Inikas Episode 3 written by siddiqui

انعکاس ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۳

جِشاء کے جاتے ہی عُمر نے خاموشی سے نُورا کا ہاتھ تھاما اور اُسے کمرے کے اندر لے آیا۔ دروازہ بند کرتے ہی اُس کی پیشانی پر گہری سنجیدگی اُتر آئی۔
مجھے لگتا ہے جِشاء کسی مصیبت میں ہے۔
نُورا چونک گئی۔
کیا مطلب؟
عُمر نے ایک لمبی سانس لی، جیسے الفاظ کو ترتیب دے رہا ہو۔
میرا مطلب یہ ہے کہ وہ شاید بہت زیادہ اسٹریس میں ہے۔ اتنا اکیلا رہنا… انسان کو خود ہی اپنے خیالات سے ڈرا دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ چیزوں کو امیجن کرنے لگی ہو۔
نُورا نے بھنویں سکیڑیں۔
تو اب؟
تو اب ہمیں اُس کے ساتھ رہنا چاہیے، عُمر کی آواز میں عجیب سا اصرار تھا۔
ہر وقت۔ اُسے اکیلا نہیں چھوڑنا۔ اُسے یقین دلانا ہے کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔
نُورا ہلکا سا مسکرائی، مگر آنکھوں میں سوال تھا۔
یار، وہ تقریباً دو سال سے یہاں اکیلی رہ رہی ہے۔ مجھے نہیں لگتا اکیلے رہنے کی وجہ سے۔۔
نہیں، تم سمجھ نہیں رہی، عُمر نے بات کاٹ دی۔
وہ پاکستان سے آئی ہے۔ وہاں اُس کی فیملی اُس کے ساتھ رہتی تھی۔ اور فیملی بھی دیکھو کیسی پانچ بہن بھائی۔ گھر میں ہر وقت کوئی نہ کوئی موجود ہوتا تھا۔ وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر بولا،
اور یہاں؟ مکمل خاموشی۔ اکیلا کمرہ، اکیلے خیالات۔ کیا پتا وہ اوورتھینکنگ کرنے لگی ہو۔
نُورا نے ہچکچاتے ہوئے کہا،
لیکن
تمہیں کیا لگتا ہے؟ عُمر نے سیدھا سوال کیا۔
کیا واقعی کوئی جن اُس کے ساتھ رہتا ہے؟
نُورا بے اختیار بولی اوہ، جن کہاں سے آ جائے گا! مجھے تو لگتا ہے وہ جو جنوں والے ناول اور ڈرامے دیکھتی ہے، بس وہی اثر ہو گیا ہے۔ بھلا جنوں کا یہی کام رہ گیا ہے نہ کہ وہ عشق کرتے پھیرے،
عُمر کی آنکھوں میں فکر اور گہری ہو گئی۔
تو پھر اس سے پہلے کہ اُس کی طبیعت اور خراب ہو، ہمیں اُسے روکنا ہوگا۔
نُورا نے سر ہلایا۔
ٹھیک ہے… تو کرنا کیا ہے؟
عُمر نے بغیر جھجک جواب دیا،
تم اُس کے ساتھ ہی یہاں شفٹ ہو جاؤ۔
اچھا، اور؟
اور میں روز یونیورسٹی کے بعد یہاں آتا رہوں گا۔ دِن بھر یہیں رہونگا، ہم ساتھ پڑھ بھی لیا کریں گے۔ ہر دو دن بعد تم دونوں کو اووٹنگ پر بھی لے جایا کروں گا۔
وہ ذرا رکا، پھر آہستہ سے بولا،
ویسے بھی، اب اگر وہ اکیلی نہیں رہے گی تو میرا یہاں آنا جانا بہتر لگے گا۔ اور اُسے شک بھی نہیں ہوگا، اور وہ… ہے بھی تو پاکستانی، میرے ساتھ اکیلی کہیں آنے جانے میں بھی بھی مانے گی، تُم ساتھ رہوں گی تو اُسے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔۔
نُورا نے معنی خیز انداز میں مسکرا کر کہا،
ہاں ہاں، جانتی ہوں۔
وہ سب جانتی تھی۔
عُمر کے دل کا حال بھی، اور جِشاء کی خاموش پسندیدگی بھی۔
اور اب، جب قدرت خود دو دلوں کو قریب لانے کا موقع دے رہی تھی… تو نُورا کیوں پیچھے رہتی؟
ٹھیک ہے، اُس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
میں آج ہی ڈنر پر اُس کے ساتھ رہنے کی بات کر لوں گی۔
اور عُمر کے چہرے پر پہلی بار اطمینان کی ہلکی سی جھلک نمودار ہوئی۔

+++++++++++++

جب وہ دونوں کمرے سے نکلے تو ڈائننگ ٹیبل پر کھانا پہلے ہی تیار تھا۔ نہایت سلیقے سے رکھا گیا، جیسے کسی نے خاص توجہ سے ہر چیز اپنی جگہ جمائی ہو۔
جِشاہ ڈائننگ ٹیبل کے پاس بیٹھی تھی۔ اُنہیں دیکھتے ہی مسکرا دی۔
آ جاؤ… دونوں۔
نُورا اُس کے بائیں جانب والی کرسی کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ جِشاء یکدم چیخ اُٹھی۔
اہ ہ ہ ! یہاں نہیں بیٹھو… یہ نِہان کی سیٹ ہے۔۔۔
نُورا ٹھٹھک گئی۔
تو کیا وہ بیٹھا ہے؟
نہیں، آ رہے ہیں وہ، جِشاء نے بالکل عام لہجے میں کہا۔
ابھی آ جائیں گے۔ تم لوگوں کے آنے سے ذرا ناراض ہو گئے تھے۔
عُمر نے الجھن سے پوچھا، وہ کیوں؟
نُورا نے خاموشی سے دائیں جانب والی کرسی سنبھال لی۔ عُمر بھی اُس کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
چھوڑو، کھانا شروع کرو، جِشاء نے بات بدل دی۔
مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ پھر فخر سے بولی، یہ سب نِہان نے بنایا ہے۔
عُمر نے مسکراتے ہوئے نیم سنجیدگی سے کہا،
کہیں یہ کھانا بھی غائب تو نہیں ہو جائے گا؟
جِشاء چونک گئی،
کیوں؟ غائب کیوں ہونے لگا؟
جن نے جو بنایا ہے… عُمر نے جملہ ادھورا چھوڑا۔
جِشاہ ہنس پڑی۔ ہا ہا! نہیں۔ انہوں نے جادو سے نہیں بنایا، اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔
اچانک نُورا اور عُمر دونوں کی نظریں جِشاء کے بائیں جانب والی خالی کرسی پر جم گئیں۔
وہ کرسی خودبخود ذرا سی پیچھے سرک گئی تھی۔
نُورا کا نوالہ ہاتھ میں ہی رک گیا۔
عُمر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
ارے، تم لوگ کھاؤ نا، جِشاء نے بالکل نارمل انداز میں کہا۔ میں نے کہا تھا نا نِہان آ کر بیٹھیں گے، تو وہیں آ گئے ہیں۔
پھر اُس نے سکون سے ایک پلیٹ نِہان کے لیے نکالا۔
نُورا نے شاک میں کہا، تو اب… کیا یہ ہم انسانوں کی طرح کھاتا پیتا بھی ہے؟
یہ سوال جِشاء کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ وہ چونک گئی۔
آہستہ سے نِہان کی طرف پلٹی۔
آپ… انسانوں کی طرح کھاتے پیتے ہیں؟
ہلکی سی گہری آواز ابھری، جیسے ہوا نے جواب دیا ہو۔
نہیں… لیکن جب جب میں انسان بنتا ہوں، مجھے انسانوں کی طرح ہی رہنا پڑتا ہے۔ اور میں انسانوں جیسا ہی برتاؤ بھی کرتا ہوں۔
اچھااا… جِشاء نے معصوم حیرت سے کہا۔
پھر وہ نُورا کی طرف مڑی۔
وہ کہہ رہے ہیں کہ جب جب وہ انسان بنتے ہیں تو انسانوں کی طرح ہی رہنا پڑتا ہے اور ویسا ہی behave کرتے ہیں۔
عُمر نے زبردستی داد دی۔ واہ، کیا بات ہے۔۔۔
نُورا نے جھک کر عُمر کے کان میں سرگوشی کی،
پکا یہ کسی ناول میں پڑھا ہے، وہی سنا رہی ہے۔
عُمر نے ہلکا سا سر ہلا دیا۔
ہاں، جانتا ہوں۔
تینوں کھانے میں مصروف ہو گئے۔
مگر اچانک نُورا کی نظر نِہان کی پلیٹ پر پڑی…
جو آدھی خالی ہو چکی تھی۔
اُس نے فوراً نظریں جھکا لیں،
جیسے خود کو سمجھانا چاہ رہی ہو کہ
جِشاء نے شاید شروع میں ہی کھانا کم ڈالا ہوگا۔۔۔

++++++++++

کھانے کے بعد فضا عجیب حد تک خاموش ہو گئی تھی۔ پلیٹیں سمیٹ دی گئیں، مگر نُورا کے دل میں بکھراؤ ابھی باقی تھا۔ وہ بار بار خود کو سمجھا رہی تھی کہ جو اُس نے دیکھا… وہ بس ایک وہم تھا۔ تھکن کا نتیجہ۔
جِشاء کچن میں کھڑی گلاس دھو رہی تھی، بالکل نارمل، جیسے کچھ غیر معمولی ہوا ہی نہ ہو۔
نُورا آہستہ آہستہ اُس کے قریب گئی۔
جِشاء؟
ہہم؟ جِشاء نے پلٹ کر دیکھا، مسکرا کر۔
نُورا نے ایک لمحہ توقف کیا۔
میں تم سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں…
جِشاء نے گلاس رکھ دیا۔
کہو نا۔
نُورا نے ہلکی سی سانس لی، جیسے خود کو ہمت دے رہی ہو۔
میں سوچ رہی تھی… کیوں نہ میں کچھ دن تمہارے ساتھ یہیں رہ لوں؟
جِشاء چونک گئی۔
میرے ساتھ؟ یہاں؟
ہاں، نُورا نے جلدی سے کہا۔
یعنی… بس ایسے ہی۔ تم اکیلی رہتی ہو، اور مجھے بھی ویسے ہی چینج چاہیے۔
جِشاء کی آنکھوں میں ایک لمحے کو حیرت ابھری، پھر وہ دھیرے سے مسکرا دی۔
لیکن تم تو کہتی تھیں تمہیں اکیلے رہنا پسند ہے۔
نُورا نے نظر چرائی۔
ہاں… لیکن کبھی کبھی اکیلے رہنا کا دل نہیں کرتا۔۔۔
جِشاء نے غور سے نُورا کو دیکھا۔
ایسا لگا جیسے وہ اُس کے چہرے سے سچ پڑھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
نِہان کو بُرا تو نہیں لگے گا؟ جِشاء نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
نُورا کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا، مگر اُس نے مسکراہٹ قائم رکھی۔
نہیں… وہ کیوں برا مانے گا؟ میں تو مہمان ہوں۔
جِشاء نے سر ہلایا۔
وہ کبھی کبھی لوگوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے۔
میں ایڈجسٹ کر لوں گی۔ نورا نے کہا
کچھ لمحوں بعد جِشاء نے نرمی سے کہا،
اگر تم واقعی رہنا چاہتی ہو… تو پھر رہ لو۔۔
یہ سن کر نُورا  مسکرا دی۔۔۔

++++++++++++

رات گہری ہو چکی تھی۔
فلیٹ کی بتیاں مدھم تھیں اور باہر سناٹا ایسا کہ اپنے ہی سانسوں کی آواز سنائی دے۔
جِشاء بیڈ کے کنارے بیٹھی تھی۔ نُورا دوسرے کمرے میں سامان سجا رہی تھی۔
کمرے میں عجیب سی خالی پن کی لہر دوڑ رہی تھی۔
نِہان…؟
جِشاء نے آہستہ سے پکارا۔ ہوا میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔
ہمم؟
اُس کی آواز ہمیشہ کی طرح گہری تھی، مگر آج اُس میں کچھ اور بھی تھا.. ناراضی… یا شاید اداسی۔
آپ ناراض ہو؟ جِشاء نے سیدھا سوال کر لیا۔ کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر وہی آواز، ذرا سخت۔
تم نے پوچھے بغیر اُسے یہاں روک لیا۔
جِشاء نے نظریں جھکا لیں۔
میں جانتی ہوں… لیکن وہ میری دوست ہے۔ اور وہ میرے لیے فکر مند تھی۔
یا تمہارے لیے… یا میرے لیے؟
نِہان کی آواز میں ہلکا سا طنز تھا۔
جِشاء چونکی۔
آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟
کیونکہ اب یہاں انسان زیادہ ہوں گے، نِہان نے آہستہ کہا۔ اور میں… یہاں کم ہو جاؤں گا۔
جِشاء نے فوراً سر اُٹھایا۔
نہیں! ایسا نہیں ہے۔ یہ آپ کا گھر ہے۔
یہ کبھی میرا گھر نہیں تھا، نِہان نے کہا۔
یہ بس وہ جگہ ہے جہاں تم مجھے دیکھ سکتی ہو۔
جِشاء نے بے اختیار نفی میں سر ہلایا۔
ایسی بات نہیں… اور ویسے بھی، وہ کچھ دنوں کی ہی تو بات ہے۔ پھر وہ چلی جائے گی۔
ہوا یکدم ساکت ہو گئی۔ جیسے کمرے نے سانس روک لی ہو۔
وہ نہیں جائے گی، نِہان کی آواز آہستہ تھی مگر فیصلہ کن۔
وہ تب تک نہیں جائے گی جب تک وہ مجھے تمہاری زندگی سے نکال نہ دے۔
جِشاء کا دل زور سے دھڑکا۔
ایسا مت بولیں… اُس کی آواز لڑکھڑا گئی۔
وہ کیوں نکالے گی آپ کو؟
نِہان نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر بولا،
کیونکہ وہ یہاں رکی ہی اسی لیے ہے۔
جِشاء نے چونک کر دیکھا، جیسے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔
آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟ نُورا بہت اچھی ہے… بہت زیادہ۔
ہاں، نِہان نے مان لیا۔ وہ اچھی ہے۔ لیکن
آواز میں ایک ٹھہراؤ آیا۔ وہ تمہارے لیے کبھی وہ سب نہیں کر سکتی… جو میں کر سکتا ہوں۔
جِشاء نے دھیرے سے پوچھا،
کیا… کیا نہیں کر سکتی؟
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
پھر نِہان کی آواز آئی، دھیمی مگر صاف تھی
وہ تمہارا اتنا خیال نہیں رکھ سکتی۔
جِشاء نے سانس روکی۔
وہ سب کچھ چھوڑ کر… صرف تمہیں چوس نہیں کر سکتی۔ لیکن میں، میں کر سکتا ہوں۔۔
یہ الفاظ جیسے جِشاء کے دل میں کہیں اتر گئے۔
پھر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔ میں سو رہی ہوں۔۔۔
نِہان جلتا… سلگتا… آہستہ آہستہ اُس کے قریب آیا۔
ہوا میں ایک مانوس سی حدت پھیل گئی، ایسی حدت جو ڈر نہیں دیتی تھی، بس احساس دلاتی تھی۔
ڈرو نہیں… اُس کی آواز سرگوشی بن کر اُبھری۔
میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ سوجاؤں آرام سے۔۔۔ جب جب تُم سو کر اُٹھوگی مُجھے ہمیشہ اپنے پاس پاؤگی۔۔
جِشاء نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں۔
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
دل جیسے کسی محفوظ جگہ پہنچ گیا ہو۔
کوئی نہیں تھا۔۔
جو اُس کے دل کی بات سن سکے،
کوئی نہیں تھا۔۔۔
جو اُس کی خاموشیوں کو پڑھ سکے۔
مگر نِہان…
وہ ہمیشہ جان جاتا تھا
کہ جِشاء کو کیا چاہیے، یا وہ کیا سوچ رہی ہے۔
کچھ رشتے الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ بس قریب رہ کر سانسوں کے بیچ سمجھ لیے جاتے ہیں۔
اور جِشاء اسی یقین کے ساتھ۔ نیند کی گہرائی میں اتر گئی۔۔ کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔۔

++++++++++
کُچھ ہفتہ بعد۔۔۔
رات غیر معمولی حد تک خاموش تھی۔
کھڑکی کے پار لندن کی سڑکوں پر ہلکی سی بارش ہو رہی تھی۔ روشنیوں کے عکس شیشے پر ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔ کمرے میں بس بیڈ لیمپ کی مدھم زرد روشنی تھی… اور جِشاہ کی تھکن۔ جب سے نورا اُس کے گھر رہنے آئی اُس کی لائف میں مزہ ہی مزہ آگیا تھا روز گھومنا پھرنا اور وہ بھی عمر کے ساتھ۔۔۔
آج بھی وہ پورا دن باہر رہی تھی۔ پہلے یونیورسٹی، پھر کیفے، پھر ریور سائڈ واک… پھر آئس کریم۔
عمر ہنساتا رہا۔ نورا تصویریں بناتی رہی۔
اور جِشاء… وہ ہنستی رہی۔ بہت زیادہ۔
مگر اب… جب وہ بستر پر لیٹی تھی، تو ہنسی کہیں غائب ہو چکی تھی۔
کمرے کی فضا یکایک ٹھنڈی ہوئی۔
مزا آ رہا ہے…؟
وہ چونکی نہیں۔ اب وہ چونکتی نہیں تھی۔
آہستہ سے کروٹ بدل کر اُس سمت دیکھا جہاں اندھیرے کی تہہ ذرا گہری تھی۔
بہت… اُس نے سچائی سے کہا۔ مجھے اچھا لگتا ہے باہر جانا۔ لوگوں کے ساتھ ہونا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔ جشاء کی کہیں دونوں سے یہی روٹین تھی، وہ یونیورسٹی جاتی ساتھ نورا اور عمر کو بھی لاتی پھر یہ ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے اور پھر گھر سے نکل جاتے اور رات گئے لوٹتے، اور پھر اتنی تھکن ہوجاتی کہ تھک کر سوجاتے۔۔۔ ایسے میں جشاء کے پاس نہاں کے لیے تو کیا کسی کے لیے بھی وقت نہیں تھا۔۔ خود اپنے لیے۔۔۔
تم عمر کو پسند کرتی ہو؟
سوال سادہ تھا۔ مگر آواز میں کچھ سادہ نہیں تھا۔
جِشاء نے آنکھیں چھت پر گاڑ دیں۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ ہاں۔ بہت زیادہ۔ وہ میرا کرش ہے۔
ہوا میں ایک غیر مرئی تناؤ پھیل گیا۔
لیکن اُسے تمہاری پروا نہیں ہے۔
جِشاء فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی۔
یہ کیا بول رہے ہیں آپ؟ اُس کی آواز میں خفگی تھی۔ اُسے میری بہت پروا ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں؟ وہ روز آتا ہے۔ میرا خیال رکھتا ہے۔ آج میں نے کم کھایا تو زبردستی کھلایا۔
یہ خیال نہیں ہوتا، جِشاء… نہان کی آواز اب قریب تھی۔ بہت قریب۔ یہ عادت ہوتی ہے۔
مطلب؟
وہ تمہیں پسند کر سکتا ہے۔ تمہارے ساتھ وقت گزار سکتا ہے۔ لیکن تمہاری دنیا… تمہاری خاموشیاں… تمہارے خوف… آواز گہری ہوئی۔ وہ نہیں سن سکتا۔
جِشاء کے دل میں ہلکی سی چبھن ہوئی۔
اور نورا؟ نہان نے آہستہ کہا۔ تمہیں لگتا ہے اُسے تمہاری پروا ہے؟
جِشاء کی آنکھوں میں الجھن اتر آئی۔ ہاں۔ وہ میری دوست ہے۔
دوست…؟
دوست وہ ہوتا ہے جو تمہیں تم سے بچائے۔ نہ کہ تمہیں تم سے دور لے جائے۔
تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ جِشاء کی آواز اب مدھم تھی۔
ہوا یکدم ساکت ہو گئی۔
وہ تمہیں مصروف رکھ رہے ہیں۔
کیوں؟
تاکہ تم مجھے بھول جاؤ۔
یہ الفاظ سیدھے اُس کے سینے میں گرے۔
یہ سچ نہیں ہے۔ اُس نے فوراً کہا۔ میں نے تمہیں نہیں بھولا۔ بس… وقت کم مل رہا ہے۔
خیر مُجھے تم بھول بھی ہوجاؤ تو کیا۔۔
جِشاء کے ہاتھ بے اختیار مٹھیوں میں بدل گئے۔
آپ جل رہے ہیں؟
کمرے میں چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔
پھر آہستہ سا جواب آیا۔
میں انسان نہیں ہوں… کہ حسد کروں۔
تو پھر ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے آپکو برا لگ رہا ہے؟
اس بار وہ اُس کے بالکل سامنے تھا۔ روشنی اور سائے کے بیچ کھڑا۔ آنکھیں غیر معمولی حد تک سیاہ۔
کیونکہ تم بدل رہی ہو۔
دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔
میں نہیں بدلی… اُس نے دھیرے سے کہا۔
پہلے تم دن بھر کی باتیں مجھے سناتی تھیں۔ اب تم دن بھر کسی اور کے ساتھ ہوتی ہو۔ پہلے تم گھر آنے کو بے چین ہوتی تھیں۔ اب گھر آ کر تھک جاتی ہو۔ پہلے تمہیں تُمہارے لیے وقت ہوتا تھا آپ نہیں ہوتا۔۔۔
ہر لفظ سچ تھا۔ اور سچ ہمیشہ تکلیف دیتا ہے۔
میں نارمل زندگی گزارنا چاہتی ہوں… اُس کی آواز ٹوٹ گئی۔ میں صرف آپ کے ساتھ بند نہیں رہ سکتی۔
یہ پہلا وار تھا۔
نہان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو کچھ چمکا… پھر بجھ گیا۔
میں نے تمہیں کبھی قید نہیں کیا۔
مگر آپ چاہتے ہیں میں سب چھوڑ دوں۔۔۔
نہیں۔ اس کی آواز اس بار بالکل دھیمی تھی۔
میں صرف یہ چاہتا ہوں تُم مُجھے بھلے بھول جاؤ۔۔ خود کو نہیں بھولو۔۔ تمہیں میرے لیے کیا خود کے لیے بھی وقت نہیں مل رہا۔۔۔
جِشاء چند لمحے اُسے دیکھتی رہی۔
آپ کو پتہ آپ کا مسئلہ اصل میں کیا ہے۔۔۔ اُس کی آواز اب تھکی ہوئی نہیں تھی… چبھتی ہوئی تھی۔
کہ میں خوش ہوں؟ کہ میں لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہوں؟
نہان کی آنکھوں میں گہرا سایہ اتر آیا۔
مجھے مسئلہ تمہاری خوشی سے نہیں ہے۔ مجھے مسئلہ اُس انجام سے ہے جس کی طرف تم جا رہی ہو۔
انجام؟
ہوا میں ایک سرد لہر دوڑی۔
وہ تمہیں تکلیف دیں گے۔ اُس کی آواز اب بالکل سنجیدہ تھی۔ٹرسٹ می… اُنہیں تمہاری پروا نہیں ہے۔
جشاء اچانک کھڑی ہو گئی۔
آپ کو ہر وقت سب میں برائی کیوں نظر آتی ہے؟ پہلے کہتے تھے نورا مجھے تم سے دور کر رہی ہے، اب عمر بھی بُرا ہو گیا؟ کل کو کہیں گے پوری دنیا میرے خلاف ہے۔۔۔
کیونکہ دنیا واقعی تمہارے خلاف ہو سکتی ہے۔۔۔ نہان کی آواز پہلی بار بلند ہوئی۔
دیوار پر لگی فریم ہلکی سی کانپی۔
جِشاء کا دل زور سے دھڑکا، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹی۔
آپ کو لگتا ہے صرف آپ سچے ہیں؟ باقی سب جھوٹے؟
اُس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
شاید آپ کو ڈر لگ رہا ہے؟
نہان ساکت ہو گیا۔
ڈَر؟
ہاں۔۔۔ وہ اب روکے بغیر بول رہی تھی۔
آپ کو ڈر ہے کہ میں آپ کے بغیر بھی خوش رہ سکتی ہوں۔ آپ کو ڈر ہے کہ اگر میں نارمل زندگی جینے لگی تو… آپ غیر ضروری ہو جائیں گے۔۔۔
یہ وار سیدھا تھا۔ بے رحم۔
کمرے کی فضا یکدم بھاری ہو گئی۔ بیڈ لیمپ کی روشنی مدھم پڑنے لگی۔
میں غیر ضروری نہیں ہوں… نہان کی آواز اب گہری اور سرد تھی۔ میں تمہاری ضرورت تھا… اُس وقت جب تم راتوں کو روتی تھیں۔ جب تمہیں لگتا تھا کوئی تمہیں نہیں سمجھتا۔ جب تم خود سے بھاگ رہی تھیں۔
جِشاء کی سانس اٹک گئی۔
اور اب؟ اُس نے سرگوشی کی۔
اب تمہیں لگتا ہے تم ٹھیک ہو۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ چیخی۔ دیکھیں میں خوش بھی ہوں۔۔۔
آپ کہتے ہیں وہ مجھے hurt کریں گے… جِشاء کی آواز اب کانپ رہی تھی۔
اور اگر نہیں کیا تو؟ اگر وہ واقعی مجھ سے مخلص ہوئے تو؟ کیا آپ تب بھی یہی کہیں گے؟
نہان کی نظریں اُس کے چہرے پر جم گئیں۔
وہ تمہارے ساتھ مخلص ہوتے تو میں ایسا کہتا ہی نہیں۔۔۔
بس کر دے نہاں۔۔۔ بس کر دیں۔۔۔ آپ یہ نہیں دیکھ پا رہے کہ میں آگے بڑھ رہی ہوں۔ میں ٹھیک ہونا چاہتی ہوں۔ نارمل ہونا چاہتی ہوں۔
نارمل…؟ نہان کے لبوں پر ہلکی سی کڑوی مسکراہٹ آئی۔ اگر نارمل ہونے کا مطلب خود کو نظر انداز کرنا ہے… تو ہاں، تم بہت نارمل ہو رہی ہو۔
جِشاء کے اندر کچھ ٹوٹا۔
خود کو نظر انداز…؟ اُس نے دہرایا۔ آپ ہر چیز کو اتنا پیچیدہ کیوں بنا دیتے ہیں؟ میں صرف ہنس رہی ہوں، گھوم رہی ہوں… لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہوں۔ اس میں خود کو کھونا کہاں سے آ گیا؟
نہان کی نظریں اُس کے چہرے پر ٹکی رہیں۔
کیونکہ تمہاری ہنسی آنکھوں تک نہیں پہنچتی۔
وہ ایک لمحے کو ساکت رہ گئی۔ یہ جملہ سیدھا دل میں اترا تھا۔
آپ کو سب کچھ غلط ہی کیوں نظر آتا ہے؟ اُس نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ میں خوش ہوں۔ میں واقعی خوش ہوں۔
تم مصروف ہو۔ نہان نے درست کیا۔ خوشی اور مصروفیت میں فرق ہوتا ہے، جِشاء۔
تو کیا کروں؟ وہ تڑپ کر بولی۔ کمرے میں بیٹھ کر دیواروں سے باتیں کروں؟ اپنے خوف گنتی رہوں؟ ہر وقت اپنی ٹوٹی ہوئی حالت کا ماتم کرتی رہوں؟
نہان خاموش ہوگیا۔
جِشاء کی آواز اب لرز رہی تھی۔
آپ نے مجھے سنبھالا… مانا۔ اُس وقت مجھے آپ کی ضرورت تھی۔ مگر اب اگر میں خود چلنا چاہتی ہوں تو آپ کو تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟
مجھے تکلیف تمہارے چلنے سے نہیں… اُس نے آہستہ کہا۔
مجھے تکلیف تمہارے بھاگنے سے ہے۔
میں نہیں بھاگ رہی۔۔۔ وہ چیخی۔ میں بس پیچھے نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔
کمرے کی فضا بوجھل ہو گئی۔ بارش کی آواز تیز محسوس ہونے لگی۔
پیچھے دیکھے بغیر آگے نہیں بڑھا جاتا۔ نہان کی آواز اب غیر معمولی حد تک پرسکون تھی۔ خطرناک حد تک۔
تم نے اپنے زخموں پر پٹی باندھی ہی نہیں… اور کہہ رہی ہو کہ تم ٹھیک ہو۔
میں ٹھیک ہو جاؤں گی۔۔۔ اُس نے ضد سے کہا۔
اور اگر ٹوٹ گئی تو؟ اُس نے پہلی بار بے بسی سے پوچھا۔
کیا وہ دونوں تمہیں اُس حالت میں برداشت کریں گے؟ جب تم چپ ہو جاؤ گی… جب تم کئی کئی دن بات نہیں کرو گی… جب تمہاری آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوں گے؟
جِشاء کے ہونٹ کانپ گئے۔
آپ کو اُن کے بارے میں کچھ نہیں معلوم…
مجھے انسانوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے۔
یہ جملہ سرد تھا۔ قطعی۔
بس۔۔۔ جِشاء نے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
میں مزید نہیں سننا چاہتی۔ آپ کو ہر حال میں صحیح ہونا ہے۔ ہر بار آپ کی پیشگوئی سچ ہونی چاہیے۔ کبھی تو مجھے غلطی کرنے دیجئے۔۔۔
نہان کی آنکھوں میں ایک عجیب سا درد ابھرا۔
میں چاہتا ہوں تم غلطی کرو… مگر محفوظ رہ کر۔
زندگی محفوظ رہ کر نہیں جیتی جاتی۔۔۔ وہ ہانپ رہی تھی۔
اور اگر مجھے چوٹ لگنی ہے… تو لگنے دیجئے۔ میں بچی نہیں ہوں۔۔۔
چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔
پھر نہان نے بہت آہستہ کہا، ٹھیک ہے۔
جِشاء نے چونک کر اُسے دیکھا۔ کیا…؟
ٹھیک ہے۔ اُس کی آواز میں اب کوئی دلیل نہیں تھی، کوئی بحث نہیں تھی۔
میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ نہ سمجھاؤں گا۔ نہ خبردار کروں گا۔
کمرے کی ٹھنڈک آہستہ آہستہ کم ہونے لگی۔
جِشاء کا دل گھبرا گیا۔ نہان…
تم نارمل زندگی چاہتی ہو نا؟ اُس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ نارمل زندگی میں میرے جیسے سائے نہیں ہوتے۔
یہ الفاظ خنجر کی طرح لگے۔
میں نے یہ مطلب نہیں لیا تھا…
مطلب یہی تھا۔ اُس نے نرمی سے کہا۔ اور شاید تم ٹھیک ہو۔ شاید میں غیر ضروری ہو چکا ہوں۔
ایسا مت کہیں… اُس کی آواز پہلی بار نرم ہوئی۔
مگر نہان اب پیچھے ہٹ رہا تھا۔
سایہ دیواروں میں جذب ہونے لگا۔
یاد رکھنا… اُس کی آواز مدھم پڑتی گئی،
میں تمہیں روکنے اب نہیں آؤں گا۔
نہان۔۔۔ جِشاء ایک قدم آگے بڑھی۔
مگر کمرہ اب عام ہو چکا تھا۔
بارش ویسے ہی ہو رہی تھی۔ بیڈ لیمپ ویسے ہی جل رہا تھا۔
سایہ جا چکا تھا۔
جِشاء وہیں کھڑی رہ گئی۔
دل میں ایک عجیب سا خلا لے کر۔
وہ بحث جیت گئی تھی۔
مگر نہ جانے کیوں…
ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ ہمیشہ کے لیے ہار گئی ہو۔۔۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *