SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 3.

سکوت قسط نمبر:۳

ازقلم اُفق ہاشمی

لاہور
رات کے بارہ بجے شاہ ہاؤس میں سب نیند میں ڈوبے تھے۔ آج پلویشا کی مہندی تھی اور کل بارات تھی۔ سب اپنی نیندیں پوری کر رہے تھے تاکہ کل دوبارہ ہلّا گلّا مچایا جا سکے۔

ایسے میں کوئی تھی جسے نیند کی فکر نہیں تھی۔
اوپری منزل کے اس کمرے میں ہلکی ہلکی پیلی روشنی میں وہ ایک طرف جائے نماز بچھائے سجدہ ریز تھی۔ نہ جانے کتنے پل گزرے، کتنی ساعتیں بیت گئیں، پھر اس نے سر سجدے سے اٹھایا۔

اسی طرح ٹانگیں پیچھے کی جانب موڑے، نماز پر بیٹھی وہ نظریں نیچی کیے جائے نماز پر مہندی لگے ہاتھوں کی انگلیاں پھیرنے لگی۔

“اللّٰہ تعالیٰ، آپ کو پتہ ہے آج میری مہندی تھی۔”
وہ یوں ہی جائے نماز پر انگلیاں پھیرتے ہوئے سرشاری کے عالم میں بولی۔
“اور کل شادی ہے، پھر وہ میرا ہو جائے گا۔ میرا انتظار ختم ہو جائے گا۔ آپ کو پتہ ہے، میں بہت خوش ہوں، اتنی کہ بتا نہیں سکتی۔”
پلویشا کے مومی چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

“اللّٰہ تعالیٰ، میں صائم سے بہت محبت کرتی ہوں… بہت زیادہ۔ وہ سامنے آتا ہے تو دل سو کی سپیڈ پر دھڑکنے لگتا ہے۔ وہ مخاطب کرتا ہے تو لگتا ہے دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی میں ہوں۔ اس کے ساتھ ٹھہرنے کا تصور بہت قیمتی ہے۔
اور مجھے سمجھ نہیں آتی آخر صائم میں ایسی کیا بات ہے جو مجھے اس کی جانب کھینچتی ہے۔”

وہ کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں آہستہ آہستہ بول رہی تھی، پھر اچانک رکی اور سوچنے لگی۔

“پتہ نہیں، اللّٰہ تعالیٰ… بس صائم مجھے میرا لگتا ہے، میرا حاصل لگتا ہے وہ۔”
وہ مسکرا رہی تھی۔
“اچھا، اب بائے، کل ملیں گے۔”

وہ آخری بار سجدہ کرتے ہوئے اٹھی اور جائے نماز تہہ کر کے اسٹڈی ٹیبل پر رکھتے ہوئے مڑی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔

“آ جائیے۔”
وہ دوپٹے کی گرہ کھول کر عام سے انداز میں سر پر اوڑھتے ہوئے بولی۔

“اندر آ سکتا ہوں؟”
ڈاکٹر طاہر دروازہ کھول کر وہیں کھڑے مسکرا کر اجازت مانگ رہے تھے۔

“ہاں جی، آ جائیں۔”
وہ بھی مسکرا کر پیچھے رکھے بیڈ پر بیٹھ گئی۔

وہ قدم بہ قدم چلتے اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گئے، اور پلویشا نے سر ان کے کندھے پر رکھ دیا۔
دوپٹہ سر سے ذرا سا سرک گیا تھا، جس سے کچھ لٹیں چہرے پر جھولنے لگی تھیں۔

“میری پلویش تھک گئی ہے۔”
وہ نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگے۔

“آپ کی پلویشا واقعی بہت تھک گئی ہے، ڈاکٹر طاہر۔ اب بس وہ صرف سکون چاہتی ہے۔”
پلویشا آنکھیں موندے مدھم آواز میں بولی۔

“اللّٰہ سکون دے گا، پلویشا۔
تم نے بس ہر حال میں اللّٰہ سے جڑے رہنا ہے۔”
وہ نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولے۔

“ڈاکٹر طاہر…”
کچھ پل خاموشی گزری، پھر پلویشا نے پکارا۔

“جی؟”
“اللّٰہ کو مجھ میں ایسا کیا نظر آتا ہے جو وہ مجھ سے اتنا پیار کرتا ہے؟ وہ مجھے دھتکارتا کیوں نہیں؟ کیا اسے میری خامیاں نظر نہیں آتیں؟”
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی۔

“اللّٰہ کو ہم میں خاص نظر نہیں، اللّٰہ کو ہم نظر آتے ہیں۔”
ڈاکٹر طاہر نے دوبدو جواب دیا۔

“مطلب؟”

“مطلب یہ کہ وہ خامیوں اور خوبیوں کو تھوڑی گنتا ہے۔
وہ تو صرف ہمیں دیکھتا ہے — ہمارے وجود کو۔
اسے کوئی غرض نہیں کہ اس کے بندے پر کتنی پارسائی ہے یا ہے بھی نہیں۔
وہ تو بس بندے کو دیکھتا ہے، پلویشا۔”

“ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ…”
پلویشا سکون سے بولی۔ ڈاکٹر طاہر کی باتیں اسے ہمیشہ سے سکون دیا کرتی تھیں۔

“آپ ابھی تک کیوں نہیں سوئے؟”
وہ اچانک ان کے کندھے سے سر اٹھاتے ہوئے بولی۔

“میری پلویشا جاگ رہی تھی تو میں کیسے سوتا؟”
وہ مسکرا کر بولے۔

“یہ بھی ٹھیک ہے۔”
وہ ہنستے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گئی۔

“کتنے بجے کل پارلر سے پک کرنا ہے؟”
ڈاکٹر طاہر نے موبائل نکالتے ہوئے پوچھا۔

“رات کے آٹھ بجے۔ آپ لینے آئیں گے؟”
وہ حیرانی سے پوچھتی ہے۔

“ہاں۔”
ڈاکٹر طاہر مسکرا کر بولے۔

“شکر ہے!”

“اچھا، اب تم سو جاؤ، کل ملتے ہیں۔”
ڈاکٹر طاہر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔

“ڈاکٹر طاہر!”
پلویشا نے ان کی پشت کو دیکھتے ہوئے پکارا۔

“ہمم؟”
وہ رکے، چہرہ اس کی جانب موڑا۔

“Thank you for being in my life.”
پلویشا نے مسکرا کر کہا۔

“Same to you.”
ڈاکٹر طاہر بھی مسکرا کر جواب دیتے ہوئے باہر چلے گئے۔

پلویشا نے گہرا سانس لیا اور باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

اسلام آباد

آج اسلام آباد کا موسم خوشگوار تھا۔ ہلکی ہلکی دھند تو تھی مگر سردی تھوڑی کم تھی اور آسمان پر گہرے بادلوں کا راج تھا۔ اسی خوشگوار موسم میں بلیو ایریا میں واقع (AGDA) کمپنی اپنے پورے وقار کے ساتھ کھڑی تھی اور وہ گلاس ڈور اوپن کر کے پہلا قدم اندر رکھتی آگے بڑھی۔ بیج براؤن کلر کی سکرٹ کے ساتھ وائٹ بٹن ڈاؤن شرٹ اور بیج براؤن ہی اوور کوٹ پہنے وہ آگے بڑھ رہی تھی—اس کی رفتار دھیمی اور پروقار سی تھی؛ وہ ہر قدم پورے استحاق سے لے رہی تھی۔

“ہیلو میم،” ساتھ سے گزرتے ایک ورکر نے اسے مسکرا کر کہا، جسے وہ سر کے خم سے جواب دیتی آگے بڑھ گئی، اور لفٹ میں سوار ہو گئی۔

“یہ اتنے دنوں بعد دوبارہ کیوں آ رہیں ہیں؟” ایک میل ورکر ساتھ کام کرتی لڑکی سے بولا۔

“پتہ نہیں، تم مجھے یہ بتاؤ کے پروجیکٹ نمر فور کا کیا بنا؟” لڑکی نے دوبارہ اس کی توجہ کام کی طرف مرکوز کروائی۔

لفٹ ٹاپ فلور پر رکی تھی اور وہ لفٹ سے نکلتی ہوئی آگے بڑھی۔ اس کے قدم میٹنگ روم کی طرف بڑھ رہے تھے؛ وہ ابھی دروازے کے نزدیک آئی ہی تھی کہ—

“ہیلو میم، سوری آپ اندر نہیں جا سکتی، سر کی ایک امپورٹنٹ میٹنگ چل رہی ہے،” میٹنگ روم کے ساتھ بیٹھی سیکرٹری نے آگے بڑھ کر اسے شائستہ انداز میں روکا۔

“سائرہ، آپ کو لگتا ہے کہ آپ مجھے روک سکتی ہیں؟” بھوری آنکھوں والی لڑکی نے مہذب لہجے اور دھیمی آواز میں پوچھا—البتہ انداز چیلنج کرتا ہوا تھا۔

“سوری میم،” لڑکی کلس کر ہار مانتی پیچھے ہٹ گئی۔

گڈ گرل۔ وہ اس کا گال تھپتھپاتی، دروازے کی طرف مڑی، گہرا سانس لیا اور دروازہ کھول دیا۔

اندر—لمبی میز کے گرد بیٹھے گیارہ لوگ: سات مرد اور چار عورتیں پروجیکٹر پر کچھ پوائنٹس کلیر کرواتے مسٹر شعیب کی طرف متوجہ تھے۔ دروازہ اچانک کھلنے پر سب ایک ہی بار میں بھوری آنکھوں والی لڑکی کی طرف متوجہ ہوئے؛ اسے دیکھتے ہی یکدم ان کے اندر آگ بھڑکی۔

“گڈ مارننگ ایوری ون،” وہ مسکرا کر کہتی آگے بڑھی۔ اس کے قدم سکرین کی طرف بڑھ رہے تھے؛ بیج براؤن کلر کی بلاک ہیل کی آواز بھلی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا انداز بے حد بے نیاز سا تھا—وہ بالکل سکرین کے سامنے آن کھڑی ہوئی اور سامنے سیدھ میں بیٹھے کمپنی کے مالک اور دس اور ممبرز کو با آسانی دیکھ سکتی تھی۔

“مس صاحبہ، آپ کے یوں مداخلت کرنے کی وجہ جان سکتے ہیں ہم؟” دائیں طرف کی رو میں چوتھے نمبر پر بیٹھے آدمی نے ضبط سے کہا؛ جب کہ شعیب اسے گھورے جا رہا تھا اور باقی سب بھی دم سادھے بیٹھے تھے۔ اس کے یہاں آنے کی وجہ تقریباً سب ہی جانتے تھے۔

“افکارس، میں آپ لوگوں کی نیک تمنائیں لینے آئی ہوں۔” تو سب سے پہلے تو میں یہ بتا دوں کہ میں صاحبہ شاہ اس کمپنی کی پی آر (PR manager) ہوں۔” اس نے ہاتھ میں پکڑی فائلز میں سے ایک فائل اٹھاتے ہوئے، جب کہ باقی کی فائلز میز پر رکھتے، کہنا شروع کیا۔

“اس کمپنی میں پچھلے چار سالوں سے کام کر رہی ہوں اور اس کمپنی کو میری، یعنی صاحبہ شاہ کی وجہ سے انٹرنیشنل کمپنیز کے ساتھ بھی جوڑ چکی ہوں مزید۔” وہ آرام آرام سے بول رہی تھی؛ کھلے ہوئے بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے پر جھول رہی تھیں اور مدھم نیلی روشنی میں اس کا چہرہ چاند کی طرح دمک رہا تھا۔

“یہ کمپنی دو ہزار بارہ کے شروع سے ورک کر رہی ہے، مگر اس کمپنی کا ریکارڈ جتنا پچھلے چار سالوں میں بڑھا ہے اتنا دس سالوں میں نہیں بڑھا۔” وہ مہذب لہجے میں وہاں بیٹھے ہر شخص کو اوقات یاد دلا رہی تھی۔

“تین مرتبہ اس کمپنی پر فراڈ کے کیسز جاری ہوئے ہیں اور تینوں مرتبہ میں نے، یعنی صاحبہ شاہ نے، ان کیسز کو آسانی سے ڈیل کیا ہے—اور نا صرف ڈیل کیا ہے، بلکہ مخالف کمپنی کو سیل بھی کروا چکی ہوں۔”

“دو مرتبہ اس کمپنی کے ساتھ فراڈ کیا گیا اور دونوں مرتبہ میں فراڈ کرنے والوں کو کمپنی کے سامنے لے کر آئی اور کمپنی کو چار کروڑ کا نفع دلوایا۔”

سب لوگ دم سادھے اس کے کارنامے سن رہے تھے—یہ سب وہ تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس کی تمام کاروائیاں دیکھی تھیں۔ کمپنی کے مالک رحمان صاحب چھبتی ہوئی نظروں سے سامنے کھڑی لڑکی کو بولتا سن رہے تھے۔

“اور اب میری چار سالوں کی محنت کا صلہ مجھے یوں ملا کہ مجھ پر ہی فراڈ کا الزام لگا دیا گیا۔” وہ بے نیازی سے کہتی، پہلے والی فائل رکھ کر اب دوسری فائل اٹھا رہی تھی؛ انداز ایسا تھا کہ جیسے پیار سے بچوں کو کوئی کہانی سنا رہی ہو۔

“مجھے اس کمپنی کی طرف سے وسل بلور ہونے کا لقب دیا گیا تو میں بھی اپنی صفائی پیش کرنے کی جگہ اس کمپنی کے پارٹنرز کو کچھ القابات دینا چاہوں گی۔”

“سب سے پہلے تو مسٹر شعیب—جنہوں نے کہا کہ میں وسل بلور ہوں—تو میں بتاتی چلوں کہ یہ جناب ہماری مخالف کمپنی کے سی ای او کے ساتھ پچھلی رات ڈنر پر گئے ہوئے تھے، اور ان کی وہاں ڈیل ہوئی کہ یہ انہیں ہمارے اگلے پروجیکٹ کے پلین کے پرنٹ دیں گے اور بدلے میں ایک کروڑ لیں گے۔” اس نے فائل سے پڑھتے ہوئے میز پر رکھا ریموٹ اٹھایا اور سکرین پر ایک ویڈیو ریکارڈنگ آن کی۔

صاف شفاف ویڈیو، جس میں شعیب کے ساتھ اسماعیل خان—جو کہ AGDA کی مخالف کمپنی کے مالک تھے— ساتھ بیٹھے ہنس کر بات کر رہے تھے۔ ان کے جملے سب دم سادھے سن رہے تھے؛ جب کہ شعیب صاحب کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا اور سانس حلق میں ہی اٹک گیا تھا۔

“یہ تھے ہمارے وسل بلور۔ فل ویڈیو بعد میں دیکھ لیجیے گا۔” “ابھی ہم آتے ہیں مسٹر الطاف کی طرف—جنہوں نے کہا کہ میں کمپنی کے شیئرز غلط طریقے سے استعمال کر رہی ہوں—تو یہ ہے وہ چیٹ جس میں مسٹر الطاف اپنے پارٹنر شمس کے ساتھ مل کر کمپنی کے خلاف شیئرز استعمال کرنے کا پلین بنا رہے تھے۔” اب کی بار پیچھے لگی سکرین پر واٹس ایپ کی چیٹ کے سکرین شاٹس آئے تھے۔

“اور یہ ہیں ہماری کمپنی کے سب سے مخلص اور ایماندار ایمپلائٔی—” صاحبہ نے نہایت مہذب لہجے میں الطاف کے منہ پر جوتا مارا تھا؛ کمرے میں بیٹھے سبھی لوگوں کو سانپ سونگھ گیا ہو جیسے۔

“تم آخر ثابت کیا کرنا چاہتی ہو صاحبہ؟ یہ سب کر کے تم کوئی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے رہی ہو؟” ایک فیمیل ایمپلائی نے تنفر سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

“بلکل ٹھیک سمجھا ہے آپ—میں واقعی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے رہی ہوں۔ اور آپ کا کیا کہنا ہے کہ میرا مسٹر حسین کے ساتھ ناجائز تعلق ہے؟”—آرے، کم از کم ڈھنگ کے انسان کا انتخاب تو کرتی ، جو پہلے ہی آپ کے اور ساتھ مس شہرین کے ساتھ انوالو ہو اور ساتھ میں تین بچوں کا باپ بھی ہو، میں اس کے ساتھ چکر کیوں چلاؤ گی؟” وہ اندر تک سلگا دینے والی معصومیت اور مسکراہٹ سے بولتی، ایک اور فائل اٹھاتے ہوئے دوبارہ ان کی جانب متوجہ ہوئی۔

“آخری بات—میرے پاس اس کمپنی کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آدھے سے زیادہ ایمپلائز غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں—کمپنی کے سی ای او کو ملا کر۔” اب کی بار اس نے کب سے خاموش بیٹھے باس کے سر پر بم پھوڑا تھا؛ وہ بے اختیار سیدھا ہوا تھا۔

“جنہیں میں یہاں آپ کے کمپیوٹر ریکارڈ میں سیو کر کے جاؤ گی—آپ تسلی سے اپنی فتوحات دیکھ لیجیے گا۔ اور دوسری بات، میں اس کمپنی سے اپنے تھرٹی پرسنٹ شیئرز واپس لینے لگی ہوں—اور یہ رہا میرا ریزائن لیٹر۔” وہ منھ پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے ایک لفافہ میز پر رکھتی، سیدھی ہوئی اور اب براہِ راست وہاں بیٹھے سب لوگوں کو دیکھتی ہے ۔

“صاحبہ، دیکھو تم بیٹھ کر بات کر لو—ہم اس مسئلہ کو حل کر لیں گے،” رحمان صاحب نے ایک آخری کوشش کج تھی ۔

“امید ہے میں نے اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کیا ہوگا۔ آپ سب اپنے اندر ایک سانپ ہیں جو کسی بھی وقت کسی کو بھی ڈس لے؛ اور یقین مانیے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا—آپ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جتنا بھی برا کرو، میری بلا سے چاہے خود کو آگ لگا لو یا ایک دوسرے کو۔” لیکن اگر آپ میں سے کسی ایک نے بھی میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تم سب کو راکھ کرنے میں میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤ گی۔” وہ دھیمی آواز میں کہتی، تھوڑا سا آگے جھکی اور پہلی بار شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ان سے مخاطب ہوئی۔

“تم لوگ ابھی مجھے جانتے نہیں ہو—جب میری خاموشی ٹوٹتی ہے تخت لرز جاتے ہیں۔” یک دم اس کی ٹون بدلی تھی اور لہجہ چٹان جیسا سخت ہوا۔

“اگر اب تک چپ تھی تو اسے گولڈن چانس سمجھنا چاہیے تھا۔ میری خاموشی تمہاری ڈھال تھی اور اب آواز تمہارا زوال بنے گی۔ پل پل اس خوف میں رہو تم سب کہ ناجانے کون سی گھڑی میں تم لوگوں کی سیاہ کاریوں کا اشتہار لگا دوں۔” وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں گھاڑ کر کہتی ہے: “اگر مجھے میرے شئیرز اگلے تین گھنٹے میں واپس نہ ملے تو پھر۔۔۔” سیدھی ہوئی، چہرے پر مسکراہٹ سجائی، تمام فائلز دوبارہ ہاتھ میں لیں۔

“ہم کورٹ میں ملیں گے، سر۔” وہ جلا دیتی مسکراہٹ کے ساتھ رحمان صاحب کی آنکھوں میں دیکھتی ہے۔

“دعاؤں میں یاد رکھیں گے، صالحین،” وہ مسکرا کر کہتی، ان کے منہ پر جوتا مارتی اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔ میز کی دائیں طرف سے چلتے ہوئے وہ سیدھ میں دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اس کی نظر رحمان صاحب کے دائیں طرف بیٹھے شخص پر پڑی—بلیک تھری پیس سوٹ پہنے، ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں تھوڑی پر جمائے دلچسپی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

صرف ایک پل کو صاحبہ کی بھوری آنکھیں سامنے بیٹھے مرد کی بھوری آنکھوں سے ملی جن میں مسکراہٹ تھی؛ اور پھر صاحبہ اس کے ساتھ سے ہوتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔

پیچھے—سب لوگ جیسے خود سے نظریں چرا رہے تھے کہ… اور اس سے انتقام کی آگ میں جل کر تم لوگ سب برباد کر دے گی۔ وہ یہ—یہ جو اب تک عیاشیوں سے دن رات سکون سے سو رہے تھے نا، اب ترسو گے نیند کے لیے۔ رحمان صاحب اب غصے میں ان سب کو ڈانٹ پھٹکار کر رہے تھے۔

سب ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے—وہ پانچ منٹ میں پوری آگ لگا کر سکون سے جا چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور
لاہور کے پوش علاقے میں بنا وہ میرج حال سفید لائٹوں سے چمچما رہا تھا۔ ہر چیز پر پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا تھا۔ اگر میرج ہال کو اور اس کی تیاریوں کو چھوڑ کر تم لائٹوں سے جگمگاتے شاہ ہاوس میں آو تو وہاں افراتفری مچی تھی۔

“طاہر، میں اور سمعیہ جا رہیں ابراحیم کے ساتھ۔ تم اور صائم بھی جلد آ جانا، “
مسسز طاہر نے لاونج میں بیٹھے فون پر نظریں جمائے طاہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

“ہمم ٹھیک ہے، ویسے اتنی جلدی جانے کا کیا فائدہ ابھی دو گھنٹے رہتے ہیں۔”
طاہر مصروف سے انداز میں بولا۔

“بھئی ارینجمنٹ تو دیکھنی ہے نا، اچھا اب اللّٰہ حافظ۔”
وہ بولتے ہوئے سمعیہ اور ابراحیم کے ساتھ باہر نکل گئیں، جب کہ طاہر صاحب نے گہرا سانس خارج کیا اور واٹس ایپ کھولتے ہوئے میسج ٹائپ کرنے لگے۔ وہ تھوڑے مصروف مصروف اور پریشان سے لگ رہے تھے۔ نا جانے کیوں دل میں عجیب سی گھبراہٹ ہو رہی تھی، مگر دوسری طرف پارلر میں تیار ہوتی پلویشا دائم خوشی سے شیشے کے سامنے بیٹھی خود کو ستائشی نظروں سے دیکھتی مسکرا رہی تھی۔

“قہر ڈھا رہی ہو؟”
ساتھ کھڑی ردا نے (ابراحیم کی بیٹی) مسکرا کر کہا۔

“حالانکہ ابھی مکمل تیار بھی نہیں ہوئی۔”
پلویشا نے گہرا سانس بھرتے مسکرا کر کہا، اس کا میک اپ ہو چکا تھا، صرف بال رہتے تھے اور جیولری۔

ردا ابھی کچھ کہتی کہ اس کے فون پر کال آنے لگی، وہ “ایکسکیوزمی” کہتی وہاں سے چلی گئی اور تبھی ہئیر سٹائلسٹ نے آکر اس کے بال بنانے شروع کیے۔

پلویشا مسکرا کر آہستہ سے سر پیچھے سیٹ سے ہلکا ٹچ کرتے ہوئے آنکھیں موند گئی۔ باہر تیز ہوا چلی، زندگی کی کتاب کے اوراق پیچھے کی طرف پلٹنے لگے اور گھڑیال کی سوئیاں پیچھے کی طرف تیزی سے مڑنے لگیں۔ پلویشا کا ذہن ماضی میں کھو گیا تھا اور اس منظر پر رکا۔

جہاں سے ……..
وہ منظر جہاں سے شروعات ہوئی تھی …..
زندگی کی طرف لوٹنے کی شروعات …………

چھ سال پہلے

جنوری کی سردی پورا زور پکڑے ہوئے تھی۔ ہلکی ہلکی دھند میں لپٹی صبح ایک نئے آغاز کی طرف روا ہوتی معلوم ہوتی تھی۔ اسی سردی میں شاہ ہاوس کے پورچ میں سیاہ گاڑی ٹائر چڑچڑاتے ہوئے رکی۔

“آجاؤ اندر چلیں۔”
بیالیس سالہ مرد، گاڑی میں پھیلی سنجیدہ خاموشی کو توڑتے ہوئے اپنے ہمراہ بیٹھی لڑکی سے بولے، جو سامنے یک ٹک نظریں جمائے بیٹھے ہوئے تھی۔ جو انکی آواز سن کر بس سر کے خم سے جواب دیتی، گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی، ساتھ ہی وہ بھی گاڑی سے باہر نکلے۔

“زاہیب، گاڑی میں سے سامان نکال کر اندر گھر میں لے چلو۔”
وہ سترہ سالہ لڑکی کے ہمراہ داخلی دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔

“کیا تم نروس ہو رہی ہو؟”
انہوں نے داخلی دروازے سے کچھ قدم دور ٹہر کر اس لڑکی کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے پوچھا۔

ساتھ کھڑی لڑکی نے نظریں سامنے کھڑے مرد کے چہرے پر جمائی۔

“نہیں۔”
ایک پل کی خاموشی کے بعد اس نے نظریں موڑتے ہوئے کہا اور گہرا سانس اسلام آباد کی فضا میں خارج کرتے وہ آہستہ سے آنکھیں موند گئی۔ ہلکی ہلکی دھند اور سردی کو محسوس کرتے اس نے قدم آگے بڑھائے تھے۔

پہلا قدم( وہ یورپ کے سکول میں بیٹھی رو رہی تھی )
دوسرا قدم( وہ اپنے کمرے کی چیزیں توڑ پھوڑ رہی تھی)
تیسرا قدم( ڈاکٹر طاہر اسے اپنے ساتھ ایک باغ میں لائے تھے)
چوتھا قدم( وہ انکے ساتھ لین میں بیٹھی پاکستان کے سفر پر گامزن تھی )
اور ..!!!!!

وہ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے لاونج میں آئی جہاں اس کی نظر صوفے پر بیٹھی موبائل پر بات کرتی ایک عورت پر گئی۔ خود پر نظریں محسوس کرتے ہوئے عورت نے دائیں جانب دیکھا تو حیرانی سے اٹھی۔

“میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں مسسز ہمدانی۔”
عورت شائستگی سے مسکراتے ہوئے فون بند کرتے اس کی طرف بڑھی۔

“اسلام علیکم، کیسے ہو بیٹا؟”
وہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگی اور ایک دو پل کو ایسے ہی اس کے گرد حصار باندھے کھڑی رہیں۔ پلویشا نے بھی مضبوطی سے ان کے گرد حصار باندھا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں تائی جان، آپ کیسی ہیں؟”
پلویشا مسکراتے ہوئے ان سے الگ ہوتے ہوئے بولی۔

“آرے یہ تو بلکل ٹھیک ہیں، انہیں کیا ہونا ہے۔”
اس سے پہلے تائی جان کچھ کہتی، پیچھے کھڑے طاہر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھائے۔

“بلکل، میں کیسے ٹھیک نہیں ہوں گی۔ پلویشا، آخر یہ جناب جو گھر نہیں تھے، وہ بھی مسکراتے ہوئے انہیں جواب دیتے صوفے کی طرف گئی۔”

“یہ بتاو، سفر نے زیادہ تھکا تو نہیں دیا نا؟”
وہ پلویشا کو بلکل اپنے ساتھ بیٹھاتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں۔

“نہیں تائی جان، مجھے سفر تھکایا نہیں کرتے۔ ہاں، البتہ نیند بہت آئی اور ابھی بھی آ رہی ہے۔”

“اچھا تو تم ایسا کرو، پہلے آرام کر لو، پھر شام میں مل کر خوب باتیں کریں گے ہمم۔”

“جی، اچھا وہ چچی جان، ابراحیم انکل اور ردا وہ کہاں ہیں؟”
پلویشا نے حیرانی سے پوچھا۔

“ابراحیم اور سمعیہ تو باہر گئے ہیں شام تک آ جائیں گے، ردا کالج ہے، میں آج آف پر ہوں، بی کاز میری جان جو آئی ہے۔”
وہ مسکرا کر بتاتے ہوئے اٹھی۔

“تھینک یو۔”
پلویشا مسکراتے ہوئے بولی اور اٹھ کر ان کے ہمراہ چلتی ہوئی اوپر اپنے روم میں آئی۔ تائی جان اسے کمرے کے دروازے پر چھوڑ کر واپس پلٹ گئی اور پلویشا نے دروازہ کھولتے ہوئے اندر قدم رکھا۔

ماضی کی فضا اور رچی بسی خوشبو نے اس کا استقبال کیا تھا۔ پلویشا نے آنکھیں بند کر کر اپنے بچپن کی یادوں کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔

ماں کی وفات کے بعد وہ سات سال کی عمر میں اپنے باپ کے ساتھ یہاں سے گئی تھی اور اب سترہ سال کی عمر میں واپس لوٹی ہے اپنے غموں کو، سترہ سالوں کے سفر کو اور اپنی تمام تر پرانی یادوں کو سب کچھ وہیں چھوڑ کر دوبارہ سے ایک نئی شروعات کرنے کے لیے۔ کیونکہ وہ موو آن کر جانے والوں میں سے تھی، اسے ایک ہی جگہ سٹک ہو جانا ڈراتا تھا۔

“پلویشا دائم باطنی اندھیروں سے لڑتی ایک سروائور تھی”

(وہ گہرا سانس لیتے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی)

کچھ وقت بعد وہ باہر نکلی تو منہ گیلا تھا اور ہاتھ بھی وہ تولیے سے منہ صاف کرتے بیڈ کی جانب آئی اور لیٹ گئی۔ وہ بہت تھکی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔ کچھ وقت میں ہی لیٹے لیٹے اسے نیند نے آ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ہاوس کے لاونج میں اس وقت سب وہاں بیٹھے رات کی چائے انجوائے کر رہے تھے۔ ابراحیم اور طاہر دائیں جانب بنے صوفے پر بیٹھے اور سائلہ (طاہر صاحب کی بیوی) سنگل صوفے پر براجمان تھی، جب کہ تھری سیٹر صوفہ پر ردا، سمعیہ اور پلویشا بیٹھیں تھی۔

“پلویشا، آپ نے کون سا سبجیکٹ رکھا ہے؟”
ابراحیم نے مسکراتے ہوئے پلویشا سے پوچھا۔

“انکل، بائیولوجی۔”
پلویشا نے بھی شائستہ انداز میں جواب دیا۔

“ہمم، تو ہمارے گھر کی پہلی فیمیل ڈاکٹر آپ بنیں گی؟”
ابراحیم صاحب نے داد دیتے ہوئے کہا، جس پر سب ہنس پڑے تھے، اور پلویشا نے نا سمجھی سے سب کو دیکھا۔

اصل میں بات یہ ہے کہ ابراحیم کی بہت خواہش ہے کہ اس کی فیملی میں سے کوئی فیمیل ڈاکٹر بنے۔ یہاں تک کہ اس کی شادی کم عمر میں ہوئی تھی اور یہ جناب شادی کے بعد زبردستی سمعیہ کو بھی ایم بی بی ایس کروانا چاہتا تھا۔ بیچاری سمعیہ خود ابھی نو جوان تھی، سو شوہر کی بات پر لبیک کہا، مگر جب دن رات کتابوں میں گھسنا پڑا، پھر اس نے ہاتھ کھڑے کر لیے کہ “بابا، اب مجھ سے نہیں ہوتا”۔ اور سیم ردا نے بھی یہی کیا، کیوں کہ یہ فیشن ڈیزائنر بننا چاہتی ہے۔ اب بیچارہ لگتا ہے تم سے امید لگا کر بیٹھے گا۔

ڈاکٹر طاہر نے ہنستے ہوئے پلویشا کو پوری بات سمجھائی، جس پر وہ مسکرا کر رہ گئی تھی۔

“انشاء اللّٰہ، ڈاکٹر ابراہیم یہ ضرور ڈاکٹر بنے گی۔”
ردا نے اپنے ساتھ بیٹھی خود سے ایک سال چھوٹی پلویشا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے مسکرا کر کہا، جس پر سب نے بیک وقت آمین کہا۔

اچھا آؤ، پلویشا، ہم لان میں چلتے ہیں۔
ردا نے کھڑے ہوتے پلویشا کا ہاتھ تھامتے کہا۔ پلویشا بھی کھڑی ہوئی اور اس کے ساتھ چل دی۔ پیچھے بیٹھے چاروں افراد مسکرا کر اپنے گھر کی دونوں بیٹیوں کو جاتے دیکھ رہے تھے۔

“آپ لوگوں میں سے کوئی بھی ناجانے میں بھی پلویشا کے سامنے اس کے پیرینٹس کا ذکر مت کیجیے گا، بچی پریشان نہ ہو جائے، ہمم،”
ڈاکٹر طاہر نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
“جی بھائی صاحب،” ابراہیم نے سر جھکاتے ہوئے جواب دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں لان میں آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے ٹہل رہی تھیں۔
ردا نے پلویشا کی طرف رخ کرتے ہوئے پوچھا، “پلویشا، یہ بتاؤ تمہاری وہاں کوئی فرینڈ بھی تھی یا نہیں؟”
پلویشا نے ایک پل کی خاموشی کے بعد کہا، “نہیں۔”
“کیوں؟” ردا نے فوراً رکتے ہوئے پوچھا۔
“فریکوئنسی میچ نہیں ہوتیں تھی،” پلویشا نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔
ردا نے ہنس کر کہا، “واہ بھئی واہ، آئین سٹائن کی اولاد! خیر، میری تو دو تین پکی فرینڈز ہیں، مگر اب تم آ گئی ہو نا، تم بھی میری دوست ہو۔ تمہیں پتہ ہے، پلویشا، میں بہت خوش ہوئی تھی جب ماما نے بتایا کہ تم آ رہی ہو۔ اور آج کالج بھی آف کرنے کا پلان تھا،”
“اوہ سوری، میرا مطلب، سر امجد نے کہا کہ اسائمنٹ جمع کروانے کی لاسٹ ڈیٹ ہے تو جانا پڑا، مگر اب ہم ساری رات بیٹھ کر باتیں کریں گے۔ تم مجھے یورپ کے لوگوں کے بارے میں بتاؤ، اور میں تمہیں پاکستان کے لوگوں کے بارے میں،” ردا تیز تیز بولتے جا رہی تھی۔
پلویشا مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“اوہ سوری، مجھے بھی تھوڑی بولنے کی کچھ ایکسٹرا بیماری ہے،” پلویشا ہنستے ہوئے بولی۔
ردا نے کہا، “کوئی نہیں، میں بھی اتنا ہی بولتی ہوں۔”
“پھر تو ہماری خوب جمے گی۔ پتہ ہے، جب صائم ہوتا تھا نا، وہ اور میں بہت مزے کرتے تھے، مگر اب وہ بھی آنے ہی والا ہوگا۔”
پلویشا نے سوالیہ انداز میں پوچھا، “صائم، ڈاکٹر طاہر کا بیٹا ہے نا؟”
“ہاں، تم نے نہیں دیکھا اسے؟” ردا حیران ہوئی۔
“نہیں، جب یہاں تھی تب وہ بورڈنگ میں تھا اور پھر میں بھی چلی گئی یہاں سے،” پلویشا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
ردا نے کہا، “چلو، کوئی نہیں، وہ بھی آ جائے گا۔ سٹڈی کمپلیٹ ہو گئی ہے، اب پتہ نہیں کب آتا ہے۔”
پلویشا نے سرسری سا پوچھا، “خیر، سائسن مووی کا فرسٹ سیزن دیکھا ہے؟”
ردا نے کہا، “بلکل دیکھا ہے، ایسا کرتے ہیں، پہلے عشاء کی نماز پڑھتے ہیں، پھر مووی دیکھیں گے،” اور وہ جوش میں اندر کی طرف بڑھی۔
پلویشا نے بھی اس کے جوش میں اس کا ساتھ دیا، اور دونوں ہنستے ہوئے اندر کی طرف بھاگ گئیں۔
آسمان پر چمکتے چاند نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا۔


اللّٰہ اکبر
(اللّٰہ سب سے بڑا ہے۔ ہم سب بس ان الفاظ کو مانتے ہیں اور یقین کرتے ہیں، مگر یہ یقین صرف قول میں کیوں ہے؟ ہمارے عمل میں یہ یقین کیوں نہیں ہے کہ اللّٰہ سب سے بڑا ہے؟ اور سب سے بڑا ہے مگر کس چیز میں؟ یہ سوال ہمارے ذہن میں کیوں نہیں آتا؟ اور اگر آئے بھی تو اس کا جواب محض جسامت، طاقت، عزت، عظمت تک ہی ہم کیوں محدود کر لیتے ہیں؟)
جب ہمیں اس کا سب اہم جواب پتہ چل جائے، ہماری نسل کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اور جانتی ہو ہمیں کس جواب کی ضرورت ہے؟ وہ یہ کہ:
اللّٰہ ہماری خواہشات سے بھی بڑا ہے، ہماری خواہشات کی گہرائیوں سے بڑا ہے، ہمارے درد سے بڑا ہے، ہمارے دل کے ٹوٹے ٹکڑوں سے بھی بڑا ہے۔ تو جب ہمیں سمجھ آ جائے گی کہ یہ سب اللّٰہ کے آگے رائی کے دانے کے برابر ہیں، تو ہم کبھی مایوس نہیں ہوں گے۔


اسلام آباد کی دھند میں لپٹی فجر کی اذانیں ہر سو گونج رہی تھیں۔ وہ اپنی کھڑکی میں کھڑی، آنکھیں بند کیے، موزن کی آواز اپنے اندر سما رہی تھی۔ زہن میں کسی کے کہے الفاظ گونج رہے تھے اور زیر لب ترجمہ بھی ہو رہا تھا:

لا الٰہ الا اللّٰہ
(نہیں کوئی معبود مگر اللّٰہ۔ اس کلمے میں اللّٰہ نے اپنی وحدانیت بیان کی ہے۔ اگر اس کلمے کی بنیاد پر ہم جیئیں تو اللّٰہ پر ایمان خودبخود ہی پکا ہو جائے گا، کیونکہ جب اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اپنی تمام تر خواہشات اور ضروریات کا نگہبان اللّٰہ کو بناؤ۔)

و اشہد ان محمد رسول اللّہ
(میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد اللّٰہ کے رسول ہیں۔ اس کلمے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اللّٰہ اپنے محبوب کو نہیں بھولتے۔ اگر انہوں نے اپنی واحدانیت کا ذکر کیا ہے، تو ہم سب سے یہ گواہی بھی دلائی کہ محمد اللّٰہ کے رسول ہیں۔ یہ ہمیں وفا سکھاتا ہے۔ ہمیں اپنے دوستوں کے ساتھ اور سب سے زیادہ اپنے رب کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے۔)

حیی الصلاۃ
(نماز کی طرف آؤ۔ نماز؟ کیا ہوتی ہے؟ فرض؟ سکون؟ یا عبادت؟ نماز ملاقات ہے اللّٰہ سے۔ نماز معراج کے موقع پر تحفہ ملی تھی۔)

حیی الفلاح
(فلاح کی طرف آؤ۔ فلاح یعنی کامیابی، بہتری، ترقی۔ مگر کس چیز کی کامیابی؟ دنیا کی، آخرت کی، یا پل صراط کی؟ اصل کامیابی وہ ہے جو ہمیں اللّٰہ کے ساتھ جوڑے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی ہم اللّٰہ کے قریب ہو سکتے ہیں۔)

پلویشا دھیرے سے آنکھیں کھولتی ہے، مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھتی ہے، اور پھر پلٹ جاتی ہے۔ اسے بھی اللّٰہ نے چوز کیا تھا۔
اور جب اللّٰہ آپ کو چوز کر لے، تو کیا پھر بھی کسی چیز کی خواہش رہتی ہے؟



لاہور
“پلویشا، تم آج ریڈی ہو جانا، تمہارا ایڈمیشن کروانے چلیں گے،” ڈاکٹر طاہر نے ناشتے کرتے ہوئے پلویشا کو دیکھتے کہا۔
“جی، ٹھیک ہے۔ اور مجھے کچھ چیزیں بھی چاہیے تو آپ مجھے مال بھی لے جائیے گا،” پلویشا نے جوس کا گلاس منہ سے لگاتے ہوئے کہا۔

ابراہیم صاحب چونک کر اسے دیکھنے لگے، کیونکہ عام طور پر بچے فرمائش کرتے وقت شرم محسوس کرتے ہیں یا جھجکتے ہیں، مگر پلویشا کی آواز میں کانفیڈینس تھی اور یہ انہیں متاثر کر گیا۔
“ٹھیک ہے،” ڈاکٹر طاہر مسکرا کر بولے۔

پلویشا نے ساتھ بیٹھی ردا کو دیکھتے کہا، “ردا بھی ساتھ چلے گی ہے نا؟”
ردا نے شائستہ انداز میں جواب دیا، “اگر تم کفرٹیبل محسوس کرو تو ٹھیک ہے، ورنہ فی الحال کچھ نہیں لینا۔”
پلویشا نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “میں تمہاری کمپنی انجوائے کروں گی، ٹینشن مت لو۔”

“آرے واہ، ایک ہی دن میں دوستی ہو گئی دونو کی!” سمعیہ نے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“جی ماما، آپ کو پتہ ہے میری اور پلویشا کی بہت سی چیزیں میچ کرتی ہیں، سب سے اہم؟”
“کے دونوں کو ترکش سیریز بہت پسند ہیں،” ڈاکٹر طاہر نے تیز تیز ردا سے پہلے ہی ہنستے ہوئے کہا۔
“جی بلکل!” ردا نے گردن کڑاتے ہوئے کہا، جس پر سب ہنس دیے۔

“ٹھیک ہے تو میں چلتی ہوں، کالج بائے پلویشا!” ردا نے اٹھتے ہوئے کہا، اور پلویشا کے گال سے اپنا گال ٹچ کرتے ہوئے پیار سے بائے بولتے ہوئے باہر قدم بڑھا دیے۔

ابراہیم نے ڈاکٹر طاہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا، “بھائی صائم کب آ رہا ہے؟”
“ابھی تو اس جناب کا کوئی پلان نہیں، آنے کا پتہ نہیں کب آتا ہے،” ڈاکٹر طاہر نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
ابراہیم صرف اثبات میں سر ہلا کر رہ گئے۔


پلویشا کو آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا، اور ڈاکٹر طاہر نے کالج میں اس کا ایڈمیشن بھی کروا دیا تھا۔ اس ایک ہفتے میں پلویشا اچھی خاصی ایڈجسٹ ہو گئی تھی اور اس کی ردا سے بھی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔

پلویشا اور ڈاکٹر طاہر اکثر رات کو ساتھ بیٹھ کر دیر تک باتیں کیا کرتے تھے۔ کبھی ماضی کو چھیڑتے، کبھی پلویشا کو مینٹلی گرو کرنے کے طریقے بتاتے۔ رشتہ کے لحاظ سے ڈاکٹر طاہر پلویشا کے تایا تھے، مگر وہ انہیں اپنا بیسٹ فرینڈ کہتی تھی۔ وہ ان کے سامنے اپنا سب حال بیان کر دیا کرتی تھی۔ ڈاکٹر طاہر وہ واحد انسان تھے جن کے سامنے پلویشا رو لیا کرتی تھی۔ اگر پلویشا سے پوچھو تو وہ کہتی، “ڈاکٹر طاہر میری زندگی ہیں۔”

پلویشا جو کھڑکی سے نظر آتے سیاہ آسمان پر دمکتے چاند پر نظریں گاڑے ہوئے تھی، دروازے پر دستک نے اسے اپنے خیالات کی دنیا سے نکالا۔

“آ جائے؟”
دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور ڈاکٹر طاہر کمرے میں آئے۔
“اسلام علیکم،” پلویشا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“وعلیکم اسلام،” ڈاکٹر طاہر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، اور دونوں صوفے کی طرف بڑھے۔

“یہاں کے ماحول میں لگتا ہے ایڈجسٹ کر گئی ہو،” ڈاکٹر طاہر نے پلویشا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“جب زندگی کوئی آپشنز نہ رکھے تو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے، ڈاکٹر طاہر۔ ہم لڑکیاں شروع سے ایڈجسٹ ہی تو کرتی آئی ہیں،” پلویشا نے مسکرا کر کہا۔
“ایسی بات نہیں ہے، پلویشا۔ اگر تم یہاں نہیں رہنا چاہتی تو بتاؤ، میں تمہیں کہیں اور بھی شفٹ کر سکتا ہوں،” ڈاکٹر طاہر نے پریشانی سے کہا۔
“رہنا تو میں کہیں بھی نہیں چاہتی، ڈاکٹر طاہر۔ پتہ نہیں کیوں، ایسا لگ رہا ہے اندر سے میرا وجود بہت تھک گیا ہے، اتنا کہ اب کچھ بھی سوچنے کا دم نہیں بچا،” پلویشا نے تھک کر سر پیچھے صوفے کی پشت سے لگاتے ہوئے آنکھیں موندیں۔

ڈاکٹر طاہر نے کوئی جواب نہیں دیا، بس اسے دیکھتے رہے۔ ماضی پلویشا پر پھر سے حاوی ہونے لگا، وہ اکثر ایسے ہی مایوسی کا شکار ہو جاتی تھی۔ ڈاکٹر طاہر کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، وہ ہر بار پلویشا کا ایک ہی غم سننے کے لیے تیار تھے۔

پلویشا نے مکمل خاموشی میں آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔
“بولتی رہو، پلویشا، جو تمہارے من میں ہے میں سن رہا ہوں،” ڈاکٹر طاہر نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگاتے ہوئے کہا اور ہاتھ آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں پھیرنے لگے۔

پلویشا ایک دو پل کے لیے ساکت رہی اور پھر اس کی آنکھ سے پہلا آنسو نکلا۔
“ڈاکٹر طاہر، میں تھک گئی ہوں۔ مجھے اللّٰہ پر پورا یقین ہے، میں اللّٰہ سے محبت کرتی ہوں، مگر پتہ نہیں کیوں، اندر ہی اندر میں اتنی بکھری ہوئی ہوں کہ خود کو سمیٹنے میں بہت وقت لگے گا۔ اور اتنا وقت اور محنت مجھے ڈرا رہا ہے، میرے اندر کچھ بھی کرنے کی سکت نہیں ہے،” اس کے آنسوں میں روانی آ رہی تھی اور آواز کانپ رہی تھی۔

“میرے اندر سکوت چھایا ہے، ہر طرف ویرانی ہے۔ اگر دو منٹ خاموش بیٹھوں تو اندر کی ویرانی مجھے ڈرا دیتی ہے۔ میں ہر صبح ایک نئے آغاز سے کرتی ہوں، مگر ہر دن کے اختتام پر دوبارہ ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہوں، اسی کی گھٹی گھٹی ہچکیوں کے ساتھ سانس بھی پھول رہا ہے۔
ہر وقت میرے دماغ میں یہ جملہ مسلسل گونجتا رہتا ہے، ‘ڈاکٹر طاہر، میں ایسی کیوں ہوں؟ میں کیوں کبھی ہیل نہیں ہو سکتی؟ میں کیوں اتنی مایوس ہو گئی ہوں؟'”

پلویشا نے زور کی ہچکی لیتے ہوئے کہا،
“میں اتنی بکھر چکی ہوں کہ اپنے بکھرے وجود سے ڈر لگنے لگا ہے، اور زہن میں ایک ہی سوال اٹھتا ہے کہ میں اتنی بکھری ہوئی کیوں ہوں؟”

ڈاکٹر طاہر خاموشی سے اس کی ہر بات سنتے رہے، بالوں میں انگلیاں پھیرتے۔ جب پلویشا رو کر تھک گئی تو انہوں نے پانی کا گلاس دیا، پلویشا نے تھام لیا۔


“اب میری بات سنو،” ڈاکٹر طاہر صوفے پر آسانی سے بیٹھے، پلویشا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔
“سب سے پہلی بات، پلویشا، اپنے دماغ سے یہ نکال دو کہ تم کتنا وقت لو گی ہیل ہونے میں۔ ہیل ہونے کا پراسس ساری زندگی ساتھ رہتا ہے، یہ مسلسل اعلاج ہے۔ اور جہاں تک بھولنے کی بات ہے، تم اپنی ساری زندگی کے واقعات نہیں بھول پاؤ گی۔ شروع میں وہ واقعات تمہیں رلائیں گے، مگر سب سے پہلے تمہیں موت کے خوف کا سامنا کرنا پڑے گا، پھر رونا آئے گا، اور آخر میں تم رونا بھول جاؤ گی۔ بس یہ سمجھو کہ ہیل ہونا مکمل نہیں ہوتا، بلکہ غم کو قابو میں کرنا ہوتا ہے۔”

“دوسری بات، پلویشا، اپنے بکھرے وجود کو دیکھ کر ڈرنا نہیں ہے، بلکہ یہ سمجھو کہ یہ جیسا بھی ہے، تمہارا ہی ہے، اور صرف تم ہی اسے سمیٹ سکتی ہو۔ اس سے تمہیں اپنے اندر کی طاقت کا احساس ہوگا۔”

“اور آخری بات، جب تمہارے ذہن میں یہ سوال آئے کہ ‘تم ایسی کیوں ہو؟’ تو خود سے بیٹھ کر دوبارہ سوال کرو: کیا تم نے خود یہ بنایا؟ کیا تمہیں خوشی تھی؟ نہیں! ہم جیسے بھی ہیں، یہ حالات نے ہمیں بنایا ہے، خوشی سے کوئی ایسا نہیں بنتا۔”

“خود کے ساتھ وقت گزارو، پرانا ورژن یاد کرو، اپنا ہنستا ہوا چہرہ یاد کرو اور خود کو آئینے میں دیکھو کہ یہ تم ہو، ایک خوش باش اور ہیلدی انسان جسے وقت نے کھوکھلا بنا دیا۔ اگر پپل پلیزنگ، اٹینشن سیکر، یا مایوس لوگ بن گئے، تو سو واٹ؟ یہ بھی فیلنگز ہیں، ایک دن ختم ہو جائیں گی، کیونکہ کوئی چیز دائمی نہیں۔”

“اور سب سے بڑی بات، پلویشا، اللّٰہ سب سے بڑا ہے، ہماری خواہشات، ہماری گہرائیوں، ہمارے درد سے بھی بڑا۔”

پلویشا ڈاکٹر طاہر کی باتوں سے مطمئن ہو گئی۔
“سو اب تم منہ دھو کر لان میں آ جاو، وہاں بائیو کے جس ٹاپک میں مسئلہ ہو رہا ہے، میں سولو کر دیتا ہوں۔”
“ٹھیک ہے،” پلویشا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

ڈاکٹر طاہر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور جانے ہی والے تھے کہ پلویشا نے انہیں پیچھے سے پکارا،
“ڈاکٹر طاہر!”
وہ وہاں کھڑے، گردن موڑ کر پلویشا کو دیکھنے لگے۔

“Thank you for being in my life,” پلویشا نے کہا
ڈاکٹر طاہر نے پلویشا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا، “Same to you,” اور دروازہ کھول کر باہر کی جانب بڑھ گئے۔

پلویشا گہرا سانس لیتے ہوئے واشروم کے لیے چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دن تیزی کے ساتھ گزر رہے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پلویشا اپنی فیملی کے اور بھی قریب آ گئی تھی اور ردا اور اس کی دوستی بھی مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اور ردا اکثر راتوں کو جاگ کر مووی دیکھتیں اور پھر اگلا پورا دن اونگھتے گزارتی تھی، اور سارا گھر ان کے پیچھے ہوتا کہ سونے نہیں دینا۔ کالج میں بھی پلویشا نے ایک دوست بنائی تھی، محراب، اور اس کی دوستی بھی اچھی خاصی ہو گئی تھی۔
پلویشا اب خوش رہنے لگی تھی، اب بھی وہ روتی تھی مگر وہ موو آن کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین مہینے بعد
اسلام آباد میں رات نے سایا کیا ہوا تھا۔ سب اپنے بستروں میں دبکے سو رہے تھے، جب کہ کوئی تھا جو اسی رات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بڑے سے گھر کی دیوار پھلانگ کر لان میں کودا تھا اور دبے پاؤں اندر کی طرف قدم بڑھائے۔ اس کا ہر قدم آہستہ اور چوکنہ تھا اور نظریں چیل کی طرح اردگرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔ وہ گھر کے پچھلے حصے کی جانب گیا اور کیچن کا دروازہ کھولا جس کا مین ڈور گھر کے اندرونی حصے میں تھا، سو وہ اسی چھوٹے دروازے کو کھول کر اندر آیا۔ سامنے ایک کمرہ تھا جس میں بڑے بڑے مرتبان کا ڈھیر لگا تھا۔ وہ احتیاط سے آگے بڑھتے کیچن کا دروازہ کھولتا ہے اور اندر قدم رکھ کر پیچھے مڑتے وہ دروازہ بند کر دیتا ہے اور چپکے سے سیدھا ہوتا ہے، مگر اگلے ہی پل وہ دھک سے رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں کھڑی موبائل پر انگلیاں چلاتی ٹیکسٹ کر رہی تھی۔ آخری میسج بھیجتے ہوئے وہ محراب کو گڈ نائٹ کہتی بیڈ پر بیٹھی اور موبائل چارجنگ پر لگا دیا اور تھک کر پیچھے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹ گئی۔

“آہ، پلویشا پھر سے کلاسسز شروع ہونے والی ہیں، ایک ہفتہ ہے، مزے کر لو،” وہ سرد آہ بھرتے خود سے بولی اور اٹھ کر پانی پینے کی غرض سے میز تک آئی، مگر جگ خالی دیکھ کر برا سا منہ بناتی وہ دروازہ کھولتی کیچن کی جانب گئی۔ وہ لائٹ جلاتے جلاتے رک گئی کیوں کہ چاند کی روشنی ایک پانی کا گلاس لینے کے لیے کافی پڑ رہی تھی، سو وہ گلاس اٹھائے سنک تک آئی۔ ابھی وہ گلاس واش کرنے کے لیے سنک کی ٹوٹی چلانے ہی لگی تھی کہ کیچن کے اندر بنا دروازہ کھلتے دیکھ سانس روک گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتی، کوئی اندر آیا تھا۔

اپنے سے دو قدم کی دوری پر کھڑے نفس کو دیکھ کر پلویشا حیران ہو گئی۔ اندھیرے کے باعث اندازہ لگانا مشکل تھا، مگر سنک کے پیچھے کھلی کھڑکی سے پورے چاند کی روشنی میں وہ سامنے کھڑے نفس کی آنکھوں کو دیکھ سکتی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی بھی ری ایکشن کرتی، سامنے کھڑے نفس نے فاصلہ مٹاتے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔

“بلکل آواز مت کرنا،” وہ اس کے کان کے قریب جھکتے سرگوشی نما آواز میں بولا۔

پلویشا نے حیران چہرہ اٹھا کر اپنے بلکل قریب کھڑے نفس کی آنکھوں میں دیکھا، جو چہرہ جھکائے اس کی ہی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔ ایک پل کو تو دونوں ہی ساکت ہو گئے۔

گپ اندھیرے میں، صرف چاند کی روشنی کے باعث نظر آتے دو وجود، جو آنکھوں میں آگے آنکھیں گاڑے، گہری خاموشی میں کھڑے تھے۔ پلویشا کا ہاتھ آہستہ سے پیچھے کی جانب کھسکا، فٹ سے بیلن اٹھایا اور پھر—

“ٹھاہ!” پلویشا نے مناسب قوت سے سامنے کھڑے مرد کے کندھے پر دے مارا۔

“آہاہاہاا!” وہ یک دم درد سے کراہتے ہوئے پلویشا سے دور ہوا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا،

“دروازے سے آنا تھا نا تمہیں، چورود کی طرح کون آتا ہے؟” پلویشا اسے کراہتے دیکھ سنک سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی اور بیلن واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا۔

صائم نے کندھا سہلاتے ہوئے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا۔

“تم کون ہو؟” وہ ایک قدم قریب آتے ہوئے بولا۔

“پلویشا، تمہارے چچا کی بیٹی، اور اگر ایک قدم بھی مزید آگے بڑھایا تو اس بار بیلن سر پر دے ماروں گی،” وہ اسے دوبارہ قریب آتا دیکھ کر بیلن اٹھاتے ہوئے بولی۔

ایک پل کو صائم ٹہر سا گیا، پھر خود کو کمپوزڈ کر گیا۔

“تم پلویشا؟ کب آئی ہو؟ تم یورپ میں نہیں رہتی تھی؟” صائم نے حیرت سے اس کے سراپے کو اندھیرے میں گھورتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے پوچھا، کیوں کہ اسے ڈاکٹر طاہر نے پلویشا کی آمد کا نہیں بتایا تھا۔

“ایک سال سے یہیں ہوں میں،” پلویشا نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“اچھا، اور ایک منٹ، یہ کیسے پتہ کہ یہ میں تھا؟” صائم نے اسی انداز سے اسے پوچھا۔

“فلم تو نہیں چل رہی کہ کوئی ڈاکو گھس آئے گا، پھر لڑکی کو دیکھ کر فدا ہو جائے گا اور پھر اٹھا کے لے جائے گا، ویک اپ پلیز، اتنی صفائی سے صرف گھر کا فرد ہی اندر آ سکتا ہے، اور اس گھر میں صرف تم موجود نہیں تھے، سو سمپل تھا تمہیں پہنچاننا،” وہ بولتے ہوئے سوئچ بورڈ تک گئی اور بٹن دبا کر لائٹ آن کر دی۔ پھر دوبارہ مڑی، کھلے بال آبشار کی طرح اس کے اردگرد پھیلے تھے، چہرہ دمک رہا تھا۔ صائم ایک پل کے لیے اسے یک ٹک دیکھتا رہا کہ وہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گئی اور صائم کو دیکھا۔ چھ فٹ سے نکلتا قد، بلیک جینز پر وائٹ ٹی شرٹ اور بلیک ہی لیدر جیکٹ پہنے ہوئے تھا، خوبصورت نقوش، سفید رنگت، اگر ڈاکٹر طاہر کی جوانی دیکھو تو بلکل اسی طرح وہ بے حد خوبصورت مرد تھے۔

“یورپ سے واپس آنے کا پلان کیسے بن گیا آپ کا؟” وہ تنظیہ کہتے ہوئے سنک سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔

“بس بن گیا، خیر تمہیں کچھ چاہیے تو مجھے بتا دو، مطلب چائے وغیرہ،” پلویشا نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

صائم نے اسے یوں دیکھا جیسے سمجھنا چاہ رہا ہو کہ وہ تنظ نہیں کر رہی، مگر وہ واقعی سنجیدہ تھی۔

“بلکل، مجھے کافی بنا دو، تھک گیا ہوں، سرپرائز دینے کا سوچا تھا، خود ہی سرپرائز ہو گیا ہوں،” وہ ہنستے ہوئے بولا۔

“تم لاونج میں بیٹھو، میں بنا دیتی ہوں،” وہ اسے باہر بھیجتے ہوئے کافی بنانے لگی۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں لاونج میں بیٹھے کافی پی رہے تھے کہ اوپری منزل کے کمرے کا دروازہ کھول کر سائلہ باہر آئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی، نیچے صوفے پر صائم کو بیٹھا دیکھ کر بے حد حیران رہ گئی۔

“صائمم!” وہ خوشی سے کہتے ہوئے نیچے آئی اور اسے گلے سے لگایا۔

“کس وقت آئے ہو تم؟” وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

“کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا مام، اور اب آپ کی بھتیجی کی گئی نوازش نوش فرما رہا ہوں،” وہ مسکراتے ہوئے کہہ کر پلویشا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، جو یوں صوفے پر بیٹھی تھی۔

“پلویشا بہت ہی اچھی بچی ہے،” وہ پلویشا کی تعریف کرتے ہوئے بولی۔

“بلکل مام، بہت ہی اچھی ہے،” وہ کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

“خیر تائی جان، اب آپ لوگ بیٹھیں، میں سونے جا رہی ہوں، پہلے ہی دیر ہو گئی ہے،” پلویشا نے دونوں ماں بیٹے کو پرائیویسی دینے کا سوچا۔

“ٹھیک ہے بیٹا، گڈ نائٹ،” وہ پلویشا کو پیار سے خدا حافظ کہتے ہوئے بولی۔ پلویشا صائم کے ساتھ سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

“کچھ زیادہ نہیں اچھی لگتی آپ کو آپ کی بھتیجیاں؟” صائم نے ان کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتے کہا، پہلے وہ ردا کم تھی، جو اب پلویشا بھی آ گئی تھی۔

“اچھی ہے تو لگے گی بھی۔ اچھا، تم مجھے یہ بتاؤ کہ—” وہ دونوں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے صائم کے کمرے کی جانب جاتے ہوئے بولے۔

پیچھے گہری خاموشی میں لاونج میں رکھے کافی کے دونوں کپ ویسے ہی رہ گئے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح شاہ ہاوس خوشیاں بکھیرتے اتری تھی۔ سب لاونج میں بیٹھے ہنستے ہوئے باتوں میں مصروف تھے۔ صائم ڈاکٹر طاہر کے ہمراہ بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر طاہر صائم کی واپسی پر بہت خوش تھے، خوش تو ویسے سب ہی تھے۔
صائم نے کل رات ہونے والا سارا واقعہ سنایا تھا۔ بیلن والی بات سن کر سب کے قہقہے بلند ہوئے تھے۔

“ردا، تم سناؤ، تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟” صائم، جو کہ ٹراؤزر اور شرٹ پہنے ہلکے انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا، ردا سے پوچھا۔

“ٹھیک ہی جا رہی ہے بس۔” ردا نے مسکرا کر جواب دیا۔

“ڈاکٹر، پلویشا، آپ کی تو دوبارہ کلاسسز شروع ہونے والی ہیں۔ اچھا، ویسے یہ ایف ایس سی کے سٹوڈینٹس بیچارے خوار ہو کے رہ جاتے ہیں۔” صائم پلویشا کو مخاطب کرتے ہوئے سب کو دیکھ کر بولا۔ پلویشا نے محسوس کیا کہ وہ کافی اوپن مائنڈڈ اور سنجیدہ ٹائپ انسان تھا، مگر اس کی سنجیدگی بھلی محسوس ہوتی تھی۔

“صائم، اب تم آ گئے ہو تو آج مجھے اور پلویشا کو ڈنر پر لے کر چلو۔” ردا نے اعلانیہ طور پر کہا۔

“کیوں بھئی، کس خوشی میں؟” صائم نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔

“حد ہے بھئی، اپنے آنے کی خوشی میں۔” ردا نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔

“تو پھر اصولاً تو مجھے ٹریٹ ملنی چاہیے، کیوں بابا۔” وہ ہنستے ہوئے ڈاکٹر طاہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

“نئی بھئی، میں اپنی بیٹیوں کے حق میں ہوں۔ ان کو ڈنر پر لے کر جاؤ تم۔” ڈاکٹر طاہر نے مسکرا کر ردا اور پلویشا کو دیکھا جو دلچسپی سے ساری کاروائی دیکھ رہی تھیں۔

“نہیں بھئی، آج میرا دوستوں کے ساتھ پلین ہے، تم لوگ پھر کبھی چلے جانا۔” صائم نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا۔

“کیا صائم، ہر وقت تمہارے پاس بہانے ہوتے ہیں؟ پلویشا، تم تو کچھ بولو۔” ردا نے پلویشا کو گھورتے ہوئے کہا۔

“میں کیا کہوں؟” پلویشا نے ناپسندیدہ انداز میں صرف آنکھیں دکھائی اور کہا، “کچھ نہیں۔”
صائم نے بلکل غور سے دیکھا۔ وہ سفید بیگی پینٹ کے ساتھ ریڈ سوٹ شرٹ پہنے، بالوں کی ٹیل پونی بنائے ہوئی تھی، اور چہرہ پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ اسے پلویشا کا رسپانس نا کرنا ناجانے کیوں اچھا نہیں لگا۔

“اچھا، لے چلوں گا۔ تیار رہنا تم دونوں۔” وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اٹھ گیا۔ جب کہ ردا نے خوشی سے پلویشا کو دیکھا جو پہلے سے ہی مسکرا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لاونج میں بیٹھا موبائل پر کچھ ٹائپ کرتا، دونوں نواب زادیوں کا انتظار کر رہا تھا، کہ اچانک اسے سیڑھیوں سے ہیل کی ٹک ٹک سنائی دی۔ صائم نے گردن اوپر کر کے ردا کو دیکھا اور کھڑا ہو گیا۔ وہ ٹخنوں تک آتا پوری آستینوں والا گہرہ نیلا فراق پہنے ہوئے تھی، بال کھول رکھے تھے، اور ہلکے میک اپ میں وہ ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی۔

“پلویشا نہیں جا رہی؟” صائم نے ردا کو اکیلے چلتے دیکھ پوچھا۔

“وہ کہہ رہی ہے تم لوگ گاڑی میں بیٹھو، میں آتی ہوں۔ اصل میں وہ جوتے پہن رہی تھی۔” ردا نے مسکرا کر کہا۔

“ہممم، چلو۔” صائم اور وہ آگے بڑھ گئے اور پورچ میں آتے وہ دونوں ٹہر گئے۔ صائم نے ردا کے لیے فرنٹ ڈور کھولا، مگر ردا اندر نہیں بیٹھی۔

“کیا ہو؟” صائم نے سوالیہ نظروں سے ردا کو دیکھا۔

“پلویشا آ جائے، پھر کیا پتہ وہ فیل کرے۔” ردا نے صائم کو دیکھتے ہوئے کہا۔

یہ بھی صحیح، ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ اسے پیچھے سے ہیل کی ٹک ٹک سنائی دی۔ صائم نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
اس نے بھی ردا کی طرح ہی ڈریسنگ کر رکھی تھی، مگر ڈرس کا کلر بلیک تھا۔ صائم کی نظر اس کے چہرے پر پڑی اور یہاں صائم ساکت ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر، سفید مومی چہرہ ہلکے میک اپ میں دمک رہا تھا۔ صائم کے دل نے شدت سے ایسے ہی دیکھتے رہنے کی ضد کی تھی۔

“چلیں۔” وہ قریب آتے ہوئے بولی، نظریں صائم پر جمی ہوئی تھیں۔ بلیک تھری پیس سوٹ پہنے، وہ مکمل تیار سا اس کے سامنے کھڑا تھا۔

“ہمم، چلو۔” صائم خود کو ڈپٹتے ہوئے نظریں موڑ گیا اور بائیں جانب جاتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔ تو وہ دونوں بھی اندر بیٹھی اور ان کی گاڑی شاہ ہاؤس سے نکلتے ہوئے سڑک پر روا ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *