SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 4.

سکوت قسط نمبر :۴

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

وہ لوگ لاہور کے ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں بیٹھے ڈنر کر رہے تھے۔ سکون سا ماحول تھا ہر طرف۔ پیچھے ہلکا میوزک چل رہا تھا جو ماحول کو اور بھی خوشگوار بنا رہا تھا۔

“پلویشا، تم یورپ میں خود کو زیادہ کمفرٹیبل محسوس کرتی تھیں یا پھر یہاں؟” صائم نے پلویشا کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“آئی تھنک یہاں۔” پلویشا نے چمچ منہ میں لے جاتے ہوئے کہا۔

“کیوں؟” صائم نے آبرو سکیڑے۔

“پتہ نہیں۔” پلویشا نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے اور ساتھ میں آنکھیں بھی گھمائیں، جو اس وقت صائم کو بہت اچھی لگیں۔

“ویسے پلویشا تم کچھ زیادہ ہی چپ چپ نہیں رہتی ہو؟” صائم نے پھر سوال کیا۔

اس بات پر پلویشا اور ردا نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر دونوں ہی ہنس پڑیں۔

صائم نے ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھا۔

“میں بہت بولتی ہوں، البتہ آپ سے ابھی نہیں بول رہی۔” پلویشا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“کیوں؟” صائم بھی مسکرا کر گویا ہوا۔

“وہ اس لیے کہ میں ابھی آپ کو جانتی نہیں۔ اگر آپ کے اندر پازیٹیو وائب نظر آئی تو شاید آپ سے بھی بات کروں، ادر وائز سوری۔” پلویشا نے شان سے کندھے اچکائے۔

“واؤ، مطلب پہلے میرا ٹیسٹ میچ ہوگا؟” صائم نے سائڈ سمائل دیتے ہوئے پوچھا۔

“کہہ سکتے ہیں۔ دیکھتی ہوں آپ میرے لیول پر اترتے ہیں یا نہیں۔” پلویشا نے دوبارہ اسی انداز میں آنکھیں گھمائیں اور پھر وہ اور ردا دونوں ہی ہنس پڑیں۔

“اینی ویز سوری، میں بس مذاق کر رہی تھی۔” پلویشا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“اور میں مذاق انجوائے کر رہی تھی۔” ردا نے بھی معصومیت سے کہا۔

“ہاں جی، اور میں مذاق کا نشانہ بن رہا تھا!” صائم نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا، جس پر وہ تینوں ہنس پڑے۔

پھر ردا اور پلویشا نے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھیں اور پاگلوں کی طرح ہنسنے لگیں۔ صائم نے تلملا کر ان کے چڑیلوں جیسے قہقہے سنے۔

“کبھی گھر سے باہر نکلی بھی ہو تم دونوں یا نہیں؟” صائم ان دونوں جاہلوں کو دیکھ رہا تھا جو بنا بات کے ہنس رہی تھیں۔

اسی طرح ہنسی کے دورے کھاتے ردا نے چمچ منہ میں لے جانا چاہا کہ وہ اس کے کپڑوں پر گر گیا۔

صائم نے بے اختیار کراہتے ہوئے آنکھیں بند کیں اور ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں۔

“ردا، تم میں ذرا بھی مینرز نہیں ہیں!” صائم نے سخت لہجے میں دوبارہ ہنستی ہوئی ردا کو دیکھ کر کہا۔

“سوری گائز، میں یہ واش کر کے آتی ہوں۔” ردا بمشکل ہنسی روکتے ہوئے واش روم ایریا کی طرف گئی جبکہ پلویشا پیچھے ابھی بھی ہلکا ہلکا ہنس رہی تھی۔

صائم نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا کہ یک دم سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اسے دیکھ کر نہ جانے کیوں دل عجیب کیفیت کا شکار ہو گیا تھا۔

پلویشا نے مسلسل اپنی جانب اس کی نظریں محسوس کیں تو یک دم نظریں موڑ کر سامنے بیٹھے مرد کو دیکھا جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظروں سے پلویشا یک دم خائف ہوئی اور پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا۔ نہ جانے کیوں دل زور سے دھڑکنے لگا تھا۔

دوسری طرف صائم اس کی سرخ ہوتی رنگت اور نروسنیس کی وجہ سے مسلسل جھلاتے پیروں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے نظریں موڑ گیا۔ مطلب پلویشا بھی شرماتی تھی۔

“آہ، سامنے بیٹھی لڑکی بھی کڑا امتحان لیتی ہے۔” صائم نے موبائل آن کرتے ہوئے سوچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیاہ گاڑی شاہ ہاؤس کے پورچ میں رکی۔ صائم نے اگلی سیٹ پر بے سدھ سوتی پلویشا اور پچھلی پر سوتی ردا کو دیکھا۔ ڈنر کے بعد وہ تینوں یوں ہی مالز وغیرہ میں گھومتے رہے، واک کرتے رہے۔

واک کے دوران وہ کسی بات پر یوں ہنستیں کہ گزرنے والے کو شاک لگتا کہ دونوں نے ہی ڈرنک کر رکھی ہے۔ اور صائم سے ایک مزے دار ڈانٹ کھا کر غصے سے آگے چل پڑتیں، مگر پھر وہیں سے دوبارہ ہنسنے لگتیں۔ صائم ان دونوں آفتوں پر نیت ڈالتا رہتا۔ جب دونوں تھک گئیں تو واپسی کے لیے راضی ہوئیں اور اب دونوں آرام سے سو رہی تھیں۔

“پلویشا، ردا، اٹھو اندر جا کر سو جاؤ۔” صائم نے دونوں کو بلاتے ہوئے کہا۔

“پلویشا، اٹھو بھئی!” اس نے گاڑی کے شیشے سے سر ٹکائے سوتی پلویشا کا کندھا ہلاتے ہوئے کہا۔

پلویشا نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور اسی غنودگی میں سیٹ بیلٹ کھولنے لگی، مگر نیند کے حملے سے کھول نہیں پا رہی تھی۔

صائم جو اب پیچھے لیٹی ردا کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا، پلویشا کی کوششیں دیکھ کر مدد کے لیے واپس سیدھا ہو کر جیسے ہی سیٹ بیلٹ کھولنے جھکا، پلویشا کا سر اس کے کندھے سے جا لگا۔

صائم نے بے اختیار سانس روکا۔ سیٹ بیلٹ پر رکھا ہاتھ ساکت ہو گیا۔ اگر وہ بیلٹ کھولتا تو اس بیلٹ کے آسرے لگی پلویشا کا سر اس کی گود میں جا گرتا۔

کچھ پل یوں ہی گہری خاموشی میں گزرے۔ پھر صائم نے ایک ہاتھ منہ پر پھیرتے ہوئے خود کو کمپوز کیا اور پھر دونوں ہاتھوں سے پلویشا کو کندھوں سے پکڑ کر سیدھا کیا۔ نظریں اس کے سوئے ہوئے چہرے پر گئیں۔ صائم نے بمشکل اسے نظر انداز کرتے ہوئے سر نیچے جھکایا اور سیٹ بیلٹ کھولی کہ اچانک پلویشا کی ہلکی اور مدھم سرگوشی سنائی دی۔

“میں ایسی نہیں ہوں… میں۔۔۔ پاگل نہیں ہوں…” وہ نیند میں بڑبڑا رہی تھی، اور صائم سانس روکے اسے سن رہا تھا۔

“میں۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ ہو جاؤ گی میں۔۔۔ مجھے مر۔۔۔ مرنا نہیں ہے۔۔۔”

“پلویشا! کیا ہوگیا ہے؟ اٹھو!” صائم سے اس کی قہر برساتی خاموشی میں سرگوشیاں برداشت نہ ہوئیں تو وہ اسے مکمل جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔

پلویشا ہڑبڑا کر اٹھی تو نظر سیدھی صائم کے چہرے پر پڑی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ایک پل کو لگا اگر وہ نظریں ہٹائے گی تو نظارے بے معنی ہو جائیں گے۔ اسے بس یوں ہی سامنے بیٹھے انسان کو دیکھتے رہنا چاہیے۔

مگر اگلے ہی پل وہ پوری آنکھیں کھولتے ہوئے اس سے دور ہو گئی۔

“اندر جا کر سو جاؤ۔” صائم نے مدھم آواز میں کہا۔

وہ گہرا سانس بھرتے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور پیچھے کا دروازہ کھول کر ردا کو اٹھانے لگی۔

وہ اور ردا آگے آگے چل رہی تھیں اور صائم ان کے پیچھے۔

ردا نیند میں چلتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ پلویشا نے ایک بار پیچھے مڑ کر صائم کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ایک پل کو دونوں ٹھہر سے گئے۔ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے وہ کچھ لمحے خاموش رہے اور پھر صائم مسکرایا۔

“تھینک یو فار ٹوڈے۔” پلویشا نے مسکرا کر کہا۔

“ویلکم۔” صائم نے بھی مسکرا کر شکریہ وصول کیا۔

پلویشا اپنے کمرے میں چلی گئی تو صائم بھی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا، مگر دماغ میں ابھی بھی پلویشا کے کہے گئے جملے گونج رہے تھے —

“میں ایسی نہیں ہوں… میں پاگل نہیں ہوں…” 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پلویشا کی دوبارہ کلاسسز شروع ہو گئی تھیں تو ردا کے سمیسٹر پیپرز شروع ہو گئے تھے، سب کی زندگی مصروف ہو گئی تھی۔

وہ کچن میں ٹہری اپنی کافی بنا رہی تھی کہ اسے صائم اندر آتا دکھائی دیا۔

“صائم، کافی پیو گے؟” پلویشا نے مسکرا کر صائم کو دیکھتے پوچھا۔

“یپ،” وہ فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے بولا۔

“تو خود بنا کے پی لو،” پلویشا نے مسکراہٹ دبائے کہا، جب کہ صائم ضبط کر کے رہ گیا تھا۔

“حد ہوتی ہے، پھر پوچھا ہی کیوں؟” صائم نے تلملا کر کہا۔

“پتہ نہیں،” پلویشا نے کندھے اچکا دیے اور ساتھ میں آنکھیں بھی گھمائی۔

ایک تو تمہارا یہ “پتہ نہیں” صائم کے اندر تک کھول گیا تھا۔

“مزاق کر رہی تھی، بنا دیتی ہوں،” پلویشا نے ہنستے ہوئے کہا، تو صائم بھی کیچن میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔

“لاونج میں بیٹھ جاتے،” پلویشا نے اسے وہاں بیٹھے دیکھ کر کہا۔

“کیوں؟”

“اچھا نہیں لگتا نا،” پلویشا نے سنجیدگی سے کہا۔

صائم کو حیرت ہوئی، وہ باتیں بغیر تمہید کے کرتی تھی۔

“اوکے،” صائم اس کی بات سمجھتے ہوئے باہر چلا گیا۔

کچھ دیر بعد وہ صائم کو آی دکھائی دی کافی کے کپ کے ساتھ۔ ایک کپ اس نے صائم کی طرف بڑھایا اور ایک خود لیتے ہوئے سنگل صوفے پر ٹک گئی۔ صائم نے بغور اسے دیکھا۔

“پلویشا، یورپ میں تمہارے دوست بھی تھے؟” صائم نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا، نظریں اس کے چہرے پر ہی جمی تھیں۔

“تھے یا تھیں؟” پلویشا نے آنکھیں سکیڑے اسے دیکھا۔

“تھے،” صائم نے بھی مسکراہٹ دبا کر کہا۔

“نہیں، نہیں تھے، نا تھے اور نا تھیں،” پلویشا نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا اور پھر بے اختیار ہنس دی۔

صائم نے اس کے قہقہے پر کڑوا سا منہ بنایا تھا، مگر نظریں اس کے چہرے پر ہی جمی تھیں۔

پلویشا نے دیکھا صائم مسلسل اسے دیکھ رہا ہے، تو وہ یک دم سیدھی ہو بیٹھی، مگر صائم پھر بھی اسے دیکھتا رہا اور پھر وہ کپ میز پر رکھ کر آگے کو ہوا۔

“پلویشا، کیا تم ڈسٹرب ہو؟” صائم نے پلویشا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

پلویشا نے مسکراتے ہوئے پوچھا، البتہ دل زور سے دھڑک رہا تھا۔

“مطلب، کیا تمہیں کوئی چیز تنگ کر رہی ہے جس کی وجہ سے تم سکون میں نہیں ہو؟” صائم نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔

“نہیں، مجھے کیوں کرے گی؟” پلویشا نے بھی اسے دیکھتے ہوئے مضبوط آواز میں کہا، مگر دل کانپ کر رہ گیا تھا۔

“نہیں کچھ ہے، کیوں کہ تم بات بہ بات ہنستی ہو، تم دو منٹ بھی خاموش نہیں رہ پاتی، کیوں شاید تمہیں خاموشی ڈراتی ہے۔ دیکھنے والے کو لگے گا کہ تم بہت بولتی ہو، مگر درحقیقت شاید تمہیں خاموشیاں ڈرا رہی ہیں،” صائم نے نرمی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

پلویشا کے پاس الفاظ نہیں بچے کہ کیسے بھول گئی کہ سامنے بیٹھا وجود ڈاکٹر طاہر کا بیٹا تھا۔ پلویشا نے خاموشی سے کپ میز پر رکھا۔

“ایسا کچھ نہیں ہے، صائم،” وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اٹھ کر جانے لگی کہ اسے پیچھے سے صائم کی آواز آئی:

“میں تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا، پلویشا،” صائم نے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا۔

پلویشا کے قدموں میں جیسے زنجیر بندھ گئی، اس نے بے اختیار مڑ کر صائم کو دیکھا۔

“تم۔۔۔ بہت خاص ہو میرے لیے،” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا۔

پلویشا کو اس کی آواز میں سوگواریت محسوس ہوئی۔ پلویشا یک ٹک صائم کو دیکھتی رہی، پھر بولی تو آواز بھرائی ہوئی تھی:

“ایسے مت کہو، صائم! میں تمہارے لیے خاص ہوں، پلیز ایسے مت کہو،” وہ آنکھوں میں نمی لیے منت بھرے لہجے میں بولی۔

“کیوں، پلویشا؟ میں تمہیں پسند کرنے لگا ہوں،” صائم صوفے سے اٹھ کر سیڑھیوں کے پاس آتے ہوئے بولا۔

پلویشا، جو آنکھوں میں آنسوں لیے اسے دیکھ رہی تھی، اسے سیڑھیوں کے پاس آتے ہوئے بے اختیار دو قدم پیچھے لے گئی۔ صائم نے اس کی حرکت محسوس کرتے ہوئے اپنے قدم وہیں روک لیے اور شکوہ کناں نظروں سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا۔

“تم۔۔۔ تم مجھے پسند نہیں کر سکتے، صائم، تم نہیں۔۔۔ نہیں کر سکتے،” پلویشا اٹک اٹک کر بولتی، اپنے پیچھے قدم لیتی اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔

“پلویشا، میں کوئی غیر نہیں کیا، ہو گیا کزن ہوں تمہارا، اور تو اور تمہارے ڈاکٹر طاہر کو بتایا ہے، میں نے۔ اس طرح سے ڈر کیوں رہی ہو تم؟” صائم اس کی خوف سے لبریز آنکھوں اور ٹوٹی ہوئی آواز کو سنتے پریشانی سے بولا، وہ پلویشا کا رویہ سمجھنے سے قاصر تھا۔

پلویشا جو اپنے قدم آہستہ آہستہ پیچھے لے رہی تھی، اس کی بات سنتے ہوئے فوراً سے پہلے پورا پیچھے مڑتی، بغیر کوئی جواب دیے، اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

صائم نے تھک کر اس کی پشت دیکھی اور سرد آہ خارج کرتے ہوئے واپس صوفے پر آ کر بیٹھا اور سر صوفے کی پشت سے لگائے کنپٹی کو دو انگلیوں سے مسلنے لگا۔

بند آنکھوں میں اس کی اور ڈاکٹر طاہر کی ایک ہفتہ پہلے ہوئی ملاقات کے منظر چل رہے تھے۔۔۔

ایک ہفتہ قبل

ڈھلتی شام کے خوبصورت نظارے لاہور پر چھائے ہوئے تھے۔ ہلکی ہلکی ہوا اور اس پر تضاد ڈھلتا ہوا سورج ایک عجب ہی نظارا پیش کر رہے تھے۔ ایسے میں شاہ ہاؤس کے قریب پڑتے ایک پبلک پارک میں اکا دکا لوگ ہی موجود تھے۔ کچھ واک کرتے کپلز، تو کچھ تنہا زندگی سے لڑتے مسافر بینچوں پر بیٹھے سوچوں میں مگن تھے۔ اسی ماحول میں ڈاکٹر طاہر اور صائم ایک بینچ پر بیٹھے صائم کے نیو بزنس کے متعلق بات کر رہے تھے۔

صائم کے دادا، عاظم شاہ کا اپنا بزنس تھا جو ابراہیم صاحب کے کنٹرول میں تھا، لیکن اب صائم نے بھی آفس جوائن کر لیا تھا۔

“خیر، احمد فاروقی سے اگلی میٹنگ کب ہے تمہاری؟” ڈاکٹر طاہر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“دو دن بعد۔”

“ڈیٹس گریٹ، مائی سن!”

“بابا…” صائم جو سامنے غروب ہوتے سورج پر نظریں جمائے بیٹھا تھا، ڈاکٹر طاہر کی طرف رخ موڑتے ہوئے بولا۔

“جی؟”

“بابا، کیا پلویشا بیمار ہے؟”

اتنے ڈائریکٹ سوال پر ایک پل کو تو ڈاکٹر طاہر چپ سے ہو گئے۔

“نہیں تو…” ڈاکٹر طاہر نے سرسری سا جواب دیا۔

“نہیں بابا، وہ بیمار ہے۔ جب میں، ردا اور وہ ڈنر کرنے گئے تھے تو واپسی پر پلویشا گاڑی میں سو گئی تھی۔ میں اسے اٹھانے کی خاطر تھوڑا اس کی طرف جھکا تو وہ نیند میں بڑبڑا رہی تھی کہ ‘میں ٹھیک ہو جاؤں گی’۔ اس وقت نیند کے زیرِ اثر بھی اس کی آواز ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ اور تو اور، اس کی ہنسی بھی کھوکھلی لگتی ہے۔ بات بہ بات ہنسنا، ہر وقت بولتے رہنا اور ضرورت سے زیادہ مصروف رہنا اندر سے غمگین لوگوں کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ جو مینٹلی بیمار ہوتے ہیں۔ کیا پلویشا کسی چیز سے ڈسٹرب ہو رہی ہے؟” صائم جھنجھلائے ہوئے لہجے میں انہیں دیکھتے ہوئے بولا۔

ڈاکٹر طاہر، جو ایک طرف اپنے بیٹے کی اتنی باریک بینی سے پلویشا کی ہر حرکت کو مدنظر رکھنے پر حیران ہوئے تھے، دوسری طرف پلویشا کے لیے شدید پریشانی کا شکار بھی ہو گئے۔

“اس بچی نے چھوٹی سی عمر میں بہت سے ٹراماز دیکھے ہیں صائم۔ بہت اذیت سے گزری ہے وہ، مگر پھر بھی بہت مضبوط اعصاب کی مالک ہے۔ ہار نہیں مانتی، اور نہ ہی کبھی ایک ہی صورتحال میں رکی رہتی ہے۔ ہمیشہ آگے بڑھنے کے راستے پر لگی رہی ہے اور بڑھ بھی جاتی ہے۔ مگر ٹراماز کے زخم بہت گہرے ہوتے ہیں، اور پلویشا بھی ابھی ان ہی زخموں کی حفاظت کرتی، انہیں بھرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اللہ اسے اپنی رحمت میں رکھے…” ڈاکٹر طاہر نے تھکی ہوئی آواز میں سامنے سورج کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“بابا، وہ اپنے اندر ہی اندر گھلتی جا رہی ہے اور مجھ سے اس کی یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی…” صائم اذیت سے بولا۔

ڈاکٹر طاہر نے اب کی بار چونک کر اپنے جوان بیٹے کی طرف دیکھا، جس کی آنکھوں میں پہلی بار کسی کے لیے پریشانی پھیلی تھی۔ اور صائم کی آنکھوں سے جھلکتی پریشانی دیکھنے سے ہرگز یہ غلط فہمی نہیں ہوتی تھی کہ صائم پلویشا کو پسند کرتا ہے۔

“صائم…” انہوں نے حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ صائم کو پکارا۔

“جی؟”

“Do you have some feelings for Palwisha?”

ڈاکٹر طاہر کے اتنے ڈائریکٹ پوچھنے پر ایک پل کو اسے چپ لگی رہی۔ وہ یک ٹک ان کی آنکھوں میں دیکھتا رہ گیا۔

“تصحیح کیجیے بابا، میں پلویشا سے محبت کرتا ہوں۔” وہ مضبوط لہجے میں بولا اور نظریں دوبارہ سامنے آسمان کی طرف موڑ گیا، جہاں اب سورج غروب ہونے کے بعد بس نارنجی رنگ پھیلے تھے۔

“یہ ٹین ایجر کرش نہیں ہے جو پہلی نظر میں ہو گیا وغیرہ وغیرہ۔ بس مجھے وہ اچھی لگتی ہے، سمجھدار ہے، کانفیڈنٹ ہے۔ اس کے ساتھ بات کر کے اچھا فیل ہوتا ہے۔ اسے دیکھ کر ہمیشہ اس کے ساتھ رہنے کا دل کرتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ وہ مجھ سے سب کچھ شیئر کرے — اپنا ماضی، اپنے ٹراماز، اپنا بچپن — سب کچھ۔ میں چاہتا ہوں وہ مجھ پر بھروسہ کرے، مجھے اپنا ہمراز بنائے۔ اور میں اس کے اندر پھیلی تمام تر ویرانیت کو ختم کر دوں۔ میں اس کے بکھرے وجود کو سمیٹ لوں بابا۔ اور اسی ‘چاہ’ کے تحت مجھے اس سے محبت ہونے لگی ہے۔” وہ مبہم مسکراہٹ سے آہستہ آہستہ بول رہا تھا۔

“بابا، اس کی مسکراہٹ مجھے سب سے انمول لگنے لگی ہے۔ اس کے جوکس، اس کے مدھم ساز پیدا کرتے ہوئے قہقہے — مجھے یہ تمام چیزوں سے بڑھ کر عزیز ہونے لگے ہیں۔ اور میں چاہتا ہوں یہ ہمیشہ ایسے ہی رہے۔ پلویشا ہمیشہ خوش رہے۔ میں اس سے اتنی محبت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ساری اذیتیں بھول جائے۔”

ایک پل کو رکا، پھر خود پر ہنستا ہوا بولا:

“ایک تو پتہ نہیں میں کیا کیا چاہتا ہوں!”

“خیر، ایک آخری بات — مجھے نہیں معلوم اس پورے ایک سال میں وہ کون سا لمحہ تھا جب میرا دل پلویشا کے لیے یوں دھڑکنے لگا۔ مجھے نہیں معلوم میں کب پلویشا کو اتنا چاہنے لگا، مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اب پلویشا سے محبت کرتا ہوں — اور بے انتہا کرتا ہوں۔”

صائم اپنی نظریں دوبارہ سے ڈاکٹر طاہر کی طرف موڑتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر، جو اپنے بیٹے کی بے باک باتیں حیرانی سے سن رہے تھے، اچانک ہی اس کے سر کی پشت پر ہلکی سی چپت رسید کی۔

“احمق انسان! باپ کے سامنے بھی کوئی یوں اتنی بے باک جذبات کی تشریح کرتا ہے کیا؟” ڈاکٹر طاہر نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

“یار حد ہے بابا! سارے جذباتوں کا موئے موئے کر دیا!”

“تمہارے سارے موئے موئے نکال کر رکھ دوں گا! لیکن ایک منٹ— بھئی اپنی بے غیرتی کی حد دیکھو! میرے سامنے بیٹھ کر تم پلویشا کے لیے کیسے بات کر سکتے ہو؟” ڈاکٹر طاہر نے حیران ہونے کی اداکاری کرتے اپنی مسکراہٹ دبائے کہا۔

“اسے بے غیرتی نہیں، محبت کہتے ہیں یار! کیا ہو گیا ہے بابا، کیوں اتنے کنزرویٹو ہو رہے ہیں؟” صائم گہری سانس بھرتے ہوئے کہتا ہے۔

“آہا جناب! عاشقی کا بھوت چڑھا لیا تو کہتے ہیں کنزرویٹو کیوں ہو رہا ہوں!” ڈاکٹر طاہر اس کی حالت سے محفوظ ہوتے ہوئے بینچ سے اٹھے۔

“توبہ توبہ! واقعی اولاد ماں باپ سے نہیں جیت سکتی!” صائم کانوں کو چھوتے ہوئے اٹھا اور ان کے ہمراہ پارک سے باہر قدم بڑھائے۔

“بجا فرمایا!” ڈاکٹر طاہر ہنستے ہوئے بولے۔

ویسے باپ بیٹے کے دور جاتے قدموں کے ساتھ ان کی آواز بھی مدھم ہوتی جا رہی تھی۔ پارک میں پھیلتے اندھیرے نے انتہائی مسرت سے باپ بیٹے کی جوڑی دیکھی تھی۔

“بات سنو صائم!” ڈاکٹر طاہر نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے صائم کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے پکارا۔

“جی، کہیے۔” صائم نے ان کی طرف چہرہ موڑتے ہوئے جواب دیا۔

“صائم، جتنے عزیز مجھے تم ہو نا، اس سے کہیں زیادہ مجھے پلویشا عزیز ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ میری پلویشا تمہارے پاس ایک امانت کے طور پر آئے گی، اور مجھے اپنے خون پر پورا یقین ہے کہ وہ میری امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔”

ڈاکٹر طاہر سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ تھپتھپاتے آگے بڑھ گئے، جبکہ صائم جو ابھی ان کے لفظوں کو پراسس کر رہا تھا، انہیں جاتا دیکھ کر بے قراری سے ان کے پیچھے گیا۔

“کیا مطلب بابا؟ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ میری اور پلویشا کی شادی؟” صائم نے حیرانی سے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں، مگر پلویشا کی رضامندی سے…” ڈاکٹر طاہر ہامی بھرتے ہوئے اسے پلویشا کی رائے کے مطلق آگاہ کرنا نہیں بھولے۔

“جی بابا، تھینک یو!” صائم دل و جاں سے مسکراتے ہوئے بولا، جس پر ڈاکٹر طاہر سر جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

حال —

لاؤنج میں پھیلی گہری خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے صائم بھی حال میں واپس آیا اور تھکے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔

لاؤنج کے گہرے سناٹے نے اس کے قدموں کی چاپ کے مدھم شور پر ناک چڑھائی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح کی کرنیں پورے لاہور میں پھیل چکی تھیں۔

آج موسم کافی دلکش تھا اور اسی دلکشی میں وہ چہرے پر ویرانیت لیے اپنے کمرے کے بیڈ پر لیٹی، نظریں غیر مرئی نکتے پر گاڑے کسی اور ہی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔

وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی شاور لے کر آئی تھی اور آج کالج جانے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ آدھی رات تک صائم کی باتوں کی وجہ سے آنسو بہاتی رہی تھی، اور اسی طرح روتے روتے ہی اس کی آنکھ لگی تھی، جو پھر فجر کی بلند ہوتی ساعتوں پر کھلی تھیں۔

ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی الجھی ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔

“آ جائیے،” وہ اٹھ کر بیٹھتی بولی۔

“السلام علیکم، آج کالج ہی نہیں گئی؟ خیریت؟”

ڈاکٹر طاہر اندر داخل ہوتے ہوئے پلویشا کو دیکھتے مخاطب ہوئے اور اس کے بیڈ کے پاس آ کر اس کے ساتھ بیٹھ گئے۔

“بس دل نہیں چاہ رہا تھا، اس لیے۔”

وہ اپنے ساتھ بیٹھتے ڈاکٹر طاہر کو دیکھتے بولی، البتہ نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

“اور دل کیوں نہیں چاہ رہا؟”

“دل کی مرضی۔” پلویشا مسکرانے کی سعی کرتی ہوئی بولی۔

“اچھا جی، دل کی مرضی؟ ابھی دل کی مرضی نکال دینی ہے میں نے!”

“اچھا آپ آج جلدی آئیے گا۔” پلویشا بات بدلتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔

“ٹھیک ہے، میں آ جاؤں گا۔ اور کچھ؟” ڈاکٹر طاہر مسکرا پڑے۔

“نہیں، بس اتنا ہی۔” پلویشا یہ کہتے ہی خاموش ہو گئی۔

کھلی کھڑکی سے سورج کی آتی کرنیں پلویشا کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ گہری خاموشی میں پلویشا نظریں جھکائے بیڈ پر نادیدہ لکیریں کھینچ رہی تھی، اور ڈاکٹر طاہر اس پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ کچھ ساعتوں بعد ڈاکٹر طاہر نے آہستہ سے اس کے ہاتھ تھامے۔

“پلویشا!”

“ہمم؟”

“کیوں پریشان ہو؟”

“میں ٹھیک ہوں۔” وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی۔

“تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو، میری جان۔” وہ نرمی سے گویا ہوئے۔

“مجھ میں تو خود کو چھپانے کی سکت نہیں رہی، ڈاکٹر طاہر۔ آپ سے کیا کچھ چھپاؤں گی؟”

“تم نے خود کو چھپانا ہی کیوں ہے؟”

“مجھ جیسے عیاں ہونے کے لیے نہیں بنے۔”

“اور وہ کیوں؟”

“کیوں کہ… کیوں کہ عیاں ہو جانے پر بہت تکلیف ہوتی ہے۔” پلویشا نے نم آنکھوں سے ڈاکٹر طاہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

“میری جان، تم کیوں اتنا سوچتی ہو؟” ڈاکٹر طاہر نرمی سے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے بولے۔

“میں سوچتی نہیں، ڈاکٹر طاہر، سوچتی نہیں ہوں میں۔ یہ… یہ باتیں خود میرے ذہن سے چپک گئی ہیں، یہ ذہن سے نکلتی نہیں ہیں۔ میں کیا کروں؟” وہ یکدم تڑپ کر بولی۔ کب سے ضبط کیے آنسو بھرم توڑتے ہوئے اس کے رخساروں پر پھیل گئے۔

“میں اتنی مشکلوں سے… اتنی مشکلوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہوں، میں… میں اتنی مشکل سے پہلے ہی اپنے اندھیر ماضی سے ہمیشہ کے لیے نکلنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہوں کہ… کہ اب مجھے یہ محبت جیسے مرض نے آن گھیرا ہے۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اب کے کسی سے بھی کوئی امید باندھوں، کسی سے محبت وصول کروں، ڈاکٹر طاہر! کیونکہ میں جانتی ہوں آخر میں مجھے تکلیف ہی ملنی ہے، اذیت ہی ملنی ہے۔ مگر میں… مگر میں کیا کروں؟ میرا دل شدت سے اسے چاہنے، اس سے محبت کرنے کی ضد کر رہا ہے۔ یہ دل ایک دفعہ پھر مجھے خوار کرنا چاہتا ہے!”

وہ بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اٹک اٹک کر کہتی، ہاتھوں پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“میں خود کو سمجھا لیتی، ڈاکٹر طاہر، میں سمجھا لیتی، میں اپنی حدود میں واپس آ جاتی۔ مگر میں کیا کروں؟ وہ کہتا ہے میں اس کے لیے خاص ہوں۔ میں اس کے لیے خاص کیسے ہو سکتی ہوں، ڈاکٹر طاہر؟ اسے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا، ہے نا؟ اسے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا نا؟” وہ روتے روتے اپنے سامنے بیٹھے ڈاکٹر طاہر سے ان کی رائے مانگنے لگی، جس پر وہ اس کا ہاتھ سہلاتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئے۔

“میں کیا کروں، ڈاکٹر طاہر؟ میرا دل خواہش کرتا ہے اس سے باتیں کروں، اس کے سامنے کھلی کتاب بن جاؤں جسے وہ آسانی سے پڑھ لیا کرے۔ میں اس سے اپنا سب کچھ شیئر کرنا چاہتی ہوں، میں اسے بتانا چاہتی ہوں کہ میں پہلے ہی بہت زخمی ہوں… بہت، بہت زخمی ہوں۔ وہ کبھی مجھے ہرٹ نہ کرے۔ مگر… مگر ہمت ہی نہیں ہوتی اندر سے۔ میری اپنی، میری اپنی ہی ذات مجھے بار بار… بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ پلویشا کا محبت پر کوئی حق نہیں ہے۔”

وہ ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اپنا سر اپنے ہاتھوں پر، ڈاکٹر طاہر کے رکھے ہاتھوں پر رکھ گئی۔

“ڈاکٹر طاہر، کیوں؟ کیوں میری ذات مجھ سے مخلص نہیں ہے؟ کیوں وہ مجھے خوش نہیں رہنے دیتی؟ نہ میرا دل، نہ میری ذات، نہ سوچیں… کیوں میرے ساتھ نہیں ہیں، ڈاکٹر طاہر؟ میں ایسی کیوں ہوں؟ کیوں؟ کیوں؟؟؟”

“آپ کو پتہ ہے کیوں؟” وہ اچانک ہزیانی ہوتی ہوئی چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھتی بولی اور اپنے ہاتھ ایک جھٹکے سے ان کے ہاتھوں سے جدا کیے۔

“آپ نہیں جانتے ہوں گے، لیکن مجھے پتہ ہے! مجھے پتہ ہے، ڈاکٹر طاہر! مجھے ایسا ‘ان’ لوگوں نے بنایا ہے! انہوں نے میرے اندر اس قدر ڈر، اس قدر خوف پیدا کر دیا ہے کہ میں کبھی محبت کر ہی نہیں سکتی — نہ دوستوں سے، نہ صائم سے، نہ… نہ اپنے آپ سے! یہ سب انہی کی وجہ سے ہوا ہے، اس سب کی ذمہ دار وہی ہیں۔ دیکھیں میرا… میرا یہ حال کر دیا ہے انہوں نے! کہ میں چاہتے ہوئے بھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ سامنے والا انسان میرے ساتھ مخلص ہے، مگر اپنے ڈر کی وجہ سے میں نارمل ہو ہی نہیں سکتی!”

وہ بولتے بولتے ہلکان ہوتی، سر ان کے کندھے پر ٹکائے، آنکھیں موند گئیں۔ اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ مسلسل ایک ہی اذیت، ایک ہی طرح کی آزمائش سے لڑتے لڑتے وہ اب تھک گئی تھی — پلویشا تھک گئی تھی۔

ڈاکٹر طاہر آہستگی سے نرمی کے ساتھ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگے، جب کہ وہ آنکھیں موندے مدھم مدھم سسکیاں بھر رہی تھی۔

آج ایک دفعہ پھر پلویشا شدت سے ٹوٹی تھی۔ وہ محبتوں سے ڈرتی تھی کیونکہ جس جس نے اس سے محبت کی، دہری تکلیف دے کر ہی گیا۔ وہ یورپ سے اپنے ساتھ محبت کی تمام جڑیں کاٹ کر ہی آئی تھی، مگر یہاں ایک بار پھر تقدیر نے اس کے ساتھ کھیل کھیلا — اس کے دل میں صائم کی محبت کا بیج بو کر۔

پہلی بار کچن میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پلویشا کے دل میں قہرام بپا ہوا تھا۔ پلویشا یہ قہرام دیکھ کر ڈر گئی اور پھر خود ہی صائم کو نظرانداز کرنے لگی۔ مگر صائم کے اچھے رویے کو محسوس کرتی، وہ اس کے ساتھ نارمل کزنز کی طرح رہنے لگی — مذاق کرنے لگی، ہنسنے لگی۔ مگر پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس کے گھر آنے کا انتظار کرنے لگی۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے لان میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کام کرتے دیکھتی رہتی۔ اسے صائم کے لیے کافی بنانا اچھا لگنے لگا۔

پھر صائم کے لیے اپنی شدتِ پسندی محسوس کرتے، وہ خود ہی صائم کو مسلسل اگنور کرنے لگی، مگر تب تک صائم اس کے حواسوں پر سوار ہو چکا تھا۔ صائم اسے کھلی کتاب کی طرح پڑھ لیا کرتا تھا۔ وہ اس کی آنکھوں میں چھپا درد دیکھ لیا کرتا تھا — اور یہی چیز پلویشا کو ڈرانے لگی۔

اور اس کا ڈر درست نکلا — صائم بھی اسے پسند کرنے لگا تھا۔ اور پلویشا کو اس کی محبت نے جہاں بے انتہا خوشی دی، وہیں اس خوشی سے کہیں زیادہ اسے اس کی محبت سے خوف آیا۔ وہ ایک دفعہ پھر ٹوٹنا، اذیت سہنا افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔

وہ جھوٹ کہتی تھی کہ اسے ایک ہی جگہ رُکنا پسند نہیں، کیونکہ وہ آج بھی اپنے ماضی میں ٹھہری تھی۔ وہ آج بھی وہیں رکی ہوئی تھی جہاں دو سال پہلے تھی۔ ہاں، البتہ موو آن کرنے کا سفر وہ مسلسل جاری رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔

ڈاکٹر طاہر، جو نہایت نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہے تھے، اس کی گہری سانسیں محسوس کرتے ہوئے اسے سیدھا کرتے بیڈ پر لٹا گئے۔ وہ رو رو کر نڈھال ہو چکی تھی اور ان کے کندھے پر ہی سو گئی تھی۔

ڈاکٹر طاہر نے اسے بلینکٹ اڑھاتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھا — متورم آنکھیں، رخساروں پر مٹے مٹے آنسوؤں کے نشانات۔ وہ نیند میں بھی ہچکیاں بھر رہی تھی۔

اس کو اس قدر اذیت میں دیکھتے ہوئے ڈاکٹر طاہر کی آنکھ سے نکلتا ایک آنسو رخسار پر بہہ گیا۔

انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے قرآن پاک کی آیتیں پڑھ کر اس پر پھونکیں، اور دروازے کی طرف بڑھ گئے۔

دھوپ کی روشن کرنیں ہنوز پلویشا کے روئے روئے مومی چہرے پر پڑ رہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دن چھڑنے کے بعد شام ہوئی اور اب شام بھی سب کو خیر آباد کہتی رات میں ڈھل رہی تھی۔ پلویشا سارا دن سوتی جاگتی کیفیت میں ہی رہی تھی، بخار کی شدت سے آنکھیں کھولنا محال ہو گیا تھا۔

وہ بس نیم وا آنکھوں سے کبھی اپنے سر پر ڈاکٹر طاہر کو ٹہرے دیکھتی، تو کبھی ردا اور تائی جان دیکھتی، اور پھر فوراً ہی غنودگی میں چلی جاتی۔

اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولی۔ زیرو بلب کی روشنی میں نظریں اوپر سفید چھت پر گئی، اور کتنے ہی پل وہ نظریں چھت پر ہی ٹکائے رہی۔

“پلویشا، میری جان، اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟” تائی جان، جو کے اس کے سرہانے بیٹھی تھی، شفقت سے اس کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا۔

“بہتر… بہتر محسوس کر رہی ہوں اب۔” پلویشا نے چہرہ موڑ کر انہیں دیکھا اور مسکرانے کی سعی کرتے ہوئے جواب دیا۔

“چلو ماشاءاللہ، تم نے اب سونا نہیں ہے۔ صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا۔ میں تمہارے لیے کھانا لاتی ہوں، وہ کھا لو، اتنی کمزوری ہو رہی تمہیں۔”

تائی جان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے کہا، جس پر پلویشا نے ہلکا سا سر اثبات میں ہلایا۔ پھر وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

پلویشا نے انہیں کمرے سے جاتے دیکھتے گہرا سانس خارج کیا اور تھکن سے چور ہوتی آنکھوں کو موندنے ہی لگی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔

پلویشا نے آہستہ سے آنکھیں کھولتے دروازے کی طرف دیکھا تو ایک پل کو تو سانس بھی روک لیا۔

“سوری، مجھے لگا تم سو رہی ہو، ورنہ میں نوک کر کے آتا۔ اصل میں ابھی آفس سے آیا ہوں، تو مام نے بتایا کہ تمہاری طبعیت بہت خراب ہے، تو میں پہلے تمہیں دیکھنے آ گیا۔”

وہ اسے جاگتے دیکھ کر معذرت کرتے ہوئے مدعا بتاتے ہوئے اس کی طرف آیا۔

پلویشا نے دیکھا کہ وہ ابھی بھی آفس کے سوٹ میں ملبوس ہے۔ وہ سینے میں اٹکی سانس بہال کرتے ہوئے مسکرا کر نفی میں سر ہلائی، جیسے اشارہ دیا ہو کہ کوئی بات نہیں۔

“بھئی، ایک دن میں ہی کتنی کمزور لگ رہی تم تو۔”

وہ اس کے بیڈ کے ساتھ کرسی رکھتے ہوئے بولا۔

پلویشا نے بس یوں ہی لیٹے لیٹے چہرہ موڑ کر اپنی بائیں جانب بیٹھے صائم کو دیکھا، جس کے چہرے پر بلا کی پریشانی تھی، پلویشا کے لیے۔

“پلویش!!”

پلویشا نے اس کی پکار پر اسے دیکھتے ہوئے بس سر تھوڑا سا ہلایا، جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیا بات ہے؟

“کل میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا۔ اگر مجھے زرا سا بھی علم ہوتا کہ میرا اعتراف تمہاری یہ حالت کر دے گا، تو با خدا میں ساری زندگی تم سے یہ بات نہ کرتا۔ آئی ایم سوری۔”

وہ شکستہ لہجے میں کہتا ہوا اس کی آنکھوں میں دیکھتا۔

اس کی بات پر بے اختیار پلویشا نے آنکھیں بند کیں اور گہری سانس بھرتے ہوئے دوبارہ سے آنکھیں وا کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگی، جو ہنوز اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“پلویشا، تم ایک بار صرف مجھے بتا دو، بے غیر کچھ بھی سوچے، کہ میں تمہیں ایز آ پارٹنر پسند ہوں یا نہیں۔ آئی سویر، اگر تم نہ بھی کرو گی تو میں برا نہیں مانو گا، پلیز ٹرسٹ آن می۔”

صائم کی آواز میں منت محسوس کرتے، اپنا پورا زور لگاتے ہوئے کہنیوں کے بل اٹھی اور پیچھے کراؤن کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے بیٹھ گئی، اور فرصت سے صائم کو دیکھا۔ ایک دو پل تک وہ یک ٹک صائم کو دیکھتی رہی، پھر ہمت کرتے ہوئے نم لہجہ میں مسکرا کر بولی:

“I like you, Saieem. I like you very much as a partner.”

نیم اندھیرے میں پھیلی سوگواریت میں پلویشا کے یہ دو جملے صائم شاہ کو ساکت کر گئے۔ وہ بس اپنے سامنے بیٹھی اس اپسرا کو دیکھتا گیا۔

“مگر میں ڈرتی ہوں، صائم۔ میں بہت ٹرامیٹک ہوں، میں پہلے ہی غموں کا بوجھ اپنے ساتھ لیے پھر رہی ہوں۔ اب اور مشکلات دیکھنے اور اذیتیں سہنے کی طاقت مجھ میں نہیں بچی۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم مجھے ہرٹ نہ کر دو۔”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کانپتے ہوئے لہجہ میں بولی اور سر پیچھے کراؤن کے ساتھ ٹکاتے ہوئے آنکھیں موند گئی۔

صائم، جو ابھی تک اس کے لفظوں کے حصار میں جکڑا ہوا تھا، اسے آنکھیں بند کرتے دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس نے جو کہنا تھا، وہ کہہ دیا۔

“پلویش، میں جانتا ہوں۔ میں تمہیں یہاں بیٹھ کر جتنی بڑی بڑی باتوں سے خود پر یقین کرنے کا کہوں گا، تم نہیں کر پاؤ گی۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔ میں بس تم سے اتنا کہوں گا کہ…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین ماہ بعد

وہ لان میں بیٹھی چائے پی رہی تھی اور نظریں آسمان پر جمی تھیں۔ اس کے سیدھے ہاتھ کی تیسری انگلی میں انگھوٹی چمک رہی تھی۔ پچھلے ماہ ہی صائم اور پلویشا کی منگنی ہوئی تھی۔

 

پلویشا کو لگ رہا تھا جیسے اب وہ مکمل ہو گئی ہو۔ محبت کرنے والا ڈاکٹر طاہر ماں کی طرح، تائی جان ایک بہت اچھی کزن، بہترین چچی جان، اور ڈاکٹر ابراہیم — اور اب ایک بہترین ساتھی بھی مل گیا۔ بلآخر، ایک لمبے انتظار کے بعد اسے خوشیاں نصیب ہو گئی تھیں۔ وہ خوش تھی، بے انتہا خوش تھی، اور اسی خوشی میں اسے رونا آ جاتا تھا۔ اسے کبھی کبھی یقین نہیں آتا تھا کہ پلویشا بھی خوش رہ سکتی ہے، تو کبھی کبھی وہ اللّٰہ کی محبت دیکھ کر رو دیتی۔

 

ابھی بھی وہ سکون سے گھونٹ گھونٹ چائے پی رہی تھی۔ اسے یہاں آئے دوسال ہو گئے تھے، اور یہ دوسال اس کی زندگی کے بہترین سال تھے، جس کی سب سے بڑی وجہ ڈاکٹر طاہر تھے۔ ان دو سالوں نے اسے بہت کچھ سیکھایا تھا۔ سب سے بڑی بات، اس نے موو آن کرنا سیکھا تھا۔ وہ ایک ہی سیچوشن میں، ایک ہی فیلنگز میں سٹک ہو جانے سے ڈرتی تھی، اس لیے وہ ہمیشہ موو آن ہونے کے سفر پر گامزن رہتی تھی۔

 

وہ سکون سے چائے پیتے ہوئے مسکرا رہی تھی کہ اسے زہن میں صائم کے کہے گئے جملے گونج رہے تھے:

 

(“پلویشا، تم میرے لیے بہت خاص ہو، بہت قیمتی ہو، جسے میں کبھی کھونا نہیں چاہوں گا۔”)

 

پلویشا نے چائے کا ایک سپ لیا۔

 

(“تم مجھے ہمیشہ وفادار پاؤ گی، چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں کبھی تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔”)

 

پلویشا نے اپنے ہاتھ کی انگھوٹی دیکھی اور مسکرا دی۔

 

(“تم جس بھی حالت میں میرے پاس آؤ گی، ٹوٹی بکھری جیسی بھی حالت ہوئی، میں تمہیں سمیٹ لوں گا۔”)

 

پلویشا نے انگھوٹی پر اپنے لب رکھے۔

 

(“تمہارے ساتھ کا تصور دنیا کے سب تصورات میں سے انمول ہے، اور مجھے یہ تصور حقیقت بنانا ہے۔”)

 

پلویشا نے چاند پر نظریں گاڑیں۔

 

(“تم میرا سکون بن گئی ہو، پلویشا، اور میں اس سکون کو کبھی نہیں کھونا چاہتا۔”)

 

پلویشا سیدھی ہوئی اور کپ میز پر رکھا۔

 

(“میں کبھی تمہارا مقام کسی کو نہیں دوں گا، کبھی بھی نہیں۔”)

 

پلویشا دھیرے دھیرے قدم لیتی چاند کو پشت کیے اندر کی جانب جا رہی تھی۔

 

(“میں تم سے محبت کرتا ہوں اور ہمیشہ محبت کروں گا۔”)

(بیڈ کراؤن سے سر ٹکائے اس کے خوبصورت لفظوں کے حصار میں قید ہو گئی اور نرم مسکراہٹ سے آنکھیں موند گئی۔ وہ بھاگتے بھاگتے تھک گئی تھی، اب بس… اب بس زندگی جیسا چاہ رہی تھی ویسے ہونے دینا تھا۔)

 

پلویشا جا چکی تھی۔ پیچھے خاموش لان میں خالی کپ ویسے ہی پڑا رہا۔

 

 

 

حال

اور واقعی صائم نے اس عرصے میں ثابت کیا تھا کہ وہ پلویشا سے بہت محبت کرتا ہے۔ کبھی کبھی تو پلویشا خود اس کی محبت دیکھ کر سوال کیا کرتی تھی:

 

“کیا کوئی اتنی محبت بھی کر سکتا ہے؟؟؟”

 

آنکھیں کھولیں، دلہن بنی پلویشا نے آنکھیں کھول کر خود کو آئینے میں دیکھا اور مسکرا دی۔

 

اس نے اٹھ کر اپنے مکمل سراپے کو دیکھا۔ وہ بے حد حسین لگ رہی تھی، اس بات کا اعتراف خود خوبصورتی نے کیا تھا۔

 

“چلیں، میں نے تائی جان کو کال کر دی ہے۔ وہ پہنچنے والے ہی ہوں گے، ہم تب تک ویٹنگ ایریا میں بیٹھ جاتے ہیں۔”

ردا نے اس کے پاس آتے ہوئے کہا۔

 

“ہمم، چلو۔” پلویشا نے مسکرا کر اس کے ساتھ قدم بڑھائے۔

 

ابھی وہ ویٹنگ ایریا پہنچے ہی تھے کہ پلویشا کے فون پر ڈاکٹر طاہر کی کال آنے لگی۔ پلویشا نے کال اٹینڈ کی، مگر آواز صاف نہیں آ رہی تھی، سگنلز کا مسئلہ تھا شاید۔

 

“ردا، تم بیٹھو، میں ڈاکٹر طاہر کی کال سن کر آتی ہوں۔”

پلویشا یہ کہہ کر چلی گئی، اور ردا نے نہیں روکا، کیوں کہ وہ جانتی تھی پلویشا نہیں رکنے والی، ڈاکٹر طاہر کی کال تھی۔

 

پلویشا پارلر سے باہر آئی اور سڑک کے کنارے ٹہر کر دوبارہ کال کرنے لگی، مگر پھر سگنلز کا پروبلم تھا۔ وہ تھوڑا اور آگے بڑھ گئی، تو سگنلز مکمل تھے۔ اس نے فوراً کال کی۔

 

“اسلام علیکم، ڈاکٹر طاہر۔”

 

“واعلیکم السلام، میں پہنچنے ہی والا ہوں، تم لوگ ریڈی ہو نا؟”

 

“جی، ہم ریڈی ہیں۔” پلویشا نے مسکرا کر کہا۔

 

“چلو ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔” وہ فون بند کرنے ہی لگے تھے کہ پلویشا نے انہیں روکا۔

 

“ڈاکٹر طاہر…”

 

“جی؟”

 

وہ آپ نا… ابھی پلویشا بات کر ہی رہی تھی کہ اسے اپنے قریب ایک تیز رفتار گاڑی آتی دیکھائی دی۔ فضا ساکن ہوئی، اور پھر…

 

ایک پل لگا تھا اور پھر پلویشا کی بلند چیخ فضا میں گونجی۔

فون اڑتا ہوا دور جا کر گرا…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوزِ وفا 

 

 

 

وفا کو ہم نے عبادت سمجھ کے برتا تھا۔

وہ ہر تعلق کو سود و زیاں میں رکھ گیا۔

 

یقین ہم نے لٹایا بے حساب مگر،

وہ ہر قدم کو نفع و زیاں میں رکھ گیا۔

 

ہماری خامشی اس پر گراں گزری بہت،

اسی لیے ہمیں امتحاں میں رکھ گیا۔

 

ہمیں نہ شور آیا، نہ شکوہ نصیب،

انا نے خود ہمیں نگہباں رکھ لیا ۔ 

 

جو ٹوٹ کر بھی اصولوں پہ جم گیا آخر،

وہی وجود جہاں میں معتبر ٹھہرا۔

 

ہم اپنے زخم چھپا کر مسکرا دیے،

غمِ حیات کو رازداں بنا لیا۔

 

وہ لوٹ کے بھی آیا تو اجنبی سا لگا،

دلِ شکستہ نے خود کو بے اماں رکھا۔

 

ہم اٹھ گئے تو یہ مٹی کا فیض تھا ورنہ،

یہ درد ہمیں بھی خاکداں رکھ گیا۔

 

جو خود میں ٹوٹ کے نکھرا، وہی ٹھہرا سچ،

یہی سبق ہمیں آخر سوزِ وفا سیکھا گیا ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد۔

ازمیر اور مزاحم سپریم کورٹ کے ایک پرانے چیمبر میں بیٹھے ہوتے ہیں، جہاں فلوروسینٹ روشنی کی ہلکی چمک اور فائلوں کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں۔ اور وہ لوگ بھی سامنے میز پر رکھی ازمیر کے باپ کی موت کا فائل ریپ کھولے بیٹھے تھے، جس پر قاتل کے خانے میں ایک ہی نام لکھا تھا:

“سائفر”۔

اور کرائم سین فوٹوز بھی ساتھ ہی رکھی ہوتی ہیں۔

ازمیر ان فوٹوز میں صاف ظاہر ہو رہا ہے: “تمہارے بابا کا ڈائریکٹ روڈ ایکسیڈینٹ کروایا ہے اس نے۔”

مزاحم نے تصویریں اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔

جبکہ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، ازمیر نے تصویروں کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

“ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر بکا ہوا ہو، ازمیر؟”

مزاحم نے پر سوچ نظروں سے تصویریں دیکھتے ہوئے قیاس لگایا۔

“نہیں مزاحم، وہ ڈاکٹر بکا ہوا نہیں تھا۔ ڈیڈ کو پہلے تشدد کا نشانہ ہی بنایا گیا تھا، مگر کیوں؟ سوچنا یہ ہے کہ سائفر کے پچھلے تمام ریکارڈ کے مطابق وہ قاتل نہیں ہے، ایک اسمگلر ہے، مگر اس نے ڈیڈ کو ہی کیوں قتل کیا؟ بات یہ سوچنے والی ہے۔”

“خیر، ابھی تم ان تصویروں کو اپنے پاس رکھو، ہمیں کام آئیں گی آگے جا کر،” مزاحم نے سوچتے ہوئے کہا۔

“وہ تو میں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔ تم ایک کام کرو، ان فائلز کی تصویریں لے لو، ہو سکتا ہے بعد میں کام آ جائیں۔”

“یہ ٹھیک ہے،” مزاحم موبائل نکالتے ہوئے بولتا ہے۔

“یہ بتاؤ، اس لڑکی کے بارے میں کچھ پتہ چلا؟”

راہداری سے گزرتے ازمیر کے ساتھ چلتے مزاحم نے سوال داغا۔

“ابھی اسی کے بارے میں ہی پتہ کروانے جا رہے ہیں۔”

“کہاں؟” مزاحم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔

“تم چلو تو سہی، بتاتا ہوں،” ازمیر فون پر ایک کال ملاتے ہوئے بولا، جبکہ مزاحم نے اس کے جواب پر کلس کر کے اسے دیکھا تھا۔

فلم چل رہی ہے نا، جیسے کسی کلائمکس کے لیے ویٹ کروں، ہنہہ…

مزاحم سوچ کر رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد۔

وہ اپنی فلاورز شاپ بند کر کے ابھی سیدھی ہی ہوئی تھی کہ اسے وہ نظر آئے۔

صاحبہ بغیر کسی تاثر کے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی، کہ وہ اس کے راستے میں حائل ہو گئے۔

“میں باپ ہوں تمہارا، بیٹا۔ تم اتنی سنگدل کیسے ہو سکتی ہو؟”

آدمی کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔

“جو آپ کی بیٹی تھی وہ مر چکی ہے، اب آپ کیا، مجھے بھی مارنا چاہتے ہیں؟”

صاحبہ نے سنجیدگی سے آنکھیں اٹھا کر انہیں دیکھا۔

“اور کتنا عرصہ اذیت دیتی رہو گی مجھے؟”

 آدمی نے گلو گیر آواز میں کہا۔

“جب تک سانسیں چلتی رہیں گی!!!! آپ دعا کریں،

میری سانسیں رک جائیں تاکہ آپ کی اذیت کم ہو جائے۔”

صاحبہ نے بغیر کسی جذبے کے کہا، جس پر سامنے کھڑے آدمی کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر گال پر پھسلا تھا۔

“اب میں جاؤں؟”

صاحبہ نے روبوٹک انداز میں پوچھا، پھر بغیر جواب کا انتظار کیے قدم آگے بڑھائے۔

جب کہ آدمی نے افسوس سے پیچھے مڑ کر سامنے جاتی جاتی لڑکی کی پشت دیکھی،

جس نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔

آہ… وہ پیچھے مڑ کر دیکھنا چھوڑ چکی تھی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مری۔

شدید سردی کا زور تھا اور اوپر سے دھند نے بھی پورے مری پر راج کر رکھا تھا۔ پورے دن میں بھی اندھیرا چھایا ہوا تھا، بادلوں نے سورج کو نکلنے سے ہی روک رکھا تھا۔

مری کے پہاڑوں میں بنے ان چھوٹے چھوٹے گھروں میں سے ایک گھر کے لاونج میں اس وقت ازمیر اور مزاحم بیٹھے تھے، جن کے سامنے وہ پر شفقت بزرگ بیٹھے تھے اور پوری توجہ سے بولتے ہوئے ازمیر کو سن رہے تھے۔

“انکل، میں بس آپ سے اتنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس لڑکی کا بتا دیں کہ وہ اس وقت کہاں ہو گی،” ازمیر نے پوری بات بتانے کے بعد کہا۔

“دیکھوں بیٹا، اس بات کو آٹھ سال ہو گئے ہیں، مگر اب بھی لگتا ہے تمہارا باپ جیسے میرے روبرو ہو۔ اس کا غم آج بھی تازہ لگتا ہے،” سامنے بیٹھے بزرگ نے ازمیر کی بات کے جواب میں الٹا جواب دیا تھا، جسے سن کب سے ضبط کیے بیٹھے مزاحم کے حلق میں کڑواہٹ پھیل گئی ، اور دل چاہا اپنا سر پیٹ لے ۔ کب سے بزرگ اسی طرح دماغ کھائے جا رہا تھا ، سوال گندم پوچھتے تھے جواب چنا ملتا تھا ۔

“انکل، کیا آپ کو وہ لڑکی یاد ہے جس نے سائفر کو دیکھا تھا؟” ازمیر نے ایک اور کوشش کی۔

“ہاں، بالکل! بیٹا یاد ہے،” بزرگ نے فوراً جواب دیا۔

“تو وہ لڑکی اس وقت کہاں رہائش پذیر ہے؟” ازمیر نے فوراً موقع ملتے پوچھا۔

“وہ تو مر گئی بیٹا،” بزرگ نے افسردگی سے کہا۔

ازمیر نے آنکھیں میچ لی تھیں، جبکہ مزاحم نے تھک کر سانس خارج کی۔ وہ پھر سے سکوئر ون پر آ ٹہرے تھے۔ اتنی مشکل سے تو انہوں نے اس بزرگ کو ڈھونڈا تھا۔ “اف خدایا…”

“آپ کے پاس اس کی کوئی تصویر وغیرہ تو ہو گئی؟” ازمیر نے تھک کر پوچھا۔

“تصویر؟” بزرگ نے سوچنے کے انداز میں آنکھیں چھوٹی کیں اور پھر سیدھی کرتے ہوئے ازمیر کو دیکھا۔

“نہیں، تصویر تو نہیں ہے میرے پاس۔”

ازمیر گہرا سانس خارج کر کے رہ گیا تھا۔

“چلیں، ٹھیک ہے انکل، پھر ملاقات ہو گی۔ آپ کا بہت شکریہ،” مزاحم نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

“ٹھیک ہے بیٹا! لیکن چائے تو پیتے جاؤ،” بزرگ نے نہایت شفقت سے کہا۔

“نئی، نئی انکل، بس ٹھیک ہے،” مزاحم نے فوراً انہیں گلے لگایا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے۔ ازمیر نے اس کی جلدی دیکھ کر مسکراہٹ دبائی تھی اور پھر خود بھی ان کے گلے لگتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔

“مزاحم، چائے تو پی لیتے یار…” ازمیر پورے وقت میں پہلی بار گہرا مسکرایا تھا۔

“ہاں، ضرور پیتا اگر وہ پلاتے تو نا!! جب سے گئے ہیں، سو بار پوچھ چکے ہیں، ‘چائے تو پی لو بیٹا، چائے تو پی لو!’ بھئی آپ لا کر دیں گے تو پیوں گا نا! اوپر سے پانی مانگا تو سرے سے جواب ہی نہیں دیا، مطلب کے حد ہی ہو گئی!” مزاحم نے جلے کٹے انداز میں جواب دیا۔

“وہ بزرگ ہیں، مزاحم، اور بزرگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ زرا کول ہو جاؤ،” ازمیر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔

“شکر اللّٰہ کا میرا باپ صحیح وقت پر رخصت ہو گیا، ورنہ میں تو پاگل ہی ہو جاتا،” مزاحم نے کانو کو چھوتے ہوئے آسمان کو دیکھ کر کہا۔

ازمیر استغفار کہہ کر رہ گیا اور گاڑی کی طرف چل دیا، جبکہ مزاحم کی بڑبڑاہٹ ابھی بھی جاری تھی۔

مری کے پہاڑوں نے ان کی گاڑی اپنی حدود سے دور جاتی دیکھی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *