پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١٩
ازقلم الم
“کہاں ہے تمہاری وہ۔۔۔۔۔ (گالی)۔۔۔۔۔ ڈاکٹر؟ بلاؤ اس ۔۔۔۔ (گالی)۔۔۔۔۔ کو! کیا مشورے دے رہی ہے میری بیوی کو وہ ہاں؟؟ بلا اسے!”
منہ سے کف اڑرتے، وہ مسلسل مغلظات بک رہا تھا اور کلینک کا عملہ اسے سنبھالنے میں ناکام ہو رہا تھا، تبھی وہ سیاہ عبایا میں ملبوس اپنے روم سے باہر نکلی۔
“جی مسٹر! میں یہاں کی اونر ہوں۔ کیا پرابلم ہے آپ کی؟” اس کی سنہری آنکھیں جو نقاب سے اپنی جھلک دکھلا رہی تھیں، ان میں بے انتہا سنجیدگی جھلک رہی تھی۔
“کیا پٹیاں پڑھائی ہیں تم نے میری بیوی کو، ہاں؟” اس کا رخ اب مشکوٰۃ کی جانب تھا۔
“محترم! یہ ایک کلینک ہے، یہاں مریض آتے ہیں۔ اگر تماشہ لگانے کا شوق ہے تو براہِ کرم کسی دوسری جگہ کا رخ کریں۔” مشکوٰۃ کے الفاظ بھلے سادہ تھے مگر لہجہ پُرتپش تھا۔
“تمہارا کلینک تو دیکھنا کیسے میں یوں بند کرواتا ہوں، یوں!” اس نے سامنے کھڑی مشکوٰۃ کی نظروں کے سامنے چٹکی بجائی۔ وہ ایک امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولاد تھا۔
“شوق سے! اب عزت سے یہاں سے دفع ہو جائیں۔” مشکوٰۃ کے سکون میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا۔ اس نے دروازے کی طرف اشارہ کر کے اسے نکلنے کا عندیہ دیا، جبکہ وہ مشکوٰۃ کی اس جرات پر تلملا کر رہ گیا تھا۔
“ارسہ! انہیں باہر کا راستہ دکھاؤ، شاید ان کا دو کوڑی کا غرور انہیں کہیں اور دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔” وہ فقط اپنے الفاظ سے مقابل کو سلگا گئی تھی۔
“چلیں سر!” ارسہ، مشکوٰۃ کی سیکرٹری، فوراً اس کی طرف بڑھی۔
“اپنی حد میں رہو۔۔۔۔۔ (گالی)۔۔۔۔ عورت!” اس نے ارسہ کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر سائیڈ پہ دھکا دیا۔
ابھی وہ تھوڑا سا اسے دھکا دے کر مڑا ہی تھا کہ اسے اپنا گال جھنجھناتا ہوا محسوس ہوا۔ کانوں میں سیٹی سی بجی، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ چند لمحوں بعد جب حواس بحال ہوئے تو سمجھ آیا کہ سامنے کھڑی صنفِ نازک کا آہنی ہاتھ اس کے گال پر اپنی چھاپ چھوڑ چکا ہے۔
“گارڈز!” مشکوٰۃ حلق کے بل چیخی تو دو گارڈز بھاگتے ہوئے اندر آئے۔
“یس میم؟”
“آپ لوگوں کے ہوتے ہوئے یہ آدمی یہاں کیسے موجود ہے؟ اس کام کی سیلری دی جاتی ہے آپ لوگوں کو؟” اس کی آنکھوں سے تپش نکل رہی تھی۔
“سوری میم!” وہ دونوں گردن جھکا گئے۔
“اچھی طرح اس آدمی کی اکڑ نکال کر باہر پھینکیں اسے یہاں سے!” اس نے ایک سرد سی نظر اس شخص پر ڈالی اور اپنے آفس کی طرف بڑھ گئی۔
ارسہ اس کے پیچھے بھاگی تھی، جبکہ گارڈز اس آدمی کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ وہ ابھی بھی مسلسل ان کا کلینک بند کروانے کی دھمکی دے رہا تھا۔
مشکوٰۃ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنا نقاب اتارا اور گہرا سانس بھر کر پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔ ارسہ مسلسل ہونکوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے تاثرات دیکھ کر مشکوٰۃ مسکرا دی اور ابرو اچکا کر اسے دیکھا تو اس نے فوراً سٹپٹا کر اپنا منہ بند کیا۔
“واؤ میم! مجھے یقین نہیں آ رہا کہ باہر کھڑی لڑکی واقعی آپ تھی۔” ارسہ کی حیرت چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ اس کی حیرت بجا تھی، مشکوٰۃ جیسی ایک خاموش طبع اور معصوم سی لڑکی سے ایسی توقع کرنا واقعی حیرت انگیز تھا۔
“ارسہ! آپ کو پتہ ہے یہ نرمی اور معصومیت میری شخصیت کا حصہ ہے، یہ میں چاہ کر بھی خود سے جدا نہیں کر سکتی، مگر یہ اللہ کی دی ہوئی ایک نعمت ہے میرے لیے۔ نرم دل ہونا واقعی ایک نعمت ہے، پر میں کسی کو یہ اجازت نہیں دوں گی کہ وہ میری اس نعمت کو میرے خلاف ہی استعمال کرے۔ ہم ایک Male dominant society( “مردانہ غلبے والے معاشرے”) میں رہنے والی عورتیں ہیں، ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں مرد کی پرستش کی جاتی ہے، تو اس کے برعکس عورت کو ایک ناکارہ وجود سے بھی کمتر حیثیت ملتی ہے۔ ایسے میں ہم عورتوں کو اپنے حق کے لیے لڑنا آنا چاہیے۔ عورت جانتی ہو کہ اپنی طرف اٹھی انگلیوں کو کاٹ کر کیسے پھینکنا ہے۔”
اس کے الفاظ، اس کا اعتماد، ارسہ کو اس سے مرعوب ہونے پر مجبور کر رہا تھا۔
“آئم پراؤڈ آف یو میم!” ارسہ نے فخریہ نظروں سے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا۔
“یو شڈ بی (تمہیں ہونا بھی چاہیے) ایک عورت کو دوسری کامیاب عورت سے جیلس ہونے کی بجائے اس پر فخر کرنا چاہیے، کیونکہ جلنے کے لیے چند بیمار ذہن معاشرے نے پال رکھے ہیں۔”
مشکوٰۃ کے شرارت سے کہنے پر ارسہ بھی ہنس دی۔ پھر باہر سے اطلاع ملنے پر کہ اشعث اسے لینے آ چکا ہے، مشکوٰۃ بیگ اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔ پیچھے سب کچھ وائنڈ اپ کرنا ارسہ کا کام تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب باہر آئی تو اشعث بازو سینے پر باندھے، ٹانگوں کو کراس کیے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ وہ ڈارک بلو ٹراؤزر شرٹ میں جاذبِ نظر لگ رہا تھا۔ وہ اس وقت رف سے حلیے میں تھا، پاؤں میں سادہ سے سلپرز پہن رکھے تھے اور بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ شاید نیند سے اٹھ کر فوراً یہاں پہنچا تھا، مشکوٰۃ نے اس کے حلیے سے اندازہ لگایا۔
“السلام علیکم شاہ جی!” مشکوٰۃ نے قریب رکتے ہوئے سلام میں پہل کی تو اس نے محبت سے جواب دے کر اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
وہ کبھی اسے سلام کرنے میں پہل نہیں کرتا تھا۔ ایک دفعہ مشکوٰۃ کے پوچھنے پر اس نے سادگی سے جواب دیا تھا کہ “میں نے پڑھا تھا کہ سلام میں پہل کرنے والے پر نوے رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور جواب دینے والے پر دس اس لیے میں چاہتا ہوں کہ سلام کرنے میں ہمیشہ آپ پہل کریں۔” اس کے عام سے لہجے نے بھی مشکوٰۃ کے دل پر خاص اثر کیا تھا۔وہ اس کی محبت کی انتہا پر حیران تھی ، وہ کہاں کہاں اسے سبقت دے جاتا تھا۔ وہ کس قدر سادگی سے اپنی محبت کی شدت عیاں کر دیا کرتا تھا۔
اس سے پہلے وہ گاڑی آگے بڑھاتا، اس کی نظر مشکوٰۃ کے چہرے کی طرف اٹھی۔ اشعث پر اس کے چہرے کا چھپا ہوا تاثر عیاں ہو جاتا تھا۔
“پریشان ہیں آپ؟” پھر ڈائریکٹ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ تو مشکوٰۃ بھی رخ اس کی طرف موڑ گئی۔
“کچھ دن پہلے ایک آنٹی اپنی بیٹی کو لے کر کلینک آئی تھیں،وہ بہت کم عمر تھی اور اس کی حالت بہت خراب تھی۔ اس کے بھائی بھابھی نے پیسوں کے لالچ میں کسی امیر زادے سے اس کی شادی کروائی جو اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بہت ٹارچر کرتا تھا اور وہ اب چاہ رہا تھا کہ بزنس ڈیلز حاصل کرنے کے لیے وہ اپنی بیوی کا استعمال کرے، پر اس لڑکی نے اس کی یہ بات برداشت نہیں کی۔ نتیجہ ٹارچر، جس کے نتیجے میں اس کا مس کیرج بھی ہو گیا۔ اس کی حالت بہت کریٹیکل تھی۔ اس کی امی لڑکی کو اپنے ساتھ لے آئیں، بھائی بھابھی نے مخالفت کی تھی مگر وہ مزید اپنی بیٹی پر ہوتا ظلم برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ لڑکی کی حالت دیکھتے ہوئے میں نے انہیں سائیکیٹرسٹ کے پاس جانے کی تجویز دی تھی، پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے کسی عزیز نے انہیں میرے بارے میں بتایا تھا کہ میرے الفاظ میں دوا سے زیادہ بڑھ کر شفا ہے۔”
اس سنجیدہ موضوع پر بات کرتے ہوئے بھی اپنی تعریف کے دوران اس کے گال گلابی ہو گئے تھے۔ اشعث نے بمشکل مسکراہٹ ضبط کی۔
“اب مسلسل کونسلنگ سے ہی وہ ریکور ہو گئی ہے اور کچھ میں نے اپنی ایک سائیکیٹرسٹ فرینڈ کے ساتھ بھی ان کے حوالے سے کنسلٹ کیا تھا۔
ان کی حالت میں آہستہ آہستہ سدھار آ چکا ہے اور اب اس نے خلع کا کیس دائر کیا ہے اور اب اس پر اس کا شوہر بھنایا پھر رہا ہے، جس کی فرسٹریشن نکالنے کے لیے اور تماشہ لگانے کے لیے وہ یہاں پہنچا تھا۔”
مشکوٰۃ نے بلا تردد ساری بات اس کو بتا دی تھی۔ ان کے رشتے کی بنیاد اشعث نے شروع سے ایسی ہی رکھی تھی کہ وہ ہر بات، ہر ڈر، ہر خواہش، ہر غم بلا جھجک اسے بتا دے۔
“آپ بہت بہادر ہیں اور میں آپ کو بہادر ہی دیکھنا چاہتا ہوں فاطمہ!” اشعث نے اس کی ہتھیلی کو چوم کر باری باری آنکھوں سے لگایا۔ اس کے لبوں کے لمس اور بیئرڈ کی چبھن پر مشکوٰۃ کو بے ساختہ گدگدی محسوس ہوئی تھی، جس پر اس نے شرماتے ہوئے کندھا اپنے کان کے ساتھ مس کیا۔ اس کی مشکل سمجھ کر وہ ہنس دیا، پھر گاڑی آگے بڑھا دی کیونکہ ریان کی گاڑی چھٹی کا وقت بھی ہو گیا تھا، اسے بھی پک کرنا تھا۔
اور مشکوٰۃ اب پرسکون تھی، وہ جانتی تھی کہ اشعث اس مسئلے کو بہت اچھے سے ہینڈل کر لے گا۔
✩━━━━━━✩
یوشع ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے، کوٹ کندھوں پر ڈالے، تھکا سا جب اندر داخل ہوا تو اس کے لب بے ساختہ مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔ سامنے اس کا ایک سالہ شہزادہ ‘حومائل یوشع شاہ’ اپنے دادا کے سینے پر پھیل کر سویا ہوا تھا اور ایک ہاتھ سے ان کی سفید داڑھی بھینچ رکھی تھی۔ کبیر کی بھی گردن ایک جانب ڈھلکی ہوئی تھی اور وہ منہ کھولے سو رہے تھے۔
نور یوشع کی آہٹ سن کر کچن سے باہر آئی تو یوشع نے آگے بڑھ کر اسے خود سے لگایا اور ماتھا چوما، جیسا کہ اس کا روز کا معمول تھا۔ پھر صوفے پر جا کر بیٹھ گیا اور وہ اس کے لیے پانی لے آئی جسے یوشع نے تھام کر پیا۔
“آپ فریش ہو جائیں، میں کھانا لگواتی ہوں۔” نور کے کہنے پر یوشع سر ہلا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“بابا! بابا!” نور نے دھیرے سے کبیر کا کندھا تھپتھپایا تو وہ یکدم بیدار ہو کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔
“یوشع آ گئے ہیں، آپ بھی فریش ہو جائیں، کھانا لگا رہی ہوں۔”
اور حومائل کی مٹھی سے کبیر کی داڑھی چھڑوا کر اسے ان کے سینے سے اٹھا کر گود میں تھاما۔ کبیر بھی سر ہلا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ نور نے حومائل کو وہیں پڑی اس کے کوٹ (Cot) میں لٹا دیا، پھر وہ زقیہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ زیادہ تر کمرے میں ہی رہتی تھی، پر نور کھانے کے ٹائم سہارا دے کر انہیں ٹیبل پر لے آتی تھی۔
“دادی! چلیں کھانے کا ٹائم ہو گیا ہے۔” نور نے ان کے جوتے ان کے پاؤں میں پہنائے اور انہیں سہارا دے کر کھڑا کیا تو انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر ڈھیروں دعائیں دیں جس پر وہ مسکرا دی۔
زقیہ بیگم کو خدشہ رہتا تھا کہ نور چونکہ بتول کے ہاتھوں پلی بڑھی ہے تو شاید وہ ان سب سے نفرت کرے گی یا انہیں نہ اپنائے گی، پر نور نے سب کا اس قدر خیال رکھ کر ثابت کیا تھا کہ اس کی تربیت کتنی اعلی طریقے سے کی گئی ہے۔ اس نے ان کے ویران گھر کو آباد کر دیا تھا اور حومائل کی کھلکھلاہٹیں ان کے کانوں کا سکون تھیں۔ وہ اور کبیر ایک دن سے زیادہ اسے جھنگ اپنے مائکے رکنے نہیں دیتے تھے۔
سب سکون سے کھانا کھاتے ہوئے چھوٹی موٹی باتیں کر رہے تھے کہ اچانک کچھ یاد آنے پر نور بولی:
“یوشع! وہ فائل میں نے آپ کے مینیجر کو میل کر دی ہے، آپ ایک مرتبہ پروف ریڈنگ کروا لیجیے گا۔”
یوشع نے اس کی بات سن کر دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
نور ڈگری مکمل کرنے کے بعد کافی عرصہ باقاعدگی کے ساتھ اس کے آفس جاتی رہی تھی، مگر حومائل کی پیدائش کے بعد کچھ ماہ وہ ریسٹ پر رہی اور اب وہ گھر سے ہی آفس کا کام دیکھ لیتی تھی۔ کبیر نے آفس سے بالکل چھٹی لے رکھی تھی، ان کا سارا وقت اب گھر پر حومائل کے سنگ گزرتا تھا۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چلا۔ ملازمہ سب کو باری باری چائے پکڑا رہی تھی، جبکہ نور کچن میں حومائل کا دلیا تیار کر رہی تھی جو نیند سے اٹھ چکا تھا۔ اب اسے بھوک لگی تھی اور وہ اپنی بڑی دادی سے چپک کر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ ماں باپ سے زیادہ اپنے ابو اور انبو(بڑی دادی) کے زیادہ قریب تھا۔ لفظ ‘انبو’ اسے زقیہ بیگم نے ہی سکھایا تھا۔
نور اس کا دلیا لے آئی تو اسے زمین پر بٹھا کر اس نے چمچہ اس کے ہاتھ میں ہی پکڑا دیا۔ وہ خود اپنے ہاتھ سے کھا رہا تھا، کچھ گرا رہا تھا کچھ کھا رہا تھا، پر نور ہمیشہ اسے اس کے ہاتھ سے ہی کھانا کھانے دیتی تھی۔
زقیہ بیگم اور کبیر کے ساتھ وقت گزار کر وہ دونوں حومائل کو اٹھائے کمرے میں چلے گئے۔
یوشع حومائل کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گیا جبکہ نور ڈریس چینج کرنے چلی گئی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بال سلجھا رہی تھی جب حومائل کی معصوم سی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
“ببا! واؤ!” وہ آنکھیں اور منہ کھولے دونوں ہاتھ ڈرامائی انداز میں گالوں پر رکھے ہوئے تھا، ساتھ ساتھ باپ کو بھی اس طرف متوجہ کر رہا تھا۔ اس کے کہنے پر یوشع نے نظریں سامنے کی طرف اٹھائیں تو اس کا حال بھی بیٹے سے جدا نہ تھا۔ سامنے ہی وہ پری پیکر کھلتے گلابی رنگ کے سادہ سے لباس میں ملبوس اپنے بھورے اور سیاہ امتزاج کے بالوں کو سلجھانے میں مصروف تھی، جو اس کی خوبصورت گہری سرمئی آنکھوں کے ساتھ بہترین کنٹراسٹ کرتے تھے۔ یوشع نے بے خودی سے قدم اس کی طرف بڑھائے، پھر ہونٹ اس کے کانوں کے پاس لے جا کر پُرتپش سرگوشی بھرے انداز میں گنگنایا
“تم نے جب زلفِ پریشاں کو سنوارا ہو گا
صدقہ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہو گا”
اس کی بکھرتی سانسیں اپنے کان کی لو پر محسوس کرتے ہوئے نور نے دھیرے سے اس کے کندھے سے سر ٹکایا اور آنکھیں موند کر مسرور اور باحجاب سی مسکرا دی۔
“مما!” حومائل نے نور کا دامن ہلا کر اسے نیچے جھکنے کا اشارہ کیا تھا تو وہ مسکرا کر اس کی طرف جھکی تب اس نے ننھے ننھے لب اس کے ماتھے پر رکھے۔ وہ اکثر اپنے باپ کو اپنی ماں کا ماتھا چومتے دیکھتا تھا تو وہ بھی اکثر یہ عادت دہراتا رہتا تھا۔ اس کی حرکت پر وہ دونوں کھل کر مسکرائے تھے۔
اب وہ نور کے بالوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو چکا تھا جو کمر سے نیچے جھولتے تھے۔ اسے اپنی ماں کے بالوں کے ساتھ ابسیشن تھی، وہ رات کو بھی اسے بال باندھنے نہیں دیتا تھا بلکہ اس کے بال، بازو اور ٹانگوں میں بھینچ کر سوتا تھا۔ اور یہ عادت اتنی پختہ تھی کہ وہ جس کی گود میں بھی سوتا، اس کے سر یا داڑھی کے بال بھینچ لیتا تھا۔
اب حومائل دونوں کے درمیان لیٹا اپنی معصوم اور توتلی زبان میں مسلسل کچھ نہ کچھ بول رہا تھا اور وہ دونوں اس کی ہر بات کا جواب بہت توجہ سے دے رہے تھے۔
نور نے آسودگی سے اپنی کل کائنات کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا جس نے غموں کے بادلوں کے بعد خوشیوں کا روشن سورج طلوع کیا۔ ایک کسک ابھی تک سینے میں تھی، پر وہ بے حس تھی اور بنی رہی۔
✩━━━━━━✩
“تو آپ ہیں مسٹر احد؟” سامنے بیٹھی ایک سٹائلش سی لڑکی نے دلچسپ نظروں سے سامنے بیٹھے بےزار سے مرد کو دیکھا۔
“جی!” اس کے تاثرات سپاٹ تھے۔ اس کے چہرے کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
“گریٹ! ویسے جتنے پاپولر آپ ہیں، مجھے لگا تھا کوئی ادھیڑ عمر انکل ہوں گے، مگر آپ نے تو بہت کم عمر میں بڑی بڑی کامیابیاں اپنے نام کروا لی ہیں۔” شاید وہ اس کی پرسنلٹی سے کچھ زیادہ ہی مرعوب تھی یا اسے بولنے کا زیادہ شوق تھا۔
“میڈم! جہاں تک میرا اندازہ ہے، آپ مجھ سے کیس کے سلسلے میں ملنے آئی ہیں، تو بہتر نہیں کہ اسی موضوع پر بات کی جائے؟” احد کا سنجیدہ انداز اس کے ناز و انداز دیکھ کر مزید سنجیدہ ہوا۔ احد کے پتھریلے تاثرات جانچ کر اس کی شوخی بھی ہوا ہوئی تھی۔
پھر کافی دیر دونوں سنجیدگی سے کیس پر غور و فکر کرتے رہے اور بات ختم کر کے احد نے اپنی چابیاں اور فون اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس لڑکی کی نظر اس کی کی-چین پر پڑی۔ اس کی آنکھوں میں مدھم ہو چکی شوخی دوبارہ ابھری۔
“ویسے آپ کی کی-چین آپ کی شخصیت سے میچ نہیں کھاتی وکیل صاحب!” وہ تھوڑی ہتھلی تلے رکھے دلچسپ انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
اس کے کہنے پر احد کی نظریں بھی چابیوں کی طرف اٹھیں۔ چابیاں ایک سلور جھمکے میں پروئی ہوئی تھیں۔
کہتے ہیں مرد کے سب سے قریب اس کی گاڑی کی چابی ہوتی ہے اور وہ اسی میں اس کی نشانی لیے گھوم رہا تھا۔
جھمکے کو دیکھ کر ایک سیاہ لباس میں سجی ہوئی شبیہ نظروں پر لہرائی، وہ بھیگی پلکیں اور بھوری آنکھیں اس پر نیند بھی حرام کر گئی تھیں۔
“عزیزوں سے اتنی مختصر ملاقات نہیں کرتے وکیل صاحب! بعض ملاقاتیں دوبارہ نصیب نہیں ہوتیں!” اس کی آواز سماعتوں میں گونجی تو اس کی آنکھیں سرخ ہوئیں۔
پھر وہ بنا کچھ بولے وہاں سے نکل آیا۔ اس کے جانے کے بعد وہ لڑکی بھی کندھے اچکا گئی۔ اسے صرف میٹنگ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا مگر وہ اپنی عادت سے مجبور بے جا بولے بنا نہ رہ پائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احد گاڑی میں بیٹھا گہرے گہرے سانس بھر رہا تھا۔ پانچ سال! پانچ سال کا عرصہ کتنا طویل ہوتا ہے کسی کو تڑپانے کیلئے ؟ اس کے سر میں دھماکے ہو رہے تھے۔ اس نے سگریٹ سلگا کر ہونٹوں سے لگائی جو دن رات کا اس کا مشغلہ تھا۔
“احد!!!!”
” بعض ملاقاتیں دوبارہ نصیب نہیں ہوتیں”
اس کا ہنستا ہوا چہرہ، اس کی گھورتی بھوری آنکھیں، وہ رعب جماتا انداز سب کچھ ویسے ہی اس کے ذہن میں تازہ تھا۔
اگر وہ چلی گئی تھی تو اس کے ذہن سے کیوں نہیں نکلتی تھی؟ وہ کیوں اس کی یادوں میں رہ گئی تھی؟ اگر اس کی یادیں صرف اس کے دماغ میں محفوظ رہتیں تو شاید وہ کچھ سکون میں رہتا، مگر اس کی یادیں اس کے دل میں اٹک چکی تھیں،وہ اس کے دل و دماغ کو ڈومینیٹ کرتی تھیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ یہ کتابی باتیں ہیں کہ آپ کا دل یادیں محفوظ رکھتا ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارا دل بھی یادیں محفوظ رکھتا ہے۔ دل میں چالیس ہزار نیورونز کا ایک پیچیدہ جال ہوتا ہے جو اس قابل ہوتا ہے کہ وہ دماغ کی اجازت کے بغیر بھی یادیں اور واقعات محفوظ رکھ سکتا ہے، اسی لیے تو ہمارے دل اور دماغ کے فیصلوں میں تضاد ہوتا ہے۔ اگر وہ اس لڑکی کی یادیں چھیاسی ارب خلیات والے دماغ سے جھٹک بھی دے تو وہ اس دل کے ان چالیس ہزار خلیات پر قابض تھی۔ پھر اس کا دل اس کے اختیار میں تھا ہی کب؟ اس نے کرب سے سوچا۔
اس کی نظریں گاڑی کے سائیڈ مرر میں ابھرتے اپنے عکس پر پڑیں۔
کثرت سے سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ سے ہونٹوں کے کنارے سیاہی مائل ہو رہے تھے۔ بڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھیں، سر کے بال جو کندھوں پر گرتے تھے، کس کر پیچھے پونی میں باندھ رکھے تھے۔ جسم پہلے سے چوڑا اور مضبوط ہو گیا تھا، وہ بالکل پانچ سال پہلے والے زندہ دل اور چاکلٹی بوائے احد صدیقی جیسا نہیں لگ رہا تھا، بلکہ اس کو دیکھ کر کسی وکیل کی بجائے ایک گینگسٹر کا گمان ہوتا تھا۔
اس نے سگریٹ کا گہرا کش بھر کر اسے ونڈو سے باہر پھینکا اور گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی۔ وہ خیالوں میں کھوئے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا کہ سڑک کے کنارے اسے چار لڑکے دو لڑکیوں کو ہراساں کرتے نظر آئے۔ اس نے پرسکون انداز میں گاڑی سائیڈ میں لگائی، مگر کان میں پڑنے والی اس ایک نام کی پکار نے اسے زیادہ دیر پرسکون رہنے نہیں دیا تھا۔ ان میں سے ایک لڑکی دوسری لڑکی کو پکار رہی تھی۔
“عنایہ! عنایہ تم بھاگو یہاں سے جلدی!”
اور اس نام کو سننا تھا کہ اس کے چہرے پر طیش کی خطرناک سرخی ابھری۔ ہاتھوں اور بازوؤں کی رگیں واضح ہوئیں اور اگلے ہی لمحے وہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح گاڑی سے نکل کر ان لڑکوں پر جھپٹ پڑا۔ اس اکیلے نے ان چار لڑکوں کو دھنک کر رکھ دیا تھا۔
“ہمت کیسے ہوئی عنایہ حیدر کو ہاتھ لگانے کی، ہاں؟ ہمت کیسے کی میری عنایہ کا راستہ روکنے کی؟ کتو! اوقات ہے تمہاری اس کے مدِ مقابل آنے کی؟”وہ مسلسل ایک لڑکے کے چہرے پر مکے برساتے ہوئے چیخ رہا تھا دونوں لڑکیاں بھی سہمی سی ایک طرف کھڑی تھیں۔
وہ شاید اس لڑکے کی جان ہی لے لیتا اگر ایک پولیس والا اسے نہ روکتا۔ پولیس ان ادھ موئے وجودوں کو گاڑی میں ڈال کر لے گئی۔
“چھوڑ مجھے!” وہ مسلسل خود کو افیسر کے حصار سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ “چھوڑ مجھے عنایہ سے ملنا ہے!
اے کہا نا چھوڑ!” اس نے پولیس افیسر کے ناک پر مکہ رسید کیا اور ان لڑکیوں کی طرف مڑا۔ “عنایہ!”
مگر لڑکی کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اس کی امید اور خوشی مانند پڑی۔ چہرے پر پہلے حیرت، پھر بے یقینی اور پھر کرب ابھرا۔ وہ عنایہ حیدر نہیں تھی، وہ تو کوئی اور تھی۔ یہ وہ بھوری آنکھیں تو نہ تھیں۔
” اے ڈالو اس وکیل کو گاڑی میں! زیادہ ہاتھ چلتے ہیں سالے کے، سسرال جا کر تواضع کرو اس کی!” پولیس والے اسے گھسیٹ رہے تھے، پر اسے ہوش کہاں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں بعد اشعث غصے سے سرخ مگر سنجیدہ چہرہ لیے احد کے جونیئر وکیل کے ساتھ تھانے میں داخل ہوا۔
“آ گئے جمائی راجہ کے مائکے والے ” تھانے دار نے اشعث کو دیکھ کر طنز کیا۔ “جناب وکیل صاحب کا یہ اس مہینے کا تیسرا چکر ہے یہاں کا۔ انہوں نے کیا سچ میں اسے اپنا سسرال سمجھ رکھا ہے؟” وہ شدید تپا ہوا تھا۔
“سر! تحمل سے میری بات سنیں۔” اشعث نے معاملہ سنبھالنے والے انداز میں کہا، مگر وہ افیسر اس کی بات سننے پر راضی ہی نہ تھا۔
“جناب! یہ اتنی مرتبہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہوں گے جتنی مرتبہ یہاں تھانے میں پیش ہو چکے ہیں۔ اب یا تو کسی اچھے دماغ کے ڈاکٹر سے ان کا علاج کروائیں یا پھر ہم ان کا لائسنس کینسل کروانے کی عرضی ڈال دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک آن ڈیوٹی آفیسر پر ہاتھ اٹھایا ہے۔” وہ مسلسل چبھتی نگاہوں سے احد کو گھور رہا تھا جو ہونٹ سیے بت بنا بیٹھا تھا۔
پھر جیسے تیسے کر کے اشعث نے افیسر کو راضی کیا ہر دوسرے دن بعد اسے یہی تو کرنا پڑتا تھا۔ چند قانونی کارروائیوں کے بعد اب وہ احد کو لے جا سکتے تھے۔
“چابی!” احد کے مطالبے پر افیسر نے خار بھری نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“میری گاڑی کی چابی!” اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیا تو اس آفیسر نے احسان کرنے والے انداز میں چابی میز پر پٹخ دی۔ سلور جھمکے کے لکڑی سے ٹکرانے کی مدھر سی آواز ابھری۔ احد نے کسی قیمتی متاع کی طرح وہ چابی اپنی مٹھی میں دبوچی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
اشعث بھی اس کے پیچھے لپکا۔ احد جو گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے ہی والا تھا، اشعث نے جارحانہ انداز میں اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور اپنی غصے سے سرخ آنکھیں اس کی سنجیدہ سی اذیت میں ڈوبی براؤن آنکھوں میں گاڑ دیں۔
“کب تک یہ جوگ لے کر پھرنے کا ارادہ ہے؟ وہ جا چکی ہے، اور اپنی مرضی سے گئی ہے۔ تم جو اسے تلاش کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہو، بیکار ہے۔ بھول جاؤ اسے اور آگے بڑھو! حالات اور حلیہ دیکھو اپنا، کہاں سے لگتے ہو شہر کے نمبر ون وکیل، ہاں؟ محبت کو اپنے لیے گھن مت بناؤ جو تمہیں اندر سے آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دے، تمہاری حالت دیکھ کر تمہارے اپنوں کو تکلیف ہوتی ہے۔”
وہ سنجیدگی سے اسے سمجھا رہا تھا۔ احد نے اس کے خاموش ہونے پر جواباً اسے ‘ہو گیا تمہارا؟’ والی نظروں سے دیکھا ۔اسے اب ہر دوسرے شخص سے یہ الفاظ سننے کی عادت ہو چکی تھی اور اسے فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔
اس کی ڈھٹائی پر اشعث نے ڈھیر سارا غصہ اپنے اندر دبایا اور بے بسی سے اس کا بازو چھوڑ دیا۔ وہ گاڑی میں بیٹھ کر نکل گیا۔
“کیا اپڈیٹ ہے؟” احد نے فون کان سے لگائے مقابل سے دریافت کیا۔
“سر! کوئی سراغ نہیں ملا اب تو ہم بھی مایوس ہو رہے ہیں۔ پتہ نہیں میم کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔”
توقع کے مطابق بات سن کر احد نے جھنجھلاتے ہوئے فون ڈیش بورڈ پر دے مارا۔ پانچ سالوں سے مسلسل اسے تلاش کرنے میں خوار ہو رہا تھا مگر نتیجہ صرف زیرو۔
وہ جب گھر میں داخل ہوا تو لاؤنج میں بیٹھے مہمانوں کو دیکھ کر اس کے تاثرات تنے۔ وہ بابا کے انہی دوست کی فیملی تھی جس کی بیٹی سے وہ اس کا رشتہ طے کرنا چاہ رہے تھے۔ وہ بنا سلام دعا کیے سیڑھیاں پھلانگنے لگا تو صدیقی صاحب نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
“احد! یہاں آؤ چوہان صاحب کی فیملی سے ملو۔” ان کی آواز نرم تھی مگر اس میں بھی ایک وارننگ تھی، اور سامنے بھی ان کی اولاد دھیٹ ابن ڈھیٹ تھا۔
“ناٹ انٹرسٹڈ!” ٹکا سا جواب دے کر وہ یہ جا وہ جا، اس کے جواب میں سب کے چہرے شرمندگی سے سرخ ہوئے۔ صدیقی صاحب نے کاٹ دار نظروں سے بیوی کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ “اپنے بیٹے کے کام دیکھ رہی ہیں؟” جواب میں مسز صدیقی نے بھی بے بسی سے کندھے اچکا دیے۔ یہ اولاد ان کے بس سے باہر تھی۔
✩━━━━━━✩
منظر تھا شہر مکہ کا۔ وہ شہر جہاں تاجدارِ مدینہؐ نے اپنی آنکھ کھولی، جہاں قرآن کا نزول ہوا، جہاں اسلام کا ظہور ہوا۔ مسجدِ حرام زائرین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، لاکھوں کی تعداد میں زائرین روز وہاں سجدہ کرتے، روز وہاں اشک بہائے جاتے تھے۔ جہاں دلوں کو مراد ملتی تھی، غموں کو دعا میں دوا ملتی تھی۔
ایسی بھیڑ کا حصہ وہ بھی تھی جس نے دکھوں بھرا سفر تنہا کاٹا تھا، جو مضبوط تھی مگر بکھر رہی تھی۔ اسی بھیڑ کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ سب اپنی التجائیں لے کر ربِ کریم کے گھر حاضر ہوئے تھے۔
روز یہاں سینکڑوں فریادیں سنی جاتی تھیں، ایک فریاد عنایہ حیدر کی سہی، اس نے دل میں سوچا۔
سامنے ہی بابِ فہد تھا، حرم کا وہ دروازہ جو کعبہ کے سب سے قریب ہے، جس سے داخل ہوتے ہی آپ کو سامنے ہی وہ رعب و رحمت میں لپٹا کعبہ نظر آ جاتا ہے۔ اس نے کپکپاتے قدموں سے قدم اندر رکھا اور نظر کا سامنے اٹھنا تھا کہ وہ مجسم ہوئی۔ اسے لگ رہا تھا قدم زمین میں جکڑے جا چکے ہوں، اسے اتنی ہوش بھی نہ رہی تھی کہ پلکیں جھپک لیتی۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل چہرے کو بھگو رہے تھے۔ منظر دھندلا ہوا تو اس نے ہاتھوں سے آنسو صاف کیے۔ اس نے سنا تھا کہ کعبہ پر پہلی نظر بڑی برکتوں والی ہوتی ہے، جو دعا مانگو وہ قبول ہوتی ہے، مگر اسے دعا مانگنے کی ہوش کہاں تھی بھلا؟
سامنے درِ محبوب ہو تو کیا حواس قابو میں رہتے ہیں؟ اسے تو اپنا آپ بھول چکا تھا، یاد تھا تو بس وہ جو شاہ رگ سے زیادہ قریب تھا۔ اس کے کپکپاتے لبوں سے الفاظ ادا ہوئے “الحمدللہ!”
وہ خوش قسمت تھی کہ کعبہ دیکھ رہی تھی، وہ خوش قسمت تھی کہ وہ اس جگہ کھڑی تھی جہاں سب کو امان ہے، جہاں نہ کوئی گنہگار ہوتا ہے نہ نیک، نہ امیر ہوتا ہے نہ غریب، سب عبد ہوتے ہیں اللہ کے۔ وہ اللہ جس کی بارگاہ میں سب برابر ہوتے ہیں۔ پھر وہ لڑکھڑاتے قدموں سے سیڑھیاں اتری اور طواف کرنے والوں میں شامل ہو گئی۔
وہ کعبہ سے دور تھی مگر پاس معلوم ہو رہی تھی۔ یکدم بادل چھائے اور بارش کے قطروں نے زمین کو چوما۔ ایک قطرہ اس کے گال پر گرا۔ اس نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا۔ اس شہر کی ہوا، گرد، پتھر، موسم، بارش، سب کچھ رحمت معلوم ہوتا تھا۔ بارش نے شدت اختیار کی، ہر چکر کے ساتھ فاصلہ سمٹ رہا تھا۔ وہ حطیم کے پاس کھڑی تھی، میزابِ رحمت (رحمت کا پرنالہ) سے گرتا ہوا پانی حطیم پر گر رہا تھا۔ اس نے وہ پانی چلو بھر کر پیا، وہ پانی اسے شہد سے بھی زیادہ میٹھا لگا جو کعبہ کی چھت سے ہو کر اس تک آ رہا تھا۔
جب ساتواں چکر مکمل ہوا تو وہ بالکل کعبہ کے قریب تھی۔ ہاتھ لگاتی تو چھو لیتی۔ کعبہ کی خوشبو اس کی روح پر اثر کر رہی تھی۔ ابھی تو رب کے در پر پہنچی تھی کہ یہ حالت تھی، جب روز محشر رب خود روبرو آئے گا تو کیا عالم ہو گا؟
اسے سمجھ آئی تھی کہ طور پر کیوں دل تجلی نہ سہ سکے۔
وہ ذات عظیم تھی جس کی رحمت میں بھی ایک رعب تھا جو دلوں کو جکڑ لیتا تھا، جو آپ کو اس کا کر دیتا تھا۔ آپ کو اس کا قہر نہیں اس کا رحم اس کے قریب کرتا تھا۔ آپ کو اس کا کرم مجبور کر دیتا تھا کہ آپ اس کے آگے سر جھکا دیں، اور سر صرف اسی بارگاہ میں جھکے اچھے لگتے ہیں۔
پھر اس نے غلافِ کعبہ تھاما، اسے لگا دل یہ تاثیر نہیں سہہ پائے گا۔ پھر اس نے ماتھا کعبہ پر ٹکا دیا اور پھر وہ کعبہ سے لپٹ گئی۔ برسوں کے تڑپتے دل پر رحمت کی پھوار پڑی تھی۔ اسے لگا وہ ایک ایسے مضبوط حصار میں آ گئی ہے جہاں نہ دکھ اسے کچھ کہیں گے نہ کوئی تکلیف اس تک آئے گی۔
“اللہ! اے میرے اللہ! میرا کوئی نہیں ہے اللہ تیرے سوا! اللہ جی مجھے لفظوں میں اپنے احساسات بیان کرنا نہیں آتے اور لوگوں کو دل پڑھنے نہیں آتے، مگر آپ تو میرے دل میں رہتے ہیں، آپ تو میرے دل کے خالق ہیں۔ کیا آپ کو بھی لفظوں میں بتانے کی ضرورت ہے کہ میرا دل غم سے بوجھل ہے؟ میں بھٹک گئی ہوں اللہ! مجھے راستہ دکھا دیں۔ میں بے آسرا ہوں، میرا آسرا بن جائیں۔ میں گنہگار ہوں، میرے لیے رحمٰن و غفار بن جائیں۔ میرا دل کرچی کرچی ہو گیا ہے، میرے لیے جبار بن جائیں۔ میرے لیے میرا سکون بن جائیں اللہ!”
برسوں کی تکلیف کو ایک راستہ ملا تھا۔ وہ دونوں مٹھیوں میں کعبہ کا غلاف تھامے کھڑی تھی، اس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا چھوڑنے کا۔ اسے مسلسل دھکے مل رہے تھے پر وہ جس کے حصار میں کھڑی تھی وہ اسے تھامے ہوئے تھا۔
وہ اکثر غم کی انتہا پر سوچتی تھی کہ اللہ کو اتنے پردوں میں چھپنے کی کیا ضرورت تھی، اگر اس کے بندے نے اس کے حصار میں آ کر غم بتانے ہوں اسے گلے لگانا ہو تو کیسے لگائے؟ اور اسے آج پتا چلا تھا کہ اللہ کے حصار میں کیسے آیا جاتا ہے۔
اس نے طواف مکمل کیا، پھر وہ اس حصے کی طرف بڑھی جہاں اللہ نے ایک عورت، ایک ماں کی مشقت اور تڑپ کو ازل تک ایک یادگار بنا دیا۔ ایک ماں کا بے قراری میں کیا گیا عمل حج و عمرہ کا رکن بن گیا۔ بے شک اسلام سے زیادہ عورت کو کسی نے عزت نہیں دی۔
وہ حرم کے اس حصے میں موجود تھی جسے “مسعیٰ” کہا جاتا ہے، جہاں دو پہاڑیاں صفا و مروہ موجود ہیں۔ زائرین کی آسانی کے لیے پہاڑیوں کو کاٹ کر چار منزلوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ ہر منزل میں پہاڑی کا ایک چھوٹا سا حصہ موجود ہے۔ راہداری میں سبز لائٹیں لگا کر نشاندہی کی گئی ہے کہ اس مخصوص حصے میں مردوں نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے دوڑنا ہے( جبکہ عورتوں کے لیے عام رفتار میں چلنے کا حکم ہے) اور جہاں سبز لائٹ کا اختتام ہو جائے وہاں اپنی رفتار معتدل کر لینی ہے۔
صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگانے کے عمل کو “سعی” کہتے ہیں۔ برسوں پہلے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی رضا کی خاطر اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور اپنے نو مولود بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو عرب کی ایک ویران وادی جسے قرآن نے “بکہ” کہا ہے وہاں چھوڑ گئے، تو حضرت ہاجرہ نے بھی اللہ کی رضا میں اپنی رضا جانتے ہوئے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ جب چھوٹے سے حضرت اسماعیل پیاس کی شدت سے بلک اٹھے تو حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے صفا اور مروہ کے درمیان پانی ڈھونڈنے کی خاطر چکر لگائے تھے۔ کسی مقام پر آ کر وہ دوڑنے لگ جاتیں تاکہ حضرت اسماعیل کو دیکھ سکیں۔ جب وہ ساتواں چکر مکمل کر کے حضرت اسماعیل کے پاس آئیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے اللہ کے حکم سے پر مارنے کی وجہ سے، جہاں حضرت اسماعیل ایڑیاں رگڑ کر رو رہے تھے وہاں سے ایک پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا جسے حضرت ہاجرہ نے پانی کے تیز بہاؤ کو روکنے کے لیے اس کے گرد مٹی سے منڈیر بنائی اور کہا “زم زم” یعنی رک جا، اور پانی کا تیز بہاؤ رک گیا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
“اللہ اسماعیل کی ماں پر رحم کرے! اگر وہ زم زم کو یوں ہی چھوڑ دیتیں (یا فرمایا اگر وہ اسے چلو میں نہ بھرتیں) تو زم زم زمین پر بہتا ایک چشمہ ہوتا۔” (صحیح بخاری 3364)
زم زم کی برکت سے وہاں قبائل آ کر آباد ہونا شروع ہوئے اور ایسے شہر مکہ آباد ہوا۔
اور آج ہر عمرہ و حج کرنے والا ان کی سنت ادا کرتا ہے۔ یہ علامت ہے کہ آزمائش کے بعد زم زم عطا کیا جاتا ہے۔
عنایہ نے اپنی زندگی کا پہلا عمرہ ادا کیا تھا اور اب صحنِ کعبہ میں بیٹھ کر بس کعبہ کو تکے جا رہی تھی۔ آنکھیں تھیں کہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں، پیاس تھی کہ بجھ نہیں رہی تھی۔
میں نے اس کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا
پھر بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا
✩━━━━━━✩
آج ریان کی نویں سالگرہ تھی تو شاہ ولا سے سب اسے مبارکباد دینے آئے ہوئے تھے۔ ریان پہلے سے سمجھدار ہو چکا تھا، وہ اب بھی آئرہ کو یاد کرتا تھا مگر واویلا نہیں کرتا تھا۔
اس وقت بھی وہ چھوٹی سی آئرہ کو گود میں بٹھائے اس کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ وہ کبھی اس کے گال چومتا تو کبھی اس کے بال سنوارتا جو بار بار کھیلتے ہوئے اسے پریشان کر رہے تھے۔ حومائل بھی آئرہ کے کھلونوں کے ساتھ لگا ہوا تھا، مگر وہ ابھی اتنا چھوٹا تھا کہ اسے ٹھیک سے کھیلنا نہیں آتا تھا، بس ہر چیز منہ میں ڈال لیتا تھا۔
کوئی بہت بڑی پارٹی نہیں رکھی گئی تھی بس ایک سادہ سا فیملی ڈنر تھا۔
“احد! تم آج انوائٹڈ تھے۔” ضرار نے غصے سے کہا، پر فون کے اس پار اس ڈھیٹ پر خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔
“تو؟ میری مرضی، میں نہیں آ رہا۔” کیا شانِ بے نیازی تھی، وہ ڈھیٹ پلس منہ پھٹ بھی تھا۔ ضرار اس کے ایٹیٹیوڈ پر سلگ کر رہ گیا، پر اشعث نے اسے دھیرج رکھنے کا اشارہ کیا اور حومائل کو گود میں اٹھا لایا۔
یوشع اس کا ارادہ جان کر نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔ جب سے اس کا بیٹا پیدا ہوا تھا، وہ لوگ اس وکیل کو بلیک میل کرنے کے لیے اس کا ہی استعمال کرتے تھے کیونکہ حومائل کی آنکھیں حاتم شاہ جیسی تھیں یعنی عنایہ جیسی، اور احد بھوری آنکھوں کے آگے بے بس تھا۔
“حومائل بیٹا! احد چاچو بول رہے ہیں وہ آج نہیں آ رہے۔” اشعث کی بات پر حومائل نے “ہاہ” کے انداز میں ہونٹ گول کیے جیسے اسے بہت افسوس ہوا ہو۔ اسے یہ سارے ڈرامے اشعث نے ہی سکھا رکھے تھے۔
“پر آپ نے انہیں یہاں آنے کے لیے راضی کرنا ہے، ٹھیک ہے؟” اشعث کے سمجھانے پر اس نے زور و شور سے سر ہلایا، اس کام کا اسے کافی تجربہ ہو گیا تھا۔ اشعث نے احد کو ویڈیو کال ملائی جو اس نے بیزاری سے پک کی، مگر سکرین پر حومائل کا معصوم چہرہ دیکھ کر بیزاری بے بسی میں بدلی۔
“تاتو!” اس نے اپنی توتلی سی آواز میں اسے پکارا۔
“جی بچہ!” احد نے گہرا سانس بھرتے ہوئے جواب دیا۔
“تاتو! آ داؤ نا۔” اس نے معصوم سی التجا کی۔
“بیٹا! میں نہیں آ پاؤں گا۔” احد کے لہجے میں بے بسی تھی۔ جب وہ شاہ خاندان کی محفلوں میں جاتا تھا اسے وہ یاد آ جاتی تھی، اس نے تقریبات میں جانا بالکل ختم کر دیا تھا۔
“تاتو!” حومائل نے فوراً آنکھوں میں آنسو بھرے اور دکھی سے انداز میں اسے پکارا اور یہاں وکیل صاحب ہوئے بے بس۔ وہ بھوری آنکھوں میں آنسو ہی تو نہیں دیکھ سکتا تھا۔
“آ رہا ہوں یار!” اس نے کہہ کر فون بند کیا۔
اور فون بند ہوتے ہی حومائل نے داد طلب نظروں سے اشعث کو دیکھا تو اس نے اسے گود میں اٹھا کر چٹا چٹ چوما۔
“شاباش میرے ڈرامے باز! یہ لو۔” پھر اسے ایک بسکٹ کا پیکٹ پکڑایا اور ہمارے ننھے سے اداکار کی عید ہو گئی۔ بیٹے کی ڈرامے بازی پر یوشع بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی ڈنر کے بعد احد اور باقی لڑکے ٹیرس پر بیٹھے تھے اور عورتیں اور بچے نیچے لاؤنج میں موجود تھے۔
“یار! ویسے یہ لڑکیاں محبت میں ناکام ہونے کے بعد بال کٹوا دیتی ہیں اور لڑکے بڑھا لیتے ہیں کیوں؟” اشعث نے کمینگی یوشع کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تو احد نے تپ کر اسے دیکھا، جو اس کی دلجوئی تو کیا ہی کرتا تھا، الٹا اس کا جلا دل مزید جلا دیتا تھا۔
“اس کا جواب تو وکیل صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ بتائیں احد صدیقی!” یوشع نے مصنوعی تجسس سے احد کو دیکھا تو اس نے پاس پڑا کشن اٹھا کر اسے دے مارا۔ اس کی حالت دیکھ کر باقی تینوں نے زوردار قہقہہ لگایا۔
“مرو سب!” احد جلتا بھنتا سیڑھیاں اتر گیا۔ آخری سیڑھی تک ان کے جاندار قہقہے اس کے کانوں میں پڑ رہے تھے۔ ویسے بھی اس کے جانے کا ٹائم ہو گیا تھا اسی لیے کوئی اسے پیچھے روکنے نہیں آیا۔
✩━━━━━━✩
واپسی کے سفر میں اس نے اپنی گاڑی وہیں کھڑی رہنے دی اور پیدل ہی چل پڑا۔ وہ بے خیالی میں چلتے چلتے کافی دور نکل آیا تھا۔ اس کے گھر کا راستہ کافی پیچھے رہ چکا تھا۔ وہ ابھی آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک پُر تاثیر سی آواز آئی۔ نہ جانے اس آواز میں کیا کشش تھی کہ وہ اس طرف کھینچتا چلا گیا۔
اول حمد ثنا الہی جو مالک ہر ہر دا
اس دا نام جتارن والا کسے میدان نی ہردا
(سب سے پہلے ثناء اس پاک ذات کی جو ہر جان و بے جان کا مالک ہے۔ جو رب کو یاد رکھتا ہے تو پھر رب اسے کسی میدان میں شکست نہیں ہونے دیتا)
رحمت دا دریا الہی ہر دم وگدا تیرا
جے اک قطرہ مینوں بخشے
کم بن جاوے میرا
(اے اللّٰہ تیری رحمت کا دریا تو ہمیشہ بہتا رہتا ہے اگر اس میں سے ایک قطرہ مجھے عطا کر دے تو میرے بگڑے کام سنور جائیں گے)
سب کچھ مال حوالے تیرے
تے جندڑی جان بھی تیری
میں کوجی دا وارث توں ایں
تے شرم رکھی ہن میری
(میری سب دولت ہر چیز تیرے حوالے حتیٰ کہ جان بھی مجھ جیسے ناکارہ وجود کا وارث تو ہی ہے میری لاج رکھنا)
اس آواز میں ایسا اثر تھا جو دل کو جکڑ لیتا تھا، رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ احد ٹرانس کی کیفیت میں اس فقیر کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ وہ فقیر اپنی دھن میں اتنا مگن تھا کہ اسے احد کے پاس بیٹھنے تک کا احساس نہ ہوا۔ احد کو اس کی لگن پر رشک آیا تھا۔ اتنا انہماک تو اس کی نمازوں میں نہیں تھا جتنا اس فقیر کے کلام میں تھا۔ الجھے بالوں، میلے اور پیوند لگے کپڑے پہنے وہ فقیر اسے خود سے کہیں زیادہ امیر محسوس ہوا تھا جس کی لو اپنے رب سے لگی ہوئی تھی۔
سوہنی صورت عاشق ہونا
کادی اے وڈیائی
عاشق بنڑ تو اس سونے دا
جس اے شکل بنائی
(خوبصورت چہروں پر عاشق ہونا کوئی کمال نہیں عشق کرنا ہے تو اس ذات سے کرو جس نے اس چہرے کو وہ حسن بخشا)
ان لفظوں پر اس کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔
وا کریم امت دا والی مہر شفاعت کردا
جبرائیل جئے جس چاکر نبیاں دا سر کردا
او محبوب حبیب ربانی حامی روز حشر دا
اپ یتیم یتیماں تائی سونا ہتھ سراں تے تردا
(وہ کریم ہیں جو اپنی امت کے والی ہیں اور بروز قیامت جو گنہگاروں کی شفاعت کریں گے وہ اتنے بلند عظمت ہیں کہ فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے خادم ہیں اور آپ تمام انبیاء کے سردار ہیں ۔جو رب باری تعالیٰ کے محبوب ہیں اور محشر کے دن امت کے حمایتی ہوں گے وہ خود یتیم تھے اور تمام یتیموں کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہیں)
جس ہستی کا ذکر ہو رہا تھا، وہ غائبانہ طور پر اس ساحرِ عرب کے سحر میں جکڑا جا رہا تھا۔
خس خس جنا قدر نہیں میری
تے میرے صاحب نو وڈیاں
میں گلیاں دا روڑا کوڑا
تے محل چڑھایا سائیاں
میں نیواں میرا مرشد اچا
تے میں اچیاں دے سنگ لائیاں
صدقے جاواں اناں اچیاں تو میں
جنا نیویاں نال نبھائیاں
(میری حیثیت تو خس خس کے دانے جتنی چھوٹی اور عام ہے پر سب بلندیاں میرے رب کو ہی جچتی ہیں ۔میں تو گلیوں میں پڑا بےکار کوڑا تھا پر میرے مالک نے مجھے محلوں میں پہنچا دیا میری ذات تو نچلے درجے میں آتی ہے جبکہ میرا مرشد بلندی و عظمت والا ہے اور میری لگن اسی اونچی ہستی کے سنگ لگ چکی ہے اور ان اعلیٰ ظرف ہستی کے میں قربان جنہوں نے کم حیثیت والوں کے ساتھ بھی وفا کی)
پتہ نہیں ان لفظوں میں ایسا کیا تھا کہ اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔ ایک نظر اپنے مہنگے برانڈڈ لباس پر ڈالی، دوسری اس میلے لباس پر، اس کے پاس سامنے بیٹھے فقیر سے کتنا زیادہ تھا اور فقیر کے پاس کتنا کم، پھر بھی وہ فقیر شاکر تھا۔
چٹی چادر لا چھڈ کڑیے
تے پہین فقیراں دی لوئی
چٹی چادر وچ داغ ہزاراں
پر لوئی نوں داغ نہ کوئی
(سفید چادر (ظاہری پاکیزگی اور نمود) چھوڑ دے اور فقیروں کی لوئی (سادگی اور درویشی) اوڑھ لے۔سفید چادر پر ہزاروں داغ لگ جاتے ہیں (یعنی ظاہری پاکیزگی میں ریاکاری اور خامیاں آ سکتی ہیں)،
لیکن فقیروں کی لوئی پر کوئی داغ نہیں ہوتا (یعنی سادگی اور اخلاص میں کھوٹ نہیں ہوتا)۔
مکھن ددھ اندر ہوندا
پر سب نوں نظر نہ اوے ن
اوسے نوں اے نظریں آوے
جڑا اندر چاتی پاوے
(مکھن دودھ کے اندر ہوتا ہے، لیکن سب کو دکھائی نہیں دیتا۔ یعنی ہمارا اصل بھی ہمارے اندر چھپا ہوا ہے اور اپنا اصل وہی تلاش کر پاتے جو اپنا اندر کھنگال کر دیکھتے ہیں)
لکھاں بیر بیری نو لگدے
چڑھ جاندے جڑے کچے
جڑے پکدے نال محمد
اوہی کھاندے وٹے
(بیری کے درخت پر لاکھوں بیر لگتے ہیں کچھ پکنے سے پہلے ہی جھڑ جاتے ہیں اور پتھر ہمیشہ انہیں ہی مارے جاتے ہیں جو پکے ہوں
یعنی اللہ سے محبت کا دعویٰ تو بہت لوگ کرتے ہیں پر آزمائش کے وقت وہ ثابت قدم نہیں رہتے۔ اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اللہ کے سچے عاشق ہوتے ہیں پھر انہیں ہی تو سختیاں جھیلنی پڑی ہیں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں سہیں)
فقیر کے الفاظ عقیدت و محبت سے اٹے معلوم ہوتے تھے۔
فقیر نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں اور مسکراتی نظروں سے ساتھ بیٹھے احد کو دیکھا۔
“ہاں بھئی شیر جوان! کیا چیز کھینچ لائی فقیراں دے کول؟” اس فقیر کے چہرے پر احد کو صرف نرمی اور شفقت دکھی تھی۔
“آپ کی آواز۔۔۔۔” وہ ابھی تک اس سحر سے نکل نہیں پایا تھا۔ “آپ کی آواز کتنی تاثیر والی ہے۔”
احد کی بات پر وہ فقیر مسکرا دیا۔ “نہ پتر! کمال آواز دا نہیں، اس ذات دا ہے جس دا ذکر ہو رہا تھا۔ اس دا ذکر ہی تاثیر والا ہے ورنہ مجھ جیسے کھوٹے سکے دی کیا اوقات۔” فقیر نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے اشارہ کیا اور پھر اس نے احد کی آنکھوں میں دیکھا جیسے کچھ کھوج رہا ہو۔
“گم ہو گئی یا گنوا دی؟” فقیر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا تو احد حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔ وہ کیسے اس کے اندر کی کشمکش جان گئے تھے؟
“چھپ گئی!” اس نے شکستگی سے جواب دیا۔
“رب دیا بندیا! بعض دفعہ آنکھوں کے سامنے پڑی چیز نہیں دکھتی، ہو سکتا ہے تو غلط جگہ ڈھونڈ رہا ہو اور صحیح جگہ عرضی نہ دی ہو۔” فقیر کی بات پر احد نے الجھن سے انہیں دیکھا۔
“پتر! رب سے مدد مانگی تو نے؟ وہ تو نصیر ہے۔” فقیر ابھی تک مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
“وہ بصیر بھی تو ہے۔” احد نے دھیرے سے کہا تو اس کی بات کا مطلب سمجھ کر فقیر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
“رب تو رسیاں(ناراض )اے!”
احد نے تڑپ کر اسے دیکھا۔ “آپ جن کا کلام پڑھ رہے تھے انہوں نے ہی کہا تھا
یار یاراں دا گلا نہیں کر دے
ہوندی اصل پریت جنہاں دی
احد کے جواب پر فقیر پھر ہنس دیا۔ “یار کا وفادار ہے تو بندیا، پھر یار سے سفارش کیوں نہیں لگوا لیتا؟”
“شرم آتی ہے بابا جی! کس منہ سے ایک نامحرم مانگ لوں اس سے؟ اس کی ذات سے آگے عورت رکھوں مر نہ جاؤں پر اس کو سوچنے سے دل و دماغ کو باز نہیں رکھ پاتا۔ کوشش کرتا ہوں اپنی ٹوٹی پھوٹی نمازوں میں رب کے علاوہ کسی کی یاد نہ لاؤں، اپنی دعاؤں میں بھی رب کے ساتھ کسی غیر کا نام نہ لوں، پر پھر بھی وہ عورت میرے حواسوں پر سوار ہے، چاہ کر بھی دل سے نہیں نکال پاتا۔”
احد دھیرے دھیرے بول رہا تھا۔ اس نے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی تھی، تہجد بھی کبھی کبھار ادا کر لیتا تھا، مگر آج تک اس نے رب سے کبھی ‘عنایہ حیدر’ کا سوال نہیں کیا تھا۔
“تو پتر! تو عورت نہ مانگ، چین مانگ لے۔” اس کے کہنے پر احد کی آنکھوں میں سوال ابھرا۔ “یہ جو بے چینی تیرے لوں لوں(پور پور)سے پھوٹ رہی ہے، اس کا توڑ مانگ لے۔ یار بھی راضی، محبوب بھی راضی۔ اور میرا رب سوہنا ہے، وہ تجھے خالی ہاتھ نہیں لٹائے گا۔ اس کی شان دینے میں ہے اور بندے کی مانگنے میں۔ تو مانگ اس سے، ایک بار نہیں بار بار، وہ عطا کرے گا۔ بس مانگنے کا سلیقہ سیکھ لے۔”
فقیر نے محبت سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو احد نے عقیدت سے ان کے ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ اسے نہ کراہت آئی تھی نہ جھنجھلاہٹ ہوئی تھی۔ سامنے بیٹھا انسان اسے اپنی اوقات سے بڑھ کر لگا تھا۔ سامنے بیٹھا اللہ والا تھا اور اس کی حیثیت کی عظمت اللہ کے نام سے ہی بلند ہو گئی تھی۔
“جا پتر! رب سونا تیریاں مراداں پوریاں کرے۔” فقیر نے اس کے کندھے تھپتھپائے، پھر احد پرسکون اور ہلکا دل لیے وہاں سے پلٹ گیا۔
“واہ اوہ میرے مٹھے اللہ! تہاکے نوں کھو کول لے ہی آیا(واہ او میرے میٹھے اللہ! پیاسے کو کنویں کے پاس لے ہی آیا)۔” پھر وہ دوبارہ کلام پڑھنا شروع ہو گیا
ہتھیں بکی مٹی پاندے
تے کردے ٹیر اچیرا
پڑھ درود گھرانوں جاندے
پھر مڑ نہیں پاندے پھیرا
لے او یار حوالے رب دے
تے اے میلے چار دناں دے
اس دن عید مبارک ہو سی
تے جس دن فیر ملا گے
(مٹھی بھر کر قبر میں مٹی ڈالتے ہیں اور قبر کی ڈھلوان اونچی کرتے ہیں قبر پر کھڑے ہو کر درود شریف پڑھتے ہیں اور لوٹ جاتے ہیں اور پلٹ کر دوبارہ نہیں آتے۔ اے دوست! الوداع اب رب کے حوالے یہ زندگی۔ کہ دنیا کا میلہ تو چار دن کا ہے۔ اور اس دن یوم عید ہو گا جس دن دوبارہ ملاقات ہو گی)
✩━━━━━━✩
وقت اپنی متعین کردہ رفتار سے گزر رہا تھا۔ کئی ماہ مزید بیت چکے تھے۔
گہری رات میں سب پرسکون سے نیند کی آغوش میں ڈوبے ہوئے تھے اور ایسے میں ایک مضبوط جسامت والا مرد خدا کے سامنے جھکا ہوا تھا۔ اس کی گھنی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی، جائے نماز پر بھی وہ شفاف قطرے گرے ہوئے تھے۔ اس نے سلام پھیرا اور اذکار میں مشغول ہو گیا، اس کی نگاہیں کھڑکی سے نظر آتے تاروں بھرے آسمان پر جمی تھیں۔ وہ جب سے اس فقیر سے مل کر آیا تھا، اس کا اندر پرسکون ہو گیا تھا۔ پھر اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، اپنی معمول کی دعا مانگی۔ بوجھل دل سے اس کے لبوں سے الفاظ ادا ہوئے
“اے میرے پاک رب! یہ آپ ہی تھے جس نے میرا چین ایک وجود کا محتاج کر دیا۔ یہ آپ ہی تھے جس نے مجھے اس سے ملوایا۔ اس کے دور جانے سے میں بے چین ہو چکا ہوں۔ میرے قرار کا سامان کر دیجیے۔ آپ میرے دل کا حال مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ جو مجھے چاہیے اور جو میرے حق میں بہتر ہے وہ مجھے عطا کر دے۔ بے شک آپ ہی عطا کرنے والے ہیں۔ میں آپ کی رضا میں راضی ہوں۔”
اس نے کہتے ہوئے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے، جائے نماز تہہ کی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ دعا اب معمول بن گئی تھی۔ پتا نہیں ہر مرتبہ وہ جب اللہ سے دعا کرتا تھا اسے ایسا لگتا تھا جیسے وہ ایک ایسا پیاسا تھا جو قدم بہ قدم کنویں کے قریب جا رہا تھا۔ پھر وہ تہجد ادا کر کے سونے کے لیے لیٹ گیا۔
وہ گہری نیند میں تھا کہ اسے ایک منظر نے اپنی لپیٹ میں لیا۔
وہ ننگے پیر، الجھے اور بکھرے حلیے میں دھول سے اٹی گلی میں دوڑ رہا تھا۔ اڑتی مٹی اس کے کپڑوں اور بالوں میں بھی لگ رہی تھی۔ وہ جس جگہ سے دوڑ کر جاتا واپس وہیں بھٹک کر آ جاتا تھا۔
تھک کر اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ کو پکارا اور پھر دوڑنے لگا۔ یہ شہر بہت قدیم تھا، کچے بنے مکانات اور کچی گلیاں۔ وہ سمت کے تعین کے بنا بھاگتا ہی جا رہا تھا، پھر اس کے قدم رکے۔ سامنے گھر جیسا کچھ تھا، شاید ایک کمرہ جس کا رخ ہر سمت میں تھا۔
اسے پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا اور لوگ اس کے ارد گرد چکر لگا رہے تھے۔ وہ اس گھر کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا،
“کعبہ!” یکدم ذہن میں چمکا۔ ہاں یہ تو کعبہ ہی تھا، قدیم زمانے کا کعبہ۔ وہ قدم اس طرف بڑھانے لگا کہ اسے دائیں طرف سے تیز روشنی پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔ روشنی بہت تیز تھی، وہ اسی طرف چل پڑا۔ پھر ایک جگہ وہ رک گیا، روشنی ایک عمارت سے پھوٹ رہی تھی جس کی چھت کھجور کے چھالوں کی تھی، دیواریں کچی اینٹوں کی۔ اس نے دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، وہ بھی انہی کی جماعت میں شامل ہو گیا۔ اس نے ان کے پیچھے نماز پڑھی اور جیسے ہی اس نے سلام پھیرا، وہ ایک جھٹکے سے نیند سے اٹھ بیٹھا۔
اس کی دھڑکن تیز تھی اور سانسیں پھولی ہوئیں، پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔ یہ کیا تھا؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
پہلا تو کعبہ تھا مگر دوسری عمارت وہ پہچان نہیں پا رہا تھا۔
✩━━━━━━✩
وہ آفس میں چیئر پر جھولتے ہوئے مسلسل رات کے اس خواب کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ پھر وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا اور کعبہ کی سمت میں رخ کیا۔
خواب میں کعبہ اس کے سامنے تھا اور روشنی اسے اپنے دائیں طرف سے آتی محسوس ہوئی تھی۔ اس کے دائیں ہاتھ کیا تھا؟ اس نے ذہن پر زور دیا۔
‘ مدینہ! مسجدِ نبوی!’ ہاں وہ خواب میں قدیم عرب میں تھا،
تو پھر اس نے لیپ ٹاپ اوپن کیا اور قدیم مسجدِ نبوی کے متعلق سرچ کرنے لگا۔ اس کے سامنے قدیم مسجدِ نبوی کے متعلق لکھا گیا تھا۔ کھجور کے تنوں کے ستونوں، کچی اینٹوں سے بنی دیواروں اور کھجور کی شاخوں کی چھت والی مسجد۔ یہ بالکل وہی نقشہ تھا جہاں اس نے نماز ادا کی تھی، یعنی وہ مسجدِ نبوی میں تھا، نبیؐ کے دور کی مسجد میں!
اس کا دل بے چین ہوا، وہ دوبارہ اسی خواب میں جانا چاہ رہا تھا۔ اس نے اپنے اسسٹنٹ کو کال ملائی۔
“زبیر! سعودی عرب کی ٹکٹ بک کرواؤ کل کی، فوراً!” اور کہتے ہی کال کاٹ دی۔
وہ جانتا تھا جتنی اس کی اپروچ تھی، اتنی جلدی فلائٹ ملنا اس کے لیے آسان تھا۔ اب انتظار تھا تو صبح کا۔ وہ اس اشارے کی پیروی کرنا چاہ رہا تھا جو خواب میں اسے دیا گیا تھا۔
✩━━━━━━✩
جاری ہے۔۔۔
