PATJHAR BY ALAM LAST EPISODE

پت جھڑ آخری قسط 

ازقلم الم

روس (Russia) – ماسکو کی گلیاں
ماسکو کی گلیوں میں ایک لڑکی اپنی سیاہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مگن سی چل رہی تھی۔ اس کے بال کندھوں تک کٹے ہوئے تھے اور سیاہ جذبات سے عاری اس کی شخصیت میں کشش تھی۔ وہ حسین تو تھی مگر اس کی شخصیت مقناطیسی تھی جو اس کے حسن کو ایک عجیب سا روپ بخش دیتی تھی۔ وہ لڑکی ایک بلڈنگ کے مطلوبہ فلور پر پہنچی اور گھنٹی بجائی تو اس کی ماں نے استقبالیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اس کے لیے دروازہ کھولا۔
“آئیرہ! لیٹ ہو گئی؟” صوفے پر تھک کر لیٹی ہوئی آئیرہ کو پانی کا گلاس دیا۔
“جی مما! کام زیادہ تھا۔آپ کھانا کھا لیں میں کھا کر آئی ہوں۔”
اس نے ماں کا ماتھا چوما اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ صائمہ بیگم اس کی پشت دیکھ کر رہ گئی تھیں۔ آج بھی اس کی ماضی کی حالت یاد کر کے دل کانپ اٹھتا تھا۔
ماضی:
“کیا آپ شیوئر  ہیں کہ آپ کو واقعی یہ کرنا ہے؟” محسن نے سامنے بیٹھی عنایہ سے پوچھا۔
“میرا آخری رشتہ بچانے کے لیے میں یہ کر سکتی ہوں۔ محسن! تم بس کسی طرح اسے جیل سے فرار کروا دو، پھر انہیں آنٹی کے ساتھ کسی بھی ملک میں سیٹل کروا دیں گے۔”
عنایہ کی بات پر محسن نے سر ہلایا، شہزادی کا حکم تو ماننا ہی تھا۔
اب منظر تبدیل ہوتا ہے عنایہ، آئرہ کے سامنے بیٹھی تھی۔
“سنا ہے میری بہن میری رہائی کی کوششوں میں ہے؟” آئرہ کا لہجہ استہزائیہ تھا۔
“آپ پلیز میری بات مان لیں، کوئی ضدی پن مت دکھائیے گا۔” اس کے برعکس عنایہ کا لہجہ منت لیے ہوئے تھا۔
“تم لوگوں کے پلان میں ہمیشہ سے جھول ہوتا ہے سسٹر! فرار قیدی کو اتنی آسانی سے نہیں بھلایا جاتا۔ اگر کسی کو بھلانا آسان ہے تو وہ ہے مردے کو، اس لیے اب آئرہ سلطان شاہ مرنے کے بعد ہی جائے گی باہر!”
آئیرہ کے لہجے کا اٹل پن اور آنکھوں کی تپش عنایہ کی سانسیں اٹکا گئی تھی۔
“فرید گینگ کو کافی عرصے سے میں مطلوب ہوں، ان کی طلب پوری کر دیتے ہیں۔ تھوڑے بہت زخم کھا لوں گی اور ایک آدھی گولی دل پر چل جائے گی، تم وقت پر پہنچ گئی تو بچا لینا ورنہ مرنا تو ایک دن ہے ہی۔”
کوئی اس لڑکی کو چپ کروائے! وہ خود کو لے کر اتنی سفاک کیوں تھی؟
“پلان یہ ہے کہ میں بلٹ پروف جیکٹ پہن کر میدان میں اتروں گی۔ آزادی پر میری موت کا سٹا لگے کا، میں بازی اپنی جان پر لگاؤں گی۔ دیکھتے ہیں قسمت کب تک ستمگر رہتی ہے!”
اب وہ زخموں سے چور لڑکی ادھ کھلی آنکھوں کے ساتھ ایک سیاہ فام دیو کے گن پوائنٹ پر اپنی موت کا کاؤنٹ ڈاؤن گن رہی تھی۔ اس نے بندوق دماغ سے ہٹا کر دل پر رکھی تھی، تاکہ گولی پہنی ہوئی بلٹ پروف جیکٹ پر لگے اور مصنوعی خون کا غبارہ پھوٹ کر ایک اصل لگنے والی گولی کا منظر پیش کر دے۔ وہ قاتل تھی، اور قاتل سے بہتر قتل کے طریقے کون جانتا ہے؟
اس نے جیسا چاہا، ویسا ہی ہوا۔ بس بازو پر ایک داغ اور ٹانگ میں لڑکھڑاہٹ رہ گئی تھی؛ اتنی سی قیمت تو دینی ہی پڑتی ہے آزادی کی۔

وہ بے سدھ وہاں میدان میں پڑی تھی کہ ان گاڑیوں کے جاتے ہی محسن وہاں پہنچا اور اسے ریسکیو کیا۔ اس کے آدمیوں نے وہاں آئرہ کے جسم جیسی ایک لاوارث لڑکی کی لاش ‘پلانٹ’ کی۔ بائیک میں دھماکہ کر کے لاش مسخ کی گئی، اور ڈی این اے رپورٹ چینج کروانا اتنا مشکل نہیں ہوتا اگر سامنے ضرار اور یوشع شاہ نہ ہوتے۔ مگر محسن بھی جرائم کی دنیا کے سلطان کا وزیر رہا تھا،اب اس کے لیے یہ سب اتنا بھی مشکل نہیں تھا۔

آئرہ کے زخم توقع سے زیادہ شدید تھے۔ دماغ پر لگی ضربیں، جلا ہوا بازو اور زخمی ٹانگ… وہ کئی ماہ بے ہوشی کے عالم میں رہی۔ اس کی نازک حالت اور سیکیورٹی کے پیشِ نظر اسے رشیا منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں اس کا علاج عبدالواسع نے کیا تھا۔ آج تک کوئی نہ جان سکا کہ آئرہ کی حالت دیکھ واسع پر کیا گزری تھی۔
عنایہ کا فوری غائب ہونا مشکوک ٹھہرتا، اس لیے وہ کئی ماہ بعد آئرہ کے پاس پہنچی۔ اس کا سراغ کوئی نہیں لگا پایا تھا کیونکہ اسے غائب کروانے والا محسن تھا، اور محسن کے کیے قتل آج تک ریکارڈ میں نہیں آئے تھے۔ جن جرائم میں وہ سلطان کے ساتھ رہا تھا، عدالت میں اس پر وہ ثابت ہی نہیں ہو پائے۔ وہ آج بھی ‘وائٹ کالر’ تھا، اور ہمارے معاشرے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتے ہیں یہ ‘وائٹ کالرز’۔

ان سب کے علاوہ پوری دنیا کی نظروں میں آئرہ سلطان شاہ مر چکی تھی۔

پھر عنایہ اور واسع کی کوششیں رنگ لائیں اور آئرہ ریکوری کی طرف آئی۔ عنایہ نے اسے بہت منایا کہ وہ واسع کا ہاتھ تھام لے، مگر آئرہ کے نزدیک یہ موت سے پہلے موت تھی۔  اب وہ مزید کسی جذباتی وابستگی کے لیے طاقت نہیں رکھتی تھی۔ اسے واسع کی خاموش محبت کا علم تھا، تب سے جب سے وہ کالج کے دنوں میں کمزور سا لڑکا چشمہ لگائے اور اپنے جسم پر ڈھیلے سے لباس کے ساتھ ان کے ولا آیا کرتا تھا اور ہمیشہ آئرہ کے کسی نہ کسی اوٹ پٹانگ ایڈونچر کی نظر ہو جاتا۔ اس کی چھپ چھپ کر دیکھتی نظروں سے وہ باخبر ہوتی تھی مگر آئرہ شاہ کے لیے یوشع شاہ کی محبت کے علاوہ تمام جذبات ردی تھے۔
عنایہ اور واسع کی بھی آپس میں بالکل نہیں بنتی تھی۔ نہ جانے عنایہ حیدر کسی کے ساتھ بھی ڈھنگ سے کیوں نہیں رہ سکتی تھی؟ وہاں اس کے اشعث اور ضرار  کے ساتھ پنگے ختم نہیں ہوتے تھے، افق کی ناک میں دم کر کے رکھتی تھی، اور اب یہاں بیچارا واسع!
مگر اس سب میں احد اور عنایہ کی ملاقات توقعات کے برعکس تھی۔ عنایہ خفیہ طور پر ہی سعودیہ گئی تھی ایک خاص کام کے لیے؛ ابو سعید کی موت حرم اور مسجد نبوی جانے سے پہلے اسی کا کام تمام کر کے آئی تھی۔ پر شاید وہ ملاقات قسمت کا کھیل تھی اور نکاح شاید قسمت۔ کائنات انسان کچھ سوچتا ہے اور اللہ نے اس کے لیے کچھ اور سوچ رکھا ہوتا ہے۔

پھر شروع ہوا تھا انتقام کا کھیل۔ آئرہ خود کو تکلیف دینے والوں کو معاف نہیں کرتی ، جس کا نظارہ جہاں بھر نے دیکھا تھا۔
برا وقت تھا مگر گزر گیا، اب وہ ایک نئی پہچان کے ساتھ اپنا ایک چھوٹا سا بزنس چلا رہی تھی اور صائمہ اپنی فیملی کو دکھانے کے لیے ایک ریسٹورنٹ۔ ان کے بھائی اپنی فیملی میں بزی تھے، سالوں بعد ہی کبھی کبھار چکر لگاتے تھے۔ یوشع اور ضرار کا ان کے ساتھ فون پہ رابطہ تھا پر اتنے سال سلطان کے ساتھ رہ کر اور آئرہ کی ماں ہوتے ہوئے تھوڑی بہت مکار تو وہ بھی ہو ہی گئی تھی۔ صائمہ بھی ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے نکل کر گہرا سانس بھرتی اپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گئیں۔


صبح کا سورج طلوع ہوا، آئرہ نے سنجیدہ چہرے کے ساتھ خود کو تیار کیا۔ بلیک ڈریس پینٹ اور شرٹ کے ساتھ شارٹ بلیزر، پیروں میں سیاہ ہیلز اور ہونٹوں پر گہری سرخ لپ اسٹک۔ اٹھے ہوئے گال چوکنا شکاری آنکھیں۔اس نے میک اپ سے اپنے تیکھے نقوش کو مزید نکھار لیا تھا۔ وہ تیار تھی، مگر نہ آنکھوں میں مسکراہٹ تھی نہ ہونٹوں پر۔
اب زندہ رہنے کے لیے مسکرانا ضروری تھوڑی ہوتا ہے؟ مسکرایا تو جینے کے لیے جاتا ہے۔
“آج کوئی خاص میٹنگ ہے؟”اس کی تیاری دیکھ صائمہ بیگم نے پوچھا۔
“جی۔” یک لفظی جواب۔ وہ اب بہت کم بولتی تھی۔
طوفان جھیلنے کے بعد تو پتھر بھی اپنی اصل شکل کھو دیتے ہیں، وہ تو پھر انسان تھی۔
اس نے ناشتہ مکمل کیا، حسبِ معمول ماں کا ماتھا چوما، گاڑی کی چابی لی اور نکل گئی۔ آج وہ پیدل جانے کے بجائے گاڑی پر سفر کر رہی تھی۔

شام تک بال جوڑے کی قید سے آزاد ہو چکے تھے، چہرہ میک اپ سے پاک تھا اور بلیزر گاڑی کی سیٹ پر لاپرواہی سے پھینکا گیا تھا۔ وہ گاڑی کے بونٹ پر نیم دراز تھی اور انگلیوں میں سگریٹ دبا ہوا تھا پاس ہی وہ قیمتی ہیلز اپنی ناقدری کو رو رہی تھیں۔ اس کی آنکھیں لمبی مسافت کی گواہ تھیں۔
“اپنا یہ ورژن میں نے خود تخلیق کیا ہے… بےحس اور بےپرواہ! ایک ایسی عورت جس کا دل پتھر کا ہے، جو خود کے لیے زندہ ہے، جس کی سانسیں کسی کی مسکراہٹ کی محتاج نہیں۔”
“یہ مشکل ہے، اس کی محبت سے لا تعلقی خود کو کانٹوں پر گھسیٹنے کے مترادف ہے، مگر اب آئرہ سلطان شاہ کو بس زندہ رہنا ہے، خود کے لیے، اپنی ماں کے لیے۔” وہ چاند کو اپنی کہانی سنا رہی تھی اور چاند ہمدردی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ گواہ تھا اس لڑکی نے محبت کی تھی اور سزا پائی تھی، کیونکہ سزا تو محبت میں ہی ملتی ہے نا؟ اس کہانی کی ایک اور وکٹم  نے انجام میں خود کو چنا تھا۔
آئرہ سلطان شاہ نے اپنا انتخاب کیا تھا اور آپ کا خود کو چننا لاکھ تکلیف دہ صحیح مگر کبھی رسوا کن نہیں ہوتا۔ اسے یہ مردہ دل یا روبوٹک زندگی پسند تھی، اس زندگی سے جہاں اس کی محبت کی قدر ہوئی نہ  اس کی قربانیوں کی۔ اس نے سب کو اپنی موت پر رونے کا حق دیا تھا، یہ اس کا اس کے اپنوں کے لیے دیا جانے والا آخری انعام تھا۔

اگرچہ یوشع کی محبت ختم نہیں ہوئی تھی مگر وہ اس محبت کے معاملے میں بے حس ہو گئی تھی۔ جو آپ کا انتخاب نہ کرے اس کا انتخاب اول درجے کی حماقت ہے۔ ہر انسان کو خود کے لیے رحم دل ہونا چاہیے۔
اس لیے خود پر رحم کریں۔ یکطرفہ تعلقات کو دل و زندگی سے نکال پھینکیں، ایسے رشتوں کو خیر باد کہہ دیں جہاں ایفرٹس صرف آپ کی طرف سے ہوں، بے حس اور تنہا ہونا منظور کر لیں مگر خود کو بے وقعت مت کریں۔
ضروری تو نہیں سب کو اختتام میں محبت مل جائے اور محبتیں سب کے لیے تو نہیں ہوتیں، کچھ کا مقدر تنہائی اور بھلا دیا جانا ہوتا ہے۔ ہوتے ہیں نا کچھ لوگ آئرہ سلطان شاہ جیسے؟
انت میں اپنا چناؤ سب سے مشکل ہے اس لیے خود کو چننا مضبوط لوگوں کا کام ہے۔
آئرہ کافی دیر تک بے حس و حرکت بیٹھی رہی، پھر گہرا سانس بھرا۔ آئرہ کی موت پر ماتم ہوا، آنسو بہے، پھر زندگی دوبارہ ردھم میں آ گئی۔ سب قبر پر جاتے ہیں، پھول چڑھاتے ہیں اور بس۔۔۔۔۔ یہی تو اصل ہے، یہی تو حقیقت ہے۔ان سب کو ہنستا دیکھ کر ایک حسرت تو اٹھی تھی اس کے دل میں؛ کاش وہ بھی عام ہوتی، عام لڑکیوں کی طرح ہنستی سنورتی، شادی کے خواب سجاتی۔ پر کہا نا، کچھ لوگ بدقسمت ہوتے ہیں، وہ تو خوش ہونے کے خواب بھی نہیں دیکھ پائی تھی۔ زندگی نے اس قدر الجھنوں میں الجھا کر رکھا ہوا تھا۔
” خیرِ
موسمِ گل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی
ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں۔”

اس نے جوتے اٹھائے، گاڑی میں بیٹھی اور چلی گئی۔ برسوں بعد اس فقیر کے جملوں کی بازگشت کانوں میں سنائی دی تھی۔
“تو رب سے اتنی بدگمان کیوں ہے؟” فقیر آنکھوں میں الجھن لیے اسے دیکھ رہا تھا، وہ واقعی اس کی بدگمانی کی وجہ جاننا چاہ رہا تھا۔
“تو کیا نہ ہوں نظروں سے اوجھل بیٹھا ہے اور دنیا میں عجب تماشہ رچا رکھا ہے؟ جو پیشانی رگڑتے ہیں اسے مل جاتا ہے، جو انحراف کر دے پھر اس کی برسوں کی ریاضتیں بھی بھلا دیتا ہے۔” وہ باغی تھی، اس بات کی عکاسی اس کے الفاظ کرتے تھے۔
“کس نے کہا ریاضتیں بھلا دیتا ہے؟ اگر وہ ریاضتیں بھلاتا تو کیا آج تم عزازیل کے ابلیس بننے پر بات کر رہی ہوتیں؟ زمانے میں کوئی بھی اسے  عزازیل کے طور پر یاد ہی نہ رکھتا، سب کے لیے وہ ابلیس ہی رہتا جو پیدا ہی مردود ہوا تھا۔ کوئی بھی یہ نہ جانتا کہ وہ فرشتوں کا سردار رہا تھا۔ اور پتر! تجھے کس نے کہا کہ رب متھے رگڑنے سے ملتا ہے؟ رب تو تب ملتا ہے جب بندہ خود کو ڈھونڈ لیتا ہے، جب اس کے لیے بس وہ اور رب رہ جاتا ہے، درمیان میں کسی تیسرے کا نہ ذکر رہتا ہے نہ کسی تیسرے کی فکر۔ تجھے رب مل جائے گا جب تو خود تک پہنچ جائے گی۔ رب تو تیرے دل میں ہے، تو نے بس دل میں اضافی جذبوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ جب جذبات کے بتوں سے دل آزاد کرے گی نا تو رب کا نور روشن ہوگا پہلے قبلے کی بت توڑنے پڑتے ہیں پھر اسے سجدہ کیا جاتا ہے اور یاد رکھیں رب گنہگاروں کو تو مل جاتا ہے باغیوں کو نہیں ملتا۔ اگر تو مومن نہیں بن سکتی تو مشرک بن جائیں، منافق نہ بنیں۔”
نہ جانے بہت پہلے سنے گئے الفاظ اسے کیوں یاد آ رہے تھے، نہ جانے کیوں اسے اللہ یاد آ رہا تھا۔ خلوت کے بعد ہی تو خدا ملتا ہے، شاید اسے بھی مل جائے۔ اس کے دل میں میں چپکے ایک خواہش بیدار ہوئی، فقیر نے صحیح کہا تھا، دل میں بہت سے اضافی جذبوں کو پناہ دے رکھی تھی۔اب جذبوں کی دھندھ ہٹی ہے تو رب کا وجود آنکھوں میں واضح ہو رہا ۔

غم کی سب سے خوبصورت بات پتا ہے کیا ہے؟ کہ اس کے بعد خدا یاد آتا ہے۔ یُسر میں ہمیں رب یاد نہیں رہتا، عُسر میں یاد آتا ہے۔
مومن تو وہ ہے جو دکھوں میں تو مومن رہے ہی مگر خوشیوں میں بھی مومن رہے۔
جیسے ہی آئیرہ کی گاڑی باحفاظت گھر میں داخل ہوئی تو اس کا پیچھا کرتی سیاہ شیشوں والی گاڑی بھی پلٹ گئی۔
وہ غلام نہیں، وہ محافظ تھا۔”

                           ✩━━━━━━✩
نور نیند میں جاتے حومایل کو تھپکتے ہوئے کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے گہری سوچ میں گم تھی۔
یوشع اس کے قریب آ کر بیٹھا اور سوئے ہوئے حومایل کو اس کی جگہ پر صحیح سے لٹایا اور خود بھی نور کو حصار میں لے کر نیم دراز ہو گیا۔
“کیا بات ہے ؟؟” نور اسے آج تھوڑی بجھی بجھی سی اور کنفیوز لگی تھی ۔
“کیا معاف کرنا آسان ہوتا ہے یوشع” نور نے کھوئے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
“بالکل نہیں! انسان کو سب سے زیادہ عزیز خود کی تکلیف ہوتی ہے، قلب! کسی کی وجہ سے ہم نے جو کچھ سہا، جو نقصان برداشت کیا، وہ بھلانا اور اسے معاف کرنا بالکل آسان نہیں ہوتا۔ پتہ ہے کیا؟ یہ سوال کہ ‘کیا معاف کرنا آسان ہوتا ہے؟’ تبھی ہمارے ذہن میں ابھرتا ہے جب ہم معاف کر چکے ہوتے ہیں یا اس تکلیف کا درد کم ہو چکا ہوتا ہے۔ ورنہ اس دور میں جب ہم تکلیف کی انتہا پر ہوتے ہیں، تو اس انسان کا نام تک سوچنا ہم حرام سمجھتے ہیں معاف کرنا تو دور۔ لیکن معافی ہماری آزادی اور ظالم کی قید ہے۔ ہم فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں اور ظالم پچھتاوے میں قید۔”
یوشع اس کا سر اپنے بازو پر رکھے، انگلیاں اس کے بالوں میں چلا رہا تھا۔۔ نور کو برسوں پہلے کی ملاقات یاد آئی تھی، وہ بھی تو ایک راز کی رازداں تھی۔
“مجھے جانا پڑے گا نور!” عنایہ اس کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔
“کہاں؟” نور کی بھنویں تنی تھیں۔ میرا آخری رشتہ بچانے… عنایہ نے اسے ساری بات بتائی۔ جیسے جیسے وہ بول رہی تھی، نور کے ماتھے پر شکنیں گہری ہوتی جا رہی تھیں۔
“جاؤ! مگر پلٹ کر آواز دو گی تو مجھے پتھر پاؤ گی۔” نور نے تنبیہ کی۔
“آواز تو پیٹھ دکھا جانے والوں کو دی جاتی ہے، تم تو پلکیں بچھا کر انتظار میں ہوگی۔” کیا مان تھا!
“عمر بھر کے لیے خفا ہو جاؤں گی۔” نور بس کسی بھی طرح اسے روک لینا چاہتی تھی۔اس کا کہاں گزارا تھا عنایہ کے بغیر
“میں منا لوں گی” حل پیش کیا گیا۔
“نہیں مانوں گی!” مقابل بھی ضد پر ڈٹی رہی۔
“میں جھک جاؤں گی…”
“تمہیں جھکنا نہیں آتا، عنایہ حیدر!” نور نے تنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“دیکھنا! وقت آنے پر تمہیں غلط ثابت کروں گی۔” اور اس نے کر دیا تھا۔
“نور! اسے معاف کر دو۔ جسے رب سزا دے، اسے انسان سزا دیتا اچھا نہیں لگتا۔” عنایہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے التجا کی۔
نور کافی دیر اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی، پھر دھیرے سے بولی: “تمہارے لیے… یہ بھی!”
عنایہ نے زور سے اسے گلے لگایا تو نور نے بھی اس کے گرد حصار قائم کیا۔ اس کی زندگی کی دو محبوب ترین ہستیوں کے دل میں کہیں نہ کہیں آئرہ شاہ بستی تھی۔
نور نے نظریں اٹھا کر یوشع کو دیکھا۔ اس کے ایسے دیکھنے پر یوشع نے جھک کر اس کی آنکھوں کو چوما۔ نور نے چہرہ اس کے سینے میں چھپایا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔ یوشع نے محبت سے اس کا چہرہ دیکھا۔
وہ موت کے اس کھیل میں ملنے والی امان تھی۔ وہ اس کی ‘ہیپی اینڈنگ’ تھی۔

                         ✩━━━━━━✩

عنایہ کو کافی دنوں سے اپنی طبیعت عجیب سی محسوس ہو رہی تھی۔ آج اپنی ساس کے اصرار اس نے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ احد کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جا رہی تھی۔ اسے لگا کہ شاید زیادہ کام کی وجہ سے کمزوری وغیرہ ہو گئی ہے، کیونکہ اسے کچھ دنوں سے آرام کا بالکل موقع نہیں ملا تھا۔
“مبارک ہو مسٹر احد! آپ کی وائف ایکسپیکٹ کر رہی ہیں۔”
یہ انکشاف سنتے ہی دونوں شاک سے ڈاکٹر کا چہرہ تکتے رہے۔ سب سے پہلے ہوش احد کو آئی تھی۔
“سچی میں؟ مطلب میں باپ بننے والا ہوں؟ او مائی اللہ! آئی لو یو بیگم!” احد نے زور سے اسے گلے لگا کر اس کا گال چوما۔ عنایہ پہلے ہی اس سچویشن پر انکمفرٹیبل سا محسوس کر رہی تھی، احد کی حرکت پر شرم سے پانی پانی ہو گئی۔ ڈاکٹر مسکراتی ہوئی چند ضروری ہدایات دے رہی تھی۔ احد کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا، جبکہ عنایہ کے احساسات عجب سے تھے۔
احد اسےنازو کے حصار میں لیے گاڑی تک لایا اور نہایت احتیاط سے عنایہ کو گاڑی میں بٹھایا۔
“شکریہ بیگم! پہلے تم میری محبت بنیں، پھر تم میری بیوی بنیں اور اب تم میری نسل کی امین بننے جا رہی ہو۔ یار! تم تو  مجھے اپنے احسان تلے دباتی ہی جا رہی ہو۔ یہ تو میں ساری عمر بھی تمہاری خدمت کرتا رہوں تو قرض نہیں اتار پاؤں گا۔”
احد کے خوبصورت الفاظ نے عنایہ کے تپتے ہوئے دل پر پھوار کا کام کیا۔ اسے خاموش دیکھ کر احد نے آہستہ سے گاڑی چلائی۔ عنایہ مسلسل کسی سوچ میں تھی اور ایک نقطے کو گھورے جا رہی تھی۔
احد  گاڑی جب قبرستان کی طرف موڑ لیں”  عنایہ کی ایک بات نے احد کو حیرت سے اسے دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ کیا واقعی اپنی امی کی قبر پر جا رہی تھی؟ احد نے کبھی اسے اپنی ماں کی قبر پر جاتے نہیں دیکھا تھا، جبکہ وہ خود چکر لگاتا رہتا تھا۔ہاں مگر حیدر علی کی قبر پر وہ اکثر جاتی رہتی تھی، پر احد نے بنا کوئی سوال کیے گاڑی قبرستان کی طرف موڑ دی۔

عنایہ کے قدم من من بھر کے بھاری ہو رہے تھے۔ وہ گزرے سالوں میں ہر روز اپنی امی کے لیے دعائے مغفرت کرتی تھی مگر کبھی ان کی قبر پر نہیں آئی تھی۔ آج آئی تھی، کیوں؟ کیونکہ اسے آج ایسا احساس ہوا تھا کہ ‘ماں بننا’ کیا ہوتا ہے۔ اس نے خود کو تہمینہ کی جگہ رکھ کر سوچا، اگر اس کی اولاد اسے یوں منہ پھیر لیتی تو اس پر کیا گزرتی؟ اگر اس کی اولاد اس کا اس دنیا میں واحد سہارا ہو اور وہ بھی اس سے رخ موڑ لے تو اس پر کیا گزرے گی؟ سوچ کر دل کو کچھ ہوتا تھا۔
ہم کسی کی تکلیف تب تک محسوس نہیں کر پاتے جب تک خود اس شخص کی جگہ پر کھڑے نہ ہو جائیں۔ ہماری مائیں کہتی ہیں ناں”جب خود ہماری جگہ ہوگی نا، تب احساس ہوگا۔” اور ہم اپنے تکبر میں کیا کہتے ہیں: “ہم کم از کم ایسے فیصلے نہ لیتے، یوں سب برداشت نہ کرتے، ہم آپ سے بہتر بنیں گے۔” مگر وقت آنے پر پتہ چلتا ہے کہ ہم تو ان کے پاؤں کی خاک برابر بھی نہیں، جو فیصلہ انہوں نے کر لیا ہم کبھی نہیں کر پائیں گے۔ اس لیے ماؤں کے ساتھ مقابلے بازی نہیں کرنی چاہیے، وہ اس قابل ہیں کہ ان پر اپنی ضد، اپنی انا، حتیٰ کہ اپنی خودداری تک وار دی جائے۔
عنایہ دھیرے سے قبر کے پاس بیٹھی، آنسو آنکھوں میں  ٹھہرے رہے
“امی! میں آ گئی ہوں۔ تاخیر کے لیے معاف کر دینا۔ آپ روز خواب میں آ کر بلاتی تھیں مگر میں پتھر بنی رہی۔ آپ کہتی تھیں نا: ‘عنایہ!  اپنے خون کی نہیں، میری تربیت کی لاج رکھنا’، مگر میرا ظالم خون آپ کی مہربان تربیت پر غالب رہا۔ مجھے معاف کر دیں امی! آپ کو پتہ ہے؟ آپ نانی بننے والی ہیں۔”
عنایہ دھیرے سے مسکرائی: “جب یہ دنیا میں آئے گا نا، میں اسے آپ سے ملوانے لاؤں گی۔”
اس نے ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا: “میں اب کبھی آپ سے دستبرداری نہیں لوں گی، امی! میں نے ظالم بنتے ہوئے آپ کی قربانیاں بھلا دیں، پر مجھے پتہ ہے کہ آپ اپنی عنایہ سے ناراض نہیں ہوں گی۔ مجھے آپ بہت یاد آتی ہیں، خصوصاً تب جب میں لوگوں کے گھروں میں ان کے مائیکے والوں کو آتے دیکھتی ہوں یا جب کوئی لڑکی کہتی ہے کہ اپنی امی کے گھر جا رہی ہوں۔ لوگوں کے پاس مائیکے کے نام پر بہن، ماں، بھائی باپ، کچھ تو ہوتا ہے، میرے پاس ایک خالی اینٹ اور سیمنٹ کا مکان ہے۔”
اس نے پیشانی قبر کی مٹی پر رکھی، سب آنسو مٹی میں جذب ہونے لگے۔ “اللہ آپ کی قبر کو ٹھنڈا رکھے امی! اللہ آپ کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے۔”
پھر اس نے اور احد نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ قبر پر تازہ پھول ڈالے، مگر اس دوران جرمِ ہو جو عنایہ حیدر کی نظریں ایک لمحے کے لیے بھی ساتھ والی قبر پر  گئی ہوں۔ جو دل سے اترے ہوں، پھر وہ زندگی میں نظر آتے ہیں نہ مرنے کے بعد ان کی قبریں۔
وہ کافی دیر یونہی قبر کے پاس بیٹھی اسے دیکھتی رہی۔ تہمینہ کی قبر کے پاس ایک خوبصورت سا پھولوں کا پودا تھا، جو کچھ سال قبل احد نے لگایا تھا، جس کی چھاؤں قبر کو ڈھانپے ہوئے تھی۔ اس میں سے ایک پھول ٹوٹ کر عنایہ کی گود میں آ گرا۔ عنایہ نے مسکراتے ہوئے اسے اپنی مٹھی میں دبایا۔
پھر احد کے ہاتھ بڑھانے پر وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ احد نے اسے آہستہ سے گلے لگا کر اس کی پیٹھ سہلائی، پھر اس کے ہاتھوں پر لگی مٹی اپنی شرٹ سے صاف کی۔ اس کے حجاب میں سے نکلی لٹیں انگلی کی مدد سے حجاب کے اندر کیں، اس کے آنسو پونچھے اور بچوں کی طرح اس کے دونوں گال چوم کر اسے لیے گاڑی کی طرف بڑھنے لگا۔
اب دونوں گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے، تہمینہ کی قبر پیچھے رہ رہی تھی۔ عنایہ نے مڑ کر ایک آسودگی بھری نظر اس قبر پر ڈالی اور ایک محبت بھری نظر اپنے ساتھ چلتے مرد پر۔
یہ عنایہ حیدر کی ‘ہیپی اینڈنگ’ تھی!

                       ✩━━━━━━✩
اشعث اپنے کمرے میں داخل ہوا تو کمرے کا منظر ہی بدل چکا تھا اور ہر جگہ اس کی اولاد کی چیزیں دکھائی دیتی تھیں۔،م ان کے بی بی پروڈکٹس، ان کے کھلونے، ان کی چند دوائیاں اور فارمولا ملک کے ڈبے سائیڈ ٹیبل پر پڑے تھے۔ مشکوٰۃ بکھرے بالوں اور سلوٹوں بھرے لباس میں، ملگجی حالت میں باسم کے کپڑے تبدیل کروا رہی تھی۔ بسمہ پاس ہی لیٹی کھیل رہی تھی۔
اشعث نے کوٹ اور بیگ ٹیبل پر رکھا۔ “فاطمہ! کیا کھا رہی ہیں آپ؟ دن بدن مزید حسین سے حسین تر ہوتی جا رہی ہیں۔”
بس اتنی سی تعریف کا سننا تھا اور مشکوٰۃ لال گلال بن گئی۔
“ایک تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر یوں شرما کر حالات آؤٹ آف کنٹرول کر دیتی ہیں آپ!” اشعث نے دھیرے سے اس کی الجھی سنہری آوارہ لٹ اس کے کان کے پیچھے اڑسی ۔
“پانی لاؤں آپ کے لیے؟” مشکوٰۃ بیڈ سے اٹھنے لگی تھی کہ اشعث نے روک دیا۔
“نہیں نہیں! نیچے امی کے پاس سے پی کر آیا ہوں۔”
اشعث بسمہ کے پاس ہی نیم دراز ہو گیا اور اس کے ساتھ کھیلنے لگا۔ وہ بھی باپ کو دیکھ کر ہنستے ہوئے بازو اور پاؤں اکڑانے لگی۔ اس نے باسم کو بھی پاس ہی لٹا لیا تھا اور مشکوٰۃ کو بازو سے پکڑ کر سینے پر لٹایا۔ وہ بھی ٹھوڑی اس کے سینے پر ٹکائے اپنے بچوں اور ان کے باپ کو ہنستے ہوئے دیکھنے لگی۔ اب وہ ہنستے ہوئے بسما اور باسم کی چھوٹی موٹی باتیں بتا رہی تھی۔
یہ ان کی ‘ہیپی اینڈنگ’ تھی؛ ایک عام، سادہ اور خوبصورت سی زندگی!

ضرار پر دوہری ذمہ داری آن پڑی تھی۔ چونکہ وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا، اس لیے ابراہیم صاحب نے اپنی عمر کے اس حصے میں اپنی گدی اس کے حوالے کر دی تھی۔ وہ اپنی ٹف ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ درگاہ  کو بھی وقت دیتا تھا۔ وہ لوگ کوئی تعویز دھاگے دینے والے کام نہیں کرتے تھے، بس اللہ سے لوگوں کی بھلائی کی دعا کرتے تھے اور غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے، کیونکہ سید تقسیم کرنے والے ہوتے ہیں۔
ان کے مدارس میں غریب بچیوں اور بچوں کو مفت تعلیم دی جا رہی تھی۔ بچیوں کی تعلیم کے بعد ان کی شادی کی ذمہ داری بھی وہی اٹھا رہے تھے۔ روز سینکڑوں بھوکوں کا پیٹ ان کے ڈیرے پر بننے والے لنگر سے بھرا جاتا تھا۔

ضرار صوفے پر بیٹھا ابراہیم اور ثمینہ کے ساتھ روزمرہ کی باتوں میں مصروف تھا، جبکہ پاس ہی نیچے زمین پر کپڑا بچھائے مفراہ، ریان کو سکول ورک کروا رہی تھی۔ آئرہ بھی اپنی کاپی اور کلرز اٹھائے ڈرائنگ بنانے میں مصروف تھی۔ضرار کی کائنات مکمل تھی۔
یہ ضرار شاہ کی ‘ہیپی اینڈنگ’ تھی کہ اسے اپنا خاندان واپس مل گیا تھا۔ ہاں! آئیرہ نام کے خسارے کا قلق تو تھا، مگر موت اللہ کی مرضی ہے اور بندے کی مرضی، اللہ کی مرضی میں…


ارحم اب پہلے سے تھوڑے کمزور ہو گئے تھے۔ داڑھی اور سر میں کہیں کہیں چاندی اتر آئی تھی، مگر شخصیت کا چارم جوں کا توں تھا۔ وہ ہارون شاہ کی قبر پر آئے تھے، اپنے دوست کی قبر پر؛ مگر جب نظر ساتھ والی قبر کی تختی پر پڑی: “سیدہ زلیخہ ہارون شاہ”، تو بائیں پہلو میں درد اٹھا تھی۔ اس پاک دامن سید زادی کا نام عدالتوں میں اس کے نام کے ساتھ اچھالا گیا، یہی تکلیف آج تک اس کا دل چھلنی کیے رکھتی تھی۔
ارحم نے اس سنہری شہزادی کو کبیر اور بتول کی شادی پر دیکھا تھا، وہ بہت معصوم اور خوبصورت تھی۔ برسوں بعد ارحم نے ایک فیملی بنانے کا سوچا تھا، محبت نے دستک دی تو ارحم نے لبیک کہا، پر قسمت کبھی محبت پر مہربان نہیں رہی۔ ان کی محبت ان کا فرض کھا گیا۔

ارحم نے فاتحہ پڑھی اور ڈھیروں، رنج اور ملال دل میں دبائے پلٹ گیا۔ اب ہر کسی کی کہانی کی اینڈنگ ہیپی تو نہیں ہوتی!

                       ✩━━━━━━✩

سب نور کو ملنے آئے ہوئے تھے، لاؤنج میں باتوں کا شور اٹھ رہا تھا۔ افق حومایل کو گود میں بٹھائے اس کے ساتھ باتیں کر رہا تھا، مریم اور نادیہ بھی اس کے لاڈ اٹھانے میں مصروف تھیں۔ زمائمہ اور نور علیحدہ باتوں میں مصروف تھیں۔ مریم کی شخصیت میں عمر کے ساتھ ساتھ ایک وقار آ گیا تھا، سرمئی آنکھیں جھریوں کی لپیٹ میں آ چکی تھیں مگر خوبصورتی ماند نہ پڑی تھی۔ مریم کی ‘ہیپی اینڈنگ’ یہ تھی کہ ان کے بچے خوش تھے، ان کا بیٹا، ان کی بیٹی، سب اپنی زندگی میں پرسکون تھے۔ ان کا بھائی صحیح سلامت ان کے ساتھ تھا۔ زندگی کے لیے محبت لازمی تو نہیں!
کبیر آنکھوں میں ڈھیروں پشیمانی لیے ریلنگ سے مریم کو دیکھ رہے تھے۔ برسوں پہلے یہ گھر بتول کی موجودگی سے روشن ہوتا تھا، برسوں بعد آج پھر روشن ہے؛ فرق یہ ہے کہ تب مقام اور تھا اب اور۔ وہ جب جب آتی تھیں، کبیر ان کے سامنے جانے کی ہمت خود میں نہیں پاتے تھے۔
کچھ لوگ ہیپی اینڈنگ پانے کے بعد اپنے ہاتھوں سے اس کو تباہ کر لیتے ہیں؛ کبیر نے خود اپنی کہانی کا انجام بھیانک لکھا تھا۔

آج پت جھڑ کی کہانی اپنے انجام کو پہنچی۔ سب نے کچھ نہ کچھ کھویا، کچھ نہ کچھ پایا بلکل حقیقی زندگی کی طرح۔ یہ کہانی محبت کی نہیں تھی، موت کی تھی؛ موت محبت کی، موت جذبوں کی، موت امیدوں کی اور موت اپنوں کی!
ختم شد

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *