NAWAI SHUJAT BY ABEERA KANWAL.

نواۓ شجاعت
از قلم عبیرہ کنول

یونیورسٹی آڈیٹوریم کے سٹیج پر کھڑا وہ تیس سالہ شخص ایک مشہور این جی او کا فعال کارکن تھا جو آج اپنی ٹیم کے ساتھ شہر کی مشہور یونیورسٹی میں آگاہی مہم کے لیے آیا تھا۔اُس مرد کا اندازِ گفتگو خاصہ توجہ کھینچنے والا تھا جبھی وہ ڈائس پر کھڑا سپیکر کی زمہ داری ادا کر رہا تھا۔اُس نے اپنی گفتگو کا آغاز ماضی کے واقعے سے کیا تو وقت نے اُلٹے قدموں سے سفر کرتے منظر کو حال سے ماضی میں تبدیل کر دیا۔
٭٭٭٭٭
“کہاں ہے وہ ہڈ حرام آج پھر کام سے بھاگ آیا؟”
پسینے میں شرابور وہ درمیانی عمر کا مرد تھا جو گھر میں داخل ہوتے ہی چیخنے لگا تھا۔طیش سے بھری آواز سُنتے ہی تمام مکین صحن میں جمع ہو چُکے تھے مگر مطلوبہ ہستی اب بھی نظروں سے اوجھل تھی۔
“کیا تماشہ بنایا ہوا ہے تُو نے روز کا؟”
بیوی کے اشارے پر کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ شخص چیل کی مانند کونے میں سمٹ کر بیٹھے سترہ سالہ ملیح نقوش والے لڑکے پر جھپٹ پڑا اور اس کے بالوں کو دبوچتے اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
“میں اب وہاں کام پر نہیں جاوں گا۔”
سر میں ہوتی تکلیف کو برداشت کرتے اُس لڑکے نے اٹل لہجے میں کہا جبکہ اُس کی آنکھیں کسی نادیدہ خوف کا تاثر لیے ہوئے تھیں۔
“کیوں نہیں جائے گا تُو؟کام پر اسی لیے رکھوایا ہے کہ تُو گلیوں میں آوارہ گردی نا کرے اور تیرے روز کے بہانے نہیں ختم ہوتے۔تیرے تو اچھے بھی جائیں گے۔”
اُس کے بالوں کو ایک زوردار جھٹکا دیتے اُس شخص نے کہا تو اُس لڑکے نے اپنی دونوں مُٹھیاں سختی سے بھینچ لیں۔
“ابا میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا وہ غلام صحیح آدمی نہیں ہے۔پہلے صرف وہ لالچی نظروں سے دیکھتا تھا،گندے جملے کستا تھا اب تو وہ آتے جاتے مجھے چھوتا بھی ہے۔”
کمرے کے دروازے پر نظر ڈالتے اُس لڑکے نے جھجھک کر بتایا تھا مگر شُکر اس وقت اُن کے علاوہ آس پاس کوئی نہیں تھا۔وہ چھوٹا سا لڑکا خود پر ہوتے ظلم پر شرمسار تھا اسی لیے اپنی نم نگاہیں جُھکا گیا جن میں نمی کے ساتھ ایک آس بھی چمکی تھی کہ شاید آج اُس کی بات کا یقین کر لیا جائے۔
“ابا!مجھے مت مارو۔میری بات سُنواُس بندے کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ابا!خدا کے لیے میرا یقین کرو۔”
اُس آدمی نے بیٹے کی باتیں سُنتے ہی اُس پرتھپڑوں اور گھوسوں کی بارش کردی تھی جس پر وہ معصوم پھول فرش پر نڈھال سا گرتا دُھایاں دینے لگا تھا مگر اُس کے باپ نے اُس کی کسی دُھائی پر کان نا دھرا۔
“بے غیرت انسان اپنی آوارہ گردی کے لیے اُس داڑھی والے شریف بندے پر الزام لگاتا ہے اورناہنجار الزام بھی بدکاری کا لگا رہا ہے۔کل میں تجھے خود دُکان پر چھوڑ کر آؤں گا اور اگر اس بار تُو وہاں سے بھاگا تو تیرے ٹکڑے کردوں گا اور سُن میں دوبارہ تیرے منہ سے یہ بکواس نا سُنوں۔”
آخر میں خود ہی تھکتے اُس آدمی نے چیختے مزید ایک لات اپنے بیٹے کو رسید کی اور دھمکی دیتے کمرے سے باہر نکل گیا۔پیچھے وہ لڑکا پیٹ سے گُھٹنے لگائے بے بسی کے عالم میں وہی پڑا سسکنے لگا۔باپ اُس کی سُن نہیں رہا تھا اور کسی اور کو وہ اپنی مشکل نہیں بتا سکتا تھا ایسے میں دوبارہ کام پر جانے کے سوا کوئی چارہ نا تھا۔
٭٭٭٭٭
زندگی جب قدم اُٹھاتی ہے تو پھر کسی موڑ پر رُکے بغیر ہی سفر جاری رکھتی ہے۔ابا سے مار پڑے ہفتہ گزر گیا تھا اور اُس کے اگلے دن سے ہی وہ باقاعدگی سے کام پر آرہا تھا۔ہاں مگر اب وہ بالکل خاموش ہوگیا تھا۔معمول کے برخلاف آج رات کے گیارے بجے بھی وہ دُکان پر موجود تھا جبکہ دُکان بند ہونے کا وقت دس بجے تھا۔
“فرقان تم چُھٹی کرو میں چھوٹے سے یہ بوریاں رکھوا کر دُکان بند کر دوں گا۔”
سرمئی داڑھی والے شخص نے میٹھے لہجے میں سامنے کھڑۓ سُپروائزر سے کہا تو وہ سر ہلاتا دُکان سے نکل گیا جبکہ تنہائی پاتے ہی اُس شخص کی ہوس زدہ نظریں ایک بار پھر چھوٹے پر جم چُکی تھیں۔
“میں یہ بوری سٹور میں چھوڑ آتا ہوں۔”
ہریس نظروں کو خود پر جمے دیکھ کر چھوٹے نے خود کو مضبوط ظاہر کیا مگر حقیقتاً اُس کی ہتھیلیاں پسینے میں بھیگ چُکی تھیں۔
“ہاں جاؤ اور سُنو ڈر لگے تو مجھے بُلا لینا۔”
دانت نکوستے ذومعنی انداز میں کہا گیا تو اُس لڑکے کے بدن میں کپکی دوڑ گئی۔جس پر نامحسوس انداز میں اپنے کُرتے کی سائیڈ جیب کو تھپتھپاتے وہ سٹور کی جانب بڑھ گیا۔
٭٭٭٭٭
نیم اندھیرے میں ڈوبے سٹور میں وہ آٹے کی بوریاں ترتیب سے رکھ رہا تھا جب دروازے کے بند ہونے کی گونج دار آواز پر پلٹا۔آنکھوں میں ہوس سموئے انسان نما شیطان غلام نامی شخص موقعے کا فائدہ اُٹھاتے اس کے سر پر پہنچ چُکا تھا۔خوف کے عالم میں ایک برقی لہر چھوٹے کے پورے جسم میں سرائیت کر گئی اور اُس کا دل کانوں میں دھڑکنے لگا۔
“آخر پرندہ شکنجے میں آ ہی گیا۔”
بے ہودہ قہقہہ لگاتے اُس نے چھوٹے کے گال کو چھوا توایک بے ساختہ چیخ چھوٹے کے حلق سے نکلتی فضا میں گونجی۔ نامانوس سی تپش نے اُسے اپنے گھیرے میں لیا مگر یہ تپش نہیں تھی جو اُسے لرزا رہی تھی یہ تو غلام کا ہاتھ جو آزادی سے اس کے جسم کو ٹٹولتے اوپر سے نیچے کی سمت سفر کر رہا تھا۔
“یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے۔دُور رہو مجھے سے۔غلام!خدا کا خوف کرو۔مجھ پر رحم کھاؤ۔”
اُس لڑکے “چھوٹے” نے پوری قوت سے اُس شیطان کو پرے دھکیلتے دونوں ہاتھ اپنے جسم کے گرد لپیٹے تھے مگر وہ سترہ سالہ لڑکا اُس شیطان کے سامنے بے بس تھا جو جھٹکا کھانے کے بعد ایک بار پھر اُس پر ہاوی ہوتے،اس بار اُسے دیوار سے لگا چکا تھا اور “چھوٹا” دُہائیاں دیتے،جھٹپٹاتے خود کو چُھڑانے کی تگ و دو میں تھا۔
“چچ چچ پرندہ یوں ہی شکاری کی قید میں پھڑپھڑاتا ہے،قید سے آزادی کی کوشش کرتا ہے مگر اُسے قید سے رہائی نہیں ملتی۔اسی طرح تمہیں بھی آج مجھ سے رہائی نہیں مل سکے گی۔”
اُکھڑتے سانس کے باوجود بھی چھوٹے کی مزاحمت نہیں تھمی تھی۔وہ پوری قوت سے خود بچانے کی کوشش کر رہا اور اس کوشش میں اُس کا گریبان بھی بُری طرح چاک ہو چکا تھا مگر وہ اپنی بے بسی سے لطف اندوز ہوتے غلام کے سامنے قطعی ہار نہیں مان رہا تھا۔
“تم غلط ہو غلام میں پرندہ نہیں ہوں۔”
غلام کی بات سُنتے ہی چھوٹے کی آنکھیں جو پہلے خوف کی عکاسی کر رہی تھیں اُن میں یک دم جنون کے شعلے بھڑکے اور اس سے قبل کہ وہ شیطان اس کے معصوم وجود کو پوری طرح روند ڈالتا اُس نے جیب میں چھپی چھوٹی قینچی پوری قوت سے ایک ہی وار میں اُس شیطان کی گردن میں گھونپ دی۔گرم خون کا فوارا تھا جو غلام کی گردن سے پھوٹا تھا اور اسی خون کی چھینٹے چھوٹے کے چہرے پر بھی پڑی تھیں۔ایک ہی وار میں غلام نامی شیطان اپنی شیطانیت سمیت دھپ کی آواز سے زمین پر ڈھیر ہو چکا تھا۔
“تم غلط تھے غلام! میں پرندہ نہیں خونخوار جانور ہوں۔اس پہلے کہ تم جیسا شیطان مجھے روند ڈالتا میں نے تمہیں چیڑ پھاڑ دیا۔”
غائب دماغی کے عالم میں غلام کے ٹھنڈے وجود پر جُھکا وہ لڑکا اُس کی ساکت آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بے خوف مسکراہٹ کے سنگ کہہ رہا تھا مگر زندگی کی رمق سے خالی آنکھوں میں جھانکتے ہی بہت سے خاموش آنسوؤں چھوٹے کی آنکھوں سے نکلتے زمین پر ٹپکے تھے۔
وہ سٹور جہاں پہلے چھوٹے کی چیخیں اور غلام کے قہقہے گونج رہے تھے اب وہ سناٹے کے زد میں تھا۔غلام کی گردن میں اب بھی قینچی دھنسی ہوئی تھی اور چھوٹا گومگو کیفیت میں ساکت سا دیوار سے ٹیک لگائے اپنی ہر احساس سے عاری نظریں اُس قینچی پر جمائے شکستہ سا بیٹھا تھا۔
٭٭٭٭٭
ناجانے کتنی دیر گُزری جب چھوٹے نے سُن ہوتے دماغ کے ساتھ زور زور سے دروازہ پیٹنے کی آواز سُنی۔دماغ نے صورتحال سمجھنے میں چند پل لگائے تو اسے ادراک ہوا کہ دستک کے ساتھ کچھ لوگوں کی آوازیں بھی تھیں جو غلام اور اُسے پکار رہے تھے۔وہ اپنی بے جان ٹانگوں پر زور ڈالتے اپنی جگہ سے اُٹھتے دروازے کی سمت بڑھا۔دروازے تک پہنچتے اُس نے مُڑ کر پیچھے پڑی لاش کو دیکھا اور ایک جھٹکے میں دروازہ کُھول دیا۔
“چھو۔۔۔۔ٹے!”
اُس کا خون آلود چہرہ دیکھتے فرقان کے الفاظ حلق میں اٹک گئے۔کُھلے دروازے کے پار غلام کی لاش درواز کی دوسری طرف کھڑے تین مردوں کو دہلا گئ تھی۔فرقان کے ساتھ موجود باقی دو آدمی ساتھ والے گیراج کے ملازمین تھے جنہوں نے کُھلا سٹور دیکھ کر تشویش میں فرقان کو اطلاع کی تھی جبکہ سٹور کا مالک شہر میں موجود نہیں تھا۔
“اوئے چھوٹے یہ تو نے کیا کر دیا؟”
فرقان نے بُکھلاتے ہوئے چھوٹے کو دھکا دیا اور خود اندر جا کر غلام کی لاش کے پاس کھڑا ہو گیا جس کی سرمئی داڑھی لہو رنگ کی ہو چکی تھی۔فرقان نے ایک نظر غلام کو دیکھتے اپنی سرد نظریں چھوٹے پر گاڑ دیں۔
“فُرقان بھائی!آپ اس لڑکے کے باپ سے رابطہ کرو۔وسیم پولیس کو بُلا رہا ہے جب تک میں اس پر نظر رکھتا ہوں کہیں بھاگ ہی نا جائے۔”
گیراج کے ملازم نے خاموش کھڑے چھوٹے کے بازو کو اپنی سخت گرفت میں جکڑ لیا تھا جبکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی کیونکہ “چھوٹا” بھاگنے کا ارادہ نا رکھتا تھا۔ایک ہجوم تھا جو وہاں اکٹھا ہو چکا تھا مگر اُس کے اردگرد کیا ہو رہا تھا اُسے کوئی فکر نہیں تھی۔ایک لاش اندر پڑی تھی اور ایک زندہ لاش اپنی مردہ آنکھیں اپنے کانپتے ہاتھوں پر ٹکائے ہوئے تھی۔
٭٭٭٭٭
اندھیر کوٹھری میں گُھٹنوں کو سینے سے لگائے وہ کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہا تھا۔پرسوں رات کے بعد اُس کی آنکھ سے ایک آنسو نہیں ٹپکا تھا مگر سُرخ انگارا آنکھیں اس کے کرب کی گواہ تھیں۔اُس رات کے بعد اُس نے اپنے منہ نا ایک لفظ نہیں نکالا تھا نا پولیس کو اپنی کوئی صفائی بیان کی اور نا ہی حوالات کی سلاخیں تھام کر روتے اپنے باپ کو دیکھ کر کچھ کہا۔جن کے آنسو ہر بار اس کا پھٹا گریبان دیکھ کر شدید پچھتاوے کی صورت میں بہہ نکلتے تھے۔
“تُو فکر مت کر میں تجھے یہاں سے نکال لوں گا۔میں نے وکیل کو بتایا ہے کہ غلام کی نیت نہیں ٹھیک تھی اورمجھے یقین ہے کہ تُو نے اُسے قتل بھی اسی وجہ سے کیا ہے۔”
لُٹی پٹی حالت میں سلاخوں کے پار دیکھتا وہ شخص پُر یقین لہجے میں کہہ رہا تھا۔جب کہ لفظ یقین پر چھوٹے نے میکانکی انداز میں گردن موڑ کر باپ کو دیکھا۔
“آہ!ابا دیکھیں آپ کو یقین آنے تک میں کہاں پہنچ گیا۔کیا آپ کے یقین کے لیے میرا قاتل بننا ضروری تھا؟”
بالاخر تیسرے دن اُس کی چُپ ٹوٹ چکی تھی اور اب وہ بولا تو اپنے باپ کو شرمندگی کی اتھا گہرایوں کی نذر کر گیا۔
“اب آپ کے یقین کی مجھے ضرورت نہیں رہی اورایک بات بتاوں مجھے اپنے عمل پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے کیونکہ میں نے جو کیا خود کے لیے کیا۔یہ میری جنگ تھی اور مجھ سے جو بن پڑا کیا مگر خود کو ہارنے نہیں دیا۔بس آپ وقت پر مجھ پر یقین کر لیتے تو آج میں غلام کے قاتل کے ساتھ اپنے دل کا قاتل نہیں بنتا۔ابا!غلام کے ساتھ میرا دل بھی مر گیا۔”
وہ چھوٹا سا لڑکا دو دن میں بہت بڑا ہو گیا تھا اور اس وقت اس کی باتیں اُس کے باپ کو جھنجھوڑ رہی تھیں۔
“چلو لڑکے تمہیں عدالت لے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔”
کانسٹیبل کی اطلاع پر “چھوٹا” اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا اور باہر نکلتے ایک پل کے لیے اپنے باپ کے گلے لگا۔
“مجھے نہیں معلوم کے میں رہا ہو جاؤں گا یا نہیں کیونکہ آپ کے یقین کے سوا کوئی ثبوت نہیں ہے مگر اس بات کا مجھے یقین ہے کہ جو چھوٹا پرسوں صبح گھر سے نکلا تھا وہ اب کبھی دوبارہ نہیں لوٹے گا۔”
مدھم سی سرگوشی کرتے وہ آگے بڑھ گیا تو اُس کا باپ بھی اپنے شکستہ قدم گھسیٹنے لگا۔اگر اس حادثے نے چھوٹے کا بچپن ختم کیا تھا تو اُس کے باپ کو بھی بڑھاپے کی دہلیز پر لا چھوڑا تھا۔
٭٭٭٭٭
چھوٹے کی داستان سُناتے شخص نے ڈائس پر رکھی پانی کی بوتل منہ سے لگائی جیسے وہ اس داستان میں سمٹی تکان اور کرب اپنے حلق سے اُتارنے کے لیے پانی کا سہارا چاہتا ہو۔پانی پینے کے قلیل وقفے میں ماضی بھی حال میں تبدیل ہو چکا تھا۔ہال میں مکمل خاموشی اور مدھم اندھیرا تھا۔صرف سٹیج پر نیم روشنی تھی جو پروجیکٹر کے باعث تھی۔جس پر جنسی زیادتی،ہراسانی اور تشدد کے متعلق اعداد شمار کی سلائیڈز شائع ہو رہی تھیں۔
“پھر کیا چھوٹے کو رہا کر دیا گیا؟”
ہال کے سناٹے باعث ڈائس پر کھڑے شخص نے باآسانی تجسس میں ڈوبا یہ سوال سُنا تھا اور سوال سُنتے ہی اُس شخص نے ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں میچیں۔
“ہاں!خوش قسمتی سے مالک کی جانب سے سٹور میں لگائے گئے خفیہ کمیرے کی مدد سے پہلی پیشی میں ہی اُس کی رہائی ہو گئی تھی۔”
چہرے پر بھلی سی مسکراہٹ سجائے اُس باوقار شخص نے جواب دیا تو پورا حال تالیوں سے گونج اُٹھا جیسے وہ سب چھوٹے کی رہائی کی خوشی مناتے،اُس کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہوں۔
“یہاں میرا آپ سب سے سوال ہے کہ کیا واقعی چھوٹے کی رہائی ہو گئی تھی؟”
تالیوں کے تھمنے کے بعد سوال کیا گیا تو سیٹوں پر بیٹھے بہت سے لوگوں نے جھٹ ہاں میں جواب دیا جبکہ کچھ لوگ اس سوال میں الجھ کر رہے گئے۔
“جو لوگ ہاں کہہ رہے ہیں اُن کا جواب صحیح ہے مگر میں آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ چھوٹے کو قانون سے رہائی تو مل چکی تھی مگر آج تک اُن لمحوں کی ازیت سے اُسے رہائی نہیں مل سکی۔وہ لاکھ بہادر ہی صحیح مگر اُس رات کا منظر اُسے آج بھی ہولاتا ہے اور وہ چاہ کر بھی اُس منظر سے رہائی حاصل نہیں کرسکتا۔”
اُس مرد نے اب کی بار بولنا شروع کیا تو اُس کے چہرے پر واضح کُن اذیت رقم تھی جبکہ اُس کو سامعین کے چہروں پر بھی مایوسی نظر آرہی تھی۔
“میرا مقصد آپ لوگوں کو دلبرداشتہ کرنا نہیں ہے۔آپ طلباء آنے والی نسلوں کے امین ہیں اور اساتذہ سرپرست،میں آپ پر صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب کوئی بچہ یا بچی آپ سے کسی شخص کی شکایت کرے تو خدارا اُسے سُنیں اور اُس پر یقین بھی کریں۔اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔بالکل ایسے ہی جیسے وقت پر “چھوٹے” پر یقین کر لیا جاتا تو وہ کبھی بھی اُس بدتَر منظر کا حصہ نا بنتا جو آج بھی اُس کو ڈراتا ہے۔”
اُس مرد نے اپنی نگاہیں حاضرین ہر جمائی تھیں،اُن سب کے چہرے اس بات کا ثبوت تھے کہ اُس کا کہا ایک ایک لفظ اُن کے دلوں میں اُتر رہا تھا۔
“آپ سب خود کو مضبوط بنائیں۔جنسی ہراسانی ایک بڑا ظلم ہے اوراس پر خاموش رہنا بذات خود ایک ظلم ہے۔آپ اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں یہ بات آپ کے لیے شرمندگی کا باعث قطعی نہیں ہونی چاہیے۔اپنے ساتھ ہوتے غلط فعل کو باآواز بلند غلط کہنا سیکھیں کیونکہ اپنی حفاظت کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ہر صورتحال میں اپنا دفاع کریں۔۔۔۔۔۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رُکا۔
“پھر چاہے آپ کو قاتل ہی کیوں نا بننا پڑے۔آپ کا وقار کسی درندے کی جان سے بہت قیمتی ہے۔”
چٹانوں سی سختی لیے اُس نے کہا تھا تو اُس کے تاثرات دیکھتے بہت سے لوگوں کے جسم میں ایک سرد لہر دوڑی۔
“سر!کیا قتل ہی اس سب کا حل ہے؟”
حال کے آخر کی جانب سے ایک نسوانی آواز گونجی تو سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا۔
“نہیں،سب سے پہلے خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنائیں اور کسی کو اعتماد میں لیں۔اس کے بعد جب آپ کو ہراساں کیا جائے تو مقابل پر فوری حملہ کریں خاص کر آنکھ،ناک یا کسی حساس مقام پر۔قتل ہمیشہ آخری حَل ہوتا ہے اور وہ بھی بدترین حالات میں۔پاکستان پینل کورٹ1860 کے سیکشن96-106 کے تحت سیلف ڈیفنس میں کیا گیا قتل قانونی طور پر جائز ہے مگر یاد رہے کہ کبھی کبھار معاملہ چند پیشیوں میں نمٹ جاتا اور بعض دفعہ معاملہ سالوں کے لیے لٹک جاتا ہے اسی لیے قتل کو سب سے آخری آپشن رکھیں اور خود کو ہر صورتحال کے لیے تیار رکھیں۔شکریہ!”
تفصیلی جواب دیتے ہی اُس نے مائک بند کردیا۔اُس کے مائک بند کرتے ہی تمام حاضرین اُس کے لیے اُٹھ کر تالیاں بجانے لگے جبکہ اُس کے پیچھے پوجیکٹر پر اب مختلف ہیش ٹیگز )#saynotoharassment#standagainstharassment#Raiseyourvoice#speakup(
نمایاں تھے۔
٭٭٭٭٭
صبح دوپہر میں ڈھل گئی اور سیمینار بھی اختتام پر پہنچ گیا۔این جی او کے کارکنان کو یونیورسٹی انتظامیہ نے چائے کے لیے روک لیا تھا۔سب خوش گپیوں میں مصروف تھے مگر وہ گرم چائے کو حلق میں انڈیلتے بالکل خاموش بیٹھا تھا۔
“کوئی دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ تم وہی داؤد ہو جو آج کے سیمینار کا سپیکر تھا۔”
اس کی خاموشی دیکھ کر اُس کے ساتھی نے کہا تو کپ کو پِرچ میں رکھتے داؤد مدھم سا مسکرایا۔
“مجھے دیکھ کر تو کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ماضی کی داستان میں “چھوٹے” کا کردار نبھانے والا بھی میں ہی تھا۔”
کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتے داؤد نے کہا۔
“داؤد کیوں تم ہر دفعہ ماضی کا قصہ چھیڑ کر خود کو تکلیف دیتے ہو؟”
مخاطب کی آواز میں تاسف در آیا تھا۔
“مجھے ماضی کا قصہ تکلیف نہیں دیتا جواد بلکہ مجھے اچھا لگتا ہے جب لوگ میرے ماضی سے سبق حاصل کرتے ہیں مگر خود پر بیتی قیامت کا ذکر آسان بھی تو نہیں ہوتا نا۔تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاؤں گا مَیں تم فکر نہیں کرو۔”
لہجے کو ہشاش بشاش بناتے ہوئے داؤد نے کہا تو مقابل نے عقیدت مندانہ نظروں سے اُسے دیکھا۔
“تم بہت بہادر ہو داؤد!”
رشک بھرے لہجے میں کہا گیا تو داؤد نے اپنا سر اثبات میں ہلایا۔اس جملے کے جواب میں وہ کہنا چاہتا تھا کہ بہادر ہونا بھی آسان نہیں ہے۔بہادری کے بدلے آپ کو بہت کچھ کھونا پڑتا ہے اور بہادری کی قیمت چکانی پڑتی ہے مگر پھر چُپ ہی رہا۔
چائے کی چسکیاں لیتے تمام خیالات کو جھٹکتے داؤد سب کے ساتھ باتوں میں مشغول ہوگیا تھا۔ماضی تمام عمر اُس کے ساتھ چلنے والا تھا اور سمجھداری یہی تھی کہ وہ خود کو زندگی کی دوڑ میں شامل کر لیتا۔
٭٭٭٭٭
ختم شُد


Details:
Writer’s name: Abeera Kanwal
Father’s name: Abdul Jabbar
Instagram handle: @abeera_abduljabbar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *