پت جھڑ قسط نمبر ؛ ٢٠
ازقلم الم
صبح کا سورج بھی آن پہنچا۔ احد کی فیملی اور اشعث وغیرہ سب اسے ایئرپورٹ چھوڑنے آئے، سب کے مطابق وہ عمرے کے لیے جا رہا تھا۔ اس نے کسی کی نہ تصدیق کی تھی نہ تردید۔ سب سے ملنے کے بعد وہ اپنی منزل کی طرف بڑھ گیا۔ چند گھنٹوں کی اڑان کے بعد اس کا جہاز مدینہ کے ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا۔ پروٹوکولز فالو کرتے ہوئے وہ ایئرپورٹ سے باہر آیا۔
اس کے قدم سرزمینِ مدینہ پر پڑے۔ اس کی سانسوں نے اس فضا کی مہک خود میں اتاری جس میں کبھی محبوبِ امت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سانس لی ہو گی۔ پھر وہ ایک گاڑی میں سوار ہو گیا۔
“سر! ہوٹل چلنا ہے؟” ڈرائیور نے مودبانہ انداز میں پوچھا۔
“نہیں! مسجد چلو۔”
اس کا دل مسجدِ نبوی کی طرف ہمک رہا تھا، وہ ابھی تک اسی خواب کے حصار میں جکڑا ہوا تھا۔ مسجدِ نبوی سے کچھ پیچھے نہ جانے کیوں اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔
“سر! پتہ نہیں کیا مسئلہ ہو گیا، سٹارٹ نہیں ہو رہی۔” ڈرائیور بھی کافی پریشان لگ رہا تھا۔
“اچھا آپ اسے ٹھیک کروا لیں اور سامان ہوٹل پہنچا دیجیے گا، میں پیدل چلا جاتا ہوں۔”
پھر اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور قدم مسجد کی جانب بڑھا دیے۔ اس کے پیچھے اُحد کے بلند قامت پہاڑ پوری شان سے کھڑے تھے وہ شاہراہ اُحد پر چل رہا تھا۔
سامنے مسجدِ نبوی تھی اور پیچھے اُحد کے پہاڑ۔ وہ سرور میں گلیوں میں قدم دھر رہا تھا۔ مسجد کے بیرونی دروازہ نمبر 21 سے بیرونی صحن میں داخل ہوا۔ صحن میں کہیں کہیں کارپٹ بچھائے گئے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا تو صحن میں لگی چھتریاں کھلی ہوئی تھیں۔ انتظامیہ یہاں وہاں صفائی کرتی نظر آ رہی تھی تو کوئی عبادت میں مشغول۔ یہ مسجد کا پچھلا حصہ تھا، یہاں سے گنبدِ خضریٰ نظر نہیں آتا تھا۔ سبز گنبد دیکھنے کے لیے وہ بے چین ہو رہا تھا، اور پھر وہ مسجد کے سامنے والے حصے کی طرف بڑھ گیا۔ اب وہ سبز گنبد اس کی نظروں کے سامنے تھا۔
جہاں شہرِ مکہ انسان پر رعب طاری کرتا ہے، وہیں شہرِ مدینہ ماں کی آغوش سے زیادہ پرسکون ہے۔ وہ اس ہستی کے در پر کھڑا تھا جو بے سہاروں کا سہارا تھے، جو سراپائے رحمت تھے، جو نورِ بشر تھے، جو اس کے نبیؐ تھے۔ اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ سبز گنبد کو دیکھ کر دل کا یہ عالم تھا تو سنہری جالیاں دیکھ لیتا تو کیا ہوتا؟ اور اگر کبھی بذاتِ خود وہ روبرو آ جاتے تو وہ کیسے بائیں پہلو میں دھڑکتے اس لوتھڑے کو سنبھال پاتا؟
خدا کی غیرت نے ڈال رکھے ہیں جو تجھ پہ ستر ہزار پردے
جہاں میں بن جاتے طور لاکھوں جو ایک اٹھتا حجاب تیرا
وہ نظروں کو سیراب کر ہی رہا تھا کہ کانوں میں ایک حسین ہنسی کی آواز گونجی۔
اس نے بے ساختہ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ کوئی لڑکی بچوں میں کچھ تقسیم کر رہی تھی اور بچے خوش ہوتے ہوئے اس کے ارد گرد بھاگ رہے تھے۔ اس لڑکی کی اس کی طرف پیٹھ تھی، وہ زمرد رنگ کے عبایا میں ملبوس تھی۔
پھر وہ پلٹی اور کائنات کی گردش تھم گئی۔ آس پاس کا شور رک گیا۔ اسے بھوری آنکھوں کے سحر میں قید کر لیا گیا۔ عنایہ کی نظر بھی اس طرف اٹھی اور اس کے قدم بھی زمین نے جکڑ لیے۔ دونوں ساکت سے یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ احد کا سکتہ ٹوٹا اور اس کے قدم اس کی طرف اٹھے۔ عنایہ پلٹ نہ سکی، چاہ کر بھی نہیں۔ احد اس سے چند قدموں کے فاصلے پر رک گیا۔
اور زمانے نے دیکھا تھا کہ کیسے وہ مرد اس عورت کے قدموں میں جھکا اور گردن اس کے سامنے جھکا دی۔ عنایہ اس کی حرکت پر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔ کیا اس کی اتنی اوقات تھی کہ ایک شاندار مرد اس کے قدموں میں جھکتا؟ کیا تھا اس کے پاس؟ عام شکل و صورت، گندمی رنگت، نہ کوئی مضبوط سہارا، نہ کوئی دولت نہ شہرت، کچھ بھی تو نہیں تھا، اور سامنے بیٹھے مرد کے مقابل اس کی کیا حیثیت تھی؟
اگر وہ احد صدیقی سے پوچھتی تو وہ کہتا کہ وہ عورت کائنات کے سب سے خوبصورت پھول سے زیادہ معطر، سب سے قیمتی ہیرے سے زیادہ انمول، سانسوں سے زیادہ ضروری اور دھڑکن کی وجہ تھی۔
“کیا عنایہ حیدر جیسی مضبوط اور عظیم عورت مجھ جیسے عام سے مرد کے عقد میں آ کر اسے خاص بنانا پسند کریں گی؟” وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے، گردن جھکائے التجا کر رہا تھا اور عنایہ اس کے ہر لفظ پر بے یقین ہو رہی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اسے منع نہیں کر پائی تھی۔ وہ اسے اپنے سحر میں جکڑ گیا تھا، وہ اسے اسیر کر گیا تھا اور وہ اس کی اسیر ہو گئی تھی۔
“میں سامنے بیٹھے اس مرد کی محبت کو کامل کرنے کے لیے تیار ہوں۔” عنایہ کے ہونٹوں سے ادا ہوئے لفظوں نے اسے غیر یقینی سے دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ کیا واقعی وہ اس کی محبت پر ایمان لے آئی تھی؟ کیا واقعی وہ اس کی ہونے جا رہی تھی؟ کیا دعائیں یوں بھی قبول ہوتی ہیں؟ کیا الفاظ میں شفا ہوا کرتی ہے؟ ہاں سامنے بیٹھی عورت کے الفاظ، اس کی خوشبو، اس کا احساس سب کچھ شفا تھا۔
چند لمحوں بعد عنایہ حیدر زمرد عبایا پر سرخ دوپٹہ اوڑھے بیٹھی تھی۔ اس کے سامنے احد صدیقی آنکھوں میں نمی لیے اور لبوں پر مسکراہٹ سجائے بیٹھا تھا۔ نکاح کا انتظام اس نے خود ہی کیا تھا۔ شاہ ولا، قصرِ شاہ اور صدیقی ہاؤس سب ویڈیو کال کے ذریعے کنیکٹڈ تھے، سب ابھی تک اس صورتحال پر بے یقین تھے۔ وہاں کے چند مقامی لوگ نکاح کے گواہ بنے تھے۔ نکاح ہوتا دیکھ کچھ عورتیں بھی عنایہ کے پاس آ گئی تھیں۔
وہ دونوں روبرو بیٹھے تھے۔ گنبدِ خضریٰ کے سامنے وہ دونوں سنتِ نبیؐ ادا کرنے جا رہے تھے۔ کیا اس جگہ سے بھی مقدس کوئی مقام نکاح کے لیے ہو سکتا تھا؟
“عنایہ حیدر بنت حیدر علی! آپ کا نکاح احد صدیقی بن احمد صدیقی، سکہ رائج الوقت 5,730 روپے ہونا قرار پایا ہے، کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟” امام اردو میں عنایہ سے اس کی رضامندی پوچھ رہا تھا۔
عنایہ کو حق مہر تھوڑا عجیب سا لگا تھا، پھر اس نے ہاتھ میں تھامے نوٹوں کو دیکھا، اسے صرف پانچ ہزار کا ایک پرانا بوسیدہ سا نوٹ نظر آ رہا تھا، باقی اس نے پیسے گننے کی زحمت نہیں کی تھی نہ احد سے پوچھا تھا۔ حالانکہ احد نے اسے پوچھا تھا کہ وہ کتنا حق مہر چاہ رہی ہے، تو اس نے اس کا اختیار اس کو ہی دے دیا تھا کہ وہ جتنا استطاعت ہو اتنا لکھوا دے۔ اسے رقم کم زیادہ نہیں عجیب لگی تھی، مگر اس نے زیادہ سوچے بنا “قبول ہے” کہہ دیا۔ اسی طرح تین مرتبہ اس سے رضامندی لی گئی، پھر اس کے دستخط لیے گئے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے سائن کیے۔
کیا آسان ہوتا ہے پوری زندگی ایک انسان کے نام لکھ دینا، اگر اس کو وہ زندگی سنبھالنا نہ آیا تو؟ مگر عنایہ حیدر کو یقین ہونا چاہیے تھا کہ وہ کبھی احد صدیقی کے ہاتھوں ضائع نہیں کی جائے گی۔ وہ ایک عظیم عورت تھی جو ایک اعلیٰ مرد کے سپرد کی جا رہی تھی۔
اسی طرح احد سے بھی پوچھا گیا تو قبول ہے کہتے وقت اس کی نم آواز کو عنایہ نے محسوس کیا۔ اس کی محبت کی حدت سے وہ پگھل رہی تھی۔ ایسا کب سوچا تھا کہ کوئی اسے یوں بھی چاہے گا؟
اسے بالکل محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ تنہا ہے، اس کے آس پاس کوئی اس کا اپنا موجود نہیں۔ جس ہستی کے در پر بیٹھی تھی وہاں وہ تنہا ہو سکتی تھی بھلا؟ وہ تو سب کا والی تھا۔
نکاح مکمل ہوا تو دعا مانگی گئی۔ وہاں موجود مردوں نے احد کو مبارکباد دی اور عورتوں نے عنایہ کو۔ یہ مبارکباد ہوتی ہے کہ ایک مومن کا ایمان مکمل ہو گیا، ایک عورت ایک مرد کے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے اور ایک مرد ایک عورت کا محافظ۔ سب انہیں مبارکباد دے کر رخصت ہو گئے تو احد نے قبلے کی سمت رخ کر کے سر سجدے میں رکھ دیا۔ عنایہ کو اس کے کندھے ہلتے محسوس ہو رہے تھے جیسے وہ رو رہا ہو۔ پھر اس کی آواز سرگوشی کی صورت اس کی سماعتوں سے ٹکرائی
“اے میرے اللہ! مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیسے آپ کا شکر ادا کروں؟ آپ نے مجھے نواز دیا میری اوقات سے بڑھ کر۔ آپ نے مجھے میرا چین احسن انداز سے لوٹا دیا۔ بے شک آپ عطا کرنے والے ہیں اور آپ نے عطا کیا مجھے۔”
اس نے دھیرے سے سر سجدے سے اٹھایا تو اس کی پلکیں نم تھیں، پھر وہ عنایہ کی طرف بڑھا اور کھینچ کر اسے خود سے لگایا۔ عنایہ کو اس کی دھڑکن تیز محسوس ہوئی، جیسے ایک یقین اور غیر یقینی کی کیفیت میں جھولتے ہوئے انسان کی ہوتی ہے۔ وہ شاید عنایہ کو اپنے حصار میں لے کر یقین کرنا چاہ رہا تھا کہ وہ واقعی اسے سونپ دی گئی ہے۔ کیا پانچ سال کی مسافت کم ہوتی ہے؟ مگر جو انعام اسے لوٹایا گیا تھا وہ آزمائش کے دکھ بھلا گیا تھا۔
عنایہ کی دھڑکنیں بھی اس کے حصار میں تھم گئی تھیں۔ پہلی مرتبہ کسی مرد کا مضبوط حصار محسوس کیا تھا، اسے اندازہ ہوا تھا کہ محرم کی آغوش کتنی مضبوط ہوتی ہے۔
“میں تمہاری صورت میں نواز دیا گیا عنایہ! شکریہ تم نے مجھے مکمل کیا۔” وہ جیسے کہہ رہا تھا۔
عنایہ نے جواباً کچھ نہیں کہا۔ پھر احد نے اس کی کلائی تھامی اور اسے عورتوں والے حصے میں چھوڑ کر خود مردوں والے حصے کی جانب نماز ادا کرنے کے لیے بڑھ گیا۔ پہلے وہ طلب میں جھکتا تھا، آج شکر میں جھکنا تھا۔
ہماری کہانی اس وقت ہمیں لے کر چل رہی ہے مغربی افریقہ کی سمت مغربی افریقہ کے دل میں واقع ایک ملک Burkina fasco۔ اس ملک کی مٹی، دھوپ اور صحرا کے علاوہ اس کی خاصیت وہ غریبی اور مفلسی ہے جو بہت سے جرائم کو جنم دے دیتی ہے۔ وہی بھوک جو انسان کو حیوان بننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ دہشت گردی سے پہلے کسی بھی ملک میں سب سے پہلے بھوک جنم لیتی ہے بالکل Burkina fasco کی طرح۔
تو منظر ہے وہ برکینا فاسو کے دارالحکومت اوگاڈوگو کا۔ ہماری توجہ نہ ہی وہ خستہ حال گلیاں اپنی طرف مبذول کروا پائیں اور نہ ہی وہ خوراک کی آس لیے آنکھیں، بلکہ ہماری تمام تر حسیات اس وقت ایک پرتعیش عمارت کی طرف مبذول ہیں جس میں جلتے تیز میوزک کی دھمک باہر کھڑے درختوں تک کو بھی سہما رہی ہے۔ پر اندر اپنی دنیا میں بدمست لوگوں کی طبیعت پر یہ سب گراں نہیں گزر رہا۔
تبھی ایک آسیب زدہ شہزادی آنکھوں میں شیطانی چمک لیے اس عمارت کے سامنے کھڑی ہوئی۔
اچانک سے عمارت کی تمام تر روشنیاں گل ہو گئیں اور موسیقی رکنے سے ایک دم فضا میں گہرا سکوت چھا گیا۔ اور آسیب زدہ شہزادی کے ہونٹوں پر زہرخند مسکراہٹ اتری، جبکہ اس عمارت میں موسیقی کے اچانک رکنے سے بدمزگی پھیل گئی تھی۔
تب ہی ایک دم زوردار آواز سے شیشے کی نفیس سی چھت سے لٹکتا ہوا فانوس زمین بوس ہوا جس کی وجہ سے وہاں موجود لوگوں میں بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی اور بالکل ایسے ہی دھماکے دار طریقے سے وہ چھت بھی چھناکے سے ٹوٹ گئی۔
محفل میں موجود لڑکیوں کی چیخیں بلند ہوئیں۔ بجلی کی سی تیزی سے رسیوں کے سہارے ایک صنفِ نازک عمارت میں داخل ہوئی۔ اس نے گھٹنے زمین پر جماتے ہوئے خود کو سہارا دیا۔ وہ سیاہ سلیو لیس شرٹ میں ملبوس تھی۔ شرٹ سے جھلکتے اس کے برہنہ بازوؤں پر جلنے کے مندمل ہو چکے نشانات تھے۔ کیمو کارگو جینز، پر اس نے ہوسٹلر میں گنز اور چاکو فٹ کر رکھے تھے اور چہرے پر سیاہ نقاب۔ اس کا چہرہ جھکا ہوا تھا اور چند آوارہ لٹیں اس کے چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھیں۔ بال کس کر ایک پونی ٹیل میں باندھے گئے تھے۔ نقاب سے جھلکتی سیاہ آنکھوں میں جنون کے ساتھ ہلکورے لیتا ایک کرب و انتقام کا سایہ بھی ابھر رہا تھا۔
ہلکے اجالوں میں، ہلکے اندھیروں میں تو اک راز ہے
جو کھو گیا ہے، وہ کیا ہو گیا ہے، کیوں ناراض ہے؟
اے رات اتنا بتا، تجھ کو تو ہوگا پتہ
مسکانیں جھوٹی ہیں، پہچانیں جھوٹی ہیں، رنگینی ہے چھائی۔
اس کی سرگوشی نما پراسرار گنگناہٹ ماحول پر عجیب سا خوف طاری کرتی تھی۔
“Sorry for coming without invitation but trust me you will enjoy my services.”
(دعوت کے بغیر داخلے پر معذرت، پر یقین رکھیں کہ آپ میری خدمات سے خوب لطف اٹھائیں گے۔)
کہتے ہی اس نے آنکھ ماری اور ساتھ ہی پیچھے کی جانب گھٹنوں کے بل جھک کر خود کی طرف آتیں گولیوں کا نشانہ خطا کیا۔ بہت سے سیاہ فام ہٹے کٹے مردوں نے اس کو گھیرے میں لیا، پر اس لڑکی کے چہرے پر خوف ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا تھا۔
“Who are you?”
ایک سیاہ فام نے اس کی کنپٹی پر پستول تان کر محتاط انداز میں سوال کیا۔
“Demon princess.”
شہزادی نے معنی خیز انداز میں جواب دیا۔
“Kill her.”
، ان کے سرغنہ نے حکم دیا تو ایک ساتھ سب اسے مارنے کے لیے دوڑے۔
عجب تھا، مردوں کا مجموعہ تنہا عورت سے ڈر گیا تھا۔ پھر وہ لڑکی پھرتی سے سامنے کی طرف دوڑی اور ہوا میں اچھل کر ایک مکہ گارڈ کے جبڑے پر مارا۔ وار اتنا زوردار تھا کہ اس کے منہ سے خون فوارے کی صورت باہر آیا۔ پھر اس لڑکی نے زوردار طریقے سے اپنا سر اس کے سر میں دے مارا اور اس کو سر کے بالوں سے پکڑ کر گردن کو گھمایا تو ہڈی کے ٹوٹنے جیسی آواز آئی اور وہ چوڑی جسامت والا سیاہ فام گارڈ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ پھر اس نے ٹانگوں پر بندھا چاکو اتارا اور ایک اور آدمی کی دونوں آنکھوں میں گھونپ دیا اور اسی چاکو سے اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ وہ آدمی زمین پر گرا تڑپنے لگا۔ خون کے چھینٹے آئرہ کے ماتھے اور ہاتھوں پر بھی پڑے تھے، مگر اس کی آنکھیں سفاک اور غیر انسانی تھیں۔ اس کے روپ نے وہاں موجود لوگوں کے دل میں خوف ڈال دیا تھا۔
“آہ ہ ہ ہ!” ایک اور آدمی ہاتھ میں اُرمی تلوار تھامے اس کی طرف آیا، مگر اس نے بروقت زمین پر رول ہو کر خود کو اس وار سے بچاتے ہوئے اس آدمی کے سنبھلنے سے پہلے ہی اس کو بازوؤں کو تھام کر پیچھے کی طرف کھینچا۔ کڑک کی آواز کے ساتھ اس کے بازو کی ہڈی کریک ہوئی۔
اس آدمی کی چیخیں ماحول کی وحشت میں اضافہ کر رہی تھیں۔ وہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر چکی تھی جسے اس لڑکی نے تھام کر ایک ہی وار میں اس لچکیلی تلوار سے اس کا بازو کندھے سے الگ کر دیا۔ اب وہ ِاُرمی تلوار ہاتھ میں تھامے قہر برپا کر رہی تھی۔ ارمی تلوار اس کے ہاتھوں میں کسی سانپ کی طرح رینگ رہی تھی۔ وہ ایک زوردار جھٹکا دیتے ہوئے سامنے کھڑے دشمنوں کے گلے کاٹ رہی تھی اور بھاری بھرکم جسامت اور دراز قد مرد اس کے سامنے ڈھیر ہو رہے تھے۔ اس نے کئی ماہ سے اسی کام کی تو ٹریننگ لی تھی، وہ اسی کام میں مہارت رکھتی تھی۔
دیو قامت جسامت، بھدے سے نقوش کے حامل چہرے کے ساتھ کرسی پر بیٹھا کالیچی یہ سب تماشہ دلچسپی سے ملاحظہ کر رہا تھا، پر اس لڑکی کا یہ وحشیانہ روپ دیکھ کر اس کے چہرے پر بھی تفکر ابھرا۔ وہ لڑکی بھی درجنوں لاشیں گرانے کے بعد اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی اور خون سے تر پلکوں کو اٹھا کر نظریں اس کی آنکھوں میں بے خوف و خطر گاڑ دیں۔
“Curses upon you!”(لعنت ہو تم پر)
سر کو خم دے کر یوں کہا جیسے اس پر سلامتی کے ٹوکرے بھیج رہی ہو۔
جب کہ اس کی بات سن کر بھاری جسامت والا مرد قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“Evils are cursed by themselves, they don’t need curses.”
(شیطان اپنے آپ میں ایک لعنت ہوتے ہیں، انہیں مزید لعنتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔)
اب کی بار قہقہہ لگانے کی باری اس لڑکی کی تھی۔ “بالکل ٹھیک کہا، شیطان تو بذاتِ خود ایک بد دعا ہوتے ہے۔ تو تمہاری طرف کچھ ادھار باقی تھے، وہ چکانے آئی ہوں۔ کچھ انجام ادھورے رہ گئے تھے، وہ مکمل کرنے آئی ہوں۔” اس لڑکی کی غیر انسانی آواز سے صرف خوف ہی کھایا جا سکتا تھا۔
“بدلے برابری کی سطح پر کیے جاتے ہیں چھوٹی لڑکی! پر تم ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئی ہو، مجھے دیکھو میں نہتا کھڑا ہوں۔ اگر مقابلہ کرنے آئی ہو تو برابری پر آؤ۔” اس مرد کی آنکھوں میں چیلنج تھا، جبکہ اس لڑکی کے ہونٹوں پر تمسخر بھری مسکراہٹ۔ وہ کہہ نہ سکی کہ اس کی حیثیت سامنے کھڑے مرد کے مقابلے ایک چیونٹی جتنی بھی نہ تھی، پھر بھی اس کے سارے آدمیوں کو تنہا عورت نے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اور خیر اسے چیلنجز پسند تھے اور ایک ہاتھی کو مارنے کے لیے ایک چیونٹی کا اس کی سونڈ میں گھسنا ہی کافی ہوتا ہے۔
پھر اس نے ہاتھ میں پکڑی ارمی تلوار پھینکی، ٹانگوں پر باندھے چاکو اور گنز بھی اتار کر سائیڈ پر پھینکیں اور ہاتھوں کے اشارے سے اسے خود کی طرف بڑھنے کا اعلان کیا۔وہ مکمل لڑائی کے لیے تیار تھی۔
“تمہارے لڑکی ہونے کا احساس ہے مجھے، اس لیے اپنا بھاری ہاتھ ہلکا رکھوں گا، کیونکہ صنفِ نازک کی نزاکت کا مجھے بہت خیال ہے اور کالیچی اوکافور کو عورتیں بہت پسند ہیں، چھوٹی لڑکی۔” کالیچی نے کمینگی سے آنکھ دبائی۔
“اوہ! پر مجھے تو پتہ لگا تھا کہ تمہیں مرد کائنات کی سب سے خوبصورت اور پرکشش مخلوق لگتے ہیں۔ اتنے بڑے گروہ کے بانی کے الفاظ میں اتنا تضاد؟ چچ چچ۔” اس لڑکی کے لہجے میں افسوس سے زیادہ تمسخر تھا اور اس کی بات پر کالیچی کا چہرہ اشتعال سے سرخ ہوا۔ کالیچی نے ایک زوردار مکہ اس لڑکی کے جبڑے پر دے مارا۔ چند لمحوں کے لیے لڑکی کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تھا مگر اس نے بروقت خود کو سنبھالا اور ایک زوردار کک کالیچی کے پیٹ میں ماری، مگر کالیچی کے قدم ایک انچ بھی نہ ہلے تھے۔ کالیچی نے جواباً اس کو بالوں سے پکڑ کر اس کا سر دیوار میں دے مارا جس سے خون کی ایک لکیر اس کے ماتھے سے ہوتے ہوئے آنکھوں پر بہہ نکلی اور اس کے سیاہ کندھوں تک کٹے بال اس کے چہرے کے گرد بکھر گئے۔
کالیچی اسے تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ لڑکی نے سر کے بل ہوتے ہوئے دونوں ٹانگیں کالیچی کی گردن کے گرد لپیٹیں اور زوردار جھٹکا دیتے ہوئے چند لمحوں میں اسے زمین بوس کر دیا۔ وہاں موجود لوگوں کی آنکھوں میں حیرت ابھری، ان کی حیرت بجا تھی۔
پھر کالیچی کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اس کے سینے پر بیٹھتے ہوئے پے در پے مکے اس کے چہرے پر برسائے۔ کالیچی کے منہ اور ناک سے خون نکل آیا۔ جوابی وار کرتے ہوئے کالیچی نے بھی ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا جس کی شدت سے اس کا سر زمین سے لگا، اس کا ماسک بھی چہرے سے ہٹ چکا تھا۔ جب اس لڑکی نے اپنا چہرہ کالیچی کی طرف موڑا تو کالیچی کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔
“Demons don’t die, Kelechi Okafor.” (شیاطین نہیں مرا کرتے کالیچی اوکافور۔)
کیا آئرہ سلطان شاہ کو اس کی منشا کے بغیر موت دی جا سکتی ہے؟ کالیچی مسلسل اس لڑکی کے چہرے پر نظریں گاڑے نفی میں سر ہلا رہا تھا۔ اس لڑکی کی موت کالیچی کی زندگی تھی، اس لڑکی کی زندگی کالیچی کی موت۔اوع کالیچی کو موت اپنے سر پر ناچتی محسوس ہو رہی تھی۔
“میں نے تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے مارا تھا، یو بچ! دل پر گولی ماری تھی، دل پر!” کالیچی پاگلوں کی طرح بے یقینی سے چلا رہا تھا اور وہ اطمینان سے اس کی حالت سے حظ اٹھا رہی تھی۔
“نا نا کالیچی! دل پر گولی مارنے کے لیے میں نے تمہیں کہا تھا، تم نے کب ماری؟” آئرہ نے معصومیت سے پلکیں جھپکائیں۔ کالیچی نے دونوں ہاتھوں سے اس کی گردن تھام لی۔ آئرہ نے خود کو چھڑوانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
“کالیچی! اگر میں سانس لے رہی ہوں تو سمجھ جاؤ تمہاری سانسوں کا دورانیہ پورا ہوا چاہتا ہے، کیونکہ سلطان کے ساتھ مل کر کیے گئے سارے سیاہ کارناموں کا ریکارڈ اب تک میرے پاس موجود ہے، جو کہ اگر میں یہاں سے بچ کر نہ نکل پائی تو میرے ساتھی وہ تمام ثبوت پوری دنیا میں پھیلا دیں گے اور کئی ملکوں کی انٹیلیجنس انہیں ثبوتوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔”
آئرہ نے نہایت سکون سے کالیچی کا سکون برباد کر دیا تھا۔ اس نے فوراً آئرہ کی گردن کو آزاد کیا۔ آئرہ نے مسکراتے ہوئے اپنی گردن سہلائی۔
کالیچی اپنے بال دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھا۔اس کے ارد گرد دھماکے ہو رہے تھے، کہ دفعتاً اس کی دلخراش چیخوں سے عمارت لرز اٹھی۔ آئرہ نے باربی کیو گرل پر دہکتی سیخ اٹھا کر اس کے بازو پر داغ دی تھی۔ خون اور گوشت کے جلنے کی عجب سی بو پھیلی۔
آئرہ کی آنکھوں سے سفاکی ٹپک رہی تھی۔ اس نے گردن جھکا کر اپنے برہنہ بازو کو دیکھا جہاں ایسا ہی سلاخ داغنے کا ایک واضح نشان موجود تھا۔ پھر اس نے ایک اور سلاخ اس کے گال پر لگائی۔ کالیچی مسلسل چیخ رہا تھا، گالیاں بک رہا تھا، مگر آئرہ کا چہرہ سنجیدہ اور وحشت زدہ تھا۔
پھر اس نے زمین پر گرا چاکو اٹھایا اور کالیچی کی زبان کو انگلیوں سے تھاما اور ایک ہی وار میں زبان اس کے دہن سے علیحدہ کر دی۔ کالیچی کے حلق سے عجیب و غریب قسم کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ “آئرہ شاہ سے ایمان داری کی امید رکھ کر غلط کیا کالیچی۔” کہتے ہی اس نے اپنے جوتوں میں چھپا چھوٹا سا پستول نکالا اور اس کے بازو اور ٹانگوں میں فائر کیے۔ “آئرہ سلطان شاہ خود کو ملے زخم نہیں بھولتی۔ مجھے درد دینے کا جرم صرف ایک ہی انسان کو معاف ہے، باقیوں کی سزا موت ہے، پھر چاہے وہ میرا باپ ہی کیوں نہ ہو۔”
آئرہ نے اس کی ٹانگ پر موجود گولی کے زخم پر زور سے پاؤں مسلا، وہ درد سے بلبلا اٹھا تھا۔ “ٹانگ میں گولی ماری تھی، پتہ ہے اب تک اس کا نتیجہ بھگت رہی ہوں؟ دوڑ نہیں سکتی میں ، زیادہ چل نہیں سکتی صرف تمہاری وجہ سے۔” آئرہ نے لہجے میں مصنوعی افسوس سموئے کہا۔ (بندہ پوچھے چھتوں سے کودتے ہوئے اس کی ٹانگ نہ لڑکھڑائی، ڈرامے باز!)
پھر جھک کر کالیچی کے بال مٹھیوں میں جکڑے۔
“فرید کہاں ہے؟” آئرہ کے غرا کر پوچھنے پر کالیچی نفی میں سر ہلاتے ہوئے غوں غاں کی آوازیں نکال رہا تھا۔
“افوہ! تمہاری زبان تو میں نے خود کاٹی ہے، تم کیسے بولو گے؟ پر کوئی نہیں، فرید کو تو میں ڈھونڈ ہی لوں گی۔ تمہیں بھی تو ڈھونڈ لیا۔ فرید کے تخت کا آخری سہارا بھی آج کٹ جائے گا، تو پھر بادشاہ فرید کو تخت سمیت زمین بوس ہونا ہی پڑے گا۔” کالیچی نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “حیران مت ہو، رشیا میں الیگزینڈر کی موت ہارٹ اٹیک سے نہیں بلکہ اسی زہر سے ہوئی تھی جو اس نے سلطان کو بھجوایا تھا۔ اور اسرائیل میں ڈیوڈ؟ بیچارے پر سانپ تو میں نے اپنے ہاتھوں سے چھوڑے تھے۔ اور سعودیہ میں چھپے ابو سعود کا خاتمہ یقیناً اب تک ہو چکا ہوگا۔ بچے تم تو! Have a great trip to hell. امید ہے تمہارے جہنم کا سفر اچھا رہے گا۔ اور میں گولی دل میں تو ہرگز نہیں ماروں گی، بھیجا اڑاؤں گی سیدھا تمہارا۔”
پھر آئرہ نے بندوق کی نال اس کے منہ میں گھسائی اور اس کا رخ اوپر سخت تالو کی طرف کر کے گولی چلا دی۔ گولی کالیچی کے دماغ کو چیرتے ہوئے اس کے سر کے اوپری حصے سے نکلی تھی اور کالیچی کا وجود وہیں ساکت ہو گیا۔ آئرہ نے پوری میگزین اس کے وجود پر خالی کی اور ایک ادا سے جلتی ہوئی عمارت سے باہر آگئی۔ سگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبائی اور لائٹر سے شعلہ دہکایا۔ دھوئیں کا ایک مرغولہ ہوا میں چھوڑتے ہوئے وہ لائٹر پیچھے کی طرف پھینک دیا۔ ایک دل دہلا دینے والا دھماکہ ہوا اور عمارت سے آگ کے لپٹے بلند ہوئے، مگر وہ سکون سے سگریٹ پھونکتی ہوئی وقار سے آگے بڑھتی گئی اور اس کے پیچھے عمارت جل کر راکھ ہوتی رہی۔
آسیب زدہ شہزادی لوٹ آئی تھی، فضا نے رازداری سے سرگوشی کی۔
ایک نوجوان اس کی طرف بڑھا اور ایک سیاہ لیدر کی جیکٹ اسے پہنائی۔ رات کی دودھیا چاندنی میں کھلے بالوں اور خون سے رنگے چہرے کے ساتھ وہ کوئی خون آشام بلا لگ رہی تھی۔ “امید نہیں تھی تنہا جا کر بھی زندہ واپس آ جائیں گی۔” لڑکے کی بات پر آئرہ مسکرائی۔
“Demons don’t die.”
لڑکے نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔ واقعی آسیب ہی تھی، ورنہ جتنی زخمی حالت میں اسے اس کے پاس لایا گیا تھا، اس کے بچنے کی امید بالکل نہیں تھی، پر وہ نہ صرف سروائیو کر گئی تھی بلکہ اب زندہ لوٹ کر باقیوں کو موت کی نیند سلا رہی تھی۔
“کیا اس نے ابو سعود کا کام تمام کر دیا؟”
“جی کر دیا ہے، اور اس کے فوراً بعد ہی محترمہ نے نکاح بھی کر لیا ہے۔” آئرہ کی آنکھوں میں خوشگوار سی چمک ابھری۔
“کس سے؟” خوشی سے پوچھا۔
“وکیل صاحب!” آئرہ ہنس دی۔ “آخر کار وکیل صاحب کی کوششیں بھی امید کو پہنچیں۔ پاکستان جانے کا انتظام کرواؤ۔” چہرے سے خوشگواری کا تاثر زائل ہوا اور اس کی جگہ سنجیدگی نے لی۔ لڑکے نے حیرت سے دیکھا۔
“دماغ درست ہے آپ کا؟ مرے ہوئے واپس نہیں لوٹتے، اور پاکستان تو آپ بالکل نہیں جا رہیں۔” اس کا لہجہ اٹل تھا۔
آئرہ دو قدم اس کے نزدیک آئی۔ “تمہارا باپ میرے باپ کا نوکر تھا، اب میرا نوکر ہے اور تم بھی میرے ملازم ہو۔ تمہیں ماننے کے علاوہ کوئی اور اختیار نہیں دیا گیا۔” کہتے ہی وہ وہاں رکی نہیں تھی اور پیچھے عبدالواسع کی آنکھوں میں مرچیں سی چبھیں۔ کوئی اس لڑکی کو بتا دے کہ قتل صرف خنجر یا گولی سے نہیں، الفاظ سے بھی ہوتے ہیں۔ اب وہ غلام تھا تو غلام، پر شہزادی کا حکم ماننا لازم تھا۔
اگلی صبح شہزادی اپنی سلطنت میں لوٹ رہی تھی۔ آسمان پر چمکتے ستارے بھی جھوم اٹھے تھے۔
✩━━━━━━✩
عنایہ احد کے ساتھ اس کے ہوٹل روم میں آئی تھی۔ نکاح کے بعد دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ احد اسے روم میں چھوڑ کر دوبارہ باہر چلا گیا تھا۔
بوریت ختم کرنے کے لیے اس نے ایسے ہی ٹی وی آن کیا۔ ہر چینل پر ایک ہی خبر دی جا رہی تھی۔ “افریقہ کے بہت خطرناک گروہ کے کارندے کالیچی اوکافور کی ان کے بنگلے میں پراسرار طریقے سے آگ بھڑکنے پر موت۔ کالیچی اوکافور دہشت گرد گروپ فرید گینگ کا ایک اہم حصہ تھا۔ ان کی موت نے جہاں عوام کے دلوں میں سکون کی لہر پیدا کی ہے، وہیں ایک سوالیہ نشان بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ ماہ سے مسلسل اس گروہ کے بہت اہم کارکنان پراسرار طریقے سے مردہ پائے گئے ہیں۔”
اینکر مزید بول رہی تھی پر عنایہ صرف چمکتی نظروں سے اسکرین پر نظر آتی جلی ہوئی عمارت کو دیکھ رہی تھی۔
“Finally demon is back.”
مسکراتے ہوئے سرگوشی کی۔ تبھی لاک کھولنے کی آواز آئی اور احد کو اندر آتے دیکھ کر اس نے نامحسوس انداز میں ٹی وی آف کر دیا۔ احد کے ہاتھ میں مختلف بیگز تھے۔
“تمہارے لیے کچھ کپڑے لیے ہیں، فریش ہو کر چینج کر لو پھر ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔” احد نے بیگز اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تو عنایہ نے اٹھ کر ایک لباس نکالا اور واش روم میں گھس گئی۔
جب تک وہ فریش ہو کر آئی، کھانا آ چکا تھا۔ عنایہ خاموشی سے اس کے برابر میں بیٹھ گئی۔ احد نے خود ہی اس کی پلیٹ تیار کی۔ دونوں خاموشی سے کھا رہے تھے۔
عنایہ بے حد کنفیوز ہو رہی تھی، اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا بات کرے، مگر بات تو کرنی تھی۔ بالآخر اس نے گہرا سانس بھر کر خود کو بولنے کے لیے تیار کیا مگر اس کو بولنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ احد نے خود ہی اس کی مشکل آسان کر دی۔
“مسکان اور بابا مما تم سے بات کرنے کے لیے کافی بے تاب ہیں۔ اگر کمفرٹیبل ہو تو ان سے بات کر لینا۔”
اس کے احد بالکل کنفیوز نہیں ہو رہا تھا، یا ہو رہا تھا مگر ظاہر نہیں کر رہا تھا۔
“جی میں کر لوں گی۔ پاکستان کب چل رہے ہیں؟ دراصل میں یہاں ایک سافٹ ویئر ہاؤس میں جاب کر رہی ہوں تو مجھے کمپنی میں کچھ فارمیلٹیز دیکھنی ہوں گی۔”
“آن لائن ورک کرتی ہو یا ریگولر آفس جاتی ہو؟” احد نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
“زیادہ تر آن لائن ہی کرتی ہوں۔” عنایہ نے دھیمے انداز میں کہا۔
“اوکے، ہم کل ہی پاکستان چل رہے ہیں اور اپنی کمپنی کی ڈیٹیلز مجھے دے دو، میں دیکھ لوں گا۔” احد کے کہنے پر عنایہ کو کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ اپنے شوہر کی پاور سے واقف تھی۔ لفظ ‘شوہر’ پر اس کی دھڑکنیں بے ساختہ تیز ہوئیں۔
کافی دیر تک عنایہ احد کی فیملی سے بات کرتی رہی، سب اس کے پاکستان آنے پر ایکسائٹڈ تھے مگر وہ واپس لوٹنے پر تھوڑی پریشان تھی۔ پھر اس نے معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا تھا۔
عنایہ جب احد سے فاصلے پر آ کر لیٹی تو احد کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ یہ وہ خواب تھا جس کی تکمیل کی تمنا نہ جانے کتنے سالوں سے تھی۔
“میں نے تمہیں پانچ سالوں میں پاگلوں کی طرح تلاش کیا عنایہ، مگر تم مجھ سے اوجھل رہیں۔ مگر جوں ہی میں نے تمہیں تلاش کرنے کے فیصلے کو ترک کرنے کا سوچا تو تم میرے سامنے آن کھڑی ہوئیں اور چند لمحوں میں ہی اجنبی سے میری محرم بن گئیں۔ تمہارا ملنا میرے لیے معجزوں پر ایمان ہے۔” وہ نگاہیں چھت پر گاڑے بول رہا تھا اور عنایہ پوری حساسیت سے اس کی طرف متوجہ تھی۔
“آپ کو ہماری آخری ملاقات یاد ہے کیا؟” کاش وہ اس لڑکی کو بتا سکتا کہ پانچ سالوں سے احد صدیقی زندہ ہی اسی ایک ملاقات پر تھا۔ مگر اس نے اس کے بولنے کا تسلسل خراب نہیں کیا اور وہ بولتی رہی۔
“آپ نے کہا تھا کہ آپ اپنے پیاروں کو اللہ کی امان میں دیتے ہیں۔ آپ کی اس بات نے مجھے عجیب احساسات میں مبتلا کر دیا تھا۔ مجھے میری امی یاد آئیں، وہ روز مجھے کہتی تھیں ‘تمہیں اللہ کی امان میں دیا، خیر سے جاؤ’۔ آپ کی آنکھوں میں جھلکتی محبت میں بہت پہلے پڑھ چکی تھی مگر میری زندگی مجھے محبتیں عطا نہیں کرتی تھی تو میں نے سمجھا تھا کہ آپ کی محبت بھی وقت کی دھول میں جم کر وجود کھو دے گی۔ اگر نہیں تو کم از کم اس کی شدت میں کمی تو آ ہی جائے گی۔ مگر پانچ سال کے طویل عرصے بعد آپ کا فوراً نکاح کا مطالبہ مجھے غلط ثابت کر گیا۔ صادق محبتیں وقت و حالات کی قید سے آزاد ہوتی ہیں۔ اور پھر عنایہ حیدر، احد صدیقی کی محبت پر ایمان لے آئی۔ اور رہی بات میری آپ کو مل جانے کی، تو میں نے کہا تھا میں ڈھونڈنے سے نہیں ملوں گی، یعنی میں تب آپ کو ملوں گی جب آپ میرا ساتھ چاہیں گے۔ آپ نے میرا پیغام دیر سے سمجھا۔”
عنایہ سچ ہی کہہ رہی تھی۔ پانچ سال صرف اسے ڈھونڈنے میں صرف کر دیے اور جیسے ہی خدا سے اسے حاصل کرنے کی خواہش کی، اسے اس کی دسترس میں دے دیا گیا۔
“تمہارا ملنا میرے سالوں کی ریاضت کا مداوا تھا۔ تم میرا انعام ہو، تم میری حیا ہو، تم میرا لباس ہو، عنایہ۔” احد کے الفاظ کی عقیدت اسے موم کی طرح پگھلا رہی تھی۔
“اب آرام کرو ہمیں صبح جلدی نکلنا ہے۔” احد نے تھوڑا سا جھجھک کر ایک ہاتھ سے اس کے بال سہلائے تو عنایہ چھینپ گئی۔ احد بھی خفیف سا مسکرا دیا۔
کل کا دن عجیب ہونے والا تھا، موت اور آسیب کی شہزادیاں بیک وقت اپنی سلطنت لوٹ رہی تھیں۔
✩━━━━━━✩
آج لاہور کا موسم خاصا خوشگوار تھا۔ ہر شاخ جھوم کر خوشی کا پیغام دے رہی تھی۔ اہل لاہور چاہے اس کے لوٹنے سے خوش ہوں یا نہ ہوں، مگر لاہور بذاتِ خود آئرہ سلطان شاہ کی واپسی پر مسرور تھا۔
جہاز رن وے پر لینڈ ہوا۔ مسافر دمکتے چہروں سے باہر آ رہے تھے۔ وطن واپسی کی خوشی دل میں پھول سے کھلا رہی تھی۔ احد اور عنایہ ہاتھ میں ہاتھ دیے ایئرپورٹ سے باہر آئے۔ باہر احد کی ساری فیملی ان کے ویلکم کے لیے موجود تھی۔ شاہ فیملی کو ان کی آمد کا علم نہیں تھا۔
“السلام علیکم بابا!” احد اپنے باپ سے بغل گیر ہوا، پھر باری باری سب سے ملا۔ عنایہ کنفیوز سی ایک سائیڈ پر کھڑی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ حالانکہ مسکان اور مسز صدیقی سے وہ پہلے بھی مل چکی تھی لیکن تب رشتے کی نوعیت اور تھی۔
“السلام علیکم بیٹی! کیسی ہیں آپ؟” سب سے پہلے احد کے والد ہی اس کی طرف بڑھے اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ عنایہ کو وہ دیکھنے میں خاصے رعب دار معلوم ہو رہے تھے۔
“وعلیکم السلام! الحمدللہ۔” عنایہ نے بھی دھیرے سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
“کیسی ہے میری بیٹی؟” مسز صدیقی نے آگے بڑھ کر محبت سے اسے گلے لگایا۔ “ٹھیک ہوں انٹی، آپ کیسی ہیں؟” ان سب کی محبت اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی تھی۔
احد مسکراتی نظروں سے اپنی پوری فیملی کو دیکھ رہا تھا۔ کیا سرشاری تھی، عنایہ حیدر اس کی فیملی تھی۔ خدا کا فضل تھا۔
“بھابھی!!!!!!!” مسکان بھی گرم جوشی سے اس کے گلے لگی وہ بہت خوش تھی عنایہ کو اپنی بھابھی کے روپ میں دیکھ کر، جبکہ اس کے بھابھی کہنے پر عنایہ نے چور نظروں سے احد کو دیکھا جو گہری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ عنایہ نے فوراً سٹپٹا کر نظریں جھکا لیں۔ پھر وہ لوگ گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔
ان کے پاس ہی سفید ٹراؤزر اور سفید ہوڈی پہنے ایک لڑکی گزری تھی جس کا چہرہ ہوڈی میں چھپا ہوا تھا۔ پھر وہ مڑی اور مسکراتی نظروں سے دونوں کی پشت کو دیکھا اور اس کے ہونٹ ہلے۔ “تمہارا رب تمہارا ساتھ سلامت رکھے۔”
وہ مختلف سمت میں چل پڑی۔ رک کر ایک گہرا سانس اس شہر کی فضا میں بھرا۔ “جفاؤں کے شہر کو آئرہ شاہ کا سلام!”
پر پھر اگلا منظر دیکھ کر فضاؤں میں ایک بے چینی ابھری شہر کے نظاروں نے انگلیاں دانتوں میں دبا لیں۔
شہزادی کے پیچھے کون آ کھڑا ہوا تھا؟ وہ جو شہزادی کا غلام تھا، پر منظر ساکت ہوا ارے مگر آسیب زدہ شہزادی تو تنہا تھی نا، اس کے ساتھ یہ شخص کون تھا؟ آئرہ سلطان شاہ کے پیچھے عبدالواسع محسن کھڑا تھا، چوکنا اور محتاط۔ اس کی نظریں چاروں طرف سکین کر رہی تھیں۔” وہ شہزادی کا غلام نہیں محافظ تھا”۔
“مگر حفاظت تو قیمتی چیزوں کی کی جاتی ہے، تو کیا یہ شہزادی محافظ کے لیے اتنی قیمتی تھی؟”
” ہاں،” محافظ کی دھڑکنوں نے بغاوت کرتے ہوئے راز فاش کر دیا تھا۔ ہائے یہ دل بھی نا، اپنے مالک سے نہیں مکین سے وفا کرتا ہے۔
اوہ خدایا! یہ کہانی نے کیا رخ لیا تھا؟ انہیں، کوئی بتائے اس محافظ کو اس شہزادی کا تعاقب مت کرے قدم تھک جائیں۔ بھلا آئرہ شاہ سے محبت کی جا سکتی تھی؟ وہ تو سیاہ تھی، اندھیرے کنویں جیسی، جو ہزاروں جانیں نگل جائے۔ وہ خدایا! یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ (تم دعا کرو محافظ کا دل بدل جائے ورنہ اس کا دل ٹوٹ جائے گا۔ کرو گے نا؟)
✩━━━━━━✩
عنایہ کا بہت گرینڈ طریقے سے گھر میں ویلکم ہوا تھا۔ احد کا سارا خاندان وہاں موجود تھا۔ ان پر پھولوں کی بارش کی گئی تھی اور گیٹ سے لے کر داخلی دروازے تک پھولوں کی روش بنائی گئی تھی۔
عنایہ سیاہ عبایا اور حجاب میں ملبوس تھی۔ احد نے بھی بلیک جینز اور بلیک سینڈو پر سیاہ لیدر جیکٹ پہن رکھی تھی۔ جوڑی بہت جچ رہی تھی۔ دراز قد، سرخ و سفید رنگت کا ہینڈسم مرد اور اس مرد کے کندھوں تک آتی بادامی رنگت اور بھوری آنکھوں والی لڑکی۔ فریم مکمل تھا۔
احد کا خاندان کافی بڑا تھا، عنایہ تو رشتے یاد رکھنے میں ہی پریشان ہو رہی تھی۔ پھر دونوں نے فریش ہو کر ڈائننگ ٹیبل پر آئے اور خوشگوار ماحول میں کھانا شروع کیا گیا۔
“بابا! لنچ کے بعد میں عنایہ کو شاہ لوگوں کی طرف لے کر جا رہا ہوں۔” احد نے اپنے والد سے کہا تو انہوں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
“احد بیٹا! یہ بھلا بہو کی شاہ خاندان والوں سے کیا رشتہ داری ہے؟” احد کی ایک رشتہ دار خاتون نے عام انداز میں پوچھا مگر ان کی بات پر عنایہ کا رنگ فق ہوا۔ ماں باپ کے گناہوں کے طعنے اولاد کو اکثر بھگتنے پڑتے ہیں اور وہ اب تک بھگتتی بھی رہی تھی، مگر زندگی کے اس نئے اور پرسکون موڑ پر وہ نہیں چاہ رہی تھی کہ کانٹوں بھرا ماضی راستے کی رکاوٹ بن جائے۔ اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ کر احد نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام کر سہلاتے ہوئے آنکھوں سے اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلایا۔
“انٹی! عنایہ کے بابا ہارون انکل یعنی اشعث کے چاچو کے خاص دوست تھے اور ان کے فیملی ٹرمز بھی کافی اچھے ہیں۔ اور یوشع کی وائف نور بھابھی بھی عنایہ کی ریلیٹو اور بہت اچھی دوست ہیں۔” احد نے پرسکون انداز میں جواب دیا تو عنایہ کی چند رکی سانسیں بہال ہوئیں۔
اگر ساتھ نبھانے والا ہو تو وہ راستے سے کانٹے چن لیتا ہے۔
“اچھا اچھا!” ان خاتون نے بھی سمجھ کر گردن ہلائی کیونکہ یوشع کی شادی پر انہوں نے عنایہ کو دیکھ رکھا تھا۔
“بیٹا آپ کے والدین کہاں سے ہیں؟” اب کی بار ایک انکل کی طرف سے سوال آیا۔ وہ سب بالکل ویسے ہی نارمل انداز میں اس سے سوالات کر رہے تھے جیسے عموماً ایک نئی بہو سے خاندان کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کے طنز کی ملاوٹ نہیں تھی۔
“انکل میری فیملی جھنگ سے ہے اور امی اور بابا دونوں کا انتقال ہو چکا ہے۔” عنایہ نے اپنی آواز کی لرزش پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا تو وہاں موجود ہر فرد کی آنکھوں میں افسوس اور ترحم ابھرا۔ احد کی اس کے ہاتھ پر گرفت مزید مضبوط ہوئی۔
“اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ اور آپ کے والد کیا کرتے تھے؟” ان کی دعا پر سب نے امین بولا۔
“بابا پولیس آفیسر تھے اور آن ڈیوٹی ہی ان کو شہید کیا گیا تھا۔ وہ میری پیدائش سے چند ماہ قبل ہی شہید ہو گئے تھے اور امی کے انتقال کو چھ سال ہو چکے ہیں۔”
ماں باپ کے بغیر گزرے سال کہنے کو تو سال ہوتے ہیں مگر سہنے کو صدیاں۔ بہو کے چہرے پر تکلیف دیکھتے ہوئے احد کے بابا نے ٹاپک چینج کر دیا۔ “اور بیٹا آپ کی سٹڈیز کمپلیٹ ہو گئیں؟”
“جی انکل! انفیکٹ میں سعودیہ میں ایک سافٹ ویئر ہاؤس میں جاب کر رہی تھی پر جاب کے ساتھ ساتھ ہائر سٹڈیز کنٹینیو کرنے کا پلان ہے۔” عنایہ نے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر جواب دیا۔
“سب سے پہلے تو بابا، ابو، پاپا جو چاہے کہہ لو سوائے انکل کے! اور باقی ماشاءاللہ ہماری بیٹی ٹیلنٹڈ ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ہمیں آفس میں جوائن بھی کر سکتی ہیں اور اگر جاب کا شوق ہے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، اور اگر کوئی اور پلان ہے تو بھی میں آپ کے ساتھ ہوں اور انشاءاللہ میں خود آپ کا ایڈمیشن ایک اچھی یونیورسٹی میں کروا دوں گا۔”
احمد صدیقی نے ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے ماحول کو تھوڑا سا چینج کرنے کی کوشش کی۔ “ضرور۔۔۔۔۔ ابو!” عنایہ پراعتماد انداز میں مسکرائی۔اور ہو گئے ہمارے وکیل صاحب قربان۔
عنایہ کو اندازہ نہیں تھا کہ احد کی فیملی اتنی جلدی اسے ایکسیپٹ کر لے گی اور سب اس کو بہت محبت سے ٹریٹ کر رہے تھے۔
“احد پتر ٹڈھ روٹی کھان نال بھردا نہ کہ ووٹی ویکھن نال(احد بیٹا! پیٹ روٹی کھانے سے بھرتا ہے نہ کہ دلہن دیکھنے سے!)” احد کی دادی نے مسلسل ٹک ٹکی باندھ کر عنایہ کو دیکھتے ہوئے اپنے پوتے پر چوٹ کی تو وہ خفت سے مسکرایا، جبکہ باقی سب نے قہقہہ لگایا۔ عنایہ بیچاری بھی خواہ مخواہ شرمندہ ہو گئی اور گھور کر احد کو دیکھا، جس کے جواباً انکھ وِنک کرنے پر وہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی۔
مسز صدیقی بیٹے اور بہو کو نہال ہوتے دیکھ رہی تھیں۔
پھر مزید کچھ وقت فیملی کے ساتھ گزار کر وہ شاہ ولا کے لیے روانہ ہو گئے۔ سارے راستے عنایہ کا چہرہ بے تاثر تھا۔ احد اس کے چہرے سے کچھ بھی اخذ نہیں کر پا رہا تھا، نہ ہی اس نے ٹھہرے پانی میں پتھر پھینکنا ضروری سمجھا۔
✩━━━━━━✩
گاڑی ولا کے سامنے رکی۔ عنایہ سپارٹ انداز میں باہر نکلی۔ احد ہمیشہ کی طرح اس عورت کے پیچھے تھا، وہ قیادت کے لیے بنائی گئی تھی اور وہ اس کا پیروکار تھا۔
جب لاؤنج میں داخل ہوئی تو زکیہ بیگم صوفے پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ اس کو دیکھ کر ان کی آنکھیں نم ہوئیں۔ وہ تھوڑی دیر پہلے اسے ہی یاد کر رہی تھیں۔ کل سے اس کو احد کی دلہن بنا دیکھ کر ان کا اسے ملنے کے لیے دل مزید بے چین ہو گیا تھا۔ “عنایہ میری بیٹی! ادھر آ دادی کے پاس۔” انہوں نے بازو پھیلائے تو وہ دھیرے سے ان کے پاس بیٹھ گئی۔
بڑی بیگم نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا۔ “کہاں چلی گئی تھی تو عنایہ؟ ایک پوتی کو موت نے جدا کر دیا، ایک خود جدا ہو گئی۔” زکیہ بیگم کی بات پر عنایہ کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔ پھر وہ دھیرے سے ان سے الگ ہوئی تو انہوں نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگائے۔ “اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے بیٹا! نکاح مبارک ہو۔” وہ عنایہ کے تاثرات سے بھانپ گئی تھیں کہ وہ کسی قسم کی جذباتی ملاقات کی متحمل نہیں ہے۔ “خیر مبارک دادی!”
“احد بیٹا کھڑے کیوں ہو؟ بیٹھو نا! دیکھو تو پہلی دفعہ داماد بن کر آئے ہو اور میں نے تب سے کھڑا کر رکھا ہے۔” ان کے افسوس بھرے انداز پر احد ہنس دیا۔
“ارے دادی کوئی بات نہیں! میں ٹھہرا پکا زن مرید، میری کیا مجال بیگم کے مائیکے والوں سے ناراض ہو جاؤں۔”
احد کی شرارت پر وہ بھی ہنس دیں۔ تبھی باہر شور کی آواز سن کر نور بھی حومائل کی انگلی تھامے کمرے سے باہر آئی، پر سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر اس کے قدم زمین نے جکڑ لیے۔ عنایہ بھی جھکی گردن کے ساتھ دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھی، مگر اس تک پہنچنے سے پہلے ہی نور کے الفاظ نے اسے رکنے پر مجبور کیا۔
“دادی! آپ اپنے مہمانوں کے ساتھ گپ شپ کیجیے، میں چائے وغیرہ کا انتظام دیکھتی ہوں۔” اور بنا عنایہ کی طرف دیکھے کچن کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے ردعمل پر عنایہ نے بوجھل تھکی ہوئی سانس خارج کی۔ اپنے ہاتھ پر ایک ننھا سا لمس محسوس کر کے اس نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جسے حومائل اسے متوجہ کرنے کے لیے ہلا رہا تھا۔
“آپ نایا ماشی ہو(آپ عنایہ ماسی ہو ؟)” عنایہ خود کی طرف متوجہ ہوتا دیکھ کر حومائل نے فوراً سوال کیا۔ تو عنایہ نے جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔
“جی ماسی کی جان! آپ کا نام کیا ہے؟” عنایہ نے اپنی جیسی آنکھوں والے اس بچے سے سوال کیا۔”مائل جوشع شاہ(حومائل یوشع شاہ) حومائل نے ہاتھ سینے پر رکھ کر معصومیت سے اپنا تعارف کرایا۔ اس کے انداز پر عنایہ مسکرا دی۔
اس کی سہیلی مما بن چکی تھی اور وہ ماسی، سوچ کر گدگدی سی ہو رہی تھی۔ اوپر سے اس کی اولاد تھی بھی اتنی کیوٹ اور معصوم، اپنے بابا پر گئی ہو گی، اس نے دل میں سوچا۔
“ارے ماشاءاللہ! شہزادے آپ کو کس نے بتایا میں آپ کی ماسی ہوں؟”عنایہ نے تجسس سے سوال کیا۔ اس چھوٹے سے بچے کا پہلی ملاقات میں ہی اسے پہچان لینا حیران کن تھا۔
“مما نے!” حمایل کے سادگی سے جواب دینے پر عنایہ حیران ہوئی تھی مگر پھر کچھ سوچ کر مسکرا دی، یعنی ناراضگی اوپر اوپر سے ہی تھی۔
“نور روز حومائل کو تمہاری تصویریں دکھاتی ہے تاکہ وہ اپنی ماسی کو پہچان سکے۔ بس وہ تھوڑی سی ناراض ہے، تمہاری چھوٹی موٹی ایفرٹس سے مان جائے گی۔
” پیچھے سے آتے یوشع نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “کیسی ہو؟” وہ ہمیشہ اس سے بہت شفقت و نرمی سے مخاطب ہوتا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں بھائی! آپ کیسے ہیں؟” یوشع سے بات کرتے وقت اس کے چہرے سے سپاٹ پن ختم ہو چکا تھا۔ “پہلے صرف اچھا تھا، اب بہن کو دیکھ کر بہت اچھا ہو گیا ہوں۔” اس نے عنایہ کی گود سے حمایل کو تھام لیا جو بازو اس کی طرف بڑھائے ہوئے تھا۔
“یہ صرف ماسی نہیں، پھپھو بھی ہیں آپ کی، کیا ہیں؟” حومایل کو سمجھانے کے ساتھ ہی اس سے کنفرم کرنے والے انداز میں سوال کیا۔
“یہ ماسی اپھو ہیں!” حمایل نے بہت سمجھداری سے رشتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک نیا رشتہ بتایا تو سبھی ہنس دیے۔ حالانکہ کچن میں کھڑی نور بھی مسکرا دی۔
“چاچو!” حمایل کی نظر احد پر پڑی تو وہ فوراً یوشع کے بازوؤں سے نکل کر بے تابی سے اس کی طرف بھاگا۔ احد نے بھی آگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھا کر ہوا میں اچھالا، سب سے پہلے اس کی آنکھوں کو چوما اور یہ حرکت عنایہ نے بہت غور سے دیکھی تھی۔
تھوڑی دیر بعد سب صوفوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ نور بھی پتھریلے تاثرات چہرے پر سجائے وہیں موجود تھی۔ زکیہ بیگم عنایہ سے چھوٹی موٹی باتیں کر رہی تھیں۔
“ارے عنایہ! تمہیں پتہ ہے؟” یوشع کے اچانک مخاطب کرنے پر زکیہ بیگم کی بات غور سے سنتی عنایہ نے گردن موڑ کر سوالی نظروں سے اسے دیکھا۔
“جب تم نہیں تھی تو حومایل کو استعمال کر کے شاہ صاحب نے بیچارے وکیل صاحب کو بہت بلیک میل کیا ہے۔” یوشع کے شرارت سے بھرپور انداز میں بتانے پر عنایہ نے حیرت سے احد کو دیکھا جو خفت بھرے انداز میں بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔ عنایہ سمجھ گئی تھی کہ وہ کیوں بلیک میل ہوتا رہا ہے۔
“میرا سالہ بالکل معصوم نہیں ہے۔” احد نے دل میں خود سے کہا اب سامنے کہہ کر بیگم سے شامت تھوڑی نہ لانی تھی۔
“بھائی! افسوس ملک کے بہترین وکیل کو یہ چھوٹا سا بچہ انگلیوں پر نچاتا رہا۔” عنایہ نے بولتے بولتے آخر میں قہقہہ لگا دیا۔ یوشع نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ان کو ہنستا دیکھ کر حومایل بھی اپنے دو خرگوش جیسے دانتوں سے ہنسا۔
“یہ وکیل برسوں پہلے تو ان بھوری آنکھوں کا اسیر ہوا تھا، بیگم! اب اسیر ہر کام آقا کی مرضی سے کرتا ہے۔” احد کے بے باک انداز میں سب کے سامنے اظہار پر عنایہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔
کوئی مزید کچھ بولتا کہ سید اشعث شاہ صاحب کے گلے پھاڑ کر چلانے کی آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ “اوئے یوشع کے بچے! کدھر ہے؟ اتنی ہڑبڑی میں بلایا ہے، پتہ ہے کتنی اہم میٹنگ چھوڑ کر آیا ہوں، کتنا لاس ہوا ہے مجھے؟ اور باقی ٹبر کو جو اکٹھا کرنا پڑا وہ الگ! اوپر سے یہ نقلی سپاہی۔۔۔” اس کے اگلے الفاظ عنایہ کو دیکھ کر گم ہوئے اور گلا کھنکار کر فوراً کالر درست کیا اور چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری کی۔ عنایہ نے مسکراہٹ دبائی۔
پھر وہ جلدی سے اٹھ کر ابراہیم شاہ اور ثمینہ بیگم سے ملی، پھر مفراہ اور مشکوٰۃ نے آگے بڑھ کر گرم جوشی سے اسے گلے لگایا۔ “کوئی اتنا لمبا اپنوں سے دور رہتا ہے؟” مشکوٰۃ کے شکوہ کرنے پر عنایہ صرف مسکرا ہی سکی تھی، جبکہ مشکوٰۃ کی یہ بات ضرار نے بہت غور سے سنی اور محسوس کی تھی۔
عنایہ نے ضرار کو سلام کیا تو اس نے احسسان جتانے کے انداز میں جواب دے کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا، جبکہ اشعث کو اس نے بڑے دھڑلے سے سرِ عام اگنور کیا تھا۔ اس کے ایٹیٹیوڈ پر اشعث نے منہ کے زاویے بگاڑے۔
عنایہ مفراہ کی ٹانگوں سے چمٹی آئرہ کے سامنے بیٹھی۔ “کیا نام ہے آپ کا لٹل پرنسز؟” عنایہ کے محبت سے پوچھنے پر اس نے معصومیت سے “آئرہ ضرار شاہ” کہا تو عنایہ کی مسکراہٹ سمٹی، آنکھوں میں نمی ابھری اور گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔مگر اسے جذبات سنبھالنے آتے تھے۔ لمحوں میں مسکراہٹ واپس ہونٹوں پر آئی اور جھک کر آئرہ کے گال چومے۔ رخ ریان کی طرف کیا،
“کیسے ہو گڈے؟” عنایہ نے زور سے اس کا گال کھینچا۔ “اوہ پھپھو گال نہیں کھینچو، بڑا ہو گیا یوں اب!” ریان جنجھلایا عنایہ نے محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر چومے۔
جب سب دوبارہ لاؤنج میں جمع ہوئے تو سب نے عنایہ کو بالکل گزرے سالوں کا فاصلہ محسوس نہیں ہونے دیا تھا، نہ ہی کسی نے کوئی غیر ضروری سوال و جواب کیا تھا۔ احد پہلے ہی سب کو کسی بھی قسم کے سوال و جواب سے منع کر چکا تھا، کیونکہ اگر اس نے خود گزرے سالوں کا حساب نہیں لیا تھا تو وہ کسی اور کو بھی حق نہیں دیتا تھا کہ کوئی اس کی بیوی سے اس متعلق پوچھے۔
“چاچو کہاں ہیں؟” کبیر کی غیر موجودگی محسوس کر کے عنایہ نے پوچھا۔ “ان کو کافی دنوں بعد آفس جانے کا خیال آیا ہے اس لیے تو میں گھر ہوں، آتے ہی ہوں گے!” یوشع نے اس کی طرف دیکھ کر جواب دیا۔
عنایہ نے غور سے نور کا سنجیدہ چہرہ دیکھا، پھر اٹھ کر دو زانو اس کے سامنے قدموں میں بیٹھ گئی اور سر اس کے گھٹنوں پر رکھ دیا۔ سب مبهوت ہو کر انہیں دیکھ رہے تھے۔ عنایہ خاموشی سے سر اس کے گھٹنوں پر ٹکائے بیٹھی رہی، بنا ایک لفظ بولے۔ دھیرے دھیرے نور کے تاثرات ڈھیلے پڑتے رہے اور پھر اس نے بھی اپنا ہاتھ عنایہ کے سر پر رکھ دیا۔ یہ صلح کا اظہار تھا۔ انہوں نے ایک لفظ نہیں کہا تھا، کوئی شکوہ شکایت کچھ نہیں، بس ایک خاموش اظہار اور یہی ان کے رشتے کی خوبصورتی تھی، انہیں ایک دوسرے کو صفائیاں نہیں دینی پڑتی تھیں۔ ان کے لیے الفاظ سے زیادہ اعمال کی وقعت تھی، وہ ایک دوسرے کے لیے لفاظی نہیں بلکہ عملی ایفرٹس کرتی تھیں۔ ‘ہر عنایہ کے لیے ایک نور ہونی چاہیے تھی ناں’۔
سب ان کے بانڈ پر مسکراتے رہے ۔ “ضرار بھائی! آپ تو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا خون نہ جلائیں اور شرافت سے مان جائیں۔” عنایہ کے کہنے پر تب سے زبردستی سنجیدگی سے بیٹھا ضرار ہنس دیا۔ “ارے شاہ صاحب رہ گئے،” یوشع کے توجہ اشعث کی طرف مبذول کروانے پر وہ مزید اکڑ کر بیٹھ گیا
” ان کی خیر ہے، یہ خاموش ہی بھلے لگتے ہیں۔” عنایہ نے ناک چڑھا کر کہا اور قہقہوں میں سب سے بلند قہقہہ مشکوٰۃ کا تھا۔ اشعث کے خفا انداز میں اسے دیکھنے پر اس کی ہنسی کی آواز مزید بلند ہوئی۔
“زمانہ ہی ماڑا ہے استاد کی عزت ہی نہیں ہے۔” اشعث نے یوں تاسف سے سر ہلایا جیسے معاشرے کی اصلاح کا علمبردار صرف وہی ہو۔ پر عنایہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
“اب زیادہ نخرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے گندی اولاد! بیٹی اگر منا رہی ہے تو مان جاؤ۔” ابراہیم صاحب نے مزید اس کے اورا کو زیرو سے مائنس کیا۔ آج شاہ صاحب کے ستارے شاید گردش میں تھے۔
“ارے ابا جی آپ چپ کرو! اور اس نے کب منایا مجھے؟ اس کا شوہر اتنا بڑا وکیل ہے، سسر اس کا بزنس آئیکون ہے، ساس اس کی سینئر ڈاکٹر ہے، یہ خود بھی یقیناً کچھ نہ کچھ کر ہی رہی ہو گی، پھر بھی روکھی پھیکی معافی میں نہیں لوں گا۔ خرچہ کریں خرچہ!” اشعث نے چبھتی نظروں سے گھورا۔
“منگتا منگنا چھڈ دیوے چولی اڈناں نہیں پلدا(مانگنے والا خیرات مانگنا چھوڑ دے پر ہاتھ پھیلانا نہیں بھولتا)۔ اور آپ کو منا کون رہا ہے؟ بالفرض اگر منا بھی رہی ہوں تو میرے شوہر، ساس، سسر کے پیسے ان کے خون پسینے کی کمائی ہے، آپ پر کیوں خرچ کروں؟” عنایہ بھی فارم میں آئی۔
“ہونہہ! سارا دن تمہارا یہ شوہر اسی آفس میں بیٹھتا ہے، اے سی گاڑی میں آتا جاتا ہے، پسینہ کہاں آنا ہے اس کو؟” پوائنٹ تو ویلڈ تھا۔
“بکواس بند کر لو اب گندی اولاد!” ابراہیم صاحب نے اسے گھورا تو اسے مجبوراً خاموش ہونا پڑا۔ باپ کا رعب تھا بچے پر۔
تبھی کبیر شاہ تھکے ہارے فارمل ڈریس میں اندر آئے مگر اتنا رش دیکھ کر دروازے میں ہی رک گئے۔ کبیر کو رکتا دیکھ کر عنایہ خود ہی اٹھ کر ان کی طرف بڑھی۔
“السلام علیکم چاچو!” عنایہ کو دیکھ کر کبیر کی آنکھوں سے تھکاوٹ غائب ہو گئی۔
“ارے ماشاءاللہ ماشاءاللہ! میری بیٹی آئی ہے۔” کبیر نے محبت سے اسے سینے سے لگا کر اس کا ماتھا چوما۔ احد بھی اٹھ کر ان سے بغل گیر ہوا تو انہوں نے اسے نکاح کی مبارکباد دی۔
کچھ دیر بعد وہ فریش ہو کر وہیں آگئے تھے۔ حومایل جو پہلے کھیل رہا تھا،اب دادا کی گود میں چڑھا بیٹھا تھا۔ ریان مشکوٰۃ کے پاس بیٹھ گیا اور آئرہ باپ کے پاس۔ سب کو جمع دیکھ کر ابراہیم صاحب نے بات شروع کی۔
“میں یہ سوچ رہا تھا کہ ماشاءاللہ سے دونوں بچوں کا نکاح تو خیر سے ہو چکا ہے، تو کیوں نہ عنایہ بیٹی اور مشکوٰۃ کی رخصتی اکٹھی ہی کر دی جائے؟ خیر سے اب مشکوٰۃ بھی سمجھدار ہو گئی ہے۔” ابراہیم صاحب کی بات پر اشعث کے ہونٹ کانوں تک پھیلے جبکہ مشکوٰۃ کے گال لال ہوئے۔
“ارے ابو! مشرقی لڑکوں کے سامنے ان کی شادی کی بات نہیں کرتے، وہ شرما جاتے ہیں۔” اشعث نے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پھلجڑی چھوڑی تو ابراہیم صاحب نے سخت گھوری سے نواز کر منہ بند رکھنے کا اشارہ دیا۔
“جی بھائی! خیال تو اچھا ہے، میں صدیقی صاحب سے مشورہ کر لیتا ہوں، قریب کی ہی کوئی تاریخ فائنل کر لیتے ہیں پھر۔” کبیر بھی ابراہیم صاحب کی رائے سے متفق نظر آ رہے تھے۔ اس دوران احد معنی خیز نگاہوں سے عنایہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا، جب اشعث نے سامنے آتے ہوئے اس کا نظارہ روکا۔
“بیوی بعد میں تاڑ لینا، پہلے وہ پیسے واپس کر جو تیری بیلیں کروانے کے چکر میں دو نمبر پولیس والوں کو کھلوائے ہیں۔” اشعث نے محلے کی پپا کٹنی انٹیوں کی طرح کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر ام ابرو اچکاتے ہوئے ڈرامائی انداز میں کہا۔
احد نے بیزاری سے اسے دیکھا۔ “ہٹ یار! میری بارات کے پیسوں سے لوٹ لئیں۔” کہتے ہی ایک ہاتھ سے اشعث کو سامنے سے ہٹانے کے لیے دھکا دیا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ (بیوی کو تاڑنے!) اشعث نے منہ کھول کر اسے دیکھا۔ “لڑکی کا چکر بابو بھیا!” بے یقینی سے احد کو دیکھتا دیکھ کر ضرار اس کے کالر سے مصنوعی گرد جھاڑ کر ہنستے ہوئے کسی فلم کا ڈائیلاگ بولا تو اشعث منہ بسور کر رہ گیا۔
رات تک وہ سارے ولا میں ہی ٹھہرے رہے۔ اس دوران عنایہ اور اشعث کی تھوڑی بہت نوک جھوک کے بعد آخر کار صلح ہو ہی گئی تھی۔
سب کھانے کے بعد تازی ہوا کے لیے لان میں موجود تھے۔ ابراہیم اور کبیر کسی سیاسی موضوع پر بات کر رہے تھے۔
ثمینہ بیگم اور زکیہ بیگم ایک ساتھ بیٹھی ہوئی گھریلو باتیں کر رہی تھیں۔ ضرار اور مفراہ آئرہ کی شرارتیں انجوائے کر رہے تھے۔ یوشع اور نور حومایل کے ساتھ مصروف تھے، جبکہ مشکوٰۃ اپنے شاہ جی کو لفٹ نہ کرواتے ہوئے ریان کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اشعث اس کا کترانا محسوس کر گیا تھا اس لیے اسے سپیس دینا لازمی سمجھا اور اپنے فون سے ضروری میلز چیک کرنے لگا۔
جبکہ نیو کپل عنایہ اور احد باقی سب سے تھوڑا فاصلے پر چہل قدمی کر رہے تھے۔
“احد” عنایہ نے دھیمے انداز میں اسے پکارا،
“جی بیگم جان! ہائے بیچارے تابعدار وکیل صاحب۔
“احد!! مجھے جانا ہے۔” عنایہ کے لہجے میں التجا تھی۔ احد چند پل سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا۔
✩━━━━━━✩
اگلی صبح:
“کم از کم ملوا تو دیتے بھیجنے سے پہلے! اوپر سے بچی کو اکیلے اتنی دور بھیج دیا ہے۔” مسز صدیقی مسلسل بڑبڑا رہی تھیں۔
“یار امی! آپ کو نہیں پتہ، آپ کی بہو کا ۔ سارے جہان کو عنایہ حیدر سے خطرہ ہو سکتا ہے نہ کہ عنایہ حیدر کو جہان سے۔ وہ اکیلے مینج کرنا جانتی ہے، اس کو ارجنٹلی آفس بلوایا گیا تھا، اسے جانا تھا۔ میں ساتھ چلا جاتا پر میرا ضروری کیس چل رہا ہے۔” یہ کوئی بیسویں بار احد نے ماں کو وضاحت دی تھی۔
“دو ہفتے رہ گئے ہیں تم لوگوں کی شادی میں! پانچ سالوں سے جان کو عذاب ڈالا ہوا تھا ہمارے، جب وہ مل نہیں رہی تھی۔ اب مل گئی ہے تو سنبھالی نہیں جا رہی، آیا وڈا رانجھا!”
اللہ جانے یہ پاکستانی مائیں ذلیل کرتے وقت اتنا پرسنل کیوں ہوتی ہیں؟
ماں کے ذلیل کرنے پر احد نے بیچارگی سے انہیں دیکھا۔ “یار! میں نہیں کر رہا ناشتہ، کوئی عزت ہی نہیں ہے میری اس گھر میں۔” احد نے کپ میں بچی چائے کی آخری گھونٹ حلق میں اتاری اور خفگی سے کہتے ہوئے کوٹ اور بیگ اٹھا کر باہر نکل گیا۔
“ارے آپ بھی ہاتھ ہولا رکھا کریں، ناشتہ بھی پورا نہیں کر کے گیا۔” صدیقی صاحب نے فکرمندی سے بیٹے کی پشت کو دیکھتے ہوئے بیوی سے کہا۔
“آپ کی ہی اولاد ہے احمد صاحب! چھوڑ ہی نہ دے کھانا ، سارا کھا کر ہی نکلا ہے، ذلیل تو وہ صبح سے ہو رہا ہے۔” مسز صدیقی نے شوہر کو گھورا تو وہ بیچارگی سے انہیں دیکھ کر خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے۔
بچوں پر بھڑکتی ہوئی بیگم کو چھیڑنا توپوں کا رخ خود کی طرف کرنے کے مترادف تھا۔ مسکان یہ سارا ڈرامہ دیکھتی دبا دبا سا ہنس رہی تھی۔
✩━━━━━━✩
یوشع معمول کے مطابق آج قبرستان آیا تھا جہاں اس کے دادا، تایا اور آئرہ کی قبریں تھیں۔ زلیخا، ہارون ان کے آبائی قبرستان میں مدفن تھے، سلطان شاہ کی قبر کے ساتھ ہی تہمینہ بیگم کی قبر تھی اور سلطان کے قدموں کی طرف جو قبر تھی اس پر “آئرہ سلطان شاہ” کے نام کی تختی تھی۔
یوشع باری باری سب قبروں پر رکتا، تازہ پھول رکھتا، دعائے مغفرت کرتا اور اگلی قبر کی طرف بڑھ جاتا۔ پر آئرہ کے نام سے منسوب قبر کے پاس آ کر وہ رک گیا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اور گردن سینے سے لگا لی۔ اس کے آنسو قبر کی مٹی پر گرتے رہے ۔
دور سے یہ منظر دیکھتی لڑکی کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔ برسوں بعد بنجر سیاہ آنکھیں نم ہوئیں۔ پھر وہ نمی آنسوؤں کی صورت آئرہ کے گالوں پر پھسل گئی اور ان آنسوؤں کو دیکھ کر پاس کھڑے واسع کے دل میں کرب کی چنگاریاں ابھریں۔ یوشع نے ویسے ہی بیٹھے ہوئے قبر پر تازہ سرخ پھول ڈالے۔ یہ دیکھ کر آئرہ استہزائیہ مسکرائی۔
“واسع!” پھر غلام کو مخاطب کیا۔
“جی!” غلام فوراً پیش ہوا۔
“بھلا کیا کہا تھا اس بھلے سے قوال نے؟ ہاں!
اے فنا شکر ہے، آج بعدِ فنا
اس نے رکھ لی میرے پیار کی آبرو
اپنے ہاتھوں سے اس نے میری قبر پر
چادرِ گل چڑھائی، مزہ آگیا!”
آئرہ نے آنکھیں موند کر چند جملے گنگنائے۔ اس دوران اس کے لبوں پر سوز و کرب سے بھرپور مسکراہٹ تھی اور آنکھیں بلا اجازت بہہ رہی تھیں۔
پھر اس نے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے اور چہرے پر سنجیدگی طاری کی۔ آنکھوں سے کرب مفقود ہوا اور اس کی جگہ جنون نے لے لی۔ وہ چند لمحوں پہلے والی آئرہ سے مختلف تھی اور بنا یوشع کو دیکھے وہ پلٹ گئی۔ واسع بھی ساتھ ہی روانہ ہوا، مگر ہائے رے برا ہو اس دل کا! وہ رکی اور پلٹی، نظریں اس روگِ جاں کی تلاش میں دوڑائیں۔ وہ ابھی بھی ویسے ہی بیٹھا قبر کی مٹی پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد یوشع اٹھ کھڑا ہوا اور جانے کے لیے پلٹ گیا۔ جاتے ہوئے اس کے قدم اس کی شکست تسلیم کر رہے تھے۔ وہ آئرہ کی موت سے مووآن نہیں کر پایا تھا۔ یہ لڑکی اس کا مرض تھی اور مرض تو ہوتے ہی تکلیف دہ اور جان لیوا ہیں۔
“چلیں منزل کی طرف؟” واسع نے اس کا ارتکاز توڑا۔ اس نے ایک نظر باپ کی قبر پر ڈالی پھر اس کے کندھے ڈھلک گئے۔ وہ نہیں جا پائی تھی اس قبر تک نہ وہ کبھی جا پائے گی۔
“ہاں چلو!” دھیرے سے کہتے ہوئے وہ بھی اس وحشت بھری جگہ سے نکل گئی۔ پیچھے صرف خاموشی رہ گئی۔
✩━━━━━━✩
وہی ویرانہ تھا، وہی جگہ تھی، وہی سورج تھا، بس مناظر مختلف تھے۔ گاڑیوں کا قافلہ ایک بائیک کے تعاقب میں نہیں تھا بلکہ ایک گاڑی ایک شخص کے پیچھے تھی۔ شاید گاڑی والی کو اسے تھکانے میں مزہ آ رہا تھا۔
مافیا کا وہ ایک بااثر شخص اس وقت ایک عورت کے خوف سے بھاگ رہا تھا۔
اور عورت کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے، اور اگر وہ عورت جذباتی اور جسمانی طور پر زخمی ہو تو تم پر لازم ہے کہ تم اس سے خوف کھاؤ۔
گاڑی نے فرید لارڈ (ہاں لارڈ، وہ خود کو خدا کہلوانا پسند کرتا تھا) کی ٹانگوں کو ہٹ کیا تو وہ اچھل کر دور جا گرا۔ اس کے چہرے پر موت سے زیادہ اس عورت کا خوف تھا۔ اس سے خوفزدہ ہو کر ہی تو اس کو مروایا تھا۔ سلطان کی یہ اولاد ایک بلا تھی جو سالم بندہ نگل جائے۔ “دیکھو آئرہ! میری بات سنو، بات کر لیتے ہیں، ڈیل کر لیتے ہیں۔” بالآخر وہ بااثر مرد تنہا عورت کے سامنے گڑگڑا اٹھا تھا، ورنہ ہمیشہ اس کے برعکس دیکھا تھا اس آسمان نے۔
“تمہیں لگتا تھا سلطان کے مرنے سے شہزادی کمزور ہو جائے گی؟ مگر بے وقوف تم یہ بھول گئے، سلطان کے مرنے کے بعد شہزادیاں تخت و سلطنت سنبھالتی ہیں۔ تم نے مجھے کمزور سمجھ کر اپنا ہی نقصان کیا۔” آئرہ مسلسل دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی۔
کم بختوں نے ٹانگ میں گولی جو ماری تھی جس کا عذاب اب ساری عمر جھیلنا تھا۔ فضا میں ایک اور گاڑی کی دہاڑ گونجی۔ پھر وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اتری۔ کہا تھا نا اس کی مسکراہٹ موت ہے۔
نو وارد آئرہ کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ وہ ساتھ کھڑی ایک دوسرے کا عکس معلوم ہو رہی تھیں۔ فرق تھا تو صرف آنکھوں کا، ایک کی آنکھیں سیاہ تھیں تو دوسری کی بھوری۔
“ویلکم سسٹر!” ائرہ نے اسے ویلکم کیا
عنایہ نے گردن جھکا استقبال کا جواب دیا۔ “تم دونوں کو کیا لگتا ہے؟ مجھے مارنا آسان ہے؟ میں ڈی لارڈ ہوں، ابھی میرے آدمی آتے ہوں گے میری تلاش میں!” فرید نے ان دونوں عورتوں کو ڈرانے کی کوشش کی۔ اور کہا تھا نا، زخمی عورت سے زمانہ خوفزدہ ہوتا ہے عورت زمانے سے نہیں۔
“ارے ہم تو ڈر گئے! اسی ڈی لارڈ کو اسی کے محل سے ہم نے اٹھا لیا بنا اس کے سونگھنے والے کتوں کو خبر ہوئے، اور اب بیچارہ ہمارے ہی رحم و کرم پر پڑا ہمیں ہی دھمکیاں لگا رہا ہے۔ داد دینی پڑے گی میاں تمہاری ہمت کی۔ واقعی لارڈ میں ہمت تو ہے۔” عنایہ کے کہنے پر دونوں بہنیں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسیں۔ ان کو قتل کرنے کے لیے گولی بندوق کی کیا ضرورت تھی؟ یہ تو قہقہہ لگا کر بندہ مار دیں۔
“جلدی کھیل ختم کرو یار، زیادہ ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔” عنایہ نے بیزاری سے کہا اور ایک گولی اس کے بازو میں ماری۔ وہ درد سے چیخ اٹھا۔ مٹی برسوں بعد پھر خون کا ذائقہ چکھ رہی تھی۔
“ٹھیک کہہ رہی ہو، آخر تم نے سسرال بھی تو جانا ہے۔” اس کے بعد آئرہ نے تائیدی انداز میں سر ہلایا اور ایک گولی اس کی ٹانگ پر ٹھیک اسی جگہ ماری جہاں اسے ماری گئی تھی۔ عنایہ نے اس کے پیٹ پر ماری اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔ ان دونوں نے پوری میگزین اس پر ختم کی۔ فرید لارڈ کا جسم گولیوں سے چھلنی تھا اور فضا میں گدھوں کی بھیانک آوازیں گونج رہی تھیں۔ وہ دائرہ بنائے ہوا میں رقص کر رہی تھیں جیسے فرید کی لاش پر جھپٹ پڑنے کے لیے تیار ہوں۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ فرید کی لاش پر جھپٹ پڑی۔ ماس نوچنے والی گدھیں ماس نوچ رہی تھیں۔( کیا صرف گدھ ہی ماس نوچتی ہے؟ کیا اب انسانوں میں بھی ہر جانور کی خصوصیات نہیں پائی جاتیں؟)
پھر گاڑیوں کا ایک قافلہ اس طرف بڑھتا دکھائی دیا۔ “آگئے اس کے کتے!” آئرہ نے بیزاری سے کہا۔ عنایہ نے بھی آنکھیں گھمائیں۔ دونوں نے پستول لوڈ کیے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں پسٹلز تھامے، کمر ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے، آنے والے فرید کے گارڈز کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ اس دوران وہ دونوں بھی ہلکا پھلکا سا زخمی ہوئیں۔ آئرہ کے کان میں لگے مائیکرو فون میں کچھ کہا گیا، شاید کسی کے آنے کی خبر۔ اس نے لڑتی ہوئی عنایہ کو دیکھا، پھر چپکے سے وہاں سے غائب ہو گئی۔
اس کے جاتے ہی چاروں سمتوں سے چار گاڑیاں وہاں آئیں اور ان میں سے تین مرد اور ایک سرمئی آنکھوں والی لڑکی، چہرہ نقاب میں لپیٹے، ہاتھوں میں گن تھامے وہاں آئے،
گاڑیاں روکتے ہی وہ ان گارڈز پر پل پڑے۔ نور نے ایک گن عنایہ کی طرف پھینکی جو منہ کھولے ان کی آمد پر حیرت زدہ کھڑی تھی۔ اس نے بوکھلا کر آئرہ کی تلاش میں نظریں ادھر ادھر دوڑائیں پر اس کو غائب پا کر تشکر زدہ سانس خارج کی۔ وہ چاروں مل کر ان گارڈز پر حملہ کر رہے تھے۔ ایک گارڈ کی بندوق سے نکلی گولی عنایہ کی طرف بڑھی مگر بروقت احد نے اسے بازوؤں میں سمیٹ کر دوسری طرف کھینچا۔ گولی عنایہ کے پاس سے گزر کر دوسری طرف سے آتے گارڈ کو لگی۔ احد نے خوف سے نہایت زور سے خود کو عنایہ میں بھینچا۔
“ٹھیک ہوں!” عنایہ نے دھیرے سے اس کا بازو دبا کر اس کا خوف دور کیا۔ احد نے آہستہ سے اسے خود سے الگ کر دیا۔
پھر وہ دونوں دوبارہ گارڈز پر حملہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ چند منٹوں میں ہی وہ میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف لاشیں اور خون اور درمیان میں کھڑے وہ پانچ۔ نور کے بازو کو گولی چھو کر گزری تھی اور اب عنایہ اس کی بینڈج کر رہی تھی۔ نور گاڑی کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی اور عنایہ باہر کھڑی اس کی پٹی کرنے میں مشغول تھی۔ باقی تینوں اسے غصے سے گھور رہے تھے۔ “کیا ہے بھائی؟ آنکھوں سے نگلنے کا ارادہ ہے کیا؟” عنایہ نے بالآخر چڑ کر کہا۔
“ایک دن ہوا ہے تمہیں واپس آئے اور آتے ہی یہ حرکتیں شروع کر دی ہیں؟ سمجھتی کیا ہو تم خود کو؟ نہ پوچھا نہ بتایا، بس اٹھ کر چل پڑیں مس واریر بننے!” ضرار نے اسے ڈپٹا۔
“ہاں! اگر ہم وقت پر نہیں آتے تو اکیلی کر لیتیں اتنے لوگوں کا مقابلہ؟” اب اس کو کون بتاتا کہ یہ بلا اکیلی تھوڑی آئی تھی۔
ضرار کے ڈپٹنے عنایہ نے معصومانہ نظریں گھما کر شوہر کو دیکھا۔ احد نے اس کے ایسے دیکھنے پر دونوں ہاتھ اٹھا دیے جیسے کہہ رہا ہو “اس معاملے میں میں ضرار بھائی کے ساتھ ہوں”۔ عنایہ نے اسے دیکھ کر ناک چڑھایا۔ اس آدمی سے تو وہ بعد میں نپٹ لے گی،
“اوپر سے اس کو گولی لگوا دی ہے، کیا بتاؤ گے اس کے شوہر کو؟ وہ صرف اوپر اوپر سے بھولا لگتا ہے، اس کو لے کر وہ جنونی ہے۔ بھول گئے اس کا حال جب یہ محترمہ اغوا ہوئی تھیں؟ کیسے اس نے ضرار کو فون کر کے فورس بلوائی تھی؟” اشعث، نور کے زخمی بازو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
عنایہ نے اس کی بینڈج مکمل کرتے ہی اس کا بازو آزاد کر دیا۔ نور نے بازو کو اوپر نیچے گھما کر حرکت دی، پھر اٹھ کر اشعث کے مقابل کھڑی ہوئی۔ “گولی صرف چھو کر گزری ہے، اور یوشع کی بیوی میں ہوں، آپ نہیں۔ اس کی فکر مجھ تک ہی رہنے دیں۔” نور اپنے ازلی ٹھنڈے انداز میں کہتے ہوئے گاڑی وہاں سے نکال کر روانہ ہو گئی۔
“یہ کیا الفاظ تول کر بولتی ہے!” اشعث نے اس کے کم مگر تیکھا بولنے پر چوٹ کی۔ سب نے کندھے اچکا دیے۔
“چلیں بیگم؟” احد نے ہاتھ عنایہ کے سامنے پھیلاتے ہوئے شیریں لہجے میں کہا۔
“کہاں وکیل صاحب؟” عنایہ نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر تالی ماری۔ تب کیسے میسنا بن کر ضرار بھائی کا ساتھ دے رہا تھا، اب آگیا بیگم بیگم کرنے!
“اپنے رانجھے کے سنگ!” احد کے دو نمبر عاشقانہ انداز پر ضرار اور اشعث نے بیزاری سے آنکھیں گھمائیں، جیسے خود تو بیوی کے ساتھ یہ حرکتیں کرتے ہی نہ ہوں۔
“ارے رانجھا جی! بھول گئے، ہیر لینے جھنگ جانا پڑتا ہے۔” عنایہ نے اس کی شرٹ کا کالر درست کیا، پھر بڑے حق سے جیب سے گاڑی کی چابی نکالی۔ اپنا جھمکا جو نور لوگوں کی قوالی نائٹ پر کھویا تھا، وہ ایک نظر میں ہی پہچان گئی تھی۔جھمکے کافی پرانا ہو گیا پر خیر اب ریگولرلی وہ چینج کرتی رہی گی ۔کی چین میں اس کا جھمکا لٹکا جھوم رہا تھا۔ اور پھر وہ بھی دھول اڑاتے ہوئے گاڑی لے کر فرار ہو گئی۔
“رانجھے! جلدی ہی جھنگ پہنچیں، وہاں کھیڑے بھی بس رہے ہیں۔” اشعث کا لہجہ معنی خیز تھا۔
“عقل کے دشمن! کھیڑا جھنگ سے نہیں رنگ پور سے تھا، اور اب کیا ڈر؟ ہیر تو ہماری ہے، اللہ کے رسول کے گھر میں اللہ اور رسول کو گواہ بنا کر قبول کیا ہے اب ڈر خوف نہیں۔” احد کے لہجے کی خوشی دیکھ کر ضرار اور اشعث مسکرائے اور سچے دل سے دعا دی۔
✩━━━━━━✩
آج جھنگ کا موسم خوشگوار تھا کیونکہ آج احد صدیقی نے اپنی دلہن کو لینے آنا تھا۔ بنتا تھا نا ہواؤں کا رقص! حیدر علی کا مکان آج پہلی دفعہ سجایا گیا تھا کیونکہ حیدر علی کی بیٹی دلہن بننے والی تھی۔
عنایہ کے گھر میں روایتی شادیوں کی طرح مہمانوں کی بھرمار نہیں تھی، صرف قریبی کچھ لوگ تھے: مریم، نادیہ، زمائمہ اور افق، یوشع، نور، کبیر شاہ، زکیہ بیگم اور چھوٹا سا حومائل۔ یہی عنایہ کی طرف سے لڑکی والے بن کر شرکت کرنے والے تھے۔ ابراہیم، اشعث، ضرار اور مفراہ بارات کے ساتھ آنے والے تھے۔ ثمینہ اور مشکوٰۃ گھر ہی رکنے والی تھیں کیونکہ کل مشکوٰۃ نے بھی تو دلہن بننا تھا نا۔
انتظامات سارے بینکوئٹ ہال میں کیے گئے تھے، اس کی نگرانی یوشع اور افق کر رہے تھے مگر اس کا سارا خرچہ عنایہ نے خود اٹھایا تھا اور اس چیز کے لیے اس نے بہت مشکل سے کبیر اور یوشع کو راضی کیا تھا۔ اس وقت عنایہ کے گھر پر صرف نور اور عنایہ ہی موجود تھیں، باقی سب بارات کے استقبال کے لیے گئے ہوئے تھے۔ عنایہ کی میک اپ آرٹسٹ اسے گھر میں ہی تیار کر رہی تھی اور چونکہ میک اپ لیٹ تھا اس لیے نور اور وہ ابھی ہال نہیں پہنچی تھیں۔ ان کو لینے تھوڑی دیر میں یوشع آنے والا تھا۔
بیوٹیشن اسے مکمل طور پہ تیار کر چکی تھی۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو!” نور نے اس کی ماتھا پٹی درست کرتے ہوئے پیار سے کہا تو عنایہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“تم ناراض نہیں ہو؟” عنایہ کے لہجے میں نور نے واضح ڈر محسوس کیا تھا۔
“میں تم سے ناراض ہو سکتی ہوں کیا عنایہ؟ تم وہ واحد ہو جس نے مجھے تب تھاما جب مجھے تھامے جانے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ تم وہ واحد تھی جس نے میرے آنسوؤں کو آنسو سمجھا تھا نہ کہ ایک دکھاوا۔ تمہیں یاد ہے میری وہ سب سے اچھی دوست جس کے ساتھ میں سارا سارا دن گزارتی تھی؟ میرا ایٹیٹیوڈ لیول پیک پر ہوتا تھا، میں تم سے بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتی تھی۔ رب جانے کس بات کا غرور تھا مجھ میں؟ شاید مجھے میری دوست اور اس کی دوستی پر غرور تھا۔ پر اللہ کو متکبر ہونا جچتا ہے، یہ بات میں بھول گئی تھی۔”
“جب بابا کا انتقال ہوا تھا، مجھے آج بھی یاد ہے میں ان کی میت کے پاس تڑپ رہی تھی اور میری دوست کھلے دروازے سے مجھے دیکھ رہی تھی پر وہ تو آئی ہی نہیں میرا غم بانٹنے۔ اس وقت جن ہمدرد بازوؤں نے مجھے سمیٹا تھا وہ تم تھیں۔ اور مجھے یاد ہے تم نے کہا تھا: ‘میں تمہارا دکھ سمجھتی ہوں نور، اس لیے میں تمہیں یہ نہیں کہوں گی کہ صبر رکھو کیونکہ باپ پر صبر نہیں آتا، تم جتنا رو لو میں ہوں تمہارے پاس تمہارے آنسو پونچھنے کے لیے’۔”
“یقین کرو عنایہ، اس دن میں صرف باپ کی موت کے سوگ پر ہی نہیں روئی تھی بلکہ اپنی دوستی کا بھی ماتم منا لیا تھا۔ اور بعد میں مجھے اس کی طرف سے سننے کو ملا تھا کہ ‘تمہارا تو روز کا رونا ہے، میں کیا اب ہر بار آؤں’۔ پر کبھی بہتر پانے کے لیے بدتر کھونا پڑتا ہے۔ اس کا جانا بہتر تھا تاکہ تمہارے آنے کی جگہ بن سکے عنایہ۔” نور ہتھیلی اس کے گال پر رکھے نم آنکھوں سے بولتی جا رہی تھی اور عنایہ مبہوت ہو کر اسے دیکھ رہی تھی۔
عنایہ نے آگے بڑھ کر اسے خود سے لگایا۔ وہ غم کے دور میں بنی دوستیں تھیں اور غم کے ساتھی کبھی نہیں بھلائے جاتے۔ سکھوں کے دور میں تو ہر کوئی ساتھ نبھا جاتا ہے، بات تو دکھوں کی ہوتی ہے۔
“ویسے بھی اگر میں ناراض ہوتی تو تم وکیل صاحب کی دلہن نہ بنی کھڑی ہوتیں بلکہ ہسپتال کے کسی بیڈ پر پڑی کراہ رہی ہوتیں!” نور نے ماحول کو ہلکا پھلکا کرنے کی غرض سے شرارتی انداز میں کہا، جس کے ساتھ عنایہ ہنس دی۔
“ویسے کون سے منتر پھونکے ہوئے ہیں وکیل صاحب پر؟ پانچ سال مجنوں بن کر گھومتے رہے ہیں، نہ کسی سے ملنا نہ بات کرنا، صرف جھگڑے اور پولیس اسٹیشن کے چکر! اور بلیک میلنگ کے لیے میرا بچہ بیچارہ رہ جاتا تھا۔” نور نے شرارت سے عنایہ کے کندھے سے کندھا ٹکرایا۔
“وہی پھونکا ہے جو تم نے یوشع بھائی پر پھونکے تھے یا میں تصیح کروں وہ جو یوشع بھائی نے تم پر پھونکے تھے؟ کیونکہ آگ تو پہلے اِس طرف لگی تھی نا!” عنایہ کے انکشاف پر نور کے چہرے کا رنگ بدلا۔
“بکواس نہ کرو!” نور نے لہجہ مضبوط رکھنے کی ناکام سی کوشش کی۔
“بکواس تو نہیں کر رہی! کہہ دو کہ مریم آنٹی نے تمہیں نہیں بتایا تھا اپنے بیٹے کے بارے میں؟ کہہ دو کہ تم اندر ہی اندر اس کے بارے میں نہیں سوچتی رہتی تھیں؟”
نور کو وہ رات یاد آئی جب وہ محض 12 سال کی تھی اور اس نے امی کو چوری چوری روتے دیکھا تھا۔ جب اس نے وجہ پوچھی تو مریم نے جذبات میں آ کر اسے اپنے بیٹے کا بتا دیا تھا، مگر اگلی صبح اسے اس بات کو راز رکھنے کا وعدہ بھی لیا تھا۔ پھر نور ان کی ساتھی اور سامع بن گئی۔ جب ہم کسی کو شدت سے یاد کرتے ہیں تو اس کا ذکر کرنے کے لیے ہمیں اچھا سننے والا درکار ہوتا ہی ہوتا ہے، اور نور ان کی وہی ساتھی بن گئی۔ اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے اس کی ہر بات نور سے کرتی تھیں۔ “بچپن میں ایسا تھا، نہ جانے اب کیسا ہوگا۔ وہ اتنا شرارتی تھا، پتا نہیں اب بھی ویسا ہوگا یا سنجیدہ ہو گیا ہوگا۔”
نور کی کچی عمر میں ہی دل و دماغ میں پہلا عکس یوشع شاہ کا بنا تھا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی، وہ اس کے دل و دماغ میں پختہ ہوتا گیا۔ اس نے اسے سوشل میڈیا پر اسٹاک کرنا شروع کر دیا، امی کو بھی اس نے تصویریں دکھائی تھیں۔ مریم گھنٹوں اس کی تصویر دیکھتی روتی رہتی تھیں۔ وہ ہو بہو اپنے ماموں کی کاپی تھا۔
پھر نور کی شخصیت بدل گئی، اس کے بابا مر گئے۔ اس کی شوخی کے ساتھ ہی وہ محبت بھی کہیں دب گئی مگر وہ ختم نہیں ہوئی تھی۔ پھر وقت نے دوبارہ انہیں آمنے سامنے لایا۔ اللہ نے یوشع کے دل میں بھی اس کی محبت ڈال دی۔ پھر نہ جانے کیسے اچانک سے وہ اس کا بن کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ وہ نورِ قلب سے اس کی قلبِ شاہ بن گئی۔ اس نے تو کبھی اتنی بڑی خواہش بھی نہیں کی تھی، وہ تو ایک کچی عمر کا چھوٹا سا کرش تھا جو وہ خود سے بھی چھپا کر رکھتی تھی۔ پر پتا نہیں کیوں اس نے اس کمبخت کو اس بارے میں بتا دیا اور اب وہ اس بات کو لے کر اکثر اس کا ریکارڈ لگاتی رہتی تھی۔
لوگ کہتے ہیں کہ دوستوں کے ساتھ سب کچھ شیئر کرنا چاہیے، مگر اگر آپ اس مخلوق کے ہاتھ اپنی ایک بات بھی دے دیں تو یہ تاقیامت اس کو یاد رکھتے ہوئے آپ کا مذاق بناتے رہیں گے۔ اس لیے اس مخلوق کے سامنے منہ کھولنے میں احتیاط برتیں۔
“ہاں ہاں بول دو، اب ایسا بھی نہیں ہے!” عنایہ کی آواز نے اسے خیالوں سے نکالا۔
“عنایہ، دلہن بن کر تو زبان بند رکھ لو!” نور کے باقاعدہ ہاتھ جوڑنے کی کسر رہ گئی تھی۔ صبح سے ہی مجال ہے جو اس لڑکی کی زبان منہ میں گئی ہو۔ بیوٹیشن بھی اس کی مسلسل چلتی زبان سے عاجز آ گئی تھی، مگر یہ لڑکی بولنے سے نہ تھکی۔
باہر گاڑی کے ہارن کی آواز آئی نور یوشع کا گمان کر کے دروازہ کھولنے کے لیے باہر کی جانب بڑھ گئی۔
عنایہ نے مسکراتی ہوئی نظر اپنے گھر پر ڈالی۔ اگر امی ہوتیں تو اسے دلہن بنا دیکھ کر کتنا خوش ہوتیں نا! اور اگر بابا ہوتے…؟ آگے وہ کچھ امیجن ہی نہیں کر پائی۔ اس نے کبھی اپنے بابا کے ساتھ زندگی کا ایک لمحہ بھی نہیں گزارا تھا، کیسے آج امیجن کر لیتی کہ ان کے کیا احساسات ہوتے۔ دھیرے سے انگلی سے آنکھ میں اٹکا آنسو صاف کیا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری کی۔
نور نے دروازہ کھولا تو سامنے دولہا بنے احد کو کھڑا دیکھ کر اس کا منہ حیرت سے کھلا۔
“کیا ہے بھابھی؟ ہٹ جائیں، میں کب سے باہر کھڑا ہوں۔ اپنی دلہن لینے اس کی دہلیز پر آیا ہوں۔کبھی کوئی دولہا یوں دلہن بیاہنے آیا ہے؟” اس بات پر نور نے دل میں اعتراف کیا تھا کہ نہیں بالکل نہیں، صرف احد صدیقی ایسا کر سکتے ہیں، مگر بولی تو کیا: “نہیں، نمونے ہمیشہ الگ چمکتے ہیں۔”
پر احد اسے کوئی جواب دیتا کہ تب ہی اس کی نظر پیچھے صحن کے بلند حصے پر کھڑی عنایہ پر پڑی۔ اسے دیکھ کر اس کے تمام الفاظ گم ہو گئے۔ وہ جو نور کو واپس نہ آتے دیکھ کر باہر آئی تھی، احد کو دیکھ کر حیرت سے وہیں مجسم بن کر کھڑی رہی۔ احد ٹرانس کی کیفیت میں نور کے پاس سے گزر کر آگے بڑھا اور اس کے سامنے کھڑا ہوا۔
گھر کا صحن یوں تھا کہ صحن کا آدھا حصہ تھوڑا سا بلند تھا جہاں تک جانے کے لیے تین زینے عبور کرنے پڑتے تھے۔ عنایہ اسی حصے کے کنارے پر کھڑی تھی اور احد نیچے گردن بلند کیے اسے نظروں میں بسا رہا تھا۔
آسمان پر سورج ڈوب چکا تھا اور اس کی ہلکی سی سرخی بکھری نظر آتی تھی اور چاند آسمان پر نمودار ہو چکا تھا مگر ابھی اس کی چاندنی زمین پر نہیں بکھری تھی، پر احد کا چاند تو روشن تھا۔ چمکتا ہوا! احد کو کچھ الفاظ بے ساختہ یاد آئے تھے:
‘شام سمے اک اونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں
چاند کو اترتے دیکھا ہم نے؟ چاند بھی کیسا؟ پورا چاند!
واقعی وہ چودھویں کے مکمل چاند کی طرح ہی تو چمک رہی تھی۔ عنایہ نے لائٹ پرپل کلر کا کھلتا ہوا لہنگا اور ہم رنگ چولی زیب تن کر رکھی تھی۔ لہنگے پر گولڈن اور لائٹ پنک ایمبرائڈری ہو رکھی تھی۔ سر پر لائٹ پرپل ہی حجاب تھا اور لہنگے کا بھاری کامدار دوپٹہ ساڑھی کی طرز پر کمر سے لپیٹ کر کندھے پر ڈالا ہوا تھا اور ایک لائٹ پنک کلر کا ٹیل والا ویل گھونگٹ کے انداز میں سر پر ڈالا ہوا تھا۔ اس وقت عنایہ وہ گھونگٹ پلٹے کھڑی تھی۔ ڈریس کی مناسبت سے بہت خوبصورت لائٹ اور گلوئی سا میک اپ اس کے چہرے کو چار چاند لگا رہا تھا۔
عنایہ حیدر پر احد صدیقی کی دلہن بن کر ٹوٹ کے روپ اترا تھا۔ احد اب بھی مبہوت ہو کر اسے گردن اٹھائے ہی دیکھ رہا تھا۔
“تو پھر کیا شہر عشق کی دلہن اپنے دلہے کے سنگ محبت کے نگر چلے گی؟” احد نے گردن اٹھائے بھوری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
“کیا شرط ہے کہ محبت ملے گی؟” دلہن نے ایک ابرو اچکایا۔
“محبت کی ضامن میری سانسیں! محبت کرنا چھوڑ دوں تو دوسری سانس نہ لوں۔” دولہے نے اپنی جان ضمانت میں دے دی۔
“وفا کا وعدہ ؟؟” دلہن مزید کچھ سننا چاہتی تھی
“خدا کو حاضر و ناظر جان کر صحن نبوی میں تمھیں سپردگی میں لیا تھا اور خود کو تمہیں سونپ دیا تھا۔ اب بھی وفا نہ کروں تو آدھا ایمان گنوا دوں، اور مومن کی واحد دولت اس کا ایمان ہوتا ہے۔ اور تم، عنایہ حیدر، میرا ایمان مکمل کرتی ہو۔ تمہیں لگتا ہے کہ تمہیں گوا کر اپنی دولت گوانا چاہوں گا؟”
عنایہ حیدر پہلے اس کی زندگی تھی مگر نکاح کے بعد اس کا آدھا ایمان بن کر اس کا ایمان مکمل کر گئی تھی۔
اس کے جواب سے دلہن کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ وہ خوبصورت بولتا تھا نا! ایسا بولتا تھا کہ دلوں کو سکون آ جائے اور وہ خواہشیں جو کہیں دل میں دب گئی تھیں، وہ ابھر آنے کو مچل اٹھیں۔
“عنایہ حیدر اپنی خامیوں، اپنے تمام تر غموں، اپنے بکھرے وجود، اپنے زخمی دل اور نامکمل سے جذبات کے ساتھ… کیا آج احد صدیقی کو قبول ہے؟”
احد نے اس کا بایاں ہاتھ تھاما اور ماتھا اس کے ہاتھ کی پشت پر ٹکا دیا، بالکل جیسے کسی مقدس چیز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
“عنایہ حیدر! مجھے اس وعدے کے ساتھ قبول ہے کہ وہ عنایہ احد بننے کے بعد ہر غم سے پاک ایک مندمل شدہ خوبصورت دل کے ساتھ دنیا کی سب سے خوش قسمت عورت بن جائے گی۔”
اس نے وہیں کھڑے کھڑے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا۔ عنایہ نے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر ٹکا دیے گہری بھوری اور شہدیہ بھوری آنکھوں کا تصادم ہوا۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں گم ہو کر دیکھ رہے تھے۔
پھر احد نے آہستہ سے اسے اپنے روبرو کھڑا کیا اور ایک معطر سا لمس اس کے ماتھے پر چھوڑا۔ عنایہ نے دھیرے سے آنکھیں موند لیں، سکون رگ و پے میں اتر گیا تھا۔ نور مسکراتے ہوئے ان کا یہ خوبصورت سا مومنٹ کیمرے میں قید کر رہی تھی۔
یوشع جو کہ نور اور عنایہ کو لینے آیا تھا، احد اور عنایہ کو روبرو کھڑا دیکھ کر حیرت سے وہیں رک گیا۔
“اوئے! تو یہاں کیا کر رہا ہے اور بارات والے حیران پھر رہے ہیں کہ ان کا دولہا کہاں گیا؟”
یوشع کی حیرت بھری آواز پر نور کی ہنسی بے ساختہ تھی، جبکہ عنایہ اور احد کا جمود ٹوٹا۔
“عاشقی جھاڑ لی ہو تو چلیں؟ ورنہ دولہا صاحب کو لینے اس کا باپ ہی آئے گا، وہ بھی جوتا تھامے! چل لے تھرڈ کلاس عاشق، تیرے ابا جان وہاں غصے سے پاگل ہوئے پھر رہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ تیرا دولہا بننے کا خیال بھی نہ کریں۔۔۔۔۔ آگے تو خود سمجھدار ہے!” یوشع نے افسوس سے اسے دیکھتے ہوئے شرم دلانے والے انداز میں کہا۔
پر وکیل صاحب اور شرم کا تو دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ احد نے اس کی بات پر آنکھیں رول کیں۔ اب وہ ملک کا اتنا بڑا وکیل اپنے باپ کے جوتے اور دوستوں کے تانے کھانے کے لیے تو نہیں بنا تھا نا! اسے نم ڈھیٹ بنا دیکھ کر یوشع نور کا ہاتھ تھامے اسے کھینچتے ہوئے ساتھ لے گیا، وہ ‘ارے ارے’ کرتی رہ گئی۔
“بیڑا غرق ہو اس ظالم ساکے صاحب کا! میرا رومینٹک موڈ اور موومنٹ سارا سپائل کر دیا، اللہ ہی پوچھے تجھے!” احد کو چڑ کر یوشع کو کوستے دیکھ کر عنایہ ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تھی۔
“چلو تم بھی! ورنہ تمہارے سسر نے سچ میں آ جانا ہے جوتا لے کر”۔ ارے کیا ہو گیا؟ اگر وہ ملک کا بڑا وکیل تھا تو ڈرتا وہ پھر بھی اپنے باپ سے تھا۔ وہ یہ بات مانے یا نہ مانے، ہم تو جانتے ہیں نا!
“ارے رکیں تو! چادر تو لینے دیں۔” اس کے جلدی مچانے پر عنایہ نے اسے یاد دلایا۔
“رکو میں لے آتا ہوں، تم کیسے چلو گی اتنے بھاری لباس میں؟” کہتے ہوئے وہ کمرے سے اس کی چادر اٹھا لایا اور اسے اوڑھا دی۔ ہلکا سا پلو گھونگٹ کی صورت چہرے پہ کر دیا، پھر ایک بازو کے حلقے میں اسے تھامے اور ایک ہاتھ سے اس کا لباس سنبھالتے ہوئے اسے گاڑی تک لایا اور اندر بٹھا دیا۔
عنایہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے انداز پر شرم آ رہی تھی اور کہیں نہ کہیں اچھا بھی لگ رہا تھا کہ وہ اس کا اور اس کی چیزوں کا اتنا خیال رکھتا ہے۔ کچھ گھروں سے لڑکیاں اور عورتیں لٹک لٹک کر اس نو بیاہتا جوڑے کو دیکھ رہی تھیں، سب کو عنایہ کی قسمت پر رشک آ رہا تھا۔ عنایہ کا اتنا ہینڈسم اور کئیرنگ شوہر دیکھ کر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
