ٹھہراؤ آخری قسط
ازقلم حمنہ خان
باب ۳۷
“کیا کہے گا کبھی ملنے بھی اگر آئے گا وہ
اب وفاداری کی قسمیں تو نہیں کھاۓ گا وہ
ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کو بھلا سکتے ہے
اور وہ سمجھتا تھا ہمیں بھول نہیں پائیں گا وہ
کتنا سوچا تھا مگر اتنا تو نہیں سوچا تھا
یاد بن جائے گا وہ خواب نظر آۓ گا وہ
سب کے ہوتے ہوئے اکہ روز وہ تنہا ہوگا
پھر وہ ڈھونڈے گا ہمیں اور نہیں پایے گا وہ
اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجمل
اب وہ تنہا تو نہ ہوگا جو ٹھہر جائے گا۔۔۔”
“مجھے جبران کریم خان سے لڑنے کا ایک بہانہ چاہیے تھا…
اور تم نے اتنی بڑی بات چھوڑ دی؟
کیسے انسان ہو تم؟”
وہ قریب آیا۔
“تم نے محبت ہی چھوڑ دی؟
میں یہ نہیں کہتا کہ مرد کو زن مرید ہونا چاہیے…
مگر اپنی محبت کو ایسے چھوڑ دینا؟
یہ بزدلی ہے!”
ظاہر کا دل جیسے سینے میں دھڑک نہیں رہا تھا… ٹکرا رہا تھا۔
“تمہیں پتہ ہے ادفر کو پانے کے لیے مجھے کیا کرنا پڑا تھا؟”
امید کی آواز بھاری ہو گئی۔
“مجھے عزفر ایسے نہیں ملی۔
مجھے اس کے لیے بہت کچھ کرنا پڑا۔
تمہارے دوست ابوبکر سے بات کرنی پڑی۔
دھمکانا پڑا۔
اور آج تک یہ بات ادفر سے چھپانی پڑی…”
“کیا بکواس کر رہے ہو تم؟” ظاہر چلایا۔
“بکواس؟
تمہیں یقین نہیں آ رہا؟
کیسے نہیں آ رہا؟
تم اتنے بزدل ہو کہ جبران کریم سے ڈرتے رہے…
مگر مجھے ایک بار نہ بتایا؟
میں اُس حویلی کی دیواریں الٹ دیتا!
میں تمہاری محبت کو ایسے نہیں جانے دیتا!”
کمرہ جیسے گواہ تھا
دو مردوں کے غرور،
درد اور ٹوٹتی ہوئی سچائی کا۔
“شرم آتی ہے مجھے…
تمہیں اپنا رشتہ دار کہتے ہوئے۔”
یہ جملہ گولی کی طرح لگا تھا۔
ڈرا نہیں ہوں میں جبران سے بس میں نے بہت محبت کی ہے، اور محبت کرتا ہے اس کے مقابلے میں ایک نہیں بہت ساری بے بسی ہوتی ہے۔۔
ادفر زمین پہ تھی امید اسے وضاحت دے رہا تھا۔ محبت کی وضاحت، بلا ایسی بھی محبت ہوتی ہے جس میں وضاحت دینی پڑے۔۔
ظاہر ایک قدم پیچھے ہٹا تھا۔
سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر۔
اس لمحے
وہ کسی اور کی ناانصافی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
کیونکہ وہ خود
زندگی کی سب سے بڑی ناانصافی کے بیچ کھڑا تھا۔
امید پٹھان نے خاموشی سے وہ جنگ جیتی تھی جس میں محبت سب سے پہلے ماری جاتی ہے۔
اور آج اس کی اپنی محبت بھی مر گئی تھی۔
یعنی اس جنگ کا فیصلہ ابھی باقی تھا اور فیصلہ آنج ہوا تھا۔۔۔ “وہ ہار گیا تھا”۔۔۔ اس جنگ میں وہ ہار گیا تھا۔۔۔
“پھر اس کے بعد میں نے کچھ کھویا ہی نہیں
وہ میری زندگی کا آخری نقصان تھا۔۔۔۔۔۔”
اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔
مگر وہ آنسو نہیں تھے۔
وہ زخم تھے—
جو دوبارہ کھل گئے تھے۔
پہلے اسے لگا تھا اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ دھوکہ تو اب ہوا تھا۔۔
آج واقعی دھوکہ ہوا تھا۔
ایک تیر نہیں لگا تھا اس کے سینے میں بے شمار تیر پیوست ہو چکے تھے۔
جس شخص سے اسے دوسری بار محبت ہوئی تھی…
جسے اس نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ سمجھا تھا…
اصل بے وفا وہی تھا۔
اسے اب خود پر بھی یقین نہیں رہا تھا۔
دنیا پر تو دور کی بات تھی۔
وہ آسمان سے گری تھی۔
جس بلندی پر اس نے اپنے خواب بسائے تھے…
وہاں سے گرنے والے کو جوڑا نہیں جا سکتا۔
روشنیوں کی چمک، قہقہوں کی بازگشت،
اور خوشبوؤں کا ہجوم۔
شادی کی تقریب شروع ہو چکی تھی۔
فبیحہ حویلی میں صوفے پر بیٹھی کسی کا انتظار کر رہی تھی۔
جبران کریم خان آ کر اس کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
فبیحہ بے چینی محسوس کر رہی تھی۔
وہ نظریں چرا کر دوسری طرف منہ کیے بیٹھی تھی۔
محفل میں اگر سب سے زیادہ خوبصورت کوئی لگ رہا تھا— وہ تھی جس کے لیے آج کا دن قیامت تھا۔
ذکرا نور۔
وہ سب سے آخر میں آئی تھی۔
ایک ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ،
دوسرے ہاتھ میں تحفے کا بیگ۔
پورا ہال جیسے چند لمحوں کو رک گیا تھا۔
وہ سیدھا شریں نور اور انزر انور
کی طرف بڑھی تھی۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے تھے۔
“کیا وہ واقعی یہاں آئی ہے؟”
ان کے اندر عجیب سا خوف تھا۔
کسی نے الزام نہیں لگایا تھا۔
مگر ضمیر گواہی دے رہا تھا کہ وہ دونوں کسی غلطی کے بوجھ تلے ہیں۔
وہ زبردستی مسکرائے تھے۔
ذکرا نور نے ہنستے ہوئے پھول شریں کے ہاتھ میں تھمائے تھے۔
تحفہ انزر کو دیا تھا۔
اس کی مسکراہٹ مکمل تھی۔
آواز روشن۔
“میں بہت خوش ہوں… بہت زیادہ خوش۔
آپ دونوں کی شادی کے لیے۔”
وہ ہلکا سا ہنسی تھی۔
“اب تو آپ میرے بہنوئی ہوئے نا؟
اور میری بہن اتنی قسمت والی ہے
کہ مجھے اس کی قسمت پر رشک آتا ہے۔”
شریں کے ہاتھ کانپ گئے تھے۔
“واقعی… بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو۔”
کوئی نہیں جانتا تھا—
جس لڑکی کی مسکراہٹ سب سے زیادہ چمک رہی تھی اسی کا دل سب سے زیادہ ٹوٹا ہوا تھا۔
اور آج کی رات—
صرف شادی کی رات نہیں تھی۔
یہ حساب کی رات تھی۔
ادفر کا حسین خواب ٹوٹ گیا تھا۔
وہ جو ایک نرم سی نیند میں تھی…
ایک خوبصورت فریب میں…
جہاں سب کچھ ٹھیک تھا، سب کچھ صاف تھا—
کسی نے اسے جھنجھوڑ کر جگا دیا تھا۔
وہ دوبارہ اسی دنیا میں آ گری تھی
جس سے وہ کچھ عرصے کے لیے بھاگ گئی تھی۔
وہ اپنے ہی بنائے ہوئے ایک خوبصورت جہان میں چلی گئی تھی—
جہاں محبت سچی تھی،
جہاں دھوکہ نہیں تھا،
جہاں یقین سلامت تھا۔
مگر اب— وہ واپس آ چکی تھی۔
اور حقیقت نے اس کے زخموں کو پھر سے چھیل دیا تھا۔
پہلی بار انسان دھوکا کھائے تو سنبھل جاتا ہے۔
دوسری بار دھوکا کھائے… تو سنبھلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
مگر سب سے زیادہ اذیت تب ہوتی ہے
جب ہمیں معلوم ہو—
جو ہم نے بے وفائی کے نام سے یاد رکھا ہے،
وہ تو وفا کے دائرے سے نکلا ہی نہیں تھا۔
شادی کا ہال
روشنیوں کے بیچ
ذکرا نور کھڑی تھی۔
اس کا چہرہ آج عجیب سا شفاف تھا۔
جیسے کسی نے اس کے گرد چاند کا ہالہ بنا دیا ہو۔
جیسے روشنی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی ہو۔
اسے تو آج بکھر جانا تھا۔
اسے تو آج کمزور نظر آنا تھا۔
پھر وہ اتنی خوبصورت کیوں لگ رہی تھی؟
اس کی آنکھیں سرخ تھیں—
مگر خشک۔
وہ آنکھیں سوال بھی کر رہی تھیں،
اور جواب بھی دے رہی تھیں۔
آخرکار انزر انور بول ہی پڑا تھا—
“تمہیں مجھ سے کوئی شکایت ہے؟”
باب ۲۸
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
یہ سوال زکرا کو تو نہیں مگر شیریں کو حیران کر گیا تھا۔۔
اس کے الفاظ ہلکے تھے،
مگر اندر خوف تھا۔
شریں نور خاموشی سے اس بات پہ انزر کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ اسے وہاں محبت دکھی تھی اس کے لیے نہیں سامنے کھڑی لڑکی کے لیے۔۔
کیا وہ واقعی انزر کی پسندیدہ عورت بن سکی تھی؟
کبھی کبھی لوگ یہ بھول جاتے ہیں—
کسی کی جگہ لے کر ہم اُس کے دل کی جگہ نہیں لے سکتے۔
اگر کوئی کسی سے بےپناہ محبت کرتا ہے
اور پھر وہ شخص اس محبت کرنے والے کو چھوڑ دیتا ہے—
تو وہ کسی اور سے وفا کیسے نبھا سکتا ہے؟
ہم کیوں سمجھتے ہیں
کہ ہم میں کچھ خاص ہے
جو وہ اتنے محبت کرنے والے کو بنہ وجہ چھوڑ کر ہمارے پاس آتے ہیں؟
وہ فیصلہ وقتی ہوتا ہے۔
پسند ہمیشہ وہی رہتی ہے
جو دل میں رہتی ہے۔
ذکرا ہلکی سی مسکرائی تھی۔
“شکایت؟
وہ بھی آپ سے؟
مجھے کیا شکایت ہوگی آپ سے؟”
آج وہ اسے “آپ” کہہ رہی تھی۔
“مجھے بہت خوشی ہے…
آپ میرے جیجو ہیں۔
بہت زیادہ خوشی ہے۔”
ہال کی روشنی جیسے مدھم ہو گئی تھی۔
وہ تھوڑی دیر رکی۔
پھر آہستہ سے بولی—
“ایک بات کہوں؟
محبت اگر خوبصورت ہوتی ہے نا…
تو جانتے ہیں بےوفائی کتنی خوبصورت ہوتی ہے؟”
انزر کی سانس رک گئی تھی۔
“آپ دونوں کو کیسے معلوم ہوگا؟
بےوفائی کا غم…
یہ بہت زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔
اتنا خوبصورت
کہ وہ ہمیں ہر حقیقت سے روشناس کرا دیتا ہے۔
دل میں ایک عجیب سی بےچینی پیدا کرتا ہے…
ایسی بےچینی جس سے ہمیں محبت ہو جاتی ہے۔
وہ ہمارے دل کو تراشتا ہے…
اسے چیرتا ہے… اور ہمیں اس دور سے محبت ہو جاتی ہے۔۔
اس کی آواز اب کانپ رہی تھی۔
“واقعی…
بےوفائی سے حسین تو محبت بھی نہیں ہوتی۔”
اس کی آنکھیں اب خشک نہ رہ سکیں تھی۔
آنسو بہہ گئے تھے۔
مگر وہ رو نہیں رہی تھی—
وہ فیصلہ سنا رہی تھی۔
وہ مڑی تھی۔
کچھ قدم پر وہ رکی تھی مڑتے ہوئے اس نے ایک نظر انزر پر ڈالی تھی۔
بے وفائوں کی محفل لگے گی آج
وقت پہ آنا مہمانِ خاص ہو تم۔۔
اس نے اسے تحفے میں شال دی تھی اس میں چھوٹا سا کاغذ تھا۔۔ جو خالی نہیں تھا۔۔
پہلے محبت ہوتی ہے پھر بے وفائی ہوتی ہے،، بے وفائی محبت سے پیدا ہوتی،،
میری محبت تاریخ میں تو نہیں لیکن آپ یاد ضرور کریں گے۔۔ اور آپ کی بے وفائی میں ہی نہیں یاد رکھو گی کہانی بن جائے گی۔۔
مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں۔۔
اس نے اس کے سوال سے پہلے ہی جواب دیا تھا۔۔۔
شیریں نور کے ہاتھ میں گلابوں کا گلدستہ تھا،، اس میں چھوٹا سا کاغذ تھا، اور وہ بھی خالی نہیں تھا۔۔
تم یقیناً ان گلابوں جیسی ہو، جن کی اصل حقیقت مرجانا ہوتا ہے،، تمہارا رنگ ان گلابوں جیسا ہے سرخ بلکل خون جیسا،، خوشبوں بھی انہیں جیسی ہے ہواؤں میں بکھرنے والی،، پھول سب کو پسند ہوتے ہے مجھے پھولوں سے نفرت ہے،، ایسا پہلے نہیں تھا بس جب سے پھول محبت جیسے ہوتے ہے یہ جانا میں نے۔۔
محبت پھولوں کے مانند ہوتی ہے اور پھولوں کی حقیقت مرجانا۔۔۔
اس کے ہاتھوں سے وہ گلدستہ گر گیا تھا۔۔
اسے واقع یہ پھول نہیں لگیں تھیں۔
وہ نظر…
وہ صرف نظر نہیں تھی۔
وہ فنا کا اعلان تھی۔
وہ ایک قیامت زدہ خاموشی تھی۔
انزر انور اسے گھور رہا تھا۔
ایسے جیسے اس کے اردگرد سب کچھ غائب ہو گیا ہو۔
جیسے پوری محفل ڈھل گئی ہو۔
بس ایک سرخ جوڑے میں ملبوس لڑکی باقی ہو—
جس کی آنکھیں قیامت لکھ رہی تھیں۔
اور اس لمحے وہ سمجھ گیا تھا وہ جیت کر بھی ہار چکا ہے۔
محبت آگ سی ہو دھواں تو چھوڑ جاتی ہے
محبت نشے سی ہو ذہنی خلل تو چھوڑ جاتی ہے
اکہ طرفہ محبت سچی ہو بے وفائی تو چھوڑ جاتی ہے
محبت زکرا نور جیسی ہو تنہائی تو چھوڑ جاتی ہے۔
نکاح ہو چکا تھا۔
رخصتی میں چند لمحے باقی تھے۔
کھانے کی خوشبو فضا میں پھیلی تھی۔
لوگ مسکرا رہے تھے — مگر وہ مسکراہٹیں مدھم ہو چکی تھیں۔
“ذکرا کہاں ہے؟”
یہ سوال پہلے آہستہ اٹھا…
پھر ہر طرف پھیل گیا تھا۔
ذکرا نور ابھی کچھ دیر پہلے ہنستی ہوئی آئی تھی۔
مبارکباد دی تھی۔
پھول تھمائے تھے۔
پھر وہ کہاں چلی گئی تھی؟
ادفر نے فیصلہ کیا تھا وہ امید پٹھان کو نہ بچے دے گی نہ معاف کرے گی،، وہ اسے اور اس کی ہر بات چھوڑ کر آئی تھی۔۔
جبران کریم فبیحہ اور ادفر یہاں ایک ساتھ آئے تھے۔۔
زکرا نور گاؤں کی گلیوں میں سے جا رہی وہ گھر کا راستہ ڈھونڈ رہی تھی نا جانے وہ کیسے بھٹک گئی تھی وہ بھی ان گلیوں میں جہاں سے وہ آنکھیں بند کر کے گزرتی تھی۔۔
وہ دیواروں کا سہارا لے کر چل رہی تھی، اس کے چپل کہی گر گئی تھی۔
وہ جیسے دنیا ابتداء سے اختتام تک جا رہی تھی۔۔
سلسلہ توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوۓ ظلمتیں شب سے تو کہی بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمہ جلاتے جاتے
اتنا آسان تھا تیرے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اکہ عمر لگی جان سے جاتے جاتے۔۔
فبیحہ اور ادفر بےچین تھیں۔
انہوں نے ذکرہ کی امی سے پوچھا تھا۔
“آنٹی، ذکرہ کہاں ہے؟”
“یہیں تھی بیٹا… پتہ نہیں کہاں گئی…”
بیٹا تم دونوں شیریں کے پاس رہو تمہارے انل اور میں گھر جا کر دیکھتے ہے، زکرا ایسا تو کبھی نہیں کرتی۔۔
ہم بھی چلتے ہیں،، ادفر نے ان سے کہا تھا۔
نہیں بیٹا آپ کا شیریں کے پاس رہنا بہتر ہے۔
ہم اسے لے کر آتے ہے۔۔
بہت دیر ہوئی تھی اس وقت ہی نہیں ہر چیز کو۔۔
بہت لمحے بعد گاؤں کی مسجد کے اسپیکر آن ہوئے تھے۔
اذان کا وقت تو نہیں تھا۔
سب رک گئے تھے۔
ایک آواز ابھری—
بھاری، ٹوٹی ہوئی۔
“گاؤں والوں کو اطلاع دی جاتی ہے…
زکرا نور جن کے گھر آج شادی تھی ان کا انتقال ہو گیا ہے…
جنازہ کچھ وقت میں ہوگا…
دعائے مغفرت کی درخواست ہے…”
الفاظ ختم ہو گئے تھے۔
مگر ان کے اثر نے ہر دل کو چیر دیا تھا۔
ہال میں خاموشی گر گئی تھی۔
کال میں اس وقت دلہا دلہن اور چند ہی مہمان تھے باقی سب ہوشوں میں نہیں تھے وہ اس گھر کے باہر سوگ میں تھے۔۔
کوئی چیخ نہیں۔
کوئی شور نہیں۔
بس ایک سناٹا۔
بوجھ ماشوق کا اٹھایا ہے، موت تک ساتھ کو نبھایا ہے۔
عشق جو پڑھا کرتے تھے ہم کتابوں میں
وہ ایک لڑکی نے کر کے دکھایا ہے۔۔
انزر انور خان جیسے پتھر ہو گیا تھا۔
سانس رک گئی تھی۔
آنکھیں خالی تھی۔
وہ دوڑتا ہوا باہر نکلا تھا۔
اس نے کوٹ پھینک دیا تھا۔
شرٹ کے بٹن کھول دیے تھے۔
اس نے جوتے دور پھینکے تھے موزے نکال کر گرا دیے تھے۔۔
وہ ننگے پاؤں گلیوں میں دوڑنے لگا تھا۔
“یہ کیا ہو گیا…؟
یہ کیا ہو گیا…؟”
اسے کوئی بتاتا—
اسے سانس کیوں نہیں آرہا تھا۔۔
یہ اس کے کپڑوں کی تنگی نہیں تھی۔
یہ اس کے اندر کا بوجھ تھا۔
وہ بوجھ جس کا نام تھا — بےوفائی۔
وہ چیخ رہا تھا۔
آسمان کی طرف دیکھ کر—
“میں نے بےوفائی کی ہے!
میں بےوفا ہوں!”
لوگ جمع تھے۔
گھر کے باہر ہجوم تھا۔
وہ تابوت کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
ہاتھ کانپ رہے تھے۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
“میں نے اسے مارا نہیں…
میں نے بس اسے چھوڑا تھا…
میں نے بس اسے تکلیف دی تھی…”
٫٫تیری مشکل نہ بڑھاؤں گا چلا جاؤں گا
اشک آنکھوں میں چھپاؤں گا چلا جاؤں گا
اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دیں
جیسے ہی ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا،،
اس کے پیچھے سے شریں نور آئی تھی۔
اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
وہ ہاتھ جیسے اسے ہتھوڑا لگا تھا۔
وہ پلٹا تھا—
آنکھوں میں جنون۔
“ہم دونوں ایک جیسے ہیں…
تم بھی بےوفا ہو…
میں بھی بےوفا ہوں…”
شریں کے قدم ڈگمگا گئے۔
لوگ ساکت تھے۔
کوئی الفاظ نہ تھے۔
ہال میں خوشیوں کے کپڑے پہنے لوگ
اب ماتم کے گواہ تھے۔
درمیان میں تابوت تھا—
سبز چادر میں لپٹا۔
اور اس لمحے ان دونوں کو یوں لگا جیسے فضا میں ایک خاموش ہنسی گونج رہی ہو۔ جیسے تابوت سے ہسنے کی آوازیں آرہی تھی۔۔
شریں نور نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔
“خا…موش ہو جاؤ…”
قیامت کس پر ٹوٹی تھی؟
یہ قیامت ذکرا پر نہیں تھی۔
وہ تو خاموش ہو گئی تھی۔
قیامت اُن پر ٹوٹی تھی
جو زندہ رہ گئے تھے۔
کیونکہ کبھی کبھی
مرنے والا سکون پا لیتا ہے—
اور زندہ رہنے والے
عمر بھر جلتے رہتے ہیں۔
میں نے اس لڑکی سے بے وفائی کی جز نے میری محبت میں جان کھو دی۔
اب تم سے جو میری بیوی ہے جو مجھ سے بھی زیادہ بے وفا ہے، تم سے بے وفائی کر کے کیا ہی ستم ملے گا مجھے۔
میرے ساتھ رہو گی زندگی نہیں ملے گی تمہیں،، میں اتنا اعلٰی ظرف نہیں ہوں تمہیں برداشت کر سکوں کیونکہ تمہیں دیکھ کر مجھے میں یاد آجا تا ہوں۔۔
مجھے اس سے بے وفائی کر کے اسے شدید محبت کا احساس ہوا ہے۔۔ میرے حصے میں عمر بھر کی تکلیف آئی ہے اور یہ تکلیف تمہارے حق میں بھی ہونی چاہیے۔ بے وفائی کی تکلیف۔۔
تمہیں تمہاری شادی کے دن میری محبت کے موت کے دن یہ سنا ہی ہوگا۔۔
وہ جیت گئ ہم دونوں ہار گئے۔
محبت جیت گئ بے وفائی ہار گئی۔۔
میں بے وفا مرد تم بے وفا عورت کو کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا، طلاق دیتا۔۔
شیریں نور کو کچھ دیر پہلے زکرا نور نے کہا تھا تم بہت قسمت والی ہو، کیا یہ قسمت رشک کرنے کے قابل تھی۔۔
قسمت والی تو وہ تھی جس کے حصے میں محبت سکون آزادی آئی تھی۔۔
آسمان جیسے آج زمین کے ساتھ مل کر سوگ منا رہا تھا۔
فبیحہ… ادفر… اور وہ —
تینوں میں سے ایک ستون آج زمین کے نیچے اترنے والا تھا۔
وہ دونوں تابوت کے ساتھ لپٹی ہوئی تھی، جیسے وہ لکڑی کا وہ سرد لمس نہیں بلکہ اپنی پوری دنیا کو سینے سے لگائے ہوئے ہو۔
“تم نے کہا تھا نا…”
اس کی آواز ٹوٹ کر گری،
“ہم تینوں مل کر ایک عمارت ہیں… کوئی ہمیں گرا نہیں سکتا…”
مٹی کی پہلی مُٹھی گری —
اور جیسے عمارت کی پہلی اینٹ ڈھیلی ہو گئی تھی۔
وہ تین پریاں تھیں۔
لوگ انہیں مذاق میں کہتے تھے، مگر وہ جانتی تھیں… وہ واقعی ایک دوسرے کے پروں کی ہوا تھیں۔
اور آج ایک پر زمین میں دفن ہو رہا تھا۔
ان کی سب سے شوخ، سب سے زندہ دل دوست…
وہ جو ہر موقع پر شعر سنا دیتی تھی۔
آج یوں لگ رہا تھا جیسے دنیا کے ہر شاعر نے اسی کے لیے لکھا ہو۔
احمد فراز کی اداسی،
جون ایلیا کی بکھری ہوئی سچائیاں،
پروین شاکر کی نم آنکھیں—
سب جیسے اس کے وجود کا حصہ تھیں۔
اور آج… وہ سب اشعار مٹی میں دفن ہو رہے تھے۔
جبران کریم خان
اپنی بیوی کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔
وہ مکمل ہیرو نہیں تھا اس کہانی کا…
مگر ہیرو جیسا ضرور تھا۔
اس کی آنکھوں میں خاموش محبت نہیں تھی وہ محبت تھی جو چیخ کر اپنے ہونے کا اعلان کرتی تھی،
فبیحہ نے خالی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
ہلکی سی ہنسی اس کے لبوں پر آئی تھی،
“وہ تو سب چاہتی تھی… بس یہ نہیں چاہتی تھی کہ ہم ادھورے رہ جائیں…”
انزر خان
چیخ رہا تھا۔
“میں بے وفا تھا! سن رہے ہو سب؟ بے وفا!”
لوگ اسے نظرانداز کر رہے تھے،
مگر وہ ہر شخص کو اپنا قصہ سنا رہا تھا،
“وہ مجھے چھوڑ گئی… بے وفا تھی وہ،، نہیں میں بے وفا تھا”
شیرین نور
ذرا فاصلے پر زمین پر گری ہوئی تھی۔
کوئی اس کی طرف دیکھ نہیں رہا تھا۔
وہ کانوں پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی۔
“چپ ہو جاؤ… بس کرو…”
وہ سرگوشی میں بول رہی تھی۔
کیونکہ اسے…
تابوت کے اندر سے ہنسی سنائی دے رہی تھی۔
طنز بھری… کاٹتی ہوئی ہنسی۔
شیرین نے آنکھیں مضبوطی سے بند کر لیں تھی۔
“کیا واقعی وہ خوش قسمت تھی؟”
اس کے ہونٹ کانپے۔
“کیا واقعی یہی قسمت ہوتی ہے؟”
کچھ دیر پہلے اسے اس نے کہا تھا تم خوش قسمت ہو،،
اور تین پریوں کی کہانی…
اب دو سانسوں پر کھڑی تھی۔
ہوا تیز چلی تھی۔
درختوں نے سرگوشی کی تھی۔
“ہم سے بچھڑ کر وہ شاید خوش تو نہیں ہوگا…
مگر ہم سے مل کر وہ کبھی اداس نہیں تھا…”
مٹی کے نیچے… اور یادوں کے اوپر
ہر کوئی اتنی جلدی نہیں سنبھلتا۔
اور کچھ لوگ… کبھی سنبھل ہی نہیں پاتے۔
وہ جو جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا—
وہ جو اپنے قدموں کو قبرستان تک لے جانے کی ہمت نہ کر سکا تھا—
وہ گلیوں میں بھٹک رہا تھا۔
ڈاکٹر انزر انور خان
اس کا نام اب سرگوشیوں میں نہیں،
اعلان کی طرح بولا جا رہا تھا۔
“میں بےوفا ہوں…”
وہ دیوار سے سر ٹکا کر کہتا۔
“سن رہے ہو؟ میں بےوفا ہوں…”
کوئی جواب نہیں دیتا تھا۔
مگر اسے لگتا تھا—
ہر اینٹ، ہر درخت، ہر سایہ اسے سن رہا ہے۔
وہ کتے کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
اس نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔
“وہ بےوفا نہیں تھی… میں تھا… سمجھا تو؟ میں…”
ہنسی اور رونا اس کی آواز میں گھل گئے تھے۔
“میں اس کے جنازے میں بھی نہ جا سکا…
میں اس کے سامنے کھڑا ہونے کے قابل نہیں تھا…”
وہ خود کو دنیا کا سب سے کم ظرف انسان سمجھ رہا تھا۔
اس نے اس گاؤں کے ہر کتے، پیڑ، پودوں سے کہہ دیا تھا انزر بے وفا ہے۔
“ذکرا…” اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر سرگوشی کی تھی،
“اگر اُس دن میں وہ رشتہ تمہارے لیے لے کر آ جاتا…
تو کیا تم واقعی میرا ہاتھ تھام لیتی؟”
ہوا نے جواب نہیں دیا تھا۔
وہ جو محبت میں انا بھی تھی اور وفا بھی
ذکرا نور وہ عجیب لڑکی تھی۔
اپنی عزت پر سمجھوتہ نہیں کرتی تھی۔
مگر محبت چھوڑتی بھی نہیں تھی۔
وہ اسے ہر موقع دینا چاہتی تھی۔
ہر غلطی معاف کرنا چاہتی تھی۔
وہ اس سے سچ میں محبت کرتی تھی۔
اگر وہ اس دن اس کے لیے آ جاتا—
تو شاید وہ اس کی محبت کی مثال بن جاتی۔
مگر اس نے دیر کر دی تھی۔
اور تقدیر دیر کو معاف نہیں کرتی۔
تقدیر کی سزا
اس سزا میں آسانی نہیں ہوتی۔
یہ سزا کاٹی جاتی ہے—
جب تک لکھی ہو۔
لوگ تو محبت کر کے مر جاتے ہے وہ کمبخت بے وفائی کر کے مر رہا تھا۔۔
باب ۴۰
وہ ذہنی طور پر بکھر چکا تھا۔
ہوش میں بھی نہیں… اور بے ہوش بھی نہیں۔
اس کی آنکھوں میں سرخ دھند تھی۔
اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔
وہ نشے میں تھا—
مگر نشہ شراب کا کم،
پچھتاوے کا زیادہ تھا۔
ٹھکراؤ، اب کے پیار کرو، میں نشے میں ہوں
جو چاہو میرے یار کرو، میں نشے میں ہوں
ٹھکراؤ، اب کے پیار کرو، میں نشے میں ہوں
اب بھی دِلا رہا ہوں یقینِ وفا مگر
میرا نہ اعتبار کرو، میں نشے میں ہوں
گرنے دو تم مجھے، میرا ساغر سنبھال لو
اتنا تو میرے یار کرو، میں نشے میں ہوں
مجھ کو قدم قدم پہ بھٹکنے دو واعظو
تم اپنا کاروبار کرو، میں نشے میں ہوں
پھر بےخودی میں حد سے گزرنے لگا ہوں میں
اتنا نہ مجھ سے پیار کرو، میں نشے میں ہوں
وہ ٹھوکر لگ کر گرا تھا۔۔۔
گاؤں کی ہر گلی جان چکی تھی۔
ہر دیوار گواہ تھی۔
ہر درخت نے سنا تھا—
“ڈاکٹر انزر انور خان بےوفا ہے…”
وہ زمین پر بیٹھ گیا تھا۔
مٹی کو ہاتھ میں لے کر۔
“میں نے تمہیں بےوفائی کی موت دی…”
اس کی آواز ٹوٹ گئی تھی۔
“اور تم نے مجھے زندہ رہنے کی سزا…”
اس کی موت نے اس گاؤں کو دھچکا دیا تھا۔۔
گاڑیاں دھول اڑاتی ہوئی رُکیں۔
گاڑیوں کے دروازے بند نہیں ہوئے تھے۔
اندر اترنے والوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں…
اور آنکھوں میں برسوں کی دشمنی۔
آج جنگ کا دن تھا۔
امید پٹھان گاڑی سے اُترا تھا۔
وہ محبت میں ہارا جس کا جنون اس پہ سوار تھا، جبران کریم سے اس کی بہت پرانی دشمنی تھی اور سب وہ ظاہر ہاشم کے زریعے کر رہا تھا۔۔ اس کی محبت کا استعمال کر کے۔۔
اس کی آواز بھاری تھی مگر واضح۔
“میں وار کبھی چھپ کر نہیں کرتا…
اطلاع دے کر آتا ہوں۔
میں نے آنے سے پہلے یہاں میرا بندہ بھیجا تھا،، جس کی زندگی اتنی ہی تھی، تم اس یقیناً مار دیا ہوگا،، اس کا علم ہے مجھے۔۔
ظاہر ہاشم
جس کے ہاتھ میں تھمائی گئی گن کانپ تو نہیں رہی تھی…
مگر دل ضرور کانپ رہا تھا۔
“ہم حویلی کی دیواریں گرا کر ہی واپس آئیں گے…”
امید نے اس سے کہا تھا،
“جنگ کا اعلان جبران کریم نے کیا تھا۔
اور اسے شروع ہم کریں گے۔۔
اور جنگ سے پیچھے ہٹنے والے… مرد نہیں ہوتے، اور جو مرد نہیں وہ بے غیرت کہنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔”
ان کے آنے سے پہلے جبران کریم خان نے خبر لانے والے کو زمین پر گرا دیا تھا۔
خون صحن کے سنگِ مرمر پر پھیل چکا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں آیا تھا۔
اس نے میز پر رکھی گن کو دیکھا تھا۔
ہمیشہ کی طرح لوڈڈ۔
کمرے میں فبیحہ چکر کاٹ رہی تھی۔
اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔
ناخنوں کے کنارے زخمی۔
جبران نے گن اٹھائی تھی…
وہ اس کی طرف بڑھا تھا۔
“میری بات سنو۔ تم اس کمرے سے باہر نہیں جاؤ گی۔”
اس کی آواز میں پہلی بار لرزش تھی۔
“میں ہار کر نہیں آتا۔
جبران کریم خان کے نصیب میں ہمیشہ جیت ہوتی ہے…
اور آج بھی ہوگی۔”
وہ دروازے پر رکا تھا۔
وہ پیچھے مڑا تھا۔
“اور ایک بات یاد رکھنا…
میں واقعی تم سے محبت کرتا ہوں۔
اس محبت میں مجھے کوئی غرض نہیں… کوئی لالچ نہیں…”
فبیحہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔
اس کی سانسیں بے ترتیب تھیں۔
اس نے جنگ کا خود سنا تھا اور خبر لانے والے کو مرتا دیکھا تھا۔۔۔
آمنے سامنے صحن میں تین سمتوں سے بندوقیں تنی تھیں۔
امید پٹھان۔
ظاہر ہاشم۔
اور جبران کریم خان۔
تینوں کے گرد ان کے آدمی تھے۔
خاموشی ایسی کہ گولی چلنے سے پہلے ہی موت کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔
جبران نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا تھا،
“یعنی تم مجھے مارو گے؟”
امید کی آنکھوں میں برسوں کا زہر تھا۔
“ہاں۔ اور تمہاری یہ عمارت بھی گرے گی آج۔
یہ میرا وعدہ ہے۔”
جبران نے اپنی ناک کو انگلی سے چھوا تھا…
وہ مسکرایا تھا۔
“وعدہ خلافی گناہ ہوتا ہے، امید۔
اور تمہارا وعدہ کبھی پورا نہیں ہوگا…”
اگلے ہی لمحے— بارود کی آوازوں نے خاموشی چیر دی۔
گولیاں چلیں۔
چیخیں اٹھیں۔
جسم گرے۔
مگر عجیب بات یہ تھی—
تینوں کی بندوقوں سے ایک بھی گولی نہ نکلی۔
ان کے آدمی…
ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے تھے۔
وفاداری کی موت مر گئے تھے۔
اور جب دھواں چھٹا—
صحن میں صرف تین لوگ کھڑے تھے۔
امید۔
ظاہر۔
جبران۔
تینوں کی بندوقیں اب بھی ایک دوسرے پر تنی تھیں۔
خون کی بو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔
اور عجیب سوال بھی—
کیا یہ جنگ واقعی دشمنی کی تھی؟
یا ہر ایک اپنے اپنے غم کا بدلہ لینے آیا تھا؟
جبران کی گرفت ڈھیلی ہوئی تھی۔
اسے پہلی بار لگا تھا—
یا تو اس کے ہاتھ میں جان نہیں ہے…
یا اس پستول میں۔
امید کی آنکھوں میں ادفر کے جانے کا منظر تھا۔
ظاہر کے دل میں برسوں کی ادھوری چیخ۔
تینوں ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔
گولی ابھی تک کسی نے نہیں چلائی تھی۔
اور شاید— اصل جنگ ابھی شروع ہوئی تھی۔
گولی چلنے ہی والی تھی—
مگر اس سے پہلے ایک اور آواز گونجی تھی۔
امید پٹھان کے سر کے پیچھے سے گولی لگی تھی۔
خون کا ایک غبار اس کے منہ سے نکلا تھا—
اور وہ منہ کے بل زمین پر گر گیا تھا۔
گولی ابو بکر نے چلائی تھی۔
وہ نہ چیخا، نہ للکارا۔
بس آیا… اور پیچھے گولی ماری تھی،، اس شخص پہ جس نے اس کی محبت کو ادھورا رہنے کا کہا تھا۔
صحن میں پہلے ہی بارود کی بو تھی—
مگر اب خون کی ندیاں بہ گئی تھی۔
لاشیں بکھری تھیں۔
ایسا لگتا تھا جیسے محبت نے خود اپنے خلاف جنگ چھیڑ دی ہو۔
یہ سب محبت کا خون تھا۔
یہ جنگ دشمنی کی نہیں محبت کی تھی۔
اب وہاں تین مرد بچے تھے۔
ابو بکر— جو پہلے ہی محبت میں ہار چکا تھا۔
ظاہر ہاشم بخت— جس کے پاس کبھی سکون نہیں تھا، اور اب بے سکونی بھی مکمل ہو چکی تھی۔
اور
جبران کریم خان— جس کے پاس سب کچھ تھا…
اس محبت بھی مگر پھر بھی پاکر خالی تھا وہ۔۔
اس کے پاس کچھ بھی تو نہیں تھا۔ اس کے پاس بیوی تھی محبت نہیں تھی۔۔۔
ابو بکر دونوں کے بیچ کھڑا تھا۔
“تمہیں لگتا ہے تم جیت گئے ہو؟”
اس نے جبران کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔
“شادی کرنا جیتنا نہیں ہوتا۔
تم نے فبیحہ شیرازی سے شادی کی ہے—
مگر تم اس کی محبت نہیں بن سکے۔”
جبران کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا تھا۔
“چپ رہو!”
“ایسی کہانیاں نئی نہیں ہوتیں، جبران…
ہزاروں بار لکھی جا چکی ہیں۔
مگر کوئی جبران… کسی فبیحہ کی محبت نہیں بن سکا۔”
یہ جملہ تیر کی طرح لگا تھا اسے۔
وہ ایک گولی
جبران نے پستول اٹھائی۔
ٹرگر دبایا۔ پہلی گولی—
اور شاید آخری۔
گولی سیدھا
ظاہر ہاشم بخت کے سینے میں لگی تھی۔
وہ ویسے ہی گرا جیسے وہ پہلے ہی اندر سے گر چکا تھا۔
جبران نے دوبارہ فائر کرنا چاہا تھا—
پستول خالی تھی۔
وہ چونکا تھ۔
“یہ…؟”
وہ ہمیشہ گن خود لوڈ کرتا تھا۔
ہمیشہ بھری ہوئی رکھتا تھا۔
آج… صرف ایک گولی کیوں؟
مگر وہ ایک گولی— سو گولیوں کے برابر تھی۔ اس ایک گولی نے ہزار گولیوں برابر کام کیا تھا۔
فبیحہ شیرازی
کو اچانک سینے میں ایک چبھن محسوس ہوئی تھی۔
جیسے کوئی ان دیکھا زخم لگ گیا ہو۔
وہ دروازے کی طرف دوڑی تھی۔
وہ صحن کی طرف بھاگ رہی تھی—
اور چند دن پہلے کی بات اس کے ذہن میں گونج اٹھی۔
“بابی…
جب بائی کو شدید غصہ آتا ہے نا—
تو پہلی گولی ہمیشہ آسمان کی طرف چلتی ہے…”
فبیحہ کو یقین تھا—
آج بھی وہ پہلی گولی آسمان کی طرف ہی چلائے گا۔
اسی لیے تو… اسی لیے تو اُس نے
اس کی پستول سے ساری گولیاں نکال لی تھیں۔
سوائے ایک کے۔
یعنی اس نے اپنے شوہر کو بنہ ہتھیار کے جنگ میں بھیجا تھا۔۔
وہ ایک گولی، جو وہ سمجھ رہی تھی
آسمان کے لیے ہوگی۔
کاش…
وہ یہ آخری گولی بھی نکال دیتی۔
وہ باہر آ کر رُک گئی تھی۔
قدم اس سے آگے نہ بڑھے تھے۔
دور—
زمین پر گرا ہوا جسم۔ ظاہر ہاشم بخت۔۔
اس کے سینے میں ایک گولی تھی۔
وہی گولی—
جو اس نے اپنے ہاتھوں سے اس پستول میں چھوڑی تھی۔
اس کی محبت کی گولی۔
اس کا سانس ٹوٹ رہا تھا۔
فبیحہ کے ہونٹ کانپے تھے۔
ظاہر ہاشم نے بمشکل آنکھیں کھولی تھی۔
ہلکی سی مسکراہٹ۔
میں جیت گیا…
فبیحہ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی۔
خون اس کے ہاتھوں پر پھیل رہا تھا۔
محبت نے آخرکار اپنی آخری قیمت وصول کر لی تھی۔
اس نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھا تھا،، وہاں جہاں وہ بستی تھی،، جہاں اس کی بے انتہا محبت موجود تھی، وہ دل اس گولی سے بند ہو گیا تھا مگر فبیحہ شیرازی وہاں ابھی بھی دھڑکتی تھی۔۔
وہ دور کھڑا اسے دیکھ رہا تھا،، کاش یہ گولی جبران کریم کو لگی ہوتی اور فبیحہ ایسے ہی آنکھوں میں محبت لے کر اس کے پاس بیٹھی ہوتی۔۔
صحن میں بارود کی بو اب بھی موجود تھی۔
لاشیں خاموش تھیں۔ چیخیں تھم چکی تھیں۔
صرف ایک آواز باقی تھی—ٹوٹتی ہوئی سانسوں کی۔
آسمان اب بھی ویسا ہی تھا—
جسے وہ گولی ملنی تھی۔ مگر وہ گولی
زمین نے لے لی تھی۔
ظاہر ہاشم بخت اور امید پٹھان
پہلے ہی اس کہانی سے بے دخل ہو چکے تھے۔
“اس نے وہ گولی خود چھوڑی تھی…
وہ گولی اس کے نصیب کو لگ گئی تھی…”
وہ اس کے پاس بیٹھی تھی۔
اس کے دونوں ہاتھ سرخ تھے۔
سفید جوڑا… اب مکمل سرخ ہو چکا تھا۔
وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ اس خون کو نہیں لکیروں کو دیکھ رہی تھی۔۔
چھوڑ دے اعتبار قسمت کی لکیروں پہ غالب
جو دلوں میں بس جائے وہ لکیروں میں نہیں ملا کرتے۔۔
اسکی آنکھیں خشک اور سرخ تھی۔
بے آواز۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی—
یہ سب کیسے ہو گیا تھا؟
جبران کریم خان اس کے پاس آیا تھا۔
اس نے اس کا بازو پکڑا تھا۔
وہ تقریباً گھسیٹ کر اسے اندر لے جا رہا تھا۔
وہ خاموشی سے چلتی رہی تھی۔
مگر اس کی نظریں پیچھے تھیں—
زمین پر پڑی اُس لاش پر۔
وہ ظاہر ہاشم بخت کی لاش نہیں تھی۔
وہ اس کی محبت کی لاش تھی۔
دیر… وقت کی نہیں، تقدیر کی
وہ اس دیکھ کر دور سے اعتراف کر چکی تھی۔۔
“ہاں…
مجھے اس سے محبت ہے…”
مگر اس وقت نہ جگہ درست تھی،
نہ وقت۔
اور شاید فائدہ بھی کبھی نہیں تھا۔
فائدہ تو پہلے بھی نہیں ہوتا۔۔آج دیر ہو چکی تھی۔
وقت کی نہیں— تقدیر کی دیر۔
باب ۴۱
شیریں نور کے ہاتھ میں موبائل تھا اسکرین پر قبر میں دفن ہونے والی لڑکی کا ریزلٹ چمک رہا تھا۔ وہ اسلکٹ ہوئی بھی تو کب جب اس سب سے اسے بے خبر رہنا تھا۔۔
وہ جو خود کو بےوفا کہتا رہا۔ گلیوں میں بھٹک رہا تھا۔ نشے میں ڈوبا ہوا تھا۔
اس کی آنکھوں میں خالی پن تھا۔
ہر گلی سے گزرتا، ہر دیوار کو دیکھتا،
ہر کتے سے، ہر راہگیر سے بس ایک ہی بات کہتا—
“میں بےوفا ہوں…”
اس کے لفظ اب اتنے ہی رہ گئے تھے۔
وہ وہی شخص تھا
جو کچھ عرصہ پہلے دلہا بنا پھولوں میں سجا کھڑا تھا۔
آج… وہ کسی مجنون کی طرح لگتا تھا۔
کیا وہ واقعی بےوفا تھا؟
وہ شاید محبت میں ختم ہو جانے والا شخص تھا۔
وہ چلتا رہا— ہمیشہ کی طرح بے سمت۔
مگر اس رات— گاڑی تیز آئی تھی۔
ہیڈلائٹس کی چمک۔
ایک لمحہ۔
اور پھر خاموشی۔
گاڑی ٹکر مار کر گزر گئی تھی۔ اس ٹکر نے اس کا دنیا کا داخلہ ختم کر دیا تھا۔۔
وہ سڑک پر گرا تھا۔
نشے میں ڈوبا ہوا جسم— اب مکمل ساکت تھا۔
اس بار وہ واقعی چلا گیا تھا۔
ہمیشہ کے لیے۔
حویلی میں ایک عورت زندہ تھی—جس کی محبت مر چکی تھی۔
حویلی کے صحن میں اس کی لاش پڑی تھی، جس کا دل اب بھی مر کر بھی اس کے لیے دھڑک رہا تھا۔۔
قبرستان میں ایک قبر نئی تھی— جس میں ایک نام دفن تھا۔
سڑک کے کنارے ایک کہانی ختم ہو چکی تھی۔
وہ جو پہلے خود سے بے وفائی ہونے پہ سمبھلی نہیں تھی اور اب جب واقع بے وفائی کے ساتھ وہ بیوہ بھی ہوئی تھی،، خاص کر اسے یہ غم تو نہیں تھی۔۔
وہ جو اس سے محبت کرتا تھا۔۔ جسے پیچھے ہٹنے کا کہا گیا تھا،، اور وہ ہٹا بھی تھا،، یہی اس کی عمر بھر کی بے قراری تھی۔۔
محبت نے سب کو اپنے اپنے انداز میں سزا دی تھی۔
کہتے ہیں—
کچھ لوگ بےوفا نہیں ہوتے،
بس وقت ان کے ساتھ وفا نہیں کرتا۔
اور اس کہانی میں
ہر شخص محبت میں ہارا تھا۔
کوئی جیتا نہیں تھا۔
کہانیاں کچھ لوگوں کی ختم ہوتی ہیں…
اور کچھ لوگوں کی شروع۔
ظاہر ہاشم بخت اور فبیحہ شیرازی کی کہانی ختم ہو چکی تھی۔
انزر انور خان اور ذکرا نور کا باب بند ہو چکا تھا۔
ادفر اور ابو بکر بھی اپنی اپنی تقدیروں میں گم ہو چکے تھے۔
اور ان کے ساتھ جھڑے دوسرے محبت کرنے والے بھی اجڑ گئے تھے۔۔
یہ انجام صرف برا نہیں تھا— یہ قیامت خیز تھا۔
یاد رہ جانے والا۔ دلخراش۔
حویلی کے کونے میں، جائے نماز بچھائے
فبیحہ بیٹھی تھی۔
آنکھیں بند۔ بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے۔
ہلکی سی جھومتی ہوئی—
“مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام…”
اس کی آواز میں ٹوٹا ہوا دل بھی تھا
اور سکون بھی۔
جبران کریم خان دروازے پر آ کر رُک گیا تھا۔
آج اس نے جوتے دروازے پر ہی چھوڑ دیے تھے۔
پتہ نہیں کیوں؟
وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا رہا۔
بازو باندھے۔ خاموش۔
ان دنوں فبیحہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔
نہ شکوہ، نہ شکایت۔
یہ خاموشی جبران کو کاٹتی تھی۔
مگر آج— اس آواز نے اسے پاگل ہونے کا کہا تھا،، اس نے فبیحہ کو پہلی دفہ نعت پڑھتے دیکھا تھا۔
یعنی وہ نعت خواں بھی تھی۔۔
وہ اس آواز کو سننے کے ساتھ دیکھ بھی رہا تھا۔۔
وہ واپس پلٹا تھا۔
وہ تیز قدموں سے باہر نکلا تھا۔
وہ سیدھا شہر کے سب سے بڑے تھانے پہنچ گیا تھا۔
“میں اپنے پینتالیس قتل قبول کرتا ہوں۔
اور ان میں سے ایک قتل سب سے بھاری تھا۔۔
ظاہر ہاشم بخت کا قتل۔”
تھانے میں سناٹا ہوا تھا۔
“جبران صاحب، آپ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، کوئی گواہ نہیں ہے…
آپ کیوں—؟”
جبران کی آنکھیں پرسکون تھیں۔
“جس قید میں میں ہوں…
اس سے بڑی سزا دنیا کی کوئی عدالت نہیں دے سکتی ہے مجھے۔
میں اپنے سارے جرم قبول کرتا ہوں۔
سب سے بھاری قتل—
میری محبت کی محبت کا قتل تھا…”
وہ خود کو قانون کے حوالے کر چکا تھا۔
اسے اس سے ہمیشہ کی علیحدگی مل گئی تھی،، مگر اسے زندگی ہمیشہ اس کے نام کے ساتھ ہی گزارنی تھی۔
یہی آخری فیصلہ تھا،، تقدیر کا فیصلہ۔۔
اس کے محبت کے قاتل کے نام کے ساتھ۔۔
اس سب کا مطلب تھا اس کے نصیب میں عمر بھر کا غم تھا،، کوئی خوشی نہیں تھی۔۔
اس کے نصیب میں نہ اس کی محبت لکھی گئی تھی
نہ اس کی رہائی۔
صرف جدائی۔
وہ عمر بھر اس حویلی میں رہے گی—اس شخص کے بغیر جو اس کے نام سے جڑا تھا۔
ادفر اب ایک بیٹی کی ماں تھی۔۔
وہ الگ رہتی تھی۔
وہ خوش تھی—
وہ ہمیشہ اس خوشی کو ڈھونڈتی تھی، غموں کے بعد آنے والی خوشی،، اب اس کی زندگی میں غم تو نہیں تھے، اس لیے اسے اب لگتا تھا شاید یہی وہ خوشی ہے جو غموں کے بعد آتی ہے،، جس کا وعدہ کیا گیا ہے ہم سے۔۔
یا شاید اسے خوش رہنے کی وجہ ملی تھی۔
امید پٹھان کی گاؤں کی حویلی اسی کے نام ہو چکی تھی۔
ان دونوں پریوں کے نصیب حویلیوں میں لکھے تھے،
مگر خوشیاں نہیں۔
آخری باب
وہ سلسلے، وہ شوق، وہ نسبت نہیں رہی
وہ دل نہیں رہا، وہ طبیعت نہیں رہی
میں ڈھونڈ لاؤں بھی خود کو
تو مجھے معلوم ہے وہ میں نہیں رہا، وہ زد نہیں رہی۔۔۔
فبیحہ اب مہران کریم کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔
وہ اسے قرآن پڑھاتی تھی۔
کہانیاں سناتی۔
اور وہ اب اس خالی حویلی میں کبھی کبھی نعت بھی پڑھتی تھی—
مہران اس کی بہت عزت کرتا تھا۔
وہ اسے اپنی اولاد کی طرح سنبھالتی تھی۔۔
ان سب کی زندگیاں تنہائیوں میں گری ہوئی تھی۔
ان سب کی دنیا مکمل نہیں ہو سکی تھی۔
شاید ہر کہانی مکمل نہیں ہوتی۔
کچھ کردار ٹوٹے ہوئے ہی چھوڑنے پڑتے ہیں۔
میں ان کرداروں کو ادھوار، ٹوٹا ہوا چھوڑ کر
یہ قلم یہیں روکتی ہوں۔
کیونکہ کچھ انجام لکھے نہیں جاتے
بس محسوس کیے جاتے ہیں۔
“محاذِ عشق سے کب کون بچ کے نکلا ہے
تو بچ گیا ہے تو خیرات کیوں نہیں کرتا؟”
۔۔۔۔۔۔۔ آخِر سَپُد ۔۔۔۔۔۔۔۔
