بشر ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۰
گاڑی کافی دیر سڑکوں پر چلتی رہی…
لاہور اب رات کی روشنیوں میں پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا…
ہر طرف جگمگاتی لائٹس تھی مصروف سڑکیں… اور لوگوں کا شور… ہر طرف پھیلا ہُوا تھا۔۔۔
کافی دیر گھومنے پھرنے کے بعد آخرکار گاڑی ایک بڑی سی روشن عمارت کے سامنے آ کر رکی…
Packages Mall…
سوہان نے باہر دیکھتے ہی فوراً جوش میں آکر کہا۔
آخرکار کوئی civilized جگہ آئی ہے…
ایسے بول رہا ہے جیسے ابھی تک جنگل میں گھوم رہے تھے… تائیجون نے فوراً ٹوکا۔
سب ہلکا سا ہنس دیے…
منیجر نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا، آپ لوگ آرام سے گھوم لیں… لیکن بہت زیادہ الگ الگ مت ہوئیے گا…
جے کیونگ نے فوراً طنزیہ انداز میں بڑبڑایا، ہاں کیونکہ ہم preschool کے بچے ہیں…
سیونگ نے فوراً اُسے کہنی ماری۔ شروع مت ہو…
سب گاڑی سے اتر کر مال کی طرف بڑھنے لگے…
سامنے شیشوں سے جگمگاتا ہوا بڑا سا مال تھا…
ہیوک نے گردن گھما کر اردگرد دیکھا۔ یہ جگہ تو واقعی اچھی ہے…
اور یہاں کھانا بھی اچھا ہوگا…۔سوہان نے فوراً اہم بات کی۔
تمہیں ہر جگہ صرف کھانا کیوں یاد آتا ہے؟ سومین ہنستے ہوئے بولا۔
کیونکہ یہی زندگی کا اصل مقصد ہے…
سب ہنستے باتیں کرتے اندر داخل ہوگئے…
مال کے اندر کافی رش تھا…
کسی طرف بچے بھاگ رہے تھے…
کہیں لوگ شوپنگ بیگز اٹھائے گھوم رہے تھے…
اور کہیں دوستوں کے گروپ کیفے کے باہر بیٹھے ہنس رہے تھے…
مال کے اندر داخل ہوتے ہی سب جیسے اپنے اپنے موڈ میں کھو گئے تھے…
کوئی برانڈڈ دکانوں میں گھس رہا تھا…
کوئی عجیب عجیب چیزیں اٹھا کر دوسروں کو دکھا رہا تھا…
اور کوئی بس اِدھر اُدھر گھومنے میں مصروف تھا…
کافی دیر تک وہ پورے مال میں گھومتے رہے…
کبھی کسی دکان میں چلے جاتے…
کبھی کسی چیز پر بحث شروع ہوجاتی…
کبھی تصویریں لینے لگتے…
ایک جگہ تائیجون نے مزاق میں ایک عجیب سی ٹوپی جے کیونگ کے سر پر رکھ دی تھی…
اور پھر سب پانچ منٹ تک ہنستے رہے کیونکہ جے کیونگ اُسے اتارنے کے بجائے آئینے میں خود کو دیکھ رہا تھا…
تم لوگوں کو بس مجھ سے جلنے کی بیماری ہے…
جے کیونگ نے پورے اعتماد سے کہا۔
ہاں… بہت زیادہ… ہیوک نے سنجیدہ چہرہ بنا کر جواب دیا۔
کافی دیر گھومنے پھرنے کے بعد آخرکار سب واقعی تھک گئے تھے…
سوہان نے چلتے چلتے ڈرامائی انداز میں کہا، میں اب مزید ایک قدم نہیں چل سکتا…
سومین ہنس پڑا۔ لو ہوگیا ان کا ڈراما شروع۔۔۔
آخرکار سب نے کیفے جانے کا فیصلہ کیا…
وہ لوگ مال کے ایک نسبتاً پرسکون حصے میں موجود ایک خوبصورت کیفے میں داخل ہوئے۔۔۔
کیفے میں داخل ہوتے ہی جے کیونگ کی نظریں بےاختیار کھڑکی کے قریب موجود ایک بینچ پر جا کر رُک گئی۔
وہی لڑکی… پارک والی… وہ اپنی ایک دوست کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی… آج بھی سیاہ عبایا اور نقاب میں…
ہاتھ میں کافی کا کپ تھا جبکہ سامنے اُس کی دوست بیٹھی کچھ بول رہی تھی…
جے کیونگ اُسے دیکھتے ہی فوراً پہچان گیا۔
کیا ہوا؟
تائیجون نے اُس کے اچانک رُکنے پر پوچھا۔
کچھ نہیں…
جے کیونگ نے فوراً نظریں ہٹائیں… پھر جان بوجھ کر اُس بینچ کے بالکل پیچھے والی نشست کی طرف بڑھ گیا۔
یہاں بیٹھتے ہیں…
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا… مگر پھر کندھے اُچکا کر بیٹھ گیا۔
ہر ٹیبل پر چار سیٹ تھیں… اس لیے وہ لوگ الگ الگ بیٹھ گئے…
ایک ٹیبل پر جے کیونگ، تائیجون، سومین اور سوہان بیٹھ گئے…
جبکہ دوسری طرف رین یون، سیونگ، ہان وو اور ہیوک بیٹھ گئے…
ادھر باقی سب اپنے آرڈرز اور باتوں میں مصروف تھے…
مگر جے کیونگ کی پوری توجہ پیچھے بیٹھی اُس لڑکی کی آواز پر تھی…
وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں…
اور تمہاری جاب کا کیا ہوا فاطمہ؟ کیسی چل رہی ہے؟ پروموشن ہوئی۔۔۔؟؟
یہ سنتے ہی جے کیونگ کے کان جیسے اور زیادہ کھڑے ہوگئے۔
اوہ… تو اِس کا نام فاطمہ ہے…
اُس نے دل ہی دل میں سوچا۔
فاطمہ… اور جاب بھی کرتی ہے…؟
اُدھر فاطمہ نے لمبی سانس لی۔
جاب… چھوڑو یار…۔اُس کی آواز میں واضح بےزاری تھی۔ اب کہہ رہے ہیں اگر یہاں کام کرنا ہے تو باقی اسٹاف کی طرح رہنا پڑے گا…
اُس کی دوست فوراً الجھی۔ کیا مطلب؟ تم کام ٹھیک نہیں کرتی کیا؟
نہیں… فاطمہ نے فوراً سر ہلایا۔ وہ کہہ رہے ہیں مجھے اپنا یہ نقاب ہٹانا پڑے گا… ایسے کام نہیں کر سکتی میں…
چند لمحے وہ خاموش رہی… پھر آہستہ سے بولی،
حجاب میں رہوں… ٹھیک ہے… مگر کہتے ہیں چہرہ سب کو دکھانا پڑے گا…۔اُس کی آواز میں واضح تکلیف تھی۔۔ایسی جاب سے اچھا…میں بھوکی ہی نہ مر جاؤں…
اُس کی دوست فوراً بولی، یار مگر وہ لوگ اچانک ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تمہیں تو وہاں کام کرتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہوچکا ہے… تو ابھی پھر ایسا کیوں۔۔؟؟
پتہ نہیں… فاطمہ نے کافی کا کپ ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔ اچانک کہنے لگے کہ یہ کمپنی کی پالیسی ہے…
جے کیونگ خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہا تھا…
پہلی بار… اُسے اُس لڑکی کی آواز میں غصے کے بجائے اداسی محسوس ہوئی تھی…
اُس کی دوست نے ہمدردی سے کہا، خیر ہے… کوئی بات نہیں… کسی دوسری کمپنی میں apply کرلو…
فاطمہ نے ہلکا سا سر ہلایا۔
ہاں… دیکھتی ہوں…
مگر اُس کی آواز سے صاف لگ رہا تھا… وہ واقعی پریشان تھی۔
اُس نے کافی کا کپ دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا…
بس عجیب لگتا ہے یار… وہ آہستہ سے بولی۔ ایک سال تک کبھی مسئلہ نہیں ہوا… اب اچانک سب کو میرا نقاب problem لگنے لگا…
اُس کی دوست نے فوراً کہا، تم نے manager سے properly بات کی؟
کی تھی…
وہ کہتے ہیں customers uncomfortable feel کرتے ہیں…
یہ سن کر جے کیونگ کی بھنویں بےاختیار سکڑ گئیں۔
Uncomfortable…
وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا۔
فاطمہ کی دوست نے فوراً ناراضی سے کہا، اِن لوگوں کو ہر چیز سے مسئلہ ہوتا ہے…
چھوڑو…
فاطمہ نے بات ختم کرنے کے انداز میں کہا۔
رزق اللہ دیتا ہے… کہیں اور مل جائے گی جاب…
اُس کی آواز میں عجیب سا سکون تھا… حالانکہ پریشانی واضح محسوس ہو رہی تھی۔
اِدھر باقی سب اپنے اپنے آرڈر دینے میں مصروف تھے…
کوئی کافی آرڈر کر رہا تھا… کوئی dessert… اور سوہان تو مینو دیکھتے ہی کھانے کی پوری لسٹ بنانے لگا تھا۔
یہ بھی try کرتے ہیں… اور یہ بھی…
ابے بھوکا تو؟ سب کھاجا تو۔۔۔ سومین نے فوراً ٹوکا تو سب ہنس پڑے۔
مگر جے کیونگ… وہ اب بھی آدھا دھیان پیچھے بیٹھی فاطمہ کی باتوں پر لگائے بیٹھا تھا۔
رزق اللہ دیتا ہے… کہیں اور مل جائے گی…
اُس کے ذہن میں بار بار یہی جملہ گونج رہا تھا۔
اوئے جے-کے…
سومین کی آواز پر بھی وہ چونکا نہیں۔
تائیجون نے سامنے ہاتھ ہلایا۔ اوئے… آرڈر دے نا…
سوہان نے سیدھا اُس کے کندھے کو ہلایا۔ اووو بھائی… کیا پیئے گا؟
ہاں؟ ہاں… کیا ہوا؟
جے کیونگ جیسے اچانک حقیقت میں واپس آیا۔
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔ کہاں کھویا ہوا ہے؟ آرڈر کر…
جے کیونگ نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ تم سب نے آرڈر کر دیا؟
سومین فوراً بولا۔۔ ابے… تُو کون سی دنیا میں بیٹھا ہے؟
جے کیونگ نے جھنجھلا کر مینو اٹھایا۔ کچھ بھی لے دو…
کچھ بھی؟ سوہان نے فوراً آنکھیں تنگ کیں۔ بھائی لیکن یہاں مینو میں کُچھ بھی۔۔ کہیں نہیں لکھا۔۔۔؟؟؟
جے کیونگ نے فوراً مینو اُن کی طرف پھینکا۔ ایک تھپڑ لگاؤں گا۔۔۔
سب ہنسنے لگے…
کچھ دیر بعد اُن سب کا آرڈر بھی آ گیا…۔ٹیبل پر کافی mugs، fries، burgers اور desserts رکھے جانے لگے…
سوہان تو کھانا آتے ہی باقی سب کو بھول گیا تھا۔
یہ فرائیز میری ہیں… ہاتھ مت لگانا کوئی…
ابے جا۔۔۔ سومین نے فوراً اُس کی پلیٹ سے ایک فرائیز اٹھالی۔
اوئے واپس رکھ…
اُدھر جے کیونگ بھی خاموشی سے کافی پی رہا تھا۔۔۔مگر اُس کی توجہ اب بھی بار بار پیچھے چلی جاتی۔
کبھی فاطمہ کی آواز… کبھی اُس کی ہلکی سی ہنسی…
کافی دیر وہاں رین یون آیا۔۔۔ کھا لیا ہے تو چلو؟
ہاں۔۔۔ ہاں چلو۔۔۔ تائیجون اُٹھ کھڑا ہُوا باقی سب بھی اٹھنے لگے۔۔۔
سب آہستہ آہستہ کیفے سے باہر نکلنے لگے…
جے کیونگ نے جاتے ہوئے ایک آخری نظر پیچھے ڈالی۔
فاطمہ اب بھی اپنی دوست کے ساتھ بیٹھی تھی…
وہ کچھ کہہ رہی تھی… اور اُس کی آنکھیں ہنستے ہوئے ہلکی سی سکڑ گئی تھیں…
جے کیونگ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا…
پھر فوراً نظریں ہٹا کر باقی سب کے ساتھ باہر نکل گیا۔
دِل نے کہا جائے بات کرے۔۔۔ لیکن دماغ نے کہا چلو۔۔۔
کیفے سے باہر آتے ہی شام کافی گہری ہو چکی تھی…
اب کہاں جانا ہے؟ سوہان نے پوچھا۔
پہلے ہوٹل… رین یون نے صاف صاف کہا۔ ورنہ کل کوئی اٹھے گا نہیں…
سب آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے…مگر چند قدم چلنے کے بعد… جے کیونگ اچانک رک گیا۔
تم لوگ جاؤ… میں ابھی آیا…
تائیجون فوراً مُڑا۔ کہاں جا رہا ہے؟
بس آرہا ہوں… میرا فون شاید اندر کیفے میں رہ گیا ہے۔۔۔
اوئے اکیلا۔۔۔۔ میں اؤں۔۔۔
نہیں۔۔۔ بس میں دو منٹ میں آیا…
اور جواب کا انتظار کیے بغیر جے کیونگ واپس مُڑ گیا۔
وہ تیز قدموں سے دوبارہ کیفے کی طرف چلنے لگا…
دل عجیب طرح سے بےچین ہو رہا تھا…
حالانکہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا…
وہ واپس کیوں جا رہا ہے…؟
++++++++++++
اُدھر سب لوگ کیفے سے باہر نکل چکے تھے…
مگر ہیوک کے قدم اچانک سست پڑ گئے۔
کیفے کے دوسرے کونے میں اُس کی نظر ایک جانی پہچانی شخصیت پر جا کر ٹھہر گئی…
ماہم…
وہ اپنی کسی دوست کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی…
سامنے کافی کے خالی مگ رکھے تھے… اور دونوں شاید جانے کی تیاری کر رہی تھیں…
ہیوک چند لمحے وہیں کھڑا اُسے دیکھتا رہا…
پھر نہ جانے کیوں… اُس کے قدم خودبخود اُس ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔
السلام علیکم…
اچانک آواز سن کر ماہم چونک گئی۔
اُس نے فوراً سر اٹھایا… اور ہیوک کو سامنے کھڑا دیکھتے ہی جلدی سے اپنی نشست سے کھڑی ہوگئی۔
اوہ… اوہ… وعلیکم السلام… آپ یہاں…؟
اُس کی آواز میں واضح گھبراہٹ تھی… جیسے اُس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
آپ کو بتایا تو تھا… میں tourist ہوں… پھر اُس نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا، بس… یہاں بھی گھومنے آئے تھے…
اوہ… اچھا… ماہم نے ہلکے سے سر ہلایا… مگر وہ اب بھی عجیب سی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔
اُس کی دوست نے فوراً ہیوک کو دیکھا۔
یہ کون ہے ماہم…؟
وہ بھی اب نشست سے کھڑی ہو چکی تھی۔
ماہم ایک لمحے کو اٹکی… پھر جلدی سے بولی،
یہ… مجھے ہماری گلی میں ملے تھے…
ہمم…؟
اُس کی دوست نے مشکوک نظروں سے دونوں کو دیکھا…
آپ دونوں کھڑی کیوں ہوگئیں؟ اُس نے نرمی سے کہا۔ بیٹھ جائیں…
نہیں نہیں… ماہم نے فوراً ہاتھ ہلایا۔ بس ہمارا ہوگیا تھا… ہم بل دے کر نکلنے ہی لگے تھے…
لائیے… میں دے دیتا ہوں…
ماہم فوراً گھبرا گئی۔ نہیں! شکریہ…
لائیے نا… ہیوک نے دوبارہ کہا۔
ماہم نے چند لمحے اُسے دیکھا… پھر شاید بحث نہ کرنے کے لیے آہستہ سے بل اور پیسے اُس کی طرف بڑھا دیے۔
اچھا… ہیوک نے بل ہاتھ میں لیا…
پھر وہ تینوں بل کاؤنٹر کی طرف آگئے…
ہیوک بل ادا کروانے میں مصروف تھا… جبکہ ماہم کی دوست اب بھی اُسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
وہ آہستہ سے ماہم کے قریب ہوئی اور اُس کے کان میں بولی،
تُو نے مجھے ابھی تک ٹھیک سے بتایا ہی نہیں یہ ہے کون…
ماہم کچھ بولنے ہی والی تھی کہ ہیوک نے اُن کی بات سن لی۔
وہ فوراً اُن کی طرف مُڑا… پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
السلام علیکم… میرا نام جنگ ہی-ہیوک ہے… میں کوریا سے ہوں… tourist ہوں… اور یہاں گھومنے آیا ہوں…
یہ کہتے ہوئے اُس نے عادتاً ہاتھ آگے بڑھایا۔
مگر اگلے ہی لمحے ماہم نے فوراً اُس کا ہاتھ نیچے کر دیا۔
نائس ٹو میٹ یو… وہ جلدی سے بولی۔
ہیوک حیرت سے اُسے دیکھنے لگا۔
ارے… آپ تو جانتی ہیں… میں اِنہیں بتا رہا تھا…
اِنہیں میں بتا دوں گی نا… ماہم نے جلدی سے کہا۔ آپ نے بل ادا کر دیا…؟
ہاں… تقریباً…
ہیوک نے ادائیگی کرتے ہوئے کہا… پھر اچانک اُس کی طرف دیکھ کر بولا،
اور…؟
ماہم الجھ گئی۔
اور…؟
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
یعنی… اور کوئی خدمت میرے لائق…؟
نہیں نہیں…
ماہم فوراً گھبرا کر بولی۔
اُس کی دوست نے بھی جلدی سے بات ختم کی۔
اچھا… اب ہم چلتے ہیں…
پھر دونوں مُڑ کر جانے لگیں…
مگر ابھی اُنہوں نے دو قدم ہی لیے تھے کہ پیچھے سے ہیوک کی آواز آئی…
مجھے اُس دن کے بعد لگا تھا… شاید ہماری دوبارہ کبھی ملاقات نہیں ہوگی… تو پھر میں نے خدا سے دعا کی…
یہ سُن دونوں کے قدم ایک ساتھ رُک گئے۔
ہیوک دھیرے سے بولا۔ کہ میں آپ کو دوبارہ دیکھ سکوں… اور دیکھیے… آج میں نے آپ کو دوبارہ دیکھ لیا…
ماہم اور اُس کی دوست آہستہ سے مُڑیں…
اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگی۔۔
پھر ماہم نے دھیرے سے ہیوک کی طرف… اور حیرانی سے پوچھا، آپ نے کیا کہا…؟ آپ نے دعا کی…؟
ہاں…
کس سے…؟
خدا سے…
ماہم نے فوراً کہا، اللہ سے…؟
ہیوک چند لمحے خاموش رہا… پھر آہستہ سے بولا،
میں نہیں جانتا… میں نے بس اپنے خدا سے دعا کی…
اور کون ہے آپ کا خدا…؟
ہیوک کی نظریں چند لمحوں کے لیے نیچے جھک گئیں۔
پھر وہ دھیرے سے بولا،
وہ… جس نے مجھے پیدا کیا…جس نے میری ماں کی مشکل وقت میں مدد کی…جس نے میرے مشکل وقت میں میری دعا سنی…
ماہم خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی…
تبھی اُس کی دوست نے پوچھا،
آپ عیسائی ہیں…؟ رائٹ۔۔۔
نو… نو… کبھی نہیں… ہیوک نے فوراً سر ہلایا۔
میں نے آج تک یہ بات کسی کو نہیں بتائی… اپنے بھائیوں کو بھی نہیں…
پھر اُس نے سیدھا ماہم کی طرف دیکھا۔
صرف آپ کو بتانا چاہتا ہوں…
لیکن… ماہم بےاختیار بولی۔
لیکن…؟
ہیوک نے ہلکی سی سانس لی۔
یہاں کیسے بتاؤں…؟ میرے بھائی باہر میرا انتظار کر رہے ہیں… اور آپ کے بھی جانے کا وقت ہو رہا ہے…
پھر…؟
ہیوک چند لمحے اُسے دیکھتا رہا… پھر آہستہ سے بولا،
پھر… کل… یہیں… اسی کیفے میں ملتے ہیں…
ماہم کی دوست فوراً بول پڑی،
کیوں…؟ جو بات کرنی ہے ابھی کر لیں…
بات لمبی ہے…
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
ابھی مجھے جانا ہوگا…
پھر اُس نے ایک لمحے کے لیے ماہم کو دیکھا۔
کل میں آپ کا انتظار کروں گا… ماہم…
یہ کہہ کر وہ مُڑا… اور تیزی سے کیفے سے باہر نکل گیا۔
بات تو سنیے…
ماہم بےاختیار اُس کے پیچھے بولی…
مگر تب تک ہیوک جا چکا تھا…
ہیوک کے جاتے ہی ماہم چند لمحے وہیں خاموش کھڑی رہی…
جیسے ابھی تک اُس کی آخری باتیں اُس کے ذہن میں گونج رہی ہوں…
کل میں آپ کا انتظار کروں گا… ماہم…
ماہم۔۔۔
اُس کی دوست کی آواز پر وہ چونکی۔
کون تھا یہ…؟
ماہم نے جلدی سے نظریں ہٹائیں۔
بتایا تو تھا… گلی میں ملا تھا…
اُس کی دوست نے فوراً بازو باندھے۔
جو بھی تھا… کل تُم یہاں نہیں آئے گی…
لیکن کیوں…؟ ماہم فوراً بولی۔
کیونکہ وہ لڑکا ہے…
“تو تم بھی ساتھ آ جانا…
ماہم…؟ وہ اُسے گھورنے لگی۔
مگر ماہم فوراً بولی،
یار کیوں ٹینشن لے رہی ہے…؟ وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہے…
ہے تو لڑکا ہی…
ہاں مگر یہاں کا تھوڑی ہے…
“یہاں کا ہو یا وہاں کا… ہے تو لڑکا ہی…
ہاں مگر… tourist ہے…
لڑکا ہے…
کوریا سے آیا ہے…
لڑکا ہے…
کچھ کہنا چاہتا ہے…
لڑکا ہے…
“کچھ بتانا چاہتا ہے…
لڑکا ہے…
شریف ہے…
لڑکا ہے…
ماہم نے ہلکی جھنجھلاہٹ سے اُسے دیکھا۔
کیا پتا مسلمان ہو…
اُس کی دوست نے فوراً جواب دیا،
تو ہے تو لڑکا ہی…
چند سیکنڈ کے لیے خاموشی چھا گئی…
جو بھی ہے… بات تو سننی پڑے گی نا…
کیوں…؟ اُس کی دوست فوراً بولی۔ ہمارا کیا لگتا ہے وہ…؟ ویسے بھی…
ماہم نے بےچینی سے اپنی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔
مجھے نہیں پتا… وہ دھیرے سے بولی۔ لیکن میں ایسی curiosity میں نہیں جی سکتی… مجھے اُس کی بات سننی ہی پڑے گی…
اُس کی دوست نے فوراً ماتھے پر ہاتھ مارا۔
ہاں ہاں… کرلو بات… کما لو گناہ… ہر گناہ کی شروعات یہی سے ہوتی ہے…
یار… ماہم نے فوراً اُسے گھورا۔ تو اتنی گہرائی میں کیوں جا رہی ہے…؟
کیا پتہ۔۔ وہ اسلام کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہو تو…؟
اور جب تم نے پوچھا وہ عیسائی ہے… تو اُس نے فوراً منع کر دیا…
اور پھر وہ کہتا ہے… وہ خدا سے دعا کرتا ہے… اس کا مطلب ؟؟
اُس کی دوست نے اب سنجیدگی سے کہا،
اِس کا مطلب وہ خدا کے ہونے پر یقین رکھتا ہے…
ماہم کی آنکھوں میں فوراً چمک سی آئی۔
ہاں… وہی تو… وہ جلدی سے بولی۔ یعنی وہ یقین تو رکھتا ہے… بس صحیح راستے پر نہیں ہے…
پھر وہ جیسے خود ہی اپنے خیال میں کھو گئی۔
ہم اُسے راستہ دکھا دیں گے…بتائیں گے کہ اسلام سیدھا راستہ ہے…
اُس کی دوست نے اُسے ایسے دیکھا جیسے اُس کی بات پر یقین نہ آرہا ہو۔
واہ واہ… وہ طنزیہ انداز میں بولی۔ ہاں بالکل… وہ کل آئے گا… اور تم کہہ دو گی اسلام سچا راستہ ہے… اور وہ فوراً مان بھی جائے گا…
ماہم نے فوراً سنجیدگی سے کہا،
ارے کیوں نہیں مانے گا…؟ ہم اُسے قائل کر لیں گے…
اُس کی دوست نے فوراً بھنویں اُٹھائیں۔
ہاں… اور جیسے کہ ہم نے اُسے قائل کر لیا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ دوبارہ چلنے لگی۔
ماہم چند لمحے وہیں کھڑی رہی… پھر آہستہ آہستہ اُس کے ساتھ چل دی۔
مذاق اُڑا لو تم… وہ دھیرے سے بڑبڑائی۔ لیکن مجھے واقعی لگتا ہے… وہ مختلف ہے…
ہر دوسری کہانی یہی سے شروع ہوتی ہے… اُس کی دوست نے فوراً کہا۔ وہ مختلف ہے‘…وہ الگ ہے، سب سے۔۔۔
ماہم نے فوراً اُسے گھورا۔
یار تُو ہر بات کو غلط رخ کیوں دے دیتی ہے…؟
کیونکہ میں دنیا دیکھتی ہوں… اُس کی دوست نے سیدھا جواب دیا۔ اور تُم صرف لوگوں کی اچھی باتیں دیکھتی ہے…
ماہم خاموش ہوگئی۔۔۔۔
+++++++++++
جے کیونگ تیز قدموں سے واپس کیفے کے اندر آیا…
کئی ٹیبلز خالی ہو چکی تھیں… ہلکی موسیقی اب بھی آہستہ آہستہ فضا میں پھیلی ہوئی تھی…
وہ سیدھا اُسی طرف بڑھا جہاں کچھ دیر پہلے فاطمہ بیٹھی تھی…
مگر وہاں پہنچتے ہی اُس کے قدم رُک گئے۔
وہ جا چکی تھی۔ ٹیبل خالی تھی…
جے کیونگ نے بےاختیار اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں…
شاید وہ ابھی قریب ہو… شاید واشروم گئی ہو… شاید کاؤنٹر پر ہو…
مگر وہ کہیں نظر نہیں آئی۔
وہ آہستہ سے اُس ٹیبل کے قریب آیا… تبھی اُس کی نظر ٹیبل پر پڑی ایک فون پر جا کر رُک گئی۔
شاید… اُس کا یا اُس کی دوست کا فون وہیں رہ گیا تھا۔۔۔ شاید… وہ جلدی میں اپنا فون یہیں بھول گئی تھی۔
جے کیونگ نے فون اٹھایا…
فون لاک تھا… اس نے لاک اسکرین روشن کی۔۔
اُس کی نظریں فوراً اُس پر لکھی ایک لائن پر جا کر ٹھہر گئیں…
اوپر اردو میں کچھ لکھا تھا… اور نیچے چھوٹے حروف میں انگلش translation…
اور دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔
اُسے اردو کی سمجھ نہیں آئی لیکن انگلش وہ بخوبی سمجھ گیا۔۔۔
جے کیونگ کی بھنویں ہلکے سے سکڑ گئیں۔
دھوکا…؟
وہ بےاختیار دھیرے سے بڑبڑایا۔
یہ دنیا…؟ اور دھوکا…؟
اُس نے دوبارہ وہ جملہ پڑھا…
دنیا کی زندگی… دھوکے کا سامان…
چند لمحوں کے لیے وہ وہیں کھڑا رہ گیا…
کیسے عجیب الفاظ تھے…
لوگ تو دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں… پیسہ… مشہوری… خوبصورتی… کامیابی…
پھر یہ لڑکی کیوں کہہ رہی تھی… یہ سب دھوکا ہے…؟
یہ دنیا کو دھوکا کیوں سمجھتی ہے۔۔۔؟؟
اُس کی نظریں ابھی تک فون کی اسکرین پر جمی ہوئی تھیں… کہ اچانک سامنے سے ایک آواز آئی۔
میرا فون…
جے کیونگ چونک کر حقیقت میں واپس آیا۔
فاطمہ اُس کے سامنے کھڑی تھی…
فاطمہ نے خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔
جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا… پھر فون اُس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
فاطمہ نے فون پکڑا… اور بغیر کچھ کہے مُڑ گئی۔
فاطمہ ابھی مُڑی ہی تھی کہ اُس نے بےاختیار پکارا،
تمہیں… اِس دنیا سے نفرت ہے…؟
فاطمہ کے قدم رُک گئے۔
وہ آہستہ سے مُڑی… نقاب کے پیچھے سے اُس کی نظریں سیدھی جے کیونگ پر اٹھیں۔
Excuse me…?
جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا… پھر دھیرے سے بولا،
تمہیں اِس دنیا سے نفرت ہے…؟
کچھ لمحے خاموشی رہی…
پھر فاطمہ نے بہت ہلکے سے کہا، ہمم…
جے کیونگ کی بھنویں سکڑ گئیں۔
کیوں…؟
فاطمہ چند سیکنڈ خاموش رہی… جیسے الفاظ سوچ رہی ہو… پھر آہستہ آہستہ بولی،
کیونکہ یہاں سب فانی ہے…
دھوکہ ہے۔ خوشی، تھوڑی دیر کی۔ باقی سب… غم۔ تکلیفیں۔
جے کیونگ خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔
یہ جگہ اچھی نہیں ہے… یہ دنیا اچھی نہیں ہے…
یہ کہتے ہوئے اُس کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی… جیسے وہ عمر بھر کی کوئی حقیقت بیان کر رہی ہو۔
جے کیونگ نے آہستہ سے پوچھا،
اگر یہ دنیا اتنی ہی بری ہے… تو لوگ پھر جینا کیوں چاہتے ہیں…؟
وقتی خوشی کے لیے۔۔۔ اُس نے دھیرے سے جواب دیا۔
لوگوں کو لگتا ہے… ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا…
انہیں لگتا ہے… پیسہ… محبت… کامیابی… یہ سب انہیں سکون دے دے گا…
وہ آہستہ سے جے کیونگ کی طرف دیکھنے لگی۔
مگر وہی وقتی خوشیاں… انسان کو بہکا دیتی ہیں…
اور انسان ساری زندگی… بس اُنہی کے پیچھے بھاگتا رہ جاتا ہے…
جے کیونگ چند لمحے خاموش کھڑا اُسے دیکھتا رہا…
جے کیونگ کی پوری توجہ صرف اُس لڑکی کی باتوں پر تھی۔
اور اگر… اُس نے آہستہ سے پوچھا، کسی کو وہ خوشی واقعی مل جائے تو…؟
فاطمہ نے اُسے دیکھا… نہیں ملتی…
وہ بہت سکون سے بولی۔
انسان ایک خوشی کے بعد دوسری مانگتا ہے… پھر تیسری… پھر چوتھی…
دل کبھی نہیں بھرتا…
جے کیونگ ہلکا سا الجھا۔
تو پھر… تمہارے خیال میں انسان کو کیا چاہیے…؟
فاطمہ چند لمحے خاموش رہی…
پھر اُس نے اپنے فون کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور دھیرے سے بولی،
سکون…
اور سکون… دنیا نہیں دیتی…
جے کیونگ کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
پھر کون دیتا ہے…؟
فاطمہ نے فوراً جواب نہیں دیا۔
وہ چند لمحے خاموش رہی… پھر بہت آہستہ سے بولی،
اللہ…
یہ لفظ عجیب نرمی سے اُس کے لبوں سے نکلا تھا…
ایسے… جیسے وہ صرف ایک لفظ نہیں… بلکہ یقین ہو۔
جے کیونگ پہلی بار بالکل خاموش ہوگیا۔
کیونکہ عجیب بات یہ تھی… فاطمہ جو کچھ کہہ رہی تھی… وہ اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا…
وہ جواب دینا چاہتا تھا… مگر نہ جانے کیوں… الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
شاید کیونکہ… وہ پہلی بار کسی کو اتنے یقین سے بات کرتے دیکھ رہا تھا۔
تم… ہمیشہ ایسی باتیں کرتی ہو…؟ اُس نے آخرکار پوچھ ہی لیا۔
فاطمہ ہلکا سا چونکی… پھر اُس کی آنکھوں میں ہلکی سی حیران مسکراہٹ آئی۔
ایسی باتیں…؟
یعنی… جے کیونگ نے نظریں ہٹائیں۔ اداس قسم کی…
فاطمہ چند لمحے اُسے دیکھتی رہی… پھر آہستہ سے بولی،
یہ اداسی نہیں ہے…
پھر…؟
حقیقت ہے…
جے کیونگ نے ذرا جھجکتے ہوئے کہا
میں چاہتا ہوں تم دوسری خوشی مانگو۔
فاطمہ نے ابرو اٹھائے…
مطلب؟
مطلب… وہ ایک لمحہ رکا، تم مجھے اپنی کمپنی کا نام بتاؤ۔ میں بات کروں گا، تمہاری نوکری کا مسئلہ… میں حل کر سکتا ہوں۔۔۔
فاطمہ نے اسے غور سے دیکھا۔
اتنی مہربانی میرے اوپر کیوں؟
جے کیونگ نے کندھے اچکائے، جیسے بات بہت سادہ ہو —
تاکہ تمہاری یہ اداسی تھوڑی کم ہو سکے۔
میں اداس نہیں ہوں۔ جواب فوری آیا۔ سپاٹ۔ بے لچک۔
جے کیونگ نے ہلکے سے کہا۔۔
تو نوکری کے وجہ سے پریشان نہیں ہو؟
ہاں پریشان ہوں… فاطمہ نے کہا، لیکن اداس نہیں ہوں۔
پھر وہ اچانک رکی۔ ۔ایک منٹ۔۔۔
آپ کو کیسے پتہ میری نوکری کے بارے میں؟
جے کیونگ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ گئیں۔
وہ… میں نے غلطی سے آپ دونوں کی گفتگو سن لی۔
فاطمہ کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
یہ اچھی بھلی تمیز ہے، کسی کی باتیں نہیں سنتے۔
اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، وہ غصے سے مڑ گئی۔۔
فاطمہ کے لہجے میں واضح خفگی تھی…
اور جے کیونگ فوراً سمجھ گیا تھا… اُس سے غلطی ہوگئی ہے۔ وہ تیزی سے بولا،
نہیں… میرا مطلب… میں جان بوجھ کر نہیں سن رہا تھا…
فاطمہ نے فوراً پلٹ کر اُسے دیکھا۔
لیکن سُن تو رہے تھے نا…؟
جے کیونگ ایک لمحے کو خاموش ہوگیا۔ واقعی… وہ سُن رہا تھا۔
اور اب پہلی بار اُسے اپنی حرکت تھوڑی شرمندگی محسوس ہوئی تھی۔
فاطمہ نے ہلکے غصے سے کہا،
یہ اچھی بات نہیں ہوتی… کسی کی پرائیویٹ باتیں سُننا…
جے کیونگ نے فوراً کہا یہ کوئی پرائیویٹ باتیں نہیں تھیں۔
فاطمہ نے فوراً گھور کر اُس کی طرف دیکھا۔
ایک تو چوری… اوپر سے سینہ زوری۔
پھر آہستہ سے بولی مجھے لگا ہی تھا۔
جے کیونگ نے ابرو اٹھائے
کیا لگا تھا؟
کہ آپ بدتمیز ہو۔
جے کیونگ نے فوراً پلٹ کر کہا۔۔۔
آپ کونسا بہت زیادہ تمیز والی ہیں۔
بہت تمیز ہے میرے اندر… آپ سے تو زیادہ ہی ہے۔
دِکھ تو نہیں رہا مجھے؟
اندھے ہیں آپ اسی لیے۔
جے کیونگ نے ہلکی سی ہنسی دبائی۔۔۔
دیکھو تو بول کون رہا ہے… جسے کتابوں کے آگے کچھ اور نظر نہیں آتا… ہمیں اندھا کہہ رہی ہیں۔
فاطمہ نے فوراً ایک قدم اُس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا،
میرے کتابوں کو کچھ کہا نا… تو اچھا نہیں ہوگا۔
جے کیونگ اُس کے اچانک سنجیدہ لہجے پر چند لمحے اُسے دیکھتا رہ گیا… پھر بےاختیار اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
اوہ… تو کمزوری یہ ہے تمہاری؟
فاطمہ نے فوراً بھنویں سکیڑیں۔
کمزوری نہیں… محبت ہے۔
جے کیونگ چند لمحے خاموش ہوگیا۔
محبت…؟ کتابوں سے…؟
فاطمہ نے ایسے اُسے دیکھا جیسے اُس نے دنیا کی سب سے عجیب بات کہہ دی ہو۔
جی ہاں۔ کیوں کہ کتابیں دھوکا نہیں دیتیں۔
جے کیونگ چند لمحے اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا…
پھر ہلکے سے مسکرایا۔ پھر اُداس ہوگئی…
فاطمہ نے فوراً اُسے گھورا۔
اُداس نہیں ہوں میں… حقیقت کہہ رہی ہوں…
جے کیونگ نے کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی… حالانکہ نقاب کے پیچھے اُسے صرف اُس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں… مگر عجیب بات تھی… وہ آنکھیں بھی بہت کچھ کہہ دیتی تھیں۔
پھر اچانک فاطمہ نے جیسے بات ختم کرنے کے انداز میں سختی سے کہا،
اور مجھے اب جانا ہے…
یہ کہہ کر وہ غصے سے مُڑی اور تیز قدموں سے چلنے لگی۔
اوئے… سنو تو…
جے کیونگ بےاختیار اُس کے پیچھے ایک قدم بڑھا۔
کمپنی کا نام تو بتاتی جاؤ…
مگر فاطمہ نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔
بس اپنا فون مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑے سیدھی آگے بڑھتی گئی…
کچھ ہی لمحوں بعد وہ کیفے کے شیشے والے دروازے سے باہر نکل گئی۔
اور جے کیونگ وہیں کھڑا رہ گیا۔
چند سیکنڈ تک وہ واقعی دروازے کی طرف دیکھتا رہا… جیسے اُسے امید ہو کہ شاید وہ واپس مُڑ کر کچھ کہے گی۔
مگر وہ نہیں مُڑی۔
جے کیونگ نے آہستہ سے سانس خارج کی… پھر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
کتنی عجیب لڑکی ہے یار…
مگر عجیب بات یہ تھی…
وہ جتنا اُسے عجیب لگ رہی تھی…
اُتنا ہی اُس کا ذہن اُس کے پیچھے جا رہا تھا۔
کتابیں دھوکا نہیں دیتیں…
سکون اللہ دیتا ہے…
یہ دنیا اچھی نہیں ہے…
اُس کے ایک ایک جملے عجیب طرح سے ابھی تک اُس کے دماغ میں گونج رہے تھے۔
یار جے کیونگ۔۔۔
اچانک پیچھے سے تائیجون کی آواز آئی۔
فون ڈھونڈنے آیا تھا یا بنانے۔۔۔
جے کیونگ نے فوراً چہرہ سیدھا کیا۔ بکواس بند کر…
+++++++++++++
رات کافی گزر چکی تھی…
ہوٹل واپس آنے کے بعد بھی جے کیونگ عجیب سی خاموشی میں تھا۔
باقی سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے… کسی کے کمرے سے ہنسی کی آواز آرہی تھی… کہیں گیم چل رہی تھی… مگر جے کیونگ غیرمعمولی طور پر خاموش تھا۔
وہ بستر پر لیٹا چھت کو گھورتا رہا۔
بار بار وہی جملے اُس کے ذہن میں گونج رہے تھے…
سکون… دنیا نہیں دیتی…
کتابیں دھوکا نہیں دیتیں…
اللہ…
وہ بےاختیار کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔
کافی دیر سوچتے سوچتے آخر اُس کی آنکھ لگ گئی…
++++++++++++
اُسے محسوس ہوا جیسے وہ کسی بالکل اجنبی جگہ کھڑا ہے…
ہر طرف عجیب سا سکون تھا… نہ شور… نہ روشنیوں کی چمک… نہ لوگوں کی آوازیں…
بس ہلکی ٹھنڈی ہوا…
اور سامنے بہت بڑا سا سفید مسجدِ… جے کیونگ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔
پھر اچانک اُس کے قدم رُک گئے۔
سامنے کچھ لوگ کھڑے تھے… اور اُن کے درمیان ایک امام آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہے تھے۔
جے کیونگ الجھن سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔
یہ جگہ…؟ یہ کیا ہے…؟
پھر اُس نے بےاختیار نیچے دیکھا۔
وہ سفید کپڑوں میں تھا۔
اُس کی سانس ہلکی سی رک گئی۔
اگلے ہی لمحے امام کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی۔
اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله…
جے کیونگ کی آنکھیں بےاختیار پھیل گئیں۔
اور حیرت کی بات یہ تھی…
وہ الفاظ اُسے سمجھ آرہے تھے۔
امام دوبارہ دھیرے سے بولے… اور جے کیونگ نے بےاختیار اُن کے پیچھے دہرانا شروع کر دیا۔
اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله…
اُس کی اپنی آواز جیسے اُسے خود بہت دُور سے سنائی دے رہی تھی…
وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الله…
جیسے ہی اُس نے آخری الفاظ کہے…
اُسے عجیب سا سکون محسوس ہوا۔
ایسا سکون… جو اُس نے زندگی میں پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
جیسے دل کے اندر مسلسل چلنے والا شور اچانک خاموش ہوگیا ہو۔
جیسے کسی نے اُس کے سینے سے بہت بھاری بوجھ ہٹا دیا ہو۔
اُس کی آنکھیں بےاختیار بند ہوگئیں۔
پھر اچانک…
اُسے محسوس ہوا کوئی اُسے دیکھ رہا ہے۔
جے کیونگ نے آہستہ سے پلٹ کر دیکھا۔
اور اُس کی سانس چند لمحوں کے لیے رُک گئی۔
کچھ فاصلے پر فاطمہ کھڑی تھی۔
اُس کا چہرا نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ لیکن چھوٹی چھوٹی آنکھیں… جن میں عجیب سی چمک تھی…
اور لبوں پر بہت ہلکی… بہت پُرسکون مسکراہٹ سے وہ اُسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
ایسے… جیسے اُسے پہلے ہی معلوم تھا…
کہ ایک دن وہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔
جے کیونگ چند لمحے بس اُسے دیکھتا رہا۔
پھر دھیرے سے اُس کی طرف بڑھنے لگا…
مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچنے والا تھا…
اچانک ہر طرف روشنی پھیل گئی۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھ کھل گئی۔
جے کیونگ ہڑبڑا کر سیدھا بیٹھ گیا۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا… اُس کی سانس تیز چل رہی تھی۔
چند لمحے وہ خاموش بیٹھا رہا…
پھر بےاختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔
وہ ابھی تک اُس خواب کا سکون محسوس کر سکتا تھا…
اور سب سے عجیب بات…
اُسے اب بھی فاطمہ کی وہ چمکتی ہوئی آنکھیں یاد تھیں۔
+++++++++++++++
جے کیونگ اب بھی بستر پر سیدھا بیٹھا تھا۔
سانس آہستہ آہستہ نارمل ہو رہی تھی… مگر دل ابھی تک عجیب طرح دھڑک رہا تھا۔
وہ چند لمحے خاموش بیٹھا رہا… پھر بےاختیار اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر لیا۔
خواب تھا…
بس خواب…
مگر مسئلہ یہ تھا…
وہ خواب عام خوابوں جیسا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
اُسے اب بھی امام کی آواز یاد تھی۔
اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله…
جے کیونگ کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
وہ آہستہ سے بڑبڑایا، یہ زبان… مجھے سمجھ کیسے آرہی تھی…؟
وہ کبھی عربی نہیں جانتا تھا۔
پھر بھی خواب میں ہر لفظ ایسے سمجھ آیا… جیسے کوئی اُس کے دل میں ترجمہ کر رہا ہو۔
وہ بےاختیار دوبارہ پیچھے بستر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
اور پھر…
اُسے فاطمہ یاد آگئی۔
وہی چھوٹی چھوٹی چمکتی آنکھیں…
وہ پُرسکون مسکراہٹ… وہ نقاب کے پیچھے مسکرائی رہی تھی۔۔۔ وہ کیوں مسکرارہی تھی۔۔۔
جیسے اُسے پہلے ہی معلوم تھا…
جے کیونگ نے فوراً سر جھٹکا۔
پاگل ہوگیا ہوں میں…
وہ بڑبڑایا۔
ایک دن میں دو بار ملی ہے بس… اور خواب آنے شروع ہوگئے۔
وہ خود پر ہنسنا چاہتا تھا… مگر عجیب بات یہ تھی کہ ہنسی نہیں آئی۔ خاموشی آئی۔ سکون سا… اور یہی چیز اُسے سب سے زیادہ عجیب لگ رہی تھی۔ اس کے ساتھ یہ کیا ہورہا تھا۔۔۔
تبھی اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے اپنے فون پر گئی۔
چند لمحے وہ خاموش اُسے دیکھتا رہا…
پھر جیسے کسی انجانی بےچینی کے تحت اُس نے فون اٹھا لیا۔
اسکرین روشن ہوئی۔
کمرہ دوبارہ نیلی روشنی میں ڈوب گیا۔
جے کیونگ کچھ سیکنڈ خالی سرچ بار کو دیکھتا رہا…
پھر آہستہ آہستہ ٹائپ کیا
What does La ilaha illallah mean…
سرچ ہوتے ہی کئی نتائج سامنے آگئے۔
جے کیونگ کی نظریں پہلی لائن پر جم گئیں۔
There is no god except Allah…
اُس کے ہاتھ چند لمحوں کے لیے ساکت ہوگئے۔
کوئی معبود نہیں… سوائے اللہ کے…
وہ دھیرے سے اُس جملے کو پڑھتا رہا۔
پھر بےاختیار اُس کے ذہن میں فاطمہ کی آواز گونجی۔
اور سکون… دنیا نہیں دیتی…
جے کیونگ نے فوراً فون بند کر دیا۔
نہیں۔ بس۔ بہت ہوگیا۔
وہ دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔۔۔۔
مگر چند سیکنڈ بعد ہی اُس نے دوبارہ فون اٹھا لیا۔
اس بار اُس نے جلدی سے سرچ کیا
What happens after death in Islam…
سرچ بٹن دباتے ہی وہ خود چند لمحے ساکت رہ گیا۔
پھر بےاختیار چونکا
یہ میں کیا کر رہا ہوں…؟
اگر تائیجون نے دیکھ لیا نا… تو پوری زندگی میرا مذاق اُڑائے گا…
مگر اُس کی انگلی پھر بھی اسکرین اسکرول کرتی رہی۔
Prayer gives peace…
Connection with Allah…
Guidance…
جے کیونگ کی نظریں لفظ “peace” پر جا کر رُک گئیں۔
Peace…
سکون…
وہی لفظ دوبارہ۔
وہ آہستہ سے چھت کو گھورتا رہ گیا۔
پھر نہ جانے کب اُس کی آنکھ دوبارہ لگ گئی۔
++++++++++++
وہ سو رہا تھا تب اچانک کسی نے زور سے اُس کے کندھے کو ہلایا۔
اوئے جے کیونگ…!
وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔
سامنے سوہان کھڑا تھا۔
ابے اٹھ… دس بج گئے ہیں… سب ناشتے پر جا رہے ہیں۔
جے کیونگ کی سانس تیز چل رہی تھی۔
چند لمحے وہ خالی نظروں سے کمرے کو دیکھتا رہا۔
ہوٹل کا وہی کمرہ… بکھرے کپڑے… کرسی پر پڑی جیکٹس… اور سامنے سوہان کھڑا تھا۔
ابے اُٹھ… دس بج گئے ہیں… سب ناشتے پر جا رہے ہیں۔
جے کیونگ نے آہستہ سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
خواب کی دھند ابھی تک اُس کے ذہن میں باقی تھی۔
سوہان نے غور سے اُسے دیکھا۔
کیا ہوا…؟ بھوت دیکھ لیا کیا؟
جے کیونگ نے چند لمحے خاموش رہ کر اُسے دیکھا… پھر دھیرے سے بڑبڑایا،
ہاں… تو بھوت سے کم ہے کیا…
ابے چل… سوہان فوراً سینہ پھلا کر بولا، تو ہوگا بھوت۔۔۔۔ میں تو بہت ہینڈسم ہوں۔۔۔
جے کیونگ نے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا… پھر نہایت سنجیدگی سے بولا،
ہینڈسم کا ایچ بھی نہیں ہے تُو…
اوئے۔۔۔
سوہان نے فوراً تکیہ اٹھا کر اُس کی طرف پھینکا۔
ایک تو میں تجھے کھانے کے لیے اٹھانے آیا ہوں… احسان مان میرا… ورنہ بھوکا رہتا تُو…
جے کیونگ بستر سے اُٹھتے ہوئے بڑبڑایا،
میں سوہان نہیں ہوں… جو کھانے کے لیے ہی جیتا ہے…
سوہان نے فوراً فلسفیانہ انداز میں انگلی اٹھائی۔
بیٹا… کھانے کے لیے ہی جینا چاہیے… کھانے کے علاوہ دنیا میں رکھا ہی کیا ہے…؟
جے کیونگ واش روم کی طرف جاتے جاتے رُکا… پھر مُڑ کر اُسے دیکھا۔
بہت کچھ رکھا ہے دنیا میں کھانے کے علاوہ… لیکن ذرا آپ اپنی ہائٹ بڑھا کر دیکھیں… تب نظر آئے نا…
دو سیکنڈ خاموشی رہی۔
پھر—
او بھائی۔۔۔ سوہان فوراً چیخا۔ پرسنل مت ہو۔۔۔
جے کیونگ ہنس پڑا۔
اور واشروم کے اندر گھس گیا۔۔۔
پیچھے سے سوہان کی آواز فوراً آئی۔
اوئے جلدی آنا… میں اکیلا نیچے نہیں جا رہا…
مر نہیں جائے گا…
پتہ نہیں… بھوک سے کچھ بھی ہو سکتا ہے…
جے کیونگ نے دروازہ بند کرتے ہوئے آنکھیں گھمائیں۔
ڈرامے باز…
کچھ دیر بعد جب وہ تیار ہو کر باہر نکلا تو اُس نے حیرانی سے دیکھا…
سوہان ابھی تک وہیں بیڈ پر بیٹھا تھا۔
بالکل اُسی پوزیشن میں۔ جیسے کسی نے pause کر دیا ہو۔
جے کیونگ نے تولیہ کندھے پر رکھتے ہوئے اُسے دیکھا۔
ابھی تک یہیں بیٹھا ہے…؟
سوہان نے فوراً سنجیدگی سے کہا،
میں اچھا دوست ہوں… تجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں گیا…یہ سوہان مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ خطرناک ہے… اسے کہہ دو۔۔ فلاں بندے کو بُلا کر لاؤ…
تو یہ سیدھا اُس بندے کے پاس جائے گا… اور ایسے چپکے گا کہ اُسے ساتھ لیے بغیر واپس نہیں آئے گا۔
باقی سب کہاں ہیں…؟
نیچے گاڑی میں… سوہان نے فوراً جواب دیا۔ باہر ناشتے کے لیے جا رہے ہیں…
جے کیونگ نے حیرت سے ابرو اٹھائے۔ کیوں۔۔؟؟
سوہان نے پورے فخر سے سینے پر ہاتھ رکھا۔
کیونکہ میں نے کہا…
جے کیونگ نے فوراً طنزیہ انداز میں سر ہلایا۔
اتنا باہر کا کھائے گا نا… تو موٹا ہو جائے گا…
پھر سنجیدگی سے بولا۔۔ پھر سب تجھے ‘نَٹا موٹا’ بلائیں گے…
سوہان نے دو سیکنڈ اُسے گھورا… پھر بڑے سکون سے بولا، بلانے دے… I don’t care…
جھوٹ بول رہا ہے…
بالکل نہیں…
رات کو جا کر روتا ہوگا چپکے چپکے…
سوہان نے فوراً سینہ تان کر کہا۔۔
جی نہیں… مجھے پتہ ہے تم سب میری cuteness سے جلتے ہو… اسی لیے جل جل کر مجھے ایسا کہتے ہو… ورنہ میں سب سے زیادہ cute ہوں۔
جے کیونگ نے فوراً کراہنے والا چہرہ بنایا۔
یار… خود کو کیوٹ بولتے ہوئے شرم نہیں آتی…؟
سوہان بڑے اعتماد سے بولا،
نہیں۔ کیونکہ حقیقت چھپانی نہیں چاہیے…
جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا…
پھر بےاختیار ہنس دیا۔
اور سوہان فوراً فاتحانہ انداز میں بولا،
دیکھا… تُو صبح صبح ہنس رہا ہے۔ میری وجہ سے…
جے کیونگ نے جیکٹ سیدھی کرتے ہوئے بےپرواہی سے کہا،
ہاں تو… جوکر جو ہے…
اوئے۔۔۔۔
چل آجا اب… جے کیونگ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
سوہان اُس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بڑبڑایا،
قسم سے… ایک دن تم لوگ میری value سمجھو گے…
جے کیونگ نے فوراً جواب دیا،
وہ ایک دِن کبھی نہیں آئے گا۔۔۔
تُم لوگ سب بس جلتے ہو میرے سے۔۔۔
دونوں کمرے سے باہر نکل گئے… اور کوریڈور میں جاتے ہوئے بھی سوہان مسلسل کچھ نہ کچھ بولے جا رہا تھا…
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جے کیونگ بھی حد سے زیادہ باتیں کر رہا تھا۔
عام طور پر وہ سوہان کی آدھی بکواس
نظر انداز کر دیتا تھا…
لیکن آج وہ خود بھی برابر کے طنز مار رہا تھا۔
پتہ نہیں کیوں۔۔۔؟؟؟
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
