SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 2.

سكوت قسط نمبر :۲

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

اسلام آباد

اسلام آباد کے کسی کونے میں واقع اس بلڈنگ کی سب سے اوپری منزل کے کمرے کا منظر کچھ اس طرح تھا۔
کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ صرف ایک زیرو بلب کی ہلکی روشنی میں کمرے کا منظر بمشکل واضح نظر آ رہا تھا۔ دیکھنے سے وہ گیسٹ روم لگتا تھا۔ دائیں طرف رکھے صوفہ سیٹ میں سے بڑے اور شاہانہ صوفے پر وہ بیٹھا تھا۔ چہرہ اندھیرے میں چھپا ہوا تھا۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے، ہاتھ میں پکڑے وائن گلاس — جس میں کوئی مشروب تھا — کو وہ دھیرے دھیرے گھما رہا تھا، اور بائیں طرف والے صوفے پر بیٹھے شخص کی بات سن رہا تھا۔

“درّانی مال دینے سے انکار کر رہا ہے، اور زوروچی کے تمام کارندوں کو بھی شاید زیادہ مناسب منافع کی لالچ دے کر ہتھیا لیا ہے۔ تم اس سے بات کرو، شاید وہ باز آ جائے۔”
سنگل صوفے پر بیٹھے شخص کی آواز میں واضح پریشانی تھی۔

“اور؟”
یک لفظی سوال۔

“اور یہ کہ داؤد تم سے بذاتِ خود ملنا چاہتا ہے، یعنی آمنے سامنے۔ ورنہ مال دینے سے انکاری ہے۔”

“اور؟”
اب کی بار آواز میں حیرت تھی۔

“اوپر سے حکم آیا ہے — دونوں کا کام تمام کر دو۔

درّانی کے تمام غیر قانونی کاموں کی پوری فہرست آج رات سے پہلے سوشل میڈیا پر ہونی چاہیے۔ دنیا کے کونے کونے میں مجھے وہ ہیڈلائنز کی سرخیاں بکھیرتا نظر آئے اور داؤد سے کہو — ڈیل بھول جاؤ۔”

وہ روبوٹک لہجے میں کہتا ہوا صوفے سے اٹھا اور کوٹ کا بٹن بند کیا۔

“تم انہیں راستے سے بھی ہٹا سکتے ہو، پھر بیکار میں اتنے جھمیلے کرنے کا فائدہ؟”

وہ جو ایک قدم آگے بڑھا تھا، رک گیا۔ بغیر مڑے جواب دیا —
“میں قاتل نہیں ہوں۔”

دلاور نامی وہ شخص اس کی بات غور سے سننے لگا۔

“سائفر موت نہیں دیتا… بس جینے کی وجہ چھین لیتا ہے۔”
سفاک لہجے میں کہتا ہوا وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

دلاور نے سرد آہ بھری۔ وہ سائفر کو کبھی نہیں سمجھ سکتا تھا، کیونکہ اس کی ہر آخری بات، پہلی بات لگتی تھی۔ وہ سر جھٹکتے اپنا فون نکال کر کسی کو کال کرنے لگا۔
درّانی، جو بہت بڑے پیمانے پر ڈرگز سپلائی کیا کرتا تھا، اور داؤد جو اسلحہ سپلائی کیا کرتا تھا — آج رات سے پہلے منہ کی کھانے والے تھے۔
اور دکھ کی بات یہ تھی کہ اس سب کو کروانے والے کی نہ ان کے پاس کوئی شناخت تھی، نہ کوئی ثبوت۔

دو گھنٹے بعد

دو لڑکیاں کیفے میں بیٹھی کافی انجوائے کر رہی تھیں کہ سامنے ٹی وی پر چلتی نیوز نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

“ناظرین! آپ کو ایک نئی خبر سے آگاہ کرتے چلیں — مشہور بزنس ٹائیکون درّانی خان اسلحے اور ڈرگز کی سپلائی جیسے غیر قانونی کاموں میں ملوث پائے گئے ہیں۔”

سکرین پر درّانی کے چہرے کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ نہ جانے کتنے سالوں کی محنت سے بنایا گیا نام دو ہی گھنٹوں میں خاک میں مل گیا۔

آہ، سائفر… آہ!

“اُف اللہ! کیسے کیسے لوگ ہیں… اپنے ہی ملک میں رہ کر اپنے ہی لوگوں سے دغا کرتے ہیں!”
ایک لڑکی نے غصے سے کہا۔

“خدا برباد کرے ایسے لوگوں کو!”
ساتھ والی نے بھی شمولیت اختیار کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یورپ — فینکفورت

فرینکفرٹ کے ایک پوش علاقے میں واقع کئی بنگلوں میں سے تم اس سفید بنگلے میں داخل ہوتے ہو۔
لاؤنج میں سناٹا تھا۔ صوفے پر بیٹھی وہ انتہا کی خوبصورت عورت پھٹی پھٹی نگاہوں سے فرش کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔
اس کے کانوں میں اوپر سے آنے والی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں جو اسے مزید پریشان کر رہی تھیں۔

سیڑھیوں سے چلتے ہوئے تم اوپر جاؤ تو راہ داری کے آخر میں بنے کمرے کے دروازے پر وہ ٹھہرے تھے۔
پریشان سے دروازہ بجا رہے تھے —
“بیٹا پلیز، دروازہ کھولو… دیکھو، میں ہوں، صرف بابا! پلیز بیٹا!”

“میں خود کو برباد کر دوں گی! آگ لگا دوں گی! میں کہہ رہی ہوں، میں خود کو مار دوں گی!”
اندر کوئی لڑکی ہذیانی انداز میں چیختے ہوئے چیزیں توڑ رہی تھی۔

“پلیز، ایک بار دروازہ کھول دو… مجھے پریشان مت کرو، پلیز بیٹا!”

“میں مار دوں گی! مجھے مر جانا چاہیے! مجھے نفرت ہے آپ سے، سب سے، سارے جہاں سے، اپنے وجود سے!”
اندر سے مسلسل چیزیں توڑنے اور چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

دروازے پر کھڑا وہ بےبس شخص شکستہ قدموں سے ریلنگ تک آیا، اور نیچے بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا۔ اسی وقت عورت نے چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھا۔

“اب یا تو اس گھر میں میں رہوں گی، یا تمہاری وہ سائیکو، جاہل بیٹی!”
تنفر سے کہتی وہ اپنے کمرے میں گھس گئی اور دروازہ زور سے بند کر دیا۔

ریلنگ سے جھانکتے اس شخص نے تھک کر سر جھٹکا، اور آخری نظر بند دروازے پر ڈال کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

بند دروازے کے پار اب وہ لڑکی خاموش ہو چکی تھی۔
اگر تم درز سے جھانکو تو منظر اک پل کے لیے تمہاری سانسیں روک دے — لیکن صرف تمہاری۔

کمرے میں، بیڈ کے کنارے کے ساتھ وہ بیٹھی تھی۔
وہ گھٹنے سینے سے لگائے، کانپ رہی تھی۔ کپکپاہٹ شدید تھی، پورے وجود میں۔
ہر طرف شیشے بکھرے تھے، سارا سامان ٹوٹا ہوا تھا۔
اور وہ محض سولہ سالہ لڑکی۔۔۔ جس کی کلائیوں سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔
گردن پر بھی گہرے زخم تھے۔ فرش پر جگہ جگہ خون کے دھبے تھے۔

دونوں ہاتھوں سے بالوں کو پکڑے، گھٹنے سینے سے لگائے، وہ سامنے کسی غیر مرئی نکتے کو تکے جا رہی تھی
اور ساتھ مسلسل بڑبڑائے جا رہی تھی —

“میں ایسی نہیں ہوں…”
“مجھے مر جانا چاہیے…”
“میں اسی قابل ہوں…”
“کوئی میرا نہیں ہے…”

وہ مایوس ہو رہی تھی —
اور مایوسی نے بھی کبھی سکون دیا ہے بھلا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد

رات کے دو بجے، اُس کی سیاہ گاڑی ایک بنگلے نما گھر کے اندر داخل ہوئی۔
ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر وہ آہستہ سے باہر آیا اور گھر کے اندر کی طرف قدم بڑھا دیے، قدموں میں تھکن تھی، جیسے چلنے کی سکت باقی نہ ہو۔

وہ لاؤنج سے گزرتا ہوا سیڑھیاں چڑھا، اوپر پہنچ کر پہلے نمبر والے کمرے کے دروازے کے قریب آیا۔
دروازہ آہستگی سے کھول کر اندر جھانکا —
اندھیرے میں بیڈ پر کوئی کروٹ کے بل سویا ہوا تھا۔

وہ دبے قدموں سے بیڈ کے قریب آیا، جھک کر سوتے ہوئے نفس کے ماتھے پر ہلکا سا بوسہ دیا عقیدت سے محبت سے ۔
اور پھر جس خاموشی سے آیا تھا، اُسی خاموشی سے لوٹ گیا۔
اپنے کمرے کمرے میں داخل ہو کر اُس نے لائٹ آن کر دی —
کمرہ روشنی میں نہایا، س مگر اُس کے چہرے پر اب بھی رات کی سیاہی گہری تھی۔

وہ کوٹ اتار کر سائیڈ صوفے پر رکھتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل تک آیا۔
گھڑی اتار کر اُس نے والٹ نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ خالی تھی۔
ازمیر نے چونک کر باری باری سب جیبیں چھانیں، پھر اُسے یاد آیا —
اُس نے اپنا والٹ وہیں چھوڑ دیا تھا۔

اُس نے تھک کر ایک گہری سانس لی۔
مزاحم صحیح کہتا تھا… وہ واقعی ڈیفیکٹیو میموری تھا۔
افسوس بھری مسکراہٹ کے ساتھ وہ واش روم میں چلا گیا۔

کچھ دیر بعد جب وہ باہر نکلا تو بلیک ٹراؤزر اور سفید پولو شرٹ میں تھا۔
سیاہ گیلے بال ماتھے پر بکھرے تھے، جنہیں وہ تولیے سے رگڑتا ہوا صوفے تک آیا۔
تولیہ سائیڈ پر رکھتے ہوئے اُس نے ٹیبل پر رکھا موبائل اٹھایا —
نوٹیفیکیشنز کی قطار: بزنس، سوشل میڈیا، واٹس ایپ۔

وہ سب کو ایک ایک کر کے سین کرتا گیا اور آخر میں واٹس ایپ کھولا۔
مزاحم کا وائس نوٹ اور چند تصویریں موجود تھیں۔
اُس نے ریکارڈنگ پلے کی تو مزاحم کی چہچہاتی آواز ابھری:

> “ذرا بتانا، ڈیفیکٹیو میموری ہوں نا؟ کمال کا فوٹوگرافر!”

 

ازمیر نے حیرت سے پکس اوپن کیں۔
تصویر میں بیک گراؤنڈ میں طرح طرح کے پھولوں سے سجا ریک تھا،
اور اُن کے سامنے ایک دراز قد، سفید شرٹ اور کالی اسکرٹ میں خوبصورت لڑکی ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔
اُس کے سامنے پنجوں کے بل جھکا ہوا، سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں ایک وجیہ مرد تھا،
جو شیشے کے ٹکڑے کو ہاتھ میں رکھ رہا تھا۔

دوسری تصویر میں وہ مرد چہرہ اوپر کیے ہوئے تھا —
تصویر واقعی خوبصورت تھی، جیسے کسی نے دل سے ایک ایک زاویہ ترتیب دیا ہو۔

ازمیر نے تصویر کو غور سے دیکھا،
پھر بے اختیار زوم کر کے لڑکی کے چہرے پر نگاہ جمادی۔
چہرہ واضح نہیں تھا، مگر واضح تھا وہ سانس روکے اس کے چہرے کو دیکھے گیا ۔

کمرے کی خاموشی نے سرگوشیاں کیں —
فضا میں ایک ہلچل سی اٹھی،
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اُس کے چہرے پر ایک انوکھی مسکراہٹ رینگ گئی۔

یک دم ازمیر کے دک میں ہلچل مچی تھی اور اسی ہلچل کو محسوس کرتے اچانک ہی اُس نے تصویر بیک کی،
فون بند کیا اور سائیڈ صوفے پر پھینک دیا۔

چہرے پر ہاتھ پھیرا،
انگشتِ شہادت اور انگوٹھے سے تھوڑی سہلائی،
پھر دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا — پٹی غائب تھی، مگر زخم اب بھی نمایاں۔

اُسے بے اختیار وہ لڑکی یاد آگئی — اُس کا جھکا چہرہ۔
ازمیر نے جھرجھری لی۔
وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہو رہا تھا۔

گہری سانس لیتے ہوئے صوفے سے اٹھا،
مزاحم کو دل ہی دل میں سو بار کوسا،
اور بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔

بیڈ پر بیٹھتے ہی، سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں اسے اپنی جھلک نظر آئی —
سیاہ چمکتی آنکھیں، سفید رنگت، اٹھی ہوئی ناک،
اور ماتھے پر بکھرے بھورے، سلکی بال۔

مگر جس چیز نے اُسے ٹھٹکنے پر مجبور کیا،
وہ اُس کے چہرے پر غیر معمولی چمک تھی۔

وہ بے اختیار توبہ استغفار پڑھنے لگا،
اور مزاحم پر لعنت بھیجتے ہوئے فوراً لائٹس بند کیں۔
بیڈ پر جا کر سر تک لحاف اوڑھ لیا۔

باہر رات آہستہ آہستہ پھسل رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

آج شاہ ہاؤس میں خاصی رونق لگی ہوئی تھی۔
لاؤنج میں قہقہے گونج رہے تھے، سب صوفوں پر بیٹھے خوشگوار انداز میں باتیں کر رہے تھے —
سوائے پلویشا اور محراب کے۔

وہ دونوں پلویشا کے کمرے میں موجود بیڈ پر بیٹھی تھیں۔

“اب اِن شاء اللّٰہ، صائم اور پلویشا کی شادی بھی خیر سے ہو جائے گی!”
حارث صاحب نے مسکراتے ہوئے صائم کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“جی، اِن شاء اللّٰہ!” صائم نے بھی مسکرا کر جواب دیا۔

“طاہر بھائی، ایونٹ میرج ہال میں ارینج کیا ہے یا شاہ ہاؤس میں ہی کریں گے؟”
حارث کی بیوی نے پوچھا۔

“بھابھی، ابھی تو سوچا نہیں، مگر ارادہ میرج ہال کا ہے —
وہ بھی صائم کی خواہش پر۔ جناب چاہتے ہیں بیگم کو کچھ فاصلے سے رخصت کر کے آئیں۔”

“ہاں تو لگنا تو چاہیے نا کہ میری شادی ہے، کسی اور کی نہیں!”
صائم نے سنجیدگی سے کہا، جس پر سب ہنس پڑے۔

ان سب کو ہنستہ چھوڑ کر اگر تم پلویشا کے کمرے میں آو تو پلویشا اور محراب بیڈ پر بیٹھی باتوں میں مگن تھیں —

“تمہیں پتہ ہے محراب، جب میں صائم کو اپنے ساتھ تصور کرتی ہوں،
تو لگتا ہے جیسے زندگی کی ساری خوشیاں اللّٰہ نے میری جھولی میں ڈال دی ہوں۔
لگتا ہے جیسے اب ساری مشکلات ختم ہو گئی ہیں…”

پلویشا کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہہ رہی تھی۔
محراب نے اُس کی آنکھوں میں چمک دیکھی۔

“اور سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔
اتنی کہ میں بتا نہیں سکتی تمہیں۔
اب تو واقعی ڈاکٹر طاہر کی بات پر یقین آ گیا ہے —
کہ پلویشا وہ نفس ہے جس سے محبت کی جائے،
جس سے محبت ہو جائے، اور جس سے محبت نبھانے کا دل چاہے۔”

پلویشا کی آواز میں مٹھاس گھل گئی تھی۔
محراب مسکرا دی — وہ اُس کی دوست تھی،
وفادار، اور اُس کے احساسات کی قدر کرنے والی۔

“پلویشا، صائم نے تمہیں فیس ٹو فیس کبھی پرپوز کیا ہے؟”
محراب نے چھیڑتے ہوئے پوچھا۔

پلویشا ایک پل کو رکی،
آنکھیں بند کیں، پھر ہولے سے مسکرا کر بولی:

“ہاں، اُس نے کہا تھا…
میں اُس کے لیے بہت خاص ہوں، وہ مجھ سے دور نہیں رہ سکتا،
اُسے میری دوری ڈراتی ہے۔”

“بڑا رومینٹک بندہ ملا ہے تمہیں، خوش قسمت ہو!”
محراب نے ہنستے ہوئے کہا۔

پلویشا کے گال شرم سے سرخ ہوگئے۔
بائیس سالہ پلویشا، صائم کے ذکر پر ہمیشہ یوں ہی شرما جاتی تھی۔

“یہ تو بتاؤ، ویڈنگ ڈریس کون سے کلر کا چُنا ہے تم نے؟”
محراب نے چپس کھاتے ہوئے پوچھا۔

“ریڈ!” — پلویشا نے فوراً کہا۔

“آہ کم آن پلویشا! ریڈ کچھ اولڈ فیشن نہیں لگے گا؟”
محراب نے ناک سکوڑی۔

“نہیں! ریڈ، گہرا ریڈ لہنگا ہو گا۔
میں وہ دلہن بننا چاہتی ہوں جو یاد رہ جائے،
جس کا ذکر ہو…”

پلویشا کی آنکھوں میں فخر اور غرور کی چمک تھی —
اُسے اپنے آپ پر، اپنی محبت پر غرور تھا۔
اور یہی غرور شاید اُس کے جزبات کے اظہار میں رکاوٹ بھی تھا۔

“یہ بھی ٹھیک ہے…”
محراب نے مسکرا کر کہا۔

اسی دوران نیچے لاؤنج میں باتوں کا موضوع بدل چکا تھا۔
حارث اور طاہر کسی کیس پر گفتگو کر رہے تھے۔

“مجھے ایک بار اُس کے گھر تک رسائی مل جائے،
پھر اُسے سلاخوں کے پیچھے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا!”
حارث نے سنجیدگی سے کہا۔

“تمہیں پتہ ہے نا، اس بار تم نے غلط بندے کے کیس پر ہاتھ ڈالا ہے،
ذرا سنبھل کر رہنا!” طاہر نے تنبیہ کی۔

“میرا کام ہی ایسا ہے طاہر…
چاہے چھوٹا کریمنل ہو یا بڑا، خطرہ تو ہمیشہ رہتا ہے۔
مگر اب اسی ڈر سے ظالموں کو ظلم کرنے بھی تو نہیں دیا جا سکتا!”
حارث نے مضبوط لہجے میں کہا، اور صائم کو آتا دیکھ کر مسکرا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسلام آباد

اتوار کی صبح تھی اور سردی کا زور مزید بڑھ گیا تھا۔ صبح ہونے والی بارش کی وجہ سے سڑکیں گیلی گیلی سی تھیں۔
ایسے میں وہ اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا پرفیوم چھڑک رہا تھا کہ اچانک اس کے فون پر رنگ ہونے لگی۔
فون بیڈ کی دوسری جانب رکھی میز پر چارجنگ پر لگا تھا۔ اس نے فون بجنے دیا اور اپنی تیاری پر ہی فوکس رکھا۔

کچھ وقت بعد وہ فون کی طرف آیا اور کال باکس چیک کیا۔ مزاحم کی کال آئی ہوئی تھی۔ اس نے کال بیک کرنے کے بجائے “آرہا ہوں” کا میسج لکھ کر سینڈ کیا اور نیچے کی طرف بڑھ گیا۔

وہ ڈائننگ ٹیبل تک پہنچا۔
ڈائننگ ٹیبل سے کچھ فاصلے پر اینڈرو، ہینری، جیسیکا اور میکس مودبانہ انداز میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
ازمیر نے دیکھا کہ وہ سامنے بیٹھی ہیں — سفید نفیس سوٹ میں، ایک طرف کو چادر ڈالے، مسکراتا چہرہ لیے وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔

وہ سیاہ جینز پر سفید ٹی شرٹ کے ساتھ لیدر کی قیمتی جیکٹ پہنے تھا۔ بال جیل سے سیٹ کیے ہوئے، سیاہ آنکھوں میں چمک لیے وہ ان کی جانب بڑھا۔ ان کی کرسی تک آ کر جھکا اور ان کی پیشانی پر لب رکھے۔

“طبیعت کیسی ہے آپ کی؟”
وہ محبت سے پوچھتا ہوا اپنی سربراہی کرسی پر بیٹھ گیا۔

“ہر وقت طبیعت کا پوچھ کر بوڑھا ثابت کرنے کے درپے رہتے ہو!”
انہوں نے مصنوعی خفگی سے کہا اور اپنا جوس گلاس اٹھایا۔

ازمیر نے ہنستے ہوئے احتیاط سے کانٹا اٹھایا۔
“ہاتھ پر چوٹ لگی ہے؟” ازمیر کی ماں نے چونک کر پوچھا۔
“جی، ٹوٹا شیشہ لگا تھا ہاتھ پر۔” ازمیر نے خجل ہو کر جواب دیا۔

اس کے رویے پر حسبِ عادت ایک طرف کھڑے چاروں نفوس نے زہر کا گھونٹ بھرا — کیوں کہ سامنے بیٹھا انا پرست اور مغرور شخص ماں کے سامنے بالکل سیدھا تھا۔

“تو بینڈیج تو کروا لیتے بیٹا، یا مجھ سے کہہ دیتے!”
وہ پریشانی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولیں۔

ازمیر جو جواب دینے ہی لگا تھا، فون پر ایک غیر شناسا نمبر سے کال آنے لگی۔
“ایک منٹ، مام!”
اس نے معذرت کرتے ہوئے کال اٹھائی۔

“ہیلو؟”

“آپ کل اپنا والٹ میری شاپ پر بھول گئے تھے۔”
ازمیر کے کانوں میں سحر انگیز نسوانی آواز گونجی —
اور اسے مخاطب کو پہچاننے میں ایک لمحہ لگا۔

“Oh yes! میرا دھیان نہیں گیا تھا اس طرف، میں آ جاتا ہوں لینے۔ آپ شاپ پر ہوں گی نا؟”

“جی ہاں، میں شاپ پر ہی ہوں گی۔ آپ یہیں آ جائیے۔”
“Thank you!”

ازمیر نے فون بند کرتے ہوئے اپنی ماں کو دیکھا جو اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

“ہینری، جاؤ فرسٹ ایڈ باکس لے آؤ۔”
انہوں نے انگریزی میں مودبانہ انداز میں ہاتھ باندھے کھڑی ہینری سے کہا۔

“مام، رہنے دیں، میں نے کروائی تھی بینڈیج۔ چوٹ زیادہ گہری نہیں۔ ہینری، رہنے دو۔”
وہ ماں کو تسلی دیتے ہوئے بولا۔

“ویسے یہ لگی کہاں سے؟”
ازمیر کی ماں نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے سرسری انداز میں پوچھا۔

“کل مزاحم کے کہنے پر…”
وہ آہستہ آہستہ ناشتہ کرتے ہوئے ماں کو مختصر جملوں میں پوری بات بتانے لگا۔ انداز بےنیاز سا تھا۔

“ہممم، لیکن ایک بات قابلِ غور ہے — تم اس کی بات مان کیسے گئے؟”
مام نے ہنسی دباتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔

“وہیں تو، مام! میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ وہ بات منوانے کا ہنر جانتی ہے۔ اس نے مجھ سے ایک بار بھی نہ غصے سے بات کی، نہ ہنسی۔ پورا وقت چہرہ صرف سنجیدہ رہا، مگر اس کے لہجے میں ایسا تاثر تھا کہ کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
اسے مجھ سے کوئی غرض نہیں تھی کہ میں کون ہوں، کیا کرتا ہوں، کتنی شہرت ہے۔
اسے بس اپنا فرش صاف کروانا تھا اور وقت بچانا تھا۔
اور جب وہ میری بینڈیج کر رہی تھی، تب بھی وہ مجھ پر یا کسی اور چیز پر توجہ نہیں دے رہی تھی — وہ محو تھی، گم تھی، جیسے دنیا ہی بھول گئی ہو۔”

ازمیر نے ٹرانس کی سی کیفیت میں اپنی ماں کو سب بتایا۔

“ہممم، لگتا ہے واقعی بہت پُراسرار رہی ہے۔”
ماں نے بیٹے کو بغور دیکھتے ہوئے تائید کی۔

یکدم ازمیر کو اپنی باتوں کا احساس ہوا، اور بےاختیار شرمندگی نے اسے گھیر لیا۔
وہ ہمیشہ کی طرح ماں کے سامنے بےبس ہو گیا۔

“اچھا مام، اپنا خیال رکھیں گا۔”
وہ اٹھتے ہوئے بولا، اور بغیر ان کی طرف دیکھے موبائل اٹھا کر وہاں سے چلا گیا۔

ازمیر کی ماں نے جاتے ہوئے بیٹے کی پشت دیکھی، مسکرائیں اور خود سے کہا:
“اس نے پورا وقت ایک بار بھی تم پر توجہ نہیں دی، اور تمہاری توجہ صرف اسی پر تھی۔ کم عقل!”
انہوں نے ہنس کر سر جھٹکا۔

وہ اپنی کار میں آ کر بیٹھا اور سر اسٹیئرنگ پر رکھ دیا۔
“ڈیم اٹ! کیا ضرورت تھی مام کو اس کے بارے میں اتنا ڈیٹیل سے بتانے کی؟ اف ازمیر، اف!”
اس نے سر جھٹکتے ہوئے کار اسٹارٹ کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

اسلام آباد میں واقع وہ محل جیسا گھر پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا، اپنے اندر تمام تر رازوں کو چھپائے ہوئے۔۔۔

“تم کون ہو؟ اگر میں گھٹیا ہوں تو ہاں!”
لاؤنج میں کھڑی وہ خوبصورت عورت اپنی پوری طاقت سے چیخی۔

“آواز نیچے کر کے بات کرو تم!”
صوفے پر کروفر سے بیٹھا مرد ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا۔

“کیوں آواز نیچے کروں میں؟ ہاں! تم جو کچھ بولو وہ ٹھیک، میں بولوں تو تمہاری دو کوڑی کی انا کو تکلیف ہوتی ہے!”
عورت پھر پوری شدت سے دھاڑی۔

“اب اگر تمہاری آواز مدھم نہ ہوئی تو دیکھنا، میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں!”
مرد انگلی دکھا کر وارننگ دیتے ہوئے دوبارہ موبائل کی جانب متوجہ ہوا۔

“کیا کرو گے تم؟ بتاؤ، کیا کرو گے؟ مارو گے؟ آؤ، مارو! ہاتھ اٹھاؤ مجھ پر! اور تم کر ہی کیا سکتے ہو؟”
عورت اس کے ہاتھ سے موبائل جھپٹتے ہوئے بولی۔

“ہاہاہا! تم ابھی مجھے جانتی نہیں ہو، ماہ جبین!”
مرد نے اس کی حالت پر قہقہ لگاتے ہوئے چوٹ کی۔

“میں تمہیں بہت اچھے سے جانتی ہوں، اور اب میں تمہیں تمہاری اوقات دکھاؤں گی!”
عورت تنفر اور غصے سے کہتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی، اپنے بیٹے کو ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی آوازیں دینے لگی۔

مرد نے کھول کر اوپر جاتی اپنی بیوی کو دیکھا اور اس کے پیچھے جانے لگا۔
“ماہ جبین، تماشہ مت بناؤ!”
وہ چبا چبا کر کہتا اس کے پیچھے بڑھا۔

“میں تمہارے بیٹے کو تمہاری اصلیت بتاؤں گی، کہ تم کس قدر گھٹیا شخص ہو!”
وہ چیختی ہوئی ایک کمرے کا دروازہ دھاڑ کر کھولتی اندر گئی۔

اندر ایک اٹھارہ سالہ خوبصورت لڑکا بیڈ پر بیٹھا تھا۔ سر میں شدید درد کے باعث وہ ابھی گولی کھا کر ہی بیٹھا تھا کہ اس کی ماں کمرے میں چیختی ہوئی داخل ہوئی۔

“ادھر آؤ!”
وہ چیختی ہوئی بیٹے تک آئی اور بازوؤں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ لڑکا حیران کھڑا رہ گیا۔

“یہ! یہ جو تمہارے باپ ہیں نا، ایک نمبر کے گھٹیا شخص ہیں! یہ دیکھو—انہوں نے مجھے مارا ہے، کہتے ہیں میں بدکردار ہوں!”
وہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی اپنا گال دکھانے لگی، جس پر انگلیوں کے نشان تھے۔

“ماہ جبین! میں نے کہا، نکلو یہاں سے!”
مرد پورے عرصے میں پہلی بار دھاڑا۔

“نہیں نکلوں گی! تمہاری اصلیت بتا کر ہی نکلوں گی یہاں سے، سمجھ آئی بات؟”
وہ غرّاتے ہوئے شوہر کو دیکھ کر بولی۔ اگلے ہی لمحے، اس کی بولتی منہ پر پڑنے والے ایک زناٹے دار تھپڑ نے بند کر دی۔

اچانک لڑکے کے منہ سے ایک چیخ برآمد ہوئی۔

اور پھر یکے بعد دیگرے، وہ فیض نامی آدمی اپنی بیوی کو تھپڑوں سے مارتا ہوا دیوار تک لے گیا۔
بالوں سے پکڑ کر اس کا سر جھنجوڑتے ہوئے بولا،
“سمجھ نہیں آتی تمہیں ایک بات، گھٹیا عورت!”

جب وہ مار مار کر ہانپ گیا تو پیچھے ہٹا، اور بغیر کسی کو دیکھے کمرے سے باہر نکل گیا۔

ماہ جبین ساکت نگاہوں سے زمین کو گھورنے لگی۔
لڑکا پھٹی پھٹی آنکھوں سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔ دل جیسے جسم سے باہر نکلنے کو تھا۔ ٹانگیں شل، دماغ مفلوج۔ وہ وہیں بیڈ کے ساتھ زمین پر ڈھیر ہو گیا۔

“امی، امی! وہ میڈم اور فیض صاحب کا جھگڑا ہوا ہے!”
سرونٹ کوارٹر میں ایک نوجوان لڑکی بھاگتی ہوئی آئی اور تیز لہجے میں اپنی ماں سے بولی۔

“یہ تو ہر دوسرے دن ہوتا ہے، اس میں کون سی بڑی بات ہے۔”
ماں نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا۔

“مگر کیوں لڑتے ہیں صاحب؟ اتنی حسین بیوی ہے!”
بیٹی نے افسوس سے کہا۔

“شک کرتے ہیں فیض بابا۔ حالانکہ پسند کی شادی کی تھی، مگر اب کہتے ہیں کہ بیوی کے کسی اور سے تعلقات ہیں۔ اس لیے ہر وقت اسے بدکردار اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہتے ہیں۔ پھر ماہ جبین چلاتی ہیں، پھر فیض بابا مارتے ہیں۔ مگر دو تین گھنٹے بعد دونوں ٹھیک ہو جاتے ہیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ پھر دو دن بعد دوبارہ طوفان آ جاتا ہے۔”
ماں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔

“یہ تو بہت غلط ہے۔”

“ہم کیا کر سکتے ہیں اب اس میں؟ اچھا، تم جاؤ اور رات کے کھانے کی تیاری کرو، میں آتی ہوں۔”
“اچھا۔”

چار گھنٹے بعد وہ تینوں لاؤنج میں بیٹھے تھے۔
فیض کوئی بات کر رہا تھا اور ماہ جبین مسکرا کر جواب دے رہی تھی۔
صرف ایک دفعہ کی معافی، اور پھر دونوں ایسے ٹھیک جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

فیض نے کوئی مذاق کیا، جس پر ساتھ بیٹھا لڑکا ہنس رہا تھا۔
ہاں، وہ بھی نارمل ہو گیا تھا۔ دماغ نے سوچنا شروع کر دیا تھا، دل نے دھڑکنا، اور ٹانگوں نے بھی ساتھ دے دیا تھا۔

وہ ہنس رہا تھا — نہ جانے کس بات پر…
باپ کے کیے گئے مذاق پر؟
اپنے آپ پر؟
یا قسمت پر؟

وہ اٹھا اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے کمرے کی طرف گیا۔
سٹڈی ٹیبل پر بیٹھ کر شکستہ انداز میں اپنی گہرے سرمئی رنگ کی ڈائری کھولی، اور اس پر الفاظ گھسیٹنے لگا۔

باہر وقت آہستہ آہستہ گزر رہا تھا۔

ایک گھنٹے بعد
باتھ روم سے پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی۔ شاید وہ شاور لے رہا تھا۔
سٹڈی ٹیبل پر رکھی ڈائری کھلی ہوئی تھی، اس کے صفحے پر لکھا تھا:

> “مجھے اپنے ماں باپ سے نفرت ہے۔ صرف نفرت!
مگر نہ جانے کیوں پھر بھی دل ان سے محبت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اللہ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا — بالکل نہیں!
سب کو اچھی زندگی دی، صرف میری عذاب سے بھرپور ہے۔”

 

اچانک وہ باتھ روم سے تولیہ رگڑتا ہوا نکلا،
ڈائری دھپ سے بند کی،
اور ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔

وہ کافر ہو رہا تھا —
اور کفر بھی کبھی سکون دیا کرتا ہے بھلا؟


اسلام آباد

بلیو ایریا میں سورج آہستہ آہستہ ڈھلنے میں مصروف تھا۔ سڑک پر بھاگتی کچھ گاڑیاں واپس اپنی پناہ گاہوں کو جانے کی تیاری میں تھیں۔ ایسے میں ایک سیاہ تیز رفتار کار میں وہ اور مزاحم موجود تھے۔

وہ مزاحم کے ساتھ پہلے کورٹ گیا تھا جہاں اسے ضروری رپورٹ درج کروانی تھی۔ مزاحم کے “ارجنٹ ارجنٹ” کرنے پر وہ چاروناچار کورٹ چلا گیا۔ واپسی پر وہ گاڑی میں بیٹھا ڈرائیونگ کر رہا تھا، جب مزاحم نے پوچھا:
“اب بتاؤ کیا ضروری کام ہے تمہیں؟”

“تمہارے پیچھے کل میں اپنا والٹ بھول گیا تھا، وہیں لینے جا رہا ہوں — اسی فلاور شاپ پر۔”
ازمیر نے اسے گھورتے ہوئے جواب دیا۔

“ہاں، یہ الزام بھی مجھ پر ڈال دو! مگر یہ نہیں مانو گے کہ تمہاری میموری ڈیفیکٹو ہے!” مزاحم نے تپ کر کہا۔

“تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔”
ازمیر نے گاڑی کچھ فاصلے پر روکی اور اترتے ہوئے بولا۔

مزاحم نے سر جھٹکا اور ازمیر کو دیکھ کر آواز لگائی،
“ویسے اگر وہ تصویریں پوسٹ کر دو تو لوگوں کو بہت پسند آئیں گی!”

ازمیر جو آگے بڑھ رہا تھا، اس کی آخری بات پر لعنت بھیجتے ہوئے ان سنی کرتا ہوا شاپ کی طرف چلا گیا۔
گلاس ڈور پر “کلوز” کا بورڈ دیکھ کر وہ کچھ لمحے کو رکا، پھر فون نکال کر اسی نمبر پر کال کرنے لگا جس سے صبح کال آئی تھی۔

دوسری طرف تیسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔
“آپ…”— اس سے پہلے کہ ازمیر کچھ کہتا، نسوانی آواز ابھری:

“میں نے صبح کہا تھا آپ آ کر والٹ لے جائیں، مگر آپ آئے نہیں۔ خیر، شاپ فی الحال آف ہے۔ آپ ایسا کریں، جناح سپر مارکیٹ (ایف-7 مرکز) آ جائیں۔ میں وہاں پلازہ کے سامنے کھڑی ہوں۔ اللہ حافظ۔”

وہ ہمیشہ کی طرح پُرسکون انداز میں بولی اور ازمیر کی ایک بھی بات سنے بغیر فون بند کر دیا۔

ازمیر نے ہاتھ میں پکڑا فون دیکھا، پھر سر جھٹکتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
سورج ڈھل چکا تھا۔

جناح سپر مارکیٹ، ایف-سکس سے کچھ ہی فاصلے پر تھی۔
رات کے وقت مارکیٹ کی روشنیوں نے پوری سٹریٹ کو ہلکے سنہری رنگ میں نہلا دیا تھا۔ کیفے اور ریسٹورنٹس لوگوں سے بھرے تھے۔ کچھ لوگ گروپس میں، کچھ اکیلے سڑکوں پر چل رہے تھے۔

پارکنگ کے رش کی وجہ سے ازمیر نے گاڑی تھوڑی دور روکی۔
“تم ویٹ کرو میرا، میں آتا ہوں۔”
“ہمم۔” مزاحم نے فون سے نظریں ہٹائے بغیر سر ہلا دیا۔

ازمیر پیدل چلتا ہوا لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتا آگے بڑھا۔
اسے یاد نہیں تھا کہ کورٹ کے علاوہ آخری بار کب وہ کسی ایسی جگہ آیا تھا جہاں اتنی زندگی، اتنی رونق ہو — وہ بھی اکیلا۔

سڑک کے کنارے تیز قدموں سے چلتے ہوئے اچانک اس کی نگاہ ایک سمت ٹھہری۔
وہ تھی — سفید فلیٹ سینڈل میں، کیمل کلر کی سکرٹ اور سفید سوئیٹ شرٹ پہنے، کراس باڈی پرس اور کندھے پر لٹکے شولڈر بیگ کے ساتھ۔
ہوا اس کے کھلے بالوں کو چہرے پر لاتی جاتی تھی، اور وہ بے نیاز ہاتھ باندھے سامنے دیکھ رہی تھی۔

ازمیر ایک پل کو پلک جھپکنا بھول گیا۔
وہ بھول گیا کہ وہ کہاں ہے، کیوں ہے — اُسے بس وہ نظر آ رہی تھی، اور صرف وہ۔

ایک لمحہ۔۔۔
دوسرا لمحہ۔۔۔

اور پھر پاس سے گزرتے کسی لڑکے کے بلند قہقہے نے یہ تسلسل توڑ دیا۔
ازمیر نے آنکھیں میچیں — “آہ، یہ لڑکی اس کا کڑا امتحان لیتی ہے…”

اس نے گھڑی دیکھی۔ وہ پندرہ منٹ سے وہاں کھڑی تھی۔
ازمیر کو بے اختیار افسوس ہوا کہ وہ کتنی دیر سے انتظار کر رہی ہے۔

(آہ، تو جناب کو بھی کسی کی فکر ہو گئی؟)

اس نے رفتار تیز کرتے ہوئے اس کے قریب قدم بڑھائے۔

“ایکسکیوز می!”
وہ تین قدم کے فاصلے پر رکا۔

لڑکی نے آہستگی سے اس کی طرف دیکھا۔
اور پھر… وقت تھم سا گیا۔

رش میں چلتے لوگ رک گئے ، ریسٹورنٹ میں کھانا منہ تک لے جاتے لوگوں کا ہاتھ راستہ میں ہی رک گیا ، گٹار بجاتے نوجوان کی دھن وہی پر بند ہو گئی — سب لمحے بھر کو ساکت ہو گئے۔
ایک لمحے کے لیے یہ منظر کسی فلمی سین جیسا لگا۔

“سوری، میں پھر لیٹ ہو گیا۔”
ازمیر کے لہجے میں پہلی بار نرمی تھی۔

“اِٹس اوکے، بعض اوقات تاخیر ہمارے بس میں نہیں ہوتی… کھبی کھبی وقت ہمارا ساتھ نہیں دیتا۔”
وہ چہرہ جھکائے اپنے شولڈر بیگ سے والٹ نکالنے لگی۔

ہوا کے جھونکے سے اس کے بال چہرے پر آئے، مگر اس نے انہیں ہٹایا نہیں۔
وہ ہر شے سے بے نیاز لگ رہی تھی۔

“چیک کر لیجیے۔”
اس نے والٹ آگے بڑھایا۔

“نہیں، ضرورت نہیں، تھینک یو۔”
ازمیر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“اگر یہاں کوئی مرد واپس کرتا تو آپ سب کچھ کھول کر چیک کرتے…
مگر اگر عورت دے تو آپ لوگ آنکھوں پر پٹی کیوں باندھ لیتے ہیں؟”
وہ سنجیدگی سے بولی۔

ازمیر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
پھر خاموشی سے والٹ کھولا، سب چیزیں دیکھیں، اور کہا،
“تھینک یو۔”

وہ اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتا رہا اس کی آنکھیں ازمیر کو سحر کر دیتی تھی وہ اسے دیکھتے رہا یہاں تک کہ— وہ مڑ گئی۔
ان کی ملاقات ختم ہو گئی تھی۔

وہ جانتا تھا یہ چند منٹ شاید وہ کبھی نہیں بھلا پائے گا —
اور شاید بھلانا بھی نہیں چاہتا تھا۔

اسٹریٹ پر دونوں ایک دوسرے سے پشت کیے، آہستہ آہستہ دور جا رہے تھے۔
ان کا سفر تمام ہوا۔

قریب بیٹھے میوزی شن نے ایک اداس دھن چھیڑ دی — ایسی دھن جو دل کے اندر تک اتر جائے۔

ازمیر واپس گاڑی میں آیا۔
“ازمیر، تمہارا فون ہے تمہارے پاس؟”
“ہاں کیوں؟”
“بس سوچا، کہیں اس بار فون بھی بھول نہ گئے ہو۔ وہ دراصل ایسے اتفاق ہمارے ساتھ ہوتے ہی نہیں نا…”
مزاحم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

ازمیر کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
“مزاحم، تم منہ بند ہی رکھا کرو — یا شادی کر لو، شاید میری جان چھوٹ جائے۔”

“میرے بھی یہی جذبات ہیں، ڈیفیکٹو میموری!”
مزاحم ہنستے ہوئے بولا۔

ازمیر نے جل کر رخ پھیر لیا۔
(ہاں ٹھیک ہے، وہ کبھی کبھی بات کرتے بھول جاتا تھا، چیزیں رکھ کر بعد میں یاد آتی تھیں…
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُس کی میموری خراب تھی — ہنہہ!)

جناح سپر مارکیٹ نے ان کی کار کو دور جاتے دیکھا — جیسے ایک کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

لاہور

اس بڑی اور پرانی عمارت کے اندر بنے مختلف کیبنز میں سے ایک میں حارث بیٹھا تھا۔ وہ تیزی سے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا کہ اچانک اس کے پاس شاکر نامی لڑکا آیا۔

“حارث صاحب، آپ کو لطیف صاحب بلا رہے ہیں۔”

“اچھا، میں آتا ہوں۔”
حارث نے بغیر اس کی طرف دیکھے لیپ ٹاپ بند کیا اور وہاں سے اٹھ کر اپنے باس لطیف صاحب کے کمرے کی طرف گیا۔

“مئے آئی کم اِن، سر؟”
اس نے دروازہ ناک کر کے کھولا۔

“ہاں ہاں، آؤ حارث۔”
لطیف صاحب کسی فائل پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ حارث کی طرف دیکھ کر انہوں نے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔

حارث قدم قدم چلتا ان کے سامنے آیا اور ان کے اشارے پر سامنے رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

“حارث، تم نے ایک کیس لیا تھا مجھ سے، کیا بنا اس کا؟”
انہوں نے فائل بند کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

“سر، اِن شاءاللّٰہ کیس کامیاب جائے گا۔ میں نے چند انویسٹیگیشن ایجنسیز کے کچھ لوگوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔ جتنا مواد ‘سائفر’ کی پہنچ تک استعمال ہو سکتا تھا، اسے ایک فائل کے طور پر سیکیور کر لیا ہے۔ اب بس ایوب واپس آ جائے — اُسے میں نے ایک اسمگلر کے طور پر بھیجا ہے۔ ممکن ہے وہ سائفر سے ملنے میں کامیاب ہو جائے، ورنہ بھی مجھے یقین ہے کہ وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹے گا۔”
حارث نے مطمئن لہجے میں کہا۔

“یہ تو ٹھیک ہے، مگر ایوب کون ہے؟”
انہوں نے ٹہر کر پوچھا۔

“سر، وہ میرا دوست ہے۔ پہلے میری طرح انٹیلیجنس آفیسر تھا، بعد میں کچھ کرائسس کے باعث اس نے یہ کام چھوڑ دیا۔”

“کون سے کرائسس؟”
لطیف صاحب نے حیرانی سے پوچھا۔

“اس کی فیملی ڈسٹرب ہو رہی تھی، سر۔ اسے شاید جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، اس لیے وہ پیچھے ہٹ گیا۔ اب میرے اصرار پر وہ صرف اس کیس میں میرا ساتھ دینے کے لیے راضی ہوا ہے۔”

“ویری گُڈ، مگر کیا ایوب قابلِ بھروسہ آفیسر ہے؟”
انہوں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

“جی سر، بالکل۔ وہ تو پہلے راضی بھی نہیں ہو رہا تھا۔ بڑی منت سماجت کے بعد مانا ہے۔ اور اب اگر وہ سائفر جیسے لوگوں میں رہ کر میری مدد کے لیے تیار ہوا ہے تو یقیناً قابلِ بھروسہ ہے۔”
حارث نے پُر وثوق انداز میں کہا۔

“ڈیٹس گریٹ، لیکن خیال رکھنا۔ بعض اوقات دشمن اپنے ہی گھر میں موجود ہوتے ہیں۔”
انہوں نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

“تھینک یو، سر۔”
حارث اٹھتے ہوئے انہیں شکریہ کہتا باہر آ گیا۔

“تم جیسے لوگ واقعی کم ہوتے ہیں جو دشمن کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیں۔ تم واقعی بہت اچھے انسان ہو۔”
لطیف صاحب نے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے کہا۔

حارث واپس اپنی کرسی پر آ کر بیٹھا ہی تھا کہ اس کے فون پر ایک ای میل موصول ہوئی۔
اس نے اسے کھولا اور پڑھنے لگا:

> “حارث، میں نے سائفر کے ساتھی دلاور سے رابطہ کیا ہے، مگر اُس نے سائفر سے ملنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ ہڈن کریمنل ہی نہیں بلکہ انڈر ورلڈ میں بھی چھپا ہوا ہے۔ دلاور کے سوا اسے کسی نے نہیں دیکھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کوئی بہت مشہور شخصیت ہے جو اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے بزنس مین کو شک میں لینا ہو گا جس کے کاروبار کی برانچز اُن تمام ملکوں میں ہوں جہاں اسمگلنگ ہو رہی ہے۔”

 

ای میل پڑھ کر حارث نے مسکراتے ہوئے ایوب کا شکریہ ادا کیا اور موبائل بند کر کے ایک طرف رکھ دیا۔
پھر دوبارہ لیپ ٹاپ آن کیا۔

وہ مسکرا رہا تھا — کیونکہ پچھلے ایک سال کی اُس کی انتھک محنت اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی۔ وہ سائفر کے قریب جا رہے تھے۔
اس کیس سے نہ صرف حارث جڑا تھا بلکہ اس کی فیملی، اس کے دوست، اور اب ایوب بھی شامل ہو چکے تھے۔

سائفر کے جاسوس ہر طرف پھیلے تھے۔
کوئی اُس پر تحقیق شروع کرتا تو وہ دھمکانا شروع کر دیتا، اور لوگ جان بچانے کے لیے کیس چھوڑ دیتے۔
لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اُس نے کبھی کسی کی جان لینے کی کوشش نہیں کی۔

حارث سمجھ گیا تھا — وہ قاتل نہیں، مجبور انسان ہے۔
اور حارث نے اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کیس اپنے ذمے لیا تھا۔

شروع میں اُس کے دو چھوٹے ایکسیڈنٹ ہوئے، ایک بار ایک ان نون آئی ڈی سے جان سے مارنے کا پیغام ملا —
مگر وہ ڈٹا رہا۔ دو سال دن رات جاگ کر اُس نے یہ کیس کھوجا، اور دو مہینے پہلے ایوب کو ان کے درمیان گھسانے میں کامیاب ہوا۔

بالآخر، وہ اپنے اختتام کے قریب تھے۔

باہر سے جھانکتی تقدیر نے افسردگی سے مسکراتے ہوئے حارث کو دیکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یورپ
فرینکفورت — جہاں ہر چیز میں ترقی ہے، وہیں یہ شہر عیاش پسند لوگوں کے دل کے بھی قریب ہے۔ باقی دنیا میں لوگ رات ہوتے ہی آرام کو جاتے ہیں، مگر مغربی ملکوں میں رات ہوتے ہی عیش و عشرت کی زندگی جاگ اٹھتی ہے۔
اسی طرح ایک مشہور کلب میں رات کے بارہ بجے بھی سب اس طرح بے ہنگم ڈانس کر رہے تھے جیسے زندگی کبھی رکنے والی ہو ہی نہیں۔ وہاں سب امیر خاندانوں کے بگڑے ٹین ایجرز تھے۔ کچھ تو واقعی بگڑے ہوئے تھے، البتہ کچھ ابھی مکمل نہیں بگڑے تھے، مگر زندگی بھرپور انداز میں جی رہے تھے۔

ڈِسکو لائٹس کے ساتھ شور مچاتا میوزک ان سب کو مزید پرجوش کر رہا تھا۔ کوئی ڈانس کر رہا تھا، تو کوئی مختلف ڈرنکس لیے بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا۔ لڑکیاں شارٹ ڈریس میں ملبوس تھیں، لڑکوں کے ساتھ بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔

دائیں جانب ایک گوشہ تھا جہاں شیشے کی میز کے گرد تین بڑے صوفے رکھے تھے۔ ان پر لگ بھگ سترہ، اٹھارہ سال کے لڑکے اور لڑکیاں بیٹھے ہوئے تاش کھیل رہے تھے۔ سب ہی ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھتے تھے، اور سب ہی بگڑے ہوئے تھے۔

اسی میز کی طرف تین اور نوجوان آئے۔ درمیان میں سترہ سالہ دراز قد لڑکا تھا، انتہا کا دلکش اور خوبصورت، جو اپنی جسامت سے انیس کا لگتا تھا۔ دائیں جانب ایک اور لڑکا تھا، بائیں جانب سولہ سالہ خوبصورت لڑکی تھی، جس نے گھٹنوں سے اوپر آتی اسکرٹ کے ساتھ شرٹ پہن رکھی تھی۔

“ہیلو گائز! واٹس اپ؟”
وہ دراز قد لڑکا صوفے پر دھم سے بیٹھتے ہوئے بولا۔ باقی دونوں بھی دوسرے صوفوں پر بیٹھ گئے۔
اسے دیکھ کر جہاں لڑکے اندر ہی اندر کلس گئے تھے، وہیں لڑکیاں فوراً سیدھا بیٹھ کر خود کو سیٹ کرنے لگیں۔

“وی آر آل فائن!” ایک لڑکی نے دلکش مسکراہٹ اچھالی۔
“گُڈ! کیا چل رہا ہے؟ ویسے یہ ان فئیر ہے، تم لوگوں نے مجھے انوائٹ نہیں کیا!”
وہ مصنوعی شکوہ کرتے ہوئے بولا اور اپنے گلاس میں الکوحل انڈیلنے لگا۔

“وہ اس لیے کہ ہم تمہاری وجہ سے اپنی ایک اور پارٹی لڑائی کے نذر نہیں کرنا چاہتے!”
وہاں بیٹھے ایک لڑکے، جورڈن، نے چھبتی ہوئی نظروں سے کہا۔

“ریئلی؟ مطلب تم مجھے تباہی کا لقب دے رہے ہو؟ اچھا لگا مجھے!”
وہ ہنسا، پھر ساتھ بیٹھی ٹیسا (Tessa) کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،
“اور تمہیں کیسا لگا، ٹیسا؟”
گلاس منہ سے لگاتے ہوئے وہ الکوحل اپنے اندر انڈیل گیا۔

ٹیسا نے ایک ادا سے جواب دیا، “تمہاری پرسنالٹی سے میچ کرتا ہے۔”
وہ مسکرا کر جورڈن کی طرف دیکھتا ہے۔ جورڈن کے چہرے پر جلن صاف جھلک رہی تھی۔
وہ قہقہہ لگا کر گلاس دوبارہ بھرتا ہے، اور ایک ہی گھونٹ میں پی جاتا ہے۔

“میرا ڈانس کرنے کا موڈ ہے، گائز۔ ٹیسا، کیا تم مجھے جوائن کر سکتی ہو آج کے لیے؟”
“اوف کورس!” ٹیسا خوشی سے بولی۔

وہ ٹیسا کی کمر کے گرد ہاتھ باندھتا، میوزک ہال کی طرف بڑھ گیا۔
پیچھے مڑ کر دھواں دھواں چہرے والے جورڈن کو دیکھتے ہوئے ایک آنکھ ونک کی ۔

جورڈن کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسی وقت اسے شوٹ کر دے۔
“یہ یہاں صرف اس لیے آیا ہے کہ مجھے نیچا دکھا سکے!” وہ غصے سے بولا۔
“چھوڑو جورڈن، جانے دو۔ وہ ویسے بھی جلد ہی لڑکیوں سے اکتا جاتا ہے۔”
جیمز نے اسے سمجھایا۔

“مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی، وہ دوست کیسا ہے آخر! میں نے صرف سچ بتایا تھا — کہ اس نے سر کے لاکر میں موجود فائلز کو آگ لگائی تھی — اور اب وہ کب تک اس بات کا بدلہ لیتا رہے گا؟” جورڈن بولا۔
“تو کس نے کہا تھا بتا دو؟ تم جانتے ہو، اس کی انا بہت اونچی ہے۔ ذرا سی غلطی برداشت نہیں کرتا۔ شکر کرو تمہاری ہڈیاں نہیں توڑیں اس نے!” نووا نے طنزاً کہا۔

چند لمحوں بعد ان کا پورا گروپ پھر سازشیں کرنے لگا۔
مگر فیصلہ کرنا تو اُس کے ہاتھ میں تھا — جو اس وقت اپنی ساتھی کے ساتھ ڈانس میں مصروف تھا۔
وہ واقعی تباہی تھا۔
اور تباہیوں نے کبھی کسی کا ساتھ دیا ہے بھلا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

وہ اپنے ٹیرس پر کھڑا تھا — ریلنگ پر ہاتھ رکھے، نظریں آسمان پر، ایک ہاتھ میں سگار، دوسرا جیب میں۔
“سائفر، سلیمان آفندی کو مال وصول ہو گیا ہے۔ وہ تمہارا شکریہ کر رہا تھا۔”
ساتھ کھڑے دلاور نے اطلاع دی۔

“تمہارے پاس ان باتوں کے علاوہ کوئی موضوع نہیں؟”
سائفر نے دھیمی آواز میں کہااور سگار لبوں تک لے گیا۔

“تو پھر کیا بات کروں، سائفر؟”
دلاور نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ وہ جانتا تھا سائفر کم ہی بات چیت کرتا ہے۔

“کچھ بھی کہو، بس ان سب کے علاوہ کہو۔”
سائفر اب بھی چاند کو دیکھ رہا تھا۔

“اچھا، تم سے کوئی اور بات کرو تاکہ مجھے یہں سے نیچے پھینک دو ، بھئی رہنے ہی دیتے ہیں اور باتوں کو!”
دلاور نے کلس کر کہا۔

سائفر اس کی بات پر خاموشی سے چاند کو ہی دیکھے گیا ۔

ایک بات پوچھوں تم سے سائفر ؟
مکمل خاموشی محسوس کرتے دلاور نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

“پوچھو!” سائفر نے نرمی سے کہا۔

“سائفر، تمہیں کوئی گلٹ ہے؟ کوئی پچھتاوا؟”
دلاور نے غور سے پوچھا۔

“ہاں، ہے۔” سائفر چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
“تاخیر — میں نے دیر کر دی اُس دن۔”

“کس چیز میں دیر؟”
“اُس رات میں نے دیر کر دی تھی، دلاور۔ جس کا پچھتاوا آج تک ہے۔ کاش وقت پر پہنچ جاتا۔”

“سائفر، اُس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔ تم اس بات کو بھول جاؤ۔ بہت سال گزر گئے ہیں۔ اور بدلہ بھی تم نے خوب لیا تھا۔”
دلاور نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

“ہمم۔”
سائفر نے بس سر ہلایا، سگار نیچے پھینکا، اور جانے لگا۔

“کہاں جا رہے ہو اب؟”
“تم سے اچھی باتیں کرنے کو کہا تھا، مگر تم نے میری رات خراب کر دی!”
وہ لعنت بھیجنے والے لہجہ میں بولا اور چلا گیا۔

دلاور نے کلس کر آسمان کی طرف دیکھا۔
“اب کیا میں تمہیں لیلیٰ مجنوں سناتا؟” وہ بڑبڑایا اور اس کے پیچھے چل دیا۔

فضا میں اچانک سوگواریت پھیل گئی تھی — کیونکہ سائفر اداس تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ترکی

استنبول کا موسم آج بڑا دلکش تھا۔ آسمان پر بادلوں کا راج تھا، اور اسی موسم میں ایک گاڑی شہر کے پرانے علاقے میں دوڑ رہی تھی۔
یہ علاقہ نچلے طبقے کے لوگوں کا تھا۔ گلیاں تنگ، دونوں اطراف چھوٹی دکانیں، اور چہل پہل عام تھی۔

دکانوں میں کام کرتے لوگ اس گاڑی کو پہنچاتے تھے ، وہ اکثر اس علاقے میں آیا کرتا تھا اور پھر ایک رات رک کر اگلی صبح واپس لوٹ جاتا تھا ۔

گاڑی ایک لکڑی کے برتنوں کی دکان کے سامنے رکی۔ وہ دکان ایک سرائے سے جڑی تھی، جہاں ایک ضعیف مرد اور اُس کی نواسی رہتے تھے۔
گاڑی سے ایک شخص اترا — مرزا حاکم۔ وہ آہستہ آہستہ زینے چڑھنے لگا اور اوپر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔

دروازہ کھلا۔ سامنے سفید ریش، نورانی چہرے والے سلیم صاحب کھڑے تھے جسے دیکھ مرزا حاکم کے وجود میں سکون کی لہر دور گئی ۔
“السلام علیکم، اندر آنے کی اجازت ہے سلیم صاحب؟”
“آ جاؤ، مرزا۔”
مرزا نے ان کا ہاتھ چوم کر ماتھے سے لگایا، اور گلے ملا۔

وہ اسے لیے لاونج میں آئے ، ” لاونج چھوٹا سا تھا مگر صاف ستھرا اور خوبصورت سا تھا ” ۔

“کتنا عرصہ لگا دیا تم نے آنے میں، مرزا!”
سلیم صاحب صوفے پر بیٹھتے اپنے سامنے والے صوفے پر بیٹھے مرزا کو دیکھ کر بولے ۔

“وقت نے ساتھ نہیں دیا، سلیم صاحب۔ ساتھ دیتا تو پہلے آتا۔”
خیر ! تم بتاؤ کہسے ہو ؟

کیسا ہو سکتا ہوں سلیم صاحب ؟ ” مرزا کرب سے کہتا ہے ۔

” تم کیوں اتنے مایوس ہوتے ہو؟ کیا صاحبِ قرآن ایسے ہوتے ہیں؟”
مرزا خاموش رہا، نظریں چرا گیا۔

” بابا چھک کے بتائے کیسا بنا ہے ؟ “
اسی وقت کچن سے ایک لڑکی نکلی — دلارے۔

” ہاتھ چاکلیٹ سے بھرے ہوئے تھے ، نیلا ٹخنوں تک آتا گول گلے والا فراق پہنے اور سر پر ہم رنگ ہی تین کونوں والا سکارف پہنے جس سے دو سنہری لٹیں مومی چہرے پر پھسل رہی تھی ، اس کی آنکھیں گہری نیلی تھی ۔
وہ لمحہ بھر کو رک گئی — اور مرزا کے چہرے کو دیکھ کر سانس روک گئی۔”

“اسلام علیکم!” مرزا نے مسکرا کر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام۔” وہ نظریں جھکائے آگے بڑھی۔
“بابا، چکھیں کیسا بنا ہے!”
“بیٹا، مجھے کیا پتا چلے گا — مرزا کو دو، ویسے بھی اسے کیک بہت پسند ہے!”

مرزا ہنسا، “لاؤ دلارے، میں بتاتا ہوں کیسا بنا ہے!”
دلارے نے چمچ آگے بڑھایا۔ چاکلیٹ مرزا کی انگلیوں پر لگ گیا، مگر اس نے پروا نہ کی۔
“لذیذ ہے، میرے لیے ایک حصہ رکھنا۔”
جی ٹھیک ہے ، وہ نظریں جھکائے بولی ۔

اچھا سلیم صاحب میں زرا ہاتھ دھو لوں ، مرزا ان سے کہتا کیچن کی طرف چل دیا۔

بابا یہ کب آیا ؟ یہ تو یہاں آنا چھوڑ چکا تھا نا ؟ اور کتنا بڑا ہو گیا اب ؟

اس کے جانے کی دیر تھی کے دلارے بابا کے گھٹنوں کے ساتھ بیٹھتی آنکھیں پھیلائے تیز تیز بولتے سوالوں کی بوچھاڑ کردی ۔

آرام سے میری جان آرام سے میں وہ چھوڑ نہیں چکا تھا بس مصروف ہو گیا تھا ، آپ اس کے پاس جاؤ اور اچھے کزنز کی طرح ٹریٹ کرو انہیں ، سلیم صاحب اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولے جس پر اثبات میں سر ہلاتی کیچن کی طرف چل دی ۔

کچن میں جب وہ ہاتھ دھو رہا تھا، دلارے آئی۔
“کیسی ہو، دلارے؟”
“ٹھیک ہوں، تم کیسے ہو؟”
“لڑکی گیارہ سال چھوٹی ہو، آپ کہا کرو مجھے!”
“ہاں تو اگر تم بوڑھے ہو تو میرا قصور نہیں!”
مرزا ہنسا، “آہ! تو دلارے محترمہ کو غصہ آ رہا ہے!”

وہ سلیب کے ساتھ ٹیک لگائے اس کی حالت سے محفوظ ہو رہا تھا جبکہ وہ تیوری چڑھائے چولہے پر چائے کا پانی چھڑاتی اس سے بھرپور جنگ کر رہی تھی ۔

“تم یہاں سے چلے کیوں نہیں جاتے، حاکم؟”
“تین سال بعد آیا ہوں، ابھی چلا جاؤں؟”
“وہی تو — تین سال بعد بھی کیوں آئے ہو؟”

“سلیم صاحب سے کام تھا، کل چلا جاؤں گا۔”
دلارے کے دل میں چبھن اتر گئی۔
ہاں تو سلیم صاحب کے ساتھ جا کر بیٹھو پھر میرے ساتھ مغز ماری کیوں کر رہے ہو ؟

“اپنی اکلوتی دوست کو ناراض چھوڑ دوں کیا؟”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
دلارے نے نظریں جھکائیں۔ دل نے سوال کیا — کیا وہ واقعی صرف دوست ہے؟ کیا وہ اس سے ناراض رہ سکتی تھی ؟ ” اور جواب تھا نہیں ” وہ مرزا حاکم کے سامنے جھک جایا کرتی تھی ۔

کیا سوچ رہی ہو دلارے ؟ اس سوچوں میں گھرا دیکھ کر وہ بولا ۔

کچھ نہیں تم بتاؤ تم کیسے ہو ، وہ یک دم اپنا غصہ ایک طرف رکھتی بولی ۔

میں ٹھیک ہوں یہاں آ کر ٹھیک ہو جاتا ہوں میری اتنی پیاری دوست جہاں یہاں رہتی ہے ۔

اچھا پھر آج گھومنے چلتے ہیں ۔
دلارے مسکرا کر اپنی نیلی آنکھیں معصومیت سے ٹپکا کر پوچھتی ہے ۔

“ٹھیک ہے۔

مگر گھومنے میری پسند کی جگہ پر چلیں گے !”
“منظور!”
وہ مسکرا کر بولا اور باہر نکلنے لگا کب وہ پکار اٹھی ۔

“حاکم!”
وہ پلٹا۔
“اس بار تم نگینہ تراشو گے؟” یہ سوال پوچھتے دلارے کا دل بے اختیار دھڑکا رھا اور دل نے شدت سے چاہا وہ اس بار بھی انکار کر دے ۔
“نہیں۔”
مرزا نے مسکرا کر جواب دیا اور باہر چلا گیا۔

دلارے نے سکھ کا سانس لیا۔
سلیم خاندان نسلوں سے قیمتی پتھر تراشتا آیا تھا۔
مرزا کو بھی یہ ہنر اپنے ننھیال سے ورثاء میں ملا تھا مگر
مرزا نے کہا تھا — میں تبھی کوئی شہکار بناؤں گا، جب زندگی مکمل لگے گی۔
اور دلارے ہر بار یہ سن کر چپ رہ جاتی تھی ناجانے مرزا کی زندگی کب مکمل ہو گی اور دلارے کا انتظار ختم ہو گا آہ ۔

باہر، استنبول کی فضا نے سرگوشی کی —

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسلام آباد

آج بلیو ایریا میں دھوپ کا راج تھا جو وہاں کے لوگوں کو خوب بھا رہی تھی۔ اتنے دنوں سے بڑھتی سردی کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ وہ بھی اسی تروتازہ صبح میں اپنی فلاور شاپ میں بیٹھی کسی گاہک کو فلاورز دے رہی تھی کہ اُسے گلاس ڈور سے باہر وہ کھڑے نظر آئے۔

بھوری آنکھوں والی لڑکی نے سنجیدگی سے ان کی طرف دیکھا، اور پھر ٹیبل پر رکھا لیپ ٹاپ کھول لیا، یوں جیسے باہر کھڑے اُس تھری پیس سوٹ میں ملبوس مرد کو دیکھا ہی نہیں۔
البتہ وہ اُسے ہی ٹک ٹکی باندھے دیکھ رہے تھے، اور پھر اچانک ہی وہ گلاس ڈور کھول کر اندر آگئے۔

بھوری آنکھوں والی لڑکی نے چہرہ اُٹھا کر سامنے کھڑے مرد کو دیکھا جو اشک بار نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔

“کیوں آئے ہیں؟” اُس نے سنجیدگی سے پوچھا۔ آنکھیں کسی بھی قسم کے جذبات سے خالی تھیں۔

“بیٹا، پلیز چھوڑ دو اب اپنی ضد۔ میرے ساتھ چلو۔”
ایک آنسو اُس پچپن سالہ مرد کی آنکھ سے نکل کر گال پر پھسل گیا تھا۔

“پہلی بات، میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں، اور دوسری بات، میں اجنبی لوگوں کے ساتھ کہیں نہیں جاتی۔ پلیز، ابھی میں بہت بزی ہوں۔”
وہ مہذب لہجے میں کہتی نظریں دوبارہ لیپ ٹاپ پر جما گئی۔

“کیا تم مجھے معاف نہیں کر سکتی؟”
انہوں نے تکلیف سے اپنے سامنے بیٹھی سنگدل لڑکی کو دیکھا تھا۔

“کس چیز کی معافی؟ سوری، مجھے نہیں معلوم آپ کیا بات کر رہے ہیں۔”
وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں بولی۔

“چھوڑو سب، بس تم میرے ساتھ چلو۔ آؤ، تمہیں میری ضرورت ہے، پلیز اب بس کر دو۔”
وہ پرعزم لہجے میں کہتے اس کی طرف بڑھے۔

“آپ ایسے نہیں مانیں گے جناب؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں پولیس کو کال کروں کہ ایک آدمی آئے دن مجھے آ کر تنگ کرتا ہے؟”
وہ اس بار سختی سے بولی تھی۔

سامنے کھڑے مرد نے حیرت سے بھوری آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا۔ کچھ پل کے لیے تو وہ بول نہیں سکے۔
پھر شکستہ انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولے،
“میں نے کبھی تمہارا بُرا نہیں چاہا، بیٹا۔ میں باپ ہوں تمہارا، لیکن میں بھی انسان ہوں۔ غلطی ہو جاتی ہے۔ تم انسان سمجھ کر غلطی معاف کر دو مجھے، اور مزید اذیت میں نہ ڈالو۔ اللّٰہ تمہیں خوش رکھے۔”

وہ آہستہ سے کہتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دیتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئے۔

بھوری آنکھوں والی لڑکی نے افسوس سے جاتے ہوئے مرد کو دیکھا۔ آنکھوں میں کوئی جذبہ نہ تھا۔
وہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گئی اور ای میل کرنے لگی۔

دکان میں رکھے پھولوں نے دُکھ سے دونوں کو دیکھا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اسلام آباد

اسلام آباد کے اس ایلیٹ علاقے میں واقع خوبصورت اور جدید طرز کے دو منزلہ گھر میں آج ایک شاندار پارٹی جاری تھی۔
پارکنگ ایریا میں کھڑی مہنگی اور قیمتی گاڑیاں آنے والوں کی امارت کا واضح پتہ دے رہی تھیں۔
گھر کے باہر تھری پیس سوٹ میں ملبوس فِٹ باڈی گارڈز کی موجودگی سے صاف ظاہر تھا کہ کسی مشہور شخصیت کے گھر میں تقریب ہو رہی ہے۔

اگر اندر چھپکے سے قدم رکھا جائے تو منظر حیران کر دینے والا تھا — پارٹی کی تیاری پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا۔
ہر طرف سفید روشنیاں جگمگا رہی تھیں، گویا اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے بالکل مختلف تھی۔
عورتیں اور مرد پورے لان میں پھیلے ہوئے تھے، کوئی گروپ کی صورت میں، کوئی جوڑے کی شکل میں، اور کچھ اکیلے ہی پارٹی انجوائے کر رہے تھے۔
ان سب کے لباس اور انداز بتا رہے تھے کہ یہ سب بڑے بڑے بزنس مین یا ایلیٹ کلاس کے لوگ ہیں۔

“ہیلو مزاحم! ہاؤ آر یو؟”
ایک خوبصورت لڑکی، مزاحم اور راحمہ کی جانب آتے ہوئے بولی۔

“آئی’m فائن، تم کیسی ہو؟” مزاحم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، جبکہ راحمہ نے طنزیہ مسکراہٹ سے مزاحم کو دیکھا۔

“میں بالکل ٹھیک ہوں۔ یہ بتاؤ، کہاں گم ہو آج کل؟ اب تو بہت کم ہی نظر آتے ہو!”
لڑکی نے فرفر انگریزی بولتے ہوئے مزاحم کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک ادا سے بولی۔

“میرے خیال میں پہلے بھی ہم خاص نہیں ملتے تھے، مگر تم نے پرسنلی انوائیٹ کیا تو ہم کیوں نہیں آئیں گے؟
کیوں راحمہ؟”
وہ مذاق کرتے ہوئے ہنس کر راحمہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔

“کیوں نہیں رابیل! ہم ضرور آئیں گے تمہارے گھر، بلکہ ایک کام کریں گے — ازمیر کو بھی ساتھ لائیں گے،
اور ایک دو اور فرینڈز کو بھی، تاکہ فل گروپ مستی ہو۔ کیوں؟ ٹھیک کہا نا؟”
راحمہ نے اپنے خاص انداز میں ہاتھ ہلا کر مزاحیہ لہجے میں کہا۔

رابیل اس کے پورے ٹولے کو لے کر آنے کے پلان پر کچھ پل کو خاموش رہ گئی۔
اسے راحمہ کچھ کھسکی ہوئی لگی تھی۔
اب بھلا اگر کوئی دعوت دے، تو یہ تو ضروری نہیں کہ پورا قبیلہ ہی ساتھ لے آئے!

بمشکل مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے اس نے کہا،
“کیوں نہیں گائز، ضرور آنا! اچھا، میں ذرا مس شائستہ سے مل لوں۔ ہمم…”

“کب کر رہے ہو شرکت؟ یہ تو تم نے پوچھا ہی نہیں اس سے!”
راحمہ طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔

“کیا ہو گیا ہے راحمہ یار؟ وہ بس فارمیلیٹی پوری کر رہا تھا، اور وہ بھی دل سے نہیں کہہ رہی تھی!”
مزاحم نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔

“آہ آہ! تو جب مسٹر اعوان آئے تھے تب تو کہا جا رہا تھا کہ ‘مصروف ہوں، وقت نہیں ملتا’۔
اور اب جب یہاں لڑکی نے گھاس ڈالی تو یہاں دمبہ گھاس چَرنے لگا؟”
وہ تیز تیز کہتے ہوئے ہنسی ضبط کرنے لگی۔

“ایک منٹ، ایک منٹ! تم نے مجھے دمبہ کہا ہے؟”
مزاحم نے حیرت سے راحمہ کو دیکھا۔

راحمہ نے چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے —
وہ اسے کیا کہہ رہی تھی، اور وہ کہاں جا رہا تھا!

“ہاں، تمہیں دمبہ کہا… گدھے!”
وہ دبے دبے انداز میں چلاتے ہوئے اسے ایک اور لقب سے نوازتی ہوئی چلی گئی۔

مزاحم نے منہ بناتے ہوئے سکون کا سانس لیا۔
“صد شکر کہ یہاں ازمیر نہیں تھا، ورنہ ساری زندگی میرا نام ہی گدھا رکھ دیا جاتا۔
آہ اللّٰہ تیرا شکر!”
اس نے تشکر سے آسمان کو دیکھا اور پھر راحمہ کی طرف قدم بڑھائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسلام آباد
وہ اپنی شاپ بند کر کے سیدھی ہوئی اور دائیں طرف مڑتے ہوئے پیدل چلنے لگی۔ اس کی چال دھیمی تھی اور نظریں سامنے سیدھ میں جمی تھیں۔ بیس منٹ چلنے کے بعد وہ ایک موڑ مُڑی۔ سامنے ہی لمبی سڑک کے دونوں اطراف گھر بنے ہوئے تھے۔ وہ پانچویں نمبر والے تیز براون دروازے کے سامنے رکی اور بیل بجائی۔
پہلی ہی گھنٹی پر دروازہ کھل گیا اور سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ وائٹ ٹراؤزر اور وائٹ ہی شرٹ میں ملبوس وہ لڑکی بےحد خوبصورت تھی۔

“ہیلو، آج جلدی آ گئی تم!” — لڑکی نے مسکراتے ہوئے راستہ چھوڑتے کہا۔
“آج تھک گئی تھی اس لیے۔” — بھوری آنکھوں والی لڑکی اندر آتے ہوئے بولی۔

اندر داخل ہوتے ہی بائیں جانب سیڑھیاں تھیں جو اوپر ٹیرس تک لے جاتی تھیں۔ سامنے ایک چھوٹا سا لاؤنج تھا، جس میں گہرے گرے رنگ کے صوفوں کے ساتھ ایک میز رکھی تھی۔ سامنے بڑی سی ٹی وی تھی۔ دائیں جانب تین کمرے تھے، گہری بھوری لکڑی کے دروازوں والے۔ بائیں طرف کچن تھا۔
لاؤنج اور کمروں سے ہٹ کر ایک طرف ڈائننگ ٹیبل تھی جو چھوٹی مگر نفیس تھی، اس کے گرد چار کرسیاں تھیں۔ گھر کے پچھلی جانب لان تھا جس کا دروازہ شروع میں آتی سیڑھیوں کے پیچھے تھا۔

“ویل، اچھا تم فریش ہو کر آؤ، میں کھانا لگاتی ہوں۔”
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کچن کی طرف بڑھی۔

بھوری آنکھوں والی لڑکی پہلے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ بورڈ پر ہاتھ رکھ کر بٹن دبایا تو لائٹس جل اٹھیں۔ کمرہ درمیانے سائز کا تھا۔ سامنے بیڈ، بائیں جانب گلاس وال ونڈو جو لان میں کھلتی تھی۔ ایک طرف پورے قد کا شیشہ تھا جس کے ساتھ ریک لگا تھا۔ پہلے دو خانوں میں میک اپ کا سامان اور آخری دو میں لکڑی کے باکس رکھے تھے۔
اسی شیشے کے بائیں جانب واش روم تھا، اور بیڈ کے سامنے والی دیوار میں سفید کبڈز بنی تھیں۔

کمرہ صاف ستھرا تھا۔ اس نے بیگ اور سامان بیڈ پر رکھا، کبڈ سے ڈریس نکال کر واش روم میں داخل ہو گئی۔

بیس منٹ بعد وہ باہر نکلی۔ اس نے سیاہ کھلے ٹراؤزر اور پولو شرٹ پہنی تھی جس میں سے اس کے سفید بازو نمایاں تھے۔ بائیں بازو پر کہنی سے اوپر ایک نشان تھا۔ وہ ڈائننگ ٹیبل پر آ کر کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔

“اچھا، یہ بتاؤ، آج بھی وہ آئے تھے؟” نحل نے عام سے انداز میں پوچھا۔
“بلکل آئے تھے۔” بھوری آنکھوں والی لڑکی نے گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔

“سمجھ نہیں آتی، لوگ سب کچھ کرنے کے بعد دوبارہ منہ اُٹھائے زندگیوں میں کیوں آ جاتے ہیں!” نحل نے غصے سے کہا۔

“پچھتاوا، نحل… پچھتاوا انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
لوگ واپس مڑ کر کبھی نہیں دیکھتے اگر انہیں پچھتاوا نہ ہو۔ انہیں تو یاد بھی نہیں رہتا کہ انہوں نے کسی کی ذات کے پرخچے اُڑا دیے۔ وہ صرف گِلٹ کے بوجھ سے آزاد ہونے کے لیے واپس آتے ہیں۔
اور ہم؟ ہم پھر بکھر جاتے ہیں۔ اگر معاف نہ کریں تو ان کی پھانس گلے میں اٹکی رہتی ہے، اور اگر معاف کر دیں تو وہ ہماری زندگی میں پھر گھس آتے ہیں جیسے ہم صرف ان کے لیے بنے ہوں۔ محبت، وقت، معافی — سب جیسے ان کے نام لکھے ہوں!”

بھوری آنکھوں والی لڑکی دھیرے لہجے میں بول رہی تھی، جیسے کسی اور کی زندگی پر تبصرہ کر رہی ہو۔

“یہ جو بُرا کرنے کے بعد کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتے نا، یہ بہتر ہوتے ہیں ان سے جو روز ہمارے سامنے آ کر ہمارا برا پاسٹ یاد دلاتے ہیں۔ کم از کم وہ ہمیں ایک ہی بار مارتے ہیں، بار بار نہیں۔”

نحل خاموشی سے سنتی رہی، سر ہلا کر تائید کرتی۔

“تم سناؤ، تمہارا دن کیسا رہا؟”
وہ اپنی بات پوری کرتے ہوئے نحل سے بولی ۔

“بہہہت اچھا!” نحل نے ہنستے ہوئے کہا۔ “ساری فائلز ارینج کر دی ہیں، اب بس تمہارا ایکشن باقی ہے!”
“ویری گڈ۔” بھوری آنکھوں والی لڑکی نے تعریف کی۔

“اچھا یہ بتاؤ، اپنے باس کے ساتھ کیا کرو گی تم؟” نحل نے شرارت سے پوچھا۔
“جو ایک کمپنی کی پی آر مینیجر کو کرنا چاہیے، وہی کروں گی۔”
اب کی بار اس کی بھوری آنکھوں میں چمک تھی — کسی کو ڈھیر کر دینے کے بعد والی چمک۔
“مطلب مسٹر رحمان تو گئے کام سے؟”
“بلکل!” وہ مسکرا کر بولی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ترکی
استنبول کے پرانے، تنگ سے علاقے میں وہ صبح بہت روشن ہو کر اُتری تھی۔
سلیم صاحب کے گھر میں اس وقت وہ تینوں ناشتہ کر رہے تھے۔

“دلارے، تم کبھی پاکستان کیوں نہیں آتی ویسے؟” مرزا، جو سربراہی کرسی پر بیٹھے سلیم صاحب کے دائیں جانب تھا، چمچ سے سوپ پیتے ہوئے بولا۔

دلارے نے نظریں جھکائے ناشتہ کرتے ہوئے آہستہ سے جواب دیا،
“وہاں آ کر کیا کروں گی، حاکم؟”
“بھئی، گھومنے پھرنے کو بہت جگہیں ہیں وہاں!”
“میں نے جتنی خوبصورتی دیکھنی تھی دیکھ لی۔ اب اگر اور کی خواہش کی، تو لگتا ہے بنائی چلی جائے گی۔”
اس کے لہجے میں تلخی تھی۔

مرزا چونک گیا۔ آج وہ گہرے سبز فراک میں تھی، ہم رنگ سکارف کے ساتھ۔ سفید مومی چہرے پر سکارف سے جھلکتی سنہری لٹیں، اور نیلی آنکھوں میں نمی۔

سلیم صاحب نے بیٹی کو دیکھا اور نرمی سے بولے،
“دلارے بیٹا، مرزا بڑے ہیں آپ سے۔”
“اللہ اللہ سلیم صاحب، بڑا ہوں، بوڑھا نہیں!” مرزا نے مسکرا کر کہا۔ “دلارے مجھ سے اس لہجے میں بات کرے تو برا نہیں لگتا۔”
“صحیح بھئی، میں تم نوجوانوں کے بیچ نہ ہی پڑوں تو بہتر ہے۔” سلیم صاحب نے کہا۔

دلارے بغیر کچھ کہے اُٹھ گئی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔

“اچھا مرزا، مجھے یہ بتاؤ، اوہران بے سے ملاقات ہوئی تمہاری؟”
“نہیں سلیم صاحب، ابھی انہی کے پاس جا رہا ہوں، پھر سیدھا لاہور۔”
مرزا سنجیدگی سے جواب دیتا چمچ منہ تک لے گیا لیکن دماغ اب بھی دلارے میں الجھا ہوا تھا۔

دلارے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی ہاتھوں پر نظریں جمائے تھی۔ جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ وہ آہستہ سے کھلا، اور مرزا اندر آیا، قدم قدم چلتا وہ دلارے کے سامنے آیا ، پنجوں کے بل بیٹھا اور اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔

“دلارے، کیا بات ہے؟”
“حاکم، تم یہیں مستقل کیوں نہیں ٹھہر جاتے؟”
“میں آتا ہوں نا تم سے ملنے، دلارے۔”
وہ اس کے چہرے سے نرمی سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا ۔
دلارے اس کی پوروں کا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرتی تڑپ اٹھی تھی وہ ہر لحاظ سے دلارے کا خیال رکھتا تھا ۔ مگر صرف خیال ۔

“بس پھر اب آنا چھوڑ دو۔ اس طرح مجھے اذیت کم ہو گی۔”

مرزا چونک گیا۔
مرزا کو اس کے لہجے میں ازیت کی جھلک دیکھائی دی ایک الگ ازیت ۔

یک دم دلارے کو اپنی بات کا احساس ہوا۔ فوراً ہاتھ چھڑائے، اور سٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔
“ارے مطلب، روز روز آ جاتے ہو، اچھا نہیں لگتا۔ ویسے بھی تین لوگوں کا کھانا مجھ سے نہیں بنتا!”

“ٹھیک ہے، اپنا خیال رکھنا۔”
مرزا اس کی بات سمجھتے ہوئے مسکرا کر کہتا اس تک آیا
وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر چلا گیا۔

“حاکم!”
ابھی وہ کمرے سے پورا باہر جاتا ہی کہ پیچھے سے دلارے کی آواز پر وہ رکا۔ یہ ایک پرانی عادت تھی — وہ ہمیشہ پیچھے سے پکارتے تھی، اور وہ رُک جایا کرتا تھا۔

“اب کب آؤ گے؟”
“بہت جلد، دلارے۔”

وہ مسکرا کر باہر چلا گیا۔
اور دلارے کے دل میں انتظار کا ایک اور موسم اُتر آیا۔

ترکی کی فضا میں سوگواریت پھیل گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *