Qasas by Rida Fatima episode 16.

قصاص قسط نمبر:۱۶

ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔

کچھ دیر گزری اور پھر ایک ڈاکٹر ایمرجنسی روم سے باہر نکلا ۔۔۔
ریحان اور کامران خان اس کی طرف دوڑے جبکہ دلاور خاموشی سے بیٹھا تھا
ڈاکٹر ان کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ ایسا لگتا ہے کسی درندے نے انہیں مارا ہے ۔۔۔
ڈاکٹر نے کہا تو ریحان نے دلاور خان کی طرف دیکھا درندے نے ہی مارا ہے ۔۔
لیکن اب ہیر کی طبیعت کیسی ہے ڈاکٹر ۔۔۔ فلحال تو وہ بے ہوش ہیں ان کے سر پر بہت گہری چوٹ لگی تھی خون بھی بہت بہہ چکا تھا۔۔۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ ٹھیک ہیں بس بے ہوش ہیں ۔۔ باقی ان کے چہرے پر ہم نے مرہم لگا دیے ہیں ۔۔
اور ان کے بازوں پر بھی بینڈج لگا دی ہیں جہاں کانچ چبے تھے۔۔۔۔ اگر آپ ذرا سی بھی دیر
کر دیتے انہیں ہاسپٹل لے کے انے میں تو ان کا بچپنا بہت ہی مشکل تھا ۔۔۔ اب دعا کریں وہ
ٹھیک رہیں ۔۔
ڈاکٹر ہم کیاہیر سے مل سکتے ہیں ابھی ۔۔
نہیں فلحال تو نہیں انہیں روم میں شفٹ
کر دیا جائے پھر آپ مل سکتے ہیں ۔۔ ویسے بھی ابھی وہ بے ہوش ہیں کچھ دیر میں انہیں ہوش ائے گا تو پھر آپ مل لیجئے گا ڈاکٹر کہتا اگے بڑھ گیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد ہیر کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔۔اور تقریبا چار گھنٹے کے بعد ہیر کو ہلکا پھلکا ہوش
انا شروع ہو گیا تھا ۔۔ ڈاکٹر سے ملنے کی اجازت لے کر وہ اندر داخل ہوئے ۔۔ کامران خان اپنی
بچی کو اس حالت میں دیکھ کر شدید افسردہ تھے ۔۔
اور پھر وہ رو پڑے ۔۔ مجھے معاف کر دو تم بتا دیتی تم زر مان کو پسند کرتی ہو ۔۔ میں تمھاری شادی اُس سے کر دیتا ۔۔ مجھے وہ اچھا لگتا تھا لیکن قاسم سے تمھاری بات چل رہی تھی۔۔ تم مجھے ایک بار کہہ دیتی ہیر بات یہاں تک آتی ہی نہ
ک۔۔ کچھ نہیں ہوتا بابا ۔۔ ک۔۔کو ۔۔کوئی بات نہیں ۔۔ م میں ٹھیک ہوں ۔۔
دلاور ایک با ربھی اندر نہیں آیا تھا ۔۔ ریحان پاس بیٹھا ہیر کا سر سہلا رہا تھا ۔۔۔ تمھارے بنا
ایک پل گزرنا مشکل ہے اور تم نے اپنی کیا حالات بنا لی ہے ہیر ۔۔ ایک بار مجھے اواز دے دیتی تم کیوں مار کھاتی رہی ۔۔؟
ت۔۔ تمھیں ۔۔ا۔اواز دینے کا ۔وقت ہی نہیں دیا ۔دلاور بھائی نے ۔ ۔ اور اگر تم نہ اتے ۔۔ تو میں مر جاتی ریحان ۔۔۔ ہیر کو دکھ تھا غم تھا کسی اپنے کے ہاتھوں زخم کھانے کا ۔۔۔
سب سے درد ناک زخم ہمارے اپنے ہمیں دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
زر مان کو ریحان نے نہیں بتایا تھا ہیرکی حالات کے بارے میں کہیں وہ پریشان ہی نہ ہو جائے ۔۔۔
اگلے دن صبح زر مان واپس اگیا تھا ۔۔۔اور جب زر مان کو ہیر کی حالات کا پتا چلا زرمان بنا وقت ضائع کیے ہاسپٹل میں تھا ۔۔۔ اور شدید پریشان تھا کامران خان پاس کھڑے تھے ۔۔۔
آ پ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتی ۔۔۔ آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتا ہیر ۔۔
دیکھو کچھ نہیں ہوا مجھے میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ کہاں کچھ نہیں ہوا ۔۔ سر دیکھیں اپنا ۔۔
بازو دیکھیں آ پ کا بھائی پاگل ہے آ پ اُس سے دور رہے ۔۔۔ اپنے کمرے کو لوک لگا کر رکھا کریں ۔۔ پاگل انسان ہے آ پ کا بھائی ۔۔
۔ زر مان اب دل کی بھڑاس نکال رہا تھا ۔۔ اور ہیر خاموش بس اس کو سن رہی تھی جب
کامران پیچھے سے بولے ۔۔۔
زر مان بیٹا ۔۔ تم اپنی امی کو لے آ نا ۔۔ ہم ہیر کے رشتے کی بات کر لے گے ۔۔ زر مان حیران ہوا ۔۔
ریحان نے بتایا تھا اس کو کے کامران کو سب پتہ ہے لیکن پھر بھی وہ حیران ہوا تھا ۔۔۔
ت۔۔ ٹھیک ہے انکل میں کل لے اؤں گا ہیر ڈسچارج ہو جائیں ایک بار ۔۔۔
اور پھر وہ وہاں ہی بیٹھا رہا ۔۔ شام ہوئی رات ہوئی زر مان راجپوت ہلا بھی نہیں تھا ۔۔
وہ ہیر کی نگرانی کے لیے بیٹھا تھا ۔۔اگلے دن ہیر ڈسچارج ہو گئی تھی ہاسپٹل سے ۔۔ اُس کی حالت اب ٹھیک تھی۔ ۔۔۔

شام کو زر مان کی امی رشتا لے آ ئی تھی اور زرمان خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا شادی کی تاریخ
جلدی ہی رکھنی تھی ابھی وہ بیٹھے ڈنر کر رہے تھے جب ہیر کی امی زرمان کی امی کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی ۔۔
بھابھی ایسا لگتا ہے آ پ کو پہلے کہیں دیکھا ہے پہلے میں نے زرمان کی امی مسکرائی ۔۔
بھابھی مجھ جیسی غریب عورت کو کہاں ہی دیکھا ہو گا آ پ نے آپ کا وہم ہے شاید زر مان خاموش بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔ ہیر کو اس کی امی کھانا کھیلا رہی تھی کیوں کے ہیر کے بازو زخمی تھے اور پورے بازوؤں پر پٹیاں باندھی تھی اُس کا چہرہ بھی زخمی تھا جگہ جگہ زخم تھے
چہرے پر تھپڑ کے نشان انکھ کے پاس نیل کا نشان اور انکھ سوجی ہوئی تھی ۔۔ انتہا کا ستم کیا
تھا اس کے بھائی نے ۔۔بھابھی آ پ کا بیٹا بہت سلجھا ہوا ہے تمیز در ہے بہت اچھی تربیت کی ہے آ پ نے زر مان کی کامران خان بول رہے تھے ۔۔ زر مان کی امی مسکرا دی ۔۔۔بس بھائی صاحب اللہ کا تحفہ ہے میرا بیٹا ۔۔ کچھ دیر باتیں ہوتی رہی اور کامران نے رشتا تح کر دیا منگنی کی انگوٹی زر مان راجپوت نے اُس وقت ہی ہیر کو پہنا دی تھی ۔۔۔ اور شادی کی تاریخ اگلے جمعے کو رکھی تھی ۔۔ شادی سادگی سے ہونی تھی کوئی دھوم دھام نہیں ہونا تھا ۔۔ البتہ دلاور خان کو کامران نے گھر سے نکل دیا تھا جب ہیر کو ہوش آ یا تھا ۔۔ دلاور ابھی گھر میں بھی نہیں تھا ۔۔
کچھ دیر بعد زر مان کی امی اور وہ خد رخصت ہو گئے تھے ۔۔ زر مان بہت خوش تھا ہیر اُس کی بیوی بننے والی تھی صرف کچھ دن میں ۔۔۔ وہ اپنی محبت کو پانے جا رہا تھا ۔۔

دلاور ایک ہوٹل میں رہ رہا تھا ۔۔ جب دروازہ بجا ۔۔ ایک ویٹر نے ایک کارڈ اس کو دیا ۔۔۔
دلاور نے وہ پکڑا اور دروازہ بند کر دیا دلاور نے اندر ا کر کارڈ کھولا ۔۔ اُس میں لکھا تھا ۔۔۔
امید کرتا ہوں فی الحال تم ٹھیک ہو گے۔۔۔ بار بار تمہیں نہیں بولوں گا ایک ہی بار بول رہا ہوں ۔
۔ ہیر کو اگر کچھ ہوا تو تمھاری جان لے لوں گا میں ۔۔ اس لیے بہتر ہے ہیر سے دور رہو ۔۔
دلاور حیران ہوا یہ کون تھا ۔۔ نیچے لکھا نام پڑھا ۔۔۔ علی ۔۔۔۔ دلاور کو ایک دم غصّہ آیا ۔۔
اب یہ علی کون تھا ۔۔۔؟ خير جو بھی تھا دلاور کو کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔۔۔ ہیر کی شادی کا تو
ویسے ہی پتہ چل گیا تھا ۔۔ لیکن دلاور گھر میں جا نہیں سکتا تھا ۔۔۔
دلاور اب ٹی وی کے سامنے بیٹھا خبریں سن رہا تھا ۔۔ کچھ اور تو کرنے کو نہیں تھا ۔۔اور
انے والی خبر نے دلاور کے ہوش ہوا کر دیے ۔۔ جہاں قاسم خان کے بارے میں خبر ا رہی تھی ۔۔۔
جھنگ کی مشہور یونیورسٹی میں اصلاح اور ڈرگ برآمد ہوا ۔۔ اور قاسم خان جھنگ کے مشہور
ہوٹل کا مالک قاسم خان پولیس کی گرفت میں ۔۔ ثبوت کے مطابق قاسم مجرم قرار پایا۔ ۔۔۔
کیس سولو کرنے والا یونیورسٹی میں سے ہی کوئی تھا ۔۔ شاید کوئی سٹوڈنٹ یہ کوئی پروفیسر ۔۔
جو سیکریٹ ايجنٹ تھا ۔۔ بھیس بدل کر یونیورسٹی میں تعلیم دے رہا تھا یہ شاید لے رہا تھا ۔۔
مشن حل کرنے کے باد ۔۔ اُس نقاب پوش کا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔

ہیر کے گھر میں شادی کی تیاریاں شروع تھی ۔۔ زورو شور سے نہیں ۔۔ سادگی سے ۔۔
کل ہیر کی مہندی تھی جب خبروں میں سب نے قاسم کے بارے میں خبر سنی ۔۔۔
سب حیران رہ گئے ۔۔ یہ قاسم مجرم ہے ۔۔ کامران حیران ہوئے ۔۔ اللہ نے بچا لیا ۔۔
ہماری بیٹی کو ۔۔۔
ریحان حیران تھا اور ریحان کا ارادہ تھا ہیر کی شادی ہو جائے پھر وہ جائے گا قاسم سے جیل
میں ملنے لیکن فلحل ریحان کو ارام کرنا تھا صبح ہیر کی مہندی تھی ۔۔


امی میں ذرا ہوٹل جا رہا ہوں کیسی کام سے ۔۔
قاسم اپنی ماں کو بتاتا گھر سے باہر نکل گیا ۔۔ اج بھی وہ ہمیشہ کی طرح سیاہ پینٹ کورٹ میں تھا ۔
وہ گاڑی میں ا کر بیٹھا اور گاڑی کو رفتار سے بڑھا لے گیا ۔۔
اور پھر گاڑی ایک عمارت کے سامنے جا کر روکی وہ اس کا ہوٹل نہیں تھا ۔۔ ہیر خان کی یونیورسٹی تھی۔ University of jhang اج یونیرسٹی سنسان تھی ۔۔ دوپہر اب ڈھل رہی تھی ۔۔
گیٹ پر گارڈ کھڑا تھا ۔۔ قاسم کو اتے دیکھ کر گارڈ نے گیٹ کھول دیا جیسے قاسم کو جانتا ہو ۔۔
یہ مانو قاسم خان کے لیے کام کرتا ہو ۔۔۔ قاسم چلتا ہوا اندر داخل ہو گیا ۔۔
کچھ دیر بعد قاسم کوریڈور میں تیز تیز قدم چلتا اگے بڑ رہا تھا اور پھر قاسم خان کسی کلاس میں داخل ہو گیا ۔۔
شاید انگلش کی کلاس تھی وہ ۔۔ قاسم کلاس کے اندر داخل ہو گیا کلاس بھی اس وقت سنسان پڑی تھی ۔
۔ سارے سٹوڈنٹ لاہور ٹرپ پر گئے تھے ۔۔۔ قاسم کلاس میں داخل ہوا ۔۔ دروازہ واپس بند کیا
اور پروفیسر کے ٹیبل کے قریب آگیا ۔۔۔ پھر چیئر پر بیٹھتے ہوئے قاسم نے چیئر کو ٹیبل کے قریب کیا ۔
۔ اور ذرا نیچے کو جھک کے ایک دراز کھولا ۔۔ شاید کوئی خفیہ دراز جس کا پروفیسر کو بھی نہیں پتہ تھا ۔۔۔
دراز کھولا اور اندر دیکھا ۔۔ کوئی ریموٹ کنٹرول پڑا تھا ۔۔ قاسم نے اُس کو باہر نکلا ۔۔
اور ریموٹ کو پکڑ کے اُس پر کوئی کوڈ ڈالا ۔۔ قاسم کی چیئر کے پیچھے کھڑی مضبوط دیوار سلائیڈ کی
طرح سڑک کے ایک طرف کو ہوئی تھی ۔۔ قاسم کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ائی ۔۔
وہ چیئر سے اٹھا اور دیوار کے پار چلا گیا ۔۔ دیوار ایک بار پھر بند ہو گئی ۔۔ کوئی اندازہ بھی نہیں
لگا سکتا تھا کے کلاس روم میں کوئی خفیہ دروازہ تھا ۔۔ جس کا صرف قاسم خان کو پتہ تھا ۔۔۔
قاسم دیوار کے اُس پار کھڑا تھا ۔۔ بہت بڑا حال نما کمرا ۔۔ جہاں بڑے بڑے لکڑی کے ڈبے
نظر آ رہے تھے ۔۔ قاسم چلتا ہوا ایک ڈبے تک آ یا ۔۔ دبے کو کھولا ۔۔ اندر چھوٹے چھوٹے
پیکٹس میں سفید پاؤڈر بھرا پڑا تھا ۔۔ دیکھنے میں لگتا تھا کے شاید چونا تھا ۔۔ یہ بچوں کا ریش کا پاؤڈر ۔۔
لیکن وہ ڈرگ کی کوئی قسم تھی
اور تقریباً سب ہی ڈبوں میں ایسی ہی ڈرگز کے پیکیٹس بھرے پڑے تھے ۔۔
ایک طرف زمین پر اسلحہ پڑا تھا ۔۔ گنز بمب کچھ ڈبوں میں بندوقوں کی گولیاں بھری پڑی تھیں ۔۔
اور بھی ایسی بہت چیزیں ۔۔ وہ سب قاسم خان کا تھا ۔۔ کمرے میں مدھم روشنی تھی قاسم
کو صحیح سے ڈبے بھی نظر نہیں ارہے تھے تو اپنے سے کچھ فاصلے پر کھڑا انجانا وجود کیسے نظر اتا ۔۔
اور پھر کسی نے ایک دم لائٹس ان کر دی تھی قاسم حیران ہوا ۔۔ کوئی تھا ۔۔ اس کے علاوہ
بھی کوئی تھا لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا ۔۔ یہ جگہ تو بس قاسم کو پتہ تھی ۔۔ پھر کیسی اور کو کیسے۔۔؟
کمرے میں اجالا ہو گیا ۔۔۔
اور قاسم کی نظر اپنے سامنے کھڑے وجود پر پڑ گئی
بہت خوش نظر آ رہے ہو اج تو قاسم صاحب
وہ چلتا ہوا اس تک آ یا ۔۔ چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا اُس کا چہرہ سیاہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا ۔۔
کون ہو تم ۔۔ قاسم کے چہرے کا اطمینان دوبارہ قائم ہو گیا تھا وہ اپنے تصورات اپنے حالات
دوسروں پہ ظاہر کرنے کا عادی نہیں تھا ۔۔
میں کون ہوں یہ بتانا میں ضروری نہیں سمجھتا لیکن یہ سمجھ لو مجھے یہاں تمہارے اس راز کو پکڑنے
کے لیے ہی بھیجا گیا تھا ۔۔۔ اور دیکھو میں نے اپنا کام کر دیا ۔۔۔
پولیس والے ہو تم ۔۔
قاسم نے پوچھنا مناسب سمجھا ۔۔ سامنے والا بے اختیار ہنسا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا ۔۔
قاسم بیزاری سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
نہیں میں پولیس والا نہیں ہوں ان سب سے بہت بڑا ہوں ۔۔۔
آرمی کے ادمی ہو تم ۔۔ ؟
تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے قاسم کہ میں ارمی کا ادمی ہوں ۔۔
بس ایسے ہی تمھاری باتوں سے ۔۔
چلو تمھیں تھوڑا بتا دیتا ہوں ۔۔ تم یہ سمجھ سکتے ہو میں ارمی کا ادمی ہوں ۔۔ لیکن میں اُن کا
کوئی عام آدمی نہیں ہوں خیر یہ سب چھوڑو کام کی بات پر اتے ہیں ۔۔ باہر پولیس والے تمھارا
انتظار کر رہے ہیں ۔۔ میرے ایک ارڈر پر وہ تمہیں گرفتار کر لیں گے ۔۔ ویسے بھی سارا راز تو
تمہارا میرے سامنے ا چکا ہے میں چاہوں تو تمہیں مار بھی سکتا ہوں لیکن میں تمھیں ماروں گا نہیں ۔۔
مجھے امید ہے تم جیل جا کر اچھے انسان بن جاؤ گے اور رہی بات تمھاری بیٹی کی ۔۔ گود لی بیٹی کی اُس کو تمھارے ماں باپ سنبھال لیں گے ۔۔
قاسم اتنا تو جان چکا تھا کہ وہ بچ نہیں سکتا تھا اور سامنے کھڑا ادمی کوئی عام انسان نہیں تھا ۔۔
تم یہاں کیسے آ ئے ۔۔؟ تمھیں کیسے اس جگہ کا پتہ چلا ۔۔ ؟
میرے لیے خفیہ راستے ڈھونڈنا مشکل نہیں ہے ۔۔ میں نے ایک عمر گزاری ہے ایسے خفیہ راستوں کو ڈھونڈتے ہوئے اب باتیں بند چلو ۔۔
سامنے کھڑے سائے نے کوئی اور بات کرنا بھی گروا نہیں کیا اور اس کو لے کر یونیورسٹی سے باہر اگیا ۔۔
دور سے پولیس والوں کو بھگ کر اس کی طرف اتے دیکھا ۔۔ اس نے قاسم کو پولیس والوں کے
حوالے کیا ۔۔ وہ جانتا تھا اب میڈیا لازمی ائے گا ۔۔ اس لیے وہ نہ جانے کہاں غائب ہو گیا
کیسی کو پتہ نہیں چلا ۔۔ لیکن آخری الفاظ جو اس نے قاسم کے موں سے سنا تھا وہ یہ تھا ۔۔
میں 6 مہینے سے پہلے باہر ہوں گا تم جو مرضی کر لو تم جو کوئی بھی ہو مجھے روک نہیں سکتے ۔۔ اور میں
جھکوں گا نہیں ۔۔۔ میں بہت جلد باہر ہوں گا قاسم نے یہ الفاظ بہت تحمل سے کہے تھے ۔۔
اور پھر وہ بہت ارام سے پولیس والوں کی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا ۔۔
دوسرا آدمی جانتا تھا قاسم صحیح کہہ رہا تھا ۔۔ ہاں وہ 6 مہینے سے پہلے باہر نکل سکتا تھا اُس کے لیے
مشکل نہیں تھا یہ ۔۔۔ لیکن اب نقاب پوش کو اور بہت سے کام کرنے تھے ۔۔
جب وہ گاڑی میں ا کے بیٹھا ۔۔ فون کان سے لگایا ۔۔ تمہیں اگلے مشن پر جانا ہے یاد ہے نا۔۔۔
ہاں مجھے یاد ہے میں بھولا نہیں ہوں اس نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا تھا وہ زیادہ کسی سے بات
کرنے کا عادی نہیں تھا۔۔۔

صبح سویرے کا وقت تھا ۔۔ سرمئی سڑک پر ہلکی ہلکی دھوپ نظر اتی تھی ۔۔ اج ہیر خان کی
مہندی تھی زر مان راجپوت سے لیکن ہیر اج نے ضد کر کے یونیورسٹی جانے کے لیے اپنے بابا
کو منا ہی لیا ۔۔ اُس کا ضروری لیکچر تھا ویسے ہی وہ کچھ دن سے یونیورسٹی نہیں جا سکی تھی ۔۔
اور اب وہ ریحان کے ساتھ اس وقت گاڑی میں بیٹھی تھی ۔۔ زر مان کو ریحان نے ہی کہا تھا کہ
وہ بھی اج یونیورسٹی سے آف نہ لے تا کے وہ یونی کے اندر ہیر کا خیال رکھ سکے ۔۔
اور زر مان مان گیا تھا ۔۔۔ جب وہ یونیورسٹی پونچھے زر مان پہلے سے ہی یونیورسٹی کے گیٹ پر کھڑا تھا ۔۔
ویسے تو یونیورسٹی کا نام بہت خبروں میں ایا تھا یونی کے اونر کو بہت مشکلوں کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا ۔۔
لیکن سٹوڈنٹ کی پڑھائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے ۔۔ اس لیے قاسم کے واقعے کے اگلے
دن ہی یونیورسٹی کھولی تھی ریحان نے ہیر کو زرمان کے ساتھ یونی میں اندر داخل کیا تھا ۔۔
اور پھر وہ خود گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔

اپ کو خوشی ہے ۔۔؟ زر مان اور ہیر ساتھ ساتھ کلاس کی طرف جا رہے تھے زر مان نے ہیر
کا بیگ بھی پکڑ رکھا تھا اور اپنا بیگ بھی ایک کندھے پر ڈال رکھا تھا ۔۔۔جب ہیر کے ساتھ چلتے زر مان نے ہیر سے پوچھا ۔۔۔
کس چیز کی خوشی ؟ہیر نے زر مان کو دیکھے بغیر کہا
ہماری شادی کی خوشی ہیر ۔۔۔”
ہاں خوشی تو ہے بہت ہے ۔۔ ہیرنے چادر میں چھپے چہرے سے مسکرا کر کہا ۔۔ زر مان اپنی
جگہ پر روک گیا ۔۔ پھر گھوم کے ہیر کی طرف دیکھا جو اس کے ساتھ دو قدم پیچھے چل رہی تھی ۔۔
اس نے ہیر کا چادر میں چُھپا چہرہ دیکھا ۔۔ وہ ہیر کے بالکل قریب کھڑا تھا ۔۔ ہیر کے بازوں کی
پٹیاں بھی نظر ا رہی تھی زر مان نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا ۔۔ ہیر کا دل دھڑکا
پھر اس ہاتھ کو اپنے لبوں سے لگایا ہیر کا دل تھام گیا ۔۔ پھر اس ہاتھ کو باری باری اپنی آنکھوں
سے لگایا ۔۔ ہیر کو اس وقت زر مان راجپوت دیوانہ لگا تھا ۔۔ اور پھر وہ اُس ہاتھ کو پکڑ کے ساتھ چلنے لگا وہ زر مان سے اس کی توقع نہیں کر رہی تھی ۔۔۔ میں اللہ کا جتنا شکر کروں اتنا کم ہے اللہ نے میری دعا سنی مجھے میری محبت دے دی ۔۔۔ جب آپ میری منکوحہ کے روپ میں میرے سامنے آئے گی اس لمحے کا مجھے بے صبری سے انتظار ہے ۔۔۔ مجھے کسی فقیر نے کہا تھا ہیر کے دربار پر پہلی بار لوگ فریاد کے لیے جاتے ہیں اور دوسری بار یہ تو اللہ کا شکر ادا کرنے جاتے ہے یہ پھر دیوانے بن کے ۔۔ میں ہیر کے دربار پر اس فکر کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں دیوانہ بن کے نہیں ایا اللہ کا شکر ادا کرنے ایا ہوں ۔۔ ہیر خاموشی سے زر مان کی باتیں سن رہی تھی ۔۔ عجیب سکون تھا اُس کے الفاظوں میں اُس کی قربت میں ۔۔

افق مصطفی ۔۔ جو اپنے افس سے کچھ فائلز لیے باہر نکل رہا تھا اور میتھ کے کلاس کی طرف ا رہا تھا ۔۔
اپنے سے دور کھڑے اُس نے زر مان کے ساتھ ہیر کو دیکھا ۔۔ اور اگلے لمحے نے افق مصطفی
کو پتھر بنا دیا ۔۔ افق کی آنکھیں وہ منظر دیکھ کے وہیں ٹھہر گئی تھی ۔۔ زر مان راجپوت ہیر کا ہاتھ
تھامے لبوں سے انکھوں سے لگا رہا تھا اور ہیر خاموش کھڑی تھی ۔۔ کیا یہ کوئی خواب تھا یہ
قیامت کا لمحہ تھا ۔۔ کم سے کم افق مصطفی کو یہی احساس ہو رہا تھا ۔۔ اور پھر افق واپس اپنے
افس کی طرف گھوم گیا ۔۔ لیکن اب افق کے قدم من من بھاری ہو رہے تھے ۔۔ قدم اٹھانا
مشکل ہو رہا تھا ۔۔ جس لڑکی سے اس نے محبت کی ۔۔ وہ کیسی اور کو چاہتی تھی ۔۔ یہ کوئی اور
بھی اسے چاہتا تھا ۔۔ اُس لڑکی نے اس کا بھروسہ توڑا تھا ۔۔ اس کی محبت کو مٹی میں ملا دیا تھا ۔۔
وہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کے ہیر نے اس کو دھوکہ دیا تھا ۔۔۔ ہیر تو اس کے جذبات سے نا
واقف تھی ۔۔۔ وہ جانتی ہی نہیں تھی ۔۔ کے اُس کی محض آنکھیں کیسی کی کے دل پر کیا
اثر کر گئی تھی ۔۔ افق مصطفی کا دل نہیں دھڑکتا تھا ۔۔ ہیر خان نے دل دھڑکایا تھا ۔۔
اور اج افق مصطفی کا دل مر گیا تھا ۔۔ جان ختم ہو گئی تھی ۔۔
افق اپنے کیبن میں ایا آفس کے باہر کھڑے گارڈ سے ہیر کو بولنے کو کہا ۔۔ وہ پوچھنا چاہتا تھا ہیر
کا کیا رشتا تھا زر مان سے ۔۔ یا کوئی رشتا نہیں تھا
افق چیئر پر ٹیک لگائے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے بیٹھا تھا ۔۔ انکھوں میں کہیں انسو تھے جن کو وہ باہر نہیں نکالنا چاہتا تھا ۔۔اور انسو روکنے کے چکر میں افق کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اچنک افس کا دروازہ بجا ہیر اندر داخل ہوئی ۔۔ افق نے خود کو سنبھالا وہ ایسا تو نہیں تھا کے ہر کسی کے سامنے اپنے جذبات کھول دیتا ۔۔ پھر چاہے وہ اس کی پسندیدہ عورت ہیر خان ہی کیوں نہ ہو ۔۔
افق سیدھا ہو کے بیٹھا ۔۔ہاں آنکھیں سرخ تھی ہیر نے بھی محسوس کیا تھا ۔۔۔
ہیر سامنے چیئرپر ا کے بیٹھی سر آ پ نے بلایا تھا ۔۔
جی ہیر میں نے آپ کو بُلایا تھا کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ۔۔ افق نے بہت ہمت کے باد کہا ۔۔
جی سر کہیں نہ میں سن رہی ہوں ۔۔ ہیر نے سکون سے کہا ۔۔ لیکن اس سے پہلے کے افق کچھ کہتا ۔۔
ہیر کے بازوں پر نظر گئی ۔۔ افق کا رنگ ہوا ہو گیا ۔۔ ی۔۔ یہ بازو پر کیا ہوا ہے آ پ کے
ی۔یہ ک۔۔ کیسے ہوا ہیر ۔۔ افق ایک دم پریشان ہو گیا تھا ۔۔
کچھ بھی نہیں بس کانچ لگ گیا تھا ۔۔
ہیر نے نظریں چرا کر کہا ۔۔ آ پ نے اپنا دھیان کیوں نہیں رکھا ۔۔ یہ کیسے لگ گیا ہے
کہاں سے لگا ہے ۔۔؟
سر اب میں ٹھیک ہوں ۔۔ اپ فکر نہ کریں ۔۔ ہیر کو لگا افق شاید اپنی سٹوڈنٹ کے لیے پریشان تھا ۔ لیکن نہیں وہ تو محبوب کے لیے
پریشان عاشق تھا ۔۔۔ ہیر آ پ کو زیادہ لگ۔۔ ابھی افق کچھ بولتا ہیر فورا بولی سر آ پ نے مجھے
کسی کام کے لیے بلایا تھا شاید ۔۔ ہیر نے یاد دلایا افق کو پھر سے یاد آ یا کے اُس نے ہیر کو کیوں
بلایا تھا ۔۔ افق نے اپنا گلا صاف کیا ۔۔ و۔۔ وہ آ پ کا زر مان راجپوت سے کیا تعلق ہے ۔۔
اخر کار افق مصطفی نے وہ سوال پوچھا جس کی وجہ سے وہ بے چین تھا ۔۔
زر مان ۔۔۔ وہ میرا منگیترہے ۔۔ افق کا سانس تھم گیا ۔۔ یہ کیسا انکشاف تھا ۔۔ یہ ۔۔ ی یہ تعلق کب سے ہے
افق نے اپنی آواز کھائی سے اتی محسوس کی تھی
بس کل ہی منگنی ہوئی ہے ۔۔ اج مہندی ہے ہیر نے نا سمجھی سے کہا افق کا چہرہ سرخ ہونے
لگا اب تو وہ رونا چاہتا تھا ۔۔وہ 6 فٹ لمبا مرد اب بچوں کی طرح رونا چاہتا تھا ۔۔ انکھوں
میں انسو بھرنے لگے ۔۔ ہیر نے افق کے انسوں محسوس کیے ۔۔ ہیر پریشان ہوئی آ خر وہ اُس کا
استاد تھا ۔۔ س۔۔ سر آ پ ٹھیک ہیں ۔۔ ؟ ہیر کا پوچھنا تھا ۔۔ افق مصطفی سر جھکائے پھوٹ
پھوٹ کے رونے لگا ۔۔ اُس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔ وہ جس کو اپنی محبت بنائے بیٹھا
تھا وہ کیسی اور سے محبت کرتی تھی۔۔وہ اُس کی بیوی بنے جا رہی تھی بس ایک دن تھا اور وہ
کیسی اور کی کہلاتی ۔۔۔ ہیر اپنی جگہ حیران رہ گئی وہ ایسے کیوں رو رہا تھا ۔۔ اُس کو کیا ہو گیا تھا ۔۔
س۔۔ سر۔۔ افق سر آ پ ٹھیک ہیں ۔۔ ہیر نے پھر پوچھا ۔۔ افق نے انسوں بھرا چہرہ اٹھایا ہیر کی انکھوں کو دیکھا ۔۔ یہ وہ لڑکی تھی جس کے ساتھ اُس نے اپنی کہانی سوچی تھی یہ وہ لڑکی تھی جس کے نام پر وہ ایک ناول لکھ رہا تھا ۔۔ جو اس کی آخری ناول تھی ۔۔
یہ وہ لڑکی تھی ۔۔ جس کی اور اپنی کہانی وہ اُس ناول میں لکھنا چاہتا تھا ایک ہیپی انڈنگ کے روپ میں ۔۔
لیکن۔۔ وہ اس کی نہیں تھی ۔۔۔
سر آ پ ٹھیک ہیں ۔۔ اب کی بار ہیر نے افق کے سامنے پانی کا گلاس کیا ۔۔ افق نے اگلاس کو نہیں دیکھا وہ ہیر کو دیکھ رہا تھا ۔۔
مجھے آپ سے محبت تھی ہیر ۔۔ اور ہے ۔۔ اور ہمیشہ رہے گی ۔۔ ایک انکشاف افق مصطفی پر ہوا تھا اور ایک ہیر خان پر ہیر شال رہ گئی ۔۔
اس کو لگا افق پاگل ہو گیا ہے ۔۔ ہاں وہ پاگل ہو گیا تھا ۔۔ یہ وہ لمحہ تھا افق مصطفی کے زوال کا لمحہ ۔۔
ایک جانے مانے مصنف کے زوال کا لمحہ
افق ادھی زندگی ہیپی انڈینگ لکھتا لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لایا تھا ۔۔ اور اج اس کی سیڈ اینڈنگ ہو گئی تھی ۔۔۔ کم سے کم وہ یہی محسوس کر رہا تھا ۔۔
مجھے آپ سے محبت تھی ہیر ۔۔ اب وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے انسوں کے ساتھ کہہ رہا تھا مجھے آپ پہلے دن سے پسند تھی ۔۔ اچھی لگی تھی آپ میرے دل کو دھڑکانے کی وجہ بنی تھی ۔۔
اپ نے مجھے محبت سے آشنا کروایا تھا ہیر ۔۔اور اج ۔۔ اج اپ نے افق مصطفی کو مار دیا ہیر ۔۔
اپ نے میرے دل میری روح کو مار دیا ۔۔ شاید میری غلطی تھی اپ سے محبت کی یہ جانے بغیر کے اپ کیسی اور سے کرتی ہیں
افق بول رہا تھا ہیر سن رہی تھی اُس کو یہ سننا تھا
آ پ نے میرا قتل کیا ہوتا تو میں خوشی خوشی مر جاتا ۔۔ آ پ نے تو میرے دل کا قتل کر دیا ۔۔
میری اپنی محبت نے میرا دل مار دیا ۔۔
افق کا سر درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔ مجھے انتظار رہے گا ۔۔اس جہان میں آ پ میری قسمت نہیں
اگلے جہاں میں اللہ سے مانگوں گا آ پ کو ۔۔۔ افق کہتا جا رہا تھا ہیر سنتی جا رہی تھی ۔۔
پھر نظر ہیر کے ہاتھ پر پڑی۔۔ ہیر کے ہاتھ میں زرمان مصطفیٰ کے نام کی انگوٹی تھی ۔۔ افق نے
ہیر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔
اس انگوٹھی کو دیکھا ۔۔ وہ مہنگی نہیں تھی عام سی تھی ۔۔ زر مان امیر نہیں تھا افق جانتا تھا ۔۔ لیکن محبت امیر ہونے سے خریدی نہیں جاتی ۔۔ محبت تو بخت میں ہوتی ہے ۔۔
اور زر مان راجپوت کا بخت افق مصطفی سے بلند تھا ۔۔۔
وہ سیاہ بخت نہیں تھا ۔۔ وہ بلند بخت تھا ۔۔ سیاہ بخت تو اج سے افق مصطفی تھا ۔۔۔
افق نے ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔ معافی چاہتا ہوں آ پ کو تنگ کر دیا میں نے ۔۔ آ پ جا سکتی ہیں افق نے خود کو سنبھال کے کہا ۔۔ ہیر اٹھ کے چلی گئی
اس کو بُرا لگا تھا افق کے لیے ۔۔ بہت بُرا ۔۔
لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔۔ محبت زبردستی نہیں ہوتی ۔۔ اگر ہوتی تو ہیر افق مصطفی سے
محبت کر لیتی ۔۔۔ ہیرکے جانے کے بعد افق زرو قطار روتا رہا ۔۔ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے ۔۔
وہ اتنا رویہ تھا کے انکھوں کے نیچے ہلکے اگئے تھے آنکھیں سوج گئی تھی لیکن انسو نہیں تھم رہے تھے ۔۔ وہ روتا رہا ۔۔ اج افق نے کلاس نہیں لی تھی
اور کہہ دیا تھا طبیعت خراب ہے ۔۔
اور پھر کچھ دیر بعد وہ اٹھ کے یونی سے باہر اگیا تھا
اور اپنی گاڑی میں جا بیٹھا ۔۔ اور گاڑی بھگا لے گیا ۔۔۔
راستے میں بھی وہ انسو بہتا آ یا تھا ۔۔
گھر میں داخل ہوا تو ماں حیران رہ گئی ۔۔ افق کیا ہوا ہے ۔۔ میرے بچے آ پ ٹھیک ہیں
کہتے ہیں ماں کی گود جنت ہوتی ہے سکون ہوتی ہے افق خاموشی سے ان کے پاس اگیا ۔۔
ماں صوفے پر بیٹھی تھی افق زمین پر بیٹھ گیا اور سر ماں کی گود میں رکھ لیا ۔۔ اور پھر وہ رونے لگا
بہت زور زور سے ۔۔ اتنا زور سے کے افق کے انسو دیکھ کے اُس کی امی بھی رونے لگی ۔۔۔
گھر کے ملازموں نے افق مصطفی کی سسکیاں سنی تھی ۔۔ اُس کی ہچکیاں سنی تھی ۔۔
ممی ۔۔۔ ہیر کی شادی ہو رہی ہے ۔۔ اس کی شادی کسی اور سے ہو رہی ہے ممی ۔۔ اور ماں کو
وجہ سمجھ اگئی تھی اپنے بیٹے کے بلک بلک کے رونے کی ۔۔ ہمت رکھیں افق ۔۔ اللہ ہے نہ ۔۔
ممی میں کیسے صبر کروں ۔۔۔ مجھے صبر نہیں ا رہا ۔۔ وہ آنسوؤں کے درمیان کہ رہا تھا ۔۔ افق
مصطفی کی سیاہ کالی انکھوں کی چمک اب غائب ہو چکی تھی ۔۔ وہ سیاہ انکھیں جن کو دیکھنے والا پہلی نظر میں ان کے سحر میں گم ہو جاتا تھا ۔۔۔اب وہ انکھیں بے جان سی لگنے لگی تھی۔۔۔
وہ کہانیوں میں نہیں کھوتا تھا کہانیوں میں نہیں جیتا تھا لیکن اب اس کی خود کی زندگی محض ایک
کہانی بننے والی تھی ایسی کہانی جس پر لوگ فدا ہونے والے تھے ۔۔۔
ماں اپنے لاڈلے بیٹے کو کتنی ہی دیر چُپ کرواتی رہی اور وہ کتنی ہی دیر اپنی ماں سے بار بار پوچھتا رہا ۔۔
کیا میں اچھا نہیں لگتا ۔۔۔
نہیں آ پ بہت اچھے ہیں افق میرے بچے ۔۔
تو ممی ہیر کو میرے سے محبت کیوں نہیں ہوئی ۔۔ افق محبت خوبصورتی دیکھ کے نہیں ہوتی میری جان ۔۔۔
ممی میں اپنی دل کا کیا کروں ۔۔۔ وہ تو بے جان ہو گیا نہ ۔۔
افق کوئی ایسی لڑکی آ پ کی زندگی میں ائے گی جو آپ سے محبت کرے گی بیٹا ۔۔
لیکن ممی کوئی ہیر جیسی تو نہیں ہو گی نہ ۔۔ جس سے میں نے محبت کی ” افق ابھی بھی ہیر کو یاد کر رہا تھا
ماں سمجھاتی رہی لیکن وہ کب سمجھنے والا تھا ۔۔

اور پھر وہ اپنی سرخ سیاہ بجھی انکھیں لیے اپنے کمرے میں اگیا ۔۔ جو کبھی چمکتی تھی ۔۔
وہ کمرے میں ایا ۔۔واشروم میں گیا چہرے پر پانی کے چھٹے مارے اور اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا ۔۔
آنکھیں سوجی ہوئی سرخ تھی چہرہ بھی سرخ تھا
بال بکھرے پڑے تھے ۔۔ اور پھر وہ بکھرے بالوں اور سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ باہر اگیا
نظر اپنے ٹیبل پر رکھے رجسٹر پر پڑی افق کو اپنی ناول یاد ائی ۔۔۔
وہ چلتا ہوا رجسٹر کے پاس ایا اُس کو اٹھا کے ہاتھ میں پکڑا اور سفے پلٹنے لگا ۔۔ کہانی انکھوں کے
اگے دوڑ رہی تھی۔ افق اور ہیر کی کہانی ۔۔ جو شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گئی تھی ۔۔اب
اگر کچھ تھا تو ایک طرفہ محبت ۔۔ اب وہ یہی لکھے گا زر مان اور ہیر کی پوری کہانی اور اپنی ادھُوری
داستان لکھے گا افق مصطفی نے اپنی آخری کتاب کو مکمل کرنا تھا ۔۔ اُس نے سوچ لیا تھا
اور افق یہ کتاب مکمل کر لے گا یہ افق مصطفی کا خیال تھا
اس کا اختتام تو کیسی اور نے کرنا تھا ۔۔ کوئی ایسا جو اچانک سے انے والا تھا ۔۔ جانا پہچانا اور
کچھ انجان سا ۔۔۔کوئی ایسا جو عمر میں ان سب سے بڑا تھا کوئی ایسا جس نے کسی لڑکی سے بے
پناہ محبت کی تھی ۔۔ اور اُس نے وہ محبت پا لی تھی ۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *