HIDAYAT BY RUKHSAR KHAN EPISODE 1 ۔

ھدایت

از قلم :رخسار خان

انتاساب
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
“اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔”


ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ

“جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔”


یہ کہانی ہے ایسے کرداروں کی جنہوں نے ہدایت کے بدلے سیاہی چُن لی، مگر اللہ کسی نہ کسی کو اُن کی زندگیوں میں مسیحا بنا کر بھیجتا ہے تاکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ انہیں سیدھے راستے یعنی صراطِ مستقیم پر لا سکے اور ان لوگوں کو ہدایت بھی دے سکے۔
اللہ اسی کو ہدایت دیتا ہے جسے وہ دینا چاہتا ہے، وگرنہ اُس پروردگار نے گمراہ لوگوں کو ایمان سے اندھا، گونگا اور بہرا کر دیا یعنی گمراہ کر دیا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں، مگر اصل میں اللہ اُن کے ساتھ مذاق کر رہا ہوتا ہے — مگر وہ لوگ یہ بات نہیں جانتے۔
********

ہدایت

از کلم رخسار خان

باب :1

اس کی آنکھیں الارم کی تیز آواز سے کھلیں۔ اُس نے بستر سے اپنے پاؤں نکالے اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ پھر الارم بند کیا تو کمرے میں نیم تاریکی پھیل گئی۔ صرف ایک نائٹ بلب مدھم روشنی دے رہا تھا۔
کمرہ کشادہ تھا مگر اُس ہلکی روشنی میں زیادہ کچھ نمایاں نہیں ہو رہا تھا۔ وہ بستر سے اُٹھ کر آہستہ قدموں سے کھڑکی کی جانب بڑھی۔ اُس نے کھڑکی پر پڑے گہرے پردے ایک طرف ہٹائے اور کھڑکی کے پٹ کھول دیے۔
باہر سے آنے والی سرد، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے اُس کے چہرے کو چھوا تو اُس نے ایک گہری سانس بھری۔ باہر دور دور تک چھوٹے چھوٹے مگر خوبصورت مکانات بنے ہوئے تھے۔ وہ ایک پُرسکون سی کالونی تھی، جہاں ہر مکان نہایت ترتیب اور خوبصورتی سے تعمیر کیا گیا تھا۔
آسمان پر نارنجی اور جامنی رنگ ایک دوسرے میں گھل مل رہے تھے جبکہ ہلکی ہلکی نیلگوں روشنی فضا میں بکھر رہی تھی۔
******

پردے ابھی کھلے ہوئے تھے۔ کھڑکی سے باہر آسمان میں پھیلی ہلکی نیلگوں روشنی منظر کو جاذبِ نظر بنا رہی تھی۔ وہ کھڑکی کے قریب کھڑی کچھ لمحے خاموشی سے اُس دلکش منظر کو دیکھتی رہی۔ کمرے میں پھیلی مدھم روشنی اور باہر کی ٹھنڈی ہوا ایک پُرسکون کیفیت پیدا کر رہی تھی۔
کمرہ کافی کشادہ اور خوبصورت تھا۔ درمیان میں رکھا بڑا سا بیڈ ہلکے سرمئی رنگ کی چادر سے ڈھکا ہوا تھا جبکہ ایک طرف سفید رنگ کا صوفہ رکھا تھا۔ دیوار کے ساتھ ایک لکڑی کی الماری موجود تھی اور اُس کے قریب ڈریسنگ ٹیبل رکھی تھی جس پر چند ضروری اشیاء ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔
اُس نے ہلکے گلابی رنگ کی ٹی شرٹ اور پاجامہ پہن رکھا تھا۔ اُس کے نرم و ملائم بال شانے پر بکھرے ہوئے تھے۔ فضا میں خاموشی تھی کہ اچانک فجر کی اذان کی پُرسوز آواز گونج اُٹھی۔
اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ
اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ
اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ
اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
اذان کی دل میں اُتر جانے والی آواز نے ماحول کو مزید روح پرور بنا دیا۔ اُس نے آہستگی سے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی، پھر خاموش قدموں سے کمرے کے کونے میں موجود باتھ روم کی طرف بڑھ گئی تاکہ نماز کے لیے وضو کر سکے۔
*******

نماز کے بعد اُس نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔ نہایت پُرسکون انداز میں اُس نے عربی کے الفاظ پڑھے:
“اللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا”
ترجمہ:
“اے اللہ! میرے دل میں نور عطا فرما اور میری نظر میں نور پیدا فرما۔”
دعا مکمل کرنے کے بعد اُس نے آہستگی سے آمین کہا۔ بلاشبہ اُس کی آواز بہت دلنشیں تھی۔ پھر اُس نے دوسری دعا پڑھی:
“اللّٰهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ”
ترجمہ:
“اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت عطا فرما۔”
اُس نے تیسری دعا پڑھی جو اُسے سب سے زیادہ پسند تھی۔ اگرچہ اُسے تمام دعائیں عزیز تھیں مگر بعض دعائیں دل کے بہت قریب محسوس ہوتی ہیں۔
“رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا”
ترجمہ:
“اے ہمارے رب! ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دینا۔”
یہ دعا سورۂ آلِ عمران میں موجود ہے۔ اِس دعا کا مفہوم نہایت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا ہے۔ اِس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت پر قائم رہنے اور دل کو غلط راستوں سے محفوظ رکھنے کی التجا کرتا ہے۔
********
“کوئی عروج دے نہ زوال دے، مجھے صرف اتنا کمال دے،
مجھے اپنی راہ میں ڈال دے، کہ زمانہ میری مثال دے،
تیری رحمتوں کا نزول ہو، مجھے محنتوں کا صلہ ملے۔
مجھے مال و زر کی ہوس نہیں، مجھے بس تو رزقِ حلال دے۔”
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ کمرے سے باہر آئی۔ اُس نے سفید ماربل والی سیڑھیاں اُتریں اور سفید ماربل والے صحن میں آ گئی، جہاں دیواروں پر سبز بیلیں لگی ہوئی تھیں جن پر رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ ایک بڑا سا سیاہ لوہے کا داخلی دروازہ تھا، جس کے اِردگرد کی دیواروں کے ساتھ قطار میں پودے لگے ہوئے تھے اور سبھی پودے پھولوں والے تھے۔
اگر زینے کے نیچے نظر ڈالی جائے تو وہاں ایک چھوٹا سا پنٹرسٹ طرز کا سیٹ اپ بنایا گیا تھا۔ سفید پھولوں کی بیل، دو چھوٹی خاکی رنگ کی لکڑی کی کرسیاں، اور ایک چھوٹی گول میز رکھی تھی جس پر ایک لیمپ رکھا ہوا تھا۔
اُس نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا جہاں روشنی آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ مسکرا دی، پھر ایک کونے میں رکھے دو سیٹر لوہے کے جھولے پر جا بیٹھی۔ جھولے کا ڈیزائن بہت سادہ مگر خوبصورت تھا۔ اُس پر بھورے رنگ کا پالش شدہ پینٹ کیا گیا تھا اور اُس کے اوپر ایک نرم سفید گدی بچھی ہوئی تھی، جس کے دونوں اطراف چھوٹے چھوٹے سفید کشن رکھے گئے تھے۔
وہ جھولے پر بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ جھولنے لگی۔ پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں اُس کے کانوں میں رس گھول رہی تھیں جبکہ پورے محلے اور گھروں میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور سکون بھری ایک گہری سانس خارج کی۔ وہ دھیرے دھیرے جھول رہی تھی۔ پھر اُس نے زینے کے بالکل سامنے موجود د

 

اسلام آباد کی ایف۔سیون ایلیٹ کالونی میں آؤ تو بلند و بالا محل نما مکانات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی شاہانہ حیثیت کا پتا دے رہے تھے۔ انہی عالی شان عمارتوں میں ایک خوبصورت اور پُروقار محل ’’قصرِ ابراہیم‘‘ بھی تھا۔
سفید رنگ کا وہ بلند و بالا محل اپنے حسن اور رعب سے ہر دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا تھا۔ اُس کے چاروں اطراف چھوٹی مگر نفیس دیواریں قائم تھیں۔ دیواروں کے اندر جھانکو تو قصر کے گرد و نواح میں پھیلا سرسبزہ دکھائی دیتا تھا، جہاں صرف ایک ہی رنگ کے گلاب اُگائے گئے تھے… سفید گلاب، جو فجر کی نرم روشنی میں نہایت دلکش معلوم ہو رہے تھے۔
قصر کے داخلی زینوں کے اردگرد چھوٹے چھوٹے پتھر اور ننھے پھول سجے ہوئے تھے، جبکہ سامنے ایک بڑا سا سفید دروازہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ ایستادہ تھا۔
قصرِ ابراہیم کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب ایک وسیع اور نہایت خوبصورت سٹنگ ایریا دکھائی دیتا تھا، جس کی بڑی بڑی کھڑکیوں پر سفید پردے آویزاں تھے۔ اندھیرے کی وجہ سے بہت سی چیزیں پوری طرح نمایاں نہ تھیں، مگر پردوں سے چھن کر آتی مدھم روشنی میں وہاں رکھا نفیس سفید صوفہ سیٹ اپنی خوبصورتی واضح کر رہا تھا۔
بائیں جانب سنگِ مرمر سے بنا ایک عظیم الشان گول زینہ تھا، جبکہ پورا گھر سفید سنگِ مرمر کے پتھروں سے جگمگا رہا تھا۔ سیڑھیوں پر سرخ قالین بچھا ہوا تھا جو ماحول کو مزید شاہانہ بنا رہا تھا۔
ایک طرف اوپن کچن تھا، جہاں سفید اور ہلکے سرمئی رنگ کے حسین امتزاج سے اوپر نیچے کیبنٹس بنائے گئے تھے۔ سفید پتھر کا خوبصورت سلیب تھا، جس پر وہ تمام جدید اشیاء موجود تھیں جو عموماً بیرونِ ملک امیر لوگوں کے گھروں میں دیکھی جاتی ہیں۔
کچن سے باہر آئیں تو ایک جانب بڑا سا ڈائننگ ایریا موجود تھا۔ سفید ماربل کی لمبی بیضوی میز کے گرد سفید گدیوں والی آٹھ کرسیاں ترتیب سے رکھی تھیں۔ میز پر نفیس دسترخوان بچھا ہوا تھا اور اُس کے درمیان ایک خوبصورت گلدان رکھا تھا، جس میں سفید گلاب سجے ہوئے تھے، جبکہ ساتھ ہی ایک سنہری کینڈل اسٹینڈ رکھا ہوا تھا۔
اسی حصے میں ایک بڑا سا بیڈ روم اور ایک گیسٹ روم بھی موجود تھا، البتہ گیسٹ روم فی الحال بند تھا۔
******

وہ چاروں ڈائننگ روم میں بیٹھے تھے۔
“نور، آج تو تمہارا انٹرویو ہے، تم نے مجھے کل بتایا تھا،” نظرین بیگم نے اسے نرم لہجے میں سوال کیا۔
“ہاں امی، آج میرا انٹرویو ہے۔ امی پلیز ان دونوں سے کہیں یہ اپنا ناشتہ ختم کریں، مجھے دیر ہو جائے گی پھر انٹرویو کے لیے۔”
وہ تینو — دو بہنیں اور ایک بھائی تھے۔ سب سے پہلے نور داؤد آفندی، دوسرا حمدان داؤد آفندی، اور سب سے چھوٹی فاطمہ داؤد آفندی، اور ان کی امی نظرین بیگم۔ بابا داؤد آفندی کی وفات آج سے دس سال پہلے ہو چکی تھی۔
ڈائننگ روم کی دیوار کریم رنگ کی تھی، کمرہ چار لوگوں کے حساب سے کافی کھلا ہوا تھا۔ بھوری لکڑی کا ڈائننگ سیٹ جس پر وہ چاروں براجمان تھے۔ نظرین بیگم کے پیچھے ایک بڑی لکڑی کی کھڑکی بنی تھی جس کے پٹ وا تھے اور سفید کرٹینز کھڑکی کے اطراف میں بندھے ہوئے تھے۔ کھڑکی سے آتی دھوپ کی روشنی میں کمرہ کافی روشن تھا۔
کمرے کی دائیں طرف والی دیوار پر ایک بڑی سی آیت الکرسی کی پینٹنگ لگی ہوئی تھی اور اس کے اوپر ایک وال کلاک تھی۔ بائیں طرف دیوار پر اوپر نیچے ترتیب سے لگائی خوبصورت پھولوں کی پینٹنگ لگی ہوئی تھی۔ ایک کونے میں ایک بھورا شوکیس موجود تھا اور اس کے اوپر ایک کانچ کا ہلکا نیلا گلدان موجود تھا جس میں بہت سارے رنگ کے الگ الگ تازہ پھول موجود تھے جو انہوں نے اپنے ہی گھر کے چھوٹے چھوٹے درختوں سے توڑے تھے۔ اور پھر ایک بھورا لکڑی کا دروازہ۔
“شاباش، چلو تم دونوں اپنا ناشتہ ختم کرو، پھر تم دونوں ہر بار لیٹ ہو جاتے ہو یونیورسٹی کے لیے۔” وہ دونوں اسلام آباد کی ایک اچھی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے جو ان کے گھر سے تیس منٹ کے راستے دور تھی۔
“امی، آپ کا لیکچر بہت اچھا ہے، پلیز آپ ایسا لیکچر روز ہماری یونیورسٹی میں دیا کریں،” حمدان نے اپنی چائے کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
ڈائننگ میز پر سفید کانچ کی کپ پلیٹ اور سفید چائے کی کیتلی رکھی ہوئی تھی اور کھانے کے لیے جام، بریڈ اور مکھن رکھا تھا۔
“ہاں، اب تم میری ماں نہ بنا کرو،” نظرین بیگم نے حمدان کو جھڑکا۔
پھر وہ تینوں گھر سے نکلے اور سرمئی رنگ کی اینٹوں والی لمبی گلی کو پار کیا اور مین روڈ پر آئے جہاں پر ٹیکسی ان کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ تینوں ٹیکسی میں بیٹھے اور اپنی اپنی منزلوں کو روانہ ہو گئے۔
******

ان دونوں کو یونیورسٹی چھوڑ کر وہ اپنا انٹرویو دینے کے لیے روڈ کراس کیا اور اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ پہلی بار اس بلڈنگ کو دیکھ رہی تھی۔ شہر کے شور میں “Elysian Enterprises” کا ہیڈ کوارٹر ایک الگ ہی جہان معلوم ہو رہا تھا، جیسے کسی نے سیاہ راتوں میں بیٹھ کر اپنے خواب کی تعبیر سچ کی ہو۔ وہ ایک بیس منزلہ عمارت تھی۔ Elysian Enterprises اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔ وہ ایک سیاہ شیشوں والی عمارت تھی اور کھڑکیوں سے آتی زرد روشنی اس عمارت کو ایک سرور بخش رہی تھی — ایک عالیشان بلڈنگ۔ اس عمارت کے سب سے اوپر بڑے حروف میں “Elysian Enterprises” لکھا دھوپ کی روشنی میں چمک رہا تھا۔
اس نے داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھائے تو دو گارڈز جو عمارت کے دائیں بائیں سیاہ سوٹ میں ملبوس تھے اور اسلحہ ان کے ہاتھ میں تھا، اسے دیکھا اور اپنی سیاہ پینٹ کی جیب سے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا اور تھوڑی دیر بعد دروازہ آٹومیٹک کھلا اور وہ عمارت کے اندر داخل ہوئی۔
عمارت کے اندر کی دنیا بالکل مختلف تھی۔ زرد روشنیاں، کوٹ پینٹ اور مہنگے کپڑے پہنے employees اور workers وہاں آتے جاتے دکھائی دے رہے تھے۔ سفید مہنگی چمکدار ٹائلز شیشے کی طرح چمک رہی تھیں۔ اس نے اپنا عکس دیکھا — سیاہ کوٹ جیسا دکھنے والا عبایہ اور پاؤں میں سیاہ بوٹس، چہرے اور سر پر حجاب، نقاب کیا ہوا تھا، آنکھوں پر سیاہ چشمہ اور ہاتھ میں ایک سیاہ لیدر کا بیگ تھا۔ وہ سیاہی کی ملکہ معلوم پڑ رہی تھی — مگر ہر سیاہ رنگ پہننے والا سیاہ نہیں ہوتا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک خوبصورت عورت جس نے لائٹ میک اپ کیا تھا اور بال messy bun میں قید تھے اور اس نے baby pink رنگ کا کوٹ پہنا تھا اور کوٹ کے اندر سفید women dress shirt — مسکراتے ہوئے اس کے قریب آئی اور مخاطب ہوئی۔
“آپ ہی ہیں Mrs. نور داؤد آفندی؟”
اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ نور نے سر کو خم دیا۔ پھر وہ دونوں لفٹ کی طرف آئیں۔ اس لڑکی نے لفٹ کا open بٹن دبایا اور وہ دونوں لفٹ میں داخل ہوئیں۔ اس لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر floor no. 8 کا بٹن دبایا اور لفٹ اوپر کی طرف بڑھنے لگی۔
“میرا نام شہناز بنگش ہے، میں اس کمپنی کی مینیجر ہوں اور آج میری سیکریٹری busy تھی تو وہ آئی نہیں تو مجھے آنا پڑا آپ کو لینے۔ آپ کا تعارف؟” اس نے مسکراتے ہوئے نور کو دیکھا۔
“میرا نام نور ہے، آپ جانتی ہیں، اور میں graduated ہوں،” اس نے نرم لہجے میں کہا۔
“اچھا، ویسے آپ classic اور independent woman والی vibes دے رہی ہیں — like bossy vibes،” اس نے دل سے اس کی تعریف کی۔ نور نے شکریہ کہا۔
آٹھویں floor پر آ کر لفٹ رکی اور وہ دونوں لفٹ سے باہر آئیں۔ وہ دونوں ایک لمبی سفید ٹائلز والی راہداری میں چلتی جا رہی تھیں، پھر وہ سب سے آخر میں بائیں طرف کے آفس کے سامنے رکیں۔
“یہ ہے boss کا آفس۔ فی الحال تم یہاں waiting area میں بیٹھ جاؤ کیونکہ ابھی اندر انٹرویو چل رہا ہے، انتظار کرنا پڑے گا آپ کو۔”
“ok،” نور نے ایک لفظی جواب دیا۔
تھوڑی دیر بعد اس کا نام پکارا گیا اور وہ آفس کے اندر داخل ہوئی۔ اس نے ایک نظر اس بڑے سے آفس کو دیکھا — سیاہ دیواریں جن پر چھوٹی بڑی paintings سلیقے سے لگائی گئی تھیں اور سب simple تھا، اور ceiling پر زرد lights روشن تھیں۔ کھڑکی سے آتی روشنی اور اضافہ کر رہی تھی، کھڑکی کے اطراف میں سرمئی پردے بندھے ہوئے تھے۔ درمیان سے تھوڑے فاصلے پر ایک بڑی سی office table تھی جس پر آفس کی ضروریات کا سامان تھا اور ایک laptop۔
table کی اس طرف ایک مضبوط اعصاب والا مرد بیٹھا ہوا تھا جو laptop پر کچھ typing کر رہا تھا۔ سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس وہ شخص بہت وجیہ تھا۔ اسے دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اسلام آباد میں پیدا ہوا ہے — وہ باہر سے آیا ہوا کوئی خوبصورت model لگتا تھا۔ شاید وہ خود سے بیزار تھا، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔
اس نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھا اور وہ تھوڑا shocked ہوا تھا — مگر وہ تاثرات چھپانے میں ماہر تھا۔ اس نے پہلی بار کسی لڑکی کو نقاب میں دیکھا تھا۔
“بیٹھیے،” وہ مخاطب ہوا۔ اس نے اپنے سامنے لگی دو چھوٹی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
وہ بے تاثر آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ نظریں جھکائے بیٹھ گئی۔ نور نے بیگ سے اپنی file نکالی اور اس کے سامنے رکھ دی۔ اس نے file کو ایک نظر دیکھ کر سائڈ پر رکھ دی اور سوال کرنا شروع کیا۔
“آپ ایک graduated لڑکی ہیں تو آپ کے پاس کیا کیا skills ہیں، بتائیے؟”
نور نے سوچا اور جواب دیا، “میرے پاس writing skills ہیں اور fashion designing skills بھی۔”
“اچھا،” وہ محظوظ ہوا، “بہت اچھی skills ہیں۔ اگر آپ نے کام کرتے وقت mistake کی تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟”
“Sir، mistakes یعنی غلطیاں ہمیں سبق دیتی ہیں۔ جب تک ہم غلطی نہیں کریں گے تو کبھی نہیں جان پائیں گے کہ غلطی ہونے کے بعد کیسے اسے سدھارنا ہے۔”
“Mmm، interesting. Your mindset is so good،” وہ سوچنے والے انداز میں بولا۔ “آخری سوال — اگر میں آپ کا انٹرویو رد کر دوں اور کہوں کہ آپ یہاں سے چلی جائیں، آپ fail ہو گئیں، پھر؟”
نور نے سر اٹھا کر ایک نظر اسے دیکھا اور کہا، “اگر آپ مجھے fail کر دیں گے تو آپ کا ہی نقصان ہے، کیونکہ ایک failure اچھے سے جانتا ہے کہ غلطیاں کہاں، کب اور کیسے سدھارنی ہوتی ہیں،” اس نے پرسکون لہجے میں کہا۔
“What a confidence — you are talented،” اس نے تعریف کی۔ “چلیں، آپ انٹرویو میں pass ہو گئی ہیں۔ اب آپ Elysian Enterprises کا حصہ ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ ہماری کمپنی کو بلندیوں پر لے کر جائیں گی۔”
نور نے سر کو خم دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ “تو میں کل سے join کرتی ہوں آفس۔”
اس CEO نے اسے اجازت دے دی اور وہ آفس سے باہر آ گئی۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا — یہ اس کی dream company تھی اور آج اسے اس کمپنی میں job مل چکی تھی۔ وہ بہت خوش ہو گئی۔
پھر وہ لفٹ سے واپس نیچے کی طرف آ گئی جہاں پر ایک لڑکی نے اسے روکا اور ایک آفس کی طرف اشارہ کیا۔ وہ آفس میں داخل ہوئی تو وہی شہناز بنگش نامی لڑکی وہاں موجود تھی۔
“آؤ نور۔” نور ایک صوفے پر بیٹھی۔ اس کے سامنے بیٹھی شہناز نے اسے سارا schedule بتایا اور salary package بھی کافی اچھا تھا۔
اس کی skills آج اس کے کام آ گئی اور حوصلہ بھی۔
ہمارے معاشرے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ عورتیں گھروں میں اچھی لگتی ہیں۔ اب میرا ان سے یہ سوال ہے کہ کیا تم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نہیں سنا جو ایک business woman تھیں؟
******
کمپنی سے واپسی پر وہ بہت خوش تھی۔ اس نے ایک mall سے چند کھانے پینے کی اشیاء لیں اور ٹیکسی میں آ کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے سفر کے بعد وہ اپنے گھر پر موجود تھی۔ اس نے کپڑے تبدیل کیے اور عصر کی نماز پڑھ کر وہ sitting area میں موجود تھی جہاں پر نظرین بیگم چائے بنا کر لے آئی تھیں اور ساتھ ہی ان کے لائے شیرمال — وہ سب کھاتے ہوئے چائے پی رہے تھے۔
sitting room کشادہ سا تھا، کریم رنگ کی دیواریں، درمیان میں سفید صوفہ سیٹ اور صوفے کے درمیان کانچ کی گول میز تھی۔ اس کی دائیں طرف والی دیوار پر ایک بڑی کھڑکی بنی تھی جس کے اطراف میں سفید پردے شام کی سرد ہواؤں کی وجہ سے ہلکے ہلکے جھول رہے تھے اور سارا sitting room سفید دودھیا روشنی سے روشن تھا۔
اس کے سامنے چار سیٹر صوفے پر بیٹھی نظرین بیگم نے مخاطب ہوتے پوچھا،
“کیسا گیا تمہارا انٹرویو؟” انہوں نے نرم لہجے میں سوال کیا۔
“بہت اچھا گیا، انٹرویو میں pass ہو گئی، اب کل سے join کروں گی،” اس نے نرم لہجے میں ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
“ماشاءاللہ، اللہ کا شکر ہے — وہی کامیابی دینے والا ہے۔ اللہ ہمیشہ مدد اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ دیکھا، میں کہتی تھی نا — تم بس محنت، صبر، شکر اور دعا کرو اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ دو،” بے شک ان تینوں نے یک لخت کہا۔
“ہاں امی، آپ نے سمجھایا تھا،” نور نے نرمی سے کہا۔
“تم دونوں کا تو test تھا نا آج، کیسا ہوا test؟” نور نے چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔
“بہت اچھا،” ان دونوں نے خوشی سے کہا۔
“ماشاءاللہ، شکر کرنا اللہ کا — اللہ نے ہمیں عقل جیسی نعمت سے نوازا ہے۔”
“بالکل، آپی،” حمدان اور فاطمہ نے چائے اور شیرمال کھاتے ہوئے کہا۔
*******

وہ stage پر کھڑا تھا اور اس کے سامنے بیٹھے لوگ اس کی شخصیت سے محظوظ ہو رہے تھے اور اس کا نام پکار رہے تھے —
“Panther… Panther…”
وہ ہلکی مسکان دے کر واپس سنجیدہ ہو گیا اور stage کی روشنیوں میں وہ ایک الگ ہی داستان رقم کر رہا تھا۔ کچھ حسد سے تو کچھ خوشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔
اس نے بولنا شروع کیا “How are you all — I wish you all are good as was always happy..”
“آج آپ سب کی اس محبت نے مجھے یہاں تک پہنچا دیا ہے، اور میں بس اتنا کہنا چاہوں گا —”
“Win or die.”
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے قدم stage سے نیچے بڑھائے اور ہجوم در ہجوم اس کی طرف بڑھا — مگر bodyguards اور security guards نے اس کی حفاظت کی۔ راستہ بنا کر وہ اپنی سیاہ BMW کی طرف آیا، کیمروں کی روشنیاں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ پھر وہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا اور بہت ساری قطار میں گاڑیاں اس کی سیاہ BMW کے پیچھے تھیں۔
اس نے فون کھولا — اور اس کے wallpaper پر ایک پرانے چھوٹے گھر کی تصویر تھی، ایک سائیکل گھر کے کونے پر کھڑی تھی اور درمیان میں ایک چھوٹا دبلا پتلا لڑکا سنجیدہ تاثرات کے ساتھ کھڑا تھا۔
اس نے فون کی screen بجھا دی اور ایک مسکراہٹ اس کے وجیہ چہرے پر چھا گئی۔
وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی — اس کے کُن فَیَکُون کہنے کی دیر ہے۔
******

شام کے سائے گہرے ہونے لگے جب وہ قصرِ ابراہیم پہنچا۔ اس نے وقت دیکھا — شام کے سات بج رہے تھے۔ اس نے قدم قصر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھائے۔ ایک ملازم نے جو سفید dress shirt اور سیاہ پینٹ میں ملبوس تھا دروازہ کھولا اور سائڈ پر ہو گیا۔ وہ اس خوبصورت قصر کی راہداری میں چل رہا تھا — سارا قصر زرد اور دودھیا روشنی سے جگمگا رہا تھا۔
اس کے قدم sitting area کی طرف بڑھ گئے۔ وہ sitting area میں آیا تو تین نفوس کو باتیں کرتے اور چائے کے گھونٹ بھرتے پایا۔ اس کے دو بہن بھائی تھے — بھائی جو اس سے چھوٹا تھا، ارسلان، اور اس کی بہن جو سب سے چھوٹی تھی — لیل — سنجیدہ اور خاموش طبیعت کی حامل۔ وہی اس کا درمیانہ چھوٹا بھائی ہر وقت قہقہے لگانے والا اور سنجیدہ موضوع پر سنجیدہ ہو جانے والی طبیعت کا حامل تھا۔ اور وہ خود — خاموش، سنجیدہ اور سیاہی میں ڈوبا انسان تھا — مگر اپنی family کے لیے ایک خوش مزاج اور نرم لہجے کا حامل تھا۔ وہ لوگوں کے لیے سخت، سنجیدہ اور Panther تھا — ایک سیاہ پینتھر جس کی نگاہ ہمیشہ اپنے دشمنوں پر گڑی ہوتی تھی۔
وہ مسکراتے ہوئے grey tie کی گرہ ڈھیلی کرتے وہاں درمیان میں رکھے نفیس سفید صوفے پر دراز ہوا جس کے دوسرے سرے پر اس کا چھوٹا بھائی بیٹھا کوئی book پڑھ رہا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے اپنی mama کو سلام کیا۔
“السلام و علیکم mama، کیسی ہیں آپ؟”
“وعلیکم السلام،” laptop پر کام کرتے ہوئے انہوں نے سر اٹھا کر اپنے ذمہ دار بیٹے کو دیکھتے سلام کا جواب دیا۔ “ٹھیک ہوں، بس کچھ کام ہے ضروری — وہ مکمل کرنا ہے،” یہ کہتے ہوئے انہوں نے پھر سے laptop پر سر جھکا لیا۔
ان کا چہرہ پچاس کی عمر میں بھی پچیس سالہ عورتوں جیسا تھا۔ ان کی آنکھیں سرمئی تھیں، بال چاکلیٹ براؤن رنگ کے تھے اور رنگ گورا دودھ جیسا — تندرست صحت کی مالک تھیں۔ سر پر ہمیشہ دوپٹہ اوڑھا ہوا ہوتا تھا۔ آج بھی وہ سیاہ plain لمبی قمیص اور پینٹ میں ملبوس تھیں، پاؤں میں سیاہ flats تھے، ہاتھ کی کلائی پر سیاہ women watch اور دوسرے ہاتھ کی ring finger میں سیاہ ہیرے کی انگوٹھی — جو شاید ان کے شوہر ابراہیم خان نے انہیں اپنی شادی میں دی تھی اور جو انہوں نے آج تک پہنی ہوئی تھی۔
اس نے اپنی سب سے چھوٹی بہن کو دیکھا جو law پڑھنے کے لیے باہر پڑھتی تھی اور چھٹیوں میں گھر پر آئی ہوئی تھی — جو ابھی بھی اپنی law کی کتابوں میں گھسی پڑھ رہی تھی۔
وہ نرم انداز میں بولا، “لیل، ارسلان — کیا آج ہم سب dinner پر چلیں کہیں باہر؟” اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
“ہاں بھائی، کیوں نہیں!” لیل، ارسلان اور سارہ ابراہیم نے ایک ساتھ کہا۔
“واہ — تو آپ سب میرے کہنے کا انتظار کر رہے تھے!” یہ کہتے ہوئے اس نے ارسلان کو اپنے سینے سے لگایا اور پھر لیل کو اپنے پاس بلایا جو سارہ ابراہیم کے قریب بیٹھی تھی۔ وہ اس کے قریب آئی — اس نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور سر پر ہاتھ رکھتے اس کے جوڑے میں قید بالوں کو بگاڑ دیا۔
وہ کھلس گئی، “امی دیکھیں، بربال بھائی کو — یہ ہر بار ایسے ہی کرتے ہیں! اتنی مشکل سے میں نے tutorial دیکھ کر یہ messy bun بنایا تھا!”
“تم تینوں اتنے بڑے ہو گئے ہو مگر حرکتیں دیکھو — پانچ سالہ بچوں والی ہیں،” انہوں نے ہلکی مسکان کے ساتھ تینوں کو ڈانٹا۔
وہ تینوں ہنس پڑے۔
“Ok mama، میں کپڑے change کر لیتا ہوں —

تب تک تم دونوں بھی اپنا حلیہ ٹھیک کر کے آؤ۔ پھر

dad، mama، میں اور تم دونوں چلتےہیں آج

dinner پر

،” کہتے وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ دونوں اپنے کمرے میں کپڑے تبدیل کرنے چلے گئے اور وہ سنگِ مرمر والے زینے پر — جس پر سرخ قالین بچھا تھا — سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *