PATJHAR BY ALAM 2nd LAST EPISODE

پت جھڑ قسط نمبر ؛ ٢١

ازقلم الم

پاکستان کے وکیلوں کو لوٹنا کوئی آسان کام تھوڑی ہے، بیوی نہ ہاتھ لگی، شوہر ہی سہی! یوشع نے تاسف سے اس لالچی انسان کو دیکھا۔

مزید چند ایسی نوک جھونک کے بعد رخصتی کا شور بلند ہوا اور پھر عنایہ رخصت ہو کر احد کے سنگ پیا دیس سدھار گئی۔ اب اس کا کوئی خاندان تو پیچھے چھوٹ نہیں رہا تھا کہ وہ رونا دھونا کرتی، اور ویسے بھی اسے سب کے سامنے رونے میں شرم آتی تھی۔ اس کی رخصتی ہلکے پھلکے ماحول میں ہی کی گئی۔
گاڑیوں کا ایک قافلہ جھنگ سے لاہور کے لیے نکلا تھا۔ دولہا صاحب اپنی دلہن کو لیے گاڑی خود چلا رہے تھے۔ اشعث، یوشع اور نور ایک ساتھ تھے، بڑے دوسری گاڑی میں تھے، ضرار اور مفراہ علیحدہ گاڑی میں تھے۔ سب سے آگے گاڑی احد کی جا رہی تھی۔ گاڑی کے اندر کا منظر بڑا عجیب تھا؛ عنایہ پاؤں سیٹ کے اوپر رکھ کر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی اور اس کی گود میں لیز  کا پیکٹ پڑا تھا، ایک ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کا گلاس تھا جو وقفے وقفے سے کبھی احد کی طرف پاس ہو رہا تھا تو کبھی عنایہ کی طرف۔ گاڑی کے اندر پڑے ڈسٹ بن میں سے کئی خالی ریپرز اپنی جھلک دکھا رہے تھے، یعنی دولہا دلہن فل پارٹی کر چکے تھے۔
“ارے بیگم! میں آپ کو بتا نہیں سکتا میں آپ کے ساتھ بیاہ کروا کے کتنا خوش ہوں۔” احد پرجوش انداز میں بولا تو عنایہ نے کولڈ ڈرنک کا سپ لیتے ہوئے سکون سے اسے دیکھا۔
“اچھا؟ کتنا خوش ہیں؟” اس نے لیز منہ میں ڈالی۔
“اتنا کہ میں ابھی یہاں بیچ سڑک میں گاڑی روک کر ناچنا شروع کر دوں!” احد نے اپنی خوشی کا پیمانہ بتانے کے لیے بات گھڑی، پر شاید وہ اپنی بیگم کی خردماغ طبیعت بھول گیا تھا۔
“ہیں؟ سچی؟ پھر ناچ کے دکھائیں!” عنایہ نے پرجوش انداز میں کہا تو احد نے بھی ایکسائٹڈ ہو کر اسے دیکھا۔
“ویسے کہہ رہا ہوں کہ میں تو تیار تھا، پھر سوچا کہ آپ کیا کہیں گی؟ اب آپ کی اجازت ہو تو کیا میں ناچ لوں؟”
“ارے نہیں، دیکھیں نا روڈ خالی پڑا ہے، آپ شوق پورا کریں۔”
یہ دولہا دلہن واقعی الگ پیس تھے۔ اب آدھی رات کو خالی روڈ پر پھولوں سے سجی گاڑی سڑک کی ایک سائیڈ پر رکی ہوئی تھی اور دلہن صاحبہ گاڑی کے بونٹ پر چڑھی بیٹھی تھیں اور ساتھ ساتھ کولڈ ڈرنک کے گھونٹ بھر رہی تھیں، اور دولہا میاں اپنا کوٹ دلہن کے پاس رکھ کر سڑک کے بیچوں بیچ بھنگڑے ڈال رہے تھے۔ گاڑی کے فرنٹ ڈورز اوپن تھے جس میں سے تیز آواز میں میوزک گونج رہا تھا:

میں نکلا او گڈی لے کے
میں نکلا او گڈی لے کے، او رستے پر او سڑک میں
ایک موڑ آیا، میں اتھے دل چھوڑ آیا
ایک موڑ آیا، میں اتھے دل چھوڑ آیا
رب جانے کب گزرا امرتسر، او کب جانے لاہور آیا
میں اتھے دل چھوڑ آیا (یے یے ہے)
ایک موڑ آیا، میں اتھے دل چھوڑ آیا

سب سے پہلے اس منظر کے پاس پہنچنے والی گاڑیاں یوشع اور ضرار کی تھیں۔
“دو عقل سے پیدل لوگوں کو ایک رشتے میں باندھ دیا ہے، اب دنیا والوں کا اللہ ہی خیر کرے ! ان دونوں کو کوئی خیال ہے کہ آج ان دونوں کی شادی ہے اور یہ دولہا دلہن بنے ہوئے ہیں؟ بیچ سڑک انہوں نے اپنا الگ ہی فنکشن سجا رکھا ہے!” ضرار ان کی حرکتیں دیکھ کر تپ گیا، جبکہ مفراہ موبائل نکال کر ان کی ویڈیو بنا رہی تھی تاکہ بعد میں مشکوٰۃ کو دکھا سکے۔ یوشع بھی دانت پیستے ہوئے یہ سب دیکھ رہا تھا جبکہ اشعث اور نور انجوائے کر رہے تھے۔ حومائل بھی سیٹ پر کھڑا چاچو کی دیکھا دیکھی بھنگڑے ڈال رہا تھا۔

اس موڑ پہ وہ مٹیار ملی
اس موڑ پہ وہ مٹیار ملی، جٹ یملا پاگل ہو گیا
اس کی زلفوں کی چھاؤں میں، میں بستر ڈال کے سو گیا
او جب جاگا میں بھاگا، سب پھاٹک سب سگنل میں توڑ آیا
میں اتھے دل چھوڑ آیا
او ایک موڑ آیا، میں اتھے دل چھوڑ آیا

احد نے جب ‘مٹیار’ کہتے ہوئے عنایہ کی طرف اشارہ کیا تو اس نے مصنوعی اتراہٹ کے ساتھ گردن اٹھائی۔

بس ایک نظر اس کو دیکھا
بس ایک نظر اس کو دیکھا دل میں اس کی تصویر لگی
کیا نام تھا اس کا رب جانے، مجھ کو رانجھے کی ہیر لگی
او میں نے دیکھا ایک سپنا، سنگ اس کے نام اپنا میں جوڑ آیا
میں اتھے دل چھوڑ آیا
ایک موڑ آیا، میں اتھے دل چھوڑ آیا


باری باری احد کے کئی کزنز کی گاڑیاں ان کے پاس آ کر رک رہی تھیں۔ اب احد کے کچھ ینگ اور منچلے کزنز گاڑیوں سے نکل کر اس بھنگڑے میں شامل ہو چکے تھے۔ سڑک کے بیچوں بیچ انہوں نے سماں باندھ دیا تھا، مسافروں کی گزرنے والی گاڑیاں بھی رک کر اس انوکھی بارات کو دیکھ رہی تھیں۔

او شرما کے وہ یوں سمٹ گئی
شرما کے وہ یوں سمٹ گئی
جیسے وہ نیند سے جاگ گئی
میں نے کہا گل سن او کڑئیے، وہ ڈر کے پیچھے بھاگ گئی
وہ سمجھی او گھر اس کے، چوری سے او چپکے سے کوئی چور آیا
میں اتھے دل چھوڑ آیا
ایک موڑ آیا، میں اتھے دل چھوڑ آیا

گانے کے بولوں کے ساتھ میچ کرنے کے لیے عنایہ نے مصنوعی شرماتے  ہوئے دوپٹے کا کونا دانتوں میں ڈالا۔ سب لوگ اس ڈرامے باز کپل کی ڈرامے بازیاں جم کر انجوائے کر رہے تھے۔

میں نکلا او گڈی لے کے، او راستے پر او سڑک میں ایک موڑ آیا
میں اتھے دل چھوڑ آیا (یے)
ایک موڑ آیا (ایک موڑ آیا)
میں اتھے دل چھوڑ آیا (میں اتھے دل چھوڑ آیا)
ہو ایک موڑ آیا (ہو ایک موڑ آیا)
میں اتھے دل چھوڑ آیا (میں اتھے دل چھوڑ آیا)
ارے ایک موڑ آیا (ارے ایک موڑ آیا)
میں اتھے دل چھوڑ آیا (میں اتھے دل چھوڑ آیا)

ابھی سب ناچنے میں مگن تھے کہ انہیں دور سے احد صدیقی کی گاڑی آتی دکھائی دی، تو احد کے کزن نے زوردار ہانک لگائی: “احد! تایا ابو آ رہے ہیں!” اور بس، یہ سننا تھا کہ پانچ منٹ میں سارے وہاں سے فرار ہو گئے۔
عنایہ گاڑی میں بیٹھی ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تھی۔ احد بھی ساتھ ہنس رہا تھا۔
“اف یار! مجھے نہیں لگتا آج تک کسی نے اپنی شادی میں اتنا انجوائے کیا ہو گا!” عنایہ نے چہک کر کہا۔ احد نے ایک جتاتی نظر اس پر ڈالی “اب ہر کسی کا دولہا میری طرح کول اور ہینڈسم تھوڑی نہ ہوتا ہے!”
احد نے مصنوعی انداز میں کالر جھاڑے تو عنایہ نے اسے آسمان سے زمین پر پٹخا “بس بس، زیادہ شوخ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔”احد نے منہ بنایا۔

یونہی ہنستے مذاق میں سفر کٹا اور جب ان کی گاڑی اپنے گھر کے ڈرائیو وے میں داخل ہوئی تو ایک طوفانِ بدتمیزی مچ گیا۔ اس کے کزن ہائی سپیڈ میں ڈرائیو کرتے ہوئے اس سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے اور اب آتش بازی اور ڈھول کی دھمک میں تمام آوازیں دب رہی تھیں۔

پھر مسز صدیقی آگے آئیں۔ وہ بارات کے ساتھ نہیں گئی تھیں (کچھ پنجابی فیملیز میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ دولہے کی ماں کو بارات کے ساتھ نہیں جانا چاہیے بلکہ وہ پیچھے رک کر استقبال کی تیاریاں کرتی ہیں)۔
مسز صدیقی کے ہاتھ میں چاندی کا گڈوا تھا جس میں میٹھا شربت تھا۔ رسم کچھ یوں تھی کہ انہوں نے اپنے بیٹے اور بہو کے سر سے یہ سات دفعہ وارنا تھا اور ہر چکر پر ایک گھونٹ بھرنا تھا، اور ان کے بیٹے نے انہیں وہ گھونٹ بھرنے سے روکنا تھا۔ مسز صدیقی گھونٹ بھرنے لگتیں تو احد ان کا بازو تھام لیتا مگر وہ تھوڑی سی قوت استعمال کرتے ہوئے بازو چھڑا کر گھونٹ بھر لیتیں۔
پھر عنایہ کء گھر کے اندر داخل ہونے سے پہلے صدقے کے طور پر دو بکرے قربان کیے گئے تھے۔
پھر اسے احد کے روم میں بھجوا دیا گیا۔ احد کا کمرہ خوابناک منظر پیش کر رہا تھا، اسے پھولوں اور موم بتیوں سے سجایا گیا تھا۔ عنایہ کو بیڈ کے بیچوں بیچ بٹھا دیا گیا، اس کے لہنگے کے گھیر کو مسکان نے پھیلا دیا تھا۔

احد کو آج کمرے میں آنے کا جلدی موقع مل گیا تھا کیونکہ اشعث صاحب کی کل خود کی شادی تھی اس وجہ سے وہ اپنے گھر جلدی روانہ ہو گئے تھے۔اس کے کزنز اس کے باپ سے سڑک پر لگائے تماشے کی وجہ سے کلاس لگوا رہے تھے اس لیے وہ موقع دیکھتے فرار ہو آیا۔
احد کے قدموں کی چاپ سن کر عنایہ نے گھونٹ پلٹا اور ایزی ہو کر بستر پہ لیٹ گئی۔
“اب آپ دن میں کوئی ہزار مرتبہ میرا چہرہ دیکھ چکے ہیں، کیا فائدہ یہ گھونگٹ ڈال کے بیٹھنے کا، ہے نا؟” عنایہ کے ریلیکس انداز پر احد نے تپ کر اسے دیکھا۔ وہ جو اتنے دنوں سے سنجیدہ بنی ہوئی تھی، وہ جانتا تھا کہ اس کی سنجیدگی کی عمر اتنی ہی ہے۔
“چلیں منہ دکھائی لائیں!” عنایہ نے ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا۔
“ارے بھائی کہاں کی منہ دکھائی؟ اس منہ کی جو دن میں ہزار دفعہ دیکھ چکا ہوں؟” احد نے موقع پر ہی اس کے الفاظ اسے لوٹائے۔
“اللہ معاف کرے وکیل صاحب! آپ تو بڑے منافق نکلے۔ تحفہ دینے کے بجائے کہہ رہے ہیں کہ اب آپ کو میرا چہرہ عام لگنے لگ گیا ہے؟”
“اللہ اللہ لڑکی میں نے کب بولا کہ تمہارا چہرہ عام ہے میں نے بولا کہ جس چہرے کو میں اتنی دفعہ دیکھ چکا ہوں اس کو دیکھنے کا میں کیا انعام دوں تمہیں”
عنایہ کا غصے سے پھولتا ناک دیکھ کر احد نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے اسے مزید چڑایا۔
“بھاڑ میں جائیں آپ اور آپ کا تحفہ! میرے جوتے کو بھی پرواہ نہیں ہے، میں اپنے آپ کو خود بہت اچھا گفٹ دے دوں گی۔” اس نے اپنا لہنگا تھاما اور تنفن کرتی احد کے پاس سے گزرنے لگی۔
احد نے ہنستے ہوئے اس کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اس کے سینے سے جا ٹکرائی۔ ساری شوخی پل میں ہوا ہوئی۔ احد نے اپنی ناک اس کی ناک کے ساتھ رگڑی “اتنا غصہ؟ تم پر تو احد صدیقی قربان اس کی دولت کی کیا ہی بات ہے۔”
اس نے جھک کر اس کا پھولتا ہوا ناک چوما۔
“بس باتیں ہی کروا لیں آپ سے!” عنایہ نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔
“کون سی دلہن ہوتی ہے جو پہلی رات اپنے دولہے سے یوں لڑتی ہے؟”
“اور کون سے دولہا ہوتے ہیں جو پہلی ہی رات اپنی دلہن کا تحفہ ہڑپ کر جاتے ہیں؟”
احد اس کے اس جواب پر محظوظ ہوتا مسلسل ہنس رہا تھا۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم گولڈ ڈگر ہو  بیگم!”
“جی الحمدللہ! کبھی غرور نہیں کیا۔” عنایہ نے بھی ڈھٹائی سے کمپلیمنٹ ایکسیپٹ کیا۔
“کرنا بھی نہیں چاہیے، غرور اللہ کو پسند نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کو تو وہ عورتیں پسند ہیں جو شوہر کے سامنے زبان نہیں چلاتیں اور اس کی ہر بات پر لبیک کہتی ہیں۔” اس نے بازو کمر کے گرد لپیٹ کر اسے خود کے ساتھ لگایا۔
“اور اللہ کو وہ شوہر پسند ہیں جو اپنی بیوی کے نان و نفقے کا خیال رکھتے ہیں، اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ گھر کے کام کرواتے ہیں۔” عنایہ نے معصومیت سے اس کے علم میں اضافہ کیا۔
“بیگم! یہ ساری باتیں میں نے کبھی اسلامیات کی کتاب میں نہیں پڑھیں”احد کو اس بحث میں مزا آ رہا تھا
“آپ نے کبھی کسی کلاس میں کتابیں پڑھی ہیں؟ابو نے بتایا تھا مجھے، پیسے دے کے پاس کرواتے تھے وہ آپ کو!” عنایہ نے آنکھیں رول کرتے ہوئے کہا۔
احد بیچارہ صدمے میں رہ گیا، اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی بیوی اور باپ مل کر اسے ٹف ٹائم دینے والے ہیں۔ پر اس وقت اس نے ہتھیار پھینکنا ضروری سمجھے۔
“اچھا یار! اتنی خوبصورت رات کو تم کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔ لیا ہے تمہارا تحفہ، صبر تو کرو!” پھر وہ دراز میں سے ایک جیولری باکس نکال لایا۔ اس میں ایک خوبصورت ڈائمنڈ سیٹ تھا۔
“بہت پیارا ہے میری طرح۔” احد ایک بار پھر اپنی ڈرامے باز بیوی کی حرکتوں پر ہنس دیا۔ عنایہ حیدر کے سنگ زندگی یوں ہی تھوڑی کھٹی تھوڑی میٹھی گزرنی تھی۔
        
                         ✩━━━━━━✩

آج فائنلی اشعث ابراہیم شاہ کو بھی صبر کا پھل ملنے ہی والا تھا۔ اس کے چہرے سے مسکراہٹ جدا نہیں ہو رہی تھی۔
سب لوگ ہال میں موجود تھے۔ اشعث اور مشکوٰۃ، احد اور عنایہ کے برعکس بالکل روایتی انداز میں دولہا دلہن بنے تھے۔ جہاں اشعث گولڈن شیروانی پر گولڈن ہی کلا پہنے شاہی وائبز دے رہا تھا، وہیں مشکوٰۃ بھی ڈسٹ پنک میکسی پر ڈارک پنک اوپن اسٹائل لانگ فراک حس پر زری کا خوبصورت کام ہوا تھا پہنے اپنی روایتی جیولری کے ساتھ شہنشاہی دلہن لگ رہی تھی۔ اس نے خوبصورت انداز میں نقاب اوڑھ رکھا تھا جو اس کی لک کو مزید پرکشش بنا رہا تھا۔
مشکوٰۃ کی آنکھیں سرخ اور نم تھیں، وہ صبح سے ہی اپنے والدین کو یاد کر کے رو رہی تھی۔ اسی وجہ سے آج پورا دن ضرار اس کے ساتھ رہا تھا۔ اب پھر اسے اپنے بازو کے ساتھ لگائے اس کے کان میں صبر اور حوصلہ رکھنے کی تلقین کر رہا تھا۔ مشکوٰۃ کو چند گھنٹے پہلے کا منظر یاد آیا جب وہ اس کے روم میں آیا تھا:م
“مجھے پتا ہے بچے، آپ سے دور رہ کر میں نے آپ کی حق تلفی کی ہے، اور میں اپنے اس عمل کو جسٹیفائی کرنے نہیں آیا بلکہ میں صرف تم سے شکریہ کہنے آیا ہوں اور معذرت کرنے۔ شکریہ میرے پلٹ آنے پر مجھے شرمندہ کرنے کے بجائے میرا مان رکھنے کا۔ اور معذرت تمہیں تمہارے حق کے پیار اور توجہ سے محروم رکھنے کا۔ تمہیں پتا ہے ہم نے تمہیں کتنی دعاؤں سے مانگا تھا؟اتنی چھوٹی سی تو تھی تم… میں تمہیں ایک بازو میں اٹھا کر پورے گھر میں پھرتا تھا اور اشعث ہمیشہ مجھ سے لڑتا تھا تمہیں اٹھانے کیلئے۔ میں اسے تم سے دور رکھنے کی کوشش کرتا تھا، اگر وہ تمہیں کبھی اٹھا بھی لیتا تو میں چھین لیتا تھا۔ اور دیکھو! آج وہی چھوٹی سی گڑیا دلہن بننے جا رہی ہے اور آج میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں اس کے حوالے کروں گا…”
اس کی آواز بھر آئی تھی۔ “مجھے لگتا تھا کہ اشعث جیسا لاپرواہ اور غیر ذمہ دار انسان تمہارا خیال نہیں رکھ پائے گا، اسی لیے اس دن نکاح کے روز میں آیا تھا۔ مگر میں غلط تھا… میری مشکوٰۃ کو مجھ سے بھی زیادہ سنبھال کر صرف وہی رکھ سکتا ہے۔ اللہ میرے بچے کے نصیب بہت اچھے کرے”
اس نے مشکوٰۃ کو سینے سے لگا کر اس کا ماتھا چوما ۔ مشکوٰۃ کو ضرار میں ہمیشہ اپنے باپ کا عکس نظر آتا تھا۔
“بھائی! مما بابا کے پاس لے چلیں نا۔” مشکوٰۃ کے مطالبے پر ضرار نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
“دلہن ہو تم، اب میں تمہیں قبرستان لے جاؤں؟ پاگل ہو؟”
“قبرستان میں پڑے بے ضرر اور بے جان مجھے کیا نقصان پہنچائیں گے؟ قبرستان صرف ان کے لیے کرسڈ ہوتا ہے جن کا اپنا کوئی وہاں موجود نہ ہو۔ جب آنکھوں کی رونق چہرے وہاں جا کر بس جائیں تو وہی قبرستان جنت سے کم نہیں لگتا۔ “
بالآخر اس کی ضد پر ہتھیار ڈالتے ہوئے ضرار کو اسے قبرستان لے کر جانا ہی پڑا تھا۔

اب اشعث اور مشکوٰۃ کو اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔ مشکوٰۃ، اشعث کی موجودگی میں کنفیوز نہیں ہو رہی تھی کیونکہ بچپن سے وہ اسی کے ساتھ رہی تھی اور اشعث نے اسے خود کے ساتھ کافی کمفرٹیبل رکھا ہوا تھا۔
اسٹیج کا منظر جتنا خوابناک سا تھا، اسٹیج سے نیچے کا منظر اتنا ہی عجیب  تھا۔

یوشع نور کا پرس تھامے گھوم رہا تھا، ضرار نے آئرہ کی فیڈر اٹھا رکھی تھی اور ایک بازو میں بیوی کی چادر سنبھالی ہوئی تھی، افق نے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور ایک ہاتھ میں اس کا بیبی بیگ تھا، جبکہ وکیل صاحب اپنی بیوی کی ہیلز اٹھائے پورے ہال میں پھر رہے تھے کیونکہ عنایہ کو ہیلز کی بالکل عادت نہیں تھی اور چل چل کر اس کے پاؤں پر سوجن ہو گئی تھی۔
احد نے اس کی لاپرواہی پر اسے ڈپٹ کر ہیلز اتروا دی تھیں اور اب وہ ننگے پاؤں منہ پھیلائے صوفے پر بیٹھی تھی اور اس کا شوہر ٹرافی کی طرح اس کے جوتے اٹھائے پھر رہا تھا۔
عنایہ نے احد کی اس حرکت پر شرمندہ ہوتے ہوئے اس کے ہاتھ سے ہیلز تھامنے کی کوشش کی تھی، مگر احد نے آنکھیں دکھا کر اسے منع کر دیا۔ اسے اپنی بیوی کے جوتے اٹھا کر پھرنے میں کوئی عار نہیں تھی، بلکہ اسے تو بیوی کو ہی اٹھا کر پھرنے  میں بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
ہال میں کوئی انہیں مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا تو کوئی ‘رن مرید’ کہہ کر منہ چڑھا رہا تھا۔ پر ہمارے ان لڑکوں  کا تو یہی ماننا تھا کہ ‘بولی جاؤ، سانو کی؟… بیوی راضی تو جہاں راضی!’
اب مشکوٰۃ کی کیا ہی رخصتی تھی ایک کمرے سے نکل دوسرے میں چلے جانا تھا جہاں وہ ویسے بھی اکثر جاتی رہتی تھی۔
مشکوٰۃ کی رخصتی کا منظر بھی کوئی روایتی رونے دھونے والا نہیں تھا۔

                        ✩━━━━━━✩

اشعث کے کمرے میں مشکوٰۃ حق سے اس کی دلہن بنی بیٹھی تھی۔ اشعث سرشار سا کمرے میں داخل ہوا۔
آہستہ سے اشعث اپنی دلہن کے پاس بیٹھا۔ مشکوٰۃ مزید خود میں سمٹی۔ اس مومنٹ پہ آ کے وہ تھوڑی بہت کنفیوز ہو رہی تھی۔ اس کے ہلنے سے اس کی چوڑیوں کی چھنکار کا شور خاموش فضا میں گونجا۔
“آج میرا کمرہ مکمل لگ رہا ہے۔” اشعث نے اس کا بایاں ہاتھ اپنی دسترس میں لیا، اس میں سے بھاری کنگن اور انگوٹھیاں اتاریں۔ یہی عمل دائیں ہاتھ کے ساتھ کیا۔ پھر باری باری دونوں ہتھیلیوں اور کلائیوں پر لب رکھے۔ اس کے بعد کھڑے ہوتے ہوئے اس کا دوپٹہ پنوں سے آزاد کر کے اس کے بدن سے جدا کیا (مفراہ اس کا حجاب کھول کر دوپٹہ سیٹ کر گئی تھی)۔
مشکوٰۃ اس کے ہر عمل پر سرخ پڑ رہی تھی۔ وہ بہت احتیاط سے اسے زیور کے بوجھ سے آزاد کر رہا تھا۔ پھر اس کی نتھ اتار کر اس کی ناک چومی، بھاری ہار اتار کر اس کی مخملی گردن کا بوسہ لیا۔ مشکوٰۃ کو چھپنے کے لیے جگہ ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ پھر اس نے ایک خوبصورت سا پینڈنٹ اس کے گلے کی زینت بنایا جس میں اردو میں دونوں کے نام کے پہلے حروفِ تہجی یعنی ‘الف’ اور ‘میم’ لکھے ہوئے تھے۔ خوبصورت سی ڈائمنڈ رنگ انگلی میں پہنائی۔ پھر وہ اس کے قدموں کے پاس بیٹھا، باری باری دونوں پاؤں پر لب رکھے اور ایک نفیس سی پازیب کی جوڑی دونوں پاؤں میں پہنائی ۔ اور وہ وہیں بیٹھے بیٹھے آہستہ آہستہ اس کے پاؤں کا مساج کرنے لگا۔
مشکوٰۃ کو جہاں سکون مل رہا تھا وہیں اس کے پاؤں کو ہاتھ لگانے پر شرمندگی بھی ہو رہی تھی۔ اس نے ہچکچا کر پاؤں پیچھے کھینچنے چاہے تو اشعث نے گرفت مضبوط کرتے ہوئے اسے روک دیا۔
“تھک گئی ہوں گی آپ، رہنے دیں۔” وہ کافی دیر مساج کرتا رہا، پھر اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔
“جائیں، چینج کر لیں۔” وہ جب ہلکا پھلکا سا لباس پہن کر، میک اپ اتار کر واپس آئی تو وہ بھی شیروانی اتار چکا تھا اور اب ہلکے پھلکے سے کرتا شلوار میں ملبوس تھا۔ اشعث نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے اسے اپنے سینے پر لٹاتے، ہلکے ہلکے سے اس کے بال سہلائے۔
اسے خیال تھا کہ وہ آج اتنے بھاری زیور اور لباس میں سارا دن بیٹھ کر تھک گئی ہوگی اور اس کے لیے اس کی فاطمہ کا سکون اس کی اولین ترجیح تھا۔
مشکوٰۃ نے شرماتے ہوئے بازو کا حصار اس کے گرد مضبوط کیا۔ “شاہ جی! آپ کو پتہ ہے آج کیا ہوا؟”
عادت کے مطابق اب مشکوٰۃ اسے اٹھنے سے لے کر اس کے کمرے تک آنے کی ساری روداد سنائے گی اور اشعث پوری دلجمعی کے ساتھ سنے گا۔

(کم از کم اس سے زیادہ رومانس میں نہیں لکھ سکتی اور اس سے زیادہ رومانس پڑھنا بھی کیوں ہے آپ سب نے؟ بتاؤں آپ سب کی امیوں کو؟)

                            ✩━━━━━━✩

ولیمے کا فنکشن کمبائن اور بڑے پیمانے پر رکھا گیا تھا۔ احد سیج گرین ٹکسیڈو میں ملبوس تھا اور اشعث وائٹ جس کے ساتھ اس نے بےبی بلیو ٹائی پہن رکھی تھی جبکہ عنایہ اور مشکوٰۃ کی گھیر دار میکسی بھی ایک جیسی تھی۔ فرق یہ تھا کہ عنایہ کی میکسی کا کلر سیج گرین تھا جبکہ مشکوٰۃ کی کا بے بی بلیو۔ دونوں جوڑے سب سے مبارکباد وصول کر رہے تھے۔
تبھی ایک نیلی آنکھوں والی لڑکی ان تک آئی۔ احد اور اشعث کو وہ تھوڑی عجیب لگی پر سوال کرنا ضروری نہ سمجھا انہیں لگا کوئی جاننے والی کی ہوں گی اب وہ خاندان کی ہر عورت سے تو واقف تھے نہیں۔
“شادی مبارک ہو سسٹر!” اس نے عنایہ کے کان میں سرگوشی کی۔عنایہ کی آنکھیں خوشی سے چمکیں یعنی وہ اس کی خوشی میں شامل ہونے آ گئی تھی ۔
پھرجیسے پراسرار انداز میں وہ لڑکی آئی تھی، ویسے ہی لوٹ گئی۔
“آئرہ” ضرار کے الفاظ نے اس کے قدم زنجیر کیے ۔ آئرہ میری جان! کیا کرتی ہو؟ اتنے پیارے کپڑے پہنائے ہیں مما نے میری پرنسز کو، مما ڈانٹیں گی نا!”

عنایہ بے یقینی سے اس بچی کو دیکھ رہی تھی پھر وہ مسکرا دی۔
“کہا تھا نہ بھائی کے سب سے زیادہ آپ کو یاد اؤں گی” مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ہی وہ پلٹ گئی اسے پلٹنا ہی تھا بھلا مرے ہوئے بھی لوٹتے ہیں۔
ریان ضرار کی طرف جا رہا تھا کہ اسے کان کے پاس ایک عجیب سی سرگوشی محسوس ہوئی”تم مجھے اپنے پاس پاؤ گے جب تمہیں میری سب سے زیادہ ہوگی۔” ریان نے چونک کر ادھر ادھر کسی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر کسی کو بھی وہاں موجود نہ پا کر اپنا وہم گمان کر کندھے اچکا دیے اور باپ کی طرف چلا گیا۔

“ارے ڈاکٹر صاحب! آپ کب آئے؟” اشعث نے اسٹیج پر آتے ڈاکٹر واسع کو دیکھ کر خوشگوار حیرت سے کہا۔
“ڈاکٹر صاحب کچھ دن پہلے مال میں ملے تھے مجھے، بس میں نے انوائٹ کر لیا۔” یوشع نے واسع سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
واسع نے اس کو دیکھا، کتنا خوش نصیب تھا وہ! عاشق کو محبوب کا محبوب خوش قسمت ہی لگتا ہے۔
“اور پاکستان کیسے آنا ہوا؟  محسن تو اب رشیا ہی سیٹل ہو گئے ہیں؟” ضرار نے پوچھا۔
“بس پاکستان میں ایک قیمتی چیز تھی میری، اسی سلسلے میں آیا۔” اس بات پر عنایہ نے معنی خیز انداز میں اسے دیکھا۔ واسع نے چشمہ درست کرتے ہوئے آنکھیں گھمائیں، پھر اس نے گفٹ اشعث کو پکڑایا اور ایک عنایہ کی طرف بڑھا دیا۔
“مبارک ہو مس حیدر! او سوری… مسز احد!” واسع کے لہجے سے واضح تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے ہیں۔
“تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟” احد نے بھرپور تجسس سے پوچھا۔
“جی! میری اور ان کی ملاقات رشیا میں ہوئی تھی۔ میری ایک کولیگ انجرڈ ہو گئی تھی، انہوں نے کافی ہیلپ کی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو محسن کے بیٹے ہیں۔” عنایہ کی بات پر سب نے سمجھ ایک ساتھ ‘اوہ’ کیا ۔
” پھر آپ کی محبت کہاں تک پہنچی؟” عنایہ کے ڈائریکٹ سوال پر واسع گڑبڑا گیا۔
“ڈاکٹر صاحب! یہ مرض کب سے پالا ہے؟” احد پوچھانے پوچھا۔ وہ سب واسع ہی کو جانتے تھے بچپن میں اکثر وہ محسن کے ساتھ آتا رہتا ہے وہ سب لوگ ایک ہی سکول میں تھے مگر بھر وہ سٹیڈیز کیلئے باہر شفٹ ہوا اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔
“انہیں ایک لڑکی سے محبت ہے، پر وہ ہلکی پھلکی کرمنل ہے۔ بندہ مارنا اس کے لیے گاجر مولی کاٹنے جیسا ہے۔ بس بیچارے اس لیے کہنے سے ڈر جاتے ہیں کہ کہیں ان کا بھی سیلڈ نہ بن جائے۔” بات کے اختتام تک عنایہ قہقہہ ضبط نہ کر پائی۔
سب اتنے سیدھے ڈاکٹر کی اتنی ٹیڑھی محبت کی داستان سن سب واقعی مرعوب ہوئے تھے۔
“کچھ دلوں کی زمین زرخیز نہیں ہوتی  وہاں محبت کا پودا صرف ایک ہی بار کھلتا ہے، اور وہ اپنے حصے کی محبت کر چکی ہیں۔ اس لیے میری محبت کی کونپل ان کے دل میں کھلنے کا چانس نہیں ۔” بات کرتے وقت اس کے چہرے پر بےبس مسکراہٹ تھی۔

“ارے! میں تم جیسے عاشقوں کی انسپائریشن ہوں۔ مجھے امید کا پورا چاند سمجھو اور لیتے جاؤ حسبِ ضرورت امید کی روشنی۔ مجھ سے زیادہ ٹیڑھی اور کرمنل بیوی بھی کسی کی ہونی ہے؟” احد کی زبان کو بریک عنایہ کی طرف سے پیٹ میں پڑنے والی کہنی سے لگا تھا۔
“مار ڈالا بیگم!”
یوشع نے نور کی طرف سوالی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو، عنایہ سے زیادہ تو خطرناک میری بیوی ہے! مگر بیوی کی گھوریوں نے الفاظ ادا نہ ہونے دیے۔
“مفراہ بھابھی! فاطمہ کو برائڈل روم میں لے جائیں اور میرا اور ان کا کھانا وہیں لگوا دیں یہاں نقاب میں یہ ایزی ہو کر نہیں کھا پائیں گی۔” اشعث کی بات پر سب نے انہیں چھیڑتے ہوئے ہوٹنگ کی، جس پر مشکوٰۃ کی ٹھوڑی شرم سے گردن تک جا لگی، پر اشعث کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
فنکشن کے اختتام پر جب سب گھر کی طرف روانہ ہو رہے تھے، احد نے گاڑی اسلام آباد کی طرف موڑ لی۔ عنایہ کے سوالات کا بھی اس نے ڈھنگ سے جواب نہیں دیا تھا۔

                          ✩━━━━━━✩

“مجھے اچھا لگا تھا قلبِ شاہ! جیسے آپ نے عنایہ کی پیش قدمی پر اس کا مان رکھ لیا، اپنا بانڈ دوبارہ سے ویسا ہی کر لیا۔” گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے یوشع نے پاس بیٹھی نور سے کہا۔
“کرنا ہی تھا، ورنہ وہ لڑکی تو سیدھا قدموں میں آن بیٹھی تھی۔ الفاظ اہمیت نہیں رکھتے، عمل رکھتا ہے۔ وہ تو ایسی انا پرست ہے کہ اپنی ماں کی قبر پر آج تک نہیں گئی کہ سلطان کی قبر کو بھی دیکھنا پڑے گا اگر وہ انا کو پسِ پشت ڈال کر آ رہی تھی تو میں کیوں انا درمیان میں لاتی؟” نور مسکراتے لہجے میں بول رہی تھی۔ یوشع کو ان کی دوستی اسی بانڈ کی وجہ سے ہی خوبصورت لگتی تھی۔

“اور آپ اپنے ان ساتھیوں کو بول دیں کہ دوبارہ آپ ان کے ساتھ نہیں جائیں گی۔ ایسے کون سے مشن ہیں آپ لوگوں کے جو ختم نہیں ہوتے؟ زخم کیسا ہے اب؟” (ارے ہاں ہاں بھائی! نور نے سب بتا رکھا ہے یوشع کو شادی کے کچھ عرصے بعد ہی بتا دیا تھا)۔
“ٹھیک ہے اب، مگر فکر مت کریں۔” نور نے اسے فکر سے آزاد کرنا چاہا، مگر وہ مسلسل خفیف سا کچھ نہ کچھ بڑبڑا رہا تھا جسے سن کر نور صرف مسکراتی رہی۔

                      ✩━━━━━━✩

گھنٹوں کی مسافت کے بعد وہ اسے پہاڑوں سے گھرے ایک علاقے میں لایا تھا۔ پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹا مگر خوبصورت سا لکڑی کا گھر، جس کے سامنے پھولوں سے بھرا ایک باغیچہ اور تاحدِ نظر صرف گھاس سے ڈھکے پہاڑ!
“پسند آیا؟” احد نے دھیرے سے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“یہ کس لیے؟”
“ایک دفعہ ایک لڑکی نے میرے سامنے ایک نظم پڑھی تھی، یہ گھر اس نظم کی مجسم تشریح ہے۔”
احد کے بتانے پر عنایہ کو بے ساختہ وہ نظم یاد آئی

مرتا ہوں خاموشی پر
یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے
ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
آزاد فکر سے ہوں
عُزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے
کانٹا نکل گیا ہو
لذتِ سرود کی ہو
چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کے شور شوں میں
باجا سا بج رہا ہو
گل کی کلی چٹک کر
پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا
مجھ کو جہاں نما ہو
ہو ہاتھ کا سرہانہ
سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت
خلوت میں وہ ادا ہو
“سرتاج لازم تو نہیں کہ ہر نظم کی تشریح یوں کی جائے۔” عنایہ نے چمکتی آنکھوں سے کہا۔
“جو بھی ادھوری خواہش تمہارے ہونٹوں سے ادا ہو، تو مجھ پر فرض ہے کہ خود کو گروی رکھ کر بھی اس خواہش کو پورا کروں۔” احد نے دھیرے سے بازو اس کے گرد حائل کر کے اسے سینے سے لگا لیا۔احد کا پسندیدہ مشغلہ تھا اسے باہوں میں سموئے رکھنا۔
“ارے وکیل صاحب! یہ گھر بناتے بناتے کنگال تو نہیں ہو گئے؟” عنایہ نے شرارت سے پوچھا۔
“بیگم! جو دولت آپ پر لٹائی جائے وہ مجھے کنگال نہیں کرتی بلکہ آپ کی پیاری سی مسکراہٹ مجھے روئے زمین کا سب سے دولت مند آدمی بنا دیتی ہے۔ اس لیے مسکراتی رہا کریں تاکہ میری دولت میں اضافہ ہوتا رہے۔” احد کی گرفت اس کی کمر پر مضبوط ہوئی۔
چاندنی میں لپٹے وہ دولہا اور دلہن پرستان کی کہانیوں کے شہزادہ اور شہزادی معلوم ہوتے تھے۔ایسا شہزادہ جو گھوڑے پر آتا ہے اور شہزادی کو پھولوں کے جہان میں لے جاتا ہے…

” محبت واقعی انسان کا دماغ ماؤف کر دیتی ہے، ورنہ ایک عقلمند انسان مکمل ہوش و حواس میں ایسی حقیقت سے پرے باتیں کرتا ہے؟”
عنایہ نے ہنستے ہوئے اس کے جذباتی ڈائیلاگز پر چوٹ کی احد نے جذبے لٹاتی نظروں سے اس کی مسکراہٹ کو تکا۔
“یہ تمہارے لیے تحفہ نہیں ہے، یہ وہ گھر ہے جو ہر شوہر اپنی بیوی کو بنا کر دیتا ہے۔ تم حق سے اس پر حق جتا سکتی ہو بیگم!”
احد نے اپنی ناک اس کی ناک کے ساتھ رگڑی، پھر عنایہ نے کچھ یاد آنے پر اسے پکارا “احد!”
“جی بیگم جان!”
لب ناک سے تجاوز کر کے گالوں پر پھسل رہے تھے۔
“آپ سے ایک بات پوچھنی تھی، غور سے سنے ۔” عنایہ نے اپنی ہتھیلی اس کے لبوں پر رکھ کر ان کو مزید گستاخی سے باز رکھا۔ احد سوالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

“میرا حق مہر اتنا عجیب سا کیوں تھا احد؟” عنایہ نے سوال کیا۔
اس کی کشمکش دیکھ کر گہری بھوری آنکھیں مسکرائیں۔
“تمہیں پتہ نہیں لگا یہ کون سے نوٹ تھے؟”
احد کے تجسس پھیلانے والے انداز پر عنایہ نے تپ کر اس کے کندھے پر چپت رسید کی۔ “بتا بھی دیں! مجھے پتہ ہوتا تو آپ سے کیوں پوچھتی؟”
اس کے چڑنے پر احد نے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا۔ “حق مہر میں وہ سارے پیسے تھے جو کبھی تم نے مجھے دیے تھے۔”
احد کی بات نے عنایہ کو آنکھیں پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
“رقم اور نوٹ دونوں ہی وہی تھے جو کبھی تم نے کھانے کے بل، کافی کی پیمنٹ یا کسی اور چیز کے لیے مجھے ادا کیے تھے۔”
“یہ… یہ آپ نے تب سے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں؟” عنایہ کی حیرت چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔
لوگ محبوب کے دیے گلاب سنبھال کر رکھتے ہیں اور وکیل صاحب نوٹ۔

“بالکل! تم مجھے کبھی کچھ دو اور میں اس کی ناقدری کروں، ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ تب تم سے وہ پیسے لے لیتا تھا تاکہ تمہاری خودداری قائم رہے۔ اب تمہیں وہ تمہارے حق کے طور پر لوٹا دیے تاکہ تم منع بھی نہ کر پاؤ۔”
یہ مرد اپنا مقام عنایہ کی نظروں میں بلند سے بلند تر کر گیا تھا۔ یہ کتنی اعزاز کی بات ہے کہ آپ کا مرد آپ کی خودداری کا بھرم رکھنا جانتا ہو یہ کوئی عنایہ حیدر جیسی خوددار عورت سے پوچھتا، اس خودداری پر تو اس نے نہ جانے کون کون سے رشتے قربان کر دیے تھے۔ چونکہ عنایہ کو الفاظ میں اظہار نہیں آتا تھا، اس لیے بنا کچھ بولے سر احد کے سینے پر ٹکا کر بازو اس کے گرد باندھ دیے۔
احد نے محبت سے اس کے سر پر ہونٹ رکھے۔
“احد! آپ کو پتہ ہے، ہمیشہ مجھے اپنی اس ‘احسان نہ لینے والی’ عادت کی وجہ سے کتنے طعنے سننے پڑے ہیں؟ کوئی کہتا تھا کہ صرف توجہ لینے کے لیے ایسی حرکتیں کرتی ہے، تو کوئی کہتا تھا کہ صرف ڈرامہ کرتی ہے۔ پھر آپ مجھے بتائیں کہ یہ معاشرہ ان احسانات کو کیا نام دیتا ہے جو مرد اکیلی عورت پر کرتے ہیں؟ کتنے سوالیہ نشان عورت کے کردار پر لگائے جاتے ہیں کہ باپ بھائی ہے نہیں، اس لیے پرائے مردوں کے احسانوں پر پل رہی ہے۔ میں نے اپنے گرد بائوڈریز سیٹ کر لیں کر لیں، یہ میرا ‘سیف زون’ تھا، کسی غیر کا احسان نہ لینا۔ کیونکہ پرائے مرد بڑے کم ظرف ہوتے ہیں، ذرا سی عنایت کو عمر بھر جتاتے ہیں۔ گھر کے مرد ساری عمر عنایات کر کے بھی آپ پر احسان نہیں جتاتے، اور جو جتاتے ہیں پھر وہ گھر کے مرد نہیں رہتے۔
میں نے یتیمی میں آنکھ کھولی تھی احد اور یتیم سے بڑا مظلوم کوئی نہیں۔ مگر میں نے خود پر کبھی ‘بیچارگی’ کا لبادہ نہیں اوڑھا۔ بہت چھوٹی سی عمر میں ہی خود کمانے لگ گئی تھی۔ امی تو اپنے ہی دکھوں میں ڈوبی رہتی تھیں، ان کے پاس ماتم کے لیے اپنے بہت سے خسارے تھے۔ اولاد کے خسارے سننے کا ان کے پاس نہ وقت تھا اور نہ ہی ہمت۔ بچپن سے ہی آنسو پینے اور غم چھپانے کی ایسی عادت پختہ ہوئی کہ جوان ہونے تک لگا کہ دکھ ہی زندگی ہے اور آنسو کمزوری، سو سارا لاوہ اندر ہی اندر پکتا رہا۔”
“ایسا نہیں ہے کہ نکالنے کی کوشش نہیں کی، بہت کی! پر ہمارے لوگوں کا یہ بڑا مسئلہ ہے کہ انہیں اپنا ہی دکھ سب سے عظیم لگتا ہے۔ سب کو لگتا تھا کہ عنایہ حیدر کے دکھ معمولی ہیں، پھر میں نے بھی کسی کو پتہ نہیں لگنے دیا کہ یہ معمولی دکھ کیسے مجھے اندر سے ختم کر رہے۔ کیسے میری خواہشات دب گئیں اور خواب دفنا دیے گئے۔ لوگ ظاہری مسکراہٹ سے حال جان لیتے ہیں، دل پر گرے آنسو کسی کو نظر نہیں آتے۔
پھر مجھے نورِ قلب ملی، لگا کہ زندگی شاید مجھ پر بھی مہربان ہو سکتی ہے۔ وہ ایسی شفیق ساتھی تھی جو بن کہے سب سمجھ جاتی تھی، جو بنا جتائے احسان کر جاتی تھی۔ وہ بولتی تو احد سے دکھ بانٹنا لازم ہو جاتا تھا کہ وہ دم سادھ کر اسے سنتا رہے۔
“آپ کے دل میں شاید ایک خلش ضرور ہو کہ مجھے افق سے محبت تھی، ایسا نہیں تھا۔ وہ جذبات محبت کے نہیں تھے، بس ایک کم عمر لڑکی کے دل میں بننے والے ایک ایسے مرد کا خاکہ تھا جو اسے اور اس کی فیملی کو سپورٹ کرتا تھا۔ وہ احساسات تحفظ کے تھے۔ افق  نے ہمیشہ مجھے اور امی کو پروٹیکٹ کیا، ہماری بہت ہیلپ کی اور خدا گواہ ہے انہوں نے یہ چیز آج تک نہیں جتائی۔ بچپن ان کے آس پاس گزرا تھا تو لگا یہی وہ شہزادہ ہے جو شہزادی کو مظالم سے بچاتا ہے۔ پر وقت کے ساتھ میری سوچ غلط ثابت ہوئی۔ مجھے ایک بہت خاص مرد سے نوازا جانا تھا۔ اگر اس وقت کوئی احد صدیقی سے پوچھے کہ سب سے بڑا اعزاز کیا ہے، تو وہ کہتا اس عورت کا اسے ‘خاص’ کہنا۔”
“پھر میری ملاقات آپ سے ہوئی… آپ کے میرے بل دینے پر مجھے سراہنا آپ کا میرے لیے گاڑی کا دروازہ کھول کر تب تک کھڑے رہنا جب تک میں بیٹھ نہ جاؤں، آپ کا مجھ سے ڈرنا، مجھے بہت اچھا لگا تھا۔
مجھے یہاں سے جاتے وقت یہ تو پتہ تھا کہ مجھے صرف احد صدیقی تک لایا جائے گا، صرف واحد آپ ہوں گے جو مجھ تک پہنچ پائیں گے۔ آپ نے مجھے اپنا انعام کہا تھا، مگر میں آپ کو وہ ٹھنڈی چھاؤں کہوں گی جو غموں کی تپتی دھوپ کے بعد مجھے نصیب ہوئی ہے۔ میں آج عنایہ احد بن کر اعتراف کرتی ہوں کہ مجھے اپنے شوہر سے بے حد محبت ہے۔”

اس کا اعتراف احد صدیقی کی ہر قوت سلب کر چکا تھا۔ برسوں بھی گزر جائیں، اسے بازوؤں میں بھرے وہ اس عورت کی آنکھوں میں تیرتی محبت کی لہروں کا نظارہ کرتا رہے تو عمریں چھوٹی پڑ جائیں گی پر وہ اس نظارے سے نہیں اکتائے گا۔
احد نے چہرہ اس کی گردن میں چھپایا، عنایہ کو اپنی گردن بھیگتی محسوس ہوئی۔ حجاب وہ گاڑی میں اتار چکی تھی اور اب اس کے بال ہوا کے دوش پر لہرا رہے تھے۔ صرف آنسو احد کے نہیں بہ رہے تھے، عنایہ کا چہرہ بھی آنسوؤں سے تر تھا۔
“مجھے نہیں پتہ کہ مجھے کب عنایہ حیدر سے محبت ہوئی، شاید پہلی ملاقات میں یا شاید ہر ملاقات کے ساتھ تھوڑی تھوڑی محبت میرے دل میں انڈیلی جاتی رہی۔ پھر جب تم نگاہوں سے اوجھل ہوئے تو یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر بن گئی جس کے آگے روکنے کے لیے بند نہیں تھا۔
اس محبت کا آغاز تو نہیں معلوم مگر انجام جنت تک کے ساتھ کا ہوگا، انشاء اللہ!”خوبصورت عہد پر پھول کی پتیاں بھی کھلکھلائیں۔
احد نے بہت محبت سے جھک کر اسے گود میں اٹھایا اور آنکھوں میں رومانیت بھرے قدم گھر کے اندر بڑھا دیے۔ چاند نے معنی خیز نظروں  سے انہیں تکا، عنایہ نظریں جھکائے لجائی سی احد کی باہوں میں مسکرا رہی تھی۔

سفر جیسا بھی تھا، منزل خوبصورت ٹھہری تھی!

                            ✩━━━━━━✩
ایک سال بعد:

اشعث نے چمکتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنے دونوں جگر گوشوں کو دیکھا۔ تھوڑی دیر پہلے ہی مشکوٰۃ نے دو صحت مند اور خوبصورت جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔ ضرار جو مشکوٰۃ کو تکلیف میں دیکھ کر اس سے تڑپ رہا تھا، اب مشکوٰۃ کے سہی سلامت ہونے کا سن کر اس کی سانسیں بحال ہوئی اپنے بچوں کو بازوؤں میں اٹھا کر اس کا چہرہ تمتما اٹھا تھا۔ سب لوگ اسے مبارکباد دے رہے تھے۔ اشعث سے زیادہ تو ضرار خوش تھا، ماشاء اللہ سے وہ ایک ساتھ دو بچوں کا ماموں بھی تھا اور تایا بھی۔ ثمینہ بیگم تو پوتا اور پوتی کی پیدائش پر نہال ہوئی جا رہی تھیں۔ اللہ نے ان پر بڑا فضل کیا تھا۔
ابراہیم شاہ نے پہلے پوتی کو اٹھایا اور اس کے کان میں اذان دی۔ اس منی پری نے کسمساتے ہوئے مسکرا کر آنکھیں کھول لیں۔ وہ بالکل اپنی ماں کی کاپی تھی۔ ابراہیم شاہ نے اس کے ماتھے پر پیار کیا اور دھیرے سے اس کا نام پکارا: “بسمہ اشعث شاہ”۔
پھر بالکل ایسے ہی پوتے کو اٹھایا، وہ اپنے نانا (ہارون شاہ) جیسا دکھتا تھا۔ اس کے نقش دیکھ کر ابراہیم شاہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہیں اپنا بھائی یاد آیا۔ اس کے کان میں اذان دی اور نام پکارا: “باسم اشعث شاہ”۔
“بیگم! آپ سے گزارش ہے کہ دعا کریں اللہ مجھے بھی ایک چھوٹی سی پیاری سی بیٹی سے نوازے، جو بالکل آپ جیسی نہ ہو بلکہ اپنے بابا پر جائے… معصوم، شریف…” آگے کے الفاظ عنایہ کی خطرناک گھوری دیکھ کر گم ہو گئے۔
“ارے بیگم! مذاق تھا مذاق۔” احد میسنا سا ہو کر مسکرایا۔ عنایہ کو کوئی فرق نہیں پڑا، اس نے آنکھیں نکال کر اسے دور ہٹنے کا اشارہ کیا تو وہ تابعدار شوہر کی طرح دور جا کر کھڑا ہو گیا۔
عنایہ کو کوئی ضروری کال آئی تھی اور وہ جلدی سے مشکوٰۃ سے مل کر احد کو بتا کر نکل گئی تھی۔ وہ جاب کی بجائے اب ایک این جی او چلا رہی تھی، جس میں وومن سیفٹی اور امپاورمنٹ کے لیے خواتین کو خود مختار، باہمت بنانے کی ٹریننگ دی جاتی تھی اور بے سہارا اور مظلوم خواتین کو انصاف اور پناہ فراہم کی جاتی تھی۔

اشعث دھیرے سے مشکوٰۃ کے سرہانے جا کر بیٹھا۔ مشکوٰۃ کو بھی ابھی ہوش آیا تھا، وہ کافی کمزور اور نڈھال سی لگ رہی تھی۔ اشعث نے جھک کر عقیدت سے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھے۔ اشعث نے اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے درست کیا اور اس کا بے ترتیب سکارف اس کے سر پر ٹھیک سے جمایا۔
“میں آپ کا مشکور ہوں اتنے خوبصورت تحفے دینے پر۔” اشعث نے اس کے ہاتھ کو تھام کر ہتھیلیوں کو چومتے ہوئے کہا۔
“آپ کو ہونا بھی چاہیے۔” ان دنوں وہ اس کی محبت پر مزید مغرور ہو گئی تھی۔ وہ اس کا اظہارِ محبت اور اظہارِ تشکر حق سمجھ کر قبول کرتی تھی۔ اس کے انداز پر اشعث ہنس دیا اور پھر سب کے ایک ساتھ اندر آنے پر اس کے پاس سے اٹھ گیا تھا۔ مشکوٰۃ اپنے بچوں کو پیار کر رہی تھی اور اشعث سکون سے اپنی کل کائنات کو دیکھ رہا تھا۔

احد کا فون بجا تو اس نے پک کر کے کان سے لگایا۔ جیسے جیسے وہ سن رہا تھا، اس کے چہرے پر بے بسی پھیل رہی تھی۔
“اللہ پوچھے گا تم دونوں کو! جنہوں نے میری بیوی کو یوں ‘مرد مار’ ٹریننگ دی ہے، جب دیکھو میری بیگم کی لڑائی ہی ختم نہیں ہوتی۔ صرف تم دو سالوں کی وجہ سے!” اس نے تپ کر اشعث اور ضرار کو گھورا اور افراتفری میں وہاں سے نکل گیا۔ بات کو سمجھ کر سب کا زوردار قہقہہ کمرے میں گونجا۔ یہ تو ان دونوں کا روز کا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احد نظریں چرائے پولیس انسپکٹر کے سامنے بیٹھا تھا اور عنایہ گھورتی نظروں سے انسپکٹر کے ساتھ بیٹھے زخمی آدمی کو دیکھ رہی تھی، جس کی آنکھ، سر اور بازو پر پٹی بندھی تھی۔ وہ سب عنایہ کے آفس میں موجود تھے۔
“وکیل صاحب! اب تھانے کو اپنی کوٹھی کے بغل میں شفٹ کروا لیں۔ پہلے آپ کے چکروں میں ہمیں گاڑی لیے ادھر ادھر بھاگنا پڑتا تھا، اب یہ ذمہ داری آپ کی بیگم صاحبہ نے اٹھا لی ہے۔ آپ کا اور آپ کے والد کا لحاظ کرتے ہوئے تھانے نہیں لے کر گیا، ورنہ سیدھا سیدھا کیس بنتا ہے۔” بڑی سی توند والے انسپکٹر نے پورا بسکٹ چائے میں ڈبو کر منہ میں ڈالتے ہوئے بمشکل الفاظ حلق سے نکالے اور بسکٹ نگلا۔
“دیکھیں انسپکٹر! مجھے پریشرائز کرنے کی کوشش کریے گا بھی مت۔کل کے لے جاتے  بے شک آج جیل میں ڈال دیں پر بات اصول کی ہوگی۔ کتنے ماہ سے میں آپ کے پیچھے دماغ خراب کر رہی ہوں کہ ہراسمنٹ کا کیس ہے یہ ذلیل انسان روز اس بچی کو سکول آتے جاتے ہراساں کرتا ہے، پراپر کیس ہے! کیا کہنا تھا آپ کا؟ کہ ‘میڈم جی! ہر تیسری گلی میں تو کوئی لڑکی چھیڑ دیتا ہے، پولیس تو بس گلیاں چھاننے کے لیے ہی رہ گئی ہے، لوفروں کے چکر میں قاتل بھگا لیں کیا ہم؟’ اب یہی بولا تھا نا؟” عنایہ کی آواز پر وہ گڑبڑا گیا۔
“آج اگر میں ٹائم پر نہ پہنچتی تو کیس صرف ہراسمنٹ کا نہیں، ریپ اینڈ مرڈر کا بن جانا تھا، پھر کیا کہتے آپ؟ ‘میڈم جی! پاکستان میں تو روزانہ لڑکیوں کی عزتیں لٹ جاتی ہیں، پولیس کیا کرے؟’ ہاں؟ اوپر سے آپ اپنی جرات دیکھیں، اب بھی اس آدمی کو جیل میں ڈالنے کی بجائے میرے آفس میں کرسی پر سجائے بیٹھے ہیں جس نے دن دہاڑے ایک شریف شہری کی دیواریں پھلانگ کر ان کی بیوی اور ان کی بیٹی کو ہراساں کرنے کی کوشش کی؟ ہاں؟ یہ ہے آپ کا قانون؟ آئے ہیں بڑے مجھے قانون سکھانے!”
وہ شیرنی کی طرح غرارہی تھی۔ کہا تھا نا، وہ عورت مردوں کے مجمع کو خاموش کروانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
“اور آپ بھی جانتے ہیں کہ مجھے جیل میں ڈالنے سے نہ آپ کو میرے خاوند کا نام روکے ہوئے ہے نہ میرے سسر کا۔ کچھ ہے تو وہ ہے خوف! آپ سمیت اس غلیظ انسان سمیت اور  بہت سے سیاہ کردار مردوں کے ایکسپوز ہونے کا خوف۔ کیونکہ جس دن عنایہ حیدر اندر گئی، بہت سے ایسے کیسز باہر آئیں گے جو لال لال نوٹوں کے سائے تلے چھپے بیٹھے ہیں۔”
اس کی باتوں پر آفیسر نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔ وہ جانتا تھا سامنے بیٹھی عورت کا ایک ایک لفظ سچ تھا۔ وہ بلا تھی جو بندہ نگل کر ڈکار بھی نہ مارے اور اسے کم از کم اس عورت کی خوراک نہیں بننا تھا۔ پھر وہ بہانے سے کسی کام کا کہہ کر وہاں سے نکل گیا۔ احد نے تھکی سانس خارج کی۔ ایک اور بنا معاوضے کا کیس تیار تھا۔
“بیگم! آپ کے یہ فری کیسز لڑتے لڑتے نا میں نے غریب ہو جانا ہے۔” احد کا انداز دہائی دینے والا تھا۔
“کوئی کہتا تھا میری مسکراہٹ سے ہی وہ شخص دنیا کا دولت مند انسان ہے؟” عنایہ نے  معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں اور ایک مسکراہٹ احد کو پاس کی۔
احد نے جی بھر کر خود کو کوسا۔ “کاش جیسے محبت میں انسان اندھا ہوتا ہے، ویسے گونگا بھی ہو جاتا۔” احد نے افسوس بھرے انداز میں کہا تو عنایہ ہنس دی۔ وہ جانتی تھی وہ صرف اوپر اوپر سے ڈرامے کرتا ہے، ورنہ احد اور مسٹر صدیقی نے این جی او اسٹیبلش کرنے میں اس کا بہت ساتھ دیا تھا۔

                        ✩━━━━━━✩
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *