گئی تھی۔
فیصلہ ایسے سنایا گیا جیسے مسئلہ حل ہو گیا ہو۔
جیسے ایک نام، ایک گھر بدل دینے سے
ماضی بھی بدل جائے گا۔
مگر کچھ چیزیں بدلتی نہیں۔ بس موجود رہتی ہے۔۔
دل کی گواہی، یادوں کی مہک، اور کہے ہوئے لفظ۔
اس نے کچھ کیا بھی نہیں تھا۔
بس ایک بار اس کے ہونٹوں سے محبت کا لفظ نکلا تھا۔
اور وہی لفظ
اس کی پیشانی پر داغ بن کر لکھ دیا گیا تھا۔ اس محبت کے دوران ان دنوں کیا اس نے یہ سوچا تھا؟ اس نے صرف محبت سوچی تھی۔۔
بہتر ہے اگر انسان اچھے کے ساتھ برے کے لیے بھی تیار رہے،، پھر شاید اتنی تکلیف نہ ہو۔۔
وہ بھی برے کام میں مبتلا ہو کر۔۔


وہ شخص برا نہیں تھا۔
نہ ظالم، نہ سخت مزاج۔
وہ تو حیرت انگیز حد تک نرم تھا۔
مگر یہی نرمی ادفر کے لیے اذیت تھی۔
کیونکہ وہ اسے قبول کر رہا تھا —
اس کے ماضی سمیت، اس کے ٹوٹے یقین سمیت۔
وہ اس کا شوہر تھا، لیکن وہ اس کا انتخاب نہیں تھا۔
اور کبھی کبھی
سب سے زیادہ درد اچھے لوگوں سے ملتا ہے ان کی اچھائی سے۔ اور ادفر اس وقت اسے کبھی والے راستے پر تھی،، جہاں اسے سب کی بد تلخی کی امید تھی اور ایک شخص اسے عزت دے رہا تھا اسے سن رہا تھا، اسے اپنی ملکہ سمجھتا تھا۔۔

باب ۲۵
مرد کے داغ وقت کے ساتھ کیوں دھل جاتے ہیں؟
یا شاید انہیں داغ کہا ہی نہیں جاتا؟
اور عورت؟
وہ تو جیسے سفید کپڑا ہے، ہوا بھی چھو لے تو نشان رہ جاتا ہے۔
کسی نام سے جڑ جائے تو عمر بھر کا سوال بن جاتا ہے۔
کیوں؟

مرد کس کپڑے کے بنے ہوتے ہیں؟
کیا ان پر داغ ٹھہرتے ہی نہیں؟
یا دنیا انہیں دیکھنا ہی نہیں چاہتی؟

اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تھا۔
وہ گناہگار نہیں تھی۔
اس نے کسی کا حق نہیں چھینا تھا۔
اس نے صرف محبت کی تھی۔
مگر سزا ایسے مل رہی تھی
جیسے اس نے جنگ چھیڑ دی ہو۔
اس نے آنکھیں بند کیں۔
شاید کچھ لڑائیاں جیتنے کے لیے نہیں ہوتیں۔۔
صرف برداشت کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔


میرے خیال سے ہمیں کسی کی بے وفائی پے غم نہیں کرنا چاہیے، یہ تو خوشی کی بات ہوتی ہے۔ ہم اگر ہر حد تک وفاداری نبھاتے ہے دوسرا بے وفائی میں زرا کمی نہیں چھوڑتا تو وہ اس کی بد نصیبوں میں سب سے بڑی بد نصیبی ہے۔ اور ہمارے نصیب کی سب سے مضبوط لکیر اور خوبصورت چمک ہوتی ہے۔
ہمارا انتخاب غلط ہو تب ہی تو ہم سیکھتے ہیں۔


ادفر نے کبھی سوچا نہیں تھا
کہ سکون محبت سے نہیں،
کبھی کبھی عزت سے بھی ملتا ہے۔
شروع کے دن مشکل تھے۔
ہر لفظ بولنے سے پہلے
اسے اپنا ماضی یاد آ جاتا تھا۔
ہر نظر اٹھانے سے پہلے
وہ خود کو کٹہرے میں کھڑا محسوس کرتی تھی۔
مگر وہ شخص۔
وہ کبھی جج بن کر اس کے سامنے نہیں آیا۔
اس نے سوال نہیں پوچھے۔
اس نے تانے نہیں دیے۔
اس نے اس کے زخموں کی گنتی نہیں کی۔
اس نے بس ایک کام کیا—
اسے اس کی ملکہ سمجھا تھا۔

خیال کبھی کبھی
محبت سے بھی بڑا مرہم ہوتا ہے۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا تھا شاید زندگی ہمیشہ چھینتی نہیں۔
کبھی کبھی واپس بھی دیتی ہے، مگر انداز بدل کر۔
وہ اس کا خوابوں والا شہزادہ نہیں تھا۔
مگر وہ برا بھی نہیں تھا۔
وہ اس کا نصیب تھا۔
اس دن اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تھا۔
چہرہ ویسا ہی تھا،
مگر آنکھوں میں ہلکی سی تھکن کم ہو گئی تھی۔
اس نے آہستہ سے سوچا—
“شاید میں ٹوٹی نہیں تھی۔۔
مجھے بس سنبھالنے والا کوئی اور ملنا تھا۔”
اور اس نے اسے سنبھال لیا تھا۔۔

عیدیں آتی رہتی ہیں۔
چاند ہر سال ویسے ہی نکلتا ہے، بازار ویسے ہی سجے ہوتے ہیں،
گلیوں میں بچے ویسے ہی ہنستے ہیں۔
مگر عیدوں میں ایک فرق ہوتا ہے—
ہر دل میں خوشی نہیں اترتی۔
کچھ لوگوں کی زندگی میں یہ دن صرف عید کے نام سے آتا ہے، خوشی کے نام سے نہیں۔
باقی دنوں میں لوگ خاموش رہتے ہیں۔
کسی کو کسی کے حال سے مطلب نہیں ہوتا۔
مگر عید کے دن سوال آتے ہیں۔ اور پہلے ہم خود ہی خود سے سوال کرتے ہیں۔۔

اس کہانی میں بھی سب ایک جیسے نہیں تھے۔
کچھ نے عید ہنسی میں گزاری،
کچھ نے تصویروں میں،
کچھ نے دعاؤں میں۔
اور کچھ ایسے تھے
جنہوں نے عید کو غم کی طرح پہنا ہوا تھا۔
فبیحہ کی عید
فبیحہ کے لیے دن بدل گئے تھے۔
وہ تیار تھی،
کپڑے بھی نئے تھے،
ہاتھوں پر مہندی بھی تھی۔
مگر دل؟
دل جیسے کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
ہر مبارکباد اسے طنز لگتی تھی۔
ہر مسکراہٹ ایک سوال۔
وہ سب کے درمیان بیٹھی تھی،
مگر اس دن بھی اکیلی تھی۔
اس نے کھڑکی سے آسمان کو دیکھا۔
چاند تو وہی تھا۔۔
مگر خواہش بدل گئی تھی۔
ایک بار اس نے مانگا تھا کوئی اسے مل جائے،
آج وہ مانگ رہی تھی—
“یا اللہ، مجھے خود سے ملا دے۔۔”
عید ہر گھر میں تھی۔
مگر ہر دل میں نہیں۔

 

 

فبیحہ اور جبران کریم کا رشتہ ویسا نہیں تھا جیسا ہونا چاہیے تھا۔
بات چیت ہوتی تھی۔
مگر دل نہیں ملتے تھے۔
وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی جو ہر بات کا جواب دیں۔
وہ اکثر اس کی تلخیاں خاموشی سے سن لیتی تھی،
جیسے صبر ہی اس کا نصیب ہو۔
عید کا دن تھا۔
خوشیوں کا دن۔
مگر ان کے کمرے میں سوال داخل ہو چکا تھا۔
“تم حویلی سے باہر گئی تھیں؟”
وہ کسی اور خیال میں گم تھی۔
اس نے جواب نہیں دیا تھا۔
وہ اس کے قریب آ گیا تھا۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں!”
اس نے مڑ کر دیکھا۔
لہجوں کی دوری اب لفظوں میں آ چکی تھی۔
وہ اسے اب تم کہہ کر پکارتا تھا۔ اس کا آپ پہلے کی طرح جلد تم میں بدل گیا تھا۔۔

“تو اس میں کون سی قیامت آ گئی؟ ہاں، گئی تھی باہر۔”
“کہاں گئی تھی؟ تم اپنے گھر بھی نہیں گئی تھیں۔ میں نے پوچھ لیا تھا۔”
وہ تھک گئی تھی۔
“کہیں نہیں گئی۔ میں بھاگی نہیں ہوں۔ واپس آ گئی ہوں… بس۔”
“بس؟ مجھے تمہارا یہ بس نہیں سننا! میں نے کہا تھا تم حویلی سے باہر نہیں جا سکتیں!”
وہ پہلی بار رکی۔
“کیوں؟”
کمرے کی ہوا جم گئی۔
“تم مجھ سے سوال کر رہی ہو؟”
“ہاں۔ کیونکہ میری زندگی اذیت بن گئی ہے۔”
یہ جملہ تیر تھا۔
“یعنی میرے ساتھ زندگی اذیت ہے؟”
وہ کچھ اور کہنا چاہتی تھی—
شاید وضاحت، شاید درد—
مگر اس سے پہلے ہاتھ اٹھ چکا تھا۔
آواز زیادہ نہیں تھی۔
مگر اثر… بہت گہرا تھا۔
یہ صرف تھپڑ نہیں تھا،
یہ اس کے وجود پر لگنے والی مہر تھی۔
وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
جسم سیدھا تھا،
مگر اندر سے وہ گر چکی تھی۔
جبران کریم کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔
غصہ اترتے ہی
احساس نے گلا پکڑ لیا تھا۔
وہ اس کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
“آئی ایم سوری… میں… میں بس ڈر جاتا ہوں۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں…”
لفظ نکل رہے تھے،
مگر دیر سے۔
وہ زمین پر تھی۔

شک عجیب چیز ہے۔
یہ چیختا نہیں،
آہستہ آہستہ رشتوں کو قبر تک لے جاتا ہے۔
بےاعتباری محبت کو نہیں مارتے،
مگر اسے زندہ بھی نہیں رہنے دیتے۔
بے اعتباری رشتوں کا سکون کھا جاتی ہے۔۔ اور جب یہ پیدا ہو جاتا ہے تو جڑیں مضبوط کر لیتا ہے ،، آسانی سے نہیں جاتا،، یا شاید جاتا ہی نہیں۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *