پت جھڑ قسط نمبر ؛ ١٨
ازقلم الم
عنایہ برائیڈل روم میں نور کے ساتھ موجود تھی وہ گاڑی سے اتر کر فوراً اس کے پاس پہنچی تھی۔
“ادھر آؤ” نور نے بازو اس کی طرف پھیلائے وہ کبھی اتنی ایکسپریسو نہیں رہی تھی مگر آج رخصتی کا سوچ سوچ کر اس کا دل بوجھل ہو رہا تھا عنایہ مسکرا کر اس کے گلے لگ گئی۔
“اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے نور” عنایہ نے سچے دل سے اسے دعا دی۔
“آمین تمہیں بھی ہمیشہ خوش رکھے” نور کی دعا پر وہ پھیکا سا مسکرائی
تم نا لاہور میں میرے پاس شفٹ ہو جاؤ تمہارے بغیر کیسے رہوں گی اس کی بات پر عنایہ مسکرائی مگر بات کا رخ موڑ دیا جو نور نے شدت سے محسوس کیا تھا اب کی گہری نگاہیں اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ جانچ رہی تھیں۔ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر اس کا حال جان لیتی تھی۔
✩━━━━━━✩
لاہور کی فضا میں عجیب سی سوگواری اور سرد پن تھا۔ ایک چنگاڑتی ہوئی آواز کے ساتھ ہوا کو چیرتی ایک بائیک برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ یہ ویران اور کشادہ سا میدان تھا جس پر حدِ نگاہ صرف خالی جھاڑیوں سے بھرا میدان نظر آتا تھا۔
اس کی بائیک دھول اڑاتی ہوئی بڑھ رہی تھی۔ اس نے آج ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا، اس کے سیاہ چھوٹے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔ تبھی اس بائیک کے ہم قدم کئی سیاہ گاڑیاں اس کے تعاقب میں آگے آئیں۔ وہ مسلسل اس کے پیچھے تھیں مگر وہ کمال مہارت سے انہیں ڈوج دے رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوشع مسکراتا ہوا خواتین والے حصے میں داخل ہو رہا تھا۔ عنایہ اور نور کی کزنز اس کا دروازہ روک کر کھڑی ہو گئی تھیں۔ پھر ہلکی پھلکی نوک جھوک کے بعد اسے اسٹیج پر بٹھایا گیا۔
تھوڑی دیر بعد اسپاٹ لائٹ آن ہوئی تو یوشع کی نظریں بے ساختہ اس کی طرف اٹھیں۔ برائڈل لہنگے میں، افق کے بازو میں ہاتھ ڈالے، ایک ہاتھ میں اپنے والد کی تصویر تھامے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی۔ یوشع کو دنیا کے تمام رنگ اپنی دلہن کے سامنے پھیکے پڑتے معلوم ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس گاڑی میں سے سر نکال کر ایک منحوس صورت انسان نے ایک فائر آئرہ کی بائیک کے پچھلے ٹائر پر کیا تو بائیک کا بیلنس بگڑا اور آئرہ منہ کے بل نیچے گری۔ اس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا اور چہرہ مٹی سے اٹ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنایہ کی مسکراہٹ سمٹی، اسے عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔
اس نے ایک نظر افق کو دیکھا تکلیف بڑھی، کچی عمر کی محبت تھا وہ بھولتے بھولتے ایک عمر گزر جاتی۔
یوشع نے ہاتھ آگے بڑھا کر نور کو اسٹیج پر چڑھنے میں مدد دی۔ عنایہ نے تصویر نور سے تھام کر اسٹیج پر پڑی ایک چھوٹی سی میز پر رکھ دی۔ نور نے خوبصورت سا مہرون لہنگہ پہن رکھا تھا جس کی ٹیل دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ لہنگے پر سلور ہیوی اسٹون ورک تھا۔ اس نے حجاب کی بجائے دوپٹہ اس انداز میں سیٹ کر رکھا تھا کہ سارے بال کور ہو رہے تھے اور کرتی کا گلا گردن تک بند تھا۔ اس کے کندھے پر سلور خوبصورت سی شال جھول رہی تھی اور سر پر مہرون دوپٹے سے گھونگھٹ کیا گیا تھا۔
یوشع نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کا گھونگھٹ پلٹا۔
“اللہم بارک!” اس کے ہونٹوں نے جنبش کی، پھر وہ گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں بیٹھا اور اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا۔ سب مبہوت ہوئے انہیں دیکھ رہے تھے۔
“میں آج مکمل ہو گیا… میری قلب… میرے قلب کا نور بن کر میری زندگی میں شامل ہوئی ہے۔” اس کے قدموں میں بیٹھا، گردن جھکائے، دلکشی سے اس پر سحر پھونک رہا تھا۔ کیا مرد یوں بھی انائیں وار دیتے ہیں ؟ وہ سب کے سامنے گردن جھکا کر نور کا رتبہ سب کی نظروں میں بلند کر گیا تھا۔ وہ ثابت کر گیا تھا کہ نورِ قلب اس کے قلب کا نور ہے۔
نور نے عنایہ کو اشارہ کیا تو وہ فوراً اس کے قریب آ کر اسے بیٹھنے میں مدد دینے لگی۔ اب وہ بھی یوشع کے روبرو بیٹھی تھی۔
“سر کے تاج سروں پر سجے اچھے لگتے ہیں، نہ کہ قدموں میں جھکے۔” نور نے کہتے ہی یوشع کو کھڑا ہونے کا اشارہ کیا تو یوشع نے عقیدت سے اس کے ماتھے کا بوسہ لیا۔
کیمرا مین نے یہ خوبصورت منظر کیمرے کی آنکھ میں قید کیا جس میں دولہا دلہن زمانے سے بے پرواہ ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے افسانوی دنیا میں سے کوئی شہزادہ اور شہزادی راہ بھٹک کر حقیقی دنیا میں آ گئے ہوں۔ وہ ساتھ میں مکمل لگ رہے تھے…
مگر جو نامکمل رہ گئے، ان کا کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں سے چند ہٹے کٹے مرد باہر نکلے۔ ایک نے آئرہ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور ایک زوردار مکہ اس کے گال پر مارا۔ اس کے منہ سے خون کا فوارہ پھوٹا۔ تکلیف سے دماغ جھنجھنا اٹھا، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا پر وہ ڈھٹائی سے مسکرا دی۔
“مرد ہو تو مردوں کی طرح مارو نا!” آئرہ نے بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھول کر چیلنجنگ انداز میں کہا تو اس نے طیش میں آ کر زور سے اپنا سر آئرہ کے سر میں دے مارا۔ وہ بے ساختہ پیچھے کو گری تھی۔
پھر اس نے آئرہ کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کیا تو بالوں کے کھینچنے سے زخمی دماغ میں یکدم جان لیوا درد اٹھا۔ آنکھوں میں بے اختیار آنسو چمکے پر لبوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہوئی۔ وہ ظالم کتنی بے رحمی سے اس کے بالوں کو کھینچ رہا تھا۔
آئرہ کے کان میں چند آوازیں گونجیں
“آئرہ! آرام سے سلجھایا کرو بالوں کو، اتنی بے رحمی سے کنگھی کرو گی تو بال ٹوٹ جائیں گے۔” یوشع کی پیار اور فکر بھری آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو آنکھوں کی نمی میں اضافہ ہوا۔
اب کے اس وحشی نے زوردار تھپڑ اس کے گالوں پر جڑے وہ پھر بری طرح مٹی سے اٹی زمین پر گری آنکھوں پر کچھ مناظر لہرائے
“ارے میرا بچہ! کچھ نہیں ہوا، اٹھو شاباش! بابا کی بہادر بیٹی۔” چھوٹی سی آئرہ کے گرنے پر سلطان شاہ اسے اٹھا کر فکرمندی سے اس کے کپڑے جھاڑ رہے تھے۔
مگر اس مٹی سے اٹے لباس والی کو سہارا دینے والا آج کوئی موجود نہیں تھا۔
“سالی ہمارے خلاف اٹھے گی؟” وہ گالیاں بک رہا تھا اور ساتھ ساتھ آئرہ کو مار رہا تھا۔
“بھابھی! آپ اسے اونچی آواز میں نہ ڈانٹا کریں، یہ میری چھوٹی سی جان ہے۔ اس کی آنکھوں کا ڈر مجھے اچھا نہیں لگتا۔” ننھی سی آئرہ کو گود میں بٹھائے کبیر شاہ محبت سے اس کے گال چومتے ہوئے صائمہ کو کہہ رہے تھے کیونکہ وہ ڈانٹ پر منہ پھلا کر چاچو کی گود میں گھسی ہوئی تھی۔
اس وحشی کے ساتھی نے گرم سرخ سلاخ لا کر اس کے ہاتھ میں تھمائی تو اس نے وہ سلاخ آئرہ کے کندھے پر رکھ دی۔ اس کی دردناک چیخیں سنسان میدان میں گونجی تھیں۔
“آئرہ! کتنی دفعہ بولا ہے کچن میں مت جایا کرو، دیکھو انگلی کتنی جل گئی ہے! اور ماں کی بات تو سننا حرام ہے تم پر۔” وہ مسلسل پریشانی سے اسے ڈانٹ رہی تھیں اور ساتھ ساتھ مرہم بھی لگا رہی تھیں، اور آئرہ ہنستی ہوئی انہیں دیکھتی جا رہی تھی۔
ظالم نے دوبارہ اپنا عمل دہرایا تو تکلیف کی شدت سے اسے پورا جسم شل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کا ساتھی زمین پر گری آئرہ کے پیٹ میں بوٹ کی ضربیں مار رہا تھا۔ اس میں اتنی بھی ہمت نہیں بچی تھی کہ وہ چیخ پاتی، بس کچھ مناظر سلو موشن کی صورت اس کی نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔
آئرہ پھر بائیک ایکسیڈنٹ کروا کر آئی تھی اور ہسپتال کے بیڈ پر پڑی مصنوعی کراہ رہی تھی اور ضرار پریشان سا اس کے پاس بیٹھا تھا۔
“زیادہ درد ہو رہا ہے؟” وہ کافی فکرمند دکھائی دے رہا تھا۔
“آئرہ! نہ کیا کرو ایسی حرکتیں، تمہیں پتہ ہے نا تمہاری تکلیف پر تمہارا بھائی تڑپ اٹھتا ہے۔” وہ بے بسی سے بول رہا تھا اور آئرہ کو اس کی محبت دیکھ کر سکون سا خود میں اترتا محسوس ہوا تھا۔
“بہت۔۔۔۔ درد۔۔۔ ہو رہا ہے۔۔۔۔ بھائی۔” آئرہ نے تکلیف سے ہچکی لی۔ اس کا پورا جسم خون اور مٹی سے لت پت تھا۔ کہاں تھے وہ سب جو اس سے محبت کرتے تھے؟ وہ کیوں تھی تنہا؟ اس کا بخت ہی اتنا سیاہ کیوں لکھا گیا تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاروں طرف رخصتی کا شور اٹھا۔ افق نے بہن کو تھام کر اٹھایا۔ نور باری باری سب سے ملی، وہ ایک مضبوط لڑکی تھی پر اس مقام پر ہر لڑکی ضبط کھو دیتی ہے۔ وہ بھی ماؤں اور بھائی کے گلے لگ کر بے اختیار رو پڑی۔
عنایہ نے آنسو ضبط کرتے ہوئے اسے بمشکل سب سے علیحدہ کر کے افق کی گاڑی میں بٹھایا گیا۔ کتنا مشکل ہوتا ہے اس آنگن سے رخصت ہونا جہاں باپ کے بازوؤں میں کھیلے ہوں اور ماں کی محبت میں پلے ہوں۔ یوشع بھی سب سے مل کر گاڑی میں بیٹھا، اب گاڑی وہ خود ڈرائیو کر رہا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے ساری بارات خوب دھوم دھام سے روانہ ہوئی۔ یوشع نے دونوں ماؤں کو ساتھ لگا کر ان کے آنسو پونچھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو آدمی آئرہ کو بازوؤں سے تھامے کھڑا کیے ہوئے تھے۔ اس کی آنکھیں تکلیف کی شدت سے بند ہو رہی تھیں۔ اس منحوس آدمی نے بندوق اس کے ماتھے پر رکھی اور آئرہ کے خون سے بھرے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔
“یہاں نہیں…” اس کی آواز بھی گلے پر لگنے والی ضربوں کے باعث پھٹ رہی تھی۔ اس نے زبردستی اپنا ایک بازو آزاد کروایا اور بندوق تھام کر اس کا رخ ماتھے سے ہٹا کر اپنے دل پر کیا۔
“یہاں مارو۔۔۔۔” اس کے الفاظ پر سب حیران ہوتے اسے دیکھنے لگے۔ وہ موت کو قریب دیکھ کر گڑگڑا نہیں رہی تھی۔ وہ کیوں اتنی مطمئن تھی؟ کیا موت اس کی منشا تھی؟
“یہی تو ۔۔۔۔اصل فساد کی۔۔۔۔ جڑ ہے نا؟ یہ نہ ہوتا ۔۔۔تو ۔۔۔نہ آئرہ یہاں ہوتی۔ اسے۔۔۔ ایسے مارنا کہ ۔۔۔اُس کا نام۔۔۔۔ اُس کی محبت۔۔۔ سب اس دل۔۔۔ کے ساتھ ہی۔۔۔ مٹ جائے۔” اس کی آنکھوں کا کرب پڑھ لیا اگر جاتا اور لفظوں کی تکلیف محسوس کر لی جاتی تو دل پھٹ جاتے۔
ٹریگر پر انگلی کا دباؤ بڑھا اور گولی فضا کو چیرتے ہوئے آئرہ کے جسم کے آر پار ہو گئی۔ اس کے جسم کو زوردار جھٹکا لگا۔
“یا اللہ خیر!”آنکھیں بند کیے تسبیح پڑھتی ہوئی صائمہ دہل کر اٹھیں، ان کا دل انجانے احساس کے تحت کانپا تھا۔
“حسبی اللہ!” چند لمحوں کے لیے یوشع کے دل میں زوردار تکلیف اٹھی تھی۔ اسٹیئرنگ اس کے ہاتھ سے چھوٹنے پر گاڑی ڈس بیلنس ہوئی مگر وہ بروقت تھام گیا۔ ساتھ بیٹھی نور بھی پریشان ہوئی۔
“آہہہہہہہہ!” ریان مفراہ کے بازوؤں میں اکڑ کر رو رہا تھا۔ وہ تکلیف سے چیخ رہا تھا اور مفراہ اس کو سنبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا شاید ریان کو نظر لگ گئی ہے۔ ضرار کی اپنی طبیعت عجیب ہو رہی تھی، ساتھ بیٹھے کبیر کو بھی گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ سب پریشان تھے کہ خوشی کے موقع پر طبیعت اس طرح بوجھل کیوں ہو رہی تھی۔
عنایہ گارڈن ایریا میں کھڑی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی، آنکھیں بے ساختہ نم ہو رہی تھیں۔ ‘شاید افق کی شادی کا سوچ کر’، اس نے سوچا، مگر یہ تکلیف عجیب تھی جیسے کوئی دل کا ایک حصہ آرے سے چیر رہا ہو۔
ایک اور گولی چلی جو آئرہ کے جلے ہوئے بازو کو چیر گئی۔ ایک گولی اس کی ٹانگ میں ماری گئی۔ پھر اسے وہیں پھینک کر وہ سب وحشی جیسے آئے تھے ویسے ہی لوٹ گئے تھے مگر اس سب دورانیے میں قیامت آ کر گزر گئی تھی۔
آئرہ زمین پر پڑی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ تھی اور سیاہ نم آنکھوں میں درد، تکلیف اور انتظار بیک وقت جھلملا رہے تھے۔ اس نے تکلیف دہ ہچکی لی، پھر وہ سیاہ آنکھیں بند ہو گئیں۔ چیلیں آئرہ پر دائرے کی صورت میں اڑ رہی تھیں، شاید وہ اس لاوارث موت پر ماتم کر رہی تھیں۔
آئرہ کی بائیک سے پٹرول قطرہ قطرہ زمین پر گر رہا تھا جس کی بدبو خون کی بدبو کے ساتھ شامل ہو کر فضا کو تعفن زدہ بنا رہی تھی۔ چند لمحے گزرے اور ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ چیلیں اس آواز سے ڈر کر بے ساختہ واپس پلٹ گئیں۔ آگ کے بلند لپٹے ہوا میں اٹھے اور سب خاک ہو گیا۔
سب لوگ بارات کے ساتھ لاہور آئے ہوئے تھے، مسکراہٹیں اور خوشیاں ماحول میں رچی بسی تھیں۔ کہیں محبتیں مکمل ہوئی تھیں تو کہیں اس کا گلا گھونٹ کر اس کو آخری سسکیاں لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ کچھ دیر پہلے ہی افق اور زمائمہ کا نکاح مکمل ہوا تھا۔ زمائمہ بلڈ ریڈ اور گولڈن کمبینیشن کے برائیڈل لہنگے میں ملبوس تھی جس کے پہلو میں گولڈن شیروانی پہنے سرشار افق بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ مسرت سے تمتما رہا تھا۔ سب باری باری ان کو تحائف وغیرہ دے رہے تھے اور دور کھڑی عنایہ پھیکی مسکراہٹ اور خالی نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا؛ نہ دکھ، نہ حسد، نہ غصہ، نہ پچھتاوا۔ وہ ٹھہرے پانی میں چمکتے چاند کی طرح تھی، ساکن اور پرسکون۔ شاید غم کی انتہا بے حسی ہوتی ہے۔ جب آپ اپنی زندگی کے سب سے کرب زدہ فیز سے نکل آتے ہیں تو آپ بے حس ہو جاتے ہیں، ہر طرح کے جذبات سے عاری۔
تبھی ضرار کا فون رنگ ہوا۔ کال ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تھی۔ وہ فوراً الرٹ ہوا مگر جو خبر اسے دوسری طرف سے دی گئی تھی، اس نے اس کے چہرے کے سارے رنگ نچوڑ لیے تھے۔ اسے لگا جیسے اس پر فضا تنگ کر دی گئی ہو۔ اشعث جو ریان کے ساتھ مصروف تھا، اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر فوراً اس تک پہنچا۔
“کیا ہوا ہے ضرار؟”
اس کا دل بھیانک خدشات کے تحت دھڑک رہا تھا۔
“ایک جلی ہوئی ڈیڈ باڈی ملی ہے جس کی شناخت آئرہ کے نام پر کی جا رہی ہے اور ہمیں وہ لوگ کنفرمیشن کے لیے بلا رہے ہیں۔”
یہ سب بتاتے ہوئے ضرار کے الفاظ گم ہو رہے تھے اور لہجہ لڑکھڑا رہا تھا جبکہ اشعث بے یقین نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ جیل سے کیسے نکلی کیونکہ وہ سب آئرہ شاہ سے واقف تھے، مگر اس کی موت غیر متوقع اور غیر یقینی بات تھی۔ پھر وہ دونوں چلتی تقریب میں سے وہاں پہنچے بنا کسی کو بتائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر! آئرہ شاہ کل رات جیل سے فرار ہوئی ہے اور اس وقت کی فٹیج کیمروں سے غائب ہے۔ اس کے بعد ان کی گمشدگی کی اطلاع ملنے پر ان کی تلاش شروع کی گئی تو ایک قدرے ویران علاقے سے ہمیں ایک جلی ہوئی بائیک کے ساتھ ایک لاش ملی ہے۔ سر لاش کی حالت بہت خراب ہے، باڈی پوری طرح جل چکی ہے، شناخت بہت مشکل ہے اور باڈی کے پاس سے بائیک کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہیں ملا جو شناخت میں مدد دے سکے۔ آخری حل صرف ڈی این اے ہے جس کی رپورٹ چند گھنٹوں میں موصول ہو جائے گی۔ ابھی باڈی کا پوسٹ مارٹم بھی ہونا رہتا ہے۔”
انسپکٹر ضرار اور اشعث کے ساتھ راہداری میں چلتے ہوئے ساری معلومات دے رہا تھا۔ پھر ان کے قدم ایک کمرے کے باہر رکے جس کے دروازے پر لکھا تھا Mortuary یعنی مردہ خانہ۔
وہ اندر داخل ہوئے تو ہر چیز ساکت تھی، ہر دھڑکن خاموش تھی اور ہر سانس ساکن۔ اندر کی فضا خنک تھی، مگر جو چیز اسے مزید سرد بنا رہی تھی وہ موت کی خاموشی تھی۔ وہاں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو کسی کی آنکھ کا تارا رہے ہوں گے اور اب موت کی آغوش میں پرسکون ہو گئے تھے۔
انسپکٹر انہیں ایک مخصوص اسٹریچر کے پاس لے کر آیا جس پر ایک بے حس و حرکت پڑا وجود سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ ضرار نے کانپتے ہاتھوں سے وہ سفید کپڑا اس کے چہرے سے ہٹایا۔ اشعث اور ضرار جیسے دونوں توانا مرد بے ساختہ لڑکھڑا گئے تھے۔ سامنے پڑی لاش بالکل جل چکی تھی، چہرے کے تمام نقوش تک مسخ ہو گئے تھے۔
یہ وہ پھول تھا جو شاہوں کے آنگن میں سب سے پہلے کھلا تھا، جو سب سے پہلی رحمت ان کے گھر آئی تھی، جو سب کی لاڈلی تھی اور اب وہ ایک لاوارث لاش کے طور پر ایک سرکاری ہسپتال کے مردہ خانے میں پڑی تھی۔ آہ زندگی! لاڈلوں کے لیے ہی تو سب سے ظالم رہی ہے۔ ضرار اور اشعث دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔ پھر ڈی این اے رپورٹ بھی آ گئی اور تصدیق کر دی گئی کہ یہ جلا ہوا وجود آئرہ سلطان شاہ کا ہی ہے۔
اشعث نے فون پر ابراہیم صاحب کو اس سب کی اطلاع دی کیونکہ ضرار بالکل بھی اپنے حواس میں نہیں تھا۔ آئرہ سب سے زیادہ اس کے ہی کلوز تھی اور اس نے ہی سب سے زیادہ اس کے نخرے اٹھائے تھے۔
یہ خبر نہیں تھی جو شاہ خاندان والوں کو ملی تھی بلکہ کوئی قہر تھا جو ان پر توڑا گیا تھا۔ زقیہ بیگم کو شدید قسم کا دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی۔ کبیر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کرے تو کیا کرے؛ بیٹی جیسی بھتیجی کی موت پر ماتم یا ماں کی صحت یابی کی دعا؟ اس خبر کے پیش نظر افق دلہن بنی زمائمہ اور مہمانوں کو لے کر اپنے ساتھ جھنگ کے لیے نکلا تھا کیونکہ انہیں واپس دوبارہ ولا آنا تھا۔ چند لمحوں میں جہاں خوشیوں کا سماں تھا وہاں صفِ ماتم بچھ چکا تھا۔
✩━━━━━━✩
رات کا وقت تھا۔ شاہ ویلی دلہن کی طرح سجی ہوئی تھی کیونکہ کل یہاں نئی دلہن نے آنا تھا، شاہ خاندان نے اپنی بہو بیاہ کر لانی تھی، مگر آج وہاں ایک میت آ رہی تھی ولا کی شہزادی کی کفن سے سجی۔
ایمبولینس کی چنگھاڑتی آواز سماعتوں سے ٹکرائی، پھر ضرار اور اشعث بوجھل قدموں سے داخلی دروازے سے ایک اسٹریچر گھسیٹتے ہوئے لائے۔ صائمہ دوڑ کر ان تک پہنچی تھی۔
“ضرار! یہ تمہاری بہن نہیں ہے، کہہ دو نا کہ یہ آئرہ نہیں ہے! وہ ابھی صبح ہی تو مجھ سے ملی تھی، وہ کہہ رہی تھی مما میں تھک گئی ہوں۔ تم دیکھو وہ اپنے کمرے میں سو رہی ہو گی۔ یوشع جاؤ دیکھو، نالائق سارا دن سوتی ہے۔”
سرخ آنکھوں اور الجھے بالوں والی صائمہ نفسیاتی لگ رہی تھی۔
“مم۔۔۔ممانی! یہ آئرہ ہی ہے، ہماری آئرہ ستم کر گئی ہم پر ممانی۔”
ضرار کے رکے ہوئے آنسو صائمہ کی حالت دیکھ کر پھر بحال ہوئے اور وہ تڑپ کر رویا تھا۔ وہ پہلی دفعہ ماں کی میت پر بکھرا تھا اور آج اس کی لاڈلی اس کا دل لہو لہو کر گئی تھی۔ اس مضبوط مرد کو یوں روتے دیکھ وہاں موجود سبھی دل کانپے تھے۔ گھر کے مرد گھر کے عظیم سہارے ہوتے ہیں، جب وہ بکھرتے ہیں نا، تو آپ کو اپنی پوری دنیا بکھرتی محسوس ہوتی ہے۔
“یہ آئرہ کیسے ہو سکتی ہے ضرار؟ تمہیں پتہ تو ہے اس کی تو چھوٹی سی انگلی جل جائے تو وہ سو دفعہ اس پر باپ اور چچا سے پھونک مرواتی تھی۔ یہ پورا جلا بدن اس کا کیسے ہو سکتا ہے ضرار؟”
صائمہ کے الفاظ دل لہو لہو کر رہے تھے۔وہ ماں تھیں اور کیا ماں کو اولاد پر صبر آ سکتا ہے؟؟
“مم۔۔مما!” عنایہ آگے بڑھی، ان کو پکارتے وقت کسی سے کیا ایک وعدہ بے ساختہ یاد آیا تھا۔ “مما سنبھالیں خود کو۔”
عنایہ کے ایسے پکارنے پر صائمہ نے حیرت سے مڑ کر اسے دیکھا۔ اس کی آواز اور نقوش میں بہت زیادہ آئرہ کی مماثلت تھی۔ ایک لمحے کو انہیں لگا جیسے آئرہ نے انہیں پکارا ہے۔ پھر انہوں نے تڑپ کر اسے اپنے سینے میں بھینچا۔
“دیکھو اپنی بہن کے کام، اس کو سکون ملتا ہے ماں کو تڑپا کر؟ تمہاری بات سن لے گی، تم بہن ہو نا اس کی، تم اس کو اٹھاؤ وہ اٹھ جائے گی!”
صائمہ دیوانہ وار عنایہ کا چہرہ چوم رہی تھی۔
“وہ سننے اور سمجھنے کی حد سے بہت آگے چلی گئی ہیں مما۔”
نم آواز میں کہتے ہوئے چہرہ صائمہ کے پہلو میں چھپایا۔ آخری رشتہ، آخری اپنا، آج منوں مٹی تلے جانے والا تھا۔ اس کا دکھ عظیم تھا، مگر اس نے اظہار کب سیکھا تھا؟ اس نے سہنا سیکھا تھا اور وہ سہ رہی تھی۔
آئرہ کے وجود کو غسل دے کر کفن پہنا کر صحن میں رکھ دیا گیا تھا۔ صائمہ کی حالت قابلِ رحم تھی، وہ بار بار بے ہوش ہو رہی تھی۔ زقیہ بیگم کی طرف سے بھی کوئی تسلی بخش خبر نہیں آ رہی تھی۔ کبیر کسی لٹے ہوئے انسان کی طرح آئرہ کی میت کے پاس آ کر بیٹھے۔
“زلیخا کے بعد یہ گھر تم نے آباد کیا تھا میری جان! اور اسی کی طرح آج تم بھی اس گھر کے ساتھ ساتھ ہمارا دل بھی ویران کر کے جا رہی ہو۔”
کبیر نے اس کی چارپائی پہ ماتھا ٹکاتے ہوئے کہا۔ ان کی بات پر ضرار اور مشکوٰۃ کے قرب میں مزید اضافہ ہوا۔
“بابا!” ان کو یوں روتے دیکھ کر یوشع ان کے پاس بیٹھا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو کبیر نے بازو اس کے کندھے کے گرد لپیٹ کر چہرہ اس کی گردن میں چھپایا۔
“یار ان سب کو کہو مجھ پر رحم کریں، سکت نہیں رہی اب ان کندھوں میں کسی جنازے کا بوجھ اٹھانے کی۔ بہن، بہنوئی، باپ، بھائی کے جنازے پڑھے ہیں میں نے، اور اب یہ؟ اسے ذرا رحم نہ آیا اپنے چچا پر؟”
کبیر کے آنسو مسلسل یوشع کے کندھے پر گر رہے تھے۔
کیا تم آخری بچ جانے والے انسان کا کرب سمجھ سکتے ہو جس نے پورے خاندان کے جنازوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہو؟ جو تنہا رہ جائے؟ اور اس سے بھی بڑھ کر، کیا تم اس اولاد کا دکھ سمجھ سکتے ہو جس کے بازوؤں نے روتے ہوئے ماں باپ کو سمیٹ رکھا ہو؟ بچپن میں اس کی ماں یوں ہی تڑپتی ہوئی اس کے گلے لگی تھی اور آج باپ کے آنسوؤں کا بوجھ اس کے کندھے اٹھا رہے تھے۔
مریم اور نادیہ بھی وہیں موجود تھیں۔ مریم روتے ہوئے کبیر کو دیکھ رہی تھی۔ خود کے خون پر بیتی کا غم تو محسوس ہو جاتا ہے اور دوسروں کے غم نظر نہیں آتے مریم نے دکھ سے سوچا۔
مریم نے روتی ہوئی صائمہ کو اپنی آغوش میں سمیٹا۔ وہ بچپن کی ساتھی تھی جو ستمگر زمانے نے ایک دوسرے سے جدا کر دی تھیں۔
“بتول! بتول میرا آنگن ویران ہو گیا بتول! میں سلطان کی منتیں کرتی رہی کہ ظلم اتنا کریں جتنا پلٹ کر سہہ بھی سکیں، مگر وہ فرعون بنے رہے۔ ان کے اعمال ہماری خوشیاں کھا گئے بتول۔”
مریم اور مشکوٰۃ مل کر بمشکل انہیں سنبھال رہی تھیں اور نور نے ہمیشہ کی طرح عنایہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
پھر سب سے مشکل وقت آن پہنچا۔ احد اور افق نے بمشکل انہیں جنازہ اٹھانے کے لیے کھڑا کیا۔ ضرار اور کبیر آئرہ کی چارپائی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے مگر بمشکل کبیر، ضرار، یوشع اور اشعث نے میت کو کندھا دیا تھا۔ آئرہ سلطان شاہ، طاقت اور غرور کا دوسرا نام، اب ایک جلی ہوئی میت میں تبدیل ہو چکا تھا اور بدن پر صرف چند گز کا سفید کپڑا تھا، سارا غرور اب منوں مٹی تلے دفن ہو جانا تھا۔ نور، مریم اور باقی عورتیں بہت مشکل صائمہ کو ہینڈل کر رہی تھیں وہ بار بار میت کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
“میری جان! میری بیٹی! میری آئرہ! یوشع! اسے مت لے جاؤ، تمہیں پتہ تو ہے تنگ جگہوں پر اسے گھٹن ہوتی ہے، یہ وہاں کیسے اکیلی رہے گی؟”
صائمہ کی چیخیں مسلسل ان کے کانوں سے ٹکرائی تھیں مگر ان کے قدم نہیں رک سکتے تھے۔ یہ تو اٹل حقیقت تھی۔ قبر ہی تو وہ انجام ہے جسے ہم بھولے بیٹھے ہیں، جس امتحان میں اعمال کام آتے ہیں اور اس کی تیاری کچھ نہیں۔
پھر جنازہ اور تدفین کے بعد سب مرد لوٹ آئے تھے۔ احد کی نگاہ عنایہ پر پڑی تو وہ اس طرف چلا گیا۔
“کر آئے اسے سپردِ خاک؟”
احد کو دیکھ کر عنایہ نے سوال کیا تو اس نے بھی دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا۔ اس کے جواب پر عنایہ کی آنکھوں میں آنسو چمکے۔
“قبرستان میں میرے لیے ایک اور گھر بن گیا جہاں میں کسی اپنے سے ملنے جا سکوں گی۔ خدا نہ کرے کہ کبھی کسی کو ماں کی آغوش اور باپ کی خوشبو پانے کے لیے شہرِ خاموشاں کا رخ کرنا پڑے۔ اللہ کسی پر یہ دن نہ لائے۔”
اس کے آنسو دیکھ کر احد بمشکل صبر کر رہا تھا کیونکہ اس کے پاس ایسا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ انہیں چن سکتا، اس کا درد بانٹ سکتا۔ وہ اس وقت خود کو بے حد بے بس محسوس کر رہا تھا۔ پھر جب مزید وہاں ٹھہرنا دشوار ہوا تو وہ پلٹ گیا۔
یوشع نے بمشکل کبیر کو دوا کھلا کر سلایا تھا اور اب وہ اشعث کے ساتھ زقیہ بیگم کے پاس ہسپتال جانے والا تھا۔
✩━━━━━━✩
“دیکھیں مسٹر شاہ! وہ شدید صدمے کے زیرِ اثر ہیں۔ ان کے وینز سے بلڈ کلاٹس تو ریموو کر دیے گئے ہیں مگر ابھی چند گھنٹے کریٹیکل ہیں، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔”
یوشع کے قدم لڑکھڑائے۔ اشعث نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا۔
“شاہ! خوشیاں مجھے راس کیوں نہیں آتی ہیں؟” وہ تکلیف سے سوال کر رہا تھا۔
اشعث نے ایک لفظ بھی بولے بغیر اسے خود سے لگائے رکھا۔ آج اس کی شادی تھی اور آج وہ اپنی گڑیا کا جنازہ پڑھ کر آیا تھا۔ دادی کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔
✩━━━━━━✩
” یوشع آپ ٹھیک ہے؟” اسے تھکے ہوئے انداز میں لاؤنج میں داخل ہوتے دیکھ کر نور بھاگ کر اس کے پاس آئی۔
“نہیں نور، میں ٹھیک نہیں ہوں۔” اس کا وجود اور اس کا لہجہ اس وقت قابلِ ترس لگ رہا تھا۔
نور نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے، “صبر کریں یوشع! اللہ سب بہتر کرے گا۔”
نور کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کن الفاظ میں تسلی دے۔
“عنایہ اور آنی سو گئیں؟” اس نے انگلیوں کی پوروں سے دونوں آنکھوں کو دباتے ہوئے سوال کیا۔
“جی، بہت مشکل سے لٹایا ہے انہیں” نور نے کہتے ہی گہرا سانس بھرا۔
“مما اور آنٹی کہاں ہیں؟” یوشع نے مریم لوگوں کے متعلق پوچھا۔
“بھائی اور امی لوگ گیسٹ روم میں ہیں” نور کے کہنے پر یوشع نے اثبات میں سر ہلایا، پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسی طرف چل پڑا۔ جب وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو وہ تینوں شاید کسی موضوع پر بات کر رہے تھے۔
“ارے شاہ جان یہاں ہو؟” مریم نے اس کے لیے بازو وا کیے تو وہ ان کی آغوش میں سما گیا۔
“مما ایک بات کرنی تھی۔” یوشع نے تمہید باندی۔
“جی میری جان بولو!” مریم نے پیار سے اس کے بال سہلائے۔ نادیہ اور صوفے پر بیٹھے افق اور نور نے بھی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ یوشع نے مریم کے دونوں ہاتھوں کو تھاما۔
“امی! مجھے پتہ ہے یہ بہت مشکل ہے، مگر میں آپ سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ کیا آپ اشفاق انکل کا قتل معاف کر سکتی ہیں؟”
یوشع کی بات پر چاروں نفوس پر گویا آسمان گرا تھا، نور تو بے یقین نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مجھے پتہ ہے میری بات آپ سب کو انتہائی ناگوار گزری ہے، پر مما مجھ سے اس کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔ آپ جانتی ہیں وہ مجھے کتنی عزیز تھی، وہ مجرم تھی، قاتلہ تھی، پر میرے لیے وہ وہی چھوٹی سی گڑیا رہی ہے جسے بچپن میں میں چھونے سے ڈر جاتا تھا، اس کے رونے پر تڑپ جاتا تھا اور اس کی مسکراہٹ پر نثار ہو جاتا تھا۔ مجھے نہیں پتہ وہ کب کانٹوں بھری راہ پر چل پڑی، کب اس کی معصومیت کو بھیانک انداز میں ختم کر دیا گیا، پر امی وہ مجھے عزیز تھی اور عزیز رہے گی۔ میرا اور اس کا رشتہ شاید آپ سب کی سمجھ میں نہ آئے، مگر میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ میرے دل کا ایک حصہ اس کے لیے مختص ہے۔ ابھی میرے دل پر بہت بوجھ آن پڑا ہے، اس کی حالت کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں مجھے اپنا آپ لگ رہا ہے۔ اس کے کیے گناہوں کا سوچ سوچ کر میرے دل میں درد اٹھ رہا ہے۔ آج اس کی اس تنگ و تاریک قبر میں پہلی رات ہے اور میں نے سنا ہے کہ پہلی رات کا حساب بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں اللہ سے اس کے گناہوں کی بخشش کا سوال تو کر سکتا ہوں جو اللہ اور اس کا معاملہ تھا، مگر جو زیادتیاں اس نے اللہ کے بندوں کے ساتھ کیں میں ان کی معافی کس منہ سے اس اللہ سے مانگوں؟ مما! آنٹی! افق! میں ہاتھ جوڑ کر آئرہ کی جگہ آپ لوگوں سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ میں آخرت میں اسے جہنم کی آگ میں جلتا نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی جلی ہوئی لاش میری آنکھوں سے ابھی تک نہیں ہٹ رہی مما، تو میں اسے اسے حشر میں بھڑکتی آگ میں جلتے کیسے دیکھ سکوں گا؟ آپ پلیز اسے معاف کر دیں مما۔”
یوشع کے آنسو مریم کے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔ پھر نادیہ نے آگے بڑھ کر یوشع کے جڑے ہوئے ہاتھ کھولے۔
“بیٹا! ہم انسانوں کی کہاں اتنی اوقات کہ کسی کو اس کے گناہوں پر جزا و سزا دیں۔ باقی رہی معاف کرنے کی بات تو اللہ معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اور جس نبی ﷺ کے ہم امتی ہیں ان کی بارگاہ میں تو کلیجے چبانے والے بخش دیے جاتے ہیں، تو ان کی سنت پر عمل کرتے ہوئے میں اپنے شوہر اور اپنے بچوں کے باپ کا خون آئرہ سلطان شاہ کو معاف کرتی ہوں اور دعا ہے کہ اللہ اس کی مغفرت فرمائے اور اس کے درجات بلند فرمائے۔”
نادیہ کے الفاظ سن ڈھیروں سکون تھا جو یوشع کو اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہوا۔ مریم نے تشکر بھری نظروں سے نادیہ کو دیکھا۔ انہوں نے یوشع کی بات پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا تھا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ اشفاق پر ان سے بڑھ کر نادیہ کا حق تھا، اگر وہ بیٹے کی محبت میں پگھل کر اس کی بات مان جاتیں تو یہ نادیہ اور بچوں کے ساتھ زیادتی ہوتی۔
“بہت شکریہ آنٹی! میں آپ کا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔”
یوشع کے کہنے پر وہ شفیق سا مسکرا دیں، جبکہ نور خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی اور یوشع نے اس کا جانا بخوبی نوٹ کیا تھا۔ پھر وہ اور افق اکٹھے کمرے سے نکلے تھے۔
“بھائی آپ کہیں جا رہے ہیں؟” اسے گاڑی کی چابی نکالتے دیکھ کر افق نے پوچھا۔
“ہاں دادی کے پاس ہسپتال رکنا ہے۔” یوشع نے سرسری انداز میں بتایا۔
“اچھا آپ آرام کریں میں چلا جاتا ہوں۔” افق نے حتمی انداز میں کہا۔
“نہیں نہیں یار تم آرام کرو میں چلا جاتا ہوں۔ ویسے تو شاہ جانے والا تھا پر ضرار لالا کو شدید بخار ہو گیا ہے، تو وہ بھابھی کے ساتھ انہیں لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا ہے۔”
یوشع نے گہرا سانس بھرتے ہوئے اسے بتایا۔ ایک دن میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ اس ایک لڑکی کے جانے سے سب کی زندگی مدار سے ہٹ گئی تھی۔ شاید وہ وہ نقطہ تھی جس کے گرد سب کی زندگی گردش کرتی تھی اور اس نقطے کے مٹ جانے سے وہ گردش متاثر ہو گئی تھی۔
“آپ کو اکیلے سب دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بھائی، آپ کا بھائی آپ کے ساتھ ہے۔ آپ آرام کریں میں رک جاؤں گا وہاں۔”
افق کے مان بھرے انداز کے جواب میں یوشع کو انکار کرنا مناسب نہیں لگا تو سر اثبات میں ہلا دیا۔ پھر افق نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا۔ تسکین کی ایک لہر تھی جو یوشع کے دل میں اتری۔ واقعی بھائی نعمت ہوتے ہیں۔ یوشع نے بھی بازوؤں کا حصار افق کے گرد باندھا۔ پھر افق دروازے کی طرف بڑھ گیا جبکہ یوشع اپنے کمرے کی طرف۔
“افق بات سنو! یوشع اوپر ہے؟” احد نے افق کو آواز دے کر روکا۔ “جی بھائی ابھی اپنے کمرے میں گئے ہیں، کیوں خیریت؟”
“ہاں وہ اس کو کہنا تھا کہ وہ آرام کر لے، ہسپتال میں میں رک رہا ہوں شاہ کی جگہ۔”
“جی انہیں میں نے آرام کے لیے بھیج دیا ہے، ہسپتال میں خود جا رہا ہوں۔”
“اچھا چلو میں بھی تمہارے ساتھ ہی چلتا ہوں۔”
احد کے کہنے پر افق نے گردن ہلائی، پھر دونوں اکٹھے ہسپتال کے لیے نکل گئے۔
✩━━━━━━✩
یوشع جب کمرے میں آیا تو نور شاید اس کے کپڑے نکال رہی تھی۔
“آپ فریش ہو جائیں میں آپ کے لیے کھانا لے آتی ہوں، صبح سے کچھ نہیں کھایا آپ نے۔”
اسے کمرے میں آتے دیکھ کر نور نے سنجیدگی سے کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ باہر جاتی یوشع نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھام کر اسے روک لیا۔
“آپ ناراض ہیں؟” پھر جانچتی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا۔
“نہیں، آپ کو کیوں لگا؟” نور کا چہرہ بے تاثر تھا۔
“میں نے مما اور آنٹی سے جو بات کی شاید اس وجہ سے۔”
یوشع کے لہجے میں کوئی ڈر جھلک رہا تھا جسے نور نے بخوبی محسوس کیا تھا۔ پھر اس کے چہرے کے تاثرات ڈھیلے پڑے اور ایک قدم کا فاصلہ عبور کر کے وہ یوشع تک آئی اور ایڑیاں اٹھا کر ماتھا اس کے ماتھے کے ساتھ ٹکا دیا۔ یوشع نے سکون سے آنکھیں موند لیں، اس کے گرد حصار قائم کر کے اسے سہارا دیا۔
“آپ سے منسلک ہونے کے بعد، آپ کا سکون، آپ کی خوشی میری اولین ترجیح ہے یوشع، اور اگر آپ کی خوشی اس میں ہے تو میں اپنے بابا کا قتل بھی معاف کر سکتی ہوں۔”
یہ کہتے ہوئے آنسو تھا جو بے اختیار اس کے گالوں پر بہہ نکلا۔ “مگر مجھے برا لگا تھا کہ آج آپ نے پھر خود کو اس کی حالت کا قصوروار ٹھہرایا۔ آپ جانتے ہیں ہر انسان اپنے اعمال کا جواب دہ خود ہوتا ہے۔ اگر آپ اس بات کو دل پہ لگا کے خود کو تکلیف دیں گے تو باقی سب کو کون سنبھالے گا؟ اب اس گھر کا واحد سہارا آپ ہیں یوشع، آپ کو مضبوط بننا ہو گا، سیلف بلیمنگ چھوڑ دیں۔ آپ کہیں غلط نہیں تھے بلکہ آپ تو بہت معصوم ہیں۔اس مکروہ زمانے میں رہنے کے لیے آپ واقعی بہت معصوم ہیں۔”
دونوں ہاتھ اس کے گالوں پر ٹکاتے ہوئے وہ مسلسل اسے سمجھا رہی تھی۔ اس نے کوئی بھی بات دل میں رکھنے کی بجائے واضح طور پر بیان کر دی تھی تاکہ کسی غلط فہمی کو ان کے درمیان آنے کا راستہ نہ ملے۔
اور یوشع کو بھی اچھا لگتا تھا جب وہ اسے سہارا دیتی تھی، جب وہ اسے سمجھاتی تھی، جب وہ اس پر حق جتاتی تھی۔ ضروری نہیں کہ ہر رشتے میں مرد ہی عورت کا سہارا بنے، کہیں نہ کہیں مرد بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اسے بھی تو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر سہارے کے طور پر اس کے پاس اس کی محبت، اس کی محرم ہو تو وہ بڑے سے بڑا غم بھی سہہ سکتا ہے۔
“میں کوشش کروں گا کہ آئندہ کبھی میرے الفاظ اور میرے اعمال آپ کے لیے باعثِ تکلیف نہ بنیں اور آپ کے سارے غم میں خود میں سمیٹ کر آپ کو خوشیاں لوٹا دوں۔”
یوشع نے اس کے گرد حصار مضبوط کیا اور عقیدت سے اس کے کندھے کا بوسہ لیا تو نور نے بھی سکون سے آنکھیں موند لیں۔
✩━━━━━━✩
آئرہ کی موت کو تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔ سب کچھ نہ کچھ حد تک سنبھل گئے تھے۔ زقیہ بیگم بھی ڈسچارج ہو کر گھر آ گئی تھیں اور مریم لوگ واپس لوٹ گئے تھے۔ نور سارے گھر کی ذمہ داریاں سنبھال رہی تھی۔ یوشع نے دوبارہ یونیورسٹی جوائن کرنے کی بجائے آفس سنبھال لیا تھا کیونکہ کبیر کی صحت اب کچھ خراب رہنے لگی تھی اور وہ اتنا کام کا لوڈ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ضرار کی حالت میں بھی کافی حد تک سدھار آ گیا تھا۔ قصرِ شاہ والے بھی سب واپس لوٹ گئے تھے۔
زقیہ بیگم گھنٹوں عنایہ کو سینے سے لگائے بیٹھی رہتیں اور روتی رہتیں۔ یوشع نے بھی ان کی حالت کے پیش نظر انہیں نہیں ٹوکا تھا۔ وہ ولا میں ہی رہ رہی تھی تاکہ نور کی مدد کرواتی رہے کیونکہ مہمانوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔
“چاچو! پانی لاؤں آپ کے لیے؟”
کبیر کو تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر بیٹھتے دیکھ کر عنایہ نے پوچھا تو انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
“بچے! آپ اور نور دوبارہ پڑھائی کب شروع کر رہی ہو؟ کافی حرج ہو رہا ہے آپ لوگوں کا۔”
کبیر نے بہو اور بھتیجی کو دیکھ کر پوچھا تو دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“بابا! میں نے تو سمسٹر فریز کروا دیا تھا شادی سے پہلے، اب انشاء اللہ حالات مزید تھوڑے بہتر ہوں تو جوائن کر لوں گی۔”
نور کے بتانے پر انہوں نے سوالی نظروں سے عنایہ کو دیکھا۔
“جی، میں بھی جلدی جوائن کروں گی۔”
اس کے کہنے پر کبیر نے سمجھ کر سر ہلایا۔
“اچھا چاچو! ہمیں آج بھابھی سے ملنے جانا ہے، ریان بہت ضدی ہو رہا ہے۔ کیونکہ وہ مجھے ایسی صورتحال میں آئ۔۔آئرہ سمجھ لیتا ہے، تو مفراہ بھابھی کہہ رہی تھی کہ اسے بہلا دوں ایک بار، تو کیا میں نور کو ساتھ لے جاؤں؟”
آئرہ کے نام پر عنایہ کی زبان بے ساختہ لڑکھڑائی تھی اور بھتیجی کے ذکر پر کبیر نے نم آنکھیں چرائیں۔
“ہاں ہاں بچے، چلے جاؤ آپ دونوں، نور بیٹی کا بھی تھوڑا ذہن بٹ جائے گا۔”
انہوں نے کہا اور پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آرام کے لیے چلے گئے۔ نور اور عنایہ دونوں قصرِ شاہ کے لیے روانہ ہو گئی تھیں، گاڑی نور خود ہی ڈرائیو کر رہی تھی۔ وہ جونہی اندر داخل ہوئیں تو ریان کے رونے کی آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی جسے مفراہ بمشکل سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ عنایہ کو اندر آتے دیکھ وہ اس کی طرف دوڑا اور عنایہ نے آگے بڑھ کر اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔
“پھپھو جانی!”
ریان کے تکلیف سے ہچکی لینے پر نور نے پیار سے اس کے آنسو پونچھے۔
“جی پھپھو کی جان!”
“آئرن!!” اس نے ہونٹ گول کیے “مما کہہ رہی ہیں، آئرہ دادا جان کی طرح اللہ کے پاس چلی گئی، اب جیسے میں ابو اور امی جان سے ملنے بابا کے ساتھ قبرستان جاتا ہوں ویسے ہی آئرہ سے ملنے بھی وہیں جانا پڑا کرے گا۔”
ضرار جب اپنے والدین کی قبر پر جاتا تھا تو اکثر ریان کو بھی ساتھ لے جاتا تھا، وہ شروع سے ہی اس کے دل میں اپنے دادا دادی کی محبت ڈالنا چاہ رہا تھا۔ ریان کے الفاظ عنایہ کا دل چھیر رہے تھے پر اس نے چہرے کے تاثرات ظاہر نہ ہونے دیے اور ایک نظر مفراہ کو دیکھا، پھر اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی۔
“آئرہ بہت بہتر جگہ ہے ریان، آپ ان کے لیے دعا کیا کرو۔ اچھا، میں نے آپ کو کہا تھا نا کہ آپ کو جب بھی اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہو گی وہ آپ کے پاس ہو گیں۔”
عنایہ سنجیدگی سے اسے سمجھا رہی تھی اور ریان غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر عنایہ نے مزید ایک دو باتوں سے اسے بہلایا تو وہ کچھ حد تک سمجھا، پھر مفراہ نے اسے فیڈر دے کر سلا دیا۔
“باقی سب کہاں ہیں؟” نور نے مفراہ سے پوچھا۔
“مشکوٰۃ کو اشعث یونیورسٹی چھوڑ آیا تھا کیونکہ گھر میں بیٹھ کر وہ اداس اور افسردہ رہ رہی تھی۔ بابا زمینوں کے سلسلے میں گئے ہوئے ہیں اور امی آرام کر رہی ہیں۔ ضرار اور اشعث اسٹڈی روم میں ہیں، تم لوگ بیٹھو میں ریفریشمنٹ لے کر آتی ہوں۔”
مفراہ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تو نور نے اسے روکا۔
“نہیں بھابھی، ضر لالا سے کچھ ڈسکس کرنا ہے تو ہم وہیں جا رہے ہیں، آپ آرام کریں۔”
کہتے ہی وہ دونوں ساتھ ہی اسٹڈی کی طرف بڑھ گئیں۔ جب وہ اندر داخل ہوئیں تو اشعث اور ضرار اسکرین پر جھکے ہوئے تھے۔ صرف ایک نظر اٹھا کر دونوں کو دیکھا۔
“کیا انفارمیشن ہے؟”
نور کی آنکھیں اور لہجہ یکسر تبدیل ہو چکا تھا، وہ مکمل بلیک ہارٹ کے روپ میں تھی، سفاک اور سنجیدہ۔
“آئرہ کے جیل کے سیل سے ایک چپ ملی ہے جس کو ڈی کرپٹ کیا گیا تو اس میں سے ایک ویڈیو اور چند تصاویر موصول ہوئی ہیں۔”
ضرار نے لیپ ٹاپ دیوار پر نصب ایل سی ڈی کے ساتھ کنیکٹ کیا اور ویڈیو پلے کی۔ اسکرین پر آئرہ کا چہرہ نمودار ہوا۔
“ہیلو اسٹرانگ سکوئر(strong square )! مجھے پتہ ہے آپ چاروں یعنی ضرار بھائی، اشعث بھائی، میری پیاری بہنا اور میری رقیب، چاروں سن رہے ہیں۔”
نور کے ذکر پر اس کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ تھی پر ان چاروں کے چہرے سنجیدہ ہی تھے۔
“تو آپ لوگوں کو لگا کہ گیم آپ کے کنٹرول میں ہے؟ چچ چچ چچ۔۔۔ پر افسوس آپ سب میری انگلیوں میں قید کٹھ پتلیاں تھے۔ آپ سب نے وہ کیا جو میں چاہتی تھی۔ اشفاق احمد اور حیدر علی کا ایڈریس جو اتنے سالوں میں آپ تک نہیں پہنچ پایا تھا، میں نے آپ تک پہنچایا۔ کیوں؟ کیونکہ سلطان کا شر بڑھ رہا تھا۔ میں وہ آسیب تھی جس کی جان طوطے میں قید تھی یعنی یوشع میں، اور اس کی گردن میرے باپ کے ہاتھ میں۔ تو سلطان کے خلاف میں نے چار سپاہی تیار کروائے یعنی آپ سب۔ مجھے پتہ تھا مریم ہی بتول ہے پر یہ نہیں پتہ تھا کہ حیدر علی کی بیوہ تہمینہ بیگم ہے ورنہ سلطان شاہ کی جان بھی میری مٹھی میں ہوتی۔ خیر یہاں میں چوک گئی۔
بہت اچھا کھیلے آپ لوگ! یونیورسٹی کے پہلے دن نورِ قلب کو لگا وہ میری توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری اور پھر میری بہن نے ولا میں اینٹری لی۔ کیا منجی ہوئی اداکارہ ہو یار۔۔۔۔ ببل گم!!! اف” وہ شاید دھیما سا مسکرائی تھی۔ “اگر میں تم سے واقف نہ ہوتی تو لازماً پھنس جاتی، پر تمہارے پلان کو میں نے آگے بڑھایا اور جو تم چاہتی تھی یعنی ہماری توجہ بھٹکانا، وہی کیا۔ پر تمہاری ہیکنگ میں ذرا سا جھول ہے میری جان، کوئی نہیں سیکھ جاؤ گی۔ پھر یہ میری گڈ بکس میں آئی، میں نے آنے دیا۔ اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ بابا نے ایک خاص قسم کا زہر منگوایا ہے جس کی خبر میں نے ضرار بھائی کو دلوائی۔ بابا کے سیکرٹ روم کی ایکسیس کی، پورے پلان کے ساتھ آپ تک پہنچائی۔ یوشع کو سیو کیا، نور کو کیڈنیپ رقابت میں نہیں کروایا تھا بلکہ اسے پرکھنے کے لیے کروایا تھا ورنہ وہ بولی لگنے کے وقت اندر کمرے میں بند نہ پڑی ہوتی بلکہ۔۔۔۔ اس بلکہ کے آگے۔۔۔ آپ لوگ خود سمجھدار ہیں۔ لیکن عنایہ کی اداکاری نے تب مجھے بھی چونکا دیا تھا حالانکہ آپ لوگوں نے اسے پوری پلاننگ کے ساتھ کیڈنیپ کروایا تھا، مگر عنایہ کی اداکاری یوں تھی جیسے واقعی اس سے اس کی بہت قیمتی چیز چھین لی گئی ہو۔ ناٹ بیڈ! پر افسوس اس کے ٹریکنگ ڈیوائسز جام ہو گئیں جس نے واقعی چند لمحوں کے لیے آپ لوگوں کو پریشان ہونے پر مجبور کیا، پر ایک کلو میں نے چھوڑ دیا اپنے فون ریکارڈنگز کیونکہ مجھے پتہ تھا میں پہلا اور آخری شک ہوں۔
مگر کیا ہے نہ یہ (اس نے دماغ پر انگلی بجائی)،اس کو( پھر دل کی طرف اشارہ کیا) مات دے دیتا ہے، کٹھ پتلیاں میرے کنٹرول میں تھیں، دھاگے میں نچا رہی تھی پر بازی تب الٹی جب یوشع نے آ کر مجھ سے اظہارِ محبت کیا کہ نورِ قلب اس کے قلب میں دھڑکتی ہے۔”
اس بات پر اس کی آنکھیں زخمی ہوئیں۔
“یہ بات مجھے کہیں اندر سے مار گئی تھی۔ مطلب جس کے لیے میں اپنے باپ سے بغاوت کر رہی ہوں، سارا کھیل رچا رہی ہوں، جس کی ماں سے اسے ملوانے کے لیے میں نے اپنے خلاف ہی سارے ثبوت اور ارحم حمید کا پتہ سب کچھ آپ لوگوں کو دیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ سلطان کے قید ہونے تک بتول منظرِ عام پر نہیں آ سکتی۔
جس کے لیے میں نے اپنی زندگی برباد کر دی وہی میرا نہیں ہے؟ آہ! میں مر تو تب ہی گئی تھی، میرے حواس ساتھ چھوڑ گئے۔ ڈوریں میرے ہاتھوں سے نکل گئیں، کھیل الٹ گیا، کٹھ پتلیاں آزاد ہو گئیں۔ پھر میں نے اس کا نکاح اپنی آنکھوں سے ہوتے دیکھا۔ میں نے کبھی اس کی بیوی بننے کی خواہش نہیں کی، میں اس کی محبت بننا چاہتی تھی، پہلی اور آخری ترجیح۔ وہ چاہے ایک کی بجائے چار شادیاں کرتا پر اپنا دل میرے نام کر دیتا۔ مگر آئرہ کے ساتھ آج تک کس نے وفا کی ہے بھلا؟ بابا کو مارنا کبھی میرا پلان نہیں تھا، مجھے آج بھی اپنے ہاتھوں پر ان کا خون لگا نظر آتا ہے۔ وہ روز خواب میں آ کر مجھ سے شکوہ کرتے ہیں، میں کبھی سکون سے نہیں سو پائی ان کی موت کے بعد سے۔ مگر کسی کو میری دی قربانیاں نظر ہی نہیں آئیں، میرے جرائم نے میری وفا چھپا دی۔ پھر ان سب میں سب سے خوبصورت چیز جو مجھے پتہ چلی وہ تھی کہ عنایہ میری بہن ہے۔ چلو کوئی تو جہاں میں میرا بھی ہے، میری اپنی بہن۔”
عنایہ کے گلے میں آنسوؤں کا گولا اٹکا۔
“اور پھر آئرہ سب کی زندگیوں سے نکل گئی۔ سب کو سب مل گیا، سب مکمل ہو گئے، پہیلی حل ہو گئی اور پہیلی کا ناکارہ ٹکڑا پھینک دیا گیا۔ آج محسن میرے پاس آیا تھا، بابا کا وفادار اور اب ان کی شہزادیوں کا، کہہ رہا تھا کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ سلطان کے ساتھ کام کرنے والوں کے خلاف جو ثبوت میں نے جمع کر رکھے ہیں اس کی بھنک ان سب کو لگ چکی ہے اور وہ میرے خون کے پیاسے بنے گھوم رہے ہیں۔ مجھے سن کر بہت خوشی ہوئی کہ چلو موت خود چل کر دہلیز تک آئی ہے، اسے گلے لگا لیا جائے۔ اگر آپ اس ویڈیو کو دیکھ رہے ہیں تو یقیناً اس وقت میں دو گز زمین کے نیچے لیٹی ہوں گی کیونکہ یہ میری منشا تھی۔ پھر چونکہ آپ سب یوشع کی شادی میں مصروف ہو جائیں گے تو میں پسِ منظر میں چلی جاؤں گی اس لیے تب ہی میں اپنی موت کا کھیل رچاؤں گی۔ اب میں جیل سے فرار ہوں گی، پھر اپنا پتا ان لوگوں کو دوں گی اور پھر میں مر جاؤں گی اور کہانی مکمل ہو جائے گی کیونکہ کہانی کی ولن مر جائے گی۔ آپ سب کو اپنا مکمل ہونا مبارک اور مجھے اپنا ادھورا پن قبول۔ ضرار بھائی! مجھے پتہ ہے میری قبر کی مٹی صرف آپ کے آنسوؤں سے تر ہو گی۔ اپنا خیال رکھیے گا۔”
اور پھر اسکرین تاریک ہو گئی۔ عنایہ نے بمشکل اپنی ہچکیاں دبا رکھی تھیں اور ضرار کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نور سکتے کی حالت میں تھی۔ وہ ہر جگہ اس سے جیت گئی تھی۔ نورِ قلب کو آئرہ سلطان شاہ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور اشعث گنگ تھا۔
ویڈیو کے ساتھ چند تصاویر تھیں؛ جب وہ چاروں پہلی دفعہ ملے، جب ضرار اور اشعث ان دونوں کو ٹریننگ دے رہے تھے، جب جب وہ دونوں لاہور آئیں، عنایہ جب لائبریری میں بیٹھ کر ولا کے کیمراز ہیک کر رہی تھی۔ وہ ہمیشہ سے سب جانتی تھی، ہر چیز اس کے کنٹرول میں تھی۔ ان کی محنت، ان کا پلان، ان کا جال کچھ بھی اپنا نہیں تھا۔ چاروں کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا۔
“کس کا کام ہے؟؟؟۔” اس سکوت کو اشعث نے توڑا۔
“فرید گینگ..” ضرار کو آج ہی ساری معلومات ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے دی گئی تھیں پر وہ ایک ایسا نام تھا جس تک پہنچ پانا ناممکن تھا۔ وہ لوگ اسمگلر نہیں تھے، دہشت گرد تھے، ایک ناقابلِ تسخیر گینگ۔
جو انکشافات آئرہ نے کیے تھے اس نے ان کی قوتِ گویائی چھین لی تھی۔
✩━━━━━━✩
چند دن بعد احد یوشع سے ملنے آیا تھا، اس کا سامنا عنایہ سے ہوا۔
“کیسی ہیں آپ؟” حالانکہ وہ بہت عجلت میں تھا پر ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ عنایہ سے ملے بنا چلا جاتا۔
“اچھی ہوں، آپ کیسے ہیں؟” پتہ نہیں کیوں احد کو اس کا انداز عجیب لگ رہا تھا۔
“میں بھی ٹھیک، یوشع کہاں ہے؟ ضرار سے ایک کام ہے اسے۔” وہاں سے اجلت میں معلوم ہو رہا تھا۔
“وہ اندر ہے۔” اس کے بتانے پر وہ تیزی سے اندر بڑھا پر عنایہ کے الفاظ نے قدم روک دیے۔
“عزیزوں سے اتنی مختصر ملاقات نہیں کرتے وکیل صاحب! بعض دفعہ ملاقاتیں دوبارہ نصیب نہیں ہوتیں۔ پر خیر آپ اجلت میں لگ رہے ہیں، جائیں۔” اس نے بازو سینے پر باندھتے ہوئے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔
“میں ہر روز اپنے عزیزوں کو اللہ کے حصار میں دیتا ہوں، مجھے پتہ وہ مجھ سے دور نہیں ہوں گے۔” احد نے بھی اپنی ڈارک براؤن آنکھیں اس کی شہد رنگ آنکھوں میں گاڑیں تو عنایہ کا دل عجیب لے پر دھڑکا۔ پہلی دفعہ دو مختلف رنگت لیے بھوری آنکھیں ایک دوسرے کو اتنے قریب سے دیکھ رہی تھیں۔
“اپنا خیال رکھیے گا۔” احد کہتے ہوئے مزید وہاں نہیں رکا تھا اور احد کے ارد گرد کا شور تھم گیا۔ سب آوازیں پسِ منظر میں چلی گئی تھیں۔ اگر کوئی گونج تھی تو اس اپنائیت بھری پکار کی جو اس عزیزِ من کے ہونٹوں سے اس کے لیے ادا ہوئی، پر اس کی وہ کرب زدہ آنکھیں احد کو بے چین کر گئی تھیں۔ کچھ تھا جو غلط تھا، کچھ تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا، پر پھر اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک دیا۔
صبح جو خبر ولا کے مکینوں کو ملی وہ غیر یقینی کی انتہا تک لے گئی تھی۔ عنایہ غائب تھی اور اس کے کمرے سے ایک پیغام ملا تھا۔
“میں یہاں نہیں ٹھہر پا رہی، میں اپنی آخری خوشی بچانے جا رہی ہوں۔ مجھے تلاش مت کیجیے گا، میں ڈھونڈنے سے نہیں ملوں گی۔”
نور بے حس و حرکت وہ کاغذ ہاتھ میں تھامے بیٹھی تھی۔ وہ واقعی یہ کر گئی تھی، اس کے ساتھ سچ میں یہ کر گئی تھی۔ پھر اس کے چہرے پر کئی رنگ آئے؛ سب سے پہلے بے یقینی، پھر قرب اور پھر غصہ۔ اس نے بے دردی سے آنسو پونچھے اور بے تاثر انداز میں اس کاغذ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اگر وہ چلی گئی تھی تو اسے بھی اس سے کوئی سروکار نہیں رہا تھا۔
اشعث اور ضرار نے ہر طرح سے اسے ٹریس کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے ملک سے باہر جانے والی ہر پرواز کی ڈیٹیل نکلوا لی تھی، شہر سے باہر جانے والی ہر ٹرین، ہر بس، ہر گاڑی کی معلومات نکلوا لی گئی تھیں پر عنایہ کا نام و نشان بھی نہیں ملا تھا۔ انہوں نے ہر ترکیب آزما لی تھی مگر وہ شاید بھول گئے تھے کہ وہ ان کی ہی شاگردہ تھی۔ اسے نہیں ملنا تھا، وہ نہیں ملی۔
“اشعث بیٹا! احد بہت غصے میں گاڑی لے کر نکلا ہے، اس کو دیکھو میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے۔” فون پر مسز صدیقی کی روتی آواز سن کر اشعث فوراً گاڑی کی طرف لپکا۔
“آنٹی! میں دیکھتا ہوں، آپ پریشان مت ہوں۔” وہ مسلسل سڑکوں پر گاڑی بھگاتا احد کو تلاش رہا تھا۔ پھر ایک جگہ اسے احد کی گاڑی نظر آئی جس کا سامنے سے بونٹ ٹوٹا ہوا تھا اور پاس ایک موٹر سائیکل گری ہوئی پڑی تھی، اور کہیں دور ایک آدمی پر جھکا اسے بری طرح پیٹ رہا تھا۔ باقی ساری سڑک خالی تھی۔ اشعث فوراً اس طرف لپکا۔
“احد! پاگل ہو گیا ہے؟ چھوڑ اسے!” اشعث نے بہت مشکل سے احد کو اس آدمی سے الگ کیا تو آزادی ملنے پر وہ آدمی فوراً وہاں سے بھاگا۔
“شاہ! سب نے احد صدیقی کو ہلکا لے لیا ہے، تیری بہن نے بھی مجھے معصوم شریف سا لڑکا سمجھ رکھا ہے کیا؟ وہ کیسے مجھ سے دور جا سکتی ہے؟ ہاں؟ کیا اسے پتہ نہیں ہے احد صدیقی قہر کا دوسرا نام ہے! میں اسے زمین کی ساتویں تہہ سے بھی کھوج نکالوں گا، تو دیکھنا۔” وہ بالکل بھی اپنے حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔ اس بکھرے ہوئے شیر کو سنبھالنا اکیلے اشعث کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔
“محبت کرتا ہوں اس سے، اور کئی سال سے کرتا ہوں۔ وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے شاہ؟ شاہ!وہ تیری مان لیتی ہے یار، تو بلا نہ اسے، وہ آ جائے گی۔ دیکھ! مجھے لگ رہا ہے میرا دل پھٹ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کوئی کانٹوں بھرا چابک لے کر مجھ سے میرا حصہ الگ کر رہا ہے۔ مر رہا ہوں یار! اس کو بول وہ واپس آ جائے! واپس آ جاؤ عنایہ! عنایہ!!!!!!!!!!”
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا آسمان کی طرف چہرہ اٹھائے زور زور سے چیخ رہا تھا۔
“اٹھو اور گھر چلو، آنٹی پریشان ہو رہی ہیں، اٹھ چل!” وہ مضبوط جسامت کا انسان تھا مگر اشعث کے ساتھ کسی کٹی پتنگ کی طرح کھنچا چلا جا رہا تھا۔
اس کے حواس بالکل گم ہو چکے تھے اور اشعث بھی اس صورتحال پر شدید جھنجلاہٹ کا شکار تھا۔ پہلے آئرہ کی موت، پھر وہ تمام انکشافات، عنایہ کی غیر موجودگی اور احد کی حالت، سب نے اسے ذہنی طور پر تھکا دیا تھا۔
احد صدیقی نے محبت کی تھی اور محبت میں خواری ہی تو مقدر ہوتی ہے اور اب ان کو وہ خواری جھیلنی تھی۔ اشعث نے اسے بمشکل گاڑی میں دھکیلا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
پانچ سال بعد:
“آئرہ! آئرہ!” ضرار گھر میں داخل ہوتے ہوئے مسلسل آوازیں دے رہا تھا، اس کی آواز میں بے قراری سی تھی۔ لاونج میں بیٹھے ابراہیم صاحب اس کی حالت پر مسکرا دیے۔
“یس بابا جانی!” ایک معصوم سی پکار پر ضرار نے پیچھے مڑ کر دیکھا، مگر اس معصوم جان کا حلیہ دیکھ کر اس کے چہرے پر بے بسی بھری مسکراہٹ ابھری۔
“ادھر آؤ میرا بیٹا!” ضرار نے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے بازو وا کیے تو وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگتی ہوئی کھلکھلا کر اس کی آغوش میں سما گئی۔ ضرار نے بھی اس کے مٹی سے اٹے کپڑوں اور ہاتھوں کی پرواہ کیے بغیر اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔
“ضررررررر!” چیختی ہوئی آواز پر دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر آنکھیں مینچ لیں، جبکہ ابراہیم صاحب نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور چشمہ اتار کر دلچسپ نظروں سے اپنے بڑے سپوت کی درگت بنتے دیکھنے لگے۔
“جی بیگم!” ضرار نے کسی تابعدار شوہر کی طرح مفراہ کی پکار پر لبیک کہا۔
“ضرار! کتنی دفعہ بولوں اس کو اتنا سر پر نہ چڑھائیں؟ ابھی آدھے گھنٹے پہلے میں نے اسے نہلا کر کپڑے چینج کروائے ہیں، اب یہ محترمہ پھر مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر آ گئی اور آپ بھی اس گندی کو گود میں اٹھا کر کھڑے ہیں۔”
مفراہ کے تاثرات تیکھے تھے۔ چھوٹی سی آئرہ اسے سارا دن اپنے آگے پیچھے نچاتی تھی۔
“بابا! میں گندی؟” چھوٹی سی آئرہ نے ضرار کا چہرہ تھام کر اپنی سیاہ موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو بھر کر پوچھا تو ضرار کو اس کی معصومیت پر پیار آیا۔
“نہیں تو! میرا بیٹا تو اتنا کیوٹ ہے، اتنا پیارا ہے۔ بس میرے بیٹے کی مما میرے اتنے پیارے بچے سے جیلس ہوتی ہیں۔” ضرار نے شرارتی انداز میں مفراہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور آئرہ کے بال سنوارے تو اس کی توقع کے عین مطابق مفراہ چِڑ گئی۔
“ضرار! آج آپ کے یہ پھپھو کٹنیوں والے ڈرامے نہیں چلنے والے، اسے اپنی زبان میں سمجھائیں ورنہ میرا انداز پھر آپ کو برا لگ جاتا ہے۔” مفراہ نے انگلی اٹھا کر ضرار کو وارن کیا، کیونکہ وہ ایسے ہی اسے ہمیشہ چڑا کر موضوع سے ہٹا دیتا تھا، پھر بیٹی کو لے کر فرار ہو جاتا تھا اور بیچ میں وہ کڑھتی رہ جاتی تھی۔
“اچھا یار! کیا ہو گیا ہے؟ چھوٹی ہے وہ، آہستہ آہستہ سیکھ جائے گی اور تم آتے ساتھ محاذ کھول کر بیٹھ جاتی ہو، سانس تو لینے دیا کرو، پانی پوچھنا تو ویسے ہی حرام ہے تم پر۔” ضرار نے مصنوعی رعب جھاڑنے کی کوشش کی پر پیچھے سے پڑنے والی آواز پر مفراہ نے جتاتی نظروں سے اسے دیکھا۔
“کیوں؟ کون سی جنگیں لڑ کر آ رہے ہو جو اتنا تھک گئے؟ اور ماشاء اللہ سے دونوں ٹانگیں سلامت ہیں، اور وہ رہا سامنے کچن، جاؤ اور پیو جا کر۔ مفراہ بیٹا! آپ بیٹھو یہاں آرام سے آ کر، صبح سے کام میں لگی ہوئی ہو آپ۔” ضرار کو جھڑکنے کے بعد ابراہیم صاحب نے مفراہ کو ملائمت سے کہا تو وہ ضرار کو زبان دکھا کر ان کی طرف بڑھ گئی۔
ضرار کچن سے پانی پی کر اسی طرف چلا آیا تھا۔ آئرہ ابھی تک اس کی گود میں اس کی بڑھی ہوئی بیئرڈ سے کھیل رہی تھی۔ ضرار کچن سے اس کے ہاتھ اور منہ بھی دھلوا کر لایا تھا، مگر اس کے کپڑوں پر ابھی بھی مٹی لگی ہوئی تھی اور اس کے اپنے کپڑے بھی خراب ہو چکے تھے پر پرواہ کسے تھی۔
ضرار نے آگے بڑھ کر ابراہیم صاحب کے ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگائے تو آئرہ نے بھی اس کی گود میں لٹک کر وہی عمل دہرایا اور واپس اس کی گود میں چڑھ گئی۔
“دادا کی جان! ادھر آؤ۔” ابراہیم نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے معصومیت سے اپنے گندے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا کہ اگر میں آپ کی گود میں آ گئی تو آپ کے کپڑے بھی گندے ہو جائیں گے۔ اس کی حرکت پر وہ تینوں ہنس دیے۔ وہ ایسی ہی تھی، اس کی ہر شرارت صرف ضرار تک محدود تھی، باقیوں سے وہ بہت احترام سے پیش آتی تھی۔
ضرار اسے اٹھا کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد دونوں باپ بیٹی فریش ہو کر نکھرے نکھرے لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے۔ ثمینہ بھی وہیں آ گئی تھی۔
مفراہ نے محبت سے اپنی فیملی کو دیکھا۔ آئرہ کی موت کے بعد ضرار بہت غمگین رہنے لگا تھا، مگر جب انہیں پتا چلا کہ وہ دوسری مرتبہ والدین کے عہدے پر فائز ہونے والے ہیں تو ضرار کی خوشی دیدنی تھی۔ بیٹی کی پیدائش پر تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا تھا۔ اپنی بیٹی کا نام اس نے آئرہ رکھا تھا اور اب وہ سب کی آنکھ کا تارا تھی اور ضرار کی تو اس میں جان بستی تھی۔ وہ کھاتی بھی ضرار کے ہاتھ سے تھی، سوتی بھی ضرار کے پاس تھی، اس کا ہر چھوٹے سے چھوٹا کام وہ خود کرتا تھا۔ زندگی اب خوبصورت تھی اور خوبصورتی سے کٹ رہی تھی۔
“اشعث کہاں ہے امی؟” ضرار نے ثمینہ سے اشعث کی غیر موجودگی کے متعلق سوال کیا۔
“وہ مشکوٰۃ اور ریان کو لینے گیا ہے۔” ثمینہ کے بتانے پر اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔
دو سال پہلے ہی مشکوٰۃ نے اپنی سائیکالوجی کی ڈگری مکمل کی تھی اور انٹرنشپ کے بعد اب چند ماہ پہلے ہی اس نے اپنا ذاتی کلینک اوپن کیا تھا۔ اشعث اور ضرار ہمیشہ اس کے اس سفر میں اس کے ساتھ رہے تھے۔
✩━━━━━━✩
جاری ہے
