کاش
مصنف : عمر نیاز
خیالاتی ناول
تعارفِ مصنف؛
میں عمر نیاز ایک مصنف اور گرافک ڈیزائنر ہوں
میں مڈل سکول کا طالب علم ہوں
میں 2012 میں پیدا ہوا تھا
میں نے اس ناول سے پہلے
(The Unexpected Journey)
بھی لکھا ہے جو کہ این سے ناول کی ویب سائٹ پر موجود ہے جو کہ گوگل پر سرچ کرنے سے باسانی مل جاتی ہے
باب اوّل؛ رنگ برنگی دنیا اور اندر کا اندھیرا
شہر کی سب سے بلند اور مہنگی عمارت کی پچیسویں منزل پر واقع اس آفس کی شیشے کی دیوار سے پورا شہر ایک خوبصورت مائل بہ روشنی منظر پیش کر رہا تھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے، لیکن عثمان صدیقی کی آنکھوں میں نیند کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔
اس نے اپنے اطالوی برانڈ کے قیمتی سوٹ کی ٹائی کو تھوڑا ڈھیلا کیا اور چمڑے کی گھومنے والی کرسی پر ٹیک لگا دی۔ سامنے میز پر موجود ایپل کا لیپ ٹاپ کھلا تھا، جس پر اس کی کمپنی کے بینک اکاؤنٹ کا بیلنس چمک رہا تھا۔ ہندسے اتنے زیادہ تھے کہ ایک عام انسان کو گننے میں بھی وقت لگے۔ دنیا اسے “کامیاب” کہتی تھی، ایک ایسا شخص جس نے صفر سے شروع کیا اور آج بزنس کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا۔
عثمان نے میز پر رکھا انٹرکام کا بٹن دبایا۔
“سیکرٹری! کیا میری گرین ٹی تیار ہے؟” اس کی آواز میں وہی پرانا رعب تھا، لیکن اس رعب کے پیچھے ایک تھکن بھی چھپی تھی۔
“جی سر! بس دو منٹ۔” دوسری طرف سے مودبانہ آواز آئی۔
عثمان اٹھا اور شیشے کی بڑی دیوار کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ نیچے سڑکوں پر رینگتی ہوئی گاڑیاں کھلونا لگ رہی تھیں۔ اس نے اپنے ہاتھ کی مہنگی گھڑی دیکھی، جس کی قیمت میں ایک غریب خاندان پورے سال کا راشن خرید سکتا تھا۔ لیکن عجیب بات تھی، اس گھڑی کی ہر ٹک ٹک عثمان کو یہ احساس دلاتی تھی کہ وقت گزر رہا ہے، اور وہ کچھ کھو رہا ہے۔
اس کے موبائل کی سکرین روشن ہوئی۔ اس کے اسسٹنٹ کا میسج تھا: “سر! لندن ڈیل فائنل ہو گئی ہے۔ آپ کے اکاؤنٹ میں مزید تین ملین ڈالر ٹرانسفر کر دیے گئے ہیں۔ مبارک ہو!”
تین ملین ڈالر… یعنی کروڑوں روپے۔ عثمان کے چہرے پر ایک سرسری سی مسکراہٹ آئی، لیکن وہ مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک نہ پہنچ سکی۔ اس نے گہرا سانس لیا۔ اسے یاد ہی نہیں تھا کہ وہ آخری بار دل سے کب ہنسا تھا۔ اس کے پاس دنیا کی ہر آسائش تھی، لیکن سکون؟ سکون شاید اس بلڈنگ کی پچیسویں منزل تک آتے آتے راستے میں ہی کہیں چھوٹ گیا تھا۔
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور اس کا پیڈ (Paid) نوکر ٹرے لیے اندر داخل ہوا۔
“رکھ دو، اور تم جا سکتے ہو،” عثمان نے بغیر مڑے سرد لہجے میں کہا۔
جب نوکر چلا گیا، تو عثمان نے چائے کا مگ اٹھایا۔ گرم چائے کی بھاپ شیشے پر جمی تو باہر کا منظر دھندلا گیا۔ عثمان نے صوفے پر پڑے اپنے دوسرے پرسنل فون کو دیکھا۔ اس فون پر کوئی میسج نہیں تھا۔ نہ کسی بھائی کا، نہ کسی بہن کا، اور نہ ہی کسی پرانے مخلص دوست کا۔ سب رشتے تو وہ بہت پیچھے، پیسے کی اس دوڑ کی شروعات میں ہی کاٹ کر پھینک آیا تھا۔
اس نے شیشے کی اس دھند پر اپنی انگلی سے ایک لفظ لکھنا چاہا، لیکن ہاتھ لرز گیا…
عثمان نے لرزتے ہاتھوں سے شیشے پر جمی دھند کو صاف کیا۔ باہر روشنیاں اب بھی ویسی ہی تھیں، لیکن اس کے اندر کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ اس نے چائے کا مگ میز پر رکھا اور صوفے سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔
سکون… یہ لفظ اب عثمان کے لیے لغت میں لکھا ایک ایسا لفظ بن چکا تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسے یاد آیا کہ پچھلے تین سالوں سے وہ نیند کی گولیوں کے بغیر ایک گھنٹہ بھی نہیں سو پایا تھا۔ وہ ڈاکٹر، جو شہر کا سب سے مہنگا سائیکاٹرسٹ تھا، ہر بار بھاری فیس لے کر بس اتنا ہی کہتا تھا: “عثمان صاحب! آپ پر کام کا دباؤ زیادہ ہے، تھوڑا آرام کیجئے۔”
“آرام…” عثمان نے تلخی سے مسکرا کر اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا۔ “جس کے پاس سوچنے کو کوئی رشتہ ہی نہ بچا ہو، وہ اپنے دماغ کو کیسے روکے؟”
اس نے دراز کھولی اور نیند کی گولیوں کا پتہ نکال کر ایک گولی پانی کے بغیر ہی حلق میں اتار لی۔ کڑوا ذائقہ اس کے حلق سے ہوتا ہوا اندر اتر گیا، بالکل اس کڑواہٹ کی طرح جو اس کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔
اس کی نظر میز پر پڑے ایک پرانے، گرد آلود بٹوے (wallet) پر پڑی۔ یہ وہ بٹوا تھا جو وہ اپنے ساتھ ہر جگہ رکھتا تھا، لیکن اسے کھولتا کبھی نہیں تھا۔ آج نہ جانے کس جذبے کے تحت اس نے وہ بٹوا اٹھایا اور اسے کھولا۔ اس کے اندر ایک پرانی، رنگ اڑی ہوئی تصویر تھی۔ عثمان کی ماں، اس کے والد، اور اس کے چھوٹے بہن بھائی… سب ایک مٹی کے کچے صحن میں کھڑے ہنس رہے تھے۔ وہ تصویر عثمان کے اس دور کی تھی جب اس کے پاس پہننے کو ڈھنگ کے کپڑے نہیں تھے، لیکن چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ تھی۔
“بھائی! آپ کب آئیں گے؟ امی آپ کا راستہ دیکھ رہی ہیں…”
سات سال پرانی اپنے چھوٹے بھائی کی وہ آخری کال عثمان کے کانوں میں گونجی۔ اس وقت عثمان ایک بہت بڑی بزنس میٹنگ میں تھا اور اس نے جھنجھلا کر کہا تھا: “میں یہاں تمہاری طرح فارغ نہیں بیٹھا ہوں، پیسے کما رہا ہوں! بار بار فون مت کیا کرو۔”
اس کے بعد اس نے فون کاٹ دیا تھا۔ اور پھر… پھر واقعی کبھی فون نہیں آیا۔ ماں اصرار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گئی، اور باپ نے مرتے دم تک عثمان کا کمایا ہوا ایک روپیہ بھی لینے سے انکار کر دیا۔ بہن بھائیوں نے اسے اپنی زندگیوں سے ایسے عاق کر دیا جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ عثمان نے انہیں منانے کی بجائے اپنے تکبر میں یہ سوچا کہ “پیسہ سب کچھ خرید سکتا ہے، جب میرے پاس اربوں روپے ہوں گے تو یہ سب خود ہی میرے پیروں میں ہوں گے۔”
آج اس کے پاس اربوں روپے تھے، لیکن ماں کی مغفرت کے لیے دعا مانگنے کا وقت بھی وہ پیسے کی دوڑ میں بھول چکا تھا اور بہن بھائی اپنے اپنے راستوں پر جا چکے تھے۔ دین؟ دین تو اس کے لیے صرف شناختی کارڈ پر لکھی ایک لائن بن کر رہ گیا تھا۔ نہ نماز کا ہوش تھا، نہ رب سے کوئی رابطہ۔
عثمان نے وہ تصویر واپس بٹوے میں رکھی اور اسے زور سے بند کر دیا۔ اس کی آنکھوں کے گوشے گیلے ہو چکے تھے۔ اس نے دوبارہ گھڑی دیکھی۔ رات کے ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔ گولی کا اثر ابھی تک نہیں ہوا تھا۔
وہ اپنی پچیسویں منزل کے اس قید خانے سے نکلنے کے لیے اٹھا۔ اس نے اپنا کوٹ اٹھایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اس خاموش عمارت سے نکل کر سڑکوں پر نکل جانا چاہتا تھا، شاید کہیں کوئی ایسی چیز مل جائے جو اس کے اندر کے اس خالی پن کو بھر سکے۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ آج کی یہ رات اس کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہونے والی ہے۔
باب دوم: ماضی کی غلطیاں اور بدلا ہوا عثمان
لفٹ پچیسویں منزل سے نیچے کی طرف گر رہی تھی اور عثمان کا ذہن وقت کی رفتار کو پیچھے چھوڑتا ہوا ماضی کے اندھیروں میں اتر رہا تھا۔ نیند کی گولی نے اس کے جسم کو تو تھکا دیا تھا، لیکن اس کے دماغ میں یادوں کی فلم تیز رفتاری سے چلنے لگی تھی۔
آج سے بارہ سال پہلے، عثمان ایسا نہیں تھا۔ وہ ایک مخلص، جذباتی اور اپنے والدین کا فرمانبردار بیٹا تھا۔ ان کا ایک چھوٹا سا، خستہ حال مکان تھا جس کی چھت ہر برسات میں ٹپکتی تھی۔ عثمان کے والد ایک سرکاری ادارے میں چھوٹی گریڈ کے ملازم تھے، جن کی پوری تنخواہ مہینے کے پہلے دس دنوں میں ہی ختم ہو جاتی تھی۔
عثمان کو یاد تھا وہ دن جب اس کی چھوٹی بہن شدید بیمار ہوئی تھی۔ ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھی ماں رو رہی تھی اور والد ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑا رہے تھے:
“ڈاکٹر صاحب! میرے پاس اس وقت صرف پانچ ہزار روپے ہیں، باقی رقم کا انتظام میں کل صبح تک کر دوں گا، خدا کے لیے میری بچی کا علاج شروع کریں۔”
لیکن ڈاکٹر نے بے رحمی سے اس کے والد کا ہاتھ جھٹک دیا تھا اور کہا تھا: “یہ ہسپتال ہے، کوئی خیراتی ادارہ نہیں! پہلے کاؤنٹر پر پوری فیس جمع کرواؤ، پھر مریض کو اندر لانا۔”
عثمان اس وقت صرف اکیس سال کا تھا اور ہسپتال کے اسی کوریڈور میں کھڑا اپنے باپ کی بے بسی دیکھ رہا تھا۔ اس رات اس کی بہن بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے تو نہیں، لیکن دواؤں کی کمی کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں رہی۔ اسی رات عثمان کے اندر کا معصوم لڑکا مر گیا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسے انسان نے جنم لیا جس نے اپنے رب کے سامنے گٹھنے ٹیکنے کے بجائے پیسے کو اپنا خدا بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر تڑپ کر کہا تھا: “یا اللہ! اگر تو نے مجھے اس غریبی میں ہی رکھنا تھا تو پیدا ہی کیوں کیا؟ آج کے بعد میں صرف اس چیز کے پیچھے بھاگوں گا جس کے سامنے یہ دنیا جھکتی ہے… اور وہ ہے پیسہ!”
وہ ایک کفر کی شروعات تھی۔ عثمان نے دین سے تعلق توڑ لیا۔ اس نے نمازیں چھوڑ دیں، کیونکہ اسے لگتا تھا کہ مسجد میں گزارا ہوا آدھا گھنٹہ اس کے بزنس کے لاکھوں روپے کا نقصان کر سکتا ہے۔ اس نے دن رات ایک کر دیے۔ وہ ایمانداری اور بے ایمانی کے فرق کو بھول گیا۔ جہاں کسی کا نقصان کر کے اسے فائدہ ہوتا، وہ پیچھے نہ ہٹتا۔
پیسہ آنا شروع ہوا، تو اس کی زندگی بدل گئے۔ جب اس کے باپ نے اسے حلال اور حرام کی تمیز سکھانے کی کوشش کی، تو عثمان نے غصے سے کہا تھا: “بابا! جب ہم ہسپتال میں ذلیل ہو رہے تھے، تب آپ کا یہ حلال رزق ہمیں بچانے نہیں آیا تھا! اب مجھے مت سکھائیں کہ مجھے کیا کرنا ہے۔”
وہ دن تھا اور آج کا دن، عثمان نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ایک کے بعد دوسری کمپنی خریدی، اپنے مخلص دوستوں کو دھوکہ دیا کیونکہ وہ اس کی ڈیلز کے بیچ میں آ رہے تھے، اور آخر کار اپنے خاندان کو بھی چھوڑ دیا –
“ٹنگ!” (لفٹ کی گھنٹی کی آواز)
لفٹ کے دروازے کھلے تو عثمان ماضی کی وادی سے باہر آیا۔ وہ بیسمنٹ کی پارکنگ میں تھا۔ اس کی سیاہ چمکتی ہوئی مرسڈیز اس کا انتظار کر رہی تھی۔ گارڈ نے لپک کر دروازہ کھولا، لیکن عثمان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
“تم چابی مجھے دو، آج میں گاڑی خود ڈرائیو کروں گا،” عثمان نے ڈرائیور کو کہا۔
وہ اس رات اپنے عالیشان بنگلے میں نہیں جانا چاہتا تھا جہاں بیس نوکر تو تھے، لیکن استقبال کرنے والا کوئی ایک دل بھی نہیں تھا۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور رات کے سناٹے میں شہر کی سڑکوں پر دوڑا دی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ماضی کی یہ تلخیاں اسے جس راستے پر لے جا رہی ہیں، وہاں اس کا سامنا ایک ایسی حقیقت سے ہونے والا ہے جو اس کے تکبر کے اس محل کو ہمیشہ کے لیے ہلا کر رکھ دے گی۔
باب سوم: متوازی دنیا اور اطمینانِ قلب
گاڑی کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر تھی۔ عثمان کی انگلیاں سٹیئرنگ پر مضبوطی سے جمی تھیں، لیکن اس کا ذہن اب بھی سکون کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔ سڑکیں آہستہ آہستہ سنسان ہو رہی تھیں اور شہر کے پوش علاقے کے بنگلے پیچھے چھوٹ چکے تھے۔ عثمان کو خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کس طرف جا رہا ہے۔
اچانک، گاڑی کے انجن سے ایک عجیب سی آواز آئی اور ڈیش بورڈ پر لگی سرخ لائٹ جلنے بجھنے لگی۔ عثمان نے ہڑبڑا کر بریک لگائی۔ گاڑی ایک جھٹکے کے ساتھ سڑک کے کنارے رک گئی۔
“لعنت ہے!” عثمان نے غصے سے سٹیئرنگ پر ہاتھ مارا۔ کروڑوں روپے کی گاڑی نے اس وقت دھوکہ دیا تھا جب وہ خود سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس نے باہر دیکھا۔ وہ شہر کے ایک پرانے اور متوسط طبقے کے علاقے میں کھڑا تھا۔ سڑک کے کنارے کچے پکے مکانات تھے اور دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ عثمان گاڑی سے نیچے اترا اور بونٹ کھول کر دیکھنے لگا، لیکن بزنس کے اعداد و شمار سمجھنے والے عثمان کو گاڑی کی مکینیکل خرابی کا کیا علم ہونا تھا؟ اس نے موبائل نکالا تاکہ اپنے مینیجر کو فون کر کے دوسری گاڑی منگوائے، لیکن سکرین پر “No Service” چمک رہا تھا۔
وہ بے بسی اور غصے کے عالم میں وہیں سڑک کنارے کھڑا ہو گیا۔ رات کے دو بج رہے تھے اور چاروں طرف خاموشی تھی۔
اسی دوران، قریبی گلی سے ایک پرانی موٹر سائیکل ائی- اس کی ہیڈ لائٹ کی روشنی عثمان پر پڑی۔ موٹر سائیکل سوار نے عثمان کو ایک مہنگی گاڑی کے پاس پریشان کھڑا دیکھا تو اپنی بائیک وہیں روک دی۔
“السلام علیکم بھائی! کوئی پریشانی ہے؟ کیا گاڑی خراب ہو گئی ہے؟”
ایک نہایت نرم اور پرخلوص آواز عثمان کے کانوں میں گونجی۔ عثمان نے مڑ کر دیکھا۔ موٹر سائیکل پر ایک تیس بتیس سال کا نوجوان بیٹھا تھا، جس کے چہرے پر ہلکی سی داڑھی تھی اور سر پر نماز کی ٹوپی۔ اس کا لباس بالکل سادہ، صاف ستھرا تھا۔
عثمان نے ہمیشہ کی طرح اپنے تکبر کے خول میں لپٹتے ہوئے سرد لہجے میں کہا، “ہاں، گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی۔ اور میرا فون بھی کام نہیں کر رہا۔”
نوجوان موٹر سائیکل سے اترا اور مسکرا کر بولا، “کوئی بات نہیں بھائی، پریشان نہ ہوں۔ میرا نام عاصم ہے۔ میں یہیں پاس ہی ایک چھوٹی سی دکان چلاتا ہوں۔ رات کو دکان بڑھا کر ذرا دیر ہو گئی تھی۔ آئیے، میں دیکھتا ہوں، شاید کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ ہو۔”
عاصم نے گاڑی کا بونٹ چیک کرنا شروع کیا۔ عثمان دور کھڑا اس کا جائزہ لے رہا تھا۔ عثمان کے نزدیک ایسے لوگ “ناکام” تھے، جو رات کے دو بجے تک ایک معمولی دکان پر ہڈیاں توڑتے ہیں اور مہینے کے آخر میں چند ہزار روپے گھر لے جاتے ہیں۔ عثمان کے چہرے پر حقارت کی ایک لکیر ابھری۔
“اس میں پلگ کا مسئلہ لگ رہا ہے بھائی، ابھی تو کوئی مکینک نہیں ملے گا،” عاصم نے اپنے ہاتھ کپڑے سے صاف کرتے ہوئے کہا۔ پھر اس نے عثمان کے پریشان چہرے کو دیکھا اور نہایت ہمدردی سے بولا، “آپ رات کے اس پہر یہاں سڑک پر کھڑے رہیں گے تو اچھا نہیں ہے۔ میرا گھر بالکل سامنے اس گلی میں ہے۔ آپ اگر برا نہ مانیں تو صبح تک وہاں آرام کر لیں۔ صبح ہوتے ہی میں خود مکینک کو لے آؤں گا۔”
عثمان پہلے تو انکار کرنے والا تھا، لیکن رات کی سردی اور نیند کی گولی کے اثر نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔ وہ مجبوری میں عاصم کے پیچھے چلنے پر تیار ہو گیا۔
جب وہ عاصم کے چھوٹے سے گھر کے صحن میں داخل ہوا، تو عثمان کو لگا جیسے وہ کسی دوسری دنیا میں آ گیا ہو۔ گھر میں صرف تین چھوٹے کمرے تھے، جن کی دیواروں کا پینٹ اکھڑ رہا تھا، لیکن وہاں ایک عجیب سی پاکیزگی اور خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
“عاصم! آپ آ گئے؟” ایک دھیمی اور محبت بھری آواز اندرونی کمرے سے آئی۔ عاصم کی بیوی جاگ رہی تھی اور اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی۔
“جی ! اور ہمارے ساتھ ایک مہمان بھی ہیں، ذرا ان کے لیے پانی اور بستر کا انتظام کر دیجئے،” عاصم نے مسکرا کر جواب دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں عاصم نے صحن میں ایک چارپائی بچھائی، جس پر صاف ستھری چادر لگی تھی۔ اس نے عثمان کو پانی کا گلاس دیا اور بولا، “بھائی، یہ غریب خانہ ہے، لیکن آپ یہاں خود کو محفوظ سمجھیں۔ آرام کیجئے۔”
عثمان چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اس کا اپنا بیڈ روم ایک کنال کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا جہاں لاکھوں کا امپورٹڈ گدا تھا، پر نیند غائب تھی۔ یہاں ایک کچے صحن میں، لکڑی کی چارپائی پر بیٹھتے ہی اس کے دل پر چھایا ہوا بوجھ کچھ ہلکا ہونے لگا۔
ابھی عثمان کی آنکھ لگی ہی تھی کہ دور مسجد سے مؤذن کی خوبصورت آواز گونجی: “الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ” (نماز نیند سے بہتر ہے)۔
عثمان نے دیکھا کہ عاصم فوراً اٹھا، اس کے چہرے پر کوئی تھکن نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سی چمک اور تازگی تھی۔ وہ وضو کرنے لگا۔ اس کا چھوٹا بیٹا، وہ بھی آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور بولا، میں بھی مسجد جاؤں گا۔
عاصم نے اپنے بیٹے کو گود میں اٹھایا، اس کا ماتھا چوما اور بولا، “بالکل میرے شیر، چلیے رب کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔”
عثمان چارپائی پر لیٹا یہ سب دیکھ رہا تھا اور اندر ہی اندر اس کے دل میں ایک زلزلہ سا آ رہا تھا۔ عاصم کے پاس نہ کوئی مہنگی گاڑی تھی، نہ بینک بیلنس، نہ برانڈڈ سوٹ… لیکن اس کے پاس ایک ہنستا کھیلتا گھر تھا، ایک پیار کرنے والی بیوی تھی، ایک ایسا بیٹا تھا جو اس کے نقشِ قدم پر چل رہا تھا، اور سب سے بڑھ کر… اس کے چہرے پر وہ بے پناہ اطمینان تھا جو عثمان نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
عثمان نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔ وہاں صرف دولت کا تکبر تھا، لیکن اندر کا عامر صدیقی اب اس متوازی دنیا کو دیکھ کر بری طرح تڑپ اٹھا تھا۔
باب چہارم: غرور کا ٹوٹنا اور بے بسی کا احساس
عاصم کے گھر گزارے ہوئے اس ایک حصے نے عثمان کے دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ صبح عاصم نے مکینک لا کر عثمان کی گاڑی ٹھیک کروائی۔ عثمان نے عاصم کو پیسوں کی پیشکش کی، لیکن عاصم نے مسکرا کر منع کر دیا اور کہا: “بھائی! یہ تو میرا فرض تھا، اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔”
عثمان واپس اپنے بڑے افس میں آ گیا، لیکن اب اس کا دل کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ عاصم کے ہنستے کھیلتے بچے اور اس کا پرسکون چہرہ عثمان کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔
ابھی وہ اسی سوچ میں تھا کہ اچانک اس کے کمرے کا دروازہ زور سے کھلا۔ اس کا اسسٹنٹ بدحواسی میں اندر بھاگا آیا۔ اس کا چہرہ خوف سے سفید تھا۔
“سر! بہت بڑا نقصان ہو گیا!” اسسٹنٹ کی آواز کانپ رہی تھی۔
عثمان سیدھا ہو کر بیٹھا، “کیا ہوا؟ صاف صاف بتاؤ۔”
“سر، ہماری کمپنی نے جس غیر ملکی ڈیل میں اپنی ساری جمع پونجی اور بینک کے قرضے لگائے تھے… وہ کمپنی فراڈ نکلی۔ وہ لوگ سارا پیسہ لے کر بھاگ گئے ہیں۔ مارکیٹ میں یہ خبر پھیلتے ہی ہمارے شیئرز گر گئے ہیں اور بینک نے ہمارے سارے اکاؤنٹس فریز (Freeze) یعنی بند کر دیے ہیں!”
یہ سنتے ہی عثمان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے سر پر جیسے کسی نے لوہے کا ہتھوڑا ما را ہو۔
“کیا بکواس کر رہے ہو؟ میرے پاس اربوں روپے ہیں! میں برباد نہیں ہو سکتا!” عثمان چلایا۔
لیکن سچائی نہیں بدل سکتی تھی۔ اگلے دو دنوں میں عثمان کی دنیا بالکل بدل گئی۔ اخبارات اور ٹی وی پر اس کی بربادی کی خبریں چلنے لگیں۔ جو بزنس پارٹنر روز اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے، انہوں نے فون اٹھانا بند کر دیا۔ جن نوکروں کو وہ لاکھوں روپے تنخواہ دیتا تھا، وہ اسے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔ یہاں تک کہ اس کا اسسٹنٹ بھی کمپنی کی گاڑیاں اور ضروری کاغذات لے کر غائب ہو گیا۔
عثمان اپنے اسی پچیسویں منزل کے افس میں اکیلا بیٹھا تھا، جہاں اب نہ بجلی تھی اور نہ ہی کوئی نوکر۔ کرسی پر بیٹھے عثمان کو اچانک اپنے سینے میں ایک شدید درد محسوس ہوا۔ اس کا سانس اکھڑنے لگا اور وہ فرش پر گر گیا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا اور اپنے پرانے دوستوں اور رشتہ داروں کے نمبر ملانے لگا۔ لیکن ہر طرف سے ایک ہی جواب ملا: “آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے۔” کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ سب رشتوں کو تو وہ خود ہی پیسے کے لیے بہت پہلے چھوڑ چکا تھا۔
وہ فرش پر پڑا تڑپ رہا تھا اور اسے اپنی ماں کا وہ چہرہ یاد آ رہا تھا جب وہ بیمار تھی اور عثمان نے اس سے بات تک نہیں کی تھی۔ اسے اپنے بھائی یاد آ رہے تھے جنہیں اس نے غریب کہہ کر دھتکار دیا تھا۔
پیسہ، جس کے لیے اس نے اپنے رب کو بھلا دیا تھا، آج اسی افس کے ایک کونے میں پڑے لیپ ٹاپ کی سکرین پر صفر بن کر چمک رہا تھا اور عثمان کو بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ اس عالی شان عمارت میں بالکل اکیلا اور بے بس تھا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی انسان تپتے ہوئے ریگستان میں اکیلا چھوٹ جائے۔
باب پنجم: اعتراف اور “کاش”
افس کے ٹھنڈے فرش پر عثمان کئی گھنٹے نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا رہا۔ سینے کا درد تو کچھ کم ہو گیا تھا، لیکن روح کا درد بڑھتا جا رہا تھا۔ باہر تیز بارش شروع ہو چکی تھی، بالکل اسی طرح جیسے بارہ سال پہلے اس رات ہوئی تھی جب اس کی بہن ہسپتال میں تھی۔ لیکن آج فرق یہ تھا کہ عثمان غریبی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنے ہی بنائے ہوئے تکبر کے محل کے ملبے تلے دب کر تڑپ رہا تھا۔
وہ گرتا پڑتا عمارت سے باہر نکلا۔ نہ گاڑی تھی، نہ کوئی گارڈ۔ اس نے بارش میں ہی سڑک پر چلنا شروع کر دیا اور چلتے چلتے نہ جانے کب وہ اسی پرانی گلی کے باہر پہنچ گیا جہاں عاصم کا گھر تھا۔
گھر کے باہر لگی لائٹ روشن تھی۔ عثمان نے لرزتے ہاتھوں سے دروازے پر دستک دی۔
دروازہ کھلا تو سامنے عاصم کھڑا تھا۔ عثمان کی حالت دیکھ کر عاصم چونک اٹھا۔ عثمان کے بال گیلے تھے، اس کا قیمتی سوٹ کیچڑ سے بھرا تھا اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ عاصم نے بغیر کچھ پوچھے عثمان کا ہاتھ تھاما اور اسے اندر لے آیا۔ اس نے عثمان کے سر پر تولیہ رکھا اور اسے گرم چائے کا مگ پکڑایا۔
“عثمان بھائی! کیا ہوا؟ آپ اس حالت میں؟” عاصم نے انتہائی ہمدردی سے پوچھا۔
عثمان چائے کا مگ سائیڈ پر رکھ کر عاصم کے پیروں میں بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ ایک ایسا انسان، جس نے زندگی میں کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا، آج ایک معمولی دکاندار کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
“عاصم! میں برباد ہو گیا… میرا سب کچھ ختم ہو گیا،” عثمان نے روتے ہوئے کہا۔ “میری دولت، میرا بزنس، میری شہرت… سب مٹی میں مل گیا۔ میں سمجھتا تھا کہ پیسہ سب کچھ ہے، لیکن آج جب میرے پاس کچھ نہیں رہا، تو مجھے بچانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ میں نے پیسے کے لیے اپنے بھائیوں کو چھوڑا، ماں باپ کو بھلایا، اور اپنے رب کو بھی ناراض کیا۔ آج میرے پاس روپوں کے ڈھیر تو ختم ہو گئے، لیکن میرے پاس کوئی ایک رشتہ بھی نہیں بچا جو میرا ہاتھ تھام سکے۔”
عاصم نے محبت سے عثمان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے اٹھا کر اپنے برابر بٹھایا۔ عاصم نے نرمی سے کہا:
“عثمان بھائی! دنیا کا سب سے غریب انسان وہ نہیں جس کے پاس پیسہ نہ ہو، بلکہ وہ ہے جس کے پاس مخلص رشتے اور رب کا ساتھ نہ ہو۔ پیسہ تو ہاتھ کی میل ہے، آج ہے کل نہیں۔ لیکن جو سکون دین اور اپنوں کے ساتھ ملتا ہے، وہ کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں خرید سکتا۔”
عاصم کی باتیں عثمان کے دل پر تیر کی طرح لگ رہی تھیں۔ اسی وقت مسجد سے فجر کی اذان کی خوبصورت آواز گونجی: “حی علی الفلاح” (آؤ کامیابی کی طرف)۔
عثمان نے عاصم کی طرف دیکھا۔ عاصم نے مسکرا کر کہا، “چلیے بھائی، سچی کامیابی کی طرف چلتے ہیں۔ رب کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔”
عثمان اٹھا، اس نے وضو کیا اور بارہ سال بعد پہلی بار مسجد کی صف میں کھڑا ہوا۔ جب اس نے سجدے میں سر رکھا، تو اس کے دل کا سارا بوجھ آنسو بن کر بہہ گیا۔ اسے زندگی میں پہلی بار وہ سکون محسوس ہوا جس کی تلاش میں وہ پچیسویں منزل پر نیند کی گولیاں کھاتا تھا۔
نماز کے بعد، جب وہ مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا، تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش رک چکی تھی اور صبح کا نور پھیل رہا تھا۔ عثمان نے ایک گہرا سانس لیا، اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، لیکن دل کے کسی کونے میں ماضی کی غلطیوں کا احساس اب بھی باقی تھا۔
اس نے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھا اور اس کے منہ سے ایک گاہری آہ کے ساتھ زندگی کا سب سے بڑا سچ نکلا:
“کاش… کاش میں پیسے کے لیے پاگل نہ ہوتا!”
مگر اب اس کاش کا کوئی فائدہ نہیں تھا
قرانی ایت
:ترجمہ
“زیادہ سے زیادہ (مال و دولت) پانے کی چاہ نے تمہیں غافل کر دیا، یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے۔”
(سورۃ التکاثر: ۱-۲)
حدیث
اگر ابنِ آدم (انسان) کے پاس سونے کی ایک پوری وادی (وادی بھر سونا) ہو، تو وہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس ایسی دو وادیاں ہوں، اور انسان کے منہ کو (قبر کی) مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔”
(صحیح بخاری)
پیسہ کمانا غلط نہیں بلکہ مال کی خاطر دین اور رشتے چھوڑنا غلط ہے
