TEHRAO BY HUMNA KHAN 2nd LAST EPISODE

ٹھہراؤ قسط نمبر ؛ ٩

ازقلم حمنہ خان

باب ٣١

“وہ دستیاب مجھ کو بڑی دیر تک رہا
میں انتخاب اس کا بڑی دیر تک رہا
ایک عمر تک میں اس کو بڑا قیمتی لگا
میں اہم تھا یہ وہم تھا بڑی دیر تک رہا”۔۔۔


وہ واپس مڑ گئی تھی۔
اسے یوں لگا جیسے وہ کسی قیامت کا منظر دیکھ کر لوٹ رہی ہو۔
اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔
کمزوری دکھانے کی اجازت نہیں تھی اسے۔
وہ بس چلتی رہی…
اندر کی طرف…
آنکھوں میں تیرتی نمی کو ضبط کرتے ہوئے۔
پیچھے لان میں وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔
اتنا آسان سلوک؟
اتنی سادگی سے مبارک باد؟
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو؟
اور اسی لمحے —
وہ دونوں پہلی بار واقعی شرمندہ ہوئے تھے۔

انہوں نے ایک کام واقعی بڑی مہارت سے کیا تھا…
دھوکہ۔
ہاں، دھوکہ —
اور وہ بھی اتنی صفائی سے کہ آواز تک نہ ہوئی۔


کچھ اس طرح سے میرے ساتھ بے وفائی کر
کہ آس پاس کے لمحوں کو بھی پتہ نہ چلے۔۔۔


دھوکہ جو انہوں نے ذکرا نور کو دیا تھا…
اور شاید خود کو بھی۔

جو لوگ دوسروں سے بےوفائی کر جاتے ہیں،
وہ ایک دوسرے سے وفا کیسے نبھاتے ہوں گے؟
جب دونوں کو معلوم ہو کہ سامنے والا بےوفا ہے دوسرے کا،
تو ان کے درمیان اعتبار کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
کیا وقار باقی رہتا ہے؟
جو شخص کسی اور کو چھوڑ کر آپ کے پاس آئے
اور آپ سے وفا کے دعوے کرے…
اصل کمال تو اس شخص کا ہے
جو اس پر تب یقین کر بیٹھے۔


کچھ دن یوں ہی گزر گئے تھے۔
اس دن ذکرا، فبیحہ سے ملنے آئی تھی۔
وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھیں تھیں…
اور پہلی بار ذکرا نور ان دونوں میں روئی تھی۔
دل کھول کر۔
بے آواز نہیں —
بلکہ ٹوٹ کر۔
فبیحہ اس سے بھی زیادہ رو رہی تھی۔
کیونکہ اس کے زخم بھی کچھ مختلف نہ تھے۔
ادفر اب اس گاؤں میں کم آتی تھی۔
اس کا سسرال دوسرے گاؤں میں تھا، چند بستیاں چھوڑ کر۔
مگر جب بھی آتی —
سب سے پہلے فبیحہ کی حویلی آتی تھی۔
وہی تینوں کی پناہ گاہ تھی۔
وہی ہنسی، وہی راز، وہی خواب۔
آج حویلی میں خاموشی تھی…
صرف دو سسکیاں تھیں۔
“مجھے معلوم ہے…” فبیحہ نے اس کے ہاتھ تھام کر کہا تھا،
“صرف تم ہی مجھے سمجھ سکتی ہو۔”
اور شاید یہی سچ تھا۔
کچھ دیر بعد ادفر بھی آ گئی تھی۔
وہ ان سے یوں ملی جیسے ملاقات نہیں —
رخصتی ہو۔
ان دونوں کو روتے دیکھ کر وہ بھی ٹوٹ گئی تھی۔
حالانکہ اگر نہ بھی دیکھتی،
تو بھی پہچان لیتی۔
کیونکہ وہ تینوں ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن تک پہچانتی تھیں۔
بہت دیر تک وہ باتیں کرتی رہیں۔
بہت عرصے سے تم نے کوئی چوری کا شعر نہیں سنایا، کیا تم نے شعروں کی چوری کرنا چھوڑ دیا کیا؟
ادفر نے اسے کہا تھا۔۔


جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے۔۔
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے۔۔۔
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا،،
انہی درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے۔۔۔
اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کو کوئی نہ سمجھا،،
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی، خطوط نکلے، تو لوگ سمجھے۔۔۔


ارشاد ارشاد!!
ان تینوں میں سب سے سنبھلی ہوئی اس وقت ادفر تھی۔
مگر وہ اس حال تک سیدھے نہیں پہنچی تھی۔
اس نے بھی زخم کھائے تھے —
گہرے، چبھتے ہوئے۔
زخم بھر بھی جائیں تو داغ رہ ہی جاتے ہیں۔
احمد فراز نے شعر میں کہا تھا—
“زخم بھر جائے داغ تو رہ جاتے ہے۔”
اس کے داغ اب بھی تھے…
مگر وہ درد نہیں دیتے تھے۔
اب وہ انہیں اپنی کہانی کا حصہ سمجھتی تھی۔
لیکن فبیحہ اور ذکرا نور…
ان کے زخم ابھی تازہ تھے۔
ابھی خون رس رہا تھا۔
ابھی درد باقی تھا۔
کافی دیر بعد ادفر نے فبیحہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تھے۔
“فبیحہ… مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔”
“کہو… کیا ہوا؟”
ادفر نے گہری سانس لی۔
“کچھ دن پہلے میری ملاقات ظاہر حاشم سے ہوئی تھی…
وہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔”
یہ نام سنتے ہی جیسے فبیحہ کے زخموں پر نمک چھڑک دیا گیا تھا۔
“کیا؟ تم اس سے ملی؟ کب؟”
“کچھ دن پہلے۔ وہ صرف ایک بار ملنا چاہتا ہے۔”
فبیحہ کی آنکھوں میں تکلیف ابھری تھی۔
“میں اس سے نہیں مل سکتی۔ میں مانتی ہوں مجھے جبیران کریم سے نفرت ہے… مگر وہ میرا شوہر ہے۔ میں اس سے بےوفائی نہیں کر سکتی۔ میں خود سے نظریں کیسے ملا سکوں گی؟”
ادفر نے نرم لہجے میں کہا تھا،
“صرف بات کرنی ہے… بس ایک بار سن لو اسے۔”
“بات؟ کس حد تک بات؟ کیا میں یہ سب جبیران کو بتا سکوں گی؟
جو بات میں اپنے شوہر سے چھپا کر کروں… وہ بےوفائی ہی ہوگی نا؟”
کمرے میں خاموشی اتر آئی تھی۔
فبیحہ کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔
“میں جتنا بھی سوچوں… وہ میرا شوہر ہے۔ سوچنا پڑتا ہے۔”
ادفر نے آہستہ سے کہا تھا،
“ہمیشہ کے لیے نہیں… بس ایک بار۔

ہمیشہ کے باۓ کے لیے ایک بار ہائے کرنا ہی پڑتا ہے۔”
ذکرا نور نے فوراً کہا تھا۔

ایک ‘ہائے’… بہت سارے ‘ہائے’ بن جاتا ہے۔” فبیحہ نے کہا تھا۔۔

باب ۳۲


“کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے
وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے
یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے
میں کیسے بات کروں؟ اب کہا سے لاؤں اسے؟
جو ہمسفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز
عجب نہیں ہے اگر یاد بھی نہ آؤں اسے”


ارشاد ارشاد!!!

“تم نے کبھی ظاہر کو وہ سب نہیں کہا جو میں نے انزر کو کہا تھا۔ تم نے تو کبھی اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔”
ذکرا کی آنکھوں میں درد کی جھلک آئی تھی۔
“شاید یہی تمہاری سب سے اچھی بات ہے۔
تم ابھی اپنی نظروں میں گری نہیں ہو۔
میں… میں تو اپنی نظروں میں گر چکی ہوں۔”
فبیحہ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔
“میں بھی زکرا… میں بھی۔” ادفر نے تکلیف سے کہا تھا۔۔
اور پھر وہ تینوں خاموش بیٹھ گئیں تھیں —
تین مختلف کہانیاں…
مگر درد ایک جیسا۔
باتیں چلتی رہیں…
اور شام حویلی کی دیواروں پر اترتی رہی۔


دوستی بھی کیا عجیب ہوتی ہے جب یہ وقت ہوتا ہے تو لگتا ہے کبھی الگ نہیں ہو سکتے۔ مگر یہ کوئی رشتہ کبھی نہیں بن پاتا ہے کیونکہ ایک وقت آتا ہے جب سب کے مختلف راستے ہو جاتے ہیں۔
کچھ رشتے ہوتے ہیں جن سے ہم بھاگنا چاہتے ہیں مگر ہم نہیں بھاگ سکتے۔
اور کچھ تعلق کوئی رشتہ نہیں ہوتے مگر ہمیں ان سے بہت وابستگی ہوتی ہے۔۔


ادفر پریگننٹ تھی۔
وہ ماں بننے والی تھی۔
زندگی اس پر مزید مہربان ہو رہی تھی۔
ایک کے بعد ایک خوشی…
ایک کے بعد ایک سکون۔
اس کی زندگی جیسے اندھیری سرنگ سے نکل کر روشنیوں کی طرف جا رہی تھی۔
اس کے چہرے پر اب وہ ٹھہراؤ تھا
جو صرف بہت کچھ ہار کر حاصل ہوتا ہے۔


انزر انور خان اور شیریں کی شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی تھا۔
صرف سات دن۔
شادی ان کی تھی…
مگر قیامت ذکرا نور کی۔
تباہ تو وہ پہلے ہی ہو چکی تھی —
جس دن اسے حقیقت کا علم ہوا تھا۔
اب یہ شادی تباہی نہیں تھی…
صرف اس تباہی کی باقاعدہ تقریب تھی۔
اسے یہ شادی دنیا کی سب سے عجیب، سب سے بےسکون شادی لگ رہی تھی۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
کہ زندگی میں کوئی شادی اس کے لیے یوں قیامت بن جائے گی۔
کون سوچتا ہے کہ ایک دن
شہنائیاں سن کر دل میں ماتم ہو گا؟
مگر واقعی —
یہ شادی اس کے لیے قیامت تھی۔

فبیحہ نے فیصلہ کر لیا تھا۔
اس نے ظاہر ہاشم سے ملنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
کافی راتوں کی بےخوابی…
کافی آنسوؤں کے بعد۔

اور ادفر نے اطلاع دے دی تھی۔
ظاہر ہاشم کو خبر ملی تو اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ گئے تھے۔
وہ اب بھی ٹوٹا ہوا تھا۔
اب بھی اس کے اندر خلا تھا۔
مگر اس نے سنبھلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
کبھی کبھی سنبھل جانا دل کے ٹھیک ہونے کا ثبوت نہیں ہوتا،
بس یہ اعلان ہوتا ہے
کہ اب مزید ٹوٹنا ممکن نہیں۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔
آنکھوں میں تھکن تھی…
مگر ایک امید بھی۔
کیا یہ ملاقات مرہم ہوگی؟
یا پرانے زخم پھر سے ہرے ہو جائیں گے؟
وہ نہیں جانتا تھا۔
بس اتنا جانتا تھا —
وہ اس سے ملنے آ رہی ہے۔
اور کبھی کبھی
ایک ملاقات
زندگی بدل دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔


“کہاں جا رہی ہو؟”
دروازہ اچانک کھلا تھا۔
جبیران کریم کی آواز کمرے کی خاموشی چیرتی ہوئی آئی تھی۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
سیاہ شال کندھوں پر ڈالے، چہرہ پرسکون مگر آنکھیں کہانی سناتی ہوئی۔
اس نے آئینے میں ہی اس کا عکس دیکھا تھا۔
وہ آہستہ سے مڑی تھی۔
“مجھے ذکرا کے گھر جانا ہے۔”
“کیوں؟”
اس کی آواز میں سوال کم، اختیار زیادہ تھا۔
“وہاں کیوں جانا ہے؟”
وہ چند قدم اس کی طرف بڑھی۔
آنکھوں میں سیدھی آنکھیں ڈال کر۔
“کیوں؟ میں نہیں جا سکتی؟”
جبیران کی جبین تن گئی۔
“نہیں جا سکتی ہو۔ پہلے بھی تم… وہ رکا تھا”
وہ تلخ ہنسی ہنسی تھی۔
“پہلے؟”
“اب تو ہر بار ہی آپ کو میری ہر بات غلط لگتی ہے۔ میں کہیں بھی جاؤں، آپ مجھ پر چلاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ہاتھ بھی اٹھا دیتے ہیں…”
کمرے میں اچانک خاموشی جم گئی تھی۔
“آج بھی اٹھانا چاہتے ہیں؟”

جبیران نے فوراً کہا،
“میں نے یہ کب کہا؟ تم ہر بات کو اتنا بڑا کیوں بنا دیتی ہو؟”
اس کی آنکھوں میں نمی نہیں تھی۔
صرف تھکن تھی۔
“تمہیں جانا ہے تو جاؤ… مگر باہر کے دو آدمیوں کو ساتھ لے کر جاؤ۔”
“میں گاڑی میں جاؤں گی۔”
“نہیں۔ گاڑی نہیں۔ دو آدمی ساتھ ہوں گے۔”
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ مگر واضح لہجے میں بولی:
“دو قدم جانا ہے۔ اس کے لیے بھی میں قافلہ لے کر جاؤں؟ مجھے یہ سب پسند نہیں۔ میں اکیلے جاؤں گی… اور اکیلے ہی آؤں گی۔”
جبیران کی آواز سخت ہوئی۔
“میں نے کہا نا، دو آدمی ساتھ لے جاؤ۔”
وہ اب بالکل سامنے کھڑی تھی۔
“کیوں؟ مجھے کس بات کا خوف ہے؟ کیا کوئی مجھے اٹھا کر لے جائے گا؟
یا آسمان مجھے نگل لے گا؟
یا زمین پھٹ جائے گی اور میں اس میں سما جاؤں گی؟”
ہر لفظ تیر کی طرح نکلا۔
“میں اکیلے ہی جاؤں گی۔”
چند لمحے…
وہ اسے دیکھتا رہا۔
جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر الفاظ ہار گئے ہوں۔
آخرکار وہ خاموش ہو گیا تھا۔
وہ مڑی تھی۔

وہ حویلی کی لمبی راہداری سے گزرتی ہوئی باہر نکل گئی تھی۔
اس کے قدم مضبوط تھے —
مگر دل کے اندر اب بھی طوفان تھا۔
حویلی کے دروازے بند ہوئے تھے…
اور اس کمرے میں صرف خاموشی رہ گئی تھی۔

باب ۳۳


آسمان پر بادل جمع تھے۔
ہوا میں نمی تھی… جیسے موسم بھی کسی فیصلے کا انتظار کر رہا ہو۔
پرانی عمارت جو ادفر کے شوہر کی تھی وہ یہی تھا۔۔صحن میں دیودار کے درخت سے بارش کے قطرے ٹپک رہے تھے۔
زمین گیلی تھی۔
اور فضا میں وہ مخصوص سی خوشبو تھی — بھیگی مٹی کی۔
فبیحہ آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئی تھی۔
اس کے قدموں کی چاپ خالی راہداری میں گونج رہی تھی۔
دل کی دھڑکن… اس سے کہیں زیادہ تیز تھی۔
ظاہر ہاشم ستون کے پاس کھڑا تھا۔
وہ پہلے جیسا نہیں لگ رہا تھا۔
آنکھوں کے نیچے ہلکے تھے…
مگر آنکھوں میں آج بھی وہی سوال۔
چند لمحے…
صرف خاموشی۔
بارش کی آواز
اور ان دونوں کی سانسیں۔
“کیسی ہو؟”
اس کی آواز دھیمی تھی… محتاط۔
فبیحہ نے نظریں اٹھائی تھی… پھر فوراً جھکا لی۔
“ٹھیک ہوں۔”
یہ جھوٹ تھا۔
اور دونوں جانتے تھے۔
“میں نے تمہیں تکلیف دی تھی۔”
ظاہر نے سیدھا کہا تھا۔
کوئی تمہید نہیں۔ کوئی بہانہ نہیں۔
فبیحہ کی انگلیاں آپس میں الجھ گئیں تھیں۔
“ہم دونوں نے دی تھی۔”
بارش تیز ہو گئی تھی۔
“میں تمہیں نہیں مانگ رہا ہوں…” اس نے آہستہ سے کہا تھا ،
“بس یہ جاننا چاہتا تھا… کبھی ایک لمحے کو بھی… کیا تم نے مجھ سے محبت کی کیا؟”
یہ سوال سیدھا دل میں لگا تھا۔
اس نے آنکھیں بند کیں تھیں۔
ایک آنسو پلکوں سے پھسل گیا تھا۔
“محبت…” وہ ہلکی سی ہنسی، جو دراصل ہنسی نہیں تھی،
“کچھ لوگ بھلائے نہیں جاتے ظاہر… بس چھوڑ دیے جاتے ہیں۔”
خاموشی۔
ظاہر نے ایک قدم آگے بڑھایا تھا… مگر فاصلہ برقرار رکھا۔
“میں اب بھی…”
“نہیں

میں تمہیں ڈھونڈنے یادوں کی کھلی راہوں پر
خشک پتوں کی طرح روز بکھر جاتا ہوں۔۔


فبیحہ نے پہلی بار مضبوط لہجے میں روکا۔
“یہاں رک جاؤ۔ ایک لفظ اور… اور شاید میں کمزور پڑ جاؤں۔”
بارش اب زور سے برس رہی تھی۔
“میں شادی شدہ ہوں۔” اس کی آواز لرزی مگر ٹوٹی نہیں،
“چاہے مجھے پسند ہو یا نہیں… وہ میرا رشتہ ہے۔ اور میں اپنے آپ سے بےوفائی نہیں کر سکتی۔”
ظاہر نے سر جھکا لیا تھا۔
“میں صرف تمہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ تم ٹھیک ہو؟۔”

فبیا نے آہستہ سے کہا تھا،
“میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔ ایک دن۔”
وہ مڑی تھی۔


“مجھ سے دامن نہ چھوڑا
مجھ کو بچا کہ رکھ لے
مجھ سے دامن نہ چھوڑا
مجھ کو بچا کہ رکھ لے
مجھ سے اکہ روز تجھے
پیار بھی ہو سکتا ہے”


کچھ ملاقاتیں کہانی ختم نہیں کرتیں —
بس اس پر مہر لگا دیتی ہیں۔


وہ حویلی سے باہر نکلی ہی تھی کہ قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
سامنے…
جبیران کریم کھڑا تھا۔
اس کا سانس اٹک گیا تھا۔
آنکھیں بے اختیار بھر آئیں۔
ہونٹ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔
وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا۔
جبیران کی نظر پہلے اس پر ٹھہری…
پھر اس کے پیچھے، کچھ فاصلے پر کھڑے ظاہر ہاشم پر۔
بس ایک لمحہ کافی تھا۔
شک یقین میں بدل چکا تھا۔
عجیب ہوتا ہے نا —
انسان ساری عمر سچ بولے،
مگر ایک لمحہ ایسا آ جائے
جہاں وہ سچ میں بھی کھڑا ہو
اور جھوٹا ثابت ہو جائے۔
وہ غلط نہیں تھی۔
وہ صرف ایک بار ملنے آئی تھی۔
صرف ایک بار۔
مگر اب کون یقین کرتا؟
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں
جن کی غلطیاں پردوں میں نہیں رہتیں۔
جن کا امتحان بھی علانیہ ہوتا ہے۔
شاید ان کی تقدیر رب نے کسی اور قلم سے لکھی ہوتی ہے۔
اچانک ایک تیز آواز فضا میں گونجی۔ تھپڑ کی آواز۔۔
وہ ایک طرف لڑکھڑا گئی۔
ظاہر آگے بڑھا۔
اس نے بے اختیار اس کے بازو تھام لیے —
سنبھالنے کے لیے۔
مگر یہ منظر آگ میں تیل تھا۔
جبیران نے اسے زور سے پیچھے دھکیلا۔
اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں… جنون تھا۔
“جبیران، تم غلط سمجھ رہے ہو! ایسا کچھ نہیں ہے!”
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
“کیا نہیں ہے؟!”
وہ دھاڑا۔
“تم کون ہوتے ہو مجھے سمجھانے والے؟ بیوی ہے یہ میری! میری عزت ہے!”

“بات سن لو—”
“خاموش!” جبیران کی آواز گرجی،
“میں سب برداشت کر سکتا ہوں… سب کچھ۔ مگر یہ نہیں۔ تم میرے دوست تھے۔ دوست!”
لفظ ‘دوست’ اس کے ہونٹوں پر جل رہا تھا۔
“شرم آتی ہے مجھے۔ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔”
وہ اسے دیوار کے ساتھ جکڑے ہوئے تھا۔
غصہ اس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔
اور فبیحہ…
وہ ایک طرف کھڑی تھی۔
سانسیں تیز۔
آنکھیں اشکبار۔
آواز جیسے گم ہو گئی ہو۔
وہ چیخنا چاہتی تھی۔
بتانا چاہتی تھی کہ یہ سب ویسا نہیں جیسا دکھ رہا ہے۔
مگر کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں
جہاں سچ کی آواز بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
بارش پھر سے برسنے لگی تھی۔
تین لوگ —
تین دل —
اور ایک لمحہ
جو سب کچھ بدل دینے والا تھا۔

“ظاہر ہاشم بخت…
تم نے جنگ چھیڑ دی ہے۔”
جبیران کریم خان کی آواز میں وہ سکون تھا
جو طوفان سے پہلے آتا ہے۔
“جنگ… جبران کریم خان کے ساتھ۔
اور تم جانتے ہو نا؟
جو مجھ سے ٹکراتا ہے… وہ بچتا نہیں۔”
فضا میں ایک خطرناک خاموشی پھیل گئی تھی۔
“اگر تمہارا مجھ سے جھگڑا ہوتا… تم مجھے کچھ بھی کرتے۔
قسم اس دوستی کی جو کبھی ہمارے درمیان تھی…
میں تمہیں معاف کر دیتا۔
دوستی کے نام پر چھوڑ دیتا۔”
اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔
“مگر تم نے کیا کیا؟
تم نے میری محبت پر نظر ڈالی۔”
لفظ محبت اس کے ہونٹوں پر کانپ گیا۔
“وہ عورت میری بیوی ہے۔
میری عزت۔
اور میں یہ برداشت نہیں کروں گا۔”
وہ ایک قدم اور آگے بڑھا۔
“میں اس سے محبت کرتا ہوں۔
اس کے لیے لاشیں بچھا دوں گا میں۔”
ظاہر خاموش کھڑا تھا۔
چہرے پر تکلیف… مگر آنکھوں میں پچھتاوا نہیں، بس بے بسی۔ اس کی بے بسی وہی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔
جبیران نے دانت بھینچ کر کہا تھا،
“آج… میں تمہیں جانے دے رہا ہوں۔
صرف اس کے سامنے تمہارا خون نہیں دیکھنا چاہتا۔
مگر یاد رکھنا —
تم نے اپنی جان گنوا دی ہے۔”
وہ مڑا تھا۔
ظاہر وہیں کھڑا رہا۔
دور… وہ کھڑی تھی۔
سہمے ہوئے قدم۔
نظریں جھکی ہوئی۔
آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
یہ سب کیا ہو گیا تھا؟
وہ یہاں کیوں آئی تھی؟
ایک ملاقات… اور زندگی کا نقشہ بدل گیا۔
اچانک جبیران نے اس کا بازو مضبوطی سے تھام لیا تھا۔
“چلو۔”
وہ لڑکھڑائی تھی۔
مگر اس نے مزاحمت نہیں کی۔
وہ اسے حویلی کی طرف لے جا رہا تھا۔
اس کے قدم ساتھ چل رہے تھے —
مگر دل کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
بارش اب بھی برس رہی تھی۔

وہ وہی خاموش کھڑا تھا…
جیسے کچھ کہہ نہیں سکتا،
اور روک بھی نہیں سکتا تھا۔

باب ۳۴


کچھ جنگیں اعلان کے بعد نہیں ہوتیں —
وہ دلوں میں شروع ہوتی ہیں۔

اس نے فبیحہ کو کمرے میں دھکیلا تھا—
دروازہ زور سے بند ہوا تھا۔
وہ فرش پر گر گئی تھی۔
چند لمحے کے لیے کمرہ ساکت ہو گیا تھا۔
“یہاں رہو گی تم!”
جبران کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی تھی۔
“حویلی سے ایک قدم باہر نہیں جاؤ گی۔ تم میری بیوی ہو… جبران کریم خان کی بیوی! اس سے ملنے جاؤ گی تم؟!”
من کر رہا ہے ایک گولی اسے اور ایک گولی خود کو مارو۔۔
وہ خود کو سن نہیں پا رہا تھا۔
غصہ اس کی زبان پر زہر بن کر چڑھ آیا تھا۔
“خدا کی قسم… اتنا غصہ ہے کہ—”
لفظ ادھورے رہ گئے۔
اس نے سر اٹھانے کی کوشش کی تھی…
پھر سب کچھ دھندلا گیا۔
وہ بے جان سی فرش پر ڈھلک گئی تھی۔
جبران کا غصہ ایک لمحے میں خوف میں بدل گیا تھا۔
“فبیحہ!”
وہ جھک کر اس کے پاس آیا۔
اس کا سر اپنی گود میں لیا۔
“فبیحہ… آنکھیں کھولو۔ تم ٹھیک ہو نا؟”
اس کی آواز میں عجیب خوف تھا۔

جبران نے اسے بانہوں میں اٹھایا تھا—
وہ اسے ہسپتال لے آیا تھا۔
ہسپتال کی راہداری لمبی تھی۔
سفید دیواریں۔
تیز روشنی۔
اور انتظار۔
دروازے کے باہر جبران کھڑا تھا۔
اس کے گارڈز فاصلے پر تھے۔
مہران کریم بھی ساتھ تھا۔
وقت جیسے رک گیا تھا۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آئی تھی۔
“مسٹر جبران…”
وہ سیدھا کھڑا ہو گیا تھا۔

“I’m sorry.

آپ کی وائف پریگننٹ تھیں… ان کا مسکیرج ہو گیا ہے۔”
یہ جملہ اس پر ایسے گرا
جیسے کسی نے کھولتا ہوا تیل اس کے دل پر انڈیل دیا ہو۔
“کیا…؟”
اس کی آواز خشک تھی۔
“وہ… پریگننٹ تھیں؟”
“جی۔ شاید آپ کو علم نہیں تھا۔ ذہنی دباؤ اور اچانک بلڈ پریشر شوٹ کرنے سے ایسا ہو جاتا ہے۔

مگر ان کا بی پی اکثر لو رہتا ہے، جبران نے کہا تھا۔۔

مگر آج بہت ہائی تھا۔ ابھی وہ خطرے سے باہر ہیں… انہیں آرام کی ضرورت ہے۔”

ڈاکٹر چلی گئی تھی۔
جبران وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔
پریگننٹ۔
یہ لفظ اس کے کانوں میں گونج رہا تھا۔
وہ باپ بننے والا تھا…
اور اسے خبر بھی نہ تھی۔
اور اب… کچھ بھی نہیں رہا تھا۔
اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا تھا۔
غصہ، انا، غیرت — شاید سب پیچھے رہ گئے تھے۔
صرف ایک سوال رہ گیا تھا:
“اس نے مجھ سے یہ بات کیوں چھپائی؟”

باب ۳۵


راہداری کی سفید روشنی میں کھڑا جبران کریم پہلی بار خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا۔
کچھ دیر پہلے جنگ اس نے چھیڑی تھی، اس نے جنگ کا اعلان کیا تھا—
مگر ابھی زخم کسی اور کو نہیں…
خود اسے لگے تھے۔

ہسپتال کے کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی۔
فبیحہ بستر پر نیم دراز تھی۔
چہرہ زرد۔ آنکھیں سوجی ہوئی۔
مگر ہوش میں۔
دروازہ آہستہ سے کھلا تھا۔
جبران اندر آیا تھا۔
چند لمحے وہ دروازے کے پاس ہی کھڑا رہا…
جیسے ہمت جمع کر رہا ہو۔
پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا تھا۔
“تم جانتی تھی؟”
اس کی آواز بھاری تھی۔
“جانتی تھی نا… کہ تم پریگننٹ ہو؟”
فبیحہ نے نظریں نہیں اٹھائیں۔
آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہہ رہے تھے۔
وہ اس کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر۔
“اتنی بڑی بات… تم نے مجھ سے چھپا لی؟”
اس بار اس کی آواز میں چیخ نہیں تھی۔
صرف ٹوٹا ہوا سوال تھا۔
فبیحہ نے آنکھیں بند کر لیں تھی۔
وہ ضد پر نہیں تھی اب۔
وہ خالی تھی۔
جبران نے گہری سانس لی۔
“تم جانتی ہو… میں کتنا خوش ہو جاتا؟”
اس کی آواز کانپ گئی۔
“میری دنیا مکمل ہو جاتی۔ میں… میں باپ بننے والا تھا۔”
خاموشی۔
“کاش… تم نے مجھے پہلے بتا دیا ہوتا۔
کاش میں جانتا۔
تو آج… آج میں نے اپنا بچہ نہ کھویا ہوتا۔”

فبیحہ کی پلکوں سے آنسو اور تیز بہنے لگے تھے۔
مگر وہ کچھ نہ کہہ سکی تھی۔
جبران کی آنکھوں میں درد اب غصے میں بدلنے لگا تھا۔
“میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا نا… ظاہر ہاشم سے نہ ملنا۔ حویلی سے باہر نہ جانا۔ مجھے پتا تھا… مجھے اندازہ تھا کہ کچھ غلط ہو جائے گا۔”
وہ اپنی باتوں میں خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
شاید پچھتاوا اس کے لیے برداشت کرنا مشکل تھا۔
فبیحہ نے آہستہ سے نظریں اٹھائیں۔
پہلی بار۔
ان آنکھوں میں سوال نہیں تھا…
الزام بھی نہیں۔
صرف بے پناہ تھکن تھی۔
وہ صفائی دے سکتی تھی۔
وہ صرف ایک بار ملی تھی۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔


وہ واقعی اس کے ساتھ تھا بھی… یا نہیں؟
فبیحہ کی انگلیاں اس کے ہاتھ میں ڈھیلی پڑی تھیں۔


راہداری میں چلتے ہوئے جبران نے اپنی مٹھی بھینچ لی تھی۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی —
مگر وہ اسے آنسو نہیں بننے دے رہا تھا۔
وہ باپ بننے والا تھا۔
وہ باپ بن چکا تھا —
اور ایک ہی دن میں سب خالی ہو گیا تھا۔
اس نے اپنے دکھ کو تسلیم کرنے کے بجائے
اسے غصے میں بدل دیا تھا۔

فبیحہ چھت کو دیکھ رہی تھی۔

کبھی کبھی محبت ختم نہیں ہوتی…
بس فاصلوں میں دفن ہو جاتی ہے۔
اور انا…
انا ہمیشہ سب سے مہنگی قیمت وصول کرتی ہے۔

 

“شادی… یا قیامت؟”
کبھی کبھی زندگی میں ایک دن ایسا آتا ہے
جو صرف دن نہیں ہوتا…
وہ فیصلہ ہوتا ہے،
وہ زخم ہوتا ہے،
وہ جنگ ہوتا ہے۔
آج وہی دن تھا۔
گاؤں کے واحد میرج ہال میں روشنیوں کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔
وہی ہال جو خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا جن کے رشتے شہر میں طے ہوتے تھے، کیونکہ اس گاؤں کے گھروں میں اتنی وسعت نہیں تھی کہ خوابوں کی بارات سمایا کرے۔
مہندی کی خوشبو ابھی تک دیواروں سے لپٹی ہوئی تھی۔
ہلدی کے زرد رنگ جیسے اب بھی ہوا میں تحلیل تھے۔
ڈھولک کی تھاپ، قہقہوں کی بازگشت، رشتے داروں کی چہل پہل…
سب کچھ عام تھا۔
سب کچھ خوشی کا منظر پیش کر رہا تھا۔
لیکن ہر روشنی کے پیچھے ایک سایہ بھی ہوتا ہے۔
اور آج اس سایے میں کوئی بری طرح ٹوٹ رہا تھا۔
وہ اس لیے نہیں ٹوٹ رہی تھی کہ جس سے اس نے محبت کی تھی، وہ کسی اور کا ہو رہا تھا۔
نہیں…
اس کا دکھ اس سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔
وہ اس لیے ٹوٹ رہی تھی کیونکہ اسے محبت میں نہیں،
اعتماد میں دھوکہ دیا گیا تھا۔
اور وہ دھوکہ کسی غیر نے نہیں دیا تھا۔
وہ دھوکہ اُس نے دیا تھا
جو اس کی بہن تھی۔
جو اس کی سہیلی تھی۔
جو اس کا بچپن تھی۔
جو اس کا رازدان تھی۔
جو اس کی دنیا تھی۔
جس کے ساتھ اس نے اسکول کے دن بانٹے تھے۔
جس کے لیے وہ پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں گھر والوں سے چھپ کر گئی تھی۔
جسے اس نے چھوٹی بہن نہیں… اپنی اولاد کی طرح چاہا تھا۔
اپنی پسندیدہ چیزیں، اپنے خواب، اپنی دعائیں… سب اس کے نام کر دی تھیں۔
اور اسی نے…
اسی نے اس کی پیٹھ پر خنجر گھونپا تھا۔
آج شیریں نور اور انزر انور کی شادی تھی۔
رسمیں کئی دنوں سے جاری تھیں۔
لیکن آج اصل منظر سجا تھا۔

اس کا جسم ٹھیک تھا…
لیکن روح ابھی تک لہولہان تھی۔

باب ۳۶


“کچھ کہانیاں محبت سے نہیں… چالوں سے لکھی جاتی ہیں۔”
گاؤں کی مٹی اُس کی اپنی تھی۔
وہ یہیں کا رہنے والا تھا۔
امید پٹھان —
ایک ایسا نام جس کے خاندان کی برسوں پرانی دشمنی تھی
جبران کریم خان کے خاندان سے۔
دشمنی کی وجہ وقت کے ساتھ دھندلا چکی تھی،
مگر نفرت کی جڑیں ابھی تک زندہ تھیں۔
حویلی پرانی تھی…
دیواریں شکستہ تھیں…
مگر انا سلامت تھی۔
اسی انا نے امید پٹھان کے خاندان کو حویلی چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔
وہ دوسرے گاؤں چلے گئے تھے،
مگر دلوں کی آگ کہیں نہیں گئی تھی۔


جنگ کا اعلان ہو چکا تھا۔
جبران کریم خان نے
ظاہر ہاشم کو حویلی بلایا تھا۔
یہ بلانا عام نہیں تھا۔
یہ پیغام تھا۔

اور ظاہر ہاشم…
وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں تھا۔
ان دونوں کے بیچ محبت کی جنگ تھی—

اور محبت جو خون سے نہیں، وفاداری سے بنتی ہے۔
اور محبت سے بڑی کوئی جنگ ہوتی ہے کیا؟


کمرے میں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔
الفاظ تیز تھے… اور خاموشی ان سے بھی زیادہ تیز۔
“یعنی ادفر… تم مجھ سے کیا کہہ رہی ہو؟”
فبیحہ کی آواز کانپ رہی تھی۔
آنکھوں میں یقین اور شک کی جنگ جاری تھی۔
“ظاہر… ظاہر تمہارے شوہر امید کا کزن ہے؟
وہ دونوں کزن بھائی ہیں؟
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
ادفر نے نظریں جھکا لیں تھی۔
ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔
“مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا، فبیحہ…
میں نے کچھ دن پہلے ہی سنا ہے۔
اور تم جانتی ہو… جس حویلی میں تم اور ظاہر ملے تھے نا…
وہ حویلی میرے شوہر کی ہے۔”
فضا جیسے جم گئی تھی۔
“کیا؟”


لیکن وہ اُس دن بھی میرے شوہر سے ملنے آیا تھا۔
مجھے کچھ نہیں معلوم تھا…
میں سچ کہہ رہی ہوں، مجھے کچھ نہیں معلوم تھا…”

مجھے شرم آرہی ہے تمہیں اپنا رشتدار کہتے ہوئے،
تم جبران کریم سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
مجھے ایک بار کہا ہوتا اس کی حویلی کی دیواریں آج کھڑا نہ ہوتی، مجھے بہت عرصے بعد بہانہ مل جاتا جبران کریم کے مقابلے میں کھڑا ہونے کا، اور تمہیں تمہاری محبت مل جاتی ظاہر۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے ادفر مجھے ایسے ہی ملی، مجھے اس کی محبت کو پیچھے کرنا پڑا تھا وہ جو تمہارا دوست ہے نا ابوبکر اسے پیچھے کروانا پڑا تھا وہ خود نہیں ہوا تھا۔۔

امید پٹھان ادفر کا شوہر تھا، ظاہر ہاشم بخت کا ماموں زاد بھائی۔

کچھ عرصہ پہلے وہ ادفر کے کالج آیا تھا۔
وہیں اس نے پہلی بار
ادفر کو دیکھا تھا۔
اور دیکھتے ہی دل ہار بیٹھا تھا۔
یہ محبت تھی؟
یا ضد؟
یا صرف ایک خواہش جسے وہ ہر حال میں حاصل کرنا چاہتا تھا؟
اس نے اس کا پیچھا کیا تھا۔
پتہ چلایا۔
اور پھر جانا—
ادفر کا تعلق ابوبکر سے ہے۔
یہ جان کر اُس کے اندر کا غرور جاگ گیا تھا۔
اسی دوران ادفر کا رشتہ اس کے خاندان میں ہی طے ہو گیا تھا۔
یہ سب اتفاق نہیں تھا۔
یہ منصوبہ تھا۔
جب ابوبکر کو سچ معلوم ہوا، اس نے جبران سے کہا تھا اور جبران نے ایک بس ایک بات کی تھی ادفر کے گھر والوں سے وہ مان گئے تھے۔۔
پھر ابوبکر نے خود پیچھے ہٹنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
اُسے پیچھے ہٹایا گیا تھا۔
امید پٹھان نے اسے دھمکایا تھا۔
الفاظوں سے نہیں…
عزت اور جان کے خوف سے۔
“میں ادفر سے شادی کر کے رہوں گا۔
کسی بھی طریقے سے۔”
ابوبکر کے پاس راستہ نہیں تھا۔
وہ لڑ سکتا تھا—
مگر اس کی قیمت صرف اُس کی نہیں ہوتی۔
اس نے اپنی ماں کی پسند سے اپنے ہی خاندان میں شادی کر لی تھی۔
یعنی وہ بے وفا نہیں تھا۔

بے وفا اگر کوئی تھا—
تو وہ شخص تھا جو ادفر کی زندگی میں
فرشتے کی صورت داخل ہوا تھا۔
جو اُس کا شوہر بنا۔
جو اُس کے بچے کا باپ بننے والا تھا۔
مگر وہ سب
اتفاق نہیں تھا۔
وہ ایک سوچی سمجھی چال تھی۔

ظاہر ہاشم بخت امید پٹھان کا پوفی زاد بھائی تھا۔

ادفر اسی وقت یہاں پونچی تھی، ہاں بلکل ایسا ہی ہے اس نے ان کی باتوں میں وہ بات سن لی جو اسے توڑ گئی تھی اور اس توڑنے نے اسکے بہت سارے حصے کیں تھیں وہ شاید اب سمیٹنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ یہ دنیا ہے اسے اس پہ اب یقین کیسے آتا؟ وہ ادفر تھی اسے اس پہ بھی اب یقین نہ رہا تھا۔
وہ اس کے پاس آیا تھا اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا جو گرا تھا۔
ظاہر ہاشم سب دور کھڑا دیکھ رہا تھا وہ اس وقت کسی دوسرے کی تکلیف سمجھنے کے قابل نہ تھا۔۔


اسے وہ آیت یاد آئی تھی—
“ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔”
مگر وہ آہستہ سے مسکرا دی۔
“ضروری نہیں…
وہ مشکل وہی تھی جس کے بعد آسانی آئے۔
کبھی کبھی ایک مشکل کے بعد
دوسری مشکل کھڑی ہوتی ہے۔”
زندگی کبھی کبھی ویسی نہیں ہوتی
جیسی ہمیں بتائی جاتی ہے۔
ہم سوچتے کچھ ہیں،
ہوتا کچھ اور ہے۔
اور یہی حقیقت تھی۔
یہ اس کے مشکلوں کے بعد کی آسانی نہیں تھی۔
یہ تو اگلی آزمائش کا دروازہ تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *