Qasas by Rida Fatima episode:15.

قصاص قسط نمبر:۱۵

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
یہ انتہا کا تھکا دن گزرا تھا شاپنگ ہو گئی تھی کھانا انہوں نے باہر ہی کھایا تھا ۔۔
ریحان اور ہیر اب واپسی کے راستے پر تھے ۔۔۔ گاڑی میں خاموشی تھی اس خاموشی کو توڑتے ہوئے ریحان نے کہا تو تمھاری واپسی کب تک ہو گی لاہور سے ۔۔ ریحان نے پوچھا ۔۔ بس پرسوں صبح صبح ہم نکل جائیں گے
ویسے ہیر میرا بالکل بھی دل نہیں مان رہا کہ تم اس طرح کہیں پر جاؤ دل میں عجیب سا خوف بیٹھا ہوا ہے ۔۔۔
کیسا خوف ریحان؟
یہی کہ جس نے تمہیں اغوا کیا تھا اگر اس نے تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو وہاں پر کوئی بھی تمہارا اپنا نہیں ہوگا تم کیا کرو گی۔۔۔
کچھ بھی نہیں ہوتا میں بالکل ٹھیک رہوں گی تم فکر نہ کرو اور دو دن کی تو بات ہے ۔۔دو دن میں
بھلا کیا ہوگا ۔۔ریحان نے کچھ کہے بنا گردن ہلا دی ۔۔
اگر تمھاری پڑھائی کا مسئلہ نہ ہوتا میں تمھیں نہیں جانے دیتا ۔۔۔
تم کیوں فکر کر رہے ہو ۔۔ اب تو زر مان بھی ہے میرے ساتھ میرا خیال رکھنے کے لیے
مجھے کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔
ہاں یہ تو ہے ۔۔ ویسے میں سوچ رہا ہوں بابا سے
بات کروں تمھاری اور زر مان کی ۔۔تمھارا کیا خیال ہے ۔۔؟ریحان نے پوچھا ۔۔ ہیر نے ریحان کو دیکھا ۔۔ ریحان کا دھیان ہیر کی طرف نہیں تھا وہ گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔
بابا کبھی نہیں مانے گے ریحان اور دلاور بھائی
وہ تو میری جان لے لے گے ۔۔
کوئی کچھ نہیں کرے گا ہیر ۔۔ مجھے یقین
ہے بابا مان جائیں گے ۔۔ وہ جتنے غصے والے نظر آتے ہیں اتنے ہیں نہیں ۔۔
اور تم تو بابا کی لاڈلی ہو وہ مان جائیں گے ۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے ریحان ۔۔
کچھ نہیں ہوتا ہیر تم ڈرو نہیں میں ہوں نہ ۔۔
ہیر نے بس گردن ہلا دی وہ اور کرتی بھی کیا ۔۔
کچھ دیر بعد وہ گھر میں داخل ہوئی ۔۔۔ ویسے ہی رات ہو رہی تھی کھانا وہ باہر سے کھا کر ائے تھے ہیر کا ارادہ اس وقت سونے کا تھا ۔۔۔ تو وہ
تھوڑی دیر باہر بیٹھی تھی ۔۔ اور اس تھوڑی دیر میں دلاور بس ہیر کو گھور رہا تھا دلاور کی نظر میں ایسی تپش تھی جیسے انکھوں سے مار دے گا ۔۔
اور ہیر نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔۔ ہیر خاموشی سے اپنے کمرے میں اگئی ۔۔
وہ بیڈ پر لیٹی اور لیٹے ہی اس کی آنکھ لگ گئی وہ بہت تھک گئی تھی ۔۔ رات چھا رہی تھی ۔۔ اندھیری رات ۔۔ کچھ کے لیے گناہوں کی رات
تھی کچھ کے لیے جرائم کی رات تھی ۔۔ اور کچھ کے لیے ۔۔۔؟ عبادت کی رات ۔۔اندھیرا گہرا
ہو رہا تھا خاموشی چھا رہی تھی ۔۔
ہیر خان اپنے اندھیرے کمرے میں ہر فکر سے آزاد سو رہی تھی۔۔
جب کمرے کا دروازہ کھولا ۔۔ کوئی اندر داخل ہوا ۔۔ کون تھا؟ کوئی اپنا ؟ یہ کوئی اور ۔۔؟
کوئی شخص دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا ۔۔ اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔ پھر چلتا اگے ایا ۔۔ ڈریسنگ ٹیبل پر فون پڑا تھا اُس ادمی نے ہیر کا فون اُٹھا لیا۔۔۔


یہ سفید محل کی لائبریری کا منظر تھا ۔۔۔ ایک باروب شخصیت ۔۔ صوفے پر براجمان تھی۔۔۔
اس کا ہر انداز بادشاہوں جیسا تھا وہ خاموشی سے لیپ ٹاپ سامنے رکھے اُس پر نظریں گاڑے بیٹھا تھا ۔۔ کس پر ۔۔؟ ہیر خان پر ۔۔
ہیر ارام کی نیند سو رہی تھی جب علی نے ہیر کے کمرے کا دروازہ کھولتے دیکھا تھا ۔۔ اور پھر علی یک دم صوفے سے اُٹھ کر باہر کو بھگا تھا ۔۔
اور اپنی گاڑی میں ا کر بیٹھا سرخ مرسیڈیز ۔۔ اور گاڑی کو پوری رفتار سے بھگا لے گیا ۔۔ہیر کا گھر دور نہیں تھا ۔۔ اس کو وقت نہیں لگا تھا وہاں
جانے میں کچھ منٹ ۔۔ صرف کچھ پل لگے تھے
اور وہ ہیر کے کمرے میں داخل ہو گیا تھا ۔۔ اس کی اہٹ بھی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔۔ اُس نے کب دروازہ کھولا وہ کب داخل ہوا کیسی
کو پتہ نہیں تھا ۔۔۔ وہ دبے پاؤں لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُس ادمی تک آیا ۔۔
جو ابھی تک ہیر کا فون دیکھ رہا تھا ۔۔ اور شاید کوئی پاسورڈ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ لیکن نہ کام ہو رہا تھا ۔۔ علی نے پیچھے سے اس کے کندے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔ وہ خوف کے مارے فوراً پلٹا ۔۔ اس سے پہلے کے وہ اندھیرے میں علی کا چہرہ بھی دیکھ پاتا علی نے اس کے ناک کے اوپر کوئی کپڑا رکھا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے اس کی انکھوں کے سامنے اندھیرا اگیا اور وہ بے ہوشی میں جانے لگا ۔۔ اس سے پہلے کے وہ زمین پر گرتا ۔۔
علی نے اُس کو پکڑا ۔۔ بے ہوش ادمی کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا لیکن علی جانتا تھا کہ وہ کون تھا ۔۔۔ دلاور خان ۔۔۔ جو صرف ہیر کا فون دیکھنے نہیں
یقیناً اُس کو مرنے کے ارادے سے آیا تھا اگر فون میں کسی لڑکے کا نمبر دیکھ لیتاتو وہ اُسکو مار ڈالتا۔۔ اخر اُس کی انا کو ٹھیس لگی تھی ۔۔۔ وہ کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔۔
اعلی نے اس کو پکڑا اور اس کے کمرے میں اُس کو بیڈ پر لیٹایا اور دلاور کا کمرہ باہر سے لوک لگا کر واپس ہیر کے کمرے میں آ یا ۔۔ ہیر گہری نیند میں
سو رہی ۔۔ علی چلتا ہوا ہیر کے قریب آیا ۔۔
اس کے چہرے پر جھکتے علی نے با غور ہیر کا چہرہ دیکھا ۔۔ پھر مسکرایا ۔۔
اور پاس میں رکھی چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔ اب وہ خاموشی سے ہیر کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
میں جانتا ہوں ابھی تم تھک گئی ہو تمھاری نیند خراب نہیں کرنا چاہتا ۔۔
اس لیے لاہور میں ملاقات ہو گی ۔۔ وہ کہتا اُٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔ وہ سیاہ سایہ تھا کب اتا کب جاتا کیسی کو اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا
وہ کون تھا کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔ وہ کیا کرتا تھا وہ ہیر کے پیچھے کیوں تھا ہیر کو بچانے کے لیے یہ نقصان پہنچانے کے لیے یہ بھی کوئی نہیں جانتا تھا

ہیر کی آنکھ صبح جلدی کھول گئی تھی ۔۔ اور اب وہ اپنے بیگ میں اپنی ضرورت کا سامان رکھ رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر میں اس کو یونیورسٹی جانا
تھا وہاں سے ان سب کو لاہور کے لیے نکلنا تھا ۔۔ سامان بیگ میں رکھنے
کے بعد وہ باہر اگئی ۔۔ دلاور کی اواز پر اس کے قدم روکے ۔۔ دلاور کے کمرے سے اواز ا رہی تھی ۔۔ ہیر نے غور سے سنا ۔۔ وہ چلا رہا تھا ۔۔
کوئی ہے ۔۔ باہر نکلو مجھے کہاں مر گئے ہو سب ۔۔
ہیر حیران ہوئی یہ دلاور بھائی کو کمرے میں کس نے بند کر دیا ہے ۔۔؟
پھر ہیر نے اپنے قدم اگے بڑھائے اور دلاور کے کمرے کے دروازے کے پاس ا کر رکی پھر دروازہ کھولنا چاہا لیکن کچھ سوچ کر ہاتھ پیچھے کر لیا
پھر ریحان کے کمرے کی طرف آگئی ۔۔ وہ کمرے سے باہر نکل رہا تھا
جب ہیر نے کہا ۔۔ دلاور بھائی کو کسی نے کمرے میں بند کر دیا ہے ریحان دروازہ کھولو ان کا ۔۔ ہیر نے کہا تو ریحان حیران ہوا ۔۔ پھر ہنسنے لگا ۔۔
ویسے اچھا ہی ہوا ۔۔ یہی ہونا چاہیے ان کے ساتھ ریحان نے کہتے ہوئے دروازے کی طرف قدم بڑھائے اور ہیر بھی ریحان کے پیچھے ہی چل پڑی پھر ریحان نے باہر سے دلاور کے کمرے کا دروازہ کھولا اور دلاور باہر نکلا
چہرہ اس وقت سرخ ہو رہا تھا شاید غصے سے۔۔۔ مجھے کمرے میں کس نے بند کیا تھا گرجدار اواز کے ساتھ اس نے پوچھا۔۔
ہمیں کیا پتہ ہم نے اپ کو بند نہیں کیا ریحان نے کہا ۔۔۔ دلاور نےہیر کی طرف دیکھا ۔۔ یہ اس
لڑکی کی شرارت ہے تم نے مجھے بند کیا ہے نا کمرے میں ۔۔
ب۔۔ بھائی ۔۔ م۔۔ میں کیوں۔ آپ کو بند کروں گی بھلا ۔۔۔ دلاور کو جیسے یاد آ رہا تھا ۔۔
دلاور کے سر میں درد کی ایک تیز لہر اُٹھی پھر وہ چلا کر بولا ۔۔ مجھے کیسی نے بے ہوشی کی دوائی سونگھائی تھی نا ۔۔ ہیر اور ریحان دونوں حیران ہوئے
ریحان کو تو لگا دلاور شاید نشے میں ہے ۔۔
دماغ جگہ پر ہے آپ کا ہم کیوں آپ کو کچھ بھی سونگھائیں گے۔۔
ریحان نے کہا تو دلاور نے اس کو گور کر دیکھا ۔۔تم نے مجھے بے ہوشی کی دوا سونگھائی تھی نہ ریحان تاکہ میں ہیر کا فون چک نہ کروں ۔۔
ریحان پل بھر کو حیران ہوا
یہ کیا بول رہے ہیں آپ ہیر کا فون بے ہوشی
کی دوائی کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔
ہاں میں ہیر کے کمرے میں بے ہوش ہوا تھا ۔۔ اگر تم نہیں تھے تو ہیر کے کمرے میں کون تھا۔۔؟ ریحان حیران ہوا ۔۔
پہلی بات میں ہیر کے کمرے میں نہیں گیا تھا اور دوسری بات یہ کہ آپ ہیر کے کمرے میں کیا کر رہے تھے ۔۔
پہلی بار دلاور گڑبڑایا ۔۔ میری مرضی میں جو مرضی کرو ۔۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے ۔۔۔
دلاور بھائی آپ ہیر کے کمرے میں بنااجازت کے کیوں گئے تھے ۔۔
وہ بھی تب جب ہیر سو رہی تھی ۔۔ ریحان دہاڑا تھا ۔۔ ان کی اونچی اواز سن کر کامران خان جو لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے فوراً اُٹھ کر ان تک ائے۔۔ کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو کیوں اج کل لڑتے ہی رہتے ہو ہر وقت۔۔۔
بابا ہیر کے کمرے میں کوئی تھا شاید مجھے کسی نے بے ہوشی کی دوائی سونگھائی تھی۔۔۔
بابا آپ اپنے اس بیٹے سے پوچھیں یہ ہیر کے کمرے میں کیا کر رہا تھا۔۔۔ ریحان نے کہا تو کامران نے دلاور کو گھورا۔۔ تم کیا کر رہے تھے ہیر کے کمرے میں۔۔
م ۔۔ میں ہیر کا فون لینے گیا تھا دلاور نے
نظریں چراتے ہوئے کہا جیسے وہ شاید فون لینے نہیں ہیر کو نقصان پہنچانے بھی گیا تھا ۔۔ سارے میں خاموش چھا گئی اور ہیر حیران کھڑی تھی ۔۔۔
تمہیں کس نے کہا تھا ہیر کے فون کو چیک کرنے جاؤ ریحان اب چلا رہا تھا ۔۔
اپنی اواز نیچے رکھو ریحان ۔۔ دلاور غصے میں بولا ۔۔
ریحان نے کامران خان کو دیکھا بابا اپنےاس بیٹے کو سمجھا لیں ہیر سے دور رہے ۔۔ مجھے اس پر ذرا بھی یقین نہیں ہے بابا ہیر سو رہی تھی یہ اس
کا گلا دبا کر اس کو مار دیتا تو کیا کرتے ہیں ہم ۔۔ اس کے سر پر تو ویسے ہی خون سوار ہے ہر وقت ہیر سے چڑتا رہتا ہے ۔۔۔ ریحان اب بولے جا
رہا تھا ۔۔ کامران نے اونچی اواز میں کہا ۔۔ خاموش ہو جاؤ دونوں ۔۔۔
اب ایک آواز نہیں ایک دم خاموش ۔۔۔
دلاور تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں دوبارہ اگر تم نے ہیر کو تنگ کرنے کی کوشش کی اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں
ہوگا تمہیں میں گھر سے اور جائیداد سے آ ک کر دوں گا ۔۔۔ باپ کے اس طرح بات کرنے پر دلاور حیران رہ گیا ۔۔
بابا آپ اس لڑکی کو کیوں نہیں ہمارے گھر سے باہر نکالتے یہ سارا مسئلہ اسی کی وجہ سے تو ہو رہا ہے میں آپ کو بتا رہا ہوں میں ثابت کر کے رہوں گا کہ آپ کی بیٹی کسی لڑکے کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔۔۔ دلاور کہتا واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور دروازہ زوردار اواز کے ساتھ بند کر دیا۔۔۔ کامران نے ہیر کی طرف دیکھا ۔۔ بیٹا تم جاؤ یونیورسٹی تمہیں دیر ہو جائے گی ریحان تمہیں چھوڑ دیتا ہے ۔۔ ہیر نے بس گردن ہلا دی وہ ابھی تک حیران تھی کچھ دیر گزری ریحان نے قدم گھر سے باہر کو نکال دیے اور گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ا کر بیٹھا ۔ہیر بالکل تیار ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ کچھ دیر بعد ریحان
اس کو یونیورسٹی چھوڑ کر واپس گھر اگیا تھا۔۔۔ دلاور اور کامران کسی زمین پر جا چکے تھے ۔۔ گھر میں اب بالکل خاموشی تھی ہیر کی امی کمرے
میں ارام کر رہی تھی ریحان بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔

ہیر سب کے ساتھ لاہور کے لیے روانہ ہو چکی تھی اتفاقاً زرمان اور ہیر کی سیٹ ایک ساتھ تھی۔۔ وہ راستے میں ہلکی پھلکی باتیں کرتے ا رہے تھے ۔۔
افق ان سے آگے بیٹھا تھا ۔۔ ساتھ میں کوئی اور پروفیسر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
اور افق کی نظر خاموشی سے باہر کے منظر پر تھی ۔۔ پیچھے بیٹھی ہیر بھی خاموشی سے باہر کا نظارہ ہی دیکھ رہی تھی زرمان تھوڑی تھوڑی دیر بعد
اسے مخاطب کرتا رہتا تھا ۔۔۔ گاڑی راستے پر روں دواں تھی ۔۔
سفر گزرتا جا رہا تھا ۔۔۔
سفر ختم ہوا سب سٹوڈنٹس باری باری بس سے
باہر نکلے ۔۔ زر مان اور ہیر بھی ساتھ ہی باہر نکلے تھے ۔۔ افق نے سب کو اُن کے ہوٹل کے رومز دیکھا دیے تھے ہیر کو اس کے روم کی چابی دے کر افق نے بتا دیا تھا کے اگلے دو گھنٹے میں
ہم بادشاہی مسجد جائیں گے ۔۔۔ اور ہیر اس بات میں گردن ہلاتی اپنے کمرے میں داخل ہو گئی۔ اس کے کمرے میں اندھیرا تھا ۔۔ ہیر نے
دروازہ بند کیا اور پھر لائٹ جلائی کمرہ روشن ہو گیا۔۔ اور روشنی ہوتے ہی
ہیر اپنی جگہ جم گئی تھی کیسی پتھر کی طرح ۔۔ ہیر کے کمرے کی ہر دیوار پر ہیر کی تصویریں لگی تھی کل جب وہ مال میں شاپنگ کے لیے گئے تھے
یونیورسٹی میں افق کے افس میں بیٹھے ہوئے ۔۔ اپنے فارم ہاؤس میں لونگ گاؤن میں سجے سنورے روپ میں فون کان سے لگائے زر مان سے بات کرتے ہوئے ۔۔ یونیورسٹی کے میں جب وہ زر مان سے ٹکرائی تھی تب ۔۔
جب افق سے پہلی بار ملی تھی تب ۔۔
یہاں تک کہ جب دلاور نے اس کو تھپڑ مارا تھا اور اس کے لبوں سے خون نکلا تھا تب کی تصویر بھی تھی ۔۔ اور ابھی کچھ وقت پہلی کی تصویر بھی وہاں تھی جب وہ بس سے نیچے اتری تھی ۔۔ ہیر حیران کھڑی دیکھ رہی تھی ۔ سانس حلق میں ہی اٹک گیا تھا ۔۔ پھر ایک تصویر پر نظر پڑی۔۔۔ وہ علی کے گھر کی تصویر تھی ۔۔ سفید محل کی ۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھی تھی اور علی دروازے سے باہر جا رہا تھا علی کی پشت نظر آتی تھی ۔۔ یہ یقینا علی کا ہی کام تھا ۔۔
کیا علی لاہور میں اس کے پیچھے یہاں تک اگیا تھا ۔۔۔؟ تب ہی کمرے کا دروازہ کھولا کوئی کمرے میں داخل ہوا ۔۔ ہیر نے پلٹ کر دیکھا اور ہیر کا
شک یقین میں بدل گیا اپنے سامنے علی کو کھڑے پا کر۔۔
ت ۔۔ تم یہاں کیا کر رہے۔ ہو۔
تمہارے لیے آیا ہوں ۔۔ علی نے دھیمی اواز میں کہا ۔۔
ت ۔۔ تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہو اور یہ سب کیا ہے ۔۔۔ کچھ بھی نہیں یہ تو لمحات ہے ہیں حسین
لمحات۔ ۔۔ جن میں تمھیں قید کر رکھا ہے میں نے ۔۔۔ علی ہیر کے قریب آتا بولا۔۔
ہیر فوراً پیچھے ہوئی ۔۔ اور اپنے بیڈ کے ساتھ جا لگی ۔ اب وہ ایک قدم پیچھے ہوتی تو وہ بیڈ پر گرتی ۔۔
د۔۔ دیکھو ۔۔ دور رہو ۔۔ لیکن علی کہاں کسی کی سنتا تھا ۔۔ علی نے اپنے قدم ہیر کے بالکل پاس ا کر روکے۔۔۔
د ۔۔ دیکھو دور ۔۔ ن ۔ نہیں ۔۔تو میں ۔ میں زرمان کو اواز دے دوں گی۔۔
اچھا تو دے دو۔۔۔ اُس کو اواز نہیں جائے گی ۔۔ تمھارا کمرا ساؤنڈ پروف ہے۔۔ علی دھیمی
اواز میں بولا ۔۔
تم کیا چاہتے ہو علی ۔۔
کچھ نہیں ۔۔ تم سے شادی ۔۔ چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی
علی نے ابھی کہا ہی تھا ہیر کا دل کیا وہ تھپڑ مار دے ۔۔
اور یہی ہوا تھا ہیر نے زور دار تھپڑ علی کے موں پر دے مارا ۔۔ لیکن علی کے تصورات نہیں بدلے تھے ۔۔ وہ ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔ پھر وہ بولا ۔۔
عجیب لڑکی ہو تم ۔۔۔ کس فضول انسان پر مر مٹی ہو تم کیا نام ہے اس کا زرمان راجپوت۔۔ غریب سا بندہ ہے وہ ۔۔ اور تمہیں وہ پسند اگیا ہے ۔۔
تم کامران خان کی بیٹی ہو تم کیسے کسی عام انسان سے محبت کر سکتی ہو۔۔۔
ایک وہ زرمان ہے جو تمہارے پیچھے پڑ گیا ہے دوسرا وہ افق مصطفی۔۔ اس کی نظر ہی نہیں ہٹتی تمہارے چہرے سے ۔۔ ایک رائٹر ۔۔
جس کی کہانیاں اج ہیں کل نہیں ہوں گی ۔۔ وہ اج کتابی دنیا میں یاد کیا جاتا ہے مر جائے گا تو سب اسے بھول جائیں گے۔۔۔۔ اور تیسرا وہ جس
سے تمہارا باپ تمہاری شادی کرنا چاہتا ہے کیا نام ہے اس کا۔۔۔ قاسم خان ۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے وہ سیدھا سادہ انسان ہے۔۔ ایک نمبر
کا بغیرت انسان ہے۔ ۔ زندگی برباد کر کے رکھ دے گا تمہاری وہ۔۔۔
وہ تینوں بیکار انسان ہیں۔۔۔اور ایک میں ہوں علی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی طرف اشارہ کیا۔۔ وہ ابھی بھی ہیر کے سامنے کھڑا تھا ۔۔ مجھے دیکھو ۔۔ پورے جھنگ کو اپنی انگلیوں پر نچا سکتا ہوں ۔۔ پیسہ ہے شہرت ہے ۔۔ حسن ہے ۔۔ دیکھو مجھے ۔۔ اور میرے سے شادی ہو گئی نہ تمھاری تو دلاور جیسے رات کو تمھارے کمرے میں تمھیں مارنے
ایا تھا نہ ایسے نہیں آ سکے گا ۔۔ ہیر حیران رہ گئی ۔۔ اس کا بھائی مارنے آیا تھا ۔۔ ؟
تم جھوٹ بول رہے ہو دلاور بھائی مجھے نہیں مار سکتے۔۔
ٹھیک ہے میرے پر یقین نہیں آتا تو خود جا کر پوچھ لینا اس سے میں جھوٹ نہیں بول
رہا وہ تمہارا فون دیکھنے آیا تھا اور یقیناً اس کے بعد اس نے تمہارا گلا دبا دینا تھا ہیر اگر میں وہاں نہ آتا تو تمہیں ذرا سا بھی اندازہ ہے تو مر جاتی..
ت۔۔ تم وہاں آئے تھے ۔۔
ہاں آیا تھا ۔۔ لیکن تمھیں بچانے ۔۔
ت ۔۔ تم ک کون ہو علی ۔۔ ؟ جو سوال ہیر کے دل میں بہت وقت سے گونج رہا تھا ہیر نے وہ آخر پوچھ ہی لیا ۔۔۔ علی مسکرایا ۔۔
میں ۔۔؟ سمجھو میں وہ ہوں جس کے ایک اشارے پر سب ناچتے ہیں ۔۔
ت ۔۔ تم ۔کوئی مافیا ہو ۔۔ کوئی گینگسٹر۔۔ ہیر نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔۔
علی ہنسا ۔یہ بہت چھوٹا عہدہ ہے ۔۔ میں ان سب سے بر کر ہوں۔۔
میں کیسی کو مار دوں کیسی کو بچا لوں یہ جو مرضی کروں ۔۔ مجھے کوئی پوچھنے والا نہیں نہ پولیس نہ آرمی ۔۔ کوئی بھی نہیں ۔۔ ہیر کے اب رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے ۔۔ م مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔
ٹھیک ہے نہ کرو جس سے مرضی کر لو فرق نہیں پڑے گا مجھے ۔۔ لیکن تمھیں ضرور فرق پڑے گا کسی عام انسان سے شادی کر کے جیسے کہ زرمان راجپوت۔۔ میری اس سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن ہاں تم اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکو گی آخر غریبی میں کون ہی خوش رہ سکتا ہے ۔۔۔ میں محبت میں خوش رہ سکتی ہوں اور میں زر مان کے ساتھ خوش رہ لوں گی نکلو تم ۔۔
اعلی نے اس کو گھور کر دیکھا ۔۔ زبان سنبھال کے۔۔۔ مجھے پسند نہیں کوئی ایسے میرے
سے بات کرے۔۔ اعلی نے ہیر کے چہرے پر آتی لٹوں کو کان کے پچھے کرتے کہا اور باہر نکل گیا ۔۔
ہیر نے خود کو سنبھالا پھر قدم کمرے سے باہر کی طرف بڑھائے لیکن کوریڈور میں علی نہیں تھا وہ کہیں بھی نہیں تھا۔۔۔ ساتھ ہی زرمان کا کمرہ
تھا اس نے جلدی سے زرمان کا دروازہ بجانا شروع کیا۔۔اگلے چند لمحوں بعد زرمان نے فوراً ہی دروازہ کھول لیا تھا۔۔۔کیا ہوا ہے آپ کو ٹھیک ہیں آپ ۔۔
زرمان میرے کمرے میں ۔۔ میرے کمرے میں کوئی تھا ۔۔ ک ۔۔ کیسی نے میرے کمرے میں میری تصویریں لگا رکھی ہیں اس
کے بات پر زرمان حیران ہوا یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ ۔ ہ۔ ہاں ۔۔ تم دیکھو ۔۔
زر مان اپنے کمرے سے باہر نکلا اور ہیر کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔۔ ہیر پیچھے کھڑی تھی۔۔زرمان نے ہیر کو بلایا دیکھیں ہیر
آپ کے کمرے میں تو کچھ بھی نہیں ہے آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا ہیر نے اگے ہو کر اپنا کمرا دیکھا وہاں کوئی تصویر نہیں تھی کسی تصویر
کا نام و نشان نہیں تھا۔۔ ہیر کا سر گھومنے لگا تھا سر میں درد کی تیز لہریں اُٹھ رہی تھی۔۔۔ت م۔ یہاں ک۔۔ ت۔۔تصویریں تھیں زرمان ۔۔
ہیر آپ کو وہم ہوا ہوگا آپ سفر میں بہت تھک گئی ہیں آپ ارام کریں ۔۔
م ۔۔ مجھے ۔۔ ڈر لگ رہا ہے ۔۔ م۔۔ مجھے واپس جانا ہے ۔۔ ہیر اب رونے لگ گئی تھی ۔۔ وہ صحیح مائنوں میں خوفزدہ ہو گئی تھی زرمان کو اس کی فکر ہونے لگے ۔۔ اچھا ٹھیک میں پروفیسر سے اجازت لے کر آتا ہوں شاید وہ ہمیں جانے دیں واپس نہیں تو آپ ریحان کو فون کر کے بلا لیجیے وہ ا جائے گا آپ کو لینے کے لیے ۔۔ ہیر نے زر مان کی بات مانتے ریحان کو فون کیا تھا اور ریحان کو ساری بات بتاتے وہ رو پڑی تھی
تم فکر نہ کرو میں آتا ہوں تم حیات یا رخسار کے کمرے میں چلی جاؤ اور رونا بند کرو ۔۔ ریحان نے کہا ۔۔
میں رخسار کے کمرے میں جا رہی ہوں ریحان بس تم جلدی آ جاؤ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔ وہ ۔۔ وہ ادمی میرے پیچھے پر گیا ہے ریحان ۔۔ و۔۔ وہ پاگل ہے ۔۔ وہ مجھے مار دے گا ۔۔۔۔

ریحان تقریباً اپنی گاڑی اڑاتے ہوئے لے کر آیا پھر بھی اس کو4 گھنٹے لگے تھے
اور پھر ریحان ہوٹل میں داخل ہو گیا تھا افق سے ہیر نے جانے کی اجازت مانگ لی تھی لیکن
افق خود انتہا کا پریشان تھا کہ ہیر کیوں اتنی جلدی جا رہی تھی ہیر نے افق کو ساری بات بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا بس کمرے میں لگی تصویروں کے بارے میں بتایا تھا اور افق اس کے لیے انتہا کا پریشان تھا۔۔۔
وہ بار بار ایک ہی سوال پوچھ رہا تھا کہ کیا کوئی آپ کے پیچھے لگا ہے یا کوئی
آپ کو تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔ افق الگ الگ سوال پوچھ رہا تھا لیکن ہیر کے پاس ان سب سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا وہ کچھ
بھی نہیں بتا سکتی تھی کہ اس کی زندگی میں کیا مسئلے چل رہے تھے۔۔۔
ریحان نے افق سے ہیر کو لے کے جانے کی اجازت مانگ لی تھی اور افق اس کی طبیعت دیکھ کر مان بھی گیا تھا وہ ویسے ہی بہت پریشان تھا ہیر کے لیے زرمان نے بھی ریحان کے ساتھ انے کے لیے بہت کہا لیکن ریحان نے ہی اسے منع کر دیا کہ تم فکر نہیں کرو میں سنبھال لوں گا ہیر کو۔۔۔
اور ریحان کے بہت منع کرنے پر زرمان نے حامی بھر لی۔۔۔ زرمان کی سمجھ میں نہیں ارہا تھا آخر ہیر کے پیچھے لگا کون تھا ۔۔۔ زرمان ایک بار
پھر ہیر کے کمرے کی طرف گیا دروازہ کھولا پورے کمرے میں نظر گھمائی کچھ بھی نہیں تھا وہاں پر ۔۔ کوئی تصویر کچھ بھی نہیں کیا یہ ہیر کا وہم تھا
یا پھر سچ میں کوئی تھا جس نے ہیر کی تصویریں کمرے میں لگائی تھی زرمان کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔

تقریباً رات کے وقت ہیر اور ریحان واپس اپنے گھر میں داخل ہوئے
تھے کامران خان کو ریحان اور ہیر نے سارا واقعہ فون پر بتا دیا تھا اور وہ بھی بہت پریشان تھے اپنی بیٹی کے لیے ہیر کی امی بھی بہت پریشان ہو
رہی تھی ۔۔ہیر گھر میں داخل ہوئی سب نے اس کو صوفے پر بٹھایا ہیر کی امی نے اسے پانی پلایا اور پھر وہ رونے لگی اماں مجھے نہیں سمجھ ا رہا آخر
وہ ادمی چاہتا کیا ہے میں نہیں جانتی وہ میرے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے۔۔۔
کامران خان نے پل بھر کو کچھ سوچا پھر بہت ارام سے بولے تم کچھ دن یونیورسٹی نہیں جانا۔۔۔گھر پر رہو ارام کرو اور میں سوچ رہا ہوں کہ تمہاری منگنی کر دیتے ہیں قاسم سے۔۔۔میں کل رات کو قاسم کو ادم کے ساتھ
کھانے پر بلاتا ہوں۔۔۔ہم بیٹھ کر منگنی کی تاریخ رکھ لیتے ہیں پھر جلدی ہی تمہاری شادی کر دیں گے ہیر مجھے پورا یقین ہے قاسم تمہارا بھرپور خیال رکھے گا۔۔۔وہ تمہیں ایک پل کے لیے بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دے گا وہ تمہیں بہت پسند کرتا ہے۔۔۔ہیر پہلے ہی انتہا کی پریشان تھی اور اب اس کی پریشانی بڑھ گئی تھی قاسم کا نام سنتے ہی ریحان خود حیران تھا
بابا ایسے ایک دم شادی کرنا ٹھیک نہیں ہے
لیکن کامران خان نے جیسے سنا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔ہیر خاموشی سے بیٹھی زرمان کے بارے میں سوچ رہی تھی اس کو تو پتہ بھی نہیں تھا کہ ہیر کے ساتھ اب کیا ہونے جا رہا تھا ہیر کی شادی وہ بھی قاسم خان سے زرمان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ سب کچھ اتنا جلدی ہو جائے گا اور کامران خان کا یہ فیصلہ تھا۔۔۔۔

ہیر نے بھی زرمان کو نہیں بتایا تھا کہ وہ پریشان نہ ہو جائے۔۔۔
ہیر بیٹھی بس دعائیں مانگ رہی تھی کہ قاسم خود ہی شادی سے انکار کر دے یا کوئی مسئلہ بیچ میں کھڑا ہو جائے۔۔۔۔بس یہ شادی کسی طرح
رک جائے۔۔۔۔

اگلی رات کامران خان نے قاسم کے گھر والوں کو ڈنر پر انوائٹ کیا تھا۔۔
منگنی والی بات انہوں نے قاسم یا کسی کو بھی نہیں بتائی تھی وہ خوشی خوشی انے کے لیے مان گئے تھے اور کچھ دیر بعد جب وہ گھر میں داخل
ہوئے قاسم کی گود میں جب کامران خان نے کسی بچی کو دیکھا تو وہ پل بھر کو حیران ہوئے پہلا سوال جو لاؤنج میں بیٹھے ہوئے کامران خان نے
پوچھا تھا وہ یہی تھا قاسم یہ بچی کون ہے۔۔۔اور قاسم نے بڑے ہی نرم لہجے میں کہا تھا انکل یہ میری بیٹی ہے کامران خان کے پاؤں کے نیچے
سے جیسے مانو زمین نکل گئی تھی۔۔۔ت۔۔تمہاری بیٹی۔۔۔؟
جی انکل میری بیٹی قونین ۔۔
م ۔۔ک ۔۔ قاسم تم شادی شدہ ہو ۔۔؟ کامران
حیران رہ گئے تھے اور پاس میں کھڑی ہیر بھی ۔۔ نہیں انکل شادی شدہ نہیں ہوں اس بچی کو میں نے اڈاپٹ کیا ہے میں اس کو پال رہا ہوں یہ میری بیٹی ہے ۔۔۔ مجھے بہت عزیز ہے ۔۔
کامران کی حیرانی کم نہیں ہوئی تھی ۔۔ بس کامران اب تم جلدی سے ہیر کی شادی ہمارے بیٹے سے کر دو ۔۔۔ تا کے قونین کو ماں مل جائے
جو اس کا خیال رکھے ۔۔ قاسم اس کو سنبھال نہیں سکتا ۔۔ ادم بولے تو کامران جلدی سے بولے ۔۔
ہیر۔۔ قاسم سے شادی نہیں کرنا چاہتی
ادم ۔۔ اس لیے میں یہ شادی نہیں کر سکتا ۔۔ کامران نے انکار کر دیا قاسم حیران ہوا ۔۔ اور چہرے پر ناگواری اگئی ۔۔ جب کے ادم خان
حیران ہو گئے
کامران تم نے وعدہ کیا تھا ۔۔
ہاں میں نے کیا تھا ادم لیکن میں معافی
چاہتا ہوں میں یہ نہیں کر سکتا ۔۔ہیر کا چہرہ کھل اُٹھا تھا قاسم نامی مصیبت تو ٹیلی تھی نا ۔۔۔ اللہ تیرا شکر ہے ۔۔ ہیر نے گہرا سانس لے
کر کہا تھا ۔۔ اور پھر کھانا لگ گیا ۔۔ قاسم قونین کو چُپ کروا رہا تھا جو رو رہی تھی ۔۔
قونین قاسم کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئی تھی اُس کے لیے وہ ہیر کو چھوڑ سکتا تھا ۔۔ لیکن ہیر سے خود کے لیے انکار سننا قاسم کو ذرا اچھا نہیں
لگ رہا تھا ۔۔ کوئی اُس کو کیسے ٹھکرا سکتا تھا ۔۔۔۔ ؟ ڈنر کے بعد فوراً ہی
قاسم کے گھر والے روانہ ہو گئے تھے ۔۔۔جب ہیر کی امی نے کامران خان سے فورا پوچھا آپ نے ایک دم سے شادی کے لیے منع کیوں کر دیا
آپ نے تو انہیں منگنی کی بات کرنے کے لیے بلایا تھا نا۔۔۔
بیگم تم سمجھی ہی نہیں مجھے ۔۔۔ ہماری بیٹی اپنی نئی زندگی شروع کرنے جا رہی ہے نہ کہ کسی بچے کو سنبھالنے ۔۔ ابھی ہیر کی عمر ہی کیا ہے کہ وہ ابھی سے کسی بچے کو سنبھالنا شروع ہو جائے ۔۔۔ قاسم باپ بنے کو تیار ہے ۔۔
لیکن لوگ ہم پر انگلیاں اٹھائیں گے ۔۔ کے ہم نے اپنی بیٹی کی شادی ایسے گھر میں کر دی ہے جہاں بیوی کا عہدہ اسے ملا نہیں اور ماں کا عہدہ
اسے سنبھالنا پر رہا ہے ۔۔ اس لیے قاسم سے شادی نہیں کر سکتے ہم ہیر کی ۔۔
تو اب ہم کیا کریں گے کامران اپ کو بھی پتہ ہے ہیر کے پیچھے کوئی لگا ہوا ہے ہمیں ہیر کی شادی کرنی ہی ہے۔۔۔
ہم ہیر کی شادی ضرور کریں
گے بس جیسے ہی کوئی اچھا رشتہ نظر میں ائے گا ہم ہیر کی شادی کر دیں گے ۔۔
بابا میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا تھا ریحان نے موقع پا کر زرمان کے بارے میں بات کرنا چاہی تھی کہ ایک دم دلاور کی اونچی اونچی اواز
انے لگی۔۔۔۔۔


ہیر اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی جب دروازہ کھلا اور دلاور اندر داخل ہوا۔۔
مجھے اپنا فون دو۔۔پاسورڈ کھول کے دینا۔۔دلاور نے چلا کر کہا تھا۔۔۔
اور ہیر نے خوف کے مارے فوراً ہی فون دلاور کو دے دیا تھا وہ بھی پاسورڈ کھول کے۔۔ نا جانے اب کیا ہونے والا تھا دلاور نے ہیر کے
سارے میسج کال سب کچھ چیک کیا۔۔ اور پھر دلاور کے سامنے زرمان راجپوت کے میسج بھی اگائے ۔۔ جہاں ہیر اُس سے بات کر رہی تھی ۔۔
کہیں زر مان نے محبت کا اظہار کیا ہوا تھا کے میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور ہیر اس کو ڈانٹ رہی تھی ایسے بہت سے میسیج ۔۔۔
دلاور نے ہیر پر چلانا شروع کر دیا ۔۔ اور پھر وہ ہیر کی طرف اُس کو مارنے کے لیے بڑھا تھا ۔۔ جو خوف کے مارے فوراً سے بیڈ سے اُٹھ
کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف آگئی تھی ۔۔۔
ب ۔۔ بھی۔۔ بھائی ۔۔۔
م ۔۔ دلاور ہیر کی طرف بڑھا ۔۔ بے غیرت لڑکی ۔۔ میں نے کہا تھا تم کیسی سے بات کرتی ہو ۔۔ بد کردار عورت ۔۔ دلاور نے ہیر کے
موں پر تھپڑ مارا ۔۔ پھر ہیر کے بال پکڑے میں تمہاری جان لے لوں گا ۔۔
تمھاری وجہ سے میرے باپ نے مجھے گھر سے باہر نکالنے کی دھمکی دی تمہاری وجہ سے اس نے میرے چہرے پر تھپڑ مارا ۔۔۔ دلاور نے ہیر
کا سر پوری شدت سے دیوار میں دے مارا ۔۔ تب ہی شور سن کر ریحان اور سب کمرے میں داخل ہوئے ۔۔ ریحان شال رہ گیا ۔۔ پھر بنا
وقت ضائع کیے انہوں نے دلاور کو روکنا چاہا لیکن دلاور تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔ وہ اپنی بھڑاس ہیر پر نکال رہا تھا ۔ ۔ ہیر کا سر
بڑی طرح پھٹ گیا تھا ۔۔ خون چہرے پر برسنے لگا تھا ۔۔۔ بد چلن ۔۔
بے غیرت عورت ۔۔ دلاور نے ایک بار پھر اسے تھپڑ مارا ۔۔
اور پھر ہیر کو دھکا دیا وہ ڈریسنگ ٹیبل پر جا کر لگی ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ ٹوٹ کر ہیر کے بازوں میں چبھا اور ٹیبل سے ایک بار پھر ٹکر ہوئی ۔۔
جان لےلوں گا تمھاری اج ۔۔ دلاور ایک با رپھر ہیر کی طرف لپکا جس میں اب خود کو بچانے کی بھی ہمت نہیں تھی جب ریحان نے دلاور کو
کمر سے پکڑ کر پیچھے کو دھکیلا ۔۔۔
دلاور لڑکھڑایا اور پیچھے جا کر بیڈ پر گرا ۔۔۔ خبیث انسان میری بہن سے دور رہو ۔۔ ریحان اونچی آواز میں دہاڑاتھا ۔۔ اور پھر ریحان نے لپک
کر دلاور کو مارنا شروع کر دیا ۔۔ اور ایک کے باد ایک تھپڑ مکے ٹھڈے ریحان نے برسا دیا تھے دلاور خان پر تیری ہمت کیسے ہوئی ہیر کو کچھ بھی کہنے کی ۔۔ ہاں ۔۔ بتا ۔۔ تو ۔۔ تو
ہوتا کون ہے میری بہن کو ہاتھ لگانے والا ۔۔ ریحان اب مار رہا تھا جب کامران خان نے انسوں بھاری انکھوں سے کہا ۔۔ ریحان ہیر کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے اس خبیث کو چھوڑ دے لیکن ریحان ہوش میں ہی نہیں تھا اُس پر دلاور کا خون سوار تھا ۔۔۔ جب کامران اونچی اواز میں روتے ہوئے چلائیں تھے ۔۔
ریحان میری بیٹی مر جائے گی اس کو ڈاکٹر کے پاس کے لئے جانا ہے
ریحان میری ہیر کی حالت خراب ہے ۔۔ ہیر اپنے بابا کی گود نے سر رکھے بے سود بے ہوش پڑی تھی ۔۔ ریحان میری ہیر ۔۔۔ کامران کی
روتی اواز پر ریحان تھام گیا ۔۔ ہیر کا نام سن کر ریحان نے گھوم کے ہیر کو دیکھا پھر بھاگتا ہوا ہیر تک آیا زمین پر بیٹھا ۔۔ ہی۔۔ ہیر ۔۔ ہیر ۔۔
اٹھ جا ۔۔ گڑیا ۔۔ اُٹھ جا ہیر م۔۔ میں لے کے جاتا ہوں ڈاکٹر کے پاس ۔۔
ریحان کی انکھوں میں انسو تھے ریحان نے ہیر کو گود میں اُٹھایا اور باہر کی طرف بھاگا جو بے سود تھی ۔۔ کامران اور ان کی بیوی بھی ساتھ ہی باہر
بھاگے تھے ۔۔۔ دلاور زمین پر گرا پڑا تھا ۔۔ چہرہ زخمی تھا ناک سے خون نکل رہا تھا اور ہونٹ بھی پھٹ چکا تھا اس سے بھی خون بہہ رہا تھا ۔۔۔
لیکن دلاور ابھی بھی ہوش میں تھا ۔۔

دلاور خان اُٹھا اور ٹانگوں میں درد کی شدید لہر اٹھی ۔۔ ریحان نے اس کو بہت مارا تھا لیکن دلاور کو اس سے فرق نہیں پڑتا تھا دلاور کو ابھی بھی ہیر کا راز سب کے سامنے کھولنا تھا ۔۔ دلاور کو یہ تو اندازہ تھا کہ یقیناً ریحان اور سب ہیر کو پاس کے ہی ہاسپٹل میں لے کر گئے ہوں گے ۔
۔ دلاور گھر سے باہر نکلا اور گاڑی میں آ کر بیٹھا پھر گاڑی کو اگے بڑھا لے گیا ۔۔۔

ریحان ہیر کو ڈاکٹر کے پاس لے کر آیا ہے ہاسپٹل کے عملے نے ہیر کو اسٹریچر پر لٹایا اور ایمرجنسی روم کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔ تب ہی کچھ دیر
بعد ریحان کی نظر لڑکھڑا کر آتے دلاور خان کی طرف پڑی جو انہی کی طرف ا رہا تھا وہ ان کی طرف آیا اور ہیر کا فون ریحان کے چہرے کے سامنے کر دیا اس سے پہلے کہ ریحان کچھ بولتا دلاور فوراً بولا۔۔ دیکھو اس میں تمہارے دوست سے بات کرتی تھی یہ لڑکی اس لیے میں نے اسے مارا ۔۔اور تم ہو کہ تم نے مجھے ہی مارنا شروع کر دیا تھا اچھا ہی ہے نا ہیر مر جائے بوجھ تو اُترے گا ہمارے سر سے۔۔۔ دلاور کو ابھی بھی جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا ریحان کا غصہ انتہا کو تھا ۔۔
کامران خان بھی خاموشی سے کھڑے دلاور کی بات سن رہے تھے پھر انہوں نے ریحان کا چہرہ دیکھا
پھر خاموشی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے اسے صبر دے رہے ہوں ۔۔۔ ہاں بابا ہیر زرمان سے بات کرتی ہے ریحان نے اپنے باپ
کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ مجھے پتہ ہے کہ وہ زرمان کو پسند کرتی ہے اور زرمان راجپوت ہیر کو پسند کرتا ہے زرمان میرا دوست نہیں تھا ہیر کی وجہ سے
وہ میرا دوست بنا زرمان ہیر کی یونیورسٹی میں پڑتا ہے بابا ۔۔۔ ریحان
مزید اب کچھ اور چھپانا نہیں چاہتا تھا اہستہ اہستہ وہ سارا کچھ بتاتا گیا۔۔۔
دلاور خاموشی سے حیران کن نظروں سے ریحان کو دیکھ رہا تھا ۔۔
کیسی بات ہے نا ریحان خان تم تو ہیر کے ساتھ ہی بے غیرت ہو گئے ہو ۔۔ تمہاری غیرت تو مر گئی ہے ۔۔۔ میں ہو گیا ہوں بے غیرت ریحان
چلایا تھا ۔۔ میں تمہاری طرح کی غیرت نہیں رکھنا چاہتا جو میری بہن کو مار دے ۔۔۔ بیٹی بہن اللہ کا انمول تحفہ ہوتے ہیں اور تم جیسے لوگ ہی انہیں ضائع کر دیتے ہیں ۔۔۔ تم بے غیرت ہو دلاور خان میری نظر میں ہر وہ ادمی بے غیرت ہے ۔۔ جو اپنی بیٹی کو مارنا اپنی غیرت سمجھتا ہے ۔۔اور اپنی بیٹی اور بہن کی پسند کو اپنی غیرت
کے نیچے دبا دینا سب سے بڑی بے غیرتی ہے دلاور خان ۔۔ اور کم سے کم میں ریحان خان اس بغیرتی کا حصہ کبھی نہیں بنو گا ۔۔۔ بابا ریحان
نے کامران خان کی طرف دیکھا جو خاموش کھڑے تھے فی الحال انہیں ان کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا انہیں بس ہیر کی فکر تھی کہ وہ
ٹھیک ہو سلامت ہو جتنا دلاور نے اسے مارا تھا جتنی وہ زخمی ہوئی تھی جتنی گہری چوٹ اس کے سر میں لگی تھی کامران کا دل انتہا کا گھبرا رہا
تھا ۔۔۔ اگر ان کی بیٹی کو کچھ ہو جاتا ہے تو کامران اپنے ہاتھوں سے دلاور خان کی جان لے لیتے ۔۔۔
بابا اپ نے جب اماں سے شادی کی تو پسند کی شادی کی تھی نا اثپ نے اور اماں ۔۔ اماں نے بھی اپ کو پسند کیا تھا ۔۔ اماں کے گھر والوں نے تو بات کا بتنگڑ نہیں بنایا تھا یا انہوں نے تو ہماری ماں کو مارنے کی کوشش نہیں کی تھی تو بابا اب دلاور خان یہ کیوں کر رہا ہے جب آپ اپنی مرضی کی شادی کر سکتے ہیں ہماری ماں پسند کی شادی کر سکتی ہے تو ہیر کیوں نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ جب ایک مرد اپنی پسند کی شادی کر سکتا ہے تو عورت کیوں نہیں کر سکتی بابا ۔۔
۔ عورت کو پورا حق ہے کہ وہ اپنی پسند کا اپنا ہم سفر چنے عورت کو یہ حق اسلام نے دیا ہے بابا ہم لوگ کون ہوتے ہیں اسلام کو نہ ماننے والے ۔۔۔۔ عورت کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے بابا ۔۔۔ میں اپ کو بتا رہا ہوں زرمان راجپوت سے اچھا لڑکا اپ لوگ کہیں بھی نہیں ملے گا بابا وہ ہیر کو اپنی سر انکھوں پر بٹھا کر رکھتا ہے ۔۔ میں نے دیکھا ہے وہ ہیر کے نخرے جھیلتا ہے ہیر کی بے رخی برداشت کرتا ہے ۔۔۔
وہ ہیر کے ہر انداز سے محبت کرتا ہے بابا۔۔۔
قاسم ہیر کے لیے اچھا نہیں تھا ۔۔ وہ جیسا نظر اتا ہے وہ ویسا نہیں ہے بابا قاسم تو بالکل بھی ہیر کے لیے اچھا نہیں تھا میں کبھی آپ سے یہ کہہ
نہیں سکا لیکن اج کہہ رہا ہوں زرمان کی شادی ہیر سے کر دیں ۔۔۔
میں مانتا ہوں وہ ہمارے درجے کا نہیں ہے ۔۔۔ نہ وہ پٹھان ہے ۔۔۔ لیکن بابا وہ ہیر کو خوش رکھے گا ۔۔۔ وہ ہمارے درجے کا نہیں ہے تو کیا
ہوا انسان ہونا کافی نہیں ہے کیا بابا ۔۔۔ کامران خان خاموش تھے ۔۔
پھر خاموشی کو توڑتے ہوئے وہ انسو بھری انکھوں سے بولے اگر وہ لڑکا سچ میں ہیر کو پسند کرتا ہے تو رشتہ لے کر کیوں نہیں ایا۔۔۔
بابا اس کا پورا ارادہ تھا کہ وہ لاہور سے انے کے بعد رشتہ لے کر ائے گا اور پھر یہ دلاور نے یہ حرکت کر دی۔۔۔ کامران پل بھر کو خاموش ہوئے پھر بولے ٹھیک ہے اللہ ہماری ہیر کو زندگی دے وہ رشتہ لے کر آئے میں انکار نہیں کروں گا۔۔۔ویسے بھی مجھے وہ بہت اچھا لگا تھا۔۔۔۔
ریحان اب کی بار مسکرایا تھا لیکن ہیر کی ٹینشن دل سے کم نہیں ہوئی تھی دلاور خاموشی سے یہ سارا کچھ دیکھ رہا تھا دلاور کو تو جیسے ہضم ہی نہیں
ہو رہی تھی یہ ساری باتیں ۔۔۔۔۔
اندر ہیر کا علاج چل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

 جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *