PATJHAR BY ALAM EPISODE : 10

پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١٠

ازقلم الم 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ بتول اور ثمینہ دونوں کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جہاں اشعث نے اپنے والد سے نقش چرائے تھے وہیں یوشع ہو بہو ارحم کی کاپی تھا۔ ارحم تو بھانجے کو دیکھ کر ہی نہال ہوا جا رہا تھا، اس کا نام بھی ارحم نے ہی رکھا تھا۔
جب زلیخہ وہاں ہارون اور ضرار کے ساتھ بھانجے کو دیکھنے آئی تو ارحم نے نظریں جھکا لی تھیں۔ اس کی محبت ختم نہیں ہوئی تھی، وہ روزِ اول کی طرح ہی شفاف چمکتی ہوئی تھی۔ ہاں! مگر ارحم کو اس محبت پر صبر آ گیا تھا، وہ کسی اور کی عزت، کسی اور کی قسمت تھی۔بتول کے لاکھ کہنے پر بھی اس نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔
ضرار ٹکڑ ٹکڑ اس چھوٹی مخلوق کو دیکھ رہا تھا، وہ حیران تھا کہ ایک ساتھ اس کے دو دو بھائی کہاں سے ٹپک پڑے۔
شاہ ولا میں یوشع کی کلکاریاں گونجتی تھیں، حاتم شاہ پوتے کو سینے سے لگا کر رکھتے تھے اور باپ کی آنکھوں کا تو وہ تارا تھا جبکہ اس کی آنی بھی اس پر جان لٹاتی تھی، دادی بھی اس کے خوب نخرے اٹھاتی مگر سلطان شاہ کی طرف سے ایک کھنچاؤ سا تھا ۔
دوسری طرف ضرار اور اشعث اکثر الجھتے پائے جاتے۔ وہ دونوں کسی بھی بات پر کبھی متفق نہیں ہوتے۔پُر اگر کوئی باہر والا دونوں میں سے کسی ایک کو بھی کچھ کہہ دیتا تو پھر وہ اپنے ہونے کو روتا۔
اشعث ہمیشہ ضرار کی ناک میں دم کر کے رکھتا، اس کی اسٹیشنری خراب کر دیتا یا پھر اس کی چاکلیٹ کھا جاتا، کبھی اس کے کپڑے گندے کر دیتا مگر ہر رات ضرار سے ایک گڈ نائٹ کِس لیے بغیر وہ نہیں سوتا تھا۔ اکثر تو سوتا بھی ضرار کے ساتھ ہی تھا۔ ایک دفعہ زلیخہ رات حاتم شاہ لوگوں کی طرف ہی رک گئی اور ضرار بھی اس کے ساتھ ہی تھا۔ پیچھے اشعث نے “ضر، ضر” کی رٹ لگا کر پورا گھر سر پر اٹھا لیا تھا۔ اب یا تو ضرار گھر رکتا یا اشعث بھی ساتھ جاتا ہے۔
اشعث کی یوشع کے ساتھ بہت بنتی تھی، وہ دونوں پکے والے دوست تھے۔
                           ✩━━━━━━✩
وقت کچھ اور گزرا اور ثمینہ بیگم کی سونی گود کو اللہ نے آئرہ کی صورت بھرا تھا۔ یوشع تو اس کے جھولنے کے ساتھ لٹک کر ٹکڑ ٹکڑ اس چھوٹی سی گڑیا کو دیکھتا رہتا۔ اگر حاتم شاہ آئرہ کو اٹھا کر بیٹھے ہوتے تو یوشع انگلی سے کبھی اس کے گال چھوتا تو کبھی اس کی آنکھیں۔ پھر اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں پکڑ پکڑ کر دیکھتا۔ اگر حاتم شاہ آئرہ کو پکڑنے کا کہتے تو وہ بدک کر پیچھے ہٹ جاتا، “چھوتی شی تو ہے ٹوٹ گئی تو (چھوٹی سی تو ہے، ٹوٹ گئی تو!)” اس کے معصوم اور ڈرے سے انداز پر سب ہنس دیتے تھے۔ یوشع کو لگتا تھا کہ آنی ہسپتال سے رونے والی گڑیا خرید کر لائی ہیں۔
سلطان شاہ جب بھی گھر ہوتے وہ یوشع کو آئرہ کے پاس نہیں جانے دیتے تھے، اکثر اسے اسی بات پر ڈانٹ بھی دیتے  تو وہ ننھا سا بچہ سہم جاتا۔ آئرہ کو دیکھ کر اشعث اور ضرار نے سب کے سامنے اعلان کیا کہ انہیں بھی ایسی گڑیا چاہیے تو زلیخہ اور ثمینہ تو پانی پانی ہو گئیں،
“چھوٹی امی آپ امی سے کہو نا کہ ہسپتال سے گڑیا لے آئیں!” “مما جانی آپ بھی بڑی امی کے ساتھ ہی جا کر گڑیا لے آنا!” ضرار اور اشعث جب زلیخہ سے لپٹ کر بولے تو ہارون نے شوخ نظروں سے بیوی کو دیکھا تو انہیں چھپنے کے لیے جگہ نہیں ملی جبکہ باقی سب دبا دبا مسکرا دیے۔

شاید اللہ نے ضرار اور اشعث کی دعائیں سن لی تھیں جب وہ رمضان میں روز افطار کے وقت باآواز بلند مانگتے تھے۔ جب بھی زلیخہ اور ثمینہ نماز پڑھنے لگتیں وہ اپنا چھوٹا سا جائے نماز اٹھا کر سر پر ٹوپی لیے پہنچ جاتے۔

پھر سیدھی الٹی جیسی پڑھی جاتی نماز پڑھ کر ہل ہل کر دعا مانگتے، “اللہ سائیں ہمیں گڑیا دے دو۔” مگر غلطی یہ ہوئی کہ گڑیا ایک مانگی، علیحدہ علیحدہ نہیں مانگی اور پھر ان کی دعاؤں کا ثمر بن کر مشکوٰۃ ان کی زندگی میں آئی۔
مگر ان کی ازلی لڑائی پھر عود کر آئی اور گڑیا کا نام رکھنے پر جنگ چھڑ گئی۔ ضرار کی ضد تھی کہ اس کا نام فاطمہ رکھا جائے اور اشعث کی ضد تھی کہ اس کا نام مشکوٰۃ رکھا جائے۔ “ان کا صحیح ہے، نہیں؟ باپ میں ہوں مجھ سے کوئی پوچھ نہیں رہا۔” ہارون شاہ ان کی بحث سن کر جل کر بولے
تو آخرکار دونوں کی مان کر گڑیا کا نام “سیدہ مشکوٰۃ فاطمہ” رکھا گیا۔ اب ضرار اسے فاطمہ کی بجائے مشکوٰۃ کہتا اور اشعث اسے مشکوٰۃ کی بجائے فاطمہ، یہ دونوں بڑوں کی سمجھ سے باہر تھے۔
اب نام کے بعد لڑائی ہوتی تھی مشکوٰۃ کو گود میں لینے پر۔ ویسے وہ سارا دن اکیلی پڑی رہے، کوئی مسئلہ نہیں مگر جب اسے اشعث نے اٹھایا تو ضرار نے بھی تبھی اسے گود میں اٹھانا تھا۔ فیملی گیدرنگ میں بھی سارا وقت ان کا یہی جھگڑا رہتا۔ پھر تنگ آ کر ہارون اسے دونوں سے لے کر اپنی گود میں لے لیتے تو ضرار اور اشعث بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھ کر کندھے گرا دیتے تھے۔ ان کی حالت سے سب بہت محظوظ ہوتے تھے جبکہ آئرہ  کو گود میں اٹھائے بیٹھا  یوشع ان کو جتاتی نظروں سے دیکھ کر مسکرا دیتا۔
مشکوٰۃ شاہ خاندان کی آنکھوں کا تارا تھی، وہ اپنے بابا کی لاڈو تھی۔ ہارون شاہ مشکوٰۃ کی پیدائش پر بہت خوش تھے، انہیں اپنی بیٹی اپنی جان سے زیادہ عزیز تھی،وہ اس پر جان لٹاتے تھے جبکہ اپنے تایا سے بھی مشکوٰۃ خوب پیار بٹورتی تھی۔
                        ✩━━━━━━✩
زندگی کے گزرتے حسین پل میں پھر وہ بھیانک دن آیا جس نے سب کی زندگی کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔
“بھابھی میرا دل نہیں کر رہا،” زلیخہ مشکوٰۃ اور ضرار کو دیکھ کر بے بسی سے بولی۔
“فکر مت کرو! میں بچوں کو دیکھ لوں گی، تم بے فکر ہو کر جاؤ۔” ثمینہ نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔
“ہمم،” زلیخہ تھکے سے لہجے میں بولی مگر پتہ نہیں کیوں اس کا دل عجیب سا ہو رہا تھا۔ ہارون کے کسی کولیگ کے ہاں پارٹی تھی اور انہوں نے وہاں جانا تھا۔ رات کو زیادہ دیر ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کو گھر چھوڑ کر جا رہے تھے۔
ہارون اور زلیخہ بچوں کو پیار کر کے نکلے تھے جبکہ زلیخہ کتنی دیر ضرار کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی رہی تھی۔ ان کا دل پتہ نہیں کیوں عجیب سا ہو رہا تھا۔ ان کو لگ رہا تھا کہ ان کا کچھ کھو رہا ہو، کوئی چیز ہے جو پیچھے چھوٹ رہی ہے۔ ہارون نے بھی اپنی لاڈو کو جی بھر کے پیار کیا تھا۔

ہارون گاڑی میں زلیخہ کا انتظار کر رہے تھے جب وہ آ کر بیٹھی تو ہارون مسکرا دیے۔ وہ پیاری لگ رہی تھیں۔ ان بیتے سالوں میں وہ بیوی سے محبوب کے درجے پر فائز ہو چکی تھی۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ لیا، “حسین لگ رہی ہیں۔” ان کی اتنی سی تعریف پر بھی زلیخہ بلش کر گئی تھی۔ ان کی شادی شدہ زندگی بہت حسین تھی، بالکل ایک حسین حقیقت کے جیسے، ہارون شاہ نے انہیں پلکوں پہ بٹھا کے رکھا تھا۔
گاڑی جب سنسان روڈ پر پہنچی تو پتہ نہیں کہاں سے دو ٹرک آئے اور ان کی گاڑی کو آگے اور پیچھے سے ہٹ کیا۔ ان کی گاڑی دونوں ٹرکوں کے درمیان میں تھی۔ گاڑی کو زور دار جھٹکا لگا تھا، ہارون بھی اس اچانک حملے پر شاک میں تھے۔ وہ دونوں اچھا خاصا زخمی ہو چکے تھے۔ انہوں نے جب بیوی کو دیکھا تو وہ زخموں سے کراہ رہی تھی۔ زلیخہ کی آنکھوں کے آگے بار بار اندھیرا چھا رہا تھا۔ اس نے بھی اپنے محبوب شوہر کی طرف دیکھا۔
ہارون نے ہاتھ بڑھا کر زلیخہ کو اپنی آغوش میں لیا۔ زلیخہ بھی دونوں بازو ان کے گرد باندھ گئی تھی۔ ہارون نے گاڑی کا گیٹ کھولنے کی کوشش کی مگر اس کا لاک جام ہو چکا تھا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ پھنس گئے ہیں۔ انہوں نے زلیخہ کے ماتھے پر لب رکھے، پھر اس کے چہرے کے ہر نقش کا بوسہ لیا۔ زلیخہ نے جب ان کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے بھی معاملے کی سمجھ آ گئی تھی۔
ان کے لبوں نے حرکت کی
“أَشْهَدُ أَنْ لا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ”
ہارون نے بھی یہ الفاظ ان کے پیچھے دہرائے،
” وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ”
زلیخہ نے اپنی سنہری آنکھوں سے ہارون کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا، لب خاموش تھے مگر آنکھوں نے سارے پیغام دے دیے تھے۔ زلیخہ نے آگے بڑھ کر ہارون کے ماتھے کا بوسہ لیا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے تمام حسین لمحے گھوم رہے تھے، جب وہ ہارون کی دلہن بن کر ان کے ساتھ رخصت ہو کر آئی تھی، جب انہوں نے پہلی دفعہ ضرار کو اپنی گود میں لیا تھا، جب ان کی چھوٹی سی مشکوٰۃ، ان کی گڑیا ان کی زندگی میں آئی تھی۔ اپنے بچوں کا سوچ کر ان کا دل تکلیف سے پھٹ گیا تھا۔
ہارون کی آنکھوں کے سامنے بھی اپنے بچوں کی شبیہ لہرائی تھی۔

پھر ایک ہچکی کے بعد زلیخہ کا وجود ساکت ہو گیا اور سر ہارون کے سینے پر ٹک گیا۔ ہارون نے روتے ہوئے اسے خود میں سمویا، اس کے بالوں پر لب رکھے پھر ان کے وجود کی حرکت بھی تھم گئی، دونوں کی روح ایک دوسرے کے حصار میں پرواز کر چکی تھی۔

گاڑی کی حالت بہت خراب تھی۔ باہر سے دیکھنے والوں کے دل کانپ اٹھے تھے، یہ سوچ کر کہ اندر بیٹھے لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔ ٹرک ڈرائیور نے ان کے مرنے کی تصدیق کی پھر وہاں سے غائب ہو گئے۔
                       ✩━━━━━━✩       
یہ خبر شاہ خاندان پر قہر بن کر ٹوٹی تھی۔ ابراہیم شاہ تو اپنے بھائی کا مردہ وجود دیکھ کر ہی تڑپ اٹھے تھے ۔ حاتم شاہ نے جب اپنی لاڈلی بیٹی کا کفن میں لپٹا چہرہ دیکھا تو ان کے لبوں سے ایک آہ نکلی تھی اور کبیر تو بہن اور بہنوئی کی لاش دیکھ کر لڑکھڑا گئے تھے۔ انہیں آج پتہ چلا تھا کمر ٹوٹنا کسے کہتے ہیں، موت سے پہلے موت کیا ہوتی ہے۔
بڑی بیگم، ثمینہ، بتول اور صائمہ کا رو رو کر برا حال تھا۔ بڑی بیگم نواسے کو سینے سے لگائے بیٹھی تھیں جو کہ ساکت نظروں سے ماں باپ کے مردہ وجود کو دیکھ رہا تھا اور اشعث کبھی اپنے آنسو صاف کرتا اور کبھی بلک بلک کر روتی مشکوٰۃ کو چپ کروانے کی کوشش کرتا جو اس کی گود میں تھی۔ یوشع بھی سہما سا اپنی پھپھو جانی اور انکل کی بند آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔
ان بچوں نے چھوٹی عمر میں بڑے بڑے جنازے دیکھ لیے تھے اور واللہ ان جنازوں کے غم کا بوجھ تاحیات ان کے دل پہ رہنا تھا۔ ہر غم میں ہر خوشی میں ان کی آنکھوں کے سامنے وہی چہرے گھومنے تھے۔
پھر آخرکار جنازے اٹھانے کا وقت بھی آن پہنچا۔
یہ تکلیف ہر تکلیف سے بڑی ہے کہ جن کو ساری زندگی رشتوں سے بلایا ہو، “بہن، بھائی، تایا، چچا، دادا، دادی، پھپھو، ماں، باپ، خالہ، ماموں” پھر انہیں میت کہنا پڑتا ہے، زبان کٹ کٹ جاتی ہے اور ہر بار دل میں نئے طریقے سے تکلیف ہوتی ہے۔ آج اشعث کے پیارے چاچو اور چاچی بھی میت ہو گئے تھے۔
“ابراہیم! حوصلہ کرو، جنازہ اٹھانے کا وقت ہو گیا ہے۔” سلطان نے بمشکل اپنے آنسو روکتے ابراہیم شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔ ان کی بات سن کر ضرار اٹھا، “ماموں جان! میری ماں کی میت کو کوئی نامحرم ہاتھ نہیں لگائے گا، میرے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ میں اپنی ماں کا جنازہ اٹھا سکوں۔” آخر میں ضرار کا مضبوط لہجہ بکھر گیا تھا۔ سلطان نے اسے پکڑ کر خود سے لگایا۔
پھر سب کی آھوں اور سسکیوں کے دوران جنازے اٹھائے گئے۔ زلیخہ کی میت کو کندھا حاتم شاہ، سلطان شاہ، کبیر شاہ اور ضرار نے دیا تھا جبکہ ہارون کی میت کو کندھا ابراہیم شاہ، ارحم اور ہارون کے دو دوستوں نے دیا تھا۔ حاتم شاہ نے اپنی زندگی میں نہ جانے کتنے جنازے اٹھائے تھے مگر اس جنازے نے ان کے کندھے جھکا دیے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ ان کی ماں کا جنازہ ان کی کمر توڑ گیا تھا مگر ان کی اس جان سے پیاری اولاد نے انہیں پورے کا پورا توڑ کر رکھ دیا تھا۔
یہ جانے والے پیچھے والوں کو ہر روز موت سے ہمکنار کر جاتے ہیں۔

دونوں جنازے ابراہیم شاہ نے پڑھائے تھے، وہ درگاہ کی مسجد کے امام تھے، روز کوئی نہ کوئی جنازہ پڑھاتے تھے مگر اس جنازے کو پڑھاتے وقت ان کی آواز بار بار بکھر رہی تھی۔ انہیں لگ رہا تھا وہ کسی بھی وقت گر جائیں گے۔ ہارون اور زلیخہ کو درگاہ کے آبائی قبرستان میں ہی دفنایا گیا تھا۔
ضرار ابھی ابھی لڑکپن میں داخل ہوا تھا اور اس شوخ اور لاابالی عمر میں اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے ماں باپ کو لحد میں اتارا تھا۔

یہ جو لڑکپن کے صدمے ہوتے ہیں نا، یہ بچپن کی شرارتوں کی لذت اور جوانی کی خوشیوں کی امید دونوں مار دیتے ہیں۔
تدفین کے بعد اپنے کمرے میں آ کر ضرار بلک بلک کر رو دیا تھا۔ جب مشکوٰۃ کو اٹھائے اشعث چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اس کے پاس پہنچا، مشکوٰۃ کو اس کی گود میں دیا اور خود اس کے گلے میں بازو حمائل کر اس کی گردن میں چہرہ چھپا کر رندھی ہوئی آواز میں گویا ہوا، “ضر! یہ رو رہیں تھی بہت اور مجھے بھی بہت رونا آ رہا ہے مگر میں اس کے سامنے نہیں رویا ورنہ اس کو کون چپ کرواتا؟ میں بڑا تھا نا! مگر آپ کے سامنے رو لوں گا کیونکہ مجھے آپ چپ کروا لیں گے۔” اس کے کہنے پر ضرار نے اسے اور مشکوٰۃ کو خود میں بھینچ لیا تھا۔
آج ضرار واقعتاً بڑا ہو گیا تھا، وہ ذمہ داریاں اٹھانا اور آنسو پونچھنا جان گیا تھا اور آنسو چھپانا بھی۔
اس صدمے کے ایک ہفتے بعد حاتم شاہ کی موت کی خبر نے گویا سب کے دلوں کو چیر دیا تھا۔ بیٹی کی موت کے ایک ہفتے بعد وہ بھی ہارٹ اٹیک کی وجہ سے چل بسے تھے، وہ شاید بیٹی کی جدائی کا غم برداشت نہیں کر پائے تھے۔ پھر صفِ ماتم بچھا تھا، پھر ایک جنازہ اٹھایا گیا، پھر ایک قبر کی تعمیر ہوئی تھی۔
“انسپیکٹر صاحب! آپ جانتے بھی ہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں؟” ابراہیم شاہ نے سامنے بیٹھے انسپیکٹر کو دیکھ کر کہا جو ہارون شاہ اور زلیخہ کے ایکسیڈنٹ کی انویسٹیگیشن کر رہا تھا۔
“شاہ صاحب! یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے، جس میں ہم کوئی بھی بات بنا ثبوت کے نہیں کر سکتے، اور ایکسیڈنٹ اِسپاٹ سے جو فٹیج ہمیں ملی تھی اس سے صاف ظاہر تھا کہ ایکسیڈنٹ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ اور انویسٹیگیشن کے دوران جو نام ہمارے سامنے آیا ہے وہ میں آپ کو بتا چکا ہوں۔” انسپیکٹر نے تحمل سے اپنی بات واضح کی تو ابراہیم شاہ کے چہرے پر تفکر کے سائے لہرائے۔
“کیا آپ پر یقین ہے کہ یہی سچ ہے؟ کیونکہ جو نام آپ لے رہے ہیں، آپ جانتے بھی ہیں وہ کون ہیں؟”
“جناب! ایک ٹرک ڈرائیور ہماری حراست میں ہے اور اس کے بیان کے مطابق جس آدمی نے اسے یہ کام سونپا تھا، اس کا لنک آپ کے اسی عزیز خاص ملازم کے ساتھ ہے۔” انسپیکٹر کا لہجہ پر یقین تھا جسے سُن کر ابراہیم صاحب پریشان ہوئے۔ وہ تو ابھی تک بھائی کے صدمے سے ہی نہیں نکلے تھے کہ یہ پریشانی آن پڑی۔
آج یوشع اپنے ماموں کے گھر آیا ہوا تھا۔ بلکہ ارحم خود ہی اسے ساتھ لے آیا تھا تاکہ وہ اس دکھ بھرے ماحول سے باہر نکل سکے

“ماموں جان، اب میں پھوپھو کو کبھی نہیں دیکھ سکوں گا؟” یوشع، ارحم کے سینے پر لیٹا ہوا اس کی داڑھی کے ساتھ کھیلتے ہوئے اداسی سے سوال کر رہا تھا۔ اسے اپنی پھوپھو بہت یاد آ رہی تھیں۔ جبکہ اس کی بات سُن کر ارحم کی آنکھوں میں جلن سی ہوئی تھی۔ اس کی محبت مَنوں مٹی تلے جا سوئی تھی۔ وہ بے شک اس کی نہیں ہوئی تھی، مگر خوش تو تھی مگر اب ۔۔۔۔
“کس نے کہا میری جان؟ آپ جنت میں ان سے ملو گے نا اور تب وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گی۔” ارحم نے اس کے بال سہلاتے ہوئے جواب دیا، جبکہ یہ بات سوچ کر تکلیف اور بڑھی تھی کہ وہ تو جنت میں بھی اسے نہیں ملے گی۔ وہ تو شاید کبھی بھی اس کا اجر نہیں ہو گی۔ یہ دل کم بخت ان پر ہی کیوں آتا ہے، جن کا ملنا مقدر میں نہیں ہوتا؟
“سچی؟” یوشع نے اشتیاق سے پوچھا۔
“مچی!” ارحم نے بھی پیار سے جواب دیا۔
“ماموں کا شہزادہ کیا کھائے گا؟” ارحم اس کا دھیان بھٹکانا چاہ رہا تھا۔
“آئس کریم! پر مما کو مت بتانا۔” یوشع نے جب پہلی بات خوشی سے اور دوسری بیچارگی سے کہی تو ارحم ہنس دیا۔
“اوکے! پرومِس! نہیں بتاؤں گا! پر پہلے کھانا کھانا پڑے گا، پھر آئس کریم ملے گی۔” ارحم نے انگلی اٹھا کر وارننگ دینے انداز میں کہا تو یوشع نے سعادت مند بچے کی طرح سر ہلایا۔
“ڈَن!”
ارحم، یوشع کو لے کر کمرے سے باہر آیا تو تبھی پولیس گھر میں داخل ہوئی۔
“یس انسپیکٹر!” ارحم نے پولیس انسپیکٹر کو دیکھ کر سنجیدگی سے استفسار کیا۔
“آپ کی گرفتاری کے وارنٹ ہیں ہمارے پاس۔ آپ کو سید ہارون قیوم شاہ اور ان کی زوجہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔” انسپیکٹر کی بات پر ارحم نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
“آپ جانتے ہیں، آپ کس کے گھر میں کھڑے ہو کر کیا بات کر رہے ہیں؟” ارحم بمشکل اپنا غصہ قابو کیے ہوئے تھا، ورنہ انسپیکٹر کی بکواس پر ارحم کا دماغ گھوما تھا۔
“ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کس سے اور کیا بات کر رہے ہیں اور ہمارے پاس آپ کے خلاف وارنٹ موجود ہیں۔” انسپیکٹر نے ارحم کی آنکھوں میں دیکھ کر جتاتے ہوئے لفظ ادا کیے۔
اس دوران یوشع سہم کر ارحم کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔
“کیا بکواس ہے یہ! کریم۔۔۔۔۔! کریم۔۔۔۔۔۔!” اس نے غصے سے کہتے ہوئے اپنے خاص ملازم کو آواز دی۔
“کریم کو تو ہم پہلے ہی حراست میں لے چکے ہیں۔” انسپیکٹر نے اطلاع دینے والے انداز میں کہا تو ارحم جھٹکے سے اس کی طرف مڑا۔ پھر تھکا سا سانس خارج کیا۔ اسے سمجھ آ چکی تھی کہ اس کے گرد جال بچھایا جا چکا ہے۔
“مجھے تھوڑا سا وقت دیں، مجھے اپنے بھانجے سے بات کرنی ہے۔ وہ ڈر گیا ہے۔” ارحم نے تھکے سے انداز میں کہا۔
“ہم تمہارے باپ کے نوکر نہیں ہیں کہ تمہارے نخرے اٹھاتے رہیں۔ غفور! بچے کو پکڑو۔” انسپیکٹر کا لہجہ یکدم ہی بدلا تھا۔ پھر یوشع کے سامنے ہی اس کے ماموں کے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنائی گئی اور پولیس والے اسے گھسیٹ کر لے گئے تھے۔
“ماموں! ماموں جان! میرے ماموں کو چھوڑو!” یوشع چیخ چیخ کر رو رہا تھا، جبکہ پولیس والے نے اسے دونوں بازوؤں سے جکڑ رکھا تھا۔
                        ✩━━━━━━✩

جاری ہے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *