Bashar Episode 9 written by siddiqui


بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۹

رات کافی گزر چکی تھی…
ہوٹل واپس آنے کے بعد بھی جے کیونگ عجیب سی خاموشی میں تھا۔
باقی سب اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے… کسی کے کمرے سے ہنسی کی آواز آرہی تھی… کہیں گیم چل رہی تھی… مگر جے کیونگ غیرمعمولی طور پر خاموش تھا۔
وہ بستر پر لیٹا چھت کو گھورتا رہا۔
بار بار وہی جملے اُس کے ذہن میں گونج رہے تھے…
سکون… دنیا نہیں دیتی…
کتابیں دھوکا نہیں دیتیں…
اللہ…
وہ بےاختیار کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔
کافی دیر سوچتے سوچتے آخر اُس کی آنکھ لگ گئی…

++++++++++++

اُسے محسوس ہوا جیسے وہ کسی بالکل اجنبی جگہ کھڑا ہے…
ہر طرف عجیب سا سکون تھا… نہ شور… نہ روشنیوں کی چمک… نہ لوگوں کی آوازیں…
بس ہلکی ٹھنڈی ہوا…
اور سامنے بہت بڑا سا سفید مسجدِ… جے کیونگ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔
پھر اچانک اُس کے قدم رُک گئے۔
سامنے کچھ لوگ کھڑے تھے… اور اُن کے درمیان ایک امام آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہے تھے۔
جے کیونگ الجھن سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔
یہ جگہ…؟ یہ کیا ہے…؟
پھر اُس نے بےاختیار نیچے دیکھا۔
وہ سفید کپڑوں میں تھا۔
اُس کی سانس ہلکی سی رک گئی۔
اگلے ہی لمحے امام کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی۔
اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله…
جے کیونگ کی آنکھیں بےاختیار پھیل گئیں۔
اور حیرت کی بات یہ تھی…
وہ الفاظ اُسے سمجھ آرہے تھے۔
امام دوبارہ دھیرے سے بولے… اور جے کیونگ نے بےاختیار اُن کے پیچھے دہرانا شروع کر دیا۔
اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله…
اُس کی اپنی آواز جیسے اُسے خود بہت دُور سے سنائی دے رہی تھی…
وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الله…
جیسے ہی اُس نے آخری الفاظ کہے…
اُسے عجیب سا سکون محسوس ہوا۔
ایسا سکون… جو اُس نے زندگی میں پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
جیسے دل کے اندر مسلسل چلنے والا شور اچانک خاموش ہوگیا ہو۔
جیسے کسی نے اُس کے سینے سے بہت بھاری بوجھ ہٹا دیا ہو۔
اُس کی آنکھیں بےاختیار بند ہوگئیں۔
پھر اچانک…
اُسے محسوس ہوا کوئی اُسے دیکھ رہا ہے۔
جے کیونگ نے آہستہ سے پلٹ کر دیکھا۔
اور اُس کی سانس چند لمحوں کے لیے رُک گئی۔
کچھ فاصلے پر فاطمہ کھڑی تھی۔
اُس کا چہرا نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔ لیکن چھوٹی چھوٹی آنکھیں… جن میں عجیب سی چمک تھی…
اور لبوں پر بہت ہلکی… بہت پُرسکون مسکراہٹ سے وہ اُسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
ایسے… جیسے اُسے پہلے ہی معلوم تھا…
کہ ایک دن وہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔
جے کیونگ چند لمحے بس اُسے دیکھتا رہا۔
پھر دھیرے سے اُس کی طرف بڑھنے لگا…
مگر جیسے ہی وہ قریب پہنچنے والا تھا…
اچانک ہر طرف روشنی پھیل گئی۔
اور اگلے ہی لمحے اُس کی آنکھ کھل گئی۔
جے کیونگ ہڑبڑا کر سیدھا بیٹھ گیا۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا… اُس کی سانس تیز چل رہی تھی۔
چند لمحے وہ خاموش بیٹھا رہا…
پھر بےاختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔
وہ ابھی تک اُس خواب کا سکون محسوس کر سکتا تھا…
اور سب سے عجیب بات…
اُسے اب بھی فاطمہ کی وہ چمکتی ہوئی آنکھیں یاد تھیں۔

+++++++++++++++

جے کیونگ اب بھی بستر پر سیدھا بیٹھا تھا۔
سانس آہستہ آہستہ نارمل ہو رہی تھی… مگر دل ابھی تک عجیب طرح دھڑک رہا تھا۔
وہ چند لمحے خاموش بیٹھا رہا… پھر بےاختیار اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر لیا۔
خواب تھا…
بس خواب…
مگر مسئلہ یہ تھا…
وہ خواب عام خوابوں جیسا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
اُسے اب بھی امام کی آواز یاد تھی۔
اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله…
جے کیونگ کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
وہ آہستہ سے بڑبڑایا، یہ زبان… مجھے سمجھ کیسے آرہی تھی…؟
وہ کبھی عربی نہیں جانتا تھا۔
پھر بھی خواب میں ہر لفظ ایسے سمجھ آیا… جیسے کوئی اُس کے دل میں ترجمہ کر رہا ہو۔
وہ بےاختیار دوبارہ پیچھے بستر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
اور پھر…
اُسے فاطمہ یاد آگئی۔
وہی چھوٹی چھوٹی چمکتی آنکھیں…
وہ پُرسکون مسکراہٹ… وہ نقاب کے پیچھے مسکرائی رہی تھی۔۔۔ وہ کیوں مسکرارہی تھی۔۔۔
جیسے اُسے پہلے ہی معلوم تھا…
جے کیونگ نے فوراً سر جھٹکا۔
پاگل ہوگیا ہوں میں…
وہ بڑبڑایا۔
ایک دن میں دو بار ملی ہے بس… اور خواب آنے شروع ہوگئے۔
وہ خود پر ہنسنا چاہتا تھا… مگر عجیب بات یہ تھی کہ ہنسی نہیں آئی۔ خاموشی آئی۔ سکون سا… اور یہی چیز اُسے سب سے زیادہ عجیب لگ رہی تھی۔ اس کے ساتھ یہ کیا ہورہا تھا۔۔۔
تبھی اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے اپنے فون پر گئی۔
چند لمحے وہ خاموش اُسے دیکھتا رہا…
پھر جیسے کسی انجانی بےچینی کے تحت اُس نے فون اٹھا لیا۔
اسکرین روشن ہوئی۔
کمرہ دوبارہ نیلی روشنی میں ڈوب گیا۔
جے کیونگ کچھ سیکنڈ خالی سرچ بار کو دیکھتا رہا…
پھر آہستہ آہستہ ٹائپ کیا
What does La ilaha illallah mean…
سرچ ہوتے ہی کئی نتائج سامنے آگئے۔
جے کیونگ کی نظریں پہلی لائن پر جم گئیں۔
There is no god except Allah…
اُس کے ہاتھ چند لمحوں کے لیے ساکت ہوگئے۔
کوئی معبود نہیں… سوائے اللہ کے…
وہ دھیرے سے اُس جملے کو پڑھتا رہا۔
پھر بےاختیار اُس کے ذہن میں فاطمہ کی آواز گونجی۔
اور سکون… دنیا نہیں دیتی…
جے کیونگ نے فوراً فون بند کر دیا۔
نہیں۔ بس۔ بہت ہوگیا۔
وہ دوبارہ بستر پر لیٹ گیا۔۔۔۔
مگر چند سیکنڈ بعد ہی اُس نے دوبارہ فون اٹھا لیا۔
اس بار اُس نے جلدی سے سرچ کیا
What happens after death in Islam…
سرچ بٹن دباتے ہی وہ خود چند لمحے ساکت رہ گیا۔
پھر بےاختیار چونکا
یہ میں کیا کر رہا ہوں…؟
اگر تائیجون نے دیکھ لیا نا… تو پوری زندگی میرا مذاق اُڑائے گا…
مگر اُس کی انگلی پھر بھی اسکرین اسکرول کرتی رہی۔
Prayer gives peace…
Connection with Allah…
Guidance…
جے کیونگ کی نظریں لفظ “peace” پر جا کر رُک گئیں۔
Peace…
سکون…
وہی لفظ دوبارہ۔
وہ آہستہ سے چھت کو گھورتا رہ گیا۔
پھر نہ جانے کب اُس کی آنکھ دوبارہ لگ گئی۔

++++++++++++

سوہان حسبِ معمول چند منٹ میں ہی سو چکا تھا۔
سومین نے آہستہ سے اپنا بیگ کھولا اور قرآنِ مجید نکالا۔۔۔
کچھ لمحے وہ سرورق کو دیکھتا رہا۔
پھر وہیں سے کھولا جہاں گزشتہ رات پڑھنا چھوڑا تھا۔
❝اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں: ہم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔❞ ( سورۃ البقرہ، آیت ۸ )
سومین کچھ دیر آیت کو دیکھتا رہا۔
پھر دوبارہ پڑھی۔۔ اور پھر ایک بار اور۔ اس کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
عجیب بات ہے… وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔
اس نے قرآن بند نہیں کیا۔ بلکہ نظریں دوبارہ الفاظ پر جما دیں۔
اگر کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ ایمان لایا ہے…
وہ سوچنے لگا۔
تو پھر اللہ کہہ کیوں رہا ہے کہ وہ مومن نہیں؟
اس کے ذہن میں فوراً ایک اور سوال آیا۔
اور اگر اللہ واقعی موجود ہے…
وہ چند لمحے رکا۔
تو پھر وہ لوگوں کے دلوں کی بات جانتا ہوگا؟
یہ خیال آتے ہی وہ خاموش ہوگیا۔
انسان دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے…
وہ دل میں بولا۔ مگر اللہ کو نہیں۔
کتنی عجیب بات تھی۔
لوگ ظاہری الفاظ سن کر یقین کر لیتے ہیں۔ ظاہری شکل دیکھ کر متاثر ہو جاتے ہیں۔ ظاہری عبادت دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں۔
مگر اللہ… دلوں کے اندر تک دیکھتا ہے۔ نیتوں کو جانتا ہے۔
اس نے زندگی میں کئی لوگوں کو دیکھا تھا۔
ایسے لوگ جو سامنے کچھ اور ہوتے تھے اور پیچھے کچھ اور۔
کچھ لوگ دوسروں کے سامنے اچھا بننے کی کوشش کرتے تھے۔
کچھ صرف تعریف حاصل کرنے کے لیے اچھے کام کرتے تھے۔
اور کچھ ایسے بھی تھے جنہیں دیکھ کر فوراً محسوس ہوجاتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔
سومین نے دوبارہ آیت پڑھی۔۔اس بار ذرا آہستہ۔
پھر اُس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔
اگر واقعی کوئی خدا ہے…
اور وہ انسان کے دل کو دیکھتا ہے…
تو پھر اُس کے سامنے جھوٹ بولنا تو ناممکن ہوگا۔
وہ چند لمحوں تک خاموش بیٹھا رہا۔
مگر فوراً ہی ایک اور سوال پیدا ہوگیا۔
اگر اللہ دلوں کو دیکھتا ہے…
تو پھر ایسے لوگوں کو پیدا ہی کیوں کرتا ہے؟
سومین نے فون اُٹھایا اور فوراََ باسط کو میسیج سینڈ کردیا۔۔۔
اور پھر وہ فون رکھتا اگلی آیت کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
❝ وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، حالانکہ وہ صرف خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں۔ ❞ ( سورۃ البقرہ، آیت ۹ )
ابھی وہ اس بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اُس کے  فون میں میسیج آیا۔۔۔ باسط جاگ رہا تھا۔۔۔
سومین نے بےاختیار اسکرین کو غور سے دیکھا۔
پھر اگلا میسج آیا۔
پہلے ایک بات بتاؤ۔ اگر تم کل ایک امتحان لو… اور تمہیں پہلے سے اندازہ ہو کہ تمہارا ایک دوست فیل ہو جائے گا… تو کیا تم اُسے امتحان دینے سے روک دو گے؟
سومین نے فوراً جواب لکھا۔ نہیں۔ کیونکہ فیصلہ تو پھر بھی اُس نے خود کرنا ہے۔
چند لمحوں بعد باسط کا جواب آیا۔ بالکل۔
علم اور جبر دو الگ چیزیں ہیں۔
سومین کی نظریں اس جملے پر رک گئیں۔
باسط نے دوبارہ لکھا۔
صرف اس لیے کہ اللہ جانتا ہے کہ کوئی کیا انتخاب کرے گا… اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ اُسے مجبور کر رہا ہے۔
انسان وہی کرتا ہے جو وہ خود کرنا چاہتا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔
سومین خاموش ہوگیا۔ یہ زاویہ اُس نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔
کچھ دیر بعد ایک اور میسج آیا۔
فرض کرو تم کسی فلم کو دوسری بار دیکھ رہے ہو۔
تمہیں پہلے سے پتا ہے آخر میں کیا ہونے والا ہے۔
کیا تمہارا جاننا کرداروں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ وہی کام کریں؟
سومین نے چند لمحے سوچا۔ پھر جواب لکھا۔ نہیں۔
وہ تو ویسے ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ مجھے بس پہلے سے پتا ہوتا ہے۔
باسط نے لکھا بالکل۔
سومین پیچھے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ سوہان بدستور بےخبر سو رہا تھا۔
باسط کا اگلا میسج آیا۔
اور رہی بات یہ کہ اللہ ایسے لوگوں کو پیدا کیوں کرتا ہے… تو شاید سوال یہ نہیں کہ اللہ نے انہیں کیوں پیدا کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر اللہ صرف اچھے لوگوں کو ہی پیدا کرتا… تو پھر نیکی کا مطلب کیا رہ جاتا؟
سومین کی نظریں اس جملے پر ٹھہر گئیں۔
باسط نے لکھا۔ اگر کوئی برائی کا انتخاب ہی نہ کر سکتا.. تو نیکی انتخاب نہیں رہتی۔ مجبوری بن جاتی۔
سومین خاموش رہا۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ جواب اتنا سادہ بھی نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد باسط نے آخری میسج بھیجا۔
قرآن میں منافقوں کا ذکر دراصل اللہ کے علم کی دلیل ہے۔ لوگ ظاہری الفاظ سنتے ہیں۔ اللہ دل دیکھتا ہے۔ یعنی انسان ظاہری شکل سے دھوکا کھا سکتا ہے…
مگر اللہ نہیں۔
میسج ختم ہوگیا۔ سومین کافی دیر تک اسکرین کو دیکھتا رہا۔
پھر اُس کی نظر دوبارہ قرآنِ مجید پر گئی۔
کھلی ہوئی آیت اب بھی اُس کے سامنے موجود تھی۔
ہم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔
اب پہلی بار اُسے محسوس ہوا کہ آیت صرف منافقوں کے بارے میں نہیں تھی۔۔ بلکہ اللہ کے علم کے بارے میں بھی تھی۔ ایسے علم کے بارے میں… جو انسان کے چہرے نہیں… دل دیکھتا ہے۔
سومین نے آہستہ سے فون ایک طرف رکھا۔
پھر دوبارہ قرآن کی طرف دیکھا۔
حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں…
اگر کوئی خدا نہیں… تو یہ بات یقین سے کون کہہ سکتا ہے؟
اور اگر کوئی خدا ہے… تو پھر شاید واقعی وہ انسان کے بارے میں انسان سے زیادہ جانتا ہوگا۔
اگر خدا موجود ہے اور واقعی دلوں کو جانتا ہے، تو یہ آیت سمجھ آتی ہے۔
اگر خدا موجود نہیں، تو پھر قرآن یہ دعویٰ کس بنیاد پر کر رہا ہے؟؟
سومین نے پِھر اگلی آیت پڑھی۔۔
اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں؟
پھر اُس نے سوچا۔۔۔
اگر اللہ واقعی خدا ہے… تو پھر اُسے دھوکہ دینے کی کوشش کرنا ویسے ہی ہے جیسے کوئی سورج سے چھپنے کے لیے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لے۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔
شاید مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعی اللہ کو دھوکہ دے سکتے ہیں…
اس نے دل میں سوچا۔
شاید مطلب یہ ہے کہ وہ خود کو یقین دلا رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔
اُسے اپنی زندگی کے کئی لوگ یاد آئے۔ ایسے لوگ جو جانتے تھے کہ وہ غلط ہیں۔ مگر پھر بھی اپنے لیے بہانے بناتے رہتے تھے۔
“میں مجبور تھا۔” “سب یہی کرتے ہیں۔”
“اتنا بھی غلط نہیں تھا۔”
“میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔”
سومین نے سوچا۔
اصل میں وہ دوسروں کو نہیں، خود کو سمجھا رہے ہوتے ہیں۔
وہ آیت پر انگلی پھیرتے ہوئے رکا۔
پھر اُس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔
اگر کوئی شخص بار بار خود سے جھوٹ بولے…
تو ایک وقت کے بعد اُسے واقعی لگنے لگتا ہے کہ وہ سچ بول رہا ہے۔
یہ خیال اُسے عجیب لگا۔
کیونکہ اُس نے یہ چیز اپنے اردگرد دیکھی تھی۔
لوگ اپنی غلطیوں کو اتنی بار صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخرکار خود بھی یقین کر لیتے ہیں۔
پھر اچانک اُس کی نظر آیت کے آخری حصے پر گئی۔
اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں۔
سومین کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
یہ تو کافی خطرناک ہے… وہ بڑبڑایا۔
یعنی انسان خود کو دھوکہ دے رہا ہو… اور اُسے پتا بھی نہ ہو؟
انسان اکثر دوسروں کے جھوٹ پہچان لیتا ہے۔
مگر اپنے جھوٹ نہیں۔ اپنی کمزوریاں نہیں۔ اپنی غلطیاں نہیں۔
وہ دوسروں پر تنقید کر سکتا ہے۔ مگر خود کو دیکھنا سب سے مشکل کام ہے۔
سومین نے ایک لمبی سانس لی۔ پھر فون اٹھایا۔
اور بغیر زیادہ سوچے بس ایک مختصر سا میسج باسط کو بھیج دیا۔
یہ آیت کہتی ہے کہ کچھ لوگ خود کو دھوکہ دیتے ہیں اور انہیں پتا بھی نہیں چلتا۔
کیا انسان واقعی اتنا اندھا ہو سکتا ہے کہ اپنی ہی غلطی نہ دیکھ سکے؟
میسج بھیجنے کے چند ہی سیکنڈ بعد فون وائبریٹ ہوا۔
باسط کا جواب آ گیا تھا۔
اور جواب صرف ایک لائن کا تھا۔
سب سے آسان دھوکہ وہ ہوتا ہے جو انسان خود کو دیتا ہے۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر اُس کے ذہن میں ایک اور خیال آیا۔
اگر کوئی شخص سچ میں یقین کرتا ہو کہ وہ اچھا انسان ہے… اور حقیقت میں نہ ہو…
تو کیا وہ خود کو دھوکہ نہیں دے رہا؟
اگر کوئی سمجھتا ہو کہ وہ حق پر ہے…
اور حقیقت میں غلط ہو…
تو کیا وہ خود اپنے فریب میں نہیں جی رہا؟
سومین نے میز پر انگلیوں سے ہلکی تھپ تھپ کی۔
لیکن قرآن اتنے یقین سے یہ بات کیوں کر رہا ہے؟
یہی چیز اُسے بار بار حیران کر رہی تھی۔
کیونکہ قرآن صرف یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ “شاید” وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
بلکہ وہ قطعی انداز میں کہہ رہا تھا
وہ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں شعور بھی نہیں۔
گویا بولنے والے کو انسان کے اندر کی حقیقت معلوم ہو۔
سومین نے نظریں چھت کی طرف اٹھائیں۔
اگر کوئی خدا نہیں…
تو پھر یہ بات یقین کے ساتھ کون کہہ سکتا ہے؟
کوئی فلسفی؟ نہیں۔ کوئی عالم؟ نہیں۔ کوئی بادشاہ؟
نہیں۔ کیونکہ کسی انسان کو دوسرے انسان کے دل کا مکمل علم نہیں ہوتا۔ ہم صرف اندازے لگا سکتے ہیں۔ یقین نہیں۔
وہ خاموش ہوگیا۔
پھر اُس کے ذہن میں ایک اور سوال آیا۔
اور اگر واقعی کوئی خدا ہے…
تو پھر شاید وہ انسان کو خود انسان سے زیادہ جانتا ہو۔ کیونکہ انسان اکثر اپنے بارے میں بھی غلط فہمی میں رہتا ہے۔ کبھی خود کو بہت اچھا سمجھتا ہے جبکہ ہوتا نہیں۔ کبھی خود کو بہت برا سمجھتا ہے جبکہ اتنا برا نہیں ہوتا۔ کبھی اپنی نیت کو بھی صحیح طرح نہیں سمجھ پاتا۔ لیکن اگر کوئی خالق ہے… تو اُس کے لیے یہ سب چھپا ہوا نہیں ہوگا۔
سومین نے دوبارہ آیت پڑھی۔
اس بار اُس نے آیت کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں…
بلکہ ایک دعوے کے طور پر دیکھا۔ ایک بہت بڑا دعویٰ۔
ایسا دعویٰ جو صرف دو صورتوں میں درست ہو سکتا تھا۔
یا تو قرآن واقعی اُس خدا کی طرف سے ہو…
جو انسان کے دلوں تک دیکھتا ہے۔
یا پھر قرآن ایک ایسی کتاب ہو…
جو اپنے بارے میں بہت بڑا دعویٰ کر رہی ہے۔
وہ کچھ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
پھر دھیرے سے بولا
عجیب بات ہے…
جتنا پڑھتا ہوں، اتنے جواب نہیں ملتے…
بلکہ نئے سوال پیدا ہو جاتے ہیں۔

+++++++++++++

وہ سو رہا تھا تب اچانک کسی نے زور سے اُس کے کندھے کو ہلایا۔
اوئے جے کیونگ…!
وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھا۔
سامنے سوہان کھڑا تھا۔
ابے اٹھ… دس بج گئے ہیں… سب ناشتے پر جا رہے ہیں۔
جے کیونگ کی سانس تیز چل رہی تھی۔
چند لمحے وہ خالی نظروں سے کمرے کو دیکھتا رہا۔
ہوٹل کا وہی کمرہ… بکھرے کپڑے… کرسی پر پڑی جیکٹس… اور سامنے سوہان کھڑا تھا۔
ابے اُٹھ… دس بج گئے ہیں… سب ناشتے پر جا رہے ہیں۔
جے کیونگ نے آہستہ سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
خواب کی دھند ابھی تک اُس کے ذہن میں باقی تھی۔
سوہان نے غور سے اُسے دیکھا۔
کیا ہوا…؟ بھوت دیکھ لیا کیا؟
جے کیونگ نے چند لمحے خاموش رہ کر اُسے دیکھا… پھر دھیرے سے بڑبڑایا،
ہاں… تو بھوت سے کم ہے کیا…
ابے چل… سوہان فوراً سینہ پھلا کر بولا، تو ہوگا بھوت۔۔۔۔ میں تو بہت ہینڈسم ہوں۔۔۔
جے کیونگ نے اُسے اوپر سے نیچے تک دیکھا… پھر نہایت سنجیدگی سے بولا،
ہینڈسم کا ایچ بھی نہیں ہے تُو…
اوئے۔۔۔
سوہان نے فوراً تکیہ اٹھا کر اُس کی طرف پھینکا۔
ایک تو میں تجھے کھانے کے لیے اٹھانے آیا ہوں… احسان مان میرا… ورنہ بھوکا رہتا تُو…
جے کیونگ بستر سے اُٹھتے ہوئے بڑبڑایا،
میں سوہان نہیں ہوں… جو کھانے کے لیے ہی جیتا ہے…
سوہان نے فوراً فلسفیانہ انداز میں انگلی اٹھائی۔
بیٹا… کھانے کے لیے ہی جینا چاہیے… کھانے کے علاوہ دنیا میں رکھا ہی کیا ہے…؟
جے کیونگ واش روم کی طرف جاتے جاتے رُکا… پھر مُڑ کر اُسے دیکھا۔
بہت کچھ رکھا ہے دنیا میں کھانے کے علاوہ… لیکن ذرا آپ اپنی ہائٹ بڑھا کر دیکھیں… تب نظر آئے نا…
دو سیکنڈ خاموشی رہی۔
پھر—
او بھائی۔۔۔ سوہان فوراً چیخا۔ پرسنل مت ہو۔۔۔
جے کیونگ ہنس پڑا۔
اور واشروم کے اندر گھس گیا۔۔۔
پیچھے سے سوہان کی آواز فوراً آئی۔
اوئے جلدی آنا… میں اکیلا نیچے نہیں جا رہا…
مر نہیں جائے گا…
پتہ نہیں… بھوک سے کچھ بھی ہو سکتا ہے…
جے کیونگ نے دروازہ بند کرتے ہوئے آنکھیں گھمائیں۔
ڈرامے باز…
کچھ دیر بعد جب وہ تیار ہو کر باہر نکلا تو اُس نے حیرانی سے دیکھا…
سوہان ابھی تک وہیں بیڈ پر بیٹھا تھا۔
بالکل اُسی پوزیشن میں۔ جیسے کسی نے pause کر دیا ہو۔
جے کیونگ نے تولیہ کندھے پر رکھتے ہوئے اُسے دیکھا۔
ابھی تک یہیں بیٹھا ہے…؟
سوہان نے فوراً سنجیدگی سے کہا،
میں اچھا دوست ہوں… تجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں گیا…یہ سوہان مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ خطرناک ہے… اسے کہہ دو۔۔ فلاں بندے کو بُلا کر لاؤ…
تو یہ سیدھا اُس بندے کے پاس جائے گا… اور ایسے چپکے گا کہ اُسے ساتھ لیے بغیر واپس نہیں آئے گا۔
باقی سب کہاں ہیں…؟
نیچے گاڑی میں… سوہان نے فوراً جواب دیا۔ باہر ناشتے کے لیے جا رہے ہیں…
جے کیونگ نے حیرت سے ابرو اٹھائے۔ کیوں۔۔؟؟
سوہان نے پورے فخر سے سینے پر ہاتھ رکھا۔
کیونکہ میں نے کہا…
جے کیونگ نے فوراً طنزیہ انداز میں سر ہلایا۔
اتنا باہر کا کھائے گا نا… تو موٹا ہو جائے گا…
پھر سنجیدگی سے بولا۔۔ پھر سب تجھے ‘نَٹا موٹا’ بلائیں گے…
سوہان نے دو سیکنڈ اُسے گھورا… پھر بڑے سکون سے بولا، بلانے دے… I don’t care…
جھوٹ بول رہا ہے…
بالکل نہیں…
رات کو جا کر روتا ہوگا چپکے چپکے…
سوہان نے فوراً سینہ تان کر کہا۔۔
جی نہیں… مجھے پتہ ہے تم سب میری cuteness سے جلتے ہو… اسی لیے جل جل کر مجھے ایسا کہتے ہو… ورنہ میں سب سے زیادہ cute ہوں۔
جے کیونگ نے فوراً کراہنے والا چہرہ بنایا۔
یار… خود کو کیوٹ بولتے ہوئے شرم نہیں آتی…؟
سوہان بڑے اعتماد سے بولا،
نہیں۔ کیونکہ حقیقت چھپانی نہیں چاہیے…
جے کیونگ نے چند لمحے اُسے دیکھا…
پھر بےاختیار ہنس دیا۔
اور سوہان فوراً فاتحانہ انداز میں بولا،
دیکھا… تُو صبح صبح ہنس رہا ہے۔ میری وجہ سے…
جے کیونگ نے جیکٹ سیدھی کرتے ہوئے بےپرواہی سے کہا،
ہاں تو… جوکر جو ہے…
اوئے۔۔۔۔
چل آجا اب… جے کیونگ دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
سوہان اُس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بڑبڑایا،
قسم سے… ایک دن تم لوگ میری value سمجھو گے…
جے کیونگ نے فوراً جواب دیا،
وہ ایک دِن کبھی نہیں آئے گا۔۔۔
تُم لوگ سب بس جلتے ہو میرے سے۔۔۔
دونوں کمرے سے باہر نکل گئے… اور کوریڈور میں جاتے ہوئے بھی سوہان مسلسل کچھ نہ کچھ بولے جا رہا تھا…
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جے کیونگ بھی حد سے زیادہ باتیں کر رہا تھا۔
عام طور پر وہ سوہان کی آدھی بکواس
نظر انداز کر دیتا تھا…
لیکن آج وہ خود بھی برابر کے طنز مار رہا تھا۔
پتہ نہیں کیوں۔۔۔؟؟؟

++++++++++++

صبح کا وقت تھا…
ہوٹل کے باہر ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی… جبکہ سڑکوں پر ابھی زیادہ رش نہیں ہوا تھا۔
ہان وو ہمیشہ کی طرح جلدی اُٹھ گیا تھا۔
باقی سب ابھی سو رہے تھے…
وہ خاموشی سے ہوٹل سے باہر نکل آیا۔ ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالے وہ آہستہ آہستہ سڑک پر چلتا رہا…
اِدھر اُدھر دیکھتا رہا،
کافی دیر چلنے کے بعد اچانک اُس کی نظر سڑک کے کونے پر موجود ایک مسجد پر جا کر رُک گئی۔
ہان وو کے قدم بےاختیار سست پڑ گئے۔
چند لمحے وہ ویسے ہی باہر کھڑا مسجد کو دیکھتا رہا…
پھر نہ جانے کیوں… وہ آہستہ آہستہ اندر چلا گیا۔
مسجد کے اندر غیرمعمولی خاموشی تھی۔
صرف چند لوگ موجود تھے…
کوئی کونے میں بیٹھا قرآن شریف پڑھ رہا تھا…
دو بزرگ آہستہ آواز میں کسی بات پر گفتگو کر رہے تھے…
اور ایک بچہ اپنے والد کے ساتھ صف کے قریب بیٹھا کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ہان وو خاموشی سے ایک دیوار کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔
وہ اِدھر اُدھر دیکھتا رہا…
پھر اُس کی نظریں مسجد کے فرش پر جم گئیں۔
اُس کے ذہن میں بےاختیار وہ دن آیا… جب اُس نے پہلی بار سجدہ کیا تھا… اور عجیب سا سکون محسوس کیا تھا۔ ایسا سکون… جو اُس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
ہان وو نے دھیرے سے سانس لی۔ پھر نظریں اٹھا کر اردگرد دیکھا۔
کوئی اُس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔
سب اپنی اپنی عبادت میں مصروف تھے۔
چند لمحے وہ خاموش بیٹھا رہا…
پھر آہستہ سے کھڑا ہوگیا۔
اُسے خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں آرہا تھا…
وہ کیا کرنے جا رہا ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے وہی حرکت دہرانی شروع کر دی… پہلے سیدھا کھڑا ہوا… پھر آہستہ سے جھکا…
پھر سجدے میں چلا گیا۔
چند سیکنڈ… پھر چند اور… مگر…
کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔
نہ دل کا سکون… نہ وہ عجیب سی نرمی… نہ وہ خاموش اطمینان… کچھ بھی نہیں۔ کُچھ بھی نہیں ہوا۔۔
ہان وو نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
اُس کی بھنویں ہلکے سے سکڑ گئیں۔
پھر اُس نے دوبارہ کوشش کی…
دوبارہ سجدہ کیا… مگر اِس بار بھی…
کچھ نہیں۔ وہ سکون… کہیں تھا ہی نہیں۔
ہان وو چند لمحے ویسے ہی فرش کو دیکھتا رہا۔
پھر دھیرے سے سیدھا بیٹھ گیا۔
اُس کے دل میں عجیب سی بےچینی آنے لگی تھی۔
اُس دن تو صرف ایک سجدے کے بعد ہی دل ہلکا ہوگیا تھا…
پھر آج کیوں نہیں…؟
کیا فرق تھا…؟
کوئی فرق نہیں تھا۔۔۔ وہ بالکل ویسے ہی کر رہا تھا لیکن وہ سکون وہ سکون کہاں تھا۔۔۔؟؟
وہ کُچھ دیر خاموشی سے وہیں بیٹھا تھا پھر اُٹھ کے مسجد سے باہر نکل گیا۔۔۔

++++++++++++

آج سب کا لاہور کی ایک نئی جگہ گھومنے جانے کا پروگرام تھا۔
صبح سے ہی سب خاصے پُرجوش تھے…
مگر اچانک سارا پلان اُس وقت بگڑ گیا جب ہیوک کی طبیعت خراب ہوگئی۔
آنکھیں ہلکی سی سوجی ہوئی تھیں…
چہرہ غیرمعمولی حد تک تھکا ہوا لگ رہا تھا…
رات بھر بخار میں تپتا رہا تھا اور شاید ٹھیک سے سو بھی نہیں پایا تھا۔
اب حالت یہ تھی کہ اُس میں اُٹھ کر بیٹھنے کی ہمت بھی مشکل سے باقی تھی۔
اور سب ہی اُس کے لیے فکرمند اُس کے کمرے میں اُس کے اِردگرد بیٹھے تھے۔۔۔۔
رین یون اُس کے قریب آیا اور ہاتھ اُس کی پیشانی پر رکھ کر بخار چیک کرنے لگا۔
تمہیں ابھی تو بخار نہیں ہے؟
ہیوک نے ہلکے سے آنکھیں کھولے۔۔
ہاں… اُتر گیا ہے… یا شاید اُتر رہا ہے… ابھی دوا لی ہے تو کم لگ رہا ہے…
اب ہمارے ساتھ کیسے جاؤ گے تم؟ سوہان نے فوراً پوچھا۔
میں نہیں جا رہا…
تائیجون نے فوراً کہا، تو پھر چھوڑو… آج کوئی نہیں جاتا… آرام کرتے ہیں سب۔
نہیں۔ ہیوک نے فوراً انکار کیا۔ تم لوگ جاؤ۔ ویسے بھی مجھے آرام کرنے کے لیے اکیلے رہنے کی ضرورت ہے۔ تھوڑی دیر اور سو جاؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔
سیونگ نے سر ہلایا۔ ہاں، ہیوک ٹھیک کہہ رہا ہے۔ صرف تھکن کی وجہ سے بخار آیا ہے۔ آرام کرے گا تو بہتر ہو جائے گا۔
جے کیونگ اب بھی مطمئن نہیں لگ رہا تھا۔
لیکن اِسے اکیلا کیسے چھوڑ دیں؟
میں رُک جاتا ہوں پھر۔۔ ہان وو نے فوراً کہا۔ اِس کا خیال رکھنے کے لیے۔
یہ سنتے ہی سومین فوراََ طنزیہ انداز میں بولا۔۔
لو جی… اِس کے اندر کی ممی پھر سے جاگ گئی…
سب کی نظریں اُس کی طرف مڑ گئیں۔
ہر وقت کوئی بیمار ہوگا… کسی کو مسئلہ ہوگا… تو جناب فوراً قربانی دینے پہنچ جائیں گے…
ہان وو نے سپاٹ لہجے میں کہا، چپ رہو تم۔
جیسے ہی اُس نے یہ کہا… سوہان کی زور دار ہنسی نکل گئی۔ ہا ہا ہا! کروا لی عزت۔۔۔
سومین نے فوراً اُسے گھورا۔ تو زیادہ مت بول، ناٹے…”
اوئے۔۔۔
سوہان کی ہنسی ایک دم رک گئی۔
اوئے! پھر height پر آگیا؟
تو لمبا ہو جا۔ نہیں آؤنگا پھر میں ہائٹ پر۔۔۔
بس۔۔۔۔ سیونگ نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا۔
خاموش ہو جاؤ۔
دونوں فوراً چپ ہوگئے۔ کم از کم ظاہری طور پر۔
ہیوک نے کمزور سی آواز میں کہا،
تم سب چلے جاؤ۔ میں ویسے بھی ابھی سو جاؤں گا۔ کسی کو بھی میرے ساتھ رکنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تائیجون نے اب بھی پریشانی سے پوچھا،
لیکن تمہیں کسی چیز کی ضرورت پڑ گئی تو؟
ہیوک نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔
میں مر نہیں رہا ہوں۔
رات بھر بھی اپنا خیال خود رکھ لیا تھا… ابھی بھی رکھ لوں گا۔ ساری چیزیں سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہیں۔ دوائیں… پانی… سب یہاں پڑا ہے…
یہ سنتے ہی سب کی نظریں ایک ساتھ تائیجون کی طرف مڑ گئیں۔
تائیجون فوراً چونکا۔ کیا؟
سب بدستور اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔
اب میں نے کیا کیا ہے؟
سومین نے ابرو اُٹھائے۔
تیرا روم میٹ رات بھر بخار میں پڑا رہا…
سوہان نے بات مکمل کی۔
اور حضرت کو خبر تک نہیں ہوئی۔
اوئے۔۔۔۔
تائیجون فوراً بولا۔ میں سو رہا تھا۔۔۔
ہمیں بھی پتا ہے۔
تو پھر؟
بہت گہری نیند تھی لگتا ہے۔
میں کیا کروں؟ تائیجون نے دفاعی انداز میں کہا۔
میں سوتا ہوں تو مجھے کسی کا ہوش نہیں رہتا۔ یہ مجھے جگا دیتا۔۔۔۔
ہیوک نے کمزور سی ہنسی کے ساتھ آنکھیں بند کر لیں۔
سیونگ نے آخرکار بات ختم کی۔
بس ٹھیک ہے۔ اِسے یہیں چھوڑ دو۔
پھر اُس نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا،
ہوٹل کے منیجر کو بتا دیتے ہیں۔ اگر اِسے کسی چیز کی ضرورت پڑی تو وہ دیکھ لے گا۔
رین یون نے سر ہلایا۔
ہاں، یہ ٹھیک ہے۔
مگر جے کیونگ اب بھی مطمئن نہیں لگ رہا تھا۔
ہم سب ہی رُک جاتے ہیں نا۔
نہیں۔ سیونگ نے صاف لہجے میں کہا۔
اِسے صرف آرام کی ضرورت ہے۔ اور آرام تبھی کرے گا جب تم سب اِس کے سر پر کھڑے نہیں رہو گے۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی رہی۔
پھر سب نے آخرکار مان لیا۔
ایک ایک کر کے وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔
سو جانا۔ ہان وو نے جاتے جاتے کہا۔
اور دوا وقت پر کھا لینا۔
جی امی۔ ہیوک نے آنکھیں بند کیے بند کیے جواب دیا۔
سوہان فوراً ہنس پڑا۔
دیکھا؟ میری طرح ہاں وو کی بھی عزت کوئی۔۔۔
ہاں وو خاموشی سے روم سے باہر نکل گیا۔۔
نکل۔ ہیوک نے کمزور آواز میں کہا۔ شکل نہ دکھانا ابھی۔۔۔
سب ہنستے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
دروازہ آہستہ سے بند ہوا…
اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
ہیوک نے تھکے ہوئے انداز میں کروٹ بدلی…
کمبل اپنے اوپر کھینچا…

++++++++++++++

کمرے سے نکلنے کے بعد بھی سب کے چہروں پر ہلکی سی فکر موجود تھی۔
آخر ہیوک اُن کے گروپ کا حصہ تھا… اور اُسے اُس حالت میں پیچھے چھوڑ کر جانا کسی کو بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
مگر دوسری طرف ہیوک کی بات بھی درست تھی۔
اُسے واقعی آرام کی ضرورت تھی۔
لِفٹ سے نیچے آتے ہوئے سوہان نے لمبی سانس لی۔
یار… مزہ نہیں آئے گا اُس کے بغیر۔
تین دن سے تمہیں صرف کھانے اور گھومنے کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں تھی… سومین فوراً بولا۔
اور آج اچانک دوستی جاگ گئی؟
میں بہت اچھا دوست ہوں۔ نہ اسی لیے۔۔۔۔
ہاں اتنا اچھا کہ ہیوک اس کے ساتھ اپنا روم شیئر کرنے نہیں مان رہا تھا۔۔۔
وہ تو بس وہ ہیوک کام چور ہے اسی لیے۔۔۔ سوہان فوراََ بولا۔۔۔
دیکھو تو بول کون رہا ہے۔۔۔ یہاں سب جانتے ہیں کون کام چور ہے کون بھی نہیں ہے۔۔۔
ہاں ہیوک ہے سب کو پتہ ہے۔۔۔ سوہان کہتا بےنیازی سے آگے بڑھ گیا
پیچھے سے سب ہنس پڑے۔
پھر رین یون نے کہا۔ آج کہاں جانا ہے؟
یہ سوال سنتے ہی سب خاموش ہوگئے۔
چند لمحے بعد منیجر نے مسکراتے ہوئے کہا،
اگر لاہور کی ایک منفرد جگہ دیکھنی ہے تو آج واہگہ بارڈر چلتے ہیں۔
واہگہ بارڈر؟ ہان وو نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
منیجر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
پاکستان اور بھارت کی سرحد۔
سرحد؟
سوہان کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہاں لوگ گھومنے بھی جاتے ہیں؟
روز جاتے ہیں۔
کیوں؟
تقریب دیکھنے۔
اب سب کی دلچسپی بڑھ گئی تھی۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔
لاہور کی مصروف سڑکیں ایک بار پھر اُن کے سامنے پھیل گئی تھیں۔
راستے بھر سوہان سوالوں کی بارش کرتا رہا۔
وہاں فوجی ہوں گے؟
ہاں۔
بندوقیں بھی؟
ہاں۔
ٹینک؟
نہیں۔
افسوس…
سومین نے فوراً اُس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارا۔
پکنک پر جا رہے ہیں یا جنگ دیکھنے؟
کافی دیر کے سفر کے بعد گاڑی آخرکار ایک وسیع و عریض علاقے میں داخل ہوئی۔
جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہے تھے، سڑک کے دونوں طرف لوگوں کا رش بڑھتا جا رہا تھا۔
کسی کے ہاتھ میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھا…
بچے اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔۔۔
کئی نوجوان جھنڈے کندھوں پر ڈالے نعرے لگاتے پھر رہے تھے…
اور ہر طرف ایک عجیب سا جوش محسوس ہو رہا تھا۔
گاڑی پارکنگ میں رُکی تو دور ہی سے بلند آواز میں قومی نغمے سنائی دے رہے تھے۔
دل دل پاکستان…
ہوا کے ساتھ نغمے کی آواز دور تک پھیل رہی تھی۔
یہاں تو میلے جیسا ماحول ہے…
سوہان نے حیرانی سے گردن گھماتے ہوئے کہا۔
منیجر ہنس پڑا۔
تقریب شروع ہونے سے پہلے اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔
وہ سب گاڑی سے اُتر کر آگے بڑھنے لگے۔
سامنے سرخ اینٹوں سے بنی بڑی بڑی عمارتیں تھیں جن کا طرزِ تعمیر مغلیہ دور کی عمارتوں سے ملتا جلتا تھا۔
دور سے دیکھنے پر یوں لگتا تھا جیسے کسی قلعے کے دروازے ہوں۔
ہر طرف سیکیورٹی موجود تھی۔
لوگ قطاروں میں اندر جا رہے تھے۔
کسی طرف فیملیاں تھیں…
کسی طرف سیاح…
اور کئی غیر ملکی بھی تصاویر بنا رہے تھے۔
جیسے ہی وہ مرکزی حصے میں پہنچے…
سب کے قدم بےاختیار سست پڑ گئے۔
سامنے ایک بہت بڑا میدان نما حصہ تھا۔
دونوں جانب بلند سیڑھیوں والی بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی تھیں جو چھوٹے اسٹیڈیم کا منظر پیش کر رہی تھیں۔
بیچ میں ایک چوڑی سڑک نما پٹی تھی…
جو سیدھی سامنے موجود بڑے فولادی گیٹ تک جا رہی تھی۔
اُس گیٹ کے اُس پار بھارت کی حدود شروع ہوتی تھیں۔
اور حیرت کی بات یہ تھی کہ دوسری طرف بھی تقریباً ویسا ہی منظر موجود تھا۔
وہاں بھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے…
وہاں بھی جھنڈے لہرا رہے تھے…
اور وہاں بھی تقریب کی تیاری ہو رہی تھی۔
اوہ…
تائیجون بےاختیار بول اٹھا۔
تو یہ اصل بارڈر ہے؟
جی۔ منیجر نے مسکرا کر جواب دیا۔
صرف چند قدم کے فاصلے پر دوسرا ملک ہے۔
ہان وو خاموشی سے سامنے دیکھتا رہا۔
ہوا تیز چل رہی تھی۔
جھنڈے زور زور سے لہرا رہے تھے۔
سب سے نمایاں چیز پاکستان کا بہت بڑا پرچم تھا…
جو ایک بلند و بالا ستون پر لہرا رہا تھا۔
اتنا بڑا کہ دور سے بھی فوراً نظر آ جاتا تھا۔
سورج آہستہ آہستہ ڈھلنے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
سنہری روشنی جھنڈے اور عمارتوں پر پڑ کر عجیب خوبصورتی پیدا کر رہی تھی۔
لوگوں کا شور مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔
کبھی نعرے لگتے… کبھی تالیاں بجتیں…
کبھی قومی نغمے گونج اٹھتے۔
سوہان نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔
قسم سے… یہ لوگ تو مجھ سے بھی زیادہ شور کرتے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب تمہیں کسی اور کا شور زیادہ لگا ہے۔ سومین نے فوراً کہا۔
یہ سرحد ہے؟ جے کیونگ نے حیرانی سے کہا۔  مجھے لگا تھا یہاں صرف باڑ اور سپاہی ہوں گے۔
مجھے بھی۔ ہان وو نے آہستہ سے کہا۔
سوہان تو پہلے ہی اپنے فون سے ویڈیوز بنانے میں مصروف ہوچکا تھا۔
یہ دیکھو… یہ دیکھو…!
کیا؟
یہ میری بہترین vlog بننے والی ہے۔
پہلے vlog بنانا سیکھ لو۔ تائیجون نے کہا۔
سب اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
چند لمحوں بعد اچانک ایک بلند آواز گونجی۔
اور پورے مجمع میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔
پاکستان رینجرز کے جوان میدان میں داخل ہو رہے تھے۔
سیاہ وردی… سر پر اونچی پگڑیاں… چمکتے ہوئے جوتے… اور انتہائی پُراعتماد انداز۔
ان کے ہر قدم کے ساتھ جوتوں کی دھمک پورے میدان میں سنائی دے رہی تھی۔
ٹھاک! ٹھاک! ٹھاک!
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین ہلکی سی لرز رہی ہو۔
ہزاروں لوگ ایک ساتھ تالیاں بجانے لگے۔
نعرے بلند ہونے لگے۔
کسی طرف سے پاکستان زندہ باد۔۔۔ کی آواز آتی…
تو دوسری طرف سے جواب میں اور بلند نعرہ بلند ہو جاتا۔
جے کیونگ نے حیرانی سے چاروں طرف دیکھا۔
اتنے لوگوں کا جوش اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
دوسری طرف بھارتی سپاہی بھی اپنی جانب سے تقریب کا حصہ بن رہے تھے۔
پورا مجمع نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔
واہ۔۔۔ یہ تو فلموں سے بھی زیادہ زبردست ہے۔۔۔۔
سوہان تقریباً اپنی نشست سے اُچھلتے ہوئے بولا۔
سیونگ نے فوراً اُس کی جیکٹ پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔
بیٹھ جاؤ۔
ابھی تم خود بارڈر پار کر جاؤ گے۔
سب ہنس پڑے۔
مگر سچ یہ تھا کہ اُن سب کی نظریں میدان سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔
پاکستان رینجرز کے جوان انتہائی پُراعتماد انداز میں مارچ کر رہے تھے۔
ہر قدم کے ساتھ اُن کے بوٹوں کی آواز پورے میدان میں گونج رہی تھی۔
مجمع ہر قدم پر جوش سے نعرے لگا رہا تھا۔
پاکستان زندہ باد!
پاکستان زندہ باد!
جے کیونگ نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔
یہ لوگ اتنے پُرجوش کیوں ہیں؟
منیجر مسکرایا۔ کیونکہ یہ صرف تقریب نہیں ہے۔
یہ لوگوں کے لیے اپنے ملک سے محبت کا اظہار بھی ہے۔
ہان وو خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
ہزاروں لوگ… مختلف عمر کے لوگ…
مگر سب ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے۔
ایک ہی جھنڈے کے نیچے۔ ایک ہی جذبے کے ساتھ۔
کچھ لمحوں کے لیے اُسے یہ منظر عجیب حد تک خوبصورت محسوس ہوا۔
دوسری طرف بھارتی گیلریوں سے بھی شور بلند ہو رہا تھا۔
وہاں بھی لوگ اپنے جھنڈے لہرا رہے تھے۔
وہاں بھی نعرے لگ رہے تھے۔
دونوں ملکوں کے درمیان صرف چند قدموں کا فاصلہ تھا۔
مگر دونوں طرف جذبات کی شدت ایک جیسی محسوس ہو رہی تھی۔
اوہ… تائیجون نے سر ہلاتے ہوئے کہا
اچانک پورا مجمع اور زیادہ زور سے چلانے لگا۔
تقریب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔
دونوں جانب کے سپاہی ایک دوسرے کے سامنے آ چکے تھے۔
ان کی حرکات میں سختی تھی۔ چال میں غرور تھا۔
اور پورے ماحول میں ایک عجیب سا رعب محسوس ہو رہا تھا۔
پھر وہ لمحہ آیا جب دونوں جانب کے جھنڈے آہستہ آہستہ نیچے اُتارے جانے لگے۔
ہزاروں لوگ خاموشی سے یہ منظر دیکھنے لگے۔
سورج تقریباً غروب ہو چکا تھا۔
سنہری روشنی آسمان پر پھیل رہی تھی۔
ہوا مسلسل جھنڈوں کو لہرا رہی تھی۔

++++++++++++

ادھر واہگہ بارڈر میں سب تقریب دیکھنے میں مصروف تھے…
اور اِدھر ہوٹل کے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
کچھ منٹ تک ہیوک ویسے ہی کمبل اوڑھے لیٹا رہا…
جیسے واقعی گہری نیند میں ہو۔
پھر آہستہ آہستہ اُس نے ایک آنکھ کھولی۔
کمرے میں خاموشی تھی۔
دروازہ بند تھا۔
اور سب جا چکے تھے۔
اگلے ہی لمحے وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
اُس کے چہرے پر نہ بیماروں والی بےبسی تھی…
نہ کمزوری…
اور نہ ہی بخار کا کوئی خاص اثر۔
وہ سیدھا بستر سے اُترا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
واش روم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اُس نے نل کھولا۔
ٹھنڈے پانی کے چھینٹے چہرے پر مارے۔
پھر جیب سے ٹشو نکال کر آنکھوں کے نیچے رگڑنے لگا۔
آہستہ آہستہ سیاہ رنگ صاف ہونے لگا۔
اصل میں اُس نے رات کو ہی میک اپ کی مدد سے آنکھوں کے نیچے ہلکے ہلکے ڈارک سرکلز بنا لیے تھے۔
تاکہ بیمار زیادہ لگ سکے۔
چند لمحوں بعد اُس نے دوبارہ آئینے میں خود کو دیکھا۔
اب چہرہ پہلے سے کافی نارمل لگ رہا تھا۔
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
معاف کرنا دوستو… وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ لیکن آج مجھے واقعی اکیلا رہنا تھا۔
بخار اُسے ہلکا سا ضرور تھا…
لیکن اتنا نہیں جتنا سب کو دکھایا گیا تھا۔
باقی ساری اداکاری اُس نے خود کی تھی۔ اُسے نے سب سے کہا وہ رات بھر بخار میں تپٹا رہا لیکن اصل میں ایسا کُچھ نہیں تھا اور جو اُس کے ساتھ تائیجون رہتا اُسے تو سوتے میں آس پاس کی کوئی خبر ہو نہیں ہوتی۔۔۔ تو کوئی اُسے پکڑ نہیں پایا اور اس کی سب سے بارے وجہ یہ بھی تھی کہ ہیوک جیسے بندے پر کوئی شک نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ کیوں کہ وہ اپنے بھائیوں سے کبھی جھوٹ نہیں کہتا تھا۔۔۔ کبھی کُچھ نہیں چھپاتا تھا۔۔۔ اور وہ گروپ کا سب سے سیدھا لڑکا مانا جاتا تھا۔۔۔
اُس نے جلدی سے جیکٹ پہنی۔ فون جیب میں رکھا۔
پھر ایک بار دروازے کے سوراخ سے باہر جھانکا۔
کوریڈور خالی تھا۔
اُس نے دروازہ کھولا اور خاموشی سے باہر نکل آیا۔
لفٹ استعمال کرنے کے بجائے وہ سیڑھیوں کی طرف مُڑ گیا۔
جیسے کوئی خفیہ مشن پر نکلا ہو۔
چند منٹ بعد وہ ہوٹل کی لابی سے بھی گزر چکا تھا۔
اُس نے خاص طور پر اِدھر اُدھر دیکھ کر تسلی کی۔
نہ منیجر موجود تھا… نہ گروپ کا کوئی فرد… اور یہی وہ چاہتا تھا۔
کیونکہ آج سب واہگہ بارڈر جا چکے تھے۔
اب اُسے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔
ہیوک تیز قدموں سے ہوٹل سے باہر نکل گیا۔
لاہور کی سڑکوں پر شام کی روشنی پھیل چکی تھی۔
گاڑیاں گزر رہی تھیں…
لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے…
مگر ہیوک کا ذہن صرف ایک ہی جگہ اٹکا ہوا تھا۔
وہی کیفے… وہی میز… اور وہی لڑکی۔ ماہم۔
نہ جانے کیوں… اُسے پورا یقین تھا کہ وہ آئے گی۔
حالانکہ کوئی وعدہ نہیں تھا۔ کوئی یقین دہانی نہیں تھی۔ بلکہ اُس کی دوست تو واضح طور پر مخالف نظر آ رہی تھی۔
مگر پھر بھی… دل مسلسل ایک ہی بات کہہ رہا تھا۔
وہ آئے گی۔ ضرور آئے گی۔ شاید صرف چند منٹ کے لیے… شاید صرف یہ پوچھنے کے لیے کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا…
مگر آئے گی ضرور۔ ہیوک کے قدم خودبخود تیز ہوتے گئے۔
اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اُس کے دل کی دھڑکن بھی۔
کیونکہ اب اُسے صرف اُس کیفے تک پہنچنا تھا…
اور انتظار کرنا تھا۔

+++++++++++++++++

ہیوک تیزی سے چلتا ہوا آخرکار اُس کیفے کے سامنے پہنچ گیا…
راستے بھر اُس کے ذہن میں ایک ہی خیال چل رہا تھا۔
اگر وہ نہ آئی تو…؟
آخر اُس نے اُس سے صرف ایک بار ملاقات کی تھی…
اور کل بھی وہ بات مکمل کیے بغیر چلا گیا تھا۔
ممکن تھا ماہم نے اُس کی بات کو سنجیدگی سے ہی نہ لیا ہو۔
ممکن تھا وہ اُسے عجیب سمجھ کر دوبارہ آنے کا ارادہ ہی نہ رکھتی ہو۔
مگر جیسے ہی اُس نے کیفے کے شیشے والے دروازے کے اندر نظر ڈالی…
اُس کے قدم بےاختیار سست پڑ گئے۔
وہ آ گئی تھی۔
کھڑکی کے قریب والی میز پر بیٹھی ہوئی۔
آج اُس نے پچھلے دن والا عبایا نہیں پہنا تھا۔
عبایا نیا تھا… رنگ بھی مختلف تھا…
مگر پھر بھی ہیوک نے اُسے ایک ہی نظر میں پہچان لیا۔
شاید اُس کی وجہ وہ معصومیت والا انداز تھا… یا پھر وہ چھوٹی چھوٹی محتاط حرکتیں… جو صرف ماہم کی تھیں۔
اور عجیب بات یہ تھی…
ماہم بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اور پلٹ پر رکھے ٹشو سے فلاور بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
یہ دیکھتے ہی ہیوک کے دل میں عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ اچانک اُسے واقعی برا لگا۔
وہ کافی دیر سے وہاں بیٹھی تھی۔
اور وہ خود وقت پر نہیں پہنچ سکا تھا۔
ہیوک نے فوراً قدم تیز کر دیے۔
چند ہی لمحوں بعد وہ اُس کی میز کے قریب پہنچ گیا۔
سوری… سوری…
وہ جلدی جلدی بولتے ہوئے اُس کی طرف اپنے ٹریڈتیشل انداز میں ذرا سا جھک گیا۔
ماہم فوراً چونک کر کھڑی ہوگئی۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ…؟
ہیوک نے شرمندگی سے گردن کھجائی۔
میں واقعی معذرت چاہتا ہوں… میں نے تمہیں انتظار کروایا…
پھر فوراً پوچھا، بہت دیر ہوگئی کیا…؟
ماہم نے ہلکے سے سر ہلایا۔
نہیں… اِٹس اوکے…
پھر اُس نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
آپ بیٹھ جائیں۔
ہیوک نے سکون کا سانس لیا اور فوراً بیٹھ گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *